Ayahs 34:34–39پہلے توحید اور اس کے دلائل بیان ہوئے پھر اللہ نے قرآن کی حقانیت و صداقت کو واضح کیا اور منکرین کا رد فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے رسالت کا ذکر بھی کیا اور پھر مجرمین کا حال بیان کیا اور حشر میں پیش آنے والے بعض حالات سے آگاہ کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ نے نبوت و رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی یا رسول کسی بستی شہر یا علاقے میں مبعوث ہوا اور اس نے لوگوں کو کتاب ، شریعت ، ایمان اور توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے اس بستی کے آسودہ حال لوگوں نے ہی مخالفت کی۔ ارشاد ہوتا ہے وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی میں کوئی ڈر سنانے والا یعنی نبی اور رسول الا قال مرفوھا مگر یہ کہ اس بستی کے آسودہ حال لوگوں نے کہا انا بما ارسلتم بہ کفرون تمہارے ساتھ جو کچھ بھیجا گیا ہے ہم اس کا انکار کرتے ہیں اللہ کے سارے نبی بشیر اور نذیر ہوتے ہیں وہ نیک اعمال اور عقیدے پر خوشخبری دیتے ہیں اور برے اعمال و عقائد سے ڈراتے ہیں۔ خاص طور پر انداز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پہلے لوگ برائی سے باز آئیں گے تو نیکی کی طرف راغب ہوں گے۔ چناچہ حضور ﷺ کو بھی اللہ نے ابتدائے نبوت میں یہی حکم دیا۔ قم فانذر (المدثر 2) آپ کھڑے ہوجائیں اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔
اس آیت کریمہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہے کہ اگر آپ کی قوم کے خوشحال اور متمول لوگ آپ کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر نبی کے ساتھ مترفین نے ایسا ہی سلوک کیا۔ آپ گھبرائیں نہیں اور اپنا کام جاری رکھیں ، نبیوں کا مقابلہ کرنے والے بدبخت اکثر صاحب ثروت لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، انہیں اپنی دولت پر ناز ہوتا ہے اس لیے وہ کسی غریب اور نادار کو اپنے پاس بٹھانا بھی پسند نہیں کرتے۔
مال و اولاد پر فخر
ان کے غرور وتکبر کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ صاف کہتے ہیں وقالوا نحن اکثر اموالا و اولاد ہمارے پاس مال اور اولاد کی فراوانی ہے ، ہمارا خاندان بڑا ہے ، اللہ نے ہمیں ہر چیز دی ہے۔ وما نحن بمعذبین بھلا ہمیں کون سزا دے سکتا ہے اللہ ہم سے راضی ہے جس نے مال و اولاد سے نوازا ہے اگر وہ ہمارے اعمال سے ناراض ہوتا تو ہمیں خوشحال کیوں بناتا۔ تم ہمیں خواہ مخواہ ڈرا رہے ہو ، ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا۔ مالدا لوگوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے انہیں مال و اقتدار پر فخر ہوتا ہے۔ اللہ نے اس چیز کو گمراہی کے اسباب میں بیان کیا ہے۔
قرآن پاک میں جن انبیاء کا حال بیان کیا گیا ہے ان میں سے کوئی خال ہی ہوگا جس کی مخالفت نہ کی گئی ہو۔ ابتدائی دور میں نبیوں پر ایمان لانے والے عام طور پر غرباء اور مساکین ہی ہوتے رہے ہیں۔ صاحب حیثیت لوگ ابتداء میں اکثر مخالفت کرتے رہے اور پھر جب کوئی چارہ کار باقی نہ رہا تو آخر میں چل کر ایمان لائے ہرقل کے واقعہ (بخاری ص 5 ج 1) میں موجود ہے کہ اس نے ہجرت کرکے آنے والے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا اور ان کی دعوت کے متعلق سوال جواب کیے۔ پھر مکہ کے رہنے والے کسی دوسرے آدمی کو طلب کیا تو ابو سفیان ؓ کو پیش کیا گیا جو اس وقت ایمان نہیں لائے تھے۔ ہرقل والی روما نے دیگر سوالات کے علاوہ ابو سفیان ؓ سے یہ بھی پوچھا کہ محمد ﷺ کے پیروکار کیسے لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ کمزور اور غریب لوگ ہیں جب کہ بڑے بڑے رئوسا مخالف ہیں۔ ہرقل پہلی کتابوں کا علم رکھتا تھا ، کہنے لگا کہ ہر نبی کے اولین متبعین کمزور لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔
شان نزول
اس آیت کی شان نزول میں امام ابن کثیر (رح) (ابن کثیر ص 540 ج 3) نے ابن ابی حاتم (رح) کے حوالے سے حدیث نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ بعثت میں دو تاجر آپس میں شراکت دار تھے ، ان میں ایک دور کہیں ساحلی علاقے میں تجارت کے سفر پر تھا جب کہ دوسرا اپنے گھر میں تھا۔ مسافر تاجر نے وہیں یہ خبر سنی کہ مکہ کے ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اس نے اپنے شراکت دار کو لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ مکہ میں کوئی مدعی نبوت پیدا ہوا ہے ، اگر ہے تو مجھے اس کے متعلق حالات سے باخبر کریں ، مقیم تاجر نے جواب دیا کہ ہاں واقعی مکہ میں محمد ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر اس کے پیروکار غریب غرباء ہی ہیں ، کسی بڑے آدمی نے ایمان قبول نہیں کیا ، یہ خط پاکر مسافر تاجر اپنا کاروبار چھوڑ کر فوراً مکہ آیا۔ براہ راست حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں ، مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے ، میں توحید اور ایمان کی دعوت دیتا ہوں۔ برائیوں سے خبردار کرتا ہوں ، تو وہ شخص اسی مجلس میں مشرف بہ اسلام ہوگیا کہنے لگا آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ حضور ﷺ نے پوچھا کہ تم نے مجھے کس طرح پہچانا ، کہنے لگا کہ اس علامت سے کہ آپ کو ماننے والے غریب لوگ ہیں۔ دولت مند اعراض کر رہے ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت مبارکہ اسی موقع پر نازل ہوئی۔ آسودہ حال لوگوں کا حال اللہ نے بعض دوسرے مقامات پر بھی بیان فرمایا ہے۔ انھم کانوا قبل ذلک مترفین (45) وکانوا یصرون علی الحنث العظیم (46) یہ لوگ پہلے بھی آسودہ حال تھے اور بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے ، یہ لوگ کفر و شرک میں مبتلا تھے اور مال و دولت کے نشے میں کسی دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہ ہوتے تھے۔ یہی لوگ اصلاح کے راستے میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں تاکہ ان کا استحصالی دھندا چلتا رہے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔
اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان پر راضی ہے جو اس قدر مال و دولت دے رکھا ہے مگر یہ چیزیں رضا الٰہی کی علامت نہیں ہیں۔ رزق کی کشادگی یا تنگی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت پر مبنی ہوتی ہے۔ فرمایا قل اے پیغمبر ! ان کو کہہ دیں ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر بیشک میرا پروردگار جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ رزق کی فراوانی اچھائی کی علامت نہیں ہے ، بہت سے شریر ، نافرمان ، ملحد اور دہریے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں جب کہ بعض اہل ایمان اور خدا پرست لوگ تنگی کی حالت میں ہوتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول بندے ہوتے ہیں۔ لہٰذا آسودہ حالی کوئی پسندیدگی کی علامت نہیں ہے ولکن اکثر الناس لا یعلمون مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے اور وہ ظاہری خوشحالی کو ہی اپنی مقبولیت کی نشانی سمجھتے ہیں ، یہ تنگی اور فراخی تو اللہ کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے ، کبھی وہ کسی کو مال و دولت دے کر آزماتا ہے اور کبھی ان چیزوں سے محروم کرکے امتحان لیتا ہے ، پھر جو بندے اس کے امتحان میں پورے ہوتے ہیں ، وہی مقبول بارگاہ ہوتے ہیں۔
امام شافعی (رح) کا قول (نفحتہ العرب ص 114) ہے۔
ومن الدلیل علی القضا و حکمہ بوس اللبیب وطیب عیش الاحمق
اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر یہ دلیل ہے کہ بسا اوقات عقلمند اور دانا لوگ نہایت تنگدستی میں وقت گزارتے ہیں جب کہ بیوقوف لوگ عیش و راحت میں ہوتے ہیں۔ سعدی صاحب (رح) کا قول بھی ہے۔
اگر روزی بدانش برفزودے ز ناواں تنگ تر روزی نہ بودے
اگر رزق کی وسعت محض عقل و دانش کی بنیاد پر ہوتی تو بیوقوف بیچارے بھوکوں مر جاتے۔ بہرحال تنگی و فراخی اللہ کی حکمت اور منشاء کے مطابق ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت کو نہیں پاتے۔
خوشحالی ذریعہ قرب نہیں
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق بھی فرمایا ہے ولا تعجبک اموالھم و اولادھم (التوبہ 85) اے پیغمبر ! ان کے مال اور اولاد پر آپ تعجب نہ کریں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے ، اس آزمائش میں ناکامی پر ہی اللہ تعالیٰ ان کو سخت سزا دے گا۔ اس مقام پر بھی فرمایا وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عند زلفی تمہارے مال اور اولاد تمہیں ہمارا قرب نہیں دلاسکتے الامن امن وعمل صالحا قرب الٰہی تو اس شخص کو حاصل ہوگا جو ایمان لایا اور جس نے نیک اعمال انجام دیئے۔ ہاں اگر مالداروں میں بھی کوئی ایمان لانے کے بعد اچھے کام کرتا ہے تو وہ بھی قرب الٰہی کا حقدار ہے ایسے شخص کے حق میں اس کا مال ضرور مفید ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے نعم صاحب المسلم لمن اذی ایک مسلمان کے لیے اس کا مال ایک اچھا ساتھی ہے بشرطیکہ اس نے مال کا حق ادا کیا ہو۔ غرباء اور مساکین کا خیال رکھا ہو ، قرابت داروں کا حق ادا کیا ہو اور زکوٰۃ و صدقات دیتا ہو مگر جو لوگ مال کا حق ادا نہیں کرتے ان کے لیے یہ وبال جان بن جاتا ہے ، جب کوئی شخص کسب میں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرے گا ، نہ میں جائز اور ناجائز جگہ میں امتیاز کریگا تو اس کا مال اسے ہرگز فائدہ نہیں دے گا۔
فرمایا جو کوئی ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا فائولک لھم جزا نصف بما عملوا ایسے لوگوں کے اعمال کا دگنا بدلہ ہوگا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا (الانعام 161) جو کوئی ایک نیکی کرے گا اسے دس گنا بدلہ ملے گا۔ ہر نیک عمل کا بدلہ سات سو گنا تک ہے یا جس قدر چاہے عطا کردے۔ تاہم ہر نیک عمل کی جزا ڈبل تو لازماً ہے وھم فی العرفت امنون اور ایسے نیکو کار لوگ جنت کے بالاخانوں میں نہایت امن و سکمون کے ساتھ گزر اوقات کریں گے ، ان کے عالیشان مکان ہوں گے جن کی دیواریں اتنی شفاف ہوں گی کہ باہر کا نظارہ اندر بیٹھے ہوسکے گا ، وہاں انہیں کوئی غم اور پریشانی نہیں ہوگی ، کسی محنت و مشقت کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ کسی نعمت کے چھن جانے کا خطرہ ہوگا۔
