Ayahs 37:149–166ربط آیات
اس رکوع کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر فرمایا۔ آپ نے طویل عرصہ تک قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) قوم کو عذاب کی وعید سنا کر بستی سے نکل گئے۔ عذاب کے آثار نظر آنے لگے تو قوم تائب ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ٹال دیا۔ اس سے پہلے تاریخ انبیاء کے سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر ہوا۔ سب نے اپنی اپنی قوموں کو کفر اور شرک سے منع کیا اور توحید کی دعوت دی مگر اس سلسلہ میں انہیں بڑی مشکلات کا سامنا اور بڑی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔
خدا کی اولاد کا عقیدہ
عرب کے بعض کافر اور مشرک قبائل بنو خزاعہ اور بنو اسلم وغیرہ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں تصور کرتے تھے۔ وہ فرشتوں کو معبود سمجھ کر ان کی عبادت بھی کرتے اور ان سے حاجات بھی طلب کرتے تھے۔ اس باطل عقیدے کی تردید کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا فاستفتھم اے پیغمبر ! آپ ان سے پوچھیں الربک البنات ولھم البنون کیا تیرے پروردگار کے لئے بیٹیاں ہیں ، اور ان کے لئے بیٹے ہیں ؟ ام خلقنا الملئکۃ اناثا یا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا و ھم شھدون اور یہ اس چیز کے چشم دید گواہ ہیں کہ ہم نے واقعی فرشتوں کو عورتوں کی صنف میں پیدا کیا ہے۔ کفار و مشرکین تو بھلا اس سوال کا کیا جواب دیتے اور فرشتوں کے صنف نازک ہونے کا کونسا ثبوت پیش کرتے ، اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس مسئلہ کی وضاحت فرما دی۔ الا سنو ! اور آگاہ رہو انھم من افکھم لیقولون کہ یہ لوگ جھوٹی بنائی ہوئی باتیں کہتے ہیں ولد اللہ کہ اللہ کے ہاں اولاد ہے۔ وانھم لکذبون بیشک یہ البتہ جھوٹے ہیں۔ ان کے اس عقیدے میں کوئی صداقت نہیں بلکہ یہ صریح جھوٹ ہے۔
آگے فرمایا ، دیکھو ! یہ کس قدر نامعقول لوگ ہیں کہ اصطفی البنات علی البنین انہوں نے خدا کے لئے بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کا انتخاب کیا ہے۔ حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ یہ خود بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں فرمایا مالکم تمہیں کیا ہوگیا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو کیف تحکمون تم کیسا فضول اور نامعقول فیصلہ کرتے ہو کہ اللہ کی اوالد ہے اور فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں افلا تذکرون کیا تم ذرا بھی غور و فکر نہیں کرتے کہ کیا کہہ رہے ہو اور کس قسم کا عقیدہ بنا رکھا ہے ؟ سورة النجم میں اللہ نے مشرکوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے الکم الذکر ولہ الانثی (a) تلک اذا قسمۃ میزی (a) کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہیں یعنی تم تو اپنے لئے بیٹے پسند کرتے ہو اور بیٹیوں کو خدا کے کھاتے میں ڈال دیتے ہو۔ یہ تو بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے جو تم کرتے ہو۔ تمہاری یہ تقسیم تو عقل و نقل اور فہم و فراست کے ہی خلاف ہے اور بالکل بعید از انصاف ہے۔
اللہ نے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ تمہاری ان بیہودہ باتوں سے پاک ہے۔ وہ تو بڑی قدرت اور عظمتوں کا مالک ہے۔ فرشتے خدا کی مقرب اور پاکیزہ مخلوض ہیں۔ اللہ نے ان کو تذکیر و تانیت سے پاک رکھا ہے ، وہ مجرد ہیں ، اور ان کی تخلیق بھی لطیف مادے سے ہوئی ہے۔ اگر تم نے خدا کے لئے اولاد ہی تجویز کرنا تھی تو پھر اس قدر گستاخی اور بےادبی کا ارتکاب تو نہ کرتے کہ اپنی دانست میں کمزور مخلوض کو اس کی طرف منسوب کر دای۔ فرمایا ، کسی پر عیب لگانے کے لئے بھی کچھ تو عقل و شعور سے کام لیتے۔ خدا تعالیٰ تو بیوی اور اولاد سے پاک ہے۔ سورة جن میں اس کا واضح ارشاد موجود ہے و انہ تعلی جد ربنا ما اتخذ صاحبۃ ولا ولدا (آیت۔ 3) اور بیشک ہمارے پروردگار کی شان تو بہت رفیع اور بلند ہے ، وہ نہ بیوی رکھتا ہے اور نہ اولاد
