Ayahs 39:11–21ربط آیات :
اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے برداشت کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا کیا جائے گا ۔
(اخلاص فی العبادت کا حکم)
اب آج کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردی کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ لوگوں کو کہہ دیں یعنی انکے سامنے اس بات کی وضاحت کردیں (آیت) ” انی امرت ان اعبداللہ مخلصا لہ الدین “۔ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اس حال میں کہ اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرنے والا ہوں دین سے مراد بندگی اور اطاعت ہے یہی مضمون سورة ہذا کی ابتداء میں بھی بیان ہوا تھا (آیت) ” فاعبداللہ مخلصین لہ الدین “۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اسی کے لیے اطاعت کر خاص کرنے والے ہو کر ، گویا یہ بات بار بار ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسی خالص ہی معبتر ہے ، جس میں شرک اور ریا کی آمیزش نہ ہو ، نیز فرمایا کہ آپ یہ بھی کہہ دیں (آیت) ” وامرت لان اکون اول المسلمین “۔ اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا اولین فرمانبردار اور اطاعت گزار بن جاؤں چناچہ امت میں اللہ تعالیٰ کا اولین ذات پیغمبر (علیہ السلام) کی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کا مطیع اور فرمانبردار ہوتا ہے ، اور پھر ساری امت اس کے تابع ہوتی ہے اس لحاظ سے بھی فرمانبردار میں پہلا نمبر نبی کا ہی ہوتا ہے اور اگر بلحاظ مجموعی تمام کائنات کا شمار کیا جائے تو ازل اور عالم ارواح میں بھی اللہ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرنے والی ذات پیغمبر (علیہ السلام) کی ہی ثابت ہوتی ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ کے نزدیک میں تو اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب کہ آدم (علیہ السلام) کا ابھی پانی اور مٹی سے ڈھانچہ تیار ہو رہا تھا تو گویا عالم شہادت اور عالم غیب دونوں مقامات پر تمام لوگوں میں اولین اطاعت گزار اور فرمانبردار پیغمبر (علیہ السلام) ہیں ۔
ساتھ یہ بھی فرمایا (آیت) ” قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم “۔ آپ کہہ دیں کے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں ، تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے ، اللہ کے نبی معصوم اور اس کے مقرب ہوتے ہیں مگر امت کی تعلیم کے لیے واضح کیا جا رہا ہے کہ بفرض محال اگر میں بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کروں تو میں بھی اس کے غضب سے بچ نہیں سکتا لہذا عام امتیوں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کس قدر ضروری ہے اور اس کی نافرمانی کس قدر مہلک ہے آگے اسی سورة میں مزید وضاحت بھی آرہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ البتہ تحقیق تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے والوں کی طرف بھی (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین “۔ (آیت : 65) اگر آپ نے بھی شرک کا ارتکاب کیا تو آپ کے بھی سارے اعمال ضائع کردیے جائیں گے ، اس طرح سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا نام لے کر فرمایا ہے (آیت) ” ولو اشرکو لحبط عنھم ما کانوا یعملون “۔ (آیت 89) اگر وہ بھی شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع کردیے جاتے ۔
آگے پھر اسی مضمون کو اپنے نبی کی زبان سے دوسرے انداز میں کہلوایا (آیت) ” قل اللہ اعبد مخلصا لہ دینی “۔ آپ کہہ دیں کے میں تو اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتا ہوں اس حالت میں کہ اس کی اطاعت کو خالص بنانے والا ہوں پہلے کہا تھا کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خالص اسی کی عبادت کروں اور اب تعمیل حکم کے انداز میں فرمایا کہ میں تو اسی کا اطاعت گزار بن کر خالص اسی کی عبادت کرنے والا ہوں ، اور اپنے قول ، فعل یا عمل میں کسی طرح بھی عبادت الہی میں شرک یا ریا کی آمیزش نہیں کرتا ، پھر خود اقرار کرنے کے بعد دوسروں کو فرمایا (آیت) ” فاعبدوا ماشئتم من دونہ “۔ تم اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ، تمہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جو شخص مومنوں کے راستہ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے (آیت) ” نولہ ما تولی ونصلہ جھنم “۔ (النسآء 115) تو جدھر وہ جانا چاہتا ہے ہم اس کی اسی طرح کی توفیق دے دیتے ہیں مگر اس کا ٹھکانا بلانتہا جہنم ہوگا ، ہم کسی کو ہاتھ سے پکڑ کر شرک یا کسی دیگر معصیت سے نہیں روکتے مگر اس پر انجام واضح کردیتے ہیں ، بہرحال فرمایا کہ تم جدھر چاہو جاسکتے ہو مگر میں تو خالص اللہ کی عبادت کرتا ہوں ۔
(نقصان زدہ لوگ)
اور ساتھ ساتھ اللہ نے تنبیہ کے طور پر اپنے نبی کی زبان سے یہ اعلان بھی کروا دیا (آیت) ” قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم واھلیھم یوم القیمۃ “۔ آپ ان سے یہ بھی فرما دیں کہ دراصل نقصان اٹھانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانوں کو قیامت والے دن نقصان میں ڈالا ، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں خود بھی کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا رہے اور اپنے گھروالوں کو بھی اسی ڈگر پر چلائے رہے صحیح معنوں میں نقصان زدہ لوگ یہ ہیں ، یہ سمجھتے رہے کہ ہم عرسوں میں شریک ہو کر ، مزاروں پر چادریں چڑھا کر ، غیر اللہ کی نذر ونیاز دے کر اور بدعات کو فروغ دے کر بڑے نیکی کے کام کرتے رہے ہیں جو قیامت والید ن ان کے کام آئیں گے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ان کے یہی اعمال قیامت والے دن ریت کے ذرات کی طرح اڑ جائیں گے اور یہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے سورة الکہف میں اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی نقصان زدہ لوگوں کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیں کیا ہم نہ بتلائیں تم کو کہ اعمال کے لحاظ سے خسارے میں پڑنے والے کون لوگ ہوں گے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں (آیت) ” الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا “۔ (آیت : 104) جنہوں نے دنیا کی زندگی میں غلط راستے پر چل کر اپنی ساری محنت کو ضائع کرلیا مگر سمجھتے یہ رہے کہ ہم بڑے نیکی کے کام کرتے رہے ، فرمایا ایسے لوگ قیامت والے دن خود بھی نقصان اٹھانے والے ہوں گے اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی نقصان کا باعث بنیں گے ، اللہ تعالیٰ کا حکم تو یہ تھا (آیت) ” قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم ، 6) لوگو ! خود کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ مگر انہوں نے گھروالوں کو بھی کفر ، شرک اور بدعات کے کاموں میں لگائے رکھا ، لہذا قیامت والے دن ان کے ساتھ ان کے گھر والے بھی نقصان اٹھانے والے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے متعلق بھی فرمایا ہے (آیت) ” واحلوا قومھم دارالبوار “۔ (ابراہیم 28) کہ یہ لوگ خود بھی جہنم واصل ہوئے اور اپنی قوم کے لوگوں کو بھی وہیں پہنچایا ۔
فرمایا نقصان زدہ لوگ وہ ہیں جنہوں نے قیامت والے دن اپنی اور اپنے گھر والوں کو جانوں کو نقصان میں ڈالا ، اللہ نے انسان کو جان جیسی قیمتی پونجی دے کر دنیا میں بھیجا تھا تاکہ اس کے ذریعے ایمان اور اطاعت کمالے مگر اس نے یہاں آکر اس پونجی سے کفر ، شرک اور بدعات کو خریدا اور خسارے میں پڑگیا منافقوں کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” فما ربحت تجارتھم “۔ (البقرہ : 16) ان کی اس تجارت نے انہیں کچھ نفع نہ پہنچایا اور وہ زندگی جیسی قیمتی پونجی گنوا بیٹھے ، فرمایا (آیت) ” الا ذلک ھو الخسران المبین “۔ آگاہ رہو کہ یہی کھلا نقصان ہے جس نے خود کو اور گھر والوں کو نذر آتش کردیا ، اور اس سے بڑا گھاٹا کیا ہوگا ؟
فرمایا اس نقصان کا اثر یہ ہوگا (آیت) ” لھم من فوقھم ظلل من تحتھم ظلل “۔ اور ان کے نیچے بھی ایسے ہی سائبان ہوں گے مطلب یہ کہ ان اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا اور دوزخ کی آگ ان کو ہر طرف سے گھیر لے گی ، پھر ناصحانہ انداز میں فرمایا (آیت) ” ذلک یخوف اللہ بہ عبادہ “۔ اللہ تعالیٰ اس چیز کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور فرماتا ہے (آیت) ” یعباد فاتقون “۔ اے میرے بندو ! مجھ سے ڈرتے رہو کہیں تم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوجانا جس سے تمہیں آگاہ کردیا گیا ہے ۔
(انابت الی اللہ والے لوگ)
اب نقصان زدہ لوگوں کے برخلاف اہل اللہ کے متعلق فرمایا (آیت) ” والذین اجتنبوا الطاغوت ان یبدوھا “۔ اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت کی عبادت کرنے سے اجتناب کیا اس کے داؤ میں نہیں آتے (آیت) ” وانابوا الی اللہ “۔ اور طاغوت کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا (آیت) ” لھم البشری “۔ ایسے لوگوں کے لیے بشارت ہے (آیت) ” فشر عباد پس میرے بندوں کو بشارت سنا دیں کہ وہ کامیاب ہوجائیں گے اور جو بشارت کے مستحق کون لوگ میں (آیت) ” الذین یستمعون القول “ جو ابا سنتے ہیں یعنی ہر اچھی بری بات ان کے کانوں میں پڑتی ہے (آیت) ” فیتبعون احسنہ “۔ مگر ان میں سے پیروی صرف اچھی بات کی کرتے ہیں فرمایا (آیت) ” اولئک الذین ھدھم اللہ “ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے (آیت) ” واولئک ھم اولو الالباب “۔ اور یہی ہیں جو صحیح معنوں میں عقل مند ہیں ، دنیا کے اعتبار سے خواہ یہ کسی زہرہ میں آئیں خدا کے نزدیک یہی صاحب عقل ہیں جنہوں نے طاغوت کی پوجا کو چھوڑاکر خالص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا ،
اس آیت کریمہ میں طاغوت کی عبادت سے کنارہ کشی کا ذکر آیا ہے تو طاغوت سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتا ہے کہ جنت کا معنی سحر اور طاغوت کا معنی شیطان ہے ، امام ابن ہشام (رح) اپنی سیرت میں لکھتے ہیں ” کلما اضل عن الحق فھو طاغوت “۔ یعنی جو بھی حق کے راستے سے گمراہ کرنے والی طاقت ہو ، وہ طاغوت ہے چناچہ شیطان کے علاوہ بعض انسان بھی طاغوت ہوسکتے ہیں جو لوگوں کو ایمان اور توحید کے راستے سے ہٹا کر غلط راستے پر ڈالتے ہیں ، اس لحاظ سے بعض سلاطین اور ملوک بھی طاغوت ہیں جو ہمیشہ حق کی مخالفت کرتے ہیں ، اس فہرست میں امریکہ کا ریگن اور روس کا گوربا چوف بھی طاغوت ہیں جو دین ، مذہب ، خدا کے وجود اور شرائع الہیہ کی مخالفت کرتے ہیں اور لوگوں کو باطل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔
(حسن اور احس کی بحث)
اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ احسنہ “ بھی قابل توجہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت یافتہ اور صاحب عقل وہ لوگ ہیں جو ہر بات کو سنتے ہیں مگر اتباع احسن کا کرتے ہیں ، بعض فرماتے ہیں کہ احسن سے مراد اللہ کا حکم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ تورات کی احسن باتوں کا اتباع کریں ، اس لحاظ سے اللہ کا دین ، شریعت ، کتابیں ، پیغمبر کا طریق کار سب احسن میں آتا ہے ، بعض کہتے ہیں کہ (آیت) ” یستمعون القول “۔ میں تو کتاب نبی کیسنت اور شرائع الہیہ بھی آتی ہیں تو ان میں احسن اور غیر احسن کی تمیز کیسے ہو کہ بعض کا اتباع کیا جائے اور بعض کو چھوڑا دیا جائے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت میں بھی بعض چیزیں حسن ہیں اور بعض احسن کا درجہ رکھتی ہیں ، یعنی بعض باتیں اچھی ہیں اور بعض بہت اچھی ہیں ، اس کی مثال یوں ہے کہ کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا تو نقصان زدہ کے لیے بدلہ لینا جائز ہے اور جائز کام حسن کہلاتا ہے ، اگر وہ شخص بدلہ لینے کی بجائے زیادتی کرنے والے کو معاف کر دے تو وہ احسن کے درجے میں یعنی بہت اچھا فعل ہوگا ، اور اس کے بدلے میں اسے آخرت میں بہت بڑا اجر حاصل ہوگا حسن اور احسن کی مثال اس طرح بھی دی جاسکتی ہے کہ ایک طرف عزیمت ہے اور دوسری طرف رخصت ہے رخصت کو اختیار کرنا حسن ہے جب کہ عزیمت کو اختیار کرنا احسن ہے ، مسافر کے لیے سفر کے دروان روزہ افطار کرنے کی رخصت ہے اگر وہ روزہ نہیں رکھتا تو یہ جائز یا حسن ہے ، اور اگر وہ رخصت کی بجائے عزیمت کو اختیار کرتا ہے یعنی دوران سفر بھی روزہ رکھ لیتا ہے تو یہ احسن یعنی زیادہ بہتر ہے اس طرح کسی شخص کو نوافل بیٹھ کر پڑھنے کی رخصت ہے مگر وہ کھڑا ہو کر ادا کرتا ہے تو یہ عزیمت اور احسن کے درجہ میں آئیگی تو اللہ نے احسن چیز کو اختیار کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے ۔
