34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 34:1–6

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 34:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں کہ اسی کے لئے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور اسی کی تعریف ہے آخرت میں اور وہ حکمتوں والا ہے اور سب چیزوں کی خبر رکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ Open ayah 34:2 in the Quran reader

وہ جانتا ہے جو چیز داخل ہوتی ہے زمین میں اور جو خارج ہوتی ہے اس سے ، اور جو آسمان کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے اور وہ نہایت رحم کرنے والا اور بخشش کرنے والا ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّكُمْ١ۙ عٰلِمِ الْغَیْبِ١ۚ لَا یَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍۗۙ Open ayah 34:3 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا کہ نہیں آئے گی ہمارے پاس قیامت۔ آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں ؟ اور میرے رب کی قسم البتہ ضرور آئے گی وہ تمہارے پاس وہ جاننے والا ہے غائب کا۔ نہیں غائب اس سے ایک ذرہ برارب بھی کوئی چیز نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ، اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی چیز مگر وہ ایک کھلی کتاب میں درج ہے

لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 34:4 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کئے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ Open ayah 34:5 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں عاجز کرنے کے لئے ، یہی لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے

وَ یَرَى الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ یَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ Open ayah 34:6 in the Quran reader

اور دیکھتے ہیں وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے ، وہ چیز جو اتاری گئی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے ، وہ برحق ہے اور وہ راہنمائی کرتی ہے عزیز اور حمید خدا تعالیٰ کے راستے کی طرف

