Ayahs 33:57–58ربط آیات
گزشتہ درس میں حضور نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا ذکر تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے نبی پر خصوصی رحمت فرماتا ہے اور فرشتے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں ، لہٰذا اے ایمان والو ! تم بھی اپنے نبی پر درود وسلام کے پھو ل نچھاور کیا کرو۔ اور اس کام کے لئے نبی کے ادب و احترام اور خلوص نیت کو ملحوظ خاطر رکھو۔ اس سے پہلے حضور ﷺ کے گھر میں داخلے اور کھانا کھانے کے آداب بیان ہوئے تھے اور ساتھ ساتھ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے ساتھ امتی کا نکاح ہمیشہ کے لئے حرام قرار دیا گیا ، اور نبی (علیہ السلام) کو قولی ، فعلی ، ذہنی ، جسمانی ہر قسم کی اذیت پہنچانے سے منع کیا گیا۔ اب آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑایں ہیں۔ ان میں اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ پھر دوسرے درجے میں عام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچانے سیمنع کیا گیا اور اس فعل کو صریح گناہ اور زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ان الذین یوذون اللہ بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچاتے ہیں خدا تعالیٰ تو قادر مطلق اور طاقت کا سرچشمہ ہے بھلا اسے کون تکلیف پہنچا سکتا ہے ؟ یہاں پر ایذارسانی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی شان رفیع میں کوئی گستاخی کی جائے۔ مثلاً جو شخص کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کوئی بیٹا بنا لیا ہے یا معاذ اللہ خدا کی بیوی ہے ، یا اس کی اولاد ہے یا اس کا کوئی شریک ہے تو اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچائی۔ ایک حدیث میں یوں آتا ہے کہ اللہ نے فرمایا یوذینی ابن آدم آدم کے بیٹے نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تھا۔ اور پھر اس بات کی تشریح اس طرح کی کہ لوگ حالات کو زمانے کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے حالانکہ زمانہ تو میرے اختیار اور قبضے میں ہے۔ میں جس طرح چاہوں کرلوں ، اس میں زمانے کا کیا قصور ہے ، نیز فرمایا کہ انسان مجھے جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا دوبارہ زندہ نہیں کرے گا اور قیامت برپا نہیں ہوگی ، اس طرح لوگ مجھے اذیت پہنچاتے ہیں۔ لوگ میری طرف اولاد کو منسوب کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے عزیز (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کو بیٹا بنا لیا ہے اور یہ بھی کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ، اس قسم کی باتیں کرنا خدا کو اذیت پہنچانے کے مترادف ہے۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ، اس کی ذات وصفات کا انکار کرنا ، خدا کی قدرت کا
1 ؎ معالم التنزیل ص 481 ج 3 و خازن ص 672 ج 5
انکار کرنا یا وقوع قیامت کو تسلیم نہ کرنا ، سب ایذارسانی کی باتیں ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچاتے ہیں۔
نبی کو ایذارسانی
و رسولہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں۔ رسول کو اذیت پہنچانے کی صورت یہ ہے کہ اس کی رسالت کا انکار کیا جائے آپ کی لائی ہوئی کتاب کی تکذیل کی جائے اور آپ کے لائے ہوئے دین اور آپ کی سنت کی مخالفت کی جائے۔ اس طرح آپ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرنا ایذارسانی بلکہ کفر کی بات ہے۔ قرآن پاک میں اللہ نے مشرکوں اور کافروں کا حال بیان کیا ہے ، کوئی آپ کو شاعر کہتا ، کوئی مجنون اور کوئی نعوذ باللہ کذاب کہتا۔ آپ کی صفت میں طعن کیا جاتا اور آپ کے نسب میں طعن کیا جاتا ، یہ سب ایذارسانی کی باتیں ہیں۔ بعض یہودو نصاریٰ نے حضور ﷺ کی سیرت پاک کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلہ میں چھ لاکھ سے زیادہ کتب اور رسائل شائع کئے ہیں۔ آپ کی ازواج پر اعتراض کیا اور کثرت ازواج کو نشانہ بنایا۔ غرضیکہ کفار ، مشرکین اور اہل کتاب نے ہر طرح سے حضور ﷺ کو تکلیف پہنچائی۔
ایذارسانی کی سزا
تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں لعنھم اللہ فی الدنیا والاخرۃ اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار بھیجی ہے۔ ایسے لوگ ملعون ہیں ، وہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ دنیا میں تو مسلمانوں کی جماعت ان کا مقابلہ کر کے انہیں ذلیل و خوار کرے گی ، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے ، فرمایا و اعد لھم عذاب مھیناہ اللہ نے ان کے لئے ذلت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے جس میں مبتلا ہو کر ہمیشہ کے لئے ناکام و نامراد ہوجائیں گے۔
عام مومنوں کو ایذارسانی
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذارسانی کا ذکر کرنے کے بعد عام مومنین کے متعلق بھی فرمایا والذین یوذون المومنین والمومنت اور وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور وہ بھی بغیر ما اکتسبو بغیر ان کے کسی گناہ کے یعنی ناحق۔ ایک مومن کا دوسرے مومن کو تکلیف پہنچانا جبکہ اس کی وجہ بھی کوئی نہ ہو ، نہایت ہی بری بات ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں مومن کی تعریف اس طرح کی گئی ہے والمومن من آمن الناس علی دمائھم و اموالھم یعنی مومن حقیقت میں وہ ہے کہ لوگ اپنی جانوں اور مالوں میں امن میں ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ کسی مومن کو دوسرے مومن سے کوئی خطرہ نہ ہو کہ وہ اس کی جان یا مال کے درپے ہے۔ مومن کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ والمومن من امن جادہ بوائقہ مومن وہ ہے جو اپنی شرارتوں سے اپنے پڑوسی کو ایذار نہیں پہنچاتا۔ اسی طرح مسلمان کی تعریف اس طرح بیان فرمائی من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں مگر آج ان چیزوں پر کون عمل کرتا ہے۔ آج زبان اور ہاتھ ہی ایک دوسرے کی ایذارسانی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ عام لوگوں کی بات تو چھوڑیے خود علماء کا حال یہ ہے کہ سٹیج پر کھڑے ہو کر جبتک ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالیں صبر نہیں آتا ، الا ماشاء اللہ آج کل اخبارات میں ایک دوسرے کے کارٹون چھپتے ہیں ، یہ کس قدر بری بات ہے اور دوسروں کو ایذاء پہنچانا ہے۔ عورتوں کے خلاف ناحق طعن وتشنیع ہوتی ہے تہمت ، اتہام ، گالی گلوچ ، غیبت غرضیکہ ہر طریقے سے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، یہ سب چیزیں مومن مردوں اور عورتوں کے لئے تکلیف کا باعث ہیں ، اگر کسی مرد یا عورت نے واقعی کوئی جرم کیا ہے تو اس کی سزا دلائی جائے اور بغیر ثبوت کسی کی ازخود تضحیک کرنا اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے۔
1 ؎ بحوالہ مظہری ص 714 ج 7
2 ؎ بخاری ص 6 ج 1 و مظہری ص 714 ج 7
اس کے بعد پردے کے احکام والی آیت چھوڑ کر اللہ نے اس قسم کی ایذارسانی کے تعزیری قانون کی طرف بھی اشارہ کیا ہے ، اگر کوئی شخص کسی بےگناہ مسلمان کو ستاتا ہے ، اس پر تہمت لگاتا ہے اور پھر اس کو ثابت نہیں کر پاتا تو اس پر حد قذف جاری ہوگی یا وہ تعزیر کا مستحق بنے گا ، چناچہ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو یہودی کہہ کر مخاطب کرتا ہے تو وہ شخص عدالت کی طرف رجوع کرسکتا ہے اور عدالت ایسا اتہام لگانے والے آدمی کو بیس کوڑے مارنے کی سزا دے سکتی ہے ، فقہ کی کتابوں میں یہ تمام تشریحات موجود ہیں کہ کس قسم کے غلط الفاظ استعمال کرنے سے کوئی شخص تعزیر کا حقدار بن جاتا ہے۔ تو اس مقام پر ان مومن مردوں اور مومن عورتوں کا ذکر ہو رہا ہے ، جن کو بلاوجہ کوئی ایذا پہنچائی جائے۔
بہتان اور صریح گناہ
فرمایا کسی بےگناہ مرد یا عورت کو کسی قسم کی تکلیف پہنچانا سخت معیوب ہے۔ یہ تکلیف خواہ گالی گلوچ کے ذریعے پہنچائی جائے یا مار پیٹ یا تہمت لگا کر ، ایسا کرنے والوں کے متعلق فرمایا فقداحتملوا بھتانا انہوں نے بہت بڑا بہتان اٹھایا ہے ، جھوٹ باندھا ہے واتما مبینا اور صیرح گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ اس قسم کے احکام سورة نور میں بھی بیان ہوئے جہاں حد قذف کا ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً آیت۔ 4 میں ہے جو لوگ پاکباز عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ، پھر چار عینی گواہ پیش نہیں کر پاتے انہیں اسی 08 کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ تاہم اس مقام پر فرمایا کہ مومن مرد یا عورت کو کسی بھی طریقے سے ایذا پہنچانا صریح گناہ ہے۔
بہرحال پہلے درجے میں اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا اور دنیا و آخرت کی سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ اور دوسرے درجے میں اہل ایمان مردوں اور عورتوں کی ایذارسانی کے متعلق فرمایا کہ یہ بہتان اور صریح گناہ ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والے خدا کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ اگر خود مسلمان ہی ان آداب کی پابندی نہیں کریں گے تو ان کی سوسائٹی پاک
1 ؎ ترمذی ص
نہیں رہ سکتی۔ اسلامی معاشرے میں ہر ایک کی عزت و آبرو اور مال و جان محفوظ نہیں ہونا چاہئے۔ اگر لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے تو معاشرے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
Ayahs 33:59–62گزشتہ آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعظیم و تکریم اور آپ کے گھر کے اداب بیان فرمائے۔ پھر صلوٰۃ وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان ہوتا ہے اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کی ایذارسانی پر وعید سنائی گئی کہ ایسا کرنا دنیا و آخرت میں لعنتی بننا ہے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ذلت ناک عذاب کی وعید سناتا ہے ، پھر فرمایا جس طرح اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچانا بہت بری بات ہے اسی طرح عام بےگناہ اہ لایمان کی ایذارسانی بھی صریح بہتان اور کھلا گناہ ہے۔ اللہ نے ایسی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو پردے کا حکم دیا ہے یایھا النبی قل لا زواجک و بنتک و نساء المومنین اے نبی (علیہ السلام) ! اپنی ازواج مطہرات ، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں کو کہہ دیں یدنین علیھن من جلابیھن کہ وہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں نیچے لٹکا لیکا کریں۔ یعنی کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلنا پڑے تو با پردہ نکلیں۔ ذلک ادنی ان یعرفن یہ بات زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں فلا یو ذین اور ان کو تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ زمانہ جاہلیت میں عام طور پر لونڈیاں بےپردہ باہر آجاتی تھیں کیونکہ انہیں اپنے مالکوں کی خدمت کرنا ہوتی تھی ، سودا سلف لانا یا کوئی پیغام رسانی کا کام کرنا ہوتا تھا اور پھر اوباش قسم کے لوگ ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے بھی باز نہیں آتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ لونڈیاں ہیں نہ کہ گھر گرہستی باقاعدہ منکوعہ اور باعزت عورتیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ جب آزاد عورتیں باہر نکلیں تو باپردہ نکلیں تاکہ پہچانی جاسکیں کہ یہ باعزت عورتیں ہیں اور کوئی بدکن آدمی ان سے تعرض نہ کرسکے۔ ان کو تکلیف پہنچانے کا یہی مطلب ہے کہ ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرے ، کوئی آوازے نہ کسے۔
