37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 37:75–98

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق پکارا ہم کو نوح (علیہ السلام) نے پس ہم بہت اچھی طرح اس کی دعا کو قبول کرنے والے ہیں

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ سے

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور کردیا ہم نے اس کی اولاد کو وہی باقی رہنے والے

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور چھوڑا ہم نے اس کے اوپر پچھلوں میں

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

سلام ہے نوح (علیہ السلام) پر جہان والوں میں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے نیک بندوں میں سے ہے

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ہم نے غرق کیا دوسروں کو

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور بیشک اسی کے گروہ میں سے البتہ ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہیں

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب کہ وہ آئے اپنے پروردگار کے پاس سالم دل لے کر

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب کہا اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہ تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا جھوٹے الہ بناتے ہوئے اللہ کے سوا دوسروں کو تم چاہتے ہو

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

پس کیا گمان ہے تمہارا رب العلمین کے بارے میں

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر نگاہ کی انہوں نے ایک نگاہ ستاروں میں

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پس کہا انہوں نے کہ میں بیمار ہوں

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پس پھرگئے وہ لوگ ان سے پشت پھیر کر

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پس (موقع پا کر) جالگے وہ ان کے معبودوں کے پاس ، پس کہنے لگے کیا تم کھاتے نہیں

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

کیا ہے کہ تم بولتے نہیں

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر گھس گئے ان پر مارتے ہوئے داہنے ہاتھ کے ساتھ

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پس متوجہ ہوئے لوگ اس کی طرف دوڑتے (گھبراتے) ہوئے

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

گویا کیا تم عبادت کرتے ہو ان کی جن کو تم تراشتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

