Ayah 33:35ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے نبی علیہ الصلوٰۃ واسلام کے اسوہ حسنہ کا ذکر فرمایا اور ان مومنین کی تعریف فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں ، یوم آخرت پر ان کا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے وعدے پر مکمل یقین کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے سچے لوگوں کی سچائی کا اجر اور منافقین کے انجام کا ذکر بھی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں سزا دے دے یا اگر چاہے تو انہیں توبہ کی توفیق دے کر ان کا انجام بھی بہتر کر دے۔
پھر گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کا ذکر فرمایا اور نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ آپ ان سے برملا کہہ دیں کہ اگر تم دنیا کا مال و دولت اور زینت چاہتی ہو تو آئو میں تمہیں اچھے طریقے سے رخصت کر دوں اور گر تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی تلاش ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لئے اجر عظیم بھی موجود ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات کے مرتبہ کے پیش نظر ان کو حکم دیا کہ وہ زمانہ جاہلیت کی طرح بےپردہ باہر نہ نکلیں اور اپنے بنائو سنگھار کا اظہار نہ کریں بلکہ شریفانہ طریقے پر اپنے گھروں میں قیام کریں کہ اسی میں ان کی عزت و آبرو ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں اسی طریقہ سے پاک و صاف رکھنا چاہتا ہے۔
اب آج کی آیت میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کا اکٹھا ذکر کر کے ان کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں اور انہیں اجر عظیم کی بشارت بھی سنائی گئی ہے احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی موقع پر ازواج مطہرات اور بعض دوسری مومن عورتوں نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مردوں کا ذکر خیر تو کثرت سے کیا ہے مگر عورتوں کی خیر و خوبی کا ذکر بہت کم ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس میں مردوں اور عورتوں
1 ؎ ابن کثیر ص 784 ج 3
کا اکٹھے ذکر فرمایا اور انہیں اچھے انجام کی خوشخبری سنائی۔ ویسے عام طور پر جب یا ایھا الذین امنوا سے خطاب کیا جاتا ہے تو مخاطبین میں مرد اور عورتیں دونوں اصناف شامل ہوتی ہیں۔ تاہم ان کا علیحدہ ذکر بھی موجود ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورتوں اور مسلمان مردوں کی جن صفات کا تذکرہ کیا ہے وہ اسلام کی بنیادی قدریں (BASIC VALUES OF ISLAM) ہیں جن کو اپنانے سے انسان ترقی کی منازل طے کرسکتا ہ۔ اس آیت سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ قانون کی پابندی اور محنت و کوشش جس طرح مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں کے لئے بھی لازمی ہے اور اس ضمن میں دونوں یکساں ہیں۔ مذکورہ صفات پیدا کر کے مرد ہو یا عورت کامیابی حاصل کرسکتا ہے البتہ دونوں اصناف کے دائرہ کار مختلف ہیں۔ دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر ترقی کرسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مصداق بن سکتے ہیں۔
مسلمان مرد و زن
ارشاد ہوتا ہے ان المسلمین والمسلمت بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں۔ اسلام ایک ایسی چیز ہے ، جس کا تعلق ظاہر سے ہے۔ یعنی اسلام سے مراد وہ اعمال ہیں جو نظر آتے ہیں۔ حدیث جبرئیل میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے ایمان ، اسلام اور احسان کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اسلام کے متعلق فرمایا ان تشھد ان لا الہ الا اللہ و ان محمد رسول اللہ و تقیم الصلوٰۃ و تولی الزکوٰۃ و تصوم رمضان و تحج البیت ان استطعت الیہ سبیلا کہ اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی وحدانیت اور حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی دے ، نماز پڑھے زکوٰۃ ادا کرے ، رمضان کے روزے رکھے اور اگر
بخاری ص 21 ج 1
توفیق ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔ جب کوئی شخص یہ اعمال انجام دیتا ہے تو دوسرے دیکھ کر کہتے ہیں کہ یہ شخص مسلمان ہے۔
اہل ایمان مرد و زن
پھر فرمایا والمومنین والمومنت اور ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں ایمان کا تعلق تصدیق قلبی کے ساتھ ہے جو نظر نہیں آتی۔ اسی حدیث جبریل میں حضور ﷺ نے ایمان کی تعریف یہ فرمائی ان لومن باللہ و ملئکتہ و کتبہ و رسلہ والیوم الاخر و تو من بالقدر خیرہ و شرہ کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ، آخرت کے دن پر ایمان لائے اور خیر و شر کی تقدیر کو حق جانے۔ گویا ایمان کا تعلق دل کی تصدیق سے ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کا ذکر کیا ہے ، جو مذکورہ صفات کے حامل ہیں۔
اطاعت گزار مرد و زن
آگے فرمایا والقنتین والقنتت اور اطاعت کرنے والے مرد اور اطاعت کرنے والی عورتیں۔ قنوت کا معنی اپنی رضا ورغبت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی اطاعت کو قبول کرنا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کی اطاعت کا دم بھر لیتا ہے تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ مطاع کے ہر حکم کی تعمیل بھی کرے۔ تو قانتین اور قانتات کا یہی مطلب ہے کہ ایسے مرد و زن جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرنے والے ہوں اور کسی حیلے بہانے سے اس کی اطاعت سے باہرنہ نکلیں۔ دیگر احکام الٰہی کی تکمیل کے ساتھ ساتھ پوری دلجمعی اور اطمنان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا بھی اطاعت میں شامل ہے۔
سچے مرد و زن
پھر فرمایا والصدقین والصدقت اور سچے مرد اور سچی عورتیں اس سے مراد وہ مرد و زن ہیں جو زندگی کے ہر موڑ پر سچائی کو اپنا شعار بنا لیں۔ سچ کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ نیت ، عقیدے اور ارادے میں سچے ہونا ، اعمال و کردار اور اخلاق میں سچے ہونا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہو توخلوص نیت کے ساتھ سچائی پر مبنی ہو اور اگر عام لوگوں کے ساتھ کوئی معاملہ کیا جائے تو وہ کامل سچائی کے ساتھ ہو کسی کے ساتھ جھوٹ ، دھوکہ اور فریب نہ ہو ، زبان وہی کچھ بولے جو ضمیر صحیح طریقے سے جانتا ہو اور ہر کام ایمانداری اور راستی اور صداقت کے مطابق ہو اللہ نے اس مقام پر ایسے ہی مردوں اور عورتوں کا ذکر کیا ہے۔
