34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 34:18–21

وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ الْقُرَى الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِیْهَا السَّیْرَ١ؕ سِیْرُوْا فِیْهَا لَیَالِیَ وَ اَیَّامًا اٰمِنِیْنَ Open ayah 34:18 in the Quran reader

اور بنائی تھیں ہم نے ان (سبا والوں) کے درمیان اور برکت والی بستیوں (شام و فلسطین) کے درمیان نمایاں بستیاں اور ٹھہرائی تھی ہم نے ان کے درمیان موزوں مسافت (حکم تھا) چلو ان میں راتوں کو اور دن کو پر امن

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 34:19 in the Quran reader

پس کہا انہوں نے اے ہمارے پروردگار ! دوری ڈال دے ہمارے سفروں میں اور زیادتی کی انہوں نے اپنی جانوں پر بس بنا دیا ہم نے ان کو قصے کہانیاں اور ہم نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صابر اور شاکر شخص کے لیے

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْهِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:20 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق سچ کر دکھایا ان پر ابلیس نے اپنے گمان کو ، پس انہوں نے اس کا اتباع کیا سوائے مومنین کے ایک چھوٹے سے گروہ کے

وَ مَا كَانَ لَهٗ عَلَیْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِیْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ۠ Open ayah 34:21 in the Quran reader

اور نہیں تھا اس (ابلیس) کا ان پر کوئی غلبہ مگر تاکہ ہم ممتاز کردیں اس کو جو ایمان رکھتا ہے آخرت پر اس شخص سے جو اس سے شک میں پڑا ہوا ہے اور تیرا پروردگار ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا ہے۔