پردے کا تفصیلی حکم تو سورة نور میں آ چکا ہے تاہم اس مقام پر نبی کے اہل خانہ کی عزت و احترام کے طور پر ان کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ ازواج مطہرات بالعموم رات کے وقت قضائے حاجت کے لئے گھروں سے باہر جاتی تھیں کیونکہ اس زمانے میں گھروں میں تو اس قسم کا انتظام نہیں ہوتا تھا۔ بعض دیگر ضروریات کے لئے بھی گھر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ چونکہ اس وقت منافق قسم کے لوگوں کی طرف سے کسی تعرض کا خطرہ تھا۔ اس لئے حضرت عمر ؓ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کسی ممکنہ بدسلوکی سے بچنے کے لئے ازواج مطہرات کو باپردہ باہر نکلنا چاہئے۔ چناچہ 5 ھ میں اللہ نے پردے کے یہ احکام نازل فرما دیئے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا اذن لکن ان تخرجن لحوئجکن تم اپنی حاجتوں کے لئے باہر جاسکتی ہو لیکن پردے کے ساتھ تاکہ کوئی بداخلاقی کا واقعہ پیش نہ آئے۔ تو اس سلسلے میں سب سے پہلے امہات المومنین کو خطاب کیا گیا ، پھر نبی (علیہ السلام) کی بیٹیوں کو اور پھر عام مومن عورتوں کو۔
پردے سے متعلق پہلے اسی سورة کے چوتھے رکوع میں گزر چکا ہے کہ ازواج مطہرات گھروں میں رہیں ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی اور جاہلیت اولی کی طرح کھلے عام بےپردہ نہ پھریں۔ اس وقت
1 ؎ مظہری ص 814 ج 7 و در منثور ص 122 ج 5
2 ؎ مظہری ص 914 ج 7 و در منثور ص 112 ج 5
بھی شریف عورتیں جلابیت یعنی بڑی چادریں استعمال کرتی تھیں جس سے سارا جسم ڈھانپ لیا جاتا تھا اور بدن کے نشیب و فراز نظر نہیں آتے تھے۔ برقع بھی اسی مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بہرحال مقصد پردہ ہے خواہ برقع پہن کر ہو یا بڑی چادر لے لی جائے۔
حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ عورت کا سارا جسم ستر ہے۔ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان لوگوں کو متوجہ کرتا ہے۔ لہٰذا عورتوں کو بھڑکیلا لباس پہن کر باہر جانے سیمنع کیا ہے حتیٰ کہ اگر وہ نماز کے لئے بھی جائیں تو سادہ لباس پہن کر نکلیں اور زیور نہ پہنیں ، نہ خوشبو لگائیں ، یہی چیزیں فتنے کا باعث بنتی ہیں۔ لہٰذا ان سے منع کیا گیا ہے۔ عورتوں کی پردہ داری کی خاطر ان پر نہ جمعہ فرض کیا گیا ہے اور نہ عید کی نماز واجب ہے۔ عام نمازوں میں بھی ان کے لئے جماعت کی پابندی نہیں کہ وہ ضرور مسجد میں ہی جا کر نماز ادا کریں۔ ان کو مسجد میں جانے کی صرف اجازت ہے۔ بشرطیکہ راستہ پرامن ہو اور کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔ تاہم عورتوں کے لئے گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ افضل ہے۔
اس آیت سے شیعہ حضرات کے اس غلط نظریہ کی بھی تردید ہوتی ہے کہ حضور ﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی حضرت فاطمہ تھی ؓ ۔ لفظ بنتک جمع کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے کہ حضور ﷺ کی متعدد بیٹیاں تھیں۔ حضور ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں جن کے نام زینب ؓ ، رقیہ ؓ ، ام کلثوم ؓ اور فاطمہ ؓ ہیں۔ شیعہ حضرات کی معتبر ترین کتاب اصول کافی میں بھی چار بنات کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ لہٰذا جو لوگ آپ کی تین بیٹیوں کا انکار کرتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔
پردے کا حکم دراصل انسداد فواحش کے لوازمات میں سے ہے شریعت نے یہ حکم اس لئے دیا ہے تاکہ برائی کا موقع پیدا نہ ہو سکے۔ مثال کے طور پر شریعت نے شراب کو حرام قرار دیا ہے تو اس کی مبادی یعنی کشید کرنا اور اس کی تجارت بھی حرام قرار دے دی ہے تاکہ شراب نوشی کا موقع ہی پیدا نہ ہو۔ اس طرح شریعت نے نکاح کی ترغیب دی ہے تاکہ برائی کی طرف رغبت نہ ہو اور پردے کا حکم دیا ہے تاکہ بےحیائی کے اسباب کو ہی روک لیا جائے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جدید تہذیب کے دلدادہ پردے کو عورت کی حق تلفی قرار دیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ یہ پردہ مضر صحت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عورتوں کو سرعام برہنہ کردیا گیا ہے۔ اب وہ برقع یا بڑی چادر تو درکنار معمولی دوپٹے کو بھی سر پر لینا بار سمجھتی ہیں اور محض گلے میں لٹکا لینا ہی کافی سمجھتی ہیں۔ اس بےپردگی سے یورپی ممالک کی شریف الطبع انگریز بھی نالاں ہوچکے ہیں۔ اب اخلاق بگڑ رہے ہیں اور نسلیں خراب ہو رہی ہیں۔ پچھلی صدی میں ڈاکٹر سپنسر بہت بڑا فلاسفر ہوا ہے ، جس نے جدید تہذیب کے خلاف سخت ریمارکس دیئے تھے۔ کہتا ہے کہ یورپ کی پینتالیس کروڑ کی آبادی میں سے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ پینتالیس بچے بھی حلالی ہوں ، فحاشی کا اس قدر دور دورہ ہے کہ حلال و حرام کی تمیز ہی اٹھ چکی ہے۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے فحاشی سے بچنے کے لئے سخت قانون دیئے ہیں جن کی پابندی سے انسانی اخلاق درست رہ سکتے ہیں اور انسانی سوسائٹی پاک رہ سکتی ہے۔ اسی لئے شریعت نے پردے کے احکام نازل فرما کر عورتوں کے غیرمحرم مردوں سے میل جول بغیر محرم کے سفر کرنے اور کھیل تماشے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اسلام نے تصویر کشی کو بھی اسی لئے حرام قرار دیا ہے کہ یہ فحاشی کے مبادی میں سے ہے۔ چہجائی کہ کہ سٹیج پر نیم برہنہ رقص ہو اور مرد و زن کا عام اختلاط ہو۔
