36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 36:33–40

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَةُ١ۖۚ اَحْیَیْنٰهَا وَ اَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:33 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے ایک نشانی مردہ زمین ہے جسے ہم نے زندہ کردیا اور نکالا اس سے اناج ، پس اس سے وہ کھاتے ہیں

وَ جَعَلْنَا فِیْهَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ وَّ فَجَّرْنَا فِیْهَا مِنَ الْعُیُوْنِۙ Open ayah 36:34 in the Quran reader

اور بنائے ہم نے اس میں باغات کھجوروں اور انگوروں کے ، اور چلائے ہم نے اس میں چشمے

لِیَاْكُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖ١ۙ وَ مَا عَمِلَتْهُ اَیْدِیْهِمْ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:35 in the Quran reader

تاکہ یہ کھائیں اس کے پھل سے اور نہیں بنایا اسے ان کے ہاتھوں نے کیا۔ یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے

سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ وَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ مِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 36:36 in the Quran reader

پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے سب کے سب جن کو زمین اگاتی ہے ، اور خود ان میں سے اور ان چیزوں میں سے جن کو یہ نہیں جانتے

وَ اٰیَةٌ لَّهُمُ الَّیْلُ١ۖۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَاِذَا هُمْ مُّظْلِمُوْنَۙ Open ayah 36:37 in the Quran reader

اور رات بھی ان کے لیے نشانی ہے ، ہم کھینچ لیتے ہیں اس کو دن سے ، پس اچانک یہ اندھیرے میں ہوجاتے ہیں

وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِؕ Open ayah 36:38 in the Quran reader

اور سورج چلتا ہے اپنے مستقر کے لیے ، یہ ہے اندازہ ٹھہرایا ہوا زبردست اور علم والے پروردگار کا

وَ الْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ Open ayah 36:39 in the Quran reader

اور چاند کو ہم نے مقدر کیا ہے اس کو مختلف منزلوں میں یہاں تک کہ وہ لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے

لَا الشَّمْسُ یَنْۢبَغِیْ لَهَاۤ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّهَارِ١ؕ وَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 36:40 in the Quran reader

نہ تو سورج چاند کو پاسکتا ہے ورنہ رات سبقت کرنے والی ہے دن سے اور یہ سب اپنے اپنے مدار کے اندر تیر رہے ہیں