(نیک وبد انجام )
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن حق علیہ کلمۃ العذاب “۔ بھلا وہ شخص جس پر عذاب کی بات ثابت ہوگئی ہے ، یعنی اس نے کفر ، شرک اور معاصی کا ایسا راستہ اختیار کیا کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب ثابت ہوگیا (آیت) ” افانت تنقذ من فی النار “۔ تو کیا ایسے شخص کو آپ چھڑا لیں گے جو دوزخ میں پڑچکا ہے ؟ جو آدمی اپنی ضد ، عناد اور بداعمالی کی بدولت دوزخ کا مستحق ہوچکا ہے ، اس کو آپ کیسے راہ راست پر لاسکیں گے ؟ مطلب یہ کہ ایسا شخص اب عذاب الہی سے نہیں بچ سکتا ۔
ہاں ایسے شخص کے برخلاف (آیت) ” لکن الذین اتقوا ربھم “۔ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ، انہیں محاسبہ اعمال اور جزائے عمل کی فکر ہے ، فرمایا (آیت) ” لھم غرف من فوقھا غرف مبنیۃ “۔ ایسے لوگوں کے لیے بالاخانے ہوں گے جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہوں گے ، ان رہائش گاہوں میں ضرورت کی ہر چیز مہیا ہوگی اور وہ وہاں نہایت آسائش کی زندگی گزار سکیں گے ، (آیت) ” تجری من تحتھا الانھر “۔ ان رہائش گاہوں کی ایک خوبی یہ بھی ہوگی کہ ان کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی (آیت) ” وعداللہ “۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے وعدہ ہوچکا ہے ، (آیت) ” لا یخلف اللہ المیعاد “۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، بلکہ وہ اپنے بندوں کے حق میں اس وعدے کو ضرور پورا کرے گا ، ان کو اپنی رحمت کے مقام میں ہمیشہ کی زندگی عطا کرے گا ، جہاں ہر قسم کا عیش و آرام میسر ہوگا ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کا ذکر فرما دیا ہے اور ان کے انجام سے بھی آگاہ کردیا ہے ۔ اب یہ ہر شخص کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ کس گروہ میں شامل ہو کر اپنی عاقبت کو کس طرح ڈسا لیا چاہتا ہے ۔
(دنیا اور آخرت کی مثال)
آگے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے نیکی ، بدی اور جزائے عمل کی بات سمجھائی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر ان اللہ انزل من السمآء مآء “۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا ، بادل ، ستارے ، سیارے ، فضا اور ہر بلند چیز کو آسمان سے تعبیر کیا جاتا ہے ، اور پھر بارش کے نزول میں عالم بالا سے آنے والا حکم خداوندی بھی شامل ہوتا ہے تو بارش نازل ہوتی ہے تو فرمایا کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف سے بارش کی صورت میں پانی نازل فرمایا (آیت) ” فسل کہ ینابیع فی الارض “ پھر اس کو چشموں کی صورت میں زمین کے اندر چلا دیا ، پہاڑوں پر بارش نازل ہوتی ہے یا برف پگھلتی ہے تو اس کا کچھ پانی تو ندی نالوں کی صورت میں سطح زمین پر بہ نکلتا ہے اور کچھ پانی زمین کے اندر ہی نالیوں کی صورت میں چل پڑتا ہے پھر جہاں اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے چشموں کی صورت میں ابل پڑتا ہے اور لوگ اسے پینے کے کام میں لاتے ہیں اور اس سے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں (آیت) ” ثم یخرج بہ زرغا مختلفا الوانہ “۔ پھر اس پانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ مختلف رنگوں کی کھیتیاں اگاتا ہے (آیت) ” ثم یھیج “ پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے (آیت) ” فترہ مصفرا “۔ اور تو دیکھتا ہے اس کو زدر (آیت) ” ثم یجعلہ حطامائ “۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو چورا چورا کردیتا ہے ، اس مثال سے مراد یہ ہے کہ جس طرح پانی ملنے پر کھیتی پیدا ہوتی ہے ، پھر وہ پک کر اپنے عروج کو پہنچتی ہے اور پھر زرد اور خشک ہو کرچورا چورا ہوجاتی ہے ، اسی طرح انسانی زندگی بھی عارضی ہے اس دنیا میں اس کو ایک وقت میں عروج بھی حاصل ہوتا ہے مگر بالآخر وہ اپنے انجام کو پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے اور اگلی دائمی زندگی کا پیش خیمہ بنتی ہے لہذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ اس عارضی زندگی پر مفتون ہونے کی بجائے دائمی زندگی کی فکر کرے اور اس کے لیے زاد راہ تیار کرے ، نیز اس مثال سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ جس طرح فصل پک جانے پر اناج اور بھوسہ الگ الگ ہوجاتے ہیں اسی طرح اگلے جہاں میں نیکی اور بدی الگ الگ ہو کر سامنے آجائیگی اور انسان اپنے تمام اعمال وکردار کو دیکھ سکے گا ۔
فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لذکری لاولی الالباب “۔ بیشک اس مثال میں عقلمندوں کے لیے نصیحت ہے ، انسانوں کو اس مثال پر غور وفکر اور اپنے اعمال وکردار کی اصلاح کرنی چاہئے ” الدنیا مزرعۃ الاخرۃ “۔ یہ دنیا بھی آخرت کی کھیتی ہے جو کچھ یہاں پر بوئے گا وہی آگے کاٹے گا ، لہذا دنیا کی زندگی میں آخرت کے لیے سامان پیدا کرنا چاہئے ۔