بہرحال شریعت مطہرہ نے پردے کے احکام نازل فرما کر مسلمان سوسائٹی کو ہر قسم کی قباحتوں سے پاک رکھنے کا درس دیا ہے اس کے باوجود اگر کوئی کوتاہی ہوجائے یا خامی رہ جائے تو فرمایا و کان اللہ غفوراً رحیما تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہبران ہے۔ مطلب یہ کہ اگر پردے کے اہتمام کے باوجود کچھ کوتاہی رہ جائے تو اللہ معاف کر دے گا۔ خدا کے قانون یک پابندی کا جذبہ اور اہتمام ہونا چاہئے۔ نیت نیک ہے تو اللہ تعالیٰ بلاوجہ کسی کو ملعون نہیں کرتا اور نہ وہ گرفت کرے گا۔
تعزیری قانون
چونکہ خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات منافقین کی وجہ سے پیش آتے رہتے تھے اس لئے اگلی آیت میں اللہ نے اس قباحت کے لئے تعزیری قانون بھی بیان فرما دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے لئن لم یتنہ المنفقون اگر منافق لوگ ان شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ والذین فی قلوبھم مرض اور وہ لوگ بھی جن کے دلوں میں شہوانی بیماری ہے والمرجفون فی امدینۃ اور شہر میں جھوٹی خبریں پھیلانے والے لنغرینک بھم تو ہم آپ کو ان کے خلاف ابھاریں گے۔ یعنی ایسے لوگوں پر آپ کو غالب کردیں گے۔ آپ ان پر تعزیر لگائیں۔ یا تو وہ شریف شہری بن کر رہیں گے یا پھر مدینہ سے چلے جائیں گے۔ امام ابوبکر حصاص ؓ فرماتے ہیں کہ یہ تعزیری قانون کی طرف اشارہ ہے۔ بعض جرائم کی حدود تو اللہ نے مقرر کردی ہیں کہ اس سے کم یا زیادہ سزا نہیں دی جاسکتی مگر تعزیری قانون میں سزا کی حد بندی نہیں کی گئی بلکہ اے حاکم وقت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ جرم کی نوعیت کے پیش نظر کم و بیش سزا دے۔ تع میرات میں معمولی سزا سے لے کر جرم کے مطابق سزائے موت تک کی سزا دی جاسکتی ہے۔ قاضی مجرم کو قید کی سزا دے سکتا ہے یا ملک بدر کرنے کے احکام جاری کرسکتا ہے یا مجرم کو کوڑے لگوا سکتا ہے۔ یہاں پر مرجفون کا لفظ خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ قوم کی پست حوصلگی کے لئے زمانہ امن و جنگ میں جھوٹی خبریں یعنی افواہیں پھیلانا دشمن کا ہمیشہ سے حربہ رہا ہے۔ یہاں پر چونکہ پردے کے احکام بیان ہو رہے ہیں تو اس مقام پر مرجفون
1 ؎ احکام القرآن للبصاص ص 854 ج 3
سے مراد بےحیائی اور فحاشی کی جھوٹی خبریں پھیلانا بھی ہو سکتا ہے جس سے سوسائٹی میں انتشار پھیلانا مقصود ہو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، اور اگر کوئی ایسا شخص گرفت میں آجائے تو پھر قاضی اپنی صوابدید کے مطابق اسے زیادہ سے زیادہ سزا بھی دے سکتا ہے۔
پھر جب ایسے بدطینت لوگوں کا محاسبہ ہوگا تو فرمایا ثم لا یجاورونک فیھا الا قلیلا تو وہ آپ کے پڑوس یعنی شہر مدینہ میں نہیں رہ سکیں گے۔ مگر بہت کم دنوں تک۔ اس قسم کے بداخلاق لوگ خودبخود شہر سے بھاگ جائیں گے اور سوسائٹی پاک ہوجائے گی۔ فرمایا ملعونین یہ لعنتی لوگ ہیں ، ان پر پھٹکار پڑے گی۔ اینما ثقفوا اخذوا پھر جہاں بھی یہ پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے۔ یہ شہر میں چھپ چھپا کر اپنی قبیح حرکات جاری نہیں رکھ سکیں گے بلکہ قانون کی گرفت میں آئیں گے و قتلوا تقتیلا اور سخت طریق سے مارے جائیں گے ، ایسے لوگ تعزیری لحاظ سے واجب القتل ہیں اور ان کے ساتھ نہایت سختی سے نپٹا جائے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تعزیری طور پر ان کے سر قلم کئے جاسکتے ہیں۔ جو لوگ معاشرے میں فحاشی ، بےحیائی اور بداخلاقی پھیلانے کے مرتکب ہوتے ہیں ، وہ کسی ہمدردی کے لائق نہیں ، انہیں سخت ترین سزا ملنی چاہئے۔
اللہ کا اٹل دستور
ارشاد ہوتا ہے سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل اللہ کا یہ دستور پہلے لوگوں یعنی سابقہ امتوں میں بھی بدستور جاری رہا ہے۔ پہلی شریعتوں میں بھی غنڈے بدمعاش قسم کے لوگوں کی سرکوبی کے لئے قوانین موجود تھے۔ اب آخری شریعت میں بھی اللہ نے یہی قانون رکھا ہے لوگوں کی عزتو ناموس ک یحفاظت ضروری ہے لہٰذا حکومت وقت کو اس کا مناسب انتظام کرنا چاہئے ، صدر ، وزیر اور مشیر بن کر محض دولت جمع کرنا مطمع نظر نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ کارپردازان حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کے مذہب ، اخلاق ، عزت ، کاروبار کی حفاظت کرے ، حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر فرد کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرے تاکہ لوگ گلیوں بازاروں میں بیٹھ کر برائی کی طرف مائل نہ ہوں بلکہ سب اپنے اپنے کام میں مصروف رہیں۔ فرمایا اللہ کا یہ قانون ابتدا سے جاری ہے ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا اور تم اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائو گے۔ اس قسم کے قوانین تورات میں بھی موجود تھے اور قرآن میں بھی ہیں ان پر عمل درآمد کرنا حکومت وقت کے فرائض میں شامل ہے۔
Ayahs 33:63–68گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کے گھر کے آداب اور ازواج مطہرات کے بارے میں احکام بیان فرمائے۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) پر درود وسلام پڑھنے کا مسئلہ بیان کیا۔ اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچانے والوں کو ملعون ٹھہرایا اور انہیں عذاب کا مستحق قرار دیا۔ اسی طرح ایمان دار مردوں اور عورتوں کو تکلیف پہنچانے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ ایسے لوگ بہتان طرازی کرتے ہیں اور بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے ازواج مطہرات ، حضور ﷺ کی بیٹیوں اور عام مومنہ عورتوں کے لئے پردے کا حکم دیا اور غنڈہ گردی کرنے والے منافق قسم کے لوگوں کو تنبیہ کی گئی کہ اگر وہ شرارتوں سے باز نہ آئے تو ان پر تعزیر لگائی جائے گی ، وہ ملعون ہوں گے اور ان کو برے طریقے سے قتل کیا جائے گا۔ فرمایا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ یہ پرانا دستور ہے جو سابقہ انبیاء کے زمانے سے چلا آ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے دستور کو تبدیل نہیں کرتا۔
