Ayahs 35:11–14گزشتہ آیات میں نیک و بدانسانوں کا ذکر ہوا ہے۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر دلائل بیان ہوئے۔ اللہ نے مشرکوں کے متعلق فرمایا کہ وہ غیر اللہ سے عزت کے طلب گار ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے بعد اللہ نے پاکیزہ کلمات کا ذکر کیا کہ وہ بارگاہ رب العزت میں پیش ہوتے ہیں اور اگ ان کو نیک اعمال کی تائید بھی حاصل ہو تو وہ مزید تقویت کا باعث باتی ہے۔ نیک عمل کو پاکیزہ کلمہ اوپر اٹھاتا ہے اور اس کی مقبولیت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی تہہ میں ایمان اور توحید ہو۔ اللہ نے کافروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے لیے شدید عذاب ہے اور ان کی ہر تدبیر ناکام ہوگی۔
تخلیق انسانی کے مراحل
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور توحید کے بارے میں کچھ عقلی دلائل ذکر فرمائے ہیں۔ سب سے پہلے انسانی تخلیق کے متعلق فرمایا واللہ خلقکم من تراب خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا ثم من نطفۃ پھر قطرہ آب سے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اولین انسان اور پیغمبرحضرت آدم (علیہ السلام) کو تو مٹی سے پیدا کیا اور پھر آگے نسل انسانی کو ایک حقیر قطرہ آب سے چلایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے کہ اس نے بےجان مٹی سے آدم (علیہ السلام) جیسی بلند پایہ ہستی پیدا کی اور باقی انسانوں کو ایسے حقیر قطرہ سے کہ اگر کپڑے کو لگ جائے تو اس کو دھونا لازم ہوجائے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) تمام انسانوں کے جد امجد ہیں۔ اللہ نے ان سے کلام فرمایا ، اپنا خلیفہ فی الارض بنایا اور بلند ترین خصوصیت کا حامل ٹھہرایا۔ اسی لیے اللہ نے اور نبی (علیہ السلام) نے یہ بات سمجھائی ہے کلہ ابنا ادم و ادم من تراب کہ تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور ان کی تخلیق مٹی سے ہوئی لہٰذا کسی انسان کو دوسرے کے مقابلے میں تکبر نہیں کرنا چاہئے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر کسی ماحول میں کسی خاندان کے ذریعے کوئی شرافت یا عزت بخشی ہے تو اس کو اللہ کا فضل سمجھنا چاہئے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہئے ، نہ کہ دوسروں کو حقیر سمجھنے لگے۔
فرمایا خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر قطرہ آب سے ثم جعلکم ازواجا پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنا دیا۔ مرد اور عورت میں تفریق کرکے دو صنف بنا دیئے۔ پھر ان کے ملاپ سے نسل انسانی کے بقا کا سلسلہ قائم کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کی دلیل ہے۔
فرمایا : وما تحمل من انثی ولا تضع الا بعلمہ کوئی عورت نہیں اٹھاتی بچہ اپنے پیٹ میں اور نہ اسے جنتی ہے مگر وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے عورت کے رحم میں حمل قرار پانا اور پھر مقررہ مدت کے اندر شکم مادر میں بچے کا پرورش پانا اور پھر باہر آجانا سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور اسی طریقے سے وما یعمرمن معمر اور نہیں عمر دی جاتی کسی عمر والے کو ولا ینقص من عمر اور نہ گھٹائی جاتی ہے اس کی عمر الا فی کتب مگر وہ کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اس دنیا میں آجاتا ہے تو پھر وہ کتنی عمر پاتا ہے ، چھوٹی عمر میں فوت ہوجاتا ہے یا لمبی عمر پاتا ہے اس کی زندگی میں کیا کیا تغیرات آتے ہیں۔ بیماری ، تندرستی ، دولت مندی ، مفلسی ، شقاوت ، سعادت ہر چیز کو اللہ جانتا ہے اور ہر چیز اللہ کی کتاب لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ تھوڑی ، درمیانی یا لمبی عمر کی حکمت اور مصلحت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ، یہ چیز کسی دوسری ذات کے علم میں نہیں ہے۔
فرمایا ان ذلک علی اللہ یسیر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔ اسے کوئی کام کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اس مقام پر شاہ عبدالقادر (رح) ایک اور بات بھی سمجھاتے ہیں کہ جس طرح انسان کی نشونما آہستہ آہستہ اور بتدریج ہے ، اسی طرح اسلام بھی بتدریج بڑھے اور پھلے پھولے گا اور کفر بالاخر مغلوب و مقہور ہوگا۔ مکی دور میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما کر ایک طرف اپنی قدرت تامہ کو واضح کردیا اور دوسری طرف وقوع قیامت پر بھی دلیل قائم کردی ہے۔ اگر انسان اپنی پیدائش اور عمر کے مختلف مراحل کو آسانی سے سمجھتا ہے تو اسی طرح مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بھی اس کی سمجھ میں آجانی چاہئے۔
ایمان اور کفر کا تقابل
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے ایمان اور کفر کو واضح فرمایا ہے اور دونوں کا انجام بھی ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما یستوی البحرن دو سمندر یا دریا برابر نہیں کیونکہ ھذا عذب فرات ایک میٹھا ہے اور پاس کو بجھانے والا ہے سائع شرابہ اور اس کا مشروب خوشگوار ہے جب کہ وھذا ملح اجاج یہ دوسرا کھاری اور کڑوا ہے اس کا حلق سے اترنے والا ایک گھونٹ حلق کو چھیل ڈالنے کے لیے کافی ہے جس طرح یہ دو پانی ایک سے نہیں ، ایک نہایت مفید ہے اور دوسرا سخت مضر ہے اسی طرح کفر اور اسلام بھی برابر نہیں ہیں۔ ایمان کمال درجے کی حقیقت ہے اللہ نے اہل ایمان کو خوشگوار اور دائمی زندگی کی بشارت سنائی ہے جب کہ کفار کے لیے دائمی سزا کی وعید سنائی ہے۔ لہٰذا یہ دونوں آپس میں قطعاً برابر نہیں ہوسکتے۔