Ayahs 39:22–26(شرح صدر تنگدلی)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کا تقابل اور دونوں کا انجام بیان فرمایا تھا اور اب اس درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے شرح صدر اور تنگدلی کا تقابل کرکے ان کا انجام ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “۔ بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے ، اس کو اسلام کے اصول ، قوانین اور احکام پورے طریقے سے سمجھ میں آئے ہیں اور اسے کسی اصول و ضابطے میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں نہیں ، وہ اسلام کی ہر بات کو بخوشی قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰنے اس کے دل کو بصیرت سے لبریز کیا ہے اور وہ پورے اطمینان و سکون میں ہے (آیت) ” فھو علی نور من ربہ “۔ پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے ایمان ، اسلام ، اور اطاعت روشنی ہے اور اس کے برخلاف کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی تاریکیاں ہیں تو فرمایا ایک طرف تو شرح صدر والا آدمی ہے جو پنے پروردگار کی طرف سے نور ایمان پر ہے اور دوسری طرف سخت دل لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے منہ موڑنے والے ہیں یہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے ، فرمایا (آیت) ” فویل لبقیۃ قلوبھم من ذکر اللہ “۔ پس ہلاکت اور خرابی ہے ان لوگوں کے لیے ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ۔۔۔۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کے دل میں نیکی کی کوئی بات ۔۔۔۔۔۔ ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی خدا تعالیٰ کی یاد نصیب ہوتی ہے ، یہ لوگ ادہام ، خیالات فاسدہ ، قومی ، ملکی اور خاندانی رسم و رواج میں ہی پڑے رہتے ہیں حجاب طبع حجاب رسم اور حجاب سوء معرفت کا شکار ہو کر شرک ، کفر یا تشبیہ کے باطل عقیدہ میں مبتلا ہوتے ہیں ، اسلام کے اصولوں ، قوانین اور احکام سے متعلق ، ہمیشہ شک وتردد میں پڑے رہتے ہیں ، بھلا یہ دونوں قسم کے لوگ کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة الانعام میں اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا “۔ (آیت : 123) بھلا وہ شخص جو مردہ تھا یعنی کفر ، شرک اور گمراہی میں مبتلا تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا یعنی گمراہی سے نکلنے اور ایمان قبول کرنے کی توفیق بخشی پھر ہم نے اس کے لیے روشنی کا انتظام کردیا یعنی ایمان ، قرآن اور اسلام کی روشنی عطا فرمائی جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے ، یعنی کفر ، شرک اور بدعات والے ماحول میں رہ کر صراط مستقیم پر چلتا ہے تو کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہے ، جو کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی کی تاریکیوں میں دھکے کھا رہا ہے اور ان تاریکیوں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ نہیں پاتا ہرگز نہیں یہ دونوں برابر نہی ہوسکتے ۔
سنگدلی بہت بری چیز ہے جو کہ ضد ، عناد تعصب اور نافرمانی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی قساوت قلبی کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” وجعلنا قلوبھم قسیۃ “۔ (المائدہ : 13) ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا کیونکہ وہ احکام الہی کی نافرمانی کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو ستاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تحریف کرتے تھے ، گناہوں کے اصرار پر دل کی نرمی سختی میں تبدیل ہوجاتی ہے جس سے انسان کو عقل اور فہم معکوس ہوجاتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولئک فی ضلل مبین “۔ کہ وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں ، ان کے دل خدا کی یاد سے سخت ہوچکے ہیں یہ لوگ نور ایمان سے محروم ہیں نیکی بات کو قبول نہیں کرتے تو ایسے لوگ اس شخص کی طرح کیسے ہوسکتے ہیں جس کا دل اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور ہدایت پر ہے ۔
(قرآن بطور احسن الحدیث)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بعض خواص بیان فرمائے ہیں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا “۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب کی صورت میں بہترین بات اتاری ہے ، ” احسن الحدیث “۔ سے قرآن پاک جیسی عظیم کتاب مراد ہے ہم اکثر خطبہ جمعہ میں پڑھتے سنتے رہتے ہیں ” فان خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدی ھدی محمد ﷺ “ یعنی بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین نمونہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے عام محاورے میں بھی کہتے ہیں ” کلام الملوک ملوک الکلام “۔ یعنی بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے ، گویا بادشاہ وقت کے منہ سے نکلی ہوئی بات سب باتوں پر فوقیت رکھتی ہے ، تو ظاہر ہے کہ ملک الملوک یعنی شہنشاہوں کے شہنشاہ کی بات تو سب سے اعلی وارفع ہوگی ، تو یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ بہترین بات کتاب کی صورت میں نازل ہوئی ہے ۔
اس کتاب کی ایک صفت یہ ہے ” متشابھا “۔ کہ اس کی آیات آپس میں ملتی جلتی ہیں ، دراصل متشابہ کے کئی معانی آتے ہیں ایک معنی تو یہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے یعنی باہم ملتی جلتی اور دوسرا معنی محکم کے مقابلے میں متشابہ آتا ہے اس کی مثال سورة آل عمران کی ابتداء میں موجود ہے ، جہاں دونوں الفاظ میں آئے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے کتاب نازل فرمائی (آیت) ” منہ ایت محکمت ھن ام الکتب واخر متشبھت “۔ (آیت : 7) اس کتاب کی زیادہ ترآیتیں تو محکم یعنی مضبوط ہیں جن کے الفاظ ، معانی اور مطالب واضح ہیں ، البتہ بعض آیات متشابہ ہیں جن کے الفاظ اور معانی تو معلوم ہیں مگر انسان کو ان کی حقیقت تک رسائی نہیں ہو سکتی ، جیسے اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” الرحمن علی العرش استوی “۔ (طہ : 5) اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے ، بظاہر معانی تو سمجھ میں آتے ہیں مگر عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کا ادراک انسانی عقل وفہم کے بس کا روگ نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ، پاؤں چہرے اور پنڈلی کا ذکر بھی آتا ہے ، اور ہم ان الفاظ کے معنی بھی جانتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ان اعضاء کو انسان یا کسی دیگر مخلوق کے اعضا پر تصور نہیں کرسکتے ، کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰکی جسمیت اور جہت ثابت ہوتی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے پاک ہے لہذا ایسی چیزوں پر ایمان لانا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ، پاؤں ، چہرہ یا پنڈلی ایسے ہی ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہے ، اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے اعضاء کو مخلوق کے اعضاء پر قیاس کرے گا تو وہ اپنا عقیدہ خراب کر بیٹھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے کہ (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ (الشوری : 11) اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے کہ جس کے ساتھ اس کی مثال دی جاسکے ، وہ بےمثل اور بےمثال ہے ۔
متشابہ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ قرآن پاک کے مضامین میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ ” القران یفسر بعضہ بعضا “۔ قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کی تفسیر کرتے ہیں ، اگر کسی ایک مقام پر اجمال ہے تو دوسرے مقام پر اس کی تفصیل بھی ہے اگر کسی واقعہ کا ایک جزو ایک جگہ بیان ہوا ہے تو دوسرا جزو دوسری جگہ پر ہے ، مطلب یہ کہ قرآن پاک کی آیات میں اختلاف یا تعارض نہیں بلکہ وہ ایک دوسری کی ساتھ ملتی جلتی ہیں ،
فرمایا ، قرآن پاک کی تیسری خصوصیت یہ ہے ” مثانی “ کہ اس کی آیات بار بار دہرائی جاتی ہیں یعنی اس کی تلاوت بکثرت کی جاتی ہے ، چناچہ آج دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس کی تلاوت اس قدر کثرت سے کی جاتی ہو جس قدر کثرت سے قرآن حکیم پڑھا جاتا ہے ، اس کے معانی یا مطالب سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں ، ہر ایمان دار اس کی تلاوت میں ہمیشہ لذت اور حلاوت محسوس کرتا ہے اس کی کثرت تلاوت کا یہ ایک بین ثبوت ہے کہ دنیا میں آج بھی اس کے لاکھوں حفاظ موجود ہیں جنہیں یہ کتاب لفظا بلفظا زبانی یاد ہے اور وہ اس کی ہمیشہ دہراتے رہتے ہیں ۔
مثالی یعنی دہرانے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس کی آیات میں اگر ایک طرف ترغیب کا مضمون آیا ہے تو ساتھ ہی ترہیب کا مضمون بھی آگیا ہے ، اگر کسی مقام پر ایمان کے خصائل بیان ہوئے ہیں تو ساتھ ہی کفر کی قباحت بھی آگئی ہے تو ساتھ شرک کی تردید بھی ہے ، جہاں اخلاص کا تذکرہ ہے وہاں نفاق کا رد بھی آگیا ہے اگر کسی جگہ دنیا کی بات کی گئی ہے تو ساتھ عقبی کا ذکر بھی آگیا ہے کہیں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تذکرہ ہے تو ساتھ عذاب کی وعید بھی ہے ، جہاں جنت کا ذکر ہے وہاں دوزخ کی تفصیلات بھی بیان ہوئی ہیں گویا اس لحاظ سے بھی قرآن کریم مثانی ہے کہ اس میں ہر چیز کو دہرایا گیا ہے
(تلاوت قرآن کے اثرات)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم “۔ اپنے پروردگار سے ڈرنے والے جب تلاوت قرآن پاک سنتے ہیں تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، ” تقشعر “ کا معنی خوف کی حالت میں بال کھڑے ہوجانا ، کپکپی طاری ہوجانا ہے ، یہ تلاوت قرآن کا اثر ہے ، سورة المائدہ میں موجود ہے (آیت) ” واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق “۔ (آیت : 83) جب وہ رسول کی طرف نازل شدہ چیز کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھوں کو اشکبار دیکھتے ہیں اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے مطلب یہ ہے کہ ہر سلیم الفطرت انسان جو تعصب ، عناد اور نجاست سے خالی ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کو پڑے گا ، یا سنے گا اس کے دل پر ضرور اس کا اچھا اثر پڑے گا حتی کہ بعض اوقات آنسو بھی بہ جاتے ہیں ، ہر آدمی کے لیے ہر سماعت پر تو ایسا ہونا لازمی نہیں ہے تاہم بعض اوقات خوف کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے احادیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کے متعلق بھی ذکر آتا ہے کہ جب وہ کلام الہی کو سنتے تو ان کے آنسو بہ نکلتے تھے اس کے برخلاف جس کے دل میں ضد ، عناد ، تعصب اور نفاق ہوگا ، اس پر معکوس اثر ہوگا ، جیسا کہ فرمایا (آیت) ” ولا یزید الظلمین الا خسارا “۔ (بنی اسرائیل : 82) یہ چیز ظالموں کے لیے مزید نقصان کا باعث بنتی ہے اور منافقوں کے لیے نجاست کو بڑھاتی ہے ، ہاں جس دل میں طہارت اور پاکیزگی ہوگی اس پر کتاب الہی کا ضرور مثبت اثر ہوگا ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ جس دل میں خشیت ہوگی اور قساوت نہیں ہوگی تو اس کی علامت یہ ہے ” الا نابت الی ۔۔۔۔۔ لود “ اس کا دھیان اور توجہ آخرت کی طرف لگی ہوئی ہوگی ، اور اس کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی سے کسی نہ کسی درجے میں اچاٹ ہوگا ، ایسا شخص موت کے لیے ضرور تیاری کرے گا ، بعض اوقات کمزور دل لوگوں پر غشی بھی طاری ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ قیامت کا تصور کرکے آپ پر تین دفعہ غشی طاری ہوئی ، بعض لوگ جب اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا تصور کرتے ہیں تو ان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے ۔
آثار میں آتا ہے کہ ایک موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کا ذکر کرکے کوئی نصیحت فرما رہے تھے کہ مجمع میں سے ایک شخص نے جوش میں آکر اپنا گریبان چاک کر ڈالا ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر فورا وحی نازل فرمائی کہ اس شخص کو بتلا دیں کہ کرتا پھاڑ دینا کچھ معنی نہیں رکھتا بلکہ یہ تو اسراف میں داخل ہے گریبان کو چاک کرنے کی بجائے اپنے دل کو چاک کرو تاکہ اس پر خشیت طاری ہوجائے ، اگر جسم پر کوئی اثر نہ بھی ظاہر ہو تو کوئی حرج نہیں اگرچہ بعض پر ظاہری اثر بھی ہوجاتا ہے تاہم دل پر اثر کے نتیجے میں آنسو یا گریہ کا طاری ہوجانا بھی کافی ہے ۔
