36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 36:1–7

وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 36:2 in the Quran reader

قسم ہے حکمت والے قرآن کی

اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:3 in the Quran reader

بیشک آپ اللہ کے رسولوں میں سے ہیں

عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ Open ayah 36:4 in the Quran reader

سیدھے راستے پر ہیں

تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 36:5 in the Quran reader

(قرآن) اتارا ہوا ہے کمال قدرت رکھنے والے اور نہایت مہربان خدا کی طرف سے

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 36:6 in the Quran reader

تاکہ آپ ڈرائیں اس قوم کو کہ نہیں ڈرائے گئے ان کے آبائو اجداد ، پس وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:7 in the Quran reader

البتہ تحقیق ثابت ہوگئی ہے یہ بات ان کی اکثریت پر ، پس وہ نہیں ایمان لائیں گے

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة یسین ہے جو کہ اس کے ابتدائی لفظ سے ماخوذ ہے۔ اس کا دوسرا (ابوسعود ص 247 ج 4 و قرطبی ص 1 ج 15) نام سورة المعمۃ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ سورة دنیا و آخرت کی بہتری پر مشتمل ہے۔ مفسرین (السراج المنیر ص 335 ج 3) اس کا تیسرا نام دافعہ بیان کرتے ہیں کہ یہ برائی کو دور کرنے والی سورة ہے۔ اس کا ایک نام (السراج المنیر ص 335 ج 3) قاضیہ بھی ہے کو ین کہ اس کی تلاوت انسانی حاجات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ سارے نام امام بیضاوی نے اپنی تفسیر (بیضاوی ص 276 ج 2) میں بیان کئے ہیں۔ یہ سورة مکی دور کے وسطی زمانہ میں سورة جن کے بعد نازل ہوئی۔ اس کی تراسی آیات اور پانچ رکوع ہیں۔ یہ سورة سات سو انتیس کلمات اور تین ہزار حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی چار بنیادی عقائد نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہے اور ساتھ رسالت کا بیان ہے۔ اس ضمن میں بہت سے تاریخی واقعات بھی ذکر کئے گئے ہیں۔ توحید خداوندی کا ذکر بڑے کمال طریقے سے کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ پورے طریقے سے مشرکین کا رد ہے اس سورة میں پورے دلائل کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ مخلوق میں سے انسان ہزوں یا جن یا ملائکہ ، اولیاء ہوں یا اصفیا ، شمس و قمر ہوں یا دریا اور پہاڑ سب کے سب اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ وہ عالم الغیب اور علیم کل ہے۔ اس بات کو بڑے اچھے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر بھی انسانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یہ چاروں مضامین آگے چل کر سورة الواقعہ میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ وہاں پر چھوٹی چھوٹی آیتوں میں مجازات (جزائے عمل) کا پہلو غالب ہے مگر یہاں پر تمام مضامین یکساں طور پرز دوسرے عنوانات کے تحت بیان کیے گئے ہیں۔ احادیث میں اس سورة مبارکہ کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (قرطبی ص 1 ج 15 و حقانی ص 119 ج 6 و جمل ص 501 ج 3 و خازن ص 2 ج 6) ہے ان لکل شئی قلب و قلب القران یسین ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن پاک کا دل سورة یسین ہے۔ انسانی قلب کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ جسم کا ایک ایسا عضو ہے کہ اگر یہ درست ہے تو سارا جسم درست ہے اور اگر یہی عضو بگڑا ہوا ہے تو سارا جسم فاسد ہوتا ہے۔ گویا جسم کی درستگی کا مدار قلب کی درستگی پر ہے۔ سورة بقرہ کو اونٹ کی کوہان کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے کہ جس طرح کوہان اونٹ کا بلند ترین حصہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سورة بقرہ بھی قرآن کا بلند ترین حصہ ہے اور یہاں سورة یسین کو قرآن کا دل اس لیے کہا گیا ہے کہ ایمان دل میں ہوتا ہے عقیدے سے تعلق رکھنے والے جذبات اور محبت ، نفرت ، خوش اخلاقی ، بد اخلاقی ، ایمان ، کفر ، شرک ، نفاق وغیرہ کا تعلق دل سے ہے۔ گویا نجات اور فلاح کا مدار صحیح ایمان پر ہزے۔ اگر قلب میں ایمان صحیح ہوگا تو انسان کے حالات اس دنیا میں بھی درست ہوں گے اور آخرت میں بھی فوز و فلاح نصیب ہوگی اور اگر ایمان میں ہی خرابی ہے تو کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ غرضیکہ اللہ کی وحدانیت اور رسالت پر یقین ، اللہ کی کتاب پر ایمان ، حشر نشر کے واقعات پر یقین ، سب اس سورة میں مذکور ہیں۔ اس لیے اس سورة کو قرآن کا قلب کہا گیا ہے ، گویا کہ اس سورة میں کامیابی کے تمام اصول بیان کردیے گئے ہیں۔ اس سورة مبارکہ کی فضیلت میں مفسرین (قرطبی ص 2 ج 15 و حقانی ص 119 ج 6 و جل ص 501 ج 3) کرام مسند ابو یعلیٰ کے حوالہ سے یہ حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا من فرافی لیلۃ اصبح مغفورا لہ جو شخص رات کے وقت سورة یسین کی تلاوت کرے گا ، اس کو صبح کے وقت خدا تعالیٰ کی جانب سے بخشش و مغفرت کا پروانہ ملے گا یہ مسند احمد (مسند احمد وعمل الیوم والیل ص 2) (قرطبی ص 1 ج 15 و خازن ص 2 ج 6 و جمل ص 501 ج 3) میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی آتا ہے جسے امام نسائی نے عمل الیوم والیل میں نقل کیا ہے کہ سورة یسین قرآن کا دل ہے لا یقرء ھا رجل یرید اللہ والدار الاخرۃ الا غفرلہ جو شخص اس سورة کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے گھر کی تلاش کے لیے پڑھے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو ضرور بخش دے گا۔ فرمایا (در منشور ص 256 ج 5 و ابن کثیر ص 563 ج 3) اقرء ھا علی موتاکم تم اسے اپنے قریب المرگ لوگوں کے پاس پڑھا کرو تاکہ انہیں صحیح ایمان نصیب ہو۔ اس سورة میں ایمان کے تمام اصول بیان کردیئے گئے ہیں۔ مسند بزار کے حوالے سے مفسرین کرام (حقانی ص 199 ج 6) یہ حدیث بھی بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا لودوث انھا فی کل قلب انسان من امتی میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ یہ سورة میری امت کے ہر شخص کے دل میں ہو یعنی ہر شخص کو اسے حفظ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں (حقانی ص 119 ج 6) کہ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ سورة یسین پڑھنے سے اللہ تعالیٰ آمدہ سختی کو دور کردیتے ہیں اور موت کے وقت یہ سورة پڑھنے سے روح آسانی سے نکلتی ہے اور ایمان بھی نصیب ہوتا ہے۔ مفسر (طبری ص 148 ج 22 و ابن کثیر ص 563 ج 3 و زاد المسیر ص 3 ج 7) حقانی (رح) یہ بھی لکھتے ہیں کہ زندگی کی مہمات یعنی عام اہم مواقع پر اس سورة کی تلاوت اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ حروف یسین یسین حروف مقطعات میں سے ہے۔ مفسرین کرام نے ان حروف کے مختلف معانی بیان کئے ہیں۔ بعض یسین کو اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ میں شمار کرتے ہیں۔ اگر یہ بات درست تسلیم کرلی جائے تو پھر کسی شخص کا نام یسین نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء مختصہ میں سے ہے اور ایسے اسماء کا اطلاق مخلوق پر نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی دیگر اسماء رحمان ، خالق اور اللہ وغیرہ ہیں جو کسی انسان کے نام نہیں ہوسکتے۔ البتہ بعض اسمائے ربانی ایسے بھی ہیں جو کسی حد تک مخلوق کے لیے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً رحیم ، کریم ، مالک ، عالم ، رئوف وغیرہ اور اگر یسین کو اللہ کے اسمائے مختصہ میں شمار نہ کیا جائے تو پھر اس کا اطلاق کسی آدمی پر بھی ہزوسکتا ہے مگر اس کے معنی کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ جب اسی نام کو خدا تعالیٰ کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا اطلاق اس طرح ہوگا جس طرح اس کی شان کے لائق ہے اور اگر اس کا اطلاق کسی انسان پر کیا جائے تو اس کی مناسبت انسان کی حالت کے ساتھ ہوگی۔ مثلاً رئوف کا نام اللہ تعالیٰ اور بندے دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر دونوں جگہ مفہوم مختلف ہوگا۔ جب صفت رافت کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے گا ، تو معنی یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ مہربانی اور فیضان فرماتا ہے اور جب یہ لفظ کسی انسان کے لیے استعمال کیا جائے گا تو وہاں پر رافت سے مراد درد دل اور شفقت ہوگی جو کسی کی خستہ حالت دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور پھر ایسا شخص ضرورت مند کی حاجت براری بھی کرتا ہے۔ دل میں درد پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس کا تعلق مادیت سے ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات تمام مادی تصورات سے پاک ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں (روح البیان ص 364 و کشاف ص 3 ج 4 و زاد المسیر ص 4 ج 7 و صفوۃ التفاسیر ص 5 ج 3) کہ یسین سورة کا نام ہے اور بعض ( زاد المسیر ص 3 ج 7 و فتح القدیر ص 358 ج 4 و مدارک ص 2 ج 4 والاتقان ص 30 ج 2 والبحر المحیط ص 323 ج 7) کہتے ہیں کہ یہ حضور ﷺ کا نام مبارک ہے ، بالکل اسی طرح جس طرح طہ حضور ﷺ کا نام ہے۔ بعض (خازن ص 2 ج 6 و تفسیر المراغی ص 145 ج 22 والبحر المحیط ص 323 ج 7 و معالم التنزیل ص 200 ج 3) یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ یا اور سین دو حروف کا مرکب ہے اور اس کا معنی ہے ” اے انسان “ عرب کے مشہور قبیلہ بنی طی کے ہاں اس لفظ کا یہی معنی لیا جاتا ہے۔ بعض (تفسیر الثالبی ص 3 ج 4 و در منشور ص 258 ج 5) فرماتے ہیں کہ یہ معنی حبشہ کی زبان میں لیا جاتا ہے ، گویا یہ انسان سے خطاب کیا گیا ہے۔ بعض نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یا کا اشارہ یوم میثاق یعنی اس دن کی طرف ہے جب اللہ نے بنی آدم کی تمام ارواح سے عہد لیا تھا فرماتے ہیں کہ س کا اشارہ راز کی طرف ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا راز۔ بعض یہ بھی فرماتے (خازن ص 2 ج 6 و مظہری ص 71 ج 8 والاتقان ص 30 ج 2 و فتح القدیر ص 360 ج 4) ہیں یسین حضور ﷺ کی طرف خطاب ہے اور معنی یہ ہے یا سید البشر یعنی اے بنی نوع انسان کے سردار۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے خود فرمایا انا سید البشر انا سید ولد ادم یعنی میں تمام نسل انسانی کا سردار ہوں ، فرمایا یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا بلکہ یہ تو میرے اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھے اس منصب پر فائز فرمایا ہے۔ قیامت والے دن جب تمام اولین و آخرین جمع ہوں گے تو حضور ﷺ کی قیادت عامہ کا ظہور اس وقت ہوگا اور ساری مخلوق جان لے گی کہ آپ واقعی سید البشر ، سید الثقلین اور سید ولد آدم ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یسین کے تینوں حروف ، سی سی اور ن میں شرائط ہوتی ہیں اور اس سے مراد ایک خاص قسم کا نور ہے جو کائنات میں سرایت کر رہا ہے۔ اس نور کا نزول قرآن پاک اور اس سورة مبارکہ کے ذریعے ہو رہا ہے اور اسی نور سے کائنات کی ہدایت اور راہنمائی کا پروگرام سامنے آرہا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ کا آغاز حروف مقطعات سے کیا ہے۔ یسین اور اس کے معانی کی طرف میں نے اشارہ کردیا ہے ویسے جلالین (جلالین ص 2 ج 1) والے بزرگ فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات کے بارے میں زیادہ سلامتی والا پہلو یہی ہے کہ اللہ اعلم بمردہ بذلک امنا وصدقنا اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے۔ اس سے جو بھی مراد ہے ہمارا اس پر ایمان ہے لہٰذا ان حروف کے معانی میں زیادہ کرید نہیں کرنی چاہئے۔ قرآن پاک کی حقانیت سورۃ ہذا کا مضمون قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت سے شروع کیا گیا ہے۔ آگے رسالت کے بیان میں تاریخ رسالت کے کئی واقعات آئیں گے اور ساتھ ساتھ محاسبہ اعمال کا ذکر ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے والقران الحکیم قسم ہے حکمت والے قرآن کی ، یعنی قرآن پاک کا پروگرام قطعی اور یقینی ہے اور اس میں شک و تردد والی کوئی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کوئی خلاف واقعہ بات ہے۔ یہ حکیم ہے کہ اس کی ہر بات مبنی بر حکمت ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہوا اور یہ کلام انسانی ذرائع علم سے بلند تر ہے۔ حکیم سے مراد مستحکم بھی ہزوسکتا ہے یعنی قسم ہے مستحکم اور پکے قرآن پاک کی۔ اس کی ہر بات پختہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں فرمایا کہ یہ ایسی کتاب ہے لاریب فیہ جس میں کسی قسم کا شک اور تردد نہیں کیا جاسکتا۔ تصدیق رسالت اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور رسول کی رسالت کی تصدیق کی ہے اور اس کے بعد پھر قرآن پاک کے نزول اور مقصد نزول کا ذکر ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے انک لمن المرسلین بیشک آپ اللہ کے رسولوں میں سے ہیں۔ گزشتہ سورة میں گزرچکا ہے کہ مشرکین مکہ حضور ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم نہیں کرتے تھے اور اس معاملہ میں طرح طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ چونکہ مشرک لوگ انکار رسالت میں شدید تھے تو اللہ نے یہاں پر تصدیق رسالت بھی اسی قدر پختہ طریقے سے قسم اٹھا کر کی یعنی قسم ہے حکمت والے یا مستحکم قرآن کی کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسولوں میں سے ہیں اور سلسلہ رسالت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ خاتم النبیین ہیں ، سید ولد آدم ہیں ، انسان کامل ہیں اور تمام انبیاء کے بھی نبی ہیں۔ ساتھ یہ بھی فرمایا علی صراط مستقیم آپ اللہ کے قائم کردہ بالکل سیدھے راستے پر ہیں۔ آپ اسی شاہراہ پر چل رہے ہیں جو خطیرۃ القدس اور اللہ کی رحمت کے مقام تک جاتی ہے۔ آپ کا قول ، فعل ، عمل اور عقیدہ سب کچھ صحیح ہے۔ آپ بالکل صراط مستقیم پر ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا کہ آپ تو بلاشبہ صراط مستقیم پر ہیں۔ اور ساتھ ساتھ وانک لتھدی الی صراط مستقیم (الشوریٰ 52) اور دوسروں کی بھی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ بھی منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔ مقصد نزول قرآن اللہ نے ابتدائی آیت میں جس قرآن حکیم کی قسم اٹھا کر حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی دی تھی ، اس قرآن کے متعلق فرمایا تنزیل العزیز الرحیم ، یہ غالب اور ازحد مہربان خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اگر اس کی مہربانی شامل حال نہ ہوتی تو انسان ہدایت الٰہی سے محروم رہتے۔ اللہ نے یہ قرآن نازل فرما کر بڑا احسان فرمایا۔ سورة ابراہیم کی ابتداء میں نزول قرآن کی غایت یہ بیان کی گئی ہے لتخرج الناس من الظلمت الی النور (آیت 1) تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں۔ لوگ اخلاقی ، روحانی ، مادی غرضیکہ ہر قسم کے اندھیروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کہیں گمراہی کے اندھیرے ہیں تو کہیں لہو و لعب کے اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ لوگوں نے اس وقت مادیت کا کلوروفارم سونگھ رکھا ہے۔ مرنے کے بعد یہ نشہ اتر جائے گا تو پتہ چلے گا کہ ہم دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نزول کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے لتنذر قوما ما انذر ابائوھم فھم غفلون تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈراویں جن کے آبائو اجداد کو نہیں ڈرایا گیا ، اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے بنی اسماعیل مراد ہیں کہ اس قوم میں قریباً دو ہزار سال تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا۔ بنی اسرائیل میں تو پے در پے نبی آتے رہے مگر بنی اسماعیل میں آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوا۔ بنی اسماعیل کے ہزاروں خاندان اور آگے ہزاروں شاخیں تھیں۔ یہ وسیع سلسلہ نسب ہے جو عرب میں اور عرب سے باہر خراسان کے پرلے کناروں تک پھیلا ہوا تھا ، مگر قریب زمانے میں ان کے پاس کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا تھا۔ اسی لیے فرمایا کہ اے اللہ کے آخری نبی ! آپ ان لوگوں کو ڈرا دیں جن کے پاس زمانہ قریب میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ، ساتھ یہ بھی فرمایا لقد حق القول علی اکثرھم کہ ان میں سے اکثر پر یہ بات ثابت ہوچکی ہے فھم لا یومنون کہ آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کی اکثریت کفر و شرک میں ہی مبتلا رہے گی۔ چناننچہ ان کے خلاف بڑی جنگیں لڑی گئیں ، ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر یہ لوگ نابود تو ہوگئے مگر ایمان نہیں لائے۔ اب اگلی آیات میں اللہ نے ہدایت اور گمراہی کی حکمت اور فلسفہ بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 36:8–12

اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ Open ayah 36:8 in the Quran reader

بیشک ہم نے کردیے ہیں ان کی گردنوں میں طوق ، پس وہ ٹھوڑیوں تک (اٹھے ہوئے ہیں) پس ان کے سر اوپر کو اٹھ رہے ہیں

وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:9 in the Quran reader

اور بنائی ہے ہم نے ان کے سامنے رکاوٹ اور ان کے پیچھے بھی رکاوٹ ، پس ہم نے ان کو ڈھانپ دیا ہے ، اوپر سے ، پس وہ نہیں دیکھتے

وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 36:10 in the Quran reader

اور برابر ہزے ان پر کہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ، وہ ایمان قبول نہیں کریں گے

اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ١ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ Open ayah 36:11 in the Quran reader

بیشک آپ اس کو ڈر سناتے ہیں جو پیروی کرتا ہے نصیحت کی اور ڈرتا ہے رحمان سے بغیر دیکھے ، پس آپ خوشخبری دے دیں اس کو بخشش اور عزت والے اجر کی

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ١ۣؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 36:12 in the Quran reader

بیشک ہم زندہ کرتے ہیں مردوں کو اور لکھتے ہیں وہ جو آگے بھیجا اور ان کے نشانات بھی اور ہر چیز کو ہم نے شمار کر رکھا ہے ایک کھلی کتاب میں

