Ayahs 34:12–13حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر کئی ایک سورتوں میں آیا ہے اس سے پہلے سورة نمل میں آپ کا تذکرہ تھا ، اب یہاں آرہا ہے اور آگے سورة ص میں بھی آئے گا۔ یہ دونوں باپ بیٹا اللہ کے جلیل القدر اور صاحب کتاب پیغمبر تھے اس سورة میں پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان فرمائے اور آخر میں فرمایا ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب کہ اس میں اللہ کی طرف رجوع رکھنے والے ہر بندے کے لیے نشانی ہے اللہ نے عبد منیب کے طور پر پہلے دائود (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور اب ان کے فرزند ارجمند حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹوں میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سب سے چھوٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ میں وہ صلاحیت اور استعداد رکھی تھی جو دوسرے کسی بیٹے میں نہیں تھی۔ چناچہ دائود (علیہ السلام) کے بعد مسند خلافت پر بھی سلیمان (علیہ السلام) ہی متمکن ہوئے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وورث سلیمن دائود (النمل 16) ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو دائود (علیہ السلام) کا خلافت میں وارث بنایا گویا سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کے باپ کی طرح نبوت و رسالت بھی عطا فرمائی اور خلافت و نیابت بھی آپ نے تیرہ سال کی عمر میں عنان حکومت سنبھالا اور چالیس سال تک بےمثال حکومت کی۔ آگے سورة ص میں آرہا ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی تھی پروردگار ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی (آیت 35) مولا کریم مجھے ایسی حکومت نصیب فرما جو میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو ، آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ نے آپ کو بےمثال حکومت عطا فرمائی۔ آپ نہ صرف انسانوں کے حکمران تھے بلکہ اللہ نے جنوں اور پرندوں کو بھی آپ کے تابع کردیا تھا آپ کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا تھا جو آپ کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتی تھی۔
مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ دنیا میں چار شخصیتوں کو تقریباً پوری دنیا پر غلبہ حاصل رہا ہے۔ ان میں سے دو ہستیاں اہل ایمان میں سے ہیں یعنی سکندر ذوالقرنین اور سلیمان علیہ اسلام اور دو کافروں میں سے ہیں۔ ایک بابل کا بادشاہ بخت نصر اور دوسرا آشوریوں کا بادشاہ نمرود۔ ان میں سے سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت سب سے ممتاز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو وسائل حکومت عطا فرمائے تھے ان کا تھوڑا سا تذکرہ آج کے درس میں آرہا ہے۔
ہوا کی تسخیر
ارشاد ہوتا ہے ولسلیمن الریح ہم نے سلیمان علیہ اسلام کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا۔ ہوا ایک ایسی ضروری چیز ہے جس پر ہر جاندار بلکہ نباتات کی زندگی کا انحصار بھی ہے۔ یونانی دور میں ہوا کو بسیط مانا جاتا تھا لیکن بعد کی تحقیق کے مطابق ہوا مرکب ہے ، اس میں آکسیجن ، نائٹروجن اور ہائیڈروجن وغیرہ گیسیں ملی ہوئی ہیں۔ ہوا کا سب سے ضروری عنصر آکسیجن ہے جو ہر سانس کے ساتھ ہر جاندار کے اندر جاتا ہے اس کے ذریعے جاندار کا خون صاف ہوتا رہتا ہے۔ درخت دن کے وقت پتوں کے ذریعے آکسیجن کھینچتے رہتے ہیں اور رات کو کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس باہر نکالتے ہیں۔ آکسیجن ہوا کا لطیف ترین حصہ ہے جس پر زندگی کا انحصار ہے۔ اگر پانچ منٹ کے لیے بھی سانس رک جائے تو کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا۔ چونکہ یہ اس قدر ضروری چیز ہے ، اس لیے اللہ نے اسے بالکل فری مہیا کیا ہے ، ہوا پر کسی طاقت کی اجارہ داری نہیں اور یہ ہر ایک کو بلا محنت اور قیمت میسر ہے ، ہوا کے بعد دوسری ضروری چیز پانی ہے ، یہ بھی فری ہونا چاہئے اور ہر حکومت کو بلاٹیکس پانی کی بہم رسانی کا انتظام کرنا چاہئے۔ اس کے بعد خوراک کا نمبر آتا ہے جو انسان محنت کرکے حاصل کرتے ہیں۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا ، آپ نے جب کہیں دور درازا کے سفر پر جانا ہوتا آپ اپنا تخت ہوا پر بچھا دیتے ، اس پر خود بھی بیٹھ جاتے اور دیگر درباریوں اور شکریوں کو بھی بٹھا لیتے اور پھر حکم دیتے۔ تو ہوا آپ کو اٹھا کر منزل مقصود تک لے جاتی اس ہوا کی رفتار کا عالم تھا غدوھا شھر جب وہ صبح کے وقت چلتی تو دن کے تھوڑے سے حصے میں مہینے بھر کا سفر طے کرلیتی۔ ورواحھا شھر اور اس کا پچھلا پہر بھی ایک ماہ کی مسافت طے کرلیتا۔ مطلب یہ کہ عام سواری گھوڑے ، اونٹ وغیرہ پہ کوئی شخص جتنا سفر دن کے پہلے حصے میں یا پچھلے حصے میں طے کرسکتا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) اتنے عرصہ میں مہینہ بھر کی مسافت طے کرلیتے۔
اس وقت تو تیز رفتاری کی یہ صورت بغیر آلات کے معجزانہ طور پر پیش آتی تھی تاہم اس زمانہ میں جتنی بھی تیز رفتار سواریاں ہیں وہ بھی ہوا ہی کی مرہون منت ہیں آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ زمانے کی تیز ترین سواری ہوائی جہاز ہے جو کہ ہوا میں تیر رہا ہے ، تاہم اب ہوا کو آلات کے ذریعے مسخر کیا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز کے علاوہ پٹرول ، ڈیزل اور کوئلہ وغیرہ سے چلنے والی تمام گاڑیاں اسی اصول کے تحت چلتی ہیں۔ گاڑی میں ایندھن جل کر سٹیم پیدا کرتا ہے جو کہ ہوا ہی کی ایک قسم ہے اور وہ سٹیم گاڑی کو دوڑاتا پھرتا ہے۔ بہرحال ہوا کی تسخیر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی تھی اور آپ اس سے بڑے بڑے کام لیتے تھے ، آج تو ہوائی جہاز یا سڑکوں اور پانی میں چلنے والی گاڑیوں کو ہر آن حادثہ پیش آجانے کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے مگر سلیمان (علیہ السلام) کی ہوا کے دوش پر چلنے والی گاڑی کو ایسا کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوتا تھا۔ آپ جہاں چاہتے بلا خوف و خطر ہوا کے کندھے پر سوار ہو کر پہنچ جاتے۔ یہ آپ کی اس دعا کی قبولیت کا نتیجہ تھا کہ پروردگار ! مجھے ایسی حکومت نصیب فرما جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔ بظاہر ہوا ایک کمزور سی چیز ہے جس کے متعلق سعدی صاحب نے کہا ہے :