فرمایا والذین یسعون فی ایتنا معجزین جو لوگ ہماری آیتوں میں کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں ہرا دیں ، کمزور کردیں اولئک فی العذاب محضرون وہ عذاب میں پکڑ کر حاضر کئے جائیں گے ، ظاہر ہے کہ جو لوگ آیات الٰہی کا تمسخر اڑاتے ہیں اور اس کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بالاخر عذاب میں پکڑے جائیں گے اور ان کی رہائی کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
آگے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر لہ بیشک میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہے جسے کوئی نہیں جان سکتا۔ وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق روزی تقسیم کرتا ہے۔ پھر جس کو زیادہ دیتا ہے اس کو بھی امتحان میں ڈالتا ہے کہ وہ میرے احکام کی کس حد تک پاسداری کرتا ہے اور جس کو کم دیتا ہے اس کے صبر و شکر کا بھی امتحان لیتا ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔
چونکہ اکثر مالدار لوگ کنجوس واقع ہوئے ہیں لہٰذا آگے اللہ نے انفاق فی سبیل اللہ کا قانون بھی بتلا دیا۔ وما انفقتم من شی فھو یخیفہ تم جو چیز بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کا ضرور بدلہ دیتا ہے لہٰذا مال کو ہمیشہ صحیح جگہ میں خرچ کرنا چاہئے۔ اپنی جائز ضروریات بھی پوری کرو مگر حقداروں کے حقوق بھی ادا کرو۔ جس نے مال کا حق ادا نہیں کیا اس کے لیے یہی مال مصیبت بن جائے گا۔ مال کے بدلے کی کئی صورتیں ہیں بعض اوقات دنیا میں اللہ تعالیٰ اس مال میں خیر و برکت ڈال دیتا ہے اور مال میں زیادتی ہوجاتی ہے ، کاروبار میں نفع حاصل ہوتا ہے یا فصل اچھی ہوجاتی ہے ، کسی تاوان ، بیماری یا مقدمہ وغیرہ سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے اور اللہ کی مخلوق بھی مستفید ہوتی ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان مبارک (ابن کثیر ص 541 ج 3 فیاض) ہے کہ ہر صبح اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔ ایک دعا کرتا ہے اللھم اعط منفقا اے اللہ صحیح جگہ پر خرچ کرنے والے کو مزید عطا فرما اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ ! کنجوس آدمی کو تباہ و برباد کر۔ بہرحال فرمایا کہ تم جو بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کا عوض دیتا ہے وھو خیر الرزقین اور اللہ تعالیٰ بہتر روزی رساں ہے۔ روزی کا فیصلہ وہی کرتا ہے دنیا میں تو اللہ کی منشاء کے مطابق رزق ملتا ہے اور آخرت میں وہ ایمان اور نیکی کی بنیاد پر افضل روزی عطا کرے گا۔
Ayahs 34:40–45ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ رسالت کا انکار عام طور پر آسودہ حال لوگ ہی کرتے تھے کیونکہ نبی کی سیادت کو تسلیم کرنے سے ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ متاثر ہوتی تھی۔ اللہ نے خوشحالی کو اسباب گمراہی میں شمار کیا ہے۔ اللہ کے ہاں مقبولیت کا تعلق مال و دولت یا جہ و حشمت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے۔ اللہ نے رزق کا قانون بھی بیان فرمایا کہ یہ تقسیم اس کے اپنے قبضہ قدرت میں ہے ، جس کا چاہے رزق وسیع کردے اور جس کا چاہے تنگ کردے۔ یہ تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جسے مخلوق نہیں جان سکتی۔ مخلوق کا فرض ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو زندگی کا لائحہ عمل بنالے۔
فرشتوں کی عبادت
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن مشرکین کی کیفیت بیان کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ویوم یحشرھم جمیعا جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا ان سے ان کی بدعقیدگی اور بداعمال کے متعلق باز پرس ہوگی وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے اس وقت انسان ، جن ، عابد اور معبود سب جمع ہوں گے ثم یقول الملئکۃ پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا اھولاء ایاکم کانوا یعبدون کیا یہ لوگ دنیا کی زندگی میں تمہاری عبادت کیا کرتے تھے اس وقت دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں۔ بعض لوگ فرشتوں کے نام پر ہیکل بناتے ہیں۔ بعض ان کو مشکلات میں پکارتے ہیں اور بعض یا جبرائیل یا میکائیل والے تعویذ لکھتے ہیں۔ یہ سب کچھ فرشتوں کی عبادت کرنے کے مترادف ہے تو جب مشرک لوگ اپنے شرک کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کرسکیں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھیں گے کہ کیا یہ لوگ دنیا میں تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟
فرشتے اللہ تعالیٰ کی مقرب مخلوق ہیں ، وہ جسمانیت اور بہمیت سے پاک ہیں ، وہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرنے والے ہیں ، ان کی توجہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رہتی ہے ، وہ جواب دیں گے قالو سبحنک مولا کریم ! تیری ذات ہر قسم کی آلودگی اور نقص و عیب سے پاک ہے انت ولینا من دونھم ان کے سوا تو ہی ہمارا کارساز ہے ، جب ہم خود تیرے محتاج ہیں تو ہم ان کو کیسے کہہ سکتے تھے کہ ہماری عبادت کیا کرو ؟ فتعالی اللہ عما یشرکون (والاعراف 190) تیری ذات بلندو برتر ہے ، ان تمام چیزوں سے جن کو یہ تیری طرف منسوب کرتے ہیں۔ ہم نے تو ان کو کبھی نہیں کہا کہ ہمیں اپنا کارساز سمجھو ، ہم تمہاری مشکلات حل کردیا کریں گے ، لہٰذا بوقت ضرورت ہمیں پکارا کرو۔ فرشتے صاف کہہ دیں گے کہ مولا کریم ! یہ لوگ ہمیں تمہارا شریک بناتے رہے ہیں ہم نے کبھی ان کو اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی تھی ، دوسری جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقربین سے پوچھے گا انتم اضللتم عبادی ھولا (الفرقان) کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا ، کیا تم نے ان کو کہا تھا کہ تمہاری یا مخلوق میں سے کسی دوسرے کی عبادت کریں ؟ مگر سب انکار کردیں گے۔ سورة المائدہ میں موجود ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) سے بھی یہی سوال کریں گے انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ (آیت 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنالو ؟ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو اور ان کی نذر و نیاز دو ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ایسا ہی جواب دیں گے سبحنک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق (آیت 116) مولا کریم تیری ذات پاک ہے میرے لائق ہرگز نہیں تھا کہ میں ایسی بات کرتا جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ اگر میں نے ایسی کوئی بات کی ہے تو تو اس کو جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ میں نے ہرگز ایسی دعوت نہیں دی کہ میری پوجا کیا کرو ، تو یہاں پر فرشتوں کا ذکر ہے کہ ان سے پوچھا جائے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے وہ جواب دیں گے ، مولا کریم ! تیر ی ذات ہر عیب و نقص اور شرک سے منزہ ہے ہم نے ان کو ہرگز نہیں کہا تھا کہ ہماری عبادت کریں۔
فرشتے مزید عرض کریں گے بل کانوا یعبدون الجن بلکہ یہ لوگ تو جنات کی پوجا کیا کرتے تھے۔ اکثرھم بھم مومنون اور ان میں سے اکثر انہیں پر اعتقاد رکھتے تھے۔ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے کام آسکتے ہیں ، جنات کی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور پھر اللہ کے سوا دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سارے بندے ، نبی ، ولی یہی کہتے آئے ہیں کہ عبادت صرف اللہ کی کرو۔ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم (المائدہ 117) جو تمہارا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے۔ وھو رب کل شی (الانعام 25) اور وہی ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہم بھی اسی کی عبادت کی دعوت دیتے رہے۔
اللہ نے فرمایا فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولا ضرا آج کے دن تم ایک دوسرے کے نفع نقصان کے مالک نہیں ہوگے۔ اس دن عابد اور معبود ، تابع اور متبوع کا عجز بالکل نمایاں ہزوگا اور کوئی ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکے گا درحقیقت نفع نقصان کا مالک اللہ ہی ہے مگر دنیا میں اکثر لوگوں کو دھوکہ ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے پر انحصار کرنے لگتے ہیں ، مگر آخرت میں تو حد درجے کی بےبسی ہوگی اور کوئی بھی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ تمام خود ساختہ معبود حتی کہ شیطان بھی بیزاری کا اظہار کردے گا اور کہے گا انی کفرت بما اشرکتمون من قبل (ابراہیم 22) دنیا میں تم مجھے شریک بناتے تھے ، میں بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ، میں نے تو تمہیں گمراہی کی دعوت دی تھی ، شرک کرنے والے تو تم خود ہو۔ اللہ نے تمہیں عقل و شعور عطا فرمایا تھا۔ قد تبین الرشد من الغی (البقرہ 256) ہدایت اور گمراہی کا راستہ بھی واضح ہوچکا تھا۔ اس کے بعد تم نے خود گمراہی کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کفر اور شرک کیا اب اپنی برائی کا خود ہی بھگتان کرو۔
