Ayahs 37:36–61اسلام کے بنیادی عقائد میں سے گزشتہ آیات میں اللہ نے توحید کے دلائل پیش کیے اور مشرکوں کا رد کیا۔ ان کے تکبر و غرور اور قیامت کو ہونے والے انجام کو بیان کیا۔ اللہ نے حشر میں پیش آنے والے واقعات کا بھی کچھ نقشہ کھینچا اور آخر میں مجرموں کی سزا کا ذکر کیا کہ تابع اور متبوع سب جہنم واصل ہوں گے۔ فرمایا ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جب ان سے توحید خداوندی کا اقرار کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ الٹا تکبر کرتے ہیں۔ تمام تر عقلی اور نقلی دلائل پیش کرنے کے باوجود مشرکین اپنے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ ویقولون اور کہتے تھے ائنا لتارکوا الھتنا لشاعر مجنون کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں ؟ (العیاذ باللہ) مشرک لوگ نبی (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے آپ کو شاعر اور مجنون کہہ کر انکار کردیتے تھے۔ کہتے تھے کہ اس کا دماغ چل گیا ہے ( العیاذ باللہ) اور یہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ سورة ص میں ہے کہ کفار و مشرکین دعوت توحید کے جواب میں کہتے اجعل الالھۃ الھا واحد ان ھذا لشئی عجاب (آیت 5) کیا ہم سب معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک ہی معبود پر اکتفا کریں ، یہ تو بڑی عجیب بات معلوم ہوتی ہے کہ کائنات کا سارا نظام صرف ایک ہی خدا چلاسکے گا مشرک لوگ یہ بھی کہتے ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا اختلاق (ص 7) ہم نے یہ بات پچھلے لوگوں سے تو نہیں سنی ، یہ تو خود ساختہ بات ہے۔ لہٰذا ہم اس شخص کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں اور اپنے معبودوں کو کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑ سکتے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کا نبی نہ تو شاعر ہے ، نہ مجنون اور نہ کاہن بل جاء بالحق بلکہ وہ تو سچی بات لے کر آیا ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے وصدق المرسلین اور اس نے اللہ کے تمام رسولوں کی تصدیق کی ہے۔ اللہ کے ہر نبی اور رسول نے ہمیشہ یہی تعلیم دی ہے یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ (الاعراف 73) اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ غرضیکہ اللہ کا رسول نہ تو شاعر ہے اور نہ دیوانہ بلکہ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہے اور اس سارے سلسلے کی تصدیق کرنے والا ہے۔
فرمایا اگر پھر بھی کفر اور شرک سے باز نہیں آئو گے انکم لذائقوا العذاب الالیم تو پھر تمہیں لازماً درد ناک عذاب کا مزا چکھنا ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ قیامت والے دن کسی شخص کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی کہ اسے کسی ناکردہ گناہ کی سزا دے دی جائے بلکہ وما تجزون الا ما کنتم تعملون تمہیں صرف اسی بات کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے۔ یہ دردناک عذاب تمہاری گستاخی ، بےادبی ، انکار توحید ، تکذیب رسل اور انکار معاد کا نتیجہ ہے۔ انسان کا ہر عمل اس کے نفس سے پھوٹتا ہے۔ خدا نے ہر نفس میں اس کا بیج اور استعداد رکھی ہے۔ یہ عمل انسان کے نفس میں ہی پھلتا پھولتا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی چمٹ کر محفوظ ہوجاتا ہے جو کہ قیامت کو ظاہر ہوجائے گا اور پھر اسی کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔
فرمایا الا عباد اللہ المخلصین البتہ اللہ کے مخلص بندے اس عذاب سے محفوظ رہیں گے اور یہ وہی خوش قسمت لوگ ہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں ، صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ وقوع قیامت اور جزائے عمل پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں اور اس کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ فرمایا اولئک لھم رزق معلوم ایسے لوگوں کے لیے مقررہ روزی ہوگی اور یہ وہی انعامات ہیں جن کا ذکر اللہ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے۔ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ (الواقعہ 33) یہ روزی نہ تو کم ہوگی اور نہ ہی اہل جنت سے روکی جائے گی بلکہ ان کو ان کی ہر پسندیدہ چیز یا افراط میسر ہوگی۔ اور ہر چیز حسب ضرورت بکرۃ وعثیا (مریم 62) صبح شام ملے گی وہاں پر ہر چیز قرینے کے ساتھ رکھی ہوگی اور مقررہ پروگرام کے مطابق ہر چیز باعزت طریقے سے مہیا کی جائے گی۔ اللہ نے فرمایا فواکہ وہاں پر طرح طرح کے پھل ہوں۔ جنت میں بھوک پیاس تو نہیں ہوگی ، البتہ یہ پھل لطف اندوزی کے لیے مہیا کئے جائیں گے۔ وہاں پر کھانا پینا بھی بھوک اور پیاس کے لیے نہیں بلکہ محض لطف حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔ وھم مکرمون اور وہ باعزت ہوں گے یعنی ہر چیز مکمل باعزت طریقے سے پیش کی جائے گی اور کسی جنتی کے عزت نفس کے خلاف کوئی چیز نہیں ہوگی۔ فی جنت النعیم یہ سب چیزیں نعمتوں کے باغوں میں ملیں گی۔ علی سرر متقبلین وہاں پر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھنے والے ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کی طرف پشت نہیں ہوگی بلکہ آمنا سامنا ہوگا۔ یطاف علیہم بک اس ومن معین ان پر صاف ستھری شراب کے پیالے پھیرے جائیں گے۔ معین دراصل ابلنے والے چشمے کو کہتے ہیں جو بالکل صاف شفاف ہوتا ہے۔ اس کا اطلاق جنت کی پاکیزہ شراب پر کیا جاتا ہے جس کی نہریں چل رہی ہوں گی۔ جو کہ بیضاء لذۃ للشربین ان کی رنگت سفید ہوگی اور یہ پینے والوں کے لیے نہایت لذت آور ہوں گی۔ سورة محمد میں بھی جنت کی نہروں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہاں پر بغیر لو کے پانی کی نہریں ہوں گی۔ دودھ کی نہریں ہوں گی جن کا مزہ تبدیل نہیں ہوگا ، شراب کی نہریں ہوں گی جو سراسر لذت کا باعث ہوں گی اور شہد مصفا کی نہریں جاری ہوں گی۔ فرمایا یہ ایسے مشروب ہوں گے لا فیھا غول کہ اس میں کوئی سرگرانی نہیں ہوگی یعنی پی کر سر بوجھل نہیں ہوگا ولاھم عنھا ینزفون اور نہ ہی وہ ان سے بدمست ہوں گے۔ اس دنیا کی شرابیں تو نشہ آور ہیں جو انسانوں کو بدحواس کردیتی ہیں اور بھر بعض لوگ گالیاں بکنے لگتے ہیں اور شور شرابہ کرتے ہیں مگر جنت کی شراب کے متعلق فرمایا وسقھم ربھم شرابا طھورا (الدھر 22) اللہ تعالیٰ جنتیوں کو پاکیزہ شراب پلائے گا جس سے لذت و سرور تو حاصل ہوگا مگر پینے والا بدمست نہیں ہوگا۔ یہاں پر ینزفون کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دراصل نزف کنوئیں یا پانی کھینچنے والے کو کہتے ہیں جس طرح پانی کنویں سے کھینچا جاتا ہے اسی طرح دنیا کی شراب شرابی کی عقل کو کھینچ کر باہر کرتی ہے اور آدمی بدمست ہوجاتا ہے۔ بہرحال جنت میں ایسی کوئی قباحت نہیں ہوگی بلکہ پاکیزہ شراب کے جام چلیں گے جو کہ نہایت ہی پرکیف ہوں گے۔ لطف و سرور کے لیے عورت کا ہونا بھی ضروری ہے اور جنتی اس سے بھی محروم نہیں رہیں گے۔ فرمایا وعندھم قصرت الصرف عین ان کے پاس موٹی موٹی آنکھوں والی اور نگاہیں نیچی رکھنے والی عورتیں ہوں گی ، وہ صرف اپنے خاوندوں کو نگاہ اٹھا کر دیکھیں گی اور ان کی نظروں میں حسین و جمیل دکھائی دیں گے۔ نگاہیں نیچی رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ جنت کی حوریں نہایت ہی حیا دار ہوں گی کہ حیا عورت کا زیور ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے کہ آپ نے مدین کے کنویں پر دو لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلایا۔ پھر گھر جا کر انہوں نے اس بات کا ذکر اپنے باپ شعیب (علیہ السلام) سے کیا۔ پھر جب باپ کی اجازت سے ایک لڑکی موسیٰ (علیہ السلام) کو بلانے کے لیے آئی تو قرآن کا بیان ہے فجاء تہ احدھما تمشی علی استحیا (القصص 25) ان دو میں سے ایک لڑکی نہایت حیا داری کے ساتھ چلتی ہوئی آئی۔ حیا صرف عورتوں ہی کا حصہ نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ سورة نور میں اللہ نے مردوں اور عورتوں دونوں صنفوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا قل للمومنین یغضوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم (آیت 30) وقل للمومنت بغضضن من ابھارھن ویحفظن فروجھن (آیت 31) مرد بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور عورتیں بھی اپنی نگاہی نیچی رکھیں اور شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے محرموں کے علاوہ کسی کے سامنے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔ یعنی غیر محرموں سے پردہ کریں۔ اسلام نے تمدنی زندگی کے سارے اصول بیان کیے ہیں جنہیں اپنا کر دنیا میں امن قائم کیا جاسکتا ہے۔ مگر آج جدید دور میں پورے معاشرے کو تباہ کردیا گیا ہے۔ انگریزی تہذیب میں عورتوں کی عزت اس بات میں ہے کہ وہ غیر مردوں کے ساتھ اختلاط رکھیں ، بےپردہ نکلیں ، مصافحے کریں اور گپیں ہانکیں ، حقیقت میں یہ تو عورت کی تذلیل ہے جسے شمع محفل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔
اسی بری تہذیب کے متعلق پچھلی صدی کا ڈاکٹر پنسر لکھتا ہے کہ یورپ کی پینتالیس لاکھ کی آبادی میں سے یقین سے نہیں کہاجاسکتا کہ صرف پینتالیس افراد بھی حلال کے ہوں گے۔ بےحیائی اس قدر عام ہے کہ حلال اور حرام کی تمیز ہی اٹھ چکی ہے۔ اب عورت دفتروں ، فیکٹریوں ، ہسپتالوں اور کالجوں میں مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہے۔ فوج ، پولیس اور فضائی کمپنیوں میں موجود ہیں۔ جہاں مردوں سے عام خلط ملط ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فلموں ، ڈراموں اور ناچ گانے کے پروگراموں میں عورت کو اولیت حاصل ہے۔ ان حالات میں حیا داری کیسے قائم رہ سکتی ہے ؟ عورتوں کی غیر ضروری آزادی ترقی نہیں بلکہ تنزلی کی علامت ہے۔ فرمایا جنت کی حوریں اس قدر خوبصورت ہوں گی کانھن بیض مکنون گویا کہ پردے میں رکھے ہوئے انڈے ہیں۔ عرب لوگ عام طور پر خوبصورت عورت کو شترمرغ کے انڈے سے تشبیہہ دیتے ہیں جو کہ بالکل شفاف اور اوپر سے ڈھانپا ہوا ہو یعنی پروں کے نیچے چھپایا ہوا ہو۔ سورة الواقعہ میں حورعین کا مثال اللولو المکنون (آیت 23) بھی آتا ہے یعنی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں جیسے حفاظت سے رکھے ہوئے آب دار موتی ہوں۔ مطلب یہ کہ جنت کی حوریں نہایت ہی خوبصورت ہوں گی۔ جن کے ساتھ جنتی لوگ دل بہلائیں گے۔
جنتی اور دوزخی کی ملاقات
