Ayahs 33:51–52ربط آیات
گزشتہ درس میں نکاح کے سلسلے میں حضور ﷺ کی چار خصوصیات کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ مہر کی ادائیگی پر آپ کے لئے چار سے زیادہ بیویاں بھی حلال ہیں۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی ملک میں یعنی لونڈیاں بھی آپ پر حلال ہیں اور عام مسلمانوں کے برخلاف نبی کی لونڈیوں سے کوئی امتی نکاح نہیں کرسکتا۔ تیسری بات اللہ نے یہ فرمائی کہ آپ کے لئے آپ کی چچازاد پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور خالہ زاد میں سے صرف وہ عورتیں حلال ہیں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اگر کوئی مومنہ عورت اپنے آپ کو نبی (علیہ السلام) کی ذات کے لئے ہبہ کر دے تو آپ اس سے بغیر مہر کے بھی نکاح کرسکتے ہیں۔ فرمایا یہ حکم صرف آپ کی ذات کے لئے ہے۔ امتیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ہبہ کیلئے ایمان بطور شرط
اس ضمن میں حضور ﷺ کی پانچویں خصوصیت یہ ثابت ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو نبی کے لئے بہہ کرنے والی عورت کا مومنہ ہونا ضروری ہے۔ مفسرین اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر کوئی کتابیہ اپنے آپ کو ہبہ کر دے تو اس کے ساتھ بغیر مہر کے نکاح درست نہیں ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ وہی ہے جو گزشتہ درس میں بیان ہوچکی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ کثرت ازواج کے
1 ؎ معالم التنزیل 081 ج 3 و خازن ص 862 ج 5
ذریعے دین اسلام کی تعلیم کو عام کیا جائے۔ نبی کی بیویاں نبی کی صحبت میں رہ کر زیادہ سے زیادہ دین حاصل کریں ی۔ اور پھر اسے آگے پہنچائیں گی۔ ا اور یہ فریضہ وہی عورت انجام دے سکتی ہے جو خود ایماندار ہو۔ اگر عورت یہودیہ یا نصرانیہ ہوگی۔ تو وہ نہ تو اسلام کی تعلیم حاصل کرے گی اور نہ اسے آگے پہنچائے گی ، لہٰذا اللہ نے یہ شرط عائد کردی کہ اگر کوئی عورت خود کو نبی کے لئے ہبہ کر دے اور نبی اس سے بغیر مہر کے نکاح کرنا چاہے تو اس عورت کا مومنہ ہونا ضروری ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی دینی مدرسہ میں کوئی کافر استاد مقرر کردیا جائے۔ ایسا استاد مسلمانوں کو کیا تعلیم دے گا ؟ پیغمبر کے گھر کو ایک دینی مدرسہ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ، لہٰذا اس گھر میں آنے والی مومنہ خاتون ہی دین کی کماحقہ خدمت انجام دے سکتی ہے۔ البتہ مہر کے ساتھ کتابیہ سے نکاح کرنے کی اجازت اہل ایمان کے لئے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے والمحصنت من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم (المائدۃ۔ 5) اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) کی پاکدامن عورتوں کے ساتھ بھی تم نکاح کرسکتے ہو۔ اذا اتیتموھن اجورھن جب کہ تم ان کے مہر ان کو ادا کر دو ۔
عدم مساوات کی اجازت
آگے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی چھٹی خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے تورجی من تشاء منھن آپ اپنی بیویوں میں سے جسے چاہیں پیچھے ہٹا دیں و تئوی الیک من تشاء اور جس کو چاہیں اپنے قریب کرلیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے لئے بیویوں کے درمیان رہائش رکھنے میں مساوات قائم رکھنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے برخلاف عام مسلمانوں کے لئے حکم یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی متعدد بیویاں ہیں تو ان کے درمیان مساوات کا قیام ضروری ہے یعنی ایسا شخص جتنے روز کے لئے خوردونوش اور شب باشی ایک بیوی کے ہاں اختیار کرے گا اتنے ہی روز دوسری بیوی کے لئے اختیار کرے گا ، مگر پیغمبر (علیہ السلام) کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ، گویا آپ اپنی بیویوں کے پاس کم و بیش وقت گزار سکتے ہیں۔ اس استثنیٰ میں یہ مصلحت ہے کہ پبغمبر (علیہ السلام) پر مساوات کے سلسلے میں کسی قسم کا ذہنی بوجھ نہ پڑے۔ اگر یہ پابندی آپ کے لئے برقرار رہتی تو ہو سکتا تھا کہ مساوات برقرار رکھنے کے لئے آپ کے ذہن پر بوجھ رہتا اور دینی خدمات کی انجام دہی میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ تاہم حضور ﷺ اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے اپنی بیویوں کے درمیان ہمیشہ مساوات قائم کرتے۔ اور ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کرتے کہ پروردگار ! میں حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ بیویوں کے درمیان مساوات قائم رہے۔ اس کے باوجود اگر دل کا میلان کسی ایک طرف زیادہ ہو تو یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ اس پر مجھے ملامت نہ کرنا۔ صحیحین میں یہ حدیث بھی موجود ہے کہ جب حضور ﷺ سفر پر جاتے تو بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ، پھر جس بیوی کے نام قرعہ نکلتا ، اس کو سفر پر ہمراہ لے جاتے آپ ایسا بیویوں کی دلجوئی کے لئے کرتے وگرنہ آپ کے لئے ایسا کرنا ضروری نہیں تھا۔ البتہ عام مسلمانوں کے لئے بیویوں کے درمیان مساوات کا قیام ضروری ہے۔ اگر اس میں کوتاہی کریں گے تو عند اللہ ماخوذ ہوں گے۔
فرمایا و منالبتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک اور اگر آپ طلب کرنا چاہیں جس کو آپ نے پیچھے ہٹایا ہے تو بھی آپ پر کوئی حرج نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی وقت آپ نے کسی بیوی کو کم وقت دیا ہے تو آپ اسے زیادہ بھی دے سکتے ہیں آپ کو اس ضمن میں پورا پورا اختیار حاصل ہے کیونکہ آپ کو مساوات سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔ فرمایا ذلک ادنی ان تقر اعینھن یہ بات زیادہ قریب ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ولا یحزن اور وہ غمگین بھی نہ ہوں و یرضین بما اتیتھن کلھن اور جو آپ ان کو دیں اس پر راضی ہوں۔ بظاہر عدم مساوات کا اختیار کوئی خوشی کی بات نہیں تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ جب امہات المومنین کو معلوم ہوگیا کہ نبی (علیہ السلام) پر مساوات کا قیام ضروری نہیں ہے ، اس کے باوجود آپ اپنی طرف سے حتی الامکان مساوات کا سلوک فرماتے تھے۔ تو یہ بات ان کے لئے باعث مسرت تھی۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز پر اپنا حق سمجھے اور پھر وہ اسے نہ ملے تو وہ ناراض ہوگا۔ مگر نبی کی بیویوں کا مساوات کا حق تو اللہ نے نہیں دیا اس کے باوجود حضور ﷺ کی طرف سے مہربانی کا سلوک امہات المومنین کے خوشی کا سبب تھا۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ مساوات کے قانون سے آپ کا استثنیٰ آپ کی بیویوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک اور غم سے نجات کا باعث ہوگا۔ اور پھر آپ اپنی مرضی سے ان کے ساتھ جو بھی سلوک کریں گے۔ وہ اس پر راضی ہوں گی۔ فرمایا واللہ یعلم ما فی قلوبکم اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی بات کو جانتا ہے و کان اللہ علیما حلیما اور وہ سب کچھ جاننے والا اور بردبار ہے وہ فوری گرفت نہیں کرتا۔ اگر کوئی کوتاہی ہوجائے تو وہ اپنے وقت پر پکڑتا ہے یہ اس کی بردباری کی علامت ہے۔