فرمایا قیامت کے دن کوئی بھی ایک دوسرے کے لیے نفع نقصان کا مالک نہیں ہوگا۔ ونقول للذین ظلموا اور ہم ظلم کرنے والوں سے کہیں گے ظاہر ہے کہ سب سے بڑا ظلم تو کفر اور شرزک ہی ہے۔ جیسے فرمایا والکفرون ھم اظلمون (البقرہ 254) اور کافر ہی ظالم ہیں۔ ان الشرک لظم عظیم (لقمان 13) بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے تو اللہ تعالیٰ ظالموں سے فرمائے گا ذوقل عذاب النار التی کنتم بھا تکذبون اب اس دوزخ کا عذاب چکھو جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ مشرک لوگ جس طرح توحید و رسالت کا انکار کرتے تھے اسی طرح قیامت کے بھی منکر تھے اور کہتے تھے کہ جنت دوزخ کچھ بھی نہیں ، محض مولویوں کی بنائی ہوئی کہانیاں ہیں۔ شیطان نے ایسی پٹی پڑھائی تھی لاجنۃ ولا نار ولا حساب و کتاب کہتے تھے نہ کوئی جنت ہے نہ دوزخ ، اور نہ کوئی حساب اور نہ کتاب۔ اللہ فرمائے گا اس انکار کا مزہ اب چکھو۔ سورة الطور میں اس طرح فرمایا ہے اے بدبختو ! اصلوھا فاصبروا اولا تصبروا سوا علیکم (آیت 16) اس جہنم میں داخل ہو جائو اب صبر کرو یا بےصبری تمہارے لیے برابر ہے ، اب یہ سزا تمہیں برداشت کرنی پڑے گی۔
رسالت کا انکار
فرمایا ، ان کا دنیا میں حال یہ ہے واذا تتلی علیہم ایتنا بینت کہ جب ان پر ہماری واضح واضح آیتیں پڑھی جاتی ہیں یعنی ان کے سامنے دلائل ، احکام یا معجزات پیش کئے جاتے ہیں قالوا ما ھذا الا رجل یرید ان یصدکم عما کان یعبد ابائوکم تو کہتے ہیں کہ یہ شخص تمہیں اپنے آبائواجداد کے معبودوں سے روکنا چاہتا ہے۔ یہ نبی یا رسول نہیں ہے بلکہ تمہارے آبائو اجداد کے طریقے سے ہٹانا چاہتا ہے۔ وقالوا ماھذا الا افک مفتری اور ساتھ یہ بھی کہتے کہ جس چیز کو یہ خدا کا کلام قرآن کہتا ہے وہ تو محض افتراء کیا ہوا جھوٹ ہے (نعوذ باللہ) گویا قرآن پاک کا بھی انکار کردیتے ہیں۔ اکثر مشرکین یہی کہتے تھے کہ یہ شخص تمہیں ڈرا دھمکا کر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ، اسی لیے دولت مند اور صاحب اقتدار لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت کرتے تھے۔
پھر یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر یہ شخص اللہ کا نبی نہیں ہے تو پھر لوگ اس کی بات کیوں مانتے ہیں ، جو آدمی ایک دفعہ اس کے قریب آجاتا ہے وہ اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے ، آخر بات کیا ہے ؟ اس بات کے جواب میں مشرکین نے یہ فلسفہ گھڑا ہوا تھا۔ وقال الذین کفروا للحق لما جاء ھمتو کافروں نے حق بات کے متعلق کہا جب کہ وہ ان کے پاس آگئی ان ھذا الا سحر مبین کہ یہ تو کھلا جادو ہے ، کہنذے لگے اس شخص کی بات میں اثر اس لیے ہے کہ اس کے پاس جادو ہے جس کے ذریعے یہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے وگرنہ نہ تو یہ اللہ کا رسول ہے اور نہ ہی قرآن اللہ کا کلام ہے بلکہ یہ تو ایک خود ساختہ چیز ہے جسے اللہ کی طرف منسوب کر رہا ہے (العیاذ باللہ) مشرکوں کا یہ پرانا حربہ ہے کہ جب دلائل کا جواب دلائل سے نہیں دے سکتے تو حقیقت کو جادو سے تعبیر کرکے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں پہلے لوگ بھی جب کوئی نشانی دیکھتے تو کہتے سحر مستمر (القمر 2) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔
نزول قرآن سے قبل تقریباً دو ہزار سال تک عربوں میں کوئی نبی نہیں آیا تھا ، چناچہ ڈیڑھ ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک عرب حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لائے ہوئے دین پر قائم تھے ، ان میں شرک کی بیماری پیدا نہیں ہوئی تھی۔ پھر حضور ﷺ کی بعثت سے تقریباً چار سو سال پہلے قصی ابن کلاب کے زمانے میں شرک کی ابتداء ہوئی۔ ایک شخص عمرو ابن لحی کہیں بیرون ملک سفر پر گیا تو وہاں مورتیاں دیکھیں جو اسے پسند آئیں اور وہ انہیں ساتھ لے آیا اور یہاں آکر بھی ان کی ویسی ہی نذر و نیاز شروع کردی جیسے اس ملک میں لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ سب سے پہلے جانور بھی اس شخص نے غیر اللہ کی نذر کیے۔ اس کی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور اس طرح عرب میں بھی شرک ہونے لگا۔
اللہ نے اسی چیز کا یہاں ذکر کیا ہے وما اتینھم من کتب ید رسونھا ہم نے ان عربوں کو کوئی کتابیں بھی نہیں دی تھیں جنہیں یہ پڑھتے پڑھاتے ہوں وما ارسلنا الیھم قبلک من نذیر اور نہ ہی ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے (اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد) کوئی ڈر سنانے والا یعنی نبی بھیجا۔ بنی اسماعیل کے بہت سے قبیلے تھے اور ساری عرب آبادی انہی قبائل پر مشتمل تھی بلکہ ان کی عجم یعنی خراسان وغیرہ میں بہت سی آبادیاں تھیں مگر دو ہزار سال تک یہ وحی الٰہی سے محروم تھے۔ تو اللہ نے ان پر یہ احسان جتلایا ہے کہ اتنے عرصہ تک کسی کتاب اور نبی سے محروم رہنے کے بعد ہم نے تمہاری طرف آخری نبی اور اللہ کی آخری کتاب بھیجی ہے مگر تم نے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے نہ نبی کو تسلیم کیا ہے اور نہ کتاب کو مانا ہے یہ کس قدر بدبختی کی بات ہے۔
سابقہ اقوام کا حشر
