35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 35:30–31

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

تاکہ وہ بدلہ دے ان کو ان کا پورا پورا اور زیادہ دے گا ان کو اپنے فضل سے۔ بیشک وہ بہت بخشش کرنے والا اور قدردان ہے

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور وہ جو ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف کتاب سے ، یہ برحق ہے تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے (کتابیں) ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ البتہ خیر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں انذار کا بیان تھا۔ اللہ نے اہل ایمان اور کفار کی الگ الگ حیثیت کو بیان فرمایا تھا کہ یہ دونوں گروہ برابر نہیں ہوسکتے ، جس طرح اندھا اور بینا ، اندھیرا اور روشنی ، سایہ اور تپش ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طریقہ سے کافر ، مشرک ، گمراہ اور ایماندار برابر نہیں ہوسکتے ، اس کے بعد اللہ نے رسالت و نبوت کے بیان میں فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ڈر سنانے والے بھیجے ہیں ، اور آپ کو بھی ہم نے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اگر یہ لوگ انکار کرتے ہیں تو آپ دل برداشتہ نہ ہوں۔ یہ تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ آپ اطمینان رکھیں ، پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی بھی تکذیب کی گئی ہے۔ پہلے انبیاء بھی واضح دلائل اور کھلے معجزات لے کر آئے۔ کتابیں اور صحیفے لائے مگر کافروں نے تسلیم نہ کیا ، پھر اللہ کی ایسی گرفت آئی کہ صفحہ ہستی سے نابود کردیئے گئے۔ اب آج کی آیات میں بھی دلائل قدرت بیان کرکے توحید کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے اگر انسان غور کریں تو توحید خداوندی کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ کی قدرت کے نمونے دیکھ کر انسان کے دل میں یقین پیدا ہوتا ہے۔ انہی آیات میں اللہ نے ایمان لانے اور سمجھ رکھنے والے لوگوں کی تعریف بھی فرمائی ہے۔ ان کے اوصاف بیان ہوئے ہیں اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پھلوں اور پہاڑوں کی تخلیق ارشاد ہوتا ہے الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف سے پانی اتارا ، عربی زبان میں سماء کا اطلاق آسمان کے علاوہ بادل اور فضا پر بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی سمندروں سے بخارات کو اٹھاتا ہے اور پھر جہاں بارش برسانی مقصود ہوتی ہے ہوائیں انہیں اٹھا کر وہاں لے جاتی ہیں۔ آسمان کا ذکر اس لے بھی کیا گیا ہے کہ بارش برسانے کا حکم تو اوپر ہی سے آتا ہے ، اللہ کا فرمان ہے وفی السماء رزقکم وما توعدون (الذریت 22) تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ سب آسمانوں میں ہزے یعنی حکم تو وہیں سے آتا ہے۔ فرمایا اللہ نے آسمان کی طرف سے پانی نازل کیا فاخرجنا بہ ثمرات مختلفا الوانھا پس اس کے ذریعے پھل پیدا کئے جن کے مختلف رنگ ہیں اللہ نے یہ چیزیں انسانوں کی غذا اور تفریح کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ اب ذرا ان پھلوں کی ساخت ، رنگ اور ذائقہ میں غور کریں ہر ایک کا الگ الگ حجم ، الگ الگ رنگ ، ذائقہ اور خواص ہیں ہر موسم کے پھل بھی مختلف ہیں جنہیں انسان ، جانور اور کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں۔ سورة الرعد میں اللہ نے زمین کے مختلف خطوں اور مختلف باغات کی طرف توجہ دلا کر فرمایا ہے۔ یسقی بما واحد (آیت 4) سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے مگر اس سے پیدا ہونے والے بعض پھلوں کو بعض پر اللہ نے فضیلت بخشی ہے۔ پانی تو وہی ہے جو بارش کے ذریعے نازل ہوتا ہے پھر وہ کبھی ندی نالوں اور دریائوں کی صورت میں بہہ نکلتا ہے۔ کبھی چشموں کی شکل میں زمین کے اندر رک جاتا ہے اور پھر کنوئوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے مگر یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے کہ ایک ہی پانی حاصل کرنے والے پھلوں میں سے کوئی میٹھا ہے ، کوئی کڑوا ، کوئی ترش اور کوئی پھیکا ہے۔ رنگ بھی مختلف ہیں اور سائز میں بھی تفاوت ہے بہرحال اناج اور پھل اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ پہاڑوں کی گھاٹیاں فرمایا جس طرح اللہ نے پانی کے ذریعے مختلف پھل پیدا کئے ہیں اسی طرح ومن الجبال جدد بیض و حمر مختلف الوانھا پہاڑوں کی گھاٹیاں بھی سرخ وسفید ہیں ان کے مختلف رنگ ہیں وغرابیب سود اور بعض انتہائی سیاہ ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مٹی کا رنگ بھی مختلف ہے اور پہاڑوں کے رنگ بھی مختلف ہیں ، کہیں سیاہ پتھر ہیں تو کہیں مٹیالے ، کہیں سفید ہیں تو کہیں سرخ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ہر چیز کا خالق وہی وحدہ لا شریک ہے۔ انسان ، پھلوں اور پہاڑوں کی تخلیق میں ہی غور کرلے تو اسے اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ جانداروں کی تخلیق بے جان چیزوں کی تخلیق کے بعد اللہ نے جانداروں کی تخلیق کا ذکر بھی کیا ہے۔ ومن الناس والدواب اور لوگوں میں سے اور زمین چلنے پھرنے والے کیڑے مکوڑوں میں سے والانعام اور مویشیوں میں سے ذرا ان تمام جانداروں میں غور کرو مختلف الوانہ کذلک اسی طرح ان کے بھی مختلف رنگ ہیں۔ انسان بھی ظاہری شکل و صورت اور رنگت کے اعتبار سے مختلف ہیں ، کوئی سیاہی مائل ہے ، کوئی گورا چٹا ، کوئی زردی مائل اور کوئی گندمی رنگ والا۔ قد و قامت کے لحاظ سے بھی کوئی پست قامت ہے ، کوئی درمیانہ اور کوئی طویل قامت ہے۔ اسی طرح کوئی موٹا ہے اور کوئی پتلا۔ قوت کے لحاظ سے کوئی بڑا طاقتور اور کوئی کمزور ہے۔ مختلف خطوں کے لوگوں کے خواص بھی مختلف ہوتے ہیں۔ باطنی طور پر بھی لوگوں کے خصائل مختلف ہیں۔ کوئی ایماندار ہیں اور کوئی کافر ، مشرک ، مجوسی اور دہریے ، کوئی خوش اخلاق ہیں اور کوئی بداخلاق۔ لوگوں کے عزائم بھی مختلف ہیں اور سوچ اور فکر بھی مختلف ہوتی ہے گویا انسانوں میں بڑا ہی اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہی تغاوت دیگر جانداروں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ دراصل نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی جارہی ہے کہ مخالفین کی ایذا رسانیوں سے پریشان نہ ہوں ، دنیا دارالامتحان ہے اس میں لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔ جیسے فرمایا ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ ولا یزالون مختلفین (ھود 118) اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا مگر انسان برابر اختلاف کرتے رہیں گے۔ سورة النحل میں فرمایا ولو شاء لھداکم اجمعین (آیت 9) اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا مگر وہ کسی پر جبر نہیں کرتا۔ فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر (الکہف 29) جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ نے دونوں کا انجام واضح کردیا ہے۔ اگر ایمان لائے گا تو خطیرۃ القدس جیسے پاک مقام کی رکنیت حاصل ہوجائے گی اور بالاخر اللہ کی رحمت کے مقام میں پہنچ جائے گا اور اگر کفر و شرک کے راستے پر چل نکلا تو آگ کی قناتوں والی جہنم میں جانا پڑے گا۔ بہرحال ان اختلافات کو سامنے رکھ کر تسلی دی گئی ہے کہ اہل ایمان غمگین نہ ہوں۔ فرمایا اللہ کی مختلف قسم کی تخلیق میں اختلاف تو موجود ہے لیکن انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا بیشک اللہ کے بندوں میں سے اہل علم ہی ڈرتے ہیں ، جن لوگوں میں علم اور سمجھ کی کمی ہوتی ہے ان میں خوف خدا کا بھی فقدان ہوتا ہے۔ اللہ سے ڈرنے والے وہی لوگ ہیں جو اللہ کی عظمت و جلال کو پیش نظر رکھتے ہیں ، خدا کی توحید اور صفات کو سمجھتے ہیں اور آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے (موضح القرآن ) ہیں کہ اللہ سے ڈرنے والے سارے لوگ نہیں ہوتے بلکہ یہ تو سمجھ رکھنے والوں کی صفت ہے۔ اللہ کے عالم بندوں کی شناخت کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عالم بالرحمن اللہ کا وہ بندہ ہے جو خدائے رحمان کو جاننے والا ہے لم یشرک باللہ شیا جس نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہو یعنی مشرک آدمی عالم کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ فرماتے ہیں کہ عالم آدمی وہ ہے احل حلالہ و حرم حرامہ جس نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھا۔ وحفظ وصیتہ اور اس کی وصیت کی حفاظت کی وایقن انہ ملقیہ وھو حاسبہ اور یقین رکھا کہ ایک دن اس سے ملاقات ہونے والی ہے اور وہ ضرور حساب لے گا۔ امام حسن بصری (رح) عالم کی تعریف میں فرماتے ہیں العالم من خشی الرحمن بالغیب عالم شخص وہ ہے جو بن دیکھے خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے ایسا شخص اللہ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر ہی اپنے دل میں خوف رکھتا ہے جس چیز کی اللہ نے ترغیب دی ہے ، وہ بھی اس کی ترغیب دیتا ہے اور جس چیز سے اللہ نے منع کیا ہے ، وہ بھی اس سے منع کرتا ہے اور جس چیز میں خدا کی ناراضگی ہے اس سے خود بھی بچتا ہے اور دوسروں کو بھی بچاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے علم کی تعریف اس طرح منقول ہے۔ لیس العلم بکثرۃ الحدیث ولکن العلم عن کثرۃ الخشیۃ زیادہ روایات یاد ہونا علم کی علامت نہیں بلکہ خوف خدا کی زیادتی علم کی نشانی ہے۔ شیخ شہاب الدین سہرورد ی (رح) سے منقول ہے من لاخشیۃ لہ لیس بعالم جس میں خشیت نہیں وہ عالم نہیں۔ صاحب روح المعانی (رح) فرماتے (روح المعانی و البحر المحیط ص 312 ج 7) ہیں کہ علماء حقیقت میں وہ ہیں جو اللہ کی ذات اور اس کی صفات جلیلیہ کو جانتے ہیں ، جو خدا کے افعال حمیدہ کا علم رکھتے ہیں اور اس کی تمام شیون جمیلہ کو بھی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح امام مالک (رح) نے بھی فرمایا ہے کہ عالم وہ نہیں ہے جس کو زیادہ روایتیں یاد ہوں بلکہ عالم وہ ہے جس کا دل اللہ کی عطا کردہ روشنی سے روشن ہے ، خدا کی معرفت حاصل ہے اور اس کی ذات وصفات کو جانتا اور پہچانتا ہے۔ مفسر قرطبی (قرطبی ص 324 ج 14) نے حضرت علی ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی فقیہہ ہے حالانکہ فقیہہ کامل تو وہ شخص ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں کرتا اور کسی کو خدا کی معاصی کی اجازت نہیں دیتا اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے بےفکر نہیں کرتا۔ عالم آدمی قرآن سے اعراض نہیں کرتا۔ نیز فرماتے ہیں لاخیر فی عبادہ لا علم فیھا اس عبادت میں کوئی بہتری نہیں جس میں علم کا دخل نہیں۔ گویا عبادت علم کے ساتھ خوب سوچ سمجھ کر کی جائے تو مفید ہوگی ، ورنہ نہیں۔ خواجہ علی ہجویری (رح) کا مقولہ بھی ہے المتعید بلا علم کالحمار فی طاحونہ بغیر علم کے عبادت کرنے والا خر اس کے گدھے کی طرح ہے وہ جانتا ہی نہیں کہ کیوں چکر کاٹ رہا ہے ، اسی طرح بےعلم کی حالت ہے بغیر سمجھ کے علم درست نہیں اور سمجھ میں ضروری چیز ایمان ہے جس کے بغیر کوئی عبادت قابل قبول نہیں۔ خدا کی توحید ، اس کی صفات ، عالم برزخ اور آخرت کی منازل وغیرہ سب ضروری چیزیں ہیں جن کے متعلق عالم کو علم ہونا چاہئے۔ اسی طرح فقیہہ بھی وہی ہوگا جو سمجھ دار اور فقاہت رکھنے والا ہوگا ، حضرت علی ؓ کا مقولہ ہے لاقراۃ لا تدبر فیھا قرآن کی جس تلاوت میں تدبر نہیں ہے اس کی کوئی خاص فوقیت نہیں کیونکہ قرآن کی آیات میں غور و فکر اور تدبر ضرور ی ہے۔ اللہ نے شکوہ کیا ہے افلایتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا (محمد 24) لوگ قرآن میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے ، کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ؟ پرویز جیسے بعض گمراہ لوگوں نے اس آیت کا غلط معنی کیا ہے۔ اس نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ عالم سے مراد سائنسدان ہیں۔ یہ تو صریحاً قرآن پاک کی تحریف ہے اس شخص نے اپنے آپ کو مفکر قرآن کے نام سے مشہور کرایا۔ رسالہ طلوع اسلام جاری کیا مگر گمراہ ہوگا۔ اس نے خود ساختہ لغت بھی جاری کیا۔ اس نے نہ صرف عالم کا معنی غلط کیا بلکہ سورة نمل میں جہاں وتفقد الطیر (آیت 20) کا ذکر آیا ہے۔ وہاں اس نے طیر کا معنی پرندہ نہیں بلکہ جنگلی آدمی کیا ہے۔ اللہ کا معنی قانون کیا ہے اور حورعین سے پاکیزہ فکر مراد لی ہے۔ اس نے ابل کا معنی اونٹ کی بجائے بادل بھی کیا ہے۔ اسی طرح اس نے علماء سے مراد سائنسدان لیا ہے۔ اگرچہ سائنس بھی ایک علم یا فن کا شعبہ ہے جس کے ذریعے تجربات حاصل کیے جاتے ہیں اور فزکس ، کیمسٹری ، باٹنی ، فلکیات وغیرہ اس کی بہت سی شاخیں ہیں مگر عالم سے مراد محض سائنس دان لینا تو بالکل ہی غلط ہے۔ سائنس دان تو مومن ، کافر دہریے بھی ہیں مگر وہ عالم نہیں کہلاسکتے۔ عالم بندہ سے قرآن کی مراد ایسا شخص ہے جسے اللہ کی توحید ، اس کی صفات ، ذات ، احکام اور آخرت کا علم حاصل ہے اور اس علم کے مطابق وہ عامل بھی ہے۔ عالم کے لیے تو عقیدے کی درستگی ضروری ہے جو غیر مسلموں میں نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا وہ عالم کہلانے کے حقدار نہیں ہوسکتے۔ فرمایا اللہ کے بندوں میں سے اہل علم ہی اس سے ڈرتے ہیں۔ ان اللہ عزیز غفور بیشک اللہ تعالیٰ زبردست ہے کہ جب وہ کسی سرکش کو پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔ وہ غفور بھی ہے کہ توبہ کرنے پر گنہگاروں کو معاف بھی کردیتا ہے۔ نفع بخش تجارت ارشاد ہوتا ہے ان الذین یتلون کتب اللہ وہ لوگ جو کتاب الٰہی کی تلاوت کرتے ہیں واقاموا الصلوۃ اور نماز قائم کرتے ہیں۔ وانفقوا مما رزقنھم سرا و علانیۃ اور جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے۔ اس میں سے مخفی اور ظاہر خرچ کرتے ہیں۔ کبھی پوشیدہ طور پر خرچ کرنا بہتر ہوتا ہے اور کبھی ظاہر کرکے خرچ کرنا ضروری ہوتی ہے فرمایا ایسے لوگ یرجون تجارۃ لن تبورا ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو کبھی برباد نہیں ہوگی ، گویا کہ نفع بخش تجارت کے تاجر ہیں۔ لیو فیھم اجورھم تاکہ وہ بدلہ دے ان کو پورا پورا۔ اللہ تعالیٰ کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔ وہ مذکور بندوں کو ان کے عقاید و اعمال کا پورا اجر دے گا۔ ویزیدھم من فضلہ بلکہ اپنی مہربانی سے ان کے استحقاق کی نسبت زیادہ انعام و اکرام بھی دے گا جس کی کوئی حد نہیں کیونکہ انہ غفور شکور اس خدا کی یہ شان ہے کہ وہ غلطیوں ، کوتاہیوں کو معاف کرنے والا بھی ہے اور معمولی سے معمولی کار خیر کا قدر دان بھی ہے۔ وہ کسی کی محنت و کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔ امام بزو وی (رح) کے متعلق مشہور ہے کہ ان کے ایک شاگرد نے آپ کو خواب میں دیکھا اور فرمایا کہ اے فلاں ! کیا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں عورت کو بخش دیا ہے۔ شاگرد نے پوچھا وہ کیسے ؟ فرمایا ، وہ عورت نماز نہیں پڑھتی تھی ، البتہ جب اذان ہزوتی تو اس کا جواب بڑے احترام سے دیتی تھی۔ خدا نے اس کا… یہی عمل قبول کرلیا ہے۔ حدیث کا مضمون بھی ہے کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی حقیر نہ سمجھو ، شاید اللہ کے نزدیک وہی قابل قبول ہو اور تمہارے لیے نجات کا باعث بن جائے اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان فرائض سے غافل ہو کر محض چھوٹے چھوٹے کاموں کے پیچھے لگ جائے ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اللہ کی غفوریت اور قدردانی کا یہ عالم ہے کہ وہ چھوٹے سے عمل کا بہانہ بنا کر بھی بخش دینے پر قدرت رکھتا ہے۔ قرآن کی حقانیت آگے قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر کیا گیا ہے والذی اوحینا الیک من الکتب ھو الحق اور ہم نے آپ کی طرف کتاب میں سے جو وحی کی ہے وہ برحق ہے یعنی اللہ نے قرآن کی حقانیت و صداقت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور ساتھ یہ بھی کہ یہ کتاب مصدقا لما بین یدیہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان میں پیدا کی گئی خرابیوں کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ فرمایا ان اللہ بعبادہ لخبیر لابصیر بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھتا ہے اور ہر شخص کا عقیدہ اور عمل اس کی نگاہ میں ہے۔ وہ ہر ایک کو پورا پورا بدلہ دے گا۔
Ayahs 35:32–37