مزید نکاح کی ممانعت
حضور ﷺ کی ساتویں خصوصیت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے لا یحل لک النساء من بعد اس کے بعد آپ کے لئے کوئی عورت حلال نہیں ہے ولا ان تبدل بھن من ازواج اور نہ ہی آپ ان کے بدلے میں دوسری بیویاں تبدیل کرسکتے ہیں مطلب یہ کہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ مزید بیویاں نہیں کرسکتے ولو اعجبک حسنھن اگرچہ ان کا حسن آپ کو زیادہ اچھا لگے۔ یہ پابندی بھی صرف حضور ﷺ کے لئے ہی تھی کہ آپ پہلی بیویوں میں سے کسی کو چھوڑ کر یا موجودہ بیویوں کی موجودگی میں مزید نکاح کرلیں۔
مفسرین کرام اس کی تفسیر دو طرح فرماتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس حکم کا
1 ؎ خازن 072 ج 5 و تفسیر الثعالبی ص 432 ج 3
منشاء یہ ہے کہ جتنی قسم کی عورتوں سے حضور ﷺ کو نکاح کی اجازت اللہ نے دی تھی اس کے علاوہ کسی اور قسم کی عورت سے نکاح نہیں کرسکتے۔ مثلاً آپ کو عام مومن عورتوں سے نکاح کی اجازت تھی ، جن کا آپ مہر ادا کردیں۔ آپ کے لئے لونڈیاں بھی حلال تھیں۔ آپ کی چچازاد ، پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور خالہ زاد بھی حلال تھیں۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی۔ آپ کو بغیر مہر ایسی مومنہ عورت سے نکاح کی بھی اجازت تھی جو اپنے آپ کو ہبہ کر دے۔ تو بعض مفسرین کی تحقیق یہ ہے کہ ان اقسام کی عورتوں کے علاوہ آپ کسی دوسری قسم کی عورت سے نکاح نہیں کرسکتے۔ تاہم حضرت انس ؓ کی روایت کے مطابق اس آیت کا سیدھا سادھا مطلب یہ ہے کہ آپ موجودہ بیویوں کے علاوہ مزید نکاح نہیں کرسکتے۔ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ کی ازواج نے زیادہ خرچہ کا مطالبہ کیا اور آپ ناراض ہوگئے اور پھر اللہ کے حکم سے ازواج میں یہ اعلان فرما دیا کہ اگر دنیا کی عیش و عشرت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں اچھے طریقے سے رخصت کر دوں اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کا گھر مطلوب ہے تو پھر اسی خرچہ میں گزارہ کرو ، تو ازواج مطہرات نے دوسری بات کو پسند کیا اور زندگی بھر عسرت میں وقت گزار دیا۔ حتیٰ کہ دو دو ماہ تک آپ کے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا۔ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے اس پناعت کو قبول کرلیا تو اللہ نے بھی حضور ﷺ کو حکم دے دیا کہ آئندہ ان بیویوں کے علاوہ مزید نکاح نہ کریں چناچہ آپ نے اس حکم کی پابندی کی۔ آپ کی رحلت کے وقت آپ کی نو بیویاں اور دو لونڈیاں موجود تھیں۔ ان کے علاوہ حضرت خدیجہ ؓ مکہ میں فوت ہوچکی تھیں اور حضرت زینب بنت خزیر ؓ مدینہ میں فوت ہوئیں۔
قبل از نکاح ملاقات
اس آیت کریمہ میں آمدہ الفاظ ولو اعجبک حسنھن سے مترشح
1 ؎ خازن ص 073 ج 5 و طبری ص 83 ج 22
ہوتا ہے کہ قبل از نکاح مرد اور عورت ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں کیونکہ شکل و صورت ، قد بت اور حسن وغیرہ کا ادراک تو دیکھنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے اسی لئے تو اللہ نے فرمایا کہ آپ کو مزید نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ آپ کو کسی عورت کا حسن بھلا معلوم ہو۔ اس بات کی تصریح حدیث میں بھی موجود ہے کہ جس عورت کو پیغام نکاح دینا مقصود ہو ، آدمی اسے دیکھ سکتا ہے اور پسند ناپسند کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ البتہ تنہائی میں بیٹھ کر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ اس سے کئی قسم کی قباحتیں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ آج کل نام نہاد مہذب ممالک کے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو پسند کرنے کے لئے قبل از نکاح کئی کئی ماہ تک اکٹھے رہ کر (COURT SHIP) کرتے ہیں اور اس کے بعد نکاح کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ تو صریحاً بےحیائی کی بات ہے ، تاہم لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کو دیکھنے اور بات چیت کرنے کی اسلام نے اجازت دی ہے۔ الغرض ! اللہ نے فرمایا کہ آپ کو مزید نکاح کی اجازت تو نہیں ہے الا ما ملکت یمینک البتہ آپ کی مملوکہ لونڈیوں کو گھر میں رکھنے کی اجازت ہے۔ و کان اللہ علی کلی شیء رقیبا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ احکام الٰہی کی پابندی یا ان کی خلاف ورزی کرنے والے سب لوگ اس کی نگاہ میں ہیں ، اور وہ ہر ایک کے ساتھ اس کے عقیدہ اور عمل کے مطابق ہی سلوک کرے گا۔
لونڈی غلام کا رواج
اکثر لوگ اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام میں لونڈی غلام رکھنے کی اجازت ہے جو کہ شرف انسانیت کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام بھی غلامی کو غیرفطری چیز تصور کرتا ہے اور اس کے حق میں نہیں ہے ظہور اسلام کے زمانے میں غلامی کا رواج پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا اور روزمرہ کاروبار کا زیادہ تر انحصار انہی پر تھا۔ اگرچہ اسلام نے اس رواج کو یکسر ختم نہیں کیا ، مگر مگر اس کو پسند بھی نہیں کیا ، بلکہ اس کو ختم کرنے کے لئے کئی اقدام کئے۔ چناچہ غلام کی آزادی کو بہت بڑی نیکی قرار دیا اور مسلمانوں نے ہزاروں غلام خرید کر آزاد کئے۔ اس کے علاوہ اسلام نے مختلف جنایات کا کفارہ بھی غلام کی آزادی کو قرار دیا اور اس طرح بھی بہت سے لوگوں کو آزادی نصیب ہوئی۔ پھر آہستہ آہستہ پوری دنیا سے شخصی غلامی کا رواج ختم ہوگیا۔
عورتوں کی غلامی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اسلام کے ظہور سے پہلے جب مختلف قبائل آپس میں جنگیں لڑتے تھے تو مرد تو مارے جاتے اور عورتیں و بچے بےیارو مددگار ر جاتے جن کی وجہ سے معاشرے میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوتیں۔ اسلام نے زمانے کے حالات کے پیش نظر اس رواج کو اس لئے جاری رکھا تاکہ لاوارث عورتیں اور بچے در در کی ٹھوکریں نہ کھاتے پھریں بلکہ لوگوں کے قبضہ میں آ کر ان کی خدمت بھی کریں اور اچھے طریقے سے زندگی بھی بسر کریں چناچہ اسلام نے لونڈی اور غلاموں کے بہت سے حقوق متعین کئے اور مالکوں کو حکم دیا کہ جیسا خود کھائو۔ ان کو بھی کھلائو اور جیسا خود پہنو ان کو بھی پہنائو۔ کسی غلام سے اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو اور اگر کوئی مشکل کام ان کے سپرد کرو تو خود بھی ان کا ہاتھ بٹائو۔
اس کے برخلاف ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی جنگ عظیم میں جرمنوں کے اکثر مرد تو مارے گئے اور بیس لاکھ عورتیں باقی رہ گئیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ پھر انہیں فیکٹریوں میں بھرتی کیا گیا تو وہاں بےحیائی اور بدکاری جیسی معاشرتی خرابیاں پیدا ہوئیں اور یہی عورتیں ملک کے لئے مصیبت بن گئیں۔ اس کے برخلاف مسلمان ترکوں نے تعداد زواج پر عمل کرتے ہوئے ایک سے زیادہ نکاح کر لئے اور اس طرح بےسہارا رہ جانے والی عورتوں کو سہارا مل گیا اور وہ باعزت زندگی گزارنے لگیں۔ بہرحال لونڈی غلام اور تعداد ازواج کے معاملہ میں اسلام نے بہترین راستہ اختیار کیا ہے جس پر لوگ خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہیں۔