ارشاد ہوتا ہے وکذب الذین من قبلھم اور ان سے پہلے لوگوں نے بھی اللہ کے نبیوں اور ان کی لائی ہوئی کتابوں اور نشانیوں کو جھٹلایا۔ اب اللہ نے مشرزکین مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہہ کی ہے کہ اگر انہوں نے بھی اپنے پیغمبر کو جھٹلایا تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔ فرمایا وما بلغوا معشارما اتینھم ان کو تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیا گیا جو ان کو عطا کیا گیا تھا ، عام طور پر معشار کا معنی دسواں حصہ ہوتا ہے اور لغت کے امام جوہری کہتے ہیں کہ معشار مبالغے کا صیغہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ سابقہ اقوام کی نسبت عرب لوگ دسویں حصے کی بھی مالک نہیں تاہم بعض دوسرے لغت کے امام اس کا معنی عشر العشیر یعنی دسویں کا دسواں حصہ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو سواں یا ہزارواں حصہ بھی نہیں ملا۔ نہ تو عربوں میں پہلے لوگوں کی سی جسمانی قوت ہے جیسے کہ قدیم مصریوں ، عاد ، ثمود ، کلدانیوں اور آشوریوں کو حاصل تھی اور نہ ان جتنا مال و دولت اور اقتدار ہی حاصل ہے۔ عربوں کے پاس تو ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے یہ کس چیز پر تکبر کرتے ہیں اور حق کی مخالفت کرتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا فکذبوا رسلی ان پہلے لوگوں نے بھی میرے رسولوں کو جھٹلایا۔ فکیف کان نکیر پھر کیسی ہوئی میری گرفت ، قوم نوح ، قوم شعیب ، قوم سبا ، الٹی بستی والے اور دیگر نافرمانوں میں سے کیا فرد واحد بھی اللہ کے عذاب سے بچ سکا ؟ نہیں بلکہ سب تباہ و برباد ہوئے جب وہ نہیں بچ سکے جو ان سے ہزار درجے زیادہ طاقتور اور مالدار تھے تو ان کی کیا حیثیت ہے ؟ ان کو بھی اپنا انجام یاد کرلینا چاہئے ، چناچہ ایسا ہی ہوا حق کے مخالفین ذلیل و خوار ہوئے اور خدا تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔
Ayahs 34:46–54ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کے باطل نظریات کا رد ہوا وہ بدبخت پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت و نبوت کا انکار کرتے تھے اور قرآن پاک کو کلام الٰہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، پھر جب قرآن کے اثر انداز ہونے کی بات ہوئی تو اسے جاننے سے تعبیر کرتے۔ اللہ نے مشرکین کو سخت تنبیہ کی اور اب آخر میں نصیحت کے پیرائے میں فرمایا کہ اگر مشرک لوگ ذرا بھی غور و فکر کریں تو یقینا اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضور ﷺ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ان کا لایا ہوا قرآن اللہ کی برحق کتاب ہے۔ قیامت یقینا آنے والی ہے اور سب کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے سابقہ ادوار کے مشرکوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے ۔
غور و فکر کی دعوت
ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں انما اعظ بکم بواحدۃ بیشک میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے ان تقوموا للہ منی و فرادی کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے یعنی دو دو یعنی باجماعت بھی اور اکیلے اکیلے بھی۔ ثم تتفکروا پھر خوب غور و فکر کرو۔ حضور ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، انہوں نے تمہارے سامنے ایک پروگرام رکھا ہے ، تم اس شخص کے ماضی اور حال سے اچھی طرح واقف ہو بیشک تم تنہائی میں اس بات پر غور کرو یا اجتماعی طور پر کوئی مجلس منعقد کرکے سوچو سمجھو۔ اجتماعی سوچ و بچار میں بات کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ جب مختلف آرا کا موازنہ کیا جاتا ہے تو حقیقت کا پتہ چل جاتا ہے لہٰذا فرمایا کہ انفرادی طور پر اس معاملہ میں غور کرو یا اجتماعی طورز پر اور پھر یہ سوچ بچار کسی تعصب اور عناد کی بناء پر نہیں بلکہ خالص اللہ کی خاطر حقائق معلوم کرنے کے لیے ایسا کرو گے تو بلاشبہ اسی نتیجہ پر پہنچو گے مابصاحبکم من جنۃ کہ تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی صفائی میں فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ آپ کو دیوانہ ، بعض شاعر اور بعض ساحر کہتے ہیں مگر جب اس کے افعال و کردار پر نظر کرو گے اور تعلیم میں غور و فکر کرو گے تو اس میں دیوانگی والی کوئی چیز نہیں پائو گے۔
اس مقام پر پیغمبر (علیہ السلام) کے لیے صاحب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورة التکویر میں ہے وما صاحبکم بمجنون (آیت 23) تمہارا صاحب مجنون یا دیوانہ نہیں ہے۔ وما ھو علی الغیب بضنین (آیت 23) اور وہ غیب کی باتوں پر تنگ دل بھی نہیں ہے اور تمہیں آپ کی حقیقت معلوم کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہئے ، کیونکہ تم اسے بچپن سے جانتے ہو اور اس کے عادات واطوار اور اخلاق سے واقف ہو۔ انہوں نے خود تمہیں غورو فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ہے فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ (یونس 16) میں نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ تم میں گزارا ہے ، کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کیا تمہیں میری صداقت و امانت میں کوئی شک ہے ؟ صاحب کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ اسی قوم کے فرد تھے انہی میں آپ کی پیدائش ہوئی ، وہیں بڑے ہوئے اور عمر کا ایک حصہ ان میں گزارا جو شخص چالیس سال تک جھوٹ نہیں بول سکتا ، وہ یکایک کیسے کذب بیانی کرنے لگے گا۔