دراصل انسان کے دل میں اولاد کی خواہش دو وجوہ سے ہوتی ہے ایک یہ کہ اس کی بدولت اس کا سلسلہ نسب قائم رہے گا۔ اور دوسری یہ کہ بڑھاپے میں اولاد اس کی خدمت کرسکے گی۔ مگر حقیقت یہ ہے اللہ الصمد (الاخلاص۔ 2) اللہ تعالیٰ تو ان چیزوں سے غنی اور بےنیاز ہے اس کو نہ تو بقائے نسل کی ضرورت ہے اور نہ اس پر کبھی بڑھاپا طاری ہوگا کہ دوسرے کی مدد کی ضرورت پڑے۔ پھر بھلا خدا تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کرنا کس قدر حماقت کی بات ہے۔ خاص طور پر اللہ کی طرف صنف نازک کی نسبت کرنا تو مزید بیوقوفی کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے سورة النحل میں اس بات کا ذکر کیا ہے و اذا بشر احدھم بالانثی ظل وجھہ مسودا و ھو کظیم (آیت۔ 85) عرب کا کوئی مشرک کسی مجلس میں بیٹھا ہوتا اور وہاں آ کر اسے کوئی خبر دیتا کہ تمہارے ہاں بچی پیدا ہوئی ہے تو غم کے مارے اسکا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور وہ اندوہناک ہوجاتا۔ اسے لڑکی کی پیدائش سے اس قدر نفرت ہوتی۔ یہ خبر سن کر وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا اور پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا کہ آیا ذلت برداشت کرنے کے لئے اس لڑکی کو زندہ رہنے دے۔ ام یدسہ فی التراب (آیت۔ 95) یا اسے زندہ زمین میں گاڑھ دے۔ خدا تعالیٰ کے لئے اولاد کا نظریہ یہود و نصاریٰ میں بھی پایا جاتا ہے۔ و قالت الیھود عزیزن ابن اللہ و قالت النصری المسیح ابن اللہ (التوبہ۔ 03) یہودی کہتے ہیں کہ عزیز (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں۔ فرمایا یہ محض ان کے منہ کی باتیں ہیں ، یہ بھی پہلے کافروں کی طرح اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔ ہندوئوں میں بھی دیوی دیوتا کا عقیدہ اسی نوع کا ہے ان کی دیویاں بھی خدا کی یہ مقدس مخلوق فرشتے ہیں جنہیں وہ خدا کا شریک مانتے ہیں بلکہ عیسائی تو ان سے بھی دو قدم آگے بڑھ گئے۔ وہ اقانیم ثلاثہ کے قائل ہوگئے یعنی ایک کی بجائے تین خدا ماننے لگے ہیں ، باپ ، بیٹا اور روح القدس ، مسیح (علیہ السلام) کے متعلق کہا کہ آپ خدا ک یبیٹے ہیں یا تین خدائوں میں سے ایک ہیں۔
اس سارے باطل عقیدہ کے متعلق اللہ نے فرمایا ام لکم سلطن مبین کیا اس باطل عقیدے کی تمہارے پاس کوئی کھلی سند ہے ؟ فاتو بکتبکم ان کنتم صدقین اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اپنی کتا بلے آئو اور دکھائو کہ اس میں کیا لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد رکھتا ہے اور فرشتے اس کی بیٹیاں ہیں العیاذ باللہ ظاہر ہے کہ کافر و مشرکوں کے پاس کون سی دلیل ہے جو وہ پیش کرتے۔ لہٰذا آج تک اس چیلنج کا جواب نہیں دے سکے اور نہ آئندہ کبھی دے سکیں گے۔
جنات سے رشتہ داری کا عقیدہ
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور باطل عقیدے کا ذکر فرمایا ہے۔ و جعلوا بینہ و بین الجنۃ نسبا اور ٹھہرا لیا ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان رشتہ جب مشرکین نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں تسلیم کرلیا تو پھر سوال پیدا ہوا کہ فرشتوں کی مائیں کون ہیں جن کے بطن سے یہ بیٹیاں پیدا ہوئی ہیں ؟ پھر ” عذر گناہ بدتر از گناہ “ کے مصداق کفار و مشرکین نے اللہ تعالیٰ کا رشتہ جنات کے ساتھ جوڑا اور کہنے لگے کہ یہ بڑی بڑی جننیاں فرشتوں کی مائیں ہیں ، گویا جنات کو خدا تعالیٰ کا سسرال بنا دیا۔ العیاذ باللہ۔ اللہ نے فرما ای کہ یہ کتنی غلط بات ہے جو جنوں کی طرف منسوب کی جا ہی ہے۔ جنات تو اللہ کی عاجز مخلوق ہے اور وہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ فرمایا و لقد علمت الجنۃ انھم لمحضرون اور البتہ جنات جانتے ہیں کہ وہ تو گرفتار شدہ اللہ کی عدالت میں پیش کئے جائیں گے۔ اگر ذرا بھی کوتاہی کریں گے تو اللہ کی گرفت میں آئیں گے۔ ان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں مگر ان ظالموں نے ان کی خدا تعالیٰ کے ساتھ رشتہ داری قائم کردی۔