اللہ نے فرمایا والصبرین والصبرت اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ، صبر بھی ملت ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے۔ انسانی زندگی کے کسی مرحلہ پر بھی اس کا دامن نہیں چھوٹنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کئے بغیر کوئی کام بھی کماحقہ انجام نہیں پا سکتا۔ وضو کرنے میں سردی یا گرمی کی شدت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ نماز خصوصات تہجد کی نماز کیلئے صبر و برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم گرما کے طویل روزے محض صبر کے ذریعے ہی رکھے جاسکتے ہیں۔ ارکان حج کی ادائیگی میں بھی مشقت اٹھانے پر صبر درکار ہوتا ہے اور پھر جہاد میں جان کی بازی لگاتے وقت بھی صبر و ہمت ہی کلیہ کامیابی ہوتی ہے۔ کوئی حادثہ پیش آجائے ، پریشانی لاحق ہوجائے ، قحط پڑجائے ، وبا پھیل جائے ، زلزلہ آجائے ، جنگ لگ جائے ، مال و جان کا نقصان ہوجائے یہ سب چیزیں صبر کی متقاضی ہیں۔ ان تکالیف کو منجانب اللہ سمجھتے ہوئے صبر کا اظہار کرے۔ اللہ پر مکمل بھرسہ رکھے کہ مصیبت کو دور کرنے والا وہی ہے۔ جزع فزع کرنے کی بجائے صبر سے کام لے۔ اس سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے۔ ان الانسان خلق ھنوعا (المعارج۔ 091) انسان بےصبرا پیدا کیا گیا ہے مگر بےصبری کا نتیجہ ہمیشہ خراب ہوتا ہے۔ اللہ نے صبر کرنے والوں کے متعلق فرمایا و بشرالصبرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون (البقرہ۔ 551۔ 651) کہ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ جو اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی کامیابی کی گارنٹی دی ہے۔
عاجز مرد و زن
آگے فرمایا والخشعین والخشعت اور عاجزی کرنے والے مرد ار عاجزی کرنے والی عورتیں۔ اللہ کے سامنے خشوع یعنی عاجزی کا اظہار کمال درجے کی صفت ہے اور ہر انسان سے مطلوب ہے اللہ نے اپنے انبیاء کے متعلق بھی فرمایا ہے خشعین للہ واللہ کے حضور نہایت عاجزی اور نیاز مندی کا اظہار کرتے ہیں۔ ویسے عام انسانوں کے ساتھ بھی خشوع کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ غرور وتکبر سے پیش نہیں آنا چاہئے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے ان تواضعوا ولا یفخر بعضکم علی بعض ہر ایک کے ساتھ تواضع سے پیش آئو اور ایک دوسرے کے سامنے بڑائی کا اظہار نہ کرو کہ یہ ناپسندیدہ فعل ہے۔ بہرحال اس مقام پر اللہ نے عاجزی کرنے والے مردوں اور عاجزی کرنے والی عورتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
سخی مرد و زن
آگے فرمایا والمتصقین والمتصدقت اور صدقہ خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ خیرات کرنے والی عورتیں۔ اللہ کی راہ میں غربائ ، مساکین ، یتامیٰ ، بیوگان کی مالی اعانت اور کمزور طبقات کی دستگیری بھی ملت کا اہم اصول ہے بھوکے کو کھانا کھلانا ، ننگے کو کپڑا پہنانا ، بیمار کا علاج ، تعلیمی اخراجات پورے کرنا اور دیگر جائز ضروریات کے لئے مال خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ان الصدقۃ لتطفیء غضب الرب و تدفع میتۃ السوء یعنی صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے اور بری موت کو دفع کرتا ہے حضور ﷺ کے بعض صحابہ کا بیان ہے کہانوں نے رسول اللہ ﷺ سے
1 ؎ مستدرک حاکم ص 5 ج 2
2 ؎ مسند احمد ص 332 ج 4
سنا ان ظل المومن یوم القیمۃ صدقتہ یعنی قیامت کے دن مومن آدمی پر اس کے صدقہ کا سایہ ہوگا۔
روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں
آگے اللہ نے روزے دار مردوں اور روزے دار عورتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ والصائمین والصئمت روزے میں رمضان کے فرض اور دیگر ایام میں نفلی روزے شامل ہیں۔ روزہ رکھنا بھی اسلام کی بنیادی قدروں میں شامل ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اے ایمان والو ! کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم (البقرۃ۔ 381) تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلی امتوں پر۔ مطلب یہ کہ اس فریضہ کو بوجھ نہ سمجھو بلکہ بخوشی انجام دو اور پھر اللہ نے اس کا اجر بھی بڑا رکھا ہے۔ حدیث قدسی میں اللہ کا فرمان ہے الصوم لی و انا اجزی بہ میرا بندہ خالص میرے لئے روزہ رکھتا ہے اور اس کی جزا بھی میں اپنی مرضی کے مطابق دوں گا۔ حضور کا یہ بھی فرمان ہے ہ جنت کے ایک دروازے کا نام باب الریان ہے جس میں سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے۔
محافظین نامو مرد و زن
پھر فرمایا والحفظین فروجھم والحافظت اور اپنے ناموس کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔ اللہ نے پاکباز مردوں اور عورتوں کا ذکر فرمایا کہ ناموس کی حفاظت بھی اسلامی قدروں میں سے ہے۔
سورۃ المومنون میں اللہ نے کامیابی حاصل کرنے والے مومنوں کی بعض صفات کا ذکر کیا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے والذین ھم لفروجھم حفظون (آیت۔ 5) یعنی وہ جو اپنے ناموس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ھمردوں کے ساتھ فروجھم کا لفظ استعمال کیا ہے مگر
1 ؎ مسلم ص 363 ج 1
عورت کی اس قدر پردہ داری مقصود ہے کہ اس کے لئے صرف حفظت کا لفظ آیا ہے ، یہاں فروجھن کو خذف کردیا گیا ہے۔ اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کے حق میں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے۔ پردہ کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ولا تنظر الی فخذ حی و میت کسی زندہ یا مردہ کی ان کی طرف بھی دیکھنا حرام ہے چہ جائیکہ کوئی مرد و زن زنا یا لواطت میں مبتلا ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے حفاظت ناموس کو بھی اسلامی اقدار میں داخل کیا ہے اور اس کی پابندی کرنے والے مردوں اور عورتوں کی تعریف فرمائی ہے۔
ذاکرین مرد و زن
اور اپنے بندوں کی دسویں صفت اللہ نے یہ بیان کی ہے والذین اللہ کثیر والذکرت اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں۔
حصن حصین والے بزرگ حضرت جزری (رح) لکھتے ہیں کل مطیع للہ فھو ذکر جو شخص اللہ کی اطاعت کے کام میں مصروف ہے ، وہ اللہ کو یاد کرنے والا ہے۔ ویسے ہر شخص کے لئے زبانی ذکر ہی آسان ترین ذکر ہے باقی عبادات کی تو مقدار مقرر ہے ، مگر ذکر کی کوئی حد نہیں مقرر کی گئی ، کوئی جس قدر چاہے اللہ کا ذکر کرسکتا ہے۔ آگے اسی سورة میں آ رہا ہے یایھا الذین امنوا ذکروا اللہ ذکر کثیرا (الاحزاب۔ 14) اے ایمان والو ! اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص رات کو اٹھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے۔ پھر وہ دونوں نماز ادا کرتے ہیں تو ان کا نام ذاکرین اور ذاکرات کے رجسٹر میں درج ہوجاتے ہیں فرمایا یہ مرتبہ اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک آدمی کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہر حالت میں ذکر کرنے والا نہ بن جائے۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کان
1 ؎ ابودائود ص 102 ج 32
2 ؎ حصن حصین
3 ؎ ابودائود ص 4 ج 1
