Ayahs 37:114–138ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے دونوں فرزندوں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا یہ تینوں حضرات اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ یہ سباصحاب کامل درجے کے ایماندار اور اعلیٰ پیمانے کی نیکی کرنے والے تھے فلما اسلما کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹا ہر وقت اطاعت خداوندی میں مصروف رہتے تھے۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کو مسئلہ توحید سمجھایا تو وہ مخالف ہوگئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو صفحہہستی سے ناپید کرنے کے منصوبے بننے لگے۔ چناچہ تاریخ عالم کی عظیم ترین آگ جلائی گئی جس میں ابراہیم (علیہ السلام) کو پھینک دیا گیا ، یہ تو اللہ کی قدرت کی نشانی اور عظیم معجزہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اس آگ سے صحیح سلامت بچ نکلے مگر اس کے باوجود قوم کے لوگ آپ کی دعوت قبول کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ پھر آپ نے اللہ کے حکم سے ہجرت کی اور اپنی مقررہ جگہ پر پہنچ کر بارگاہ رب العزت میں بیٹے کے لئے دعا کی جو اللہ نے قبول فرمائی۔ اور جب بچہ بھاگنے دوڑنے کی عمر کو پہنچ گیا تو اللہ نے اس کی قربانی کا حکم دیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) اس امتحان میں کامیاب ہوئے اور اللہ نے اسماعیل (علیہ السلام) کی جگہ جنت سے مینڈھا بھیج کر قربانی کی تکمیل کی اور اسماعیل (علیہ السلام) کو بچا لیا۔ اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری بیوی حضرت سارہ ؓ سے بھی بیٹے کی بشارت ملی اور اللہ نے ان کے ہاں بھی حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسا عظیم المرتبت بیٹا تولد فرمایا ، جن کی اوالد کا سلسلہ دور تک گیا اور جس میں اللہ نے ہزاروں نبی مبعوث فرمائے۔ اس واقعہ میں حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ دیکھو اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں نے کیسی کیسی تکالیف اٹھائیں اور کتنے امتحانات سے گزرے تو پھر اللہ نے ان پر انعامات بھی بیشمار کئے۔ اب اگلی آیات چند دیگر انبیاء اور ان کو پہنچنے والی تکالیف اور پھر ان کی کامیابی کا ذکر آ رہا ہے۔ اس سے حضور ﷺ اور آپ کے تابعین کو سمجھانا مقصود ہے کہ مخالفین کی ایذارسانیوں سے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ بالآخر کامیابی تمہارے ہی مقدر میں ہوگی۔
موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر
ارشاد ہوتا ہے ولقد مننا علی موسیٰ و ھرون اور البتہ تحقیق ہم نے احسان کیا موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات تو قرآن اپک میں چھیالیس سے زیادہ مرتبہ مختلف سورتوں میں بیان ہوئے ہیں تاہم یہاں پر اختصار کے ساتھ یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ کے ان نبیوں نے اللہ کی وحدانیت کا پیغام پہنچانے کے لئے کن کن مشکلات کا سامنا کیا۔ مگر بالآخر اللہ نے انہی کو کامیاب بنایا۔ ارشاد ہوتا ہے و نجینھا و قومھما من الکرب العظیم اور ہم نے ان دونوں (موسیٰ اور ہارون علیہم السلام) اور دونوں کی قوم کو بڑی اذیت سے نجات دی۔ وفصربھم اور ہم نے ان کی مدد کی فکانوا ہم الغالبین اور آخر کار وہی غالب آئے اور فرعون اور اس کی قوم کو اللہ نے بحر قلزم میں غرق کردیا اور بنی اسرائیل آزاد ہوگئے۔
پھر فرمایا واتینھما الکتب المسبین اور اللہ کے دونوں نبیوں کو ہم نے ایک واضح کتاب بھی دی۔ اس سے مراد تورات ہے جو اصل میں تو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تاہم چونکہ دونوں پیغمبر اسی کتاب کی تبلیغ کے پابند تھے ، لہٰذا اللہ نے اس کتاب کو دونوں کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس وقت بائبل کے پہلے پانچ باب تورات پر مشتمل ہیں۔ قرآن پاک کے بعد یہ دوسرے نمبر پر عظیم الشان آسمانی کتاب ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے عقائد ، اخلاق ، حدود تعزیرات کے علاوہ معاشرتی احکام بھی بیان کئے ہیں۔ اس کتاب کی عظمت کے پیش نظر اللہ نے سورة القصص میں قرآن اور تورات ک متعلق مشترکہ طور پر فرمایا قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھواھدی منھا (آیت۔ 94) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان دونوں کتابوں سے بہتر ہدایت دہندہ کوئی کتاب ہے تو لے آئو۔ مطلب یہ کہ یہ دونوں کتابیں یعنی قرآن اور تورات سب سے زیادہ جامعیت کی حامل ہیں۔ ان کے علاوہ باقی دو آسمانی کتابیں انجیل اور زبور ہیں مگر وہ اتنی جامع نہیں ہیں ان میں زیادہ تر اخلاقی تعلیم ہے ، مسائل اور تع میرات کم ہیں۔ البتہ توحید کا اثبات اور شرک کی تردید تمام کتب سماویہ میں پائی جاتی ہے۔
