39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 39:64–70

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ﷺ تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا غیر کی عبادت کروں ، اے نادانو۔

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور آپ سے پہلے لوگوں کی طرف کہ اگر شرک کیا آپ نے تو البتہ ضائع ہوجائے گا آپ کا عمل اور ہوجائیں گے آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ۔

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

ایسا نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو ، اور شکر گزاروں میں ہوجاؤ ۔

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور نہیں قدر کی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جیسا کہ حق ہے اس کی قدر کرنے کا ، اور زمین ساری اس کے قبضے میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان لپٹے ہوئے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں پاک ہے اس کی ذات اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک بناتے ہیں ۔

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور پھونکا جائے گا صور میں پس بیہوش ہوجائے گا جو ہے آسمانوں میں اور زمین میں مگر ، وہ جس کو اللہ چاہے ، پھر پھونکا جائے گا دوسری مرتبہ پس یہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھ رہے ہوں گے ۔

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور چمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے گا نبیوں کو اور گواہوں کو ، اور فیصلہ کیا جائے گا ان کے درمیان حق کے ساتھ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور پورا پورا دیا جائے گا ہر ایک نفس کو جو اس نے عمل کیا ، اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ان تمام کاموں کو جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

(عبادت غیر اللہ کی ترغیب) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل بیان فرمائے اور مشرکین کے انجام کا ذکر کیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان نیکوکاروں کا انجام بھی بیان فرمایا ، اب آج کے درس میں وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور کافروں اور مشرکوں کی حسرت اور افسوس کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ توحید کی بات بھی سمجھائی گئی ہے آج کی پہلی آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کافر اور مشرک لوگ حضور ﷺ پر طعنہ زنی کرتے ہے کہ آپ نے اپنے آباؤ واجدا کے دین کو باطل اور خود ان کو گمراہ ٹھہرایا ہے جو کہ سراسر غلط بات ہے ، پھر آپ کو سابقہ دین پر قائم رہتے ہوئے معبودان باطلہ کی پرستش کی ترغیب دیتے ، اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس حرکت کا سختی کے ساتھ جواب دیا ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیں ، (آیت) ” افغیر اللہ تامرونی اعبد ایھا الجھلون “۔ اے نادانو ! کیا تم مجھے اس بات کا حکم دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی عبادت کروں ؟ بھلا یہ کوئی عقل کی بات ہے بلکہ غیر اللہ کی پوجا تو عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے ، کوئی بھی سلیم الفطرت آدمی اللہ وحدہ لا شریک ، عالم الغیب ، قادر مطلق اور تمام تصرفات کے مالک ومختد کو چھوڑ کر غیروں کی پرستش نہیں کرسکتا ، تمام آسمانی کتابوں میں اس کی تردید آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے سارے نبیوں نے اسی ایک وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم دیا ہے ۔ (اعمال کی بربادی) آگے اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں فرمایا (آیت) ” ولقد اوحی الیک “۔ اور البتہ تحقیق وحی کی گئی ہے آپ کی طرف (آیت) ” والی الذین من قبلک “۔ اور ان کی طرف بھی جو آپ سے پہلے گزرے ہیں اور وہ یہ بات ہے (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ اگر آپ نے بھی شرک کا ارتکاب کیا تو آپ کے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے ، شرک کے ارتکاب سے تمام اچھے اعمال برباد ہوجاتے ہیں یہ ایسی قبیح چیز ہے ، سورة الانعام میں فرمان خداوندی ہے (آیت) ” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون “۔ (آیت : 83) جو لوگ ایمان لائے اور پھر انہوں نے اپنے ایمان میں شرک کی ملاوٹ نہیں کی امن ان کے لیے ہے اور وہ لوگ ہی ہدایت پر ہیں اگر اعمال میں ذرا بھی شرک کی امیزش ہوگئی تو معاملہ خراب ہوگیا ، اسی سورة الانعام میں جہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا اکٹھا ذکر کیا ہے وہاں بھی فرمایا ہے ۔ (آیت) ” ولو اشرکوا لحبط عنھم ماکانوا یعملون “۔ (آیت : 88) اگر اللہ کے یہ مقربین بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے ، غرضیکہ شرک ایک ایسی بیماری ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء “۔ (النسآء : 116) بیشک اللہ تعالیٰ شرک جیسے اکبر الکبائر کو معاف نہیں کرے گا ، اس کے علاوہ جس کو چاہے اپنے عفو و درگزر سے معاف فرما دے ، فرمایا اگر بفرض محال آپ نے بھی شرک کا ارتکاب کیا تو نہ صرف اعمال ضائع ہوجائیں گے (آیت) ” ولتکونن من الخسرین “۔ ، بلکہ آپ نقصان اٹھانے والوں میں بھی ہوجائیں گے ، اس سے زیادہ اور کیا نقصان ہوگا کہ انسان کے تمام نیک اعمال ہی برباد ہوجائیں اور وہ قیامت والے دن مفلس ترین آدمی ہو۔ فرمایا غیر اللہ کی عبادت کرنے کی بجائے (آیت) ” بل اللہ فاعبد “۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرو (آیت) ” وکن من الشکرین “۔ اور اس کے شکر گزار بن جاؤ ۔ شرک کفران ہے اس سے بچ جاؤ اللہ تعالیٰ کی عظمت جلال کو سمجھو اور اس پر یقین رکھو ، شرک کے قریب نہ جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے تمام انعامات کا شکریہ ادا کرو ۔ (عظمت خداوندی کی پہچان) یہود ونصاری اور کفار ومشرکین کے شرک کے بارے میں فرمایا (آیت) ” وما قدر اللہ حق قدرہ “۔ ان ظالموں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق ہے ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بزرگی ، برتری اور اس کے جلال کو نہیں سمجھ سکے ، اگرچہ یہ معرفت الہی کے دعویدار ہیں مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت کو پہچانا ہی نہیں اللہ تعالیٰ کی شان اور مرتبہ بہت بلند ہے ، کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عظمت کو پہچان لیتے تو شرک کے مرتکب نہ ہوتے ۔ ایک دفعہ ایک یہودی عالم حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور قیامت والے دن کی کیفیت کے متعلق کہنے لگا اے ابوالقاسم ! (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیامت والے دن جب زمین ایک انگلی پر ہوگی آسمان ایک انگلی پر اور باقی تما چیزیں ایک انگلی پہ تو اس وقت کیا کیفیت ہوگی یہ سن کر حضور ﷺ مسکرائے اور یہی آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” وما قدر اللہ حق قدرہ “۔ دیکھو ! ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر ہی نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے شرک کی تردید تو تورات میں بھی موجود ہے ، مگر یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اس میں مبتلا ہیں اور عزیر (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا مانتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی عظمت کی کیا پہچان ہے ! فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ “۔ قیامت والے دن ساری کی ساری زمین اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگی (آیت) ” والسموت مطویت بیمینہ “۔ اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے ، حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دائیں بائیں کو مخلوق کے دائیں بائیں پر محمول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں مگر اس کی کیفیت ہماری ادراک سے باہر ہے ، لہذا ہمیں یہی ایمان رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے دراصل لفظ یمین متشابہات میں سے ہے جس کا معنی تو معلوم ہے ، مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں ، تیین قوت اور طاقت پر بھی بولا جاتا ہے ، تو فرمایا زمین اس کے قبضہ میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ پر لپیٹے ہوئے ہوں گے ، یہ ان کی شان رفیع کی علامت ہے ” سبحنہ “۔ پاک ہے اس کی ذات (آیت) ” و تعلی عما یشرکون “۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں ۔ (صوراسرافیل) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے سلسلہ میں صور کے دو نفخوں کا ذکر کیا ہے (آیت) ” ونفخ فی الصور “۔ اور صور میں پھونکا جائے گا (آیت) ” فصعق من فی السموت ومن فی الارض “۔ پس بیہوش ہوجائیں گے جو ہیں آسمانوں اور جو زمین میں (آیت) ” الا من شآء اللہ “۔ سوائے اس کے کہ جس کو اللہ تعالیٰ چاہے اس پر بیہوشی طاری نہیں ہوگی بعض روایات میں آتا ہے کہ حاملین عرش اور مقرب فرشتے جبرائیل (علیہ السلام) ، میکائیل (علیہ السلام) ، وغیرہ محفوظ رہیں گے ، باقی سب پر بیہوشی طاری ہوجائے گی ، گویا جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز پر بیہوشی طاری ہوجائے گی اور نظام کائنات درہم برہم ہو کر رہ جائے گا (آیت) ” ثم نفخ فیہ اخری “۔ پھر صور میں دوسری مرتبہ پھونکا جائے گا (آیت) ” فاذا قیام ینظرون “ کہ اچانک سب لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ۔ عام مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے مصداق صرف دو دفعہ صور پھونکا جائے گا پہلے صور کے بعد ہر چیز فنا ہوجائے گی اور دوسرے صور پر سب لوگ پھر سے زندہ ہوجائیں گے ، سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہوں گے ، حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر جزا وسزا کے فیصلے ہوں گے تاہم بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ کل چار صور ہوں گے پہلا صور تمام عالم کے فنا کا پیش خیمہ ہوگا ، دوسرے صور پر مخلوق پھر سے زندہ ہوجائے گی پھر تیسری مرتبہ حشر کے میدان میں صور پھونکا جائے گا تو سب پر بیہوشی طاری ہوجائے گی اور چوتھے صور پر سب لوگ ہوش میں آجائیں گے اور پھر ساری کاروائی ہوگی ۔ (عدالت خداوندی کے فیصلے) بہرحال قیامت والے دن کیفیت یہ ہوگی (آیت) ” واشرقت الارض بنور ربھا “۔ اس دن زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی ، یہ ایسی کیفیت ہوگی جو انسان آج اپنے زمین میں نہیں لاسکتے کہ وہ کیسا نظارہ ہوگا ، بس خدا کی تجلیات پڑ رہی ہوں گی اور ساری زمین روشن ہوجائے گی پھر حساب کتاب کی منزل شروع ہو جائیگی (آیت) ” ووضع الکتب “ اور کتاب یعنی باب اعمالنامہ سامنے رکھ دیا جائے گا ہر شخص اس کو پڑھے گا سورة الکہف میں آتا ہے (آیت) ” ووضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ “۔ (آیت 49) مجرم لوگ یہ اعمالنامہ پڑھ کر ڈر جائیں گے اور کہیں گے ہائے افسوس ہمارے ، یہ کیسی ہے کہ جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کا احاطہ کر رکھا ہے ، اور بہرحال اس اعمالنامے کے علاوہ (آیت) ” وجایء بالنبین والشھدآء “۔ نبیوں اور شہیدوں کو بھی بطور گواہ لایا جائے گا پھر وہ اپنے ماننے اور نہ ماننے والوں کے متعلق گواہی دیں گے تمام معاملات پیش ہوں گے سوال و جواب ہوں گے (آیت) ” وقضی بینھم بالحق “۔ اور اس کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا (آیت) ” وھم لا یظلمون “ اور ان میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی کسی کا حق نہیں مارا جائے گا نہ کسی ایک کا گناہ دوسرے پر ڈالا جائے گا اور نہ کسی کے اعمال میں کمی کی جائے گی ، بلکہ سب کے ساتھ حق و انصاف کا فیصلہ ہوگا (آیت) ” ووفیت کل نفس ما عملت “۔ پھر ہر نفس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ اس نے کیا نیکی یا برائی کا جو بھی کام کیا ہے اس کی جزا یا سزا ملے گی اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی ۔ فرمایا (آیت) ” وھو اعلم بما یفعلون “۔ اور اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو خوب جانتا ہے ، جو کچھ انسان اس دنیا میں کرتے رہے ، اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے وہ قیامت والے دن تمام مخفی چیزوں کو بھی ظاہر کر دے گا پھر گواہ لائے جائیں گے بلکہ خود انسان کے اعضاء وجوراح گواہی دیں گے ، زمین اور شجر وحجر گواہی دیں گے ، اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادت ہے اور اسے ان گواہوں کی بھی ضرورت نہیں ہے ، مگر وہ ضابہ کی کاروائی کے لیے متعلقہ گواہ بھی پیش کرے گا ، تاکہ اتمام حجت ہوجائے اور کسی کے لیے اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے ۔
Ayahs 39:71–75