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم نے وارث بنایا کتاب کا ان لوگوں کو جنہیں ہم نے منتخب کیا اپنے بندوں میں سے ، پس بعض ان میں زیادتی کرنے والے ہیں اپنی جان پر ، اور ان میں سے بعض میانہ رو ہیں اور بعض ان میں سے سبقت کرنے والے ہیں بھلائیوں کے ساتھ اللہ کے حکم سے۔ یہ بڑی فضیلت کی بات ہے

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 35:33 in the Quran reader

باغات رہنے کے داخل ہوں گے ان میں ، پہنائے جائیں گے ان کو کنگن سونے کے اور ہار موتیوں کے اور لباس ان کا ریشم کا ہوگا

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ Open ayah 35:34 in the Quran reader

اور وہ کہیں گے ، سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے دور کردیا ہم سے غم۔ بیشک ہمارا پروردگار بہت بخشش کرنے والا اور قدردان ہے

اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ Open ayah 35:35 in the Quran reader

وہ جس نے اتارا ہے ہمیں ٹھہرنے کی جگہ میں اپنے فضل سے ، نہیں پہنچتی اس میں ہم کو کوئی مشقت اور نہیں پہنچتی اس میں ہم کو کوئی تھکاوٹ

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ Open ayah 35:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے ، نہ فیصلہ کیا جائے گا ان پر کہ وہ مرجائیں اور نہ تخفیف کی جائے گی ان سے اس (دوزخ) کے عذاب سے ، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر ناشکر گزار کو۔

وَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ Open ayah 35:37 in the Quran reader