امام رازی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بعض زندیق قسم کے
1 ؎ تفسیر کبیر ص 01 ج 62
2 ؎ ابن کثیر ص 32 ج 5 و طبری ص 701 ج 32
یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور ابلیس آپس میں بھائی بھائی ہیں (نعوذ باللہ) اس پر مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ خیر کا خالق ہے اور ابلیس شر کا خالق۔ مجوسیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ وہ بھی خیر و شر ، نور و ظلمت اور نیکی اور بدی کے دو مختلف خدا مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیکی کا خدا یزدان ہے اور برائی کا اہرمن ہے۔ یہ عقیدہ پرانے ایران کے ایک شخص مانی کا وضع کردہ ہے۔ بعض بادشاہوں نے اس مذہب کے پیروکاروں کو سزا بھی دی مگر پھر بھی یہ مذہب پھیل گیا۔ یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں شراکت پیدا کرتا ہے ، اور یہ اسی طرح باطل ہے۔ جس طرح اللہ کی ذات میں شریک ٹھہرانا۔
ثنوی عقیدہ کی تردید
چوتھی صدی میں متنبی ایک مشہور عربی شاعر گزرا ہے اس نے اس دو خدائوں والے عقیدے کی اپنے انداز میں نفی کی ہے۔ وہ کہتا ہے :
وکم لظلم اللیل عندک من ید
تحدث ان الما نویۃ تکذب
مجھے تو رات کے اندھیرے میں بھی بہت سی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں مگر مانوی کہتا ہے کہ ظلم کا خدا ہی اور ہے ، حقیقت یہ کہ اس معاملہ میں مانوی جھوٹا ہے اس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ظلمت محض ، شر پر مشتمل ہے اور اس میں خیر کا کوئی پہلو نہیں مجھے تو شب و روز بیشمار نعمتیں حاصل ہو رہی ہیں ، دو خدائوں کا عقیدہ خدا کی ذات میں شرک کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمام نیک و بد مخلوق خواہ انسان ہوں ، جنات یا فرشتے سب کا خالق ایک ہی وحدہ لا شریک ہے ، کوئی دوسرا خالق نہیں سبحان اللہ عمایصفون اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ان غلط باتوں سے جو یہ کافر اور مشرک لوگ بناتے ہیں اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی بیوی ہے ، نہ بھائی اور نہ ہی کوئی اولاد ہے۔ یہ سب نقص اور عیب پر دلالت کرنے والی چیزیں ہیں۔ جب کہ اللہ کی ذات ہر نقص اور عیب سے مبرا اور منزہ ہے اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے لوگ لازماً مجرم بنیں گے اور خدا کی عدالت میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے۔
مخلصین کی جماعت
فرمایا ، البتہ ایک جماعت اس گرفت خداوندی سے بچ جائے گی اور وہ ہے الا عباد اللہ المخلصین اللہ کے مخلص ، منتخب اور برگزیدہ بندے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ جائیں گے ، وہ باعزت اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور پھر انہیں نہایت تکریم کے ساتھ اللہ کے عزت کے مقام جنت تک رسائی ہوگی۔ پھر اللہ نے مشرکوں سے فرمایا فانکم وما تعبدون پھر بیشک تم اور جن کی تم پوجا کرتے ہو خدا کے سوا ما انتم علیہ بقنتین تم خدا تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ مطلب یہ ہے کہ تم لاکھ اپنے عقیدے کا پراپیگنڈا اور میرے بندوں کو پھسلانے کی کوشش کرو مگر میرے مخلص بندے تمہارے دام فریب میں نہیں آئیں گے۔ تمہارے بہکاوے میں وہی آئے گا الا من ھو صال الجہیم جو جہنم میں داخل ہونے والا ہے۔ تمہارا دائو جہنمی لوگوں پر ہی چلتا ہے۔ جو عقل و شعور کو بروئے کار نہیں لاتے اور ضد وعناد پر اڑے رہتے ہیں۔ تم انہی کو گمراہ کر کے جہنم تک لے جاسکتے ہو۔ میرے مخلص بندے تو ہر وقت مناجات اور دعائیں کرتے رہتے ہیں اور ہمیشہ میرے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ مجھی سے اپنی حاجات طلب کرتے ہیں لہٰذا وہ شیطانی دائو پیج سے محفوظ رہتے ہیں۔
