Ayah 35:1اس سورة کا نام سورة فاطر ہے۔ یہ نام سورة کی پہلی آیت میں آمدہ لفظ فاطر سے ماخوذ ہے۔ مفسرین (ابو سعود ص 236 در منشور ص 244 وج 5 و مدارک ص 332 ج 3) کرام نے اس سورة کا دوسرا نام سورة ملائکہ بھی ذکر کیا ہے۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو قاصد بنانے کا ذکر کیا ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مکی زندگی میں سورة الفرقان کے بعد نازل ہوئی ، اس کی پینتالیس آیات اور پانچ رکوع ہیں۔ یہ سورة مبارکہ 197 الفاظ اور 3120 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے اور اس میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی صداقت و حقانیت ہی کا ذکر ہے۔ توحید کے ضمن میں عقلی دلائل کے ذریعے مشرکین کے ضمیر کو جھنجھوڑا گیا ہے کہ ذرا اپنے گرد و نواح میں نظر مار کر دیکھو کہ کائنات کی لاکھوں کروڑوں اشیاء کو پیدا کرنے والی کون سی ذات ہے اور تمام ضروریات مہیا کرنے والا کون ہے۔ بیوقوفو غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرنا چاہتا ہے تو کون روک سکتا ہے اور اگر وہی روک دے تو تمہیں کون دے سکتا ہے۔ جب ہر چیز کا خالق ومالک ، مدبر اور متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں تم کدھر بھٹک رہے ہو اور اللہ کی مخلوق کو ہی اس کا شریک بنا رہے ہو۔
رسالت کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو اس میں گھبرانے کی کون سی بات ہے پہلی قومیں بھی اپنے انبیاء کو اسی طرح جھٹلاتی رہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے دنیا میں ہی ان کو سزا دی۔ وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے متعلق اللہ نے توجہ دلائی ہے کہ تم خود ہی سوچو کہ برے اور بھلے میں کوئی تمیز ہونی چاہئے یا نہیں کیا دونوں کو برابر برابرچھوڑ دینا چاہئے یا ہر ایک کو اس کی کارکردگی کا صلہ ملنا چاہئے۔ معمولی عقل و فکر کا آدمی بھی کہے گا کہ نیک کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا سلوک ہونا چاہئے۔ یہی محاسبہ اعمال ہے اور یہی جزا و سزا کا قانون ہے جو اللہ تعالیٰ تمہیں بتلانا چاہتا ہے اور قیامت کا وقوع اس مقصد کے حصول کی طرف ایک قدم ہے۔ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید قبول کرنے والوں کے لیے بڑی بشارتیں دی ہیں اور ان کو ملنے والے انعامات کا ذکر کیا ہے تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں۔ اسی طرح نافرمان لوگوں کی سزا کا ذکر بھی کیا ہے کہ ان کے عذاب میں کمی نہیں ہوگی۔ وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے مگر ان کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔
خاطر یا بدیع
اس سورة مبارکہ کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی صفات سے ہوتی ہے الحمد للہ سب تعریفیں اور خوبیاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہیں۔ سابقہ سورة سبا کی ابتدا بھی انہی الفاظ کے ساتھ ہوئی تھی اور میں نے عرض کیا تھا کہ قرآن پاک میں دو مزید سورتوں کی ابتداء بھی انہی الفاظ سے ہوئی ہے یعنی سورة فاتحہ اور سورة انعام تو فرمایا سب تعریفیں اور ستائشیں اس ذات کے لیے ہیں فاطر السموت والارض جو آسمانوں اور زمین کا پیدہ کنندہ ہے۔ فاطر اور بدیع کا قریب قریب ایک ہی مفہوم ہے یعنی پیدا کرنے والا۔ قرآن پاک میں بعض جگہ فاطر کا لفظ آیا ہے اور بعض مقامات پر بدیع بھی استعمال ہوا ہے۔ جیسے بدیع السموت والارض (البقرہ 117)
فطور کا لغوی (مصباح اللغات ص 638) معنی کسی چیز کو پھاڑنا یا اس میں شگاف ڈالنا ہوتا ہے ۔ رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں (ابن کثیر ص 546 ج 3 و قرطبی ص 319 ج 14) کہ مجھے اس لفظ کے صحیح مفہوم کے متعلق تردد تھا لہٰذا میں اس کی ٹوہ میں تھا کہ کس طرح اس لفظ کا صحیح صحیح مطلب سمجھ میں آجائے۔ اس زمانے میں دیہاتی عربی کو معیاری زبان سمجھا جاتا تھا ، اسی لیے روسائے عرب اپنے بچوں کی ابتدائی پرورش دیہات میں کرنا پسند کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے دو عرب بدویوں کو آپس میں جھگڑتے ہوئے پایا۔ ان کے درمیان ایک کنویں کی ملکیت کا جھگڑا تھا۔ ایک شخص دوسرے سے کہنے لگا۔ کہ تم اس کنویں کی ملکیت کا کیسے دعویٰ کرتے ہو حالانکہ انا فطرتیک اس کو تو میں نے ہی کھودا تھا یعنی زمین میں شگاف ڈال کر میں نے ہی تو یہ کنواں تیار کیا تھا۔ اب تم میرے مقابلے میں کس طرح دعویدار بنتے ہو ؟ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بدو وں کی اس گفتگو سے مجھے فاطر کا معنی سمجھ میں آگیا کہ اس سے مراد کسی چیز کی ابتداء کرنا ہے جب کہ اس سے پہلے اس چیز کا وجود نہ ہو۔
چار صفات خداوندی
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (حجۃ اللہ البالغہ ص 10 ج 1) ہیں کہ کسی چیز کی تخلیق اور نشونما کے لیے اللہ تعالیٰ کی چار صفات یکے بعد دیگرے کام کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پہلی صفت ابداع یا فطور ہے۔ اللہ تعالیٰ اس صفت خاص کے ذریعے بغیر مادے ، آلے اور نمونے کے مطلوبہ چیز کو پیدا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بدیع السموت والارض (البقرہ 117) اس نے آسمانوں اور زمین کو بغیر کسی مادے ، آلے اور سابقہ نمونے کے تخلیق کیا۔ ان کی تخلیق تو ہمارے سامنے موجود ہے مگر یہ تخلیق کس طرح وجود میں آئی ، اس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں اس چیز کو فلسفے کی زبان میں کہتے ہیں معلوم الا نیۃ مجہول الکیف اس کا پوری طرح سمجھنا تو ذرا مشکل ہے تاہم اتنی بات جان لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص تجلیات اور صفات کے ذریعے ہی کس چیز کو براہ راست پیدا کرتا ہے جس کی کیفیت کو مخلوق میں سے کوئی نہیں جان سکتا کہ کس قسم کی تجلیات کا ظہور ہو اور کس قسم کے تغیرات واقع ہوئے جس کے نتیجے میں کائنات کا ظہور ہوا بہرحال یہ اللہ کی پہلی صفت ابداع یا فطور ہے جس کے ذریعے کائنات معرض وجود میں آئی۔
جب ایک چیز اللہ کی صفت ابداع کے نتیجے میں معرض وجود میں آگئی تو اب اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت مختصہ خلق کام کرتی ہے ، خلق کا معنی یہ ہے کہ کسی چیز کا مادہ موجود ہو اور اس سے کوئی چیز بنائی جائے۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے۔ خود اسی کا فرمان ہے اللہ خالق کل شئی (المومن 62) چناچہ انسان ، ملائکہ ، جنات ، جنت اور دوزخ وغیرہ سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ اس کی صفت خلق کی واضح مثال یہ ہے کہ اس نے زمین کو صفت ابداع کے ذریعے بغیر مادے ، آلے اور نمونے کے پیدا کیا اور پھر زمین کے مادے مٹی سے انسان کو صفت خلق کے ذریعے پیدا فرمایا۔ اس کا ارشاد ہے خلقہ من ترات (آل عمران 59) یعنی اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے بنایا اور پھر قطرئہ آب سے نسل انسانی کو چلایا۔ اسی طرح انسانوں اور جنات کے متعلق فرمایا خلق الانسان من صلصال کا لفخار۔ وخلق الجال من مارج من نار (الرحمن 15- 14) اللہ نے انسانوں کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ اسی طرح ملائکہ کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ ان کو اللہ نے ایک خاص قسم کمے نورانی مادے سے تخلیق فرمایا۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ ایک چھوٹے سے بیج سے یا ایک معمولی سی گٹھلی سے بہت بڑا درخت بنا دیتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خلق کا کرشمہ ہے۔
