33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 33:7–8

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور (اس بات کو دھیان میں لائو) جب کہ ہم نے نبیوں سے ان کا عہد لیا اور (خاص طور پر) آپ سے۔ اور نوح (علیہ السلام) سے اور ابراہیم (علیہ السلام) سے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اور عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) سے اور ہم نے ان سے پختہ عہد لیا

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ پوچھے اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں اور تیار کیا ہے اس نے کافروں کے لئے دردناک عذاب

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کو مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ تعلق اور لگائو ہے۔ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں لہٰذا نبی کا اتباع اور ادب و احترام ضروری ہے اور دوسرا مسئلہ اللہ نے قرابت داروں کے متعلق فرمایا کہ عام مومنوں اور مہاجروں کی نسبت قرابت داروں کا وراثت میں حق فائق ہے۔ البتہ دوسرے لوگوں سے حسن سلوک اور احسان کیا جاسکتا ہے اس سے پہلی آیت میں پیغمبر (علیہ السلام) کا مرتبہ اور آپ کا اجلال و اکرام بیان ہوا تھا۔ نبی (علیہ السلام) کو جو خیرخواہی اور ہمدردی بنی نوع انسان سے بالعموم اور اہل ایمان کے ساتھ بالخصوص ہے ، وہ کسی دوسری ذات میں نہیں۔ جس قسم کی تربیت آپ کرسکتے ہیں کوئی اور نہیں کرسکتا ، لہٰذا آپ کا اتباع ضروری ہے۔ میثاق انبیاء سورۃ کی ابتدا میں اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا واتبع ما یوحیٰ الیک من ربک آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر جو وحی نازل کی جاتی ہے آپ اس کا اتباع کریں۔ عام اہل ایمان کے لئے بھی یہی حکم ہے کہ وہ وحی الٰہی کی پیروی کریں۔ اور جن پر وحی نازل کی جاتی ہے وہ اللہ کے نبی اور رسول ہوتے ہیں اور ان کا اتباع بھی ضروری ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے عہد و پیمان کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے و اذ اخذنا من النبین میثاقھم اور اس بات کی طرف توجہ کرو جب کہ ہم نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ عہد لیا۔ النبیین سے مراد سارے کے سارے انبیاء ہیں کہ ان سے اقرار لیا گیا تھا۔ اور آگے عہد کی پختگی کا ذکر بھی آ رہا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے اس عہد کے ضمن میں پانچ اولوالعزم انبیاء کا تذکرہ فرمایا ہے جن میں سرفہرست حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ جب ہم نے پختہ عہد لیا جملہ انبیاء (علیہم السلام) سے و منک اور خاص طور پر آپ سے و من نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم اور نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) سے بھی ، فرمایا و اخذٓا منھم میثاقا غلیظا اور ہم نے ان سب سے پختہ اور مضبوط عہد لیا۔ قرآن پاک میں کئی ایک عہد و پیمان کا ذکر آیا ہے۔ ایک عہد الست ہے جس کا ذکر سورة الاعراف میں آیا ہے۔ یہ عہد عالم ارواح میں تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانی روحوں کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا اور انہیں دکھایا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ بعض روحیں 1 ؎ ابن کثیر ص 964 ج 3 ، ابن کثیر ص 964 ج 12 (فیاض) بڑی روشن اور چمکدار تھیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان کے متعلق دریافت کیا ، تو آپ کو بتیایا گیا کہ یہ آپ کی اولاد میں سے نبی یا رسول یا نہایت ہی نیکی والے لوگ ہیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر بھی آتا ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) نے ان کے متعلق دریافت کیا تو اللہ نے فرمایا کہ یہ آپ کی اولاد میں سے آخری دور کے نبی ہیں۔ پھر دریافت کیا کہ ان کی عمر کتنی ہے ، کہا ساٹھ سال ، اس پر آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میری عمر میں سے چالیس سال ان کو دے دیئے جائیں تاکہ ان کی عمر سو سال ہوجائے۔ آپ کی یہ درخواست قبول کرلی گئی۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ جب اس میں چالیس سال باقی رہ گئے تو اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا۔ آپ نے کہ ابھی تو میری عمر کے چالیس سال باقی ہیں۔ فرمایا گیا کہ یہ عمر تو تم نے اپنے بیٹے دائود (علیہ السلام) کو دے دی تھی۔ مگر آپ وہ بات بھول چکے تھے لہٰذا انکار کیا جس طرح آدم (علیہ السلام) بھولے تھے اسی طرح آپ کی اولاد بھی بولتی ہے۔ اسی لئے اللہ نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے معاملات کو تحریر کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ بعد میں کوئی انکار نہ کرسکے۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ عہد حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد ہوا تھا۔ جب آپ کو زمین پر اتار دیا گیا تو عرفات کے قریب وادی نعمان میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کی ساری روحوں کو نکالا ، یہ روحیں چیونٹیوں کی مانند بالکل چھوٹی چھوٹی تھیں۔ بعض دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کے دائیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر اہل ایمان کی روحوں کو برآمد کیا اور پھر بائیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر کفار و مشرکین کی روحوں کو نکالا۔ بہرحال یہ عہد الست کہلاتا ہے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تمام روحوں کو مخاطب کر کے فرمایا تھا الست بربکم قالو بلی (الاعراف۔ 271) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ تو سب روحوں نے جواب دیا کہ بیشک تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس عہد کے علاوہ بعض دوسرے عہد و پیمان کا ذکر بھی قرآن پاک میں آتا ہے مثلاً اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا الا نعبدو الا ایاہ و بالوالدین احسانا (بنی اسرائیل۔ 32) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور والدین کے ساتھ احسان کرنا۔ مکروہ اس عہد پر قائم نہ رہ سکے۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ تم اللہ کی کتاب اور اس فرمان کو لتتبیننہ للناس ولا تکتمونہ (آل عمران۔ 781) لوگوں کے سامنے ظاہر کرو گے اور چھپائو گے نہیں مگر بنی اسرائیل اس عہد پر بھی قائم نہ رہ سکے اور حق بات کو چھپاتے رہے۔ جس عہد کا ذکر آیت زیردرس میں ہو رہا ہے یہ میثاق النبیین کہلاتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) اور خاص طور پر مذکورہ پانچ اولوالعزم انبیاء سے لیا تھا۔ اس عہد کی تفصیل سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔ اللہ نے تمام انبیاء (علیہم السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت عطا فرمائی پھر تمہارے پاس وہ رسول آجائے جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہیں تو اتومنن بہ ولتنصرنہ (آیت۔ 18) تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا مطلب یہ کہ اگر پہلا نبی پچھلے نبی کا دور پائے تو اس پر ایمان لائے اور اس کی تائید کرے۔ اور مجموعی طور پر سارے انبیاء سے عہد لیا تھا کہ وہ حضور ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔ اس عہد کے متعلق مختلف اقوال ہیں کہ یہ کب لیا گیا۔ بعض فرماتے ہیں کہ عہدالست کی طرح یہ عہد بھی اس مادی جہان میں آنے سے پہلے لیا گیا تھا۔ البتہ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ عہد اللہ نے ہر نبی سے اس کی دنیا میں بعثت کے بعد 1 ؎ تفسیر حقانی ص 56 ج 6 (فیاض) لیا تھا کہ اگر تمہارے زمانے میں دوسرا نبی آجائے یا نبی آخر الزمان آجائیں تو ان کی تائید و نصرت کرنا۔ شیخ ابن عربی (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ عہد خدا تعالیٰ کی توحید پر کاربند رہنے ، ادائے رسالت اور لوگوں کو دین کی طرف دعوت دینے کا تھا اور پختہ عہد لیا تھا کہ تم اس فریضہ کو پورے طریقے سے ادا کرو گے ، اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرو گے۔ حضور ﷺ کی خصوصیت یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ تو تمام انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے مگر اس آیت کریمہ میں آپ کا ذکر باقی انبیاء سے پہلے کیا گیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ امام ترمذی نے ایک روایت بیان کی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی تو آپ نے فرمایا میں اس وقت بھی نبی تھا و آدم بین الروح ولجسہ جس وقت آدم علیہ کے جسم میں روح بھی داخل نہیں ہوئی تھی اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں تخلیق میں سب سے پہلے اور بعثت میں سب انبیاء کے بعد ہوں مطلب یہ کہ آپ کی تخلیق عالم ارواح میں بھی سب سے پہلے عمل میں آئی۔ اسی لئے اکثر بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اس جہاں میں نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ذریعے اللہ نے باقی انبیاء کی ارواح کی بھی تربیت فرمائی اور اس طرح آپ کو اس عالم میں بھی شرف اور مرتبہ حاصل تھا۔ امام ابن عربی (رح) اور بع ضدگیر محققین فرماتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق کا باعث بھی حضور ﷺ کا وجود مبارک ہے اور سب سے مقدم ذریعہ فیضان بھی آپ 1 ؎ تفسیر الشیخ الاکبر 141 ج 2۔ 2 ؎ ترمذی ص 915 3 ؎ طبری ص 521 ج 12 و ابن کثیر ص 964 ج 3 و معالم التنزیل ص 261 ج 3 و درمنثور ص 481 ج 5 4 ؎ تفسیر الشیخ الاکبر ص 141 ج 3 (فیاض) ہی کی ذات ہے۔ عالم ارواح میں بھی اللہ نے آپ کی روح کو سب سے پہلے پیدا کیا اور اس کے ذریعے دوسری ارواح کو فیض پہنچایا غرضیکہ عہ و پیمان کے سلسلے میں آپ کا ذکر خیر اس لئے مقدم رکھا گیا ہے کہ عالم ارواح میں بھی آپ کی تخلیق سب سے پہلے ہوئی تھی۔ یہاں یہ امر بھی وضاحت کے قابل ہے کہ اس آیت کریمہ میں جن پانچ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے وہ بلند مرتبت اور عظیم الشان انبیاء کہلاتے ہیں۔ اگرچہ النبیین میں تو سارے کے سارے نبی شامل ہیں مگر یہ پانچ اولوالعزم انبیاء ہیں وہ ہیں جن کا فیضان اور اتباع دنیا میں ہزاروں سال تک جار یرہا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کا بطور خاص تذکرہ فرمایا ہے کہ ان سے عہد لیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر کاربند رہیں گے۔ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف دعوت دیں گے ، خود بھی اس پر عمل پیرا رہیں گے اور دوسروں کو بھ یاس پر پابند بننے کی ترغیب دیں گے۔ اس کے علاوہ دنیا میں برائی کی بجائے نیکی اور فساد کی بجائے اصلاح کو عام کرنے کی سعی کریں گے۔ میثاق کی حمایت آگے اللہ نے اس میثاق کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے۔ لیسئل الصدقین عن صدقھم تاکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے۔ سورة الاعراف میں یہ مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین (آیت۔ 6) ہم ان لوگوں سے بھی پوچھیں گے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا اور خود رسولوں سے بھی سوال کریں گے کہ انبیاء اور ان کے امتیوں نے مذکورہ عہد کو کس حد تک پورا کیا۔ نبیوں سے سوال ہوگا کہ کیا انہوں نے تبلیغ حق کی ذمہ داری پوری کی اور امتیوں سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے نبیوں کی دعوت کو قبول کیا یا نہیں ؟ انبیاء سے اس قسم کے سوال کا ذکر حجۃ الوداع کے واقعہ میں بھی آتا ہے۔ حج کا خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد نبی ﷺ نے حاضرین سے فرمایا تھا : کہ لوگو ! کل قیامت کے دن میرے بارے میں تم سے سوال ہوگا تو کیا جو ابدو گے ؟ سب نے کہا۔ نشھد انک قد ادیت الامانۃ و بلغت الرسالۃ و نصحت الامۃ ہم اللہ کے حضور گواہی دیں گے کہ آ پنے امانت ادا کردی ، تبلیغ کا حق اد اکر دیا اور امت کے لئے خیرخواہی بھی کردی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین دفعہ فرمایا ، خدایا گواہ رہنا۔ بہرحال قیامت والے دن اللہ تعالیٰ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے گا۔ اس بات کا ذکر سورة المائدہ میں بھی آتا ہے ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم (آیت۔ 911) اس دن سچے لوگوں کو ان کی چسائی ضرور فائدہ دے گی اور سچے لوگوں میں سرفہرست انبیاء کی جماعت ہے جنہوں نے پوری سچائی کے ساتھ دین کو قبول کیا ، اس پر عمل کیا اور اس کی اشاعت و بقا کا بندوبست کیا۔ اس کے بعد جن لوگوں نے دین حق کو مانا اور اس پر عمل پیرا ہوئے وہ بھی سچوں میں شمار ہوں گے اور قیامت کے دن ان کی سچائی کے متعلق سوال ہوگا اور وہ اللہ کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے۔ ان کے برخلاف جنہوں نے دین توحید کو تسلیم نہ کیا اور کفر ، شرک اور معصیت کا ارتکاب کرتے رہے ، فرمایا و اعد للکفرین عذاباً الیما ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب بھی تیار کیا ہوا ہے جس کا وہ شکار ہوں گے۔ حقیقت میں ایسے لوگوں نے اس عہد کا پاس نہ کای جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ وہ انبیاء کے لائے ہوئے دین کو قبول کریں گے اور ان کی تائید و نصرت کریں گے ایسے لوگوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کے لائے ہوئے دین کو ٹھکرا دیا اور بالآخر دردناک عذاب میں پھنس گئے۔
Ayahs 33:9–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ کی اس نعمت کو جو اس نے تم پر کی جب کہ تم پر حملہ آور ہوئے تھے بہت سے لشکر۔ بس ہم نے بھیجی ان پر تند ہوا اور ایسا لشکرجس کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کام کرتے ہو دیکھنے والا ہے