ربط آیات رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بستی والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے پاس تین رسول آئے تاکہ ان کو توحید کی دعوت دیں مگر ان اہل بستی نے ان رسولوں یا مبلغین کے ساتھ سخت بدسلوکی کی حتی کہ ان کے قتل کے درپے ہوئے ان مرسلین کی تائید میں شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور قوم کو سمجھایا کہ ان رسولوں کی پیروی کرتے ہوئے شرک سے تائب ہو جائو اور توحید خداوندی کو اختیار کرو تو بستی والے اس مرد مومن کے بھی خلاف ہوگئے اور اسے قتل کر ڈالا ، پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوفناک چیخ کی صورت میں عذاب آیا جس سے سارے بستی والے ہلاک ہوگئے۔ ضمناً اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور توحید کا اثبات پیش کیا۔ جزائے عمل کا بیان بھی ہوا۔ اللہ نے فرمایا کہ جب بھی کسی قوم کے پاس اللہ کا نبی آیا تو قوم نے اس کے ساتھ ٹھٹھا ہی کیا اور اس کی دعوت کو ٹھکرا دیا۔ مشرک لوگ نبی آخر الزمان کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بہت سی قوموں کو اسی جرم کی پاداش میں ہلاک کیا۔ ان سب کو ایک دن ہمارے روبرو حاضر ہونا ہے جب ان کے عقائد و اعمال کے متعلق حتمی فیصلے ہوں گے۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض دلائل بیان فرمائے ہیں جن سے وقوع قیامت اور توحید کا اثبات سمجھ میں آسکتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وایۃ لھم الارض المیتۃ ان لوگوں کے لیے مردہ زمین بھی بطور ایک نشانی کے ہے احیینھا جس کو ہم نے زندہ کیا واخرجنا منھا حبا پھر اس سے اناج نکالا یعنی دانے پیدا کئے۔ فمنہ یاکلون پس یہ لوگ اسی اناج کو اپنی خوراک بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی روئیدگی کا بہت سے مقامات پر ذکر کیا ہے کہ آسمان کی طرف سے پانی برسا کر ہم نے زمین کو روئیدگی بخشی اور پھر اس سے پھل پھول ، اناج ، سبزہ اور چارہ پیدا کیا۔ یہ آیت توحید خداوندی کی دلیل ہے کہ آسمان کی طرف سے جہاں اور جس قدر چاہے پانی برسا کر مردہ زمین کو زندہ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور اس میں کسی دوسری ذات کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اور یہی آیت وقوع قیامت کی دلیل اس طرح باتی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ بارش کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کردیتا ہے ، اسی طرح وہ قیامت والے دن تمام مردوں کو بھی زندہ کرکے اپنے سامنے لاکھڑا کرے گا۔ بزرگان دین یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ خشک زمین کو تر و تازہ کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی مہربانی کے ساتھ مردہ دلوں یعنی گمراہ دلوں کو نور ہدایت ، ایمان اور توحید کی توفیق بخش کر ان میں روحانی زندگی پیدا کرتا ہے۔ جب اس میں اطاعت کا بیج پڑجاتا ہے تو اسے روحانی غذا بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ فرمایا ہم نے مردہ زمین کو زندہ کرکے اس میں سے اناج اگایا۔ اس کے علاوہ وجعلنا فیھا جنت من نخیل واعناب ہم نے اس زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات لگائے۔ وفجرنا فیھا من العیون اور آبی ضروریات کے لیے زمین میں چشمے بھی جاری کردیے۔ دریائوں ، نہروں اور چشموں کے پانی سے جانداروں کی پینے اور دھونے کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور یہی پانی کھیتی باڑی کے کام آتا ہے جس سے تمام جانداروں کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں جس طرح زمین میں پانی بہنے سے خوبصورت باغات پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح ذوق و شوق کے ساتھ ذکر الٰہی کرنے والوں کے دلوں میں حکمت و دانائی کے چشمے جاری ہوتے ہیں اور انسانوں کے دلوں میں باغ و بہار پیدا ہوتے ہیں۔ فرمایا اناج اور باغات پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے لیاکلوا من ثمرہ تاکہ انسان اور جانور ان کا پھل کھائیں جو کہ ان کی زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا فیضان ہے وگرنہ وما عملتہ ایدیھم ان لوگوں کے ہاتھوں نے کچھ بھی نہیں بنایا یہ خود سوچیں کہ کیا بارش برسا کر دریا ، نہریں اور چشمے انہوں نے جاری کیے ہیں ؟ کیا پھل ، پھول ، اناج اور سبزہ انہوں نے پیدا کیا ہے ، کیا کھجوروں اور انگوروں کی پیداوار ان کا کارنامہ ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہی پیدا کردہ ہے۔ جب یہ بات ہے تو افلا یشکرون یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر کیوں نہیں ادا کرتے ؟ انسانوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاتعداد نعمتوں کو استعمال کرنے کے بعد اس کا شکر بھی ادا کرتے مگر اللہ نے فرمایا کہ اس کے شکرگزار بندے بہت کم ہیں اور اکثر لوگ ان نعمتوں کا کفران ہی کرتے ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی ہے۔ سبحن الذی خلق الازوج کلھا پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیے جوڑے سب کے سب۔ ان میں سے بعض جوڑے وہ ہیں مما تنبت الارض جنہیں زمین اگاتی ہے زمین سے اگنے والی چیزوں میں اناج ، پھل ، پھول ، درخت ، پودے اور دیگر نباتات ہیں۔ اللہ نے ہر ایک کے جوڑے بنائے ہیں جن سے ان کی نسل آگے چلتی ہے۔ ہر درخت ، پودے اور سبزے کے نر و مادہ ہوتے ہیں جو کہ بار آور ہو کر جانداروں کے لیے خوراک مہیا کرتے ہیں۔ ومن انفسھم اور خود ان کی جانوں میں بھی جوڑے پیدا کیے ہیں۔ اللہ کی مخلوق انسانوں ، جنوں ، چرندوں ، پرندوں وغیرہ سب کو اللہ نے جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے اور پھر نر و مادہ کے ملاق سے ان کی نسل آگے چلائی ہے۔ اگر جوڑوں کی بجائے صرف نر یا صرف مادہ ہوتے تو بقائے نسل ممکن نہ ہوتی۔ اور فرمایا ہم نے ان چیزوں کے بھی جوڑے بنائے۔ ومما لا یعلمون جن کو یہ انسان جانتے ہی نہیں۔ اللہ کی کتنی ہی مخلوق ہے جو زمین کی پشت پر ہمارے سامنے چلتی پھرتی ہے اور لاتعداد مخلوق ایسی بھی ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے اور ہم اسے جانتے تک نہیں زمین کی تہوں اور سمندروں کی گہرائیوں میں بسنے والے کتنے کیڑے مکوڑے ہیں جن کے نام تک سے ہم واقف نہیں۔ اللہ نے ان کو بھی جوڑوں کی شکل میں پیدا کرکے بقائے نسل کا انتظام کردیا ہے تو فرمایا ہم نے زمین میں ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے۔ ان معروف جوڑوں کے علاوہ بعض غیر مرئی جوڑے بھی اللہ نے بنائے ہیں نیکی اور بدی ، معروف اور منکر ، اندھیرا اور اجالا سب جوڑے ہی تو ہیں۔ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ چناچہ نیکی کی پہچان بدی سے اور روشنی کی پہچان اندھیرے کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جس طرح اللہ نے ان سب چیزوں کو پہلی دفعہ پیدا کیا ہے ، اسی طرح مرنے کے بعد انسانوں کو دوبارہ بھی زندہ کرے گا۔ وہ ذات خداوندی ہر عیب ، نقص اور شرک سے پاک ہے سبحن اللہ عما یشرکون (الطور 43) اللہ تعالیٰ ہر کمزوری سے منزہ ہے ، وہ ذات ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے۔ آگے اللہ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی ہے وایۃ لھم الیل رات بھی ان لوگوں کے لیے بطور ایک نشان قدر ت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے رات اور دن کا ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کہ جب انسان دن بھر کی مشقت سے تھک جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ رات کو لے آتے ہیں تاکہ وہ اس دوران میں آرام کرکے اپنی تحلیل شدہ قویٰ بحال کرسکیں۔ چناچہ جب لوگ آرام کرنا چاہتے ہیں تو فرمایا نسلخ منہ النھار تو ہم اس رات کو دن سے کھینچ لیتے ہیں۔ جب دن کے بعد رات چھا جاتی ہے فاذاھم مظلمون تو اچانک لوگ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کا نظام خاص تناسب کے ساتھ قائم کر رکھا ہے۔ سورة الفرقان میں ہے وھوالذی جعل الیل والنھار خلقۃ (آیت 62) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایا ہے۔ اللہ کے شکر گزار بندے دونوں اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر کوئی دن کے وقت غلطی ہوجاتی ہے تو رات کو معافی مانگ لیتے ہیں ، اور اگر رات میں کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کی تلافی دن کے وقت کرلیتے ہیں۔ الغرض ! رات اور دن اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں جن میں غور و فکر کرکے انسان اللہ کی وحدانیت کو پہچان سکتے ہیں۔ جس طرح رات اور دن کا نہایت موزوں نظام قائم ہے ، اسی طرح فرمایا والشمس تجری لمستقرلھا اور سورج بھی اپنے مستقر یعنی ٹھہرائے ہوئے راستے پر چل رہا ہے۔ اگر مستقر سے مراد مستقر زمانی ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ سورج اپنے مقررہ وقت تک محو سفر ہے اور قیام تکو اپنے مستقر پر پہنچ کر ختم ہوجائے گا۔ اللہ کا فرمان ہے اذا الشمس کورت (التکویر 1) جب سورج بےنور کردیا جائے گا ، یہ اس وقت تک اپنی رفتار سے چلتا ہے گا اور اگر مستقر سے مراد مستقر مکانی ہو تو معنی یہ ہوگا کہ سورج اپنے مدار میں مقررہ رفتار سے سفر کر رہا ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان (ابن کثیر ص 571 ج 3 و معالم التنزیل ص 203 ج 3 و قرطبی ص 27 ج 15) ہے کہ سورج اپنی منزل کی طرف چلتا رہتا ہے اور ہر رات عرش عظیم کے نیچے بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہوتا ہے اور اپنی رفتار کو جاری رکھنے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملتی ہے اور وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے ، پھر ایک دن آئے گا کہ حسب معمول سورج اللہ تعالیٰ سے اپنے سفر کے تسلسل کی اجازت طلب کرے گا تو حکم ہوگا کہ اپنی حرکت کو معکوس کردو ، چناچہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا اور دوپہر تک کا وقت ہوجائے گا۔ لوگوں میں دہشت پیدا ہوجائے گی ، وہ خوف کے مارے ایمان کا اقرار کریں گے مگر اس وقت کا ایمان لانا قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی کوئی نیکی قبول ہوگی۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جب سورج اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی رفتار روک کر ہی ایسا کرتا ہوگا جس کی وجہ سے اس کے معمول میں فرق آنا لازمی ہے مگر ایسا نہیں ہوتا اور آج تک سورج کی رفتار میں سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے برابر بھی فرق نہیں آیا۔ اخر اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کے جواب میں مفسرین کرام (روح المعانی ص 14 ج 23) بیان کرتے ہیں کہ سورج کی سجدہ ریزی کی مثال ایسی ہی ہے جسے کوئی شخص خواب میں کئی ایک امورز انجام دیتا ہے مگر جس میں اس کے دل کی حرکت اور اس کے ساتھ زندگی کا تعلق برابر قائم رہتا ہے اور اس میں سرمو فرق نہیں آتا۔ اسی طرح سورج بھی اپنے کام میں خلل ڈالے بغیر اللہ تعالیٰ کو ہر رات سجدہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) اور بعض دیگر صاحب علم و حکمت حضرات فرماتے ہیں کہ سورج اپنے سفر کے دوران ہر ہر لمحہ سفر کے تسلسل کی اجازت طلب کرتا ہے اور بغیر اجازت ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھتا۔ فرماتے ہیں کہ اسی اجازت طلب کا نام ہی سجدہ ہے جس کا ذکر مذکورہ حدیث میں آیا ہے۔ پرانے یونانی ماہرین فلکیات سات سیارے سورج ، چاند ، مریخ ، زہرہ ، مشتری ، زحل اور عطارد دریافت کئے تھے ، مگر موجودہ زمانے کے سائنسدانوں نے دو مزید سیارے نپچوں اور اور انوس بھی دریافت کرلیے ہیں جس سے ان کی تعداد بڑھ کر نو ہوگئی ہے۔ ان سب کا تعلق نظام شمسی سے ہے اور یہ سارا نظام کہکشاں کا ایک حصہ ہے۔ باریک باریک ستاروں سے مل کر بننے والی سڑکیں کہکشاں کہلاتی ہیں۔ ہر کہکشاں میں کروڑوں بلکہ اربوں ستارے ہوتے ہیں اور پورا نظام شمسی کسی ایک کہکشاں کا جزو ہے۔ اس نظام میں سب سے بڑا سیارہ سورج ہے اور باقی سارے سیارے اس کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ہماری زمین سے تو اس نظام کا صرف ایک ہی چاند نظر آتا ہے مگر حقیقت میں سورج کے گرد اکتیس چاند محو گردش ہیں۔ زمین سے قریب ترین سیارہ چاند ہے جو یہاں سے دو لاکھ چالیس ہزار میل دور ہے۔ اگر ان دونوں کا درمیان فاصلہ اس سے زیادہ ہوتا تو وہ فوائد حاصل نہ ہوسکتے جو اس وقت ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر چاند اور زمین کا درمیانی فاصلہ صرف پچاس ہزار میل ہوتا تو سمندر سے پانی کی اتنی لہریں اٹھتیں کہ پوری زمین کا کاروبار درہم برہم ہوجاتا کیونکہ اس وقت سمندروں میں جو مدوجزر پیدا ہو رہا ہے وہ چاند کی دو لاکھ چالیس ہزار میل کی دوری کے اثرات سے پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہ فاصلہ کم ہوجائے تو چاند کے سمندر پر اثرات کی مقدار بڑھ جائے گی اور پانی پورے کرہ ارض پر پھیل جائے گا۔ ہماری یہ زمین ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر رہی ہے جس کی وجہ سے رات دن اور مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ موزوں ترین رفتار ہے کہ زمین پر رہنے والے جانداروں کے مناسب حال ہے۔ اگر یہی رفتار دس ہزار میل فی گھنٹہ ہوجائے تو دن اور رات صرف سوا سوا گھنٹے کے رہ جائیں اور ان حالات میں زمین کے باشندوں کا ستقرار ختم ہو کر رہ جائے اور وہ کوئی کام نہ کرسکیں۔ اس کے برخلاف اگر زمین کی رفتار صرف ایک سو میل فی گھنٹہ تک کم ہوجائے تو ایک سو بیس گھنٹے کا دن اور اتنی لمبی ہی رات ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ اتنا لمبا عرصہ سورج کی تپش سے زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا اور رات اتنی لمبی ہوتی کہ جانداروں کو منجمد کرکے رکھ دیتی اور زندگی کا سارا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے زمین اور دیگر سیاروں کی رفتار اس طریقے پر مقرر کی ہے جو جانداروں کی زندگی کے لیے موزوں ترین ہے۔ فضا میں نظر آنے والے ستاروں کی تعداد اربوں اور کھربوں تک ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مدار میں مقررہ رفتار سے چل رہے ہیں۔ اس زمین پر تو ٹریفک میں ذرا سی بےقاعدگی ہوجائے تو بیشمار گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔ مگر ستاروں اور سیاروں کا اتنا بہترین نظام اللہ نے قائم کیا ہے کہ ہر ستارہ اور سیارہ چل رہا ہے مگر آج تک کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ جب تک اللہ کو منظور ہے۔ یہ نظام چلتا رہے گا اور جب وہ چاہے گا اس کو ختم کرکے عالم بالا کا نظام لے آئے گا۔ فرمایا ذلک تقدیر العزیز العلیم یہ غالب اور علم والے خدا کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے جس کے مطابق یہ سارا نظام کام کر رہا ہے۔ فرمایا والقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم سورج کی طرح ہم نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں حتی کہ وہ چلتے چلتے پرانی ٹہنی کی طرح دبلا پتلا ہوجاتا ہے۔ پھر بڑھتے بڑھتے پورا چاند ہوجاتا ہے اور اس کے بعد پھر گھٹتے گھٹتے باریک سی شاخ کے مانند ہوجاتا ہے۔ فرمایا سورج اور چاند کا یہ نظام اس طریقے سے مقرر کیا گیا ہے لا الشمس ینبغی لھا ان تدرک القمر کہ سورج چاند کو نہیں پہنچ سکتا ولا الیل سابق النھار اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے بلکہ وکل فی فلک یسبحون ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں چل رہا ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں (موضح القرآن ص 530) کہ بطلیموس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ چاند دوسرے آسمان پر ہے اور سورج چوتھے آسمان پر ، بلکہ یہ سارے سیارے آسمانوں سے نیچے فضا میں تیر رہے ہیں۔ یہاں پر فلک سے مراد آسمان نہیں بلکہ مدار مراد ہے جس میں یہ سارے گردش کر رہے ہیں۔
Ayahs 36:41–50

وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ Open ayah 36:41 in the Quran reader

اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بیشک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں

وَ خَلَقْنَا لَهُمْ مِّنْ مِّثْلِهٖ مَا یَرْكَبُوْنَ Open ayah 36:42 in the Quran reader

اور ہم نے پیدا کیں ان کے لیے اس جیسی چیزیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں

وَ اِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِیْخَ لَهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْقَذُوْنَۙ Open ayah 36:43 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، پس کوئی فریاد کو پہنچنے والا نہ ہو اور نہ ہی یہ چھڑائے جائیں

اِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 36:44 in the Quran reader

مگر مہربانی ہے ہماری طرف سے اور فائدہ اٹھانے کا سامان ایک وقت تک

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْكُمْ وَ مَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 36:45 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بچو اس چیز سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 36:46 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر اس سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 36:47 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خرچ کرو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں روزی دی ہے تو کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان لوگوں سے جو ایمان لائے ، کیا ہم کھلائیں اس کو کہ اگر اللہ چاہتا تو اسے خود کھلاتا ، نہیں ہو تم مگر کھلی گمراہی میں

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 36:48 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

مَا یَنْظُرُوْنَ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً تَاْخُذُهُمْ وَ هُمْ یَخِصِّمُوْنَ Open ayah 36:49 in the Quran reader

نہیں انتظار کرتے یہ مگر ایک ہی چیز کا جو پکڑ لے گی ان کو اور یہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے

فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَةً وَّ لَاۤ اِلٰۤى اَهْلِهِمْ یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:50 in the Quran reader

