Ayahs 39:32–41ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی اور ہر ایک کو اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق بدلہ ملے گا ۔
ّ (سب سے بڑا ظالم)
آج کی ابتدائی آیات میں بھی کفار ومشرکین کا رد ہو رہا ہے وہ لوگ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کو نعوذ باللہ جھوٹے کہتے تھے اور ساتھ یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی چیز نازل نہیں کی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ “۔ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے (آیت) ” وکذب بالصدق اذ جآئہ “ ۔ اور جس نے سچی بات کو جھٹلادیا جب کہ وہ اس کے پاس آگئی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ یہ باندھا کہ اس نے کوئی چیز نازل نہیں کی ، نیز حضور نبی آخر الزمان ﷺ اور اللہ تعالیٰ کے آخری کلام قرآن کی تکذیب کی جب کہ دونوں چیزیں ان کے پاس آگئیں ، یہ دونوں سچی باتیں ہیں مگر ان کو جھٹلا کر سب سے بڑے ظالموں میں شمار ہوگئے شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ العیاذ باللہ اگر نبی نے اللہ تعالیٰ کا نام جھوٹ موٹ لیا ہے تو اس سے برا کوئی نہیں ہو سکتا ، اور اگر وہ سچا ہے ، اور یقینا سچا ہے مگر کفار ومشرکین نے اس کو جھٹلایا ہے تو پھر ان سے برا کوئی نہیں ہوسکتا ، اللہ تعالیٰ کا نبی کبھی غلط بیانی نہیں کرسکتا ، اس کے برخلاف اس کو جھٹلانے والے خود جھوٹے اور غلط کار ہیں ۔ فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” الیس فی جھنم مثوی للکفرین “ کی یہ بات قطعی اور اٹل نہیں ہے کہ کفر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہے اس کو استفامیہ انداز میں بیان کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ لازما جہنم رسید ہوں گے جھوٹا اور ظالم آدمی اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا ،
(سچائی کی قدر دانی)
جھوٹ کے برخلاف آگے سچائی کا ذکر ہو رہا ہے (آیت) ” والذی جآء بالصدق وصدق بہ “۔ اور جو شخص سچی بات لایا اور اس کی تصدیق کی بعض فرماتے ہیں کہ سچی بات لانے اور اس کی تصدیق والا ایک ہی گروہ ہے اور وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہیں اور بعض فرماتے ہیں سچی بات لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے والے مختلف گروہ ہیں اور دونوں کی اللہ تعالیٰ نے تعریف بیان کی ہے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ وہ ذات جو سچی بات لے کر آئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے اور جنہوں نے اس سچی بات کی تصدیق کی ہے ، وہ مومن ہیں گویا دونوں جملوں کے مصداق الگ الگ ہیں ، اللہ تعالیٰ کے نبی کے اولین مصداق بالغ مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ عورتوں میں حضرت خدیجہ ؓ ، غلاموں میں حضرت زید ؓ اور بچوں میں حضرت علی ؓ ہیں تو فرمایا کہ جو سچی بات لایا اور جس نے اس کی تصدیق کی (آیت) ” اولئک ھم المتقون “ وہ سب متقی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ متقی کی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔ ” اتقو الشرک “ سب سے پہلے شرک سے بچو ، پھر کبیرہ گناہوں سے اور پھر درجہ بدرجہ صغائر سے جس شخص کا عقیدہ گمراہ کن ہوگا ، وہ متقی نہیں ہوسکتا ، بہرحال فرمایا کہ جو سچ کو لایا اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی (آیت) ” لھم ما یشآء وعند ربھم “۔ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش کرینگے (آیت) ” ذلک جزآء المحسنین “۔ نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے ، اور اس کا اثر یہ ہوگا (آیت) ” لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا “۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے سرزد ہونے والی بری بات کو معاف کر دے (آیت) ” ویجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوا یعملون “۔ اور تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اچھے اعمال کا ان کو بہتر بدلہ دے ، اللہ تعالیٰ نے ایسے متقین کے لیے بشارت بھی سنا دی ۔
(غیر اللہ کا خوف)
مشرک لوگ نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کو کہتے تھے کہ تم ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں ، اس سے باز آجاؤ ورنہ یہ تمہیں نقصان پہنچائیں گے اس طرح گویا اور اہل ایمان کو اپنے معبودان باطلہ سے خوفزدہ کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الیس اللہ بکاف عبدہ “۔ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ، یعنی وہ اس کی مدد کرنے پر قادر نہیں ، فرمایا وہ یقینا اپنے بندے کے لیے کافی ہے وہ ضرورا س کی مدد کرے گا اور ہر شر سے محفوظ رکھے گا ، حالانکہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “۔ یہ آپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے ہیں اور جن کو کچھ اختیار نہیں کہ وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکیں ، ایسے لوگ یقینا گمراہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے (آیت) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد “۔ کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ اس کی ضد ، عناد اور سوء استعداد کی بناء پر گمراہ کر دے ، اس کو کوئی راہ راست دکھانے والا نہیں ہے اس کے برخلاف (آیت) ” ومن یھد اللہ فمالہ من مضل “۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی ہدایت دے دے ، اس کو گمراہ کوئی نہیں کرسکتا فرمایا (آیت) ” الیس اللہ بعزیز ذی انتقام “۔ کیا اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک غالب اور انتقام لینے والا نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ ضرور ہے وہ مکذبین کو انتقام لیے بغیر نہیں چھوڑے گا بلکہ انہیں ان کی کارکردگی کی ضرور سزا دے گا ۔