ربط آیات اس رکوع میں اللہ نے قوم سبا کا ذکر فرمایا ہے۔ گزشتہ آیات میں پہلے اس قوم پر کئے جانے والے انعامات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ہم نے ان کو شہروں کی پرامن زندگی اور ہر طرح کی خوشحالی عطا فرمائی تھی مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے سے اعراض کیا تو اللہ نے تاریخی ڈیم میں سے تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات اور شہری آبادیاں تباہ و برباد کردیں اور ان کی زمین سے زرخیزی کی صلاحیت ہی ختم کردی۔ اب پھلدار درختوں کی بجائے وہاں جنگلی جھاڑ بوٹ اگتا تھا جو یا تو بےپھل ہوتا تھا یا اس کا پھل کڑوا کسیلا تھا۔ البتہ بہت کم مقدار میں بعض جگہ جنگلی بیر ہوجاتے تھے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم سبا کے کچھ مزید حالات بیان فرمائے ہیں۔ نمایاں بستیاں ارشاد ہوتا ہے وجعلنا بینھم و بین القری التی برکنا فیہا قری ظاہرہ اور بنا دیں ہم نے ان سبا والوں کے درمیان اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکت رکھی ہے۔ نمایاں بستیاں بابرکت بستیوں سے مراد شام و فلسطین کی بستیاں ہیں جن کو اللہ نے ظاہری اور باطنی برکات سے نوازا ہے۔ یہ سرسبز و شاداب علاقہ اللہ کے نبیوں کا مرکز رہا ہے۔ اللہ نے اس خطہ میں بہت سے نبیوں کو مبعوث فرمایا جن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد شامل ہے اور وہیں ان کی قبریں بھی ہیں اس سے مراد وہی بیت المقدس اور اردگرد کی بستیاں ہیں جن کے متعلق اللہ نے معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے الی المسجد الاقصی الذی برکنا حولہ مسجد اقصی کی طرف لے گیا جس کے اردگرد کو ہم نے بابرکت بنایا ہے نمایاں بستیوں سے مراد متمدن ، خوشحال اور دور سے نظر آنے والی واضح بستیاں ہیں ، یہ ایسی بستیاں تھیں وقدر منہ فیہا السین کے درمیان ہم نے خاص انداز کے مطابق مسافت رکھی تھی۔ مذکورہ نمایاں بستیاں یمن سے لے کر شام و فلسطین تک آباد تھیں۔ اس زمانے میں سڑکیں وغیرہ تو نہیں تھیں بجارتی اور دوسرے قافلے خچروں یا اونٹوں پر سفر کرتے تھے۔ سواری کے لیے گھوڑے بھی استعمال ہوتے تھے۔ تاہم باربرداری کے لیے زیادہ انونٹوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ یمن سے شام تک چالیس دن کی مسافت تھی۔ عام طور پر ریگستانی علاقوں میں آبادی بہت کم ہوتی ہے مگر اس علاقے میں موزوں مسافت پر جگہ جگہ بستیاں آباد تھیں جن کی وجہ سے مسافروں کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ ان آبادیوں میں مسافروں کو خوراک اور ضروریات زندگی میسر آجاتی تھیں۔ راستہ پرامن تھا اور دن اور رات کے سفر میں مسافروں کو کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی۔ اللہ نے اپنے اسی انعام کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم نے اس لق و دق صحرا میں مناسب فاصلے پر نمایاں بستیاں آباد کردی تھیں تاکہ تمہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ فرمایا اس راستے کے متعلق تمہیں حکم تھا سیرو فیہا لسانی وایاما امنین کہ یہاں پر دن رات پرامن سفر کرو۔ صاحب تفسیر مظہری (مظہری ص 22 ج 1 فیاض) تاریخی روایتوں سے بیان کرتے ہیں کہ یمن سے لے کر شام تک اس شاہراہ پر چار ہزار سات سو شہر ، قصبے اور دیہات تھے۔ اس راستے سے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت ہوتی تھی۔ یمن کے ساحل کے بالمقابل ہندوستان (موجودہ پاکستان) کا ساحل ہے لہٰذا ہندوستان کا تجارتی مال یمن کے ساحل پر اتر کر اونٹوں کے ذریعے شام و فلسطین پہنچتا اور وہاں سے مصر اور دوسرے افریقی ممالک تک جاتا۔ اسی طرح افریقہ کا مال سبا اور یمن کے راستے ہندوستان واپس جاتا۔ چناچہ یہ شاہراہ سارا سال مصروف رہتی اور یہ نمایاں بستیاں بھی پر رونق رہتیں۔ چین تک کا تجارتی مال اسی راستے سے آتا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ حج اور عمرے کرنے والے لوگ بھی اسی راستے سے آتے جاتے تھے اور ان نمایاں بستیوں کی وجہ سے انہیں بڑا آرام تھا۔ ٹھہرنے کے لیے سرائیں تھیں اور ضروریات کی اشیاء بھی مل جاتی تھیں۔ سبا کی یہ آبادی مسیح (علیہ السلام) سے آٹھ سو سال قبل اپنے جوبن پر تھی ، پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعد اور حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے اس علاقے کو ملیا میٹ کردیا گیا جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ ” ارض القرآن “ کے مصنف لکھتے ہیں (ارض القرآن ص 268 ج 1 فیاض) کہ سبا کی دولت کا انحصار زیادہ تر تجارت پر تھا۔ یہ لوگ کاشتکاری بھی کرتے تھے اور ان کے باغات سینکڑوں مربع میل پر پھیلے ہوئے تھے۔ اس علاقے کے ایک طرف ہندوستان کا ساحل اور دوسری طرف افریقہ کا ساحل ہے۔ دونوں براعظموں کے درمیان خوب تجارت ہوتی تھی۔ سونا ، قیمتی پتھر ، مصالحے ، خوشبو ، ہاتھی دانت وغیرہ کا لین دین ہوتا تھا۔ برصغیر کا مال یمن کے ساحل پر اترتا اور پھر وہاں سے خشکی کے راستے حجاز سے ہوتا ہوا ، شام و فلسطین اور آگے افریقہ تک جاتا تھا اور پھر اسی راستے سے واپسی تجارت ہوتی۔ اس شاہراہ کو قرآن پاک میں ” امام مبین “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسی سفر کو سورة قریش میں رحلۃ الشتاء والصیف یعنی موسم گرما اور سرما کے سفر کا نام دیا گیا ہے۔ مسیح (علیہ السلام) سے 194 سال قبل ایک یونانی مورخ لکھتا ہے کہ حضر موت سے لے کر سبا تک چالیس روز کا راستہ تھا۔ وہاں سے مال تجارت شتروں پر ایل یعنی عقبہ تک پہنچتا تھا اور اس طرح اہل سبا مشرق کا مال مغرب کو اور مغرب کا مال مشرق کو پہنچا دیتے تھے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اہل سبا کو بڑی آسودگی بخشی تھی ، ان کا فرض تھا کہ وہ ہماری نعمتوں کی قدردانی کرتے۔ اس کے برخلاف فقالو ربنا بعد بین اسفارنا کہنے لگے پروردگار ! ہمارے سفروں کو لمبا کردے ہم سنتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں دوران سفر بڑی مشکلا ت پیش آتی ہیں مگر ہمارے سفر تو نہات پرامن اور پر سہولت ہیں اور ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ ہمارے سفروں کو بھی اتنا طویل کردیا جائے کہ ہم بھی مصائب کا مزہ چکھیں۔ شاہ عبدالقادر اس موقع پر لکھتے ہیں کہ ان لوگوں کو مستی آئی اور یہ خود اپنے لیے تکلیف مانگنے لگے۔ انہوں نے بالکل بنی اسرائیل والی بات کی کہ صحرا نوردی کے دوران اچھے خاصے من وسلویٰ کی بجائے لہسن ، پیاز اور سبزی تر کاری طلب کرنے لگے۔ فرمایا انہوں نے خود اپنے لیے بدعا کرلی وظلموا انفسہم اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ، ان کی اس دعا کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک تو سیلاب نے ان کے باغات ، کھیتیاں ، مکان اور ذخائر تباہ کردیے اور دوسرے وہاں کی زمین کی نشونما کی قوت ہی ختم ہوگئی اور وہاں جھاڑیوں کے علاوہ کچھ ہوتا ہی نہیں تھا۔ گھر بھی تباہ ہوگئے اور مال و دولت بھی جاتا رہا۔ اب ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اس سرزمین کو خیرباد کہہ کر کسی دوسری جگہ چلے جائیں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ درس میں عرض کیا تھا۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد اہل سبا کے چھ خاندان یمن میں اور چار شام و فلسطین میں جا آباد ہوئے اور اس طرح یہ مصروف ترین شاہراہ بھی بند ہوگئی۔ فرمایا اس سرسبز و شاداب علاقے سے قوم سبا کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ فجعلنھم احادیث ہم نے ان کو افسانے بنا کر رکھ دیا۔ ایسی بربادی آئی کہ ان کا نام صرف تاریخ تک محدود ہو کر رہ گیا۔ لوگ ان کی خوشحالی ، جاہ و حشمت ، تاریخی ڈیم اور پھر ان کی تباہی کی داستانیں عبرت کے طور پر سنتے سناتے تھے۔ فرمایا ومن قنھم کل ممزق اور ہم نے ان کا شیرازہ اس طرح بکھیرا کہ پارہ پارہ کرکے رکھ دیا ، کوئی کدھر چلے گئے اور کوئی کسی دوسری جگہ جا آباد ہوئے۔ ارض قرآن (ارض القرآن ص 269 ج) کے مصنف یہ بھی لکھتے ہیں کہ اہل سبا کے زوال کے بعد یونانیوں اور رومیوں نے مصر اور شام پر قبضہ کرلیا اور ہندوستان اور افریقہ کے درمیان تجارت کو بری راستے سے بحری راستے پر ڈال دیا اب تجاری مال بحر احمر کے راستے سواحل مصر و شام پر اترنے لگا۔ اس طریق تجارت نے یمن سے شام تک بری راستے کی خاک اڑادی اور سبا کی تمام بستیاں ویران ہوگئیں۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور بیشک اس میں ہر صابر و شاکر آدمی کے لیے نشانیاں ہیں جو شخص یا قوم خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر ادا کرتی ہے اور مصائب پر صبر کا اظہار کرتی ہے وہ سمجھ سکتی ہے کہ ناشکر گزاری کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور خدا کی ناراضگی کس طرح شامل حال ہوتی ہے۔ اس قسم کے واقعات بلاشبہ نشانات عبرت ہیں۔ شیطان کی کارگزاری اللہ نے ارشاد فرمایا ہے ولقد صدق علیہم ابلیس ظنہ اور البتہ تحقیق شیطان نے ان لوگوں پر اپنا گمان سچا کر دکھایا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے وقت ہی شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ تو نے آدم کو مجھ پر برتری عطا کی ہے لا حتنکن ذریتہ (بنی اسرائیل 62) میں اس کی اولاد کے منہ میں ضرور لگام ڈالوں گا اور انہیں گمراہ کمروں گا چناچہ ابلیس نے اہل سبا کو گمراہ کرکے ناشکری پر مائل کیا جو ان کی تباہی کا سبب بن گیا اور اس طرح ابلیس نے انسان کے متعلق اپنا گمان سچا کر دکھیا۔ فاتبعہ الا فریق من المومنین پس اہل سبا نے شیطان کا اتباع کیا سوائے ایمان والوں کے ایک گروہ کے جس نے شیطان کا اتباع نہ کیا بلکہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر دانی کرتے رہے ، اس کی وحدانیت اور نبیوں کے بتائے ہوئے راستے پر قائم رہے۔ آگے اللہ نے مزید وضاحت فرمائی وما کان لہ علیہم من سلطن اور شیطان کا ان لوگوں پر کوئی غلبہ نہیں تھا الا لنعلم من یومن بالاخرۃ ممن ھو منھا فی شک مگر اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ ہم جان لیں کہ کون آدمی آخرت پر یقین رکھتا ہے اور کون اس بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ اگرچہ لنعلم کا معنی جاننا ہی ہے مگر خدا تعالیٰ تو ہر چیز کو ازل سے ابد تک جانتا ہے۔ لہٰذا یہاں پر جاننے کا مطلب ظاہر کرنا یا ممتاز کرنا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ اہل ایمان اور منکرین کو لوگوں کے سامنے ظاہر کردے اور دونوں گروہوں کو الگ الگ کردے تاکہ ہر ایک کا جزائے عمل اس کی کارگاری کے مطابق واقع ہوسکے۔ یہ تو محض لوگوں کا امتحان تھا وگرنہ شیطان کے بس کی یہ بات نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے زبردستی کوئی غلط کام کرواسکے۔ یہ تو لوگوں کے امتحان کے لیے شیطان کو ذرا چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ وسوہ اندازی کرلے ، پھر ہم دیکھ لیں گے کہ کون اس کے جھانسے میں آتا ہے اور کمون ایمان پر قائم رہتا ہے۔ فرمایا یاد رکھو وربک علی کر شی حفیظ آپ کا پروردگار ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا ہے ہر چیز کی حفاظت اس کے اختیار میں ہے اس کی اجازت کے بغیر انسان کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی مگر جب انسان خود ہی دعوت دے رہا ہزو تو پھر اس کے بچ نکلنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی۔ اللہ نے سرکشی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو تنبیہ بھی فرمادی۔
Ayahs 34:22–23

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۚ لَا یَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا لَهُمْ فِیْهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّ مَا لَهٗ مِنْهُمْ مِّنْ ظَهِیْرٍ Open ayah 34:22 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے (اے پیغمبر ! ) پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو (معبود) اللہ کے سوا نہیں مالک و مقدار ایک ذرے کے آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ اور نہیں ان کے لیے ان دونوں میں کسی قسم کی کوئی شراکت اور نہیں ہے اس (اللہ) کے لیے ان میں سے کوئی مددگار

وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَا١ۙ قَالَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوا الْحَقَّ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 34:23 in the Quran reader

