Ayahs 37:1–10نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الصفت ہے جو کہ اس کے پہلے لفظ سے ماخوذ ہے۔ یہ سورة مکی دور میں سورة انعام کے بعد نازل ہوئی۔ یہ مکی زندگی کا درمیانی عرصہ ہے۔ اس سورة کی ایک سو بیاسی آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة آٹھ سو ساٹھ الفاظ اور تین ہزار آٹھ سو انتیس حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید و رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا ہی ذکر ہے ، تاہم توحید کا بیان سب سے زیادہ ہے۔ اس سورة میں بعض ایسے دلائل قدرت بیان کیے گئے ہیں ، جو دلائل توحید اور دلائل قیامت بھی ہیں۔ رسالت کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) ، الیاس (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور بعض دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ ہے۔ مذکورہ مضامین کے علاوہ بعض ضمنی مضامین بھی آگئے ہیں۔ فرشتوں کا خاص طور پر تذکرہ ہے۔ عرب کے مشرک فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں تصور کرتے تھے اور بعض انہیں معبود سمجھتے تھے ، ہر زمانے میں مشرک لوگ فرشتوں سے غائبانہ امداد طلب کرتے رہے ہیں۔ چناچہ اس سورة کی ابتداء میں جو قسم اٹھائی گئی ہے اس کے مصداق بھی فرشتے ہیں۔ اللہ نے فرشتوں کی اطاعت و فرمانبرداری کا ذکر بھی کیا ہے کہ وہ تو خود اللہ کے حکم کے تابع ہیں ، پھر تم ان کو کس طرح معبود سمجھتے ہو۔
فرشتوں کی صف بندی
اس سورة کی ابتدا قسم سے ہوتی ہے والصفت صفا قسم ہے قطار در قطار ہو کر صف باندھنے والوں کی اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے ہر وقت صف بستہ منتظر رہتے ہیں۔ یہی بات سورة کے آخر میں بھی آئے گی۔ وہاں اللہ نے فرشتوں کی زبان سے کہلوایا ہے وانا لنحن الصافون (آیت 165) ہم تو ہرز وقت صف باندھے کھڑے رہتے ہیں تاکہ اللہ کا حکم سن کر اس کی تعمیل کریں۔ غرضیکہ اللہ کے فرشتے اس کے حضور صف بستہ کھڑے رہتے ہیں۔ اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتے عبادت الٰہی کے لیے صف بستہ رہتے ہیں۔ اسی طرح صف بندی سے مراد اہل ایمان انسانوں کی صفت بھی مراد ہوسکتی ہے ان کو بھی اعلیٰ ترین عبادت نماز کے لیے صف بندی کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اہل ایمان سے صف بندی دو مقامات پر مطلوب ہے۔ ایک نماز کے لیے اور دوسرے میدان جنگ میں جہاد کے لیے۔ سورة الصف میں جہاد کے لیے ہی صف بندی کی ترغیب دی گئی ہے ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانھم بنیان مرصوص (آیت 4) اللہ تعالیٰ اس کے راستے (جہاد) میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرف صف بندی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (ابن کثیر ص 2 ج 4 و مظہری ص 105 ج 8 و خازن ص 17 جلد 6) ہے الا تصفون کما تصف الملئکۃ عند ربھا لوگو ! تم نماز کے لیے اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے پروردگار کے ہاں صف بندی کرتے ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، حضور ! فرشتے کس طرح صف بندی کرتے ہیں ؟ فرمایا یتمون الصفوف الاولی ویتراصون فی الصف کہ وہ پہلی صفوں کو قورا کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں ، یعنی درمیان میں خلا نہیں چھوڑتے۔ بعض روایات کے الفاظ ہیں ولا یزرون فرجات الشیطن کہ وہ شیطان کے لیے رخنے نہیں چھوڑتے نمازیوں کے درمیان جتنا فاصلہ زیادہ ہوگا۔ اسی قدر شیطان کی آمد و رفت بھی زیادہ ہوگی ، اور وہ نماز میں مخل ہوگا۔ نماز کے لیے صفوں کا تاکیدی حکم آیا ہے پہلی صف میں بالغ اور عمر رسیدہ لوگ کھڑے ہوں ، اس کے بعد بچوں کی صف ہو اور پھر آخر میں عورتیں صف بنائیں۔ حضور ﷺ نماز کے لیے خود صفوں کی درستگی فرمایا کرتے تھے۔ صحابہ ؓ بیان (مسلم ص) کرتے ہیں کہ حضور ﷺ ہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرمایا کرتے تھے کانما یسوی بھا القداح (مسلم) گویا کہ صف سے تیر سیدھا کیا جائے گا۔ اس طرح جب حضور ﷺ جہاد کے لیے صف بندی کرتے تو اس میں بھی کوئی رخنہ نہیں چھوڑتے تھے۔
صف کے لفظ سے نظم و ضبط اور باقاعدگی کی تعلیم ملتی ہے ہر کام پورے طریقے کے ساتھ انجام دینا چاہئے۔ بدنظمی اللہ تعالیٰ کو قطعاً پسند نہیں چناچہ بدنظمی دنیا کے نظام میں بھی خرابی کا باعث بنتی ہے۔ بہرحال صف بندی ہماری امت کی خصوصیت ہے دیگر خصوصیات میں یہ بھی ہے کہ اللہ نے ساری زمین کو امت محمدیہ کے لیے مسجد قرار دیا ہے اور طہارت کے لیے مٹی کو پاک قرر دیا ہے جس سے تیمم روا ہے۔
پہلے فرشتوں یا انسانوں کی صف بندی کی قسم اٹھائی پھر فرمایا فا الزجرت زجرا قسم ہے زجر کرنے والوں یعنی ڈانٹ پلانے والوں کی جو جھڑک کر ڈانٹ پلاتے ہیں۔ اس زجر کے دو مصداق ہوسکتے ہیں۔ فرشتے یا تو شیاطین کو ڈانٹ پلاتے ہیں اور ان کو بھگاتے ہیں تاکہ وہ اوپر جا کر عالم بالا کی بات نہ سن سکیں اور یا بادلوں کو زجر کرتے ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت (ترمذی شریف) میں آتا ہے کہ فرشتے بادلوں کو کوڑے مارتے ہیں اور جدھر بارش برسانا مقصود ہوتی ہے ادھر ہانک کرلے جاتے ہیں۔ زجر سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ مجرموں کو گناہ سے باز رکھنے کے لیے ان کو ڈانٹ پلائی جاتی ہے۔ مفسرین کرام (مظہری ص 105 ج 8 و روح المعانی ص 65 ج 23) بیان کرتے ہیں کہ برائی سے منع کرنے کے لیے ڈانٹنا درست ہے۔ نیک انسان ہمیشہ اپنے نفس کو برائی سے ڈانٹ پلاتے ہیں تاکہ وہ کسی معصیت میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ اس طرح میدان جہاد میں کافروں کو ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی ہے۔ یہ تمام مواقع زجر میں داخل ہیں اور اس آیت کا مصداق بنتے ہیں۔
ذکر الٰہی
آگے فرمایا فالتلیت ذکر اقسم ہے ذکر کی تلاوت کرنے والوں کی۔ اس سے مراد یا تو اللہ کے فرشتے ہیں کہ وہ اللہ کے حکم کی تلاوت کرتے ہیں یعنی اس طرف ہمہ تن گوش رہتے ہیں ، اور یا اس سے انسان بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ جو ذکر الٰہی میں مصروف رہتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں ذکر کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ مثلاً سورة الجمعہ میں واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون (آیت 10) اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو۔ سورة العنکبوت میں ہے ولذکر اللہ اکبر (آیت 45) یقین جانو کہ اللہ کا ذکر ہر چیز سے بزرگ تو ہے بخاری شریف کی روایت (بخاری ) میں حدیث قدسی کے الفاظ ہیں انا مع عبدی اذا ذ کرنی وتحرکت بی شفتاہ جب میرا بندہ ذکر کرتا ہے اور اس کے لیے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ صحیحین کی حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ میرا معاملہ بندے کے ساتھ اس کے یقین کے مطابق ہے جب وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذکر دوسروں کے سامنے کرتا ہے ، تو میں ان سے بہتر بندوں کی جماعت یعنی فرشتوں کے سامنے اس کا ذکر کرتا ہوں۔ بہرحال ذکر دو طرح سے ہوتا ہے۔ اگر زبان سے کلام پاک پڑھا جائے ، درود شریف پڑھا جائے یا دیگر وظائف کئے جائیں تو یہ انسان کے اپنے فائدے کے لیے ہوتا ہے جس سے اسے اجر وثواب حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ فرشتے بھی اپنے پروردگار کا ذکر اس کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دوسروں کو تعلیم دینے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے تاکہ یہ سلسلہ آگے چلتا رہے۔ اس سے پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
وحدانیت کی گواہی
اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تین قسمیں اٹھا کر یعنی تاکیداً فرمایا ان الھکم لواحد بیشک تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ ہر نیک انسان ، جن اور فرشتہ صرف خدائے وحدہ لاشریک ہی کی عبادت کرتا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر انسانوں ، جنوں یا فرشتوں کو معبود بنانا تو بڑی بےوقوفی کی بات ہے۔ وہ تو خود اس فکر میں رہتے ہیں کہ کسی طریقے سے اللہ ہم سے راضی ہوجائے اور ہم سے کوئی نافرمانی کی بات سرزد نہ ہوجائے۔ ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اللہ کے ہر حکم کی تعمیل اس کے منشاء کے مطابق ٹھیک طریقے سے ہو ، فرشتے بھی اللہ کی اطاعت میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔ پھر انہی کو معبود بنانا کہاں کی عقلمندی ہے ؟ لہٰذا مشرکین کو کسی طرح بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خدا کے علاوہ کسی دوسری ہستی کو معبود مان کر اس کی عبادت کریں یا اس کی دہائی دیں یا اس کے سامنے نذر و نیاز پیش کریں حالانکہ معبود برحق تو ایک ہی ہے جو سب جہانوں کا خالق ، مالک ، متصرف اور مربی ہے۔ بہرحال فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں یا انسان سب گواہی دیتے ہیں کہ معبود حقیقی صرف ایک ہی ہے۔
رب المشارق
اور وہ کون ہے رب السموت والارض وما بینھما وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے رب کا معنی پرورش کرنے والا یعنی ہر چیز کی اس طرح نشونما کرنا کہ وہ بتدریج حد کمال تک پہنچ جائے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ انسانوں ، جانوروں ، نباتات اور جمادات سب کا پروردگار ہے اور اس کام میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ ہر چیز کی پرورش ، نگرانی اور حفاظت اسی کے ذمہ ہے۔ ورب المشارق اور مشرقوں کا رب بھی وہی ہے۔ سورة الرحمن میں رب المشرقین و رب المغربین (آیت 17) بھی آیا ہے یعنی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا رب بھی وہی ہے۔ اس کے علاوہ رب المشرق والمغرب (المعارج 40) بھی آیا ہے کمہ تمام مشرقوں اور مغربوں کا وہی پروردگار ہے۔ غرضیکہ مشرق اور مغرب ، واحد ، تثنیہ اور جمع تینوں صیغوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ جہاں واحد کا صیغہ ہے وہاں پر عام فہم معنی ہے کہ مشرق اور مغرب کا پروردگار اللہ ہے۔ جہاں تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے وہاں مطلب یہ ہے کہ سردی اور گرمی ہر دو موسموں کے مشرق اور مغرب کا رب اللہ ہے۔ ظاہر ہے کہ گرمی کے موسم میں سورج اور جگہ سے طلوع اور دوسری جگہ غروب ہوتا ہے ، جب کہ موسم سرما میں اس کا مشرق و مغرب قدرے مختلف ہوتے ہیں اسی طرح جمع کا صیغہ استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ درحقیقت ہر دن سورج کا مشرق و مغرب مختلف ہوتا ہے۔ چونکہ ہر روز کچھ نہ کچھ فرق پڑتا رہتا ہے لہٰذا ان تما م مشارق و مغارب کو جمع کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے۔ البتہ اس مقام میں صرف مشارق کا لفظ آیا ہے اور مغارب نہیں لایا گیا۔ مطلب یہ ہے کہ مشرق ذکر کرنے سے مغرب خود بخود ذہن میں آجاتا ہے کہ جس سورج نے طلوع ہونا ہے وہ غروب بھی ہوگا۔ لہٰذا یہاں پر مغرب کا ذکر نہیں کیا گیا تو فرمایا مشرق و مغرب کا رب بھی اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ آگے ارشاد ہوتا ہے انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت بخشی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق آسمان تو سات ہیں مگر ہمیں صرف ایک ہی نظر آتا ہے جسے آسمان دنیا کا نام دیا گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اس آسمان پر ستارے بکھیر کر اس کو خوشنما بنا دیا ہے ، رات کے وقت چاند اور ستارے نظر آتے ہیں۔ ان کروڑوں ستاروں کے مختلف سائز اور مختلف رنگ ہیں۔ کوئی سفیدی مائل اور کوئی سرخی مائل ، کوئی نیلگوں اور کوئی زردی مائل ہیں۔ اللہ نے ان میں ایسی چمک پیدا کردی ہے جیسے قندیلیں روشن ہوں۔ فرمایا ستارے ایک تو آسمان دنیا کی زینت ہیں اور ان کا دوسرا کام یہ ہے وحفظا من کل شیطن مارد کہ یہ ہر سرکش شیطان سے حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ یہ شیطان اوپر جا کر فرشتوں کی گفتگو سننے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کے کان میں کوئی اکا دکا بات پڑگئی تو وہ آکر اپنے کاہنوں کو بتاتے جو اس میں سو جھوٹ ملا کر اپنے سائلوں کو بتاتے اور اس طرح ان کا کام چلتا رہتا۔ جب قرآن پاک کا نزول شروع ہوا تو شیاطین کا آسمان پر داخلہ بند ہوگیا۔ چناچہ اللہ کے فرشتے ان کو اوپر جانے سے روکتے ہیں۔ اسی بات کے متعلق فرمایا لا یسمعون الی الملاء الا علی نہیں سنتے وہ اوپر والے فرشتوں کی جماعت کی باتیں ویقذفون من کل جانب دحورا مگر یہ کہ پھینکے جاتے ہیں وہ ہر جانب سے ، دھکیلے ہوئے۔ جدھر بھی کوئی شیطان جانے کی کوشش کرتا ہے ، فرشتے اسے دھکیل کر پیچھے ہٹا دیتے ہیں اور اگر ان کا طریقہ یہ ہے جیسا کہ آگے ذکر ہو رہا ہے کہ ان پر شہاب پھینکے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی مر جاتا ہے اور کوئی زخمی ہوجاتا ہے اور اس طرح ولھم عذاب واصب ان کے لیے دائمی عذاب ہوتا ہے۔ شیاطین خود خدا کے نافرمان ہیں اور دوسروں کو بھی نافرمانی پر آمادہ کرتے ہیں۔ انسانوں کے دلوں میں برے وسوسے ڈالتے ہیں لہٰذا انہیں ہمیشہ مار پڑتی رہتی ہے۔ فرمایا الامن خطف الخطفہ پھر شیاطین میں سے کسی نے اوپر جا کر مار کھانے کے باوجود فرشتوں سے کوئی بات اچک لی ، اس نے کوئی بات سن لی فاتبعہ شھاب چمکتا ہوا شہاب لگ جاتا ہے اور وہ پیچھے بھاگتا ہے۔ شیاطین کی یہ کوشش جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی تاکہ وہ انسانوں کو حتی الامکان گمراہ کرسکیں۔ تاہم شہاب ثاقب بھی ان کا پیچھا کرکے ان کو بھگاتے رہیں گے۔ ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ کوہ پیما کسی پہاڑ کو سر کرنے کے لیے کتنی محنت اور کوشش کرتے ہیں۔ اکثر ناکام ہوتے ہیں اور کبھی کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ دنیا کی بلند ترین چوٹی مونٹ ایورسٹ کو سر کرنے میں ڈیڑھ سو سال صرف ہوئے تھے اور تب جا کر اس میں کامیابی ہوئی تھی۔ اس طرح شیاطین بھی اوپر جا کر معلومات حاصل کرتے رہتے تھے اور اس کوشش میں وہ مرتے بھی رہتے ہیں۔ مگر ان کے جانشین یہ سعی جاری رکھتے ہیں اور پٹتے رہتے ہیں۔
Ayahs 37:11–35ربط آیات
اس سورة کی ابتداء میں صف بندی کرنے والے فرشتوں کا ذکر کیا گیا اور ان کی قسم اٹھا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا اعلان کیا گیا ، ملائکہ کی صف بندی یا انسانوں کی نماز اور جہاد کے لیے صف بندی خود اللہ کی توحید پر دلالت کرتی ہے۔ جب تمام ملائکہ اور انبیاء اور صلحائے امت اللہ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں تو پھر مشرک لوگ غیروں کو معبود مان کر ان کی نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہیں اور ان سے حاجت براری کی کیسے توقع رکھتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مالک ، مربی اور متصرف ہے لہٰذا معبود حقیقی بھی وہی ہے۔
تخلیق انسانی بطور دلیل
ارشاد ہوتا ہے ، اے پیغمبر ﷺ فاستفتھم ذرا آپ ان سے پوچھیں کہ یہ لوگ کس بنا پر اکڑ دکھا رہے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں اھم اشد خلقا ام من خلقنا کیا یہ پیدائش میں زیادہ دشوار ہیں یا وہ چیزیں جن کو ہم نے پیدا کیا ہے۔ یہ انسان جیسی چھوٹی سی چیز کی دوبارہ تخلیق محال سمجھتے ہیں حالانکہ رب السموت والارض وما بینھما (آیت 5) یعنی آسمانوں اور زمین جیسی بڑی بڑی چیزوں کے خالق ومالک اور مدبر بھی ہم ہیں۔ مشرکین اور منکرین معاد سے استفسار یہ ہے کہ کیا زمین و آسمان اور ان کے درمیان والے تمام کروں کی تخلیق مشکل ہے یا تمہاری۔ مطلب یہ ہے کہ جو قادر مطلق اتنی بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرسکتا ہے ، وہ تمہیں دوبارہ کیوں نہیں پیدا کرسکتا۔ فرمایا تمہارا تو مادہ تخلیق بھی زیادہ سخت نہیں۔ انا خلقنھم من طین لازب ہم نے بنی نوع انسان کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو چپکنے والی مٹی سے پیدا کیا اور پھر آگے نسل انسانی کو قطرئہ آب سے چلایا۔ بھلا یہ کون سا کام ہے جس کا تم انکار کر رہے ہو ، فرمایا بل عجبت بلکہ آپ تعجب کرتے ہیں ان لوگوں کی حماقت پر کہ انسان کی تخلیق کو محال تصور کرتے ہیں۔ مگر ان کی حالت یہ ہے ویسخرون کہ یہ آپ کی باتوں کا تمسخر اڑا رہے ہیں کہ یہ شخص کیسی عجیب و غریب باتیں کر رہا ہے۔
منکرین کی حجت بازی