سمندروں کے فوائد
اللہ نے میٹھے اور کھاری سمندروں کا ذکر کرنے کے بعد ان کے فوائد کا ذکر کیا ہے جو انسانوں کو دونوں اقسام کے پانی سے حاصل ہوتے ہیں۔ فرمایا ومن کل تاکلون لحما طریا تم ہر قسم کے پانی سے تازہ گوشت کھاتے ہو اس سے مراد مچھلی ہے جو میٹھے اور کھاری ہر قسم کے پانی میں پائی جاتی ہے۔ لوگ اسے پکڑ کر اس کا گوشت خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں مچھلی کا گوشت نہایت لذیذ اور طاقتور غذا ہے۔ اس میں پروٹین بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ خشکی کے جانوروں کو تو پکڑنے کے بعد ذبح کرکے اس کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے مگر مچھلی کو ذبح کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ دنیا کے لاکھوں انسانوں کی معیشت کا دار و مدار مچھلی کے شکار پر ہے۔ ساحلی لوگ عام طور پر مچھلی کا کاروبار کرتے ہیں۔ سمندروں اور دریائوں کے علاوہ مصنوعی طور پر جوہڑوں اور تالابوں میں بھی مچھلی پالی جاتی ہے جو لوگوں کی خواک کا حصہ بنتی ہے۔
فرمایا ایک تو تم ان پانیوں سے مچھلی کا شکار کرتے ہو اور دوسرا وتسخربون حلیہ تلبسونھا ان سمندروں سے پہننے کے زیورات بھی نکالتے ہو۔ زیور سے مراد موتی اور مونگا ہیں جن کے ہار بنا کر پہنے جاتے ہیں۔ سونے چاندی کے زیورات تو مردوں کے لیے جائز نہیں البتہ موتیوں کے ہار مرد بھی پہن سکتے ہیں۔ یہاں بھی اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جس طرح لوگ میٹھے اور کھاری ہر دو سمندروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح اسلام کی تقویت مسلمانوں کے ذریعے تو مسلم ہے انہیں کفار کی طرف سے بھی جزیہ اور خراج کجی صورت میں فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ فرمایا اس کے علاوہ سمندروں اور دریائوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے وتری الفلک فیہ مواخر اور تم کشتی کو دیکھتے ہو کہ پانی کو چیرتی پھاڑتی ہوئی چلتی ہے۔ پہلے زمانے میں بادبانی کشتیاں چلتی تھیں جو چھوٹے پیمانے پر نقل و حمل میں کام دیتی تھیں۔ مگر اب سائنسی دور میں لاکھوں ٹن وزنی جہاز معرض وجود میں آچکے ہیں جو نہ صرف مسافروں کو سفر کی سہولت بہم پہنچاتے ہیں بلکہ لاکھوں ٹن وزنی تجارتی سامان بھی ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچاتے ہیں۔ سامان کی بین الاقوامی نقل و حمل میں بحری جہاز بڑا مفید کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے بغیر سامان کی ترسیل بہت مہنگی اور دشوار ہوتی ہے۔ فرمایا جہاز رانی کا فائدہ یہ ہے لتبتغوا من فضلہ تاکہ تم اس کے ذریعے اللہ کا فضل یعنی رزق حلال تلاش کرو بین الاقوامی تجارت روزی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ نے اپنا یہ احسان بھی جتلادیا کہ اس نے کشتی رانی کے ذریعے تمہارے لیے روزی کا سامان بہم پہنچا دیا ہے ولعلکم تشکرون اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو اتنی بڑی نعمت پاکر تمہیں حق تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے جس نے سمندروں اور دریائوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا اور تم ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔
ارشاد ہوتا ہے اللہ کی ذات وہ ہے جو یولج الیل فی النہار جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے ویولج النہار فی الیل اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے کبھی دن بڑا اور رات چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی رات بڑی اور دن چھوٹا ہوتا ہے اور درمیان میں کچھ عرصہ کے لیے برابر برابر بھی ہوجاتے ہیں۔ دن رات کے تغیر و تبدل کے علاوہ خدائی نظام کے تحت موسم بھی تبدیل ہوتے ہیں اور پھر ہر موسم کے مطابق مختلف پھل ، سبزیاں اور اناج پیدا ہوتا ہے جو انسانوں کی خوراک بنتا ہے۔ فرمایا وسخر الشمس والقمر اللہ نے سورج اور چاند کو بھی مسخر کردیا ہے یعنی تمہارے کام پر لگا دیا ہے وہ شب و روز اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ رات دن موسموں کے تغیر و تبدل اللہ نے ان کے لیے جو منازل اور وقت مقرر کردیا ہے اس سے سراسر انحراف نہیں کرتے اور اس طریقے سے کائنات کا نظام چلتا ہے۔
شاہ عبدالقادر (رح) یہ نقطہ بھی (موضح القرآن ص 523 فیاض) بیان کرتے ہیں کہ جس طرح کبھی سورج غالب ہے اور کبھی چاند اسی طرح کبھی غالب آجاتا ہے اور کبھی کفر ، غلبہ اور اقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے غالب کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے مغلوب بنا دیتا ہے۔ اس کی حکمت اور مصلحت کو وہی جانتا ہے ذلکم اللہ ربکم یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار۔ لہ الملک حقیقی بادشاہی اسی کی ہے۔ یہ سارا نظام اسی کا قائم کردہ ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے اس کی توحید کو مان کر اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ جب ہر چیزا کا مالک ، مدبر اور متصرف وہی ہے تو پھر اپنی حاجات دوسروں کے سامنے پیش کرنا کس قدر حماقت کی بات ہے۔