معبودان باطلہ سے ڈرانے کا سلسلہ پہلی اقوام میں بھی موجود تھا حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے کہا تھا (آیت) ” ان نقول الا اعترک بعض الھتنا بسوء “۔ (ہود ، 54) میں اللہ تعالیٰ کو گوہ بناتا ہوں اور تم بھی اس بات کے گواہ رہو کہ میں تمہاری تمام شرکیہ باتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ، تم جو تدبیر کرنا چاہتے ہو کرلو ، اور مجھے مہلت بھی نہ دو ، میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے جو میرا پروردگار ہے ، اور میں تو یہی کہتا ہوں کہ زمین پر چلنے پھرنے والے تمام جانداروں کی پیشانی میرے پروردگار کے ہاتھ میں ہے مطلب یہ ہے کہ مجھے ڈرانے کی بجائے ڈرنا تو تمہیں چاہئے تھا اس مالک الملک سے جو بااختیار اور قدرت تامہ کا مالک ہے ، تم اس کو چھوڑ کر مخلوق کی پوجا کرتے ہو جو بےاختیار ہے ، تو یہاں پر حضور ﷺ کے متعلق بھی فرمایا کہ یہ لوگ آپ کو ماسوا اللہ تعالیٰ سے ڈراتے ہیں ، فرمایا کیا آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کافی نہیں ہے ۔ جو ان سب سے نپٹ لے گا ۔
(خالق حقیقی کی پہچان)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض عقلی دلائل کے ذریعے اپنی توحید کو سمجھایا ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ولئن سالتھم من خلق السموت والارض “۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ، تو یقینی بات ہے (آیت) ” لیقولن اللہ “۔ کہ کہیں گے کہ اللہ ہی نے انکو پیدا کیا ہے جب ہر چیز کا خالق حقیقی اللہ ہے تو پھر تم اس کے ساتھ دوسروں کو کیوں شریک بناتے ہو ، اگر اللہ تعالیٰ کے سوا خالق کوئی نہیں تو پھر پھر وہ معبود کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر آگے ایک دوسرے طریقے سے یہی بات سمجھائی ہے ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے کہہ دیں ، (آیت) ” افرء یتم ما تدعون من دون اللہ “۔ بھلا دیکھو تو کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے کس کام آسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان کی کیا حیثیت ہے ؟ (آیت) ” ان ارادنی اللہ بضر ھل ھن کشفت ضرہ “۔ اگر خدا تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا ان میں سے کوئی ہے جو میری اس تکلیف کو دور کر سے ؟ (آیت) ” اوارادنی اللہ برحمۃ ھل ھن ممسکت رحمتہ “۔ یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی کوئی مہربانی کرنا چاہئے تو کیا یہ معبودان باطلہ ان رحمت کو روکنے پر قادر ہیں ؟ ظاہر ہے کہ دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے نہ کوئی اللہ کی بھیجی ہوئی مصیبت کو دور کرسکتا ہے اور نہ اس کی رحمت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے اگر یہ بات ہے تو پھر ان کی عبادت کیوں ؟ ان کی نذر ونیاز کیسی اور تکلیف کے وقت ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ؟ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے وہی کسی کی تکلیف کو رفع کرسکتا ہے ، ہر چیز کا مالک مختار اور مدبر وہی ہے لہذا اس کے سوا کسی کو پکارنا محض جہالت اور ارتکاب شرک ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے ان کو نصیحت کی تھی ” احفظ یحفظک اللہ “۔ تم دل میں اللہ تعالیٰ کا خیال کرو ، اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا ، تم اللہ تعالیٰ کو یاد رکھو ، ” تجدہ تجاھک “۔ تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے فرمایا ” تعرف الی اللہ فی الرحہ یعرفک فی الشدآئ “۔ تم اللہ تعالیٰ کو خوشحالی کی حالت میں پہنچانو ، وہ تمہیں تنگی کے وقت پہچانے گا ، اگر تم نے آسودگی میں اس کو یاد نہیں رکھا تو وہ تنگدستی میں تمہاری طرف توجہ نہیں فرمائے گا پھر فرمایا ” اذا سالت فاسئل اللہ “۔ جب بھی سوال کرو اللہ تعالیٰ سے کرو اور جب بھی مدد طلب کرو تو اللہ تعالیٰ سے ، اور یقین جان لوگ کہ اگر ساری مخلوق بھی اکٹھی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے مقرر کردہ چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہاری مقدر میں نہیں کی ، یہ سارے مل کر بھی تجھے کوئی نفع پہنچانے پر قادر نہیں ، فرمایا صحیفے خشک ہوچکے ، قلمیں اٹھالی گئیں ، یقین اور شکر کے ساتھ نیک اعمال انجام دیتے رہو ، تکلیفوں میں صبر کرنے پر بڑی نیکیاں ملتی ہیں ، رنج وغم کے ساتھ ہی خوشی اور فراخی ہے اور ہر سختی اپنے اندر آسانی کو لیے ہوئے ہے ۔
(توکل علی اللہ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل حسبی اللہ “۔ آپ کہہ دیں کہ میرے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے ، مجھے یقین ہے کہ ہر مشکل وقت میں وہی میری مدد کرے گا (آیت) ” علیہ یتوکل المتوکلون “۔ بھروسہ رکھنے والے صرف اسی کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں ، حضور ﷺ نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی فرمایا ” من احب ان یکون اقوی الناس فلیتوکل علی اللہ “۔ جو شخص لوگوں میں طاقتور بننے کا خواہشمند ہے اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے کیونکہ قوت سر چشمہ اسی کی ذات ہے ، اور جو شخص مستغنی ہونا چاہتا ہے ، اس کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مقبوضہ چیز پر اعتماد رکھے اور اپنی مقبوضہ چیز پر اعتماد نہ رکھے اور جو شخص چاہتا ہے کہ اسے لوگوں میں عزت حاصل ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے ۔ بہرحال فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ میرے لیے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔
(جزائے عمل کا انتظار)
پھر آگے جزائے عمل کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل یقوم اعملوا علی مکانتکم “۔ اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے کہہ دیں کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو۔ (آیت) ” انی عامل “ میں اپنے مقام پر کام کرتا ہوں ، پھر اپنی اور میرے اعمال کے متعلق (آیت) ” فسوف تعلمون “۔ تم عنقریب ہی جان لوگے کہ کس کا عمل درست تھا اور کس کا غلط تھا ، اور پھر اس کے نتیجے میں تمہیں اس بات کا بھی علم ہوجائے گا (آیت) ” من یاتیہ عذاب یخزیہ “۔ کہ رسوا کردینے والا عذاب کس کے پاس آتا ہے ویحل علیہ عذاب مقیم “ اور ہمیشہ رہنے والا عذاب کس کے حصہ میں آتا ہے مطلب یہ کہ تمہیں جلدی ہی پتہ چل جائے گا ، صرف مرنے کی دیر ہے معلوم ہوجائے گا ، کہ اللہ گرفت میں کون آتا ہے تم اس آنے والے وقت کا انتظار کرو ۔