برآب نہا دست زندگی برباد اے من غلام آں کہ دل برد نہ نہاد
جہان کی بنیاد تو خدا تعالیٰ نے پانی پر رکھی ہے کہ کرئہ ارض کے اردگرد پانی احاطہ کئے ہوئے ہے مگر زندگی کی بنیاد اللہ نے ہوا پر رکھی ہے انسانی زندگی کی یہ بنیاد بڑی کمزور ہے تھوڑی دیر کے لیے سانس رک جائے تو زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ کرئہ ارض کے ارد گرد پانچ سو میل تک ہوا محیط ہے۔ اگر ہوا کا یہ احاطہ نہ ہو تو اوپر سے آنے والے کروڑوں شہاب زمین پر گر کر اسے تباہ و برباد کردیں اور انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ ہوا کا احاطہ ہے جہ شہاب کے زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے ، کوئی پندرہ بیس سال پہلے کی بات ہے کہ ایک شہاب امریکہ کے کسی علاقے پر گرا تھا جس سے مکانات کو آگ لگ گئی اور سینکڑوں جانیں تلف ہوگئیں تھیں۔
تانبے کا چشمہ
فرمایا ایک توع ہم نے ہوا کو سلیمان کے لیے مسخر کردیا اور دوسری چیز یہ کہ واسلنا لہ عین القطر ہم نے آپ کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا تانبہ ایک مفید اور قیمتی دھات ہے ، ابھی کچھ عرصہ پہلے تک اس کے بڑے بڑے برتن بنائے جاتے تھے۔ یہ دھات بجلی کی تاروں میں خاص طور پر استعمال ہوتی ہے کیونکہ یہ بجلی کی منتقلی میں بہترین تار ثابت ہوئی ہے۔ جس طرح اللہ نے دائود (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ بغیر تپائے اس سے زرہیں وغیرہ بناتے تھے ، اسی طرح سلیمان (علیہ السلام) کے لیے اللہ نے تانبے کے چشمے جاری کردیے تھے۔ وہاں سے تانبہ نکال کر آپ ظروف بناتے تھے۔ اب بھی صنعت و حرفت میں تانبے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
جنات کی تسخیر
ہوا اور تانبے کی تسخیر کے علاوہ اللہ نے فرمایا ومن الجن اور ہم نے جنات کو بھی سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا تھا من یعمل بین یدیہ باذن ربہ یہ جنات اپنے پروردگار کے حکم سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے کام کرتے تھے ، جنات سے مرات وہی غیر مرئی مخلوق ہے جو انسانوں کی طرح مکلف ہے مگر درجے میں ان سے کم تر ہے۔ جنات کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں جنہیں وہ حسب منشا تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ ان کی تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے ہوئی جبھی تو انہی کے ایک فرد ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بہکایا جنوں کے بھی انسانوں کی طرح خاندان ہوتے ہیں۔ یہ کاروبار کرتے ہیں۔ انسانوں کی طرح ان میں بعض مومن اور بعض کافر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ نے سورة جن میں ان کا اپنا بیان نقل فرمایا ہے وانا منا المسلمون ومنا القسطون (آیت 14) ہم میں سے بعض فرمانبردار ہیں اور بعض نافرمان۔
شاہ رفیع الدین (رح) فرماتے ہیں کہ انسان اور جن مکلف مخلوق ہے۔ اسی لئے تو اللہ نے سورة الرحمن میں دونوں انواع کو خطاب فرمایا یمعشر الجن والانس اے جنوں اور انسانوں کے گروہ اگر تمہیں قدرت ہو تو آسمان و زمین کے کناروں سے نکل جائو۔ جن کے نام سے ایک مستقل سورة بھی ہے جس میں جنوں کے قرآن سننے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسانوں کی طرح جن بھی غور و فکر کرتے ہیں اور روز مرہ کی زندگی میں آلات استعمال کرتے ہیں۔ البتہ انسان خاکی ہیں اور جنات ناری ، انسان کی تخلیق میں مٹی کو زیادہ دخل ہے ، جب کہ جنوں کی تخلیق میں ہوا اور آگ کا عنصر غالب ہے۔
فرمایا جنات اپنے پروردگار کے حکم سے سلیمان (علیہ السلام) کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ومن یزع منھم پھر ان میں سے جو کوئی کجی یا سرکشی اختیار کرتا تھا عن امرنا ہمارے حکم سے نذفہ من عذاب السعیر تو ہم انہیں آگ کا عذاب چکھاتے تھے۔ مطلب یہ کہ اللہ نے جنات کو سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت پر مامور کر رکھا تھا۔ آپ جو بھی کام ان کو بتاتے وہ کرنے پر مجبور ہوتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی جن حکم عدولی کی کوشش کرتا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر آگ کے کوڑے برسائے جاتے۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض کاموں کا ذکر فرمایا ہے جو جنات سلیمان (علیہ السلام) کے حکم پر انجام دیتے تھے ، ارشاد ہوتا ہے یعلمون لہ ما یشاء من لحاریب جناب سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کی حسب منشاء کام کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کام قلعوں کی تعمیر تھا۔ محاریب محراب کی جمع ہے۔ ہمارے ہاں تو محراب مسجد کے اس حصے کو کہا جاتا ہے جہاں پر امام کھڑا ہوتا ہے مگر یہ اس لفظ کا صحیح مفہوم نہیں ہے کیونکہ ابتدائے اسلام میں تو مسجدوں کے محراب نہیں ہوا کرتے تھے۔ یہ تو پہلی صدی کے آخر میں بننے شروع ہوئے۔ محراب خلفاء کی حفاظت کے لیے بنانے شروع ہوئے تاکہ نماز کے دوران کوئی حملہ آور نہ ہو۔ اب یہ رواج عام ہوچکا ہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ امام کسی حد تک محفوظ ہوجاتا ہے اور دوسرا یہ کہ مسجد میں ایک صف کی مزید گنجائش نکل آتی ہے۔ تاہم فقہائے احناف کہتے ہیں کہ امام کو محراب کے بالکل اندر نہیں کھڑا ہونا چاہئے کہ وہ مقتدیوں کو نظر ہی نہ آئے بلکہ تھوڑا سا باہر نکل کر کھڑا ہونا چاہئے۔ ویسے محراب کا عام لغوی معنی عمدہ قسم کا کمرہ ہے جسکا اطلاق عبادت خانے پر بھی ہوتا ہے تاہم اس مقام پر محاریب سے مراد عمدہ قسم کے قلعے اور مکانات ہیں جو جنات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حکم پر تعمیر کرتے تھے اور جن میں سرخ وسفید نفیس قسم کے پتھر لگائے جاتے تھے اس کی ایک مثال سورة النمل میں بھی گزرچکی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم پر جنات نے پانی کے حوض پر شیشے کا خوبصورت فرش لگا دیا تھا کہ ملکہ سبا نے سمجھا کہ یہ پانی ہے حالانکہ وہ شیشے کا نفیس فرش تھا جس کے نیچے پانی تھا۔
قدیم مجسمہ سازی