جب اللہ تعالیٰ صفت خلق کے ذریعے کوئی چیز پیدا فرما دیتا ہے تو تیسرے نمبر پر اس کی صفت تدبیر کام کرتی ہے اللہ کا فرمان ہے یدبر الامر من السماء الی الارض (السجدۃ 5) آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر ہر چیز کی تدبیر اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ پیدائش کے بعد کسی چیز کو بتدریج بڑھانا یا گھٹانا ، کسی چیز کو آگے پیچھے کرنا ، یا ترقی و تنزل کے مراحل سے گزارنا ، زندہ یا قائم رکھنا ، موت دے دینا یا فناہ کردینا یہ صفت تدبیر کا کام ہے۔ جو کہ اللہ تعالیٰ خود انجام دیتا ہے اور اس معاملے میں بھی اس کو کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہیں ہزوتی اور نہ ہی وہ یہ کام اپنی مخلوق میں سے کسی کے سپرد کرتا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ کی چوتی صفت تدلی کا نمبر آتا ہے تدلی کا لغوی معنی کسی چیز کا نیچے کی طرف لٹک جانا یا اتر جانا ہے اور اس سے مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ جب کوئی انسان پیدا ہوجاتا ہے اس کے تمام اعضاء ٹھیک طریقے سے بن جاتے ہیں اور اس کی ظاہری اور باطنی قوتیں کام کرنے لگتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس اس انسان کی روح پر پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ روح چونکہ لطیف چیز ہے اور یہ آتی بھی عالا بالا سے ہے لہٰذا اس کی کشش ہمیشہ اوپر کی طرف ہوتی ہے۔ اس تجلی اعظم یا تدلی کا اثر انسان اس دنیا میں محسوس نہیں کرتا کیونکہ اس پر مادیت کا خول چڑھا ہوا ہے جب اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو یہ خول بھی اتر جاتا ہے اور اصل انسانیت ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ اس وقت یہ تدلی اوپر کی طرف کشش کرتی محسوس ہوتی ہے اگر کوئی نیک اور عبادت گزار آدمی ہے تو اسے اس دنیا میں بھی اس کا کچھ نہ کچھ اثر محسوس ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو یہی کشش اس کو آسانی کے ساتھ عالم بالا کی طرف لے جاتی ہے اور اگر کوئی کافر ، مشرک یا گنہگار آدمی ہے تو اس کی کشش نیچے کی طرف ہوتی ہے جب کہ تدلی کی کشش اوپر کی طرف اور اس طرح ایسے شخص کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس جہان سے دوسرے جہان میں منتقلی کی مثال شاہ صاحب (رح) اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسا کہ کوئی شخص نیند کے دوران خواب دیکھتا ہے۔ خواب میں مختلف مقامات پر ہوتا ہے ، کئی کام انجام دے رہا ہوتا ہے اس کو کئی اچھے برے اعمال سے واسطہ پڑتا ہے مگر جونہی بیدار ہوتا ہے۔ تو خواب والا سارا جہان ختم ہو کر وہی اس دنیا کا جہاں سامنے ہوتا ہے۔ جب انسان اس جہان کی زندگی ختم کرکے اگلے جہان میں پہنچتا ہے تو اسے اس دنیا کی زندگی ایک خواب محسوس ہوگی۔ الغرض ! چوتھے نمبر پر اللہ کی صفت تدلی کام کرتی ہے ، تو خلق کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات یکے بعد دیگرے کام کرتی ہیں جن میں چوتھی صفت تدلی ہے۔
آیت کے ابتدائی حصے میں اللہ نے اپنی صفت ابداع یا فطور کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جاعل الملئکۃ رسلا جو کہ فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ فرشتوں کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کے نبیوں کے پاس اللہ کا پیغام لاتے ہیں۔ اس فرض کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ فرشتوں سے تدبیر کے مختلف کام لیتا ہے اور وہ تعمیل حکم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فیضان فرشتوں کے ذریعے ہی کائنات تک پہنچتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے (حجتہ اللہ البالغہ ص 23 ج 2) ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے اربوں ، کھربوں سال پہلے انسان کی مصلحت کی خاطر اپنے فضل اور مہربانی سے اللہ نے فرشتوں کو پیدا فرمایا۔ خدا تعالیٰ ازل میں جانتا تھا کہ انسانوں کی مصلحت فرشتوں پر موقوف ہے۔ تاہم فرشتے درجات میں انسان سے کم تر ہیں۔ فرشتوں کے سات مختلف طبقات ہیں اور ہر طبقہ کا مادہ تخلیق الگ الگ ہے۔ ملاد اعلیٰ کی تخلیق لطیف نورانی سے ہوئی ہے جن میں جبرائیل ، میکائیل وغیرہ شامل ہیں اور ملاء مسافل کی تخلیق اس سے کمتر مادہ سے ہوئی ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرشتوں کے مادہ تخلیق کے متعلق فرماتے (حجۃ اللہ البالغہ ص 16 ج 1) فرماتے ہیں کہ اس کی مثال اس آگ جیسی ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ظاہر ہوئی تھی۔ حقیقت میں یہ حجاب نوری تھا یا ناری تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ ایک درخت سے نکل رہی ہے۔ مگر درخت کو جلاتی نہیں بلکہ مزید روشن کردیتی ہے۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو لطیف مادے سے پیدا کیا ہے ، ان میں روحیں اور عقل و شعور ہے اور ورہ ہر وقت ہمہ تن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔
فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتوں کو پیغام لانے والا بنانے والا ہے اور فرشتوں کی ہیئت یہ ہے اولی اجمۃ تغنی وثلث و ربع کہ وہ دو دو ، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں ۔ اللہ نے ان کو مختلف تعداد میں پر عطا کئے ہیں جن کے ذریعے وہ اڑتے ہیں۔ فرمایا ان کے پروں کی تعداد چار تک محدود نہیں بلکہ یزید فی الخلق ما یشاء اللہ تعالیٰ ان کی تخلیق میں اضافہ کردیتا ہے جس قدر چاہے۔ جس طرح اس زمین پر پرندے اپنے پروں کے ذریعے تیز رفتاری سے اڑتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ کے ملائکہ بھی نہیت ہی برق رفتاری کے ساتھ اپنے پروں کی بدولت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔ فرشتوں کی تیز رفتاری کا عالم یہ ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) ایک سیکنڈ میں خطیرۃ اقدس سے زمین تک پچاس ہزار مرتبہ آجاسکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں نے معراج کے موقع پر سدرۃ المنتہی کے قریب جبرائیل علیہ اسلام کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے دوسرے درجے کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ ہر پر کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن مبارک کی کتاب الزہد میں ایک روایت (جمل ص 483 ج 3) ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل سے کہا کہ میں آپ کو اصلی شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں انہوں نے کہا کہ آپ کو دشواری ہوگی مگر کرکے دیکھ لیں جونہی جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو ظاہر کرنا شروع کیا ، حضور ﷺ پر غشی طاری ہوگئی۔ جب آپ کو ہوش آیا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ اے محمد ! آپ تو مجھے ابھی اصلی حالت میں نہیں دیکھ سکے اور اگر آپ بارہ ہزار پروں والے میکائیل کو دیکھ لیں تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی۔ چناچہ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے دو دفعہ جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل شکل میں دیکھا ہے۔ ایک دفعہ اس وقت جب وحی کا آغاز ہوا اور دوسری دفعہ معراج کے واقعہ میں سدرۃ المنتہی کے پاس۔