اور نہیں کام دے گی سفارش اس (اللہ) کے پاس مگر اس کے لیے جس کے لیے وہ اجازت دے۔ یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے ان (فرشتوں) کے دلوں سے تو کہتے ہیں کیا فرمایا تمہارے پروردگار نے ؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے حق بات فرمائی ہے اور وہ بلند ہے اور بڑائی والا ہے

اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے جو مضمون ذکر کیا تھا اس کو لوٹیا جارہا ہے۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے تھے اور شرک کا رد فرمایا تھا۔ درمیان میں اپنے شکر گزار بندوں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا حال ذکر کیا۔ پھر قوم سبا کا ذکر ہوا کہ اللہ نے ان کو آسودہ زندگی اور ہر قسم کے انعامات سے نوازا تھا مگر انہوں نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ، غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے تو اللہ نے ان پر تباہ کن سیلاب بھیج کر ان کے باغات کو اکھیڑ دیا ، کھیتیاں ویران ہوگئیں ، مکانات زمین بوس ہوگئے اور اس طرح وہ سزا کے مستحق ٹھہرے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے ناشکر گزاروں کو دنیا میں بھی سزا ملتی ہے اور آخرت میں تو وہ دائمی عذاب کے مستحق ہوں گے اب آج کی آیات کا ربط سورة کے ابتدائی مضمون توحید کے اثبات اور شرک کے رد سے ہے۔ ان کا تعلق گزشتہ آیات کے ساتھ بھی ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑی ناشکرگزاری یہ ہے کہ وہ اپنے معبود حقیقی کے حق کو نہ پہچانے اور اس کی توحید پر ایمان لانے کی بجائے کفر و شرک کا راستہ اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی شکر گزاری یہ ہے کہ انسان اللہ کی وحدانیت کو صحیح طریقے پر تسلیم کرے۔ اس کے حق کو پہچانے اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرے۔ شرک کی بہت سی صورتیں ہیں ، لوگ اللہ کی ذات کے ساتھ بھی شرک کرتے ہیں اس کی صفات میں بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کی عبادت میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ بعض نذر و نیاز کی صورت میں شرک کرتے ہیں اور بعض گلے میں صلیب لٹکا کر یا دھاگہ باندھ کر شرک فی العادت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بعض لوگ تصویروں کی تعظیم کرتے ہیں جو کہ شرک ہی کی علامات ہے اللہ نے سورة انعام میں شرک کی مختلف صورتیں بیان کرکے ان کی تردید فرمائی ہے۔ الغرض ! اللہ نے شرک کا رد کرتے ہوئے اس مقام پر فرمایا ہے قل ادعوا الذین لی عمتم من دون اللہ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ پکارو تم ان کو جن کو تم اللہ کے سوا گمان کرتے ہو کہ یہ ہماری حاجتیں پوری کرتے ہیں یا ہماری مشکلات حل کرتے ہیں۔ تم سمجھتے ہو کہ ان میں بھی الوہیت کی کوئی چیز پائی جاتی ہے۔ ذران ان کو پکار کر تو دیکھو کہ یہ تمہاری کون سی حاجت براری کرتے ہیں۔ یہودی عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں اور عیسائی مسیح (علیہ السلام) کو الہ مانتے ہیں۔ مشرکین مکہ و عرب لات ، منات اور عزیٰ وغیرہ سے مشکلات حل کرواتے تھے ، یہ سب شرکیہ باتیں ہیں ، جو نزول قرآن کے زمانہ میں پائی جاتی تھیں اور آج بھی بدستور موجود ہیں۔ اللہ نے انہی کا رد فرمایا ہے۔ شرک فی التدبیر والعبادت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے اور خالق ہونے میں کوئی بھی شرک نہیں کرتا خواہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو البتہ مشرک لوگ تیسرے اور چوتھے درجے یعنی تدبیر اور عبادت کے معاملہ میں آکر پھنس جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ دوسرے بھی تدبیر کرکے ہمارا کام بنا دیتے ہیں ، حالانکہ اہل ایمان کا پختہ عقیدہ وہی ہے جو قرآن پاک نے بیان کیا ہے یدبر الامر من السماء الی الارض (السجدۃ 5) آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کی تدبیر خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے جس میں کسی کو دخل نہیں نجومی لوگ قسمت کے بنائو بگاڑ کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ اس میں ان کا بھی کوئی دخل ہوتا ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے اختیار عیسیٰ (علیہ السلام) کو سونپ رکھے ہیں لہٰذا وہ بھی لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں بعض لوگ دوسری ہستیوں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ خدا تو نہیں مگر اللہ نے ان پر الوہیت کی چادر ڈال رکھی ہے اور ان کو تصرف کا اختیار دے رکھا ہے۔ یہ شرک فی التدبیر ہے۔ اس مقام پر بھی اللہ نے شرک کی اسی قسم کا ذکر کیا ہے کہ مشرک لوگ جن ہستیوں کو اللہ کے سوا کارساز مانتے ہیں لا یملکون مثقال ذرۃ فی السموت والا فی الارض وہ تو آسمان و زمین میں ذرہ بھر کے بھی مالک نہیں ہیں ، خالق بھی اللہ ہے مالک بھی وہی ہے اور تصرف بھی اسی کو حاصل ہے۔ گویا خلقاً و ہلکاً و تصرفاً اللہ تعالیٰ ہی مختار کل ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ توحید کا چوتھا درجہ عبادل کا ہے۔ لوگ عبادت میں بھی دوسروں کو شریک کرتے ہیں کسی کو نذر و نیاز پیش کرتے ہیں اور کسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس طرح وہ شرک فی العبادت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا وما لھم فیھا من شرک مشرکین کے لیے زمین و آسمان کی کسی چیز میں خدا کے ساتھ کوئی شراکت نہیں ہے۔ بعض مشرکین کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر چیز کو پیدا تو اللہ نے کیا ہے مگر ان ہستیوں کو اختیار دے رکھا ہے کہ جس کا کام چاہیں کردیں اور جس کا چاہیں روک لیں۔ کوئی اس فعل کو نبیوں کی طرف منسوب کرتا ہے اور کوئی دیوی دیوتائوں کی طرف اور کوئی ستاروں کی طرف۔ اللہ نے اس کی صاف نفی کی ہے کہ خدا کے ساتھ ارض و سما میں کسی قسم کی کوئی شراکت نہیں ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ومالہ منھم من ظھیر اور ان میں سے اللہ کا مددگار بھی کوئی نہیں۔ بعض ہستیاں بعض کی معاون بھی ہوتی ہیں۔ مخلوق میں سے تو ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طور پر نیکی کے کاموں میں تو اللہ نے تعاون کا حکم بھی دیا وتعاونوا علی البرو التقوی (المائدہ 20) نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو ، مگر خدا تعالیٰ تو خود قادر مطلق ہے۔ اسے کسی کے تعاون یا مدد کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ گویا یہ عقیدہ بھی مشرکانہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو کسی کی مدد کی ضرورت ہے۔ جبری سفارش کا عقیدہ شرک کی ایک صورت جبری یا قہری سفارش بھی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ الفوز الکبیر میں فرماتے ہیں کہ اکثر مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرکے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح کسی بادشاہ ، صدر ، امیر یا وزیر تک رسائی حاصل کرنے کے لیے درمیان میں واسطے اور سفارش کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خدا تک پہنچنے کے لیے بھی سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر وہ مخلوق میں سے اپنے سفارشی ڈھونڈتے ہیں جو ان کی با ت کو اللہ تعالیٰ تک پہنچا س میں ، قرآن پاک نے ان کا بیان نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں ھولاء شفعاء نا عند اللہ (یونس 18) اللہ کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں جو سفارش کرکے دنیا میں ہماری بگڑی بنوا دیں گے اور آخرت میں عذاب سے چھڑا دیں گے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ان خود ساختہ معبودوں کی عبادت کیوں کرتے ہو۔ ان پر چڑھاوے کیوں چڑھاتے ہو ان کے نام کی منتیں کیوں مانتے ہو اور ان کے سامنے سجدہ ریز کیوں ہوتے ہو تو جواب دیتے ہیں۔ ما نعبد ھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی (الزمر 3) کہ ہم ان کی عبادت محض اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں۔ ہماری دعا تو وہ قبول نہیں کرتا یہ سفارش کرکے خدا تعالیٰ کو منا لیتے ہیں خواہ وہ راضی ہو یا ناراض ہو مگر اللہ کے ہاں ایسی سفارش کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اللہ نے یہاں بھی اسی بات کا اعادہ کیا ہے۔ ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ اللہ کے ہاں کوئی سفارش مفید نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ خود کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہ دے دے ، غرضیکہ جبری سفارش والا عقیدہ بالکل باطل ہے۔ البتہ دین میں جائز سفارش کا تصور واضح طور پر موجود ہے۔ آپ حدیث میں پڑھتے ہیں کہ حضور ﷺ قیامت والے دن مقام محمود پر فائز ہوں گے تو شفاعت صغریٰ بھی کریں گے اور شفاعت کبریٰ بھی ، شفاعت کبریٰ تو تمام بنی نوع انسان کے لیے ہوگی اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کریں گے اور شفاعت صغریٰ صرف امت کے حق میں ہوگی۔ حضور ﷺ خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے۔ تفسیری روایات (تفسیر ابن کثیر (ص 536 ج 3 فیاض) کے مطابق حضور ﷺ دس سال تک سجدہ میں پڑے رہیں گے۔ اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں گے پھر حکم ہوگا ارفع راسک یا محمد اے محمد ! ﷺ اپنا سر اٹھائیے ، آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ اس کے بعد آپ سفارش کریں گے تو مطلب یہ کہ اللہ کی اجازت کے بغیر تو اس کی قریب ترین ہستی بھی سفارش کی جرات نہیں کریگی ، وہاں باقی ہستیوں کا کیا شمار ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت اس کو دیں گے جس کا عقیدہ درست ہوگا ورضی لہ قولہ (طہ 109) اور جس کی بات بھی اللہ کو پسند ہوگی کسی کافر مشرک یا منافق کے حق میں کوئی نبی سفارش نہیں کرے گا اور اللہ کی رضا کی بنیاد یہ ہے وان تشکروا یرضہ لکم (الزمر 7) اگر شکر کرو گے اور ایمان قبول کرو گے تو اللہ راضی ہوجائے گا اور پھر تمہارے حق میں سفارش کی اجازت بھی دے دیگا جس پر خدا نراض ہوگا اس کے لیے سفارش کی اجازت نہیں ملے گی۔ فرشتوں کی بےبسی بعض لوگ فرشتوں کو سفارشی یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور یا جبرائیل یا میکائیل لکھ کر تعویذ دیتے ہیں ، گویا اللہ نے ان کو اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ عالم بالا میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ان پر غشی سی طاری ہوجاتی ہے ان کی آوازا اس طرح نکلتی ہے جیسے کسی چٹان پر زنجیر کو رکھ کر کھینچا جائے۔ گویا وہ اللہ کے خوف سے اس قدر خوف زدہ ہوتے ہیں اسی سلسلے میں اللہ نے یہاں فرمایا ہزے حتی اذا فزع عمن قلوبھم یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے کسی حد تک گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو نچلے طبقے والے فرشتے اوپر والوں سے مخاطب ہوتے ہیں قالوا ماذا قال ربکم اور کہتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے ؟ پھر اوپر کے طبقے والے فرشتے بتلاتے ہیں قالوا الحق کہ اللہ نے حق بات فرمائی ہے وھو العلی الکبیر اور ورہ ذات بہت بلند اور بڑی عظمت و بڑائی والی ہے۔ مطلب یہ کہ فرشتے تو خود اس قدر بےبس اور اللہ کے خوف سے بےخود ہونے والے ہیں وہ کسی کی کیا سفارش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے لوگوں کو کہا تھا کہ ہمیں اللہ کا شریک بنا لینا تو فرشتے صاف کہہ دیں گے کہ پروردگار ! ہم تو خود تیرے سوا کسی کو معبود نہیں سمجھتے ، کارساز حاجت روا اور مشکل کشا ماننے کے لیے تیار نہیں ، سبحنک تیری ذات پاک اور منزہ ہے ، ہم کیسے کہہ سکتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی کسی صفت یا اس کی عبادت میں شریک بنالو۔ الغرض ! اس مقام پر شرک کی تردید میں اللہ نے دو باتیں فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے ہاں جبری سفارش کا کوئی تصور نہیں ہے اور دوسری یہ کہ تدبیر اور تصرف میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ آگے توحید کے مزید دلائل اور قیامت کا ذکر آئے گا۔
Ayahs 34:24–30