فرمایا حقیقت یہ ہے واذا ذکروا لا یذکرون جب ان کو نصیحت کی جاتی ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے ، اس زندگی کا حساب کتاب آگے چل کردینا پڑے گا۔ تمام مردے دوبارہ زندہ ہوں گے اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے تو یہ لوگ قطعاً نصیحت نہیں پکڑتے۔ واذا روایۃ اور جب یہ لوگ کوئی نشانی دیکھتے ہیں پیغمبر (علیہ السلام) کے ہاتھ پر معجزہ دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شق القمر اور دوسرے معجزات ظاہر فرمائے تو ایسی چیزیں دیکھ کر یستخرون ہنسی مذاق کرنے لگتے ہیں۔ ایمان نہیں لاتے۔ وقالوا ان ھذا الا سحر مبین اور کہتے ہیں نہیں ہے مگر کھلا جائو۔ دوسری جگہ فرمایا کہ معجزہ دیکھ کر یہ لوگ کہتے ہیں ان ھذا لسحر مبین (یونس 2) یہ تو کھلا جادو ہے۔ یہ نبوت کا دعویدار شخص کہتا ہے کہ یہ نشانی اللہ نے ظاہر کی ہے حالانکہ اس قسم کی چیزیں عام جادوگر پیش کرتے رہتے ہیں ، یہ کونسی انوکھی بات ہے۔ فرمایا اتنے بدمذاق لوگ جو کہتے ہیں اذا متنا و کنا ترابا وعظاما کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے ، گوشت گل سڑ جائے گا اور مٹی میں رل مل جائے گا اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں گی انا لمبعوثون تو کیا دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ او ابائونا الاولون اور کیا پہلے گزرے ہوئے ہمارے آبائو اجداد بھی دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے ؟ کہتے تھے یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی کہ جب ہمارے ذرات مٹی میں منتشر ہوجائیں گے تو وہ پھر جمع ہو کر ہماری زندگی کا باعث بن جائیں گے۔ اللہ نے جواباً فرمایا قل اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیں نعم ہاں بلاشبہ وانتم داخرون تم بھی اور تمہارے آبائو اجداد سب اولین اور آخرین دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور تم اس انکار کی وجہ سے ذلیل ہو کر رہو گے ، فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا فانما ھی زجرۃ واحدۃ تو ایک ہی ڈانٹ آئے گی یعنی ایک ہی دفعہ بگل بجے گا فاذا ھم ینظرون اور وہ سب دیکھ رہے ہوں گے وقوع قیامت کے بگل کے ساتھ ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ذلیل و خوار ہو کر سزا کی طرف جائیں گے ، اس وقت ان کا سارا غرور وتکبر ہوا ہوجائے گا۔ بڑے بڑیچوہدری ، رئیس ، کارخانہ دار ، و ڈیرے اور جاگیردار ذلت کی حالت میں فرشتوں کے آگے آگے چل رہے ہوں گے۔ اس وقت ان کو حقیقت کا پتہ چلے گا اور پھر کف افسوس ملتے ہوئے کہیں گے وقالوا یویلنا ھذا یوم الدین ہائے افسوس ہمارے یہ تو بدلے کا دن آگیا ہے۔ اللہ کے نبی اسی دن سے ہمیں ڈرایا کرتے تھے مگر ہم اس سے انکار کرتے اور نبیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ھذا یوم الفضل الذی کنتم بہ تکذبون یہی وہ فیصلے کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے اور کہتے تھے ، کہ کوئی قیامت نہیں آئے گی ، نہ کوئی دوبارہ زندہ ہوگا ، نہ حساب کتاب ہوگا اور نہ جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے۔ فرمایا دیکھ لو یہ فیصلے کا دن آچکا ہے۔ آج تمہیں پوری زندگی کے اعتقاد و اعمال کا بھگتان کرنا ہوگا اور تمہیں اس کا بدلہ مل کر رہے گاے
دوزخ کی طرف روانگی
پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا احشروا الذین ظلموا وازواجھم ان ظالموں اور ان کے جوڑوں کو اکٹھا کرو ، جو زندگی بھر کفر ، شرک ، تجاوز ، قتل ناحق ، زنا ، چوری ، ڈاکہ ، حق تلفی اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ان کو اکٹھا کرلو اور ان کی بیویاں بھی اگر شریک جرم تھیں تو ان کو بھی ساتھ ملالو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جوڑوں کا مطلب یہ بھی ہوسکتا کہ ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ ٹولیوں میں جمع کرلو جیسا فارسی والے کہتے ہیں۔