فرمایا اپنے پروردگار سے ڈرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں (آیت) ” ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ “۔ پھر ان کی کھالیں یعنی جسم اور دل اللہ تعالیٰ کی یاد کی طرف نرم یعنی مائل ہوجاتے ہیں اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے اس کی گرفت میں نہ آجائیں ، فرمایا (آیت) ” ذلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشآء “۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اور جسے چاہے ہدایت سے نوازتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد “۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ، اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے گمراہ کر دے ، اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے ۔ گمراہی میں مبتلا ہونے کے بھی بعض اسباب ہوتے ہیں ، یہ انسان کی ضد ، عناد ، تعصب اور استعداد کی خرابی ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی دستگیری نہیں ہوتی اور انسان گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے ، ایسے شخص کو پھر ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔
(نیک وبد میں تفریق)
آگے نیک وبد کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا ہے (آیت) ” افمن یتقی بوجھہ سوٓء العذاب یوم القیمۃ “۔ بھلا وہ شخص جو قیامت والے دن بچے گا اپنے چہرے کے ساتھ برے عذاب سے ، کیا وہ ان لوگوں کے برابر ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام میں ہوں گے ، چہرے کے عذاب کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان پر کوئی تکلیف آتی ہے تو وہ اپنے چہرے کو بچانے کے لیے ہاتھوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے مگر قیامت والے دن ہاتھ تو جکڑے ہوئے ہوں گے لہذا برا عذاب براہ راست اس کے چہرے پر پڑے گا جس سے وہ بچنے کی کوشش کرے گا مطلب یہ کہ جس شخص پر عذاب نازل ہوجائے گا وہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ شخص کی طرح تو نہیں ہو سکتا جو ہر طرح سے عیش و آرام میں ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی عزت افزائی ہوگی ، فرمایا (آیت) ” وقیل للظمین ذوقوا ماکنتم تکسبون “۔ اس دن ظلم کرنے والوں سے کہا جائے گا کہ آج اپنے کیے کا مزا چکھو ، دنیا میں کی ہوئی کمائی تمہارے سامنے ہے اب منہ پر پڑنے والے تھپیڑوں کو برداشت کرو ۔
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” کذب الذین من قبلھم “۔ نزول قرآن کے زمانے کے مکذبین سے پہلے بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کی کتابوں کو جھٹلا چکے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فاتھم العذاب من حیث لا یشعرون “۔ ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب آیا کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ، ان کی ہلاکت ایسے طریقے اور ایسے ذریعے سے واقع ہوئی جس کے متعلق وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے ، پھر کیا ہوا ۔ (آیت) ” فاذاقھم اللہ الخزی فی الحیوۃ الدنیا “۔ اللہ تعالیٰ نے انکو دنیا میں رسوائی کا مزا چکھایا ، کہیں شکست ہوئی ، زلزلہ اور طوفان آیا یا شکلیں تبدیل کردی گئیں ، (آیت) ” ولعذاب الاخرۃ اکبر “۔ اور آخرت کا عذاب تو بہرحال بہت بڑا ہے جو دائمی ہے دنیا میں تو بعض جرائم کی پوری سزا نہیں مل سکتی ، البتہ جب قیامت برپا ہوگی تو دنیا میں کیے گئے ذرے ذرے کا حساب ہو کر پوری پوری سزا ملے گی ، (آیت) ” لوکانوا یعلمون “۔ اگر ان کو کچھ سمجھ ہوتی تو یقینا یہ ایسا عقیدہ اور عمل اختیار نہ کرتے جو ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب کا باعث بنتا ، کاش یہ اس حقیقت کو جان لیتے تو آخرت میں چہرے پر پڑنے والے عذاب سے آج بچنے کی کوشش کرتے ۔
Ayahs 39:27–31ربط آیات :
شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کے انجام اور ان کو ملنے والے انعام واکرام کا ذکر فرمایا ، نیز مختصر طور پر مشرکوں اور کافروں کی سزا کو بیان فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہوگا ، فرمایا یہ لوگ محض غفلت اور بیوقوفی کی بناء پر ایمان اور وحدانیت کا انکار کرتے ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم نازل فرما کر ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ، اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی حماقت ہے قرآن نے تو توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو مثالوں کے ذریعے واضح کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مقصد یہ ہے کہ لوگ حقیقت کو پالیں اور غور وفکر کرکے اپنے انجام کو بہتر بنا لیں ۔
(معجز قرآن)
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پہلے قرآن حکیم کی حقانیت اور اس کے اعجاز کا ذکر کیا ہے پھر شرک اور توحید کی بات ایک مثال کے ذریعے سمجھائی ہے اور آخر میں کفار ومشرکین کے ایک طعنہ کا جواب دیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے لوگوں کے استفادہ کے لیے قرآن پاک میں ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں ضرب کے مختلف معانی آتے ہیں جن میں مارنا ، سفر کرنا اور بیان کرنا شامل ہیں ، تاہم اس مقام پر بیان کرنا ہی موزوں معنی ہے بعض اوقات کوئی مشکل بات عام تقریر کے ذریعے سمجھ میں نہیں آتی اور اگر اس کی کوئی مثال بیان کردی جائے تو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے ، قرآن پاک پر ایک عمومی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت سی مثالیں بیان کی ہیں جن میں منافقین اور کفار کے طرز عمل کی مثالیں ہیں ، کفار کے انفاق کی مثال ہے شرک کے بودا پن کی مثال ہے نور خداوندی کی مثال بیان کی گئی ہے ، حق و باطل ، دنیوی زندگی ، علمائے یہود ، مومن اور کافر ، کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ وغیرہ کی مثالیں بھی موجود ہیں ، آج کے درس میں بھی ایک مالک اور متعدد مالکون کے غلام کی مثال بیان کی گئی ہے ، ان مثالوں کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنے اعتقاد ایمان اور توحید کو درست کرلیں ، شرک اور کفر کی قباحت جان لیں اور پھر صراط مستقیم پر گامزن ہو کر اپنی عاقبت کو سنوار لیں ، مطلب یہ ہے (آیت) ” لعلھم یتذکرون “۔ کہ یہ لوگ نصیحت حاصل کرلیں ۔ اگر بیان کردہ مثال ان کی سمجھ میں آگئی تو اپنی حالت کو درست کرکے بچ جائیں گے وگرنہ ابدی جہنم تو ان کے لیے تیار ہے ۔