اور وہ چلائیں گے اس کے اندر اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! نکال دے ہم کو کہ ہم عمل کریں اچھا سوائے اس کے جو ہم پہلے عمل کیا کرتے تھے (اللہ فرمائے گا) کیا ہم نے تمہیں عمر نہیں دی تھی کہ نصیحت پکڑے اس کے اندر جو نصیحت پکڑنا چاہتا ہے اور آیا تمہارے پاس ڈر سنانے والا ، اب چکھو ، پس نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی مختلف اقسام کو توحید کے دلائل کے طور پر پیش کیا۔ پھر فرمایا کہ خشیت الٰہی علم اور سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ نے اہل ایمان کی بعض صفات بیان فرمائیں کہ وہ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ لوگ نفع بخش تجارت کرتے ہیں۔ پھر قرآن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ یہ برحق ہے ، پہلی کتابوں کی مصدق ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے اس کتاب میں بڑا سامان ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ورثائے کتاب کتابیں اور صحیفے پہلے نبیوں پر بھی نازل ہوئے اور پھر آخر میں اللہ نے قرآن پاک جیسی عظیم المرتبت کتاب نازل فرمائی جس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ثم اور ثنا الکتب الذین اطفینا من عبادنا پھر ہم نے اس کتاب یعنی قرآن کا وارث ان کو بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب فرمایا۔ اللہ نے اس آخری امت کو تمام سابقہ امم پر فضیلت بخشی اور اس کو آخری کتاب کا وارث بنایا۔ اس کتاب کی نشر و اشاعت ، تعلیم اور اس پر عمل کرنا اسی امت کی ذمہ داری ٹھہری۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اہل کتاب کو تورات کا وارث بنایا مگر انہوں نے یہ امانت پورے طریقے سے ادا نہ کی۔ جس کی وجہ سے کتاب میں تغیر و تبدل پیدا ہوا اور اب یہ ای آخری امت کی آزمائش ہے کہ وہ اس امانت کا بار احسن طریقے سے اٹھائیں۔ فرمایا جس طرح اللہ کی تخلیق مختلف ہے۔ انسان ، جانور ، کیڑے ، مکوڑے ، پھل ، اناج ، پہاڑوں وغیرہ میں بیشمار اقسام پائی جاتی ہیں اور کوئی ایک مخلوق بھی آپس میں یکساں نہیں ہے۔ اسی طرح ورثائے کتاب یعنی آخری امت کے لوگ بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔ فمنھم ظالم لنفسہ ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی۔ اگرچہ بحیثیت مجموعی وہ منتخب بندوں میں سے ہیں مگر معاصی میں بھی ملوث ہیں حتی کہ کبائر سے بھی پرہیز نہیں کرتے۔ مطلب یہ کہ ایمان لانے کے باوجود گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی ہی جانوں پر زیادتی ہے۔ ومنھم مقتصد اور ان میں سے بعض میانہ رو ہیں کبھی گناہ کا ارتکاب بھی کرلیا اور کبھی چھوڑ بھی دیا اور اس کی تلافی کرلی۔ ساتھ ساتھ نیکی کے کام بھی انجام دیتے رہتے ہیں۔ اگرچہ وہ زیادہ متقی تو نہیں لیکن گناہوں میں بھی زیادہ انہماک نہیں رکھتے بلکہ درمیانی چال چلتے رہتے ہیں۔ ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جو اللہ کے حکم سے نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کی توفیق سے نیکیوں کو سمیٹتے ہیں اور اس میں کمال حاصل کرتے ہیں۔ فرائض ، واجبات ، سنن اور مستحبات کی ادائیگی کی کوشش کرتے ہیں اور صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ یہ نیکیوں میں سبقت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہی کے متعلق فرمایا ذلک ھو الفضل الکبیر یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے جو ان لوگوں پر ہو رہا ہے۔ اہل جنت کے لیے انعامات ایسے لوگوں کی جزا کے متعلق فرمایا جنت عدن یدخلونھا رہنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے۔ یعنی وہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے یخلون فیھا من اساور من ذھب ولولوا جہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے ولباسھم فیھا حریر اور وہاں ان کا لباس ریشم کا ہوگا۔ دنیا میں تو اللہ نے مردوں کے لیے سونا اور ریشم حرام قرار دیا ہے مگر جب یہ جنت میں پہنچیں گے تو وہاں انہیں یہ چیزیں میسر آئیں گی۔ جنت میں اہل جنت جس قسم کے سنہری زیورات اور موتیوں کے ہار اور جس قسم کا ریشم کا لباس پسند کریں گے ان کی خواہش کے مطابق مہیا کیا جائے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ تینوں گروہ یعنی اپنی جان پر ظلم کرنے والے ، میانہ روی اختیار کرنے والے اور نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے والے اہل ایمان ہی کے گروہ ہیں اور یہ سب کے سب اللہ کی رحمت کے مقام میں داخل ہوں گے ہاں یہ بات ہے کہ ظالموں کو اپنی زیادتیوں کا بھگتان کرنا ہوگا اور سزا بھگت کر وہ بھی بالاخر جنت میں پہنچ جائیں گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ اس امت کے گنہگار لوگوں کو معافی ضرور مل جائے گی ، کسی کی سفارش ہوگی اور کسی کے حق میں اللہ تعالیٰ خود مہربانی فرمادیں گے۔ جب یہ لوگ بہشتوں میں داخل ہوجائیں گے وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن تو یوں کہیں گے ، سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے آج ہم سے غم کو دور کردیا۔ دنیا میں تو ہم طرح طرح کے غم و آلام میں مبتلا تھے ، کئی قسم کی تکالیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا ، مگر اب سارے غم دور ہوگئے اور تمام تکالیف مٹ چکی ہیں۔ اللہ نے ہماری معمولی سی اطاعت کی بڑی قدر کی ہے اور اپنی بخشش سے نوازا ہے۔ ان ربنا لغفور شکور بیشک ہمارا پروردگار بہت بخشش کرنے والا اور قدردان ہے۔ الذی احلنا دار المقامۃ من فضلہ وہی جس نے اپنے فضل سے ہمیں اقامت کے گھر یعنی ٹھہرنے کی جگہ میں اتارا ہے۔ اقامت کے گھر سے مراد اللہ تعالیٰ کی بہشت ہے جو انسان کا دائمی مقام ہے۔ اس سے پہلے تو انسان مختلف مقامات پر عارضی طور پر قیام پذیر ہوتا ہے ، کبھی عالم ارواح میں کبھی باپ کی پشت میں ، کبھی ماں کے شکم میں ، کبھی اس دنیا میں ، کبھی برزخ میں اور کبھی حشر کے میدان میں۔ انسان کا آخری اور دائمی مقام تو جنت ہی ہے۔ جس کے بعد کسی دوسری جگہ نہیں جائے گا۔ تو جنتی لوگ اللہ کی تعریف بیان کریں گے جس نے انہیں اس آخری مقام میں ٹھکانا دیا اور یہ ایسا عمدہ ٹھکانہ ہے لا تمسنا فیھا نصب جس میں ہمیں کوئی تھکاوٹ نہیں پہنچتی ولا یمسنا فیھا لغوب اور نہ کوئی مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ جنتی لوگ ان سہولتوں کا ذکر کریں گے جو انہیں جنت میں پہنچ کر حاصل ہوں گی۔ دراصل نصب اور لغوب دونوں ہم معنی الفاظ ہیں اور معنی تھکاوٹ ہی ہے۔ البتہ بعض فرماتے ہیں کہ نصب اس تھکاوٹ کو کہتے ہیں جو کسی کو کام کاج کے دوران ہوجاتی ہے اور لغوب وہ تھکاوٹ ہے جو کام کرنے کے بعد لاحق ہوتی ہے۔ بہشت میں پہنچ کر تو کوئی کام ہی نہیں کرنا پڑے گا۔ نہ مشقت اٹھانی پڑے گی لہٰذا کسی قسم کی تھکاوٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بعض حضرات نصب کا معانی جسمانی تھکاوٹ اور لغوب کا معنی نفسانی تھکاوٹ بھی کرتے ہیں مطلب یہی ہے کہ وہاں پہنچ کر کسی قسم کی تھکاوٹ نہیں ہوگی۔ جنتی لوگ نہایت آرام و سکون کی زندگی بسر کریں گے۔ آگے اللہ نے کفار کی تعذیبات کا ذکر بھی کیا ہے۔ والذین کفروا لھم نار جہنم اور جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہوگی۔ لایقضی علیہم فی موتوا ان کے متعلق موت کا فیصلہ بھی نہیں کیا جائے گا۔ قرآن پاک میں کئی مقامات پر جہنمیوں کی اس حالت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہاں ان کو نہ موت آئے گی اور نہ زندگی ہوگی۔ وہ اس قدر کربناک حالت میں ہوں گے۔ سورة الاعلیٰ میں ہے کہ دوزخ میں پہنچ کر ثم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (آیت 13) اسی طرح سورة طہ میں ہے کہ مجرم کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا لای موت فیھا ولا یحییٰ (آیت 74) نہ تو موت وارد ہوگی کہ جہنم کی سزا سے چھٹکارا حاصل ہوجائے اور نہ راحت حاصل ہوگی جو کہ زندگی کی علامت ہے۔ فرمایا ولا یخفف عنھم من عذابھا ان کے لیے دوزخ کے عذاب میں کوئی تخفیف بھی نہیں ہوگی بلکہ عذاب مسلسل ہوتا رہے گا۔ فرمایا کذلک نجزی کل کفور ہم اسی طرح ناشکر گزار کو بدلہ دیتے ہیں ، ان کی سزا جہنم کا داخلہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جہنمی لوگ عذاب کی تکلیف سے وھم یصطرحون فیھا اس میں چلائیں گے اور بار بار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کریں گے۔ ربنا اخرجنا نعمل صالحا غیر الذی کنا نعمل اے ہمارے پروردگار ! ہمیں یہاں سے نکال لے ، اب ہم اچھا عمل کریں گے۔ اس کی بجائے جو پہلی زندگی میں کیا کرتے تھے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کافر لوگ چلا چلا کر ہزار برس تک دوزخ سے نکلنے کی درخواست کریں گے اس کے بعد جواب آئے گا۔ احسوا فیھا ولا تکلمون (المومنون 108) تم پر اسی جہنم میں پھٹکار ہو۔ اب کلام نہ کرو ، میں تمہیں جواب دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ الغرض ! جہنم والوں کی چیخ و پکار ہوتی رہے گی مگر ان کے عذاب میں کوئی تخفیف نہیں ہوگی۔ عمر کا استعمال بالاخر اللہ تعالیٰ جواب دے گا اولم نعمرکم کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی ما بتذکر فیہ من تذکر کہ جو اس دوران نصیحت پکڑنا چاہے ، پکڑ لے۔ تمہیں دنیا میں پورا پورا موقع دیا گیا تھا۔ اللہ نے اپنے پیغمبر اور مبلغین بھیجے ، کتابیں نازل فرمائیں مگر تم نے اس موقع کو ضایع کردیا اور کوئی نصیحت حاصل نہ کی۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (ترمذی ص 338) ہے کہ میری امت کے لوگوں کی اکثر عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہیں۔ اس سے آگے قلیل آدمی ہی جائیں گے ، اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ اتنی زندگی عطا کردے ، اس کے بعد اس کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ اللہ فرمائے گا میں نے تمہیں اتنی لمبی مہلت دی مگر تم پھر بھی ایمان سے محرومج رہے ، اور نیکی کے کام نہ کر پائے ، لہٰذا اب سا کا بدلہ چکھو۔ غرضیکہ اللہ فرمائے گا میں نے تمہیں اتنی عمر دی وجاکم الذیر اور تمہارے پاس ڈر سنانے والے بھی آئے۔ اللہ کے تمام انبیاء نذیر ہوئے ہیں۔ خود حضور ﷺ کے متعلق بھی اللہ نے فرمایا فقد جائکم بشیر و نذیر (المائدہ 19) تحقیق تمہارے پاس بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا آچکا ہے۔ اپنی فکر کرلو ، قیامت آنے والی ہے اور محاسبہ اعمال لازمی ہوگا۔ اور پھر جنت یا دوزخ میں دائمی ٹھکانا ہوگا۔ امام ابوبکر جق اس فرماتے ہیں کہ خود حضور ﷺ کی ذات مبارکہ بھی نذیر ہے ، اللہ کے قائم کردہ تمام دلائل توحید بھی نذیر ہیں۔ انبیاء کے وعدے بھی نذیر ہیں ، انسان کو پیش آنے والے تمام تغیرات ، بچپن ، جوانی ، بڑھاپا ، صحت ، بیماری ، فقر ، غنی اور دیگر حوادثات زمانہ سب انسانوں کے لیے بمنزلہ نذیر کے ہیں کہ ان میں غور و فکر کرکے اپنی عاقبت کے لیے بہتر وسائل پیدا کرے۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ جب انسان کے جسم میں ایک بال سفید ہوجاتا ہے توہ دوسرے بال سے کہتا ہے کہ تیار ہو جائو ، موت کا وقت قریب آگیا ہے ، گویا بالوں کی سفیدی بھی نذیر ہے۔ کسی شاعر نے بھی کہا ہے ؎ وقائلۃ تخضب با حبیبی وسود شعر وجہلک بالعبیری محبوبہ نے اپنے محبوب سے کہا کہ اے پیارے ! اپنے بالوں کو رنگ لو ، یعنی اپنے چہرے کے بالوں کو عبیر جیسی اعلیٰ خوشبو کے ساتھ سیاہ کرلو۔ اس پر اس شخص نے جواب دیا ؎ قلت لھا المیب نذیر عمری ولست مسودا وجہ النذیری بڑھاپا میری زندگی کا نذیر ہے ، لہٰذا میں اس نذیر کے چہرے کو سیاہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اسی طرح ابن حطان شاعر نے بھی کہا ہے ؎ فاعمل فانک معنی بواحدۃ حسب اللبیب بھذا لشیب من تاعی عمل کرتے چلے جائو کیونکہ ایک دن یہی آواز آئے گی کہ اس کا خاتمہ ہوگیا۔ عقلمند آدمی کے لیے موت کی خبر دینے والی باتوں کی سفیدی ہی کافی ہے۔ اسی لیے بعض روایات اور آثار میں آتا ہے کہ انسان کی بیماری اس کے لیے موت کی ڈاک کی مانند ہے۔ اللہ فرمائے گا ، میں تمہاری طرف موت کی ڈاک بھی بھیجتا رہا مگر تم نے اس سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ بعض روایات میں رائد کا لفظ آتا ہے۔ رائد قافلے کے اس آگے چلنے والے دستہ کو کہتے ہیں جو گھاس ، پانی وغیرہ کی تلاش پر مامور ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ تمام عوامل موت کی خبر دے رہے تھے ، مگر تم نے اس کے لیے تیاری نہ کی۔ شیخ سعدی (رح) کا قول ہے۔ خیرے کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نہ ماند اے شخص عمر کو غنیمت جان کر نیک عمل کرلے پیشتر اس کے کہ ادھر سے آواز آئے کہ آج فلاح شخص ختم ہوگیا یعنی اس کی موت واقع ہوگئی۔ فرمایا ، اگر اتنے نذیر بھیجنے کے باوجود تم نے اپنی حالت کو درست نہیں کیا فذوقوا تو اب اپنی کمائی کا مزہ چکھ لو ، اللہ تعالیٰ سزا میں مبتلا کردے گا فما للظلمین من نصیر پس ظلم کرنے والوں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہوگا ، آج ان کا قبیلہ ، برادری ، جتھہ ، سفارشی غرضیکہ کوئی بھی عذاب الٰہی سے نہیں بچا سکے گا۔
Ayahs 35:38–41

اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 35:38 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی۔ بیشک وہ خوب جانتا ہے سینوں کے راز

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 35:39 in the Quran reader

وہی ذات ہے جس نے بنایا تم کو خلیفہ زمین میں۔ پس جس نے کفر اختیار کیا ، پس اسی پر اس کے کفر کا وبال پڑا اور نہیں زیادہ کرتا کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے پروردگار کے پاس مگر ناراضگی اور نہیں زیادہ کرتا کفر کرنے والوں کے لیے ان کا کفر مگر نقصان

قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 35:40 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ، بتلائو تمہارے وہ شریک جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، مجھے دکھلائو انہوں نے کیا پیدا کیا ہے زمین میں۔ یا ان کے لیے کوئی شراکت ہے آسمانوں میں ، یا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے اور وہ کھلی دلیل پر ہیں اس سے نہیں بلکہ نہیں وعدہ کرتے ظالم لوگ بعض بعض کے ساتھ مگر فریب کا

اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 35:41 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ روکتا ہے آسمانوں کو اور زمین کو اس بات سے کہ وہ ٹل جائیں اور اگر وہ ٹل جائیں تو نہیں روک سکتا ان دونوں کو کوئی بھی اس کے سوا۔ بیشک وہ بردبار اور بخشش کرنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ درس میں انذار کا مضمون ذکر ہوا تھا۔ قرآن کے ورثاء تین قسم کے آدمی ہیں۔ بعض وہ ہیں جو صغائر و کبائر کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں جب کہ تیسرا گروہ وہ ہے جو بھلائیوں میں سبقت کرتا ہے۔ یہ سارے گروہ اہل اسلام حاملین قرآن ہیں۔ پھر اللہ نے نیکی کرنے والوں کے انعامات کا ذکر کیا اور کفر کرنے والوں کے عذاب اور ان کی چیخ و پکار کو بیان کیا۔ اللہ فرمائے گا کہ تمہیں دنیا میں کتنی عمر تک مہلت دی تھی۔ اس مہلت کے دوران تمہارے پاس اللہ کے نبی بھی آئے جو تمہیں ڈر سناتے رہے ، اللہ کی وحدانیت کے دلائل بھی تمہیں آگاہ کرتے رہے۔ انسانی زندگی کے تغیرات خود نذیر ہیں۔ انسان کا بڑھاپا اسے یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا باقی حصہ تھوڑا رہ گیا ہے ، اب بھی سمجھ جائو مگر تم نے ان چیزوں سے نصیحت حاصل نہ کی ، اب چیخنے چلانے کا کچھ فائدہ نہیں ، اپنے عقیدے اور عمل کا مزہ چکھو ، اب ظالموں کو کسی طرسے مدد نہیں آئے گی۔ عالم الغیب ذات اب سورة کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض صفات اور جزائے عمل ہی کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ساتھ توحید کے عقلی دلائل بھی بیان کیے ہیں۔ قرآن کی صداقت کو ماننے والے اور انکار کرنے والوں کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان اللہ علم غیب السموات والارض بیشک اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کی مخفی چیزوں کو جاننے والا ہے انہ علیم بذات الصدور بیشک سینوں کے رازوں کو بھی وہ خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی نیت ، ارادے ، استعداد اور صلاحیت تک کو جانتا ہے۔ اسی بنا پر گزشتہ درس میں اللہ کا یہ فرمان گزر چکا ہے فذوقوا فما للظلمین من نصیر (آیت 37) اب عذاب کا مزہ چکھو۔ آج کے دن ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ اس دن کافر لوگ کہیں گے ربنا اخرجنا نعمل صالحا (آیت 37) پروردگار ہمیں اس عذاب سے نکال لے ہم اچھے عمل کریں گے۔ مگر اللہ چونکہ ان کی نیت اور ارادے سے واقف ہے وہ کہے گا ولو دروا لعادوا لما نھواعنہ (الانعام 28) اگر بالفرض ہم ان کو دنیا میں واپس لوٹا بھی دیں تو یہ پلٹ کر وہی کام کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ علیم کل اور تمام مخفی باتوں کو جاننے والا ہے لہٰذا وہ ہر انسان کے ساتھ اس کی نیت ، ارادے اور عمل کے مطابق ہی سلوک کرتا ہے۔ خلافت ارضی ارشاد ہوتا ہے ھوالذی جعلکم خلف فی الارض خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا۔ اللہ نے اپنا یہ انعام یاد دلا کر شکر گزاری کا مطالبہ کیا ہے مگر اکثر لوگ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ خلافت عام بھی ہے اور خاص بھی۔ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے متعلق فرشتوں کو خطاب کرکے فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفہ (البقرہ 30) میں زمین میں خلیفہ یعنی نائب یا قائم مقام بنانے والا ہوں۔ یہ خلافت خاص تھی اور خلافت عام یہ ہے کہ بعد میں آنے والے لوگ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے خلیفہ ، جانشین یا قائم مقام ہیں۔ پہلے بادشاہوں کی جگہ موجودہ حکمران خلیفہ ہیں۔ پہلے زمینداروں اور کاشتکاروں کے جانشین موجودہ زمیندار یا کاشتکار ہیں۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ جعلکم کا خطاب امت محمدیہ سے ہے کہ اللہ نے تمہیں پہلوں کا خلیفہ منتخب کیا ہے۔ اب خطہ ارضی تمہاری سپرداری میں ہے۔ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اس کے احکام کو بھی زمین میں جاری کرو۔ اللہ کی مخلوق کو جہالت سے نکالو ، ان سے ظلم و زیادتی کو رفع کرو ، ان کو عدل و انصاف کا درس دو ، زمین کو شر و فساد کی بجائے امن و سکون کا گہوارہ بنائو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا (الاعراف 56) زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلائو۔ اللہ تعالیٰ اس خلافت کے ذریعے تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے فینظر کیف تعملون (حدیث) وہ ظاہر کردے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو ، مگر عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ جب کسی فرد یا قوم یا جماعت کو اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو پھر شکر گزاری کی بجائے ناشکری ہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے زمین کی اکثر آبادی تو کفر اور شرک میں مبتلا ہے۔ آج کے زمانہ میں بھی دنیا کی کل آبادی کے چار حصے کفر و شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں اور صرف پانچواں حصہ دین و ایمان سے قدرے تعلق رکھتا ہے۔ بہرحال نیابت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ، اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے مگر اکثر لوگ ناشکرگزار ہی ہیں۔ ناشکر گزاری کا انجام ارشاد ہوتا ہے فمن کفر فعلیہ کفر جس نے کفران نعمت کیا یعنی ناشکرگزاری کی تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، اللہ کیا چاہے گا ؟ چاہیے تو یہ تھا کہ لوگ اللہ کی آیات ، اس کی صفات اور دلائل قدرت میں غور و فکر کرکے اس کی توحید کو تسلیم کرتے ، عدل و انصاف قائم کرتے ، اللہ کی زمین میں اصلاح کرتے اور اس طرح اللہ کی نعمت کا شکریہ ادا کرتے مگر اس کی بجائے انہوں نے کفر و شرزک کا راستہ اختیار کرکے کفران نعمت کا ثبوت دیا جو خود ان کے حق میں برا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت (البقرہ 386) انسان نے جو نیکی کمائی ہے وہ اس کے لیے کارآمد ہے اور جو برائی کی ہے ، اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اس میں کسی دوسرے کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ سورة المدثر میں ارشاد خداوندی ہے کل نفس بما کسبت رھینۃ (آیت 38) ہر انسان اپنی کمائی میں پھنسا ہوا ہے۔ قیامت والے دن اس کا قدم نہیں اٹھ سکے گا جب تک ایک ایک عمل کا محاسبہ نہیں ہوجائے گا۔ فرمایا جس نے ناشکرگزاری کی تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا ولا یزید الکفرین کفرھم عند ربھم الا مقتا اور ناشکرگزاروں کی ناشکر گزاری ان کے پروردگار کے ہاں نہیں زیادتی کرتی مگر ناراضگی کو مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے کفران نعمت سے ناراض ہی ہوتا ہے جس مقدار میں ناشکرگزاری ہوتی ہے اسی قدر اللہ کی ناراضگی اور بیزاری خریدنے والی بات ہے ولا یزید الکفرین کفرھم الاخسارا اور ناشکر گزاروں کی ناشکرگزاری ان کے لیے نقصان ہی کا باعث بنتی ہے ، ایسا کرنے سے کسی فائدہ کی امید نہیں کی جاسکتی۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ہے ولا یزید الظلمین الا خسارا (آیت 82) ظلم کرنے والوں کو بھی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نقصان ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے اور اس کی وجہ سے نہ تو دنیا کی زندگی درست ہوسکتی ہے اور نہ برزخ اور آخرت میں بہتر مقام حاصل ہوتا ہے بلکہ وہ زندگی بھی خراب ہوجاتی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ ناشکرگزاری خدا کی ناراضگی اور نقصان کا باعث ہے۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہیں ارء یتم شرکاء کم الذین تدعون من دون اللہ بھلا بتلائو تو تمہارے وہ شریک جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، یعنی جن کو نذر و نیاز پیش کرکے ان سے حاجات طلب کرتے ہو ، ارونی ماذا خلقوا من الارض مجھے دکھائو جو کچھ انہوں نے زمین میں پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نٰے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں یہ عقلی دلیل پیش کی ہے کہ تم جن معبودان باطلہ کو اپنی حاجت براری یا مشکل کشائی یا سارش کے لیے پکارتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ نے ان پر الوہیت کا چادر ڈال رکھی ہے ، کیا انہوں نے آج تک زمین میں کوئی چیز تخلیق کی ہے اگر کی ہے تو مجھے دکھلائو تاکہ تمہارے شرزک کا جواز پیدا ہوسکے اور اگر انہوں نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی تو تم ان سے کیا چاہتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ سارا اختیار اللہ کے پاس ہے ، اس نے اپنا اختیار کسی مخلوق کو نہیں دیا ، تمام معاملات کی تدبیر وہ خود کرتا ہے ، جیسا کہ اس کا ارشاد ہزے یدبر الامر من السماء الی الارض (السجدۃ 5) آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر وہ خود کرتا ہے اور اس معاملہ میں اس نے کسی کو اختیار نہیں دیا۔ نجومی ستاروں کو بااختیار مانتے ہیں اور کمہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہماری حاجات پوری کرتے ہیں۔ عیسائی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا نے ان کو اختیار دے رکھا ہے۔ قبر پرست لوگ قبروں پر چادریں چڑھاتے اور نذر و نیاز پیش کرتے ہیں تاکہ اصحاب قبور اپنے اختیار سے ان کی بگڑی بنا دی ، حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ اللہ کے سوا نہ کوئی کسی کو کچھ دے سکتا ہے اور نہ کسی سے کچھ روک سکتا ہے۔ بلکہ سارے کے سارے اللہ کے عاجز بندے ہیں ، کسی میں الوہیت یا اختیار وائی کوئی بات نہیں۔ اللہ نے قرآن پاک میں اس عقیدے کی بار بار نفی کی ہے۔ ہر چیز کا خالق ، مالک اور مدبر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وہ بلاشرکت غیرے ہر ایک کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتا ہے۔ لہٰذا الہ بھی وہی ہے۔ فرمایا مجھے دکھائو تمہارے خود ساختہ معبودوں نے زمین میں کون سی چیز تخلیق کی ہے ، کوئی انسان درخت ، پتھر ، جانور ، نباتات ، اناج ، پھل ان میں سے کچھ تو پیدا کیا ہو ، حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے۔ اللہ نے سورة عبس میں فرمایا ہے کہ انسان ذرا اپنے کھانے میں غور کرکے دیکھے کہ ہوائوں کو کس نے چلایا ، بادلوں کو اڑا کر کون لے گیا ، بارش کس نے برسائی ثم شققنا الارض شقا (آیت 26) پھر زمین کو پھاڑ کر پھل ، پھول اور اناج کس نے اگایا جسے تم بھی کھاتے ہو اور تمہارے جانور بھی اپنی غذائی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص بھی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اللہ کے سوا کسی نے زمین میں کوئی چیز پیدا کی ہے۔ اچھا اگر انہوں نے زمین میں کچھ نہیں پیدا کیا ام لھم شرک فی السموت تو کیا آسمانوں کی تخلیق میں ان کی کوئی شراکت ہے ؟ آسمانوں کا کوئی ٹکڑا یا کوئی آسمانی کرہ ہی معبودان باطلہ کا پیدا کردہ ہو ، ان سورج ، چاند ، زہرہ ، مریخ وغیرہ میں ان کا کوئی حصہ ہو ؟ اگر یہ بھی نہیں ہے تو پھر تمہیں ان کی پرستش کا کیا حق پہنچتا ہے ؟ فرمایا اگر زمین و آسمان میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے تو یہ ہی بتلائو ام اتینھم کتبا فھم علی بینت منہ یا ہم نے انہیں کوئی کتاب عطا کی ہے اور وہ اس سے کھلی دلیل پر ہیں۔ دوسری جگہ ہے فیہ تدرسون جس کو تم پڑھتے پڑھاتے ہو اور اس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ ان خود ساختہ معبودوں کو کوئی اختیار ہے اور انہیں پکار کر ان سے حاجت براری کی جاسکتی ہے اس چیز کا بھی کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے بل ان یعد الظلمون بعضھم بعضا الا غرورا کہ یہ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محض فریب کاری کا وعدہ ہی کرتے ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ کتاب کی صورت میں کوئی نقلی دلیل بلکہ محض جھوٹی باتوں کے ذریعے پراپیگنڈہ ہے جو کہ فریب کاری کے سوا کچھ نہیں۔ شفاعت کا غلط تصور بعض مشرک کہتے ہیں کہ ہمارے یہ معبود خود تو کوئی کام نہیں کرتے البتہ سفارش کرکے اللہ کے ہاں سے کام بنوا دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کا بیان اللہ نے قرآن میں نقل کیا ہے جو کہتے ہیں ھولاء شفعائونا عند اللہ (یونس 18) یہ تو اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان کی سفارش اللہ تعالیٰ رد نہیں کرتا لہٰذا ہماری بگڑی بنوا دیتے ہیں۔ چناچہ ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی (الزمر 3) ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا قرب دلا دیتے ہیں۔ یہ سب دھوکے اور فریب کی باتیں ہیں۔ اللہ کے حکم کے بغیر سفارش بھی کوئی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا کافروں اور مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سارا تصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے سوا کوئی قدرت تامہ کا مالک نہیں ، مخلوق ہونے میں سب برابر ہیں اور سب کے سب اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا انسانوں ، جنوں اور ملائکہ میں الوہیت کی کوئی صفت نہیں پائی جاتی۔ ان سے قیامت والے دن پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے میرے بندوں کو شرک پر آمادہ کیا تھا۔ تو وہ صاف جواب دیں گے سبحنک مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے ، بھلا ہم کسی کو شرک کی دعوت کیسے دے سکتے تھے ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی کہیں گے کہ مولا کریم ! میں نے تو اپنی قوم کو یہی تعلیم دی تھی ان اعبدوا اللہ ربی وربکم (المائدہ 117) کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے الغرض فرمایا ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دھوکے اور فریب کی بات کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی کارساز ہے۔ نظام کائنات کا استحکام اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ کی طرف کچھ اشارہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان اللہ یمسک السموت والارض ان تزولا بیشک اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامتا ہے کہ وہ ٹل جائیں۔ ولئن زالتا ان امسکھما من احد من بعدہ اور اگر یہ آسمان و زمین اپنی جگہ سے ٹل جائیں تو ان کو کوئی تھامنے والا نہیں ہے۔ سورج ، چاند اور زمین اور دیگر کرے فضا میں معلق ہیں۔ اللہ نے ہر ایک کا مدار مقرر کر رکھا ہے سورة یسین میں ہے کل فی فلک یسبحون (آیت 40) سب کے سب اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ اللہ نے ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں کسی کرے کا مدار چھوٹا ہے اور وہ جلدی اپنا چکر پورا کرلیتا ہے اور کسی کا مدار لمبا ہے اور وہ اس کے مطابق زیادہ وقت لیتا ہے۔ کوئی کرہ چوبیس گھنٹے میں اپنے مدار کے گرزد چکر لگاتا ہے ، کوئی ایک ماہ میں ، کوئی بیس سال میں اور کوئی ہزاروں سال میں۔ سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور کائنات کا یہ نظام چل رہا ہے۔ فلکیات والے بتاتے ہیں کہ سورج زمین کی نسبت تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے مگر بہت دور ہونے کی وجہ سے اس قدر چھوٹا نظر آتا ہے یہ زمین سے نو کروڑ تیس لاکھ میل دور ہے۔ اسی طرح زمین سے نزدیک ترین کرہ چاند اڑھائی لاکھ میل کی مسافت پر ہے۔ شعریٰ سیارہ جس کے متعلق قرآن پاک میں آتا ہے وانہ ھو رب الشعری (النجم 49) یعنی شعریٰ سیارے کا رب بھی وہی ہے ، یہ سیارہ سورج سے بیس گناہ بڑا ہے۔ ہر کرے کا وزن ہے اور یہ حکمت خداوندی کے مطابق جب تک اس کو منظور ہے چلتے رہیں گے۔ پھر جب مقررہ وقت آجائے گا تو یہ سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور نیا نظام قائم ہوگا۔ اللہ نے وقوع قیامت کی مختلف نشانیاں بیان فرمائی ہیں کہیں فرمایا اذا الشمس کورت (التکویر 1) جب سورج گہنا جائے گا۔ سورة زلزال میں فرمایا اذا زلزلت الارض زلزالھا (آیت 1) جب زمین کو خوب ہلا دیا جائے گا۔ اس کے ذرات بکھر جائیں گے اور پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح اڑنے لگیں گے ، ستارے بےنور ہوجائیں گے اور سارا نظام درہم برہم کردیا جائے گا۔ تو پھر عالا بالا کا نظام قائم ہوگا۔ فرمایا انہ کان حلیما غفورا بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی بردبار اور بخشش کرنے والا ہے۔ وہ انسان کی کوتاہیوں پر فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر جب مقررہ وقت آجاتا ہے تو مجرم کو پکڑ لیتا ہے اور جب کوئی مجرم اس کے دروازے پر آکر تائب ہوجاتا ہے تو پھر اس کی رحمت و بخشش بھی بڑی وسیع ہے اور وہ معاف کردیتا ہے۔ اگر اس کی بخشش اور معافی نہ ہوتی تو لوگوں کے کفر ، شرک اور معاصی کی وجہ سے دنیا یکدم ویران ہوجاتی۔ یہ خدا تعالیٰ کی رحمت و بخشش کی وجہ سے ہی کائنات کا نظام قائم ہے وہ اپنے وقت پر عدل و انصاف کے سارے تقاضے پورے کرکے دکھا دے گا۔