معبودان باطلہ کی بےبسی
ارشاد ہوتا ہے والذین تدعون من دونہ جو لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں ، ان سے حاجت براری چاہتے ہیں فرمایا ما یملکون من قطمین وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ، وہ تو اتنی معمولی سی چیز بھی نہ بناسکتے اور نہ کسی کو دے سکتے ہیں ان کو نہ کوئی اختیار حاصل ہی اور نہ وہ کسی کی تکلیف دور کرسکتے ہیں۔ فرمایا ان تدعوا ھم لا یسمعوا دعاء کم اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ تمہاری پکار کو سن بھی نہیں سکتے۔ ظاہر ہے کہ وہ تو لکڑی یا پتھر کے بےجان مجسمے ہیں یا پھر شجر و حجر ہیں۔ وہ تمہاری پکار کو کیسے سنیں گے ؟ ولو سمعوا اور اگر بالفرض تمہاری بات کو سن بھی لیں ما استجابوالکم تو وہ تمہیں جواب تک نہیں دیں گے۔ وہ تو بےجان ہیں اور قوت گویائی سے محروم ہیں۔ وہ تمہیں کیسے جواب دیں گے ؟ اور اگر تم جاندار ہستیوں مثلاً ملائکہ ، جنات ، انبیاء اور اولیاء کو یا کسی دوسری ہستی کو پکارتے ہو تو وہ تمہاری بات سن کر بھی تمہاری مدد پر قادر نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کے حکم کے بغیر کسی کی سفارش بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ کا فیصلہ ہے من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ (البقرہ 355) اس کی اجازت کے بغیر کوئی ذات سفارش بھی نہیں کرسکتی۔ بھلا وہ تمہاری مشکل کا کیسے مداوا کریں گے ؟
فرمایا یہ ہستیاں تمہاری مدد کرنے کی بجائے ویوم القیمۃ یکفرون بشرلکم قیامت والے دن تمہارے شرک کا انکار کردیں گے جب اللہ ان سے پوچھے گا کہ کیا تم نے ان کو کہا تھا کہ تمہاری عبادت کریں۔ تمہارے سامنے نذر و نیاز پیش کریں اور تم سے حاجات طلب کریں تو ملائکہ ، جنات ، انبیاء اور اولیاء سب انکار کردیں گے کہ مولام کریم ! ہم نے تو ان سے نہیں کہا تھا کہ ہمارے بعد ہمیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا بنا لینا ہم خود بھی تجھی سے حاجات طلب کرتے رہے اور انہیں بھی یہی درس دیتے رہے کہ دست سوال صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے دراز کرنا مگر یہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں آگئے اور اسی کے کہنے پر کفر و شرک پر اصرار کرتے رہے۔ فرمایا تم ان معبودان باطلہ سے کیا توقع رکھتے ہو ولا ینبک مثل خیر اے مخاطب ! اللہ علیم وخبیر کی طرح یہ تمہیں کچھ نہیں بتاسکیں گے ان کے سامنے لاکھ چیختے چلاتے رہو۔ ان کو مافوق الاسباب پکارتے رہو ، یہ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے کیونکہ علیم وخبیر صرف ذات خداوندی ہے باقی سب عاجز مخلوق ہے۔ حقیقت یہ ہے یسئلہ من فی السموت والارض (الرحمن 29) آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی ہاتھ پھیلاتی ہے لہٰذا تمہیں بھی اپنی حاجات اسی سے طلب کرنی چاہئیں۔ یہ خود ساختہ معبود تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔
Ayahs 35:15–18گزشتہ آیات کی طرح آج کے درس میں بھی توحید کا اثبات ، شرک کا رد ، وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا بیان ہے۔ ساتھ ساتھ منکرین کے لیے جبر و تنبیہ کا پہلو بھی ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے انہیں ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس ان تم للفقرا الی اللہ اے دنیا جہان کے لوگو ! تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف محتاج ہو۔ فقار دراصل پشت کے مہرے کو کہا جاتا ہے جس شخص کا مہرہ ٹوٹا ہوا ہو اس کی کمر سیدھی نہیں ہوکستی اور اس لحاظ سے وہ محتاج ہوتا ہے۔ تو فرمایا تم سارے کے سارے اللہ کے دروازے کے فقیر ہو اور اپنی تمام حاجات اسی سے طلب کرتے ہو۔ سورة الرتین میں بھی فرمایا ہے آسمان اور زمین کی مخلوق اسی سے مانتی ہے مخلوق میں خواہ اللہ کے مقرب فرشتے ہوں یا جنات ہوں ۔ نبی ، ولی سب اللہ تعالیٰ کی عنایات کے محتاج ہیں۔
امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسان تو زبان و دل سے مانگتے ہیں مگر شجر و حجر صرف زبان حال سے طلب کرتے ہیں۔ درخت پودے وغیرہ جن میں حس و حرکت نہیں جن کی زبان نہیں کہ وہ بول کر اپنی ضروریات کا اظہار کرسکیں۔ ان کی حالت اسی طرح جانور ، کیڑے مکوڑے چرند اور پرندے ہیں سمندروں کی لاتعداد مخلوق ہے سب کی حاجات ہیں اور وہ سارے کے سارے حال ہی سے اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات میں سوال کر رہے ہیں۔ اللہ کی مقرب مخلوق فرشتے بھی اللہ تعالیٰ سے ترقی و عروج اور انعامات کے طالب ہیں اور اپنے انداز سے درخواست کرتے ہیں۔ جنات کا اپنا انداز ہے غرضیکہ ساری مخلوق اسی کی محتاج ہے اور اسی کے آگے دست سوال دراز کئے ہوئے ہے۔ فرمایا وہ صرف ایک ہی ذات ہے جو کسی سے سوال نہیں کرتی ہے بلکہ سب اس کے سوالی ہیں۔ واللہ ھو الغنی الحمید اور وہ ذات خداوندی ہے جو بےنیاز اور تعریفوں والی ہے ، وہ ہستی تمام کمالات کے ساتھ متصف ہے ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ ساری مخلوق اسی سے استعانت کرتی ہے ، وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے لہٰذا عبادت کے لائق بھی وہی ہے اس کے علاوہ کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ غنی اور صمد وہ ذات ہے جس کی طرف قصد کیا جاتا ہے اور اس کو کسی قسم کا احتیاج نہیں ہوتا۔ ہندی زبان میں ایسی ذات کو ” نردھار “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ابن ماجہ شریف کی روایت (ابن ماجہ فیاض) میں آتا ہے من لم یسئل اللہ لغضب علیہ جو ذات اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتی اللہ اس پر ناراض ہوتا ہے کہ مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا۔ ادھر انسان سے سوال کیا جائے تو وہ ناراض ہوجاتا ہے مگر رب تعالیٰ سے نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے کہ میرا بندہ ہو کر میرے سامنے دست سوال دراز نہیں کرتا۔ ایک مشہور عربی شاعر عبید ابن ابرص کہتا ہے
من یسئل الناس یحرموہ وساہل اللہ لا یخیب
جو لوگوں سے مانگتا ہے تو لوگ اس کو محروم رکھتے ہیں اور جو اللہ سے طلب کرتا ہے وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔ حضور ﷺ کے زمانے کے ایک عیسائی شاعر نے اپنے ممدوح لوگوں کے بارے میں کہا :
سالنا فاعطیتمج وعدنا فعدتم ومن اکثر السال یوما سحرم
ہم نے ایک دفعہ مانگا ، تم نے دے دیا ، ہم نے پھر طلب کیا تم نے پھر دے دیا اور جو زیادہ مانگے گا لوگ تنگ آکر اس کو محروم کردیں گے مگر خدا تعالیٰ سے جس قدر زیادہ مانگا جائے وہ خوش ہوتا ہے اور جو نہیں مانگتا اس پر ناراض ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ اللہ سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ لہٰذا اسی سے مانگنا چاہئے اور غیروں کی طرف سوالیہ نگاہوں سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے ان یشا یذھبکم و یات بخلق جدید کہ اگر چاہے تو تم سب کو صفحہ ہستی سے لے جائے اور تمہاری جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ اللہ نے بعض اقوام کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔ قوم عاد وثمود کی تباہی کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔ اللہ نے قوم عاد کے متعلق سورة الحاقہ میں فرمایا کہ ان ظالموں پر سات رات اور آٹھ دن تک سخت تند ہوا چلی تو وہ تباہ ہوگئے اور ان کی لاشیں کھجور کے تنوں کی طرح پڑی تھیں فل تری لھم من باقیہ (آیت 8) اب دیکھو کیا ان کا ایک فرد بھی نظر آرہا ہے ؟ سب ختم ہوگئے فرمایا وما ذلک علی اللہ بعزیز ایک قوم کو نابود کرنا اور دوسری قوم کو لے آنا اللہ کے لیے کچھ دشوار نہیں ہے انسانوں کے کام میں تو رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے ، ان کے وسائل میں کمی آڑے آسکتی ہے مگر اللہ تعالیٰ تو قادر مطلق اور تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کا کوئی کام نہیں رکتا ، وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو پھر اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔
محاسبہ اعمال کی فکر
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کا احساس دلایا ہے کہ مکحض دنیا کی رنگ رلیوں میں ہی الجھ کر نہ رہ جائو بلکہ آخرت کا بھی کچھ خیال کرو ہر شخص سے اس کے عمل کے بارے میں سوال ہوگا ، ایمان ، عقیدے ، اخلاق اور فکر کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ اس وقت ہر شخص کو اپنے عقیدے اور عمل کی خود جوابدہی کرنا ہوگی اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اسی لیے فرمایا ولا تزر وازۃ وزرا اخری کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ وانتدع مثقلۃ الی حملھا اور اگر کوئی بوجھل کسی کو بوجھ اٹھانے کے لیے بلائے گا کہ ذرا میری مدد کرو لایحمل منہ شئی تو اس میں سے کوئی چیز بھی نہیں اٹھائی جاسکے گی اور مدد طلب کرنے والے کو مایوسی ہوگی۔ روایات میں آتا ہے کہ ہر خاوند اور بیوی اپنے اپنے بوجھ کی فکر میں ہوں گے۔ خاوند اپنی بیوی سے کہے گا کہ دیکھ ! میں نے دنیا میں تیرے ساتھ کتنا اچھا سلوک کیا ، تمہاری تمام فرمائشیں پوری کیں اور تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں آے دی ، اب اپنی نیکیوں میں سے ایک نیکی مجھے دیدو۔ وہ کہے گی کہ میں تو خود اس معاملہ میں فکرمند ہوں ، تجھے کہاں سے دے دوں ؟ پتہ نہیں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے ؟ اسی طرح ماں اپنے بیٹے سے کہے گی ! بیٹا میرا پیٹ تیرے لیے ظرف تھا جس میں تجھے نو ماہ تک اٹھائے پھری۔ پھر میری چھاتی تیرے لیے مشکیزہ بنی ہوئی تھی۔ تم جب چاہتے تھے سیراب ہوتے تھے ، میری گود تیرے لیے بطور گہوارہ تھی۔ جس میں تم آرام کرتے تھے۔ اب میری مدد کرو اور ایک نیکی مجھے دیدو۔ بیٹا ماں کے تمام احسانات کو تسلیم کرے گا مگر کہے گا کہ میں تو نیکیوں کے معاملہ میں خود پریشان ہوں نامعلوم میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے لہٰذا میں خود مجبور ہوں غرضکیہ قریبی عزیز بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن جائیں گے اور کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔ ایک دوسرے سے بھاگیں گے کہ کہیں کوئی دوسرا نیکی نہ طلب کرلے۔ قرآن پاک نے اس صورت حال کا نقشہ اس طرح کینچا ہے یوم یفر المرء من اخیم وامہ وابیہ وصاحبتہ وبینہ لکل امری منھم یومذ شان یغنیہ قیامت والے دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ، اپنی ماں اور باپ سے بھاگے گا ، اپنی بیوی اور بیٹے سے راہ فرار اختیار کرے گا۔ اس دن ہر شخص ایک ہی فکر میں مبتلا ہوگا اور کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ولو کان ذا قربی اگرچہ وہ قرابتدار ہی کیوں نہ ہو۔ ہر ایک کو اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرنا ہوگا۔
آگے نبی (علیہ السلام) کو تسلی دی گئی ہے کہ لوگ توحید کا انکار کرتے ہیں۔ شرک ، کفر اور معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، ضد اور تعصب کی بنا پر سمجھانے سے سمجھتے بھی نہیں بلکہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ دل برداشتہ نہ ہوں کیونکہ انما تنذر الذین یخشون ربھم بالغیب آپ ان لوگوں کو ڈر سناتے ہیں جو بغیر دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کوئی رب ہے جو ہم سے ضرور باز پرس کرے گا۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ہم اللہ اور اس کے نبی کی بات کو نہیں مانیں گے ، کلام الٰہی پر یقین نہیں کریں گے تو ہمارا ٹھکانہ کہاں ہوگا ؟ دنیا کا نظام تو ایسا ہی ہے کہ کسی نے اپنے پروردگار کو نہیں دیکھا ، نہ ملائکہ کو دیکھا ہے اور نہ جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کیا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے تو نبی (علیہ السلام) پر نزول وحی کا مشاہدہ کیا مگر باقی سب لوگ تو ان تمام چیزوں پر ایمان بالغیب ہی رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اللہ کی ذات وحدہ لا شریک ہے ، اس کے انبیاء برحق ہیں اس کی کتابیں سچی ہیں اور پھر محاسبہ اعمال کا وقت آنے والا ہے تو فرمایا کہ آپ تو انہی کو ڈراسکتے ہیں جو ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔
فرمایا محاسبہ اعمال سے ڈرنے والوں کی دوسری صفت یہ ہے واقاموا الصلوۃ کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں جو کہ ایمان کے بعد سب سے ضروری عبادت اور تمام عبادات میں سب سے زیادہ مقرب الی اللہ ہے۔ قیامت والے دن سب سے پہلے نماز ہی کے متعلق سوال ہوگا کہ اسے ادا کیا تھا یا نہیں۔ نیز فرمایا کہ ایمان لانے اور اعمال صالحہ انجام دینے کے بعد ومن تزکی فانما یتزکی لنفسہ جو شخص تزکیہ حاصل کرلے گا یعنی اپنے آپ کو پاک بنالے گا تو یہ اس کے اپنے نفس کے لیے ہی مفید ہوگا۔ شاہ عبدالعزیز تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں کہ تزکیہ سے مراد ظاہر باطن ہر طرح کی پاکیزگی شامل ہے۔ جسم ، لباس ، مکان اور ماحول کی پاکیزگی کے علاوہ فکر ، ذہن ، قلب ، دماغ اور روح کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص بظاہر پاک صاف ہے مگر اس کی خوراک اور لباس مال حرام سے ہے تو آدمی نجس ہے۔ ایسے شخص کی عبادت مقبول نہیں۔ دھوکہ ، فریب ، سود ، چوری اور سمگلنگ کی کمائی پاکیزہ نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مکمل تزکیہ حاصل کرتا ہے تو اپنے ہی لیے حاصل کرتا ہے۔ اس کا فائدہ خود اسی کو ہوگا۔ خدا تعالیٰ کو ہمای عبادت و ریاضت کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم اللہ کی خوشنودی کے لیے کام کریں گے اس میں ہمارا اپنا ہی بھلا ہے ، ہمیں ترقی نصیب ہوگی۔ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور خدا کی رحمت کے مقام میں جگہ ملے گی۔
غرضیکہ ہمیں اپنے آپ کو ، اپنی فکر کو ، اپنے ماحول کو ، شہر اور ملک کو ، مسجدوں اور مدرسوں کو پاک کرنا ہوگا۔ مسجدوں میں شور و شر کرنا ، بیہودہ غزلیں پڑھنا ، لڑائی جھگڑا کرنا ، دوسروں پر کیچڑ اچھالنا ، کسی پر اتہام لگانا یہ سب تزکیہ کے خلاف چیزیں ہیں۔ ہماری مسجدوں کو ان نجاستوں سے پاک صاف ہونا چاہئے۔ فرمایا جس نے تزکیہ حاصل کیا تو اپنے ہی فائدے کے لیے۔ یاد رکھو والی اللہ المصیر اور سب کو خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور اپنی کارگزاری کا خود جواب دینا ہے اگر اس دنیا سے تزکیہ لے کر جائو گے تو انجام اچھا ہوگا اور اگر نجاست سے آلودہ ہو کر جائو گے تو بہت برا حشر ہوگا۔ اللہ کے سامنے سب کی پیشی ضروری ہے۔