پس نہ طاقت رکھیں گے یہ وصیت کرنے کی اور نہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر آسکیں گے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔ انہی نشانیوں سے وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔ تمام نشانیوں کو پیدا کرنے والا صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ اللہ نے سورج اور چاند کا ذکر کیا۔ ہر چیز کے جوڑے جوڑے بنانے کا تذکرہ کیا۔ جن میں انسان ، جانور اور نباتات وغیرہ سب شامل ہیں اور یہ ساری نشانیاں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے کشتی کو اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر متعارف کرایا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وایۃ لھم اور ان کے لیے ایک نشانی یہ بھی ہے انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ اس کشتی سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی ہے جو آپ نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل میں بنائی واصنع الفلک باعیننا ووحینا (ھود 37) ہمارے حکم اور ہماری وحی سے کشتی بنائو۔ چناچہ اللہ کے حکم کے مطابق نوح (علیہ السلام) نے بہت بڑی تین منزلہ کشتی تیار کی جس میں انسان اور جانور سوار ہوئے اور اس طرح یہ کشتی بھر گئی جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ ذریت کا لفظ عربی زبان میں اولاد یا نسل کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ تاہم بعض مفسرین (روح المعانی ص 26 ج 23 و تفسیر السراج المنیر ص 351 ج 3 و تفسیر کبیر ص 78 ج 26) فرماتے ہیں کہ لفظ ذریت اضداد میں سے ہے اور اس کا معنی اولاد بھی ہے اور آبائو اجداد بھی۔ اگر دوسرا معنی کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ان کے آبائو اجداد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ یہ معنی بھی درست ہے کہ اس وقت زمین پر آباد تمام لوگ انہی کشتی والوں کی اولاد ہیں ، اور موجودہ نسل انسانی کے آبائو اجداد وہی کشتی والے لوگ ہیں۔ کشتی نوح اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے کہ اسی کے ذریعے اس نے نسل انسانی کا انتظام کیا۔ فرمایا ایک تو ہم نے کشتی بنائی وخلقنا لھم من مثلہ ما یرکبون اور ہم نے ان کے لیے اس جیسی دیگر چیزیں بھی تخلیق کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ کشتی اور دیگر سواری کی چیزوں کی تخلیق کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ اگرچہ بظاہر ہر مصنوع انسانی ہاتھوں کی تیار کردہ ہے مگر فی الحقیقت یہ اللہ تعالیٰ ہی کا فعل ہے جس نے انسان کو عقل ، فہم اور غور و فکر کی صلاحیت بخشی اور پھر ہر مصنوع کی صنعت کے لیے وسائل مہیا کیے ہیں۔ اس کی مثال سورة النحل میں بھی ملتی ہے جہاں اللہ نے گھوڑے ، گدھے اور خچر جیسی سواریوں کا ذکر کرکے فرمایا یخلق مالا تعلمون (آیت 8) اللہ تعالیٰ ایسی ایسی سواریاں پیدا کرتا ہے یا آئندہ زمانے میں کرے گا جنہیں تم نہیں جانتے چناچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ذریعہ نقل و حمل کی ابتداء جس کشتی سے ہوئی وہ کشتی ترقی کرچکی ہے۔ پہلے عام کشتیاں سمندروں اور دریائوں میں چلتی تھیں ، پھر بادبانی کشتیاں معرض وجود میں آئیں۔ پھر بھاپ سے چلنے والے سٹیمر بنے اور آج تیل سے چلنے والے لاکھوں ٹن وزنی جہاز سمندر کی سطح پر رواں دواں ہیں۔ انہی جہازوں کی بدولت ہزاروں مسافر اور لاکھوں ٹن وزنی سامان ایک ملک سے دوسرے کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ جنگی نقطہ نظر سے طیارہ بردار جہاز تک معرض وجود میں آچکے ہیں جن پر سینکڑوں طیارے اتر سکتے اور پرواز کرسکتے ہیں۔ سمندر کی تہہ میں چلنے والی آبدوزیں بھی بنائی جاچکی ہیں بلکہ اب تو یہ ایٹمی طاقت سے چلنے لگی ہیں۔ یہ سب کچھ کشتی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔ سمندروں کے علاوہ خشکی پر چلنے والی لاتعداد سواریاں بھی ایجاد ہوچکی ہیں۔ ان میں جانوروں سے کھینچی جانے والی سواریوں کے علاوہ خودکار سائیکل ، موٹر سائیکل ، ریل کار ، ٹرک ، ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں ہیں جو اس وقت انسانی استعمال میں ہیں۔ ہوا میں اڑنے والے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر ہیں جو ہم فضا میں بلند ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ نقل و حمل کے ذرائع میں سے تیز ترین ذریعہ ہیں اور ان کی وجہ سے پوری دنیا سمٹ کر رہ گئی ہے۔ علاوہ ازیں اب تو زمین کی فضائی حدود سے پار دوسرے سیاروں تک کے لیے پروازیں ہو رہی ہیں۔ بڑے بڑے راکٹوں اور فضائی گاڑیوں کی مدد سے انسان چاند تک پہنچ چکے ہیں اور آگے مریخ تک پہنچنے کے پروگرام بن رہے ہیں۔ غرضیکہ گزشتہ ایک صدی میں دیگر ضروریات زندگی کی طرح ذرائع نقل و حمل میں بھی بےتحاشا ترقی ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ نوح (علیہ السلام) کی اولین کشتی کی ترقی یافتہ صورتیں ہیں۔ زمین پر بڑھتی ہوئی ٹریفک اور اس سے خارج ہونے والے دھوئیں اور اسی طرح کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے زہریلے مادہ نے ماحول کی آلودگی کا نیا مسئلہ پیدا کردیا ہے ابھی دو سال کی بات ہے کہ بھوپال کی ایک فیکٹری میں گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہزاروں آدمی متاثر ہوئے اور سینکڑوں کی تعداد میں موت کی آغوش میں چلے گئے روس میں ایٹمی تابکاری کے اخراج سے سینکڑوں آدمی ہلاک ہوگئے۔ اسی وجہ سے اب سائنس دان یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ماحول میں آلودگی پیدا کرنے والی صنعت کو زمین سے اٹھا کر فضا میں قائم کردیا جائے تاکہ لوگ کیمیائی مادوں کے نقصان سے بچ سکیں۔ بہرحال یہ ساری سواریاں اللہ کی قدرت کے نمونے ہیں جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کردیا گیا ہے۔ حفاظت بذریعہ رحمت خداوندی فرمایا وان نشا لغرقھم اگر ہم چاہیں تو کشتیوں اور جہازوں کے سواروں کو پانی میں غرق کردیں۔ دنیان میں آئے دن غرقابی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ چھوٹی کشتیوں کے علاوہ بعض بڑے بڑے جہاز بھی کسی حادثہ کا شکار ہو کر ڈوب جاتے ہیں۔ کبھی کسی چٹان سے کوئی جہاز ٹکرا گیا تو کبھی دو جہاز آپس میں ٹکرا گئے۔ بعض اوقات آگ لگ جاتی ہے اور کشتی یا جہاز ڈوب جاتا ہے۔ فرمایا اگر ہم کسی کو غرق کرنا چاہیں فلا صیرح لھم تو ان کی فریاد کو پہنچنے والا کوئی نہ ہو۔ ولاھم ینقذون اور نہ ہی وہ چھڑائے جاسکیں ، بھلا اللہ کی مشیت کے بغیر کون کسی کی مدد کرسکتا ہے اور مصیبت سے نجات دلاسکتا ہے ؟ اس سے توحید کا مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے تم مصیبت کے وقت لاکھ کسی دیوی دیوتا ، کسی جن ، فرشتے ، زندہ یا مردہ انسان کو پکارو ، کوئی بھی تمہیں موت کے منہ سے نہیں بچاسکتا۔ الا رحمۃ منا ہماری مہربانی کے سوا کوئی نہیں بچاسکتا۔ جب ہم کسی کو بچانا چاہتے ہیں تو پھر اس کے لیے مافوق الاسباب سامان بھی مہیا کردیتے ہیں۔ فرمایا ومتاعا الی حین پھر ہم ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھانے کی مہلت دے دیتے ہیں۔ اللہ نے ہر مخلوق کو ایک مقررہ وقت تک زندگی عطا کی ہے جس کے دوران وہ اس دنیا کی نعمتوں سے مستفید ہوتی رہتی ہے پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو تمام اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور انسان ختم ہوجاتے ہیں۔ بہرحال ہر جاندار کی زندگی اللہ کی رحمت کی محتاج ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واذا قیل لھم اتقوا اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس چیز سے ما بین ایدیکم وما خلفکم جو تمہارے آگے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے لعلکم ترحمون تاکہ تم پر رحم کیا جائے آگے سے مراد یہ ہے کہ تمہاری موت آنے والی ہے پھر قیامت برپا ہوگی اور حشر کا میدان قائم ہوگا۔ پھر وہاں حساب کتاب کی منزل آئے گی اور ہر ایک کے متعلق فیصلے ہوں گے ، اس سارے عمل سے ڈر جائو اور آنے والے وقت کے لیے تیاری کرلو۔ پیچھے رہ جانے والی دنیا ہے ، یہاں پر جو اعمال چھوڑے ہیں ان کو بھی دھیان میں لائو کہ اس دنیا میں رہ کر کیا کرتے رہے اور پھر سوچو کہ ان عقاید و اعمال کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے۔ اگر پیچھے برے اعمال چھوڑے ہیں تو ظاہر ہے کہ آخرت میں ان کا وبال بھی پڑے گا۔ لہٰذا اب وقت ہے کہ آنے والے وقت سے ڈر جائو۔ لوگوں کی اکثریت پر افسوس ہے کہ وہ نہ تو نشانات قدرت میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی نجات کے لیے کوئی حیلہ کرتے ہیں۔ بلکہ فرمایا وماتاتیھم من ایۃ من ایت ربھم الا کانوا عنھا معرضین اور نہیں آئی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے مگر وہ کرنے والے ہی ہوتے ہیں جو بھی کوئی دلیل ، معجزہ یا حکم اللہ کی طرف سے آتا ہے یہ اس میں غور و فکر کرنے کی بجائے اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ظاہر ہے ان نشانیوں میں توحید و رسالت کی بات ہوتی ہے یا وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کی نشاندہی ہوتی ہے مگر یہی چیزیں ان کے مزاج کے خلاف پڑتی ہیں۔ لہٰذا یہ ان سے کنی کترا جاتے ہیں۔ اللہ نے ان کی غفلت کا ذکر بھی کردیا ہے۔ اللہ نے ان ناہنجاروں کی ایک یہ خصلت بھی بیان فرمائی ہے واذاقیل لھم انفقوا مما رزقکم اللہ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرو۔ یعنی غریبوں ، محتاجوں ، یتیموں اور بیوائوں کا حق ادا کرو وقال الذین کفروا للذین امنوا تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں افطعم من لو یشاء اللہ اطعمہ کیا ہم ایسے شخص کو کھلائیں جس کو اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو محتاج رکھنا ہی پسند کیا ہے تو ہم ان پر خرچ کرکے اللہ کی منشاء کے خلاف کام کیوں کریں ؟ مشرکین مکہ بھی یہی فلسفہ بیان کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب محتاجوں کی اعانت کرتے تو بڑے بڑے کافر اور مشرک کہتے کہ تم ان محتاجوں پر کیوں خرچ کرتے ہو ؟ آپ جواب دیتے کہ میرے مال میں اللہ نے ان کا حق بھی رکھا ہے ، لہٰذا میں خرچ کرتا رہوں گا۔ والذین فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم (المعارج 25- 24) اللہ نے نیک لوگوں کی یہ صفت بیان کی ہے کہ انہیں اپنے مالوں میں سائلین اور محتاجوں کے حقوق معلوم ہیں لہٰذا وہ ان پر خرچ کرتے رہتے ہیں۔ کہتے تھے ان انتم الا فی ضلل مبین تم تو صریح گمراہی میں ہو جو اپنا مال ان ناداروں پر خرچ کرتے ہو جنہیں اللہ بھوکا رکھنا چاہتا ہے۔ تقسیم رزق کی حکمت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں رزق کی تقسیم ایک خاص حکمت کے تحت کرتا ہے ، کسی کو کم دیتا ہے ، کسی کو مناسب حال اور کسی کو ضرورت سے زیادہ البتہ وہ کسی کو بالواسطہ عطا کرتا ہے اور کسی کو بلاواسطہ۔ اغنیاء کو بلاواسطہ دے کر حکم دیتا ہے کہ اس میں سے محتاجوں کی خدمت بھی کرو۔ اب امیر آدمی کے مال میں سے زکوٰۃ صدقات کی صورت میں جو غریب آدمی کو پہنچے وہ بالواسطہ ہوگیا اور ہے یہ بھی اللہ ہی کی عطا۔ البتہ مال میں کمی بیشی میں اللہ کی حکمت یہ ہے کہ وہ مال دے کر بھی آزماتا ہے اور اس سے محروم کرکے بھی آزمائش میں ڈالتا ہے۔ سورة الانبیاء میں ہزے ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ (آیت 35) ہم تمہیں برائی اور بھلائی ہر دو طریقوں سے آزماتے ہیں۔ وہ اغنیاء کو مال دے کر آزماتا ہے کہ وہ اس کے حقوق کس حد تک پورے کرتے ہیں اور غرباء کو محروم کرکے آزماتا ہے کہ وہ کس حد تک صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کیا وہ رزق حلال کی تلاش میں نکلتے ہیں یا چوری ، ڈاکہ اور دھوکہ دہی کا پیشہ اختیار کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کو امیر اور بعض لوگوں کو غریب رکھنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ مخلوق کی معیشت کا دار و مدار اسی قسم کی تقسیم پر ہے اگر سب کے سب امیر ہی ہوتے تو پھر مزدوری کون کرتا ، کاشتکاری کون کرتا اور کارخانے کیسے چلتے اسی طرح اگر سارے کے سارے محتاج ہی ہوتے تو وہ اپنی احتیاج کس سے پوری کرتے ؟ اس طرح بھی تمدن کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔ چناچہ اللہ نے کسی کو کارخانے دار اور کسی کو مزدور بنا دیا ، کسی کو زمین کا مالک اور کسی کو کسان بنا دیا اور اس طرح دنیا کے تمدن کی گاڑی چل رہی ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ان انتم الا فی ضلل مبین کے الفاظ کفار و مشرکین کا نظریہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اپنے بندوں پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم کیسی گمراہی کی باتیں کر رہے ہو ، حقیقت میں رازق تو ہر مخلوق کا اللہ تعالیٰ ہی ہے اس نے روزی رسانی کے مختلف ذرائع مقرر کر رکھے ہیں جن کے واسطے سے وہ ہر ایک کو اس کے حصے کا رزق پہنچا رہا ہے۔ تم اس کی حکمت کو نہیں جانتے۔ بعض لوگ ازراہ تعصب اور عناد کہتے تھے ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بتلائو کہ وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنی حماقت کی وجہ سے اس قسم کے سوال کر رہے ہیں۔ جب ہمارا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ان کو گھڑی بھر بھی مہلت نہیں ملے گی۔ فرمایا ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ یہ لوگ نہیں انتظار کرتے مگر ایک ہی چیخ کا تاخذھم جو ان کو پکڑلے گی وھم یخصمون اس حالت میں کہ یہ آپس میں جھگڑا کر رہے ہونگے فرمایا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دلائل میں غور و فکر کرنے کی بجائے تعصب اور عناد کی بنا پر غرور وتکبر والی بات کر رہے ہیں اور لایعنی سوال کرتے ہیں۔ جب ہماری گرفت آئے گی تو پھر کسی لمبے چوڑے لشکر کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ان کے لیے ایک چیخ ہی کافی ہے جو ان کا کام تمام کردے گی۔ گزشتہ آیات میں حبیب نجار (رح) کا واقعہ بھی بیان ہوچکا ہے ان کانت الا صیحۃ واحدہ فاذا ھم خمدون (آیت 29) فرشتے نے ایک ہی چیخ ماری تو وہ نافرمان اس طرح ملیا میٹ ہوگئے جس طرح جلتے ہوئے کوئلے پانی ڈالنے سے بجھ جاتے ہیں۔ فرمایا جب خدا تعالیٰ کی گرفت آتی ہے تو پھر کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا فلا یستطیعون توصیۃ پھر نہ تو وہ کوئی وصیت ہی کرسکتے ہیں کہ میرے بعد فلاں کام اس طرح کرلینا یا میرے مال کو اس طرح صرف کرنا بلکہ اتنا تو موقع نہیں ملتا ولا الی اھلھم یرجعون اور نہ ہی وہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آسکتے ہیں کہ ان سے کوئی بات ہی کرلیں کوئی شخص بازار میں ہو یا مکان میں ، کھیت میں ہو یا کارخانے میں دفتر میں ہو یا سفر کر رہا ہو ، جہاں کہیں بھی ہوتا ہے ، اللہ کی گرفت وہیں آجاتی ہے اور انہیں ذرہ بھر بھی مہلت نہیں ملتی۔ فرمایا قیامت کے متعلق پوچھ کر کیا یہ لوگ ایسے اچانک وقت کا انتظار کر رہے ہیں ؟
Ayahs 36:51–59