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ وَ اِنَّاۤ اَوْ اِیَّاكُمْ لَعَلٰى هُدًى اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 34:24 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کون ہے جو تم کو روزی پہنچاتا ہے آسمانوں سے اور زمین سے ، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہے (جو روزی پہنچاتا ہے) اور بیشک ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں

قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّاۤ اَجْرَمْنَا وَ لَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:25 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اور تم سے نہیں پوچھا جائے تو ان گناہوں کے بارے میں جو ہم نے کیے ہیں اور ہم سے نہیں پوچھا جائے گا ان کاموں کے بارے میں جو تم کرتے ہو

قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ هُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ Open ayah 34:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ! جمع کرے گا ہم سب کو ہمارا پروردگار پھر فیصلہ کرے گا ہمارے درمیان حق کے ساتھ اور وہ فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِهٖ شُرَكَآءَ كَلَّا١ؕ بَلْ هُوَ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 34:27 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ، مجھے بتلائو وہ جن کو تم نے ملایا ہے اس کے ساتھ شریک بنا کر۔ خبردار ، بلکہ وہ اللہ ہی ہے جو کمال قدرت کا مالک اور حکمتوں والا ہے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 34:28 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 34:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ کہ کب پورا ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو

قُلْ لَّكُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ Open ayah 34:30 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے تمہارے لیے وعدہ ہے ایک دن کا نہیں پیچھے ہٹو گے تم اس سے ایک گھڑی بھر بھی اور نہ اس سے آگے ہوگے