کہ حضور ﷺ تمام حالات میں اللہ کا ذکر کرتے رتے تھے… ذکر سے مراد تلاوت قرآن ، تسبیح و تقدیس کے کلمات ، درود پاک ، استغفار اور دیگر اور اد ہیں۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ انسان کو اس قدر کثرت سے ذکر الٰٓہی کرنا چائے کہ اس کی توجہ ہر وقت اسی طرف مبذول رہے۔ اللہ نے ذکر کو کامیابی کا زینہ بھی قرار دیا ہے۔ سورة الجمعۃ میں فرمایا واذکرو اللہ کثیر لعلکم تفلحون (آیت۔ 10 ) اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ عذاب سے نجات دلانے والی چیزوں میں اللہ کے ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں۔
بخشش اور اجر عظیم
ان دس بنیادی قدروں اور ان کے حاملین کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا اعداللہ لھم مغفرۃ و اجر عظیما اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ بخشش سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ صفات کے حاملین کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف کر دے گا اور اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ اس آیت کریمہ میں مردوں ار عورتوں کو اکٹھا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا جن لوگوں میں یہ اسلامی قدریں پائی جائیں گی خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ، سب کو انعامات سے نوازا جائے گا۔ بحیثیت انسان مرد بھی کمال حاصل کرسکتے ہیں اور عورتیں بھی اس میں مرد و زن کی کوئی تخصیص نہیں کی۔
Ayahs 33:36–37گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی ان صفات کا ذکر کیا جن کے ذریعے وہ کمال حاصل کرسکتے ہیں اور ان صفات کو اسلام کی بنیادی قدریں قرار دیا اس سے پہلے اللہ نے ازواج مطہرات کی حیثیت اور مرتبے کو بیان فرمایا اور ان کی کوتاہیوں پر تنبیہ فرمائی۔ پیشتر ازیں غزوہ خندق کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی۔ اس سے بھی قبل اللہ نے نبی (علیہ السلام) کے حقوق کا ذکر کیا اور امت کو خبردار کیا کہ نبی کے اعزازو اکرام کو ملحوظ خاطر رکھیں اور قول و فعل سے کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اللہ کے نبی کو اذیت پہنچے۔ اب آج کی آیات میں بھی یہی مضمون مختلف انداز میں بیان ہوا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے وما کان لمومن ولا مومنۃ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں اذا قضی اللہ و رسولہ امرا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا حتمی فیصلہ کردیں ان تکون لھم الخیر من امرھم تو ان کے پاس کوئی اختیار باقی رہ جائے۔ مطلب یہ کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد و زن کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ اپنی مرضی سے ایسے فیصلے قبول کرلے یا رد کر دے۔ بلکہ اسے تو ہر حالت میں اللہ اور نبی کے فیصلے کو برحق جان کر اس پر عمل کرنا ہوگا۔ و من یعص اللہ و رسولہ اور جو شخص اللہ اور رسول کے خلاف کرے گا فقد ضل ضللا مبینا تو وہ صریح گمراہی میں جا پڑا۔ اسے فلاح نصیب نہیں ہو سکتی۔
شان نزول
شان نزول کے اعتبار سے یہ آیات حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے بارے میں ہیں۔ حضرت زید کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ درس 2 میں اللہ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ منہ بولے بیٹے کو اس کے حقیقی باپ کی طرف سے منسوب کر کے پکارو۔ اور اگر اس کے باپ کا اتہ پتہ معلوم نہ ہو تو اسے اپنا بھائی یا رفیق کہہ کرپکارو۔
حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کو منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور لوگ انہیں زید ابن محمد کہہ کر بلاتے تھے مگر مذکورہ آیات کے نزول کے بعد انہیں زید بن حارثہ کہا جانے لگا۔
درس نمبر 2 میں ہی یہ تفصیل بھی بیان ہوچکی ہے کہ حضرت زید ؓ کو حضرت خدیجہ ؓ نے عکاظ کی منڈی سے بطور غلام خریدا تھا۔ پھر جب آپ کا نکاح حضور ﷺ کے ساتھ ہوگیا تو انہوں نے یہ غلام حضور ﷺ کو ہبہ کردیا تھا۔ اس کے بعد حضرت زید ؓ کے والد اور چچا کو آپ کا علم ہوا تو و آپ کو لینے کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معاوضہ ادا کر کے بچے کو لے جانا چاہا۔ مگر آپ نے فرمایا کہ اگر یہ خود جانا چاہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر زید ؓ نے حضور کے اخلاق کریمانہ کی بدولت آپ کے ہاں سے جانے کا انکار کردیا۔ اس پر حضور ﷺ نے اعلان فرما دیا کہ آج سے میں نے زید ؓ کو آزاد کردیا ہے اور یہ میرا منہ بولا بیٹا ہے۔ اس اعلان پر حضرت زید ؓ کے والد اور چچا خوش ہو کر واپس چلے گئے۔
زید ؓ کا نکاح زینب ؓ سے
حضرت زید ؓ کے حضرت زینب ؓ سے نکاح کے متعلق بھی درس نمبر 2 میں اشارتاً ذکر آ چکا ہے۔ جب حضرت زید ؓ آزاد ہوگئے تو حضور ﷺ نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب ؓ کو منتخب فرمایا۔ انکی والدہ کا تعلق تو قریش خاندان سے تھا مگر وہ بنی اسد کے خاندان میں بیاہی ہوئی تھیں اور وہ بھی عربوں کا ایک معزز خاندان تھا ، ادھر زید ؓ ایک آزاد شدہ غلام تھے ، اس لء نہ تو خود زینب اس رشتے پر رضامند ہوئیں اور نہ ان کے بھائی عبداللہ بن حجش ؓ کو یہ بات پسند آئی ، لہٰذا انہوں نے یہ رشتہ منظور نہ کیا ، مگر اس سلسلہ میں شاید اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ اور مصلحتیں بھی تھیں۔ خاندانی غرور وتکبر کو ختم کرنا بھی مقصود ہوتا ہے جہاں تک کفر کا تعلق ہے ، یہ بھی کوئی فرض واجب تو نہیں ہے۔ ایک متدین آدمی خواہ کمزور خاندان سے تعلق رکھتا ہو۔ اعلیٰ خاندان کی عورت کا کفو بن سکتا ہے اور پھر حضرت زید ؓ سے بڑا متدین کون وہ سکتا تھا جو غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے اور حضور ﷺ کو سراپا اطاعت گزار ، وفادار ، سلیم الفطرت اور کمال درجے کی نیکی کے مالک تھے۔
زید ؓ اور زینب ؓ میں عدم مفاہمت
بہرحال جب اس رشتہ کے سلسلہ میں حضرت زینب ؓ اور ان کے بھائی راضی نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما دیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کرلیں تو پھر کسی مومن مرد اور مومن عورت کو اختیار نہیں رہتا کہ وہ اس فیصلہ کو تسلیم نہ کریں اور اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا تو صریح گمراہی میں جا پڑے گا۔ ان آیات کے نزول پر حضرت زینب ؓ اور ان کے بھائی عبداللہ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا یہ فیصلہ ہے کہ یہ نکاح ہوجانا چاہئے ، لہٰذا ان دونوں نے بلا پس و پیش یہ رشتہ قبول کرلیا اور اس طرح حضرت زید ؓ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوگیا۔
