38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 38:1–7

صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ Open ayah 38:1 in the Quran reader

ص ، قسم ہے نصیحت والے قرآن کی ۔

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ Open ayah 38:2 in the Quran reader

بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں ۔

كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّ لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ Open ayah 38:3 in the Quran reader

ہم نے ان سے پہلے بہت سی قومیں ہلاک کیں ، پس پکارا انہوں نے اور نہ رہا وقت خلاصی کا ۔

وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ١٘ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌۖۚ Open ayah 38:4 in the Quran reader

اور تعجب کیا انہوں نے (اس بات پر) کہ آیا ہے ان کے پاس ایک ڈر سنانے والا انہی میں سے اور کہا کفر کرنے والوں نے کہ یہ جادوگر اور جھوٹا ہے ۔

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ Open ayah 38:5 in the Quran reader

کیا کردیا ہے اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود ، بیشک یہ ایک عجیب چیز ہے ۔

وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ Open ayah 38:6 in the Quran reader

اور چل کھڑا ہوا ایک گروہ ان میں سے (اور کہنے لگا) چلو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر بیشک یہ ایک چیز ہے جس میں کوئی غرض ہے ۔

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ Open ayah 38:7 in the Quran reader

نہیں سنا ہم نے اس بات کو پچھلے دین میں نہیں ہے یہ مگر گھڑی ہوئی چیز ۔

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود برحق صرف ایک ہی ہے اور اس سورة کی ابتداء میں کفار کے تعجب کو اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھاواحد “۔ کیا اس شخص نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود کردیا ہے ؟ اس سورة مبارکہ میں مسئلہ رسالت پر خاص طور پر روشنی ڈالی گئی ہے اور تکذیب رسالت کو مہلک قرار دیا گیا ہے تاریخ رسالت کے ضمن میں بعض انبیاء مثلا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) الیسع (علیہ السلام) ، ذوالکفل (علیہ السلام) داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر آیا ہے ، ان میں سے بعض کا ذکر مقام شکر کے طور پر اور بعض کا صبر وابتلا کے مقام میں ذکر ہوا ہے اس سورة میں شیاطین اور جنات کا ذکر بھی آیا ہے اور ابلیس کی سرکشی اور نافرمانی کا تذکرہ بھی ہے فرشتوں کی بلند ترین جماعت ملاء علی کا ذکر بھی اس سورة میں کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں اور مجرم لوگوں سے انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور معاند لوگوں کے شکوک و شبہات کا تدارک ہے حضور ﷺ سے تسلی کا مضمون بھی اس سورة کا حصہ ہے ۔ (شان نزول) ترمذی اور مستدارک حاکم وغیرہ میں یہ صحیح حدیث (1) (ترمذی ص ومستدرک حاکم) موجود ہے کہ حضرت علی ؓ کے والد اور حضور ﷺ کے چچا ابو طالب حضور ﷺ کے بڑے خیر خواہ اور ہمدرد تھے مگر آخر دم تک ایمان قبول نہیں کیا جب ابو طالب بیمار ہوئے تو سردارن قریش بمع ابوجہل ان کے پاس آئے اس وقت حضور ﷺ بھی اپنے چچا کے پاس موجود تھے ، سرداران قریش نے ابو طالب سے شکوہ کیا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے بتوں کی مذمت کرتا ہے لہذا آپ اسے سمجھائیں کہ یہ ہمارے جذبات کو مجروح نہ کیا کرے اس پر ابو طالب نے حضور ﷺ سے استفسار کیا ” یا بن اخی ما ترید من قوم “۔ اے میرے بھتیجے ! تم قوم سے کیا چاہتے ہو ، ” قال ارید کلمۃ تدین بھا لھم العرب وتؤدی الیھم العجم والجزیۃ “ آپ نے فرمایا میں ان سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں اگر یہ اس کو تسلیم کرلیں تو پورا عرب ان کے تابع ہوجائے گا اور عجم کے لوگ انکو جزیہ ادا کرنے لگیں گے یعنی اس ایک کلمہ کو اپنا لینے سے ان کی کایا پلٹ جائیگی ، ابو طالب نے نہایت تعجب سے پوچھا کیا صرف ایک کلمہ کی وجہ سے ؟ فرمایا ہاں ” یاعم قولو لا الہ الا اللہ “۔ اے چچا ! تم سب کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یہی وہ عظیم کلمہ ہے جس کی وجہ سے عرب عجم تمہارے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اس موقع پر وہ سب کہنے لگے ” الہ واحد ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “۔ کیا صرف ایک معبود ؟ ہم نے تو یہ بات اپنے آباؤ اجداد سے کبھی نہیں سنی ، کہنے لگے ” ان ھذا الا اختلاق “ یہ تو من گھڑت بات معلوم ہوتی ہے ، اور پھر یہ کہہ کر وہاں سے چل دیے اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرما کر کفر وشرک کا رد اور کفار ومشرکین کی مذمت بیان کردی ۔ (حروف مقطعات) اس سورة کی ابتداء حرف مقطع ص سے ہوئی ہے مختلف سورتوں کی ابتداء میں آنے والے حروف مقطعات کے متعلق اپنے اپنے مقام پر کچھ تشریح کردی گئی ہے اور لوگوں کی تقریب فہم کے لیے مفسرین کے بیان کردہ بعض معانی بھی بیان کیے جا چکے ہیں تاہم سلامتی والا راستہ وہی ہے جو امام جلال الدین سیوطی (جلالین ص 4) اور بعض دیگر مفسرین کرام نے اختیار کیا ہے کہ ان حروف کے متعلق یہی عقیدہ رکھنا چاہئے ، ” اللہ اعلم بمرادہ بذلک امنا وصدقنا “۔ یعنی ان حروف کی حقیقی مراد کو اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور اس کی ان حروف سے جو بھی مراد ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ جب کسی کو یہ کہا جائے کہ قرآن پاک میں بعض ایسے حروف بھی موجود ہیں جن کا مفہوم واضح نہیں ہے یا وہ سمجھ میں نہیں آسکتا تو ویہ چیز بعض ناپختہ اذہان کے لیے شک وتردد کا باعث بنتی ہے ، چناچہ مفسرین کرام نے ایسے لوگوں کے اذہان کو ان حروف سے قریب تر کرنے کے لیے ان کے بعض معانی بیان کیے ہیں یہ معانی اگرچہ قطعی اور یقینی نہیں ہیں تاہم چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین میں سے حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ سے بھی کچھ وضاحت منقول ہے لہذا بعد کے مفسرین نے بھی لوگوں تقریب فہم کے لیے کچھ معانی بیان کیے ہیں ۔ (حرف ص) بعض مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ ص سورة کا نام ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سورة اسی نام سے موسوم ہے تاہم بعض مفسرین (2) فرماتے ہیں کہ حرف ص اللہ تعالیٰ کے کسی ایسے اسم پاک کی طرف اشارہ ہے جس میں حرف ص آتا ہے جیسے ” صمد “ اس سورة مبارکہ میں توحید خداوندی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے گویا یہ خدا تعالیٰ کی صمدیت کا ذکر ہے ، شیخ سعدی (رح) نے بوستان میں کہا ہے (3) ۔ دل اندر صمد باید سے دوست بست کہ عاجز تراست از صنم ہر کہ ہست : اے دوست صرف صمد کی ذات میں دل لگانا چاہئے کیونکہ اس کے سوال تمام چیزیں صنم سے بھی زیادہ عاجز ہیں اگر کوئی مختار مطلب ، قادر مطلق ہمہ دان اور ہمہ بین ہستی ہے تو وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو صمد ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں (4) کہ حرف ص لفظ صانع میں بھی آتا ہے ۔ اور صانع مخلوقات اللہ تعالیٰ ہے لہذا یہ اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ص سے مراد صدق بھی ہوسکتا ہے یعنی ” صدق اللہ وصدق رسولہ “ جو کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے وہ سچ ہے اس سورة کی پہلی آیت ہے (آیت) ” والقران ذی الذکر “ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی اس میں ص سے مراد نصیحت بھی ہو سکتی ہے اور دوسری اس آیت میں خبر محذوف یہ ہے کہ محمد ﷺ اپنے دعوی رسالت میں سچے ہیں قرآن بھی سراپا نصیحت ہے اور ” الدین النصیحۃ “۔ دین بھی نصیحت کو ہی کہا جاتا ہے ، لہذا ص سے دین بھی مراد لیا جاسکتا ہے ۔ جب قرآن پڑھا جاتا تھا تو مشرک لوگ شور وغل پیدا کرنے کے لیے سیٹیاں یعنی صفیر بجایا کرتے تھے ، ہوسکتا ہے کہ اس سے مشرکین کی مذمت کی طرف اشارہ ہو ، حرف ص صد یا صارفہ میں بھی آتا ہے جس کا معنی رکاوٹ اور ہٹا دینا ہوتا ہے ممکن ہے ص کا اشارہ اس طرف ہو ص کا حرف قصص میں بھی پایا جاتا ہے امکان ہے کہ اس کا اشارہ اس سورة میں مذکورہ عبرت آموز واقعات کی طرف ہو ، حرف ص کا تعلق اس سورة میں آمدہ بعض کلمات سے بھی ہے لہذا ممکن ہے کہ ص کا اشارہ ان کلمات کی طرف ہو ، مثلا اللہ نے (آیت) ” اصبر علی ما یقولون “۔ (آیت : 17) کہہ کر حضور ﷺ کو کفار ومشرکین کی ایذا رسانیوں پر صبر کی تلقین کی ہے اس سورة میں (آیت) ” سواء الصراط “۔ (آیت : 33) یعنی سیدھے راستے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ، اس حرف ص کا اشارہ اللہ کے مخلص بندوں کی طرف بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ یہاں پر آیت بھی ہے (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ اس سورة مبارکہ میں نبؤ الخصم “۔ (آیت ، 21) کا ذکر بھی ہے جب کہ بعض آدمی جھگڑتے ہوئے دادؤ (علیہ السلام) کے پاس فیصلہ کرانے کے لیے آئے تھے ، اس لفظ میں بھی حرف ص آتا ہے ۔ آیت 56 میں (آیت) ” یصلونھا “ کا لفظ آتا ہے جس میں کافروں کے جہنم میں داخلے کا ذکر ہے یہاں بھی ص موجود ہے پھر آیت نمبر 52 (آیت) ” قصرت الطرف “ کا لفظ ہے جس سے مراد نیچی نگاہیں رکھنے والی حوریں ہیں جو جنت میں حاصل ہوں گی ممکن ہے یہ اس طرح اشارہ ہو آیت 41 میں حضرت ابوب (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے رب کو پکار کر کہا کہ مجھے شیطان نے اذیت پہنچائی ہے (آیت) ” بنصب و عذاب آیت 37 میں (آیت) ” غواص “۔ کا لفظ آتا ہے یعنی غوطہ خور جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مفید چیزیں سمندروں سے نکال کر لاتے تھے یعنی غوطہ خور جنات سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مفید چیزیں سمندروں سے نکال کر لاتے تھے ، داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کے عمدہ گھوڑوں کا ذکر بھی آیت 31 میں آیا ہے (آیت) ” الصفنت الجیاد “۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے (آیت) ” فصل الخطاب “ کا تذکرہ آیت 20 میں آیا ہے اسی طرح (آیت) ” اصحب الئیکۃ “۔ کا ذکر آیت 13 میں ہے ، آیت 15 میں (آیت) ” صیحۃ واحدۃ کا ذکر ہے کہ ایک ہی چیخ نافرمانوں کو نیست ونابود کرنے کے لیے کافی ہے آیت 3 میں (آیت) ” حین مناص “ کے الفاظ آئے ہیں جس کا معنی خلاصی اور رہائی ہے یعنی جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو پھر رہائی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی غرضیکہ مذکور تمام کلمات میں حرف ص کی موجودگی ان کلمات کی طرف اشارہ پر دلالت کرتی ہے ۔ واللہ اعلم ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کشفی اور ذوقی طریقے پر اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں کہ حرف ص کا اشارہ انبیاء (علیہ السلام) کے مقام قدسی کی طرف سے جو انہیں ان کے علوم اور وجاہت کے اعتبار سے حاصل ہوتا ہے ، یاد رہے کہ ذوقی طریقے سے بیان کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو عقلی یا نقلی دلائل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ اللہ نے بذریعہ کشف یہ معانی آپ کے ذہن میں منکشف کردیے ہیں ، گویا حرف ص میں عالم بالا کے صعود ارتفاع یا بلندی کا ذکر کیا گیا ہے تاہم اس میں انتہائی درجے کی صفائی اور لطافت بھی شامل ہوتی ہے چونکہ یہ تمام چیزیں سورة ہذا میں موجود ہیں لہذا شاہ صاحب (رح) کا نظریہ یہ ہے کہ اس سورة کا لب لباب ایسے حروف کے ذریعے بیان کردیا جاتا ہے ۔ (قرآن ذی الذکر) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والقران ذی الذکر “ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی ظاہر ہے کہ قرآن سراسر نصیحت ہے ، اس کے لیے ذکر اور تذکرہ کے الفاظ بھی آئے ہیں ، (آیت) ” ذی الذکر “ کا معنی شرف والا بھی ہوتا ہے جیسے سورة الزخرف میں ہے (آیت) ” وانہ لذکرلک ولقومک (آیت : 144) بیشک یہ قرآن آپ کے اور آپ کی قوم کے لیے عزت وشرف کا باعث ہے اس طرح آیت کا مطلب ہوگا قسم ہے شرافت والے قرآن کی اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن سے بڑھ کر شرافت والی کوئی دوسری چیز نہیں ہے ۔ (کفار کی بدبختی) فرمایا بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ بالکل سچ فرماتے ہیں (آیت) ” بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق “۔ مگر کفر کرنے والے لوگ تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا قرآن کی قسم کی خبر محذوف ہے اور یہ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی ہے ، عزت کا معنی غلبہ ہوتا ہے اور عزیز اللہ تعالیٰ کی صفت بھی ہے تاہم اس آیت مبارکہ میں عزت سے مراد اکٹر اور تکبر ہے جو کہ صرف اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے اور کسی مخلوق کے لیے روا نہیں ، مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ قرآن پاک کی ہدایت اور نصیحت کے مقابلے میں غرور وتکبر کا اظہار کرتے تھے اور اسی وجہ سے وہ شقاق یعنی مخالفت میں پڑے ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا کفار اس معاملہ میں غور نہیں کرتے کہ (آیت) ” کم اھلکنا من قبلھم من قرن “۔ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا ہے انہوں نے سرکشی کی ، اللہ کی توحید کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا پھر جب ہمارا عذاب آن پہنچا (آیت) ” فنادوا “ تو وہ پکارنے لگے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگے (آیت) ” ولات حین مناص “ مگر خلاصی اور رہائی کا وقت گذر چکا تھا لہذا ہماری گرفت آکر رہی ۔ یہاں پر آمدہ لفظ ” لات “ دراصل لا ہی ہے اور اس میں ت زائد ہے لات لیت کے معنی میں آیا ہے جس کا معنی انہ ہے حین کا معنی وقت اور مناص کا معنی خلاصی ہے مطلب یہی ہے کہ نافرمان لوگوں نے عذاب کو دیکھ کر اس وقت چیخ و پکار کی جب خلاصی کا وقت گذر چکا تھا ، (تکذیب و رسالت) کفار مکہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نبی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے کیونکہ اس طرح ان کی قیادت وسیادت ختم ہوتی تھی اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے نظریہ تکذیب رسالت کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” عجبوا ان جآء ھم منذر منھم “۔ کیا یہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا انہی کی برادری اور خاندان کا ایک کمزور آدمی جو انہی کی زبان بولتا ہے نبی بن کر آجائے ، کہتے تھے کہ یہ ہمارے ہاتھوں پیدا ہوا ، بڑھا اور جوان ہوا اور آج ہمارے ہی سامنے نبوت کا دعوی کررہا ہے ، بھلا اس میں کون سی خوبی ہے جو ہم سے زیادہ ہے اور جس کی بنا پر اسے رسول منتخب کیا گیا ہے کہتے تھے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی ہی بنانا تھا تو اس منصب کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا (آیت) ” وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “۔ (الزخرف : 31) کہتے تھے یہ قرآن مکہ اور طائف کی بسیتوں میں سے کسی بڑے سردار پر کیوں نہ نازل ہوا ۔ ؟ فرمایا (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب “ کافر کہتے تھے کہ نبوت کا دعویدار یہ شخص جادوگر ہے اور جھوٹا ہے ، العیاذ باللہ ، یہی بات فرعون نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے متعلق بھی کہی تھی ، بہرحال مشرکین مکہ نے نبی آخر الزمان کی رسالت کا نہ صرف انکار کردیا بلکہ الٹا الزام تراشی بھی کی ۔ (وحدانیت پر تعجب) ان ظالموں نے نے رسالت کا ہی انکار نہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی روحانیت کی بھی عجیب طریقے سے تردید کی ، کہنے لگے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھا واحدا “۔ کیا اس نے سب معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود کردیا ہے ؟ کیا ہم اتنے سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کی عبادت کریں (آیت) ” ان ھذا لشیء عجاب “۔ یہ تو بڑی تعجب انگیز بات ہے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کی اور نہ ہی ہم نے اپنے بڑوں سے ایسی کوئی بات سنی ہے ہمارے آباؤ و اجداد تو مختلف معبودوں کی نذر ونیاز پیش کرتے آرہے ہیں ان سے مرادیں مانگتے رہے ہیں ان کی مختلف حاجات مختلف معبود پوری کرتے تھے ، بھلا ان سب کی بجائے یہ سارے کام صرف ایک معبود کیسے انجام دے سکے گا ، یہ تو بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے ۔ اس قسم کی بات کرنے کے بعد (آیت) ” وانطلق الملاء منھم “۔ ان میں سے ایک گروہ چل کھڑا ہوا اور کہنے لگا اس شخص کی باتوں پر غور نہ کرو بلکہ ان امشوا “ یہاں سے چلے آؤ (آیت) ” واصبروا علی الھتکم “ اور اپنے انہی معبودوں پر جمے رہو جن کی یہ مذمت بیان کرتا ہے صبر کا معنی برداشت کرنا ہوتا اور مطلب یہ ہے کہ اپنے پرانے معبودوں کو ہی برداشت کرو ، انہی پر ٹکے رہو اور اس شخص کی باتوں میں نہ آؤ (آیت) ” ان ھذا لشیء یراد “۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں کوئی غرض مخفی ہے یہ شخص تمہیں تمہارے معبودوں سے ہٹا کر اپنے طریقے پر دین اور دین پر لانا چاہتا ہے اور تمہاری قیادت اور سیادت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لہذا اس کی باتوں میں نہ آنا اور اپنے معبودوں پر پختہ یقین رکھنا آیت کے اس حصے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے سابقہ معبودوں پر جمے رہنا ایک مقصود چیز ہے اس کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا یہ شخص تمہیں تمہارے دین سے برگشتہ کرکے تمہارے مال و دولت اور اقتدار پر بھی قابض ہونا چاہتا ہے لہذا اس کی دعوت کو قبول نہ کرنا ۔ پھر کہنے لگے (آیت) ” ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ “۔ پچھلی امت میں تو ہم نے ایسی کوئی بات نہیں سنی پچھلی ملت سے مراد یا تو ان کے آباؤ اجداد ہیں اور یا پھر اس سے نصاری مراد ہیں کہتے تھے کہ عیسائی بھی تو صاحب کتاب ہیں مگر انہوں نے تو کبھی ایک معبود کو ماننے کا دعوی نہیں کیا بلکہ وہ بھی تثلیث یعنی تین خداؤں باپ ، بیٹا اور روح القدس کے قائل ہیں بھلا محمد ﷺ نے ایک معبود کا نظریہ کہاں سے پیش کردیا ، کہ نہ ہمارے باپ دادا اس نظریہ سے واقف تھے اور نہ پہلے مذہب والے اس کو تسلیم کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے (آیت) ” ان ھذا الا اختلاق “ یہ تو محض من گھڑت نظریہ ہے کہ معبود برحق صرف ایک ہے بھلا ایک ہی خدا کائنات کے سارے امور کیسے انجام دے سکتا ہے اس بات کو ذہن بھی قبول نہیں کرتا یہ سلسلہ کلام آگے دور تک چلا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی گندی ذہنیت کا پردہ چاک کیا ہے ۔
Ayahs 38:8–16

ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ Open ayah 38:8 in the Quran reader

کیا اتاری گئی ہے اس پر نصیحت ہم سب کے درمیان سے ؟ بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں میری نصیحت سے ، بلکہ انہوں نے ابھی چکھا نہیں عذاب کا مزا ۔

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ Open ayah 38:9 in the Quran reader

کیا ان کے پاس خزانے ہیں تیرے رب کی رحمت کے جو کمال قدرت کا مالک اور بخشش کرنے والا ہے ؟ ۔

اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١۫ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ Open ayah 38:10 in the Quran reader

کیا ان کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے پس چاہئے ان کو کہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر ۔

جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ Open ayah 38:11 in the Quran reader

یہ بھی ایک لشکر ہے شکست خوردہ لشکروں میں سے ۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ Open ayah 38:12 in the Quran reader

جھٹلایا قوم نوح نے ان سے پہلے ، اور قوم عاد نے اور فرعون نے جو میخوں والا تھا ۔

وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ Open ayah 38:13 in the Quran reader

اور قوم ثمود نے اور قوم لوط نے ، اور ایکہ والوں نے کہ یہی بڑے بڑے گروہ تھے ۔

اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ۠ Open ayah 38:14 in the Quran reader

ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا پس ثابت ہوگیا عذاب ۔

وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ Open ayah 38:15 in the Quran reader