فرمایا ایک تو جنات محراب بناتے تھے اور دوسرا وتماثیل وہ مجسمے (Statues) بھی بناتے تھے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پہلے ادیان میں مجسمہ سازی ممنوع نہیں تھی مگر ہمارے دین میں کسی لکڑی ، پتھر یا دھات کا مجسمہ بنانا یا ہاتھ سے تصویر بنانا یا کیمرے سے فوٹو لینا سب حرام ہے۔ قدیم زمانے میں کسی نیک آدمی کی شکل پر کوئی بت تراش لیتے تھے ، اس کی تعظیم کرتے تھے اور اس کے سامنے نذر و نیاز پیش کرتے تھے یہی شرک ہے جس کی اللہ نے سختی سے تردید فرمائی ہے۔ مجسمہ سازی بدھوں کی تہذیب میں بھی ملتی ہے۔ منجودھاڑو اور ٹیکسلا کے کھنڈرات سے بھی بت برآمد ہوئے ہیں اور دکن حیدر آباد کی قدیم تہذیب میں بھی مجسمہ سازی کے بہت سے آثار ملے ہیں۔ مفسرین میں سے امام زمخشری (کشاف ص 572 ج 3) اور صاحب تفسیر قرطبی (قرطبی ص 272 ج 14) نے لکھا ہے کہ ہر مجسمہ حرام ہے خواہ وہ کسی بھی جاندار کا ہو۔ بعض لوگ قرآن کے اسی لفظ تماثیل سے مجسمہ سازی کا جواز پیش کرتے ہیں جو کہ غلط ہے تصویر کشی اور مجسمہ سازی کی حرمت میں بکثرت احادیث وارد ہوئی ہیں اور یہ لفظ تماثیل واضح بھی نہیں ہے کہ اس سے کس قسم کے مجسمے مراد ہیں تاہم ہماری شریعت میں اس کی بہرحال ممانعت آئی ہے چناچہ حضرت علی ؓ سے یہ روایت بھی آتی ہے کہ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا لا تدع تمثالا الا تمستہ کوئی مجسمہ ایسا نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو ۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے (مسند احمد ص 28 ج 22 و احکام القرآن للخاص ص 372 ج 3) کہ جس گھر میں تصویر یا کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ فرمایا ان اصحاب ھذہ الصور یعذبون یوم القیمۃ اشد العذاب یعنی تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن سخت سزا سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ مصوروں سے فرمائے گا کہ پانی پر نقشہ گری تو میری صفت ہے ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء (آل عمران 7) وہی اللہ کی ذات ہے جو مائوں کے رحموں میں جیسی چاہتا ہے تصویر کرتا ہے۔ تو اللہ فرمائے گا تم نے میری صفت اختیار کرکے تصویر تو بنائی اب احیواما خلقتم اب ان تصویروں کو زندہ بھی کرو مگر وہ نہیں کرسکیں گے اور سخت عذاب کا شکار ہوں گے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے اشد الناس عذابا یوم القیمۃ المصورون تصویر کشی کرنے والوں کو سخت سزا ملے گی۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میں تصویر کشی کا کام کرتا ہوں۔ آپ نے اس شخص کو قریب بلا کر فرمایا کہ تمہیں علم ہے کہ تصویر کشی حرام ہے۔ حضور نے جاندار چیزوں کی تصویر بنانے سے منع فرمایا ہے وہ شخص کہنے لگا کہ یہ تو میرا پیشہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ افسوس اگر تم نے یہی پیشہ اختیار کرنا ہے تو کم از کم جانداروں کی تصویریں تو نہ بنائو۔ بہرحال تمیل کا لفظ صریح نہیں ہے۔ اس میں جاندانر بھی آتے ہیں اور غیر جاندار پر بھی اس کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ اگر قدیم زمانے میں لوگ جانداروں کے مجسمے بناتے تھے تو یہ ان کی شریعت میں تو مباح ہوسکتا ہے۔ ہماری شریعت میں قطعی حرام ہے۔
حوض نما پیالے اور دیگیں
تیسری چیز جس کا اللہ نے یہاں ذکر کیا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم پر جنات بناتے تھے وہ ہے وجفان کالجواب حوضوں کی مانند بڑے پیالے تھے چونکہ سلیمان کے ساتھ بہت بڑا لشکر ہوتا تھا ، اس لیے وہ لشکر کو کھانا انہی حوض نما پیالوں میں کھلاتے تھے اس کے علاوہ وقدرو رسیت ایک جگہ پر جمی رہنے والی بڑی بڑی ہانڈیاں بھی بناتے تھے۔ ظاہر ہے کہ نفری کی کرت کے پیش نظر ان کے لیے وافر کھانے کی ضرورت پیش آتی تھی جسے بڑی بڑی دیگوں میں پکایا جاتا تھا اور حوض نما پیالوں میں ڈال کر کھایا جاتا تھا۔ یہ کام بھی جنات کے سپرد تھا کہ وہ اتنی بڑی بڑی تانبے وغیرہ کی دیگیں تیار کریں جن میں بڑی مقدار میں کھانا تیار کیا جاسکے۔ یہ اتنی بڑی بڑی دیگیں ہوتی تھیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوسکتی تھیں بلکہ جہاں ایک دفعہ رکھ دی گئیں وہیں پڑی رہتی تھیں اور وہیں ان میں کھانا تیار کرلیا جاتا تھا۔ اس کی بعض مالیں آج بھی ملتی ہیں۔ مثلاً اجمیر شریف میں ایک بہت بڑی دیگ ہے جو سو من کی دیگ کے نام سے مشہور ہے۔ ایک دوسری دیگ بھی ہے جس میں بیک وقت ساٹھ من کھانا تیار ہوجاتا ہے۔ یہ بھی ایک جگہ پر نصب ہے اور ناقابل انتقال ہیں۔ بہرحال جنات کے ذمے ایک کام بھی تھا کہ وہ بڑی بڑی دیگیں تیار کرتے تھے۔
سلیمان (علیہ السلام) کی اس بےمال حکومت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا اعملوا ال دائود شکرا اے دائود (علیہ السلام) کے گھر والو ! شکر گزاری کے لیے عمل کرو۔ یعنی ایسے اعمال انجام دو جن سے اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ادا ہوتی ہو چناچہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے بیحد شکر گزار بندے تھے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز دائود (علیہ السلام) کی ہوتی تھی آپ کبھی صرف تہائی حصہ سوتے اور دو تہائی عبادت میں گزارتے اور کبھی چھٹا حصہ سوتے اور باقی سارا وقت عبادت الٰہی میں گزار دیتے۔ ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے گھر کا نظام اس طرح بنا رکھا تھا کہ آپ کے عبادت خانہ میں چوبیس گھنٹے عبادت ہوتٰی رہتی تھی اور وہ کسی وقت بھی خالی نہیں ہوتا تھا۔ آپ خود یا آپ کی کوئی نہ کوئی بیوی ضرور محو عبادت رہتی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا روزہ بھی اللہ کو بڑا پسند تھا۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے اور دوسرے دن چھوڑ دیتے۔ آپ بہادر اس قدر تھے کہ لایفسد اذا الاتی جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوتی تو آپ پشت پھیر کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ خوب مقابلہ کرتے تھے۔