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ Open ayah 36:51 in the Quran reader

اور پھونکا جائے گا صور میں ، پس اچانک وہ لوگ قبروں سے اٹھ کر اپنے پروردگار کی طرف دوڑیں گے

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

کہیں گے ، افسوس ہمارا کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہوں سے ، یہ وہ چیز ہے جو وعدہ کیا ہے خدائے رحمان نے اور سچ کہا ہے اس کے رسولوں نے

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

نہیں ہے مگر ایک ہی چیخ اچانک وہ سب کے سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی نفس پر کچھ بھی اور نہیں بدلہ دیا جائے گا تم کو مگر وہ جو تم عمل کرتے تھے

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک جنت والے لوگ آج کے دن مشغلے میں ہوں گے اور آپس میں باتیں کر رہے ہونگے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیے لگانے والے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لیے ان میں پھل ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ چیز ہوگی جو وہ طلب کریں گے

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

اور سلام ہوگا ایک بات رب رحیم کی طرف سے

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور (حکم ہوگا) الگ ہو جائو آج کے دن اے گنہگارو

ربط آیات اپنی آیات قدرت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی مذمت بیان فرمائی اور یہ بھی کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آگے پیش آنے والے حالات کے لیے کچھ تیاری کرلو ، اور جو اعمال پیچھے چھوڑ آئے ہو ان کے متعلق بھی غور و فکر کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے تو یہ لوگ نشانات قدرت دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ الٹا اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان میں سے مالداروں کی حالت کا ذکر بھی کیا کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ روزی میں سے غرباء اور مساکین پر بھی خرچ کرو تو کہتے ہیں کہ جن کو خود خدا تعالیٰ بھوکا رکھنا چاہتا ہے یعنی ان کو نادار بنایا ہے ، بھلا ہم ان کی اعانت کریں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ تو نہایت ہی گمراہی کی بات ہے ، بلاشبہ ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر یہ اس کا طریق کار ہے کہ کسی کو بالواسطہ روزی پہنچاتا ہے اور کسی کو بلاواسطہ وہ ان محتاجوں کو مالداروں کے واسطہ سے روزی پہنچانا چاہتا ہے مگر یہ حیلے بہانے سے ان کا حق ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ نیز اللہ نے یہ فرمایا کہ وہ ہر ایک کی آزمائش کرتا ہے ، کسی کو مال و دولت دے کر آزماتا ہے اور کسی کو محروم رکھ کر آزمائش میں ڈالتا ہے۔ پھر اللہ نے قیامت کا ذکر بھی کیا کہ کافر لوگ اس کا تمسخر اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر واقعی قیامت آنے والی ہے اور محاسبہ اعمال ہونے والا ہے تو وہ قیامت آ کیوں نہیں جاتی۔ اللہ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ قیامت بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی آئے گی جب وہ وارد ہوجائے گی تو پھر کسی کو ایک گھڑی بھر بھی مہلت نہیں ملے گی۔ حتی کہ کوئی شخص نہ تو کوئی وصیت کرسکے گا اور نہ ہی اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ سکے گا کہ ان کے ساتھ کوئی بات چیت ہی کرلے بلکہ جس مقام پر بھی ہزوگا وہیں اس کو ختم کردیا جائے گا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور لوگوں کی بعثت کے متعلق بعض حالات ذکر کئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ونفخ فی الصور اور صور میں پھونکا جائے گا۔ وقوع قیامت کا عمل صور پھونکنے سے ہوگا۔ اللہ کا ایک فرشتہ منہ (ترمذی ص 467) میں سینگ کی شکل کا ایک بگل تھامے کھڑا ہے اور منتظر ہے کہ کب اللہ کا حکم ہو تو وہ اس صور میں پھونک مارے۔ جب یہ صور پھونکا جائے گا تو اس سے سارے جاندار ہلاک ہوجائیں گے۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ صور دو دفعہ پھونکا جائے گا اور دونوں (مسلم ص 406 ج 3 و بخاری ص 735 ج 2) کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ جب پہلی دفعہ صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز فنا ہوجائے گی پھر چالیس سال کے بعد جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدان حشر میں اپنے رب کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ اس مقام پر اسی دوسرے صور پھونکنے کا ذکر ہو رہا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا فاذاھم من الاجداث الی ربھم ینسلون تو اچانک سب لوگ قبروں سے اٹھ کر اپنے رب کی طرف دوڑتے ہوئے جائیں گے ، جس طرف سے آواز آرہی ہوگی اس طرف دوڑتے چلے جائیں گے۔ سورة المعارج میں ہے کہ اس تیزی کے ساتھ دوڑیں گے کانھم الی نصب یوفضون (آیت 43) جیسے شکاری شکار کے جال کی طرف یا تیر اپنے نشانے کی طرف تیزی سے جاتا ہے۔ اس وقت ساری مخلوق سخت پریشانی میں مبتلا ہوگی۔ قرآن میں اس کی تفصیلات موجود ہیں کہ سخت دھوپ ، اس کی تپش ، لوگوں کا عظیم اجتماع اور بھوک پیاس کی شدت ہوگی اور لوگ سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے۔ اور اس وقت قالوا یویلنا من بعثنا من مرقدنا کہیں گے ہائے افسوس ! ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کس نے اٹھا دیا۔ مرقد لیٹنے یا آرام کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ صور پھونکے جانے کے بعد جب لوگ اچانک اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ اسے اپنے آرام میں خلل تصور کریں گے۔ یہاں پر یہ شکال وارد ہوتا ہے کہ قبر کی زندگی تو برزخی زندگی ہے جس میں ہر نیک و بد کو جزا اور سزا کا احساس بھی ہوتا رہتا ہے مگر آیت زیر درس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب لوگ مکمل آرام کی حالت میں ہوں گے اور وہ صور میں پھونکنے سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ مرنے کے بعد برزخ کی جزا یا سزا آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ چیز اہل سنت والجمات کے عقیدے میں داخل ہے یہ جزا یا سزا معمولی نوعیت کی اور عارضی ہوگی جب کہ حقیقی جزا یا سزا میدان حشر میں جزائے عمل کا فیصلہ ہونے کے بعد شروع ہوگی۔ مفسرین (روح المعانی ص 32 ج 33 و مظہری ص 90 ج 8) کرام اس اشکال کو دو طریقے سے رفع کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ فرماتے ہیں کہ پہلے صور پھونکے جانے کے بعد دوسرے صور تک چالیس سال کے عرصہ میں کوئی ثواب یا عذاب نہیں ہوگا۔ گویا اس دوران سزا موقوف رہے گی۔ پھر جب لوگ دوبارہ اٹھیں گے تو محسوس کریں گے کہ وہ تو آرام سے سوئے ہوئے تھے ، یہ کس نے جگا کر ان کے آرام میں خلل ڈالا۔ مفسرین کرام ( مظہری ص 90 ج 8) اس کی دوسری توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یرزخ کی سزا تو معمولی نوعیت کی ہوگی ، پھر جب وہ دوبارہ اٹھ کر حشر کی تلخی کو دیکھیں گے تو وہ برزخ کی سزا کو بھول جائیں گے ، گویا انہیں کوئی سزا ملی ہی نہیں تھی لہٰذا وہ کہیں گے کہ ہمیں خواب گاہوں سے کس نے جگا دیا ، ہم تو آرام سے سوئے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا ھذا ما وعد الرحمن وصدق المرسلون یہی وہ چیز ہے جس کا وعدہ خدائے رحمان نے کیا تھا اور جس کے متعلق خدا کے رسولوں نے سچ فرمایا تھا کہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جب تم سب قبروں سے دوبارہ اٹھائے جائو گے ، پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور ہر ایک کو اپنے اپنے کیے کا بدلہ چکھنا پڑے گا۔ پھر کیا ہوگا ؟ ان کانت الا صیحۃ واحدۃ ایک ہی آواز آئے گی فاذا لھم جمیع لدنیا محضرون پس اچانک سب کے سب ہمارے پاس حاضر کردیئے جائیں گے صور پھونکنے کی دیر ہے کہ ہر شخص بھاگم بھاگ اللہ کے سامنے پیش ہوگا پھر ہر عمل کا محاسبہ ہوگا اور جزا یا سزا کے فیصلے ہوں گے۔ کوئی متنفس ادھر ادھر بھاگ نہیں سکے گا۔ دنیا میں تو ملزم روپوش یا مفرور بھی ہوجاتے ہیں مگر وہاں کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے گا جب تک کہ اس کا فیصلہ نہ ہوجائے۔ فرمایا فالیوم لا تظم نفس شیا اس دن کسی جان پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی ، بلکہ ہر فرد کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اس دن کسی کی ذرہ برابر بھی کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی برائی کی چھوٹ ہوگی بلکہ سب کو مکمل جزا یا سزا مل کر رہے گی۔ ولا تجزون الا ما کنتم تعملون اور تمہیں صرف تمہارے کردہ اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ آگے نیکو کاروں کی جزا کے متعلق فرمایا ان صاحب الجنۃ الیوم فی شغل فکھون پھر جن خوش قسمتوں کے حق میں جنت کا فیصلہ ہوگاوہ مشغلے میں ہوں گے اور آپس میں خوشی خوشی باتیں کریں گے ، انہیں ہر قسم کا عیش و نشاط حاصل ہوگا اور تمام ناگوار ناپسندیدہ چیزیں ان سے ہٹالی جائیں گی۔ پھر ان کو نہ کوئی جسمانی اذیت پہنچے گی اور نہ روحانی کوفت ہوگی۔ ھم و ازواجھم فی ظلل علی الا رائک متکون وہ اور ان کی بیویاں تختوں پر ٹیک لگائے سایوں میں بیٹھے ہوں گے۔ اریکہ کا معنی تخت ، پلنگ ، بینچ یا آج کی اصطلاح میں صوفہ سیٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جنتی لوگ جنت میں نہایت آرام و سکون کے ساتھ اپنی پسند کی اعلیٰ جگہوں پر بیٹھیں گے۔ بڑا خوشگوار ماحول ہوگا اور وہ آپس میں خوشی خوشی باتیں کریں گے۔ انہیں ہر قسم کی تفریح میسر ہوگی اور کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی۔ لھم فیہا فاکھۃ وہاں ان کے لیے مختلف الانواع پھل ہوں گے جن کو وہ استعمال کریں گے۔ ولھم ما یدعون اور اس کے علاوہ انہیں ہر وہ چیز حاصل ہوگی جس کا مطالبہ کریں گے۔ ان کی خواہشات اور مطالبات بھی نہایت پاکیزہ قسم کے ہوں گے اور کوئی کمزور اور ردی خواہش پیدا ہی نہیں ہوگی۔ بہرحال انہیں منہ مانگی مراد ملے گی ان کو ظاہری اور جسمانی لذتوں کے علاوہ ہر قسم کی نفسانی اور روحانی آسائش بھی حاصل ہوگی۔ سورة حم سجدہ میں ہے۔ ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون (آیت 31) وہاں ہر وہ چیز ملے گی جس کو دل چاہے گا اور ہر وہ چیز جس کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پروردگار کا سلام ان مادی نعمتوں کے علاوہ فرمایا سلم سلامتی ہوگی قولا من رب الرحیم یہ پروردگار کی طرسے قول ہوگا جو کہ نہایت ہی مہربان ہے ۔ اللہ فرمائے گا کہ اے جنت والو ! میری طرف سے تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلامتی نصیب ہو۔ سورة النحل میں فرشتوں کے سلام کا ذکر بھی آتا ہے جب فرشتے نیک لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں یقولون سلم علیکم ادخلوا الجنتہ بما کنتم تعملون (آیت 32) تو کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو ، جنت میں داخل ہو جائو ان اعمال کے بدلے میں جو تم انجام دیا کرتے تھے۔ پھر جنتی آپس میں بھی ایک دوسرے کے لیے سلامتی کی دعائیں کریں گے ، سورة یونس میں ہے دعوھم فیھا سبحنک اللھم وتحیتھم فیہا سلم (آیت 1) جب جنتی جنت کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے سبحان اللہ اور وہاں ان کی آپس میں دعا ” السلام علیکم “ ہوگی لیکن جنت والوں کو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوگی کہ اللہ فرمائے گا۔ میرے بندو ! میری طرف سے تم پر ہمیشہ کے لیے سلامتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے جنتیو ! احل علیکم رضوانی فلا اسحط علیکم بعدہ ابدا میں اپنی رضا اور خوشنودی تم پر اتارتا ہوں اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہیں ہونگا ہمیشہ خوش ہی رہوں گا۔ یہ اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہوگی۔ پھر حکم ہوگا وامتا زوا الیوم ایھا المجرمون اے گنہگارو ! شرک ، کفر ، بدعات اور معاصی کا ارتکاب کرنے والو اپنی صف علیحدہ بنالو۔ دنیا میں تو نیک و بد سب ملے جلے تھے مگر آج تم علیحدہ ہو جائو کہ تمہارا راستہ نیکو کاروں سے الگ ہے اور تمہارا ٹھکانا بھی مختلف ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے محاسبہ کرے گا۔ یہ نہایت مشکل گھڑی اور پریشانی کا عالم ہوگا اور مجرموں کے لیے بڑی کٹھن منزل ہوگی۔
Ayahs 36:60–68