نام اور کوائف اس سورة کا نام سورة سبا ہے جو کہ اس کی آیت۔ 51 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے۔ سبا ایک شخص ، قبیلے ، شہر اور ملک کا نام تھا جس کا ذکر اس سورة مبارکہ کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اس سے پہلے سورة نور سے لے کر سورة سجدہ تک ساری مکی سورتیں تھیں۔ اس کے بعد پچھلی سورة الاحزاب مدنی تھی اور یہ سورة پھر مکی ہے۔ آگے پھر تین سورتیں متواتر مدنی ہیں اور اس کے بعد مکی اور مدنی مخلوط سورتیں آئیں گی۔ اس سورة کی چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں یہ سورة مبارکہ 388 الفاظ اور 2151 حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة مکی دور کے زمانہ وسطیٰ میں سورة لقمان کے بعد نازل ہوئی۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط سابقہ سورة احزاب کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے امانت کی حفاظت کا قانون نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے امانت کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا مگر انہوں نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا اور ڈر گئے مگر انسان نے اس بار امانت کو اٹھا لیا کیونکہ اللہ نے انسان میں حمل امانت کی پوری پوری صلاحیت اور استعداد رکھ دی ہے۔ چونکہ انسان نے ازخود اس بار امانت کو اٹھا لیا ہے لہٰذا اب یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ اس امانت کی حفاظت کرے ، جو شخص اس امانت کا حق ادا نہیں کرے گا یا اس میں سستی کرے گا۔ وہ منافق ہوگا یا مشرک اور سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ البتہ جو شخص اس امانت کو پورے طریقے سے ادا کرے گا وہ کامل درجے کا مومن ہوگا۔ اور خدا کی بخشش و رحمت کا مستحق ہوگا۔ اب اس سورة کے ساتھ ربط یہ ہے کہ اعظم الامانۃ یعنی سب سے بڑی امانت انسان کے پاس توحید خداوندی ہے اگر وہ توحید پر کاربند رہے گا تو گویا اس نے امانت کا حق ادا کردیا اور کفر اور شرک کرے گا تو اس امانت کو ضائع کرنے والا ہوگا۔ چناچہ اس سورة مبارکہ میں توحید کا بطور خاص ذکر آ رہا ہے۔ مضامین سورة مکی سورتوں میں اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید باری تعالیٰ ، رسالت ، وقوع قیامت اور قرآن کی صداقت و حقانیت کا ذکر ہی زیادہ تر آتا ہے۔ اس کے علاوہ اخلاق کی اصلاح اور انسانوں کی تہذیب پر زور دیا گیا ہے۔ توحید کے ساتھ ساتھ اس سورة میں ضمناً شرک کی تردید بھی آگئی ہے۔ قیامت کا انکار کرنے والوں کو مدلل جواب دیا گیا ہے۔ توحید کے عقلی دلائل پیش کئے گئے ہیں اور قرآن حکیم کی صداقت کو واضح کیا گیا ہے۔ اسی طرح رسولوں کی بعثت اور ان کا انکار کرنے والوں کا ذکر بھی آیا ہے۔ سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں شکرگزاری اور ناشکری کا مسئلہ بیان ہوا ہے اور اس ضمن میں حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکرگزاری کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس سورة مبارکہ میں شفاعت کا مسئلہ بھی بیان ہوا ہے۔ مشرک لوگ جبری سفارش کے قائل ہیں جس کی اللہ تعالیٰ نے تردید فرمائی۔ حمد باری تعالیٰ قرآن پاک کی پانچ سورتوں یعنی فاتحہ ، انعام ، کہف ، سبا اور فاطر کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی حمد سے ہوتی ہے۔ ان سورتوں میں دنیوی اور اخروی نعمتوں کا ذکر ہے لہٰذا ان ک یابتدا حمد باری تعالیٰ سے ہوئی ہے۔ خود انسان کا وجود اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ اس جسم کی بقا کے لئے اللہ نے بہت سے سامان مہیا کئے ہیں۔ لہٰذا انسان کو ان سب نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے اور آخرت کی نعمتیں تو خدا کی شکرگزاری اور ایمان کی بدولت ہی نصیب ہوں گی۔ انسان کے لئے جس طرح ہوا ، پانی ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی مطلوب ہیں ، اسی طرح اس کے لئے ہدایت کی بھی ضرورت ہے جو وحی الٰہی ، کتاب ، شریعت یا دین کے پاکیزہ اصولوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرنے کے لئے اس سورة مبارکہ کی ابتداء حمد باری تعالیٰ سے ہو رہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے المد للہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہیں کہ اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کائنات کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے۔ وہی ہر چیز کا خالق ، مدبر اور متصرف ہے۔ ان امور میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ، نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے ، نہ تدبیر کرسکتا ہے اور نہ کس یکو تصرف حاصل ہے۔ جب یہ بات ہے تو مستحق عبادت بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ مشرک لوگ خواہ مخواہ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ اور ان کو نذر و نیاز پیش کر کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ تو دنیوی نعمتوں کا دنیا ہی میں شکریہ ادا ہوا ، فرمایا ولہ الحمد فی الاخرۃ اور آخرت میں بھی اسی کے لئے تعریف ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو جو نعمتیں آخرت میں عطا کرے گا تو وہاں ان نعمتوں کا شکریہ بھی ادا کیا جائے گا۔ جب مومن لوگ خدا کی رحمت کے مقام بہشت میں پہنچ جائیں گے ، انہیں ہر طرح کا آرام و آسائش حاصل ہوگا تو بےاختیار پکار اٹھیں گے الحمد للہ الذی ھدنا لھذا قف و ما کنا لنھتدی لولا ان ھدنا اللہ (الاعراف۔ 34) اس خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ سب تعریفیں اس کے لئے ہیں جس نے ہماری راہنمائی کر کے اس مقام تک پہنچایا۔ اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرتا تو ہم یہاں کیسے پہنچ سکتے تھے۔ جنت میں پہنچ کر اگرچہ حمد وثناء ضروری نہیں ہوگا۔ مگر وہاں پر اہل ایمان بےاختیار اللہ کی تعریف و حمد کے گیت گائیں گے حدیث میں آتا ہے کہ جنت والوں کو خدا تعالیٰ کی تسبیح الہام کی جائے گی اور وہ ان سے اس طرح بےاختیار سرزد ہوگی جس طرح انسان سے سانس بےاختیار سرزد ہوتا رہتا ہے۔ گویا آخرت میں بھی اسی کے لئے حمد و ثنا ہے۔ خدا تعالیٰ کا علم محیط فرمایا و ھوالحکیم الخبیر اور وہ حمتوں والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہیں جن کو انسان نہیں جانتے۔ مخلوق میں سے جس کو جس قدر اللہ کی حمتوں کا علم ہوتا ہے ، وہ اسی قدر حیران ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کس قدر بیشمار حمتیں پوشیدہ ہیں اور اس کا نظام قدرت کس عجیب و غریب طریقے سے چل رہا ہے۔ فرمایا اس کے خبیر ہونے کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ یعلم وما یلج فی الارض وما یخرج منھا وہ زمین میں داخل ہونے والی اور اس سے خارج ہونے والی ہر چیز کو جانتا ہے۔ زمین میں داخل ہونے والی اشیاء میں بارش ، بیج ، کیڑے مکوڑے اور جانور ہیں اس کے علاوہ مردے بھی زمین میں داخل ہوتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے الم نجعل الارض کفاتا (a) احیاء و موالا (a) (سورۃ المرسلت) کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردوں کو پھٹنے والا نہیں نبایا ؟ اسی طرح زمین سے باہر نکلنے والی چیزوں میں پودے درخت ، سبزہ ، کھیتیاں اور پھر مع دنیات میں سونا ، چاندی ، گیس ، پٹرول اور ہر قسم کی دھاتیں ہیں۔ یہ تمام چیزیں انسانی زندگی کی ضروریات میں داخل ہیں اور اللہ نے انہیں زمین سے پیدا کیا ہے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو بھی جانتا ہے وما ینزل من السماء و ما یعرج فیھا جو آسمان کی طرف سے نازل ہوتی ہے اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے۔ آسمان کی طرف سے اترنے والی چیزوں میں بارش ہے ، جس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی کے بغیر نہ کھیتی باڑی ہو سکتی ہے اور نہ پھل پھول اور اناج پیدا ہو سکتا ہے جو کہ انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ خود پانی 1 ؎ خازن ص 182 ج 5 کے بغیر کوئی جاندار زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسانی جسم میں دوڑنے والے خون میں اسی فیصدی پانی کا عنصر ہے ، لہٰذا پانی کا نزول بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے علاوہ وحی الٰہی بھی عالم بالا سے آتی ہے اور قضا و قدر کے فیصلے بھ یاللہ کے فرشتے آسمان کی طرف سے لاتے ہیں۔ پھر آسمان کی طرف چڑھنے والی اشیاء میں انسان کی دعائیں ہیں ، اس کے اعمال میں فرشتے بھی آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بیشمار چیزیں ہیں جو آسمان کی طرف چڑھتی ہیں۔ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے علم محیط کا مالک ہے کہ وہ زمین میں داخل ہونے والی اور اس سے خارج ہونے والی ، نیز آسمان سے نازل ہونے والی اور آسمان کی طرف چڑھنے والی ہر ہر چیز سے باخبر ہے۔ وھوالرحیم الغفور وہ بڑا مہربان اور بخشنے والا ہے ، دنیا کی ساری چہل پہل اس کی مہربانی اور رحمت کا ظہور ہے۔ انسان تو ناحق شناس ہیں جو اس کے انعامات کی قدردانی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بخشش و رحمت کی وجہ سے انسانوں کو بہت سا موقع دیتا ہے ، وگرنہ وہ فوراً گرفت کرلے تو بندے کا کہاں ٹھکانا ہے ؟ وقوع قیامت ارشاد ہوتا ہے و قال الذین کفروا لاتاتینا الساعۃ کافر لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس قیامت نہیں آئے گی۔ مکہ کے مشرک بھی کہتے تھے کہ لات اور غری کی قسم کوئی قیامت نہیں آئے گی نہ کوئی جزائے عمل واقع ہوگا۔ چناچہ جس طرح کافر اور مشرک قیامت کا سختی کے ساتھ انکار کرتے تھے اسی طرح جواب بھی اللہ نے سخت دیا۔ فرمایا قل بلی و ربی لتاتینکم اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کیوں نہیں ، مجھے میرے رب کی قسم قیامت تمہارے پاس ضرور آئے گی۔ تم کیسے انکار کرتے ہو ، اللہ نے نہایت تاکید کے ساتھ فرمایا ہے۔ آگے بھی اسی سورة میں آ رہا ہے کہ تم سمجھتے ہو کہ انسان مر کر مٹی میں مل جاتے ہیں ، ان کے اجسام ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجاتے ہیں تو یہ کیسے دوبارہ جی اٹھیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم قیامت کو بعید سمجھتے ہو حالانکہ یہ بالکل قریب ہے۔ عقیل صاحب باقی رہی یہ بات کہ منتشر ذرات کو اللہ تعالیٰ کیسے اکٹھا کرے گا اور پھر ان کو ویسے ہی جسم کی شکل دے گا ، جیسے وہ مرنے سے پہلے تھا ، تو فرمایا علم الغیب وہ تمام غیب کی چیزوں کو جاننے والا ہے لا یعزب عنہ مقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض آسمان اور زمین میں کوئی ذرہ برابر چیز بھی اس سے غائب نہیں ہے۔ ذرہ چیونٹی کو بھی کہتے ہیں اور روشندان سے اندر آنے والی دھوپ میں جو چھوٹی چھوٹی چیزیں نظر آتی ہیں وہ بھی ذرات کہلاتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اللہ تعالیٰ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے۔ گویا اس کا علم ذرے ذرے پر محیط ہے۔ یہ اس کی صفت خاصہ ہے جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے ، وہ ہر شے پر قادر ہے ، انسانی جسم کے اجزاء جہاں کہیں بھی ہوں گے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ انہیں جمع کرنے پر بھی قادر ہے۔ یہ تمام چیزیں لوح محفوظ یعنی خدائی رجسٹر میں بھی درج ہیں۔ لہٰذا ان کی گمشدگی کا کوئی امکان نہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن سب کو اکٹھا کرلے گا۔ فرمایا ولا اصفس من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین اس سے چھوٹی اور بڑی کوئی بھی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ ہر چیز ایک کھلی کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج ہے۔ قیامت ضرور واقع ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس دن سب چیزوں کو حاضر کرلے گا۔ فرمایا وقوع قیامت اس لئے ضروری ہے لیجزی الذین امنو و عملو الصلحت تاکہ بدلہ دے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دیے۔ اس دنیا میں ہر چیز خلط ملط ہو رہی ہے لہٰذایہاں کسی شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ نہیں مل سکتا۔ یہاں اس دنیا کا قانون تو یہ ہے ایک عدالت فیصلہ کرتی ہے اور اس سے اوپر والی عدالت اس کو کالعدم قرار دیتی ہے پھر اس سے اوپر والی سپریم کورٹ اس فیصلے کو مزید بدل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کسی شخص کو اس کے جرم کی ٹھیک ٹھیک سزا ملی ہے یا نہیں۔ اسی لیے قیامت کا واقع ہونا ضروری ہے تاکہ ہر نیک و بد کا کام بالکل ممتاز ہوجائے اور پھر اس کے مطابق جزا یا سزا کا فیصلہ ہو۔ یہی حتمی اور صحیح فیصلہ ہوگا جہ اللہ کی بارگاہ میں ہوگا اور اسی کے مطابق پورا پورا بدلہ دیا جاسکے گا۔ پھر اہل ایمان اور اعمال صالحہ کے مرتکبین کی جزاء کے متعلق فرمایا اولئک لھم مغفرۃ و رزق کریم کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور باعزت روزی ہوگی۔ بخشش سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کرکے اپنی رحمت کے مقام میں داخل کرے گا۔ جہاں انہیں ہر نعمت بغیر کسی محنت و مشق کے حاصل ہوگی۔ دنیا میں تو رزق حلال حاصل کرنے کے لیے بڑی تگ و دو کرنی پڑتی ہے مگر وہاں کسی کام کاج کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بغیر کسی محنت کے ہر چیز مہیا کرے گا۔ امام سرخسی (رح) نے اپنی کتاب المبسوط میں یہ روایت (المبسوط فیاض) نقل کی ہے ابتغوا الرزق فی خبایا الارض اس دنیا میں زمین کے کونوں سے رزق تلاش کرو یعنی بیشک سفر اختیار کرنا پڑے ، کتنی ہی محنت کی ضرورت ہو حلال راستے سے روزی تلاش کرو مگر آخرت میں اللہ تعالیٰ ہر جنتی کو اس کی خوانہش کے مطابق بغیر کسی مشقت کے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائے گا۔ باعزت روزی سے یہی مراد ہے۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ جنت میں کسی چیز کی کبھی بھی کمی واقع نہیں ہوگی۔ اس دنیا میں تو کئی چیزیں نایاب ہوجاتی ہیں اور بعض میں کمی واقع ہوجاتی ہے مگر وہاں ایسی کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔ وہاں ہر چیز بلاقیمت اور با افراط میسر ہوگی۔ فرمایا والذین سعوا فی ایتنا معجزین جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہماری آیتوں کے بارے میں کہ انہیں نیچا دکھا دیں یعنی قرآن کے پروگرام کو ناکام بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ فرمایا اولئک لھم عذاب من رجزا الیم ایسے لوگوں کے لیے ذلت ناک عذاب ہوگا۔ یہاں تو ایسے بدبختیوں کو پوری سزا نہیں مل سکی ، لہٰذا قیامت کو ان کے جرائم کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ویری الذین اوتو العلم اور جن لوگوں کو علم عطا کیا گیا ہے وہ دیکھتے ہیں الذی انزل الیک من ربک اس چیز کو جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی ہے وہ کتاب الٰہی شریعت اور دین ہے جو بذریعہ وحی آیا ہے وھو الحق وہ ہے بھی برحق ، انسان کو اسی کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے کہ یہی اس کے لیے لائحہ عمل ہے۔ ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے کہ اللہ کا پروگرام دنیا میں غالب ہو کیونکہ فلاح کا دار و مدار اسی پروگرام پر ہے اور یہ ایسا پروگرام ہے ویھدی الی صراط العزیز الحمید جو عزیز اور حمید خدائے برتر کے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ یہ اللہ کی کتاب قرآن پاک ہے جو بالکل سچا ہے اور اسی کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ فرمایا اہل علم پر یہ بات عیاں ہے۔ لہٰذا قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو تسلیم کرلینا چاہئے۔
Ayahs 34:7–9