ابن ماجہ شریف کی روایت (ابن کثیر 529 ج 3) کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ کو نصیحت کی کہ اے بیٹے ! رات کو زیادہ نہ سویا کرو کیونکہ کثرت النوم بالیل تترک الرجل فقیرا یعنی رات کو زیادہ نیند آدمی کو محتاج بنا دیتی ہے۔ ایک موقع پر حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی ، پروردگار ! میں تیری نعمتوں کا کس طرح شکریہ ادا کروں کیونکہ جب میں تیری کسی نعمت کا شکریہ ادا کرتا ہوں تو یہ بھی تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہوتا اور یہ مجھ پر ایک مزید انعام ہوتا ہے۔ اللہ نے خوش ہو کر فرمایا کہ اے دائود ! جب تم سمجھ گئے کہ ساری نعمت میری جانب سے ہے تو تم نے شکر کا حق ادا کردیا ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ آل دائود کی مانند وہ شخص ہوگا جو خوشی اور غصے میں عدل کو تھامے رکھے گا ، دولت مندی اور احتیاجی میں میانہ روی کو اختیار کریگا اور جس کے دل میں پوشیدہ اور ظاہر ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہوگی۔ ان تین خصوصیات کا حامل شخص آل دائود کی طرح شکر گزاروں میں شامل ہوگا۔
مگر اللہ نے ساتھ یہ بھی فرما دیا وقلیل من عبادی الشکور میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔ اکثر لوگ میری نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں مگر نہ زبان سے شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اعضاء وجوارح یعنی ہاتھ پائوں اور قلب سے جب آدمی ان تین اعضاء کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہے تو گویا وہ اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ اسی طرح جب زبان سے اللہ کی حمد وثناء کرتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے جب دل میں خشیت الٰہی آجاتے تو یہ قلب کا شکر ہوتا ہے۔ ایک (درمنشور ص 229 ج 5 فیاض) روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں ایک شخص دعا کیا کرتا تھا کہ پروردگار ! مجھے قلیل لوگوں میں سے بنا دے رب اجعلنی من القلیل حضرت عمر ؓ نے پوچھا تم یہ کیسی دعا مانگتے ہو کہ کثرت سے قلت میں آنا پسند کرتے ہو ؟ کہنے لگا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں اور میں قلت میں شامل ہونا اس لئے پسند کرتا ہوں کہ اللہ کے شکر گزار بندوں میں سے ہو جائوں۔ حضرت عمر ؓ کہنے لگے کہ عمر سے تو سارے لوگ ہی زیادہ سمجھ رکھتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ لوگوں کی اکثریت ناشکرگزار ہی ہے۔
Ayah 34:14گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ کے دو منیب بندوں حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں باپ بیٹے کو بڑی نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ دنیا میں خلافت ، حکومت اور عزت عطا فرمائی اور نبوت و رسالت سے بھی سرفراز فرمایا۔ اللہ نے دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خوش الحانی عطا فرمائی تھی حتی کہ جب آپ اللہ کی حمد وثناء بیان کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ہمنوا ہوجاتے۔ آپ اللہ کے بڑے ہی عبادت گزار اور شکر گزار بندے تھے۔ اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوائوں ، پرندوں اور جنات کو مسخر کردیا تھا۔ جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ آپ جنات سے بڑے بڑے کام لیتے تھے۔ اگر وہ آپ کے حکم سے ذرا بھی سرتابی کرتے تو ان پر آگ کے کوڑے برستے تھے۔
بیت المقدس کی تعمیر
گزشتہ درس میں جنات کے ذریعے بڑے بڑے قلعوں اور دیگر عمارات کی تعمیر کا ذکر آیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی تعمیر بھی جنات کے سپرد کر رکھی تھی۔ وہ دوردور سے بڑے بڑے پتھر اٹھا کر لاتے اور پھر انہیں تراش تراش کر عمارت میں لگاتے۔ اس عمارت کا نقشہ بھی بہت خوبصورت تھا اور اس پر میٹریل بھی بہت نفیس لگایا گیا۔ بیت المقدس کی تعمیر کا آغاز تو حضرت (مدارک 221 ج 3) دائود (علیہ السلام) نے کیا تھا مگر وہ آخری وقت میں بقیہ کام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے سپرد کرکے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ نے یہ کام اپنی خلافت کے چوتھے سال میں جنات کے ذریعے شروع کیا اور بعض روایات کے مطابق اپنے دور خلافت میں اسے مکمل کرلیا۔ تاہم بعض کہتے (قرطبی ص 228 ج 14) ہیں کہ عمارت کا کام تو آپ کی زندگی میں ہی مکمل ہوگیا تھا البتہ اس کی آخری زیب و زیبائش باقی تھی۔ بعض کا خیال ہے کہ ابھی سال بھر کا کام باقی تھا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا آخری وقت آگیا۔ بعض (قرطبی ص 281 ج 14 فیاض) یہ بھی کہتے ہیں کہ تعمیر کا تھوڑا سا کام باقی تھا کہ آپ نے سخرہ پتھر پر کھڑے ہو کر بارگاہ رب العزت میں دعا کی کہ مولیٰ کریم تو نے مجھے جو نعمت عطا فرمائی ہے اور جو فضیلت بخشی ہے مجھے اس کا شکریہ ادا کرنے کی بھی توفیق عطا فرما۔ آپ نے بیت المقدس کے بارے میں یہ دعا بھی کی کہ پروردگار ! جو شخص تیرے اس عبادت خانے میں داخل ہو ، اس کو یہ پانچ چیزیں عطا فرما۔ یعنی۔
(1) اگر اس مسجد میں کوئی گنہگار داخل ہو تو اسے توبہ کی توفیق عطا فرما کیونکہ مومن کے مقامات عالیہ میں سے پہلا مقام توبہ کا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے التائبون العبدون الحمدون… الخ (التوبہ 112) اللہ کے نیک بندوں میں پہلا نمبر توبہ کرنے والوں کا ہے۔ گویا انسان کفر ، شرک اور ہر قسم کی معاصی سے توبہ کرے اور اس کے بعد عبادت کی طرف قدم اٹھائے۔
(2) اگر کوئی خوف والا آدمی اس ہیکل میں داخل ہو تو اس کو امن عطا کر۔
(3) بیمار آدمی داخل ہو تو اسے شفا دے۔
(4) اگر محتاج آجائے تو اسے مستغنی کردے۔ غنی سے مراد دل کا غنی ہے کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے (1) لیس الغنی عن کثرۃ العرض یعنی غنی مال و دولت اور جاہ و حشمت کی فراوانی کا نام نہیں بلکہ ان الغنی عنی النفس اصل غنی تو دل کا غنی ہے۔
(5) جب تک کوئی آدمی تیرے اس گھر میں موجود رہے تو اس پر اپنی رحمت کی نظر ڈالے رکھ۔
سلیمان (علیہ السلام) کی وفات