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا اور پھر ساتھ نبوت و رسالت کی تصدیق کی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ پھر اللہ نے قرآن حکیم کے نزول کی غایت یہ بیان کی کہ تاکہ آپ اپنے اولین مخاطبین مشرکین مکہ کو ڈرا دیں جن کے آبائو اجداد کے پاس قریبی زمانہ میں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا مگر ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ آپ کی تمام تر مساعی کے باوجود ان لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہے گی۔ گلے کے طوق اب آج کی آیات میں ایمان نہ لانے والوں کی حالت کا تذکرہ کیا گیا ہے اور خوف خدا رکھنے والوں کے بعض اوصاف بیان ہوئے ہیں۔ اس کمے بعد اللہ نے جزائے عمل کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے انا جعلنا فی اعناقہم غللا ہم نہ ماننے والوں کے گلے میں طوق ڈال دیتے ہیں۔ فھی الی الازقان اور یہ ان کی ٹھوڑیوں تک اٹھے ہوئے ہیں ، جس کی وجہ سے فھم مقمحون ان کے سر اوپر کو اٹھ رہے ہیں۔ ہاتھوں میں ہتھکڑی ، پائوں میں بیڑیاں اور گلے میں طوق ہونا سزا کی علامت ہے یعنی یہ شخص مجرم ہے جس کو سزا دی جارہی ہے اور یہاں جس طوق کا ذکر کیا گیا ہے وہ اتنا بڑا اور بھاری ہے کہ جب گلے میں پہنایا گیا ہے تو ٹھوڑی تک بھر گیا ہے جس کی وجہ سے اس کا سر اگلی طرف سے اوپر کو اٹھ گیا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ خواب میں ہتھکڑی یا بیڑی پہننا اچھائی کی علامت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص دین میں پختہ ہے۔ البتہ اگر خواب میں کوئی دیکھے کہ اس نے گلے میں طوق پہن رکھا ہے تو یہ سخت ذلت کی نشانی ہے۔ آگے پیچھے دیواریں ایمان سے محروم رہنے والے لوگوں کی دوسری بدبختی اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے وجعلنا من بین ایدیھم سدا ہم نے ان کے آگے بھی دیوار کی رکاوٹ کھڑی کردی ہے ومن خلفھم سدا اور ان کے پیچھے بھی ایسی ہی رکاوٹ ہے فاغشینھم ہم نے ان کو اوپر سے ڈھانپ دیا ہے۔ فھم لا یبصرون لہٰذا وہ نہیں دیکھ سکتے۔ ظاہر ہے کہ جس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں رکاوٹ کھڑی کردی جائے اور اوپر سے بھی کوئی خیمہ وغیرہ ڈال کر ڈھانپ دیا جائے تو اسے کسی طرف سے کچھ بھی نظر نہیں آئے گا۔ اللہ نے نافرمانوں اور گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کی یہ مثال بیان کی ہے کہ وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں اور انہیں کہیں سے بھی راستہ نظر نہیں آتا جس پر چل کر وہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ سرگرداں پھرتے رہتے ہیں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا وسواء علیہم انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون آپ کی طرف سے ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ ایسے لوگوں کے گلے میں غلط نظریات اور باطل رسوم کے طوق پڑے ہوئے ہیں۔ نفسانی خواہشات نے ان کو اگلی طرف سے روک رکھا ہے اور پیچھے سے مادی عیش و عشرت کی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا انہیں اصل منزل کی طرف جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ شاہ ولی اللہ کا فلسفہ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ لوگ حجاب طبع اور حجاب رسم میں مبتلا ہیں۔ حجاب طبع سے مراد مادی ضروریات کا حجاب ہے ، گویا یہ لوگ اچھا کھانے ، اچھا پہننے ، اچھی رہائش ، اچھی سواری کی فکر میں ہی مبتلا رہتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) کے بقول یہ لوگ مادیت کے گارے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سامنے خواہشات کی دیوار ہے اور پیچھے مادیت کا گارا ہے۔ جب انسان مادیت کے خول سے باہر نکلتا ہے تو رسوم کی دلدل میں پھنس جاتا ہے جسے حجاب رسم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر وہ اپنے خاندان ، برادری ، علاقائی اور ملکی رسم و رواج کی طرف دیکھتا ہے کہ دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی بلاسوچے سمجھے انہی کے پیچھے چلنا شروع کردے چناچہ جس طرح دوسرے لوگ شان و شوکت کے اظہار والے مکان بناتے ہیں۔ وہ بھی بنانے لگتا ہے ، جس طرح کی دھوم دھام سے وہ شادیاں کرتے ہیں ، یہ بھی ان کی نقالی کرتا ہے ، جس طرح وہ عرس مناتے ، قوالی کراتے ، قبروں کو پختہ بناتے ، اوپر غلاف چڑھاتے اور نذر و نیاز پیش کرتے ہیں ، اسی طرح یہ بھی کرنے لگتا ہے۔ موت کی رسوم میں بھی یہ یخص اپنی قوم اور برادری کے نقش قدم پر چلتا ہوا حیثیت سے بڑھ کر کام کرجاتا ہے ، امیر لوگ تو اپنی دولت کے بل بوتے پر پیدائش ، شادی اور اموت کو دھوم دھام سے مناتے ہیں مگر ایک غریب آدمی بھی ان سے پیچھنے نہیں رہنا چاہتا۔ یہ حجاب طبع اور حجاب رسم کا طوق ہے جو اس کے گلے میں پڑا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے اس کا سر اوپر کو اٹھا ہوا ہے ، آگے اور پیچھے نفسانی خواہشات اور مادی عیش و عشرت کی دیواریں کھڑی ہیں جو اسے حقیقت ایمان سے واقف نہیں ہونے دیتیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی انہی چکروں میں ختم ہوجاتی ہے مگر اسے توحید خالص سے شناسائی نہیں ہوتی۔ ان آیات سے بظاہر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی کسی انسان کے گلے میں طوق ڈال دیا ہے ، اس کے آگے پیچھے دیواریں کھڑی کرکے اوپر سے بھی ڈھانپ دیا ہے تو پھر اس سے صراط مستقیم پر چلنے کی امید کس طرح کی جاسکتی ہے اور اسے مکلف کیوں کر ٹھہرایا جاسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ابتداء ہی میں کسی شخص کے راستے میں مذکورہ رکاوٹیں کھڑی نہیں کردیتا بلکہ پہلے ہدایت کے جملہ اسباب مہیا کرکے اور ہدایت اور گمراہی کے اصول واضح کرکے اسے اختیار دیتا ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے جونسا راستہ چاہے اختیار کرلے۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں (بیضاوی ص ج) کہ اللہ نے انسان کی ہدایت کے تمام اسباب مہیا کردیے ہیں جن میں سے اولین سبب عقل جیسا جوہر کامل ہے۔ حدیث (مشکوۃ ص 430 بحوالہ بیہقی شعب الایمان) میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کو بلا کر فرمایا کہ میں تیری وجہ سے ہی مواخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے ہی گرفت کروں گا ، عقل بہت بڑی نعمت ہے جس کے ذریعے انسان غور و فکر کرکے اچھائی اور برائی میں امتیاز کرتا ہے۔ نیکی اور بدی کی پہچان کرتا ہے ، سن بلوغت کو پہنچنے پر انسان کی عقل بھی کامل ہوجاتی ہے لہٰذا اس وقت وہ مکلف بن جاتا ہے اور اپنے عقیدے اور عمل کا جوابدہ ہوجاتا ہے۔ اس پر قانون کی پابندی لازم ہوجاتی ہے اور خلاف ورزی پر ماخوذ ہوتا ہے۔ عقل کے بعد ہدایت کے دوسرے اسباب میں عقل کے خدام سماعت ، بصارت ، سونگھنا ، ٹٹولنا اور ذائقہ وغیرہ حواس ہیں جو جملہ معلومات جمع کرکے عقل کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر عقل ان کے درمیان فیصلہ کرتی ہے کہ کس چیز کو اختیار کرنا ہے اور کس کو چھوڑ دینا ہے۔ اسی طرح حواس باطنہ بھی اسباب ہدایت میں سے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کو قوت وہمیہ ، خیالیہ ، حس مشترک ، قوت متفکرہ وغیرہ عطا کی ہیں جن کو بروئے کار لا کر انسان اچھائی اور برائی میں تمیز کرسکتا ہے۔ ان اسباب کے علاوہ اللہ نے انسان کو جسم اور صحت عطا فرمائی ہے۔ اپنے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کی ہیں۔ گویا ہدایت کے سامان مہیا کرنے کے بعد فرمایا۔ فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر (الکہف 29) جس کا جی چاہے ایمان قبول کرلے اور جس کا جی چاہے کفر کا راستہ اختیار کرلے۔ اللہ تعالیٰ یہ اختیار سلب نہیں کرتا بلکہ قولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسا ت مصیرا (النساء 115) جدھر کوئی جانا چاہتا ہے ادھر ہی کی توفیق دے دیتا ہے پھر جب کوئی غلط راستہ اختیار کرتا ہے۔ کفر ، شرک اور معافی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو اسے جہنم تک پہنچاتا ہے جو کہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اسی لیے ایمان کو اپنے ارادے اور اختیار سے قبول کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی شخص نے اضطراری حالت میں ایمان کی تصدیق کردی تو وہ معتبر نہیں ہوگی ، بلکہ ایمان کی تصدیق وہ قابل قبول ہوگی جو ارادے اور اختیار سے کی جائے گی۔ ان تمام تر اسباب ہدایت کے باوجود جب کوئی شخص اپنے اختیار سے ہدایت کا راستہ قبول نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے گلے میں طوق ڈال دیتا ہے ، آگے پیچھے دیواریں کھڑی کردیتا ہے اور اوپر سے بھی ڈھانپ دیتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عمر بھر بھٹکتا پھرتا ہے اور اسے راستہ نہیں ملتا۔ صراط مستقیم سیدھا راستہ تو ان لوگوں کو نظر آئے گا جن میں طلب ہوگی اور وہ اس کے لیے کوشش بھی کریں گے۔ اللہ کا فرمان ہے والذین جاھدوا فینا لنہدینھم سبلنا (العنکبوت 69) جو ہمارے راستے کی تلاش میں محنت کرتے ہیں ہم ان کے لیے ہدایت کا راستہ ضرور واضح کردیتے ہیں اور یہ راستہ اسی صورت میں ملے گا کہ سابقہ کفر ، شرک اور معاصی کو ترزک کردے۔ اپنی سابقہ کوتاہیوں پر تائب ہوجائے۔ جب ایسا ہوگا تو پھر عقل ، حواس ، کتابیں اور نذر سب کارگر ہوں گے اور اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی توفیق عطا کردے گا۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا انما تنذر من اتبع الذکر آپ کا ڈرانا ان لوگوں کے لیے مفید ہوسکتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرتے ہیں۔ جو شخص نصیحت کو اچھا ہی نہیں سمجھتا اس کے لیے نصیحت کارگر نہیں ہوسکتی اور پھر نصیحت اس شخص کے لیے بھی کارآمد ہوگی وخشی الرحمن بالغیب جو خدائے رحمان سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی نے نہیں دیکھا ، نہ جنت دوزخ کو دیکھا ہے ، نہ فرشتوں کو دیکھا ہے اور نہ بعد میں آنے والوں نے اپنے انبیاء کو دیکھا ہے۔ یہ ایمان بالغیب ہی تو ہے۔ ہمارا اس پر بھی یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ومالک ہے اور وہ ہمارا محاسبہ بھی کرے گا۔ ایسے ہی شخص کے لیے آپ کی نصیحت مفید ہوگی فرمایا فبشرہ بمغفرۃ واجر کریم ایسے شخص کے لیے بخشش اور عزت والے اجر کی خوشخبری سنادیں۔ اللہ تعالیٰ چھوٹی موٹی کوتاہیاں معاف فرمادے گا اور ساتھ عزت والا بدلہ بھی عطا فرمائے گا اور بندہ کامیاب ہوجائے گا۔ جزائے عمل کی منزل اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر فرمایا ہے انا نحن نحی الموتی بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے تاکہ ان کا حساب کتاب لے کر جزائے عمل کا فیصلہ کرسکیں اور اس کام کے لیے ونکتب ما قدموا ہم لکھتے ہیں جو کچھ انہوں نے اس زندگی کے دوران اگلی زندگی کے لیے آگے بھیجا۔ واثارھم اور ان کے نشانات بھی لکھتے ہیں تاکہ حساب کتاب کے وقت ہم ان کو ان کا سارا اعمال نامہ دکھاسکیں۔ اگرچہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ تو علیم کل ہے اور وہ ازل سے لے کر ابد تک کی چیزوں کو بغیر لکھے بھی جانتا ہے مگر اس نے لکھنے کا ایک ضابطہ مقرر کردیا ہے جن کو دیکھ کر انسان اپنے کردہ اعمال کو پہچان لیں گے۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے نگران اور محافظ فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں جو ہر انسان کے ہر عمل کو محفوظ کر رہے ہیں اور اپنے رجسٹروں میں درج کر رہے ہیں۔ آثار کی توضیح آگے بھیجے جانے والے تو وہ نیک یا بد اعمال ہیں جو انسان دنیا میں کماتے ہیں اور آثار سے مراد وہ نشانات ہیں جو انسان اپنے پیچھے اس دنیا میں چھوڑ جاتے ہیں پیچھے رہ جانے والوں میں آثار اطاعت بھی ہیں اور آثار معصیت بھی۔ حضور علیہ الصلو والسلام کا ارشاد مبارک (مظہری ص 73 ج 8) ہے کہ جو شخص دنیا میں کوئی اچھی چیز چھوڑ جاتا ہے اس کا اجر اس کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے اور جو کوئی بری رسم چھوڑ جاتا ہے تو اس پر عمل کرنے والوں کا ایک ایک گناہ اس شخص کو بھی ملتا رہتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ بند کردیا جاتا ہے۔ البتہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی برابر ملتا رہتا ہے۔ فرمایا ایک صدقہ جاریہ ہے کہ آدمی رفاہ عامہ کا کوئی کام کرگیا ہے کوئی مسجد یا مدرسہ یا سرائے بنوا گیا ہے یا کنواں لگوا گیا ہے تو اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا۔ دوسری چیز نافع علم ہے۔ تقریر و تحریر کی صورت میں علم چھوڑ گیا ہے۔ قرآن و سنت کی توضیح ہے یا احکام دین کی تشریحات ہیں ، تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کا ثواب جاری کنندہ کو بھی ملتا رہے گا۔ فرمایا تیسری چیز نیک اولاد ہے جو مرنے والے کے لیے بخشش کی دعائیں کرتی ہے ، یہ چیزیں آثار میں داخل ہیں جن کے متعلق یہاں فرمایا ہے کہ ہم ان کو بھی لکھتے ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں بنی سلمہ کے لوگ مسجد نبوی سے کچھ فاصلے پر رہتے تھے۔ مسجد کے قریب کچھ مکانات خالی ہوئے تو ان لوگوں نے وہاں منتقل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ، تاکہ مسجد سے قریب ہوجائیں۔ حضور ﷺ کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنی جگہ پر وہیں ٹھہرے رہو کیونکہ تم جتنے قدم چل کر مسجد میں آتے ہو وہ لکھے جا رہے ہیں۔ جب تک دور سے آتے رہو گے تو زیادہ قدم لکھے جاتے رہیں گے ، لہٰذا تمہارا فائدہ دور رہنے میں ہی ہے۔ حدیث (مظہری ص 74 ج 8) کے الفاظ میں دیارکم تکتب اثارکم تم اپنے محلے میں ٹکے رہو کہ تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں غرضیکہ قدموں کے نشانات کو بھی حضور ﷺ نے آثار میں شمار کیا ہے۔ کسی بھی نیک کام کے لیے انسان چل کر جائے تو اس کے نقوش ہائے قدم کا حساب رکھا جاتا ہے اور اسے اجر ملتا ہے۔ فرمایا وکل شی احصینہ فی امام مبین ہم نے انسان کی ہر چیز کو کھلی کتاب میں شمار کر رکھا ہے جو کہ اللہ کے علم کا نمونہ لوح محفوظ ہے۔ یہ سارا اعمالنامہ قیامت والے دن پیش کیا جائے گا اور پھر اس کے مطابق جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔
Ayahs 36:13–19

