33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے نبی ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیے اور نہ کہا مانیں آپ کافروں اور منافقوں کا۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور پیروی کریں آپ اس چیز کی جو وحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کام کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور آپ بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ پر۔ اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے والا

کوائف : اس سورة کا نام سورة الاحزاب ہے جو کہ اس کی بیسیویں اور اکیسویں آیت میں آمدہ اسی لفظ سے ماخوذ ہے۔ احزاب جمع ہے حزب کی۔ جس کا معنی گروہ ، جماعت یا پارٹی ہوتا ہے۔ اس سورة میں ان غیر مسلم گروہوں کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے خلاف جمع ہو کر سن 5 ء میں مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ اس سے پہلے سورة الفرقان سے لے کر سورة السجدۃ تک مکی سورتیں تھیں۔ سورة نور کے بعد اب یہ سورة پھر مدنی سورة ہے۔ اس سورة مبارکہ کی تہتر 37 آیات اور نو رکوع ہیں۔ یہ سورة 2821 الفاظ اور 0075 حروف پر مشتمل ہے۔ نزول : جیسا کہ میں نے عرض کیا غزوہ احزاب سن 5 ھ میں واقع ہوا تھا اور اس کے بعد یہ سورة نازل ہوئی کیونکہ اس میں اس واقعہ کا ذکر موجود ہے۔ اگرچہ امام بخاری کی تحقیق کے مطابق غزوہ احزاب سن 4 ھ میں واقعہ ہوا۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ غزوہ سن 5 ھ میں واقع ہوا۔ اس جنگ میں کفار ، مشرکین ، یہودی اور منافقین سب نے اکٹھ کرلیا تھا اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے۔ مختلف تاریخی روایات کے مطابق اس موقع پر حملہ آوروں کی تعداد پندرہ ہزار سے لے کر پچیس ہزار تک بتائی جاتی ہے جب کہ قابل جنگ مسلمانوں کی تعداد تین اور چار ہزار کے درمیان تھی۔ اسی موقع پر مسلمانوں نے مدینہ کے اردگرد خندق بھی کھودی تھی اور کفار و مشرکین کے خلاف دفاعی جنگ لڑی تھی۔ اس لحاظ سے اسے جنگ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ مضامین سورة : مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد کا ذکر ملتا ہے جبکہ مدنی سورتوں میں میں زیادہ تر احکام ہوتے ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں بھی بہت سے معاشرتی احکام بیان کیے گئے ہیں اور اس سورة کے ذریعے زمانہ جاہلیت کی بہت سی رسموں کو ختم کیا گیا ہے۔ عورتوں سے متعلق طلاق اور عدت کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کی ازواج مطہرات کی خصوصیات اور عام مومنہ عورتوں کے بعض مسائل بیان ہوئے ہیں۔ مشرکین متبنی یعنی منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کے حقوق دیتے تھے ، جب کہ اللہ نے اس کا رد کیا ہے۔ خاص طور پر متبنی کی بیوی سے نکاح کا مسئلہ بھی آگیا ہے۔ عورتوں کے لیے پردے کے احکام نازل کیے گئے ہیں۔ بعض تعزیری احکام بھی آگئے ہیں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا ذکر توحید اور ختم نبوت کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ منافقین کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کا ایک خاص موضوع پیغمبر ﷺ کے آداب ہیں ، آپ کی تعظیم و توقیر کا خصوصی ذکر ہے۔ آپ کے خاتم النبیین ہونے کا تذکرہ ہے۔ آپ کے لیے چار سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت کا ذکر ہے اور آپ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : اس سورة مبارکہ کی سابقہ سورة السجدۃ کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ سابقہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور عام مومنین کے لئے تسلی کا مضمون بیان کیا تھا کہ آپ اپنے مخالفین کے پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں۔ بلکہ صبر کا دامن تھامے رکھیں ، اپنا کام کرتے رہیں اور نتائج کا انتظار کریں اب اس سورة کی ابتداء ہی اللہ تعالیٰ نے تسلی کے مضمون سے کی ہے۔ شرف خاتم النبیین : اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں انسانوں کو مختلف طریقوں سے خطاب فرمایا ہے جہاں عام مومنوں سے خطاب مطلوب ہوتا ہے وہاں یایھا الذین امنو کے الفاظ آتے ہیں اور جہاں پوری بنی نوع انسان کی توجہ مطلوب ہوتی وہاں یایھا الناس کہہ کر خطاب کیا جاتا ہے۔ البتہ جہاں خصوصی احکام بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یا تسلی دینا مطلوب ہوتا ہے تو وہاں پر خاص طور پر نبی (علیہ السلام) کو خطاب کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر بھی پیغمبر (علیہ السلام) کو خصوصی خطاب ہے۔ یایھا النبی اے نبی ﷺ مفسرین کرام ایسے ہی خطابات سے یہ نقطہ اخذ کرتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں دیگر انبیاء (علیہم السلام) کو خطاب کیا گیا ہے وہاں ان کے نام لے کر خطاب کیا گیا ہے۔ جب کہ حضور ﷺ کو نام لیے بغیر نبی اور رسول کے لقب سے خطاب کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی تعظیم اور اکرام حددرجہ محبوب ہے۔ اس کے علاوہ جہاں کہیں خطاب کے علاوہ بھی حضور ﷺ کا نام لیا گیا ہے۔ تو وہاں بھی آپ کی عظمت و شرف ہی کا اظہار ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم (آل عمران 044) اور نہیں ہیں محمد مگر اللہ کے رسول۔ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس آپ طبعی زندگی گزار کر فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم دین چھوڑ دوگے ؟ یہاں پر لفظ محمد نکرہ لا کر آپ کی عزت و توقیر کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی طرح سورة محمد میں مومنوں کے متعلق فرمایا کہ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے وامنوا بما نزل علی محمد (آیت 02) اور اس چیز پر ایمان لائے جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ یہاں پر بھی آپ کی شان و عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ بہرحال قرآن پاک میں جہاں بھی آپ کو خطاب کیا گیا ہے یا آپ کا نام لیا گیا ہے تو نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ لیا گیا ہے۔ خوف خدا : اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کو خطاب کر کے فرمایا اتق اللہ آپ اللہ سے ڈرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی کی زندگی کا لمحہ بھر بھی خوف خدا سے خالی نہیں ہوتا مگر یہاں اسی بات کی تلقین کی گئی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خدا کے خوف پر ٭ اختیار کریں اور اس پر قائم رہیں۔ پہلے کی طرح خوف خدا کو دل میں جاگزیں رکھیں ولا تطع الکفرین والمنفقین اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مانیں۔ وہ جس نہج پر آپ کو چلانا چاہتے ہیں۔ آپ اس سے بچتے رہیں اور تقویٰ پر قائم رہیں۔ نبی کی ذات سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی وقت خوف خدا سے خالی بھی ہوگا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر۔ 56) اگر آپ نے بھی شرک کا ارتکاب کیا تو سارے عمل ضائع ہوجائیں گے کہ شرک اتنی بری چیز ہے۔ یہاں بھی وہی بات ہے بھلا اللہ کے نبی سے شرک کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ جب کہ اس کا اولین منصب ہی یہ ہے کہ لوگوں کو شرک سے باز رکھے۔ مطلب یہی ہے کہ جس طرح آپ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر قائم ہیں اسی طرح اس پر قائم رہیں۔ یہاں بھی خوف خدا پر مداومت اختیار کرنے کا حکم ہے۔ امام ابن کثیر (رح) 1 ؎ اور بعض دوسرے مفسرین نے ایک بزرگ طلق ابن حبیب (رح) سے تقویٰ کا یہ معنی نقل کیا ہے ان تعمل بطاعۃ اللہ علی نور من نور اللہ وترجوا ثواب اللہ وتترک معصیۃ اللہ علی نور من اللہ مخافۃ عذاب اللہ کہ اللہ کی عطا کردہ روشنی کے تحت اللہ کی اطاعت پر عمل کرتے رہیں ، اللہ سے ثواب کی امید رکھیں اور اللہ کی معصیت کو ترک کردیں اس نور ایمان اور نور ہدایت کے ذریعے جو اللہ نے عطا کیا ہے اور خدا کے عذاب سے برابر ڈرتے رہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ آپ اللہ سے ڈرتے رہیں اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں۔ مداہنت کی ممانعت : مکی زندگی میں کفار و مشرکین حضور ﷺ سے سودے بازی کرنا چاہتے تھے اور ان کی یہ پیشکش مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں بھی ہوتی رہی کہ آپ اپنے دین میں کچھ نرمی کرلیں تو ہم بھی کسی قدر نرم پڑجائیں گے اور اس طرح ہمارا اور آآپ کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔ سورة القلم میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یاد دلایا ہے۔ ودوالوتد ھن فیومنون (آیت۔ 9) کہ کافر چاہتے ہیں کہ آپ کچھ ڈھیلے پڑجائیں۔ تو وہ بھی نرم پڑجائیں گے۔ کافر چاہتے تھے کہ آپ ہمارے معبودود کی ندمت نہ کریں بلکہ تھوڑی بہت ان کی تعریف کردیا کریں اور اس بات کو تسلیم کرلیں کہ یہ اللہ کے ہاں سفارشی ہیں تو ہم بھی آپ کے معبود کے خلاف کوئی بات نہیں کریں گے اور نہ آپ کو اور آپ کے پیروکاروں کو تنگ کریں گے ، منافق لوگ دوسرے طریقے سے کفار کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے ، وہ کہتے کہ ا گر مشرکوں کے ساتھ اس قسم کا امن سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کیا حرج ہے ؟ لوگ امن وامان کی زندگی بسر کریں گے جنگ و جدل پر توانائی صرف کرنے کی بجائے لوگوں کی حالت بہتر بنائی جاسکے گی اور اسلام کو بھی تقویت حاصل ہوگی مگر اللہ نے واضح فرما دیا کہ عقیدے کے اظہار میں کسی قسم کی رورعایت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کسی قیمت پر کافروں اور مشرکوں سے کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ دین کے معاملہ میں ڈھیلا پڑجانا مداہنیت کہلاتا ہے جو کسی صورت میں بھی جائز نہیں ، خوش اخلاقی اور معاشرتی تعلقات مختلف چیزیں ہیں مگر دین کے معاملے میں کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی کہ دین کی حقیقت کو ہی چھپا دیا جائے۔ اس ضمن میں نہ خوف کام کرسکتا ہے اور نہ لالچ کارگر ہو سکتا ہے۔ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا ذاتی مفاد ہرگز پیش نظر نہیں رکھا جائے گا۔ اس مقام پر بھی اللہ نے اسی بات کو دہرایا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی پیش کش کو قبول نہ کریں ، بلکہ بلاخوف و خطر اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں۔ شرک کی تردید کریں مگر احسن طریقے سے ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ (الانعام۔ 901) جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ان کو گالی نہ دیں کہ یہ بداخلاقی کی بات ہے۔ دلیل کے ساتھ کفر و شرک کا رد کریں کہ اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں اور نہ کوئی سفارش کرسکتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے۔ (حاثیہ : 1 ؎ ابن کثیر ص 564 ج 3 فیاض) مفسرین کرام 1 ؎ فرماتے ہیں کہ دین کے معاملہ میں کسی کافر ، مشرک اور ملحد کی بات نہیں مانی جاسکتی ، نہ ان سے مشورہ لیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ اس کے اہل ہی نہیں مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں قانون سازی کے لیے غیر مسلموں ، عیسائیوں اور یہودیوں اور دہریوں سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ تو تمہیں اپنا ہی قانون بتائیں گے اور اس طرح تمہیں اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ دیکھئے ! اسلام نے سود کو قطعاً حرام قرار دیا ہے۔ مگر ہماری ساری بینکاری سودی نظام پر چل رہی ہے جب بھی سودی نظام کو ختم کرنے کی آواز بلند ہوتی ہے۔ تو پھر مشورہ غیر مسلموں سے ہی لیا جاتا ہے کہ بتائو ہم سودی نظام کو اسلامی نظام میں کیسے تبدیل کریں۔ یہی توخرابی ہے جو ہمیں اسلامی قوانین رائج کرنے میں پیش آ رہی ہے۔ ہاں البتہ عام دنیوی لینن دین ، تجارت اور انتظامی امور کے متعلق ہر اچھی رائے کو قبول کیا جاسکتا ہے۔ خواہ وہ کسی طرف سے آئے مگر دین کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ چار اعدائے دین : شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں 2 ؎ کہ اعدائے دین چار ہیں جن میں سے دو ظاہری ہیں اور دو باطنی ، ظاہری دشمن تو یہی کافر اور منافق ہیں جن سے اس آیت کریمہ میں بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کافر کھلم کھلا اسلام دشمنی کرتے ہیں جبکہ منافق درپردہ اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے ہیں۔ دین کے باطنی دشمنوں میں پہلے نمبر پر شیطان ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر انسانی دل و دماغ میں وسوسہ ڈال کر اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ اس نے اللہ کے سامنے عہد کیا تھا کہ میں تیرے بندوں کو آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے آ کر بہکائوں گا۔ میں ان کو دین کے معاملہ میں گمراہ کروں گا۔ ان کے برے اعمال ان کی نظروں میں مزین کر کے دکھائوں گا اور دنیوی معاملات میں ان کو بہکا پھسلا کر برائی کی طرف مائل کروں گا۔ ایسے دشمن سے چوکنا رہنا بھھی ضروری ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کا دوسرا باطنی دشمن خود اس کا اپنا نفس ہے ان النفس لا مارہ بالسوء (یوسف 035) خود انسان کا نفس بھی اسے برائی پر آمادہ کرتان ہے۔ لہٰذا اس کا محاسبہ بھی ضروری ہے۔ جو شخص ان چاراعدائے دین سے بچ گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ فرمایا آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں ان اللہ کان علیما حکیماً بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ وہ کافروں اور منافقوں کی تمام خفیہ تدبیروں کو جانتا ہے اور آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے ، وہ حکمت سے خالی نہیں ، لہٰذا آپ اس پر سختی سے عمل کریں۔ اتباع وحی : ارشاد ہوتا ہے کہ کفار و منافقین کی بات ماننے کی بجائے واتبع ما یوحی الیک من ربک آپ اس چیز کی اتباع کریں جو آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے وحی کی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام و شرائع کی پیروی کریں۔ یہاں پر خطاب تو پیغمبر (علیہ السلام) سے ہے مگر مراد سارے اہل ایمان ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیاء (الاعراف 03) اے ایمان والو ! تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونیوالی وحی کا اتباع کرو اور اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کا اتباع نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو گمراہ ہو جائو گے۔ دین کا اساسی قانون قرآن ہے۔ اس کی شرح سنت میں ہے اور مزید وضاحت صحابہ کرام ؓ کے عمل اور آئمہ مجتہدین کی تشریح میں ہے ، اتباع میں یہ سب چیزیں آجائیں گی۔ ظاہر ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت ہے اور اس پر عمل کرنے کے لیے صحابہ کرام ؓ عملی نمونہ ہیں ، اس کے بعد جو وضاحت طلب باتیں رہ جاتی ہیں ان کو مجتہدین واضح کردیتے ہیں اور یہی مکمل دین قابل اتباع ہے۔ (حاشیہ : روح المعانی ص 241 ج 12 و مظہری ص 303 ج 7 ، 2 ؎ فیاض) گمراہ کن لیڈر : مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ ہمارے ہندوستان وغیرہ کے لوگ بڑے اچھے ہیں مگر انہیں ہمیشہ لیڈر ہی گمراہ کرتے ہیں جب الیکشن کا زمانہ آتا ہے تو یہ نام نہاد لیڈر طرح طرح کے سبز باغ دکھا کر عوام کو اپنے پیچھے لگا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ اسلام کے یہ نام لیوا بھلا کون سا اسلامی قانون لائیں گے ، یہ تو اسلام کی مبادیات سے بھی واقف نہیں۔ پارلیمنٹ کا ممبر تو وہ آدمی بننا چاہئیے جو اللہ کی کتاب ، اس کے رسول کی سنت اور خلفائے راشدین کے عممل کو جاننے والا ہو۔ ان چیزوں سے بےبہرہ لوگ اسلام کی کیا نمائندگی کریں گے اور کون سا قانون پاس کریں گے ؟ ممبری کے قابل تو وہ شخص ہے جو دین کے اساسی قانون سے واقف ہو اور پھر اپنے اندر قربانی کا جذبہ بھی رکھتا ہو۔ ذاتی اغراض کو پس پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کے لیے کام کرے اگر یہ چیز نہیں ہے تو پھر عوام سے فراڈ ہی ہوتا رہے گا۔ لوگ پراپیگنڈا کے زور پر یقین کرلیتے ہیں کہ واقعی فلاں آدمی یا جماعت ہماری نجات دہندہ ثابت ہوگی مگر وہ سراسر دھوکہ ہوتا ہے۔ مارشل لاء کے دور میں ہم نے کتنی بار کہا تھا کہ اب تمام اختیارات فرد واحد میں مرتکز ہوچکے ہیں۔ نام نہاد عوامی نمائندوں سے جان چھوٹ چکی ہے لہٰذا اب بلاحیل و حجت قرآن کا قانون نافذ کردینا چاہیے اور اس کے مخالفین کو تختہ دار پر چڑھا دو پھر دیکھیں کون مخالفت کرتا ہے۔ مگر ہماری یہ آواز بھی بیکار ثابت ہوئی۔ ا اسلام کے نام پر ریفرنڈم کرایا تھا اس کا کیا نتیجہ نکلا ؟ کیا واقعی اسلام نافذ ہوا ؟ اصل بات یہ ہے کہ نفاذ اسلام کا ارادہ ہی نہیں۔ ورنہ اس سے بہتر موقع کوئی نہیں آسکتا تھا مگر وہ بھی ہاتھ سے جاتا رہا۔ اب پھر وہی نام نہاد جمہوریت کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ جس میں ووٹ خریدے جاتے ہیں اور پھر اسمبلی میں پہنچ کر سب سے پہلے الیکشن کے اخراجات کا دگنا چوگنا اکٹھا کیا جاتا ہے اور باقی وقت ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں صرف ہوجاتا ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے اور اسلام کا محض نعرہ ہی رہ جاتا ہے ، اسے نافذ کرنے کی کوئی مخلصانہ کوشش نہیں کرتا کیونکہ ایسا کرنے سے خود ممبروں کے مفاد پر زد پڑتی ہے۔ مقصد یہ کہ خود ہمارے لیڈر ہی ہمیں گمراہ کر رہے ہیں وگرنہ نہ عوام میں تو کہیں نہ کہیں ایمان موجود ہے۔ اسلاف کی قربانیاں : ذرا اپنے اسلاف کے کردار پر نظر مار کر دیکھیں کہ انہوں نے دین کی خاطر کس قدر قربانیاں دیں اور آج ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ ان قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام ہم تک پہنچا ہے وگرنہ یہ راستے میں ہی دم توڑ چکا ہوتا۔ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں خراسان میں جو جنگ ہونی تھی اس میں تین لاکھ کافروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد صرف دس ہزار تھی مگر وہ تین لاکھ کی چٹان سے ٹکرا گئے حتیٰ کہ ان میں سے ایک مسلمان بھھی زندہ نہ بچا ، سب شہید ہوگئے۔ اس قربانی کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے بالآخر فتح دی اور چین تک کا علاقہ مسلمانوں کے زیرنکیں آگیا۔ مسلمانوں میں قربانی کا جذبہ اس قدر تھا کہ بعض نے کہا کہ ہماری لاشوں کو دفن کرنے کی بجائے کھلا چھوڑ دینا تاکہ پرندے اور جانور ہمیں کھا جائیں۔ ہم حشر کے دن پرندوں کے پیٹھوں سے برآمد ہونا پسند کریں گے کہ ہم نے اللہ کے دین کی خاطر ایسی ایسی قربانیاں پیش کیں۔ اس قسم کے واقعات فتوح البلدان میں مذکور ہیں۔ مصر کی فتح کے دوران مسلمانوں نے اس قدر قربانیاں دیں جن کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسلام آسانی سے آجائے گا۔ جب تک ذاتی اغراض آڑے آتی رہیں گی اسلام نافذ نہیں ہو سکتا۔ فرمایا صرف وحی الٰہی کا اتباع کریں ان اللہ کان بما تعمنون خبیرا بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ہر کردہ کام کی خبر رکھنے والا ہے۔ کوئی چیز اس نے مخفی نہیں ہے۔ جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا ٹھیک ٹھیک بدلہ ادا کرے گا۔ توکل علی اللہ : فرمایا و توکل علی اللہ اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر کریں۔ تمام اسباب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ جب چاہے گا انہیں موثر بنا دے گا یا غیر موثر کر دے گا۔ لہٰذا بھروسہ اسباب پر نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے کہ سبب الاسباب وہی ہے وکفی باللہ وکیلا اور کافی ہے اللہ کارساز وکیل کا معنی کام بنانے والا ہوتا ہے اور وہ صرف اللہ کی ذات ہے۔ اس کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ سورة المزمل میں بھی فرمایا ، لا الہ ھو فاتخذہ وکیلا (آیت 09) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا کارساز بھی اسی کو سمجھھو۔ وہی بگڑی بنائے گا کہ سارا اختیار اسی کے پاس ہے۔ توحید خالص کو اپنائو اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی صورت میں شرک نہ کرو۔ اس کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام کو جاری رکھو۔
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

نہیں ٹھہرائے اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے لیے دو دل اس کے سینے میں ، اور نہیں بنایا اس نے تمہاری بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو۔ تمہاری مائیں اور نہیں بنایا اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے۔ یہ بات ہے تمہارے اپنے مومنوں سے۔ اور اللہ تعالیٰ حق بات کہتا ا ہے اور وہ رہنمائی کرتا ہے راستے کی

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

پکارو ان کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے۔ یہ بات زیادہ انصاف والی ہے اللہ کے نزدیک۔ پس اگر تم نہ جانتے ہو ان کے باپوں کو پس وہ تمہارے بھائی ہیں دین میں ، اور تمہارے ساتھی ہیں اور نہیں تم پر گناہ اس چیز میں جو تم نے خطا کی ، لیکن گناہ اس میں ہے جو تمہارے دلوں نے پختہ ارادہ سے کیا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

ربط آیات : سورۃ کی ابتدائی آیات میں حضور ﷺ کو خطاب کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں بلکہ وحی الٰہی کا اتباع کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے پروگرام کو جاری رکھیں۔ کفار ، مشرکین اور منافقین کے غلط پراپیگنڈا کا شکار نہ ہوں اور زمانہ جاہلیت کی غلط باتوں پر دھیان نہ دیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی تین باتوں کا ذکر کیا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھیں اور اپنے نبی کو ان کے مقابلے میں صحیح باتوں کو اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ (حاشیہ : 1 ؎ ابو سعود ص 303 ج 4 و معالم التنزیل ص 161 ج 3 و خازن ص 922 ج 5 ، 2 ؎ ابن کثیر ص 664 ج 3 و طبری ص 811 ج 12 فیاض) دو دلوں کی نفی : زمانہ جاہلیت 1 ؎ میں یہ ایک عام تاثر پایا جاتا تھا کہ اگر کوئی شخص غیر معمولی طور پر ذہین ، سمجھدار اور معاملہ فہم ہوتا تو اس کے متعلق کہا جاتا کہ اس شخص کے سینے میں دو دل ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت 2 ؎ میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نماز میں بھول گئے تو بعض منافق کہنے لگے کہ آپ کے دو دل ہیں۔ ان میں سے ایک دل کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور دوسرے دل کے ساتھ مخلص مومنوں کی طرف۔ اللہ نے اس بات کی تردید فرمائی ہے کہ کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے۔ مشرکین مکہ میں سے ایک ذہین آدمی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس کے دو دل ہیں۔ اس آیت کریمہ سے اس بات کی بھی نفی ہوگئی۔ بہرحال ارشاد ہوتا ہے ماجعل اللہ لوجل من قلبین فی جو فہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ، دل ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ بعض جسمانی اعضاء زائد ہو سکتے ہیں جیسے کسی شخص کے ہاتھ پائوں کی انگلیاں پانچ کی بجائے چھ ہوں۔ پچھلے دنوں اخبارات میں ایک عورت کی فوٹو آئی تھی کی تیسری آنکھ سر کی پچھلی جانب موجود تھی تو ایسا تو مشاہدہ میں آتا رہتا ہے مگر کسی شخص کے جسم میں دو دل کبھی نہیں پائے گئے۔ یہ مسئلہ احکام شریعت سے تو تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کا تعلق علم تشریح الاعضو یعنی اناٹومی (Anatomy) سے ہے کہ انسانی جسم میں کون کون سے اعضاء کتنی تعداد میں اور کس کس جگہ پر موجود ہیں۔ انسان کا دل عام طور پر سینے کے بائیں طرف ہوتا ہے مگر بعض شاذونادرکیسوں میں اس کا دائیں جانب ہونا بھی پایا گیا ہے۔ صوبہ مدارس میں عمر آباد کے مقام پر ا ہل حق کا دینی مدرسہ جامعہ اسلامیہ ہے آج سے تقریباً نصف صدی پہلے اس مدرسہ کے مہتمم کا کا ابراہیم کے متعلق مشہور ہے کہ اس کا دل دائیں طرف تھا۔ یورپی ممالک میں بھی لاکھوں کروڑوں میں کوئی اکا دکا شخص ہی ہوگا جس کا دل دائیں طرف ہو تاہم یہ امکان تو ہے مگر کسی شخص کے سینے میں دو دل کبھی بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچے۔ اس موقع پر مفسرین 1 ؎ کرام ایک اور نقطہ بھی اٹھاتے ہیں۔ یہ تو مشہور مقولہ ہے لایتوجہ القلب فی ان واحد الیٰ ثبین یعنی کوئی دل بیک وقت دو امور کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا۔ مگر حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی 2 ؎ نے یہ اشکال پیش کیا ہے کہ بعض لوگ تسبیح بھی چلاتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ گفتگو بھی کرتے رہتے ہیں۔ (حاشیہ : 1 ؎، 2 ؎ بیان القرآن ص 53 ج 9 فیاض) اس طرح ان کے دل کی توجہ دل کی طرف اور باتوں کی طرف بیک وقت کیسے ہو سکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایک وقت میں یا ذکر ہوگا یا دیگر باتیں تو ایسا کرنا محض دھوکہ ہے۔ کوئی شخص ایک ہی وقت میں ذکر کے ساتھ ساتھ دنیاوی باتیں کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جو شخص ایسا کرتا ہے وہ گفتگو میں تو مصروف ہوتا ہے۔ مگر ذکر سے خالی ہوتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ کسی شخص کے سینے میں اللہ نے دو دل نہیں بنائے۔ دل ایک ہی ہوتا ہے جو یا تو کفر کی طرف مائل ہوگا یا اطاعت کی طرف۔ اب دوسرا مسئلہ اللہ نے بیویوں سے ظہار کرنے کے متعلق بیان فرمایا ہے ظہار کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی ماں کی پشت ، پیٹ ، یا ران یا کسی دیگر اعضائے مستورہ سے تشبیہہ دے جس کا دیکھنا بھی حرام ہے۔ یا وہ اپنی بیوی کو اپنی ماں ، بہن یا دیگر محرمات ابدیہ میں سے کسی کے برابر قرار دے۔ ایسا کہنا اگرچہ ناجائز اور سخت ناپسندیدہ ہے مگر اس سے بیوی قطعی طور پر حرام نہیں ہوجاتی بلکہ شریعت کا مقرر کردہ کفارہ ادا کر کے مرد اور عورت ازدواجی زندگی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ کفارہ کا مسئلہ سورة مجادلہ میں بیان کردیا گیا ہے۔ یعنی ظہار کرنے والا شخص ایک غلام آزاد کرے یا دو ماہ کے متواتر روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے زمانہ جاہلیت میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظہار کا اعلان کردیتا تھا تو پھر وہ اس کے لئے ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی تھی۔ اللہ نے اسی بات کی تردید فرمائی ہے وما جعل ازواجکم الئی تظھرون منھن امھتکم اللہ تعالیٰ نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں نہیں بنا دیا جن سے تم ظہار کرتے ہو یعنی ان کو اپنی ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دے دیتے ہو۔ ظہار کا لفظ ظہر کے مادے سے ماخوذ ہے جس کا معنی پشت ہوتا ہے۔ یعنی اپنی بیوی کو اپنی ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہہ دینا۔ دراصل پشت کے ساتھ تشبیہہ زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتی بلکہ پیپ کے ساتھ تشبیہ دینی چاہئے ، کیونکہ اعضائے تنا سلہ اور مستورہ کا تعلق پیٹ کے ساتھ ہوتا ہے ، مگر پشت چونکہ پیٹ کے لئے بطور ستون ہے ۔ لہٰذا ایسے معاملہ میں پیٹ کی بجائے پشت کا ذکر کیا گیا ہے ۔ منہ بولے بیٹے کا مسئلہ : اس آیت کریمہ میں اللہ نے تیسرا مسئلہ منہ بولے بیٹے سے متعلق بیان کیا ہے ، زمانہ جاہلیت میں منہ بولے یا لے پالک بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا ہے ۔ جب کوئی شخص کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتا تھا تو تھر وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بن جاتے ہیں تھے اور حقیقی بیٹے والے دکر مسائل بھی فرع ہوجاتے تھے ۔ مثلاً ۔۔۔۔ بیٹے کی بیوی کے ساتھ نکاح حرام ہے تو منہ بولے بیٹے کی صورت میں بھی وہ اسے حرام ہی قرار دیتے ہیں۔ اللہ نے اس غلط مسئلہ کی بھی ترہ ید فرمانی ہے وما جعل اوعیاء کم ابنا ئکم اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بنایا تم جو انہیں حقیقی بیٹے سمجھ کر وہی احکام لاگو کرتے ہو ، یہ درست نہیں ہے ، ذالکم قوالکم بافواھکم یہ تو محض تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں ، ان میں حقیقت نہیں ہے واللہ یقول الحق دراصل حق بات تو وہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منہ بولے بیٹے حققی بیٹے نہیں ہوتے اور نہ ہی ان پر حقیقی بیٹوں والے شرعی احکام صادر ہوتے ہیں ۔ اللہ کی بات سچی ہے وھو یھدی السبیل اور وہی سیدھے راستے کی طرح راہنمائی کرتا ہے ۔ حضرت زید ؓ کا واقعہ : یہ مسئلہ دراصل آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید ؓ بن حارث کے سلسلے میں پیدا ہوا ۔ آپ کا نام اسی سورة میں آگے آرہا ہے ۔ حضور ﷺ کے حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ نکاح سے بھی پہلے کا واقعہ ہے کہ حضرت 1 ؎ خدیجہ ؓ نے اپنے بھتیجے حکیم ابن حزام ؓ کو کہا کہ وہ عکاظ کی منڈی میں جاکر 1 ؎ درمنشور ص 1 81 ج 5 ؎ (فیاض) ان کے لئے کوئی اچھا سا غلام خرید لائے جس سے روز مرہ ضروریات زندگی میں خدمت لے سکیں ، جب وہ منڈی میں گئے تو ان کی نظر حضرت زید ؓ پر جم گئی جو اس وقت چھوٹے بچے تھے اور بڑے ذہین معلوم ہوتے تھے ۔ حضرت زید ؓ حقیقت میں غلام نہیں تھے بلکہ بڑے وسیع قبیلے کلب کے چشم وچراغ تھے ۔ اتفاق سے یہ اپنے ماموں کے ہاں گئے ہوئے تھے کہ وہاں ڈاکہ پڑا تو ڈاکو باقی چیزوں کے ساتھ زید ؓ کو بھی لوٹ کرلے گئے اور غلام بنا لیا اور اس طرح آپ بحیثیت غلام عکاظ کی منڈی میں پہنچ گئے ۔ بہر حال حکیم ابن حزام ؓ نے حضرت زید ؓ کو خرید کر حضرت خدیجہ ؓ کی خدمت میں پیش کردیا ۔ پھر جب حضور ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ ؓ سے ہوگیا تو آپ نے حضرت زید ؓ کو اپنے لئے طلب کرلیا جو حضرت خدیجہ ؓ نے بخوشی منظور کرلیا اور اس طرح حضرت زید ؓ آنحضرت ﷺ کی تحویل میں آکر آپ کی خدمت پر مامور ہوگئے ۔ جب حضرت زید بڑے ہوگئے تو آپ کو تجارت کے سلسلہ میں شام کے سفر پر جانے کا اتفاق ہوا ، وہاں ان کو ان کے والد حارث اور چچا نے پہچان لیا کہ یہ تو ہمارا بچھڑا ہوا بچہ ہے ، ان کو یہ بھی علم ہوگیا کہ آپ خاندان قریش میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ، چناچہ جب حضرت زید ؓ سفر سے واپس آگئے ۔ تو آپ کے والد اور چچا بھی مکہ پہنچے اور حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ ہمارا بچہ ہے ، کسی وجہ سے غلامی کے چکر میں پھنس گیا ہے ۔ آپ اسے چھوڑ دیں ، ہم اس کا تاون ادا کرنے کے لئے تیار ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا ، کہ مجھے تاوان کی ضرورت نہیں ہے ، اگر زید ؓ جانا چاہتا ہے تو میری طرف سے کھلی اجازت ہے ۔ اس وقت تک حضور ﷺ منصب نبوت پر بھی فائز ہوچکے تھے اور حضرت زید ؓ آپ کے اخلاق کریمانہ سے اچھی طرح واقف ہوچکے تھے ۔ آپ غلاموں میں سب سے پہلے حضور پر ایمان لانے والے ہیں ۔ جب آپ کے والد اور چچا نے اپنے ساتھ چلنے کو کہا تو حضرت زید ؓ نے انکار کردیا اور کہا کہ اپنے اعز کے ہمراہ آزاد زندگی کو حضور ﷺ کی غلامی پر ترجیح دیتا ہوں ۔ وہ لوگ سخت مایوس ہوگئے ۔ اس دوران میں حضور ﷺ نے اعلان فرمادیا کہ میں نے زید ؓ کو آزاد کر کے اپنے منہ بولا بیٹا بنالیا ہے ۔ اب یہ میرا وارث ہوگا ۔ اور میں اس کا وارث ۔ اس پر زید ؓ کا باپ اور چچا خوش ہوگئے کہ زید ؓ اگر ہمارے ساتھ نہ بھی جائے تو اب وہ آزاد ہوگیا ہے۔ ۔۔۔۔ لمحہ بیوی سے نکاح کا مسئلہ : حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کا نکاح اپنی پھوپھی زاو بن حضرت زینت ؓ سے کروایا تھا مگر بوجوہ ان کا آپس میں نباہ نہ ہوسکا۔ حضرت زید ؓ نے حضرت زینت کو طلاق دے دی تو خود آنحضرت ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا ، مشرکین کے نزدیک منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح حلال نہیں تھا۔ اس لئے انہوں نے اس مسئلہ کو خوب اچھالا اور حضور ﷺ کو بدنام کر نیکی کوشش کی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو واضح کیا اور ان آیات کے ذریعے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے بنایا ۔ یہ تو تمہاری اپنی زبانوں کی بات ہے ۔ حق بات اللہ کی ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح بالکل حلال ہے ۔ کسی کو بیٹا کہہ کر پکارنا دو وجوہات سے ہو سکتا ہے ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ محض پیارمحبت اور شفقت کی بنا پر کسی کو بیٹا کہہ کر پکارا جائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ خود آنحضرت ﷺ حضرت انس ؓ کر بھی یبنی (اے بیٹے ) کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔ حضور ﷺ حضرت مغیرۃ ؓ اور ایک اور صحابی کو بھی اسی لقب سے پکارتے تھے ۔ یہ چیز محاورے کے لحاظ سے درست ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی کو یبنی بنا لیا جائے اور اسے روز مرہ کے معمولات میں شریک کیا جائے ۔ ایسی صورت میں بھی منہ بولا بیٹا نہ تو محرم بن جاتا ہے اور نہ ہی اسے حقوق وارثت حاصل ہوتے ہیں ۔ ہاں ! کوئی شخص اپنی زندگی میں سے پالک کے لئے اپنے تہائی مال تک کی وصیت کرسکتا ہے جس کا وہ حقدار ہوگا باقاعدہ وارث نہیں بنے گا ۔ حقیقی بات کی طرف سے نسبت : اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم بھی دی ہے ادعو ھم لا بائھم اپنے لے پالک بیٹوں کو ان کے حقیقی باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارو نہ کہ اس شخص کی طرف جس نے اسے بیٹا بنالیا ہے ۔ فرمایا ھو اقسط عند اللہ کے نزدیک یہ بات زیادہ انصاف والی ہے کہ تم ایسے لوگوں کی نسبت ان کے حقیقی باپوں کی طرف کرو ۔ صحابہ کرام ؓ بیان 1 ؎ کرتے ہیں کہ ان آیات کے نزول سے پہلے ہم حضرت زید ؓ کو زید ؓ ابن محمد کہہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے بعد ہم زید ؓ ابن حارث کہنے لگے ، حضور کا یہ فرمان 2 ؎ بھی ہے من ادعی الی غیر ابیہ فقد کفر جس شخص نے کسی کی نسبت غیر بات کی طرف کی اس نے کفر کا ارتکاب کیا ، بلکہ ایک روایت میں اس کے لئے جنت کے حرام ہونے کا ذکر بھی آتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے پکارا کرو ۔ فرمایا فان لم تعلمو اباء ھم اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو فا خوانکم فی الدین وموالیکم پس وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے ساتھی ہیں ۔ مطلب یہ کہ اگر کسی کے باپ کا علم نہ ہو تو ایسے لوگوں کو بھائی یا رفیق کہہ کر پکارلو مگر غیر باپوں کی طرف نسبت بالکل نہ کرو ۔ بعض روایت 3 ؎ میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ سے کہا انت اخونا ومولنا تم ہمارے بھائی اور ہمارے ساتھی ہو ۔ اس طرح گویا آپ نے اس آیت مبارک کی عملی تفسیر پیش کردی ۔ 1 ؎ ابن کثیر ص 664 ج 3 وقرطبی ص 811 ج 4 1 2 ؎ درمنشور ص 181 ج 5 3 ؎ ابن کثیر ص 764 ج 3 (فیاض) فرمایا ولیس علیکم جناح فیھا اخطا تم بہ اس چیز میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے جس میں تم نے خطا کی مطلب یہ کہ اگر کسی غلط فہمی کی بناء پر میرا بھول کر کسی کو غیر باپ سے منسوب کردیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (رح) حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ اللہ نے میری امت سے خطا اور نسان کے مواخذہ کو ہٹا لیا ہے ایسے شخص پر آخرت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ البتہ دنیا میں اس وجہ سے بعض احکام مرتب ہوجاتے ہیں۔ مثلا ًاگر وضو کرتے وقت غلطی سے پانی حلق میں اتر گیا تو وضو فاسق ہوجائے گا جس کی قضا لازمی ہوگی مگر آدمی گنہگار نہیں ہوگا ۔ اسی طرح اگر کسی نے کسی دوسرے شخص سے جبراً کوئی ناجائز کام کروالیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ کیونکہ اس نے اپنی جان کے خطرے سے کوئی غلط کلمہ زبان سے کہہ دیا ہے یا کوئی غلط کام کردیا ہے ۔ فرمایا اگر غلطی سے کسی شخص کو غیر باپ کی طرف منسوب کردیا تو گناہ نہیں ہوگا ولکن ما تعمدت قلو بکم البتہ اگر نے جان بوجھ کر دل کے ارادے سے ایسا کام کیا تو اللہ کے ہاں ماخوذ ہوگے ۔ وکان اللہ غفور اً رحیما اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور مہربان ہے ۔ غلطی کی صورت میں و ہ معاف فرمادے گا ۔ اور اگر قصداً کوئی غلط کام کرو گے تو گرفت ہوگی۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

اللہ کے نبی کو زیادہ تعلق ہے ایمان والوں کے ساتھ ان کی جانوں سے ، اور نبی کی بیویاں ان (مومنوں ) کی مائیں ہیں اور قرابت دار بعض زیادہ تعقل رکھتے ہیں بعض کے ساتھ اللہ کی کتاب میں ایمان والوں اور ہجرت کرنے والوں سے ، مگر یہ کہ تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی احسان کرنا چاہو ۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے

ربط آیات : سورۃ احزاب کے بنیادی مضامین اللہ کے نبی کا ادب واحترام اور عورتوں سے متعقل بعض احکام ہیں ، گزشتہ درس میں اللہ نے فرمایا تھا کہ کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے ، نیز یہ کہ اگر تم اپنی بیویوں کو ظہار کے طریقے پر ماں کہ دو تو وہ مائیں نہیں بن جاتیں ، یہ محض تمہارے منہ کی باتیں ہیں جن میں حقیقت نہیں ہے ۔ پھر فرمایا کہ جس کو تم منہ بولا بیٹا نا لیتے ہو وہ تمہارا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا لہٰذا اس کو اس کے حقیقی باپ کی طرف ہی نسبت کر کے پکارنا چاہئے اور اگر ایسے کسی شخص کے باپ کا نام پتہ معلوم نہ ہو تو پھر وہ تمہارے دینی بھائی اور ساتھی ہیں ان کو بھائی کہہ کر پکارا کرو۔ فرمایا اگر غلطی سے یا بھول کر کوئی غلط کلمہ زبان سے نکل جائے تو اللہ کے ہاں اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص عمداً ایسی بات کرے گا تو قابل مواخذہ ہوگا۔ اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کی فضیلت ، مرتبہ اور ایمانداروں کے ساتھ آپ کے تعلق کا ذکر کیا ہے۔ اس سورة میں یہ مضمون آگے بھی مختلف عنوانوں سے بیان ہو رہا ہے اور اسی ضمن میں ازواج مطہرات کے مرتبہ اور فضیلت کی بہت سی باتیں بھی آ رہ یہیں۔ اہل ایمان پر نبی کا ادب و احترام اس لئے بھی ضروری ہے کہ ان کو جو بھی خیروخوبی نصیب ہوئی ہے یا آئندہ ہوگی وہ نبی کے توسط سے ہی ہوگی۔ ایسی کوئی بات یا کوئی فعل نہیں کرنا چاہئے جو نبی کی شان کے خلاف ہو یا اس سے آپ کی دل آزاری کا پہلو نکلتا ہو۔ نبی اور مومن کا تعلق نبی اور مومنوں کے باہمی تعلق کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسھم نبی کو اہل ایمان کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگائو ہے۔ اولیٰ کا معنی قریب بھی ہوتا ہے اور مطلب وہی ہے کہ اللہ کا نبی مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہے۔ مگر اہل بیت اس کا غلط مفہوم لیتے ہیں۔ وہ اس لفظ سے نبی (علیہ السلام) کو حاضر و ناظر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ قرآن اپک نے اس مشرکانہ عقیدے کی مختلف طریقوں سے تردید کی ہے۔ حاضر ناظر ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے۔ اور مخلوق میں سے کوئی بھی ہستی اس صفت میں شریک نہیں۔ وھو بکل شیء علیم (البقرہ۔ 92) واللہ علی کل شیء شہید (البروج۔ 9) مطلب یہ ہے کہ علیم کل اور ہر جگہ حاضر و ناظر صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس موقع پر نہایت ہی عمدہ تقریر لکھی ہے۔ فرماتے ہیں 1 ؎ تفسیر عثمانی ، ص 245 (فیاض) ہیں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو مومن آدم یکا ایمان آفتاب نبوت کی ایک شعاع ہے۔ ابریز والے بزرگ اگرچہ امی تھے مگر بڑے علم و فہم والے اور صاحب کشف بزرگ تھے ، ان کے ملفوظات ان کے ایک مرید نے ایک عظیم کتاب کی صورت میں جمع کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ پیغمبر کے قلب مبارک سے ایک تار سا نکل کر ہر اہل ایمان کے قلب کے ساتھ آ کر مل جاتا ہے۔ اگر یہ تار یعنی تعلق ٹوٹ جائے ، تو انسان سعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ یہ کشفی بات ہے مگر درست ہے۔ اسی لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر مومن غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ ایمان حقیقت میں اللہ کے نبی کے قلب مبارک کی شعاع کا نتیجہ ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) آفتاب نبوت ہیں ، لہٰذا اگر کوئی شخص حقیقت ایمان کو سمجھنے کے لئے فکری حرکت شروع کرے گا تو ایمان کی حقیقت پانے سے پہلے اسے پیغمبر کی معرفت حاصل کرنا پڑے گی ، کیونکہ ایمان تو پیغمبر کے واسطہ سے ہی آتا ہے۔ غرضیکہ نبی کا وجود مسعود ہم سے ہماری ہستی سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔ نبی بمنزلہ باپ نبی کے ساتھ اس روحانی تعلق کی بناء پر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) مومنوں کے حق میں بمنزلہ باپ کے ہیں۔ حضرت سلمان فارسی کی روایت میں آتا ہے کہ کفار مشرکین حضور ﷺ کے متعلق طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے تھے اور مختلف قسم کے اعتراض کرتے تھے۔ مگر ہمارا جواب یہی ہوتا تھا کہ پیغمبر (علیہ السلام) ہمارے لئے بمنزلہ باپ کے ہیں بلکہ با پسے بھی زیادہ شفیق ہیں۔ انہوں نے ہمیں ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات کی تعلیم دی ہے۔ حتیٰ کہ استنجا پاک کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے انا لکم بمنزلۃ الوالد یعنی میں تمہارے لئے بمنزلہ باپ ہوں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضرت جابر ؓ کی روایت کے مطابق قرآن کی بعض قراتوں میں یہ الفاظ بھی 1 ؎ 2 ؎ ابن کثیر ص 764 ، ج 3 3 ؎ در منثور ص 381 ، ج 5 و روح المعانی 251 ، ج 12 و مدارک 492 ، ج 3 و احکام القرآن للجصاص 553 ، ج 3 (فیاض) آتے ہیں و ازواجہ امتھتھمو ھو اب لھم یعنی پیغمبر (علیہ السلام) کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں اور آپ ان کے حق میں بمنزلہ باپ کے ہیں۔ اگر باپ اور بیٹے کے تعلق پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بیٹے کا وجود باپ کے مرہون منت ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ بار بار حسن سلوک کا حکم دیا ہے و بالوالدین احسانا (بنی اسرائیل۔ 32) باپ کے اپنے بیٹے کے ساتھ اس قریب ترین تعلق کی بناء پر ہی بیٹے کے لئے باپ کی شفقت اور تربیت طبعی ہوتی ہے۔ جتنی باپ کو بیٹے سے ہمدرد یہوتی ہے اتنی اور کسی سے نہیں ہوتی۔ ہر شریف باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا اس سے بڑھ کر ہو۔ نیک بخت ، لائق اور باعزت ہو ، یہ اس کی طبعی شفقت کا نتیجہ ہوتا ہے ، لیکن اگر بنظر غور دیکھا جائے تو نبی اور امتی کا تعلق اس سے بھی زیادہ ہے۔ باپ تو بیٹے کے ظاہری وجود کا ذریعہ ہوتا ہ۔ نیز باپ کی شفقت بھی طبعی ہوتی ہے۔ مگر نبی کو جو تعلق اور شفقت امتی کے ساتھ ہوتی ہے وہ باپ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ امتی کا روحانی وجود اور اس کا ایمان نبی کی روحانیت کا عکس ہوتا ہے۔ اس لئے نبی کی طرف سے جو شفقت ، مہربانی ، توجہ اور تربیت امتی کے لئے ہوتی ہے وہ والدین سے کہیں زیادہ وتی ہے۔ باپ کے ذریعے اللہ نے ہمیں دنیا کی عارضی حیات عطا فرمائی ہے۔ جب کہ نبی کے طفیل انسانوں کو دائمی حیات حاصل ہوتی ہے۔ جسے ایمان نصیب ہوگیا توحید سمجھ میں آگئی اور نیکی حاصل ہوگئی اسے گویا ابدی حیات مل گئی۔ غرضیکہ اللہ کے نبی ہمارے ساتھ جو ہمدردی ، خیرخواہی ، شفقت اور تربیت فرماتے ہیں ایسی شفقت اور ہمدردی خود ہمارا وجود بھی نہیں کرسکتا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ کے نبی کو اہل ایمان کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریبی تعلق ہے۔ نبی کو تصرف کا حق یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی کو مومنوں کے مال وجان میں تصرف کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ، چناچہ شاہ عبدالقادر دہلوی لکھتے ہیں کہ 1 ؎ موضع القرانہ ص 105 (فیاض) اللہ کے نبی کو یہ حق اس لئے حاصل ہے کہ وہ اللہ کا نائب ہے۔ تصرف کی مثال اسی طرح ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو آگ میں ڈالنا پسند نہیں کرتا۔ لیکن اگر اللہ کا نبی حکم دے دے کہ تم ایسا کرو۔ تو امتی پر ایسا کرنا فرض ہوجائے گا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ نبی کو ہماری جانوں اور روحوں پر بھی تصرف حاصل ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والدین ، اولاد اور سب لوگوں کو زیادہ محبوب نہ بن جائوں۔ نبی کو امتی کے ساتھ زیادہ لگائو اور تعلق کا یہی معنی ہے۔ اگر ہمارا نفس برا ہے تو وہ بری بات کی ہی تلقین کرے گا ، مگر اللہ کا نبی ہمیشہ اچھی بات کی تلقین کرے گا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ نبی کو ہمارے ساتھ خود ہمارے نفسوں سے بھی زیادہ ہمدردی ہے۔ اور اگر انسان کا نفس اچھا بھی ہے تو بسا اوقات وہ انسان کی مصلحتوں کو نہیں سمجھتا اور ہو سکتا ہے کہ وہ کسی وقت غلط فیصلہ کر بیٹھے مگر یہ اللہ کے نبی کی شان ہے کہ وہ اپنے امتی کے حق میں ہمیشہ صحیح فیصلہ کرے گا۔ اس کے پیش نظر ہمیشہ امتی کی خیرخواہی ہی ہوگی۔ اپنی جان بھی اپنے ساتھ وہ ہمدردی اور شفقت نہیں کرسکتی جو اللہ کا نبی امتی کے ساتھ کرتا ہے۔ لہٰذا اسے امتی کے ساتھ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ لگائو ہے۔ ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں نیز یہ بھی وازواجہ امھتھم کہ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں یہ مسئلہ آگے بھی آ رہا ہے جہاں نبی کی بیویوں سے نکاح کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ بہرحال ازواج مطہرات کو دو وجوہ سے مومنوں کی مائیں قرار دیا گیا ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ حضور کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کی بیویوں کا 1 ؎ ابن کثیر ص 764 ، ج 3 و مظہری ص 803 ، ج 7) ( فیاض) نکاح کسی امتی کے ساتھ جائز نہیں۔ یہ مسئلہ آگے بالتفصیل آ رہا ہے اور وہ صرف وجہادب و احترام کی ہے۔ حضور ﷺ کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں مگر ان کا ادب و احترام حقیقی ماں سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ نبی کی بیویوں پر حقیقی ماں جیسے تمام احکام لاگو نہیں ہوتے ، مثاً کوئی آدمی حقیقی ماں سے پردہ نہیں کرتا۔ اس کے پاس خلوت میں بیٹھ سکتا ہے اور اس کو ہاتھ لگا سکتا ہے۔ مگر روحانی ماں یعنی نبی کی بیوی کے ساتھایک امتی یہ کام نہیں کرسکتا۔ کوئی شخص حقیقی یا رضاعی ماں کی بیٹی سے نکاح نہیں کرسکتا مگر نبی کی بیویوں کے سلسلے میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اسی طرح بیٹا ماں کی وراثت میں حقدار ہوتا ہے مگر نبی کی بیویوں کی وراثت میں یہ حق قائم نہیں ہوتا۔ غرضیکہ نبی کی بیوی پر ماں کا اطلاق صرف دو صورتوں میں ہے ایک یہ کہ اس کے ساتھ نکاح ابدی حرام ہے اور دوسری یہ کہ اس کا ادب و احترام واجب ہے۔ نبی کی بیویوں کی توہین کرنے والا شخص یا تو منافق ہے یا بےایمان رافضی لوگ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی توہین کے مرتکب ہوئے۔ حالانکہ ان کی برأت کا ذکر ہم سورة نور میں پڑھ چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پورے دو رکوع آپ کے حق میں نازل فرما کر آپ کی طومارت اور پاکیزگی کو بیان کردیا ہے اللہ نے آپ پر لگائے گئے اتہام کی سخت الفاظ میں مذمت بیان کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی بیویوں اور مومنوں کی مائوں کو ہرنجاست سے پاک رکھا ہے۔ اللہ نے سورة نور میں یہ اصول بیان کردیا ہے والطیبات للطیبین (آیت۔ 62) پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اللہ کا نبی بھی پاک ہے اور اس کی تمام بیویاں بھی پاک ہیں۔ اللہ نے انہیں ہر قسم کی اخلاقی نجاستوں سے محفوظ رکھا ہے۔ قرابتداروں کا حق آگے وراثت کے سلسلے میں قرابت داروں کا حق بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ من المومنین والمھجرین اللہ کی کتاب میں بعض قرابتدار بعض کے ساتھ مومنوں اور مہاجروں کی نسبت زیادہ لگائو رکھتے ہیں جب مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو حضور ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں رشتہ اخوت قائم کردیا تھا ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا۔ چناچہ ہر دو بھائی حقیقی بھائیوں کی طرح ہوگئے۔ حتیٰ کہ فرمایا یرث المھاجر الانصاری اگر مہاجر بھائی فوت ہوجائے تو اس کی وراثت اس کے انصاری بھائی کو ملے گی اور اس طرح انصاری بھائی کا وارث اس کا مہاجر بھائی ہوگا۔ یہ عبوری احکام تھے۔ پھر جب اسلام کو تقویت حاصل ہوگئی ، مسلمانوں کی جماعت مضبوط ہوگئی ، لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوگئے اور مہاجرین کے عزیز و اقارب بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے تو اللہ نے پہلے حکم کو منسوخ کردیا اور فرمایا کہ وراثت کے معاملے میں دینی بھائی کی نسبت کسی شخص کے اصل عزیز و اقارب ہی زیادہ حقدار ہیں۔ وراثت کے مسائل اور ہر حصے دار کے حصہ کی مقدار اللہ نے سورة النساء میں بیان کردی ہے کسی میت کے وارث پہلے نمبر پر ذوی الفروض یعنی وہ رشتہ دار ہیں جن کے حصے اللہ نے قرآن میں مقرر کردیئے ہیں۔ پھر دوسرے نمبر پر عصبہ آتے ہیں جن میں اولاد اور اب پکی طرف سے رشتہ دار شامل ہیں۔ پھر تیسرے نمبر پر ذوی الارحام یعنی ماں کی طرف سے رشتہ دار آتے ہیں۔ تو فرمایا ، کہ اب وراثت کا حکم وہ نافذ العمل ہوگا جس میں میت کے حقیقی رشتہ داروں کو حصہ دار قرار دیا گیا ہے۔ البتہ عام مومنین اور مہاجرین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ان کو عطیہ پیش کرنا ، ان کی خدمت کرنا درست ہے مگر وراثت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ ساتھیوں کے ساتھ احسان فرمایا عام مومنین اور مہاجرین کی نسبت تمہارے رشتہ دار تم سے زیادہ لگائو 1 ؎ ابن کثیر ص 764 ، ج 3 (فیاض) رکھتے ہیں یعنی ان کا حق فائق ہے الا ان تفعلوا الی اولئکم معروفا مگر یہ کہ تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی احسان کرنا چاہو تو بخوشی کرسکتے ہو۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ وہ وراثت میں حقدار نہیں ہوں گے ایک صورت میں اللہ نے اجازت دی ہے اور وہ یہ کہ کوئی شخص اپنے کسی رفیق یا ساتھی کے حق میں زیادہ سے زیادہ اپنے ایک تہائی مال کی وصیت کرسکتا ہے کسی کی خدمت خاطر کرنا چاہو تو اس کی اجازت ہے۔ کان ذالک فی الکتب مسطوراً اور یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ اس کتاب سے کون سی کتاب مراد ہے ؟ بعض مفسرین کتاب سے مراد لوح محفوظ لیتے ہیں کہ وہاں یہ حکم لکھا ہوا موجود ہے۔ بعض دوسرے مفسرین اس سے کتاب تورات مراد لیتے ہیں کہ وہاں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے۔ اور قرآن پاک میں تو یہ مسئلہ بہرحال آ گیا ہے اور یہ بھی اللہ کی آخری اور عظیم ترین کتاب ہے تو اس آیت کریمہ میں اللہ نے پہلے نبی اور مومنوں کے باہمی تعلق کو بیان کیا۔ پھر ازواج مطہرات کے ادب و احترام اور ان کی محرکات میں شمولیت کا ذکر کیا۔ پھر سلسلہ مواخات کے احکام کو تبدیل کر کے فرمایا کہ وراثت کے معاملہ میں دینی بھائیوں کی نسبت اصل رشتہ داروں کو فوقیت حاصل ہے۔ البتہ عام مومنین اور مہاجرین یعنی دینی بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