بعض منافق لوگ قیامت پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے اور اس نظریے کا تمسخر اڑاتے تھے۔ اللہ نے ان کی اس قبیح حرکت کے متعلق فرمایا یسئلک الناس عن الساعۃ اے پیغمبر ! لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی۔ یہ لوگ تو قیامت کا انکار کرتے ھتے مگر جب اللہ کے پیغمبر ان کو قیامت کی ہولناکیوں سے ڈراتے تو پھر استہزاء پچھتے ، اچھا بتایئے قیامت کب آئے گی ؟ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ ان سے کہہ دیں انما علمھا عند اللہ وقوع قیامت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے جو اس نے کسی کو نہیں بتایا۔ ایک روایت میں آتا ہے اما وجب تھا فلا یعلمھا الا اللہ ، یعنی عین وقوع قیامت کی گھڑی کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہ علم اس نے نہ کسی نبی مرسل کو دیا ہے اور نہ ملک مقرب کو۔ البتہ قیامت سے پہلے پیش آنے والے بعض واقعات کا ذکر ضرور کیا ہے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے انا والساعۃ کھتین یعنی میں اور قیامت اس طرح آگے پیچھے آنے والے ہیں جس طرح یہ دو انگلیاں۔ آپ نے دو انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ جس طرح دو انگلیاں متصل ہیں اسی طرح قیامت بھی بالکل قریب ہے ، اب میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کوئی نئی شریعت ، بلکہ اب تو قیامت ہی آنے والی ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کی ہے اقتربت الساعۃ وانشق القمر (القمر۔ 1) قیامت قریب آگئی اور چاند شق ہوگیا۔
شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ منافقوں نے یہ سوال محض ہٹ دھرمی کی بناء پر کیا ہوگا۔ جس چیز کا جواب دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے اس کا بار بار سوال کرنا بےمعنی بات ہے۔ ہاں ! اگر کسی سادہ لوح آدم ینے محض علم حاصل کرنے کے لئے ایسا کیا تو حضور ﷺ نے اسے دوسرے طریقے سے سمجھایا۔ جیسے ایک دیہاتی نے عرض کیا تھا ، حضور ! یہ بتایئے متی الساعۃ
1 ؎ قرطبی ص 842 ج 41
2 ؎ موضح القرآن ص 155
کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا ما اعدت لھا بھلا یہ تو بتائو کہ تم نے قیامت کے لئے تیار کیا کر رکھا ہے ، جو ایسا سوال کرتے ہو۔ مطلب یہ کہ تم نے کون سے نیک اعمال کئے ہیں جن کے صلہ کے لئے قایمت کے منتظر ہو ؟ اس شخص نے عرض کیا ، حضور ! میں نے کوئی زیادہ نمازیں نہیں پڑھیں ، نہ زیادہ روزے رکھے ہیں اور نہ کوئی زیادہ نیکی کے کام کئے ہیں ، البتہ میں اللہ اور رسول کے ساتھ محبت ضرور رکھتا ہوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا انت مع من احببت تم آخرت میں نبی کے ساتھ ہو گے۔ جن کے ساتھ تمہیں محبت ہے ، گویا آپ نے اس شخص کو جنت کی بشارت بھی دے دی۔
اب کے برخلاف جو لوگ طعن وتشنیع کے طور پر ایسے سوال کرتے تھے اللہ نے ان کے رو میں فرمایا وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا آپ کو کیا معلوم شاید کہ قیامت قریب ہی ہو۔ ایک تو قیامت کبریٰ ہے جو پوری کائنات پر یکبارگی وارد ہوگی جب صور اسرافیل پھونکا جائے گا۔ اور اس کے متعلق بھی فرمایا کہ یہ قریب ہی ہے۔ البتہ ایک قیامت صغریٰ بھی ہے جو ہمارے سامنے ہر شخص پر وارد ہوجاتی ہے اور وہ ہر شخص کی انفرادی موت ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے من مات فقد قامت قیامتہ جس کو موت آگئی اس کے لئے تو قیامت واقع ہوگئی۔ قیامت سے مراد جزائے عمل ہے اور یہ ہر شخص کے لئے عالم برزخ میں ہی شروع ہوجاتی ہے ، جب کسی شخص کو قبر میں دفن کردیا جاتا ہے تو فوراً قبر کے سوال جواب شروع ہوجاتے ہیں اور پھر اس اولین امتحان کے نتیجے میں یا تو راحت پہنچنا شروع ہوجاتی ہے یا انسان تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ تو اس لحاظ سے قیامت تو برپا ہوگئی ، لہٰذا اس کے متعلق الٹ پلٹ سوالات کرنا بےمعنی ہے۔
1 ؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ص 432 ج 01 بحوالہ ویلمی عن انس ؓ مرفعاً اس کے بجائے انسان کو اپنی دوسری زندگی کے لئے تیاری کرنا چاہئے تاکہ وہ اس زندگی میں عذاب الٰہی سے بچ جائے۔
اس آیت کریمہ میں ما یدریک کے الفاظ ہیں جس کا معنی ہے کہ آپ کو کس نے بتلایا بعض مقامات پر اسی کے ہم معنی الفاظ ما ادرئک بھی آتے ہیں جیسے سورة القدر میں ہے وما ادرک ما لیلۃ القدر اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس چیز کے متعلق یدرک آتا ہے ، وہاں مذکورہ چیز کو ظاہر نہیں کیا جاتا اور جہاں ادرک استعمال ہوتا ہے وہاں بات کی وضاحت کردی جاتی ہے۔ امام سفیان ابن عینہ جو امام ابوحنیفہ (رح) کے شاگرد اور امام شافعی (رح) کے استاد ہیں ، وہ بھی مذکورہ حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ نے قیام تکے ساتھ یدریک کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس کی تفصیلات نہیں بتائیں مگر لیلۃ القدر کے لئے ادرک استعمال کیا ہے تو آگے کچھ تفصیل بھی بتائی ہے کہ لیلۃ القدر ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے اور اس میں روح الامین اور فرشتے نازل ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
کفار پر لعنت