کہا انہوں نے بنائو اس کے لیے ایک عمارت اور ڈالو اس کو بھڑکتی ہوئی آگ میں

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

پس ارادہ کیا انہوں نے اس کے بارے میں بری تدبیر کا پس کردیا ہم نے ان کو ہی پست

نوح (علیہ السلام) کی دعا سورۃ الصفت میں زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ اس سے پہلے توحید باری تعالیٰ اور مشرکوں کا رد ہوچکا ہے۔ اب رسالت کے سلسلہ میں نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کمو لمبے عرصہ تک ایمان اور توحید کی دعوت دی مگر وہ کفر و شرک پر اڑے رہے اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے رہے۔ بالاخر آپ نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی پروردگار ! انی مغلوب فانتصر (القمر 10) میں تو مغلوب ہوچکا ہوں میری مدد فرما اور ان لوگوں سے میرا بدلہ لے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی دعا کا تذکرہ اس طرح فرمایا ہے ولقد نادنا نوح اور البتہ تحقیق نوح (علیہ السلام) نے ہم کو پکارا ، آواز دی فلنعم للجیبون پس ہم کیا خوب ہیں ان کی دعا کو قبول کرنے والے۔ مطلب یہ کہ جب نوح (علیہ السلام) نے ہمیں مدد کے لیے پکارا تو ہم نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں کی۔ نوح (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ قوم کی اصلاح کی اب کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا اس قوم سے انتقام لے۔ اس مقام پر نوح (علیہ السلام) کی دعا کی تفصیل نہیں ہے اور نہ ہی اس کی قبولیت کے نتیجے کا ذکر ہے۔ سورة نوح میں موجود ہے رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا (آیت 26) پروردگار ! روئے زمین پر کسی ایک کافر کو بھی زندہ نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑ دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور آگے ان کی اولاد بھی بدکار اور ناشکرگزار ہی ہوگی۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور اس کے ساتھ کشتی میں سوار لوگوں کو بچا لیا ثم اغرقنا بعد البقین (الشعرا 120) اور اس کے بعد باقی لوگوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ اس مقام پر بھی فرمایا ہے ونجینہ واھلہ من الکرب العظیم ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بہت بڑی گھبراہٹ اور بےچینی سے نجات دی۔ اس کی صورت یہی تھی کہ باقی ساری نافرمان قوم کو طوفان میں غرق کردیا۔ یہ دراصل حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون بیان کیا جارہا ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی طرح حضور خاتم النبیین ﷺ کی قوم نے بھی آپ کو اور اہل ایمان کو سخت تکالیف پہنچائیں جس کی وجہ سے آپ سخت پریشان رہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی ایذا رسانیوں کا ذکر کرکے آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ دل برداشتہ نہ ہوں ، ہر نبی کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا مگر بالاخر اللہ نے ان کی مدد فرمائی اور نافرمان قوم پر غالب فرمایا۔ نس انسانی کی بقا کا ذریعہ ساری قوم کی غرقابی کے بعد اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی بقاء کے ضمن میں فرمایا وجعلنا ذریۃ ھم البقین ہم نے نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو ہی باقی رہنے والی بنایا۔ پوری روئے زمین کے لوگ طوفان نوح میں غرق ہوگئے اور صرف وہی محدود تعداد میں لوگ زندہ بچے تھے جو کشتی پر سوار ہوگئے تھے ، چناچہ نسل انسانی کا سلسلہ انہی کشتی والوں میں سے ہی آگے چلا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت ہے کہ کشتی والوں میں سے بھی صرف نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں حام ، سام اور یافث کی اولاد ہی آگے چل سکی۔ اس لحاظ سے نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ ترمذی شریف اور مسند احمد کی روایت (ابن کثیر ص 12 ج 4 و مظہری ص 120 ج 8 و خازن ص 24 ج 6 و روح المعانی ص 98 ج 23) میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا عرب نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں سے ہیں حبشی حام کی اولاد اور رومی یافث کی اولاد ہیں۔ ایک دوسری روایت کے مطابق عرب ، فارس اور روم والے سام کی اولاد ہیں ، یاجوج ماجوج ترک اور منگول یافث کی اور قبطی اور سوڈانی حام کی اولاد ہیں۔ بہرحال موجودہ پوری نسل انسانی نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے۔ فرمایا وترزکنا علیہ فی الاخرین اور ہم نے پیچھنے آنے والوں میں نوح (علیہ السلام) کا ذکر چھوڑ دیا۔ آپ کی نسل کے لوگ آپ کے بعد یہی کہیں گے سلم علی نوح فی العلمین سارے جہان والوں میں نوح (علیہ السلام) پر سلامتی ہو ، مختلف نسلوں کے لوگ آپ پر سلام بھیجتے ہیں کہ آپ اللہ کے نہایت ہی برگزیدہ بندے تھے جنہوں نے لمبے عرصے تک خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچایا اور اس سلسلے میں بڑی تکالیف اٹھائیں۔ فرمایا انا کذلک نجزی المحسنین ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو۔ انہ من عبادنا المومنین نوح (علیہ السلام) ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہیں۔ آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے۔ فرمایا ہم نے آپ کو اور آپ کمے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو تو بچا لیا ثم اغرقنا الاخرین پھر دوسروں کو ہم نے پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تسلی کے لیے اختصار کے ساتھ یہ مضمون بیان کردیا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) اور قلب سلیم نوح (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے۔ وان من شیعۃ لا برھیم (بےشک انہی ( نوح علیہ السلام) کے گروہ میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی ہیں۔ آپ بھی انہی کے خاندان سے اور انہی کی راہ پر چلنے والے ہیں۔ اذ جاء ربہ بقلب سلیم جب آئے آپ اپنے پروردگار کے پاس سلیم دل لے کر۔ سلیم دل سے مراد ایسا سلامتی والا دل ہے جو ہر قسم کی بدعقیدگی ، فاسدنیت اور غیر اخلاقی اشیاء سے پاک ہو۔ بعض کہتے ہیں قلب سلیم وہ ہے جو شرک ، کفر ، نفاق ، حسد ، کینہ ، جھوٹ اور حب مال و جاہ سے پاک مگر توحید اور ایمان کے ساتھ لبریز ہو اور تمام اخلاق حسنہ اس میں پائے جائیں۔ بعض فرماتے (روح المعانی ص 100 ج 23 و مدارک ص 23 ج 4 و قرطبی ص 91 ج 15 و طبری ص 69 ج 23 و کبیر ص 146 ج 26) ہیں کہ قلب سلیم کا شرک سے پاک ہونا ضروری ہے کیونکہ اس میں توحید کے علاوہ شرک کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئے۔ اسی طرح بدعت سے پاک ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ بدعت سنت کے خلاف چیز ہے۔ شہوت سے لبریز دل بھی قانون الٰہی کے خلاف ہوتے ہیں لہٰذا قلب کو شہوت سے بھی منزہ ہونا چاہئے۔ جو دل قانون الٰہی یعنی شریعت کے خلاف ہوگا وہ قلب سلیم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح قلب سلیم کا غفلت سے پاک ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ غفلت یاد الٰہی کے خلاف عنصر ہے۔ اسی طرح خواہشات کا غلام دل بھی قلب سلیم کہلانے کا حقدار نہیں ہوسکتا کیونکہ خواہشات سے لبریز دل حقیقت کو نہیں پاسکتا۔ غرضیکہ فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قلب سلیم لے کر اپنے پروردگار کے پاس آئے۔ قلب سلیم کا ذکر سورة الشعراء میں بھی موجود ہے۔ وہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے الفاظ ہیں کہ مولا کریم ! قیامت والے دن مجھے رسوا نہ کرنا ، وہ دن کہ جب نہ مال کچھ فائدہ دے گا اور نہ بیٹے الا من اتی اللہ بقلب سلیم (آیت 89) البتہ وہ شخص بچ جائے گا جو اپنے اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر آیا۔ الغرض ! فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) تمام قسم کی آلائشوں سے پاک دل لے کر رب العزت کے پاس آئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا درس توحید آگے اللہ نے قلب سلیم رکھنے والے ابراہیم (علیہ السلام) کے درس توحید کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام توحید اپنی قوم تک عقلی دلائل کے ساتھ پہنچایا۔ ارشاد ہوتا ہے اذ قال لابیہ وقومہ ما ذا تعبدون جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کن چیزوں کی عبادت کرتے ہو ؟ سورة الانعام میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام آزر ذکر کیا گیا ہے واذ قال ابراہیم لابیہ اذر اتتخذ اصنالھا الھۃ (آیت 75) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا۔ تاریخ میں آپ کا نام تارخ بھی آیا ہے اس بناء پر بعض کہتے ہیں کہ تارخ باپ اور آزر چچا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ آزر تو قرآن نے بیان کردیا اور تارخ البتہ لقب تھا۔ بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ تم کن چیزوں کی پوجا کرتے ہو ؟ ایفھا الھۃ دون اللہ تریدون کیا اللہ کے سوا تم جھوٹ موٹ کے بنائے ہوئے معبودوں کو چاہتے ہو ؟ یہ پتھر ، دھات اور لکڑی کی مورتیاں جنہیں تم اپنے ہاتھ سے گھڑتے ہو ، انہی کی پوجا کرنے لگتے ہو ، تم نے ستاروں ، فرشتوں اور جنات کے نام پر بت تراش رکھے ہیں ، کیا تم ان کو اپنا معبود سمجھتے ہو ؟ بھلا یہ تو بتائو فما ظنکم برب العلمین تمام جہانوں کے پروردگار کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے تم اس حقیقی معبود کی تو عبادت کرتے نہیں اور اس کی بجائے ان خود ساختہ جھوٹی چیزوں کو معبود بنا رکھا ہے ، یہ کون سی عقل مندی کی بات ہے ؟ اگلی آیات میں اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی بت شکنی کا واقعہ نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا۔ اس کی تفصیلات سورة الانبیاء میں بھی مذکور ہیں۔ آپ نے اپنے باپ اور قوم سے فرمایا کہ یہ کیسی مورتیاں ہیں جن پر تم جھکے پڑتے ہو یعنی ان کی عبادت کرتے ہو ، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔ کچھ سوال و جواب کے بعد آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے بتوں کی ضرور تدبیر کروں گا جب کہ تم پشت پھیر کر جائو گے۔ چناچہ ایک دن ایسا آیا کہ ساری قوم شہر سے باہر کوئی تہوار منانے کے لیے جا رہی تھی انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی شریک ہونے کی دعوت دی۔ آپ ان کے ساتھ جانا نہیں چاہتے تھے چناچہ اللہ نے اس مقام پر اس حلیہ کا ذکر کیا ہے جو آپ نے اس ضمن میں اختیار کیا۔ فنظر نظرۃ فی النجوم انہوں نے ستاروں کی طرف نظر ڈالی فقال انی سقیم پس کہا کہ میں بیمار ہوں فتولوا عنہ مدبرین پھر وہ لوگ آپ سے پشت پھیر کر چلے گئے۔ یعنی آپ کو تہوار میں ساتھ لے جانے پر اصرار نہ کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے کا دور صابی دور کہلاتا ہے اس دور میں ستاروں کے ساتھ لوگوں کا خصوصی تعلق ہوتا تھا۔ چناچہ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اس دور میں متعین ہونے والی شرائع میں کسی حد تک ستاروں کا بھی دخل ہوتا تھا۔ پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) کا حنیفی دور آیا تو ستاروں کے ساتھ تعلق کو سختی کے ساتھ منقطع کردیا گیا۔ قوم ابراہیم (علیہ السلام) بھی ستاروں میں کرشمہ مانتی تھی ، لہٰذا انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ستاروں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے سے یہ مطلب اخذ کیا کہ آپ بھی ستاروں کی کرشمہ سازی کے قائل ہیں ، لہٰذا وہ آپ کو چھوڑ کر تہوار منانے کے لیے چلے گئے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بتوں کی مرمت کرنے کا موقع میسر آگیا۔ کذب ثلاثہ بخاری اور ترمذی شریف کی روایت (ابن کثیر ص 13 ج 4 و مظہری ص 123 ج 8 و قرطبی ص 93 ج 15) میں آتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کذب بیانی نہیں کی مگر تین مواقع پر۔ پہلا موقع تو یہی ہے جب آپ نے کہا کہ میں بیمار ہوں حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے ، دوسرا موقع وہ ہے جب آپ نے بتوں کو پاش پاش کردیا تو کافروں نے دریافت کرنے پر آپ نے فرمایا بل فعلہ کبیرھم ھذا (الانبیاء 63) یعنی یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے جس کے کندھے پر کلہاڑا رکھا تھا۔ حالانکہ یہ کام خود ابراہیم (علیہ السلام) نے انجام دیا تھا اور تیسرا موقع وہ جب آپ بابل سے ہجرت کرکے اپنی بیوی سارہ ؓ کے ہمراہ مصرف پہنچے۔ وہاں پر بادشاہ مصر کی بدنیتی کا علم ہوا تو آپ نے اپنی بیوی کو اختی (میری بہن) کہہ دیا۔ اس قسم کا ذومعنی کلام دراصل جھوٹ نہیں ہوتا بلکہ عربی زبان میں اسے توریہ کہتے ہیں یعنی بوقت ضرورت ایسا کلام کیا جائے جس سے متکلم کی مراد کچھ اور ہو اور مخاطب اس سے کچھ اور معنی لے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا انی سقیم یعنی میں بیمار ہوں حالانکہ جسمانی طور پر آپ تندرست تھے۔ دراصل ان الفاظ سے آپ کی مراد یہ تھی کہ تمہارا کفر اور شرک دیکھ کر میں ذہنی طور پر بیمار ہوں کہ مجھے کفر و شرک سے سخت تکلیف پہنچتی ہے ، مگر لوگ سمجھے کہ آپ کو کوئی جسمانی عارضہ ہے جس کی وجہ سے آپ ان کے ساتھ جانے سے معذور ہیں۔ جہاں تک بت شکنی کو بڑے بت کی طرف منسوب کرنے کا تعلق ہے تو اس سے ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد کفار کو غور و فکر کرکے توحید کی دعوت دینا تھا ، آپ نے کہا تھا کہ ان کو ان کے بڑے نے توڑا ہے مگر وہ خود جانتے تھے کہ ان بتوں میں تو حس و حرکت ہی نہیں ہے۔ بھلا یہ کام بت کیسے کرسکتا ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو یہی سمجھانا مقصود تھا کہ جو بت نہ تو خود توڑ پھوڑ کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے دفاع پر قادر ہیں وہ معبود کیسے ہوسکتے ہیں ؟ رہی تیسری بات کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بیوی سارہ کو کہا تو یہ بھی حفظ ما تقدم کے طور پر آپ نے توریہ کہا تھا۔ آپ نے اپنی بیوی کو سمجھا دیا تھا کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو میاں بیوی ظاہر کیا تو یہ ظالم بادشاہ مجھے قتل کرادے گا اور تم پر تسلط قائم کرلے گا۔ لہٰذا خیریت اسی میں ہے کہ اپنے آپ کو بہن بھائی ظاہر کیا جائے۔ ویسے بھی اس سرزمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے اور انما المومنون اخوۃ (الحجرات 10) مومن آپس میں بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ الغرض ! جان بچانے کے لیے آپ نے یہ حیلہ اختیار کیا۔ اس قسم کے بعض واقعات خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی پیش آئے تھے۔ حضور ﷺ اور حضرت صدیق اکبر ؓ سفر ہجرت پر جا رہے تھے راستے میں ایک شخص (روح المعانی ص 101 ج 23) نے حضور ﷺ سے حضرت ابوبکر ؓ کے متعلق دریافت کیا ممن الرجل یعنی یہ شخص کن لوگوں میں سے ہے تو آپ نے جواب دیا من الماء پانی سے۔ وہ شخص سمجھا کہ پچھلی پانی والی آبادی کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ وہاں سے ہے اسی طرح راستے میں ایک دوسرے شخص نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کہ پہچان لیا اور پوچھا کہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے بھی توریہ کے انداز میں جواب دیا ھو رجل یھدینی السبیل وہ ایک شخص ہے جو راستے میں میری راہنمائی کرتا ہے۔ وہ آدمی سمجھا کہ سفر میں راستہ معلوم کرنے کے لیے گائیڈ (واقف کار) کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں ، حالانکہ حضرت صدیق ؓ کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص مجھے ہدایت کا راستہ بتلانے والا ہے۔ بہرحال جب سب لوگ تہوار منانے کے لیے شہر سے باہر چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) کو بتوں کی مرمت کرنے کا وہ موقع میسر آگیا جس کی تلاش میں آپ تھے۔ فراغ الی الھتھم پھر آپ موقع پا کر بتوں کے پاس گئے ان کے سامنے نذر و نیاز کی مٹھائی ، کھانا اور شربت وغیرہ رکھا ہوا تھا۔ فقال الا تاکلون آپ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا تم کھاتے کیوں نہیں ؟ بھلا پتھر کے وہ بےجان بت کھاتے کیا اور جواب کیا دیتے۔ آپ نے پھر پوچھا مالکم لا تنطقون کیا ہے تمہیں کہ تم بولتے نہیں ؟ جب کوئی جواب نہ ملا تو آپ نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے فراغ علیہم ضربا بالیمین آپ دائیں ہاتھ سے مارتے ہوئے ان پر بل پڑے۔ آپ کے ہاتھ میں ہتھوڑا تھا جسے پوری قوت سے چلا کر بتوں کو توڑ پھوڑ دیا۔ صرف بڑے بت کو چھوڑا اور اس کے گلے میں کلہاڑا لٹکا دیا ، پھر آپ وہاں سے چلے آئے۔ کفار کا ردعمل جب وہ لوگ تہوار مناکر واپس آئے تو بتوں کی یہ حالت دیکھ کر سخت پریشان ہوئے۔ اس مقام پر تفصیلات نہیں ہیں صرف اس قدر ہے فاقبلوا الیہ یزفون وہ لوگ آپ کے پاس گھبراہٹ کے عالم میں دوڑتے ہوئے آئے۔ سورة الانبیاء میں اس واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جب کفار نے اپنے بتوں کو شکستہ حالت میں دیکھا تو ایک دوسرے سے پوچھا کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے ؟ ان میں سے بعض نے کہا کہ ابراہیم نامی نوجوان ان کا ذکر کیا کرتا تھا ، ہوسکتا ہے کہ یہ اسی کا کام ہو ، پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو بلا کر پوچھا گیا کہ کیا یہ کارروائی تم نے کی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو اس بڑے بت کا کام معلوم ہوتا ہے جس کے کاندھے پر کلہاڑا بھی لٹک رہا ہے ، تاہم آپ ان شکستہ بتوں سے پوچھ لیں اگر یہ بول کر بتاسکیں۔ پھر انہوں نے آپس میں میٹنگ کی اور کہنے لگے سچی بات تو یہ ہے کہ یہ بت تو بولتے ہیں نہیں ، یہ ہمیں کیا بتائیں گے ؟ اسی موقع پر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور پوچھا ، کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے کسی نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ افسوس ہے تم پر بھی اور تمہارے ان معبودوں پر بھی جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ جب ان کافروں سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلادینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس مقام پر صرف اس قدر بیان کیا گیا ہے کہ بتوں کی حالت دیکھ کر وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس دوڑتے ہوئے آئے۔ آپ کی ساتھ گفت و شنید ہوئی تو آپ نے فرمایا قال اتعبدون ما تختون کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جن کو خود تراشتے ہو ؟ انسان کی اس قدر گراوٹ انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک چیز کو خود ہی گھڑے اور پھر اسی کے سامنے سربسجود ہوجائے۔ یہ مورتیاں خواہ جنوں کی ہوں یا فرشتوں کی ، انسانوں کی ہوں یا ستاروں کی ، کسی کو اختیار نہیں ہے جو کسی کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکے۔ معبود تو وہی ہوسکتا ہے جو علیم کل ، قادر مطلق ، خالق اور واجب الوجود ہو۔ جب یہ صفات صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں تو پھر کوئی دوسری ہستی معبود کیسے ہوسکتی ہے ؟ برصغیر میں ہندو بھی بت پرست ہیں جن کے لاکھوں اور کروڑوں معبود ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے خود اپنے مذہب کے متعلق لکھا ہے کہ یہ اشنان ، بودیاں ، نشانات اور تقریبات بےمعنی چیزیں ہیں کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ہمارے معبود جاپان اور انگلستان کی فیکٹریوں میں تیار ہوجاتے ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں۔ غرضیکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو باور کرایا کہ تم بتوں کو خود تراش کر ان کی عبادت کرتے ہو واللہ خلقکم وما تعملون حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو۔ انسان کوئی بھی کام کرے ہر چیز کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انسان اللہ کے عطا کردہ اختیار اور صلاحیت کے ساتھ ہی ہر کام کرتا ہے ، وگرنہ تخلیق کی صفت تو کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو جلانے کی کوشش دلائل کے لحاظ سے تو کافر لوگ لاجواب ہوچکے ہیں۔ کہنے لگے یہ ہمارے معبودوں کی توہین کا مرتکب ہوا ہے جو کہتا ہے کہ ان کو کوئی اختیار نہیں اور یہ ہاتھوں کی تراشیدہ مورتیاں ہیں۔ لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) کو سخت سزا ملنی چاہئے۔ قالوا بنو الہ بنیانا کہنے لگے اس کے لیے ایک بہت بڑی عمارت تیار کرو ، اس میں آگ جلائو اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ایک بہت بڑے حصہ زمین پر دنیا کی سب سے بڑی آگ جلائی گئی پھر کہنے لگے فالقوہ فی الحجیم اس کو بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دو ۔ اس مقام پر تو اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاہم سورة الانبیاء میں ہے قالوا حرقوہ وانصروا الھتکم ان کنتم فعلین (آیت 68) اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلا دو اور اس طرح اپنے معبودوں کی مدد کرو جن کی یہ مذمت بیان کرتا ہے۔ بالاخر انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو منجیق کے ذریعے بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا مگر اللہ نے فرمایا قلنا ینار کونی بردا و سلما علی ابراہیم (الانبیاء 69) اے آگ ! ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ سورة العنکبوب میں ہے فانجہ اللہ من النار (آیت 24) اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آگ سے بچا لیا اور کافر اپنی اس تدبیر میں بھی ناکام و نامراد ہوئے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ایک بال تک نہ جلایا۔ البتہ جس رسی سے باندھ کر آپ کو آگ میں پھینکا گیا تھا وہ رسی جل کر خاک ہوگئی۔ اللہ نے فرمایا فارا دوابہ کیدا انہوں نے ایک تدبیر کا ارادہ کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو ختم کرنا چاہا مگر ہم نے انہیں ہر امتحان میں کامیاب کرکے فجعلنھم الاسفلین انہی کو ذلیل و خوار اور پست کردیا۔ وہ اپنے ارادے میں بری طرح ناکام رہے۔
Ayahs 37:99–113