تخلیق میں اضافہ
اس آیت کریمہ میں یزید فی الخلق کے الفاظ توجہ طلب ہیں اس کا بظاہر معنی تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے پروں میں حسب منشا اضافہ بھی کرتا ہے۔ تاہم مفسرین کرام اس کے عمومی معنی بھی لیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اس سے اللہ کی ہر قسم کی تخلیق میں اضافہ بھی مراد ہوسکتا ہے۔ مثلاً انسان کو اللہ نے تمام اعضاء عطا فرمائے ہیں جو عام طور پر عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں مگر بعض لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ اضافہ بھی فرمادیتا ہے ، کسی کو غیر معمولی حسن عطا کردیا ، اس کی آنکھوں ، کانوں اور ناک کو بہترین انداز میں بنا دیا کہ وہ عام لوگوں سے زیادہ حسین نظر آتا ہے۔ کسی کو خوبصورت اور سریلی آواز دے دی ، کسی کو اضافی عقل و ذہانت عطا کردی ، کسی کے قد میں اضافہ اور کسی کی جسمانی قوت کو غیر معمولی بنا دیا ، کسی کو خوش الحانی اور کسی کو تحریر و تقریر میں زیادتی عطا کردی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں جن کی قدر کرنی چاہئے۔
فرمایا ان اللہ علی کل شئی قدیر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اس نے ہر چیز اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ بنائی ہے۔ انسانوں پر بیشمار انعامات فرمائے ہیں لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ ایمان اور توحید کو درست کرے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔
Ayahs 35:2–4اس سورة مبارکہ کی ابتداء حمد باری تعالیٰ سے ہوئی۔ سب تعریفیں اور ستائشیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا ایجاد کنندہ ہے جس نے فرشتوں کو پیغام رسانی کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ فرشتوں کے متعدد پر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے تخلیق میں اضافہ کردیتا ہے۔ یہ فرشتے پیغام رسانی کے علاوہ فیضان رسانی کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عمومی رحمت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنی صفت خلق کو بیان کیا ہے۔ ساتھ ساتھ شرک کی تردید ہے اور آخر میں نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ما یفتح اللہ للناس من رحمۃ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جو کچھ کھول دے فلا ممسک لھا تو اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ خدا تعالیٰ کی رحمت کا یہ دروازہ انسان کے جسمانی فوائد کے لیے بھی کھلا ہے اور روحانی ضروریات کے لیے بھی۔ اللہ تعالیٰ انسانی جسم کی نشونما اور بقاء کے لیے بارش برساتا ہے ، اس کے ذریعے پھل اور اناج اگاتا ہے جو انسان کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں اور انساننی جسم کی نشونما کا سبب بنتے ہیں ، اسی طرح مالک الملک انسان کی روحانی تربیت اور ہدایت کمے لیے اپنے نبیوں کو مبعوث فرماتا ہے۔ ان پر وحی نازل فرماتا ہے۔ شرائع اور قوانین عطا کرتا ہے۔ اسی سلسلہ کی آخری کڑی کے طور پر اللہ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کو اپنی آخری اور جامع کتاب قرآن حکیم عطا فرمائی۔ قرآن کریم ہدایت انسانی کے لیے ایک ایسا خزانہ ہے جو قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے منبع رشد و ہدایت ہے۔ اس کے ذریعے انسانوں کو بقائے دائمی کا سامان حاصل ہوتا رہے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔
فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ کوئی بھی بند نہیں کرسکتا اسی طرح وما یمسک جس دروازے کو خود اللہ تعالیٰ بند کردے۔ اپنی جسمانی یا روحانی رحمت کو روک لے فلاس سل لہ من بعدہ تو اس کے بعد اس کی روکی ہوئی چیز کو کوئی بھیجنے والا نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کو کوئی چیز نہ دینا چاہے تو اس کی مرضی کے خلاف کون ہے جو دے سکے اور اس کی منشاء کے خلاف رحمت کا دروازہ کھول سکے ؟ یہ ناممکن ہے۔ وھول العزیز الحکیم اور وہ ذات کمال قدرت کی مالک اور حکمتوں والی ہے ، اس کے سامنے کوئی دوسری طاقت سر نہیں اٹھاسکتی ، تمام طاقتوں کا سرچشمہ اور ہر چیز پر غالب ذات خداوندی ہے۔ اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے وہ ساری مخلوق کا خالق ہے اور ہر ایک کی استعداد اور صلاحیت کو جانتا ہے۔ وہ مخلوق کے قول و فعل اور مخفی ارادوں سے بھی واقف ہے۔ لہٰذا وہ بہتر سمجھتا ہے کہ کس مخلوق کو کتنا اور کب عطا کرنا ہے اور کس کو کس وقت تک کسی چیز سے محروم رکھنا ہے گویا اس کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں۔
شرک کی آمیزش
موطا امام مالک میں (موطا امام مالک و قرطبی ص 321 ج 14) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رحمت کا دروازہ اللہ تعالیٰ ہی کھولتا ہے کسی دوسری ہستی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے مگر بعض لوگ یہ صفت غیر اللہ میں بھی مانتے ہیں مثلاً مشرکین کا ایک گروہ نزول بارش کو ستاروں کی طرف منسوب کرتا ہے کہ فلاں پچھتر طلوع ہوا تو بارش برسی۔ اسی طرح دنیا میں پیش آنے والے حوادثات کو کسی نہ کسی ستارے کے اثر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ ایک رات بارش ہوئی تو صبح کے وقت حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرے بندوں میں سے دوقسم کے بندوں نے صبح کی ہے ایک گروہ وہ ہے جنہوں نے کہا مطرنا بفضل اللہ و برحمۃ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی اور دوسرا گروہ کہتا ہے مطرنا بنوء کذا ہم پر فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی۔ فرمایا ایسے لوگ کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں اور اگر وہ ستاروں کو حقیقی موثر مانتے ہیں تو قطعی کافر ہیں۔ اللہ نے سورة الواقعہ میں فرمایا ہے۔ وتجعلون رزقکم انکم تکذبون (82) تم ایسی چیزوں کو ستاروں کی طرف منسوب کرکے اللہ کی رحمت کو جھٹلاتے ہو۔ یہ تو شرک والی بات ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کا یہ معمول (در منشور ص 244 ج 5 و ابن کثیر ص 547 ج 3) تھا کہ جب بارش ہوتی تو یوں کہتے مطرنا بنوء الفتح یعنی ہم پر فتح کے نو (ستارے) کے ساتھ بارش ہوئی اور پھر یہی آیت تلاوت فرماتے ما یفتح اللہ للناس… الخ گویا فتح سے مراد یہ ہے کہ جس کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دروازہ کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ، اور جس پر وہ خود رحمت کا دروازہ بند کردے اسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ حضرت صغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نماز کے بعد اکثر یہ ورد کیا کرتے (خازن ص 297 ج 5 و معالم التنزیل ص 194 ج 3) تھے لاہ الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجد منک الجد (بخاری ، مسلم) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ! نہیں کوئی روکنے والا اس چیز کو جو تو عطا کردے اور نہیں کوئی دینے والا وہ چیز جو تو روک دے اور تیرے سامنے کسی کی کوشش والے کی کوشش فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔ حضرت مغیرہ ؓ یہ بھی بیان کرتے ہیں لھی قیل وقال یعنی حضور ﷺ نے قیل قال یعنی بات بات پر نکتہ چینی اور ہر بات میں کیڑے نکالنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے کثرت سوال سے بھی منع فرمایا ہزے۔ اگرچہ مجبوری کے وقت سوال کرنے کی کسی حد تک اجازت ہے مگر آپ نے کثرت سوال سے منع فرمایا ہے کہ یہ چیز عزت نفس کے خلاف ہے۔ آپ نے اضاعت مال یعنی فضول خرچی سے بھی منع فرمایا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے کام میں اپنا سارا مال بھی خرچ کردے تو یہ اسراف نہیں ہوگا بلکہ اسراف وہ ہوگا جو مال ناجائز اور مکروہ کاموں میں صرف کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اپنا مال عورتوں اور بچوں کے ہاتھ میں نہ دو کہ وہ ضائع کردیں گے تعیش کے کاموں اور فضول ٹیپ ٹاپ میں مال خرچ کرنا بلاشبہ فضول خرچی میں داخل ہے جس سے منع فرمایا گیا ہے۔