Ayah 33:53ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سلسلے میں نبی ﷺ کی خصوصیات بیان فرمائیں اور اب اگلی آیت میں اللہ کے نبی کے گھر کے آداب سکھائے ہیں۔ نیز ازواج مطہرات کے متعلق بھی بعض آداب کا تذکرہ کیا ہے۔ جو عام مومنوں کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سے بعض چیزیں محض ازواج مطہرات کے لئے ہی خاص نہیں بلکہ عام ایمان والوں کے لئے بھی واجب التعمیل ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کا ذکر کر کے عام لوگوں کو بھی یہی ادب سکھایا گیا ہے۔
دعوت طعام کے آداب
ارشاد ہوتا ہے یایھالذین امنوا اے ایمان والو ! لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم الی طعام نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو۔ یہاں تک کہ تم کو کھانا کھانے کی اجازت دی جائے۔ اور ساتھ یہ بھی فرمایا غیر نظرین اہ کہ کھانا پکنے کے انتظار میں بیٹھنے والے نہ ہو۔ مطلب یہ کہ قبل از وقت ہی جا کر نہ بیٹھ جائو کہ جب کھانا تیار ہوگا تو کھا لیں گے۔ ولکن اذا دعیتم فادخل بلکہ نبی کے گھر میں اس وقت داخل ہو جب تمہیں بلایا جائے۔
کسی گھر میں دعوت تعام کے لئے اجازت لے کر جانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی کے گھر بلا اجازت طفیلی بن کر نہیں جانا چاہئے۔ ایسا کرنا سخت ناپسندیدہ بات ہے۔ حضور ﷺ کا ارشد مبارک ہے کہ بن بلائے مہمان کی مثال ایسی ہے دخل دخل سارقا و خرج خرج مغیرا کہ داخل ہوتے وقت وہ چور ہوتا ہے اور نکلتے وقت ڈاکو۔
ایک شخص نے حضور ﷺ کی دعوت کی۔ آپ کے ساتھ چار آدمی اور بھی تھے۔ جب وہ میزبان کے گھر کی طرف چلے تو ایک مزید آدمی ساتھ مل گیا۔ حضور ﷺ نے متعلقہ مکان پر پہنچ کر صحب خانہ کو مطلع کیا کہ ہمارے ساتھ ایک بن بلایا مہمان بھی ہے ، اگر ایک زائد آدمی کے لئے کھانے کی گنجائش ہے اور تمہاری اجازت وہ تو وہ آدمی بھی آجائے ورنہ ہم اسے واپس لوٹا دیں گے۔ بہرحال اس شخص نے اجازت دے دی اور اس طرح مسئلہ واضح ہوگیا۔ باقی رہی یہ بات کہ مہمان قبل از وقت پہنچ کر کھانا پکنے کا انتظار کرتا رہے ، تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا کرنا اس وقت معیوب ہوگا جب صاحب خانہ حرج محسوس کرے۔ حضور علیہ لاسلام کے زمانہ میں چونکہ کھانا کھانے کا انتظام عام طور پر گھر کے اندر ہوتا تھا جہاں عورتیں بھی ہوتی تھیں ، علیحدہ بیٹھک تو نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے بسا اوقتا میزبان کو مہمان کے قبل از وقت آجانے سے دقت پیش آتی تھی ، اس لئے فرمایا کھانا تیار ہونے سے پہلے ہی نہ آ جائو مبادا کہ صاحب خانہ دقت محسوس کرے۔
شان نزول
ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ جب حضور ﷺ کا نکاح حضرت زینب ؓ بنت حجش کے ساتھ ہوا تو آپ نے دعوت ولیمہ کا خاص طور پر انتظام کیا تھا تاکہ لوگوں کو اچھی طرح علم ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ نکاح بالکل درست ہے۔ چناچہ روایات میں آتا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے ایک بکری ذبح کی اور روٹی پکائی۔ تمام شرکاء نے جن کی تعداد تین سو کے قریب تھی گوشت روٹی کھائی۔ اس موقع پر ام سلیم ؓ نے کچھ حلوہ بنا کر بھیجا ، چناچہ کھانے کے بعد حلوہ بھی کھایا گیا۔ اس موقع پر آپ نے باقی لوگوں کو بھی بلا لیا۔ اتنی
1 ؎ ابن کثیر ص 305 ج 22 و مظہری 304 ج 7
بڑی دعوت ولیمہ حضور ﷺ نے کسی دیگر نکاح کے موقع پر نہیں کی۔ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بلا اجازت نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو کہ کھانا پکنے کا انتظار کرتے رہو۔ پھر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جائو اور بیٹھ کر باتیں نہ کرتے رہو۔
دعوت ولیمہ
نکاح کے بعد دعوت ولیمہ سنت ہے مگر یہ اپنی حیثیت اور گنجائش کے مطابق ہونا چاہئے۔ اگر کسی شخص کے پاس ولیمہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے تو بیشک نہ کرے حضور ﷺ نے اپنے متعدد نکاحوں کے مواقع پر دعوت ولیمہ کا اہتمام نہیں کیا۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ کی رخصتی کے وقت گھر میں کچھ نہیں تھا۔ حضرت سعد ؓ کے گھر سے دودھ کا ایک بڑا پیالہ آ گیا تھا۔ حضور نے لوگوں کو بلا کر وہی پلا دیا تھا اور یہی اس نکاح کا ولیمہ تھا۔ حضرت صفیہ ؓ کا نکاح دوران سفر ہوا۔ آپ کے پاس تھوڑے سے ستو اور کچھ کھجوریں تھیں آپ نے دوسرے لوگوں سے فرمایا کہ جس کے پاس جو کچھ کھانے کی چیز ہے ، لے آئے۔ خوردو نوش کی ساری چیزیں جمع کر کے چمڑے کے ایک دسترخوان پر چن دی گئیں اور سب نے کھائیں۔ حضرت صفیہ ؓ کا یہی ولیمہ تھا۔ مقصد یہ کہ دعوت ولیمہ کوئی ایسی سنت نہیں ہے جسے لازماً پرتکلف بنا دیا جائے خواہ اس کے لئے آدمی کو قرضہ لینا پڑے۔ ایسی بات نہیں ہے یہ دعوت حیثیت کے مطابق ہونی چاہئے کہ اسلام میں تکلف کی کوئی گنجائش نہیں۔
گھروں میں داخلے کے آداب
اس آیت کریمہ میں تو دعوت کے سلسلے میں داخلے کے آداب بیان کئے گئے ہیں۔ عام حالات میں بھی اللہ نے گھروں میں داخلے کے احکام سورة نور میں بیان کئے ہیں (آیت۔ 72) میں ارشاد ہے کہ اے ایمان والو ! اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں اس وقت داخل نہ ہو جب تک اجازت نہ ملے اور تم گھر والوں کو سلام نہ کرلو اور اگر تم گھر میں کسی کو نہ پائو تو بھی بغیر اجازت مت داخل ہو۔ اور اگر تمہیں واپس جانے کے لئے کہا جائے تو واپس لوٹ جائو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی کے گھر جائو تو دروازے پر کھڑے ہو کر تین دفعہ سلام کہو۔ اگر اجازت مل جائے تو داخل ہو جائو اور اگر گھر سے کوئی جواب نہ آئے تو واپس لوٹ جائو۔ یہ تو عام گھروں کے لئے احکام ہیں جبکہ پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر سے متعلق تو حکم زیادہ موکد ہے۔ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا اطلاع چلے جاتے تھے۔ حدیث شریف میں آذتا ہے کہ ایک موقع پر حضور علیہ لاسلام حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر تشریف فرما تھے کہ عربوں کے ایک قبیلے کا سردار آیا اور سیدھا حضور کے پاس اندر چلا آیا۔ پھر پوچھا تمہارے گھر میں یہ خاتون کون ہے آپ نے فرمایا کہ ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی ، میری بیوی اور مومنوں کی ماں ہے۔ وہ کم فہم تھا کہنے لگا الا نتنازل کیا ہم آپس میں تبادلہ نہ کرلیں یعنی میری بیوی تم لے لو اور یہ مجھے دے دو ۔ آپ نے فرمایا کہ ایسا کرنا ہرگز جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ پھر حضور ﷺ نے اس شخص کا نام لے کر فرمایا کہ تم ہمارے گھر میں بلا اجازت کیوں داخل ہوئے تو وہ شخص کہنے لگا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے کسی مضر والے گھر میں اجازت لے کر نہیں گیا۔ ام المومنین ؓ نے اس شخص کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا یہ احمق ہے۔ مگر اپنی قوم کا سردار ہے۔ غرضیکہ جاہلیت کے زمانے میں لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا اجازت داخل وہ جاتے تھے مگر اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔
کھانا کھانے کے بعد
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اس آیت کی مصداق حضرت زینب ؓ کے نکاح کے موقع پر دعوت ولیمہ تھی۔ جب کھانا تیار ہوگیا تو لوگوں کو پیش کیا گیا۔ وہیں گھر میں انتظام تھا۔ ام المومنین بھی اسی کمرے میں دیوار کی طرف رخ کر کے بیٹھی تھیں۔ جب لوگ کھانا کھاچکے تو ان میں سے بعض وہیں بیٹھے بیٹھے باتیں کرنے لگے۔ اس پر حضور ﷺ نے دقت محسوس کی۔ آپ چاہتے تھے کہ اب لوگ چلے جائیں مگر اپنے اخلاق کریمانہ کی بناء پر انہیں کہنے کے لئے تیار نہیں تھے اس دوران میں آپ ایک دفعہ اٹھ کر خود بھی باہر چلے گئے۔ خیال تھا کہ شاید یہ لوگ بھی اٹھ بیٹھیں گے۔ مگر وہ باتوں میں مصروف رہے۔ حضور ﷺ واپس اندر آئے اور حضرت انس ؓ سے دریافت کیا کہ وہ لوگ ابھی بیٹھے ہیں یا چلے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہیں۔ اس اثناء میں لوگوں کو حضور ﷺ کی دقت کا احساس ہوا تو وہ اٹھ کر چل گئے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی فاذا طعمتم فانتشروا پھر جب تم کھانا کھا چکو تو چلے جائو۔ ولا مستانسین لحدیث اروبات چیت میں مصروف ہو کر بیٹھے نہ رہو۔
مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ کھانا کھانے کے فوراً بعد چلے جانا اس وقت نافذ العمل سمجھا جائے گا جب کہ صاحب خانہ اس میں حرج محسوس کرے اور اگر صاحب خانہ کو دقت پیش نہیں آ رہی یا اس کی اپنی خواہش ہے کہ لوگ بیٹھے رہیں جیسا کہ آج کل عام طور پر پارٹیوں کے موقع پر تقریر وغیرہ بھی ہوتی ہے اور لوگ بیٹھے رہتے ہیں تو کھانے کے بعد بیٹھے رہنا نامناسب نہیں ہوگا۔
آگے ارشاد ہوتا ہے ان ذلکم کان یوذی النبی فیستحی منکم بیشک یہ بات یعنی بلاوجہ بیٹھے رہنا نبی (علیہ السلام) کو تکلیف دیتی ہے۔ مگر حضور ﷺ حیا کی وجہ سے اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کرتے الحیاء من الایمان حیاء تو انسان کا جزو ایمان ہے جو کہ بہت اچھی صفت ہے۔ لا ایمان لمن لا احیاء ہ جس میں حیا نہیں اس کا ایمان نہیں۔ اور پھر حضور ﷺ تو بہت زیادہ حیادار تھے۔ صحابہ کرام ؓ کہتے ہیں کہ ہم تکلیف دہ چیز کی ناگواری حضور ﷺ کے چہرہ مبارک سے معلوم کرتے تھے۔ وگرنہ آپ اپنی زبان سے کسی تکلیف کا اظہار نہیں فرماتے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ ایک دوشیزہ پردہ نشین لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص زرد لباس پہنے ہوئے آیا۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد جب وہ اٹھا تو حضور ﷺ نے دوسرے لوگوں سے فرمایا کہ اس شخص سے کہہ دو کہ یہ لباس مناسب نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ حضور ﷺ نے خود اپنی زبان سے اسے یہ کہنا بھی پسند نہ کیا۔
فرمایا واللہ لا یستحی من الحق بیشک اللہ تعالیٰ حق بات کو ظاہر کرنے سے نہیں شرماتا۔ قرآن پاک میں سورة البقرۃ میں بھی ہے۔ ان اللہ لا یتحی ان یضرب مثلاً ما بعوضۃ فما فوقھا (آیت۔ 62) اللہ تعالیٰ نہیں شرماتا اس بات سے کہ وہ مچھر یا اس سے بڑی چیز کی مثال بیان کرے۔ بہرحلا اس آیت میں نبی (علیہ السلام) کے گھر میں جانے کے آداب بیان کئے گئے ہیں اور ان کا اطلاق عام مومنوں پر بھی ہوتا ہے۔
پردے کی پاسداری
آگے اللہ نے ازواج مطہرات کے متعلق یہ ادب بھی سکھایا و اذا سالتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی سامان وغیرہ طلب کرنا چاہو تو پردے کے یچھے سے مانگو ، سامنے نہ آئو کہ ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ اگر کسی اجنبی عورت سے کوئی کام ہو تو بوقت ضرورت آمنا سامنا ہو سکتا ہے۔ انسان بات بھی کرسکتا ہے مگر یہ عام اجازت نہیں ہے اور نہ ہی یہ بہتر ہے۔ لہٰذا نبی کے گھر کے لئے یہ ادب زیادہ ملحوظ خاطر وہنا چاہئے۔ اس کی حکمت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے ذلکم اطہر لقلوبکم و قلوبھن یہ تمہارے دلوں کے لئے بھی زیادہ پاکیزگی والی بات ہے اور ازواج مطہرات کے دلوں کے لئے بھی کیونکہ سامنے آنے سے دل میں وسوسے پیدا ہو سکتے ہیں ، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ پردے کے پیچھے سے بات کی جائے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ امہات المومنین کی طہارت و پاکیزگی کی گواہی تو خود اللہ تعالیٰ نے دے دی ہے۔ و یطہرکم تطہیرا (الاحزاب۔ 33) جب ایسی پاکیزہ ہستیوں کے لئے بھی پردے کے احکام دیئے جا رے ہیں تو عام عورتوں کے لئے پردے کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک طرف حضور ﷺ کے صحابہ کرام ہیں۔ جن کا مرتبہ خدا کے نزدیک فرشتوں سے بھی زیادہ ہے اور دوسری طرف امہات المومنین ہیں جن کی تطہیر کا اعلان خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے تو آج کل کون شخص صحابہ سے زیادہ پاکیزگی کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ یا کون سی عورت امہات المومنین کا مقابلہ کرسکتی ہے ؟ لہٰذا اس دور میں پردے کی زیادہ ضرورت ہے تاکہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہوجائے۔ مگر آج کی بےحجابی آپ کے سامنے ہے۔ اسلام مغرب کی برباد کرنے والی بےحجابی کو تسلیم نہیں کرتا۔ تمام خرابیاں یہیں سے شروع ہوتی ہیں۔ اسلام کا نظریہ تو یہ ہے کہ اگر نمازی کے آگے سے عورت گزر جائے تو نماز کا خشوع و خضوع خراب ہوجاتا ہے کہ وسوے پیدا ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور اگر گدھا یا کتا گزر جائے تو بےادبی کا باعث بنتے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں جانور فضول حرکات کرتے ہیں۔ حجاب کا حکم اللہ نے سورة نور میں بھی نازل فرمایا ہے اور آگے اس سورة میں بھی آ رہا ہے۔ بےحجابی ہرگز پسندیدہ فعل نہیں ، اس سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لہٰذا فرمایا کہ پردہ داری تمہارے دلوں کے لئے بھی اور امہات المومنین کے لئے بھی زیادہ پاکیزگی والی بات ہے لہٰذا جب بات کرنا ہو ، کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے بات کرو۔
Ayahs 33:54–55گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب سکھائے کہ آپ کے گھروں میں بلا اجازت نہ جائو۔ اگر تمہیں کھانے کی دعوت دی جائے تو قبل از وقت نہ جائو اور جب کھانا کھا چکو تو بات چیت کے لئے بیٹھے نہ رہو۔ بلکہ اٹھ کر چلے جائو۔ اگرچہ نبی کریم (علیہ السلام) اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں مگر انہیں بلاوجہ رک جانے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ پھر نبی کی ازواج مطہرات کے متعلق فرمایا کہ تمہیں ان سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو سامنے نہ آئو۔ بلکہ پردہ داری کا خیال رکھتے ہوئے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کی طہارت کے لئے یہی طریقہ بہتر ہے تاکہ دلوں میں کسی قسم کے وسوسے نہ پیدا ہونے پائیں۔ عام عورتوں کے برخلاف نبی کی بیویوں سے متعلق زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