یہ آیت کریمہ اگرچہ شان نزول کے لحاظ سے حضرت زید ؓ کے نکاح کے ضمن میں نازل ہوئی مگر اس کا اطلاق اللہ اور رسول کے ہر قسم کے احکام پر ہوتا ہے اور کسی بھی فیصلے کی خلاف ورزی کا کسی مومن کو اختیار نہیں اور جو ایسا کرے گا وہ گمراہی میں جا پڑیگا۔ اس قانون کے پیش نظر اگر ہم آج کے معاشرے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا۔ کہ بہت ہی کم لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر چلتے ہیں ، وگرنہ اکثر لوگ نافرمانی کے کاموں میں ہی لگے ہوئے ہیں اور ہر معاملے میں احکام شریعت کو پس پشت ڈال کر مان مانی کر رہے ہیں۔ بیاہ شادی کا معاملہ ہو ، کوئی کھیل تماشے کی بات ہو یا کاروباری معاملات ہوں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ موجود ہے مگر اس کے باوجود ہم اس کی طرف توجہ کرنے کی بجائے غلط رسم و رواج کے پیچھے چل رہے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کو ہی اپنے لئے باعث عزت سمجھتے ہیں۔
بہرحال اس آیت کریمہ کے حکم کے مطابق حضرت زید ؓ کا نکاح حضرت زینب ؓ سے ہوگیا مگر ان دونوں کے مزاج میں ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی۔ حضرت زید ؓ دھیمے مزاج کے آدمی تھے۔ اس کے برخلاف حضرت زینب ؓ کے مزاج میں تیزی تھی۔ حضرت زینب ؓ ایک نیک سیرت خاتون تھیں اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں جب حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگی تو بعض مخلص مسلمان مرد اور عورتیں بھی غلط پراپیگنڈا کا شکار ہوگئیں۔ ان میں حضرت زینب ؓ کی بہن بھی شامل تھیں اور ان پر حد بھی جاری کی گئی۔ مگر جب اس تہمت کا ذکر حضرت زینب ؓ کے سامنے کیا گیا تو انہوں نے کان پکڑ لئے اور کہنے لگیں ، پناہ بخدا ! بھلا ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے ام المومنین عائشہ ؓ کی تعریف کی اور انہیں اس الزام سے بری الذمہ قرار دیا۔ بایں ہمہ آپ کے مزاج میں حدت تھی۔ لہٰذا حضرت زید ؓ کے ساتھ نباہ نہ ہوسکا۔ بات بات پر الجھائو پیدا ہونے لگا۔ تو حضرت زید ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں ان حالات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ہم میاں بیوی کے مزاج میں مطابقت پیدا نہیں ہوسکی۔ لہٰذا میں اسے طلاق دے دینا چاہتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ ہرچند حضرت زید ؓ کو سمجھاتے رہے کہ جلدی نہ کرو اور حتی الامکان نباہ کی کوشش کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں اسی بات کا ذکر کیا ہے و اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ
اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے۔ اس سے مراد حضرت زید ؓ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ احسان کیا کہ دشمنوں سے ان کی جان کی حفاظت کی۔ غلامی کی حالت میں حضرت خدیجہ ؓ جیسی نیک خاتون کی خدمت میں پہنچایا اور پھر حضور ﷺ کے سایہ عاطفت میں پہنچا دیا۔ اللہ نے یہ بھی احسان فرمایا کہ انہیں غلامی سے آزادی دلائی۔ حضور ﷺ کا منہ بولا بیٹا بنا دیا۔ اسلام کی دولت عطا فرمائی۔ غرضیکہ اس پر اللہ تعالیٰ کی کتنی مہربانی تھی۔ نیز فرمایا و انعمت علیہ اور آپ نے بھی اس پر احسان کیا ، یہ حضور ﷺ کا زید ؓ پر احسان تھا کہ آپ کی اچھے طریقے سے پرورش کی ، آزاد کر کے بیٹا بنا لیا ، پھر خاندان قریش میں اپنی پھوپھی زاد سے نکاح کرا دیا اور ہر طریقے سے آپ کا خیال رکھا۔
تو فرمایا کہ جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ اور اس کے رسول نے انعام کیا اسلک علیک زوجک اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو ، طلاق دینے کا ارادہ نہ کرو واتق اللہ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو معمولی معمولی باتوں کو برداشت کرو اور کسی ممکنہ جھگڑے کی صورت میں خاموشی اختیار کرلیا کرو تاکہ بات بڑھنے نہ پائ۔ غرضیکہ حضور ﷺ کی ہرچند کوشش تھی کہ یہ نکاں قائم رہے اور طلاق تک نوبت نہ آئے۔ اللہ نے اس بات کا یہاں ذکر کیا ہے۔
حضور ﷺ کے دل میں خلش
اللہ نے فرمایا کہ اس وقت کو بھی یاد کرو وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ اور آپ اپنے جی میں و بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا ہے و تخشی الناس اور آپ لوگوں سے خوفزدہ ہو رہے تھے واللہ احق حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
حضور ﷺ کے دل میں کون سی بات تھی۔ جس سے آپ ڈر رہے تھے اور جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنا چاہتا تھا ؟ اس ضمن میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حضور علیہ لاسلام کو اللہ نے بذریعہ وحی بتلا دیا تھا کہ زید ؓ اور زینب ؓ کا نباہ نہیں ہو سکے گا اور بالآخر ان میں علیحدگی ہوجائے گی اور زینب ؓ کو اللہ تعالیٰ آپ کی زوجیت میں دے
1 ؎ تفسیر عثمانی ص 945
دے گا۔ آپ کو اس بات کا خوف تھا کہ اس بارے میں لوگ کیا کہیں گے کہ جو نکاح انہوں نے زور دے کر کرایا تھا سا میں نباہ نہ ہوسکا اور بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ کو یہ بھی خلش تھا کہ حضرت زینب ؓ کو ان کی مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کیا گیا۔ اس کے بعد اگر نوبت طلاق تک آگئی تو ایک آزاد کردہ غلام سے طلاق کا داغ قریش خاندان کی ایک عورت پر لگ جائے گا۔ یہ چیز حضور کے لئے تکلیف دہ تھی کہ اس طرح زینب ؓ کی پوزیشن معاشرے میں خراب وہ جائے گی یہ چیز تھی جس کا حضور ﷺ کو خوف تھا مگر اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والا تھا۔
بالآخر حضور ﷺ کافی غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ، کہ زینب ؓ کی دل شکنی کی تلافی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ اگر زید ؓ اسے طلاق دے دے تو میں خود اس سے نکاح کرلوں گا۔ اس طرح زینب ؓ کو نبی کی زوجیت کا شرف حاصل ہوجائے گا اور طلاق کے صدمہ کو بھول جائے گی۔ پھر آپ کو یہ بھی خیال آتا تھا کہ اگر میں نے زینب ؓ سے نکاح کرلیا تو لوگ پھر اعتراض کریں گے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح کرلیا ہے ، اور اس بات کو عرب لوگ ناجائز سمجھتے تھے۔ ان حالات میں کافروں ، مشرکوں اور منافقوں۔ نیز یہودو نصاریٰ کی طرف سے تکلیف دہ پراپیگنڈہ کا خطرہ بھی تھا ، لہٰذا آپ خوف محسوس کر رہے تھے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
زید ؓ سے طلاق اور حضور سے نکاح