آگے ارشاد ہوتا ہے ان اللہ لعن الکفرین بیشک اللہ تعالیٰ نے کافروں پر پھٹکار بھیجی ہے ، لعنت کا معنی ہے رحمت سے بعید کردینا سورة بقرہ میں ہے ، جو لوگ کفر کی حالت میں مر گئے اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین (آیت۔ 161) ان پر اللہ ، اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ اس مقام پر فرمایا ہے و اعدلھم سعیرا ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ سعیر جہنم کے ناموں میں ایک نام بھی ہے۔ خلدین فیھا ابدا۔ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ یہ لوگ دنیا میں کفر اور شرک میں مبتلا رہے اور اسی پروگرام کو غالب کرنے کی کوشش کرتے رہے ، ایمان اور توحید کی مخالفت کرتے رہے ، انبیاء کا مقابلہ کیا ، ان پر بےہودہ اعتراضات کئے ، دین کا تمسخر اڑایا اور وقوع قیامت کا انکار کیا ، لہٰذا اب یہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے لا یجدون ولیا ولا نصیرا اور پھر کوئی حمایتی اور مددگار بھی نہیں پائیں گے جو اس اڑے وقت میں ان کی مدد کو پہنچے۔
فرمایا یوم تقلب وجوھھم فی النار جس دن ان کے چہرے دوزخ کی آگ میں اوندھے منہ ڈالے جائیں گے۔ تقلب کا مقطی معنی تع پلٹنا ہوتا ہے۔ تاہم حدیث میں اوندھے منہ گرائے جانے کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس وقت وہ لوگ سخت افسوس کا اظہار کریں گے اور یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا کہیں گے کاش کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی تو کیا اچھا ہوتا اور آج ہم اس سزا میں گرفتار نہ ہوتے ، اس وقت تاسف کریں گے کہ ہم نے دنیا کی زندگی کو یونہی برباد کردیا اور آخرت کے لئے کچھ سامان نہ کیا۔ اگر ہم نے اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانا ہوتا تو آج یہ روز بد دیکھنا نصیب نہ ہوتا ، مگر اس دن ان کا افسوس کسی کام نہ آئے گا اور انہیں عذاب الٰہی کا مزا چکھنا پڑے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ مجرم لوگ یہ بھی کہیں گے و قعالوا ربنا انا اطعنا سادتنا و کبراء نا اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی۔ دنیا میں ان کے کہنے پر چلتے رہے فاضلونا السبیلا پس انہوں نے ہمیں صراط مستقیم سے بہکا کر غلط راستے پر ڈال دیا۔ سردار اور بڑے حکومت کے آدمی بھی ہو سکتے ہیں اور مذہبی پیشوا بھی جو قوم کی صحیح راہنمائی نہیں کرتے۔ وہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے لوگوں سے من مانی کرواتے رہتے ہیں اور ایمان و توحید کی بجائے کفر اور شرک کا درس دیتے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) کا مقابلہ کرنے والے اور ان کی تذیب کرنے والے اکثر بڑے لوگ ہی ہوتے ہیں ، دولت مند ، ملوک ، سردار ، چودھری اور سرمایہ دار لوگ ، لوگوں کو سبز باغ دکھا کر اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں اور پھر نہ صرف ان کی دنیا بلکہ عاقبت بھی خراب کردیتے ہیں۔ اس دن لوگ اپنے بڑوں اور پیشوائوں کی شکایت کریں گے ، مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، میں نے تمہیں انسان بنایا تھا ، عقل فہم اور شعور عطا کیا تھا۔ مگر تم بغیر سوچے سمجھے لیڈروں اور مذہبی پیشوائوں کے پیچھے چلتے رہے۔ وہ تمہیں عیاشی اور فحاشی کا سبق دیتے رہے ، شرکیہ اور بدعلیہ امور کا ارتکاب کراتے رہے۔ مشرک مولوی لوگوں سے جھنڈے بازی اور قمقمے بازی پر ہی مال خرچ کراتے رہے اور عوام کو بیوقوف بناتے رہے اس دن افسوس کا اظہار کریں گے کہ ہم نے ان لیڈروں کو ووٹ دے کر ممبر بنایا۔ مگر انہوں نے ہمیں غیراسلامی نظام دے کر برباد کردیا۔ ہم نے پیر ، مولوی اور بزرگ سمجھ کر اپنا ایمان تک ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ مگر انہوں نے ہمیں جہنم کے راستے پر ڈال دیا۔ اس دن لوگ اپنے پیشوائوں کو خطا بکر کے کہیں گے انکم کنتم تاتوننا عن الیمین (الصفت۔ 82) تم ہمارے دائیں بائیں سے آ کر ہمیں سبزباغ دکھاتے تھے ، وہ آگے سے جواب دیں گے کہ تم خود اس وقت سوچتے کہ تم کدھر جا رہے ہو۔ تم آنکھیں بند کر کے ہمارے پیچھے چلتے رہے ، لہٰذا اس گمراہی کے تم خود ذمہ دار ہو۔
جب مجرم لوگ ناامید ہوجائیں گے تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کریں گے ربنا اتھم ضعفین من العذاب اے ہمارے پوردگار ان پیشوائوں کو دگنا عذاب دے کیونکہ یہ خود بھی گمراہ تھے اور ہمیں بھی گمراہ کرتے رہے والعنھم لعنا کبیرا اور ان پر بڑی لعنت بھیج۔ مگر اللہ فرمائے گا کہ تم سب تابع اور متبوع پر ڈبل عذاب ہوگا کیونکہ جس طرح انہوں نے تمہیں گمراہ کیا تھا ، اسی طرح تم نے بھی آگے لوگوں کو گمراہ کیا۔ لہٰذا ایک سزا تمہیں گمراہ ہونے کی ملے گی اور دوسری سزا دوسروں کو گمراہ کرنے کی ملے گی۔ اس طرح جاہل پیر اور مرید دوہری سزا میں مبتلا کئے جائیں گے۔
Ayahs 33:69–71گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی ایذارسانی سے منع فرمایا تھا کہ ایسا کرنے والے لعنتی ہیں ، اسی طرح کسی عام مومن مرد یا عورت کو تکلیف پہنچانا بھی ناجائز اور سخت گناہ کی بات ہے۔ پھر اللہ نے اہ لایمان کو خبردار کیا کہ وہ منافقوں ، مشرکوں اور یہود و نصاریٰ کی طرح اللہ کے نبی کے متعلق کوئی ایسی بات زبان پر نہ لائیں جو آپ کے لئے اذیت کا باعث ہو۔ اگر کوئی مومن ایسا کرے گا تو اس کے ایمان میں خلل واقع ہوجائے گا لہٰذا ایسی بات سے پرہیز کرنا چاہئے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذارسانی
اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے اور مومنوں کو خبردار کیا ہے کہ تم بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح اپنے پیغمبر کی ایذاء رسانی کا باعث نہ بننا۔ جن لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ستایا وہ بھی ملعون ٹھہرے اور مستحق عذاب ہوئے ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا لاتکونوا کالذین اذوا موسیٰ اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ستایا۔ ان پر طعن وتشنیع کی اور طرح طرح کے عیب لگائے فبراہ اللہ مما قالوا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو بری کردیا ان باتوں سے جچو وہ لوگ کستے تھے۔ و کان عنداللہ وجیھا اور موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ کے نزدیک بڑی وجاہت والے یعنی باعزت تھے۔ آپ اللہ کے عظیم الشان رسول اور صاحب کتاب نبی تھے ، اور اس کے ساتھ اللہ نے آپ کو خلافت بھی بخشی۔