اب آج کی آیات بھی حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کی ازواج مطہرات کے آداب سے متعلق ہی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وما کان لکم ان تودوا رسول اللہ یہ بات تمہارے لائق نہیں ہے کہ تم اللہ کے رسول کو کسی طرح بھی تکلیف پہنچائو۔ بلکہ تمہیں تو ہر وقت نبی کا ادب و احترام قائم رکھنا چاہئے۔ اپنے قول و فعل سے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے۔ جو آنحضرت ﷺ کے لئے تکلیف کا باعث ہو ولا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابدا ان ذلکم کان عند اللہ عظیما اور نہ یہ کہ تم نکاح کرو۔ اس کی بیویوں سے اس کے بعد کبھی بھی ، بیشک تمہاری یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ بات حضور ﷺ کے ادب کے علاوہ بھی مناسب نہیں کہ نبی کی بیویوں کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نکاح کرے۔ نبی (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ میں تو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا کہ آپ نے کسی کو طلاق دی ہو اور اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کیا ہو۔ صرف ایک بیوی کو حضور ﷺ نے قبل از مقاربت طلاق دی تھی۔ اس ضمن میں فقہاء اور علماء کا اختلاف ہے کہ ایسی عورت نکاح ثانی کرسکتی ہے یا نہیں ، تاہم زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بغیر مقاربت کے طلاق شدہ عورت پر نکاح ثانی کی حد عائد نہیں ہوتی۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں ایک عورت کے نکاح کرلینے کی اطلاع پر آپ نے کہا تھا کہ یہ عورت امہات المومنین میں شامل نہیں ہے۔ حضور ﷺ کی وفات کے وقت آپ کے عقد میں نو بیویاں تھیں مگر اس آیت کی رو سے کسی امتی نے کسی عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا۔ آپ کی دو لونڈیاں بھی تھیں مگر انوں نے بھی نکاح نہیں کیا کہ ایسا کرنا حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے کے مترادف تھا۔ امہات المومنین کے نکاح ثانی نہ کرنے کے متعلق مفسرین کرام کئی ایک وجوہات بیان کرتے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اشاعت دین کو امہات المومنین کے ساتھ وابستہ کردیا تھا۔ پیچھے اسی سورة میں گزر چکا ہے والذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ (آیت۔ 43) تمہارے گھروں میں جو آیات الٰہی اور سنت پڑھی جاتی ہے اس کو عام کرو۔ اسی مقصد کے لئے اللہ نے حضور ﷺ کو چار سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔ تو اگر آپ کے بعد آپ کی ازواج دوسرا نکاح کرلیتیں تو اس سے اشاعت اسلام کا اہم فریضہ متاثر ہونے کا احتمال تھا لہٰذا اللہ نے نبی کی بیویوں پر نکاح ثانی کرنے پر پابندی لگا دی اور اگر کوئی شخص ازواج مطہرات کی نفسانی تقاضوں کی بات کرے تو یہ بھی غلط ہے کیونکہ ان پاک نفوس میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ نبی کی رفاقت میں امہات المومنین کے دلوں کو وہ سکون اور اطمینان حاصل تھا۔ جو دنیا بھر میں کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
پیچھے آیت 06 میں یہ بھی گز چکا ہے و ازواجہ امھتھم کہ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں لہٰذا جس طرح حقیقی ، سوتیلی اور رضاعی ماں کیس اتھ نکاح حرام ہے ، اسی طرح امہات المومنین کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے۔ البتہ ان کی اوالد سے امتی کا نکاح ہو سکتا ہے کہ حرمت نکاح صرف ازواج مطہرات تک محدود ہے پہلے بیان ہوچکا ہے کہ نکاح کے ضمن میں حقیقی ماں ، سوتیلی ماں ، رضاعی ماں اور ام المومنین کا ایک ہی حکم ہے ، تاہمبعض مسائل مختلف بھی ہیں۔ مثلاً حقیقی یا رضاعی ماہ سے پردہ نہیں ہوتا مگر ام المومنین سے پردہ کرنا پڑتا ہے۔ حقیقی ماں کا خرچہ اولاد کے ذمے ہوتا ہے مگر ام المومنین کے خرچہ کی ذمہ داری عام مومن پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ان کا کفیل بیت المال ہوتا ہے۔
امہات المومنین کے ساتھ امتی کے نکاح کی ممانعت کی ایک وجہ مسئلہ تخیر بھی ہے۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ جب ازواج مطہرات نے نبی (علیہ السلام) سے خرچہ بڑھانے کا مطالبہ کیا تو اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان کو کہہ دیں کہ اگر تم دنیا کی زیب وزینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں اچھے طریقے سے علیحدہ کر دوں اور اگر اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو تو پھر اسی پر قناعت کرو۔ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا اور اپنے مطالبہ سے دستبردار ہوگئیں۔ چناچہ اللہ نے ان کی اس قربانی کے پیش نظر اپنے نبی کو یہ حکم بھی دیا کہ آپ مزید نکاح نہیں کرسکتے اور نہ ان کے بدلے میں کوئی دوسری عورت نکاح میں لاسکتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے نبی (علیہ السلام) کی رفاقت کو پسند کیا۔ اس لئے اللہ نے کسی امتی کو ان کے ساتھ نکاح کی ہمیشہ کے لئے ممانعت فرما دی۔
مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اپنی تفسیر معارف القرآن میں ایک وجہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ جس طرح نبی کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی اسی طرح نبی کی بیویوں کے ساتھ نکاح بھی حرام ہے کیونکہ نبی کو حیات حاصل ہے۔ نبی دنیا کی زندگی تو ختم کرچکے ہیں مگر برزخ میں ان کو مکمل زندگی حاصل ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص غائب ہوچکا ہو۔ جس طرح غائب شخص کی بیوی کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح نبی کی بیوی کے ساتھ بھی نکاح درست نہیں۔
مولانا عبدالحق حقانی (رح) اپنی مشور و معروف تفسیر حقانی کی چھٹی جلد میں لکھتے ہیں کہ نبی پر طبعی موت تو واقع ہوئی ہے کیونکہ نص قرآنی سے ثابت ہے کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران۔ 581) ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے انک میت وانھم میتون (الزمر۔ 03) اے نبی آپ پر بھی موت وارد ہونی ہے اور ان پر بھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اس کے باوجود حضور ﷺ کو ابدی حیات حاصل ہے جو شہیدوں سے بھی ہزار درجہ بڑھ کر ہے۔ آپ کا دنیا کے ساتھ اب بھی ویسا ہی تعلق ہے جیسا طبعی حیات کہ وقت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے جسد اطہر کو خاک نہیں کھا سکتی اور اسی لئے لوگوں نے بہت سے آثار غریبہ مشاہدہ کئے ہیں۔ اس لحاظ سے آپ زندہ ہیں اور حیات النبی مشہور ہیں۔ چناچہ زندہ شخص کی بیوی کے ساتھ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔
مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں کہ ممکن ہے نبی کی بیویوں کے ساتھ نکاح کی ممانعت اس وجہ سے ہو ان النبی حی فی قبرہ کہ اللہ کا نبی قبر میں زندہ ہے ، یہ زندگی محض روحانی زندگی نہیں کیونکہ روح تو ابوجہل کی بھی زندہ ہے ، بلکہ نبی کی زندگی کمال درجے کی زندگی ہے۔ اس برزخی زندگی کے متعلق سلف کے دو مسلک ہیں۔ اگر آپ کی روح مبارک علیین میں