بالآخر وہی بات ہوئی جس کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ جب حضرت زید ؓ اور زینب ؓ میں مفاہمت کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو انہوں نے ضحرت زینب ؓ کو طلاق دے دی۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فلما قضی زید منھا و طرا پس جب حضرت زید ؓ نے حضرت زینب ؓ سے اپنی غرض کو پورا کرلیا یعنی کچھ عرصہ ازدواجی زندگی کے طور پر گزار لیا تو اللہ نے فرمایا زوجنکم تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کرا دیا ، اور اس سے مقصود آپ کے دل کی خلش کو دور کرنا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ متبنی کی مطلقہ سے نکاح کرلیا ہے۔ لکی لا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائھم اذا قضوا منھن و طرا تاکہ اہل ایمان پر اس بات میں کوئی حرج نہ ہو کہ وہ اپنے نہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرلیں جبکہ موخر الذکر ان سے اپنی غرض پوری کر چکیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے متبنی کی بیوی سے نکاح کو صراحت کے ساتھ قرار دیا اور اس طرح مخالفین کے گمراہ کن پراپیگنڈا کا رد بھی ہوگیا۔ فرمایا و کان امر اللہ مفعولا اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صاولی طور پر متبنی کی مطلقہ سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور حضرت زینب ؓ کا نکاح بھی آپ سے ہونا اللہ کی مشیت میں ہے اور ہو کر رہے گا۔ الغرض ! جب حضرت زید ؓ نے حضرت زینب ؓ کو طلاق دے دی تو بعداز تکمیل عدت حضور ﷺ نے ان کو اپنی زوجیت میں لے لیا۔
Ayahs 33:38–40ربط آیات
جب حضور ﷺ نے حضرت زید ؓ کی مطلقہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کرلیا تو کفار و منافقین نے طعنے دینے شروع کردیئے کہ آپ نے اپنی بہو سے نکاح کرلیا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا تھا حتیٰ کہ وہ وراثت میں بھی حقدار ہوتا تھا اور اس کی بیوی سے نکاح بھی ناجائز تصور ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو واضح کیا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا لہٰذا اسے اس کے حقیقی باپ کے نام سے پکارا کرو۔ اور اگر اس کے باپ کا علم نہ ہو تو اسے اپنا بھائی اور رفیق کہہ کر بلا لیا کرو۔ البتہ اس کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئو اور ہو سکے تو اس کے ساتھ احسان کرو۔ البتہ اس پر حقیقی بیٹے والے احکام لاگو نہیں ہوتے۔
اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے گشزتہ آیات میں اس مسئلہ کو واضح کیا اور پھر حضور ﷺ کو اس معاملہ میں جس طعن وتشنیع کا خطرہ تھا اس کے متعلق تسلی دی کہ آپ لوگوں کی طرف سے خوف نہ کھائیں بلکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ جب حضرت زید ؓ کی غرض حضرت زینب سے پوری ہوگئی تو انہوں نے طلاق دے دی تو اللہ نے زینبؔ کا نکاح آپ سے کرا دیا تاکہ اہل ایمان کے دلوں میں منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔ جب ایسی مطلقہ کی عدت گزر جائے تو ایمان والوں کو ایسی عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ نہ تو متبنی پر حقیقی بیٹے کے احکام لاگو ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی بیوی حقیقی بہو شمار ہوتی ہے۔
نبی (علیہ السلام) کیلئے تسلی
آج کی پہلی دو آیات میں بھی تسلی کا مضمون ہی بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ماکان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ اللہ کے نبی کے لئے اس چیز میں کوئی حرج نہیں ہے جو اس نے اپنے نبی کے لئے مقرر کردی ہے۔ مطلب یہ کہ جائز کام کو انجام دینے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرنی چاہئے اور لوگوں کے اعتراضات اور طعن وتشنیع کو خاطر میں نہیں لانا چاہئے۔ فرمایا سنۃ اللہ فی الذین خلو من قبل یہ پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں اللہ کا دستور ہے۔ پہلے ادوار میں بھی لوگ انبیاء (علیہم السلام) پر اسی طرح اعتراض کیا کرتے تھے مگر انہوں نے جائز کام کو کرنے میں کسی پس و پیش کا اظہار نہیں کیا بلکہ ایسے کام بےدھڑک کر گزرے۔ آج لوگ تعدد ازواج پر اعتراض کرتے ہیں کہ ایک مرد کو چار عورتیں رکھنے کی اجازت کیوں ہے۔ حالانکہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی سو سے بھی زیادہ بیویاں تھیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بھی متعدد بیویاں تھیں اور ان سے اولاد بھی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی جائز کردہ چیز پر طعن کرتا ہے تو کرتا رہے ، آپ اس کی قطعاً پرواہ نہ کریں اور اپنا کام کرتے جائیں۔ فرمایا و کان امر اللہ قدرا مقدورا اور اللہ کا معاملہ تو ٹھہرایا ہوا ہے۔ اس میں کون دخل اندازی کرسکتا ہے ؟
فرمایا الذین یبلغون رسلت اللہ و یخشونہ اللہ کے نبی جو اس کے پیغامات لوگوں تک پہنچاتے ہیں ، وہ اسی سے ڈرتے ہیں۔ ولا یخشون احدا الا اللہ اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ ان کو صرف اسی بات کا خوف رہتا تھا کہ کہیں اللہ کی نافرمانی کا کوئی کام نہ ہوجائے۔ اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے وئے فرمایا و کفیٰ باللہ حسیبا اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کفایت کرنے والا۔ مطلب یہ کہ معترضین کے طعن وتشنیع کا توڑ اللہ ہی کرے گا وہ ایسے لوگوں کو ذلیل و خوار کر کے چھوڑے گا۔
بعض چیزوں کے جواز کا محض حکم دے کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور بعض جائز امور پر اللہ تعالیٰ لوگوں سے عمل کروا کر اس کے جواز کو مزید پختہ کردیتا ہے۔ اس
1 ؎ البحر المحیط 232 ج 7 و زادلمسیر ص 392 ج 6
معاملہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے متبنی کی بیوی سے نبی کا نکاح کروا کے اس کے خلاف باطل نظریہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرو دیا۔ اسی طرح حج کی ادائیگی میں باطل رسوم کے در آنے کو اللہ نے ان کے خلاف عمل کروا کے ہمیشہ کے لئے ختم کردیا۔
مردوں کے باپ ہونے کی نفی
اگلی آیت میں حضور ﷺ کی خصوصی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے پہلے ادوار میں تو یکے بعد دیگرے انبیاء (علیہم السلام) آتے رہتے ہیں۔ مگر حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا ، اللہ نے اپنے آخری نبی کے ذریعے وہ تمام حکام نازل کردیئے جو قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لئے کارآمد ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ماکان محمد ابا احد من رجالکم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔
رجل کا اطلاق بالغ مرد پر ہوتا ہے مطلب یہ کہ آپ کسی بالغ مرد کے باپ نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کی اولاد نرینہ میں سے کوئی بچہ بھی سن بلوغت کو نہیں پہنچا بلکہ وہ بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ بچوں میں سب سے پہلے قاسم پیدا ہوئے جو دو سال کی عمر میں فوت ہوگئے۔ پھر عبداللہ جن کا لقب طیب اور طاہر تھا۔ وہ بھی بچپن ہی میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ تیسرے بیٹے ماریہ قبطیہ کے بطن سے ابراہیم تھے جنہوں نے صرف سولہ ماہ عمر پائی۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حضور ﷺ کے بالغ مردوں کے باپ ہونے کی نفی کی ہے۔ جہاں تک حضرت زید ؓ کا تعلق ہے تو وہ بالغ ہوء اور ان کی شادی بھی ہوئی۔ مگر وہ حقیقی بیٹے تو نہیں تھے۔ اسی لئے تو ان کی مطلقہ سے آپ کا نکاح بھی بالکل جائز تھا ، مگر منافقین ، یہود و نصاریٰ اور کفار نے خواہ مخواہ کا شور مچایا۔