عورتوں کے حقوق
آج کل عورتوں کے حقوق کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے۔ انگریز نے انہی حقوق کی آڑ میں عورتوں کو آزادی کا سبق پڑھا کر آگے بڑھایا اور مردوں کے برابر قرار دیا جس کے نتیجے میں کئی قسم کی اخلاقی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ حرام کاری کی وجہ سے نسلیں خراب ہوگئی ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کی اسلام نے ہی صحیح معنوں میں حفاظت کی ہے۔ قبل از اسلام بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ یہ تو انسانیت کی توہین ہے جسے کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دیا ہے مگر آج عورت کو غیر ضروری جہیز کے نام پر وراثت سے محروم رکھا جارہا ہے۔ یہ کون سی حق پروری ہے ؟ اسلام نے عورت کو عائشہ ؓ ، خدیجہ ؓ ، ام سلمہ ؓ ، جیسے خوبصورت نام دیئے مگر ہم نے عورت کو اس کے نام سے بھی محروم کردیا۔ اب وہ باپ یا خاوند کے نام کا لاحقہ بن کر رہ گیا ہے جیسے ارم نذیر یا مسز ناصر وغیرہ۔ یہکون سی عزت افزائی ہے ؟ عورت کو فیکٹر ی میں ملازمت دے کر یا فوج ، پولیس اور دفتر میں بھرتی کرکے مزدور بنادیا گیا ہے حالانکہ عورت تو گھر کی زینت اور اس کی ذمہ دار ہے۔ اللہ نے عورت کو چاروں باعزت مقام عطا کیے ہیں۔ بحیثیت ماں عورت کا بڑا بلند مقام ہے اللہ نے اولاد کی جنت ماں کے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔ بحیثیت بہن بھی عورت کو نہایت احترام کا مقام دیا گیا ہے۔ بحیثیت بیٹی اس کا مشتاقانہ مقام ہے اور بحیثیت بیوی وہ گھر کی مالکہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ جس طرح مردوں کا حق عورتوں پر ہے اسی طرح عورتوں کا حق مردوں پر ہے یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے درجے میں مردوں کو عورتوں پر فضیلت بخشی ہے مگر ان کے بھی مردوں پر حقوق ہیں۔ ان کے حقوق کی ادئیگی ضروری ہے کسی عورت کو اس کے جائز حق سے محروم رکھنا اسے زندہ درگور کرنے والی بات ہے جس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
حضور ﷺ نے ماں کی نافرمانی سے منع فرمایا ہے۔ باپ کے مقابلے میں خدمت کے لیے ماں زیادہ حقدار ہے کیونکہ وہ باپ کی نسبت کمزور ہوتی ہے۔ فرمایا والدین کے لیے اذیت کا باعث نہ بنو چہ جائیکہ ان کو گالیاں دے کر گھر سے نکال دیا جائے یا ان سے ذلت آمیز سلوک کیا جائے۔
عامر ابن قیس (رح) ایک بزرگ گزرے (در منشور ص 244 ج 5) ہیں جو غالباً صحابی ہیں ان کا قول ہے کہ قرآن کریم میں چار آیات ایسی ہیں کہ جب میں ان کی تلاوت کرلیتا ہوں تو مجھے کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ میری صبح کیسے گزرے گی اور شام کیسے ؟ گویا یہ آیات مجھے ہر چیز سے مستغنی کردیتی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ان چار آیات میں سے پہلی آیت تو یہی آیت زیر درس ہے یعنی ما یفتح اللہ… وھو العزیز الحکیم اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کمال رحمت کا ذکر ہے جس کی وجہ سے اس ذات پر یقین مزید محکم ہوجاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ دوسری آیت کریمہ وان یمسسک اللہ بضرفا کاشف لہ الا ھو وان یردک بخیر فلالہ لفضلہ (یونس 107) اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کو کوئی دور نہیں کرسکتا اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ فرماتے ہیں کہ تیسری آیت یہ ہے سیجعل اللہ بعد عسر یسرا (الطلاق 7) اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد آسانی پیدا فرماتا ہے۔ ایسی ہی دوسری آیت ہے ان مع العسر یسرا (نشرح 6) بیشک تنگی کے بعد آسانی ہے اگر اللہ کی مصلحت کے مطابق اس زندگی میں راحت نصیب نہ ہوسکے تو آخرت کی زندگی میں تو لازماً کامیابی اور راحت نصیب ہوگی۔ فرمایا چوتھی آیت یہ ہے وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا (ہود 6) زمین پر چلنے پھرنے والے ہر جاندار کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ غرضیکہ ان آیات میں خدا تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد اور توکل پایا جاتا ہے اسی لیے حضرت عامر ؓ فرماتے ہیں کہ ان آیات کی تلاوت مجھے ہر چیز سے مستغنی کردیتی ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا تذکرہ ، صفت خلق کا بیان اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یا یھا الناس اذکرو نعمت اللہ علیکم اے لوگو ! اللہ کے احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جسمانی اور روحانی ہر قسم کے انعامات سے نوازا ہے وان تعدو نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم 34) حتی کہ اگر تم ان انعامات الٰہیہ کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ اللہ کے اتنے لاتعداد احسانات ہیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ ایک انسان چوبیس گھنٹے میں ایک لاکھ سے زیادہ سانس لیتا ہے اور ہر سانس کے ذریعے انسان کو دو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں جب سانس اندر جاتا ہے تو انسان کا خون تر و تازہ ہوتا ہے اور جب انسانی سانس باہر نکلتا ہے تو فاضل مادے باہر نکلتے ہیں۔ تو اندازہ لگائیں کہ دن رات میں انسان کو کتنی نعمتیں میسرآتی ہیں۔ اس کے علاوہ اللہ نے انسان کو بیشمار ظاہری اور باطنی قویٰ عطا فرمائے ہیں ، دیکھنے ، سننے ، چلنے پھرنے ، بولنے اور غور و فکر کرنے کی کتنی ہی نعمتیں ہیں کہ انسان ان سب کا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہزے کہ اللہ نے فرمایا کہ اس کے بندے اگر اس کا تھوڑا سا شکریہ بھی ادا کردیں تو وہ راضی ہوجاتا ہے ورنہ کوئی شخص کسی نعمت کا شکریہ ادا کر ہی نہیں سکتا۔ اللہ کے فرشتے اگرچہ ہمہ تن عبادت میں مصروف رہتے ہیں مگر شکریہ کا حق ادا کرنے میں وہ بھی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے ھل من خالق غیر اللہ یرزقکم من السماء وارلاض کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی پہنچاتا ہو۔ یہ استفہامیہ انکار کہلاتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ یقینا کوئی نہیں ہے۔ خالق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہر جاندار کو روزی بھی وہی پہنچاتا ہے۔ مگر انسان کس قدر نادان واقع ہوا ہے کہ اس روزی کی خاطر اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے ، اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے حاجات طلب کرتا ہے اور اس طرح شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ روزی کا اختیار تو صرف اللہ کے پاس ہے جو خالق ہے اور جسے ہنود ، یہود ، مشرک ، مجوسی ، سب تسلیم کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی گزر چکا ہے کہ خدا کے سوا روزی کا مالک کوئی نہیں لہٰذا فابتغوا عند اللہ الرزق واعبدوہ واشکروا لہ (العنکبوت 170) لہٰذا اسی کے ہاں رزق تلاش کرو ، اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکریہ ادا کرو۔ ہر ذی روح کے حالات کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق روزی کا دروازہ کھولتا ہے۔ فرمایا الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر (الملک 140) کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے ؟ وہ تو نہایت باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے ، مطلب یہ کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