” کند ہم جنس باہم جنس پرواز “
سب کی علیحدہ علیحدہ قطاریں بنا دو اور ساتھ وما کانوا یعبدون من دون اللہ ان معبودان باطلہ کو بھی اکٹھا کرلو جن کی یہ اللہ کے سوا پرستش کیا کرتے تھے۔ یہ مجرمین جن ہستوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور جن کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے تھے ان کو بھی ان کے ساتھ ہی جمع کرلو۔ فاھدوھم الی صراط الجحیم پھر انہیں ہانک کر جہنم کے راستے کی طرف لے چلو۔ پھر فرمایا وقفوھم ان کو ذرا کھڑا کرو ، روکو کیونکہ انھم مسولون ان سے پوچھا جائے گا ۔ ان کو ذرا روکو کہ ان سے ان کی کارکردگی کے متعلق باز پرس ہوگی۔ سورة النحل میں ہے کہ اس دن ہر شخص سے اس کے ہر ہر عمل کے متعلق پوچھا جائے گا اور یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسہا (آیت 111) اس دن ہر شخص کو اپنی جوابدہی خود کرنا ہوگی۔ وہاں کسی کو وکیل مقرر نہیں کیا جاسکے گا اور نہ کسی کو مختار نامہ دینے کی اجازت ہوگی۔ ہر ایک کو بلاترجمان اللہ کے حضور ہر عمل کا جواب اصالتاً دینا پڑے گا اور جب تک کوئی شخص جواب نہیں دے لے گا۔ اسے قدم تک نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔ پھر اللہ فرمائے گا دنیا میں تو ایک دوسرے کے بڑے حمایتی بنے پھرتے تھے ، بڑے نعرے مارا کرتے تھے اور اکٹھے جینے اور مرنے کی قسمیں کھاتے تھے مالکم لا تناصرون تمہیں کیا ہے کہ آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ مگر ان کی حالت یہ ہوگی بل ھم الیوم مستسلمون اس دن تو سب ایک دوسرے کو پکڑوانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ خود کسی طرح بچ جائیں اس وقت تو کہتے تھے نحن جمیع منتصر (القمر 44) کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے ، اب کیوں مدد نہیں کرتے بلکہ پھنساتے ہو۔ اس دن سب بےیارو مددگار رہ جائیں گے اور تابع اور متبوع ایک دوسرے کو ملامت کریں گے کہ تم نے ہمیں مروا دیا۔
تابع اور متبوع کا مکالمہ
واقبل بعضھم علی بعض یتسالون ان میں سے بعض بعض پر متوجہ ہوں گے اور پوچھیں گے قالوا انکم کنتم تاتوننا عن الیمین کہیں گے کہ تم تو ہماری دائیں طرف سے آتے تھے مطلب یہ کہ تم بڑی قوت کے ساتھ اپنے پراپیگنڈا کا شکار ہمیں بناتے تھے۔ ہمیں اپنا ہم خیال بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے تھے ، کبھی لالچ دیتے اور کبھی خوفزدہ کرتے تھے ، مگر آج کدھر جا رہے ہو اور ہماری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ قالوا وہ جواب دیں گے بل لم تکونوا مومنین بلکہ تم خود ہی ایمان سے خالی تھے۔ اگر تم ایماندار ہوتے تو ہمارے بہکاوے میں نہ آتے ، دیکھو ! وما کان لینا علیکم من سلطن ہمارا تم پر کوئی زور تو نہیں تھا کہ ہم تمہیں زبردستی غلط راستے پر ڈال دیا ہو۔ بل کنتم قوما طغین بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے سرکش لوگ تھے جس کی وجہ سے آج تمہیں یہ دن دیکھنا نصیب ہوا۔ یہ تو تابع اور متبوع انسانوں کا مکالمہ ہو رہا ہے۔ قیامت والے دن شیطان بھی اپنی کرتوتوں کا انکار کردے گا اور اس کے پیچھے چلنے والے نامراد ہو کر رہ جائیں گے یہ لوگ شیطان سے کہیں گے کہ تم دنیا میں ہمیں بڑے سبز باغ دکھاتے تھے ، ہماری نظروں میں دنیا کی زیب وزینت اور رسم و رواج کو ہی مزین کرکے دکھتے تھے اور کہتے تھے کہ آگے کچھ نہیں ہے ، اب آج ہماری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ تو اس وقت شیطان بھی یہی جواب دے گا وما کان لی علیکم من سلطن (ابراہیم 22) مجھے تم پر کوئی غلبہ تو حاصل نہیں تھا کہ میں نے تمہیں زبردستی اپنے پیچھے لگا لیا ہو بلکہ میں نے تمہیں ایک دعوت دی تھی جسے تم نے ازخود قبول کرلیا ، لہٰذا آج فلا تلومونی ولو موا انفسکم (ابراہیم 22) آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو جو غلط راستے پر چل نکلے۔ تمہیں اللہ کے نبیوں اور مبلغین کی بات پر تو یقین نہ آیا مگر میرے جھوٹے وعدے کو سچا مان لیا ، لہٰذا اس ساری خرابی کے ذمہ دار تم خود ہو۔ تو یہ متبوعین بھی اپنے تابعین سے کہیں گے کہ تم نے ناصحین کی نصیحت پر عمل نہ کیا بلکہ ان کی خیرخواہی کو ہنسی مذاق میں اڑاتے رہے۔ فحق علینا قول ربنا آج ہم پر ہمارے رب کی بات سچی ہوگئی۔ اس کا اعلان تھا کہ جو کوئی میرا راستہ چھوڑ کر غلط راستہ اختیار کرے گا ، کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کرے گا تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا لہٰذا انا لذائقون آج ہم اس عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں اور تم بھی ہمارے ساتھ شامل ہو۔ پھر متبوعین اپنے تابعین کے سامنے اقرار کریں گے فاعوینکم انا کنا غوین کہ ہم نے ہی تمہیں گمراہ کیا کیونکہ ہم خود گمراہی کے راستے پر چل رہے تھے اور ظاہر ہے کہ کسی گمراہ آدمی سے گمراہی کی توقع ہی کی جاسکتی ہے وہ ہدایت کا راستہ کیسے دکھا سکتا ہے ؟
عذاب میں اشتراک
جب دونوں گروہوں کی گمراہی ثابت ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا فالھم یومیذ فی العذاب مشترکون کہ تابع اور متبوع ، لیڈر اور پیچھے لگنے والے سب مشترکہ طور پر عذاب کا شکار ہوں گے اور ان میں سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔ اللہ کا فرمان ہے انا کذلک نفعل بالمجرمین ہم گنہگار لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان نہیں لاتے۔ ہمارے نبیوں کی تکذیب کرتے ہیں اور ہماری کتابوں کو من گھڑت بتلاتے ہیں وہ عذاب سے بچ نہیں سکتے۔ ان مجرموں کا حال یہ ہے انھم کانوا اذا قیل لھم لا الہ الہ اللہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے نہ مالک ، نہ عالم الغیب ہے اور نہ مختار کل ، نہ حاجت روا اور نہ مشکل کشا ، تو یہ لوگ یستکبرون تکبر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم بڑے لیڈر ، جاگیردار اور کارخانہ دار ہیں۔ سینکڑوں ہزاروں آدمی ہمارے ماتحت ہیں۔ اگر ہم نے ایک معبود کو تسلیم کرلیا تو ہماری چوہدراہٹ کدھر جائے گی اور لوگ ہماری پوجا کیسے کریں گے لہٰذا وہ کلمہ توحید کا انکار کردیتے ہیں۔ فرعون ، ہامان ، نمرود سب اسی غرور وتکبر کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے۔ ابوجہل اور ابو لہب بھی اسی مہلک مرض میں مبتلا ہو کر جہنم واصل ہوئے۔ ابلیس بھی اپنے تکبر کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا۔ ایسے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے جرموں کی نوعیت کے اعتبار سے درجہ بدرجہ عذاب میں مبتلا کرے گا۔