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور کہا (ابراہیم (علیہ السلام) نے) تحقیق میں جاتا ہوں اپنے پروردگار کی طرف ، وہ مجھے راہ دکھائے گا

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے پروردگار ! بخش دے مجھے نیکوں میں سے (کوئی بیٹا)

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

پس ہم نے بشارت دی اس کو ایک لڑکے کی جو نہایت بردبار تھا

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پس جب پہنچا اس کے ساتھ تگ و دو کی عمر کو تو اس نے کہا ، اے بیٹے ! بیشک میں دیکھتا ہوں خواب کہ میں تجھے ذبح کرتا ہوں۔ دیکھو ! تم کیا خیال رکھتے ہو ، کہا (بیٹے نے) اے باپ ! آپ کرڈالیں جس چیز کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔ آپ پائیں گے مجھے اگر اللہ نے چاہا ، صبر کرنے والوں میں سے

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب وہ دونوں مطیع ہوگئے (اللہ کے حکم کے) اور گرا دیا اس کو پیشانی کے بل

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے ا س کو آواز دی اے ابراہیم !

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تحقیق تو نے سچ کر دکھایا خواب ، بیشک ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہ بات البتہ صریح آزمائش ہے

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور ہم نے فدیہ دیا اس کو ذبح کرنے کے ایک عظیم جانور کا

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور ہم نے چھوڑا اس پر پچھلوں میں

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

(اس بات کو) کہ سلامتی ہو ابراہیم پر

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

بیشک وہ ہمارے ایماندار بندوں میں سے ہے

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور ہم نے بشارت دی اس کو اسحاق (بیٹے) کی جو اللہ کا نبی اور نیکوں میں سے تھا

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور برکت نازل کی ہم نے اس پر اور اسحاق پر اور ان دونوں کی اولاد میں سے نیکی کرنے والے ہیں اور کچھ ظلم کرنے والے ہیں اپنے نفس پر صریح طور پر