فرمایا جس قرآن میں ہم نے مثالیں بیان کی ہیں وہ (آیت) ” قرانا عربیا “ عربی زبان میں ہے وجہ یہ ہے کہ جس پیغمبر آخر الزمان پر یہ قرآن نازل ہوا اور جو قوم اسکی اولین مخاطب تھی وہ سب عرب تھی اور عربی زبان بولتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری کلام بھی اسی زبان میں نازل فرمایا ، سورة حم سجدۃ میں ہے (آیت) ” ولوجعلنہ قرانا اعجمیا لقالوا لولا فصلت ایتہ “۔ (آیت : 44) اگر ہم اس قرآن کو عجمی (غیر عربی) زبان میں نازل کرتے تو یہ لوگ اعتراض کرتے کہ اسے ہماری زبان میں کھول کر کیوں نہیں بنایا گیا ، لہذا اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل فرمایا ۔
اور پھر اس قرآن کی ایک صفت یہ ہے (آیت) ” غیر ذی عوج “۔ کہ اس میں کوئی کجی یا ٹیڑھا پن نہیں ہے بلکہ بالکل صاف صاف اور سیدھی سیدھی باتیں ہیں جو ہر فطرت سلیمہ اور عقل سلیم رکھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں ، اس قرآن میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ خرابی ، نہ تعارض اور نہ کوئی خلاف واقعہ بات ہاں اگر کسی شخص کا اپنا دماغ ہی مختل ہو تو پھر اس کو ہر چیز ٹیڑھی ہی نظر آئے گی وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں ہے سورة الکہف کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل فرمائی اور اس کو ٹیڑھا نہیں بنایا بلکہ ” قیما “ یعنی بالکل درست اور صحیح بنایا ہے جس کی ہر بات واقعہ کے مطابق ہے ، اس میں کوئی خرابی نہیں ہے پھر جس ماحول میں یہ قرآن نازل ہوا ہے وہ لوگ اہل زبان تھے اور قرآن کی فصاحت وبلاغت سے بخوبی آگاہ تھے مگر قرآن کا اعجاز محض عبادت کی موزونیت اور اس کی فصاحت وبلاغت کی بناء پر بلکہ یہ کتاب اپنے علوم ومعارف تعلیم نظام قانون اور صحیح صحیح نقشہ کشی کے اعتبار سے بھی معجز ہے ، قرآن نے دنیا بھر کے عربوں اور غیر عربوں کو چیلنج کر رکھا ہے کہ اگر تمہیں اس کی صداقت میں کچھ شک ہے تو اس جیسی ایک سورة ہی بنا کرلے آؤ (آیت) ” فاتوا بسورۃ من مثلہ “۔ (البقرہ : 23) مگر آج تک کوئی بھی اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکا فرمایا ہم نے اس قرآن کو ان تمام خوبیوں کے ساتھ اس لیے نازل فرمایا ہے (آیت) ” لعلھم یتقون “۔ تاکہ لوگ برے انجام سے بچ جائیں اپنے عقیدے وعمل کی اصلاح کرلیں اور اپنی فکر کو صحیح بنالیں ۔
(شرک اور توحید کی مثال)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ضرب اللہ مثلا “۔ اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے (آیت) ” رجلا فیہ شرکآئ “۔ ایک آدمی یعنی غلام ایسا ہے جس کی ملکیت میں کئی مالک شریک ہیں ، (آیت) ” متشاکسون “۔ وہ آپس میں ضد بازی بھی کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بعض جھگڑا لو قسم کے مالکوں کا ایک مشترک غلام ہے ، (آیت) ” ورجلا سلما لرجل “۔ اور ایک غلام ایسا ہے جو مکمل طور پر ایک ہی شخص کی ملکیت میں ہے (آیت) ” ھل یستوین مثلا “۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ یہ دونوں یکساں نہیں ہوسکتے جس غلام کے کئی مالک ہیں اور وہ ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو تو ظاہر ہے کہ ہر مالک غلام سے زیادہ سے زیادہ خدمت لینے کی کوشش کرے گا اور اس طرح وہ مختلف مالکوں کی کھینچا تانی کا شکار ہو کر سخت مصیبت میں گرفتار ہوگا ، اور دوسری طرف وہ غلام ہے جو ایک ہی مالک کی خدمت پر مامور ہے اور وہ اسی ایک کی طرف پوری توجہ دے کر اس کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے ، ایسا غلام پہلے غلام سے بہت آرام میں ہوگا اور اسے کوئی پریشانی بھی لاحق نہیں ہوگی ۔ اس مقام پر شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) لکھتے ہیں کہ ایک غلام جو کئی مالکوں کا ہوگا ، اس کو کوئی بھی اپنا نہیں سمجھے گا اور نہ ہی اس کی پوری طرح خبرگیری کرے گا ۔ اس لیے وہ ہمیشہ تکلیف میں رہے گا اور دوسری طرف وہ غلام ہے جو سارے کا سارا ایک ہی مالک کا ہے وہ شخص اس کو اپنا سمجھتا ہے اور اس کی خبر گیری بھی پورے طریقے سے کرتا ہے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ یہی مثال ایک موحد اور مشرک کی ہے ایک اللہ تعالیٰ کو پوجنے والوں کو اطمینان اور سکون حاصل ہوگا ، جب کہ کئی معبودوں کے پجاری ہمیشہ پریشان ہی رہیں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ذریعے توحید کی سعادت اور شرک کی قباحت بیان فرما دی ہے اسی وضاحت کے بعد فرمای (آیت) ” الحمد للہ “ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو ہر طرح کی مثالیں بیان کرکے مسئلہ کو سمجھا دیتا ہے (آیت) ” بل اکثرھم لا یعلمون “۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگوں کی اکثریت بےسمجھ ہے جو اس قدر واضح حقائق کو بھی سمجھنے سے قاصر ہے ظاہر ہے کہ ایسے لوگ شقی اور بدبخت ہی ہو سکتے ہیں جو اپنے انجام بد کو پہنچ کر رہیں گے وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو بات کو سمجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
(موت لازم ہے )