1 ؎ معارف القرآن و مظہری 804 ج 7
2 ؎ تفسیر حقانی ص 78 ج 6
3 ؎ مظہری ص 804 ج 7
ہے تو اس کا تعلق قبر کے ساتھ بھی ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ من صل علی عند قبری سمعتہ و من صل نائیاً ابلغتہ یعنی جو شخص میری قبر پر آ کر درود پڑھے گا تو میں اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے پڑھے گا تو وہ مجھ تک پہنچایا جائے گا۔ حیات النبی ﷺ کے مخالف علماء اس حدیث کو ضعیف بتاتے ہیں حالانکہ یہ حدیث سات سندوں سے آذئی جن میں بعض ضعیف بھی ہیں یعنی ان میں مردانھ سدی صغیر ضعیف راوی ہے مگر امام ابن قیم (رح) نے ابن شیخ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ بالکل صحیح ہے ، اس کی سند میں کوئی راوی ضعیف نہیں ہے۔ یہ حدیث امام بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں بھی نقل کی ہے۔ امام بیہقی (رح) نے حیات الانبیاء کے نام سے ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے۔ معراج کے واقعہ والی رویات بھی حیات النبی کی تصدیق کرتی ہے۔ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا رایت موسیٰ یصلی فی قبرہ قائما میں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ کھڑے ہونا جسم کی صفت ہے نہ کہ روح کی۔ گویا آپ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو روح اور جسم کے ساتھ زندہ مشاہدہ کیا۔ آپ یہ بھی پڑھتے ہیں کہ قبر کو محض ایک گڑھا نہ سمجھو بلکہ مومن کی قبر تاحد نکاح وسیع ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ میرے منبر اور حجرے کے درمیان والا خطہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ظاہر ہے کہ قبر کسی کے لئے جنت کا باغ بن جاتی ہے اور کسی کے لئے جہنم کا گڑھا۔ اس لئے بعض علماء نے امہات المومنین سے نکاح کی ممانعت کی یہ وجہ بھی بیان کی ہے کہ آپ حیات ہیں۔ یہ مسلک صرف مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کا نہیں بلکہ آپ سے پہلے بزرگوں نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ خاص
1 ؎ مشکوۃ ص 78 و مظہری 804 ج 7
2 ؎ مسلم 862 ج 2 و نسائی ص 242 ج 1 و مسند احمد 841 ج 3
3 ؎ بخاری ص 851 ج 1 و مسلم 644 ج 1
4 ؎ حقانی ص 78 ج 6
طور پر قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) تو آپ سے سو سال پہلے فرماتے ہیں۔ امام ابوبکر ؓ تو چھٹی صدی کے مفتی ہیں ، انہوں نے بھی امہات المومنین سے نکاح کی حرمت کی کئی وجہ بیان کی ہے۔ بہرحال نبی کی بیویوں کے ساتھ نکاح کی صراحتاً ممانعت آئی ہے۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ کوئی غیرت مند پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کسی دوسرے کے پاس جائے تاہم طلاق یا بیوگی کی صورت میں عام مومننی کے لئے اللہ نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر کوئی میاں بیوی دونوں جنت میں گئے تو کسی عورت کے متعدد خاوند ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ ابدی زندگی وہ شخص گزارے گا جو دنیا میں اس کا آخری خاوند ہوگا۔ لہٰذا میری وصیت ہے کہ میرے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرنا۔ اگر اللہ نے ہم پر خاص مہربانی فرمائی تو ہم دونوں جنت میں میاں بیوی کی حیثیت سے رہیں گے اور پیغمبر (علیہ السلام) کے متعلق تو یہ بات طے ہے کہ جن ازواج مطرات نے دنیا میں آپ کی رفاقت کو اختیار کیا وہ برزخ میں بھی آپ کی بیویاں ہیں اور آخرت میں بھی وہی بیویاں ہوں گی۔ اس میں پیغمبر (علیہ السلام) کی طبعی خواہش کا بھی احترام کیا گیا ہے جو ہر غیرت مند آدمی میں پائی جاتی ہے۔
فرمایا ان تبدوا شیئا و نخفوہ اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو ، چھپائو فا اللہ کان بکل شیء علیما تو اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی زندگی میں ہی بعض منافق اس قسم کی باتیں کرتے تھے کہ حضور ﷺ کی فوتیدگی کے بعد میں آپ کی فلاح بیوی سے نکاح کروں گا۔ بعض مخلص مسلمانوں نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا۔ چناچہ مفسرین حضرت عبدالرحمن بن عوف (رح) اور حضرت طلحہ ؓ کے متعلق ایسی باتیں
1 ؎ درمنثور ص 512 ج 5
2 ؎ البحرالمحیط ص 742 ج 7
3 مظہری ص 704 ج 7
نقل کرتے ہیں۔ حضرت طلحہ کے متعلق خاص طور پر آتا ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ کیونکہ وہ آپ کی چچازاد بنتی تھیں۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت طلحہ ؓ نے بڑا استفسار کیا ، ایک غلام آزاد کیا اور ایک حج پیدل چل کر کیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی زبان سے نکلی ہوئی یہ غلط بات معاف کر دے۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ تمہاری ظاہر اور باطن سب باتوں کو جانتا ہے نبی کی ازواج امتی کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہیں لہٰذا ایسی بات دل میں ہرگز نہ لائو۔
پہلی آیت کے ابتدائی حصے میں اللہ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ امتیوں کے لیئے ضروری ہے کہ امہات المومنین سے پردہ کا اہتمام کریں اور اگر ان سے کوئی چیز طلب کرنی ہو تو پردے کے پیچھے سے طلب کریں۔ البتہ سورة نور میں محرموں سے عدم حجاب کے احکام گزر چکے ہیں۔ کوئی عورت اپنے محرم کے ساتھ خلوت میں بیٹھ سکتی ہے اور اس کے ساتھ سفر بھی کرسکتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہی قانون امہات المومنین کے لئے نافذ العمل رکھا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لاجناح علیھن فی آبائھن ولا ابنائھن ولا اخوانھن ولا ابناء و اخوانھن ولا ابناء اخواتھن ولا نسائھن ولا ما ملکت ایمانھن نبی کی بیویوں کو اپنے باپوں ، بیٹوں ، بھائیو ، بھتیجوں ، بھانجوں ، اپنی عورتوں اور غلاموں کے سامنے آنے میں کوئی روک نہیں ہے۔ عورتیں اور غلام تو ویسے ہی پردے سے مستثنیٰ ہیں۔ باقی تمام رشتہ دار عورت کے محرم بنتے ہیں جن سے نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے ، اس لئے فرمایا ان سے پر دہضروری نہیں ہے۔ لونڈی غلام کو تو سورة نور میں بھی پردے سے مستثنیٰ قرار دیا جا چکا ہے۔ البتہ باقی غیر محرموں سے پردہ نہایت ضروری ہے۔
فرمایا و اتقین اللہ نبی کی بیویو ! اللہ سے ڈرتی رہو۔ اس کا خوف ہمیشہ تمہارے پیش نظر رنا چاہئے کہ کہیں کوئی غلطی سرزد نہ ہوجائے۔ ان اللہ کان علی کل شیء شہیدا بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی نگاہ سے کوئی چیز غائب نہیں۔ وہ تمہارے اعمال و کردار کا نگہبان اور محافظ ہے ، لہٰذا تمہیں ازحد محتاط رہنا چاہئے۔ یہ امہات المومنین کے لئے خصوصی تعلیم ہوگئی۔