اور نہیں انتظار کرتے ، یہ لوگ مگر ایک چیخ کا جس کے لیے کوئی وقفہ نہیں ہوگا ۔

وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:16 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کہ اے ہمارے پروردگار جلدی کر دے ہمارے لیے ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی (رسالت پر اعتراض) گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا ہم میں سے صرف اس شخص (محمد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نصیحت یعنی قرآن پاک اتارا گیا ہے ؟ کیا اللہ کو محمد ﷺ کے علاوہ رسالت کا اور کوئی حقدار نہیں ملا تھا جس پر قرآن نازل کیا جاتا ؟ کہنے لگے کہ ہم تو اس کو نبی اور رسول تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں (آیت) ” قالوا لوشآء ربنا لانزل ملئکۃ “۔ (حم السجدۃ : 14) کہنے لگے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم پر کوئی فرشتہ نازل کردیتا تو ہم مان بھی لیتے ہم اپنے میں سے ایک شخص کی باتیں کیسے تسلیم کرلیں ، سورة القمر میں ہے (آیت) ” فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعہ انا اذا الفی ضلل وسعر “۔ (آیت ، 24) کہنے لگے ، بھلا ہم اپنے میں سے ایک شخص کی پیروی کریں ، یوں تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے ، غرضیکہ وہ لوگ انسان کے رسول ہونے پر تعجب کرتے تھے جیسا کہ اس سورة کی ابتداء میں بھی گزر چکا ہے (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر منھم “۔ (ص ، 4) کتنی عجیب بات ہے کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آجائے ، اللہ نے فرمایا ، حقیقت یہ ہے (آیت) ” بل ھم فی شک من ذکری “ کہ یہ لوگ میری نصیحت (قرآن) کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں ان کو تردد ہے کہ اللہ نے انسانوں میں بعض ہسیتوں کو منتخب فرما کر ان پر اپنا کلام نازل کیا ہے اور ان کو منذر اور مبشر بنایا ہے ، فرمایا اصل بات یہ ہے (آیت) ” بل لما یذوقوا عذاب “۔ کہ انہوں نے ابھی سزا کا مزا چکھا ہی نہیں جب ان پر عذاب آئے گا تو پتہ چلے گا کہ نبوت و رسالت اور نصیحت کا کس طرح انکار کیا جاتا ہے اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے ۔ فرمایا کہ یہ لوگ نزول قرآن کا انکار کس بنا پر کرتے ہیں (آیت) ” ام عندھم خزآئن رحمۃ ربک العزیز الوھاب “۔ کیا ان کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو کہ کمال قدرت کا مالک اور بخشش کرنے والا ہے ؟ کیا یہ اللہ کی رحمت کے خزانے خود تقسیم کرکے جس کو چاہیں رسول بنا دیں گے (آیت) ” ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما “ یا ان کے پاس زمین وآسمان اور ان کے درمیان کی بادشاہی ہے کہ اس بادشاہی کے تحت حاصل شدہ اختیارات سے وہ جس کو چاہیں نبی بنا دیں اور جس پر چاہیں نصیحت اتار دیں یا پھر جس کے متعلق چاہیں اسے نبی بننے اور کتاب لانے سے روک دیں آخر ان کے پاس کون سے اختیارات ہیں جن کی بناء پر یہ لوگ اللہ کے بھیجے ہوئے نبی اور اس پر نازل شدہ نصیحت کا انکار کر رہے ہیں ؟ فرمایا یہ سب ان کے تعصب ، عناد اور ضد کا نتیجہ ہے وگرنہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ، اور اگر ان کو کوئی اختیار حاصل ہے (آیت) ” فلیرتقوا فی الاسباب “۔ تو اپنے تمام ذرائع کو بروئے کار لا کر آسمان پر چڑھ جائیں ، رسیاں تان لیں ، یا کسی اور ذریعے سے آسمان تک رسائی حاصل کریں اور پھر حضور ﷺ پر نازل ہونے والی وحی کو روک دیں ، فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کچھ نہیں اور ان کا انکار بلادیس اور محض ہٹ دھرمی کا مظہر ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا دراصل (آیت) ” جند ماھنالک مھزوم من الاحزاب یہ بھی یہاں ایک لشکر ہے ان لشکروں اور گروہوں میں سے جن کو شکست دی جائیگی ، اللہ کی وحدانیت ، اس کے رسول کی رسالت اور کتاب کا انکار کرنے والوں کا یہ ایک گروہ ہے جو ڈینگیں مار رہا ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ان کو شکست ہوگی اور اللہ کا دین غالب آجائیگا حقیقت میں یہ ایک شکست خوردہ پارٹی ہے جسے جلد ہی اپنی حیثیت کا پتہ چل جائے گا ۔ (سرکش اقوام) فرمایا کفار مکہ وعرب کوئی نئی سرکش قوم اور جماعت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے باغی ہمیشہ سے چلے آرہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کے مناسب حال ہی سلوک کرتا رہا ہے دیکھو (آیت) ” کذبت قبلھم قوم نوح وعاد “۔ اس سے پہلے قوم نوح اور قوم عاد بھی اللہ تعالیٰکے رسولوں کو جھٹلا چکی ہے ان اقوام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بیشتر سورتوں میں کیا ہے جنہوں نے غرور وتکبر کیا اپنی قوت پر ناز کا ، رسولوں کو جھٹلایا اور ان کو اذیتیں پہنچائیں تو اللہ نے ان کو صفحہ ہستی سے ناپید کردیا (آیت) ” وفرعون ذوالاتاد “۔ اور میخوں والے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ساری قوم کو بحیرہ قلزم میں غرق کردیا ، میخوں والے سے مراد یہ ہے کہ فرعون کے پاس نہایت اعلی قسم کا قیمتی سازوسامان تھا حتی کہ اس کے خیموں کی میخیں اور گھوڑوں کی نعلیں بھی سونے کی بنی ہوئی تھیں بعض فرماتے ہیں کہ فرعون کو میخوں والا اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ظالم تھا اور جس کو سخت سزا دینا مطلوب ہوتا تھا اس کے ہاتھ اور پاؤں میں چار میخیں ٹھونک کہ وحشیانہ طریقے سے ہلاک کرتا تھا ۔ فرمایا (آیت) ” وثمود “ اور قوم ثمود کا عبرت ناک حال بھی قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں بیان ہوا ، انہوں نے اپنے رسول کا انکار کیا اور اس کو اذیت پہنچائی (آیت) ” وقوم لوط “ اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کا حال بھی پڑھ لیں ، ان میں ہم جنسیت کی بدترین خصلت پائی جاتی تھی ، وہ لوگ اللہ کے نبی سے ٹھٹا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ تم بڑے پاکباز بنے پھرتے ہو ، ہماری بستی سے نکل جاؤ یہ ایسے بدطینت لوگ تھے کہ اپنی مجالس میں کھلے بندوں بندوں برائیوں اور بےحیائیوں کا ارتکاب کرتے اور پھر اس پر فخر کرتے تھے ، اللہ نے سزا کے طور پر انکی بسیتاں ہی الٹ دیں اور پھر اوپر سے پتھروں کی بارش کی وجہ سے ایک بھی نافرمان زندہ نہ بچا ۔ فرمایا (آیت) ” واصحب الئیکۃ “۔ اور ایکہ والوں پر بھی ایک نظر عبرت ڈال لیں ، ان کی طرف اور اہل مدین کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا ، یہ لوگ جنگل میں ایک بستی میں آباد تھے جو کہ ایک کھلے راستے پر واقع تھی ، انہوں نے بھی اللہ کے نبی کی تکذیب کی اور پھر انتقام خداوندی کا نشانہ بنے بعض فرماتے ہیں کہ اہل مدین اور ایکہ والے دو مختلف قومیں تھیں جن کی طرف اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور بعض کہتے ہیں کہ دونوں گروہ ایک قوم تھے ، فرق صرف یہ ہے کہ مدین والے شہر میں آباد تھے جب کہ اصحاب ایکہ جنگل میں رہتے تھے جس سے وہ خوب فائدہ اٹھاتے تھے ۔ فرمایا (آیت) ” اولئک الاحزاب “ یہی بڑے بڑے گروہ تھے (آیت) ” ان کل الا کذب الرسل “۔ ان سب نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ، ان پر بیہودہ الزامات لگائے اور ان کو طرح طرح کی تکلیف پہنچائیں (آیت) ” فحق عقاب “ پس میری طرف سے ان پر عذاب ثابت ہوگیا ، انہوں نے خدا کی توحید کا انکار کر کے رسولوں کی تکذیب کرکے اپنے آپ پر عذاب کو واجب کرلیا پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور یہ سب لوگ صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے ، اس سے اہل مکہ کو سمجھانا مقصود ہے کہ وہ کس بات پر اپنے رسول کا انکار کر رہے ہیں کیا انہوں نے مذکورہ پہلی قوموں کا حال نہیں دیکھا ؟ وہ تجارتی سفر میں ان اقوام کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات پر سے صبح وشام گزرتے ہیں مگر ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے ، وہ تو بڑی طاقت کے مالک تھے ان کے پاس بڑا مال و دولت تھا ۔ (آیت) ” وما بلغوا معشار ما اتینھم “۔ (سبا ، 45) ان کو تو پرانے لوگوں کا عشر عشیر بھی نہیں دیا گیا پھر یہ کس گھمنڈ میں تکذیب رسالت کر رہے ہیں ، قرآن کا انکار کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک نہیں مانتے بلکہ سراپا شرک اور کفر میں ملوث ہیں ، جب اتنی اتنی بڑی قومیں عذاب الہی میں مبتلا ہو کر نابود ہوگئیں تو یہ کس کھیت کی مولی ہیں جو اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان کو ابھی سے سوچ لینا چاہئے ، وگرنہ جب خدا تعالیٰ کا عذاب آجاتا ہے تو پھر کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ (اچانک عذاب کا انکار) فرمایا اب ان کفار ومشرکین کی حالت یہ ہوچکی ہے (آیت) ” وما ینظر ھؤلاء الا صیحۃ واحدۃ “۔ اور یہ لوگ نہیں انتظار کرتے مگر ایک ہی چیخ کا جو آکر ان کا کام تمام کر دے ، قوم شعیب پر ایک چیخ ہی تو آئی تھی جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ مکہ کے کافر بھی کسی ایسی ہی ایک چیخ کے منتظر ہیں جو ان کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے ، فرمایا کیا یہ ایسی چیخ چاہتے ہیں (آیت) ” مالھا من فواق “۔ کہ جس کے لیے کوئی وقفہ بھی نہیں ہوگا ، دراصل فواق عربی میں اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کے دودھ دوہنے کے درمیان کیا جاتا ہے کچھ دودھ دوھ کر رک جاتے ہیں تاکہ مزید دودھ تھنوں میں اتر آئے تو اس کو بھی نکال لیا جائے مطلب یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب آئے گا تو پھر اس میں اتنا وقفہ بھی نہیں دیا جائے گا بلکہ وہ اچانک ہی آجائے گا اور ان کی تمام تدابیر دھری کی دھری رہ جائینگی ، قیامت کے متعلق بھی اللہ کا فرمان ہے کہ وہ اچانک آئے گی سورة الاعراف میں فرمایا کہ قیامت کے برپا ہونے کا وقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے (آیت) ” لاتاتیکم الا بغتہ “۔ (آیت ۔ 187) مگر وہ اچانک ہی آجائے گی اور کسی کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملے گا تو فرمایا کیا یہ کفار ومشرکین بھی کسی اچانک وارد ہونے والی چیز کے منتظر ہیں جو آکر ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور جس کے لیے کوئی وقفہ بھی نہ ہو ؟ (حصول حصہ میں جلد بازی) فرمایا ان لوگوں کی بدبختی ملاحظہ کریں (آیت) ” وقالوا ربنا رجل لنا قطنا قبل یوم الحساب “۔ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! جلدی کر دے ہمارے لیے حساب کے دن سے پہلے ہی یعنی ہمیں جو کچھ دینا ہے وہ اسی دنیا میں دے دے ہم قیامت کے دن کا انتظار نہیں کرسکتے دراصل کفار ومشرکین یہ مطالبہ تمسخر کی بنا پر کرتے تھے ، اللہ کا نبی ڈراتا تھا کہ کفر وشرک اور معاصی سے باز آجاؤ ورنہ قیامت والے دن عذاب میں پکڑے جاؤ گے اور پھر تمہارا کوئی عذر قابل سماعت نہیں ہوگا ، اس پر وہ کہتے کہ تم اپنے لیے جنت کی آمید رکھتے ہو اور دوزخ کے عذاب سے ڈراتے ہو ، اگر ایسا کوئی وقت آنے والا ہے ، قیامت برپا ہو کر حساب کتاب کی منزل آنی ہے اور پھر جزا اور سزا کا فیصلہ ہونا ہے تو ہم اتنی دیر انتظار نہیں کرسکتے ، اے پروردگار ! ہمیں ثواب یا عذاب میں سے جو بھی دینا ہے اسی دنیا میں دے دے تاکہ ہم دیکھ لیں کہ وہ کیسا عذاب ہے جس سے یہ پیغمبر ہمیں خوفزدہ کر رہا ہے اس کے بعد اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو مشرکین کی ان مکروہ باتوں پر صبر کی تلقین کی ہے اور تسلی دی ہے کہ آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ دیکھیں کہ ان مکذبین کا کیا انجام ہوتا ہے ۔
Ayahs 38:17–25

اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:17 in the Quran reader

صبر کریں آپ اس بات پر جو یہ لوگ کہتے ہیں ، اور تذکرہ کریں آپ ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا جو قوت والے تھے بیشک وہ رجوع رکھنے والے تھے ۔

اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ Open ayah 38:18 in the Quran reader

تحقیق ہم نے مسخر کردیا تھا پہاڑوں کو اس کے ساتھ وہ تسبیح کہتے تھے پچھلے پہر اور صبح کے وقت ۔

وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:19 in the Quran reader

اور پرندے بھی اکھٹے کیے ہوئے ہر ایک اس کی طرف رجوع رکھنے والا ہے ۔

وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ Open ayah 38:20 in the Quran reader

اور ہم نے مضبوط کردیا اس کی بادشاہی کو اور دی ہم اس کو حکمت اور فیصلہ کن بات ۔

وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ Open ayah 38:21 in the Quran reader

اور کیا آئی ہے آپ کے پاس خبر جھگڑا کرنے والوں کی ، جب کہ پھاند لیا انہوں نے عبادت خانے کی دیوار کو ۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ۚ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَ لَا تُشْطِطْ وَ اهْدِنَاۤ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ Open ayah 38:22 in the Quran reader

جب داخل ہوئے وہ داؤد (علیہ السلام) کے پاس تو آپ گھبرا اٹھے ان سے انہوں نے کہا آپ ڈریں نہیں ، ہم جھگڑا کرنے والے ہیں ، ہم میں سے بعض نے بعض پر سرکشی کی ہے آپ فیصلہ کریں ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ اور کوئی زیادتی نہ کریں اور راہنمائی کریں ، ہماری سیدھے راستے کی طرف ۔

اِنَّ هٰذَاۤ اَخِیْ١۫ لَهٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ١۫ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَ عَزَّنِیْ فِی الْخِطَابِ Open ayah 38:23 in the Quran reader

بیشک میرے اس بھائی کے لیے ننانوے (99) دنبیاں ہیں اور میرے لیے ایک دنبی ، پس اس نے کہا کہ یہ میری کفالت میں دے دو ، اور غالب آگیا ہے مجھ پر بات میں ۔

قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلٰى نِعَاجِهٖ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَیَبْغِیْ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیْلٌ مَّا هُمْ١ؕ وَ ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَ خَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ۩ Open ayah 38:24 in the Quran reader

کہا (داؤد علیہ السلام) نے البتہ تحقیق اس نے بےانصافی کی ہے تمہاری دنبی مانگنے کے ساتھ اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کے لیے اور بیشک بہت سے شریک البتہ بعض ان میں سے بعض پر سرکشی کرتے ہیں مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں اور خیال کیا داؤد (علیہ السلام) نے کہ بیشک ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے پس بخشش طلب کی اس نے اپنے پروردگار سے اور گر پڑے وہ رکوع کرتے ہوئے اور رجوع ہوئے وہ اللہ کی طرف ۔

فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ١ؕ وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ Open ayah 38:25 in the Quran reader

پس بخش دیا ہم نے ان کو ان کا یہ قصور ، اور بیشک ان کے لیے ہمارے پاس البتہ مرتبہ ہے اور اچھا ٹھکانا (لوٹ کر جانے کی جگہ) ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں دیں اور جس سے چاہیں روک لیں ، آسمان و زمین کی بادشاہی تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ان کے پاس کیا ہے ؟ اگر انکے پاس کوئی اختیار ہے تو یہ رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جائیں اور ہمارے نبی کو عطا ہونے والی نبوت کو روک لیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں مشرکین کی ایذا رسانیوں پر دل برداشتہ نہ ہوں ، اس قسم کا سلوک سابقہ انبیاء سے بھی ہوا سابقہ اقوام بھی تکذیب رسل کی مرتکب ہوئیں جس کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور وہ سب ملیا میٹ ہوگئے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ لوگ بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ یکدم کوئی آسمانی چیخ آئے جو ان سب کے جگر پھاڑ کر انکو نیست ونابود کر دے ؟ یہ اتنے بےادب اور گستاخ ہیں کہ کہتے ہیں ہمیں جو بھی جزا یا سزا ملنی ہے ابھی مل جائے ہم قیامت کا انتظار نہیں کرسکتے ۔ (صبر کی تلقین) ارشاد خداوندی ہے اے پیغمبر ﷺ (آیت) ” اصبر علی ما یقولون “ یہ مشرک لوگ جو کچھ کہتے ہیں اور جس قسم کی بیہودہ اور اذیت ناک باتیں کرتے ہیں آپ اس پر صبر کریں ، صبر دین ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے ، انسانی زندگی میں صبر کرنے کے بہت سے مواقع آتے ہیں ، مثلا اطاعت گزاری کے لیے بھی صبر کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ معاصی سے بچنے کے لیے بھی صبر کرنا پڑتا ہے مصائب و تکالیف میں صبر کرنے سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں لہذا اس اصول کے پیش نظر آپ مشرکین کی ساری بیہودگیوں اور کٹ حجتیوں پر صبر کا دامن تھامے رکھیں ، صبر کے علاوہ دین ابراہیمی کے دیگر بڑے بڑے اصول یہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننا ، کفر وشرک سے نفرت وبیزاری خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ، ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا ، شعائر اللہ کی تعظیم۔ (داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ) آگے اللہ تعالیٰ نے صبر کی مثال کے طور پر اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔ آپ ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں جو صاحب قوت تھے (آیت) ” ذالاید “ کا لغوی معنی ہے ہاتھوں والے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی جسمانی قوت سے نوازا تھا حتی کہ آپ کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ بغیر تپائے اس سے زرہیں بناتے تھے اور اس طرح ہاتھوں کی کمائی سے رزق حلال کماتے تھے ، آپ نے اللہ کے حکم سے اس دور کے نبی کی قیادت میں جالوت پر فتح پائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکومت اور نبوت عطا فرمائی ۔ اس تذکرہ سے حضور نبی کریم ﷺ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ کی طرح داؤد (علیہ السلام) بھی معمولی حیثیت کے آدمی تھے یہ کسی خاندانی بادشاہت کے مالک نہیں تھے بلکہ اپنی قوت بازو کے بل پر جالوت کے مقابلے میں فتح پائی تو اس وقت کے بادشاہ طالوت کے بعد آپ کو حکومت بھی ملی اور نبوت بھی یہ لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس شخص کی مالی حالت اچھی نہیں ۔ باغات اور کوٹھیاں نہیں ، نوکر چاکر اور مال و دولت نہیں تو یہ نبی کیسے بن گیا ، فرمایا آپ صبر کریں ، اللہ تعالیٰ داؤد (علیہ السلام) کی طرح آپ کو بھی حکومت اور اس کے تمام لوازمات عطا کرے گا ، اور یہ سب لوگ مغلوب ہو جائینگے ۔ (داؤد (علیہ السلام) کی خوش الحان تسبیح) فرمایا داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں کہ وہ قوت والے تھے نیز (آیت) ” انہ اواب “۔ آپ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ، قرآن پاکی مختلف سورتوں میں آپ کی بعض خصوصیات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انتہائی درجے کی خوش الحانی عطا فرمائی تھی جب آپ اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے اور زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح میں ہم نوا ہوجاتے تھے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ “۔ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا یعنی ان کے تابع کردیا تھا ، جب آپ نہایت خوش الحانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے (آیت) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ تو آپ کے ساتھ پہاڑ بھی پچھلے پہر اور صبر کے وقت تسبیح بیان کرتے تھے اس کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے سے پہاڑوں کی باز گشت سنائی دیتی تھی جیسے ۔۔۔۔۔۔ سے جوابی آواز آتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں میں شعور پیدا کردیا تھا اور داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء میں شامل ہوجاتے تھے اور صرف پہاڑ ہی نہیں بلکہ (آیت) ” والطیر محشورہ “۔ اکٹھے ہوئے پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح میں ہمنوا ہوجاتے تھے ، اسی خصوصیت کو اللہ تعالیٰ نے سورة الانبیاء میں اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” وسخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر “۔ (آیت : 79) ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے لیے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا اور پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ تسبیح میں شامل ہوجاتے تھے ، سورة سبا میں ہے ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی (آیت) ” یجبال اوبی معہ والطیر (آیت : 10) اور پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ آپ کے ساتھ تسبیح میں شامل ہوجائیں ، فرمایا (آیت) ” کل لہ اواب “۔ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع رکھنے والے ہیں ، پہاڑوں اور پرندوں کے علاوہ شجر ، حجر ، انسان ، درندے ، کیڑے مکوڑے غرضیکہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (الجمعۃ ۔ 1) زمین وآسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے سورة بنی اسرائیل میں ہے (آیت) ” وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم “۔ (آیت ، 44) کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے ۔ (داؤد (علیہ السلام) کی دیگر خصوصیات) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وشددنا ملکہ “۔ ہم نے آپ کی بادشاہی کو مضبوط کردیا ، سلطنت کی مضبوطی کا مطلب یہ ہے کہ جنگ وامن کے زمانے کے تمام لوازمات موجود تھے ، عمال حکومت دیانتدار اور فوج چوکس تھی ضروریات زندگی میسر تھیں اور لوگ خوشحال تھے اور کسی دوسری سلطنت کو اس سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ، فرمایا (آیت) ” واتینہ الحکمۃ “ ہم نے آپ کو حکمت بھی عطا فرمائی حکم کا معنی گہری دانش مندی اور عقل وفہم کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عنایت فرمائی تھی ، آپ صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی اور رسول تھے اور حکمت نبوت و رسالت کا ایک اہم حصہ ہے اسی کے علاوہ فرمایا (آیت) ” وفصل الخطاب “۔ ہم نے آپ کو فیصلہ کن خطاب بھی عطا فرمایا آپ کی تقریر وبیان نہایت واضح ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو امور سلطنت کو نمٹانے کے لیے قوت فیصلہ بھی حد درجے کی دی تھی اور ظاہر ہے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عقل وفہم اور قادر الکلامی پر دلالت کرتی ہے ۔ (عبادت خانہ میں مداخلت) آگے اللہ تعالیٰ نے وہ واقعہ بیان کیا ہے جس کی بنا پر داؤد (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا گیا پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھل اتک نبؤالخصم “۔ کیا آپ کے پاس پہنچی ہے جھگڑا کرنے والوں کی خبر ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اس واقعہ کا علم نہیں ہے تو اب بذریعہ وحی بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ کس قسم کا واقعہ پیش آیا (آیت) ” اذتسوروالمحراب “ جب کہ انہوں نے عبادت خانے کی دیوار کو پھلانگ لیا ، یہاں پر محراب سے مراد مسجد کا محراب نہیں جیسا کہ اب رواج ہے بلکہ محرام کمرے کو کہتے ہیں اور اس سے مراد عبادت کرنے کا کمرہ ہے محراب کا ذکر حضرت ذکریا (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے جب آپ کو یحی بیٹے کی بشارت مل گئی (آیت) ” فخرج علی قومہ من المحراب “۔ (مریم) تو وہ اپنے عبادت خانہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو انہیں اشارے کے ساتھ کہا کہ صبح شام اپنے رب کو یاد کرتے رہیں ۔ بہرحال یہ جھگڑالو لوگ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عبادت خانے کی دیوار پھلانگ کر اندر آگئے آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ نے امور سلطنت کی انجام دہی اور عبادت کے لیے اوقات مقرر کر رکھے تھے جب آپ عبادت خانے ہوتے تو کسی شخص کو اندر آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور اس ضمن میں پہریداروں کو سخت ہدایات دی گئی تھی اس کے برخلاف (آیت) ” اذ دخلوا علی داؤد “۔ جب وہ جھگڑالو آدمی داؤد (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوگئے ۔ (آیت) ” ففزع منھم تو داؤد (علیہ السلام) گھبرا گئے یہ انکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کی عبادت کے دروان میں اس طرح کچھ لوگ انکی تنہائی میں مداخلت کرسکتے ہیں آپ فوری طور پریشان ہوگئے مگر (آیت) ” قالوا لاتخف “ درآنے والوں نے کہا ، آپ خوف نہ کھائیں ، ہم کسی بری نیت سے ، یا آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں آئے بلکہ (آیت) ” خصمن بغی بعضنا علی بعض “۔ ہم دو مخالف فریق ہیں جن میں سے بعض نے بعض پر زیادتی کی ہے ہم اپنا مقدمہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ (آیت) ” فاحکم بیننا بالحق “۔ پس ہمارے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیں ۔ (آیت) ” ولا تشطط “۔ اور کسی فریق کے ساتھ زیادتی نہ کریں بلکہ (آیت) ” واھدنا الی سوآء الصراط “۔ ہمیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کریں ، ہم آپ کے پاس صرف فیصلہ لینے کے لیے آئے ہیں ۔ (مقدمے کا فیصلہ) اپنا تعارف کرانے کے بعد شکایت کنند شخص نے اپنا مقدمہ فورا ہی داؤد (علیہ السلام) کے سامنے پیش کردیا ، کہنے لگا (آیت) ” ان ھذا اخی “ یہ شخص میرا بھائی ہے اس سے حقیقی بھائی مراد نہیں بلکہ محض دینی یا قومی بھائی مراد ہے کہ اس بھائی سے میرا جھگڑا ہے (آیت) ” لہ تسع وتسعون نعجۃ “۔ اس کے پاس ننانوے (99) دنبیاں ہیں (آیت) ” ولی نعجۃ واحدۃ “۔ جب کہ میرے پاس صرف ایک دنبی ہے (آیت) ” فقال اکفلنیھا “ میرا یہ بھائی کہتا ہے کہ اپنی ایک دنبی بھی میری کفالت میں دیدے یعنی میرے حوالے کردے ۔ (آیت) ” وعزنی فی الخطاب “ اور یہ بات چیت میں مجھ پر غالب آگیا ہے گویا یہ زبردست آدمی ہے اور میری واحد دنبی مجھ سے زبردستی چھین کر اپنی سو پوری کرنا چاہتا ہے ۔ یہ شکایت سن کر داؤد (علیہ السلام) فورا بول اٹھے (آیت) ” قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ “۔ اور شکایت کنندہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دوسرے شخص نے تیری واحد دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملا لینے کا سوال کر کے بڑی زیادتی کی ہے اور پھر ساتھ یہ بھی کہا (آیت) ” وان کثیرا من الخلطآء لیبغی بعضھم علی بعض “۔ کہ بیشک بہت سے شراکت دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں یعنی امور شراکت میں اکثر قباحتیں پیدا ہوتی ہیں ، (آیت) ” الا الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ ہاں مگر ایماندار لوگ جو نیک اعمال انجام دیتے ہیں وہ اس قسم کی زیادتی کا ارتکاب نہیں کرتے انکے شراکتی معاملات خوش اسلوبی سے طے پاتے ہیں (آیت) ” وقلیل ماھم “ مگر ایسے دیانتدار لوگ بہت قلیل تعداد میں ہیں وگرنہ اکثریت کے معاملات میں گڑ بڑ ہی پیدا ہوتی ہے ۔ (شراکتی کاروبار) مفسرین کرام نے خلطاء کے لفظ سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ شراکت کا کاروبار درست اور جائز ہے چند آدمی یا دس بیس اشخاص مل کر کوئی تجارت وغیرہ کریں تو یہ کاروبار درست ہوگا ، بشرطیکہ دیانت وامانت کا لحاظ رکھا جائے اگر کاروبار میں کسی شراکت دار کی طرف سے بددیانتی ہوگی تو کاروبار میں لازما گڑبڑ ہوگی ایک دوسرے پر زیادتی بھی ہوگی مگر ایماندار آدمی کسی خیانت میں ملوث نہیں ہوتے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعہ انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم رہتا ہے اور انسان خیانت اور بددیانتی سے بچا رہتا ہے مگر ایسے لوگ بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں ہمارے ہاں تو عجیب حال ہے لوگ اعمال صالحہ بھی انجام دیتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ بددیانتی کا ارتکاب بھی کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے جہاں تعلق باللہ درست ہوگا وہاں بددیانتی نہیں ہوگی اور معاملات درست رہیں گے ۔ (داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش) یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وظن داؤد انما فتنہ “۔ داؤد (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ بیشک ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے یہ خیال آتے ہی (آیت) ” فاستغفر ربہ وخرراکعا “ پس بخشش طلب کی اپنے پروردگار سے ۔۔۔۔۔ رکوع کرتے ہوئے ، سجدہ میں ، (آیت) ” واناب “ اور آپ تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس لغزش کی بناء پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا گیا ، اس سلسلہ میں مفسرین نے کئی ایک وجوہات بیان کی ہیں البتہ بائیبل کا بیان تو سراسر جھوٹ اور بہتان طرازی پر مبنی ہے اس بیان کے مطابق اور یاہ نامی ایک شخص کی بیوی بنت سبع بڑی خوبصورت عورت تھی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نظر کسی طرح اس عورت پر پڑی تو پسند آگئی ، اسے بلا کر گھر میں رکھ لیا اور پھر اس سے (العیاذ باللہ) بدکاری بھی کی ، اس عورت نے بتایا کہ اس کا تو خاوند بھی زندہ ہے جو آپ کی فوج میں عہدیدار ہے پھر داؤد (علیہ السلام) نے اپنے راستے کے اس روڑے کو ہٹانے کے لیے یہ حیلہ کیا کہ اس فوجی افسر کو کسی جنگ کے اگلے مورچوں پر تعینات کردیا وہ مارا گیا تو داؤد (علیہ السلام) نے اس عورت سے نکاح کرلیا ، البتہ نکاح سے پہلے بدکاری کرنے کے نتیجے میں آپ کی اولاد بھی ہوئی ، فرمایا کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ سراسر جھوٹا ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے اس کے جلیل القدر پیغمبر اور صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی تھی ان سے ایسی معصیت کے ارتکاب کا سوچا بھی نہیں جاسکتا ، ان کے متعلق تو خود حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (1) بھی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ” کان اعبد البشر “ یعنی آپ اپنے دور کے سب سے زیادہ عبادت گزار تھے ، انہوں نے عبادت خانے کا نظام اس طریقے سے قائم کر رکھا تھا کہ ان کا عبادت خانہ کسی وقت بھی عبادت سے خالی نہیں ہوتا