جب حضور ﷺ (بخاری ص 702 ج 2 و ص 743 ج 2 و مسلم ص 112 ج 1) کو نبوت ملی اور اللہ تعالیٰ نے تبلیغ حق کا حکم دیا تو آپ نے لوگوں کو آواز دے کر کوہ صفاء پر جمع کیا تقریباً چالیس آدمی اکٹھے ہوگئے ، آپ نے ان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کی دوسری طرف سے دشمن تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے ؟ سب نے بیک زبان جواب دیا کہ ہم ضرور تصدیق کریں گے کیونکہ ما جرینا علیک کذبا ہم نے کبھی آپ کی زبان سے جھوٹ نہیں سنا۔ آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کی گرفت سے ڈرا رہا ہوں ، ایک وحدہ لا شریک پر ایمان لے آئو اور ان بتوں کی پوجا کو چھوڑ دو ۔ اب اتنی بات کی تو لوگوں نے پتھر مارنے شروع کردیے۔ اس مقام پر بھی فرمایا کہ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں ایک بات کی کہ تم اجتماعی طور پر یا انفرادی حیثیت سے غور و فکر کرو گے تو تمہیں پتہ چلے گا کہ تمہارا یہ ساتھی دیوانہ نہیں ہے ، بلکہ وہ تو علم و عرفان اور حکمت و دانائی کے سمندر بہا رہا ہے وہ قوم کا خیر خواہ ہے اور ایسے دلائل کے ساتھ بات سمجھاتا ہے جو عقل اور نقل دونوں کے مطابق ہیں۔ اس کی حیثیت یہ ہے ان ھو الا نذیر لکم بین یدی عذاب شدید وہ تو تمہیں شدید عذاب سے پہلے ڈر سنانے والا ہے۔
ذاتی مفاد کی نفی
آگے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی طرف سے تبلیغ دین کے سلسلے میں کسی ذاتی مفاد کی نفی فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل ما سالکم من اجرفھو لکم اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر میں تم سے کوئی معاوضہ طلب کروں تو وہ تمہارے لیے ہے ، مطلب یہ ہے کہ میں اپنے فرض منصبی کی ادائیگی کے لیے اور تمہیں وعظ و نصیحت کرنے کے لیے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ ان اجری الا علی اللہ میرا معاوضہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، مجھے میری محنت کا صلہ وہی دے گا۔ تم اپنا معاوضہ اپنے پاس رکھو ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میری یہ خدمت بےلوث ہے تمام انبیاء دین کا کام بلا معاوضہ کرتے ہیں اور اس کا اجر اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ وھو علی کل شئی شہید اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے یعنی اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ وہ میری نیت اور سچائی کو بھی جانتا ہے اور تمہاری مخالفت اور بدگوئی بھی اللہ کے سامنے ہے۔ تمہیں نصیحت کرنے میں میرا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔
فرمایا قل ان ربی یقدف بالحق آپ کہہ دیں کہ بیشک میرا پروردگار ہی حق کو نازل کررہا ہے یعنی دین حق کو وہی پیش کر رہا ہے۔ وہ اپنا کلام نبی (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر اتارتا ہے ، پھر وہ کتاب کی صورت میں پوری بنی نوع انسان کے لیے لائحہ عمل اور مدار فوز و فلاح بن جاتا ہے۔ قذف کا لفظی معنی پھینکنا یا ڈالنا ہوتا ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ حق کو باطل پر ڈالتا ہے تو باطل دب جاتا ہے۔ فرمایا علام الغیوب اللہ تعالیٰ پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے۔ وحی الٰہی کیا ہے ؟ گویا آسمان سے باران رحمت نازل ہوتی ہے اب یہ انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اس رحمت سے اپنے دامان کو بھرلیں اور اسے اپنے لیے نجات کا ذریعہ بنالیں۔
فرمایا قل جاء الحق آپ کہہ دیجیے کہ حق آگیا ہے ، سچا دین نازل ہوچکا ہے وما یبدی الباطل وما یعید اس کے مقابلے میں باطل نہ تو کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے اور نہ کسی چیز کو لوٹاسکتا ہے۔ گویا باطل کی نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ اس کے اثرات ، فتح مکہ کے دن حضور ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس کے ذریعے آپ بتوں کو گراتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ یہ فرماتے تھے جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا (بنی اسرائیل 81) حق آگیا اور باطل چلا گیا۔ بیشک باطل کو جانا ہی تھا۔ ساتھ ساتھ یہ آیت بھی آپ تلاوت فرماتے جاتے تھے قل جاء الحق وما یبدی الباطل وما یعید مطلب یہی ہے کہ غالب ہمیشہ حق ہی ہوتا ہے اور باطل تو بہرحال باطل ہے جو نہ کسی چیز کی ابتدا کرسکتا ہے اور نہ اس کا اعادہ کرسکتا ہے۔ ہر چیز کا خالق مالک مدبر اور متصرف اللہ تعالیٰ ہے اس میں کسی باطل کا کوئی دخل نہیں ہے۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کا ایک خاص انداز اپنے نبی کو سکھایا ہے قل ان ضللت فانما اضل علی نفسی اے پیغمبر ! آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں کہ اگر میں دین کے معاملہ میں بہکا ہوا ہوں تو اس کا نقصان میری ہی جان کو ہوگا۔ اس کا وبال تم پر تو نہیں پڑے گا و ان اھتدیت فبما یوحی الی ربی اور اگر میں راہ راست پر ہوں اور یقینا ایسا ہی ہے تو پھر یہ اس وحی کی برکت سے ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے۔ اگر تمہارے نزدیک میں اپنے دعویٰ میں سچا نہیں ہوں تو اس کا نتیجہ بھی مجھے ہی بھگتنا پڑے گا تم پر تو کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ فرمایا جس نے میری طرف وحی نازل کی ہے انہ سمیع قریب وہ سب کچھ سننے والا اور بالکل قریب ہے۔ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بنانا چاہتا ہے ، لہٰذا وہ میری سرپرستی کرتا رہے گا یہ تو تمہاری اپنی بدبختی ہے کہ خواہ مخواہ میری مخالفت کرکے دین و دنیا میں نقصان زدہ بن رہے ہو۔