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب چڑھ آئے وہ تم پر اوپر کی جانب سے اور نیچے کی جانب سے۔ اور جس وقت آنکھیں پتھرا گئیں تھیں اور دل اچھل کر گلوں تک آ رہے تھے ، اور تم گمان کرتے تھے طرح طرح کے گمان

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس وقت آزمائے گئے مومن اور وہ سخت متزلزل کئے گئے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب کہتے تھے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ نہیں وعدہ کیا ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے مگر دھوکہ

ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس میثاق النبیین کا ذکر فرمایا ، جو اس نے اپنے انبیاء سے عالم ارواح میں لیا تھا۔ ان میں سے پانچ اولوالعزم انبیاء کا ذکر اللہ نے خاص طور پر کیا۔ ان سب سے یہ پکا عہد لیا گیا تھا کہ اگر پہلا نبی پچھلے نبی کا زمانہ پائے تو اس پر ایمان لائے اور اس کی تائید کرے اور مجموعی طور پر تمام انبیاء کا پختہ عہد یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں گے اور ان کی نصرت کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب انبیاء نے یہ عہد کرلیا تو ہر امتی رپ بھی یہ فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ آخری نبی پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت کرے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے یہ عہد اس لئے کیا تھا تاکہ سچے لوگوں کی سچائی اور کافروں کا کفر واضح ہوجائے اور پھر سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا جائے اور کافروں کو درد ناک عذاب کا مزہ چکھایا جائے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جنگ احزاب کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے انہیں اپنی نعمت کی یاد دہانی کرائی ہے جو اس نے اس موقع پر مسلمانوں پر کی اور جس کی بدولت مسلمانوں کو کفار کے غلبے سے محفوظ رکھا۔ ان آیات کا گزشتہ آیات کے ساتھ ربط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس سچائی ، خلوص اور دین داری کو جانچنے کا اشارہ گزشتہ آیات میں کیا تھا۔ جنگ احزاب کے موقع پر اس کا امتحان ہو رہا تھا کہ کون دین حق کے ساتھ مخلص اور نبی کا سچا وفادار ہے اور کون منافق اور کافر ہے۔ جنگ احزاب یا جنگ خندق 5 ھ میں لڑی گئی۔ اس سے پہلے کفار جنگ بدر اور احد میں مسلمانوں کو مغلوب کرنے میں ناکام ہوچکے تھے۔ مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہ تھی ، اسلام تقویت پکڑ رہا تھا اور یہی چیز کافروں کے لئے کہ ان روح بنی ہوئی تھی اور وہ مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ اس دوران بنو نضیر کے بیس سردار مکہ میں قریش کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں مسلمانوں کے خلاف اپنی مدد کا یقین دلایا۔ اس کے بعد بنو نضیر کا یہ وفد بنو عطفان کے پاس گیا اور قریش کی طرح انہیں بھی آمادہ جنگ کیا۔ پھر انہوں نے عرب کے بعض دیگر قبائل کو بھی ساتھ ملا لیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار کرلیا۔ قریش مکہ پہلے ہی کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھے ، وہ فوراً جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ پروگرام کے مطابق یہ سارے قبائل مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے اور چند دن میں مدینہ کے قریب دس ہزار کا لشکر جمع ہوگیا۔ یہ اتنا بڑا لشکر تھا کہ مدینے کی آبادی سے بھی زیادہ تھا۔ ادھر مدینے کی قیادت بھی بیدار مغز تھی اور ان کی انگلیاں ہمیشہ حالات کی نبض پر رہتی تھیں۔ جونہی کفار کا یہ لشکر مدینے کے قریب آیا مخبرین نے اس کی اطلاع مدینہ میں کردی۔ اطلاع پاتے ہی حضور ﷺ نے ہائی کمان کی مجلس شوریٰ منعقد کی اور دفاعی منصوبے پر صلاح و مشورہ شروع کردیا۔ غور و خوض کے بعد حضرت سلمان فارسی ؓ کی تجویز منظور کرلی گئی کہ مدینہ طیبہ کے گرد مناسب مقامات پر خندق کھود کر دشمن کو شہر میں داخلے سے روکا جائے ، اس منصوبے پر فوراً عمل شروع ہوگیا۔ حضور ﷺ نے دس دس آدمیوں کو چالیس چالیس گز کا ٹکڑا کھودنے کا حکم دیا چناچہ ساڑھے تین میل لمبی یہ خندق چھ دن میں مکمل کرلی گئی۔ خندق کی کھدائی کے دوران بھی بہت سے واقعات پیش آئے اور حضور 1 ؎ روح المعانی 551 ج 12 و خازن ص 332 ج 5 والحج سعود ص 302 ج 4 و مظہر ص 113 ج 7 (فیاض) علیہ السلام کے بعض معجزات بھی ظاہر وئے۔ فاقہ کی حالت میں لوگ پیٹ پر پتھرباندھ کر خندق کھودتے رہے۔ اتنے میں دشمن بھی خندق تک پہنچ گیا۔ اور مسلمانوں کا یہ دفاعی منصوبہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ اس خندق کو عبور نہیں کرسکتے تھے۔ اگر کسی نے کوشش کی تو جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ یہ محاصرہ پچیس دن یا ایک ماہ تک جاری رہا۔ مگر کفار اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد دو طریقوں سے کی۔ ایک تو ان کی امداد کے لئے فرشتوں کا لشکر بھیج دیا اور دوسرا سخت ہوا بھیجی جس سے کافروں کے خیمے اکھڑ گئے ، ہانڈیاں الٹ گئیں ، اونٹ بھاگ کھڑے ہوئے اور اس طرح وہ محاصرہ اٹھانے پر مجبور ہوگئے۔ فرشتوں کا لشکر اللہ نے میدان بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیجا تھا۔ فرشتے براہ راست جنگ تو نہیں لڑتے مگر اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کے دل مضبوط کردیتا ہے۔ پھر جس شخص کو اعتماد ہو کہ اس کے ساتھ فرشتوں کی جماعت موجود ہے۔ اس کا حوصلہ بڑھ جائے گا اور مسلمانوں کے لئے دلوں میں اطمینان پیدا ہوجائے گا۔ بہرحال کافروں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور مسلمان ان کے شر سے مامون رہے۔ انعامات المیہ کا تذکرہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی انعام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یایھا الذین آمنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو اذ جاء تکم جنود جب کہ تمہارے اوپر ہر طرف سے دشمن کے لشکر چڑھ آئے تھے۔ فارسلنا علیھم ریحا پس ہم نے ان پر ایک تیز ہوا بھیجی جس نے ان کے سارے نظام کو درہم برہم کردیا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے اھلکت عاد بالدبور و نصرت بالصباح یعنی اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو مغرب کی طرف سے 1 ؎ تفسیر خازن 332 ج 5 و مظہری 113 ج 7 وحدراک ص 593 ج 3 (فیاض) گرم ہوا بھیج کر ہلاک کیا اور میری مدد مشرق کی طرف سے چلنے والی ہوا کے ساتھ کی یہ ہوا نہایت ٹھنڈی تھی۔ حملہ آور اسے برداشت نہ کرسکے۔ فرمایا اے ایمان والو میں نے تم پر دوسرا انعام یہ فرمایا و جنود الم تروھا اور تم پر ایسے لشکر بھیجے جسے تم نہیں دیکھ پاتے تھے۔ فرشتوں نے تمہارے دلوں کو مضبوط کیا جس کی وجہ سے تم دشمن کے خوف سے دلبرداشتہ نہ ہوئے اور بالآخر اللہ نے تیز اور ٹھنڈی مشرقی ہوا بھیج کر حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ و کان اللہ بما تعملون بصیرا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ پھر فرمایا اس وقت کو یاد کرو اذ جاء و کم من فوقکم جب دشمن تم پر اوپر کی جانب سے چڑھ آئے و من اسفل منکم اور نچلی جانب سے بھی۔ مدینہ کی مشرقی جانب اونچی جگہ ہے جہاں غول ہیں۔ جب کہ مغربی حصہ نیچا ہے۔ دشمن دونوں طرف سے حملہ آور ہوئے تھے۔ تمہاری عورتیں ، بچے اور بوڑھے شہر میں تھے جن کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہیں تھا کیونکہ سارے مجاہدین دشمن کے مقابلے میں خندق کے اس پار مورچہ زن تھے ان حالات میں اس وقت کو دھیان میں لائو۔ و اذ زاغت الابصار جب کہ خوف اور دہشت کی وجہ سے تمہاری آنکھیں تھرا گئی تھیں۔ و بلغت العلوب الحناجر اور دل اچھل کر کلوں تک آ رہے تھے۔ اس موقع پر حضرت ابو سعید خدری نے عرض کیا ، حضور ﷺ ہمیں کوئی ورد بتائیں جس کے پڑھنے سے سکون حاصل ہو ، آ پنے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو اللھم الستر عوراتنا و امن رو عاتنا پروردگار ! ہماری سرحدوں کی پردہ پوشی فرما اور ہمارے خوف کو امن میں تبدیل کر دے۔ غزوہ احد کے موقع پر بھی جب دشمن 1 ؎ تفسیر دارک 692 ج 3 و روح المعانی 051 ج 12 (فیاض) نے پلٹ کر حملہ کردیا تو مسلمانوں نے یہ دعا پڑھی تھی۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل یعنی ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ منافقوں کی بکواس فرمایا ، اس وقت تمہاری حالت یہ تھی و تظفون باللہ الظنونا اور تم طرح طرح کے گمان کر رہے تھے ، خاص طور پر منافقین اور کمزور دل لوگوں کے دلوں میں بہت سے وسوے آ رہے تھے کہ پتہ نہیں اب کیا ہوگا ؟ کیا مسلمان بالکل ہی ختم ہوجائیں گے ؟ مصیبت کے وقت خوف پیدا ہوجانا طبعی امر ہے اور یہ کمال کے منافی نہیں۔ سامنے دشمن کا لشکر جرار نظر آ رہا تھا۔ مسلمانوں کی تعداد بھی بالکل قلیل تھی اور سامان حرب بھی تھوڑا تھا۔ اور ادھر عورتیں اور بچے غیرمحفوظ نظر آتے تھے۔ ان حالات میں خوف و ہراس اور وساوس کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ فرمایا ھنالک ابتلی المومنون اس وقت مومنوں کو آزمایا گیا کہ اس قدر مشکل وقت میں یہ کس حد تک ثابت قدم رہتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی گھبراہٹ کو سکون میں تبدیل کردیا۔ اس کے برخلاف منافقوں پر دہشت طاری ہوگئی۔ فرمایا و زلزلوا زلزالا شدیدا اور مومن اچھی طرح متزلزل کئے گئے مگر وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہے جس کی وجہ سے کفار کو شہر میں داخل ہونے کی جرأت نہ ہوئی۔ فرمایا اس وقت کو بھی یاد کرو و اذ یقول المنفقون والذین فی قلوبھم مرض جب کہ منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا کہہ رہے تھے ما وعدنا اللہ و رسولہ الا غرورا کہ ہم سے نہیں وعدہ کیا اللہ اور اس کے رسول نے مگر دھوکے گا۔ غزوہ احد کے موقع پر جب دشمن دوبارہ حملہ نہ کرسکا تو حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ انشاء اللہ آئندہ ہم کامیاب ہوں گے ، اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے منافق کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ جھوٹا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خندق کھودتے وقت حضور ﷺ نے بعض پیشین گوئیاں بھی فرمائی تھیں کہ اللہ تعالیٰ ایران اور روم پر مسلمانوں کو غلبہ عطا کرے گا۔ خندق کی کھدائی کے دوران حضور نے ایک سخت چٹان پر کدال مارا تو فرمایا۔ اللہ اکبر ! مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ میں اس وقت وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے دوسری ضرب لگائی تو چٹان کا ایک ٹکڑا علیحدہ ہوا۔ آپ نے فرمایا اللہ اکبر ! مجھے فارس دیا گیا ہے واللہ ! اس وقت میں مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے تیسری ضرب لگائی اور فرمایا اللہ اکبر ! مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ میں اس وقت صنعاء کے پھاٹک دیکھ رہا ہوں۔ اس قسم کی پیشین گوئیاں بھی منافقوں کو یاد آ رہی تھیں۔ کہنے لگے آپ روم اور ایران کی بات کر رہے ہیں اور ادھر ہماری حالت یہ ہے کہ ہم بول و براز کے لئے بھی باہر نہیں نکل سکتے۔ اس بات کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ منافق کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جھوٹا وعدہ کیا ہے کہ فتح مسلمانوں کو حاصل ہوگی۔ حالانکہ ہم تو شدید ترین خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔ بہرحال اس رکوع میں منافقین کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے اور ایمان والوں کو تسلی دی گئی ہے اور ان کی تعریف بھی کی گئی ہے کہ وہ ایسے کٹھن وقت میں ثابت قدم رہے۔
Ayahs 33:13–20