حضور ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں کسی قدر مماثلت پائی جاتی ہے کہ ان کی قموں نے اپنے جلیل القدر رسولوں کو کس طرح ستایا اور ذہنی کوفت پہنچائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے دیکھا۔ کہ ایک شخص حضور ﷺ سے کہہ رہا ہے یا محمدا عدل۔ اے محمد ﷺ ! انصاف کرو۔ مال غنیمت تقسیم ہو رہا تھا تو اس شخص نے اعتراض کیا کہ مال کی تقسیم صحیح طریقے سے نہیں ہو رہی ہے۔ یہ سن کر حضور ﷺ کو سخت پریشانی ہوئی۔ غصے سے آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔ اس وقت آپ نے فرمایا رحم اللہ موسیٰ لقد
1 ؎ ابن کثیر ص 125 ج 3 و قرطبی ص 052 ج 41 و مظہری ص 223 ج 7
اوذی باکثمن ھذا فصبر اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی مگر انہوں نے صبر کیا۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ میں بھی ایذاء رسانی پر صبر کا مظاہرہ ہی کروں گا۔ بہرحال حضور ﷺ نے اس معترض کو جواب دیا لقد خبت فان لم اعدل فمن یعدل
اے شخص ! تو یہ بات کر کے ناکام ہوگیا۔ اگر میں بھی انصاف نہیں کروں گا تو پھر اور کون انصاف کے تقاضے پورے کرے گا ؟ آپ نے مزید فرمایا کہ آسمان والے تو مجھے امین سمجھتے ہیں اور تم مجھے بددیانت سمجھ رہے ہو ، بڑے افسوس کا مقام ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس شخص کے پیروکاروں میں سے ایسے لوگ نکلیں گے جو دین سے اس طرح طرح خارج ہوجائیں گے جیسے تیر شکار میں سے نکل جاتا ہے۔ تو فرمایا تم اپنے نبی کو ایسی اذیت نہ پہنچانا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچائی گئی۔
عبادت گریز
موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسانی کی ایک مثال سورة المائدہ میں موجود ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے وطن شام و فلسطین کو آزاد کرانے کے لئے وہاں پر آباد کافر لوگوں کے ساتھ جہاد کرو ، اللہ تمہیں فتح عطا کرے گا۔ مگر قوم کہنے لگی کہ اے موسیٰ ! ان فیھا قوما حبارین (آیت۔ 42) لہٰذا تم اور تمہارا خدا دونوں جا کر اس قوم سے جنگ کرو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے ، اس صاف انکار سے موسیٰ (علیہ السلام) کو سخت کوفت ہوئی۔ انہوں نے اللہ کے حضور عرض کیا ، مولا کریم ! اس ناہنجار قوم پر میرا بس نہیں چلتا ، میں تو صرف اپنے بھائی کو ہی کہہ سکتا ہوں ، لہٰذا تو ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان فیصلہ کر دے۔ اللہ نے فرمایا ، اچھا ! یہ سرزمین شام و فلسطین ان لوگوں پر حرام کردی گئی ہے۔ اب یہ چالی سسال تک سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ اس عرصہ میں اس نسل کے اکثر لوگختم ہوجائیں گے تو یہ سرزمین اگلی نسل کو منتقل کروں گا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ مطلب یہ کہ قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی اور خود بھی خدا کی طرف سے معتوب ہوئے۔
جسمانی عیب کا شاخسانہ
صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نہایت حیادار آدمی تھے جب آپ غسل فرماتے تو سخت پردے کی حالت میں تاکہ کسی شخص کی نظر آپ کے برہنہ جسم پر نہ پڑے۔ اس سے مخالفین نے یہ پراپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ آپ کا جسم عیب دار ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے جسم کے کسی حصہ کو ظاہر نہیں ہونے دیتے۔ بعض کہتے کہ آپ کو ادرہ کی بیماری ہے جس سے جسم کے فوطے پھول جاتے ہیں۔ یہ بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے تکلیف دہ بات تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اتہام سے بری قرار دینے کے لئے یہ سبب پیدا کیا کہ ایک دفعہ آپ نے پتھروں کے درمیان تنہائی میں غسل کرنے کے لئے کپڑے اتار کر پتھر پر رکھ دیئے۔ اتنے میں اللہ کا حکم ہوا تو پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا۔ آپ بھی اس کے پیچھے پیچھے دوڑے حتیٰ کہ وہ پتھر لوگوں کی مجلس کے قریبجا کر رک گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کپڑے لینے کے لئے برہنگی کی حالت میں ہی وہاں پہنچ گئے ، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو سمجھ گئے کہ آپ کا جسم بالکل بےداغ ہے اور اس طرح اللہ نے آپ کو اس اتہام سے چھٹکارا دلایا۔
بدکاری کا الزام
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں آتا ہے کہ جب آپ نے اپنی قوم کے صاحب حیثیت لوگوں کو زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے کہا تو وہ بگڑ گئے۔ ان میں قارون سب سے پیش پیش تھا جس کے پاس بیشمار دولت تھی اور اس کی زکوٰۃ
1 ؎ بحوالہ ابن کثیر ص 025 ج 3 و معالم التنزیل ص 581 ج 3 و مظہری ص 124 ج 7