فرشتوں کی صف بندی
مشرکین کی بات ختم کر کے آگے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبان سے بات کروائی ہے۔ فرشتے نہ تو خدا کی بیٹیاں ہیں اور نہ ہی وہ معبود ہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ، اس کے مطیع اور عابد بندے ہیں ، وہ کسی کی جبری سفارش بھی اللہ کے پاس نہیں کرسکتے ، اس کے مطیع اور عابد بندے ہیں۔ وہ کسی کی جبری سفارش بھی اللہ کے پاس نہیں کرسکتے۔ وہ تو خود اللہ کی عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ہیں اور اس کی رضا کے طالب ہوتے ہیں۔ اسی بات کو فرشتوں نے اپنی زبان سے کہا وما منا الا لہ مقام معلوم اللہ نے ہم میں ہر ایک کے لئے ایک مقام و مرتبہ مقرر کیا اور ہم اس مقام سے آگے نہیں جاسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری جو ڈیوٹی لگا دی ہے ہم اسی کو ادا کرتے رہتے ہیں اور حکم خداوندی سے سر موانحراف کی طاقت نہیں رکھتے اور ہم تو اس ک یحکم عی تعمیل میں و انا لنحن الصاقون ہمیشہ صف بستہ رہتے ہیں۔
حضور ﷺ نے فرشتوں کی صف بندی کو معیاری قرار دیا اور لوگوں سے فرمایا کہ تم نماز اور جہاد کے لئے فرشتوں کی طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے تو عرض کیا حضور فرشتے کس طرح صفیں بناتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ مل کر کھڑے ہوتے ہیں اور درمیان میں کوئی رخنہ نہیں چھوڑتے پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے تھی پھر پچھلی صفیں بناتے ہیں صف بندی سے جماعتی تنظیم کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ بدنظمی ہرگز پسندیدہ چیز نہیں۔ اگر صف خراب ہوگی ، غیرمنظم اور ٹیڑھی ہوگی تو دل اور عقیدے بھی خراب ہوجائیں گے۔ لہٰذا حضور ﷺ نے درست صف بندی کی سخت تاکید فرمائی ہے۔
حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، لوگو ! جو بات میں سنتا ہوں ، وہ اگر تم بھی سنتے اور جو بات میں جانتا ہوں۔ وہ اگر تم بھی جانتے تو یقینا تم ہنستے تھوڑا اور روتے زیادہ فرمایا ایسی صورت میں تم دہشت میں مبتلا ہوجاتے اور بستروں پر عورتوں کے پاس لیٹنا چھوڑ کر جنگلوں اور بیابانوں کی طرف بھاگ جاتے اور چیختے چلاتے پھرتے۔ فرمایا آسمان پر ایک بالش بھر بھی کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں اللہ کا کوئی فرشتہ اس کی عبادت و ریاضت رکوع ، سجود اور تسبیح میں مصروف نہ ہو۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ فرشتوں کی عبادت و ریاضت کی وجہ سے آسمان اس طرح چرچراتا ہے۔ جس طرح نیا کجاوہ یا چمڑے کا نیا جوتا چرچراتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے
1 ؎ ابن کثیر ص 2 ج 4 و خازن ص 71 ج 6 و مظہری ص 501 ج 8
2 ؎ قرطبی ص 721 ج 5
3 ؎ خازن ص 93 ج 6
4 ؎ خازن 93 ج 6
5 ؎ ابن کثیر ص 42 ج 4
کہ ہماری صفیں بھی اللہ نے فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی ہیں۔ یہ آپ کی ہمت کی خصوصیت ہے کہ اگر ان کی صفیں درست ہوں گی تو یہ بھی فرشتوں کی صفوں کی طرح شمار ہوں گی۔ اس آخری امت کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے اس کے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا ہے اور ہم لوگ زین کے ہر پاک خطے پر عبادت کرسکتے ہیں ، ہماری عبادت محض عبادت خانوں تک محدود نہیں ہے۔ اور تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اللہ نے ہمارے لئے مٹی کو پاک صاف قرار دے دیا ہے۔ اگر پانی میسر نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر کے طہارت حاصل کی جاسکتی ہے۔