پھر اللہ نے اپنے دونوں انبیاء (یعنی موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے متعلق فرمایا و ھدینھا الصراط المستقیم اور ہم نے دونوں کی راہ راست کی طرف راہنمائی کی۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) دونوں صراط مستقیم کے راہی تھے۔ اللہ نے ان کے قول و فعل میں استقامت بخشی تھی۔ دیگر انبیاء کی طرح اللہ نے ان کو بھی صغائر و کبائر اور ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھا تھا۔ ان میں کمال درجے کی عبادت و ریاضت تھی اور وہ صبر و تحمل اور بردباری کا پیکر تھے۔ نیز فرمایا و ترکنا علیھما فی الاخرین اور ہم نے پچھلوں کے لئے بھی ان دونوں کے حق میں یہ بات چھوڑ دی یعنی بعد میں آنے والے لوگ بھی ان کو اچھائی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں سلم علی موسیٰ و ھرون سلام ہو موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) پر اللہ نے ان کو وہ مرتبہ بخشا کہ قیامت تک آنے والے لوگ ان کے لئے سلامتی اور رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ فرمایا انا کذلک نجزی المحسنین ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ انھما من عبادنا المومنین یہ دونوں ہمارے کامل ایماندار بندوں میں سے تھے۔ پہلے حضرت نوح اور ابراہیم (علیہم السلام) کے لئے بھی یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اب موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بھی اللہ نے کامل ایمانداروں میں شمار کیا ہے۔
الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک اور نبی حضرت الیاس (علیہ السلام) کا تذکرہ اس طرح فرمایا و ان الیاس لمن المرسلین اور بیشک الیاس (علیہ السلام) بھی اللہ کے رسولوں میں سے تھے۔ معلوم ہوا کہ اللہ نے نزول وحی ک یعلاوہ آپ کو مستقل شریعت بھی عطا کی تھی۔ قرآن پاک میں الیاس (علیہ السلام) کا ذکر صرف دو مقام پر آیا ہے۔ پہلا مقام سورة الانعام جہاں اللہ نے اٹھارہ انبیاء کا تذکرہ کر کے فرمایا کہ اگر وہ بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ ان میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کا نام بھی مذکور ہے اور دوسرا مقام اس سورة میں ہے جہاں اللہ نے آپ کی دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ آپ کی نیکی اور ایمان کا تذکرہ کیا ہے۔
اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور ان کا زمانہ ایسع نبی کا قریبی زمانہ ہے۔ آپ شرق اردن کے ایک مقام جلتاد میں پیدا وئے ا سزمانے میں بعل بک بڑا متمدن شہر تھا۔ اللہ نے آپ کو اس شہر کی طرف مبعوث فرمایا تاکہ وہاں کے لوگوں کو توحید کی دعوت دیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ وہ زندہ ہیں ، حالانکہ یہ روایت صحیح نہیں ہے حقیقت یہی ہے کہ آپ اپنا دور گزار کر اپنے رب کے ہاں پہنچ چکے ہیں۔
بعل بت کی پوجا
بائبل میں بعل بک کے بادشاہ کا نام اخیاب اور اس کی مشرکہ بیوی کا نام ازابل
1 ؎ تفسیر کبیر ص 161 ج 62 والسراج المنیر ص 983 ج 3
2 ؎ طبری ص 39 ج 32 و معالم التنزیل ص 412 ج 3 تا 812
ذکر کیا گیا ہے۔ بادشاہ اپنی بیوی کے زیراثر تھا اور یہ سب لوگ بعل بت کی پوجا کرتے تھے۔ بعل کا لغوی معنی تو سردار ، آقا یا خاوند ہوتا ہے۔ مگر بعل نامی ایک نیکو کار عورت تھی جس کے مرنے کے بعد لوگوں نے اس کا بت بنا کر پوجا شروع کردی۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا تھا جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر جیسے نیک آدمیوں کے بت بنا کر لوگ ان کی پوجا کرتے تھے۔ حضور ﷺ کی بعثت کے زمانے میں لات نامی بت کی پرستش ہوتی تھی۔ یہ بھی حقیقت میں ایک نیک آدمی تھا ، حاجیوں کو ستو پلایا کرتا تھا ، جب مر گیا تو لوگوں نے بت بناکر اس کی پرستش شروع کردی۔ اساف اور نائلہ نامی مرد وزن کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا۔ یہ بدبخت خانہ کعبہ میں بدکاری کے مرتکب ہوئے تو اللہ نے سزا کے طور پر ان کو پتھروں میں تبدیل کردیا۔ پھر لوگوں نے اٹھا کر انہیں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں پر رکھ دیا تاکہ لوگ ان سے عبرت پکڑیں۔ مگر جب کچھ زمانہ گزر گیا تو شیطان نے لوگوں کے دلوں میں ایسی وسوسہ اندازی پیدا کی کہ انہیں بزرگ سمجھ کر ان کی پوجا ہونے لگی۔ چناچہ مشرک لوگ ان کے نام کا احرام باندھتے تھے اور لبیک اللھم لبیک کی بجائے لبیک اساف و نائلۃ کہنے لگے۔
الیاس (علیہ السلام) کی دعوت توحید
بہرحال الیاس (علیہ السلام) کی قوم بعل کی پوجا کرتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا بعل بک جا کر لوگوں ک توحید کی دعوت دو ۔ آپ نے وہاں پر قوم کو خطاب فرمایا۔ اذ قال لقومہ جب کہ کہا انہوں نے اپنی قوم سے الا تتقون لوگو ! کیا تم ڈرتے نہیں ؟ دیکھو تم کفر اور شرک میں مبتلا ہو۔ اتدعون بعلا کیا تمبعل بت کو پکارتے ہو ، اس سے اپنی حاجات طلب کرتے ہو ، اور اس کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے ہو و تذرون احسن الخالقین اور سب سے بہتر پیدا کرنے والی ذات کو چھوڑ دیتے ہو۔ اس کی عبادت نہیں کرتے اور نہ اس سے حاجت براری کرتے ہو۔ یہ کتنی بیوقوفی کی بات ہے۔ فرمایا وہ بہترین پیدا کرنے والا اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ربکم و رب اباء کم الا ولین جو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے آبائواجداد کا بھی ، تم اس کی بجائے بعل کی پوجا کرتے ہو جو بےجان مورتی ہے اور تمہارے کسی کام نہیں آسکتی۔ آج بھی مشرک لوگ ویسا ہی کام کر رہے ہیں۔ وہ یہ معاملہ بتوں کے ساتھ کرتے تھے۔ آج کے مسلمانوں نے یہی معاملہ قبروں کے ساتھ شروع کردیا ہے قبروں کو پختہ کیا جاتا ہے ، ان پر گنبد بنائے جاتے ہیں ، پھر چادریں چڑھتی ہیں اور گل پاشی ہوتی ہے اور پھر نادان لوگ ان کو سجدے کرتے ہیں… اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔ یہ کفر ، شرک اور بدعات کی باتیں ہیں جن میں رسومات باطلہ بھی شامل ہوجاتی ہیں اور شرک کے یہ اڈے بعض لوگوں کی معیشت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ پھر لوگ انہیں کاروباری لحاظ سے ترقی دیتے ہیں۔ ان کے حق میں الٹا سیدھا پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ عرس اور میلے منعقد ہوتے ہیں اور اس طرح ان کا کاروبار چل نکلتا ہے۔
تو الیاس (علیہ السلام) نے فرمایا ، کیا تم بہترین پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر بعل کی پوجا کرتے ہو ؟
حقیقت یہ ہے کہ اللہ خالق کل شیء (الزہر۔ 26) ہر چیز کا پیدا کرنے والا (خالق) تو اللہ ہے مگر احسن الخالقین کے لفظ سے مترشح ہوتا ہے کہ کوئی اور بھی خالق ہیں جن میں سے بہترین خالق اللہ ہے۔ تو یہ بہترین خالق اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ مجازی طور پر انسان بھی تو بعض چیزیں تیار کرتے ہیں۔ مثلاً کیمسٹری والوں نے بیشمار مرکبات تیار کئے ہیں اور فزکس کے ماہرین نے بہت سی مشینری ایجاد کی ہے جس سے ضروریات زندگی کی لاتعداد چیزیں بنائی جا رہی ہیں۔ بندہ اپنے عطا شدہ اختیارات کو بروئے کار لا کر ہاتھ پائوں ہلاتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے۔ مگر حقیقی خالق وہی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں گزر چکا ہے کہ انسان کے افعال کا خالق بھی وہی ہے۔ غرضیکہ تمام انسانی ہاتھوں کی بنائی ہوئی مصنوعات کو سامنے رکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ سب سے بہترین خالق اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ کوئی انسان مادے کے بغیر کوئی چیز تخلیق نہیں کرسکتا اور مادہ خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے۔ نیز جب اللہ تعالیٰ کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ زمین اور آسمان کو بغیر آلے اور مادے کے تخلیق کرسکتا ہے ، اور بغیر باپ ک یبیٹا عطا کرسکتا ہے ، مگر کوئی سائنسدان یہ کام نہیں کرسکتا۔ اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ ہی بہترین خالق ہے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ بہترین خالق وہ اللہ ہے جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے آبائواجداد کا بھی۔ وہی تمہیں بتدریج حد کمال تک پہنچاتا ہے اور تمہیں تمام ضروریات زندگی مہیا کرتا ہے۔
اس دعوت توحید کے جواب میں فکذبوہ قوم کے لوگوں نے الیاس (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا۔ انہوں نے آپ کی کوئی بات نہ مانی بلکہ الٹا آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے حتیٰ کہ بادشاہ اپنی بیوی کے کہنے پر آپ کے قتل کے درپے ہوا اور تفسیری روایات کے مطابق آپ کافی عرصہ تک روپوش بھی رہے۔ فرمایا ان کی اس گستاخی ، نافرمانی اور تکذیب کا نتیجہ نکلے گا فانھم لمحضرون کہ قیامت والے دن وہ گرفتار کر کے اللہ کی عدالت میں پیش کئے جائیں گے۔ الا عباد اللہ المخلصین مگر اس کے مخلص بندے اس گرفت سے بچ جائیں گے جو لوگ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں گے ، ظلم و زیادتی سے باز آجائیں گے ، عدل و انصاف کا دامن تھام لیں گے ، وہی اللہ کے مخلص بندے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائیں گے۔
1 ؎ طبری ص 49 ج 32 و خازن ص 43 ج 6
الیاس (علیہ السلام) کا مرتبہ
اللہ نے فرمایا و ترکنا علیہ فی الاخرین ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں چھوڑا یعنی بعد میں آنے والے لوگ بھی کہیں گے سلم علی ال یاسین سلام ہو الیاسین پر اس سے مراد حضرت الیاس (علیہ السلام) ہی ہیں۔ عربی قرات میں بعض دفعہ ایسے بھی پڑھتے ہیں جیسے طور سینا کو طور سینین (التین۔ 3) بھی کہا گیا ہے۔ فرمایا انا کذلک نجزی المحسنین ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں انہ من عبادنا المومنین ، وہ ہمارے کامل ایماندار بندوں میں سے تھے ، اسی لئے اللہ نے انہیں رسالت و نبوت سے سرفراز فرمایا ہے۔ اور پھر آپ نے دیکھا کہ انہوں نے کس خلوص و لگن کے ساتھ اپنی قوم تک دعوت توحید پہنچائی اور کس طرح مصائب کو برداشت کیا۔ اگرچہ یہاں پر آپ کی ایذارسانیوں کی تفصیل نہیں دی گئی تاہم یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ توحید کی دعوت دینے والوں کو مشکلات کی گھاٹی عبور کرنا ہی پڑتی ہے۔ اور جیسا کہ میں نے اشارہ کیا کہ آپ کچھ عرصہ تک روپوس رہے کیونکہ قوم آپ کی جان کے درپے تھی۔
لوط (علیہ السلام) کی دعوت