آگے اللہ تعالیٰ نے اس سورة کے بنیادی مضامین میں قرآن کریم کی حقانیت کا تذکر فرمایا ہے (آیت) ” انا انزلنا علیک الکتب للناس بالحق “۔ بیشک ہم نے یہ کتاب لوگوں کے لیے آپ پر حق کے ساتھ اتاری ہے اس میں لوگوں کے لیے ہدایت اور فائدہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نبی اور اس کی قوم کی زبان میں نازل فرمائی ہے کہ وہ لوگ اس کے پروگرام کو بخوبی سمجھ سکیں ، نیکی اور بدی میں امتیاز پیدا کریں صحیح اور غلط کو پہچائیں اور اس پر عمل پیرا ہو کر اللہ تعالیٰ کے ہاں سرخرو ہوجائیں ، مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کا فائدہ اس صورت میں ہوگا جب کہ اس کے پروگرام پر عمل کیا جائے گا محض تلاوت ہی مفید نہیں ہوگی ، بلکہ اپنی فکر وعمل کو بھی اس کے مطابق بنانا ہوگا ۔
(ہدایت اور گمراہی)
اب رہی یہ بات کہ اس پروگرام کو اپنانے کا فائدہ کس کو ہوگا ۔ تو فرمایا (آیت) ” فمن اھتدی فلنفسہ “۔ جس نے اس کتاب کے ذریعے ہدایت پالی اور وہ راہ راست پر چل نکلا تو یہ اس کے اپنے ہی فائدے کے لیے ہے اس کو ترقی نصیب ہوگی ، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور وہ آخرت میں سزا سے بچ جائے گا اس کے برخلاف (آیت) ” ومن ضل “ جو شخص گمراہ ہوگیا ، صحیح راستے سے بھٹک گیا ، اس نے توحید کی بجائے شرک وکفر اور نیکی کی بجائے بدی کو اختیار کیا (آیت) ” فانما یضل علیھا “۔ تو اس گمراہی کا نقصان بھی خود اسی کو ذات کو ہوگا ، اور بالآخر وہی جہنم کا شکار بنے گا کسی کے بےراہ ہونے سے معاذ اللہ ، اللہ تعالیٰ کا تو کچھ نقصان نہیں ہوگا ، اس کی شان میں تو کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ، بلکہ اس کا نقصان خود گمراہ شخضص کو ہی ہوگا ، لہذا اسے اچھا یا برا راستہ اختیار کرتے وقت اس کے انجام کو خوب ذہن نشین کرلینا چاہئے ۔
باقی رہ گئی یہ بات کہ لوگوں کی گمراہی کا حضور ﷺ کی ذات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی (آیت) ” وما انت علیھم بوکیل “۔ آپ ان پر کوئی ذمہ دار تو نہیں ہیں کہ ان کو ضرور ہی جنت میں پہنچانا ہے آپ کا کام تو اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے (آیت) ” ما علی الرسول الا البلغ “۔ (المائدہ ، 99) آگے ماننا یا ن ماننا ان کا کام ہے اور یہی اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں اگر یہ لوگ اپنی ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرکے دوزخ کا ایندھن بنتے ہیں (آیت) ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “۔ (البقرہ : 119) تو اس کے متعلق آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی بلکہ خود ان سے سوال ہوگا ، کہ تم جہنم میں کیوں آئے ، یہ خود جواب دیں گے کہ ہم نے توحید کا انکار کیا نماز نہ پڑھی حقوق ادا نہ کیے ، قیامت کو جھٹلایا ، غرضیکہ اپنے جرائم کا خود اقرار کریں گے آپ سے اس معاملہ میں کوئی باز پرس نہیں ہوگی وہاں اگر آپ نے لوگوں تک پیغام نہ پہنچایا (آیت) ” وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ “۔ (المائدہ 67) تو گویا آپ نے تبلیغ کا حق ہی ادا نہ کیا ، آپ مکمل دین لوگوں تک پہنچا دیں اور منکرین کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں ، چناچہ حضور ﷺ نے حق رسالت پورا پورا ادا کیا اور فرمایا کہ جنت سے قریب اور دوزخ سے بعید کرنے والی کوئی ایسی چیز نہیں جو میں نے تمہیں نہ بتلانی ہو ، اب نہ ماننے دے خود ذمہ دار ہوں گے ، آپ ان کے وکیل نہیں ہیں۔
Ayahs 39:42–52ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں اسی کا فائدہ ہے ، اور جو گمراہ ہوگا تو اس کا نقصان بھی اسی کو ہوگا ، پھر پیغمبر (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ ان کے مسلسل انکار پر آپ افسوس نہ کریں کیونکہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ یہ ایمان کیوں نہیں لائے بلکہ اپنی کار کزاری کے یہ خود ذمہ دار ہیں اور قیامت کو جواب دہ ہوں گے۔
(انسان کی موت وحیات)
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی موت وحیات کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر پیش کیا ہے اور اس ضمن میں اپنے مکمل اختیار کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو وفات دیتا ہے جانوں کو انکی موت کے وقت یعنی اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے حکم سے مقررہ وقت پر کسی انسان کی جان کھینچ لیتے ہیں سورة الانعام میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے (آیت) ” توفتہ رسلنا “۔ (آیت ۔ 61) تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان قبض کرلیتے ہیں یہ تو عام طبعی موت کا حال ہے کہ انسان بیداری کی حالت میں اپنے عزیز و اقارب کے سامنے جان دے دیتا ہے ، موت کی ایک دوسری صورت بھی ہے ۔ (آیت) ” والتی لم تمت “۔ جس کو بیداری کی حالت میں عام موت نہیں آتی (آیت) ” فی منامھا “۔ وہ اپنی نیند کے دوران موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے چناچہ (آیت) ” فیمسک التی قضی علیھا الموت “۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ موت کا فیصلہ کرتا ہے اس کی روح کی نیند کی حالت میں روک لیتا ہے یعنی نیند کے دوران ہی اس کی موت واقع ہوجاتی ہے ، چناچہ مدرہ فرقانیہ لکھنو کے معلم قاری عبدالمالک (رح) جو لاہور میں مقیم تھے ان کی موت نیند کی حالت میں ہی واقع ہوگئی تھی ، خود ہمارے شیخ ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) دوپہر کے وقت قیلولہ کی حالت میں ہی وفات پاگئے تھے ، اسی طرح کے کئی واقعات پیش آتے رہتے ہیں ، اسی لیے حضور ﷺ نے دعا سکھائی ہے (1) (بخاری ص 934 ، ج 2 ، مسند احمد ص 154 ج 5 و بخاری ص 1100 ج 2) بسمک اللھم اموت واحی “۔ اے اللہ ! میں تیرے نام پر ہی مرتا ہوں اور زندہ رہتا ہوں ، اسی طرح آپ نے بیداری کے وقت کی دعا بھی سکھلائی ہے ” الحمدللہ الذی احیانی بعد ما اماتنی “۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے موت طاری کرنے کے بعد پھر زندگی بخشی ۔