جب بیت المقدس کی تعمیر تکمیل کے قریب تھی تو سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا وقت آن پہنچا۔ اب ان کو فکر لاحق ہوئی کہ وفات کے ساتھ کام ادھورا چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ حکومتی سرگرمیوں کے باوجود آپ کا معمول تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقت نکال لیتے تھے۔ آپ لمبے عرصہ تک عبادل الٰہی میں مصروف رہتے۔ بعض (مظہری ص 17 ج 8) کہتے ہیں کہ کئی کئی ہفتوں کا توشہ لے کر عبادت خانے میں جاتے اور تنہائی میں اللہ اللہ کرتے رہتے۔ چناچہ آپ نے اپنی اسی عادت کو بیت المقدس کی تکمیل کے لیے بطور بنیاد استعمال کیا۔ شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی حاشیہ (تفسیر عثمانی ص 557 فیاض) پر لکھتے ہیں کہ جب سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب آپہنچا تو آپ نے تعمیر کے باقی ماندہ کام کا نقشہ بنا کر جنوں کو دے دیا اور خود شیشے کے کمرے میں بند ہو کر عبادت الٰہی میں مصروف ہوگئے۔ جنات دیکھ رہے تھے کہ آپ عبادت میں مصروف ہیں لہٰذا وہ اپنا کام کرتے رہے سلیمان (علیہ السلام) اپنی لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر عبادت کر رہے تھے کہ اسی حالت میں آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ موت ہر ذی روح کے لیے لازمی ہے کل نفس ذائقۃ الموت (الانبیاء 35) اس سے پیغمبر بھی مستثنیٰ نہیں ہیں ، لہٰذا سلیمان (علیہ السلام) بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ یاد رہے کہ پیغمبروں کا یہ خاصا ہے کہ ان کو وفات سے پہلے اطلاع دے دی جاتی ہے اور دریافت کیا جاتا ہے کہ آپ کا کیا ارادہ ہے۔ اس کے بعد جب ان کی طرف سے ” ہاں “ ہوجاتی ہے تو جان قبض کرلی جاتی ہے۔
سلیمان (مظہری ص 17 ج 8) (علیہ السلام) شیشے کے کمرے میں بند ٹیک لگائے کھڑے تھے یا بیٹھے تھے۔ جنات کام کر رہے تھے اور آپ کو دیکھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ آپ مصروف عبادت ہیں مگر اندر جانے کی کوئی جرات نہیں کرتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) اسی حالت میں اللہ کو پیارے ہوچکے تھے۔ مگر جنات انہیں زندہ سمجھتے ہوئے اپنے کام میں مصروف تھے۔ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتظام ہو رہا تھا تاکہ جنات کام نہ چھوڑ بیٹھیں لہٰذا کسی کو سلیمان (علیہ السلام) کے کمرے میں نہیں جانے دیا۔ اس کی مثال عزیز (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ملتی ہے۔ اللہ نے ان پر سو سال تک کے لیے موت طاری کردی۔ آپ کا گدھا تو فنا ہوگیا اور اس کی ہڈیاں بھی بکھر گئیں مگر آپ کا کھانا بالکل تر و تازہ رہا۔ اصحاب کہف کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ تین سو سال تک غار میں پڑے رہے مگر اللہ نے کسی کو وہاں جانے نہیں دیا۔ جب خود اللہ نے بیدار کیا تو حقیقت حال واضح ہوئی۔
جنات کو وفات کا علم
جنات اسی حالت میں کام کرتے رہے حتی کہ ایک سال کا عرصہ گزر گیا اور ادھر بیت المقدس کی تعمیر کا کام بھی مکمل ہوگیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کو ظاہر کردیا جس کے لیے ایک خاص سبب بھی خود ہی پیدا کیا۔ ارشاد ہوتا ہے فلماقضینا علیہ الموت جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا فیصلہ کرلیا مادلھم علی موتہ تو اس کو کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ الا دابۃ الارض تاکل متساتہ مگر زمین کا ایک کیڑا جو آپ کی لاٹھی کو کھا رہا تھا۔ بینا حبشی زبان کا لفظ ہے جو عربی میں بھی استعمال ہوا ہے اور اس کا معنی لاٹھی ہے۔ اس لکڑی کو لاٹھی کو کھانے والا کیڑا دیمک تھا جسے فارسی میں دیوک کہتے ہیں۔ سال بھر تک سلیمان (علیہ السلام) ایک ہی جگہ پر کھڑے ہے۔ اس دوران میں دیمک نے لکڑی کو کھانا شروع کردیا۔ جب لاٹھی کمزور ہو کر گر پڑی تو سلیمان (علیہ السلام) کا جسم بھی زمین پر آرہا۔
یہ عجیب بات ہے کہ دیمک لکڑی کو کھاتا ہے اور اس جگہ پر مٹی اور پانی بھی ہوتا ہے حالانکہ ان چیزوں کے وہاں پہنچنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ مشہور ہے کہ مٹی اور پانی دیمک کو جنات پہنچاتے ہیں کیونکہ دیمک نے سلیمان (علیہ السلام) کی لاٹھی کو توڑ دیا تھا جس کی وجہ سے جنات کو آپ کی موت کا علم ہوگیا اور وہ کام چھوڑ کر چلے گئے۔ گویا جنات دیمک کا احسان مانتے ہیں۔ تاہم یہ بےحقیقت بات ہے جس کی کوئی سند نہیں۔
مسئلہ علم غیب
ارشاد ہوتا ہے فلما خر لاٹھی کے ٹوٹ جانے سے جب سلیمان (علیہ السلام) زمین پر گر پڑے تبیغت الجن تو اس وقت جنات پر واضح ہوا کہ سلیمان (علیہ السلام) تو فوت ہوچکے ہیں اور ہم خواہ مخواہ ان کے کام میں لگے رہے۔ پھر انہوں نے یہ بھی کہا ان لو کانوا یعلمون الغیب اگر وہ غیب جانتے ہوتے ما لبثوا فی العذاب المھین تو اتنی دیر تک ذلت ناک سزا میں مبتلا نہ رہتے۔ یعنی اگر ہمیں بذریعہ غیب علم ہوجاتا کہ سلیمان (علیہ السلام) وفات پاچکے ہیں تو فوراً کام چھوڑ کر بھاگ جاتے اور سال بھر تک مشقت برداشت نہ کرتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں سے بڑا کام لیتے تھے ، چناچہ انسانوں کے ساتھ ان کے اختلاط کی وجہ سے کئی غلط چیزیں بھی مشہور ہوگئیں جنہیں لوگ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے۔ مثلاً سورة بقرہ میں موجود ہے کہ سلیمان علیہ لاسلام کے زمانے میں بنی اسرائیل نے اللہ کی کتاب تورات کو تو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بجائے جنات کے بتائے ہوئے جادو پر چل نکلے اور کفریہ اور شرکیہ باتوں میں ملوث ہوگئے۔ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ انہوں نے ان غلط چیزوں کو شیاطین کا کارنامہ قرار دینے کی بجائے انہیں سلیمان (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرنا شروع کردیا۔ اسی لیے اللہ نے وہاں وضاحت فرمائی وما کفر سلیمن ولکن الشیطین کفروا یعلمون الناس السحر (البقرہ 102) کہ یہ کفر یعنی جادو سلیمان (علیہ السلام) کا تعلیم کردہ نہیں بلکہ یہ تو شیاطین لوگوں کو سکھاتے تھے۔ بہرحال اس طرح کے غلط عقائد میں سے بنی اسرائیل میں ایک یہ عقیدہ بھی راسخ ہوگیا کہ جنات علم غیب جانتے ہیں۔ یہ تصور آج بھی کسی حد تک جہال میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ جنات سے غیب کی خبریں دریافت کی جاتی ہیں جو کہ صریح کفر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنات چونکہ لطیف مخلوق ہے اور ان کی رفتار بھی بہت تیز ہے اس لیے وہ بعض چیزوں کو دیکھ کر ان کا علم رکھتے ہیں مگر بیوقوف لوگ اسے غیب پر محمول کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ غیب کا علم اللہ نے مخلوق میں سے کسی مقرب سے مقرب ہستی کو بھی نہیں دیا۔ اسی چیز کی تصدیق اس آیت کریمہ میں خود جنات کی زبان سے ہو رہی ہے کہ اگر ہم غیب دان ہوتے تو سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے باوجود سال بھر تک مشقت میں نہ پھنسے رہتے۔ الغرض اللہ نے اس باطل عقیدہ کا رد فرمایا ہے۔