فرمایا جب اللہ کے سوا خالق کوئی نہیں ہے جو تمہارے لیے روزی کا سامان مہیا کرسکے تو لا الہ الا ھو اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں ہے فاتی توفکون تو پھر تم کدھر پھیرے جاتے ہو۔ تمہیں تو یقین ہونا چاہئے کہ جس خالق نے پیدا کیا ہے وہ روزی کا بندوبست بھی ضرور کرے گا ، سب اختیار اسی کے پاس ہیں۔ وہی عبادت کے لائق ہے۔ ہنود کے ہاں تو تین خدا ہیں ایک پیدا کرنے والا ، دوسرا باقی رکھنے والا اور تیسرا فنا کرنے والا مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق ، مالک ، متصرف ، مدبر اور موت طاری کرنے والی فقط ایک ہی ذات ہے لہٰذا اسی سے ڈرنا چاہئے اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔
تسلی کا مضمون
اگلی آیت میں اللہ کریم نے اپنے نبی اور آپ کے پیرو کاروں کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ، مشرکین نے ہر نبی کی تکذیب اور مخالفت کی اور طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں۔ لہٰذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھیں۔ ارشاد ہوتا ہے وان یکذبوک اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں فقد کذبت رسل میں قبلک تو بیشک آپ سے پہلے رسول بھی جھٹلائے گئے۔ لوگوں نے ان کو بھی رسول ماننے سے انکار کردیا۔ اللہ کے ہر نبی نے اپنی قوم کو ایمان اور توحید کی دعوت دی یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ (الاعراف 85) اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں مگر لوگوں نے اللہ کے نبیوں کو گالیاں دیں ، پتھر مارے اور تکذیب کی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تمہارا کوئی عزیز فوت ہوجائے اور تم سخت غم میں مبتلا ہو تو اس وقت میرا تصور کیا کرو کہ مجھے کتنی تکالیف اور کتنے غم واندوہ برداشت کرنے پڑے۔ اللہ کا نبی اس کا محبوب بندہ ہوتا ہے۔ جب وہ بھی اس جہان سے رخصت ہوگئے تو ہمارے تمہارے کسی عزیز کی کیا بات ہے ؟ اسی لیے فرمایا کہ جب کوئی غم لاحق ہو تو میرا اسوہ سامنے رکھو۔
ایک شخص نے حضور ﷺ کے متعلق بڑی غلط بات کی کہنے لگا اے محمد ﷺ انصاف کرو۔ آپ کے دل پر سخت چوٹ لگی۔ فرمایا اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون انصاف کرے گا۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آسمان والے تو مجھے امین سمجھتے ہیں اور تم مجھے بےانصاف جانتے ہو۔ اس قدر پریشانی کے باوجود آپ نے فرمایا رحم اللہ موسیٰ لقد اوذی باکثر من ھذا فصبر اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے انہیں اس سے بھی زیادہ تکالیف دی گئیں مگر انہوں نے صبر کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر لوگوں نے سخت اتہام لگائے ، آپ کی تکذیب کی مگر انہوں نے ہمیشہ صبر سے کام لیا۔ فرمایا اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا دیں تو آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا آپ تسلی رکھیں والی اللہ ترجع الامورتمام امور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ آپ فکر نہ کریں اور اپنا کام کرتے جائیں ، اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہوگا۔
Ayahs 35:5–7ربط آیات
گزشتہ درس میں حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لیے تسلی کا مضمون تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کو تکالیف پہنچاتے ہیں تو آپ ان سے خوفزدہ نہ ہوں کیونکہ پہلے لوگ بھی اسی طرح اپنے رسولوں کو جھٹلاتے رہے۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں۔ وہ ان مکذبین کو ضرور سزا دے گا۔ اسکے بعد اللہ نے عام بنی نوع انسان کو خبردار کیا ہے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کے اغوا سے بچنے کی کوشش کرتے رہو۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے ، قیامت ضرور واقع ہوگی۔ محاسبے کا وقت آئے گا اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسباب ضلالت میں سے دو اسباب کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلا سبب یہ فرمایا یا یھا الناس ان وعد اللہ حق اے لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ اللہ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کا جو وعدہ لوگوں کے ساتھ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔ قیامت ضرور برپا ہوگی اور ہر شخص کو بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ سورة الانبیاء میں اللہ کا فرمان ہے وعدا علینا انا کنا فعلین (104) وقوع قیامت برحق ہے اور ہم ایسا کرکے رہیں گے۔ قرآن پاک کا تقریباً ایک تہائی حصہ اسی مسئلہ قیامت پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر تمام کتب سماویہ میں بھی اس مسئلہ کو کھول کر بیان کیا گیا ہے تاہم قیامت کی جس قدر تفصیلات قرآن پاک نے بیان کی ہیں۔ اتنی دوسری کتابوں میں نہیں ہے۔
فرمایا ، لوگو ! بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے فلا تعزنکم الحیوۃ الدنیا پس دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے گویا اس دنیا کی زندگی کا ظاہری عیش و آرام اور اس کی رنگینیاں اسباب ضلالت میں سے پہلا سبب ہے۔ اسی میں الجھ کر آخرت کو نہ بھلا بیٹھنا۔ یہ زندگی تو اللہ نے آزمائش کے لیے دی ہے کہ انسان یہاں آکر کیسے اعمال انجام دیتے ہیں۔ اس فانی دنیا میں مگن ہو کر اپنے اصلی مقام کی فکر بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ سورة الملک کی ابتداء میں اسی بات کا تذکرہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم لمن عملا (آیت 2) جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں اچھے اعمال کون انجام دیتا ہے۔ اللہ نے کفار کے متعلق فرمایا ہے ذلک مثلعھم من العلم (النجم 3) ان کا تمام تر جغرافیہ صرف دنیا کی زندگی کے ساتھ وابستہ ہے یعنی ان کا منبع علم صرف دنیا کی زندگی ہے وہ اس کے آگے کچھ نہیں جانتے۔ فرمایا یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (الروم 7) وہ دنیا کی ظاہری زندگی کے متعلق تو خوب جانتے ہیں مگر آخرت کی زندگی سے بالکل بیخبر ہیں ، اس طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ اسی اللہ نے مختلف طریقوں سے سمجھایا ہے کہ انسان دنیا کی ظاہری زیب وزینت اور رونق پر فریفتہ ہو کر دھوکہ نہ کھائیں۔ فرمایا وما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولھو وللدار الاخرۃ خیر الذین یتقون (الانعام 32) دنیا کی زندگی تو محض کھیل تماشہ ہے اور متقین کے لیے آخرت کا گھر ہی بہتر ہے۔ سورة العنکبوت میں بھی ارشاد ہے وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو و لعب وان الدار الاخرۃ لھی الحیوان (آیت 64) یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل تماشہ ہے مگر آخرت کا گھر ہی ہمیشہ کی زندگی کا گھر ہے۔ اس کو کہیں فراموش نہ کردینا۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے قیامت ضرور واقع ہوگی ، لہٰذا تمہیں دنیا کی زندگی کہیں دھوکے میں ڈال دے۔