جب حضور ﷺ نے شرک کی تردید میں معبودان باطلہ کو طعن وتشنیع کانشانہ بنایا تو مشرکین سخت برہم ہوئے کہنے لگے یہ شخص نیا دین لے آیا ہے جو ہمارے عقیدے خراب کر رہا ہے اس نے ہمارے درمیان اختلافات پیدا کر دے ہیں ، پھر حضور ﷺ کو تبلیغ حق اور بتوں کی قباحت بیان کرنے سے منع کرتے ، مگر جب آپ ان کی باتوں میں نہ آتے اور اپنے مشن کو جاری رکھتے تو وہ لوگ کہتے (آیت) ” ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون “۔ (الطور : 30) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نبی شاعر ہے ، اور ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادثات کا انتظار کر رہے ہیں جونہی یہ شخص موت سے ہمکنار ہوگا اس کا سارا دھندا اور تبلیغ خود بخود ختم ہوجائے گی پھر ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے والا کوئی نہ ہوگا ، لہذا اس کو اپنے حال پر چھوڑ دو اور کچھ عرصہ کے لیے اس کی موت کا انتظار کرو ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انک میت وانھم میتون “۔ بیشک آپ بھی موت کا پیالہ پینے والے ہیں اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں مرنا تو سب کو ہے یہ بدبخت آپ کی موت کا انتظار جب کریں جب ان کو نہ مرنا ہو ، لہذا ان کی یہ بات لایعنی ہے موت عامہ کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے (آیت) ” کل نفس ذآئقۃ الموت “۔ (الانبیآئ۔ 35) موت کا مزا تو ہر ذی روح کو چکھنا ہے خواہ ہو کافر ہو اور یا مومن ، مخلص ہو یا منافق نیک ہو یا بد کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا ، دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو یوں وضاحت فرمائی (آیت) ” افائن مت فھم الخلدون “۔ (انبیائ : 34) اگر آپ موت کی آغوش میں چلے جائیں گے تو کیا یہ ہمیشہ اس دنیا میں رہیں گے ، نہیں بلکہ ان کو بھی مرنا ہے لہذا آپ کی موت کا انتظار ان کے لیے کچھ مفید نہیں ہوسکتا ۔
(قیامت کے دن مخاصمت)
فرمایا موت تو ہر ایک پر طاری ہونی ہے ہر انفرادی موت کو قیامت صغری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ایک دن مجموعی موت یعنی قیامت کبری بھی واقع ہوگی (آیت) ” ثم انکم یوم القیمۃ عندربکم تختصمون “۔ پھر اس دن تم اپنے پروردگار کے پاس جھگڑا کرو گے ، اس مخاصمت کی تفصیل میں حدیث میں بہت سی باتیں وارد ہوئی ہیں ۔ مثلا حضور ﷺ کا فرمان ہے ” لتؤدن الحقوقہ الی اھلھا “۔ لوگوں کے حقوق ادا کرو ورنہ یہ حق قیامت والے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں دلائے جائیں گے ، فرمایا اگر دنیا میں کسی سینگ والی بکری نے بےسینگ بکری کو اذیت پہنچائی ہے تو قیامت والے دن اس مظلوم کا حق بھی دلوایا جائے گا ، اس دن ایک پڑوسی دوسرے کے خلاف اپنے حق کے لیے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مقدمہ دائر کرے گا اور کہے گا کہ پروردگار ! اس شخص نے مجھے ستایا ، گالی گلوچ دی اور میرا حق غصب کیا ، جو مجھے دلایا جائے ، بیوی اور خاوند بھی آپس میں جھگڑیں گے ، بیوی اپنے خاوند کے ظلم و زیادتی کی شکایت کرے گی اور خاوند اپنے حقوق کی عدم ادائیگی کی بات کرے گا ، پھر اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا ، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قاتل اور مقتول کا تنازعہ بھی رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہوگا ، مقتول اپنے قاتل کو بالوں سے پکڑ کر گھیسٹتا ہوا دربار خداوندی میں لائے گا ، اس کے جسم سے خون ٹپک رہا ہوگا اور وہ مقدمہ پیش کرے گا ، کہ مولا کریم ! اس شخص نے ظلم و زیادتی کے ساتھ مجھے ناحق قتل کیا ، اللہ تعالیٰ اس جھگڑے کا فیصلہ بھی فرمائیں گے ، حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے ” اول ما یقضی بیان الناس فی الدمآء “۔ یعنی قیامت والے دن سب سے پہلے قتل ناحق کے فیصلے ہوں گے ۔
ایک موقعہ پر حضرت زبیر ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ، کیا دنیا میں پیش آنے والے جھگڑے قیامت کو پھر پلٹ کر آئیں گے ؟ آپ نے فرمایا ! ہاں ہرچیز کے متعلق جھگڑے پیش ہوں گے ، حضرت زبیر ؓ نے کہا ” اذا الشدید “۔ پھر تو معاملہ بہت ہی دشوار ہوگا ، آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے عرض کیا کہ مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس مال و دولت اور روپیہ پیسہ نہ ہو ، فرمایا قیامت والے دن مفلس آدمی وہ ہوگا جس کے تمام نیک اعمال ظلم و زیادتی اور ادائیگی حقوق کے سلسلے میں دوسروں کو تقسیم کردیے جائیں گے ، ظالم کی تمام نیکیاں ماسوائے ایمان ظلم کے بدلے میں مظلوم کو دے دی جائیں گی ، اگر پھر بھی بدلہ پورا نہ ہوا وت پھر مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دیے جائیں گے اور یہ شخص اس بوجھ کو لے کر جہنم میں داخل ہوگا ۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ظالم حاکم کو بھی اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کی جائے گا رعایا شکایت کرے گی کہ اس نے ہمارے ساتھ فلاں فلاں زیادتی کی ، ہمارے حقوق ادا نہیں کیے یا ہمارے مال وجان کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کی یا اس نے ظلم کو نہیں روکا ، اس مقدمہ کے نتیجے میں ظالم حاکم مغلوب ہوجائے گا ، اس سے کوئی جواب بن نہیں پڑے گا اور بالآخر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انسان کی روح اور جسم بھی آپس میں جھگڑیں گے ، روح کہے گی کہ اے فلاں تو نے اس جسم کے ساتھ فلاں فلاں گناہ کئے لہذا سزا کا مستحق تو ہے مگر جسم کہے گا کہ فلاں برائی کا حکم تو تو نے ہی دیا تھا جس پر میں نے عمل کیا ، لہذا سزا کا مستحق تو ہے ، آپ نے ایک مثال کے ذریعے بات سمجھائی کہ ایک اندھا اور اپاہج ایک باغ کے قریب اکٹھے ہوگئے ، وہ پھل چوری کرنا چاہتے تھے مگر اندھے کو نظر نہیں آتا ہے اور لنگڑا لولا چل کر نہیں جاسکتا ، بالآخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اندھا آدمی معذور کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر باغ میں لے جائیگا اور اپاہج مگر بینا پھل توڑے گا تو فرمایا جس طرح یہ اندھا اور اپاہج دونوں مجرم ہیں اسی طرح روح اور جسم دونوں کو مجرم ٹھہرا کر سزا دی جائیگی ، الغرض ! قیامت والے دن ہر شخص اپنا جھگڑا اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کرے گا اور پھر سب کے قطعی فیصلے ہوں گے ۔