تھا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) خود ، آپ کی کوئی بیوی یا گھر کا کوئی دوسرا فرد ضرور عبادت خانے میں عبادت میں مصروف ہوتا تھا ، تو ایسے مقرب الی اللہ پر بدکاری کا الزام لگانا بجائے خود ایک نہایت ہی قبیح فعل ہے اسی تفسیر روایات (2) میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے یہ حکمنامہ جاری کیا تھا کہ جو شخص حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اور یاہ کی بیوی والا قصہ منسوب کرے گا اسے کوڑے لگائے جائیں گے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام (3) فرماتے ہیں کہ بائیبل کا قصہ تو جھوٹا ہے ، البتہ اس کا کچھ حصہ لغویات سے الگ کرکے تسلیم کیا جاسکتا ہے ، اور وہ یہ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کسی عورت کو اپنے نکاح میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا حالانکہ وہ عورت پہلے سے منکوحہ تھی بس اس خواہش کا اظہار کیا تھا حالانکہ وہ عورت پہلے سے منکوحہ تھی بس اس خواہش کے اظہار پر ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا کہ آپ جیسے جلیل القدر پیغمبر کے دل میں یہ خواہش بھی پیدا نہیں ہونی چاہئے تھے تاہم بعض دوسرے مفسرین اس واقعہ کا مطلقا انکار کرتے ہیں ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں (4) کہ دیوار پھلانگ کر آنے والے انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے اور دنبیوں کا واقعہ حقیقی واقعہ نہیں تھا ، بلکہ فرشتوں نے محض تمثیل کے طور پر بیان کیا تھا اور اس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو تنبیہ کرنا مقصود تھا ، بعض کہتے (1) کہ جب شکایت کنندہ نے اپنی شکایت پیش کی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فورا فیصلہ دے دیا کہ نناوے دنبیوں کے مالک کو ایک مزید دنبی کا مطالبہ کرنا بڑی زیادتی ہے کسی مقدمہ کو نمٹانے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کی بات سننے کے بعد فیصلہ صادر کیا جائے ، مگر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے صرف شکایت کنندہ فریق کی بات سن کر فورا فیصلہ کردیا اور فریق ثانی کو صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہ دیا ، یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ، لہذا حضرت داؤد (علیہ السلام) کو تنبیہہ کرنے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا ۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے (2) ہیں کہ دنبیوں والے قصے کی کوئی حقیقت نہیں ، یہ تو ایک مثال تھی ، البتہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے مستدرک حاکم میں منقول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے نظام حکومت نہایت اعلی درجے پر قائم کر رکھا تھا ، آپ کی سلطنت میں ہر چیز کی فراوانی تھی اور رعایا خوشحال تھی ، ادھر عبادت خانے کا نظام بھی کمال درجہ کا تھا جس کی وجہ سے یہ عبادت خانہ شب وروز میں کسی لمحہ بھی عبادت سے خالی نہیں ہوتا تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دل میں استعجاب پیدا ہوا کہ انہوں نے کیسے اچھے نظام قائم کر رکھے ہیں بس یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی کہ تمہیں اپنے نظام کی حسن کارکردگی تو نظر آگئی ہے مگر میری توفیق کی طرف نگاہ نہیں اٹھی کہ جس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں چناچہ اتنی سی بات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش آگئی اور دیوار پھاند کر آنے والے فرشتوں نے عبادت خانے میں مخل ہو کر اس کا نظام درہم برہم کردیا حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اپنی لغزش کا فورا احساس ہوگیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی اور ساتھ ہی سجدہ ریز ہوگئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فغفرنا لہ ذلک “۔ پھر ہم نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ قصور معاف کردیا (آیت) ” وان لہ عندنا لزلفی “۔ بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں مرتبہ ہے (آیت) ” وحسن ماب “۔ اور لوٹ کر جانے کا اچھا ٹھکانا بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کا قصور معاف کر کے آخرت میں اعلی قدر ومنزلت کی طرف بھی اشارہ کردیا آپ قیامت کے دن نبیوں اور عادلوں کا درجہ پائیں گے اور حدیث میں ہے کہ عادل لوگ نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں جانب ہوں گے حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے دوست اور مقرب ترین لوگ عادل بادشاہ ہوں گے اور سب سے زیادہ دشمن اور سخت عذاب میں مبتلا ظالم حکمران ہوں گے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دنیا وآخرت میں کامیابی کی بشارت بھی سنا دی ۔ (سجدہ تلاوت) اس درس میں سجدہ کی آیت بھی آئی ہے جس کے پڑھنے سننے سے سجدہ تلاوت لازم آتا ہے ، البتہ اس مقام کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ یہاں پر لفظ سجدا کی بجائے راکعا آیا ہے جس کا معنی رکوع کرنا ہوتا ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہاں پر سجدہ کرنا ضروری ہے یا صرف رکوع کرنے سے بھی تعمیل حکم ہوجائے گی ، نسائی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اس مقام پر سجدہ کرکے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ سجدہ تو توبہ کے لیے تھا اور ہمارا سجدہ شکر کے لیے ہے مسنداحمد میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کا بیان (1) (مسنداحمد) ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں سورة ص لکھ رہا ہے ، پھر جب میں آیت سجدہ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ میرا قلم دوات اور آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا ہے ، انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ کے سامنے سنایا تو پھر آپ بھی اس آیت کی تلاوت کرتے وقت برابر سجدہ کرتے رہے ، ترمذی شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں جب میں نے سجدہ کی آیت پڑھی تو سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ درخت یہ دعا کر رہا ہے ، ” اللھم اکتب لی بھا عندک اجراجعلھا لی عندک ذخرا وضع بھا عنی وزرا واقبلھا منی کما قبل تھا من عبدک داؤد “۔ اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو اپنے پاس میرے لیے اجر اور خزانے کا سبب بنا دے اس سے تو میرے بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے اسی طرح قبول فرما لے جس طرح تو نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سجدے کو قبول کیا تھا ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں (1) پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کی اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت سے سنی تھی ، بہرحال مفسرین کرام اس مقام پر سجدے کے وجوب کے حق میں بعض دیگر دلائل بھی پیش کرتے ہیں البتہ امام شافعی (رح) اس مقام پر سجدے کے قائل نہیں ان کے مطابق سورة الحج میں دو سجدے ہیں آیت نمبر 18 پر سجدے کے سبھی قائل ہیں البتہ امام شافعی (رح) آیت نمبر 88 پر بھی سجدہ کرتے ہیں ۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ چونکہ اس مقام پر لفظ راکعا آیا ہے لہذا اگر کوئی شخص نماز کی حالت میں یہ آیت تلاوت کرنے کے فورا بعد سجدے کی نیت سے رکوع میں چلا جائے تو سجدہ ادا ہو جاے گا مزید سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور بہتر یہ ہے کہ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرے اور پھر اٹھ کر مزید تلاوت کرے اور پھر رکوع میں جائے جیسا کہ عام معمول ہے اور اگر یہ آیت نماز کے علاوہ تلاوت کی ہے تو پھر لازم سجدہ کرنا ہوگا جس کیلئے باوضو ہونا قبلہ رخ ہونا اور پیشانی کا زمین پر رکھنا ضروری ہے ۔