ختم نبوت کا مسئلہ
فرمایا حضرت محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ولکن رسول اللہ بلکہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں۔ ہاں ! اللہ کا رسول روحانی طور پر ساری امت کا باپ ہوتا ہے۔ خود حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ انا
1 ؎ سنن ابی دائود بحوالہ عثمانی ص 245
لکم بمنزلہ الوالد میں تمہارے لئے بمنزلہ باپ کے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شفیق باپ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرتا ہے ، اسی طرح میں بھی تمہاری تربیت کرتا ہوں۔
فرمایا ، میں اللہ کا رسول بھی ہوں اور ساتھ ساتھ و خاتم النبیین تمام نبیوں کو ختم کرنے والا بھی ہوں۔ یہ لفظ خاتم اور خاتم دونوں طرح آتا ہے مگر دونوں کا معنیٓ ایک ہی ہے یعنی ختم کرنے والا۔ خاتم مہر کو کہتے ہیں ، اس لئے امام ابن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ بمنزلہ مہر کے ہیں۔ جب کسی چیز یا سلسلے کو بند کردیا جاتا ہے تو اس پر مہر لگ دی جاتی ہے تاک کوئی مزید چیز اس میں داخل نہ ہو سکے۔ اللہ نے انبیاء کی بعثت کا سلسلہ بھی ختم کر کے اس پر حضور ﷺ کے ذریعے مہر لگا دی ہے تاکہ کوئی اور شخص انبیاء کی جماتع میں داخل نہ ہو سک۔ شاہ عبدالقادر (رح) بھی یہی ترجمہ کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول اور سب نبیوں پر مہر ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اللہ نے سلسلہ نبوت آپ پر ختم کردیا ہے۔ اور اگر خاتم بطور فاعل لیا جائے تو معنی ختم کرنے والا ہوگا۔۔ مطلب وہی ہے کہ آپ سب کے آخر میں تشریف لائے اور آپ کے ذریعے سلسلہ نبوت ختم ہوگیا۔ بخاری شریف کی روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی و سیکون خلفاء یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔۔ بلکہ خلفاء ہوں گے جو نیابت کا فریضہ انجام دیں گے۔ خلفاء میں سے اچھے بھی ہوں گے اور برے بھی مگر نبی کوئی نہیں ہوگا۔۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میری مثال ایک قصر کی ہے جو مکمل ہوچکا ہے مگر ایک اینٹ کی جگہ پر ہونا باقی ہے۔ لوگ دیکھ کر تعجب کرتے ہیں کہ محل تو بڑا عالیشان ہے۔ مگر
1 ؎ ابن حریر طبری ص 61 ج 22
2 ؎ بخاری
3 ؎ ابن کثیر ص 394 ج 3 و درمنثور ص 404 ج 5
اس کی دیوار میں ایک اینٹ کی کمی ہے۔ فرمایا ، اسی طرح اللہ نے نبوت کا بھی ایک قصر تیار کیا ہے ، اور ایک اینٹ کی جو جگہ خالی تھی ، میں نے اگر اس کو پر کردیا ہے اب قصر نبوت مکمل و چکا ہے ، لہٰذا کوئی اور نبی نہیں آء گا۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان لرسلۃ والنبی بعدی و لا رسول اب میرے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ رسول۔ اللہ نے مجھے سب انبیاء و رسل کے بعد بھیجا ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی امت کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا ختم لی النبیون اللہ نے میری وجہ سے نبیوں کو ختم کردیا ہے۔ موطا شریف میں یہ روایت بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا انا العاقب میں عاقب یعنی سب سے آخر میں آنے والا ہوں لیس بعدہ نبی جس کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ایک روایت میں عاقب کے ساتھ مکفی کا لفظ بھی آتا ہے۔ میں عاقب اور مکفی ہوں جس کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے کہ میں آخر الانبیاء ہوں یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا و انتم اخر الامم اور تم آخری امت ہو۔ اب تمہارے بعد کوئی امت بھی نہیں ہوگی۔
غزوہ تبوک کے موقع پر ضور (علیہ السلام) نے حضرت علی ؓ کو مدینہ میں اپنی نیابت کے لئے چھوڑ دیا تو انہوں نے عرض کیا ، حضور ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرت کہ انت منی بمنزلۃ ھرون من موسیٰ
1 ؎ ابن کثیر ص 292 ج 3
2 ؎ ابن کثیر ص 394 ج 3
3 ؎ ابن کثیر ص 494 ج 3 و معالم التنزیل ص 871 ج 3
4 ؎ ابن ماجہ ص 5 من المعانی 23 ج 22
تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی نیابت ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) نے انجام دی تھی الا انہ لا نبی بعدی فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے بعد تو اور بھی نبی آئے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ کی تعریف میں حضور ﷺ کے یہ کلمات بھی ہیں لو کان بعدی نبیا لکان عمر اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ؓ ہوتا۔ آپ نے اپنے فرزند ابراہیم ؓ کے متعلق بھی فرمایا کہ اگر وہ زندہ ہوتا تو نبی ہوتا یعنی اللہ نے اس میں بڑی صلاحیت رکھی تھی ، مگر میرے بعد تو نبوت کا دروازہ ہی بند ہوچکا ہے۔
جھوٹے مدعیان نبوت
اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کے ان واضح فرمودات کے باوجود آپ کے بعد بہت سے لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ خود حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس دجال اور کذاب آئیں گے ، ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ مگر میں تو خاتم النبیین ہوں لا نبی بعدی میرے بعد کوئی سچا نبی نہیں آئے گا ، جو بھی دعویٰ کرے گا ، وہ جھوٹا ہوگا۔۔ جھوٹے مدعیان نبوت میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے تو حضور ﷺ کی زندگی مبارک میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ مسیلمہ کذاب حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کے دوران مارا گیا۔ اس شخص کا اپنا بہت بڑا قبیلہ تھا ، پھر اس نے دوسروں کو بھی ساتھ ملا لیا اور بہت بڑا دجل پیدا ہوا۔ آخر مارا گیا تو یہ فتنہ ختم ہوا۔ صحابہ کرام ؓ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کافر اور واجب القتل ہے۔ چناچہ مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ لڑی گئی۔ مورخین کے مطابق یہ اتنا بڑا فتنہ تھا کہ اسے فرو کرنے میں گیارہ سو حفاظ اور قاری شہید ہوئے تھے ، اور دونوں طرف سے چالیس ہزار آدمی کام آئے تھے۔
1 ؎ درمنشور ص 404 ج 5
2 ؎ ترمذی ص 323