Ayah 33:56گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر میں داخل ہونے کے آداب اور آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں بعض احکام بیان فرمائے تھے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ امہات المومنین کے ساتھ کسی امتی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ امتیوں کو خبردار کیا گیا کہ اللہ کے نبی کو کسی طریقے سے بھی اذیت نہ پہنچائیں۔ اللہ نے نبی کی ازواج کو پردے کا حکم بھی دیا اور ساتھ ساتھ محرموں کو اس حکم سے مستثنی بھی قرار دے دیا۔ تاہم ازواج مطہرات کو ہر حالت میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم دیا۔
اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر درود وسلام بھیجنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی (علیہ السلام) پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں۔ یایھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیما اے ایمان والو ! تم بھی اس پر صلوٰۃ وسلام بھیجو ، پورے ادب و احترام اور اطاعت کے جذبہ کے ساتھ۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے صلوٰۃ بھیجنے کے ذکر کرنے کے بعد عام مومنوں کو نبی کی ذات پر درود وسلام بھیجنے کی تلقین فرمائی ہے صلوۃ کا معنی رحھمت بھی ہے اور دعا بھی جب صلوۃ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جاتی ہے تو معنی ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ اپنے نبی پر رحمت بھیجتا ہے اور جب اسے فرشتوں کے ساتھ منسوب کیا جائے تو معنی ہوگا کہ اللہ کے فرشتے اللہ تعالیٰ سے نبی (علیہ السلام) پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں اس مقام پر فرشتوں کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ وہ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں اور ان کی اللہ تعالیٰ سے خصوصی رحمت کی دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے اور اللہ کے نبی پر زیادہ سے زیادہ نزول رحمت کا سبب بنتی ہے۔ پھر جب صلوۃ کی نسبت عام انسانوں کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا معنی دعا اور استغفار ہوتا ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے پیغمبر برحق پر نزول رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ اس میں پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف اور تعظیم بھی آگئی ہے۔
مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو نبی (علیہ السلام) پر درود وسلام کا جو حکم دیا ہے اس کے مطابق ہر اہل ایمان پر عمر بھر میں کم از کم ایک دفعہ درود بھیجنا فرض ہے ، بعض علماء اسے واجب قرار دیتے ہیں اور نماز میں امام شافع اور امام احمد (رح) کا یہی مسلک ہے اگر کوئی شخص نماز کے دوران تشہد میں درود شریف نہیں پڑھے گا تو نماز دہرانی ہوگی ورنہ نماز مقبول نہیں ہوگی۔ البتہ امام مالک اور امام ابو نیفہ فرماتے ہیں کہ اس موقع پر درود شریف پڑھنا سنت ہے۔ لہٰذا اگر درود شریف رہ جائے تو نماز ہوجائے گی مگر ایکس نت فوت ہوجائے گی۔ اکثر علماء اور ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ جب بھی حضور ﷺ کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو درود شریف کا پڑھنا ضروری ہوجاتا ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے
1 ؎ مظہری ص 904 ج 7 و ابن کثیر 215 ج 3
کہ ایسے مواقع پر درود پڑھنا مستجب ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ من ذکرت عندہ فلم یصل علی فقد اخطا طریق الجنۃ کہ جس شخص کے سامنے میرا نام ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا تو وہ جنت کے راستے کو خطا کر گیا۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ جس مجلس میں اللہ کا ذکر نہ کیا جائے اور نبی (علیہ السلام) پر درود نہ بھیجا جائے تو یہ مجلس شرکاء کے لئے قیامت والے دن حسرت کا باعث ہوگی۔
حضور ﷺ پر درود پڑھنے کی فضیلت بہت سی روایات میں آتی ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جو شخص حضور ﷺ پر ایک دفعہ صلوٰۃ وسلام پڑھے گا ، میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا۔ دس غلطیاں معاف کروں گا اور دس درجے بلند کروں گا۔ دوسری حدیث میں آتا ہے کہ وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا نام ذکر کیا جائے مگر وہ درود نہ پڑھے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ کسی ایک مجلس میں آپ کا نام نامی کئی دفعہ ذکر کیا گیا ہو تو صرف ایک دفعہ درود پڑھنے سے بھی حق ادا ہوجائے گا۔ تاہم اگر بار بار پڑھے گا تو زیادہ بہتر ہے۔ ہر دعا کے اول و آخر میں بھی درود شریف پڑھنا چاہئے کہ یہ قبولیت دعا کی نشانی ہے۔ حضرت عمر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تک درود شریف نہ پڑھا جائے ان کی دعا زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے۔ جب درود شریف پھڑا جاتا ہے تو پھر وہ اوپر جا کر درجہ قبولیت کو پہنچتی ہے۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت اور باہر نکلتے وقت بھی درود شریف پڑھنا مستجب ہے۔ مسلم شریف میں اذان کے متعلق آتا ہے کہ جب
1 ؎ مظہری ص 214 ج 7 و درمنثور ص 812 ج 5 و ابن کثیر ص 215 ج 3
2 ؎ مستدرک 055 ج 1 و مشکوۃ ص 891 ج 1
3 ؎ مسند احمد و مظہری ص 214 ج 5
4 ؎ احکام القرآن للجصاص ص 073 ج 3
5 ؎ مسلم ص 661 ، 761 ج 1 و ابودائود ص 87 ج 1 و کتاب الاذکار للنووی ص 73
موذن اذان کہتا ہے تو تم بھی وہی الفاظ دہراتے جائو۔ پھر جب وہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کے کلمات ادا کرے تو تم لاحول ولا قوۃ الا باللہ کے کلمات کہو جب موذن الصلوۃ خیرمن النوم کہے تو تم کہو صدقت و بررت اور جب موذن اذان ختم کرے ثم صلو علی تو پھر مجھ پر درود پڑھو اور دعائے وسیلہ مانگو جو شخص اس پر عمل کرے گا اس کے لئے میری شفاعت ضروری ہوجائے گی۔ بعض لوگ اشہد ان محمد الرسول اللہ کے کلمہ پر درود شریف پڑھتے ہیں حالانکہ حضور ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ وہی کلمہ دہرائو۔ اس طرح اس کلمہ پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر لگانا بھی حضور ﷺ کی سنت نہیں ہے۔ یہ فعل حضرت ابوکر صدیق ؓ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر محدثین نے جرح کی ہے کہ ایسی رایتا صحیح نہیں ہیں اور اگر حضور ﷺ نے کوئی ایسی بات بتلائی ہے تو وہ بطور علاج بتلائی ہے کہ اگر کسی شخص کی آنکھوں میں تکلیف ہو تو ایسا کرے۔ یہ عام دستور نہیں ہے۔
ابن ماجہ شریف کی روایت کے مطابق وضو کرنے کے بعد بھی درود شریف پڑھنا مستجب ہے۔ کتابیں شائع کرتے وقت ان کے اول و آخر میں درود شریف لکھنا بھی مستجب ہے۔ جب کوئی شخص رات کے وقت نیند سے بیدار ہو تو اس کے لئے بھی درود شریف پڑھنا مستجب ہے۔ امام سیوطی (رح) نے لکھا ہے کہ احادیث کے مجموعے سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ کسی مصیبت یا تکلیف کے وقت بھی درود شریف پڑھنا مستجب ہے۔ فرمایا جتنا درود شریف گناہوں کو مٹاتا ہے اتنا پانی آگ کو نہیں بجھاتا۔ درود شریف پڑھنا غلام آزاد کرنے سے بھی زیادہ افضل ہے۔ اللہ کے نزدیک پیغمبر کے ساتھ محبت و عقیدت رکھنا اللہ کے راستے میں جان قربان کرنے سے بھی افضل ہے۔ خاص طور پر جمعہ کے دن درود پڑھنا زیادہ باعث اجر ہے۔