بہرحال فرمایا کہ جس کے متعلق موت کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو نیند کی حالت میں ہی روک لیتا ہے (آیت) ” ویرسل الاخری الی اجل مسمی “۔ اور دوسری جانوں کو ایک مقررہ وقت تک کہ لیے واپس بھیج دیتا ہے پھر جب ان کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو اللہ کے فرشتے ان کو وفات دے دیتے ہیں ۔
(روح اور جسم کا تعلق)
نیند اخت الموت یعنی موت کی بہن کہلاتی ہے جب انسان پر نیند طاری ہوتی ہے تو اس سے روح کھینچ لی جاتی ہے ، البتہ اس کی سانس اور نبض چلتی رہتی ہے ، اس ضمن میں دو قسم کی توجہیات پائی جاتی ہیں ، امام بغوی (رح) نے حضرت علی ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نیند کے دروان انسان کی جان اس کے جسم سے کھینچ لی جاتی ہے مگر اس کا تعلق جسم کے ساتھ بھی قائم رکھا جاتا ہے ، اس کی مثال سورج کا زمین کے ساتھ تعلق ہے کہ لاکھوں کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود سورج کی شعائیں اس کی روشنی اور حرارت زمین تک پہنچاتی رہتی ہیں ، اسی طرح روح کا تعلق بھی جسم کے ساتھ قائم رہتا ہے اگرچہ نیند کے وقت اسے جسم سے نکال لیا جاتا ہے ۔
شاہ عبدالقادر (رح) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین اور محققین فرماتے ہیں کہ ہر انسان کی دو روحیں ہوتی ہیں ، ایک روح حیوانی ہے ، جو شکم مادر میں انسان تخلیق کے روز اول سے انسان جسم کے ساتھ منسلک رہتی ہے اوپر دوسری روح روح الہی یا روح آسمانی ہے جو حمل کے چوتھے ماہ میں انسانی جسم میں داخل کی جاتی ہے ، روح حیوانی زندگی پھر جسم میں موجود رہتی ہے ، یہ ایک لطیف قسم کا دھواں یا بخاری ہوتا ہے جو موت کے وقت انسانی جسم سے نکل جاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کی روح اس کے جسم سے پرواز کرگئی ہے البتہ روح الہی نیند کی حالت میں جسم سے الگ ہوجاتی ہے اور بعض اوقات اس کی ملاقات دوسری زندگی اور مردہ روحوں کے ساتھ بھی ہوجاتی ہے ، اور خواب میں انسان کی ملاقات دور دراز کے رہنے والے یا مر جانے والے عزیزوں اور دوستوں سے بھی ہوجاتی ہے ، الغرض ! اس نظریہ کے تحت روح حیوانی تو نیند میں بھی انسانی جسم میں موجود رہتی ہے جس کی وجہ سے اس کی سانس اور نبض چلتی رہتی ہے اور روح الہی کو نکال لیا جاتا ہے ، اسی چیز کے متعلق یہاں فرمایا ہے کہ نیند کی حالت میں روح کو کھینچ لیا جاتا ہے ، پھر جب اس کی موت کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو اس کی روح الہی کو باہر ہی روک لیا جاتا ہے یعنی جسم میں واپس نہیں لوٹایا جاتا اور جس کے متعلق فوری موت کا فیصلہ نہیں ہوتا ، اس کی روح کو واپس جسم میں ایک مقررہ وقت تک لوٹا دیا جاتا ہے ، اور مقررہ وقت وہی ہے جو اس کی موت کے لیے مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے ، تو پھر اس روح کو نہیں لوٹایا جاتا ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی روح الہی ہر روز کھینچی جاتی ہے اور لوٹائی جاتی ہے حتی کہ موت کا وقت آپہنچتا ہے اور پھر روح الہی اور روح حیوانی دونوں ۔۔۔۔۔۔۔ ہوجاتی ہیں ۔
فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون “۔ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور فکر کرتے ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہوئے اس کی قدرت کو سمجھنا چاہتے ہیں ان کے لیے موت وحیات کے اس نظام میں دلائل قدرت میں جب وہ غور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کیسے کیسے تغیرات اور تصرفات کرتا ہے کس طرح روح کو داخل کرتا اور نکالتا ہے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت پر یقین آجاتا ہے ۔
(سفارش کا غلط عقیدہ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ام اتخذوا من دون اللہ شفعآئ “۔ کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو سفارش بنا رکھا ہے ؟ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو یا ناراض ہمارے معبودان باطلہ ضرور ہی ہماری سفارش کرکے ہمیں غضب الہی سے بچا لیں گے ، سفارش کا یہی عقیدہ باطل ہے عیسائی بھی یہی کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود سولی پر لٹک کر ہمیں بخشوا لیا ہے لہذا ہمیں کوئی فکر نہیں ستارہ پرست ستاروں کے متعلق اور قبر پرست اہل قیود کے متعلق ایسا ہی عقیدہ رکھتے ہیں حالانکہ یہ باطل عقیدہ ہے ، اس قسم کی کوئی سفارش قابل قبول نہیں ہوگی ۔
فرمایا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو سفارشی بنا رکھا ہے ” قل “ کہہ دیجئے (آیت) ” اولو کانوا لایملکون شیئا ولا یعقلون “۔ اگرچہ نہ وہ کسی چیز کے مالک ہوں اور نہ ہی سمجھ رکھتے ہوں ، ان کے سفارشی بعض تو بےجان اشیاء بت ، درخت وغیرہ میں جنہیں کسی قسم کا شعور ہی نہیں ، بھلا وہ کیا سفارش کریں گے ؟ اور بعض انسان ، فرشتے یا جنات میں تو وہ بھی بےاختیار میں سفارش تو وہاں ہوئی جہاں اللہ راضی ہوگا (آیت) ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “۔ (البقرہ : 255) اس کی اجازت کے بغیر کون سفارش کرسکتا ہے ؟ ہاں ! جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہو تو اللہ کے نبی ، فرشتے ، شہداء دیگر انبیاء لوگ سفارش کرسکیں گے ، پھر آگے اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی کی سفارش قبول کرتا ہے یا نہیں تاہم مشرکوں کی نہ ۔۔۔۔ جبری اور قہری سفارش سراسر باطل ہے ۔
فرمایا ” قل اللہ الشفاعۃ جمیعا “۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ سفارش تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے (آیت) ” لہ ملک السموت والارض “۔ جس کی بادشاہی آسمانوں اور زمین پر ہے (آیت) ” ثم الیہ ترجعون “ ۔ پھر تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ، قیامت والے دن ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوگی ، پھر حساب کتاب ہوگا ، اور جزائے عمل کی منزل آئے گی اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بھگتنا کرنا ہوگا ، جب تک اللہ کی رضا نہ ہوگی کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکے گا اور سفارش اس کے حق میں ہوگی جس کا ایمان اور ۔۔۔۔۔ صحیح ہوگی ، وہاں جبری سفارش کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی ۔