جنات کی تسخیر بذریعہ عملیات
ایک مسئلہ اور رہ جاتا ہے کہ بعض لوگ عملیات کے ذریعے جنات کو تسخیر کرکے ان سے بعض کام لیتے ہیں ، ہماری شریعت میں اس فعل کے متعلق کیا حکم ہے اس ضمن میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (بیان القرآن ص 75 ج 9) اور بعض دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ اگر جنات کی تسخیر منجانب اللہ ہو جیسا کہ سلیمان علیہ اسلام کے لیے تھی تو پھر بلاشبہ جائز ہے ، یا اگر کوئی جن اپنی مرپی سے کسی انسان کے تابع ہوجائے تو بھی درست ہے۔ بعض صحابہ کرام ؓ کے متعلق آتا ہے کہ جنات بخوشی ان کے کام انجام دیتے تھے۔ اس سلسلے میں حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت ابو ہریرۃ کا نام لیا جاتا ہے کہ بعض جنات ازخود ان کے حکم کی تعمیل کرتے تھے ، یہ بھی درست ہے البتہ عملیات کے ذریعے جنات کی تسخیر کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر جائز کلام پڑھ کر ایسا کیا جائے ، تو پھر تو جواز بنتا ہے اور اگر کفریہ یا شرکیہ کلام پڑھ کر جنات کو تسخیر کیا جائے تو یہ حرام ہے جنات بھی اللہ کی آزاد مخلوق ہے مگر ان کو زبردستی غلام بنا لینا کسی طور بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (1) ہے کہ کسی آزاد آدمی کو غلام بنا لینا جائز نہیں ہے ایسا کرنے والا شخص سخت مجرم ہوگا۔ اسی طرح آزاد جنات کو زبردستی غلام بنا لینا بھی جائز نہیں ہے۔
بعض فرماتے ہیں کہ اگر کلام شرک و کفر اور بدعات سے پاک ہو اور کرنے کا کام بھی خلاف شرع نہ ہو تو جنات کو محض اس لیے مسخر کیا جائے کہ اس طرح کسی بیمار کا علاج کیا جائے گا یا کسی کا جائز طریقے پر دفعا کیا جائے گا اگر کوئی جن کسی انسان کو تکلیف دے رہا ہے اور اس کے علاج وغیرہ کے لیے جنات کی تسخیر مطلوب ہے تو فرماتے ہیں کہ اس حد تک تسخیر شاید جائز ہو وگرنہ غیر شرعی اور ناجائز کام کرنے کے لیے یا کسی دوسرے انسان کو ایذا پہنچانے کے لیے جنات کو قابو کیا جائے تو یہ قطعی ناجائز اور حرام ہے ، اسلاف میں سے حضرت مولانا تھانوی (رح) اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) کے پاس اگر کوئی ایسا شخص بیعت کے لیے آتا جس نے جنات کو مسخر کر رکھا ہو تو یہ حضرات ایسے شخص کو کہتے کہ پہلے جن کو آزاد کرو اس کے بعد ہماری بیعت کرنا ، آپ اس فعل کو اس قدر معیوب سمجھتے تھے۔
Ayahs 34:15–17گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات ، کفر کے رد ، وقوع قیامت اور نبوت و رسالت کے سلسلے میں کئی دلائل ذکر کئے۔ پھر اللہ کی طرف انابت رکھنے والے دو انبیاء حضرات دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا۔ ان دو انبیاء کے واقعات میں قدرت کے نمونے بتلائے تاکہ لوگ رسالت اور قیامت کا انکار نہ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو خصوصی معجزات عطا فرمائے تھے۔ ان کی سلطنت بےمثال تھی جس میں عجیب و غریب قسم کا نظام تھا ، اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ اس سے بغیر مشقت کے زرہیں بناتے تھے ، آپ کو نہایت عمدہ آواز سے نوازا تھا۔ چناچہ جب آپ اپنی پرسوز آواز میں زبور کی تلاوت فرماتے تو اردگرد کے پہاڑ اور پرندے بھی حمد باری تعالیٰ میں آپ کے ہمنوا ہوجاتے۔ ادھر سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوائوں اور جنات کو مسخر کردیا۔ آپ جنات سے بڑے بڑے کام لیتے تھے۔ دونوں باپ بیٹا اللہ کے نہایت ہی شکر گزار بندے تھے۔ پھر اللہ نے گلہ کیا کہ اس کے شکر گزار بندے بہت ہی تھوڑے ہیں۔
قوم سبا
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ناشکر گزار قوم کے طور پر قوم سبا اور اس کے انجام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لقد کان لسبا فی مسکنھم ایۃ البتہ تحقیق قوم سبا کے لیے ان کی رہائش گاہ (بستی) میں نشانی تھی۔ سبا قوم کا نام ہے اور اسی نام سے ایک بستی بھی تھی۔ اس قوم کا دارالسلطنت حارب تھا اور وہاں پر آبپاشی کے لیے ایک سو پچاس فٹ لمبا اور پچاس فٹ چوڑا ایک ڈیم بھی بنایا گیا تھا جو سدناب کے نام سے مشہور تھا۔
ترمذی شریف کی روایت (درمنشور ص 230 ج 5 و قرطبی 282 ج 14 فیاض) میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی حضرت فروہ ابن میک ؓ یمن کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق وہاں کے قبیلہ مراد سے تھا۔ یہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا حضور ! مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوم کے ایماندار آدمیوں کو ساتھ لے کر اپنی ہی قوم کے کفار و مشرکین سے جنگ کروں۔ کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اجازت مرحمت فرمادی اور ساتھ ہی اپنی قوم کا امیر بھی مقرر کردیا۔ پھر جب میں آپ کی مجلس سے چل دیا تو میرے پیچھے آدمی بھیج کر مجھے بلوایا اور فرمایا کہ پہلے تم اپنی قوم کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دو جو شخص اسلام قبول کرلے تم بھی اس کو قبول کرو ، اور جو شخص ایمان نہ لائے تم اس کے ساتھ جلد بازی نہ کرنا بلکہ میری طرف سے مزید ہدایات کا انتظار کرنا۔
حضرت عروہ ؓ مزید بیان (خازن ص 287 ج 5 و ابن کثیر ص 531 ج 4 و طبری ص 76 ج 22 و جمل ص 466 ج 3 ، فیاض) کرتے ہیں کہ جب قرآن کی سورة سبا نازل ہوئی اور اس بات کا چرچا ہوا کہ اللہ نے قرآن میں قوم سبا کر ذکر کیا ہے تو آپ کی مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! وما سبا یعنی سبا کیا ہے۔ کیا یہ کسی خطے کا نام ہے یا کسی مرد یا عورت کا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک آدمی کا نام تھا۔ اس کے دس بیٹے تھے۔ ان میں سے چھ تو یمن میں آباد ہوگئے اور چار شام کے علاقے میں چلے گئے اس شخص کے نام پر اس قوم کا نام سبا مشہور ہوا اور پھر ملک کا بھی یہی نام پڑگیا۔ سبا کی اولاد میں سے جو یمن میں آباد ہوئے ان قبیلوں کے نام ازد ، اشعر حمیر ، کندہ ، مزحج اور انمار ہیں۔ اسی طرح شام میں آباد ہونے والے قبیلوں کے نام لخم ، جذام ، غان اور عاملہ ہیں۔ ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ! یہ انمار کیا ہے۔ فرمایا انمار وہی صیغہ ہے جس سے آگے خثعم اور بجیلہ کے قبیلے آباد ہوئے گویا یہ قبیلہ انمار کی مزید شاخیں ہیں۔ سبا کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ سبا ابن یشجب ابن قحطان۔ اسی لیے اس علاقے کے لوگ قحطانی کہلاتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی عرب عدنانی عرب کہلاتے ہیں حضور ﷺ کا خاندان بھی انہی میں سے ہے۔