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِ١ۘ اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ Open ayah 36:13 in the Quran reader

اور بیان کریں آپ ان کے سامنے مثال بستی والوں کی جب کہ آئے ان کے پاس بھیجے ہوئے

اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ Open ayah 36:14 in the Quran reader

جب کہ ہم نے بھیجا ان کی طرف دو کو ، پھر ان دونوں کو انہوں نے جھٹلایا۔ پھر ہم نے قوت دی ایک تیسرے کے ساتھ تو انہوں نے کہا بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں

قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ Open ayah 36:15 in the Quran reader

کہا ان لوگوں نے نہیں ہو تم مگر انسان ہمارے جیسے اور نہیں اتارا خدائے رحمان نے کسی چیز کو ، نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے

قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:16 in the Quran reader

کہا انہوں نے کہ ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بیشک ہم تمہاری طرف البتہ بھیجے ہوئے ہیں

وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 36:17 in the Quran reader

اور نہیں ہے ہمارے ذمے مگر کھول کر پیغام پہنچا دینا

قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 36:18 in the Quran reader

اور کہنے لگے ، بیشک ہم تمہاری وجہ سے شگون لیتے ہیں۔ اگر تم باز نہیں آئو گے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں گے ، اور پہنچے گا تم کو ہماری طرف سے دردناک عذاب

قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ Open ayah 36:19 in the Quran reader