(ذکر الہی اور ذکر اغیار)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی ایک اور گندی ذہنیت کا تذکرہ فرمایا ہے (آیت) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “۔ جب ان کے پاس اکیلے اللہ وحدہ لاشریک کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل بدکتے ہیں اور سکڑ جاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، گویا وہ اللہ تعالیٰ کا نام بھی سننا گوارا نہیں کرتے ۔ (آیت) ” واذا ذکر الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون “۔ اور جس وقت اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں ، مشرک کی یہ بہت بڑی علامت ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال ، اس کی شان و شوکت اور اس کی ذات وصفات کا بیان تو پسند نہیں آتا ، مگر جب دیوی دیوتاؤں کا ذکر ہو ، شجر وحجر کی بات ہو ، گنبد ومینار کا ذکر کیا جائے ، اولیاء اللہ کے ساتھ خود ساختہ کرامات منسوب کی جائیں تو یہ لوگ بڑے خوش ہوتے ہیں اور نعرے مارتے ہیں ، دوسری جگہ فرمایا کہ اگر اللہ وحدہ لاشریک کا ذکر کیا جائے تو قریب ہے کہ مشرک لوگ ذکر کرنے والوں پر حملہ کردیں۔
مشرکین کا یہ خاصہ آج کل کے نام نہاد مسلمانوں میں بھی پایا جاتا ہے ، خدا کی قدرت ، عظمت ، علم اور لامحدود وسعت کا ذکر ہو تو ان کے چہروں پر انقباض ہوجاتا ہے اور ان کے دل سکڑنے لگتے ہیں مگر جب کسی پیر فقیر کی جھوٹی کرامات بیان کی جائیں تو دل میں خوش کے جذبات اور چہرے پر رونق آجاتی ہے آج کل شرک نواز لوگ دنیا میں کثرت سے ہیں ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جو شخص اولیاء اللہ کے ساتھ جھوٹی سچی باتیں منسوب نہیں کرتا اور ان کی تعریف و توصیف میں زمین وآسمان کے قلابے نہیں ملاتا ، وہ اولیاء اللہ کا منکر ہے ، حقیقت یہ ہے کہ خود اولیائے کرام اور بزرگان دین اپنی مجالس میں اللہ کی عظمت اور مواعظ حسنہ ہی کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی توحید اور اس کی عظمت و جلال ہی کی طرف دعوت دیتے ہیں مگر آج ان کے نام لیوا انہی کی بات کو سننا تک پسند نہیں کرتے اس سے زیادہ بےانصافی کی بات کیا ہو سکتی ہے ؟
(اللہ تعالیٰ کا حتمی فیصلہ)
ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیں (آیت) ” اللھم فاطر السموت والارض “۔ اے جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا (آیت) ” علم الغیب “۔ جو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے ، پوشیدہ چیزوں سے مراد وہ اشیاء ہیں جو مخلوق کے اعتبار سے مخفی ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں ہے ، (آیت) ” وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض ولا فی السمآء “۔ (یونس : 61) تیرے پروردگار سے تو زمین وآسمان میں ایک ذرے کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، تو فرمایا جو جاننے والا ہے چھپی ہوئی اشیاء کو (آیت) ” والشھادۃ “ اور ان چیزوں کو بھی جو مخلوق کے سامنے کھلی ہیں ، یعنی تو ظاہر اور مخفی ہر چیز سے واقف ہے ، (آیت) ” انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفون “۔ تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان چیزوں میں فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ۔
مطلب یہ کہ آج تو مشرک اپنے شرک پر ڈٹے ہوئے ہیں اور الٹا اہل توحید کو گستاخ اور بےادب کہتے ہیں ، مگر جب قیامت کا دن آئے گا تو اے اللہ ! تمام مختلف فیہ باتوں میں تیرا ہی فیصلہ ہی حتمی فیصلہ ہوگا ، اسی حقیقت کے پیش نظر حضور ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے ، ” اللہم فاطر السموت والارض علم الغیب الشھادۃ انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفون ، اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشآء الی صراط مستقیم “۔ (اے اللہ ! تو ہی آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے ، مختلف فیہ چیزوں میں میری حق کے ساتھ راہنمائی فرما کیونکہ راہ راست کی طرف تو ہی راہنمائی کرتا ہے جس کی چاہتا ہے ۔
(آخرت میں جان کا فدیہ)
آگے اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کا ذکر اس انداز میں کیا ہے (آیت) ” ولو ان للذین ظلموا مافی الارض جمیعا و مثلہ معہ “ جب قیامت والے دن ظالم لوگ پکڑے جائیں گے ، پھر اگر ان کے پاس زمین کی جملہ چیزیں ہوں اور اس سے دوگنی بھی ، اور وہ جان بخشی کے لیے یہ سب کچھ فدیہ کے طور پر دنیا چاہیں گے (آیت) ” لافتدوا بہ من سوء العذاب یوم القیمۃ “ تو قیامت والے دن کے برے عذاب سے بچاؤ کے لیے یہ فدیہ بھی کفایت نہیں کرے گا ۔ (آیت) ” وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون “۔ اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ چیز ظاہر ہوجائے گی جس کا انہیں گمان تک نہ تھا یعنی ایسی گرفت آئیگی ، جس کے متعلق انہوں نے کبھی سوچا تک نہ تھا ، (آیت) ” وبدالھم سیات ماکسبوا “۔ اور ان کی وہ تمام برائیاں بھی ظاہر ہوجائیں گی جو وہ انجام دیتے رہے انہیں اپنے کرتوت نظر آنے لگیں گے اور ان کا نتیجہ بھی ان کی نظروں میں گھومنے لگے گا ، (آیت) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “۔ اور جن چیزوں کے ساتھ وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے ، وہ سب ان کو گھیر لیں گی دنیا میں رہ کر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نبیوں ، خدا کے کلام اور وحی ، وقوع قیامت ، اور جزائے عمل کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ سب خود ساختہ باتیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی نبی بھیجا ہے اور نہ کتاب ، نہ کوئی قیامت ہے نہ حساب کتاب اور نہ جزائے عمل فرمایا انہی باتوں کے انکار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عذاب انہیں ہر طرف سے گھیر لے گا ۔
(انسان کی ناشکر گزاری)