شیطان کا اغوا
اللہ نے اسباب ضلالت میں سے دوسرا سبب یہ فرمایا ولا یغرنکم باللہ الغرون اور اللہ کے بارے میں تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے بڑا دھوکے باز یعنی شیطان۔ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے اور تمہیں متواتر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فرمایا ان الشیطن لکھ عدو فاتخذوہ عدوا بیشک شیطان تمہارا خطرناک دشمن ہے۔ لہٰذا اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔ انما یدعوا حربہ لیکونوا من اصحب السعیر بیشک اپنے گروہ کو دعوت دیتا ہے تاکہ وہ سارے کے سارے دوزخ والے بن جائیں وہ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے تاکہ اس کی جماعت بہت بڑی جماعت بن جائے۔ اس آیت کریمہ میں لفظ غرور غ کی زبر کے ساتھ آیا ہے جس کا معنی دھوکہ باز یا فریبیہ ہے اور اگر یہی لفظ غ کی پیش کے ساتھ ہو تو معنی دھوکہ ہوگا تو فرمایا شیطان تمہارا دشمن ہے۔ اس سے بچ کر رہنا۔
شیطان سے بچنے کا طریقہ
اما قشیری چوتھی صدی کے بزرگ گزرے ہیں۔ وہ اپنی کتاب (رسالہ قشیریہ) رسالہ قشیریہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شیطان انسان کا سخت ترین دشمن ہے جس کے متعلق خود اللہ جل شانہ کا فرمان ہے انہ یرلکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونھم (اعراف 27) وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھ رہا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔ اس کی دشمنی انسان کے لیے ہر لحظہ جاری ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس نے انکار کیا تو وہ مردود ٹھہرا مگر اس نے اللہ کے سامنے عہد کیا ، پروردگار لا غرینھم اجمعین (الحجر 39) میں تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔ کہنے لگا ، میں آگے پیچھے ، دائیں بائیں غرضیکہ ہر راستے سے آکر انسان کو گمراہ کروں گا۔ چناچہ شیطان اور اس کے چیلے ہر وقت انسان کے درپے رہتے ہیں۔ تو ایسے ازلی دشمن سے بچنے کے لیے امام قشیری (رح) فرماتے ہیں کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہئے۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ نے بعض کلمات بتائے جن کے ورد سے شیطان کے شر سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ مثلا لاحول ولا قوۃ الا باللہ گناہ سے بچائو اور نیکی کی انجام دہی پس اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی ممکن ہے اسی طرح اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم میں مردود شیطان سے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔ یہ الفاظ بھی آتے ہیں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم من ھمزۃ و نفخہ و نفثہ میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں شیطان مردود کی چھیڑ چھاڑ ، اس کے تکبر اور اس کے سحر سے۔ اعوذ باللہ القادر من الشیطن القادر میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو قادر ہے شیطان سے بچنے کے لیے جو غدار ہے۔ بہرحال شیطان کے اغواء سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی استعانت کی ضرورت ہے۔
بخاری شریف کی روایت (بخاری ، قرطبی ص 224 ج 14 فیاض) میں آتا ہے کہ جب انسان سو جاتا ہے اور شیطان کو انسان کے اندر داخل ہونے کے لیے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ ناک میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے اور دل پر پھونکیں مارتا رہتا ہے اور اس طرح وسوسہ اندازی کرتا ہے پھر جب انسان بیدار ہو کر اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اس کو اللہ کے ذکر سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔
انسان کی افسوسناک حالت
مفسر قرآن امام قرطبی اور ایک دوسرے بزرگ ابن سماک فرماتے ہیں کہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ انسان اپنے محسن کو جانتے ہوئے بھی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اس کے احسان کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔ خالق اور محسن حقیقی کو ہر شخص خوب پہچانتا ہے کہ اس کے بیشمار انعامات ہیں مگر اس کا شکریہ بہت کم بندے ہی ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح انسان کو اچھی طرح علم ہے کہ شیطان اس کا ازلی ابدی دشمن ہے مگر اس کے باوجود اس سے بچنے کی کوشش نہیں کرتا۔ گویا انسان کجی حالت کس قدر افسوسناک ہے۔
امام فضیل بن عیاض حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے شاگرد تھے۔ وہ انسان کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے انسان ! تم کذاب اور مفتری ہو کہ ظاہر میں تو شیطان پر لعنت بھیجتے ہو مگر باطن میں اس کے ساتھ دوستانہ ہے۔ تم اکثر کام شیطان کی خواہش کے مطابق انجام دیتے ہو ، تمام رسم و رواج ، بدعات ، شرکیہ اور کفریہ حرکات اور فضول خرچی شیطان کی خواہش کی تکمیل ہی تو ہے سورة یٰسین میں اللہ نے ابن آدم کو خطاب کرکے فرمایا ہے الم اعھد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن انہ لکم عدو مبین (آیت 60) اے ابن آدم ! کیا میں نے تمہیں خبردار نہیں کیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے مگر تم پھر بھی اس کے دام میں پھنس گئے۔
فرمایا ، شیطان کو اپنا دشمن سمجھوانما یدعوا حزبہ لیکونوا من اصحب السعیر بیشک وہ اپنے گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ سب دوزخ والوں میں ہوجائیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بڑی جماعت بنا کر ان کو جہنم میں لے جانا چاہتا ہے۔ لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفر اور ایمان کا انجام بھی بیان کردیا ہے ارشاد ہوتا ہے الذین کفروا وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا لھم عذاب شدید وہ سخت عذاب میں مبسلا ہوں گے۔ کفر کا انجام لازماً برا ہوگا۔ کفر کا معنی دین ، شریعت اور توحید کا انکار ہے۔ یہ سخت جرم ہے جس کی سزا دائمی جہنم ہے۔ دوسری طرف اہل ایمان کے متعلق فرمایا والذین امنوا و عملو الصلحت اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے لھم مغفرۃ واجر کبیر ان کے لیے بخشش اور بہت بڑا اجر ہوگا۔ ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ دوسری منزل ہے اگر ایمان کی بنیاد مستقیم ہے تو نیکی بھی مقبول ہوگی ورنہ نہیں ، نیک اعمال میں سب سے پہلے فرائض یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج آتے ہیں۔ پھر جہاد ، قربانی اور صدقہ و خیرات کا نمبر ہے۔ انسان سے بہت سی کوتاہیاں ہوجاتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ایمان اور نیک اعمال کی وجہ سے معاف فرمادے گا۔ دوسرے مقام پر ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایمان کی برکت سے جنت کے راستے پر چلا کر وہاں تک پہنچائے گا۔