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ فرمایا و ان لوطا لمن المرسلین اور بیشک لوط (علیہ السلام) بھی اللہ کے رسولوں میں تھے۔ انہوں نے بھی وحدانیت کی تبلیغ اور برائیوں سے منع کرنے کی پاداش میں سخت تکالیف اٹھئایں۔ آپ کی بعثت شرق اردن میں بارہ لاکھ سے زیادہ آبادی والی قوم کی طرف ہوئی جن کے سدوم اور عامورہ وغیرہ چھ بڑے بڑے شہر تھے اور جن کی آبادی چار لاکھ سے زیادہ تھی اور باقی چھوٹی بستیاں اور دیہات تھے۔ آپ عرصہ تک ان کو تبلیغ حق کرتے رہے ، ان میں ہم جنسی کی نہایت ہی قبیح بیماری پیدا ہوچکی تھی جس سے آپ منع کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ الٹا آپ کو طرح طرح سے ایذائیں پہنچائیں۔ آپ کی بیٹیوں کے سوا کوئی شخص بھی ایمان نہ لایا حتیٰ کہ آپ کی بیوی بھی کافرہ ہی رہی۔ یہ تجارت پیشہ لوگ تھے۔ یمن سے شام و فلسطین اور مصر تک جانے والی شاہراہ پر واقع تھے۔ یہاں سے قافلے ہر وقت گزرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے یہ لوگ خاصے آسودہ حال تھے۔
ارشاد ہوا کہ لوط (علیہ السلام) بھی ہمارے رسولوں میں سے تھے۔ اللہ نے آپ کو مستقل شریعت عطا فرمائی تھی۔ آپ نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے اور قوم نے آپ کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ بالآخر قوم کی تباہی کا وقت آگیا۔ اللہ نے حکم دیا کہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل جائیں کیونکہ ان پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور اپنی بچیوں کو لے کر نکل کھڑے ہوئے اس طرح آپ اور آپ کے گھر والے تو بچ گئے اذ نجینہ و اھلہ اجمعین ہم نے نجات دی آپ کو اور آپ کے گھر والوں سب کو الا عجوزا فی الغبرین سوائے بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں تھی۔ یہ آپ کی بیوی تھی جو آپ کے ساتھ رات کو نہیں نکلی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ نکلی تو تھی مگر راستے سے واپس پلٹ گئی تھی۔ تورات کی روایت کے مطابق حکم یہ تھا کہ بستی سے نکل جائیں مگر پلٹ کر نہ دیکھیں مگر بیوی تھوڑی دور چلی پھر پلٹ کر بستی کی طرف دیکھا تو اللہ نے اس کو وہیں مسخ کردیا اور وہ پتھر بن گئی۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ گھر میں ہی ٹھہری رہی اور باقی قوم کے ساتھ عذاب کا شکار ہوگئی اللہ نے ان کی بستیوں کو الٹ دیا اور پھر اوپر سے پتھروں کی بارش بھی کی جس سے ساری قوم ملیا میٹ ہوگئی۔ اسی چیز کے متعلق فرمایا کہ لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں یعنی بچیوں کو تو ہم نے بچا لیا ثم دمرنا الاخرین پھر دوسروں کو تہس نہس کردیا۔ تدمیر کا معنی تہ وبالا کردینا ہوتا ہے۔ اللہ نے کسی فرد واحد کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔
1 ؎ طبری ص 79 ج 32
2 ؎ طبری ص 79 ج 32
جائے عبرت
آگے اہل مکہ کو تنبیہ کی جا رہی ہے اور عبرت دلائی جا رہی ہے و انکم لتعرون علیھم مصبحین اور بیشک تم ان پر سے گزرتے ہو صبح کے وقت و بالیل اور ان تباہ شدہ بستیوں پر تمہارا گزر رات کے وقت بھی ہوتا ہے۔ تم تجارتی سفر پر مصر ، شام اور فلسطین کی طرف جاتے ہو۔ تو ان بستیوں کے کھنڈرات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرتے ہو۔ حضور ﷺ کے زمانہ تک ان بستیوں کے کھنڈرات موجود تھے جنہیں مشرکین مکہ دیکھتے تھے مگر ان سے عبرت حاصل نہیں کرتے تھے۔ بحرمیت کو تو خدا تعالیٰ نے اس قدر برباد کردیا کہ اس میں اب بھی کوئی جاندار چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔ اللہ نے عبرت دلاتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کا انجام دیکھ کر بھی تم راہ راست پر نہیں آتے۔ انہوں نے اپنے نبی لوط (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ان کو ایذائیں پہنچائیں ، حق کو تسلیم نہ کیا تو انکا کیا حشر ہوا۔ اگر تم بھی انہی کے راستے پر چلتے ہوئے نبی آخر الزمان کی مخالفت کرو گے ان کو تکالیف پہنچائو گے اور ان پر ایمان نہیں لائو گے تو تمہارا انجام بھی قوم لوط سے مختلف نہیں ہوگا افلا تعلقون کیا تم سمجھ نہیں رکھتے۔ تمہاری عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ کافروں ، مشرکوں اور بدکردار لوگوں کا انجام کای ہوتا ہے ؟ ان کو دیکھ کر ہی نصیحت پکڑ لو تو بچ جائو گے وگرنہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہو گے۔
Ayahs 37:139–148ربط آیات
پہلے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا ذکر ہوا ، پھر الیاس (علیہ السلام) کا اور پھر لوط (علیہ السلام) کا۔ یہ سب اللہ کے نبی اور رسول تھے جنہوں نے ایمان اور توحید کی بات لوگوں تک پہنچائی ، مگر لوگوں نے تسلیم نہ کیا بلکہ شدید مخالفت کی اور طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں۔ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں اللہ نے ان کی قوم کو غرق کیا ، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے مخالفین بھی بحر قلزم میں ڈوبے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے قوم کو بعل کی پوجا سے منع کیا۔ وہ بھی باز نہ آئے تو اللہ نے ان پر بھی عذاب بھیجا۔ اللہ نے حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو بستی سے نکال کر باقی لوگوں کو نیست و نابود کردیا۔ ان کی بستیاں الٹ دی گئیں اور اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ یہ سارے واقعات اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب اور بعد میں آنے والوں کے لئے بطور عبرت ذکر کئے ہیں ، اور یاد دلایا ہے کہ اگر تم بھی نافرمانی سے باز نہ آئے اور دعوت حق کو قبول نہ کیا تو تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔
یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ
اب اسی سلسلہ رسالت کی کڑی کے طور پر حضرت یونس (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے و ان یونس لمن المرسلین اور یونس (علیہ السلام) بھی اللہ کے رسولوں میں سے تھے۔ وہ صاحب وحی تھے اور اللہ نے ان پر صحیفہ بھی نازل فرمایا جو کہ بائبل میں صحیفہ یوناہ یا یوناف کے نام پر شامل ہے موجودہ بائبل میں پہلے پانچ باب تورات کے ہیں اور کل انتالیس صحائف دوسرے نبیوں کے ہیں جن میں یونس (علیہ السلام) نبی کا صحیفہ بھی ہے۔ آگے زبور ہے اور آخر میں چار انجیلیں ہیں۔ جس طرح عیسائیوں نے انجیل کو بگاڑ دیا ہے اسی طرح مقدس کتاب کہلانے والی تورات بھی انسانی ہاتھوں کی دست برد سے محفوظ نہیں رہی۔
یونس (علیہ السلام) کا اصل وطن تو شام و فلسطین تھا۔ مگر اللہ نے ان کو عرا ق کے صوبہ موصل میں دریائے فرات کے کنارے واقع مشہور شہر نینوا کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپکا زمانہ مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً ساڑھے آٹھ سو سال قبل کا ہے آپ بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اوالد میں سے ہیں جس میں اللہ نے کم و بیش چار ہزار نبی مبعوث فرمائے۔ نینوا کا شہر ایک متمدن علاقہ تھا جہاں مستقل بادشاہت تھی۔ آپ وہاں عرصہ دراز تک لوگوں کو توحید کی دعتو دیتے رہے مگر لوگوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔ آخر آپ نے اللہ کے حکم سے لوگوں کو وعید سنائی۔ کہ اگر اب بھی ایمان نہیں لائو گے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انتظارکرو۔
یونس (علیہ السلام) کی خطائے اجتہادی
یونس (علیہ السلام) لوگوں کو عذاب کی وعید سنا کر اس بستی سے ازخود نکل گئے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا۔ جیسا کہ سورة الانبیاء میں مذکور ہے۔ فظن ان لن تقدر علیہ (آیت۔ 78) انہوں نے گمان کیا کہ بلا اجازت بستی چھوڑ دینے سے ان پر اللہ کی گرفت نہیں آئے گی۔ یہ آپ کی خطائے اجتہادی تھی ، وگرنہ انہیں خدا تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرنا چاہئے تھا جب حکم ہوتا اس وقت بستی سے نکلتے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس جلد بازی کو بےصبری سے تعبیر کیا ہے جیسا کہ سورة القلم میں حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے فاصبر لحکم ربک ولا تکن کصاحب الحوت (آیت۔ 84) آپ انپے پروردگار کے حکم کے لئے صبر کریں اور مچھلی والے یعنی یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ بن جائیں۔ بہرحال اس واقعہ میں یونس (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ صرف اجتہادی غلطی تھی جس کی بناء پر آپ پر اللہ کی طرف سے گرفت آگئی۔ کسی عام مومن پر تو ایسی معمولی خطا پر پکڑ نہیں ہوتی۔ مگر انبیاء (علیہم السلام) چونکہ اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں اور ان کی تربیت و تہذیب زیادہ مقصود ہوتی ہے ، اس لئے اس قسم کی اجتہائی خطا پر بھی آزمائش میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔
عصمت انبیاء
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اللہ کے کسی نبی سے معمولی لغزش تو ہو سکتی ہے جیسے یونس (علیہ السلام) سے ہوئی مگر ان کو یہ گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے گناہ نہیں سرزد ہوتا۔ اللہ تعالیٰ خود ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر کوئی نبی بالقصد والاختیار گناہ کا مرتکب ہو تو دائرہ نبوت سے ہی خارج ہوجائے گ۔ عصمت انبیاء کی شہادت خود قرآن پاک نے دی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے کذالک لنصرف عنہ السوء والفحشاء انہ من عبادنالمخلصین (یوسف۔ 42) یوسف (علیہ السلام) کو زلیخا کے دام فریب سے بچا کر فرمایا کہ ہم اسی طرح اپنے بندوں کو برائی اور بےحیائی سے دور رکھتے ہیں اور یوسف (علیہ السلام) تو ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے۔ اللہ نے عام نبیوں کے متعلق بھی فرمایا ہے انا اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار (a) وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار (a)
(سورۃ صٓ ) ہم نیان کو آخرت کے گھر کی یاد جیسی خصوصیت سے ممتاز کیا ہے ، اور وہ ہمارے برگزیدہ اور منتخب بندے ہوتے ہیں ، وہ گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) لکھتے ہیں کہ انبیاء چونکہ حقیقی گناہ سے پاک ہوتے ہیں ، اس لئے معمولی لغزش پر ان کی سزا بھی حقیقی نہیں ہوتی بلکہ ان کو صرف جسمانی تکلیف دی جاتی ہے۔ انبیاء (علیہما السلام) حقیقی گناہ اور حقیقی عقوبت