Ayahs 35:19–26ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا۔ نیز ساری مخلوق کے احتیاج اور اللہ تعالیٰ کی بےنیازی کا ذکر تھا۔ اس بنا پر تمام حاجات اللہ وحدہ لاشریک سے طلب کرنی چاہئیں اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو ساری مخلوق کو صفحہ ہستی سے نابود کرکے اس کی جگہ دوسری مخلوق کو لے آئے۔ لہٰذا ہر انسان کو محاسبہ اعمال کی فکر کرنی چاہئے۔ قیامت والے دن کوئی عزیز ترین رشتہ دار بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اللہ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جو خدا تعالیٰ سے بن دیکھے ڈرمتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ نماز پڑھتے ہیں اور ظاہری و باطنی تزکیہ حاصل کرتے ہیں۔ فرمایا جو کوئی پاکیزگی اختیار کرے گا تو اس میں خود اسی کا فائدہ ہے جس کا نتیجہ اللہ کی بارگاہ میں پیشی کے وقت سامنے آئے گا۔ اس طرح اللہ نے قیامت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا۔
نیک و بد کی مثال
گزشتہ درس میں میٹھے اور کڑوے سمندر کی مثال بیان کی گئی تھی کہ یہ دونوں برابر نہیں مگر مخلوق خدا ان سے یکساں طور پر فائدہ اٹھاتی ہے۔ اب اسی تسلسل میں بعض دوسری مثالیں بیان کی ہیں کہ متضاد چیزیں آپس میں برابر نہیں ہوسکتیں۔ ارشاد ہوتا ہے وما یستوی الاعمی والبصیر اور اندھا اور بینا برابر نہیں ہیں۔ ہر شخص یہی کہے گا کہ بینا آدمی اندھے سے بہتر ہے کیونکہ وہ دیکھ کر اچھے اور برے میں تمیز کرسکتا ہے اور نقصان سے بچ کر مختلف چیزوں سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح فرمایا ولا الظلمت ولا النور اندھیرے اور روشنی بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ اندھیرے میں انسان ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے جب کہ اجالے میں سارے کام انجام دیتا ہے۔ لہٰذا ان کو بھی کوئی شخص برابر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ پھر فرمایا ولا الظل ولا الحرور سایہ اور دھوپ بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ سائے میں آدمی کام کاج کرسکتا ہے کچھ دیر کے لیے مسافر آرام کرسکتا ہے۔ جب کہ دھوپ کی شدت میں نہ تو سکون سے کوئی کام ہوسکتا ہے اور نہ ہی آرام کرسکتا ہے۔ یہ بھی متضاد چیزیں ہیں جن میں سے ایک مفید اور دوسری غیر مفید ہے۔ فرمایا وما یستوی الاحینا ولا الاموات زندہ اور مردہ بھی برابر نہیں ہیں۔ زندہ انسان دنیا میں چلتے پھرتے ہیں ، کام کاج کرتے ہیں ، عبادت کرتے ہیں جب کہ مردہ انسان قبروں میں خاموش پڑے ہیں۔ یہ دونوں گروہ کیسے برابر ہوسکتے ہیں۔ یہی مثال نیک اور بد یا مومن اور کافر کی ہے ، ایک طرف مومن ہے جس کے دل کی آنکھیں اللہ نے روشن کر رکھی ہیں ، اس کو بصیرت ہے۔ جس کے ذریعے وہ نیکی اور بدی میں تمیز کرسکتا ہے۔ وہ جس طرح ظاہری روشنی کو دیکھ رہا ہے اسی طرح دل کی بصیرت سے وحی کے اجالے کو بھی دیکھ رہا ہے اور اپنی منزل کو طے کرتے چلا جارہا ہے۔ ظاہری روشنی آنکھوں کے لیے ضروری ہے جب کہ وحی الٰہی کی روشنی عقل کے لیے لازمی ہے جب تک انسان کو وحی الٰہی کی روشنی میسر نہ ہو وہ اپنی منزل طے نہیں کرسکتا ، عقل ایک قیمتی جوہر ہے مگر تمام چیزوں میں وہ بھی خود مکتفی نہیں ہے بلکہ وحی الٰہی کا محتاج ہے۔ جو شخص وحی الٰہی کی روشنی میں آخرت کے سفر پر گامزن ہوتا ہے وہ بالاخر خطیرۃ القدس اور جنت تک پہنچ جاتا ہے دوسری طرف جو شخص وحی الٰہی کی بصیرت سے محروم ہے اور اس کے دل پر کفر اور شرک اور معاصی کی تاریکیاں چڑھی ہوئی ہیں وہ خدا کی رحمت کے مقام میں کبھی نہیں پہنچ سکے گا ، بلکہ وہ تو جہنم کی آگ میں ہی پہنچے گا۔ حضور ﷺ نے ایسے شخص کو بھی مردہ سے تشبیہ دی ہے جس کا دل ذکر الٰہی سے خالی ہے۔ فرمایا (بخاری ص 948 ج 2 فیاض) مثل الذی یذکر اللہ والذی لا یذکرہ کمثل الحی والمیت یعنی خدا تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور ذکر نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ زندہ شخص تو نصیحت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ، امکان ہے کہ وہ کسی نہ کسی وقت ایمان قبول کرلے مگر مردہ شخص تو دارالعمل سے نکل کر دارالجزا میں پہنچ چکا ہے ، اب اس کے لیے کوئی نصیحت قطعاً مفید نہیں ہوسکتی۔ وہ نہ تو کسی ایمان کی بات کو سن سکتا ہے نہ نیکی کما سکتا ہے اور نہ اسے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مومن اور کافر بھی ایسے ہی ہیں مومن کی مثال ایک زندہ کی ہے جو نیکی کما رہا ہے اور کافر ایک مردہ ہے جو ایک رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی حاصل نہیں کرسکتا۔ اسی ضمن میں فرمایا ان اللہ یسمع من یشاء بیشک اللہ تعالیٰ سنا دیتا ہے جس کو چاہے وما انت سمع من فی القبور اور آپ نہیں سناسکتے ان کو جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ جس طرح آپ قبروں والے مردوں کو نہیں سناسکتے یعنی ان پر آپ کی نصیحت کارگر نہیں ہوسکتی ، اسی طرح کفر اور شرک کرنے والوں کے لیے بھی آپ کی کوئی نصیحت فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔ اسی بات کو سورة القصص میں اس طرح فرمایا انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء جسے آپ چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے ، بلکہ ہدایت کا نور اس کو حاصل ہوتا ہے جس کمو اللہ چاہے وانک لتھدی الی صراط مستقیم (الشوریٰ 52) آپ تو صرف سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ، باقی ہدایت دینا اللہ کا کام ہے یعنی ہر بات اللہ کی حکمت اور ارادے کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو کسی کافر ، مشرک کو ہدایت نصیب ہوجائے گی ، اگر اس کی مشیت نہیں تو پھر ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ آپ اپنی مرضی سے قبر والوں یعنی کفار و مشرکین کو سنانا چاہیں تو نہیں سناسکتے۔