فرمایا عام طور پر انسان اس قدر ناشکر گزار ہے (آیت) ” فاذا مس الانسان ضر دعانا “۔ کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پھر ہمیں پکارتا ہے جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو نہایت عاجزی کے ساتھ گڑ گڑا کر خدائے وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے اور مصیبت کے ازالے کے لیے اسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے ، جب ہر قسم کے ظاہری اسباب منقطع ہوجاتے ہیں تو انسان فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے (آیت) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت عطا کردیتے ہیں تکلیف دور ہوجاتی ہے ۔ (آیت) ” قال انما اوتیتہ علی علم “۔ تو کہتا ہے کہ یہ نعمت مجھے میرے علم لیاقت اور استعداد کی بناء پر حاصل ہوتی ہے ۔ میں کو الیفائیڈ ہوں ، میں نے اس طرح منصوبہ بندی کی ، فلاں تجارت میں مال لگایا ، فلاں کارخانہ کھولا تو مجھے یہ سب کچھ حاصل ہوگیا ، یہی اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی علامت ہے حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کی راہنمائی نہ فرماتا تو نہ وہ مصیبت سے چھوٹ سکتا تھا اور نہ اسے نعمت حاصل ہوسکتی تھی قارون نے بھی یہی کہا تھا (آیت) ” انما اوتیتہ علی علم عندی “۔ (القصص ، 78) یہ مال و دولت تو مجھے میرے علم وہنر اور استعداد و قابلیت کی وجہ سے حاصل ہوا ہے بڑے بڑے مشرک بھی اللہ تعالیٰ کی انعامات کو اپنی قابلیت پر محمول کرتے تھے ، مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” بل ھی فتنۃ “۔ بلکہ یہ تو آزمائش ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ تنگدستی کے ذریعے بھی آزماتا ہے اور خوشحالی کے ذریعے بھی جو اس آزمائش پر پورا اترے ، انعامات الہیہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے اس کا شکر ادا کرے وہ کامیاب ہوجاتا ہے ، اور جو اسے اپنی استعداد کا مرہون منت سمجھ لے وہ ناکام ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو آزمائش ہوتی ہے (آیت) ” ولکن اکثرھم لایعلمون “۔ مگر اکثر لوگ بےسمجھ ہیں جو خدا کی نعمت کی قدر دانی نہیں کرتے ۔
فرمایا (آیت) ” قد قالھا الذین من قبلھم “۔ تحقیق ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسی ہی بات کی ، وہ بھی اپنے مال و دولت پر اترانے لگے انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی محنت کا نتیجہ قرار دیا (آیت) ” فما اغنی عنھم ماکانوا یکسبون “۔ مگر ان کی کمائی کسی کام نہ آئی اس مال نے انہیں بچانے کی بجائے مزید سزا میں مبتلا کردیا پھر فرمایا (آیت) ” فاصابھم سیات ماکسبوا “۔ پھ پہنچیں ان کو وہ برائیاں جو انہوں نے دنیا میں رہ کر کمائی تھیں ، بالآخر ان کو اپنے گناہوں کی سزا مل کر رہی یہ سابقہ لوگوں کی بات تھی (آیت) ” والذین ظلموا من ھؤلآء “ اور اس دور کے لوگوں میں سے بھی جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا (آیت) ” سیصیبھم سیات ماکسبوا “۔ ان کو بھی ان کی اکتساب شدہ برائیاں ضرور پہنچیں گی انہیں بھی اپنے اعمال کی سزا بھگتنا ہوگی (آیت) ” وما ھم بمعجزین “۔ اور وہ خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکیں گے یعنی نہ تو اس کو تھکا سکیں گے اور نہ اس کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جاسکیں گے ، جس طرح پہلے لوگوں کو سزا ملی اسی ان کو بھی مل کر رہے گی ۔
آخر میں پھر اللہ تعالیٰ کے تصرف کا ذکر کیا گیا ہے کہ مال و دولت یا روزی کسی انسان کے اپنے بس میں نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تقسیم ہے جو وہ اپنی حکمت کے تحت انسان کی مصلحت کی خاطر کرتا ہے اس میں انسان کی ذاتی کاوش و محنت کو کوئی داخل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کار فرما ہوتی ہے ۔ فرمایا (آیت) ” اولم یعلموا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر “۔ ان لوگوں نے اس بات کو نہیں جانا کہ اللہ تعالیٰ ہی روزی کشادہ کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کی چاہے روزی کا مدار نہ تو علم اور کم علمی پر ہے اور نہ عقل اور بےعقلی پر ، اس میں انسان کی ذاتی استعداد و ذہانت کو کچھ داخل نہیں ، ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے کہ علم اور بیوقوف لاکھوں میں کھیلتے ہیں مگر بڑے بڑے صاحب علم ، فلاسفر اور دانشور عسرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ، رزق کی تقسیم خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ہی اس کی مصلحت کو جانتا ہے ، فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون “۔ اس میں البتہ نشانیاں اور دلائل ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے والے ان نشانات قدرت سے مستفید ہوتے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ کا مزید قرب حاصل ہوتا ہے مگر کفار ومشرکین ان دلائل سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے اور ہمیشہ نقصان میں رہتے ہیں ۔
Ayahs 39:53–63ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز فرمایا کہ مذکورہ تمام باتوں میں ایمان رکھنے والے لوگوں کے لیے واضح نشانیاں موجود ہیں ۔
(مغفرت عامہ کا اعلان)
اسلام کے ابتدائی دور میں جب لوگ کفر اور شرک کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہو رہے تھے تو بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر ہم ایمان لا کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیں اور نیک اعمال بھی شروع کردیں تو ہمارے سابق گناہوں کی سزا بھگتنا ہے تو اسلام لانے کا کیا فائدہ ؟ چناچہ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہی سوال کیا کہ کیا ہمارے وہ گنا معاف ہوجائیں گے جن کا ارتکاب ہم نے کفر وشرک کی حالت میں کیا ؟