خدا تعالیٰ کی تسبیح
بہرحال فرشتوں نے کہا کہ ایک تو ہم صفت بستہ رہتے ہیں اور دوسرا و انا لنحن المسبحون اور بیشک ہم ہر وقت خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر نقص ، عیب ، کمزوری اور شرک سے پاک ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے ، اس کا لوگوں کی طرف سے منسوب کی گئی کمزوری سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ہر لحاظ سے پاک اور منزہ ہے۔ جو شخص اس کی ذات یا صفات میں شریک بنائے گا وہ خود بحیثیت مجرم خدا کی بارگاہ میں گرفتار شدہ پیش کیا جائے گا۔
Ayahs 37:167–182ربط آیات
گزشتہ درس کی آخری تین آیات میں فرشتوں کا کلام ذکر کیا گیا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کیلئے ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے جس سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہم صف بستہ رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ یہی وہ فرشتے ہیں جن کو مشرک لوگ خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں ، ان کو معبود مان کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جو مخلوق اپنے پروردگار کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ صف بستہ کھڑی ہے ، اس کی تسبیحو تنزیہہ بیان کرتی اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے ، اور ان میں سے ہر ایک کا ایک ٹھکانا اور حد مقرر ہے ، دوسروں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کرے گی اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس کی ذات وصفات میں کوئی بھی شریک نہیں ، مشرک لوگ غلط عقیدہ رکھتے ہیں اور لایعنی باتیں کرتے ہیں۔
ہدایت یافتگی کے لئے مشرکین کا عذرلنگ
اب اللہ نے مشرکین کے ایک جھوٹے بہانے کا ذکر کر کے ان کی غلط بیانی کا پردہ چاک کیا ہے۔ اراشد ہوتا ہے و ان کانوا لیقولون اور بیشک مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کے پاس تو آسمانی کتابیں موجود ہیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ اس ہدایت سے مستفید نہیں ہوتے بلکہ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں لو ان عندنا ذکر امن الاولین اگر ہمارے پاس بھی پہلے لوگوں کی کوئی نصیحت ہوتی لکنا عباد اللہ المخلصین تو ہم اللہ کے مخلص بندوں میں ہوتے اور اہ لکتاب کی طرح نافرمانی نہ کرتے پہلی آیت میں مذکور الفاظ و ان کانوا میں ان شرط کے لئے نہیں بلکہ یہ دراصل انہ ہے اور مطلب یہ بنتا ہے کہ بیشک شان یہ ہے کہ مشرک لوگ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی نصیحت یعنی کتاب ، صحیفہ ، نوشتہ یا ہدایت ہوتی تو اس پر عمل کر کے اللہ کے منتخب بندوں میں شمار ہوتے۔ اور اس طرح ہم عبادت و ریاضت ، معرفت عمل اور اخلاق میں ترقی کرتے۔
ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے بعد عربوں میں کوئی نبی نہیں آیا اور نہ ہی کوئی کتاب یا صحیفہ نازل ہوا۔ برخلاف اس کے اہل کتاب کے پاس کتابیں موجود تھیں۔ مگر ان کتابوں سے انحراف کو دیکھ کر مشرکین کہتے تھے کہ یہ بدقسمت لوگ ہیں ان کے پاس کتاب ، ہدایت اور احکام موجود ہیں مگر ان کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اگر ہمارے پاس ایسی کوئی چیز ہوتی تو ہم ضرور اس سے مستفید ہوتے۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جب اللہ کا آخری رسول اور اس کی آخری کتاب قرآن حکیم ان لوگوں کے پاس آ گئیتو انہوں نے تسلیم کرنے کی بجائے فکفروا بہ اس کا سرے سے انکار ہی کردیا اور نصیحت کے آنے اور اس پر عملدرآمد کے جو وعدے کرتے تھے ان سے مکر گئے جب قرآن پیش کیا جاتا تو کہتے ان ھذا الا اساطیر الاولین (الانعام۔ 52) یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اس میں پرانی اقوام عاد وثمود وغیرہ کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ، ہمارے لئے یہ کیسے مفید ہو سکتے ہیں سورة الانعام میں اللہ نے مشرکین کی اس حیلہ سازی کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ ہم نے یہ مبارک کتاب اتار دی ہے۔ اتباع کر وتا کہ تم پر رحم کیا جائے ، اور تاکہ تم یوں نہ کہو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ ) پر کتابیں اتری ہیں مگر ہم ان کی درس و تدریس سے بیخبر تھے۔ یا پھر تم اس طرح نہ کہہ دو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اس پر عمل کر کے لکنا اھدی منھم (آیت۔ 851) ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ آگے اللہ نے فرمایا کہ قرآن پاک کی صورت میں تمہارے پاس دلیل ، ہدایت اور رحمت آ چکی ہے فمن اظلم ممن کذب بایت اللہ (آیت۔ 851) اب اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرے۔ یہاں بھی فرمایا کہ جب ان کے پاس مطلوبہ ہدایت آگئی تو ان ظالموں نے اس کا انکار کردیا۔ فرمایا فسوف یعلمون عنقریب یہ لوگ جا لیں گے کہ ان کی حیلہ سازی اور تکذیب کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
انبیاء کی مدد کا وعدہ
دنیا میں جب بھی انبیاء (علیہم السلام) نے توحید کی دعوت دی لوگ خلاف ہوگئے اور توحید کے پروگرام کو ہر طرح سے ناکام بنانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے نہ صرف انبیاء کی تکذیب اور توہین کی بلکہ عام لوگوں کو دین کے قریب آنے سے روکنے کے لئے مال و دولت صرف کیا اور لوگوں کو نہ صرف دھمکیاں دیں بلکہ عملی طور پر ان کو طرح طرح کی سزائیں بھی دیں۔ ان تمام مشکلات کے بوجود خدا تعالیٰ کی منشاء ہمیشہ یہ رہی کہ وہ اپنے دین کو غالب بنائے گا اور اس مقصد کے لئے اس نے اپنے انبیاء کی مدد بھی کی۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین اور البتہ تحقیق ہمارے رسولوں کے حق میں ہماری یہ بات پہلے ہی طے ہوچکی ہے انھم لھم المنصورون کہ بیشک وہی مدد دیئے جائیں گے ، گویا اللہ نے کفر و شرک کے خلاف اپنے منتخب بندوں کی مدد کا وعدہ کر رکھا ہے۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ بعض اوقات دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے پیروکاروں کو ظاہری طور پر کامیابی نہیں ہوئی مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا بلکہ ایسی صورت میں اللہ کا یہ وعدہ آخر ت میں جا کر پورا ہوگا۔ اہل ایمان وہاں پر منصور ہوں گے اور ان کے مخالفین مقہور ہو کر خدا تعالیٰ کے عذا ب میں پکڑے جائیں گے۔ سورة المومن میں اللہ کا فرمان ہے انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا و یوم یقوم الاشھاد (آیت۔ 15) بیشک ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں ، اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے قیامت کے دن۔
بعض فرماتے ہیں کہ دنیا میں کفر و شرک کا طوفان سیلاب کی مانند ہوتا ہے جو وتسی طور پر خوب ابھرتا ہے مگر آخرکار ختم ہوجاتا ہے۔ سورة الرعد میں اللہ نے حق و باطل کی کشمکش کو سیلاب کے جھاگ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس طرح سیلاب کے جھگ میں وقتی طور پر جوش و خروش پایا جاتا ہے ، اسی طرح باطل کو بھی ابال آتا ہے جو جلدی ہی ختم ہوجاتا ہے جس طرح سیلاب کا جھگ ختم ہوجاتا ہے اور مفید پانی کی سیرابی کے لئے باقی رہ جاتا ہے۔ اسی طرح کفر و شرک کا طوفان تو چھٹ جاتا ہے اور پائیدار حق باقی رہ جاتا ہے۔ اگر دنیا میں اللہ کے نبی یا اس کے نیک بندے مغلوب بھی ہوجائیں۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ حق کو ہی غالب کرتا ہے جیسے فرمایا و قل جاء الحق و زھق الباطل ط ان الباطل کان زھوقا (بنی اسرائیل۔ 18) اے پیغمبر !