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور اس بات کو دھیان میں لائو ، جب کہا ایک گروہ نے ان (منافقین میں سے ، اے یثرب کے رہنے والو ! یہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے۔ پس لوٹ جائو واپس اپنے گھروں کو اور اجازت طلب کرتا ہے ا کی گروہ ان میں سے نبی (علیہ السلام) سے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر غیرمحفوظ ہیں حالانکہ وہ غیرمحفوظ نہیں ہیں ، نہیں چاہتے یہ مگر بھاگنا

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر شہر میں اس کے اطراف سے کوئی فوج داخل کردی جائے ، پھر ان لوگوں سے فتنے برپا کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو فوراً اس میں شامل ہوجائیں گے۔ اور نہ ٹھہریں گے اس کے بارے میں مگر بہت تھوڑا

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق انہوں نے معاہدہ کیا تھا اللہ سے اس سے پہلے کہ پشت نہیں پھیریں گے۔ اور اللہ کے عہد کے متعلق سوال کیا جائے گا

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے ، ہرگز نہیں فائدہ دے گا تم کو بھاگنا اگر تم بھاگنا چاہو گے موت سے قتل کئے جانے سے۔ اور اس وقت تم کو فائدہ نہیں دیا جائے گا مگر بہت تھوڑا

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کون ہے جو بچاتا ہے تمہیں اللہ سے اگر ارادہ کرے وہ تمہارے ساتھ برائی کا یا ارادہ کرے تمہارے ساتھ مہربانی کا اور نہ پائیں گے وہ اپنے لئے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مددگار

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

تحقیق جانتا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو روکتے ہیں تم میں سے اور ان کہنے والوں کو بھی جو اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف چلے آئو اور وہ نہیں جاتے لڑائی میں مگر بہت تھوڑا

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

وہ بخیل ہیں تمہارے اوپر ، جب آجائے خوف تو دیکھے گا ان کو کہ وہ تکتے ہیں۔ آپ کی طرف گھومتی ہیں ان کی آنکھیں اس شخص کی طرح جس پر غشی طاری ہوتی ہے موت کی وجہ سے۔ پس جب خوف چلا جاتا ہے تو پھر وہ کاٹتے ہیں تمہیں تیز زبانوں سے۔ حریص ہیں وہ مال کے۔ یہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے پس اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا ہے اور یہ بات اللہ پر آسان ہے

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

گمان کرتے ہیں یہ فوجوں کے بارے میں کہ وہ نہیں واپس ہوئیں اور اگر آئیں کوئی اور فوجیں تو یہ پسند کرتے ہیں کاش کہ یہ دیہات میں ہی ہوتے اور پوچھتے تمہاری خبروں کے بارے میں اور اگر یہ لوگ تمہارے درمیان ہوتے تو نہ لڑتے مگر بہت تھوڑا