اس سوال کا جواب پہلے سورة الفرقان میں بھی گزر چکا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے سابقہ گناہوں سے توبہ کرلی ، ایمان لے آئے اور اچھے اعمال انجام دینے لگے (آیت) ” فاولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت ، وکان اللہ غفورا رحیم “۔ (آیت : 70) ایسے لوگوں کے گناہ اللہ تعالیٰ نیکیوں میں بدل دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے ، اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی عفو عامہ کا ذکر دوسرے انداز میں کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ میری طرف سے میرے بندوں میں اعلان کردیں (آیت) ” یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے یعنی کفر ، شرک یا معاصی کا ارتکاب کیا ہے ، کوئی زندیق بن گیا ہے ، مرتد ہوگیا ہے ، یہودی ، نصرانی یا بدعتی بن گیا ہے ، فاسق فاجر ہوگیا ہے ، غرضیکہ کوئی بھی جرم کیا ہے ، ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے نسخہ شفا نازل فرمایا ہے (آیت) ” لاتقنطوا من رحمۃ اللہ “۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا کیونکہ (آیت) ” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا “۔ اللہ تعالیٰ سب کے سب گناہ معاف کر دیگا ، (آیت) ” انہ ھو الغفور الرحیم “۔ بیشک وہ بہت بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے ، یہ عام لوگوں کے لیے تسلی کا مضمون ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بیحد وبیشمار ہے ، اور اس کی معافی اور درگزر کی شان بہت رفیع ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے گناہ کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔
(شرائط معافی)
اور اس کے لیے صرف دو شرائط کی پابندی لگائی ہے جو شخص وہ شرائط پوری کر دے گا ، اس کے لیے اللہ کی بخشش ورحمت موجود ہے ، فرمایا پہلی شرط یہ ہے (آیت) ” وانیبوا الی ربکم “۔ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو ، مطلب یہ ہے کہ پہلے جن جرائم کا ارتکاب کر رہے تھے ان کو یکدم ترک کر دو اور ان سے توبہ کرو کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں کریں گے ، اور دوسری شرط یہ ہے (آیت) ” واسلموا لہ “۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کرلو ، آئندہ کے لیے اس کے احکام سے انحراف نہ کرو ، ان دو شرائط کی تکمیل موت کی حالت طاری ہونے سے پہلے پہلے ضروری ہے حدیث (1) (ترمذی ص 500) میں آتا ہے ” توبۃ العبد مالم یغرغر “۔ بندے کی توبہ کی قبولیت کا وقت موت کا غرغرہ طاری ہونے سے پہلے پہلے ہے ، جب موت کے فرشتے نظر آنے لگیں اور انسان کا وقت قریب آجائے تو پھر توبہ کا درازہ بند ہوجاتا ہے لہذا اس وقت سے پہلے پہلے توبہ کرنے اور خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کو اختیار کرلے تو اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ اپنے بندے کا بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کر دے گا ۔
مفسرین اور محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اگر حقوق اللہ کا تعلق ایسے حقوق سے ہے جن کی قضا ہو سکتی ہے تو انہیں قضا کرنے کی کوشش کرے اور اگر قضا نہیں ہو سکتے تو ویسے ہی استغفار کرے اور پھر آئندہ کے لیے اطاعت گزار بن جائے ، جہاں تک حقوق العباد کا تعلق ہے تو ان کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک معاف نہیں کرتا جب تک بندہ معاف نہ کر دے ایسے حقوق یا تو ادا کیے جائیں یا پھر متعلقہ اشخاص سے معاف کرایا جائے اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معافی کی درخواست پیش کی جائے ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان دو شرائط کے ساتھ معافی عامہ کے قانون سے مطلع فرمایا ہے اور ساتھ یہ بھی کہ یہ رعایت (آیت) ” من قبل ان یاتیکم العذاب “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی آمد سے قبل تک ہے ، اگر ایمان لانے اور توبہ کرنے سے پہلے عذاب آگیا تو پھر بھی توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوگی (آیت) ” ثم لا تنصرون “۔ پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جاسکے گی اور تمہیں اپنی کارگزاری کی سزا بھگتنا ہوگی ۔
(قرآنی تعلیمات کا اتباع)
فرمایا (آیت) ” واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم من قبل ان یاتیکم العذاب بغتۃ “۔ اور اس بہتر بات کا اتباع کرو جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے قبل اس کے کہ اچانک تمہاری پاس عذاب آجائے (آیت) ” وانتم لا تشعرون “۔ اور تمہیں خبر بھی نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہترین نازل ہونے والی چیز قرآن کریم ہے جس کے اتباع کا حکم دیا جا رہا ہے ، آیت ، 23 میں اسے احسن الحدیث بھی کہا گیا ہے ، اور یہ ایسا قانون اور تعلیم ہے کہ اس سے بہتر کوئی پروگرام نہیں ہے اور اچانک عذاب آجانے کا مطلب یہ ہے کہ اچانک تمہاری موت واقع ہوجائے یا اجتماعی طور پر تمہاری موت واقع ہوجائے یا اجتماعی طور پر قیامت برپا ہوجائے لہذا اللہ کے اس دستور کا اتباع اختیار کرلو ،
یہ باتیں اس لیے سمجھا دی گئی ہیں کہ جس طرح کلیتا گناہ سے بےنیاز اور بخشش کے لیے پر امید ہونا کفر ہے اسی طرح اللہ کی رحمت سے بالکل ناامید ہوجانا بھی کفر ہے سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حسرت سے یعقوب (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا ہے (آیت) ” ولا تایئسوا من روح اللہ ، انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ (آیت : 87) اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو کیونکہ مایوسی تو کافروں کا شیوہ ہے مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتا رہتا ہے اور اس کی رحمت و بخشش کے لیے پر امید ہوتا ہے عام مقولہ بھی ہے ” الایمان بین الخوف والرجائ “۔ یعنی ایمان کا صحیح مقام خوف اور امید کے درمیان ہے ، کسی ایک طرف کو جھک جانا درست نہیں ۔
(گزشتہ زندگی پر حسرت)