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور چلائے جائیں گے کافر لوگ جہنم کی طرف گروہ در گروہ یہاں تک جب وہ آئیں گے جس کے قریب کھولے جائیں گے اس کے دروازے اور کہیں گے ان کے لیے اس کے داروغے کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے تھے تم پر تمہارے پروردگار کی آیتیں ، اور دراٹے تھے تمہیں اس دن کی ملاقات سے تو کہیں گے وہ لوگ کیوں نہیں مگر ثابت ہوگیا عذاب کا کلمہ کفر کرنے والوں پر ۔

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ راہنے والے ہو گے اس میں پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا ۔

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور چلائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے رہے اپنے پروردگار سے ، جنت کی طرف گروہ در گروہ یہاں تک کہ جب وہ پہنچیں گے اس کے قریب اور کھولے جائیں گے اس کے دروازے اور کہیں گے ان کو اس کے دراوغے ، سلام ہو تم پر خوش رہو ، داخل ہوجاؤ ، اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ۔

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے سچا کیا ہے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ ، اور وارث بنایا ہے ہم کو اس سرزمین کا ، ہم ٹھکانا پکڑتے ہیں جنت میں جہاں بھی چاہیں ، پس کیا اچھا ہے بدلہ عمل کرنے والوں کا ۔