ربط آیات ابتدائے سورة میں اللہ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ، پھر درمیان میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کا حال ذکر کیا اس کے بعد شرک اور مشرکوں کا رد کیا ان کے تدبیر اور تصرف میں غلط عقائد کی نفی کی اور ساتھ ساتھ جبری اور قہری سفارش کے مزعومہ نظریات کی تردید کی۔ فرمایا بعض لوگ فرشتوں کو اپنا کارساز اور سفارشی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ تو خود خدا تعالیٰ کے سامنے خوفزدہ رہتے ہیں اور اللہ کے حضور ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے پر پھیلا دیتے ہیں۔ ان پر مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان کی دہشت کسی حد تک دور ہوتی ہے تو نیچے طبقے والے فرشتے اوپر والوں سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا ہے ، وہ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے ، برحق فرمایا ہے وہ بڑی بلندو برتر ذات ہزے ، خدا تعالیٰ بڑی عظمتوں کا مالک ہے۔ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پھر توحید کے عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور مشرکوں کا رد کیا ہے ، اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفات اور قیامت کا ذکر ہے اور پھر رسالت کا بیان بھی آرہا ہے۔ روزی بذریعہ آسمان و زمین ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ! قل من یرزقکم من السموت والارض آپ ان سے دریافت کریں کہ تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے۔ یہ تو عام مشاہدہ کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی طرف سے بارش برساتا ہے جس سے زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے ، پھر پھل ، اناج ، سبزیاں اور چارہ پیدا ہوتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتا ہے۔ نزول بارش کے متعلق سائنس دان تو کہتے ہیں کہ سمندروں سے بخارات اٹھ کر بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر ان بادلوں سے بارش برستی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اسباب بارش کی قرآن میں پوری کیفیت بیان فرمائی ہے اور استفہامیہ انداز میں فرمایا ہے۔ بھلا بتائو تو سمندر سے بھاپ کو کون اٹھاتا ہے ، پھر ہوائوں کو کون چلاتا ہے اور بادلوں کو مطلوبہ جگہ پر ہانک کر کون لے جاتا ہے اور حکمت و مصلحت کے مطابق بارش کون برساتا ہے ؟ مقصد یہ ہے کہ بارش کے یہ تمام لوازمات کسی خودکار نظام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ ان سب کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت ہوتی ہے اور پھر پیداوار کا انحصار محض پانی پر نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سے دیگر عوامل بھی دخیل ہوتے ہیں۔ اللہ نے سورة عبس میں اس کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے فلینظر الانسان الی طعامہ (24) انا صبنا الماء صیا (25) ثم شفقنا الارض شقا (26) فانبتا فیھا حبا (27) انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے کھانے کی طرف توجہ کرے اور دیکھے کہ بیشک ہم نے پہلے پانی کو بہایا ، پھر زمین کو پھاڑا اور اس میں سے اناج اگایا ، مطلب یہ کہ پانی تو زمین تک پہنچ گیا ، اب زمین کو پھاڑ کر اس سے نہایت ہی نرم و نارک پودے کو نکالا اور پھر اسے حد کمال تک پہنچا کر انسانوں اور جانوروں کی روزی کا سامان مہیا کیا۔ اللہ نے سورة بقرہ میں بھی فرمایا وانزل من السماء ماء فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم (آیت 220) ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا اور پھر اس کے ذریعے تمہاری خوراک کے لیے پھل پیدا کئے۔ عربی میں سماء ہر اوپر والی چیز کو کہتے ہیں۔ بادل بھی چونکہ اوپر ہی ہوتے ہیں اس لئے بارش کے نزول کے لیے سماء کا لفظ ہی عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم اوپر سے مراد اوپر سے نازل ہونے والا حکم الٰہی بھی ہے۔ دراصل اسی حکم کے ذریعے بارش نازل ہوتی ہے وگرنہ بسا اوقات بادل بھی آتے ہیں مگر بارش بالکل نہیں ہوتی یا کسی دوسری جگہ ہوجاتی ہے۔ رزق بدست خدا دراصل روزی رسانی مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر (الروم 37) جس کے لیے چاہتا ہے روزی کو کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اس کا واضح فرمان ہے وفی السماء رقکم وما توعدون (الذریت 22) تمہاری روزی اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا تعلق آسمان سے ہے اوپر سے حکم آتا ہے تو تمہیں اس حکم کے مطابق کم و بیش روزی مہیا ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیان میں موجود ہے فابتغوا عند اللہ الرزق (العنکبوت 17) روزی ہمیشہ اللہ سے مانگو کیونکہ اسباب رزق کا مالک وہی ہے اللہ نے خود بھی بار بار اعلان فرمایا کہ روزی رسانی اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہ ہر جاندار کی روزی کا ذمہ دار ہے۔ فرمایا وکاین من دابۃ لا تحمل رزقھا اللہ یرزقھا وایاک کتنے ہی جانور ، چرند ، پرند ہیں جو اپنی روزی پشت پر نہیں اٹھائے پھرتے۔ بلکہ اللہ ہی انہیں روزی پہنچاتا ہے اور تمہیں بھی جس طرح خشکی پر رہنے والے ہر جاندار کیڑے مکوڑے ، انسان ، مویشی ، پرند ، چرند اور درند کی روزی اللہ کے ذمے ہے ، اسی طرح سمندروں کی تہہ میں رہنے والی مخلوق کا روزی رساں بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرمایا وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا (ہود 6) زمین میں بسنے والے ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے۔ ایک روزی تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف سے بارش برسا کر زمین سے پیدا کرتا ہزے ، اس کے علاوہ زمین کی تہہ سے نکلنے والی مع دنیات سونا ، چاندی ، لوہا ، تانبہ ، ہیرے ، کوئلہ ، تیل وغیرہ بھی روزی کا بہت بڑا سبب ہیں۔ بلکہ آج کی دنیا میں ان اشیاء کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ اگر زمین سے یہ چیزیں برآمد نہ ہوتیں تو دنیا متمدن نہ بن سکتی اور نہ ہی انسانی زندگی کے آرام و آسائش کی موجودہ سہولتیں میسر آتی۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے وسائل رزق جگہ جگہ پھیلا رکھے ہیں۔ اب یہ خود انسان کا کام ہے کہ وہ انہیں تلاش کرز کے ان سے فائدہ اٹھائے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے اطلبوا الرزق فی خبایا الارض یعنی زمین کے گوشوں سے رزق تلاش کرو ، الغرض اللہ نے آسمان و زمین کے وسائل کو روزی کا ذریعہ بنایا ہے۔ دلیل توحید مذکوہ حقائق کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ ذرا ان سے پوچھیں کہ تمہیں آسمان و زمین سے روزی کون پہنچاتا ہے۔ فرمایا یہ کافر ، مشرک ، ملحد اور بےدین لوگ اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے سکیں گے ، لہٰذا آپ خود ہی فرما دیں قل اللہ کہ روزی رساں تو اللہ ہی ہے اور کون ہے جو وسائل رزق مہیا کرکے جانداروں کی خوراک کا بندوبست کرسکے ؟ جب روزی رساں صرف اللہ ہے تو پھر یہ مشرک لوگ دوسروں کو حاجت روا اور مشکل کشا کیوں سمجھتے ہیں اور خدا کی الوہیت میں ان کو کیوں شریک کرتے ہیں ؟ ان کے خود ساختہ الہ یا تو بےجان شجر و حجر ہیں جن کی ویسے ہی کوئی حیثیت نہیں نہ یہ بول سکتے ہیں نہ چل پھر سکتے ہیں ، نہ کسی کے کام آسکتے ہیں ، اس کے علاوہ اگر یہ لوگ انسانوں ، جنوں یا فرشتوں پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں تو وہ بھی بےاختیار ہیں ، اللہ کے خوف سے ڈرنے والے ہیں ، ان میں سے نہ کوئی خالق ہے نہ مالک ہے اور نہ مدبر و متصرف ہے ، تو یہ تمہاری کون سی مشکل حل کریں گے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر مخاطب کو اس بہترین انداز میں تبلیغ کی جائے کہ اسے سوچنے سمجھنے کا موقع مل سکے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اسی اصول کی روشنی میں اللہ تعالیٰ نے دلیل توحید پیش کرنے کے بعد فرمایا وانا وایا کم لعلی ھذی او فی ضلل مبین بیشک ہم یا تم البتہ ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں ہیں۔ مقصد یہ کہ مشرزک اور موحد میں جو نظریات کا اختلاف ہے اس کی وجہ سے ایک فریق یقیناً ہدایت پر ہے اور دوسرا گمراہ ہے۔ ظاہر ہے کہ دونوں فریق نہ صحیح راستے پر ہوسکتے ہیں اور نہ دونوں کا عقیدہ غلط ہوگا بلکہ ان میں سے ایک ضرور صراط مستقیم پر ہے۔ اب یہ ہمارا اور تمہارا فرض ہے کہ اچھی طرح سوچ سمجھ لیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کون حق پر ہے اور کون گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید کو سمجھاننے کا یہ بہترین انداز اختیار فرمایا ہے۔ مشرکین کو اعتراض تھا کہ اہل ایمان ان کے بتوں کی مذمت بیان کرتے ہیں لہٰذا وہ بھی مسلمانوں کو برا بھلا کہتے تھے اور یہ بھی کہ بتوں کی برائی بیان کرکے تم نے غلط راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ یہ اللہ کے مقرب ہیں اور ان کی توہین لامحالہ اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا قل لا تسئلون عما اجرمنا اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر توحید خداوندی کا اثبات اور شرک کا رد جرم ہیں تو پھر ہم ان کا اقرار کرتے ہیں اور ان مفروضہ جرائم کے بارے میں تم سے کوئی سوال نہیں ہوگا ، بلکہ ان کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے اور ہم ہی جوابدہ ہیں اور دوسری طرف جو کچھ تم کفریہ ، شرکیہ اور معاصی کے کام کرتے ہو ، ان کا الزام تمہارے سر پر ہے ولا تسل عما تعملون اور تمہارے ان جرائم کے متعلق ہم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی گویا ہم اور تم اپنے اپنے افعال کے ذمہ دار ہیں تم ہم پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے اپنی فکر کرو۔ آخرت میں تمہیں اپنے اعمال کا خود ہی جواب دینا ہوگا۔ فرمایا لیوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا وتوفی کل نفس ما عملت وھم لا یظلمون (النحل 1) قیامت والے دن ہر شخص کو اپنے اعمال کا خود بھگتان کرنا ہوگا انہیں ہر عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ آگے اللہ نے قیامت کا ذکر صراحتاً بھی فرما دیا ہے قل یجمع بیننا ربنا آپ کہہ دیں کہ ہمارا پروردگار ہم سب کو قیامت کے دن جمع فرمائے گا ثم یفتح بیننا بالحق پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا ، ہر شخص کو اس کے عقیدے ، عمل ، کردار اور اخلاق کے مطابق جزا یا سزا دے گا ، وھو الفتاح العلیم اور وہ فیصلہ کرنے والا اور مشکلات کو کھولنے والا ہے اور ہر بات کو جاننے والا بھی ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں لہٰذا وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بھی ضرور محاسبہ کرے گا۔ شرک کی تردید آگے اللہ نے شرک کی واضح طور پر تردید فرمائی ہے اور مشرکوں کو چیلنج کیا ہے ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ﷺ قل ارونی الذین الحقتم بہ شرکاء آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں کہ جن شریکوں کو تم نے خدا کے ساتھ ملا رکھا ہے ، مجھے بتلائو کہ وہ کیا ہیں ؟ وہ کون سا کام انجام دیتے ہیں ؟ کیا وہ خالق ، مالک یا متصرف فی الامور ہیں ؟ اس کا جواب تو بھلا کون دیتا۔ اللہ نے خود ہی فرمایا کلا خبردار ! اللہ کے سوا کوئی بھی مذکورہ صفات کا حامل نہیں۔ ہر چیز کا مالک و مختار صرف اللہ ہے بل ھو اللہ العزیز الحکیم بلکہ وہ اللہ ہی ہے جو کمال قدرت کا مالک ، ہر چیز پر غالب اور کمال حکمتوں والا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ اگلی آیت میں اللہ نے رسالت کے بیان میں فرمایا وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر کافۃ للناس کا مطلب دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ہے خواہ ان کا تعلق کسی ملک ، قوم ، نسل سے ہو آپ سب کی طرف رسول ہیں۔ عربی ترتیب کے لحاظ سے یہ لفظ بشیر و نذیر کے بعد آنا چاہئے تھا مگر مضمون کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے اسے پہلے لایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ صرف عرب کے خطے یا عرب قوم کے لیے نبی اور رسول بن کر نہیں آئے بلکہ آپ کی رسالت کا دائرہ زمین پر بسنے والے ہر انسان تک وسیع ہے۔ اب اس میں کسی زمانے کی قید بھی نہیں ہے بلکہ قیامت تک آنے والی نسلیں آپ ہی کی امت کا حصہ ہیں۔ حدیث شریف (مظہری ص 30 ج 8) میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا ، اللہ نے مجھے دوسرے انبیاء کے مقابلے میں بعض خصوصیات عطا فرمائی ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعثت الی کافۃ للناس یعنی میں تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور میری یہ خصوصیت بھی (مظہری ص 30 ج 8) ہے وختم بی النبیون کہ مجھ پر سلسلہ نبوت ختم کردیا گیا ہے۔ اب قیامت تک میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود (ابن کثیر ص 539 ج 3) ہے بعثت الی الاسود والاحمر میں ہر کالے اور گورے کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ، اس میں کسی قوم ، رنگ اور نسل کا کوئی امتیاز نہیں ہے۔ فرمایا اللہ نے مجھے عالمی نبی بنا کر بھیجا ہے۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے اور نہ ہی وہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ مشرک اور کافر لوگ وقوع قیامت کا بھی انکار کرتے تھے۔ اللہ نے ان کے اس باطل عقیدہ کی طرف توجہ دلائی ویقولون متی ھذا لوعد ان کنتم صدق کہتے ہیں کہ جس قیامت سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آئے گی اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اس کے وقع کی تاریخ بتلائو۔ اللہ نے جواباً فرمایا قل لکم میعاد یوم اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہارے لیے قیامت کا وعدہ ایک دن کا وعدہ ہے لا تستاخرون عنہ ساعۃ ولا تعقدمون جب وہ مقررہ دن آجائے گا تو پھر نہ تم گھڑی بھر پیچھے ہو گے اور نہ آگے ، بلکہ عین وقت پر قیامت برپا ہوجائے گی اور پھر حساب کتاب کے لیے جمع کیا جائے گا آج تو تم استہزا کرتے ہو مگر اس دن تمہیں حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔ سورة انعام میں اس دن کے لیے اجل مسمی کا لفظ آیا ہے کہ وہ ایک مقررہ وقت ہے جو ہر انسان کی انفرادی زندگی کے لیے بھی ہے اور مجموعی طور پر تمام عالم کے لیے بھی۔ جب یہ وقت آجاتا ہے تو آگے پیچھے نہیں ہوتا۔
Ayahs 34:31–33