فرمایا ان حقائق کا اظہار اس لیے بھی ضروری ہے (آیت) ” ان تقول نفس “۔ کہ کل کو کوئی نفس یہ نہ کہہ دے (آیت) ” یحسرتی علی ما فرطت فی جنب اللہ “۔ افسوس کہ میں نے اللہ کے سامنے کو آسی کی ہے (آیت) ” وان کنت لمن الساخرین “۔ اور میں تو ٹھٹا کرنے والوں میں تھا میں دنیا میں خواہشات کی پوجا کرتا تھا اور دوسروں کی دیکھا دیکھی حجاب رسم میں مبتلا تھا افسوس میں نے اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور دین کے حقائق کی طرف توجہ ہی نہ کہ اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا (آیت) ” اوتقول لو ان اللہ ھدنی لکنت من المتقین “۔ یا کوئی یہ کہہ دے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے دیتا تو میں متقیوں میں سے ہوتا ، اللہ نے ایسے شخص کی حسرت کا حال بیان کیا ہے وگرنہ اللہ نے تو ہدایت کے سارے سامان مہیا کر دے تھے اپنے نبی بھیجے کتابیں نازل فرمائیں ان کے پیچھے مبلغ بھیجے جنہوں نے ہدایت کے راستے کو واضح کیا پھر جگہ جگہ دلائل قدرت بکھیر دیے جنہیں دیکھ کر اور جن پر غور فکر کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زندگی بھر اس ہدایت کو اختیار کرنے کہ مہلت بھی دی اس کے باوجود اگر کوئی شخص ہدایت کو قبول نہیں کرتا تو پھر اس کے لیے وہ خود ذمہ دار ہے اور اسے قیامت والے دن افسوس ہی کرنا پڑے گا مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے یہ تمام چیزیں اس لیے بھی واضح کردیں (آیت) ” او تقول حین تری العذاب “۔ کہ کوئی شخص عذاب الہی کو آتا ہوادیکھ کر یہ بھی نہ کہہ دے (آیت) ” لوان لی کرۃ فاکون من المحسنین “۔ کاش کہ میرے لیے دنیا میں پلٹ کر جانا ہوتا تو میں نیکی کرنے والوں میں ہوتا ، مگر اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے اسے دوبارہ واپس آنے کا موقع نہیں دیا جاتا بلکہ اسے اپنی اسی زندگی کے اعمال وکردار کا ہی بھگتان کرنا ہوتا ہے لہذا مجھے ایسے شخص کو بےوقت افسوس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
(تکذیب کا انجام)
آگے اللہ نے اتمام حجت کے طور پر یاد دلا ” بلی “ کیوں نہیں ۔ (آیت) ” قد جآء تک ایتی فکذبت بھا “۔ تحقیق میری آیتیں تیرے پاس آ چکی ہیں مگر تو نے ان کو جھٹلا دیا یعنی قبول نہ کیا آیات سے مراد معجزات احکام اور دلائل ہیں ، اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی میں یہ سب کچھ تمہیں مہیا کردیا ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بیشمار دلائل ظاہر کیے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے معجزات اور حلال و حرام اور جائز ناجائز کے احکام پیش کیے مگر تو نے کسی کو تسلیم نہ کیا اور تیرا یہ جھٹلانا اس وجہ سے تھا (آیت) ” واستکبرت “ کہ تو نے غرور وتکبر کیا نبیوں کی بات کو نہ مانا بلکہ اپنی عقل کو بڑا سمجھتا رہا اور اپنے مال و دولت پر اتراتا رہا جس کے نتیجے میں (آیت) ” وکنت من الکفرین “۔ تو کفر کرنے والوں میں شامل ہوگیا اور تو نے مذکورہ تمام چیزوں کا انکار کردیا ۔
فرمایا (آیت) ” ویوم القیمۃ تری الذین کذبوا علی اللہ وجوھھم مسودۃ “۔ قیامت والے دن تو اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں کو دیکھے گا کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے ، ان پر کفر ، شرک اور معاصی کی تاریکی چھائی ہوگی ، سورة عبس میں ہے (آیت) ” ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ، ترھقہا قترۃ “۔ اس دن بعض چہروں پر گردوغبار اور سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی ، دور سے پہچانے جائیں گے کہ یہ کفر ، شرک اور معاصی والے لوگ ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اب دیکھ لو (آیت) ” الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین “۔ کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ یقینا جہنم رسید ہوں گے ۔
(متقین کے لیے اجر)
مکذبین کے بالمقابل متقین کے متعلق فرمایا (آیت) ” وینجی اللہ الذین اتقوا بمفازتھم “۔ اور بچا لے گا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا ان کی کامیابی کی جگہ میں ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کفر ، شرک بدعقیدگی اور کبائر وصغائر سے بچنے کا نام تقوی ہے ، اللہ نے مومنوں کے کی شان میں یہ بھی فرمایا ہے (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “۔ (التوبۃ : 110) ان ایمان والوں کو کامیابی کی بشارت دے دو جو اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) بھی تقوی کا معنی محافظت پر حدود شرع ‘ ہی کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدوں کی حفاظت کرنا ہی تقوی ہے مفازت کا معنی کامیابی کی جگہ ہے جو یقینا اللہ کی رحمت کا مقام جنت ہی ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو حظیرۃ القدس اور جنت تک پہنچائے گا اس کے علاوہ (آیت) ” لایمسھم السوء “۔ ان کو کسی قسم کی برائی نہیں پہنچے گی ، اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام میں کوئی دکھ تکلیف جسمانی یا روحانی نہیں ہوگی (آیت) ” ولا ھم یحزنون “۔ اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ظاہر ہے کہ جب کوئی ظاہری باطنی تکلیف نہیں ہوگی تو غم بھی نہیں ہوگا ، ان کی کوشش ٹھکانے لگ چکی ہوگی ، اور وہ ہمیشہ کی پر آسائش زندگی گزاریں گے ، جس میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں آئے گی ۔
ّ ( ۔۔۔۔۔۔ )
پھر یاد دلایا (آیت) ” اللہ خالق کل شیء “۔ اللہ ہر چیز کا خالق ہے وہی مدبر اور متصرف ہے (آیت) ” وھو علی کل شیء وکیل “۔ اور وہی ہر چیز کا کارساز یعنی ذمہ دار ہے ، جب ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر اس کی ذات ، صفات ، اور عبادت میں کسی کو شریک بھی نہیں بنانا چاہئے ، (آیت) ” لہ مقالید السموت والارض “۔ زمین وآسمان کی چابیاں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں یعنی تمام کائنات پر اسی کا کنٹرول ہے ، لہذا اس کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کردینے چاہئے اور اس کے علاوہ کسی دوسری طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کیوں ؟ (آیت) ” والذین کفروا بایت اللہ “۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی معجزات دلائل اور احکام کا انکار کیا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب اور اس کے پروگرام کی حقانیت کو تسلیم نہ کیا اور نہ اس پر عمل پیرا ہوئے فرمایا (آیت) ” اولئک ھم الخسرون “۔ یہی لوگ حقیقی خسارے والے ہیں جن کے متعلق اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور رہیں گے ، بلکہ اس کے غیظ وغضب کا شکار بھی ہوں گے اور یہ سب سے بڑا نقصان ہے ۔