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

کیا میں نے تم کو نہیں کہہ رکھا تھا اے بنی آدم ! کہ نہ عبادت کرنا شیطان کی ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ تم صرف میری عبادت کرنا ، یہی سیدھی راہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق گمراہ کیا تم میں سے بہت سی مخلوق کو ، کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

داخل ہو جائو اس میں آج کے دن اس کے بدلے میں جو تم کفر کیا کرتے تھے

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم مہر لگا دیں گے ان کے مونہوں پر اور کلام کریں گے ہمارے سامنے ان کے ہاتھ ، اور گواہی دیں گے ان کے پائوں جو کچھ وہ کماتے تھے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو مٹا دیں ان کی آنکھوں کو ، پس وہ دوڑیں گے راستے کی طرف ، پھر کہاں دیکھ سکیں گے ؟

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو مسخ کردیں ان کی شکلوں کو ان کے ٹھکانے پر ہی پس نہ طاقت رکھیں وہ چلنے کی اور نہ واپس لوٹ سکیں

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کو الٹا کردیتے ہیں پیدائش میں ، کیا یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے ؟

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد اور روز محشر کا کچھ حال بیان فرمایا تھا۔ جب صور ثانی پھونکا جائے گا تو لوگ اپنی قبروں سے حساب کتاب کے لیے نکلیں گے۔ پھر ہر ایک کا محاسبہ ہوگا۔ ہر شخص کے لیے اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق جزا یا سزا کا یصلہ ہوگا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ پھر جن لوگوں کے لیے جنت کا فیصلہ ہوگا وہ نہایت ہی آرام و راحت میں ہوں گے اور انہیں ان کی ہر مطلوبہ چیز مہیا کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے سلام ہوگا۔ برخلاف اس کے اس روز مجرموں اور گنہگاروں کو حکم ہوگا کہ تم الگ ہو جائو اور اپنی علیحدہ صف بنالو۔ پھر ان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ شیطان کی اطاعت مجرموں کی علیحدہ صف بندی کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا الم اعھد الیکم یبنی ادم اے اولاد آدم ! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا یعنی تمہیں یہ بات نہیں سمجھائی تھی الا تعبدوا الشیطن کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا کیونکہ انہ لکم عدو مبین وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد پوری اولاد آدم سے یہ کہہ دیا تھا کہ شیطان سے خبردار رہنا اور اس کے جھانسے میں نہ آنا ، یہ تمہیں ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے اللہ نے خصوصی طور پر فرمایا تھا فقلنا یا دم ان ھذا عدو لک ولن فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (طہ 117) ہم نے کہا آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے یہ کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے پھر تم مشقت میں پڑ جائو گے۔ پھر ساری اولاد آدم کو اللہ نے اپنے انبیاء کے ذریعے خبردار کردیا کہ شیطان سے بچتے رہنا ، انہ یرکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونھم (الاعرف 27) وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھ رہا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ وہ غیر مرئی مخلوق ہے وہ چھپ کر وار کرتا ہے لہٰذا اس کے بہکاوے میں نہ آنا۔ پھر شیطان نے بھی روز اول سے قسم کھا رکھی ہے کہ میں تیرے صراط مستقیم پر بیٹھوں گا۔ ثم لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم (الاعراف 17) میں تیرے بندوں کے آگے سے بھی آئوں گا اور پیچھے سے بھی ، دائیں سے بھی آئوں گا اور بائیں طرف سے بھی اور پھر ان کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ پھر دنیا کی طرف سے آکر بھی ان کو گمراہ کروں گا ، دین کی طرف سے بھی اور خواہشات کے راستے سے بھی۔ اسی لیے اللہ نے بار بار فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے لہٰذا اس سے بچ کر رہنا۔ اللہ نے فرمایا ایک تو میں تمہیں شیطان کے اغواء سے خبردار کیا تھا اور دوسری بات یہ کی تھی وان اعبدونی صرف میری ہی عبادت کرنا اور شیطان کی عبادت نہ کرنے لگنا ورنہ وہ تمہیں جہنم میں پہنچائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ انما یدعو حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر (فاطر 6) وہ اپنے گروہ کو بلا رہا ہے تاکہ سب کو ساتھ لے کر جہنم میں جائے ، وہ اپنی جماعت کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ جہنم میں اس کے ساتھی زیادہ سے زیادہ ہوں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں آگاہ کردیا تھا کہ شیطان کی دشمنی سے بچتے رہنا اور عبادت صرف میری کرنا ھذاصراط مستقیم وہی سیدھا راستہ ہے اسی پر چل کر تم دائمی نجات پاسکتے ہو۔ اگر اس راستے سے بھٹک گئے تو پھر تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ آگے اللہ نے شیطان کے اغواء سے مزید خبردار کیا ہے۔ ولقد اضل منکم جبلا کثیرا تحقیق اس شیطان نے تم میں سے بہت سی مخلوق کو بہکا رکھا ہے۔ جبلا کا معنی مخلوق ہے اس کا تلفظ جبلا اور جبلا بھی آتا ہے فرمایا افلم تکونوا تعقلون کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے کہ اس کو اپنا دشمن سمجھتے ہوئے اس سے بچنے کی کوشش کرو۔ یہ کافر اور مشرک سب شیطان کے راستے پر چل رہے ہیں۔ آج بھی دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سے چار ارب لوگ شیطان کے پجاری ہیں جب کہ بمشکل پانچواں حصہ توحید کو مانتا ہے۔ جب جزائے عمل کی منزل آئے گی تو شیطان کے ان پجاریوں سے کہا جائے گا۔ ھذہ جھنم التی کنتم توعدون یہی ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اللہ کے راستے کو چھوڑ کر شیطان کے راستے پر چلو گے تو پھر تمہارا یہی ٹھکانا ہوگا۔ لہٰذا صلوھا الیوم بما کنتم تکفرون آج اس میں داخل ہو جائو اس کفر کے بدلے میں جس کا ارتکاب تم کرتے رہے ، تم نے دنیا میں نصیحت کی بات نہ مانی اور شیطان کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ دنیا کے امور میں تو بہت ہوشیار اور سمجھدار تھے لیکن ایمان کے بارے میں اتنے کمزور تھے کہ شیطان کے پیچھے لگے رہے۔ اب اس کفر کا خمیازہ جہنم کی صورت میں بھگتو۔ انسانی اعضاء کی شہادت بعض لوگ محاسبہ اعمال کے وقت کفر ، شرک اور معاصی سے انکار کردیں گے جیسے مشرکوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ وہ کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین (الانعام 23) اللہ کی قسم ، ہم تو دنیا میں رہ کر شرک نہیں کیا۔ مگر ہر انسان کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ، لوح محفوظ میں بھی درج ہے اور انسان کے نامہ اعمال میں بھی لکھا ہوا ہے۔ گویا انسان کا ہر عمل محفوظ رہتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ (ابن کثیر ص 577 ج 3 و طبری ص 24 ج 23) اتمام حجت کے لیے فرشتوں یا دیگر چیزوں کو بطور گواہ پیش کریں گے ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ بعض لوگ کہیں گے کہ ہم اپنے وجود کے سوا کسی دوسرے گواہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس وقت اللہ فرمائے گا۔ الیوم ختم علی افوامھم ان دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔ وتکلمنا ایدیھم تو ان کے ہاتھ ہمارے ساتھ کلام کریں گے وتشھدا رجلھم اور ان کے پائوں گواہی دیں گے بما کانوا یکسبون جو کچھ وہ کماتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ مجرموں کی زبان تو بند ہوجائے گی اور ان کے جسم کے اعضاء ہاتھ پائوں وغیرہ ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ کسی اچھے برے کام کے کرنے میں سب سے زیادہ دخل ہاتھوں کا ہوتا ہے چناچہ آدمی کے ہاتھ کہیں گے کہ اس شخص نے ہمارے ذریعہ فلاں برا کام کیا تھا اور پائوں گواہی دیں گے کہ ہمارے ساتھ چل کر یہ شخص فلاں غلط مقام پر گیا تھا۔ اس وقت گنہگار آدمی حیرت میں مبتلا ہوجائے گا کہ خود اس کے اعضاء وجوارح ہی اس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ پھر وہ جسم کے اعضاء سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ میں نے تمہیں ہی سزا سے بچانے کے لیے جرم کا انکار کیا تھا مگر اب تم نے خود ہی یہ راز فاش کردیا ہے اب تمہارے بچنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانوں کے اعمال کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ نے مکمل طور پر کر رکھی ہے اور اس کا ہر قول اور فعل اس کے اعمالنامے میں درج ہو رہا ہے۔ یہ اعمالنامہ موت کے وقت انسان کے گلے میں لٹکا دیا جاتا ہے اور قیامت والے دن متعلقہ شخص کے سامنے پیش کرکے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (بنی اسرائیل 14) یہ تیرا اعمالنامہ ہے اسے خود ہی پڑھ لو۔ حساب کتاب کے لیے آج کے دن یہی دستاویز کافی ہے۔ چناچہ خواہ دنیا میں کوئی شخص پڑھا لکھا تھا یا ان پڑھ ، اپنا اعمال نامہ خود پڑھ سکے گا۔ اس وقت انسان خیال کرے گا کہ میرے اعمال تو میرے اعضاء کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہاتھ اور پائوں بھی گواہی دیں گے جیسا کہ میں نے بیان کردیا۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس خطہ زمین پر انسان نے کوئی اچھایا برا کام کیا ہوگا زمین کا وہ ٹکڑا بھی اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دے گا۔ وہاں کے ارد گرد کی چیزیں بھی شہادت دیں گی۔ چناچہ اذان والی حدیث میں آتا ہے کہ اذان کہنے والے شخص کے حق میں اس کے دائیں بائیں کے تمام شجر و حجر گواہی دیں گے ، اسی طرح حج کا تلبیہ پکارنے والے کے حق میں زمین کے آخری حصے تک کی تمام چیزیں گواہی دیں گی کہ مولا کریم ! اس شخص نے تیرا نام احترام کے ساتھ بلند کیا تھا۔ سورة حم السجدۃ میں آتا ہے حتی اذا ما جاء وھا شھد علیہم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون جب مجرم لوگ اس مقام پر آجائیں گے تو ان کے کان آنکھیں اور کھالیں گواہی دیں گی اس کام کے متعلق جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ وہ لوگ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم ہمارے خلاف کیسے گواہی دیتی ہو اور آج یہ قوت گویائی تمہیں کہاں سے حاصل ہوگئی تو وہ جواب دیں گی قالوا انطقنا اللہ الذی انطق کل شی وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا کی ہے جس نے ہر چیز کو یہ قوت بخشی ہے۔ یہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور پھر تم اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہو۔ بہرحال فرمایا کہ قیامت والے دن انکار کرنے والوں کے مونہوں پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے اعضاء وجوارح بول کر ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس کو چاہے سزا دے دے۔ ولو نشاء لطمسنا علی اعینھم اور اگر ہم چاہیں تو نافرمانوں کی آنکھیں ہی ضائع کردیں فاسبقوا الصراط فانی یبصرون پھر وہ راستے کی طرف دوڑنا چاہیں گے مگر انہیں کچھ نظر نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے کرنے پر بھی قادر ہے۔ جب لوط (علیہ السلام) کی قوم پر سزا کا وقت آیا تو فرشتے کو حکم ہوا کہ اپنا پر ہلائو۔ جب ایسا کیا فطمسنا اعینھم (القمر 37) تو ہم نے ان کی آنکھیں ہی ضائع کردیں ، وہ سب اندھے ہوگئے ، یہاں بھی فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو مجرموں کو اندھا کردیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ولو نشاء لمخنھم علی مکانتھم اور اگر ہم چاہیں تو ان کے ٹھکانوں پر ہی ان کی شکلیں مسخ کردیں ایسے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ اللہ نے کئی نافرمان قوموں اور جماعتوں کی شکلیں بگاڑ کر بندر اور خنزیر بنا دیے۔ سورة المائدہ میں اہل کتاب کے متعلق فرمایا وجعل منھم القردۃ والخنازیر (آیت 60) کہ ان کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں تبدیل کردیا گیا۔ فرمایا ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ یہ لوگ جہاں بھی کھڑے یا بیٹھے ہوں وہیں ان کی شکلیں مسخ کردیں۔ فما استطاعوا مضیا ولا یرجعون پھر نہ وہ آگے چلنے کی طاقت رکھیں اور نہ واپس گھر جاسکیں۔ انہیں اتنی مہلت بھی نہ ملے کہ اگلی منزل تک پہنچ جائیں یا گھر والوں کو ہی بتاسکیں کہ ہم مبتلائے عذاب ہوچکے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کے متعلق بائبل کا بیان ہے کہ اللہ نے اسے پتھر کی شکل میں مسخ کردیا تھا۔ اسی طرح اساف اور نائلہ مرد و زن کے خانہ کعبہ میں زنا کا ارتکاب کیا تو اللہ نے ان کو پتھر بنا دیا اور وہ کافی عرصہ تک صفا اور مروہ پر عبرت کے لیے پڑے رہے۔ بعد میں شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرکے ان کی پرستش شروع کرادی۔ بہرحال فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کی شکلیں مسخ کردیں۔ کیا یہ اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ خدا قادر مطلق ہے۔ فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نمونہ ہے ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق جس کو ہم زیادہ عمر دے دیتے ہیں ان کو پیدائش میں الٹا کردیتے ہیں۔ افلا یعقلون کیا یہ لوگ اس بات میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ ابتداء میں انسان بچہ ہوتا ہے۔ پھر جوان ہوتا ہے ، طاقت آتی ہے ، مگر جب بڑھاپے کا دور شروع ہوتا ہے تو تمام اعضاء آہستہ آہستہ مضمحل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسی بات کے متعلق فرمایا ہے کہ جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے پھر پیدائش کی حالت میں الٹ دیتے ہیں۔ سورة روم میں اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بیان فرمایا ہے اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ (آیت 54) اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ، پھر کمزوری کے بعد قوت عطا کی ، پھر قوت کے بعد دوبارہ کمزوری اور بڑھاپا طاری کردیا۔ یہ حالات لوگوں کے لیے نشان عبرت ہیں اگر انسان انہی چیزوں میں غور کرے تو کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب نہ کرے جگر مراد آبادی (رح) نے بھی کہا ہے۔ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے کہ جئے جارہا ہوں میں بہرحال اللہ نے زندگی کے مختلف مراحل کو اپنی قدرت کی نشانی بیان فرمایا ہے۔ اگر لوگ پھر بھی اس کی توحید کو تسلیم نہ کریں تو وہ سزا دینے پر بھی قادر ہے۔