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۖۚ یَرْجِعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ اِ۟لْقَوْلَ١ۚ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لَوْ لَاۤ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 34:31 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر اختیار کیا کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے پہلے آئی ہیں اور (اے مخاطب) اگر تو دیکھے جب کہ ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے اپنے پروردگار کے سامنے اور لوٹائیں گے بعض ان میں سے بعض کی طرف بات کو کہیں گے وہ لوگ جو کمزور خیال کیے جاتے تھے ان لوگوں سے جنہوں نے تکبر کیا اگر نہ ہوتے تم تو البتہ ہم ہوتے ایمانداروں میں

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْۤا اَنَحْنُ صَدَدْنٰكُمْ عَنِ الْهُدٰى بَعْدَ اِذْ جَآءَكُمْ بَلْ كُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 34:32 in the Quran reader

کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے تکبر کیا ان لوگوں سے جو کمزور خیال کیے جاتے ہیں کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ہدایت سے بعد اس کے کہ وہ تمہارے پاس آچکی تھی بلکہ تم خود مجرم تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا بَلْ مَكْرُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ اِذْ تَاْمُرُوْنَنَاۤ اَنْ نَّكْفُرَ بِاللّٰهِ وَ نَجْعَلَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ؕ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْۤ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 34:33 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور خیال کیے جاتے ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے تکبر کیا ، نہیں ایسا نہیں ہے ، بلکہ رات دن کے فریب میں تم ہی ہمیں گمراہ کرتے تھے جب کہ تم حکم دیتے تھے ہمیں کہ ہم کفر کریں اللہ کے ساتھ اور بنائیں ہم اس کے لیے شریک اور پوشیدہ رکھیں گے۔ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب کو سامنے اور ڈال دیں گے ہم طوق ان لوگوں کی گردنوں میں جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ نہیں بدلہ دیئے جائیں گے وہ مگر اس کا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا اور توحید کی عقلی دلیل بیان کی ، پھر رسالت کے تذکرے میں حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا ذکر کیا کہ ہم نے آپ کو کافۃ للناس یعنی تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرمایا ہے اور اس میں رنگ و نسل یا زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔ پھر اللہ نے منکرین قیامت کو جواب دیا کہ جس طرح تمہاری انفرادی زندگی کا ایک دن مقرر ہے ، اسی طرح مجموعہ عالم کا بھی ایک دن مقرر ہے۔ قیامت کا وعدہ اس مقررہ دن پر پورا ہوجائے گا اور اس گھڑی بھر کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوگی۔ اب قرآن پاک کی حقانیت کے ضمن میں قیامت والے دن اس کے منکرین کے دو گروہوں کے درمیان مکالمے کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس دنیا میں اس کا انکار کرنے والے آخرت میں پچھتائیں گے اور پھر ایک دوسرے پر الزام دھریں گے ارشاد ہوتا ہے وقال الذین کفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا لن نومن بھذا القران کہ ہم ہرگز نہیں ایمان لائیں گے اس قران پر ولا بالذی بین یدیہ اور نہ ان کتابوں پر جو اس سے پہلے آئی ہیں۔ مشرکین کا ایک گروہ ایسا بھی تھا جو کسی آسمانی کتاب کو نہیں مانتا تھا اس کی وجہ بھی آگے آرہی ہے کہ اللہ کی کتابوں میں مذکور پروگرام ان لوگوں کے خود ساختہ رسم و رواجی پروگرام سے مطابقت نہیں کھاتا تھا چونکہ وہ اپنی فرسودہ رسوم کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے لہٰذا وہ آسمانی کتابوں کا سرے سے انکار ہی کردیتے تھے۔ اس سلسلے میں وہ کبھی خدائی پروگرام پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے اور کبھی اسے بالکل ناقابل عمل قرار دے دیتے۔ اللہ نے دوسری جگہ قرآن میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کو قیامت اور محاسبہ اعمال کا تصور نہیں تھا ، ورنہ یہ قرآن اور توحید کا انکار نہ کرتے۔ ظاہر ہے کہ قرآن پاک تو ہر شخص کے عقیدے ، عمل اور اخلاق پر پابندیاں عائد کرتا ہے ، حلال و حرام کے درمیان امتیاز پیدا کرتا ہے ، ظلم وتعدی سے منع کرتا ہے ، قومی و ملکی رسم و رواج کی مخالفت کرتا ہے۔ اس لیے مشرک لوگ نہ تو قرآن کو تسلیم کرنے کے لیے تیار تھے اور نہ وہ اپنی آزادی کی راہ میں کوئی پابندی قبول کرنا چاہتے تھے ، لہٰذا وہ سرے سے انکار ہی کردیتے تھے۔ انگریز بھی قرآن پاک کی مخالفت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں ، یہ قوم جس عیاشی ، فحاشی ، زنا ، لواطت ، گندی ذہنیت ، گندی فکر اور کفر و شرک میں مبتلا ہے قرآن اس کی تردید کرتا ہے مگر یہ آزاد منش لوگ کوئی پابندی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ تو مادر پدر آزادی چاہتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اللہ کی آخرت کتاب کا صاف انکار کردیا اور تعصب وعناد میں اس حد تک بڑھ گئے کہ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کے وزیراعظم گیڈ سٹون نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ جب تک قرآن دنیا میں موجود ہے دنیا متمدن نہیں ہوسکتی مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے پروگرام پر عمل کیے بغیر دنیا میں امن وامان قائم نہیں ہوسکتا مغرب کی نام نہاد ترقی اور ظاہری چمک دمک درحقیقت جہنم کا گڑھا ہے اس کی وجہ سے نہ ان کی ذہنی اصلاح ہوسکتی ہے نہ اطمینان و سکون نصیب ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں فلاح نصیب ہوسکتی ہے۔ قرآن ہر چیز کی پاکیزگی کا قائل ہے۔ اس کے بےمثال پروگرام کے متعلق ہم خطبہ جمعہ میں سنتے ہیں ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتائی ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (النمل 9) بیشک اللہ تعالیٰتمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے ، قرابت داروں سے حسن سلوک کی تقین کرتا ہے اور فحاشی ، معصیت اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔ قرآن کا یہی پروگرام منکرین کی ساری گندی امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے لہٰذا وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کے برخلاف قرآن پاک اپنے پروگرام کی صداقت پر اس قدر پختہ ہے کہ اس نے پوری دنیا کو چیلنج کر رکھا ہے ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ (البقرۃ 23) اگر تمہیں اس پروگرام میں کوئی شک و شبہ ہے تو اس سے بہتر پروگرام والی کوئی ایک ہی سورة بنا کرلے آئو ، پھر موازنہ ہوجائے گا کہ کون سا پروگرام بہتر ہے مگر اس چیلنج کا جواب گزشتہ چودہ صدیوں میں نہیں دیا جاسکا۔ اس سے عیاں ہے کہ پوری دنیا کی مخلوق قرآن سے بہتر پروگرام پیش کرنے سے عاجز ہے۔ تابع اور متبوع کی کشمکش آگے اللہ تعالیٰ نے آخرت کی ایک کیفیت کو بیان کیا ہے۔ فرمایا آج تو منکرین توحید ، منکرین رسالت ، منکرین قرآن اور منکرین معاد دندناتے پھرتے ہیں اور تمسخر اڑاتے ہیں مگر قیامت والے دن ان کی حالت قابل دید ہوگی۔ ارشاد ہوتا ہے اے مخاطب ولو تری اذ الظمون موقوفون عند ربھم اگر آپ دیکھیں جب کہ ظالم لوگ کھڑے کئے جائیں گے اپنے پروردگار کے سامنے یرکع بعضھم الی بعض القول اس وقت ان میں بعض بات کو دوسروں کی طرف لوٹائیں گے ، یعنی ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے جب اپنے اعمال پر نظر ماریں گے تو سخت مایوسی ہوگی اور پھر وہ اپنی بدبختی کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ پھر یقول الذین استضعفوا للذین استکبروا پیچھے چلنے والے کمزور لوگ متکبر اور مغرور لوگوں سے کہیں گے لولا انتم لکنا مومنین اگر تم نہ ہوتے تو ہم یقینا ایماندار ہوتے اور یہ رسوائی نہ اٹھانا پڑتی۔ مطلب یہ کہ ہم دنیا میں تم سے کمزور تھے ، تم ہمارے لیڈر ، پیشوا ، مل مالک اور جاگیردار تھے۔ ہم ہر کام میں تمہارا اتباع کرتے رہے جس کا نتیجہ آج یہ نکلا ہے کہ تم خود بھی جہنم میں جا رہے ہو اور تمہارے پیچھے پیچھے ہم بھی اسی راستے پر جا رہے ہیں۔ یہ عام محاورہ بھی ہے الناس علی دین ملوکھم لوگ اپنے بادشاہوں یا بڑوں کے دین پر ہوتے ہیں ، انہی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں تو قیامت والے دن تابع لوگ متبوعین سے کہیں گے کہ ہمارا بیڑا تم نے غرق کردیا ہے۔ قال الذین استکبروا للذین استضعفوا اس کے جواب میں متکبر لوگ کمزور لوگوں سے کہیں گے انحن صدرنکم عن الھدی بعد اذ جاکم کیا ہدایت آجانے کے بعد ہم نے تمہیں اس سے روکا تھا ؟ مطلب یہ کہ ہم نے تمہیں ہاتھ سے پکڑ کر تو صراط مستقیم سے نہیں روکا تھا بل کنتم مجرمین بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ یعنی غلط راستے کا انتخاب تم نے خود کیا ، اس وقت تمہاری عقل کہاں گئی تھی ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آنکھیں ، کان اور دل عطا کیا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ پھر تم خواہ مخواہ ہمارے پیچھے کیوں چلتے رہے ؟ تمہیں تو ہدایت کا راستہ قبول کرنا چاہئے تھا۔ بالکل یہی بات قیامت والے دن شیطان بھی کہے گا۔ لوگ اس کا گریبان پکڑیں گے کہ دنیا میں تو نے ہمیں بہکا کر گمراہ کیا اور آج ہمیں ذلت و رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ آگے سے جواب دے گا کہ مجھے تم پر کوئی غلبہ تو حاصل نہیں تھا۔ میں نے تمہیں ایک غلط راستے کی دعوت دی جسے تم نے بررضا ورغبت قبول کرلیا۔ اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ فلاتلومونی ولوموا انفسکم (ابراہیم 22) اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہو یہی بات متبوعین بھی کہیں گے کہ دنیا میں تم فعل مختار تھے۔ تم نے خود اپنے لیے غلط راستے کا انتخاب کیا۔ اب اس کی سزا بھگتو۔ وقال الذین استضعفوا للذین استکبروا کمزور مگر اتباع کرنے والے لوگوں کا جواب در جواب یہ ہوگا بل مکر الیل والنھار کہ تم شب و روز اسی دھوکے اور فریب میں لگے رہتے تھے کہ لوگوں کو گمراہ کیا جائے اذ تامر وننا تکفر باللہ جب کہ تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں۔ تمہی نے ہمیں ورغلا کر توحید کو تسلیم کرنے کی بجائے کفر کرنے پر مجبور کیا اور ہم تمہارے جھانسے میں آگئے۔ اب تم اپنے آپ کو کیسے بری الذمہ قرار دے سکتے ہو ؟ عیسائیت کا جال آج دنیا میں عیسائیت بھی مکر و فریب پر ہی چل رہی ہے۔ عیسائیوں نے ہر طریقے سے دین اسلام کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے عیسائیت کی تبلیغ کے لیے نئے نئے منصوبے بناتے رہتے ہیں ان کے مشنری ادارے یہی کام کر رہے ہیں۔ کبھی سکول کے نام پر اور کبھی فری ہسپتال کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ کبھی ایڈ دے کر مسلمانوں کے ضمیر کو خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کام کے لیے دنیا بھر میں بڑا روپیہ صرف کر رہے ہیں وہ عیسائیت کو اسلام پر غالب کرنا چاہتے ہیں مگر اللہ نے فرمایا لن تغنی عنھم اموالھم (آل عمران 116) کافروں کے مال ان کے کچھ کام نہ آئے بلکہ اس مال کا وبال انہی پر پڑے گا۔ جب اللہ کی گرفت آئے گی تو لعنت میں مبتلا ہوجائیں گے۔ امیر شکیب ارسلان (رح) نے لکھا ہے کہ یورپ کے عیسائیوں اور یہودیوں نے قرآن پاک اور حضور ﷺ کی سیرت کے خلاف چھ لاکھ کتابیں اور رسالے شائع کیے ہیں تاکہ لوگ اسلام کی طرف مائل نہ ہوں اور جو ہوچکے ہیں ، وہ بدظن ہوجائیں۔ مشرقی علوم کے ماہر مغربی دانشور (مستشرقین ) ایسا سبق پڑھاتے ہیں اور ایسے طریقے سے گمراہ کرتے ہیں کہ سادہ لوح لوگ ان کے دام میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایوب کے زمانے میں فضل الرحمان نے ایک قبیح شوشہ چھوڑا تھا کہ قرآن سارے کا سارا خدا کا کلام نہیں ہے۔ اس شخص کو حکومت میں بڑا عہدہ ملا ہوا تھا اور بڑے انعام و اکرام ملے تھے۔ مگر اس نے اس قسم کا شوشہ چھوڑا تو ملک بھر میں احتجاج ہوا جس کی بناء پر اسے حکومت سے علیحدہ ہونا پڑا۔ یہ شخص مولانا شہاب الدین (رح) کا فرزند تھا جو کہ خود بڑے صالح اور نیک آدمی تھے ، حضرت مولانا شیخ الہند (رح) کمے شاگرد تھے مگر مغرب والوں نے ایسا چکمہ دیا کہ الٹی سیدھی باتیں کرنے لگا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے بہاولپور کا ایک پروفیسر مغربی تعلیم حاصل کرکے آیا تو اس نے ایک مکالہ لکھا تھا جس میں حضور ﷺ کی حیات طیبہ پر بڑے غلط قسم کے اعتراضات کئے تھے ، اس سے حضور ﷺ کی زندگی کو عام سیاستدانوں جیسی زندگی ثابت کرنا مقصود تھا۔ یہ اور اس قسم کے لوگ عیسائی اور یہودی لابیوں سے متاثر ہو کر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کے پاس کثیر فنڈ ہوتے ہیں جنہیں خرچ کرکے وہ اپنے قبیح مقصد میں کامیابی حاص کرنا چاہتے ہیں اور یہی ان کا شب و روز کا فریب ہے ، وہ حدیث کی تحقیق کے نام پر گمراہ کن کتابیں شائع کرکے دنیا بھر میں پھیلاتے ہیں اور گمراہ کن پراپیگنڈا کے ذریعے اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عیسائی ہوں یا یہودی یا اشتراکی اسلام دشمنی میں سب یکساں بلکہ ایک دوسرے کے ممد و معاون ہیں۔ ابھی قریب زمانے میں ایک بڑے آدمی نے یہ بیان دیا تھا کہ حکومتوں کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جدید دور میں اسلام ایک خطرناک طاقت ہے ، چناچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر میں جہاں بھی کوئی مسلمان حکومت ابھرتی ہے اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے اسے یا تو لالچ دے کر دبا دیا جاتا ہے یا طاقت استعمال کرکے اسے کمزور کردیا جاتا ہے۔ شرک کا وبال بہرحال تابع لوگ اپنے متبوعین سے کہیں گے کہ تم ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے کا حکم دیتے تھے اور یہ بھی ونجعل لہ اندارا کہ ہم اس کے ساتھ شریک بنائیں یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو چھوڑ کر اس کی مخلوق میں سے اس کے ساتھ شریک بنائیں ، ان کی تعظیم کریں ، ان کی نذر و نیاز دیں اور ان کے سامنے سجدے کریں۔ فرمایا اس وقت ان کی یہ حالت ہوگی واسرو لندامۃ لما راوا العذاب کہ عذاب کو اپنے سامنے دیکھ کر اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے مگر وجعلنا الاغلل فی اعناق الذین کفروا ہم کفر کرنے والوں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ مجرموں کے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں اور پائوں میں بیڑیاں بھی ہوں گی ، طوق چونکہ سب سے زیادہ ذلت ناک چیز ہزے ، اس لیے یہاں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں اپنی گردن میں طوق پڑا ہوا دیکھے تو یہ اچھا خواب نہیں ہے کیونکہ یہ ذلت کی علامت ہے اس وقت دنیا میں جتنے بھی مشرک اور بدعتی لوگ ہیں ان کی گردنوں میں رسومات باطلہ کے طوق پڑے ہوئے ہیں مگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ہماری گردنیں اونچی ہو رہی ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ یہی چیزیں قیامت والے دن ان کے لیے ذلت کا سبب بن جائیں گی۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص خواب میں اپنے آپ کو ہتھ کڑی یا بیڑی پہنے ہوئے پائے تو یہ اس کے لیے اچھی علامت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص دین میں پختہ ہے۔ اب دیکھ لیں کس کس قسم کی بدعات کا طوق گلے میں ڈال رکھا ہے۔ قبروں کو پختہ بنایا جا رہا ہے ، ان پر گنبد تعمیر ہوتے ہیں ، سنگ مرمر لگتا ہے ، پھر انہیں عرق گلاب سے دھویا جاتا ہے اور اوپر چادریں چڑھائی جاتی ہیں ، آخر یہ کہاں کی نیکی ہے اور صاحب قبر کو اس سے کیا فائدہ پہنچتا ہے ؟ خانہ کعبہ کو غسل دینا اور اس پر غلاف چڑھانا تو بجا طور پر جائز ہے مگر قبروں کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ کیا یہ چادریں مساکین کی تن پوشی کے لیے استعمال نہیں ہوسکتیں ؟ فرمایا ھل یجزون الا ما کانوا یعلمون ان کو ان کے خود کردہ اعمال ہی کا بدلہ ملے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ کفر کے راستے پر چلانے والوں کا انجام بھی اللہ نے بیان فرما دیا۔