جنتیوں کے بعض انعامات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا فاقبل بعضھم علی بعض یتسالون پھر ان میں سے بعض ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر پوچھیں گے۔ جب جنت میں پہنچ گئے ، تمام انعامات مل گئے پھر کچھ پرانی یادیں بھی آئیں گی جن کے متعلق جنتی آپ میں گفتگو کریں گے۔ قال قائل منھم ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا انی کان لی قرین دنیا میں میرا ایک ساتھی رفیق یا دوست ہوا کرتا تھا جس کے ساتھ اکثر گفت و شنید ہوتی رہتی تھی۔ یقول انک لمن المصدقین وہ کہتا تھا کہ کیا تو اس بات کی تصدیق کرتا ہے یعنی تیرا جنت میں پہنچا دے اس کے لیے اس سے بڑی کامیابی کیا ہوسکتی ہے۔ پھر فرمایا لمثل ھذا اس جیسی کامیابی حاصل کرنے کے لیے فلیعمل العملون پس چاہئے کہ عمل کریں عمل کرنے والے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص مذکورہ شخص کی طرح عظیم کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اعمال انجام دے۔ کفر ، شرک اور معصیت سے باز رہے۔ بندوں کے حقوق ادا کرے اور پھر دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی ایسی ہی کامیابی عطا فرمائے۔
اس مقام پر یہ نقطہ سمجھ لینا چاہئے کہ جنت کی ہر نعمت خواہ وہ پانی ہو ، پھل ہوں یا عورت ہو قابل قدر ہے اور کسی بھی نعمت کو حقیر سمجھ کر ٹھکرانا نہیں چاہئے بعض لوگ ان مادی نعمتوں کو حقیر سمجھتے ہیں کہ صرف روحانی نعمتوں کی خواہش کرتے ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی اپنی تفسیر میں لکھتے (بیان القران ص) ہیں کہ جنت کی ہر نعمت مقصود ہے کیونکہ اللہ نے انہی چیزوں کو فوزا العظیم سے تعبیر کیا ہے ، لہٰذا یہ کہنا کہ ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں۔ کفران نعمت کے زمرہ میں آتا ہے ، ہر انسان کو ان چیزوں کی خواہش ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں پہنچائے اور تمام مادی اور روحانی نعمتوں سے سرفراز فرمائے ، تو فرمایا ان نعمتوں کے حصول کے لیے لوگوں کو سخت مشقت کرنی چاہئے اور عبادت اور ریاضت کے ذریعے اپنے مولا کو راضی کرنا چاہئے تاکہ انہیں یہ بہت بڑی کامیابی حاصل ہوجائے۔
قال ھل انتم مطلعون آواز آئے گی کیا تم اپنے اس ساتھی کا حال معلوم کرنا چاہتے ہو جو جزائے عمل کا انکار کیا کرتا تھا ؟ یہ سوال خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا یا اللہ کا کوئی فرشتہ کہے گا کہ تم اپنے ساتھی کے حالات سے مطلع ہونا پسند کرتے ہو ؟ پھر وہ اس بات کی خواہش کرے گا۔ فاطلع فراہ فی سواء الجحیم پس وہ جھانک کر دیکھے گا تو اپنے ساتھی کو دوزخ کے درمیان میں پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسا انتظام کردے گا کہ جنتی آدمی جنت میں رہتے ہوئے کروڑوں میل دور جہنم میں اپنے ساتھی کمو دیکھ سکے گا۔ پھر وہ دونوں آپس میں مکالمہ کریں گے۔ قال تا للہ ان کدت لتردین مومن آدمی اپنے سابقہ ساتھی سے کہے گا کہ قریب تھا کہ تو مجھے بھی ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیتا۔ مطلب یہ کہ تم مجھے بھی کہا کرتے تھے کہ قیامت وغیرہ کچھ نہیں ہے بلکہ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے۔ اگر میں بھی تمہارے کہنے میں آکر ایمان گنوا بیٹھتا تو آج تمہارے ساتھ یہیں جہنم میں ہوتا۔ ولھو لا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین اور اگر میرے رب کا فضل مجھ پر نہ ہوتا تو میں بھی گرفتار شدہ مجرموں میں شمار ہوتا۔ مگر اللہ نے مجھ پر کرم فرمایا اور مجھے ایمان کی دولت سے مالا مال کیا جس کی وجہ سے میں تو جنت کی نعمتوں میں ہوں تم یہاں دوزخ میں جل رہے ہو۔
پھر وہ مومن آدمی اپنے انجام پر بہت خوش ہوگا اور یوں کہے گا افما نحن بمتین کیا ہم نہیں ہیں مرنے والے ؟ یعنی اب ہم پر موت نہیں آئے گی اور اس جنت کے مقام میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے الا موتتنا الاولی مگر وہی موت جو ہمیں دنیا میں ایک دفعہ آچکی ہے ، اب اس کے بعد کوئی موت نہیں آئے گی ، نہ ہماری یہ زندگی ختم ہوگی اور نہ یہ نعمتیں ہم سے چھینی جائیں گی۔ وما نحن بمعذبین اور نہ ہی اب ہمیں کوئی سزا دی جائے گی۔ اللہ نے ہمیں ہر قسم کی تکلیف اور پریشانی سے مبرا کردیا ہے۔ ان ھذا لھو الفوز العظیم اور یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے جس شخص کو اللہ تعالیٰ معاف کرکے جنت میں پہنچا دے ، اس کے لیے اس سے بڑی کامیابی کیا ہوسکتی ہے۔