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ یُّنَبِّئُكُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 34:7 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ، کیا ہم بتلائیں تمہیں ایسا شخص جو تمہیں خبردار کرتا ہے کہ جب تم پارہ پارہ کردیے جائو گے پورے طریقے سے پارہ پارہ کیا جانا تو بیشک تم نئی مخلوق میں ہو گے

اَفْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ فِی الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ Open ayah 34:8 in the Quran reader

اس نے افتراء باندھا ہے اللہ پر جھوٹ یا اس کو جنون ہے۔ (فرمایا یہ بات نہیں) بلکہ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے آخرت پر ، وہ عذاب میں ہوں گے اور گمراہی میں دور پڑے ہوئے

اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۠ Open ayah 34:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں اگر ہم چاہیں تو دھنسا دیں ان کو زمین میں یا ہم گرا دیں ان پر کوئی ٹکڑا آسمان سے۔ بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو رجوع رکھتا ہے خدا تعالیٰ کی طرف

سورة سبا کی ابتداء خدا تعالیٰ کی حمد وثناء سے ہوئی۔ دنیا و آخرت میں اسی کے لیے تعریف ہے۔ اللہ تعالیٰ علیم کل ہے اور وہ ذرے ذرے کو جانتا ہے پھر اللہ نے قیامت کے متعلق فرمایا کہ کافر لوگ پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ میرے رب کی قسم قیامت ضرور وارد ہوگی۔ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے علم میں ہے اور کوئی ذرہ برابر چیز بھی اس سے مخفی نہیں۔ اس کے علاوہ ہر چیز خدائی رجسٹر میں بھی محفوظ ہے۔ لہذا کسی چیز سے صرف نظر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا قیامت کی آمد اس لیے ضروری ہے تاکہ اہل ایمان کو ان کے عقیدے ، نیکی اور اخلاص کا پورا پورا بدلہ مل کسے اللہ نے بھی فرمایا کہ اہل علم لوگ جانتے ہیں کہ آپ کی طرف نازل کردہ کتاب قرآن حکیم برحق ہے جو کہ سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ اللہ نے ان شکوک و شبہات کا بھی رد فرمایا جو کفار و مشرکین توحید ، رسالت ، قرآن اور معاد کے متعلق رکھتے تھے۔ خاص طور پر قیامت کے متعلق زور دے کر کسی کو وہ آئے گی اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگا۔ اب آج کے دور میں بھی اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے متعلق منکرین کے شبہات کو دور کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وقال الذین کفروا اور کفر کا شیوہ اختیار کرنے والوں نے کہا ھل ندلکم علی رجل ینبئکم کیا ہم بتلائیں تمہیں ایک ایسے شخص کے متعلق جو تمہیں خبردار کرتا ہے۔ اذا من ھم کل ممزق کہ جب تم پارہ پارہ اور ریزہ ریزہ ہو جائو گے انکم لفی خلق جدید تو پھر نئی پیدائش میں اٹھائے جائو گے ، یہ وہ اعتراض ہے جو کافر لوگ اسلام کے نظریہ معاد کے متعلق اٹھاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو بطور تمسخر کہتے تھے کہ ذرا اس شخص (حضور علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف دیکھو جس کا دعویٰ ہے کہ جب تم مر کر مٹی میں مل جائو گے ، تمہارے اجسام کے ذرات منتشر ہوجائیں گے تو ایک وقت آئے گا ، جب تمہیں دوسری زندگی عطا کی جائیگی ، وہ بعث بعد الموت کی خبر پر حیرت واستعجاب کا اظہار کرتے تھے کہ ایسا کیونکر ممکن ہوگا۔ انہوں نے تو اپنے ابائو اجداد میں سے کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ جیسا کہ گزشتہ درس میں گزرچکا ہے اللہ نے اس اعتراض کا جواب تو ایک جملے میں دیدیاعلم الغیب لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض کہ اللہ تعالیٰ تمام غیوب کو جاننے والا ہے۔ زمین و آسمان کی ذرہ بھر چیز بھی اس سے مخفی نہیں ہے۔ ہر انسان ، اس کا عقدہ ، اعمال ، اخلاق غرضیکہ ہر چیز اللہ کے ہاں محفوظ ہے لہٰذا اس کے لیے تمام ذرات کو جمع کرکے انسان کمو نئی زندگی دے دینا کون سا مشکل کام ہے ؟ یہ مشکل تو مخلوق میں سے کسی کو پیش آسکتی ہے ، جس کا نہ تو علم ذرے ذرے پر محیط ہو ، اور نہ وہ قدرت رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ تو سمندر کی تہہ اور جانوروں کے پیٹ سے بھی اجزاء کو نکل کر جمع کرلے گا ، لہٰذا کافروں کو بعث بعد الموت کے نظریہ سے تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ پھر اللہ نے وقوع قیامت کی علت بھی بیان کردی کہ ہر شخص کو اپنے عقیدے اور عمل کا پورا پورا بدلہ دینا مقصود ہے جو اس دنیا میں ممکن نہیں یہاں تو نیکی بدی خلط ملط ہوئی ہوتی ہے اور بسا اوقات دنیا میں حق و باطل اور جائز و ناجائز کا امتیاز نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے اکثر مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں۔ اسی طرح بسا اوقات نیکو کار لوگ دنیا میں عسرت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور انہیں ان کی نیکی کا پورا صلہ نہیں ملتا۔ مگر آخرت میں ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی ، نیکی اور بدی میں امتیاز ہوگا۔ مجرم اور بےگناہ الگ الگ ہوجائیں گے تو اس وقت ہر شخص کو اس کی محنت و کاوش اور جرم و گناہ کا پورا پورا بدلہ مل سکے گا۔ بہرحال جب اللہ کا نبی کفار و مشرکین کو وقوع قیامت اور جزائے عمل سے خبردار کرتا تو وہ کہتے افتری علی اللہ کذبا کہ اس نے افتراء باندھا ہے اللہ پر جھوٹ۔ کہتے تھے کہ اللہ کا نبی وقوع قیامت کو اللہ کی طرف غلط طور پر منسوب کرتا ہے (العیاذ باللہ) مگر اللہ نے نبی کو حکم دیان کہ قسم اٹھا کر کہیں کہ قیامت ضرور آنے والی ہے۔ اللہ کا فران ہے وعدا علینا انا کنا فعلین والانبیائ (a) یہ ہمارا پکا وعدہ ہے جسے ہم پورا کرکے رہیں گے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے کہ یہ بات اللہ کے نبی نے کہی ہے۔ حالانکہ وہ نبی کا قول نہیں ہوتا تو ایسا شخص کبیرے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور جو شخص نبی پر افتراء باندھتا ہے وہ اسے حقیر سمجھ کر اس کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے ، لہٰذا وہ کافر ہوجاتا ہے۔ فرمایا کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر افتراء باندھا ہے۔ ام بہ جنۃ یا پھر یہ شخص یعنی اللہ کا نبی معاذ اللہ دیوانہ ہے جو اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے کہ قیامت آنے والی ہے ، سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے ، حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے۔ کہتے تھے لات اور عزیٰ کی قسم نہ کوئی قیامت ہے اور نہ کوئی جزائے عمل کی منزل آئے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں نبی سے بڑھ کر کوئی عقلمند نہیں ہوتا مگر حضور ﷺ تو تمام انبیاء کے بھی سردار ہیں جن کا کوئی قول و فعل خلاف عقل نہیں۔ آپ کو دیوانہ کہنا تو محض ضد ، عناد اور تعصب کی بنا پر ہی ہوسکتا ہے۔ یہ ایسے بدبخت لوگ تھے کہ کبھی آپ کو دیوانہ کہتے ، کبھی شاعر اور کبھی کذاب کہتے ، کفار کا یہ سلوک صرف حضور ﷺ کے ساتھ ہی خاص نہیں تھا کہ لوگوں نے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی ایسے ہی خطاب دیے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ذلیل اور کذاب کہا بعض جادوگر کہتے تھے اور بعض مسحور کہتے تھے یعنی اس پر جادو کا اثر ہوچکا ہے۔ کہتے تھے اس کا کلام جاودو کا اثر رکھتا ہے۔ بہرحال کافروں نے کہا کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے یا پھر یہ مجنون ہے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کافر و مشرک لوگ اپنی بات میں سچے نہیں ہیں۔ یہ وقوع قیامت کا انکار کر رہے ہیں مگر بالاخر یہ پکڑے جائیں گے۔ فرمایا بل الذین لا یومنون بالاخرۃ بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے فی العذاب والضلل البعید وہ سزا کے مسحق ہیں اور وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ جب کوئی شخص دور کی گمراہی میں جا پڑتا ہے تو پھر اس کا راہ راست پر آنا محال ہوجاتا ہے ، وہ اسی کفر ، شرک کی نجاست کے ساتھ ہی دنیا سے جاتا ہے اور لازماً سزا کا مستحق بنتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے افلم یرو الی ما بین ایدیھم وما خلفھم من السماء والارض کیا انہوں نے آسمان و زمین میں نہیں دیکھا جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے ؟ کائنات میں ذرا غور کرو اور پھر بتلائو کیا یہ کسی انسان کا پیدا کردہ ہے یا کسی لات اور عزیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ سورة العنکبوت میں ہے ولمن سالتھم من خلق السموت والارض وسخر الشمس والقمر لیقولن اللہ (آیت 61) ذرا کفار و مشرکین سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کئے ہیں اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے تو وہ جواب دیں گے کہ ہر چیز اللہ ہی نے پیدا کی ہے اور وہ ہی ہر چیز کا متصرف ہے۔ جب ہر چیز کا خالق ، مالک اور مدبر اور متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر یہ غیروں کو اس کے ساتھ کیوں شریک بناتے ہیں۔ یہ تو بڑی حماقت کی بات ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (حجتہ اللہ البالغہ (ص 59 ج 1 فیاض) فرماتے ہیں کہ توحید کے چار درجات ہیں جن میں سے دو درجات تو متفق علیہ ہیں اور دو میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود خودبخود ہے کسی کا عطا کردہ نہیں۔ لفظ اللہ اور خدا ہی مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس میں کسی مذہب و ملت والے کو اختلاف نہیں۔ دوسرا درجہ خلق کا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے اس کے خالق ہونے میں بھی کسی کو اختلاف نہیں۔ البتہ دوسرے دو درجوں یعنی تدبر اور عبادت میں آکر دو گروہ بن جاتے ہیں۔ اہل ایمان مدبر بھی صرف اللہ کو مانتے ہیں یعنی ہر کام کی تدبیر وہ خود کرتا ہے اور اس ضمن میں اسے کسی دوسرے کی معاونت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ برخلاف اس کے مشرک لوگ دوسروں کو بھی مدبر مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے بھی کچھ نہ کچھ تدبیر کرتے ہیں۔ چناچہ بعض ستاروں کو مدبر مانتے ہیں اور بعض شجر و حجر کو ، بعض مخلوق کی جبری سفارش کے قائل ہیں کہ خدا تعالیٰ راضی ہو یا ناراض یہ سفارش کرکے ہمیں عذاب سے بچالیں گے۔ یہ بھی باطل عقیدہ ہے ، پھر چوتھا درجہ عبادت کا ہے۔ ایمان والے عبادت بھی صرف اللہ کی کرتے ہیں جب کہ مشرک لوگ دوسروں کی نذر و نیاز بھی دیتے ہیں ان کے نام کا چڑھاوا چڑھاتے ہیں اور ان کو سجدہ کرتے ہیں۔ بعض لوگ شمس و قمر کے سامنے سجدہ ریز ہزو جاتے ہیں۔ بعض شجر و حجر کو معبود مانتے ہیں اور بعض بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ غرضیکہ اس درجہ میں بھی مومن اور مشرک الگ الگ ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ کائنات کا خالق ، مالک ، مدبر اور متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہے ، کیا یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں دیکھتے۔ اس کے باوجود اگر یہ لوگ شرک سے باز نہیں آتے تو فرمایا ان نشاء نخف بھم الارض اگر ہم چاہیں تو سزا کے طور پر انہیں زمین میں دھنسا دیں۔ دنیا میں خسف کے واقعات مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ اللہ نے کئی قوموں کو یہی سزا دی۔ قارون کا واقعہ تو قرآن پاک میں موجود ہے کہ اللہ نے اس کو اس کے گھر اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ سورة القصص میں موجود ہے فخسفنا بہ وبدار الارض (آیت 81) اس قسم کے واقعات اب بھی کہیں کہیں نظر آتے ہے۔ 1923 میں جاپان میں زبردست زلزلہ آیا تھا جس میں ڈیڑھ لاکھ آدمی زمین میں دھنس گئے تھے۔ ابھی بیس سال پہلے کی بارہ ہزار کی پوری بستی زمین میں دھنس گئی تھی۔ 1935 میں کوئٹہ کا واقعہ بھی ایسا ہی تھا جس میں زمین میں بڑی بڑی دراڑیں پڑگئی تھیں اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بھ گئے تھے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو ایسے ناہنجاروں کو زمین میں دھنسا دیں۔ اونسقط علیہم کسفا من السماء یا اگر چاہیں تو ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔ کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے کسی علاقہ میں شہاب گرا تھا جس میں سے آگ برستی تھی۔ اس حادثہ میں چار پانچ سو آدمی ہلاک ہوگئے تھے۔ قوم لوط پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہوئی تھی اور ان کی پوری بستی بھی الٹ دی گئی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ایسی سزا دینے پر بھی قادر ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب بیشک اس میں انشانی ہے خدا کی طرف رجوع رکھنے والے ہر بندے کے لیے۔ جس شخص کے دل میں ایمان کی ذرا سیش رمق بھی باقی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنان مرجع و ماویٰ سمجھتا ہے وہ جان لے گا کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور علیم کل ہے۔ اس کے انبیاء اور کتابیں برحق ہیں۔ وقوع قیامت برحق ہے۔ اور جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سزا دینے پر بھی قادر ہے ، بلاشبہ ایسے شخص کے لئے جگہ جگہ نشانات قدرت پھیلے ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر وہ ایمان کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرسکتا ہے۔ البتہ جس شخص کے دل میں غرور وتکبر ہے اور جو کفر و شرک سے پاک نہیں اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی اور وہ اسی طرح اندھیروں میں سرگرداں پھرتا رہے گا۔
Ayahs 34:10–11