کی مقدار بھی اچھی خاصی بنتی تھی۔ اس شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کا ایک منصوبہ بنایا اور اس کام کے لئے ایک فاحشہ عورت کو لالچ دے کر اپنا آلہ کار بنایا۔ ایک موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) مجمع کے سامنے بدکاری کی مذمت بیان کر رہے تھے تو اس فاحشہ عورت نے سرعام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے میرے ساتھ بدکاری کی ہے لہٰذا بدکار ی کی سزا سب سے پہلے ان کو ملنی چاہئے۔ اس اتہام سے موسیٰ (علیہ السلام) کو سخت ذہنی اذیت پہنچی۔ تاہم آپ نے لوگوں کے سامنے اس عورت کو قسم دلائی کہ اس وحدہ لا شریک کی قسم اٹھا کر بات کرنا جس نے سمندر کو پھاڑ کر اسرائیلیوں کو پار کردیا اور فرعونیوں کو اسی سمندر میں غرق کردیا اور جس خداوند تعالیٰ نے تورات جیسی عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ، اس خدا کی قسم اٹھا کر بتائو کہ کیا تمہارا الزام درست ہے وہ عورت مرعوب ہوگئی ، اور اس نے اقرار کیا کہ اسے قارون نے پیسے دے کر یہ الزام لگانے پر آمادہ کیا تھا ، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں قارون کے حق میں بددعا کی تو اللہ نے اس سے سخت انتقام لیا۔ سورة القصص میں ہے فخسفنا بہ وبدارز الارض (آیت۔ 18) ہم نے اس کو خزانوں سمیت اور اس کی رہائش گاہ کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے الزام لگا کر آپ کو اذیت پہنچائی گئی مگر اللہ نے آپ کو ہر اتہام سے بری کیا۔
اہل ایمان کو تلقین
تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تنبیہہ کی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح تم بھی اپنے نبی کی شان میں کوئی گستاخی نہ کر بیٹھنا کہ آپ کو تکلیف پہنچے آپ کی ذات پر بھی لوگ طرح طرح کے اعتراض کرتے تھے پیچھے گزر چکا ہے کہ منافقوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آ پنے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ، بعض آپ پر تعدد ازواج کی وجہ سے عیاشی کا الزام لگاتے تھے جس سے آپ کو سخت اذیت پہنچتی تھی۔ سورة بقرہ میں ہے کہ یہودی لوگ آپ کے لئے راعنا کے لفظ کو بگاڑ کر راعینا کہہ کر پکارتے تھے جس کا معنی چرواہا ہوتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ کی ذات مبارکہ کے لئے یہ لفظ سرے سے استعمال ہی نہ کیا کرو ولا تقولوا رعنا و قولوا انظرنا بلکہ اس کے بجائے افظرنا کا لفظ استعمال کیا کرو تاکہ کسی بگاڑ کا احتمال ہی باقی نہ رہے۔ اس سورة کی ابتداء میں بھی اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) ، آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کے گھر کے آداب بیان کئے ہیں تاکہ آپ کی شان اقدس میں کسی ممکنہ کمی کے تمام دروازے بند ہوجائیں اور آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر اتہام سے پاک قرار دیا۔
قول سدید کی ترغیب
آگے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے ایک اور قانون بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھالذین امنواتقوا اللہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جائو و قولوا قولا سدیدا اور ہمیشہ سیدھی بات کہو۔ ظاہر ہے کہ اگر سیدھی اور سچی بات کرو گے تو اس میں اذیت کا کوئی امکان نہیں ہوگا اور اگر الٹی پلٹی باتیں کرو گے تو نبی کو تکلیف پہنچنے کا احتمال ہوگا۔ مفسر عکرمہ (رح) سے منقول ہے کہ قول سدید سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ قول سدید ہر سچی بات کا نام ہے ، ہر بات واقعہ کے مطابق ہونی چاہئے۔ اپنی زبان سے کوئی غلط ، غلیظ اور جھوٹی بات مت نکالو۔ شرک کی بات ، گالی گلوچ ، کفر ، نفاق وغیرہ قول سدید کے منافی ہیں۔ لہٰذا ایسی کوئی با ت نہیں ہونی چاہئے حضور ﷺ نے زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کا خاص طور پر حکم دیا ہے۔ گناہ اور بےاحتیاطی کی باتوں سے منع فرمایا ہے ، غرضیکہ فرمایا کہ ہمیشہ سیدھی بات کرو۔
سچائی کا فائدہ
فرمایا اگر تم زبان کی حفاظت کرو گے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا۔ یصلح لکم اعمالکم اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو سنوار دے گا۔ درست
1 ؎ ابن کثیر ص 125 ج 3 و معالم التنزیل ص 581 ج 3 و قرطبی ص 352 ج 41
کر دے گا۔ ویغفرلکم ذنوبکم اور تمہارے گاہوں کو معاف فرما دے گا۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دنیوی اور اخروی سارے کام درست ہوں گے۔ آخرت میں انسان کے اعمال اللہ کے ہاں مقبول ہو کر اس کی نجات کا ذریعہ بنیں گے اور وہ رحمت کے مقام میں پہنچیں گے اور دنیا میں اس کے حالات درست رہیں گے ، ہمیشہ سچائی کا ہی بول بالا ہوتا ہے۔ کوئی شخص تاجر ہے ، ملازم ہے ، کارخانہ دار ہے یا مزدور ہے ، وہ جس مقام پر بھی ہے۔ اگر درست بات کرتا ہے اور اپنی زبان سے کوئی غلط بات نہیں کرتا تو دنیا میں بھی اس کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ لوگوں میں عزت بڑھے گی اور لوگ اس پر اعمتاد کرنے لگیں گے۔ اور پھر ساتھ ساتھ اللہ نے گناہوں کی معافی کا ذمہ بھی لے لیا ہے۔ جب انسان خود اپنے اعمال اور زبان کو درست رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اسکی چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو خود ہی معاف کرتا رہے گا اور اس طرح وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے گا۔
اطاعت کا اصول
آگے اللہ نے ایک اصولی بات بھی بتا دی ہے ومن یطع اللہ و رسولہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اور اس کے احکام کی تعمیل کرے گا۔ زبان کی سچائی اور اعمال کی درستگی بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تحت ہی ہوگی۔ لہٰذا فرمایا فقد فاز فوزا عظیما ایسے شخص کو یقینا کامیابی حاصل ہوگی۔ کامیابی کا مدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے جس نے اس کو اختیار کرلیا۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہوگا۔ اس کی دنیوی زندگی بھی پاکیزہ ہوگی اور آخرت میں تو یقینا نجات حاصل ہوجائے گی جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیابی ہے۔ اللہ کی رحمت کے مقام پر پہنچنے سے بڑی کوئی کامیابی نہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے اطاعت گزاروں کو حاصل ہوگی۔
1 ؎ موضح القرآن ص