سبا عرب کے جنوبی حصہ میں واقع ہے جو سطح سمندر سے 3900 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ، آب وہوا کے لحاظ سے یہ معتدل خطہ ہے ، ملکہ سبا جس کا ذکر سورة نمل میں ہے وہ بھی اسی علاقہ کی رہنے والی تھی۔ قوم تبع کا ذکر بھی قرآن میں آیا ہے ، ان کا خاندان تبابع بھی اسی قوم سبا سے تعلق رکھتا تھا۔
قوم سبا کا علاقہ پہاڑی اور ریگستانی علاقہ تھا۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکاری بہت معمولی قسم کی تھی۔ پہاڑوں پر ہونے والی بارش کا پانی یا تو ریت میں جذب ہوجاتا یا سمندر میں بہہ جاتا تھا۔ یہ حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تقریباً آٹھ سو سال قبل کی بات ہے کہ اس قوم نے اپنی زمینوں کی آبپاشی کے لیے بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ چناچہ دو پہاڑی دروں کے درمیان 150 فص لمبا اور 50 فٹ چوڑا بند بنا کر بارشی پانی کو روک لیا۔ اس طرح وہ اس ڈیم سے حسب ضرورت سارا سال پانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کی زمینیں سیراب ہونے لگیں اور پورے علاقے میں باغ لگ گئے اور کھیتیاں لہلہا اٹھیں۔ یہ ڈیم انہوں نے اپنے دارالخلافہ مارب کے قریب ہی تعمیر کیا اور یہ سدناب کہلانے لگا۔ اس قانی کی وجہ سے مارب کے مشرق و مغرب میں تین سو مربع میل کے رقبہ پر باغات ہی باغات تھے جن میں وافر پھل پیدا ہوتا تھا اور لوگوں میں خوشحالی آگئی تھی۔ انہی باغات کے متعلق اللہ نے یہاں فرمایا ہے۔ جنتن عن یمین و شمال ان کے دائیں اور بائیں باغات تھے جن میں ہر قسم کے پھل اور اناج پیدا ہوتے تھے۔
سیرت نبوی اور ارض القران (ارض القرآن ص 250) کے مصنف مولانا سید سلیمان ندوی (رح) اس خطے کا حال اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی عمارات میں سے یہ ڈیم بھی تھا جسے سدنارب کہا جاتا تھا۔ عرب میں کوئی دائمی دریا نہیں ہے۔ باش کا پانی پہاڑوں سے بہہ کر ریگستان میں خشک ہوجاتا ہے اور کاشتکاری کے لیے استعمال نہیں ہو پاتا ، قوم سبا نے پہاڑوں اور وادیوں میں بڑے بڑے بند باندھ کر پانی کو روک لیا اور اسے کھیتی باڑی کے لیے استعمال کرنے لگے۔ یہ کئی چھوٹے چھوٹے بند تھے مگر ان میں سب سے بڑا اور مشہور بند سدنارب تھا جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بند دو پہاڑوں کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اب اس کا ایک حصہ افتادہ ہے ، تاہم تقریباً ایک سہائی ٹوٹی پھوٹی دیوار اب بھی نظر آتی ہے۔
یورپ کے ایک ارناڈ نامی سیاح کا مجلہ فرنچ ایشیاٹک سوسائٹی میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں اس نے سدنارب کا نقشہ عمدگی کے ساتھ تیار کیا ہے۔ اس کے مطابق بند کی دیوار پر جا بجا کتبے لگے ہوئے تھے جو کہ پڑھے گئے۔ بند کے اوپر نیچے کھڑکیاں تھیں جن کے ذریعے ڈیم کا پانی کھولا جاسکتا یا بند کیا جاسکتا تھا۔ اس بند کے دائیں اور بائیں یعنی مشرق و مغرب میں دو بڑے بڑے دروازے تھے جن سے پانی تقسیم ہو کر چپ و راست زمینوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس نظام آبپاشی کے ذریعے دائیں بائیں جانب اس ریگستانی اور شور زدہ ملک میں تین سو مربع میل تک بہشت زار تیار ہوگئی جس میں انواع و اقسام کے میوے اور خوشبو دار درخت تھے۔ ان کو قرآن پاک میں جنتن عن یمین و شمال کہا گیا ہے۔
ایک یونانی مورخ جو مسیح (علیہ السلام) سے 145 سال قبل ہوا ہے اور قوم سبا کا ہم عصر تھا وہ بیان (ارض القرآن ص 255 ج 1 فیاض) کرتا ہے کہ سبا عرب کے سرسبز و شاداب حصے میں رہتے ہیں جہاں بہت اچھے اچھے بیشمار میوے ہوتے ہیں۔ دریا کے کنارے پر خوبصورت درخت ہیں اور اندرون ملک بخورات ، دارچینی اور چھوہارے کے بلند وبالا درختوں کے جنگلات پائے جاتے ہیں جن سے نہایت شیریں خوشبو مہکتی ہے۔ کہتا ہے کہ درختوں کی اقسام اور تنوع کی کثرت کے سبب ان میں سے ہر قسم کا نام اور وصف بیان کرنا مشکل ہے۔ البتہ ان سے جو خوشبو اٹھتی ہے وہ جنت کی خوشبو سے کم نہیں جو لوگ کشتیوں پر ساحل سے دور گزرتے ہیں وہ بھی اس خوشبو سے لطف اندوز ہوتے ہیں گویا کہ وہ آب حیات سے لطف اندوز ہوتے ہیں اگرچہ یہ تشبیہ بھی اس خطے کی لطافت کے مقابلہ میں ناقص ہے ، اس نے صنعا کے مقام پر قصر غمدان کا ذکر بھی کیا ہے جو کہ بیس منزلہ فلک شگاف عمارت تھی۔
سبا کے آخری دور کا ایک مورخ آرٹی میڈورس لکھتا (بین القرآن ص 253 ج 1 فیاض) ہے کہ سبا کے بادشاہ کے ایون مارب میں ہیں جو کہ پر اشجار پہاڑی پر عیش و مسرت میں واقع ہے۔ بہرحال یہ ساری سرسبز و شادابی مارب ڈیم کی وجہ سے تھی۔ قدیم مصر کے فرعونی بھی اس قسم کے ڈیم بنا کر زمینیں آباد کرتے تھے۔ اس دور میں بھی یہ بند دنیا میں رائج ہیں بلکہ اب تو جدید ٹیکناوجی کی بدولت پانی کے اس محفوظ ذخیرے سے نہ صرف آبپاشی کا کام لیا جاتا ہے بلکہ اس سے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ ڈیم کے پانی کو بلندی سے گرا کر نیچے جنریٹر لگا دیے جاتے ہیں۔ پانی جنریٹروں کے تختوں پر گر کر انہیں حرکت دیتا ہے ، جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے جو روشنی اور بڑی بڑی مشینوں کو چلانے کے کام آتی ہے ، ہمارے ملک میں بھی کئی چھوٹے چھوٹے بند باندھ کر ان سے مذکورہ کام لیے گئے ہیں ، ان میں تربیلا ڈیم ، منگلا ڈیم اور وارسک ڈیم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ملک میں بجلی کی ترسیل کا انحصار انہی ڈیموں پر ہے۔