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور دیکھے گا تو فرشتوں کو کہ گھیرنے والے ہوں گے عرش کے گرد تسبیح کریں گے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ ، اور فیصلہ کیا جائیگا ان لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اور یہی بات کہی جائے گی کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں دو دفعہ صور پھونکے جانے کا ذکر ہوا ہے پہلے صور پر ہر چیز بیہوش ہو جائیگی ، اور جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ اکٹھے ہوجائیں گے اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی ، اعمال نامے سامنے رکھ دیے جائیں گے ، نبی اور گواہ آئیں گے اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا ہر نفس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ، اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی جزائے عمل کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اس کی کیفیت بھی بیان کی ہے کہ نافرمان لوگ جہنم تک اور اہل ایمان جنت تک کیسے پہنچیں گے ۔ (کفار کی جہنم کی طرف روانگی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا “۔ کفر کرنے والے جہنم کی طرف گروہ درگروہ چلائے جائیں گے گروہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر جرم اور اس کے درجے کے مطابق مجرمین علیحدہ علیحدہ ٹولیوں میں منقسم ہوں گے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانی زندگی کے مختلف ادوار میں انفرادیت بھی آتی ہے اور اجتماعیت بھی ، انسان شکم مادر میں انفرادی زندگی گزارتا ہے ، پھر جب اس دنیا میں آتا ہے تو اپنے والدین اور افراد کنبہ کے ساتھ محدود اجتماعی زندگی گزارتا ہے ، جب بچپن کو عبور کرکے جوان ہوتا ہے تو گھر سے باہر عام معاشرہ میں قدم رکھتا ہے تعلیم حاصل کرتا ہے ، ہنر سیکھتا ہے ، پھر گلی محلے یا گاؤں کی اجتماعی زندگی میں عملی طور پر شریک ہوجاتا ہے ، کسی عہدے پر فائز ہوتا ہے ، حلقے کا ممبر بنتا ہے اور معاشرے میں اچھی طرح گھل مل جاتا ہے ، یہ اس کی اجتماعی زندگی ہوتی ہے ، پھر دنیا کی زندگی پوری کرکے عالم برزخ میں پہنچتا ہے تو وہاں پھر انفرادی زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے ، پھر جب حشر کے میدان میں سب لوگ جمع اپنے اپنے عمل کے مطابق مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے اور پھر ہر درجے کے عمل کی علیحدہ ٹولی ہوگی اور اس طرح تمام گروہ در گروہ اور قطار در قطار جمع ہوں گے اور پھر مجرمین کے گروہوں کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جایا جائے گا ۔ اس مقام پر مجرمین اور متقین دونوں کے لیے سیق کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی سب لوگ جہنم یا جنت کی طرف چلائے جائیں گے تاہم سورة مریم میں ان دونوں طبقات کے لیے ان کی جزا یا سزا کے لحاظ سے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں مثلا متقین کے لیے فرمایا ہے (آیت) ” یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا “۔ (آیت 85) ہم متقیوں کو رحمان کے پاس وفد DIPUTOTION کی صورت میں اکٹھا کریں گے ، ظاہر ہے کہ کسی کے پاس جانے والا وفد معزز سمجھا جاتا ہے ، اور میزبان اس کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ کرتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اپنے پروردگار کے پاس وفد یعنی معزز مہمانوں کے طور پر جائیں گے ، اور ان کی عزت افزائی ہوگی ، برخلاف اس کے مجرمین کے متعلق فرمایا (آیت) ” ونسوق المجرمین الی جھنم وردا “۔ (مریم 86) اور ہم گنہگاروں کو جہنم کی طرف ہانک کرلے جائیں گے ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں ہوگا ، بلکہ پیاسے اونٹوں کی طرح ہانک کرلے جایا جائے گا ۔ بہرحال فرمایا کہ کفر کرنے والوں کو جہنم کی طرف گروہ در گروہ لے جایا جائے گا (آیت) ” حتی اذا جآء وھا “۔ حتی کہ جب وہ اس کے قریب پہنچیں گے (آیت) ” فتحت ابوابھا “۔ تو جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے ، مطلب یہ کہ کفار کے آنے سے پہلے دروازے بند تھے اب ان کی آمد پر کھولے جائیں گے تاکہ انہیں دھکیل کر دروازے پھر سے بند کرلیے جائیں گے دنیا کی حیلوں کا بھی یہی دوستور ہے کہ قید خانے کے دروازے بند رہتے ہیں جب کوئی مجرم جیل کے دروازے پر پہنچتا ہے تو پھاٹک کھول کر اس کے اندر داخل کردیا جاتا ہے ، اور دروازہ پھر بند ہوجاتا ہے ، یہی سلوک جہنم کے قیدیوں کے ساتھ بھی کیا جائے گا ۔ آگے جہنم کے دروازے پر موجود فرشتوں کا ذکر آرہا ہے ، سورة المدثر میں ہے (آیت) ” علیھا تسعۃ عشر “۔ (آیت۔ 30) ان کی تعداد انیس (19) ہے ، بہرحال جب یہ کافر لوگ جہنم کے دروازے پر پہنچیں گے (آیت) ” وقال لھم خزنتھا “۔ اس کے داروغے ان سے کہیں گے (آیت) ” الم یاتکم رسل منکم “۔ کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس تم میں سے رسول ؟ جہنم کے داروغے سرزنش کے انداز میں گنہگاروں سے پوچھیں گے کہ تم جہنم کے قیدی بن گئے ہو کیا تمہاری ہدایت کے لیے تمہیں میں سے تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے تھے جنہوں نے تمہیں کفر اور شرک کو ترک کرکے توحید کی دعوت دی تھی ” منکم “ کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کے پاس انہیں میں سے یعنی ان کے خاندان اور وطن سے اور انہی کے ہم زبان پیغمبر اللہ تعالیٰ نے بھیجے تھے تاکہ تمہیں ان کی بات سمجھنے اور ان کے اسوہ اختیار کرنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے ، خود حضور ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت) ” ھوالذی بعث فی الامین رسولا منھم “۔ (الجمعۃ : 2) اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے ان پڑھ لوگوں میں سے ان کی طرف ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا ، عرب کی اکثریت امی تھی جو لکھنا پڑھنے نہیں جانتے تھے ، صرف ایک دو فیصد ہی لوگ کچھ لکھنا پڑھنا جانتے تھے اسی لیے فرمایا کہ امیوں کی طرف ان میں سے ایک رسول بھیجا ، جہنم کے داروغے بھی کہیں گے ، کیا تمہارے پاس تم میں سے کوئی رسول نہیں آیا تھا (آیت) ” یتلون علیکم آیت ربکم “۔ جو تمہیں تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے ، آیات سے مراد ، احکام ، دلائل اور مسائل ہیں ، اگرچہ آیات میں معجزات بھی داخل ہیں مگر اس مقام پر مجزات مراد نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی اپنی امتوں تک پہنچتے تھے فرمایا اللہ تعالیٰ کے رسول تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے (آیت) ” وینذرونکم لقآء یومکم ھذا “۔ اور کیا وہ تمہیں آج کے دن کی ملاقات سے ڈراتے نہیں تھے ؟ بھلا بتلاؤ تو کیا تمہیں ہدایت کے یہ سامان نہیں پہنچے تھے ، مگر تم کفر وشرک میں مبتلا ہوئے اور بالآخر جہنم کا منہ دیکھنا پڑا ؟ ” قالوابلی “۔ وہ آگے سے جواب دیں گے کیوں نہیں بیشک اللہ تعالیٰ کے رسول ہمارے پاس آئے ، انہوں نے آیات الہی پڑھ کر سنائیں اور قیامت کے دن سے ڈرایا ، مگر یہ ہماری بختی تھی کہ ہم نے ان کی آواز پر لبیک نہ کہا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین “۔ کہ کفر کرنے والوں پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوگیا ، جب وہ اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے ، (آیت) ” قیل ادخلوا ابواب جھنم “۔ تو حکم ہوگا جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ (آیت) ” خلدین فیھا “۔ اب تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہیں رہنا ہوگا (آیت) ” فبئس مثوی المتکبرین “۔ پس کتنا برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا جنہوں نے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا ، ان کا یہی حشر ہوگا ۔ (متقین کا جنت میں استقبال) اس کے بعد متقین کا حال بیان کیا (آیت) ” وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمرا “۔ چلائے جائیں گے وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے جنت کی طرف گروہ در گروہ ، یہ وہ ایماندار لوگ ہیں جو شرک کفر جرائم اور مظالم سے بچتے رہے اور جنہوں نے حدود اللہ کی حفاظت کی (آیت) ” حتی اذا جآء وھا “۔ یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچیں گے (آیت) ” وفتحت ابوابھا “۔ اور اس کے دروازے کھولے جایں گے یہاں پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ پہلا جہاں جہنموں کا حال بیان کیا ہے ، وہاں فتحت سے پہلے و نہیں ہے مگر یہاں جنتیوں کے لیے فتحت سے پہلے و لائی گئی ہے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ” و “ زاید ہے ، مگر بعض فرماتے ہیں کہ اس ” و “ سے حال کی طرف اشارہ ملتا ہے اور مطلب یہ بنتا ہے کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچیں گے تو اس حال میں کہ دروازے پہلے سے کھلے ہوں گے اور وہاں انہیں دروازے کھلنے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور جنت کے داخلے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی ، بہرحال جب جنتی جنت کے دروازے پر پہنچیں گے (آیت) ” وقال لھم خزنتھا “۔ تو اس کے داروغے ان سے کہیں گے (آیت) ” سلم علیکم “ تم پر سلامتی ہو (آیت) ” طبتم “ تم خوش رہو ، مطلب یہ کہ داروغے جنتیوں کا استقبال کریں گے اور انہیں خوش آمدید کہیں گے ، اور پھر یہ بھی کہیں گے (آیت) ” فادخلوھا خلدین جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ چناچہ جب وہ اللہ کی رحمت کے مقام پر پہنچ جائیں گے تو اللہ کی حمد وثنا بیان کریں گے ۔ (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ “۔ اور کہیں گے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت ہم سے جو جنت کا وعدہ کیا تھا وہ آج پورا ہوگیا ، سورة آل عمران کے آخر میں اہل عقل وخرد مومنیں کی طرف سے یہ دعا بھی نقل کی گئی ہے (آیت) ” ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلنا ولا تخزنا یوم القیمۃ “۔ (آیت 194) پروردگار ! اپنا وہ وعدہ پورا فرما ، جو تو نے ہمارے ساتھ اپنے انبیاء کی معرفت کیا اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا ، دوسری جگہ پر ہے کہ مومن یہاں کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں توفیق دے کر خاص مہربانی فرما کر یہاں تک پہنچا دیا ورنہ یہاں تک پہنچنا ہمارے بس میں نہ تھا اسی لیے دین میں اہل ایمان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰسے توفیق طلب کرنی چاہئے ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ کا یہی مطلب ہے کہ نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی توفیق کی ضرورت ہے کہ اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ بہرحال جنتی لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، (آیت) ” وورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشآئ “۔ اور جس نے ہمیں جنت کی اس سرزمین کا وارث بنایا کہ ہم وہاں پر ٹھکانا پکڑتے ہیں جہاں چاہیں جنت کی وارثت کا ذکر سورة مریم میں بھی موجود ہے (آیت) ” تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیا “۔ (آیت : 63) یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنی متقی بندوں کو بنائیں گے دوسری جگہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بندوں نے دنیا میں جو نیکی کے کام انجام دیے ، ہم نے ان کے بدلے میں ان بندوں کو جنت کا وارث بنا دیا ، اور جنت میں ٹھکانا پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں چاہیں گے بلا روک ٹوک جاسکیں گے ، بعض فرماتے ہیں کہ ٹھکانا پکڑنے سے سیروسیاحت اور ملاقات مراد ہے ، مستقل ٹھکانا تو ایک ہی ہوگا مگر حسب خواہش جہاں چاہیں گے جا آسکیں گے ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جمعہ کے دن بازار لگیں گے اور مومن لوگ کروڑوں میل دور تیز رفتار سواریوں پر سوار ہو کر آپس میں ملاقات کریں گے ، اور بازاروں سے خوشنما چیزیں بھی بلاقمت حاصل کریں گے ، ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ تمہیں جنت میں پہنچا دے تو سمجھ لو کہ تم جنت کے سرخ گھوڑے پر سوار ہو اور جہاں چاہتے ہو وہ تمہیں اڑے لیے جا رہا ہے وہاں پر کسی روکاوٹ ، دقت یا ایکسیڈنٹ کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا ، اسی قسم کے انعامات کے متعلق اللہ نے فرمایا فنعم اجرالعلمین “۔ پس کتنا اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کو ، جنہوں نے دنیا کی زندگی میں نیک اعمال انجام دیے وہ جنت میں عیش و آرام کی دائمی زندگی گزاریں گے یہ ان کی نیکی کا بہت ہی اچھا بدلہ ہوگا ۔ (ملائکہ کی تسبیح) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وتری الملٓئکۃ حافین من حول العرش “۔ اور تو دیکھے گا ان فرشتوں کو جو عرش کو ارد گرد سے گھیرنے والے ہیں تو ان کی حالت یہ ہے (آیت) ” یسبحون بحمد ربھم “۔ کہ وہ اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، تعریف کے ساتھ ان کا کام ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے رہتے ہیں ، فرشتوں کے مختلف طبقات میں سے حاملین عرش کا ذکر اگلی سورة میں آرہا ہے (آیت) ” الذین یحملون العرش “۔ (آیت 70) وہ جو عرش عظیم کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے اردگرد حلقہ باندھے ہیں سب اپنے پروردگار کی تعریف کی ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ (آیت) ” وقضی بینھم بالحق “۔ اور سب لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا نہ صرف بنی نوع انسان کے اعمال وکردار کے فیصلے ہوں گے ، بلکہ اگر جانوروں وغیرہ نے بھی ایک دوسرے پر زیادتی کی ہوگی تو ان مظلوموں کو بھی ظالموں سے بدلہ دلایا جائے گا اور پھر آخر میں ہی ہوگا ، (آیت) ” وقیل الحمد للہ رب العلمین “۔ اور کہا جائے گا کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے سورة یونس میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی آخری پکار یہی بیان فرمائی ہے ۔ (آیت) ” واخر دعواھم ان الحمد للہ رب العلمین “۔ (آیت) کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، بہرحال جنتی لوگ اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف اور حمد وثنا بیان کریں گے جس نے انہیں جنت کے مقام تک پہنچایا ۔