1 ؎ بیان القرآن ص 231 ج 9
سے پاک ہوتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں۔ ” انبیاء (علیہم السلام) درامتثال امر الہی بیہیچ وجہ تقصیر نہ کردہ اند “ یعنی اللہ کے نبی اللہ کے احکام میں کسی طرح بھی کوتاہی نہیں کرتے۔ چناچہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تعفل فما بلغت رسالتہ (المائدہ۔ 76) جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے۔ آپ اسے بلا کم وکاست پہنچا دیں اور اگر آپ نے ذرہ بھر بھی کوتاہی کی تو گویا آپ نے حق رسالت ہی ادا نہیں کیا۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ تو یہ ہے کہ انبیاء کی کسی لغزش کا تذکرہ بھی نہیں کرنا چاہئے جس سے ان کی کمزوری مترشح ہوتی ہو۔ چناچہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں۔ لا یجوز ذکر زلۃ الانبیاء فان زلتھم تو جب کمال الا نابۃ الی اللہ و رفع درجاتھم و من اعترض علی احد من الانبیاء فقد کفر انبیاء (علیہم السلام) کی لغزش کا ذکر کرنا جائز نہیں کیونکہ ان کی لغزشیں کمال انابت الی اللہ اور ان کے رفع درجات کو واجب کرتی ہیں اور جس شخص نے انبیاء (علیہم السلام) میں سے کسی ایک پر بھی اعتراض کیا تو اس نے گویا کفر کیا۔ کیونکہ لا نفرق بین احد من رسلہ (البقرہ۔ 582) ہم اللہ کے رسولوں میں سے کسی ایک کے درمیان بھی فرق نہیں کرتے۔ صحیحین کی روایت میں یہ بھی آتا ہے ما ینبغی لا حد ان یقول انی خیرمن یونس بن متی کہ کسی شخص کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کہے میں یونس ابن متی سے افضل ہوں۔
مولانا مودودی کی غلطی
مسئلہ عصمت انبیاء کی وضاحت اس لئے ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو اس معاملہ میں غلطی ہوئی ہے۔ یہود و نصاریٰ نے تو کبائر تک کی نسبت
1 ؎ مکتوبات شاہ ولی اللہ کلمات طیبات ص 371
2 ؎ مظہری ص 541 ج 8
انبیاء کی طرف کی ہے ، تاہم ہمارے زمانے کے مفسر قرآن مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اس مسئلہ میں سخت غلطی کی ہے جس کی وجہ سے علماء نے ان کا تعاقب کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موالنا مرحوم بڑے ذہین آدمی تھے انہوں نے اپنی زندگی صحافت سے شروع کی اور وہ بہترین صحافی ثابت ہوئے۔ آپ نے انگریزی عربی اور فارسی سے شناسائی پیدا کی اور بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں ، مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ ان کا سارا علم مطالعہ کے زور پر تھا۔ باقاعدہ استادوں کے سامنے زانوئے ادب طے نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ جو شخص کتابیں ، رسالے اور اخبارات پڑھ کر عالم بنا ہو وہ غلطیاں بھی کرے گا۔ تو مودودی صاحب کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ انہوں نے بہت بڑی تفسیر لکھی ہے مگر اس میں غلطیاں بھی کی ہیں۔ اس معاملہ میں علامہ اقبال کی حیثیت مختلف ہے۔ وہ عالم دین تو نہیں تھے بلکہ فلسفہ میں ڈاکٹریٹ (PHD) کیا تھا ، لہٰذا جہاں دینی مسائل درپیش ہوتے وہ علماء کی طرف رجوع کرتے تھے۔ علامہ اقبال نے راہنمائی کے لئے سید سلیمان ندوی (رح) اور مولانا انور شاہ کشمیری (رح) کی طرف خطوط لکھے ، مولانا معین الدین اجمیری (رح) کو مشکوک مسائل کے متعلق خطوط لکھے ، کہا کرتے تھے کہ میں دینی مسائل میں علماء کا محتاج ہوں اور ان کی تحقیق کو سند کا درجہ دیتا ہوں۔ آپ جمعیت علمائے ہند کی بات کو بھی سند مانتے تھے ، باقی سیاسی اور دیگر معاملات میں اپنی صوابدید پر عمل کرتے تھے۔
بہرحال مولانا مودودی کی یونس (علیہ السلام) کے متعلق غلطی یہ ہے کہ آپ نے لکھا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے ان پر ابتلا آئی۔ یہ بات بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ اگر نبی فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے لگے تو وہ تو منصب نبوت کا اہل ہی نہیں رہتا۔ بلا اجازت بستی سے نکل جانا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی اجتہادی غلطی تھی نہ کہ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی۔
بعض لوگوں کو بعض انبیاء کی دعائوں کے الفاظ سے بھی غلط فہمی ہوئی ہے۔ خود یونس (علیہ السلام) نے مذکورہ لغزش سرزد ہوجانے پر دعا کی تھی لا الہ الا انت سبحنک ق انی کنت من الظلمین (الانبیائ۔ 78) اے مولا کریم ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے ، بیشک میں ہی ظالموں میں سے تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ہوگیا۔ تو انہوں نے بھی بارگاہ رب العزت میں یوں دعا کی تھی۔ رب انی ظلمت نفسی فغفرلی فغفرلہ (القصص۔ 61) پروردگار ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ، پس مجھے معاف کر دے تو اللہ نے آپ کو معاف کردیا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی دعا میں بھی یہ لفظ آیا ہے ربنا ظلمنا انفسنا سکتہ و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخسرین (الاعرف۔ 32) اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اور اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا ، اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔
یہ کوئی بالقصد و ارادہ گناہ نہیں تھے بلکہ معمولی لغزشیں تھیں انبیاء نے اپنے منصب کے پیش نظر ان کو بھی ظلم و زیادتی سے تعبیر کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی۔ انبیاء (علیہم السلام) کا اپنی طرف ظلم کی نسبت کرنا مجازی معنی میں ہے۔ نبیوں کی شان چونکہ بلند اور رفیع ہوتی ہے۔ اس لئے معمولی سی غلطی بھی بڑی نظر آتی ہے۔
کشتی میں سواری
بہرحال یونس (علیہ السلام) قوم کو وعید سنا کر بستی سے نکل کھڑے ہوئے اور اللہ کے حکم کا انتظار نہ کیا اور پھر بزعم خود اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عدم گرفت پر محمول کیا۔ اذ ابق الی الفلک المشحون جب کہ وہ بھاگے بھری ہوئی کشتی کی طرف۔ اباق کا معنی ہے غلام کا اپنے آقا سے بھاگ جانا۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو غلام اپنے آقا سے بھاگ جائے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ واپس نہ آجائے۔ بستی سے نکل کر دریا کے کنارے پہنچے اس وقت ایک کشتی مسافروں سے بھری کھڑی تھی۔ جو یافہ سے ترسیس کی طرف جا رہی تھی۔ آپ بھی اس میں سوار ہوگئے۔ قدرت خدا کی اسی ہوئی کہ دریا کے درمیان میں پہنچ کر یہ کشتی رک گئی حالانکہ دوسری کشتیاں بخوبی آ جا رہی تھیں۔ ملاحوں نے خطرے کا اعلان کیا کہ کشتی پر بوجھ زیادہ ہے اور یہ اس حالت میں دریا کو عبور نہیں کرسکتی۔ لہٰذا اس کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ایک آدمی کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ اگر بعض مفسرین نے ایسا ہی لکھا ہے مگر یہ بات قرین قیاس نہیں کیونکہ اگر بوجھ ہلکا کرنا مقصود تھا تو پہلے آدمی کی بجائے سامان کو پھینکا جاتا مگر انہوں نے اپنے دستور کے مطابق یہی گمان کیا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا کوئی غلام سوار ہوگیا ہے جس کی نحوست کی وجہ سے کشتی کے ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسے شخص کو دریا میں پھینک دیا جائے تاکہ باقی مسافروں کی جان بچ جائے۔ مگر یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ وہ کون سا کشتی سوار ہے جو اپنے آقا سے بھاگ کر آیا ہے۔
قرعہ اندازی
آخرکار اہل کشتی نے باہم مشاورت سے طے کیا کہ تمام مسافروں میں قرعہ اندازی کی جائے اور جس شخص کے نام پر قرعہ نکلے اسے دریا برد کردیا جائے ھاھم پس یونس (علیہ السلام) بھی قرعہ اندازی میں شریک ہوئے۔ فکان من المدحضین پس وہی تھے مغلوب ہونے والوں میں یعنی قرعہ انہی کے نام نکلا تاکہ انہیں دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ اندازی میں یونس (علیہ السلام) کی شرکت کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں کہ آپ کی اچھی شکل و صورت دیکھ کر اہل کشتی نے آپ کو کہا کہ آپ قرعہ ڈالیں۔ بہرحال آپ نے بذات خود قرعہ اندازی کی یا دوسروں نے کی بار بار ایسا کرنے پر نام آپ ہی کا نکلا مگر لوگوں کو اعتبار نہیں آ رہا تھا کہ اس شکل و صورت کا نیک آدمی بھاگا ہوا غلام ہو سکتا ہے۔
1 ؎ ابن کثیر ص 02 ج 4
البتہ یونس (علیہ السلام) خود سمجھ گئے کہ اپنے آقا سے بھاگے ہوئے وہی ہیں لہٰذا وہی مجرم ہیں اور انہیں باقی لوگوں کی جان بچانے کی خاطر اپنی جان کی قربانی دے دینی چاہئے۔ چناچہ انہوں نے خود پانی میں چھلانگ لگا دی یا لوگوں نے کشتی سے نیچے پھینک دیا۔ آپ دریا میں پہنچ گئے۔
مچھلی کے پیٹ میں
خدا کی قدرت کہ جہاں آپ پانی میں کودے آگے مچھلی منہ کھولے کھڑی تھی فالتقمہ الحوت پس اس مچھلی نے آپ کو لقمہ بنا لیا یعنی سالم نگل گئی و ھو ملیم اور آپ اس وقت ملامت والے تھے۔ ملیم کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی کارگزاری کی بناء پر ملامت زدہ ٹھہرے یا یہ کہ وہ اپنی لغزش پر خود اپنے آپ کو ملامت کر رہے تھے۔ آپ مچھلی کے پیٹ میں کتنا عرصہ رہے۔ اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ بائبل کی روایت میں سات دن کا ذکر ہے اور بعض تفاسیر میں ایک دن ، تین دن اور چالیس دن کا ذکر بھی آتا ہے۔ اللہ نے فرمایا فلولا انہ کان من المحسنین پس اگر آپ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتے للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون تو دوبارہ اٹھائے جانے تک یعنی قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مجازی معنی مراد ہے کہ اگر تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت سے پہلے دوبارہ اس جہان میں نہ آتے اور بعض کہتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مچھلی کو قیامت تک زندہ رکھتا اور آپ اس کے پیٹ میں ہی محبوس رہتے۔ تسبیح جو آپ نے پڑھی تھی وہ سورة الانبیاء میں مذکور ہے لا الہ انت سبحنک انی کنت من الظلمین
1 ؎ مدارک ص 92 ج 4
2 ؎ ابن کثیر ص 12 ج 4 و قرطبی ص 321 ج 51
3 ؎ معالم التنزیل ص 812 ج 3
الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے ، بیشک میں ہی زیادتی کنے والوں میں ہوں یعنی میں ہی قصور وار ہوں۔ جب آپ نے مچھلی کے پیٹ میں یہ تسبیح بیان کی تو اسے عرش کے اردگرد والے فرشتوں نے سنا اور عرض کیا مولا کریم یہ کمزور اور نحیف سی آواز کس کی آ رہی ہے ؟ اللہ نے فرمایا ، یہ میرے بندے یونس (علیہ السلام) کی تسبیح ہے جو اس وقت سمندر کی تہوں میں مچھلی کے پیٹ میں ہے۔ فرشتوں نے کہا ، کیا وہی یونس (علیہ السلام) جس کے نیک اعمال ہر روز تیری بارگاہ میں پیش ہوتے تھے ؟ فرمایا ، ہاں۔ پھر فرشتوں نے بارگاہ رب العزت میں سفارش کی کہ مولا کریم ! اپنے بندے کو اس مصیبت سے نجات دے۔
ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد موجود ہے دعوۃ المکروب دعوۃ ذی النون یعنی مصیبت زدہ آدمی کی دعا یہی یونس (علیہ السلام) والی دعا ہے۔ جو شخص مصیبت کے وقت یہ دعا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ضرور اس کو قبول کرے گا اور مصیبت سے رہائی عطا کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دعا صرف یونس (علیہ السلام) کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر دعا گو کی مصیبت اس دعا کی برکت سے دور کرے گا۔
پیٹ سے برآمدگی
یونس (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت کے نتیجے میں اللہ نے فرمایا فنبذنہ بالعراء ہم نے ان کو ایک چٹیل میدان میں پھینک دیا و ھو سقیم اور آپ بیمار تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی منشا تھی کہ مچھلی کے پیٹ میں یونس (علیہ السلام) کی ہڈیاں اور گوشت صحیح سلامت رہے البتہ اوپر کی کھال متاثر ہو کر نہایت نرم ہوگئی۔ بالکل اسی طرح جس طرح نومولود بچے کی کھال بالکل نرم و نازک ہوتی ہے۔ آپ کی اسی حالت کو بیماری سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں بھی یونس (علیہ السلام) کی خاص مدد کی اور اپنی قدرت تامہ اور
1 ؎ ترمذی ص 405
اور حکمت بالغہ سے و انبتنا علیہ شجرۃ من یقطین ، ان پر ایک بیل دار درخت اگایا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ کدو کی بیل تھی ، جو آپ پر سایہ فگن ہوگئی۔ عام طور پر یہ بیل زمین پر پڑی پڑی پھیلتی رہتی ہے۔ یا اگر قریب کوئی درخت وغیرہ ہ تو اس پر بھی چڑھ جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جہاں مچھلی نے آپ کو اگل دیا تھا وہاں کوئی خشک درخت یا جھاڑ یوغیرہ ہو جس پر بیل چڑھ گئی ہو اور آپ کے نرم و نازک جسم پر سایہ کردیا ہو۔
ماہرین طب کہتے ہیں کہ تمام مرطوب سبزیاں انسانی حافظے کو کمزور کرتی ہیں مگر کدو میں اللہ نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ مرطوب ہونے کے باوجود ذہن عقل اور دماغ کو تازگی بخشتی ہے۔ حضور ﷺ کدو کا سالن بڑے شوق سے تناول فرماتے تھے اس بیل کے پتے بڑے بڑے اور نازک ہوتے ہیں۔ مگر ان کی خصوصیت یہ ہے کہ ان پر مکھی نہیں بیٹھتی۔ چناچہ کدو کی یہ بیل یونس (علیہ السلام) کی نازک کھال کے لئے مزید آرام و آسائش کا ذریعہ بنی۔ پھر آپ کی خوراک کے لئے اللہ نے ایک ہرنی کو بھیج دیا جس کا دودھ آپ پی لیتے تھے۔ پھر جب آپ تندرست ہوگئے تو اللہ نے واپس اپنی بستی کی طرف جانے کا حکم دیا اور آپ نے تعمیل حکم کی۔
بستی میں واپسی
جب یونس (علیہ السلام) اہل بستی کو عذاب کی وعید سنا کر چلے گئے تو پیچھے عذاب کے آثار نظر آنے لگے جس سے اہل بستی سخت خوفزدہ ہوئے ، وہ سب کے سب گھروں سے باہر میدان میں آ کر توبہ استغفار اور چیخ و پکار کنے لگے۔ انہوں نے یونس (علیہ السلام) کی تلاش بھی شروع کردی تاکہ ان کو ساتھ لے کر اللہ سے معافی مانگیں بہرحال جب قوم تائب ہوگئی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی اور ان سے آنے والا عذاب ٹال دیا۔ پھر جب یونس (علیہ السلام) تندرست ہو کر اللہ کے حکم سے قوم میں واپس آئے تو لوگوں نے… خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ سورة یونس میں موجود ہے۔ فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس (آیت۔ 89) یہ انسانی تاریخ کا منفرد واقعہ ہے کہ کسی قوم پر عذاب نمودار ہونے کے بعد اس کو نجات مل گئی ہو یہ صرف قوم یونس (علیہ السلام) ہے۔
یونس (علیہ السلام) کی واپسی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا و ارسلنہ الی مئتہ الف او یزیدون ہم نے ان کو ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔ اس سے وہی آپ کی بستی مراد ہے جس کی آبادی اتنی تھی۔ ترمذی شریف میں ایک لاکھ بیس 000 ، 021 ہزار کا ذکر آتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ بالغ مردوزن تو ایک لاکھ تھے اور باقی بیس ہزار بچے بھی تھے۔ فرمایا فامنوا وہ لوگ ایمان لے آئے ، کفر و شرک اور برائی سے باز آگئے فمتعھم الی حین تو ہم نے ان کو ایک مقررہ وقت تک فائدہ پہنچایا۔ جب تک وہ لوگ ایماندار رہے اللہ کی طرف سے انہیں آرام و راحت بھی ملتا رہا۔ پھر جب زمانہ بدل گیا اور وہ پھر اپنی پرانی روش پر آگئے تو اللہ نے ان پر انعام و اکرام کا دروازہ پھر بند کردیا۔
1 ؎ ترمذی ص و مظہری ص 241 ج 8