سماع موتی سے متعلق اس قسم کی آیت سورة کل ، نمل اور روم اور آگے سورة احقاف میں بھی ہے ، یہ تمام آیات بظاہر سماع موتی کے متعلق ہیں مگر دراصل ان سے مردے نہیں بلکہ کافر مراد ہیں۔ یعنی کافروں کی حالت مردوں جیسی ہے جن پر نصیحت کی کوئی بات کارگر نہیں ہوتی۔ چونکہ ان آیات سے حقیقی مردوں کے سننے یا نہ سننے کی بحث چھیڑ لی جاتی ہے ، اس لیے مفسرین کرام نے اس مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سماع موتی کا مسئلہ صحابہ کرام ؓ کے زمانہ سے لے کر مختلف فیہ چلا آرہا ہے۔ ام المومنین (روح المعانی ص 55 ج 21) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سماع موتی سے انکار کرتی ہیں اور جو احادیث سماع کے حق میں آئی ہیں ان کی تاویل کرتی ہیں۔ بعض دوسرے صحابہ ؓ بھی ان کے ہم مسلک ہیں ، البتہ حضرت عمر ؓ ، عبداللہ بن عمر ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ فی الجملہ مردوں کا سننا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ جن جن مقامات پر مردوں کے سننے کا ذکر آیا ہے صرف انہی مقامات پر سماعت کا عقیدہ رکھیں گے نہ کہ ہر وقت اور ہر مقام پر۔ چناچہ فقہائے حنفیہ کے امام ابن ہمام (رح) لکھتے ہیں کہ مردے عام طور پر نہیں سنتے البتہ بعض مقامات پر اس اصول سے مستثنیٰ ہیں ، وہاں مردے سنتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اپنی آواز ضرور ہی کسی مردے کو سنا سکتا ہے تو یہ دعویٰ درست نہیں کیونکہ یہ کام کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے لیکن علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر مردے فی الجملہ نہیں سنتے تو بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ امام بخاری (رح) نے تو باب باندھ کر سماع موتی کو ثابت کیا ہے۔ باب یہ ہے (بخاری ص 178 ج 1 فیاض) المیت یسمع قرع نعال یعنی جب لوگ مردے کو دفن کرکے واپس جاتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی کھٹکھٹاہٹ کی آواز سنتا ہے۔ یہ درجہ اول کی حدیث ہے جس کی کوئی بھی توجیہہ یا تاویل نہیں کرسکتا۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مردوں کے لیے بھی سلام کا وہی طریقہ بتلایا ہے جو زندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ یعنی جب تم قبرستان میں جائو تو ان کو یوں سلام کرو السلام علیکم یا اھل القبور یعنی اے قبروں والو ! تم پر سلام ہو۔ اگر یہ سماع فی الجملہ نہ ہو تو یہ کلام ہی بےمقصد ہے۔ محدثین کرام ایسی احادیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی مسلمان کسی مسلمان بھائی کی قبر پر گزرتے ہوئے سلام کرتا ہے تو مردہ اس سلام کو سنتا ہے اور جواب بھی دیتا ہے مگر ہم اس کے جواب کو نہیں سن سکتے۔ اگر مردہ سلام کرنے والے کو دنیا میں پہچانتا تھا تو بعد از مرگ بھی پہچانتا ہے۔ محدث ابن عبدالبر (رح) نے اس حدیث کو صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔
بعض اصحاب نے مذکور آیات کو عام معانی میں لیا ہے کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ اس بنا پر انہوں نے سماع موتی والی احادیث کی تاویل کی ہے جبکہ بعض نے احادیث کو صحیح مان کر آیات کی تاویل کی ہے تاکہ بات سمجھ میں آجائے امام بیضاوی (بیضاوی ص 271 ج 2) ، امام قرطبی (رح) (قرطبی ص 340 ج 14) اور صاحب روح المعانی (رح) (روح المعانی ص 55 ج 21) وغیرہ (البحر المحیط ص 309 ج 7 فیاض) کہتے ہیں کہ مردوں کے سننے سے متعلق سننا مراد نہیں بلکہ ایسا سماع مراد ہے جو مفید ہو۔ آپ قبر پر کھڑے ہو کر دو گھنٹے تک وعظ و نصیحت کریں مگر مردے کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ عمل کی دنیا سے نکل کر جزا کی دنیا میں پہنچ چکا ہے۔ بالکل اسی طرح کافر حضور ﷺ کی آوازا تو سنتے ہیں مگر یہ سماع ان کے لیے مفید نہیں کیونکہ وہ ایمان نہیں رکھتے۔ گویا ان آیات میں سماع نافع کی نفی کی گئی ہے کہ مردوں کو نصیحت کرنا بیکار ہے ، نہ یہ کہ وہ بالکل سنتے ہی نہیں۔ امام ابن تیمیہ (رح) جو ان مسائل میں بڑے شدید ہیں ، وہ بھی لکھتے ہیں کہ مردے سلام بھی سنتے ہیں اور قرآن پڑھنے والے کی آواز بھی سنتے ہیں۔
الغرض ان آیات کا یہی مفہوم لینا پڑے گا کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ اپنی مرضی سے کسی مردے کو سنا دے تو یہ تو ممکن نہیں کیونکہ اس کمے لیے مشیت خداوندی ضروری ہے۔ اور اگر بلافائدہ کوئی مردہ سنتا بھی ہے تو سنتا رہے ، اس سے کیا فرق پڑے گا۔ بعض لوگ سماع موتی کو اس لیے نہیں مانتے کہ اس سے شرک پیدا ہونے کا خطرہ ہے اگر سماع مانیں گے تو لوگ ان سے مرادیں مانگنے لگیں گے اس میں شرک کو داخل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ مراد مانگنا تو مردہ چھوڑ زندہ سے بھی جائز نہیں وہ بھی شرک ہے۔ بہرحال سماع موتی کے مسئلہ میں شروع سے اختلاف چلا آرہا ہے۔ عام مردوں کے سماع کے سلسلے میں دونوں طرف دلائل موجود ہیں ، تاہم مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ نبیوں کے سماع میں کسی کا اختلاف نہیں۔ جب کوئی شخص حضور ﷺ کی قبر مبارک پر جا کر درود وسلام پڑھتا ہے تو آپ اس کو سنتے ہیں۔ اسی لیے صاحب ” فتح قدیر “ اور بعض دیگر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ کی قبر پر جا کر درود وسلام پیش کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے حق میں دعا کی درخواست بھی کرے کہ آپ اللہ کی بارگاہ میں خاتمہ بالایمان کی سفارش فرمادیں۔