1 ؎ روحانی المعانی ص 651 ج 32 و مدارک ص 13 ج 4
آپ کہہ دیں کہ حق آ گیا اور باطل چلا گیا۔ بیشک باطل مٹنے ہی وال یچیز ہے۔ باطل کو کبھی ثبات حاصل ہیں ہوتا اور پھر یہ ہے کہ اکثر و بیشتر اللہ نے ظاہری طور پر بھی اپنے نبیوں کی مدد کی اور باطل مغلوب ہوا۔ اس ضمن میں قوم عاد وثمود ، قوم نوح ، قوم ابراہیم ، قوم صالح (علیہم السلام) اور قوم موسیٰو ہارون (علیہما السلام) کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس طرح حضور خاتم النبیین کی پوری زندگی بھی ہماری نگاہ میں ہے۔ آپ نے رکن نامساعد حالات میں اپنے مشن کا آغاز کیا اور کیا کیا تکالیف برداشت کیں مگر بالاخر اللہ نے اپنے انبیاء کی مدد فرمائی اور ان کو غالب بنایا۔
جند اللہ کا غلبہ
فرمایا ہماری منتخب بندوں کے متعلق پہلے ہی یہ بات طے ہوچکی ہے کہ انہی کی مدد کی جائے گی و ان جند نا لھم الغلبون اور بالآخر ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا۔ اس لشکر سے اللہ کے نبی اور ان کے پیروکار مراد ہیں۔ سچے مومن ہی حقیقت میں جند اللہ یعنی اللہ کا لشکر ہیں جو اللہ کے دین کی خاطر جان و مال کی قربانی پیش کرتے ہیں اور انہی کی مدد کی جاتی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ابتلاء بھی آتی ہے جس کا ذکر اللہ نے مختلف سورتوں میں بالتفصیل کیا ہے۔ جب اللہ کے رسول اور اس کے نیک بندے آزمائش پر پورا اترتے ہیں تو پھر غلبہ بھی انہی کو حاصل ہوتا ہے۔
اس اصول کے پیش نظر اللہ نے فرمایا فتول عنھم حتیٰ حین بس آپ ایک مقررہ وقت تک ان سے رخ پھیر لیں یعنی ان کو نظر انداز کردیں۔ و ابصرھم اور ان کی طرف دیکھتے رہیں یعنی انتظار کریں فسوف یبصرون پس عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے کہ ان کے انکار مخالفت اور ایذارسانی کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ سورة السجدۃ میں بھی فرمایا ہے فاعرض عنھم و انتظر انھم منتظرون (آیت۔ 03) آپ ان ناہنجاروں سے روگردانی کرلیں اور ہمارے فیصلے کا انتظار کریں۔ یہ لوگ بھی انتظار میں ہیں۔ اور جلدی ہی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ ان کو پتہ چل جائے گا کہ کون غالب آتا ہے اور کون دنیا میں شکست اور آخرت میں دائمی عذاب کا مستوجب بنتا ہے۔
عذاب کا مطالبہ
فرمایا لوگ اس قدر بےانصاف ہیں افبعذابنا یستعجلون کیا یہ ہمارے عذاب کے ساتھ جلدی کرتے ہیں ؟ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کی توحید اور اس کے رسول کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ جو عذاب ہم پر لانا چاہتے ہو جلدی لے آئو۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفا (آیت۔ 29) یا جیسا کہ تم خیال کرتے ہو ، ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دو ، کبھی کہتے ، قیامت برپا کر دو ، وہ آتی کیوں نہیں۔ تو فرمایا یہ بڑے بےانصاف لوگ ہیں ، جو اپنے منہ سے عذاب طلب کرتے ہیں ، مگر یاد رکھو ! فاذا انزل بساحتھم جب عذاب ان کے صحن میں اترے گا فساء صباح المندرین تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت ہی بری ہوگی ، جب ہمارا عذاب آجائے گا تو پھر یہ بچ نہیں سکیں گے اور ان کا انجام بہت برا ہوگا۔
حضور ﷺ اور اہل ایمان نے صبح کے وقت خیبر پر حملہ کیا جبکہ اس وقت وہ لوگ کاشتکاری کے لئے اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے۔ جب انہوں نے اسلامی لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے بخدا یہ تو محمد ﷺ نظر آتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا خربت خیبر یعنی خیبر اجڑ گیا انا اذا انزلنا بساحت قوم فساء صباح المندرین تو یہاں پر بھی آپ نے وہی الفاظ استعمال کئے کہ جب ہم کسی قوم کے صحن میں اتریں گے تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بہت بری ہوگی۔ چناچہ خیبر پر حملہ کے نتیجہ میں جنگ ہوئی ، خیبر فتح ہوا اور وہ سارا علاقہ مسلمانوں کے زیرنگیں
1 ؎ ابن کثیر ص 52 ج 4 و قرطبی ص 041 ج 51 و روح المعانی ص 751 ج 32
آ گیا۔ ویسے بھی اکثر نافرمان قوموں پر صبح کے وقت ہی عذاب آیا ہے۔ قوم لوط کا حال دیکھ لیں۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی اور کہا کہ آپ اپنے اہل کو لے کر راتوں رات نکل جائیں کیونکہ اس نافرمان قوم کی درگت بننے والی ہے ان موعدھم الصبح الیس الصبح بقریب (ھود۔ 18) ان کے لئے عذاب کے وعدے کا وقت صبح ہے ، اور کیا صبح اب قریب نہیں ہے۔