کہا انہوں نے تمہارا شگون تمہارے ساتھ ہی ہے اس وجہ سے کہ تم کو نصیحت کی گئی ہے ، نہیں بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہوا ، پھر رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اکثر لوگ حجاب طبع یا حجاب رسم میں مبتلا رہ کر ہی زندگی ختم کرلیتے ہیں اور عمر بھر نہ تو وہ ایمان کے معاملے میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اسے قبول کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ مردوں کو زندہ کرنا ہمارا کام ہے ، ہم مقررہ وقت پر انہیں دوبارہ زندہ کریں گے ، ان کے تمام اعمال اور ان کی ہر ہر نقل و حرکت ہمارے پاس لکھی ہوئی ہے جو انہیں نئی زندگی ملنے پر پیش کردی جائے گی اور پھر اس اعمالنامے کی بنیاد پر ان سے حساب کتاب لیا جائے گا اور جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔ بستی میں مرسلین کی آمد سورۃ ہذا کی آیت 3 میں رسالت کا بیان گزرچکا ہے انک لمن المرسلین آپ اللہ کے سچے رسولوں میں سے ہیں۔ اب اسی رسالت ہی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ، بلکہ اللہ کے ہر نبی کے ساتھ لوگوں نے ایسا ہی سلوک کیا۔ اللہ نے ایک بستی کا ذکر کیا واضرب لھم مثلا اصحب القریۃ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں کے سامنے ایک بستی والوں کی مثال بیان کردیں اذ جاء ھا المرسلون جب کہ اس بستی میں اللہ کے بھیجے ہوئے آئے۔ مرسلین کی حیثیت کے بارے میں مفسرین کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں (تفسیر طبری ص 156 ج 12 و البحر المحیط ص 326 ج 7) کہ یہ تین شخص اللہ کے بھیجے ہوئے نبی تھ۔ پہلے اللہ نے ان میں سے دو کو اس بستی میں بھیجا اور پھر ان دو کی تائید کے لیے تیسرے کو بھی بھیجا۔ مفسرین (قرطبی ص 14 ج 15 و معالم التنزیل ص 201 ج 3 و مظہری ص 156 ج 22) ان کے نام صادق ، صدوق اور شلوم بیان کرتے ہیں۔ تاہم اکثر مفسرین (معالم التنزیل ص 201 ج 3 و ابو سعود ص 249 ج 4 و مدارک ص 4 ج 4 و طبری ص 154 ج 22) فرماتے ہیں کہ یہ تین اشخاص اللہ کے براہ راست نبی نہیں تھے بلکہ بالواسطہ طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) کے بھیجے ہوئے ان کے حواری تھے ، جو تبلیغ دین کے لیے اس بستی میں بھیجے گئے تھے۔ مفسرین کا پہلا گروہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل کا ہے جب کہ دوسرا گروہ اسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا واقعہ بتاتا ہے۔ یہاں پر قریہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا اطلاق چھوٹی بستیوں پر بھی ہوتا ہے اور مکہ اور طائف جیسے بڑے شہروں پر بھی۔ مفسرین کرام فرماتے (بیضاوی ص 277 ، ج 2 و قرطبی ص 14 ج 15 و ابو سعود ص 249 ج 4 و کبیر ص 51 ج 26 و مدارک ص 4 ج 4 و طبری ص 155 ج 22 و خازن ص 4 ج 6) ہیں کہ جس بستی کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس سے انطاکیہ کی بستی مراد ہے جو شام میں واقع ہے اور مشہور و معروف بستی ہے۔ یہ بستی ابتداً سکندر اعظم کے زمانے میں آباد ہوئی تھی۔ اس زمانے میں شام اور مصر وغیرہ سلطنت روما میں شامل تھے اور یہاں پر ان کے گورنر رہتے تھے۔ سکندر رومی کے بعد جب یہ بستی ویران ہوگئی تو پھر انٹوکس نامی گورنر یا بادشاہ نے اسے دوبارہ تعمیر کیا ، بہرحال اس بستی میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ تین مبلغین آئے۔ ان کی تبلیغ سے کچھ لوگ ایمان بھی لے آئے چناچہ ایسے ہی ایک مومن شخص کا ذکر آگے آرہا ہے وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی (آیت 20) اس شخص نے مرسلین کی تائید کی تھی جس کی پاداش میں اسے قتل کردیا گیا اور اللہ نے اسے بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ اہل بستی کی طرف سے تکذیب بہرحال اس واقعہ کے متعلق فرمایا اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما جب کہ ہم نے بھیجا اس بستی میں دو مرسلین کو تو اس بستی والوں نے دونوں کو جھٹلا دیا۔ فعرزنا بثالث پھر ہم نے تیسرے مرسل کو پہلے دو کی تائید کے لیے بھیجا۔ کسی کام کی تکمیل کے لیے تائید کا ہونا بھی ضروری ہے ، اسی غرض کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بارگاہ رب العزت میں عرض کی تھی کہ میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو میرا نائب بنا دے واشر کہ فی امری (طہ 32) اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔ چناچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت و رسالت عطا کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا معاون بنا دیا۔ بہرحال اللہ کے مرسلین یا عیسیٰ کے فرستادہ انطاکیہ کی بستی میں پہنچے فقالوا انا الیکم مرسلون تو کہنے لگے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں اور تمہیں اللہ کا پیغام سنانے کے لیے آئے ہیں۔ اس کے جواب میں اہل بستی نے کہا قالوا ما انتم الا بشر مثلنا کہ نہیں ہو تم مگر ہمارے جیسے انسان ، تمہیں کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو نبوت و رسالت کا دعویٰ کر رہے ہو۔ انبیاء کی بشریت قبول حق میں ہمیشہ سے مانع رہی ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا وما منع الناس ان یومنوا اذ جاء ھم الھدی الا ان قالوا ابعث اللہ بشرا رسولا (آیت 94) جب بھی لوگوں کے پاس اللہ کے نبی ہدایت لے کر آئے تو انہوں نے یہی کہہ کر انکار کردیا کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے ؟ وہ یہ بھی کہتے تھے مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق (الفرقان ) کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ نبی تو کوئی برتر مخلوق میں سے ہونا چاہئے تھا جو نہ کھاتا نہ پیتا اور نہ بازار میں سودا سلف خریدتا۔ منکرین رسالت کا ایک اعتراض تو یہ تھا کہ نبی انسان نہیں ہونا چاہئے اور دوسرا یہ کہ اگر انسانوں میں سے اللہ نے رسول مقرر کرنا ہے تو پھر کسی بڑے آدمی کو بنایا ہوتا۔ مشرکین مکہ بھی یہی کہتے تھے کہ ہم اس نادار آدمی کو نبی کیسے مان لیں جس کے پاس نہ مال و دولت ، نہ کوٹھی اور بنگلہ ، نہ نوکر چاکر اور نہ فوج اور پولیس ، نہ زمین نہ باغات۔ کہتے تھے لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم (الزخرف 31) یہ قرآن مکہ اور طائف کی بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوا۔ منصب نبوت و رسالت کے لیے کیا ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی کہا تھا کہ ہم پاگل ہیں جو ایک انسان کا اتباع کریں ؟ یہ شخص ہمارا جانا پہچانا ہے اور ہمارا داماد ہے ، بھلا اس میں نبوت والی کون سی خصوصیت ہے جو اسے نبی تسلیم کرلیں ؟ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے (الفوز الکبیر ص 11) ہیں کہ مشرزکین کے لیے نبوت کو تسلیم کرنے میں ہمیشہ حجاب بشریت مانع رہا ہے۔ اللہ نے اپنے نبیوں میں جو صلاحیت ، استعداد ، کمال اور نیکی ودیعت کی تھی ، مشرک لوگ اس کو نہ پہچان سکے لہٰذا انکار کردیا۔ شرف نبوت و رسالت اللہ تعالیٰ کروڑوں انسانوں میں سے کسی کو عطا کرتا ہے۔ اس پر وحی کا نزول ہوتا ہے اور وہ بلند ترین ہستی ہوتی ہے۔ نبوت سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں ہے۔ بہرحال بستی والوں نے اللہ کے رسولوں کا انکار کیا اور کہنے لگے وما انزل الرحمن من شی خدائے رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی ، تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے کہ خدا نے تم پر وحی نازل کی ہے اور اس نے اپنی وحدانیت کو تسلیم کرنے کا حکم دیا ہے ان انتم الا تکذبون نہیں ہو تم مگر جھوٹ بولتے۔ مرسلین کا کام اس کے جواب میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں یا اللہ کے نبیوں نے کہا قالوا ربنا یعلم انا الیکم لمرسلون ہمارا پروردگار جانتا ہے کہ بیشک ہم تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس معاملہ میں اللہ کی گواہی پیش کی کہ ہم فرستادہ ہیں اور ہم جھوٹ نہیں بولتے جس قدر شدت سے وہ لوگ انکار نبوت کرتے تھے اتنی ہی شدت سے مرسلین نے جواب بھی دیا کہ ہم ضرور تمہاری طرف بھیجے ہوئے ہیں وما علینا الا البلغ المبین اور ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم اللہ کا پیغام کھول کر پہنچا دیں۔ اس کے بعد یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اس دعوت کو قبول کرتے ہو یا نہیں۔ کسی کو پکڑ کر زبردستی ایمان میں داخل کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ ہم تو صرف پیغام الٰہی پہنچاتے ہیں یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ (اعراف 85) اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ، قیامت برحق ہے نبوت و رسالت درست ہے۔ ایمان لانا مدار نجات ہے نیکی کرنے پر انسان کو درجات ملتے ہیں اور تکذیب پر سزا ملتی ہے۔ غرضیکہ ہمارا کام تو خدا کا پیغام کھول کر سنا دینا ہے ، آگے ماننا یا نہ ماننا یہ تمہاری مرضی ہے۔ اہل بستی کا برا شگون آگے سے لوگوں نے جواب دیا۔ قالوا انا تطیرنا بکم کہنے لگے ہم تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اور تمہاری وجہ سے برا شگون لیتے ہیں۔ تم جب سے ہماری بستی میں آئے ہو بارش رک گئی ہے اور قحط پیدا ہوگیا ہے۔ نیز گھر گھر میں تم نے اختلافات ڈال دیے ہیں اور لڑائی بھڑائی شروع ہوگئی ہے۔ اناج اور پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، تم ایسے منحوس آئے ہو۔ اصل میں تطیر کا معنی پرندے کو اڑا کر اس سے شگون لینا ہے۔ مشرکین عرب میں یہ دستور عام تھا کہ جب کسی اہم کام کے ارادے سے نکلنا ہوتا تو کسی پرندے کو اڑاتے اگر وہ دائیں طرف کو اڑتا تو جان لیتے کہ ان کا یہ سفر مبارک ہے اور جس کام کمے لیے جا رہے ہیں وہ ہوجائے گا ، برخلاف اس کے کہ اگر پرندہ اڑ کر بائیں طرف کو جاتا تو سمجھتے کہ حالات ان کے حق میں نہیں ، لہٰذا وہ اس کام کا ارادہ ترک کردیتے۔ ہندوئوں میں بھی اس قسم کا زعم پایا جاتا ہے۔ صبح صبح گھر سے باہر کسی کام کے لیے نکلے ، اگر کالا کتا سامنے آگیا یا کالی بلی نے راستہ کاٹ دیا تو اس سے برا شگون لیا کہ یہ کام نہیں ہوگا۔ اگر کہیں کوا یا الو بیٹھا دیکھ لیا تو اسے ویرانی اور بربادی پر محمول کیا۔ اگر گھر سے نکلتے وقت عورت سامنے آگئی تو اسے بھی کام کی تکمیل میں منحوس تصور کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے ایسے شگون کے متعلق فرمایا الطیرۃ من الشرک کہ شگون لینا شرک کی ایک قسم ہے۔ آپ دعا فرمایا کرتے تھے اللھم لاخیر الا خیرک ولا طیر الاطیرک ولا الہ غیرک اے پروردگار ! خیر تیری ہی خیر ہے اور شگون تیرا ہی شگون ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کا شگون شیطانی وہم ہوتا ہے اور اہل ایمان کو دل میں ایسا خیال نہیں لانا چاہئے۔ ہر چیز کا اختیار اللہ کے پاس ہے اور شگون والا خیال باطل ہے۔ فال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ کوئی قرآن سے فال نکالتا ہے اور کوئی دیوان حافظ سے ، کوئی ہیر رانجھے کی کتاب کو فال کے لیے استعمال کرتا ہے حالانکہ یہ سب فضول باتیں ہیں۔ حضور ﷺ نے فال کے بارے میں صرف اس قدر فرمایا ہے کہ اگر کوئی اچھا لفظ سن کر دل خوش ہوجائے تو اتنا درست ہے باقی سب شرک ہے۔ بہرحال بستی والوں نے کہا کہ تم ہمارے شہر میں ایسے منحوس آئے ہو کہ ہم طرح طرح کے مصائب میں پھنس گئے ہیں۔ اہل بستی کی دھمکی پھر انہوں نے یہ دھمکی بھی دی لئن لم تنتھوا لرجمنکم اگر تم اپنی اس تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں پتھر مار کر ہلاک کردیں گ۔ ولیمسنکم منا عذاب الیم اور اپنی طرف سے تمہیں سخت درد ناک سزا دیں گے۔ رجم واقع سخت ترین اور عبرتناک سزا ہے ، جو اللہ نے محض زانی اور زانیہ کے لیے مقرر کی ہے ، حضور ﷺ کے زمانہ میں بعض واقعات میں مجرموں کو یہ سزا دی گئی اور انہیں سرعام سنگسار کیا گیا۔ بعض سابقہ نافرمان قوموں کو بھی سنگساری کی سزا دی گئی ، چناچہ لوط (علیہ السلام) کی بستی کو الٹ دیا گیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش بھی کی گئی۔ اللہ نے فرمایا مسومۃ عند ربک (ھود 83) ہر پتھر پر اللہ نے نام لکھ دیا تھا کہ یہ فلاں کے سر پر لگے گا اور یہ فلاں ناہنجار کا بیڑا غرق کرے گا۔ بہرحال اہل بستی نے کہا کہ ہم تمہاری آمد سے برا شگون لیتے ہیں اور اگر تم اپنی حرکات سے باز نہ آئے تو تمہیں سنگسار کردیا جائے گا۔ مرسلین کا جواب اس پر مرسلین نے یہ جواب دیا قالوا طائرکم منکم کہنے لگے تمہارا شگون اور نحوست تمہارے ہی سر پر ہے۔ تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہی تم پر نحوست چھائی ہوئی ہے اور تم قط اور لڑائی جھگے میں مبتلا ہو۔ یہ نحوست ہماری پیغام رسانی کی وجہ سے نہیں بلکہ تمہارے کفر و شرک کا نتیجہ ہے۔ این ذکرتم کیا یہ باتیں تم اس لیے کہتے ہو کہ ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں ، کیا ہم اپنا فرض منصبی ترک کردیں ؟ نہیں بلکہ نحوست تو تمہاری شامت اعمال کا نتیجہ ہے۔ بل انتم قوم مسرفون حد سے بڑھنے والے تم ہی لوگ ہو تمہارا قول فعل ، اخلاق ، عقیدہ سب کچھ حد سے بڑھا ہوا ہے۔ اس کے بعد لوگوں نے اللہ کے نبیوں یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے مبلغین کے ساتھ بڑی سختی کی۔ آگے اس مرد مومن کا ذکر بھی آرہا ہے جو مرسلین کی حمایت میں آیا تھا۔ لوگوں نے اس کی جان تو لے لی مگر اللہ نے اسے بلند مرتبہ عطا فرمایا۔
Ayahs 36:20–32

وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 36:20 in the Quran reader

اور آیا شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا ، کہنے لگا اے میری قوم کے لوگو ! پیروی کرو بھیجے ہوئوں کی

اتَّبِعُوْا مَنْ لَّا یَسْئَلُكُمْ اَجْرًا وَّ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 36:21 in the Quran reader

تابعداری کرو ان کی جو نہیں مانگتے تم سے بدلہ اور وہ ہدایت کے راستہ پر ہیں

وَ مَا لِیَ لَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 36:22 in the Quran reader

اور کیا ہے مجھے کہ میں نہ عبادت کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جائو گے

ءَاَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا یُنْقِذُوْنِۚ Open ayah 36:23 in the Quran reader

کیا بنائوں میں اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ؟ اگر خدائے رحمان چاہے نقصان پہنچانا تو ان کی سفارش مجھے کچھ کام نہیں آسکتی اور نہ وہ چھڑا سکتے ہیں

اِنِّیْۤ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:24 in the Quran reader

اس وقت تو میں البتہ گمراہی میں ہوجائوں گا

اِنِّیْۤ اٰمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُوْنِؕ Open ayah 36:25 in the Quran reader

تحقیق میں ایمان لایا ہوں تمہارے پروردگار پر ، پس سنو

قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ١ؕ قَالَ یٰلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 36:26 in the Quran reader

کہا گیا اس شخص سے کہ داخل ہو جائو جنت میں۔ اس نے کہا ، کاش میری قوم کے لوگ جانتے

بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُكْرَمِیْنَ Open ayah 36:27 in the Quran reader

اس چیز کو کہ بخشا ہے مجھے میرے پروردگار نے اور بنایا ہے مجھے عزت والوں میں سے

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى قَوْمِهٖ مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ مَا كُنَّا مُنْزِلِیْنَ Open ayah 36:28 in the Quran reader

اور نہیں اتارا ہم نے اس کی قوم پر اس کے بعد کوئی لشکر آسمان سے اور نہ ہی تھے ہم اتارنے والے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ خٰمِدُوْنَ Open ayah 36:29 in the Quran reader

اور نہیں تھی مگر ایک چیخ ، پس اچانک وہ سب بجھنے والے ہوگئے

یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ١ۣۚ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 36:30 in the Quran reader

افسوس ہے بندوں پر نہیں آتا ان کے پاس کوئی رسول مگر وہ اس کے ساتھ ٹھٹا کرتے ہیں

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَؕ Open ayah 36:31 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھا انہوں نے کہم نے ان سے پہلے کتنی جماعتیں ہلاک کردی تھیں۔ بیشک وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

وَ اِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ۠ Open ayah 36:32 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی مگر تمام کے تمام ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے

مکی سورتوں کے چار بنیادی عقائد میں سے اس رکوع میں رسالت کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے۔ گزشتہ درس میں انطاکیہ کی بستی کا ذکر ہوا کہ اس میں اللہ کے بھیجے ہوئے نبی یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرستادہ مبغلین دین اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تو اہل بستی نے ان کی تکذیب کی ، بدسلوکی کرنے اور ایذا پہنچانے کے علاوہ ان کو طعن بھی کیا کہ تمہاری آمد کی وجہ سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے ، ہمارے علاقے میں خشک سالی پیدا ہوگئی ہے اور گھر گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا ہے۔ رسولوں نے جواب دیا کہ یہ نامبارکی ہماری وجہ سے نہیں ہے بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھنے والے ہو۔ جس کی سزا تمہیں مل رہی ہے۔ ایک مومن کی خیر خواہی مرسلین نے اپنی تبلیغ جاری رکھی جس کی وجہ سے اہل بستی مشتعل ہوگئے اور وہ ان کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ شہر کی دوسری طرف ایک اہل ایمان آدمی رہتا ہے جس کا نام حبیب نجار تھا۔ تفسیری (تفسیر طبری ص 158 ج 22 و قرطبی ص 18 ج 15) اور تاریخی روایات میں آتا ہے کہ پہلے تو یہ شخص بت تراش تھا۔ پھر اس نے مرسلین کی کرامت دیکھی تو اللہ نے اسے ایمان لانے کی توفیق دے دی اور وہ ایمان لے آیا۔ جب اہل بستی مرسلین کو ایذا پہنچاتے تو اس شخص کو بڑی کوفت ہوتی۔ جب اسے پتہ چلا کہ یہ لوگ ان مبلغین یا رسولوں کو قتل کرنے کے درپے ہیں تو اس سے رہا نہ گیا اور اس نے اس معاملہ میں اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی بات کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا وجاء من اقصا المدینۃ رجل یسعی شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہنے گا۔ قال یقوم اتبعوا المرسلین اے میری قوم کے لوگو ! ان فرستادہ شخصیات کی پیروی کرو۔ یہ تمہیں غلط راستے سے ہٹا کر صحیح راستے پر لانا چاہتے ہیں ، کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانا چاہتے ہیں۔ وہ تمہارے ساتھ خیر خواہی کا سلو کر رہے ہیں تاکہ تم آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائو۔ اس شخص نے یہ بھی کہا اتبعوا من لا یسئلکم اجزا تم ان کا اتباع کرو جو تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے۔ وہ تمہاری خیر خواہی میں مخلص ہیں۔ وہ تمہاری بےلوث خدمت کر رہے ہیں ، لہٰذا ان کی بات مان لو کیونکہ وھم مھتدون خود بھی ہدایت یافتہ ہیں اور تمہیں بھی ہدایت کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں۔ توحید کی استقامت پھر اس شخص نے توحید پر اپنی استقامت کا اس طرح اظہار کیا۔ ومالی لا اعبد الذی فطرنی اور کیا ہے مجھے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ یہاں اس مومن آدمی نے اللہ کی صفت فطور کا ذکر کیا ہے یعنی وہ اللہ جس نے مجھے ہستی بخشی ہے۔ میں ضرور اسی کی عبادت کروں گا کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پھر ساتھ ساتھ اپنے مخاطبین کو تنبیہہ بھی کی والیہ ترجعون تم سب نے اسی خدائے وحدہ لا شریک کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ مرنے کے بعد تم کو اسی کے سامنے حاضر ہو کر اپنے عقائد و اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح میں خالص اسی کی عبادت کرتا ہوں۔ اسی طرح تم بھی کفر اور شرک کو چھوڑ کر صرف خدائے وحدہ لا شریک کے بندے بن جائو۔ اس کے بعد اس شخص نے شرک کی تردید اس انداز میں کی اتخذ من دونہ الھۃ کیا میں اس ایک خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو معبود بنالوں ؟ ان معبودان باطلہ کی حالت تو یہ ہے ان یردن الرحمن بضر کہ اگر خدائے رحمان کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے لا تغن عنی شفاعتھم شیا تو ان معبودوں کی سفارش مجھے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ تو بےاختیار اور عاجز ہستیاں ہیں ولاینقذون اور نہ ہی یہ مجھے کسی مصیبت سے نجات دلاسکتے ہیں۔ کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تکلیف کو دور کرسکے۔ اگر میں ایسی ہستیوں کی عبادت کروں گا تو یہ حماقت والی بات ہوگی۔ ایسی صورت میں انی اذا لفی ضلل مبین بلاشبہ میں کھلی گمراہی میں جاپڑوں گا اس سے زیادہ کون سی گمراہی ہوگی کہ انسان خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسرے سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کراتا پھر یخ ان کی نذر و نیاز دے اور ان کی ایسی تعظیم کرے جو اللہ وحدہ لاشریک کے لیے مختص ہے۔ غرضیکہ اس مرد مومن نے عقلی انداز میں لوگوں کو توحید کے اثبات اور شرزک کے رد کی بات بتلائی۔ پھر کہنے لگا انی امنت بربکم میں تو تمہارے پروردگار پر ایمان لایا ہوں۔ پہلے اللہ کی صفت فطور کا ذکر کیا تھا۔ اب ربوبیت کی بات کی۔ گویا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور ہر چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانے والی ذات بھی وہی ہے۔ میں اسی خداوند قدوس پر ایمان لایا ہوں جو ان صفات کا حامل ہے۔ فاسمعون تم بھی اس بات کو اچھی طرح سن لو۔ میں یہ بات چھپ کر نہیں کر رہا ہوں بلکہ علی الاعلان کہتا ہوں کہ میں خود خدائے رحمان پر ایمان لاچکا ہوں اور تمہیں بھی یہی دعوت دیتا ہوں کہ ان خود ساختہ معبودوں کو چھوڑ کر ان مرسلین کے رب پر ایمان لے آئو ، اسی میں تمہاری نجات ہے۔ وہ ناہنجار قوم اس مرد مومن کی نصیحت پر تو کیا عمل کرتی ، وہ اس شخص کے بھی اسی طرح مخالف ہوگئے جس طرح وہ مرسلین کے مخالف تھے بلکہ اس شخص کے ساتھ ان سے بھی زیادہ ضد اور عناد کا مظاہرہ کرنے لگے چناچہ انہوں نے اس ایماندار شخص کو قتل کردیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت (تفسیر ابن کثیر ص 568 ج 3) میں آتا ہے کہ قوم نے اس شخص کو پائوں کے نیچے اس قدر روندا کہ اس بیچارے کی آتیں پیٹ سے باہر نکل آئیں اور وہ شہید ہوگیا۔ مفسر وہب (رح) کا بیان (ابن کثیر ص 568 ج 3 و معالم التنزیل ص 202 ج 3) ہے کہ جب وہ ظالم اس اہل ایمان کو ایذائیں دے رہے تھے تو وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعائیں کر رہا تھا۔ یہ شخص بڑا ہی نیک اور عبادت گزار تھا۔ کہتے ہیں کہ دن بھر جو کچھ کما کر لاتا شام کو اسے دو حصوں میں تقسیم کردیتا۔ ایک حصہ بال بچوں کے حوالہ کرتا اور دوسرا محتاجوں میں تقسیم کردیتا۔ مسیح (علیہ السلام) کی امت کے اس شخص کی استقامت ایمان کی مثالیں امت محمدیہ میں بھی ملتی ہیں۔ مسلیمہ کذاب نے حضور ﷺ کے زمانہ میں ہی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور پھر اس کے ساتھ فیصلہ کن معرز کہ بھی پیش آیا۔ اس داعی نبوت کی گرفت میں کسی طرح دو ایماندار آدمی آگئے ، جن میں ایک (طبری ص 159 ج 22 و ابن کثیر ص 569 ج 3) کا نام حبیب ابن زید تھا۔ مسلیمہ کذاب نے اس سے پوچھا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس نے کہا ہاں ، پھر اس نے کہا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسلیمہ کذاب بھی اللہ کا رسول ہے تو وہ شخص کہنے لگا کہ تمہاری یہ بات مجھے سنائی ہی نہیں دیتی۔ مسلیمہ نے اس سے اپنے حق میں گواہی لینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا مگر وہ یہی کہتا تھا کہ محمد ﷺ کی رسالت کی گواہی تو دیتا ہوں مگر دوسری بات میری سماعت میں ہی نہیں آتی۔ اس پر مسلیمہ سخت طیش میں آگیا اور اس نے اس مرد مومن کا ایک ایک عضو کاٹ کر اس کو ہلاک کردیا مگر وہ شخص اپنے ایمان پر پکا رہا۔ اسی طرح طائف میں قبیلہ ثقیف کے سردار حضرت عروہ بن مسعود ؓ ثقفی حضور ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ ان کی شکل و شباہت حضرت مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ملتی جلتی ہے۔ جب یہ حضور (ابن کثیر ص 568 ج 3) کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لائے تو عرض کیا ، حضور ! مجھے اجازت دیں کہ میں واپس اپنے قبیلے میں جا کر ان کو تبلیغ اسلام کروں۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ تمہاری مخالفت کریں گے ، تو وہ کہنے لگا کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں وہ میرا بڑا احترام کرتے ہیں حتی کہ جب میں سو رہا ہوتا ہوں تو کوئی آدمی مجھے جگانے کی جرات نہیں کرتا۔ بہرحال وہ صحابی آپ سے اجازت لے کر قوم کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ لات و منات اور عزیٰ کو چھوڑ کر حضور ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرلو اور اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لے آئو ، اتنی بات تھی کہ قوم دشمن ہوگئی حتی کہ جب آپ نماز کے لیے اذان دیتے وقت شہادت کے کلمات ادا کر رہے تھے تو ایک بدبخت نے تیر مار کر ہلاک کردیا۔ یہ بھی حبیب نجار (رح) کے ساتھ ملتا جلتا واقعہ ہے۔ ان آیات میں اس مرد مومن کی ہلاکت کا ذکر تو نہیں کیا گیا بلکہ ان کی طرف سے قوم کو وعظ کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا قیل ادخل الجنۃ اس شخص سے کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جائو۔ ظاہر ہے کہ جنت کا داخلہ تو موت کے بعد ہی ممکن ہے جنت میں داخلے کی دو صورتیں ہیں۔ قیامت کے بعد حشر و نشر اور حساب کتاب ہونے کے بعد تو جنت کا داخلہ بالکل قابل فہم ہے۔ البتہ مرنے کے فوراً بعد جنت میں داخلہ بھی اس لحاظ سے قابل فہم ہے کہ انسان عالم برزخ میں تو پہنچ ہی جاتا ہے اور وہاں بھی ابتدائی سوال و جواب کے بعد اس کے لیے یا تو جنت کی کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور اسے راحت محسوس ہونے لگتی ہے یا اگر وہ کفر ، شرک یامعاصی کا مرتکب ہے تو اسے دوزخ کی تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے تو بہرحال جنت سے مراد برزخ میں جنت کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ اس شخص کی مرنے کے بعد بھی یہی حسرت تھی قال یلیت قومی یعلمون کاش کہ میری قوم کو علم ہوجاتا بما عفرلی ربی کہ میرے پرزوردگار نے مجھے بخش دیا ہے وجعلنی من المکرمین اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت والے وہی لوگ ہیں جن کو اس نے جنت کا ٹکٹ دیدیا ہے اور وہ کامیاب ہوگئے ہیں ، کہنے لگا ، کاش میری قوم کے لوگوں کو میری کامیابی کا پتہ چلتا تو وہ ایسی ظالمانہ حرکتیں نہ کرتے اور کفر اور شرک کی بجائے توحید کو اختیار کرلیتے۔ الغرض اس اللہ کے بندے نے عالم برزخ میں بھی قوم کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہی کیا۔ ظالم قوم کی ہلاکت آگے اللہ تعالیٰ نے اس ظالم قوم کی ہلاکت کا حال بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما نزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء ہم نے اس ظالم قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں بھیجا جو انہیں ہلاک کرتا وما کنا منزلین اور نہ ہی ہم ایسا کوئی لشکر اتارنے والے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نافرمان قوم کی ہلاکت کے لیے کسی فوج کی ضرورت نہ تھی بلکہ اس کام کمے لیے ان کانت الا صیحۃ واحدۃ ایک چیخ ہی کافی تھی جو ہم نے بھیج دی فاذاھم خامدون پس اچانک وہ بجھنے والے ہوگئے یعنی وہ اسی طرح صفحہ ہستی سے ملیا میٹ ہوئے جس طرح دہکتے ہوئے کوئلوں پر پانی ڈال دیا جائے تو وہ بجھ جاتے ہیں۔ مفسرین (ابن کثیر ص 569 ج 3) کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے ایک فرشتے کو بھیجا جس نے شہر کے دروازے پر ہاتھ رکھ کر ایسی چیخ ماری کہ سب اہل بستی کے دل پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔ آگے فرمایا یحسرۃ علی العباد بندوں کی حالت پر افسوس ہے مایاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزون کہ جب بھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول آیا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ٹھٹھا ہی کیا۔ انہوں نے اللہ کے نبیوں کی دعوت پر نہ تو غور کیا اور نہ انہیں تسلیم کیا۔ اگلی آیت میں روئے سخن نزول قرآن کے زمانے کے مشرکین کی طرف ہوتا ہے اور یہی بات ہر زمانے کے لوگوں کے لیے بھی باعث عبرت ہے۔ الم یرواکم اھلکنا قبلھم من القرون کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی جماعتوں کو ہلاک کیا۔ الھم الھم لایرجعون بیشک وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے ، وہ تباہ و برباد ہوگئے ، اس دنیا سے ختم ہوگئے۔ اب وہ کہاں واپس آئیں گے۔ فرمایا وان کل لما جمیع لدنیا محضرون اور نہیں کوئی مگر سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے ، ہر شخص کو ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔ وہاں سب کے متعلق جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے اور مجرم بچ نہیں سکیں گے۔ یہ ترغیب دلائی جارہی ہے کہ کفر و شرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلو ، ورنہ تمہارا حشر بھی پہلی قوموں سے مختلف نہیں ہوگا۔