1 ؎ ابن ماجہ
درود شریف مختلف مواقع پر مختلف الفاظ کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ البتہ اس کے لئے ایمان ، عقیدت ، محبت اور صحیح طریقہ شرط ہے۔ اپنی مرضی سے موقع سے موقع یا خودساختہ الفاظ کے ساتھ درود پڑھنا مفید نہیں ہوگا۔ بعض لوگ اذان سے پہلے تین مرتبہ الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ پکارتے ہیں حالانکہ حضور ﷺ نے اس موقع پر ان الفاظ کا قطعاً حکم نہیں دیا۔ درود شریف پڑھنے کے مختلف مواقع میں نے عرض کردیئے ہیں ان کے علاوہ بھی جب چاہو پاک صاف ہو کر نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھو۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا حضور اسلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہے السلام علیک ایھا النبی لیکن ہم درود کیسے پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا۔ اس طرح کہو اللھم صلی علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔ اللھم بارک علی محمد و علی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم انک حمید مجید اس کیلئے اور بھی بہت سے کلمات آتے ہیں اللھم صل علی محمد النبی الامی و ازواجہ امھات المومنین و ذریتہ و اھل بیتہ کما صلیت علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔
مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا ہے جس میں درود شریف کے چالیس قسم کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ اگر حضور ﷺ سامنے ہوں تو الصلوٰۃ واسلام علیک یا رسول اللہ بھی کہہ سکتے ہیں یا قبر شریف پر جا کر یہ الفاظ استعمال کرسکتے ہیں البتہ اگر دور سے پڑھیں تو پھر اللھم صل علی…… حمید مجید پڑھنا چاہئے۔ اللھم صل وسلم والے الفاظ بھی
1 ؎ در منثور ص 612 ج 5
درست ہیں کہ ان میں درود بھی ہے اور سلام بھی اور دونوں کو اکٹھا کرنا زیادہ بہتر ہے صرف صلوٰۃ پڑھنا یعنی صلی اللہ علی النبی بھی درست ہے اور صرف سلام پڑھنا والسلام علی النبی بھی ٹھیک ہے۔ مشائخ چشت ان الفاظ کے ساتھ صلوٰۃ وسلام پڑھتے ہیں۔ اللھم صل علی سیدنا و مولانا محمد و علی الہ وصحبہ و بارک وسلم کما تحب وترضی ۔ تحب وترضی اس میں حضور ﷺ آپ کے صحابہ اور اہل بیت کا ذکر بھی آ گیا۔
السلام علیکم کی فضیلت
دو مومن آپس میں ملتے وقت السلام علیکم کہتے ہیں جو کہ سلامتی کی بہترین دعا ہے یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں ہر قسم کے مصائب و مشکلات سے سلامت رکھے۔ سلام کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سکھایا تھا کہ ان الفاظ کے ساتھ فرشتوں کو سلام کرو نیز یہ کہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا یہی دستور رہے گا جو شخص السلام علیک مو رحمتہ اللہ وبرکاتہ کہتا ہے وہ تیس نیکیوں کا حقدار بن جاتا ہے۔ یہ کمال ذریعے کی دعا ہے۔ جس میں تعظیم اور ثناء بھی شامل ہے۔
درود شریف پڑھنے کا فائیدہ
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کو تو اللہ نے رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کے درجات بلند کئے ہیں ، آپ کو افضل الانبیاء والرسل بنایا ہے ، ساری مخلوق میں سب سے زیادہ اشرف اور برگزیدگی بخشی ہے تو ہمارے درود شریف پڑھنے سے حضور والا صفات کو کیا فائدہ پہنچتا ہے ؟ حدیث کے مفہوم سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ درود شریف کا فائدہ خود درود پڑھنے والے کو حاصل ہوتا ہے ، کہ تیس یا ستہ نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ، دس خطائیں مٹتی ہیں اور دس درجات بلند ہوتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے بلکہ بہت بڑا اجر ہے۔ اللہ کے نبی محسن امت ہیں ، روحانی باپ ہیں جس کسی کو کوئی نیکی یا خوبی پہنچی ہے آپ ہی کے طفیل سے پہنچی ہے قرآن پاک ، احادیث مقدسہ اور امت کو خدا کی خصوصی مہربانی آپ ہی کی وجہ سے میسر آئی ہے۔ لہٰذا آپ کو اچھے الفاظ اور دعائے خیر کے ساتھ یاد کرنا امت کے ہر فرد کا اولین فریضہ ہے ویسے بھی اپنے محسن کو یاد رکھنا اخلاقی فرض ہے۔ تو اس طرح گویا درود پاک پڑھنے سے امتی کا آنحضور ﷺ سے رابطہ بھی قائم رہتا ہے۔ آپ کے لئے دعائے خیر بھی ہوتی ہے اور خود امتی کو بھی نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔ نماز تقرب الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ، اور درود پاک نماز کا حصہ بھی ہے۔ چناچہ چوبیس گھنٹے میں کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوگا۔ جس میں حضور ﷺ کی ذات مبارکہ پر کوئی نہ کوئی صلوٰۃ وسلام کا ہدیہ نہ پی شکر رہا ہو۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ و رفعنا لک ذکرک (الانشراح۔ 2) ہم نے آپ کا ذکر بلند کردیا ہے۔
بعض احادیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی آتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ درورد شریف پڑھنے والوں کو قیامت کے دن حضور ﷺ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل ہوگا۔ بشرطیکہ صحیح عقیدت اور ادب و احترام کے ساتھ پڑھا جائے۔ دو چار دفعہ بلند آواز سے صلوٰۃ وسلام پڑھنا تو محض ریاکاری معلوم ہوتی ہے اور پھر تعصب کا یہ حال کہ جو اس طریقے سے نہ پڑھے اس پر منکر درود کا فتویٰ لگا دینا کس قدر ناانصافی ہے۔ درود پاک تو متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔ درود پاک ضرور پڑھو ، زیادہ سے زیادہ پڑھو ، مگر اس طریقے اور ان الفاظ کے ساتھ جو نبی (علیہ السلام) نے سکھائے اور صحابہ ؓ نے ان پر عمل کیا۔ بہرحال نبی پر اور فرشتوں پر بھی سلام بھیجنا درست ہے۔ باقی تمام انبیاء پر بھی درود وسلام بھیجا جائے اور پیغمبر کے ساتھ آپ کی آل اور صحابہ ؓ کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے یہی طریقہ درست ہے۔ انبیاء کے علاوہ کسی پر براہ راست درود بھیجنا درست نہیں جب صحابہ ؓ کا ذکر آئے تو ؓ کہنا چاہئے اور عام مومنین ، صلحا اور بزرگان دین کا تذکرہ ہو تو (رح) کہنا چاہئے یا غفر اللہ لہ کہنا چاہئے۔
1 ؎ در منثور ص 812 ج 5
جیسا کہ پہلے عرض کیا درود پڑھنے کا فائدہ خود پڑھنے والے کو ہی ہوتا ہے۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا فائدہ حضور نبی کریم ﷺ کو بھی ہوتا ہے۔ اگر ہمارا درود بارگاہ رب العزت میں شرف قبولیت حاصل کرے گا تو حضور علیہ السالم کے درجات مزید بلند ہوں گے۔
بہرحال اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ منافق لوگ تو حضور ﷺ کی ذات پر طعن وتشنیع کرتے ہیں ، تم اس کی بجائے اللہ کے نبی پر درود پڑھا کرو۔ خدا تعالیٰ خود بھی اپنے نبی پر رحمت نازل فرماتا ہے ، فرشتے نزول رحمت کی دعائیں کرتے ہیں ، لہٰذا تم بھی اللہ کے نبی پر صلوٰۃ وسلام بھیجو یعنی آپ کے لئے نزول رحمت کی دعا کیا کرو جہاں تک ادب و احترام کا تعلق ہے تو یہ چیز لفظ تسلیما میں پائی جاتی ہے کہ پوری اطاعت اور جذبہ عزت و احترام کے ساتھ حضور ﷺ پر درود پڑھو کہ درود پڑھنے کا یہی صحیح طریقہ ہے۔