پھر فرمایا لمثل ھذا اس جیسی کامیابی حاصل کرنے کے لیے فلیعمل العملون ، پس چاہیے کہ عمل کریں عمل کرنے والے ، مطلب یہ ہے کہ جو شخص مذکورہ شخص کی طرح عظیم کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے احکام کے مطابق اعمال انجام دے ، کفر ، شرک اور معصیت سے باز رہے۔ بندوں کے حقوق ادا کرے ، اور پھر دعا کرے کہ اللہ اسے بھی ایسی ہی کامیابی عطا فرمائے۔
اس مقام پر یہ نقطہ سمجھ لینا چاہیے کہ جنت کی ہر نعمت خواہ وہ پانی ہو ، پھل ہوں یا عورت ہو قابل قدر ہے اور کسی بھی نعمت کو حقیر سمجھ کر ٹھکرانا نہیں چاہیے ، بعض لوگ ان مادی نعمتوں کو حقیر سمجھتے ہیں کہ صرف روحانی نعمتوں کی خواہش کرتے ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں (بیان القرآن) کہ جنت کی ہر نعمت مقصود ہے کیونکہ اللہ نے اپنی چیزوں کو فوز العظیم سے تعبیر کیا ہے ، لہذا یہ کہنا کہ ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں ، کفران نعمت کے زمرہ میں آتا ہے ، ہر انسان کو ان چیزوں کی خواہش ہونی چاہیے کہ اللہ اسے جنت میں پہنچائے اور تمام مادی اور روحانی نعمتوں سے سرفراز فرمائے ، تو فرمایا ان نعمتوں کے حصول کے لیے لوگوں کو سخت مشقت کرنی چاہیے اور عبادت اور ریاضت کے ذریعے اپنے مولا کو راضی کرنا چاہیے تاکہ انہیں یہ بہت بڑی کامیابی حاصل ہوجائے۔
Ayahs 37:62–74توحید کے بیان کے بعد جزائے عمل کے سلسلے میں اللہ نے اپنے مخلص بندوں کا ذکر فرمایا اور ان کو جنت میں ملنے والے انعامات کی ایک جھلک پیش کی۔ اللہ نے ان کے سکون و راحت ، ان کی بیویوں اور ان کے عزت کے مقام کا ذکر کیا۔ اس عیش و آرام کی زندگی میں انہیں دنیا کے اپنے بعض ساتھیوں کی یاد بھی آئے گی اور وہ انہیں جہنم میں پا کر ان سے بات چیت کریں گے۔ انعامال الٰہیہ کا شکر ادا کریں گے اور کہیں گے کہ اگر ہم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو آج ہم بھی تمہارے ساتھ جہنم میں ہوتے۔ اللہ کی رحمت سے ہم نے ایمان قبول کیا اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہزوئے تو اللہ نے ہمیں راحت کے اس مقام تک پہنچایا ، جہاں ہم ہمیشہ کی زندگی گزاریں گے۔ موت جو آنی تھی وہ دنیا میں آچکی۔ اب ہم پر کبھی موت طاری نہیں ہوگی اور نہ کوئی تکلیف پہنچے گی۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کے لیے ہر شخص کو کوشش اور محنت کرنی چاہئے۔
تھوہر کا درخت
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے انعامات اور دوزخیوں کی تعذیبات کا مقابلہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اذلک خیر نزلا کیا یہ مہمانی بہتر ہے ؟ مطلب یہ کہ کیا اللہ کی طرف سے ملنے والا آرام و راحت باعتبار مہمانی بہتر ہے ام شجرۃ الزقوم یا تھوہر کا درخت بہتر ہے اللہ نے کئی مقامات پر اپنے انعامات کو اہل جنت کے حق میں مہمان نوازی قرار دیا ہے۔ مثلاً سورة آل عمران کے آخر میں متقین کے لیے باغات اور ان کے سامنے بہنے والی نہروں کا ذکر کرکے فرمایا نزلا من عند اللہ (آیت 198) یہ اللہ کے ہاں ان کی مہمانی ہوگی۔ دوسرے مقام پر ایسے ہی تذکرہ کے بعد فرمایا نزلا من غفور رحیم (حم سجدۃ 32) یہ بخشش کرنے والے اور مہربان خدا تعالیٰ کی طرف سے مہمانی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے استفہامیہ انداز میں فرمایا کہ کیا یہ مہمانی بہتر ہے یا تھوہر کا درخت ؟ تم ان میں سے کس چیز کو پسند کرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مہمانی سے بڑھ کر کیا چیز ہوسکتی ہے۔ ادھر تھوہر کا درخت ہے جو جہنمیوں کی خوراک ہے اور جس کے متعلق سورة بنی اسرائیل میں فرمایا والشجرۃ الملعونۃ فی القران (آیت 60) کہ یہ ملعون درخت ہے۔ تھوہر کے درخت کا ذکر سورة واقعہ اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آیا ہے۔ تھوہر اس قدر کڑوا اور بدمزہ ہے کہ جہنمیوں کے گلے میں اٹک کر رہ جائے گا۔ فرمایا انا جعلنھا فتنۃ للظلمین ہم نے اس درخت کو ظلم کرنے والوں یعنی کفر ، شرک اور تعدی کرنے والوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ دنیا میں یہ لوگ اس درخت کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ دوزخ یعنی آگ میں کوئی درخت کیسے ہوسکتا ہے ؟ کچے ذہن کے لوگ شک کرتے تھے کہ ہمیں ڈرانے دھمکانے کے لیے اس خوفناک درخت کا ذکر کیا جاتا ہے اس طرح گویا منکرین کے لیے یہی درخت آزمائش کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اس کے برخلاف اہل ایمان جانتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے تو وہ آگ میں بھی درخت پیدا کرسکتا ہے جیسا کہ معراج کا غیر معمولی واقعہ پیش آیا ، حالانکہ کافر لوگ اس واقعہ کو بھی تسلیم نہیں کرتے تھے مگر یہ حقیقت ہے۔ بہرحال تھوہر کو دو وجہ سے آزمائش کا باعث بنایا گیا ہے۔ ایک وجہتو یہ ہے کہ اس کو کھانے میں بڑی تکلیف ہوگی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ دنیا میں اس کا انکار کرکے فتنہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔
اس درخت کی مزید تفصیل کے طور پر فرمایا انھا شجرۃ تخرج فی اصل الجحیم یہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے یعنی جہنم کے اندر ہی پیدا ہوتا ہے طلعھا کا نہ رء وس الشیطین اس کے خوشے یا کونپلیں ایسے بدنما ہیں جیسا کہ شیطانوں کے سر ہوتے ہیں۔ یہ تشبیہ دو وجوہ کی بناء پر ہوسکتی ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ شیطان کے ساتھ مناسبت اس کی بدشکلی کی وجہ سے ہے۔ اگر کوئی شخص پراگندہ صورت ہو ، بال بکھرے ہوئے ہوں تو اسے جن بھوت کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ موطا امام مالک (رح) میں یہ روایت (موطا امام مالک) آئی ہے کہ ایک شخص پراگندہ بال اور خستہ حالت میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے اسے تنبیہ فرمائی کہ شیطان جیسی وحشت ناک شکل نہ بنایا کرو بلکہ اپنے بالوں کو درست کرو اور صفائی کا خیال رکھا کرو۔ بہرحال چونکہ شیطان بھی بدشکل ہے اور تھوہر کا درخت بھی ، لہٰذا ان کو آپس میں مناسبت ہے۔ بعض فرماتے (روح المعانی ص 96 ج 23 و خازن ص 23 ج 6 و مدارک ص 22 ج 4) ہیں کہ اس مقام پر شیاطین سے مراد سانپ ہیں۔ تھوہر اور سانپ کا سر تقریباً یکساں بناوٹ کا ہوتا ہے۔ اس لیے اس کو سانپ کے سر کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ صحیحین کی روایت (بخاری ص 157 ج 2 و مسلم ص 221 ج 2 و روح المعانی ص 283 ج 3) میں آتا ہے کہ یہودیوں نے حضور ﷺ پر جادو کیا تھا۔ کچھ کھجور کے پتے ، ٹوٹی ہوئی کنگھی اور بال لے کر ان پر سحر کیا اور انہیں مدینہ کے اطراف میں واقع ایک کنویں میں پتھر کے نیچے دبا دیا۔ اس کنویں کو سبرزی اروان کہا جاتا تھا اور اس وقت ناقابل استعمال ہوچکا تھا۔ اس کنویں کے کنارے پر تھوہر کے درخت تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ملنے پر حضور ﷺ صحابہ ؓ کے ہمراہ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور مذکورہ پتھر کے نیچے سے سحر شدہ چیزیں برآمد کیں تو وہاں بھی روس الشیاطین کے الفاظ آتے ہیں گویا تھوہر کے پودے شیطانوں کے سروں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں یا سانپوں کے سروں کے ساتھ ان کو مناسبت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت (ابن کثیر ص ج 4) ہے جسے امام ابن کثیر (رح) نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے اپنی تفسیر میں بھی نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اذلک خیر نزلا ام شجرۃ الزقوم اور اس کے بعد سورة آل عمران کی یہ آیت پڑھی یا یھا الذین امنوا اتقوا اللہ حق تقیہ (آیت 102) اے لوگو ! اللہ سے ڈر جائو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے۔ پھر فرمایا ولو ان قطرۃ قطرت من الزقوم فی بحار الدنیا لا فسدت علی الناس معایشھم اگر جہنم کے تھوہر کا ایک قطرہ دنیا بھر کے سمندروں میں ڈال دیا جائے تو اس کی بدبو اور ذائقہ کی وجہ سے تمام لوگوں کی معیشت برباد ہو کر رہ جائے۔ مطلب یہ کہ تھوہر اس قدر کڑوا ہے اور بدمزہ ہے کہ سارے سمندروں کو بدمزہ کردے اور اس سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا جاسکے۔
دوزخیوں کی خوراک
تھوہر کی یہ تعریف بیان کرنے کے بعد فرمایا فانھم لا کلون منھا فمالون منھا البطون دوزخی لوگ اسی تھوہر کے درخت میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹ بھریں گے۔ اس قدر بدبودار اور کڑوی چیز اہل دوزخ کی خوراک بنے گی۔ سورة الغاشیہ میں ہے لیس لھم طعام الا من ضریع لایسمن ولا یغنی من جوع ان کے لیے کانٹے دار باڑ کی آگ ہوگی جس سے نہ تو وہ ہوں گے اور نہ ہی بھوک دور ہوگی۔ پھر ان کو پیاس بھی ستائے گی۔ ثم ان لھم علیھا لشویا من حمیم تو پھر اور اس میں گرم پانی کی ملاوٹ ہوگی یعنی کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ اول تو یہ کھولتا پانی منہ اور ہونٹوں کو ہی جلادے گا اور اگر اس کا ایک آدھ گھونٹ اندر بھی چلا گیا تو جیسا کہ سورة محمد میں بیان ہوا ہے۔ فقطع امعا ھم (آیت) ان کی آنتوں کو کاٹ کر نیچے پھینک دے گا۔ وہ آنتیں پھر اپنی جگہ پر واپس آئیں گی اور پھر کٹ کر نیچے گر پڑیں گی۔ ان کو اسی طرح سزا ملتی رہے گی۔ جیسا انسانی کھالوں کے متعلق فرمایا کلما فضجت جلودھم بدلنھم خلودا غیرھا (النساء 56) جب ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ان کی جگہ دوسری کھالیں پہنا دی جائیں گی اور یہ عمل اسی طرح جاری رہے گا۔ فرمایا کھانے کے لیے تھوہر اور پینے کے لیے گرم کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا ثم ان مرجعھم لا الی الجحیم پھر ان کا لوٹایا جانا جہنم کی طرف ہوگا۔
اندھی تقلید
فرمایا ان کی یہ سخت سزا اس وجہ سے ہوگی انھم الفوا اباء ھم الضالین کہ انہوں نے اپنے ابائو اجداد کو گمراہ پایا مگر اس سے بچنے کی بجائے فھم علی اثارھم یھدعون یہ بھی انہی کے نقش قدم پر دوڑتے رہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل و شعور سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا اور کبھی خیال نہ کیا کہ ہمارے آبائو اجداد تو غلط راستے پر جا رہے ہیں ، ہم ان کے پیچھے کیوں چلیں ؟ مگر وہ بلا سوچے سمجھے باپ دادا کے دین پر چلتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ ہم تو وہی کچھ کریں گے جو کچھ ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہم ان کا طریقہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ قرآن نے فرمایا اولو کان اباء ھم لا یعقلون شیا ولا یھتدون (البقرۃ 170) اگرچہ ان کے آبائو اجداد نہ عقل رکھتے ہوں اور نہ وہ راہ ہدایت پر ہوں ، یہ پھر بھی انہی کے طریقے پر انہی کی طرح گمراہی کے گڑھے میں جاگریں گے۔ یہی اندھی تقلید ہے جس کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ ہاں اگر آبائو اجداد صراط مستقیم پر ہوں تو پھر ان کے نقش قدم پر چلنا عین سعادت اور فخر کی بات ہے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید کے دوران کہا تھا واثبعت ملۃ ابا ی ابراھیم و اسحاق و یعقوب (یوسف 38) میں تو اپنے آبائو اجداد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کا اتباع کرتا ہوں۔ وہ سب اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور راہ راست پر چلنے والے تھے ، لہٰذا میں نے بھی انہی کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ فرمایا یہ لوگ بھی اندھی تقلید کرکے گمراہ ہوئے ولقد ضل قبلھم اکثر الاولین البتہ تحقیق ان سے پہلے بھی زیادہ تر لوگ گمراہ ہی ہوئے۔ یہ نزول قرآن سے پہلے لوگوں کا ذکر ہے کہ وہ بھی اندھی تقلید میں مبتلا ہو کر گمراہی کے راستے پر ہی چلتے رہے۔ انہوں نے بھی اللہ کے نبیوں ، مبلغین اور خیر خواہوں کی بات کو نہ سنا اور نہ ہی اپنی عقل سے کام لیا۔ اس بات کا احساس انہیں قیامت والے دن ہوگا۔ جب اللہ کے حضور پیشی ہوگی تو اس وقت افسوس کا اظہار کریں گے۔ کاش کہ ہم نے اللہ اور رزسول کی بات مانی ہزوتی تو مبتلائے عذاب نہ ہوتے۔ اس وقت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کریں گے وقالوا ربنا انا اطعنا سادتنا وکبراء نا فاضلونا السبیلا (الاحزات 67) اے ہمارے پروردگار ! ہم نے دنیا میں اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی جنہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کردیا۔ ہم تو ان کا کہنا مان کر اس مصیبت کو پہنچے ، لہٰذا آج ان کو دگنا عذاب دے کیونکہ ہمارے یہ بڑے خود بھی گمراہ ہوئے اور ہمیں بھی گمراہ کیا۔ اللہ فرمائے گا کہ صرف ان کو ہی ڈبل سزا نہیں ملنی چاہئے بلکہ تمہیں بھی دوہری سزا ملے گی۔ جس طرح تمہارے آبائو اجداد گمراہ ہوئے اور دوسروں کو کیا ، اسی طرح تم بھی گمراہ ہوئے اور تم نے بھی آگے بہت سوں کو گمراہی کے راستے پر چلایا۔ لہٰذا آج اس دوہری گمراہی کی دوہری سزا بھگتو۔
منذرین کی آمد
ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا فیھم منذرین اور البتہ تحقیق ہم نے ان میں ڈر سنانے والے بھیجے جو ان کو برے انجام سے خبردار کرتے رہے وہ انہیں کفر ، شرک اور معاصی سے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے مگر انہوں نے ان کی ایک نہ مانی۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین پھر دیکھو کیسا انجام ہوا ڈرائے ہوئے لوگوں کا۔ ان نافرمانوں میں سے کوئی گرفت الٰہی سے نہ بچ سکا۔ قرآن پاک میں مختلف اقوام کے جستہ جستہ حالات بیان ہوئے ہیں۔ بعض کو اللہ نے پانی میں غرق کیا ، کسی کو تند ہوا کی بھینٹ چڑھایا کسی پر سخت چیخ آئی ، کسی پر زلزلہ آیا او کسی قوم پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ بعض نافرمان ایسے بھی تھ جن کو اہل ایمان کے ہاتھوں سے سزا دی گئی۔ اس طرح کوئی نافرمان بھی برے انجام سے نہ بچ سکا۔ الا عباد اللہ المخلصین سوائے اللہ کے منتخب اور برگزیدہ بندوں کے۔ یہ لوگ بچ گئے اور آئندہ بھی بچتے رہیں گے۔ تاریخ انبیاء سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لا کر ان کا اتباع کیا ، اللہ نے ان کو ہر آفت سے محفوظ رکھا۔ ایسے لوگ کافروں ، مشرکوں اور نافرمانوں والی زد میں نہیں آئیں گے ، باقی سب ہلاک ہوں گے جیسے کہ پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