فرمایا ! ایمان اور اعمال صالحہ کی برزکت سے ایک طرف غلطیاں اور کوتاہیاں معاف ہوں گی تو دوسری طرف اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر بھی میسر آئے گا۔ اللہ نے اہل ایمان کے لیے یہ بشارت بھی سنادی ہے۔
Ayahs 35:8–10ربط آیت
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا اور تنبیہہ فرمائی کہ تمہیں اسی دنیا میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے لہٰذا اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔ فرمایا جو شخص شیطان کے پھندے میں پھنس گیا وہ دوزخ کا شکار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ کفر کا پروگرام بڑا خطرناک اور شدید عذاب کا باعث ہے۔ فرمایا کامیابی سے وہی لوگ ہمکنار ہوں گے جو ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی بخشش و مغفرت انہی لوگوں کے حصے میں آئے گی۔
نیکی اور برائی کا تقابل
ایمان اور کفر یا نیکی اور برائی کے تقابل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے افمن زین لہ سوء عملہ فراۃ حسنا ایک طرف وہ شخص ہے جس کا برا عمل اسے مزین کرکے دکھایا گیا ہے۔ یہ شیطان کا کام ہے جو وسوسہ اندازی کے ذریعے رسم و رواج اور بدعات کو مزین کرکے دکھاتا ہے اور باور کراتا ہے کہ تم یہ بہت اچھا کام کر رہے ہو۔ بڑا نیکی کا کام ہے۔ اسے جاری رکھو ۔ سورة الانعام میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام کا ذکر کرکے فرمایا ہے کہ جب انہیں ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے گرفت آئی تو انہوں نے کیوں نہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کیا ، بلکہ ان کے دل مزید سخت ہوگئے وزین لھم الشیطن ما کانوا یعلمون (آیت 43) اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو مزین کردیا لہٰذا انہوں نے توبہ نہ کی پھر اچانک اللہ کی گرفت آئی اور ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ تو فرمایا جس شخص کی نظر میں برے اعمال اچھے ہیں کیا وہ اس شخص کے برابر ہزوسکتا ہے جو اللہ کے فضل سے نیکی اور برائی میں تمیز کرتا ہے ، نیکی کو اختیار کرتا ہے اور برائی سے بچتا ہے۔ یقینی بات ہے کہ یہ دونوں شخص برابر نہیں ہوسکتے۔ ایک ہے جو شیطان کی پیروی کر رہا ہے اور شقاوت کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے اور دوسرا نیکی کو اپنا کر سعادت کے راستے پر چل رہا ہے۔ یہ دونوں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ آگے اللہ نے گمراہی اور ہدایت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا فان اللہ یضل من یشاء ویھدی من یشاء بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہزے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کے راستے پر ڈال دیتا ہے ہدایت اور گمراہی دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں مگر اس نے اس ضمن میں قوانین مقرر کر رکھے ہیں۔ جو شخص تعصب ، ضد اور عناد کی بناء پر توحید کا انکار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ پکڑ کر ہدایت کی طرف نہیں لاتا بلکہ فرمایا نولہ ما تولی ونصلہ جھنم (النساء 115) جدھر وہ جانا چاہتا ہے ہم اسی طرف کی توفیق دے دیتے ہیں اور پھر وہ بالاخر جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔ برخلاف اس کے جس شخص میں استعداد اور صلاحیت موجود ہوتی ہے اور وہ حق کی تلاش میں کوشش کرتا ہے ہم اسے ہدایت کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔ ویھدی الیہ من اناب (الرعد 27) وہ ہدایت اس کو دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے یعنی ہدایت طلب کرتا ہے اور جن کو ہدایت کی خواہش ہی نہیں ہوگی انہیں صراط مستقیم میسر نہیں آسکتا۔ سورة المائدہ میں ہے واللہ لا یھدی القوم الفسقین (آیت 108) اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو ہدایت نصیب نہیں کرتا جو برائی کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو تسلی دی ہے کہ واضح ہدایت آنے اور آپ کی طرف سے پوری کوشش کے باجود اگر یہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے فلا تذھب نفسک علیھم حسرات تو آپ ان پر زیادہ افسوس کا اظہار نہ کریں۔ آپ نے تو اپنا فریضہ ادا کریدا اور ان کو خیر خواہی کی بات بتا دی اب ان کا محروم رہنا آپ کے لیے حسرت کا باعث نہیں بننا چاہئے۔ اللہ کے سارے نبی اپنی اپنی قوم کے ساتھ خیر خواہی کب بات ہی کرتے رہے شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! میں نے تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا ہے ونصحت لکم فکیف اسی علی قوم کفرین (الاعرف 93) میں نے تمہیں پوری پوری نصیحت کردی۔ اب میں کافروں کی قوم پر کیا افسوس کروں ؟ نوح علیہ اللام نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے ہیں وانصح لکم (الاعراف 63) اور تمہارے لیے خیر خواہی کا حق ادا کردیا ہے اگر تم اب بھی نہیں مانتے تو پھر خود ذمہ دار ہو ، حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی کہا کہ میں نے اللہ کے احکام پہنچا دیے ہیں وانا لکم ناصح امین (الاعراف 68) اور میں تمہاری خیر خواہی کرنے والا امانت دار ہوں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ جو لوگ خیر خواہی کا حق ادا کرنے کے بعد بھی ضد اور عناد پر اڑے رہتے ہیں ، آپ ان پر حسرت نہ کریں۔ ہر عاقل بالغ آدمی مکلف ہے اور اپنے اپنے عقیدے اور عمل کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا بھگتان خود کرے گا۔ ان اللہ علیم بما یصعون اللہ تعالیٰ ان کی ہر کارکردگی کو جانتا ہے۔ جب محاسبے کی منزل آئے گی تو وہ ان کا ہر عمل ان کے سامنے لاکھڑا کرے گا اور پھر اس کے مطابق بدلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا یہ اصول بھی بتلادیا۔
بقائے حیات کے وسائل
گزشتہ درس میں گزرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی زندگی کا ایک نظام قائم کرے گا اور اس ضمن میں فرمایا ان وعد اللہ حق یعنی اللہ کا یہ وعدہ بالکل وفا ہے اور یہ پورا ہو کر رہے گا۔ اس سلسلے میں اللہ نے اپنے رسول ، کتابیں اور مبلغین بھی کی زندگی کا سامان پیدا کردیا ہے۔ اسی طرح اللہ نے اس دنیا کی زندگی کی بقاء کے لیے بھی انسان کو تمام وسائل مہیا فرما دیئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے واللہ الذی الرسل الریح اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو ہوائوں کو چلاتا ہے فتثیر سحابا وہ ہوائیں بادلوں کو ابھارتی ہیں۔ فسقہ الی بلد میت پس ہم چلاتے ہیں اس کو ایک خشک زمین کی طرف فاحیینا بہ الارض بعد موتھا پھر ہم اس کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں۔
آیت کے اس حصہ میں اللہ نے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے انتظام کی طرف ایک اجمالی اشارہ کیا ہے۔ ہر جاندار کی زندگی کا انحصار پانی اور خوراک پر ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ وہی ذات وحدہ لا شریک ہے جو اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق سمندروں سے بخارات اٹھاتا ہے پھر ہوائوں کو چلاتا ہے جو انہیں اٹھا کر خشک علاقے کی طرف لے جاتی ہیں جہاں بارش برسانا مقصود ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنی منشاء کے مطابق جس خطے میں جتنی چاہتا ہے بارش نازل فرماتا ہے جس سے مردہ زمین میں تر و تازگی آجاتی ہے ، اس میں قوت روئیدگی پیدا ہوتی ہے اور پھر اسی بنجر زمین میں پھل اور اناج پیدا ہوتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتا ہے اور اللہ نے اسی پر تمام جانداروں کا مدار حیات رکھا ہے۔
فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ بارش نازل فرما کر مردہ زمین کو قابل کاشت بنا دیتا ہے کذلک النشور اسی طرح دوبارہ جی اٹھنا ہوگا ، جب قیامت کا بگل بجے گا تو تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سب کو میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ، حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے۔ احادیث میں بعث بعد الموت کی کیفیت بھی بیان ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا تو عرش کے نیچے ایک خاص قسم کی بارش ہوگی۔ جونہی باش کا پانی زمین پر پڑے گا مردے زندہ ہونے شروع ہوجائیں گے پھ ایک نیا نظام قائم ہوگا۔ لہٰذا آخرت پر یقین رکھنا چاہئے۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملنا ہے لہٰذا اس کی
تیاری کرنی چاہئے۔
عزت کا اعلیٰ مقام
اب اگلی آیت میں اللہ نے مشرکوں ، کافروں اور منکرین کی مذت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے من کان یرید العزۃ جو شخص عزت چاہتا ہے فللہ العزۃ جمیعا تو یاد رکھو ! عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے مطلب یہ ہے کہ مخلوق ہو کر یہ لوگ بڑی عزت والے بنے پھرتے ہیں اپنے حسب نسب ، جاہ و حشمت اور مال و دولت پر فخر کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عزت تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ سورة مریم میں فرماتا ہے واتخذوا من دون اللہ الھۃ لیکون (آیت 81) مشرکوں اور کافروں نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبود بنا لیے ہیں ان کی پرستش کرتے ہیں تاکہ ان کو عزت و وقار اور غلبہ حاصل ہو مگر انہیں جان لینا چاہئے الذین یتخذون الکفر اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا (النساء 39) جو لوگ کافروں کو اپنا دوست ساتھی یا رفیق بناتے ہیں تو کیا وہ ان کے ہاں عزت تلاش رتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ عزت تو ساری کی ساری اللہ کے پاس ہے وہ کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ معبدان کی پرستش اور عبادت کی ادائیگی سے عزت حاصل نہیں ہوتی ان لوگوں نے غلط راستہ اختیار کیا ہے۔
العزیز خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو کمال قدرت کا مالک اور کمال عزت والا ہے۔ اللہ کے بعد فرمایا ولرسولہ اس کے رسول کو سب سے زیادہ عزت حاصل ہے کیونکہ وہ اللہ کا مقرب ترین بندہ ہے اور تیسرے نمبر پر والمومنین عزت اہل ایمان کے لیے ہے عزت اس شخص کو حاصل ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرے گا ، اس کی اطاعت کرے گا ، نیکی کے کام انجام دے گا اور اللہ کا ذکر کرے گا۔ فرمایا اسی طرح اگر کوئی شخص قوت کا متلاشی ہے تو یہ چیز کسی انجینئر یا سائنسدان یا سرمایہ دار کے ہاں نہیں ملے گی بلکہ ان القوۃ للہ جمیعا (البقرہ 165) قوت اور طاقت کا سرچشمہ بھی فقط ذات خداوند ہے اللہ چاہے تو ناتواں سے ناتواں شخص اور جماعت کو قوت بخش دے اور بڑے سے بڑے طاقتور کو کمزور کردے۔ غیر اللہ کے پاس نہ عزت ہے اور نہ طاقت جو لوگ ان چیزوں کے لیے ان کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ محروم رہیں گے۔
کلمہ طیبہ اور عمل صالح
غرضیکہ بارگاہ الٰہی میں عزت کا مقام اس شخص کو حاصل ہوگا جس کا عقدہ درست ہوگا۔ ایسے شخص کے متعلق اللہ نے فرمایا الیعہ یصعدا لکم الطیب کہ اس کا پاک کلام اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کلمہ طیبہ سے مراد اللہ کا ذکر ، دعا ، قرآن کی تلاوت ، وعظ و نصیحت ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ہر وہ نیک بات ہے جو لوگوں کے لیے دنیا اور دین میں مفید ہو۔ کوئی شخص جو بھی نیکی کا کلمہ زبان سے ادا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتا ہے والعمل الصالح یرفعہ اور انسان کا نیک عمل اس کلمہ کو مزید بلند کرتا ہے گویا ہر نیک بات کو اگر عمل صالح کی تائید بھی حاصل ہوگی تو ایسے کلمہ کو مزید تقویت حاصل ہوگی اور اسے بارگاہ رب العزت میں کمال درجے کی قبولیت حاصل ہوگی۔ اگرچہ نیک بات کی قبولیت اپنی جگہ مسلم ہے مگر ساتھ نیک عمل بھی ہو تو وہ نور علی نور ہوگا۔ اللہ کا فرمان ہے فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ وانا لہ کاتبون (انبیا 94) جو شخص اچھا عمل کرے بشرطیکہ ایماندار ہو تو اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی بلکہ وہ عمل اللہ کے ہاں ضرور قبول ہوگا۔ اور اچھا عمل کیا ہے ؟ اس میں سب سے پہلے فرائض آتے ہیں۔ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج پھر واجبات سنن اور مستجات آتے ہیں۔ جہاد ، قربانی ، صدقات وغیرہ سب اچھے اعمال ہیں اور یہ اعمال انسان کے کلمہ طیبہ کی مقبولیت میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یرفعہ میں ہ کی ضمیر کلمہ کی طرف لوٹتی ہے یعنی نیک عمل کلمہ طیبہ کو بلندی پر لے جاتا ہے ، تاہم حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہ کی ضمیر عمل صالح کی طرف لوٹتی ہے اور معنی یہ بنتا ہے کہ کلمہ طیبہ نیک عمل کو مزید بلندی تک پہنچاتا ہے۔
فریب کاری کا نتیجہ
فرمایا نیک عمل کے برخلاف والذین یمکرون السیات جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کے لیے تدابیر سوچتے ہیں پروگرام بناتے ہیں لھم عذاب شدید ان کے لیے سخت عذاب تیار کیا گیا ہے۔ بعض اوقات دنیا میں اللہ تعالیٰ لمبے عرصہ تک مہلت دیتا رہتا ہے اور وہ سزا سے بچے رہتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے واملی لھم ان کیدی متین (الاعراف 183) میں ان کو مہلت دیتا ہوں مگر میری تدبیر ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔ سورة انفال میں فرمایا ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر المکرین (آیت 30) کافر ، مشرزک اور منکر بھی تدبیر کرتے ہیں اور ادھر اللہ تعالیٰ بھی تدبیر کرتا ہے مگر اللہ کی تدبیر ہی بہترین تدبیر ثابت ہوتی ہے اور وہ ہی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے مگر یاد رکھو ! ومکر اولئک ھو بیون ان لوگوں کی مکاری تباہ و برباد ہو کر رہے گی ان کا دائو پیچ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ مشرزکین نے دار الندوہ میں جمھع ہو کر حضور ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا مگر اللہ نے اسے ناکام بنا دیا آگے اسی سورة میں بھی آرہا ہے ولایحق المکر التی الا باھلہ (آیت 43) جو شخص کسی دوسرے کے بارے میں غلط تدبیر سوچتا ہے وہ خود اسی کو گھیر لیتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے من حضرلاخیہ بسراوقع فیہ جو آدمی اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گرتا ہے۔ غرضیکہ مخالفین حق کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں مگر بالاخر یہ خود ہی ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے اور دین حق کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ اس میں تسلی کا مضمون بھی آگیا ہے۔