ربط آیات پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال ذکر ہوا۔ آپ لمبے عرصے تک قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے رہے اور ان کو کفر و شرک کی برائیوں سے آگاہ کرتے رہے مگر قوم نہ مانی بلکہ اللہ کے نبی کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جسے اللہ نے کرب عظیم سے تعبیر کیا ہے آخر تنگ آکر نوح (علیہ السلام) نے قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی میں ڈبو کر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ صرف وہی لوگ بچے جو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار ہوگئے تھے اور پھر انہی میں سے اللہ نے نسل انسانی کو آگے چلایا۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے حالات بیان ہوئے آپ نے قوم کو خطاب کرکے فرمایا کہ کتنی بیوقوفی اور حماقت کی بات ہے کہ تم خود ہی اپنے ہاتھوں سے بت تراشتے ہو اور خود ہی ان کی پوجا کرنے لگتے ہو حالانکہ خالق اللہ رب العالمین ہے جو تمہیں بھی پیدا کرتا ہے اور تمہارے اعمال واکساب کو بھی وہی تخلیق کرتا ہے۔ اسکے جواب میں قوم نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کمے لیے ایک بہت بڑا آگ کا آلائو تیار کرو۔ جس میں انہیں زندہ جلا دو کیونکہ یہ ہمیں ہمارے آبائو اجداد کے مسلک سے ہٹانا چاہتا ہے۔ چناچہ دنیا کی عظیم ترین آگ جلا کر ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں پھینک دیا گیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے محفوظ رکھ کر ان کی ساری تدبیر کو ناکام بنا دیا اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔ اس سے قبل ابراہیم (علیہ السلام) کو بابل میں سات برس تک قید میں رکھا گیا۔ آگ سے بچ نکلنے کے بعد آپ متواتر اللہ کا پیغام سناتے رہے مگر کوئی بھی ایمان نہ لایا ، جیسا کہ سورة عنکبوت میں گزرچکا ہے۔ صرف آپ کی بیوی سارہ ؓ اور بھتیجے لوط (علیہ السلام) آپ پر ایمان لائے ، باقی ساری قوم کفر اور شرک میں پھنسی رہی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت بالاخر جب قوم کی طرف سے ایذا رسانیاں حد سے بڑھ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بابل سے ہجرت کر جانے کا حکم دے دیا۔ نبیوں ک یزندگی میں ہجرت بھی ایک مشکل موڑ آتا ہے۔ گھر بار ، وطن کاروبار سب کچھ اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑنا پڑتا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے بھی یہ وقت آ چکا تھا۔ وقال انی ذاب الی ربی آپ نے کہا تحقیق میں اپنے پروردگار کی طرف یعنی اس کے حکم ک یمطابق یہاں سے جانے والا ہوں سیھدین اس راستے میں وہی میری راہنمائی فرمائے گا۔ میں جس مالک الملک کے حکم سے نقل مکانی کر رہا ہوں ، وہ ضرور مجھے ٹھکانے پر لگائے گا۔ چناچہ آپ کے لئے حکم ہوا کہ آپ بابل کی سرزمین کو چھوڑ کر ملک شام اور فلسطین کی طرف چل دیں۔ آپ تعمیل حکم میں بیوی اور بھتیجے کے ہمراہ نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے مصر پہنچے۔ پہلے تو بادشاہ نے آپ کی بیوی حضرت سارہ ؓ کو ہتھیانا چاہا مگر پھر اس نے حضرت ہاجرہ ؓ کو بھی آپ کے ہمراہ کردیا اور اس طرح آپ ملک فلسطین میں آ کر آباد ہوگئے۔ بیٹے کے لئے دعا شادی کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر 73 سال تھی۔ مگر طویل عرصہ تک آپ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اب آپ کی عمر مبارک اسی 08 سال ہوچکی تھی تو اس وقت آپ نے اپنے پروردگار کے سامنے درخواست کی رب ھب لی من الصلحین کہ مولا کریم ! مجھے نیکوں میں سے بیٹا عطا کر دے۔ آپ اس وقت تک حضرت ہاجرہ ؓ سے نکاح کرچکے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا فبشرنہ بغلم حلیم ہم نے آپ کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ اس بردبار بیٹے سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) مراد ہیں کہ آپ کی اولاد میں سے سب سے پہلے انہی کی ولادت ہوئی۔ آپ کے دوسرے بیٹے حضرت سارہ ؓ کے بطن سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ بہرحال یہاں پر بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کی بشارت کا ذکر ہے ، جو بڑے حوصلے اور تحمل والے تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا خواب فلما بلغ معہ السعی جب یہ بچہ تگ و دو کی عمر کو پہنچ گیا سعی کا معنی دوڑنا ہوتا ہے جیسے صفا ومروہ کی سعی ہوتی ہے کہ وہاں کچھ فاصلہ دوڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ تو مطلب یہ کہ جب حضرت اسماعیل بھاگنے دوڑنے کی عمر کو پہنچ گئے۔ آپ کی عمر بارہ تیرہ سال ہوگئی اور آپ اپنے باپ کے ساتھ فضل و کمال کے کام کرنے کے قابل ہوگئے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے خواب دیکھا جس کا تذکرہ بیٹے کے سامنے اس طرح کیا قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک بیٹا ! بیشک میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ فانظر ماذا تریٰ دیکھو ! تمہارا اس معاملہ میں کیا خیال ہے ؟ ذرا سوچ کر بتائو کہ تم اس خواب کو کیسا پاتے ہو۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ خواب بار بار آ رہا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اور اس حکم کی تعمیل کا تقاضا کیا جا رہا تھا۔ خواب کی حقیقت نبی کے خواب اور عام لوگوں کے خواب میں فرق ہوتا ہے۔ عام لوگوں کے خواب تین اقسام کے ہوتے ہیں۔ یعنی رحمانی ، شیطانی اور نفسانی رحمانی خواب مومن کے حق میں بشارت ہوتی ہے۔ شیطانی خواب شیطان کے اثر سے ہوتے ہیں اور نفسانی خواب وہ ہوتے ہیں جو انسانی خوراک کے اثرات پر مرتب ہوتے ہیں۔ مگر نبیوں کا خواب وحی ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کوئی حکم خواب کے ذریعے بھی دیتا ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ نبوت ملنے سے چھ ماہ قبل تک جو خواب حضور ﷺ کو آتے تھے ، وہ سچے ہوتے تھے اور ان کا نتیجہ روز روشن کی طرح سامنے آجاتا تھا۔ پھر اس کے بعد نزول وحی شروع ہوگیا۔ قرآن پاک میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس کی تعمبیر اگرچہ طویل عرصہ کے بعد جا کر نکلی مگر وہ حرف بہ حرف صحیح تھا۔ اسی طرح حضور ﷺ نے بھی خواب دیکھا تھا کہ آپ طواف کر رہے ہیں۔ آپ کا خیال تھا کہ شاید اسی سال یہ خواب پورا ہوگا۔ اور آپ عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے مگر اس سال آپ بغیر عمرہ ادا کئے مقام حدیبیہ سے واپس آگئے اور اگلے سال جا کر عمرہ ادا کیا۔ اس طرح لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالخق (الفتح۔ 72) اللہ نے اپنے رسول کا خواب سچا کردیا۔ اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی بہرحال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بار بار یہ خواب آ رہا تھا کہ آپ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو بتلا کر ان کی رائے لی تو سعادت مند بیٹے نے جواب دیا۔ قال یابت افعل ماتومر اے باپ ! جس کام کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر گزرو یعنی اللہ کے حضور میری قربانی پیش کر دو ۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں حکم خداوندی کی تعمیل میں کوئی پس و پیش نہیں کروں گا بلکہ ستجدنی ان شاء اللہ من الصبرین انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ میں حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہوں ، آپ میری گردن پر چھری چلا دیں۔ یہی وہ بردباری ہے جو اللہ نے اسماعیل (علیہ السلام) کے مزاج میں رکھ دی تھی۔ اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیا تھا ، چناچہ آپ کی تربیت بچپن سے کما لدرجے کی ہو رہی تھی۔ بہرحال آپ نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کردیا۔ فلما اسلما پھر جب دونوں باپ بیٹا مطیع ہوگئے یعنی ان میں حکم خداوندی کی تعمیل کا جذبہ حد درجہ بیدار ہوگیا۔ وتلہ للجبین اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل (علیہ السلام) کو پیشانی کے بل گرا دیا تاکہ آپ کی گردن پر چھری چلا دیں۔ پیشانی کے بل لٹانے کا یہ مطلب ہے کہ بیٹے کا خوبصورت چہرہ دیکھ کر باپ کے دل میں کہیں جذبہ ترحم نہ پیدا ہوجائے اور حکم الٰہی کی تعمیل میں فرق نہ آجائے۔ بہرحال جب باپ نے بیٹے کو لٹا لیا تو پھر گردن پر تیز چھری بھی چلا دی۔ مگر ابراہیم (علیہ السلام) یہ دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ چھری اپنا کام ہی نہیں کر رہی تھی۔ ادھر سے آواز آئی ونادنہ ان یابراہیم اللہ نے فرمایا ، ہم نے آواز دی اے ابراہیم ! قد صدقت الرء یا تو نے خواب کو سچا کر دکھایا۔ آپ اس آزمائش میں پورے اترے۔ انا کذالک تجزی المحسنین۔ ہم نیک ی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے تو تعمیل حکم کرتے ہوئے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دی مگر اللہ تعالیٰ کو اسماعیل (علیہ السلام) کی جان بچانا مقصود تھی ، لہٰذا اس نے باپ کو اس کا بیٹا صحیح سلامت لوٹا دیا۔ اللہ نے فرمایا ان ھذا لھوالبلوء المبین یہ ایک صریح آزمائش تھی جو ابراہیم (علیہ السلام) پر ڈالی گئی جس میں آپ پورا اترے اور پھر اللہ نے یہ احسان بھی فرمایا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کا فدیہ بھی دے دیا۔ پھر و فدینہ یذبح عظیم اور ہم نے اسے ایک عظیم جانور کے ذبح کرنے کا فدیہ دیا۔ یہ عظیم جانور ایک مینڈھا تھا ، جو اللہ نے جنت سے نازل فرمایا اور ابراہیم (علیہ السلام) کی چھری اسماعیل (علیہ السلام) کی بجائے اس مینڈھے کی گردن پر چل گئی ، وہ ذبح ہوگیا اور اسماعیل (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ گویا مینڈھا آپ کا فدیہ بن گیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ذبح عظیم سے مراد صرف جانور کی قربانی نہیں اگرچہ وہ بہشت سے نازل شدہ عظیم جانور تھا۔ بلکہ اس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ہم نے قربانی کا ایک بہت بڑا اصول قائم کردیا ہے جو تاقیامت جاری رہے گا اور اصل جذبہ ایمان و اطاعت تو وہی تھا جو بیٹے کی قربانی کے لئے موجزن تھا مگر اللہ نے جان کے بدلہ کے طور پر اسے جانور میں منتقل کردیا۔ لہٰذا انہیں جذبات کے تحت آئندہ کے لئے جانور انسانی جان کا فدیہ ہوگا۔ یہ دستور قیامت تک زندہ رہے گا اور اہل ایمان ہر سال جانوروں کی قربانی کرتے رہیں گے۔ 1 ؎ قرطبی ص 201 ج 51 اس صدیہ سے بعض ضمنی مسائل بھی متضرع ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانے گا تو وہ حرام ہوگی کیونکہ جہاد کے علاوہ انسانی جان کو قربانی کے لئے پیش کرنا جائز نہیں۔ اللہ نے ازخود کسی انسان کو ذبح کرنے کی اجازت نہیں دی۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) سے یہی منقول ہے کہ بیٹے کی قربانی کی نذر ماننے والے کو جانور کی قربانی کرنی چاہئے کہ اس کی نذر یا قسم کا یہی کفارہ ہوگا۔ حضرت عمران بن حصین ؓ کی روایت میں آتا ہے کفارتہ کفارۃ الیمین یعنی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔ بعض لوگ نذر مان کر بچوں کو ذبح کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے جو کہ قطعی حرام ہے۔ فرمایا و ترکنا علیہ فی الاخرین اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں چھوڑا ہے۔ سلم علی ابراہیم سلامتی ہو ابراہیم (علیہ السلام) پر کذالک نجزی المحسنین ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں انہ من عبادنا المومنین بیشک وہ ہمارے کامل الایمان بندوں میں سے تھے۔ اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور بیٹے کی قربانی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وبشرنہ باسحاق نبیا من الصلحین اور ہم نے بشارت دی (ابراہیم (علیہ السلام) کو) اسحاق (علیہ السلام) کی جو اللہ کا نبی اور نیکوں میں سے تھا۔ اس بشارت کا ذکر سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ ہوا ہے قوم لوط پر عذاب لے کر آنے والے فرشتے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس انسانی شکلوں میں آئے۔ انہوں نے مہمان سمجھ کر بھنا ہوابچھڑا ان کے سامنے رکھا مگر ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تھے جس کی وجہ سے ابراہیم (علیہ السلام) 1 ؎ احکام القرآن للجصاص ص 773 ج 3 2 ؎ احکام القرآن للجصاص ص 773 ج 3 کچھ خوفزدہ ہوئے تو فرشتوں نے تسلی دی کہ خو فنہ کھائی ، ہم تو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی حضرت سارہ ؓ جو پاس کھڑی تھی ہنس پڑی فبشرنھا باسحق و من وراء اسحاق یعقوب (آیت۔ 17) پھر ہم نے اس کو اسحاق اور ان کے پیچھے (ان کے بیٹے) یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت دی۔ وہ کہنے لگی ، ہائے میرے کیسے بچہ ہوگا کہ میں بڑھیا ہوں اور میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ہیں ، یہ تو عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا : کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو ، تم پر خدا تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں تمہارے خاندان پر۔ اللہ تعالیٰ علم والا بیٹا عطا کرے گا اور اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پوتے یعقوب (علیہ السلام) کو بھی دیکھیں گے چناچہ یہ بشارت بھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائی۔ قربانی اسماعیل (علیہ السلام) با اسحاق (علیہ السلام) یہودیوں نے اس مسئلہ کو الجھا دیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس بیٹے کی قربانی دی تھی وہ اسماعیل (علیہ السلام) تھے یا اسحاق علیہ السلام۔ حقیقت یہ ہے کہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ہوئی تھی جو حضرت ہاجرہ ؓ کے بطن سے تھے اور اسحاق (علیہ السلام) سے سولہ سال بڑے تھے۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) لکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجہ میں اسی سال کی عمر میں پیدا ہوئے جب کہ اسحاق (علیہ السلام) بغیر دعا کے پیدا ہوئے جس کی بشارت قوم لوط پر عذاب لانے والے فرشتوں نے حضرت سارہ کو دی جس نے اس پر تعجب کا اظہار کیا کیونکہ اس وقت میاں بیوی دونوں بوڑھے ہوچکے تھے مطلب یہ کہ قربانی کا واقعہ اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ ہی پیش آیا تھا۔ البتہ بائبل کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کے لئے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو پیش کیا گیا تھا۔ دراصل یہ یہودیوں کے جھوٹ اور تورات میں تحریف کا نتیجہ ہے۔ یہودی بہتان طراز قسم کے لوگ تھے اور جھوٹ بولنے میں ذرا بھی گریز نہیں کرتے تھے ، بائبل میں لکھا ہے کہ اسرائیلیوں کی موآبی کے ساتھ دشمنی تھی۔ یہودیوں نے موآبی قبائل کو حرامی ثابت کرنے کے لئے حضرت لوط علیہ السالم پر اتہام باندھا کہ انہوں نے نعوذ باللہ شراب پی کر خود اپنی بچیوں سے بدکاری کی جن کی اولاد موآبی ہیں۔ بالکل اسی طرح یہودیوں کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ قربانی اسحاق (علیہ السلام) کی ہوئی تھی حالانکہ قربانی کا واقعہ تو اس وقت پیش آیا جب اسحاق (علیہ السلام) ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور اسماعیل (علیہ السلام) اپنے باپ کے اکیلے بیٹے تھے۔ اس مقام پر بھی اللہ نے اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی اور ذبح عظیم کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت بھی دی۔ واقعاتی لحاظ سے بھی قربانی کا واقعہ منیٰ میں پیش آیا اور یہیں ہر سال حاجی لاکھوں کی تعداد میں قربانیاں کرتے ہیں اس کے برخلاف حضرت اسحاق (علیہ السلام) تو شام و فلسطین میں رہے۔ اگر قربانی کا واقعہ ان کے ساتھ پیش آتا تو اس کا مرکز بھی مکہ کی بجائے شام و فلسطین ہوتا۔ بہرحال قرآن پاک کے اسلوب سے واضح ہے کہ قربانی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی ہوئی تھی اور یہودی اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ خاندان ابراہیم (علیہ السلام) فرمایا ہم نے بشارت دی اسحاق (علیہ السلام) کی جو نیکوں میں سے نبی تھے۔ وبرکنا علیہ و علی اسحاق اور ہم نے برکت دی اس پر یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) پر۔ و من ذریتھما اور دونوں کی اولاد میں سے اور صحیح بات یہ ہے کہ حرت اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) کی اولاد میں سے جن کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ محسن و ظالم لنفسہ مبین دونوں بھائیوں کی اولاد میں سے نیکی کرنے والے بھی ہیں۔ اور اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔ خاندان اسحاق میں سے آگے ہزاروں شاخیں نکلیں جو شام و فلسطین میں پھیلیں اور اسی طرح خاندان اسماعیل (علیہ السلام) میں تمام عرب پیدا ہوئے اور پھر انہی میں سے اللہ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو پیدا فرمایا۔ دونوں خاندانوں میں نیکو کار بھی ہیں اور گنہگار بھی ان میں موحد بھی ہیں اور مشرک بھی جن کا ذکر اللہ نے قرآن پاک میں جا بجا کیا ہے۔