اس زمانے میں بعض اصحاب نے سماع موتی کا بالکل انکار کیا ہے حالانکہ اہل حدیث بزرگ مولانا نذیر حسین (رح) بھی فتاویٰ نذیریہ میں لکھتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ کی قبر پر جا کر درود شریف پڑھا جائے تو آپ سنتے ہیں تاہم دور سے صلوۃ وسلام فرشتوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ حافظ ابن قیم (رح) نے اپنی کتاب جلاء الافہام میں صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے اور مولانا نانوتوی (رح) نے بھی یہ بات سمجھائی ہے کہ عام سماع موتی کا مسئلہ اختلافی ہے۔ بعض اس کے قائل ہیں اور بعض قائل نہیں۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جسے اب کوئی بھی حل نہیں کرسکتا۔ اس کی حقیقت تو قبر میں پہنچ کر ہی معلوم ہوگی کہ سنائی دیتا ہے یا نہیں۔ بہرحال یہ کوئی اعتقادی مسئلہ نہیں کہ ماننے یا نہ ماننے والے پر کفر یا شرک کا فتویٰ لگا دیا جائے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) عام مردوں کے متعلق بھی عدم سماع کو ترجیح دیتے ہیں لیکن دوسری طرف بھی دلائل ہیں جنہیں یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ چونکہ قرآن و حدیث میں سماع اور عدم سماع دونوں کا ذکر ہے لہٰذا جس نے جو بھی پہلو اختیار کیا ہے وہ درست ہے دوسرے فریق کو برا بھلا نہیں کہنا چاہئے۔ انبیاء کے سماع کا مسئلہ اتفاقی ہے۔ حضرت گنگوہی (رح) نے فتاویٰ رشیدیہ میں تین دفعہ لکھا ہے کہ انبیاء کے سماع میں کوئی اختلاف نہیں کسی ایک معتبر عالم کا بھی ذکر نہیں ملتا جس نے اختلاف کیا ہو۔
بہرحال فرمایا ان انت الا نذیر آپ تو ڈرانے والے ہیں۔ آپ کسی شخص کو اپنے اختیار سے راہ راست پر نہیں لاسکتے۔ البتہ تمام انبیاء (علیہم السلام) بشیر اور نذیر ہوئے ہیں جو اپنی اپنی قوم کو نیک اعمال کی بشارت اور برے اعمال سے ڈراتے رہے۔ تاریخ میں حضرت علائو الدولہ سمنانی (رح) کا ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے یہ بڑا قیمتی فقرہ لکھا ہے کہ تمام انبیاء دنیا میں اس لیے تشریف لائے کہ مخلوق کی آنکھیں اس طور پر کھول دیں کہ ان کو اپنا عیب اور حق تعالیٰ کا کمال نظرم آنے لگے۔ اپنی عاجزی اور اللہ کی قدرت نظر آنے لگے ، اپنی ظلم و زیادتی اور حق تعالیٰ کا عدل و انصاف نظر آنے لگے ، اپنی جہالت اور حق تعالیٰ کا علم نظر آنے لگے ، اپنی پستی اور حق تعالیٰ کی عزت نظر آنے لگے۔ اپنی بندگی اور حق تعالیٰ کی مالکیت نظر آنے لگے ، اپنا فقر اور حق تعالیٰ کا غنا نظر آنے لگے ، اپنی کوتاہی اور حق تعالیٰ کی نعمتیں نظر آنے لگیں ، اپنا فنا ہے اور بقا ہستی صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔
ارشاد ہوتا ہے انا ارسلنک بالحق بشیرا و نذیرا بیشک ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے اہل ایمان کے لیے جنت میں اعلیٰ مقام کی بشارت ہے جب کہ کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے برے انجام کی وعید ہے۔ فرمایا وان من امۃ الاحد فیھا نذیر ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا گزرا ہے کوئی ایسی امت نہیں جس میں اللہ کے صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی یا ان کے نائب نہ آئے ہوں۔ نبیوں کے بعد ان کی امت کے مبلغین ہی انذار کرنے والے ہوتے ہیں اور یہ تسلسل کے ساتھ ہر قوم و ملک میں آتے رہتے ہیں اور آتے رہیں گے۔
فرمایا وان یکذبوک اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلادیں تو گھبرائیں نہیں یہ تو ان کی پرانی ریت ہے۔ فقد کذب الذین من قبلھم ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلایا۔ جاء تھم رسلھم بالبینت ان کے رسول ان کے پاس کھلی اور واضح نشانیاں احکام اور دلائل لے کر آئے۔ وبالزبر وہ اپنے ساتھ صحیفے بھی لائے۔ اللہ نے بہت سے انبیاء (علیہم السلام) پر صحیفے بھی نازل فرمائے وبالکتب المنیر اور وہ روشن کتابیں بھی لائے۔ چار آسمانی کتابیں زبور ، تورات ، انجیل اور قرآن ہیں۔ ان کے علاوہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے ایک سو چھوٹے موٹے صحیفے بھی نازل فرمائے۔ جب اللہ نے انبیاء اور کتب کے ذریعے حجت پوری کرلی اور جو پھر بھی نہ مانے تو فرمایا ثم اخذت الذین کفروا پھر میں نے کفر کرنے والوں کو پکڑ لیا۔ پہلے انذار کیا ، مہلت دی مگر جب وہ کسی طرح نہ مانے تو میری گرفت آئی فکیف کان نکیر پھر دیکھو میری گرفت کیسی ہوئی۔ جب حق تعالیٰ کی طرف سے عذاب آیا تو پھر نافرمان قوم کا فرد واحد بھی نہ بچ سکا ، سب دنیا سے ناپید ہوگئے۔ فرمایا دیکھو ایسے لوگوں کا کیا حال ہوا۔ ۔