ربط آیات گزشتہ آیات میں جنگ احزاب کا ذکر ہوا تھا جس میں قلت تعداد کے باوجود مسلمان دشمن کے شر سے محفوظ رہے اور کفار نامراد واپس لوٹ گئے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی تسلی کے لئے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا۔ نیز مشرق سے تند و تیز ہوا چلا کر دشمنوں کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔ وہ مدینہ میں داخل ہو کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں ذلیل ناکام اور غالب و غاصر بنا دیا۔ اللہ نے اہل ایمان کو یہ نعمت یاد دلائی اور اور اللہ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ، اور دوسری طرف منافقوں کی مذمت بیان کی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ مسلمانوں نے فاقے کی حالت میں سخت مشقت برداشت کر کے ساڑھے تیس میل لمبی خندق کھودی اور اس طرح مدینے کے اردگرد دفاعی حصار قائم کرلیا۔ آتے ہی قریظہ کا حال بھی بیان ہو رہا ہے کہ غزوہ احزاب کے بعد ان سے بھی مڈھ بھیڑ ہوئی اور اللہ نے ان دشمنوں کا بھی خاتمہ کردیا۔ حضر تسعد بن معاذ ؓ نے زرہ پہنی مگر وہ اتنی چھوٹی تھی کہ آپ کے بازو باہر نکلے ہوئے تھے۔ اس پر جوش میں آ کر انہوں نے کہا تھا۔ 1 ؎ مظہری 223 ج 7 (فیاض) لیت قلیل یدرک الھیجا الجمل لا باس بالموت اذا حان الاجل کاش کہ تھوڑا سا موقع مل جائے جس میں میرا اونٹ میدان جنگ تک پہنچ جائے ، اور پھر اگر موت آجائے تو کچھ پروا نہیں۔ ظاہر ہے کہ موت تو بہر صورت آنی ہے اور اگر یہ اسلام کے دفاع میں آجائے تو اس سے زیادہ خوش قسمتی کیا ہو سکتی ہے اور اگر یہ اسلام کے دفاع میں آجائے تو اس سے زیادہ خوش قسمتی کیا ہو سکتی ہے۔ اس موقعہ پر حضرت سعد ؓ کی والدہ نے آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہو کہا کہ بیٹا ! تاخیرنہ کرو بلکہ جلدی کرو اور اللہ کے رسول جہاں بھی ہوں ان کے پاس فوراً پہنچ جائو۔ منافقوں کی طرف سے حوصلہ شکنی مسلمانوں میں تو اس قدر جوش و جذبہ پایا جاتا تھا مگر منافقوں کا حال یہ تھا کہ وہ بددل ہو رہے تھے اور جیسا کہ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے ، کہنے لگے کہ اس جنگ سے پہلے اللہ کے نبی نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ آئندہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہی کامیاب و کامران کرے گا۔ پھر جب شہر کا پوری طرح محاصرہ ہوگیا تو وہ مجاہدین کی حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ و اذ قالت طائفۃ منھم اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا یا اھل یثرب لا مقام لکم اے یثرب کے رہنے والو ! یہاں دشمن کے مقابلے میں مورچہ بند ہو کر رہنا تمہارے لئے کوئی موزوں ٹھکانا نہیں ہے۔ یہاں تو نری تباہی اور بربادی ہے۔ دشمن کی کثیر تعداد اسلحہ سے لیس تمہارے مقابلے میں ہے۔ تمہاری تعداد بھی قلیل ہے ، سروسامان کا فقدان ہے حتیٰ کہ تمہاری خوراک کا بھی کوئی بندوبست نہیں اور تمہیں فاقے پر فاقے آ رہے ہیں۔ ان حالات میں تم دشمن کا کیسے مقابلہ کرسکو گے۔ غزوہ احد کے موقع پر بھی منافق اسی قسم کی بات کر کے مسلمانوں سے علیحدہ ہوگئے تھے کہ قریش کی کثیر تعداد کے ساتھ مقابلہ کرنا تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے ، لہٰذا ہم تمہارے ساتھ اس تباہی میں شریک نہیں ہو سکتے۔ کہنے لگے حالات اب بھی ناموافق ہیں ، تم دس ہزار کے جرار لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکو گے لہٰذا فارجعوا اپنے گھروں کو لوٹ جائو اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی ہلاکت کو خریدو۔ یثرب مدینے کا قدیم نام ہے۔ یہ شہر اثرب یا یثرب نامی کسی شخص کے نام پر مشہور ہوگیا تھا۔ تثریب ، ملامت ، گناہ یا برائی کو کہتے ہیں۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کو یثرب نہ کہا کرو۔ جو ایسا کہنا ہے وہ اللہ تعالیٰ سے استفسار کرے آپ نے یہ بات تین دفعہ کہی۔ نیز فرمایا کہ یہ تو طاہہ ، طیبہ یا مدینۃ الرسول ہے اس پاک شہر کو یثرب کے نام سے مت پکارا کرو۔ منافقوں کے جھوٹے بہانے بہرحال منافقوں کا ایک گروہ تو وہ تھا جو مخلص ایمان والوں کو اپنے گھروں میں واپس چلے جانے کی ترغیب دیتا تھا۔ و یستاذن فریق منھم النبی اور ان میں سے دوسرا گروہ وہ تھا جو جھوٹے حیلے بہانوں سے نبی (علیہ السلام) سے محاذ جنگ سے واپس چلے جانے کی اجازت طلب کرتا تھا یقولون ان بیوتنا عورۃ بیشک ہمارے گھر غیرمحفوظ ہیں۔ عورۃ کا معنی برہنہ یا عیب دار ہونا ہے۔ مطلب یہ کہ ہمارے گھروں کی چار دیواریاں بھی نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دشمن شہر میں گھس آنے اور ہماری عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچائے مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ بکواس کرتے ہیں وما ھی بعورۃ ان کے گھر قطعات غیرمحفوظ نہیں بلکہ ٹھیک ٹھاک ہیں۔ حقیقت یہ ہے ان یریدون الا فرارا یہ جھوٹے حیلے بہانوں سے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن کی مدد فرمایا یہ منافق ایسے فتنہ پرور ہیں ولو دخلت علیھم من اقطارھا اگر مدینے کے اطراف سے کہیں دشمن کی فوج شہر میں داخل ہوجائے۔ ثم سئلوا الفتنۃ لا توھا پھر ان سے مسلمانوں کے خلاف فتنے کا مطالبہ کیا جائے تو فوراً مان جائیں گے اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کو مدد دینے پر آمادہ ہوجائیں گے ، فرمایا اس سلسلہ میں کوئی تاخیر روا نہیں 1 ؎ مظہری ص 333 ج 7 و رحمن المعانی ص 951 ج 12 (فیاض) رکھیں گے بلکہ وماتلبثوبھا الا یسیرا نہیں ٹھہریں گے مگر بہت کم اور دشمن کے ساتھ شریک ہوجائیں گے حالانکہ ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لا یولون الادبار اس سے پہلے یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عہد کرچکے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں برابر شریک رہیں گے اور پشت نہیں پھیریں گے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ جب کوئی دشمن ان سے اہل ایمان کے خلاف مدد طلب کرتا ہے تو فوراً تیار ہوجاتے ہیں ، مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ غزوہاحد کے موقع پر بھی منافقوں نے ایسی ہی خباثت کا اظہار کیا تھا مگر جب اللہ کی طرف سے سخت وعید آئی تو انہوں نے معافی مانگی۔ اس جنگ میں اگرچہ مسلمانوں کا جانی نقصان ہوا مگر ایک لحاظ سے انہی کا پلہ بھاری رہا کیونکہ دشمن تعاقب نہ کرسکا بلکہ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کر کے انہیں بھگا دیا۔ اس وقت انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ مسلمانوں کے ساتھ غداری نہیں کریں گے مگر غزوہ احزاب کے موقع پر انہوں نے پھر حیلوں بہانوں سے یہی کام کیا ، حالانکہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ ہم پشت نہیں پھیریں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کو علم ہونا چاہئے و کان عھد اللہ مسئولا اللہ سے کیا ہوا عہد رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ اس کے متعلق ان سے سوال ہوگا کہ تم نے عہد شکنی کیوں کی ؟ اس کے برعکس اللہ کا نبی اور ایمان والے سخت تکالیف برداشت کر کے بھی دشمن کے سامنے سینہ سپر ہیں۔ غزوہ خندق ہی میں سختی کا ایک دن ایسا بھی آیا کہ حضور ﷺ سارا دن مورچہ زن رہے حتیٰ کہ ظہر ، عصر ، اور مغرب کی تین نمازیں بھی قضا ہوگئیں۔ پھر آپ نے عشاء کے وقت میں یہ نمازیں قضا کر کے پڑھیں۔ نماز عصر کی فوتیدگی پر حضور ﷺ نے سخت افسوس کا اظہار کیا اور بددعا فرمائی ، کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کی قبروں کو آگ سے بھر دے کہ ان کی وجہ سے ہماری صلوٰۃ وسطیٰ بھی رہ گئی ہے۔ الغرض ! فرمایا کہ اگر ان منافقوں سے مسلمانوں کے خلاف فتنے کا مطالبہ کیا جائے تو اس کے لئے فوراً تیار ہوجائیں گے۔ موت سے فرار ممکن نہیں منافقین موت کے خوف سے میدان جنگ سے بھاگتے تھے مگر اللہ نے فرمایا قل لن ینفعکم الفرار ان فررتم من الموت اولقتل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم طبعی موت یا قتل کئے جانے کے ڈر سے بھاگتے ہو تو یہ فرار تمہیں کچھ مفید نہیں ہوگا اور اگر کسی طح بھاگ بھی جائو گے و اذا لا تمتعون الا قلیلا تو پھر بھی تمہیں بہت کم ہ یفائدہ دیا جائے گا۔ تم مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ بھی جائو گے تو کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھائو گے۔ بلکہ الٹا ندامت اور پشیمانی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اللہ تعالیٰ نے انہیں مزید خبردار کیا اور فرمایا قل من ذالذی یعصمکم من اللہ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ وہ کون ہے جو تمہیں بچائے گا اللہ تعالیٰ سے ان ارادبکم سوء اگر وہ تم سے برائی کا ارادہ کرے او ارادبکم رحمۃ یا وہ تم سے مہربانی کرنا چاہے فرمایا تمام اختیارات اللہ کے پاس ہیں۔ وہ چاہے تو کسی کو مشقت میں ڈال دے اور چاہے تو اس پر انعام کر دے۔ اس کے ارادے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا لہٰذا تمہارا موت کے خوف سے بھاگنا تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ یہ تو اللہ کی مشیت پر ہے کہ وہ کسی کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتا ہے۔ فرمایا یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تم کہیں نہیں جاسکتے ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا اور نہ ہی وہ اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور مددگار پائیں گے۔ اللہ کی مرضی کے خلاف ان کے حق میں کوئی نصرت کارگر نہیں ہو سکتی۔ فرمایا قد یعلم اللہ المعوقین منکم اللہ تعالیٰ تم میں سے جنگ سے روکنے والوں یعنی منافقوں کو خوب جانتا ہے والقائلین لاخوانھم ھلم الینا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو اپنے بھائی بندوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آ جائو اور جنگ میں شریک نہ ہو۔ اس زمانہ میں مخلص مسلمان اور منافق ملے جلے تھے۔ اگر ایک بھائی پکا مسلمان ہے تو دوسرا منافق ہے تو ان حالات میں منافق اپنے بھائی بندوں کو جنگ میں شرکت سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی یا وہ شہید ہوجاتا ، تو منافقوں کوک غلط پراپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا کہ اگر ہمارے ساتھ رہتے تو یہ تکلیف نہ پہنچتی۔ دوسری جگہ اللہ کا یہ فرمان موجود ہے کہ اگر تم مضبوط قلعوں میں بھی بند ہو جائو تو موت سے نہیں بچ سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ وہاں سے نکال کر اسی مقام پر تم پر موت طاری کر دے گا۔ بہرحال مسلمانوں کے ساتھ شریک جنگ ہونے سے روکنے والوں کے متعلق فرمایا ولا یاتوت الباس الا قلیلا کہ وہ خود لڑائی میں کم ہی جاتے ہیں اور اکثر حیلے بہانے سے اعتراض ہی کرتے ہیں۔ منافقین کی بدکرداری فرمایا اشحۃ علیکم وہ تم پر بڑے بخیل ہیں۔ تمہاری مدد کرنے اور مال خرچ کرنے میں انتہائی کنجوسی کا اظہار کرتے ہیں اور حیلے بہانے سے بچنا چاہتے ہیں۔ فاذا جاء الخوف پس جب خوف آئے یعنی خطرہ درپیش ہو۔ رایتھم ینظرون الیک تدور اعینھم کالذی یغشیٰ علیہ من الموت تو آپ دیکھیں گے کہ یہ منافق لوگ آپ کی طرف تکتے ہیں اور ان کی آنکھیں اس طرح گھومتی ہیں جس طرح کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو۔ اس وقت یہ لوگ بڑے حیران اور دہشت زدہ معلوم ہوتے ہیں فاذا ذھب الخوف اور جب خوفزدگی دور ہوجائے سلقوکم بالسنۃ حداد تو آپ کو تیتر زبانوں سے کاٹتے ہیں ، طعن اور ملامت کرتے ہیں اور مسلمانوں کی مذمت کرنے لگتے ہیں۔ پھر فرمایا اشحۃ علی الخیر یہ لوگ مال کے بڑے حریص ہیں۔ جہاد میں تو شریک نہیں ہوئے مگر جب مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے اور مال غنیمت حاصل ہوتا ہے تو یہ ادھر بھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ اس میں سے انہیں بھی کچھ حصہ مل جائے۔ فرمایا اولئک لم یومنوا حقیقت میں یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے فاحبط اللہ اعمالھم کہ اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا ہے چونکہ وہ لوگ صدق دل سے ایمان ہی نہیں لائے۔ اس لئے اگر انہوں نے دکھاوے کی نمازیں پڑھی ہیں یا بامر مجبوری کسی جنگ میں شریک ہوئے ہیں تو اللہ ان کے ایسے اچھے اعمال کو بھی ضائع کردیا ہے اور انہیں ان اعمال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ و کان ذالک علی اللہ یسیرا اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے بالکل آسان ہے ، انسان کا لفظ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ بلاوجہ کسی کا اچھا عمل ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ منافقوں کے اچھے اعمال کی طرف بھی توجہ کرتا ہے تو ان میں کفر شرک ، نفاق یا اتحاد پایا جاتا ہے۔ جن کی اصلاح ممکن نہیں ہوتی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو نہایت آسانی کے ساتھ ضائع کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے۔ اعمال کی مقبولیت کا دارومدار ایمان پر ہے جب ایمان ہی نہیں ہے ، عقیدہ ہی درست نہیں ہے تو پھر اعمال کا کیا فائدہ ہوگا ؟ جہاد سے فرار فرمایا ان منافقوں کا حال یہ ہے یحسبون الاحزاب لم یذھبوا کہ یہ گمان کرتے ہیں کہ دشمن کی فوجیں ابھی واپس نہیں گئیں بلکہ مسلمانوں کے بالمقابل صف آراء ہیں اور وہ مسلمانوں کو ضرور نقصان پہنچائیں گی و ان یات الاحزاب اور اگر فی الحقیقت دشمن کی فوج آ ہی جائے یودوا لو انھم یادون فی الاعراب تو چاہتے ہیں کاش کہ وہ دیہات میں ہوتے کیونکہ شہر میں ہونے کی صورت میں انہیں دشمن کا خطرہ ہوتا ہے اور مال و جان کے ضیاع کی فکر ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کاش کہ ہم شہر کی بجائے دیہات میں ہوتے یسالون عن انبائکم اور وہیں بیٹھ کر مسلمانوں کے متعلق خبریں پوچھتے رہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے۔ وہ تو مخلص مسلمانوں کی شکست اور مالی و جانی نقصان کی خبر سننے کے منتظر رہتے۔ یہ اتنے بزدل لوگ ہیں کہ جونہی دشمن قریب آئے یہ خوفزدہ ہو کر تمنا کرنے لگتے ہیں کہ وہ شہر کی بجائے دیہات میں ہوتے تو مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہونا پڑتا۔ فرمایا منافقوں کا جنگ سے گریز ایک لحاظ سے اچھا ہے کیونکہ ولوکانوا فیکم اگر وہ تمہارے درمیان بھی ہوں ماقتلوا الا قلیلا تو جنگ میں نہیں شریک ہوں گے مگر بہت تھوڑا۔ مطلب یہ کہ تمہارے ساتھ رہنے کا فائدہ بھی کچھ نہیں جب انہوں نے نہ صرف خود جنگ سے اغراض کرنا ہے بلکہ اپنے بھائی بندوں کو بھی لڑائی سے علیحدہ رہنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس لحاظ سے ایسے لوگ تمہارے درمیان رہ کر نقصان کا باعث ہی بنیں گے۔ بہتر ہے کہ یہ دور دور ہی رہیں تاکہ ان کی خباثت بھی آشکارا ہوتی رہے اور مسلمان ان سے زیادہ خبردار بھی رہیں اور پھر اپنے لئے کوئی بہتر تدبیر اختیار کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سازشوں اور ان کی بزدلی کو ظاہر کردیا تاکہ مخلص مسلمان ان کی سازشوں کا شکار نہ ہوں۔