آخرت میں لازمی گرفت
فرمایا آج تو یہ منکرین اور مکذبین طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں مگر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ولو تری اذ فزعوا اے مخاطب اگر تو ان کی حالت کو دیکھے جب کہ یہ گھبراجائیں گے فلافوت واحذوا من مکان قریب تو ان کو کہیں بھاگنے کا موقع نہیں دیا جائے گا اور یہ قریبی مقام پر ہی پکڑ لئے جائیں گے۔ دنیا میں تو جرم کرکے بھاگ جانے کا امکان بھی ہوتا ہے مجرم روپوش ہوجاتے ہیں مگر اللہ کی عدالت کے فیصلے کے وقت ان کے فرار کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ فوراً گرفت میں آجائیں گے اور اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
پھر جب عذاب الٰہی کو اپنے سامنے دیکھیں گے وقالوا امنا بہ تو اس وقت کہیں گے کہ ہم اللہ پر ، اس کے رسولوں پر ، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں مگر اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا ہوگا۔ دارالعمل سے گزر کر دار الجزا میں پہنچ چکے ہوں گے وانی لھم التناوش من مکان بعید تو اس وقت ان کا دور سے ایمان کو پالینا کہاں ممکن ہوگا۔ اس وقت کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوگی اور خدائی فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ اس قسم کا مضمون سورة الحدید میں بھی آتا ہے۔ اہل ایمان مرد و زن پل صرات پر سے گزر رہے ہوں گے۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف چل رہا ہوگا۔ ان کے پیچھے منافق لوگ گھپ اندھیرے میں گرتے پڑتے آرہے ہوں گے اور پیچھے سے اہل ایمان کو آواز دیں گے کہ ہماری طرف نظر شفقت کریں کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کرسکیں ، مگر آگے سے جواب آئے گا قیل ارجعوا وراء کم فالتمسوا نورا (آیت 13) پیچھے لوٹ جائو اور وہاں سے نور تلاش کرو۔ اب روشنی کہاں میسر آئے گی۔ یہ نور حاصل کرنے کا موقع تو دنیا میں تھا جس کو تم نے ضائع کردیا۔ اب نہ تم دنیا میں واپس جاسکتے ہو اور نہ نور ایمان حاصل کرسکتے ہو۔
ارشاد ہوگا وقد کفروا بہ من قبل وہ اس سے پہلے ایمان اور توحید کا انکار کرچکے ہیں۔ مگر اب ان کا ایمان لانا کچھ مفید نہیں ہوگا۔ ویقذفون بالغیب من مکان بعید اور یہ بغیر دیکھے دور جگہ سے پھینکتے ہیں (یعنی بات ہانکتے ہیں) بالکل اسی طرح جس طرح کوئی بےتکا تیر چلا دیا جاتا ہے اور وہ کسی ان دیکھی منزل پر جا گرتا ہے اور پھر وحیل بینھم و بین ما یشتھون پھر ان کے اور ان کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی کما فعل باشیا عھم من قبل جیسا کہ انہی جیسے لوگوں کے ساتھ اس سے پہلے کیا گیا۔ سابقہ اقوام کے لوگوں نے بھی آخری وقت میں ایمان لانے کا اقرار کیا مگر وہ بےسود گیا فرعون نے بھی کہا تھا کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایا ، مگر اس وقت گرفت آچکی تھی اور وہ بمع قوم پانی کی موجوں میں غوطے کھا رہا تھا۔ اللہ نے فرمایا الن وقد عصیت قبل (یونس 91) اب ایمان لاتے ہو حالانکہ ساری عمر نافرمانی میں گزار دی۔ اللہ کے نبی کو ڈراتے دھمکاتے رہے اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے رہے ، اب تمہارا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ بہرحال جب عمل کی دنیا سے نکل کر انسان جزا کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی دنیا میں واپس جا کر ایمان لانے کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی ، کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
فرمایا پہلے لوگوں کی طرح ان کی خواہش بھی اب پوری نہیں ہوسکتی کیونکہ انھم کانوا فی شک قریب دنیا کی زندگی کے دوران یہ لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور قیامت کی طرف سے تردد انگیز شک میں پڑے رہے۔ انہیں نبیوں کی بات پر یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ سچی بات کہہ رہے ہیں یا غلط۔ وحی الٰہی پر اعتبار نہیں آتا تھا۔ وقوع قیامت اور جزائے عمل کو من گھڑت کہانیاں بتلاتے تھے اور اسی طرح گویا ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے فرمایا اب ان کا ایمان کہاں سے آئے گا ، اب تو وقت ہی گزرچکا ہے لہٰذا ان کی خواہش پوری نہیں ہوسکے گی۔