بہرحال اللہ نے فرمایا و تول عنھم حتیٰ حین ایک وقت تک آپ ان سے رخ پھیر لیں و ابصر آپ دیکھتے رہیں کہ کیا ہوتا ہے فسوف یبصرون پس عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے کہ ان کا انجام کیسا ہوتا ہے اور کون مبتلائے عذاب ہوتا ہے۔ فرمایا آپ کچھ دیر انتظار کریں اور حالات کا مشاہدہ کرتے رہیں۔
خلاصہ مضامین
اب آخر میں اللہ نے سارے مضامین کا خلاصہ دے دیا ہے۔ یہ گویا ساری سورة کا نچوڑ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے سبحن ربک رب العزت عما یصفون تیرا پروردگار جو تمام عزتوں کا رب ہے وہ پاک ہے ان چیزوں سے جو یہ لوگ اپنی زبانوں سے بیان کرتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کی کفر و شرک کی باتیں ، خدا کی اولاد تجویز کرنے کی بات فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینا اور اللہ کا رشتہ جنوں کے ساتھ قائم کرنا ، ابلیس کو خدا تعالیٰ کا ھبائی سمجھنا ، دو خدائوں پر اعتقاد رکھنا اللہ تعالیٰ کی ذات ، صفات ، اس کے علم یا قدر ت میں کسی کوش ریک بنانا یہ سب بیہودہ باتیں ہیں جن سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لغویات سے منزہ ہے۔
رسولوں پر سلام
اللہ کے نبی اور رسول ہمیشہ ایمان اور توحید کی دعوت دیتے رہے انہوں نے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کی جدوجہد کی ، کفر و شرک کو چھڑا کر ایمان و توحید کا درس دیا۔ ہدایت کا راستہ واضح کیا۔ اللہ کے پیغمبر اللہ کے نزدیک نہایت ہی برگزیدہ اور پاک ہستیاں ہوتے ہیں۔ وہ اپنی زندگیاں دین کے مشن کو پورا کرنے کے لئے لگا دیتے ہیں حتیٰ کہ اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتے لہٰذا ان پر سلام بھیجنا چاہئے۔ اسی لئے فرمایا و سلم علی المرسلین اور سلامتی ہو اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں پر۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تم مجھ پر سلام بھیجتے ہو تو اللہ کے سارے رسولوں پر سلام بھیجا کرو اللھم صل وسلم علی سیدنا و مولانا محمد رسولوں پر سلام بھیجنے کے لئے اس آیت کی تلاوت بھی کافی ہے۔ سورة کی یہ آخری تین آیات ورد بھی ہے ، رسولوں پر سلامتی کے ذکر کے ساتھ نبوت و رسالت کا مضمون بھی بیان ہوگیا۔
حمد باری تعالیٰ
رسولوں پر سلام کے بعد حمد باری تعالیٰ کے طور پر فرمایا والحمد للہ رب العالمین اور سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پوردگار ہے۔ اس سے مراد تمام جہان ہیں خواہ وہ ارضی ہوں یا سماوی ، عالم بالا کے ہوں یا عالم زیریں کے ، علوی ہوں یا سفلی ، تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اسی طرح مختلف انواع و اقسام کے جہان بھی الگ الگ ہیں جیسے چیونٹیوں کا جہان ، مچھلیوں کا جہان ، پرندوں اور درندوں کا جہان ، شجر و حجر کا جہان ، برزخ کا جہان ، حشر کا جہان اور آخرت کا جہان۔ ان تمام جہانوں کا پرورش کنندہ بھی اللہ رب العزت ہی ہے ، لہٰذا ساری حمد وثناء ہی اسی کے لئے ہے طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے یہ آخری تین آیات نماز کے بعد تین دفعہ تلاوت کیں ، اس نے گویا اپنے لئے پورے پیمانے پر اجر ماپ لیا۔ کم از کم ایک مرتبہ تو ضرور پڑھ لینی چاہئیں۔ کسی مجلس میں بیٹھ کر طرح طرح کی باتیں ہوتی ہیں ، اس لئے حضور ﷺ نے تعلیم دی ہے کہ ہر مجلس کے اختتام
1 ؎ قرطبی ص 241 ج 51 و ابن کثیر ص 52 ج 5 و طبری ص 611 ج 32
2 ؎ ابن کثیر ص 52 ج 4 و روح المعانی ص 951 ج 32
پر بھی یہ آیات تلاوت کر لینی چاہئیں۔ اگر ان آیات کے آخر میں یہ بھی کہہ دیا جائے سبحنک اللھم وبحمدک لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک تو اللہ تعالیٰ اس مجلس کی ساری غلطیاں معاف فرما دے گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر ہے جس سے عقیدہ درست ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی حمد وثناء بھی ہے اور رسولوں پر سلامتی کا ذکر بھی ہے اور یہ آیات ورد بھی ہیں۔ یہ ساری سورة کا لب لباب ہے جو آخر میں بیان کردیا گیا ہے۔