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا١ؕ یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ١ۚ وَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَۙ Open ayah 34:10 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق دی ہم نے دائود (علیہم السلام) کو اپنی طرف سے بڑی فضیلت (اور ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو ! لوٹائو اس کے ساتھ اپنی آواز کو اور پرندوں کو بھی (ہم نے مسخر کردیا اس کے لیے) اور ہم نے نرم کردیا اس کے لیے لوہے کو

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 34:11 in the Quran reader

اور ہم نے کہا کہ بنائو (کامل درجے کی) زباں اور اندازہ ٹھہرائو کڑیاں جوڑنے میں اور عمل کرو نیک ، بیشک میں جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کو دیکھنے والا ہوں

دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد کا ہی ذکر ہے یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم کی حقانیت و صداقت ، خاص طور پر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بھی اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ گزشتہ درس میں توحید کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا : ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب کہ بیشک ان چیزوں میں رجوع الی اللہ رکھنے والے بندے کے لئے نشانی ہے۔ سورة الزمر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانبیو الی ربکم واسلموا لہ (آیت 54) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرو۔ اس ضمن میں آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف رجوع رکھنے والے ، اپنے دو بندوں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا ہے اور ان کو انابت الی اللہ رکھنے والے بندوں میں بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ اللہ نے دونوں باپ بیٹا کو بڑی فضیلت عطا فرمائی ای (بےمثال حکومت دی) اس کے باوصف ان میں کمال درجے کی انابت پائی جاتی تھی۔ دائود (علیہ السلام) کے فضائل ارشاد ہوتا ہے ولقد اتینا دائود منا فضلا اور البتہ تحقیق ہم نے دائود (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے بڑی فضیلت عطا فرمائی۔ آپ صاحب شریعت نبی ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتاب زبور بھی عطا فرمائی جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا واتینا دائود زبورا (آیت 55) فرمایا یدا ودانا جعلنک خلیقۃ فی الارض (ص 26) اے دائود (علیہ السلام) ! ہم نے آپ کو زمین میں خلافت عطا فرمائی تاکہ تم لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لو۔ نبوت بجائے خود بہت بڑی فضیلتت ہے کہ انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی فضیلت نہیں۔ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر سورة الانبیاء اور نمل میں آچکا ہے اور آگے سورة ص میں بھی آرہا ہے جہاں اللہ نے ان کی فضیلت اور برتری کو بیان کیا ہے۔ رسول اور خلیفہ ہونے کے باوجود آپ کمال درجے کے عبادت گزار بھی تھے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کان عبد البشر آپ اپنے دور کے سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ یہ بہت بڑی سعادت ہے جس کو نصیب ہوجائے۔ ہماری امت کے لوگ اگر دو دن چھوڑ کر ہی روزہ رکھ لیں تو بہت بڑی بات ہے مگر دائود (علیہ السلام) ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے تھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو جو کتاب زبور عطا کی گئی اس میں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ہے۔ آپ اس کتاب کی تلاوت نہایت خوش الحانی سے کرتے حتی کہ آپ کی آواز سن کر پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تلاوت میں شریک ہوجاتے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کو کتاب الٰہی کی تلاوت کا اس قدر ذوق و شوق تھا کہ آپ اپنے خادم کو اصطبل سے گھوڑا لانے کا حکم دیتے اور جب تک گھوڑا پیش کیا جاتا آپ پوری زبور کی تلاوت مکمل کرلیتے۔ آپ کی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی بڑے خوش الحان تھے۔ آپ رات کو قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔ حضور ﷺ نے یہ آواز سنی تو فرمایا (ابن کثیر ص 526 ج 3 و قرطبی ص 265 ص 14 فیاض) لقد اوتی من ما را من مزامیہ دائود یعنی اللہ نے تمہیں دائودی گلا عطا فرمایا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ تیری تلاوت کو سنتا رہوں۔ خوش الحانی خدا تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جسے عطا ہوجائے یہ غیر اختیاری چیز ہے مگر جسے مل جائے اسے خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اس کو اچھے مصرف میں لانا چاہئے۔ اس آواز کے ساتھ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن پاک کی تلاوت کرے مگر افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ خوش الحانی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں اور فلمی اور غیر فلمی گانے گا کر اس نعمت خداوندی کی ناشکری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اکثر عشقیہ اور غیر اخلاق اشعار پڑھے جاتے ہیں جو بالاخر انسان کے لیے وبال جان بن جاتے ہیں۔ بہرحال جب حضرت دائود (علیہ السلام) اپنی میٹھی اور پرسوز آواز میں تلاوت فرماتے تو اردگرد کے پہاڑ ، شجر و حجر اور پرندے بھی آپ کے ہمنوا ہوجاتے ، یہ کوئی مبالغے کی بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو بھی آپ کے تابع کردیا تھا اور خرق عادت کے طور پر ان سے بھی ویسی ہی آواز نکلتی تھی ، جیسے آپ تلاوت فرماتے تھے۔ سورة نمل میں ہے۔ علمنا منطق الطیر (آیت 16) اللہ نے دونوں باپ بیٹے کو پرندوں کی بولیاں بھی سکھا دی تھیں اور آپ کے تابع بھی کردیے تھے۔ وہ بھی آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملانے پر مجبور ہوجاتے تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ عادت کے خلاف کسی چیز کو پیغمبر کے تابع کردے یا کوئی دیگر خرق عادت واقعہ نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو یہ معجزہ کہلاتا ہے اور یہی چیز اگر ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو کرامت کہلاتی ہے۔ معجزہ اور کرامت انسان کا اپنا فعل نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ کا فعل ہوتا ہے جسے جب چاہے اور جہاں چاہے ظاہر کردیتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ (المومن 78) کسی نبی اور رسول کے لائق نہیں ہے کہ وہ اذن الٰہی کے بغیر کوئی نشانی پیش کرسکے۔ ہاں اگر ایسی ہی کوئی خرق عادت چیز کافر ، مشرک یا نافرمان کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو وہ استدراج کہلاتا ہے یعنی ایسے شخص کو بغاوت کی مہلت ملتی رہتی ہے۔ پھر جب وہ مہلت پوری ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت آجاتی ہے قرب قیامت کے واقعات میں دجال کا ذکر بھی آتا ہے جو خدائی دعویٰ کرے گا اور اس کے ہاتھ پر بڑے بڑے عجیب و غریب واقعات پیش آئیں گے جنہیں دیکھ کر لوگ دنگ رہ جائیں گے اور اس طرح وہ اکثریت کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگا ، مگر یہ سب استدراج ہوگا جو مقررہ وقت پر ختم ہوجائے گا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی خوش الحانی کا ذکر ہو رہا تھا۔ اس مقام پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دیا یجبال اوبی معہ والطیر اے پہاڑو حضرت دائود (علیہ السلام) کی آواز کے ساتھ اپنی آواز کو لوٹائو ، یعنی ان کے ساتھ حمد باری تعالیٰ میں شریک ہو جائو اور ہم نے پرندوں کو بھی آپ کے لیے مسخر کردیا ، وہ بھی آپ کے ساتھ نغمہ سرائی کرتے تھے ، یہ بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو معجزہ عطا فرمایا تھا۔ پہاڑ اور پرندے واقعی آپ کے ساتھ ہمنوا ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے تھے۔ پرویز اور سرسید قسم کے گمراہ لوگوں نے معجزات کا انکار کیا ہے اور قرآن پاک میں جہاں جہاں بھی معجزات کا ذکر آیا ہے ، انہوں نے الٹی سیدھی تاویلیں کی ہیں۔ مثلاً یہی تسخیر طیور کے متعلق ایسے لوگ کہتے ہیں کہ طیور سے مراد جنگلی آدمی ہیں نہ کہ پرندے ، پرویز نے تو اللہ کا معنی قانون اور عالم کا معنی سائنسدان کیا ہے۔ قرآن پاک میں آتا ہے انما یخشی اللہ من عبادہ والعموا (فاطر 28) اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی خوف کھاتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ پرویز کے نٓزدیک علماء سے مراد قرآن و سنت اور حدیث و فقہ کے علماء نہیں بلکہ سائنسدان ہیں۔ خواہ وہ ملحد اور دہریہ ہوں یا ہندو اور سکھ ہوں۔ اسی طرح اس نے حورعین کا معنی پاکیزہ فکر کیا ہے اور اہل کا معنی اونٹ کی بجائے بادل کیا ہے۔ بہرحال یہ لوگ تو معجزات کے منکر ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات پر معجزات کا ذکر کیا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے تھے۔ پہلے پہاڑوں اور پرندوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اگے اللہ نے تیسری چیز لوہے کا ذکر فرمایا ہے۔ والنا لہ الحدید اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نرم کردیا۔ اللہ کے کارخانہ قدرت میں لوہا ایک اہم چیز ہے۔ اس کے نام پر قرآن پاک میں ایک مستقل سورة الحدید بھی ہے جس میں اللہ نے فرمایا ہے وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس (آیت 25) اور ہم نے لوہا اتارا ، اس میں سخت لڑائی کا سامان ہے اور لوگوں کے لیے اور بہت سے فائدے ہیں۔ لوہا ابتدائے زمانہ سے ہی کارآمد دھات کے طور پر استعمال ہوتا چلا آرہا ہے ، چناچہ حضرت ادریس (علیہ السلام) نے اس سے سوئی تیار کی جس سے آپ نے کپڑے سینے کا آغاز کیا۔ اس قریبی زمانہ میں موجودہ دور تو ایٹمی دور کہلاتا ہے جب کہ پچھلی صدی کو لوہے کا دور (Iron Age) کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں لوہے سے بڑا کام لیا گیا اور بڑی مشینری تیار کی گئی جس کے ذریعے دنیا میں صنعتی انقلاب آیا اور آلات حرب و ضرب میں بھی بہت زیادہ ترقی ہوئی۔ آج چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر دیو ہیکل مشین ، ٹینک ، ہوائی جہاز ، بحری جہاز اور ریل گاڑیاں لوہے کی مرہون منت ہیں۔ لوہا ایک سخت دھات ہے جسے تیز آگ میں ہی نرم کیا جاسکتا ہے مگر اللہ نے اس کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر معجزانہ طور پر نرم کردیا تھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آپ کے لیے لوہا آٹے یا موم کی مانند تھا جس کو بغیر گرم کیے جس طرف چاہتے توڑ موڑ کر اس سے اشیاء بنا لیتے۔ لوہے سے کام لینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ان اعمل سبغت آپ اس سے زریں بنائیں۔ وہی لوہے کی قمیض جو دوران جنگ میں بچائو کے لیے پہن لی جاتی ہے۔ یہ چیز لوہے کی چھوٹی موٹی کڑیوں کو ملا کر تیار کی جاتی ہے ، سابقہ زمانے میں ذرہ انسانی جسم کی حفاظت کا ایک موثر ذریعہ تھی۔ اب زمانہ ترقی کرگیا اور جنگی ہتھیار کے طور پر بڑے بڑے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں ایجاد ہوچکی ہیں۔ بہرحال اللہ نے آپ کو زرہیں بنانے کا حکم دیا۔ امام بغوی (رح) (معالم التنزیل ص 187 ج 3 فیاض) نے اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) خلیفۃ اللہ تھے۔ آپ بھیس بدل کر عام شہریوں میں گھل مل جاتے اور پھر ان سے پوچھتے کہ تمہارا خلیفہ کیسا ہے۔ اکثر لوگ آپ کی تعریف کرتے کہ بڑا نیک اور عادل حکمران ہے۔ ایک موقع پر اسی طرح آپ نے کسی شخص سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ ہمارا خلیفہ تو بڑا اچھا ہے ، صرف ایک ہی نقص ہے کہ وہ ذاتی اخراجات کے لیے بیت المال سے وظیفہ لیتا ہے۔ یہ سن کر آپ سخت پریشان ہوئے کیونکہ آپ واقعی اپنے بال بچوں کے اخراجات بیت المال سے پورے کرتے تھے۔ اگرچہ حاکم کے لیے بیت المال سے خرچہ لینا ناجائز نہیں ہے مگر آپ نے اسے تقویٰ کے خلاف تصور کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مولا کریم کوئی ایسا سبب پیدا کردے کہ میرے ماتھے سے یہ داغ بھی دھل جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہم نے تمہارے لیے لوہے کو نرم کردیا ہے اس کی کڑیاں جوڑ کر زرہیں بنائو اور انہیں بیچ کر اپنے اور اہل خانہ کے اخراجات پورے کرلیا کرو۔ حدیث شریف (قرطبی ص 267 ج 4) میں آتا ہے کہ انسان کے لیے بہتر روزی وہ ہے جو وہ اپنے ہاتھ سے کماتا ہے اور اللہ کے نبی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ ہاتھ کی کمائی سے مراد صرف مزدوری یا صنعت و حرفت ہی نہیں بلکہ محنت کا ہر کام مراد ہے۔ جس میں کاشتکاری ، ملازمت ، تعلیم وغیرہ بھی آجاتے ہیں جو شخص ہاتھ کی بجائے دماغی کام کرتا ہے۔ ذہن کے ذریعے سوچتا سمجھتا اور منصوبہ سازی کرتا ہے وہ بھی اس مد میں آتا ہے مطلب یہ کہ جو آدمی اپنے ظاہری اور باطنی قویٰ کو استعمال میں لاکر کوئی کام کرتا ہے وہ ہاتھ کی کمائی والوں میں شامل ہے اور اللہ کے نبی نے اسے بہتر روزی قرار دیا ہے۔ تفسیری روایات (درمنشور ص 226 ج 5) میں آتا ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی تیار کردہ زرہ اتنی عمدہ ہوتی تھی کہ چھ چھ ہزار درہم قیمت پاتی تھی۔ آپ اس میں سے چار ہزار درہم صدقہ کردیتے اور دو ہزار درہم گھر میں استعمال کرلیتے۔ اسلامی تاریخ میں بعض ایسی ہستیوں کا ذکر ملتا ہے جو بیت المال سے وظیفہ نہیں لیتے تھے بلکہ خود ہاتھ کی کمائی سے اخراجات پورے کرتے تھے۔ ہندوستان میں آخری دور کے سب سے بڑے حکمران اور نگ زیب عالمگیر کتابت کرکے اپنے لیے روزی کماتے تھے۔ اسی طرح ناصر الدین تمش (رح) ہرات سے برما تک کی سلطنت کے مالک تھے مگر اپنے ہاتھ کی کمائی سے گزر اوقات کرتے تھے۔ بعض دوسرے حضرات بھی کوشش کرتے تھے کہ بیت المال پر بوجھ نہ ڈالیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو افضل ہے ، ورنہ بیت المال سے حسب ضرورت لے لینا جائز ہے۔ پیشہ وری ایک دوسرا مسئلہ پیشہ وری کا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام قائم کر رکھا ہے کہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے مختلف لوگ مختلف پیشے اختیار کرتے ہیں۔ کوئی لوہے کا کام کرتا ہے تو کوئی لکڑی کا ، کوئی برتن بناتا ہے تو کوئی کپڑا بنتا ہے ، کوئی رنگ ساز ہے تو کوئی جوتا سازی کرتا ہے ، ہاتھ سے کوئی بھی جائز کام کیا جائے ، معیوب نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہندوئوں کی طرف سے آنے والی ذات پات نے بعض پیشوں کو حقیر بنا دیا ہے جو کہ غلط ہے۔ کام کوئی بھی کرتا ہو انسان کا اخلاق اور کردار اچھا ہونا چاہئے ، دین دار ہو ، برائی سے بچنے والا اور نیکی کرنے والا ہو۔ ہر جائز پیشہ درست ہے۔ خود حضور ﷺ نے تجارت بھی کی ہے اور بکریاں بھی چرائی ہیں۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ ادرس (علیہ السلام) مشین اور سوئی بناتے تھے ، الغرض ! محض پیشے کی بناء پر کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔ اور نہ ہی کوئی پیشے کی بناء پر زیادہ باعزت ہوتا ہے بلکہ عزت کا اصل معیار تقویٰ ہے۔ اعتدال پسندی اللہ نے فرمایا کہ لوہے سے زرہیں بنائو وقدر فی السرد اور کڑیوں کے جوڑنے میں اندازہ ٹھہرائو۔ زرہ سازی میں کڑیوں کی موٹائی اور لمبائی کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے اور ان کو جوڑتے وقت تناسب کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ اس کام کو اندازے کے مطابق ٹھیک ٹھیک انجام دو ۔ مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں (بیان القرآن ، فیاض) کہ کسی بھی کام کے کرنے میں وقت کا انضباط بھی بڑا ضروری ہے۔ ہر کام کی نوعیت کے پیش نظر اس کے لیے وقت مقرر کرنا چاہئے۔ کسی ایک کام میں اندازے سے زیادہ وقت لگنے کی صورت میں دوسرا کام متاثر ہوسکتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان اپنا سارا وقت کاروبار اور کھیل تماشے میں لگا دے اور اللہ کی عبادت کے لیے وقت ہی نہ نکال سکے ، آخرت کی فکر ہی نہ کرسکے۔ فرمایا ہر کام کو اندازے کے مطابق کرو واعلموا صالحا اور اچھے کام کرو۔ برے افعال سے اجتناب کرو۔ یہ خطاب اگرچہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے لیے ہے مگر پوری نوع انسانی کے لیے یہی حکم ہے کہ نیکی کا راستہ اختیار کرو اور برائی سے بچ جائو۔ فرمایا انی بما تعلمون بصیر میں تمہارے ہر کام کو دیکھ رہا ہوں میں جانتا ہوں کہ تم کون سا کام کس خلوص اور نیت کے ساتھ کر رہے ہو۔ میں اسی کے مطابق بدلہ بھی عطا کروں گا۔