الغرض ! خوشحالی ، سرسبزی و شادابی اور معتدل آب و ہوا کے اعتبار سے مارب اس قابل تھا کہ اللہ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ پاکیزہ شہر تھا جس میں ہر چیز کی فراوانی تھی۔ لہٰذا فرمایا کلوا من رزق ربکم اپنے پروردگار کی عطا کردہ روزی میں سے کھائو واشکروا لہ اور اس کا شکر ادا کرو۔ اس کا عام قانون یہی ہے۔ لئن شکرتم لا زیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید (ابراہیم 7) اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں مزید عطا کروں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بھی بڑی سخت ہے۔ اللہ نے فرمایا بلدۃ طیبۃ یہ ایک پاکیزہ شہر ہے۔ ورب غفور اور تمہارا پروردگار گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔
یہ پاک شہر کا لفظ بہت بڑی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے اور اس میں ہمارے لیے بھی بڑی تعلیم ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ملک کی بہتری اور پاکیزگی اس وقت ہوگی جب ملک فتنہ و فساد سے پاک ہوگا اگر شہروں میں شریر لوگوں کا غلبہ ہو۔ اتباع ہوا کی وجہ سے لوگ بدامنی میں مبتلا ہوں تو ایسا شہر یا ملک ہرگز پاکیزہ نہیں کہلاسکتا۔ اگر کس ملک پر شریر ظالم لوگ چھا جائیں تو وہ لوگوں کو ظلم و جور کا نشانہ بنائیں گے ، ملک میں چوری ، ڈاکہ ، بدکاری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہوگا اور ملک و شہر برباد ہوجائیں گے۔ اگر شہر میں اعمال ضارہ کا دور دورہ ہو یعنی نقصان دہ کام ہوتے ہوں ، جادوگر اپنا کام دکھاتے ہوں ، تخریب کار پوشیدہ طور پر لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہوں ، خوراک اور پانی میں زہر ملانے سے بھی دریغ نہ کرتے ہوں ، جگہ جگہ دھماکے کرتے ہوں ، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ہوں ، علی الاعلان قتل کا بازار گرم ہو ، بنک لوٹے جاتے ہوں تو ایسے ملک یا شہر کو پاکیزہ کیسے کہہ سکتے ہیں ، جہاں اصلاح کی بجائے فساد کی تعلیم دی جاتی ہو ، مالک کو نوکر کے ساتھ اور کارخانے دار کو مزدور کے ساتھ برسرپیکار کردیا جائے تو امن کیسے قائم ہوسکتا ہے ؟ اسی طرح لوگ عادات قبیحہ یعنی شراب نوشی ، زنا ، لواطت اور جانوروں سے بدفعلی جیسے امور انجام دینے لگیں تو شہروں میں بربادی ہی آئے گی ، سکون نصیب نہیں ہوسکتا۔ جوا ، سود ، رشوت اور ماپ تول میں کمی بیشی قبیح حرکات بھی شہروں کی اصلاح کی بجائے تباہی کا باعث بنتی ہیں اور ایسے شہر اور ملک پاکیزہ کہلانے کے مستحق نہیں بنتے۔
کسی ملک میں اگر پیشوں کی تقسیم غلط ہوجائے تو بھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔ جہاں زراعت کو اولیت حاصل ہو ، وہاں صنعت و حرفت شروک کردی جائے اور جہاں کارخانے لگانے کی ضرورت ہو اسے نظر انداز کردیا جائے تو ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر کسی علاقے میں انشار الباع الضاریہ ہوجائے نقصان دہ درندے ازقسم سور ، گیدڑ ، بھیڑیے ، جنگلی ریچھ وغیرہ عام ہوجائیں تو فصلوں اور انسانوں کا نقصان ہوگا۔ کہیں کیڑے مکوڑے از قسم دیمک وغیرہ پھیل جائیں تو بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا قلع قمع بھی ضروری ہے۔ مکھی ، مچھر ، سانپ ، بچھو بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ موجودہ دور میں کیمیکل اجزاء سے بڑا کام لیا جاتا ہے اگر ان سے نکلنے والی زہریلی گیس پھیل جائے جانی و مالی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ بھوپال میں گیس کا سلنڈر پھٹنے سے ہزاروں آدمی ہلاک ہوگئے تھے اور پورے علاقے میں افراتفری پھیل گئی تھی۔ روس میں ایٹمی پلانٹ کے پھٹنے سے گیس پھیل گئی تھی جس سے تین لاکھ آدمی متاثر ہوئے اور سینکڑوں لقمہ اجل بن گئے تھے۔ تابکاری کے اثرات نہایت ہی مہلک ہوتے ہیں۔ ان کا مناسب انتظام ہونا چاہئے۔
صفائی ہمارے شہروں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر شہروں کی گلیاں اور بازار گندے ہیں۔ پانی کا نک اس معقول نہیں جس کی وجہ سے جگہ جگہ جوہڑ بنے ہوئے ہیں جن سے تعفن پیدا ہو کر بیماری پھیلاتا ہے ، نیز مکھیوں اور مچھروں کی آماجگاہ بن کر وبال جان بنتا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر گندگی کے ڈھیر ہوں تو لوگوں کی صحت کیسے برقرار رہ سکتی ہے۔ اس معاملہ میں گوجرانوالہ کا شہر خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ان حالات میں شہر اور ملک کو بلدہ طیبہ کیسے کہا جاسکتا ہے۔ بہرحال قوم سبا کی بستی اور ملک کو اللہ نے پاکیزہ شہر قرار دیا۔ جہاں ہر طرح کی خوشحالی تھی ، امن وامان کا دور دورہ تھا اور شہر و ملک میں کوئی ضرر رساں چیز نہ تھی۔
فرمایا ! اللہ نے تو قوم سبا کو پاکیزہ شہر عطا کیا تھا جہاں ہر چیز کی فراوانی تھی اور ان کا پروردگار ان کی خطائیں معاف کرنے والا ہے مگر انہوں نے انعامات الٰہی کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے فاعرضوا اپنے پروردگار سے اعراض کیا۔ اس کی طرف رجوع کرنے کی بجائے اس سے دوری اختیار کی اس کا نتیجہ یہ ہوا فارسلنا علیہم سیل العرم کہ ہم نے ان پر زور دار سیلاب بھیج دیا۔ وہی سدنارب جو ان کی خوشحالی کا باعث بنا ہوا تھا ، ان کے لیے تباہی کا باعث بن گیا۔ بند کی دیوار میں گھاس وغیرہ اگ آئی جسے چوہوں نے کھا کھا کر دیوار کو کھوکھلا کردیا۔ بند میں شگاف پڑگیا اور ایسا زبردست سیلاب آیا جس نے پورے ملک میں تباہی پھیلادی۔ کھیتیاں تباہ ہوگئیں ، باغات اجڑ گئے۔ مکانات اور خوردو نوش کے تمام ذخیرے بہہ گئے اور اس طرح ایک خوشحال ملک کھنڈرات کا ڈھیر بن گیا۔ گزشتہ آیت میں جن دو پھل اور باغات کا ذکر کیا گیا ہے ان کے متعلق اللہ نے فرمایا وبدلنھم بجنتیھم جنتین ہم نے ان دو باغات کو دوسرے ایسے باغوں سے تبدیل کردیا ذواتی اکل خمط جن کا پھل کسیلا ہوتا ہے واثل اور جھائو کے درختوں ہوتے ہیں جن میں پھل آتا ہی نہیں وشی من سدر قلیل اور کچھ جنگلی بیر رہ گئے باقی پھل دار درخت سارے تباہ ہوگئے۔
فرمایا ذلک جزینھم بما کفروا ہم نے ان کو یہ بدلہ ان کی ناشکری کی وجہ سے دیا۔ انہوں نے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا بلکہ اپنی خوشحالی پر اتراتے رہے تو اللہ نے ان کو یہ صلہ دیا۔ فرمایا وھل نجزی الا الکفور اور ہم ایسا بدلہ نہیں دیتے مگر ناشکر گزاروں کو۔ اہل سبا کو تو ان کی ناشکری کی سزا مل گئی۔ اللہ نے دوسرے لوگوں کو بھی سمجھایا کہ اگر توحید ، رسالت ، کتاب الٰہی اور قیامت کا انکار کرو گے تو ناشکر گزاروں میں شمار ہوگے اور تمہارا حشر بھی قوم سبا سے مختلف نہیں ہوگا۔