امام ابوحنیفہ کے زمانے میں دوسری صدی میں بھی ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ار کہا کہ میں نبوت کے ثبوت میں معجزہ بھی پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اس شخص کے متعلق شرح فقہ اکبر میں امام صاحب کا یہ فتویٰ موجود ہے کہ جو شخص اس جھوٹے مدعی نبوت کا معجزہ دیکھنے کی خواہش ظاہر کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا۔ جب حضور ﷺ نے واضح کردیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ تو پھر کسی جھوٹے نبی کا معجزہ دیکھنے کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ حضور کی ختم نبوت میں شک ہے اور اسی وجہ سے امام صاحب نے ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ لگایا۔
قادیانی فتنہ
مرزا غلام احمد قادیانی کا معاملہ بھی مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جیسا ہی ہے بابک خرمی اور متبنی بھی مدعیان نبوت ہوئے ہیں۔ جنوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اسی طرح اس شخص نے بھی بڑا دجل پھیلایا اور بہت سے لوگ اس کے جھانسے میں آگئے۔ دجال کی یہ واضح نشانی ہے کہ وہ متضاد باتیں کرتا ہے۔ جب ایک بات کہہ کر پھنس گیا تو پھر دسوری کردی۔ مرزا قادیانی نے بھی یہی کچھ کیا۔ پہلے نبوت کا دعویٰ کیا۔ جب اس پر اعتراضات کی بوچھاڑ آئی تو کہنے لگا کہ میں ظلی نبی ہوں کبھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ مسیح موعود نے عیس ابن مریم (علیہ السلام) ۔ حضور ﷺ کی احادیث کے پیش نظر ساری امت کا اتفاق ہے کہ مسیح (علیہ السلام) دوبارہ دنیا پر نازل ہوں گے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت حضور ﷺ کے بعد نہیں بلکہ چھ سو سال پہلے ہے۔ جب وہ دنیا میں دو بار آئیں گے تو نبی کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ حضور ﷺ کے نائب کی حیثیت سے آئیں گے۔ جیسے امت کا کوئی مججدد ہوتا ہے وہ اپنا دستور تو نہیں چلائیں گے بلکہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی سنت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب پر ہی عمل کریں گے۔ اللہ نے ان کو ایک خاص مصلحت یعنی دجال کو قتل کرنے کے لئے آسمان پر زندہ رکھا ہے۔
بہرحال اللہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لہٰذا زید ؓ کے بھی باپ نہیں ہیں۔ البتہ ساری امت کے روحانی باپ اور اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے جاہلیت کے باطل نظریے کو رد کردیا۔ و کان اللہ بکل شیء علیما سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزی کرے گا وہ ہمیشہ کے لئے غائب و خاسر بن جائے گا۔
Ayahs 33:41–44ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے نکاح سے متعلق فرمایا کہ کسی مومن مرد و زن کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی منشاء کے خلاف اپنی مرضی چلانے ، پھر اللہ تعالیٰ نے زید ؓ پر کئے گئے انعامات کا ذکر کیا۔
پھر حضرت زید ؓ اور زینب ؓ کے درمیان طلاق اور حضور ﷺ کے ساتھ حضرت زینب ؓ کے نکاح کا ذکر کیا۔ پھر اللہ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ اس ضمن میں مخالفین کے پراپیگنڈا کو خاطر میں نہ لائیں۔ یہ نکاح ہم نے خود کرایا ہے تاک اہل ایمان ر یہ مسئلہ واضح ہوجائے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے نکاح بالکل درست ہے فرمایا یہ دستور سابقہ ادوار سے چلا آ رہا ہے اور اللہ نے اپنے انبیاء کے لئے جو چیز مباح قرار دی انہوں نے اس پر عمل کرنے میں کسی ملامت کنندہ کی پرواہ نہیں کی وہ خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ حضور ﷺ تم میں سے کسی مرد بشمول حضرت زید ؓ کے باپ نہیں ہیں ، بلکہ آپ تو تمام انبیاء اور رسل کے خاتم ہیں۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا ، نہ کتاب اور نہ کوئی نئی شریعت ، لہٰذا جاہلیت کی رسوم کو ختم کرنے کے لئے ضروری تھا کے آپ کے ذریعہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح عملی طور پر پیش کردیا جائے تاکہ آئندہ کے لئے یہ باقی لوگوں کے لئے دستور العمل بن جائے۔
ذکر الٰہی کی فضیلت
چونکہ کافر ، مشرک اور منافق اسلام اور اللہ کے نبی کے خلاف غلط پراپیگنڈا کرتے تھے جس سے حضور ﷺ اور اہل ایمان کو سخت ذہنی پریشانی ہوتی تھی ، تو اس پریشانی کا حل اللہ نے یہ تجویز فرمایا۔ یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا اے ایمان والو ! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔ اگر مخالفین بیہودہ باتیں اور طعنہ زنی کرتے ہیں تو تم اس کا ترکی بہ ترکی جواب نہ دو بلکہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرو کہ اس میں تمہارا فائدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادات کے لئے خاص اوقات اور خاص مقدار مقرر فرمائی ہے مگر ذکر الٰہی ایک ایسی عبادت ہے جس کی کوئی تحدید نہیں ہے۔ اس کے لئے نہ کوئی وقت مقرر ہے ، نہ جگہ اور نہ مقدار جس وقت ، جہاں چاہو اور جتنا چاہو اللہ کا ذکر کرسکتے ہو۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ
1 ؎ ابودائود ص 4 ج 1
حضور ﷺ کان یذکر اللہ فی کل احیانہ یعنی آپ (علیہ السلام) تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ اللہ کا ذکر اس کثرت سے کرو کہ لوگ ت میں دیوانہ کہنے لگیں۔ اور کثرت ذکر کا حق اس وقت ادا ہوگا۔ جب کوئی شخص کھڑے بیٹھے اور لیٹے بھی اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ جب اس کی یہ حالت ہوجائے گی تو وہ ذاکرین اللہ کثیر والذکرت میں شمار ہونے لگے گا۔
اللہ کا فرمان ہے کہ جو شخص مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی سا کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور جو شخص کسی مجلس میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر جماعت میں کرتا ہوں۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشد ہے کہ عذاب الٰہی سے نجاتدلانے والی چیزوں میں ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ عذاب الٰہی سے نجات دلانے والی چیزوں میں ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ صحابہ کرام ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی ہر مجلس کی ابتدا بھی اللہ کے ذکر سے ہوتی تھی اور انتہا بھی ذکر الٰہی پر ہوتی تھی۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھتا ہے اور وہاں اللہ کا ذکر نہیں کرتا (بعض روایات میں درود شریف کے متعلق بھی آتا ہے) تو وہ مجلس اس شخص کے لئے قیامت والے دن باعث مسرت ہوگی۔ اس دن کف افسوس ملے گا کہ وہ فلاں مجلس میں نہ اللہ کا ذکر کرسکا اور نہ اس کے نبی پر درود پڑھ سکا۔ گویا ذکر الٰہی سے محروم رہنے والے لوگ نقصان میں رہیں گے۔
سورۃ الجمعہ میں اللہ تعالیٰ کچا ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز ادا کر چکو تو زمین میں پھیل جائو اور حلال روزی تلاش کرو واذکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون (آیت۔ 01) اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب
1 ؎ ابن کثیر ص 594 ج 3 و درمنثور ص 504 ج 5
2 ؎ مستدرک ص 055 ج 1 و مشکوٰۃ 891 ج 1
ہو۔ فرمایا مخالفین کی تکلیف دہ باتوں کا جواب ذکر الٰہی سے دو کہ یہ چیز تمہارے لئے تقویت کا باعث بنے گی کیونکہ اللہ کا فرمان ہے الا بذکر اللہ تطمئن القلوب (الرعد۔ 82) آگاہ رہو کہ دل کا سکون اللہ کے ذکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے ذکر الٰہی سے انسان کی غفلت دور ہوتی ہے اور اسے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے ، گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔
تسبیح کی تاکید
فرمایا ، ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرو و سبحوہ بکرۃ و اصیلا اور اس کی تسبیح بیان کرو صبح کے وقت بھی اور پچھلے پہر بھی تسبیح کا معنی تنزیہہ ہے یعنی اللہ کی ذات ہر عیب ، نقص اور ضعف سے پاک ہے جب کوئی شخص اپنی زبان سے سبحان اللہ ادا کرتا ہے تو اس کا عقیدہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہ اس ذات خداوندی پر ایمان رکھتا ہے ، جس کی ذات ہر عیب اور آلودگی سے پاک ہے۔
تسبیح خدا تعالیٰ کی بہترین تعریف ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس سے فجر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے من صلی البر دین دخل الجنۃ جو شخص ان دو نمازوں کی پابندی کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اور اسے اللہ کا دیدار نصیب ہوگا۔۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم مغلوب نہ ہو ان دو نمازوں پر مداومت اختیار کرو۔
بعض فرماتے ہیں کہ تسبیح سے مطلقاً ذکر مراد ہے ، ذکر سے تو انسان کا کوئی لمحہ بھی خالی نہیں ہونا چاہئے۔ مگر یہ دو واقعات ایسے ہیں جن میں اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ نماز فجر ار عصر کے وقت فرشتوں کی ڈیوٹیاں تبدیل ہوتی ہیں۔ ان اوقات میں لوگوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت اللہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرنا چاہئے تاکہ فرشتے اللہ کے حضور جا کر گواہی دے سکیں
1 ؎ بخاری ص 18 ج 1
2 ؎ روح المعانی ص 24 ج 22
کہ مولا کریم ! ہم تیرے بند کو اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ تیرے ذکر میں مصروف تھا۔
رحمت خداوندی کا نزول
فرمایا ، خدا تعالیٰ کی ذات رحیم و کریم ہے ھو الذین یصلی علیکم جو تم پر رحمت نازل کرتا ہے و ملئکتہ اور اس کے فرشتے بھی صلوٰۃ کا معنی دعا ہے اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف لی جاتی ہے تو مطلب نزول رحمت ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ تم پر رحمت نازل فرماتا ہے ، لہٰذا تم اس کی خوشنودی کے کام انجام دو جن کی وجہ سے اس کی رحمت زیادہ سے زیادہ تمہایر طرف متوجہ ہو۔ نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کا خیال رکھو ، اخلاق حسنہ اپنے اندر پیدا کرو ، ذکر کی کثرت رکھو ، خدا اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل کرو برائیوں سے اجتناب کرو تو رحمت خداوندی تمہایر طرف متوجہ ہوگی۔
اگر صلوٰۃ کی نسبت فرشتوں کی طرف کی جائے تو معنی نزول رحمت کی دعا ہوگا۔۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے تمہارے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ فرشتے چونکہ مستجاب الدعوات ہوتے ہیں اس لئے ان کی دعا یقینا قبول ہوتی ہے گویا فرشتے بھی نزول رحمت کا باعث بنتے ہیں۔
ظلمت سے نور کی طرف
فرشتوں کی دعا اور خدا تعالیٰ کی نزول رحمت کا مقصد اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے لیخرجکم من الظلمت الی النور تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ اگر تم اس نعمت سے واقعی مستفید ہونا چاہتے ہو تو اللہ کا کثرت سے ذکر کرو۔ مفسرین کرام اس کی تفسیر یوں بھی کرتے ہیں کہ اللہ تمہیں کفر سے نکال کر ایمان کی طرف اور معصیت سے نکال کر اطاعت کی طرف اور بدعت سے نکال کر سنت کی طرف لے جانا چاہتا ہے
1 ؎ احکام القرآن للجصاص ص 163 ج 3
2 ؎ زادالمسیر ص 893 ج 6
مجمع البیان والے اس کا مطلب اس طرح بیان کرتے ہیں کہ خداوند قدوس تمہیں جالت سے نکال کر معرفت کی طرف ، نفاق سے نکال کر اخلاص کی طرف لاتا ہے۔ کفر ، شرک ، نفاق ، بدعت ، معصیت سب اندھیرے ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان میں روحانی تاریکی پیدا ہوتی ہے ، جو دلوں ، دماغوں اور روحوں میں چھا جاتی ہے جب تک انسان ان چیزوں سے توبہ نہ کرے وہ حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ یہ سب ناپاک چیزیں ہیں اور باطنی طہارت اس وقت نصیب ہوتی ہے جب کوئی شخص خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرے اور اس میں جذبہ اطاعت موجود ہو۔ تو فرمایا کہ خدا تعالیٰ نزول رحمت فرماتا ہے ، فرشتے اس کے لئے دعائیں کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے۔
فرمایا و کان بالمومنین رحیما اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ بڑا مہربان ہے۔ اہل ایمان پر اس کی خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اپنے فضل و کرم سے اللہ تعالیٰ ان کی عبادت اور ریاضت کو قبول فرماتا ہے اور ان کی غلطیاں اور کوتاہیاں معاف کرتا ہے۔ یہ اس کی رحمت و بخشش کی علامت ہے ۔
دعا بطور سلام
ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا تحیتھم یوم یلقونہ سلم جس دن وہ اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے اس دن انکی دعا سلام ہے۔ دو مسلمانوں کی ملاقات کے وقت بھی ایک دوسرے کو سلام کیا جاتا ہے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ یہ لفظ چاہتا ہے کہ جب دو مسلمان آپس میں ملیں تو ان کی دعا سلام ہی ہونی چاہئے۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ یعنی دو مسلمان ملاقات پر ایک دوسرے کے لئے خیر و سلامتی کی دعا کریں۔ آدم (علیہ السلام) سے لے کر ہر نبی کے دور میں سلام و دعا کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ پھر جب دو مومن جنت کے اندر آپس میں ملیں گے تو وہاں پر ان کی دعا سلام ہی ہوگی۔ جب فرشتے جنتیوں کے پاس آئیں گے تو وہ بھی ان کو سلام کریں گے۔ پھر جب نیک لوگوں کے سامنے پیش ہوں گے تو وہاں بھی پروردگار فرمائے گا سلم قولا من رب الرحیم (یٰس۔ 85) اے میرے بندو ! میری طرف سے تم پر سلامتی ہو۔ غرضیکہ آپس کی ملاقات کے وقت بھی ، اور فرشتوں سے ملاقتا کے وقت بھی اور پروردگار کی طرف سے بھی سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ فرمایا واعد لھم اجرا کریما اللہ نے ایسے ایمان والوں کیلئے بڑی عزت والا اجر وثواب تیار کر رکھا ہے ان کے درجات بلند وہیں گے اور انہیں عزت کا مقام حاصل ہوگا۔۔