Ayahs 33:21–27ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احزاب کا ذکر فرمایا اور منافقین کی مذمت بیان کی جنہوں نیمختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں شرکت سے گریز کیا ، جن لوگوں نے مورچوں میں پہنچ کر پھر الگ ہونے کی کوشش کی اللہ نے ان کی بزدلی کا حال بھی بیان فرمایا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ ایسے لوگوں کا جہاد سے فرار ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا۔ کیونکہ موت تو بہرحال اپنے وقت پر آنی ہے۔ خواہ وہ طبعی صورت میں آئے یا بصورت قتل۔ اب آج کی آیات میں اللہ کے نبی کو بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے اور ان اہل ایمان کی تعریف کی گئی ہے جنہوں نے نبی کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے معرکہ خندق میں ثابت قدمی دکھائی۔
اسوہ حسنہ
پہلے نبی ﷺ کے اسو وہ حسنہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ البتہ تحقیق تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ ذرا اللہ کے مقرب ترین بندے کی طرف دیکھو کہ وہ کس طرح دنیا کے مصائب برداشت کرتے ہوئے دین حق پر استقلال دکھا رہے ہیں۔ واقعہ خندق میں ہی دیکھ لیں کہ حضور ﷺ نے فاقے کے باوجود صحابہ کے شانہ بشانہ کام کیا۔ بڑی بڑی چٹانوں کو توڑا ، مٹی اٹھا اٹھا کر دور لے جاتے رہے یہ سب کچھ آپ نے اللہ کی رضا اور دین کی تائید کے لئے کیا۔ اور یہی باقی لوگوں کے لئے نمونہ ہے۔ یہ تو جہاد کا موقع تھا وگرنہ زندگی کے ہر موڑ پر تمام نشت و برخواست حرکت و سکون ، نشیب و فراز ، صلح و جنگ غرضیکہ ہر معاملہ میں اللہ کے نبی امت کے لئے نمونہ ہیں لہٰذا جو لوگ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشقت اٹھانے سے گریز کرتے ہیں۔ انہیں نبی کی ذات کا نمونہ دیکھنا چاہئے۔ اگر وہ اس قدرمصائب برداشت کر رہے ہیں۔ تو باقی لوگ کیوں نہیں کرسکتے ؟ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جس کام کو حضور ﷺ نے فرض یا واجب سمجھ کر کیا ہے وہ امت کے لئے بھی فرض یا واجب ہوگا اور جو کام آپ (علیہ السلام) نے بطور سنت انجام دیا ہے وہ امت کے لئے بھی سنت ہے۔ البتہ جو کام حضور ﷺ نے استجاب کے درجے میں کیا ہے اس میں عام مسلمانوں کو اختیار ہے کہ چاہے تو وہ کام ثواب کی خاطر کرلیں اور اگر وہ کام نہیں کرتے تو کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ سورة البینہ میں اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ کو بینہ کا لقب دیا ہے۔ یعنی آپ اہل ایمان اور دیگر لوگوں کے لئے ایک واضح نمونہ ہیں۔ آپ کو دیکھ کر ہر شخص اپنی چال ڈھال اور رنگ ڈھنگ اس نمونہ کے مطابق بنا سکتا ہے۔ قرآن پاک کی اساسی تعلیم اور وحی الٰہی کی تعمیل کا مجسم نمونہ حضور ﷺ کی ذات ہے۔
مگر یہ نمونہ اس شخص کے لئے ہے لم کان یرجوا اللہ والیوم الاخر جو اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہے اور قیام تکے دن پر بھی اس کو یقین ہے کہ اس دن جزائے عمل واقع ہوگا۔ رجیٰ کا لفظ اضداد میں سے ہے اور یہ امید کا معنی بھی دیتا ہے اور خوف کا بھی۔ اگر اس سے خوف مراد لیا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے نبی میں نمونہ ہے اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ اور
1 ؎ احکام القرآن للجصاص ص 533 ج 3
اسے قیامت کے دن کا بھی خوف ہے کہ وہاں ضرور مواخذہ ہوگا۔ حضور ﷺ اپنے خطبہ کی ابتدا میں فرمایا کرتے تھے ان خیر الحدیث کتب اللہ و خیر الھدی ھدی محمد ﷺ یعنی بہترین کتاب اللہ کی کتاب ہے اور بہترین نمونہ اور سیرت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے۔ حضور ﷺ کی سیرت ایک جامع سیرت اور ہر شخص کے لئے کامل نمونہ ہے۔
فرمایا اللہ کے نبی کی ذات میں اس شخص کے لئے بھی بہترین نمونہ ہے۔ و ذکر اللہ کثیرا جو اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرتا ہے ، اللہ کو بکثرت یاد کرنے والے شخص کے دل میں پاکیزگی اور روحانیت آئے گی اور ایسے شخص کو فلاح نصیب ہوگی ، برخلاف اس کے دن لوگوں کے دلوں میں نفاق ہے۔ اللہ تعالیٰ کو دلجمعی سے یاد نہیں کرتے یا کفر و شرک کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، ان کے لئے حضور ﷺ کی ذات میں کوئی نمونہ نہیں ہے۔
ایمان و اطاعت میں اضافہ
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے صحیح الایمان لوگوں کی تعریف کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولما والمومنون الحزاب جب مومنوں نے دیکھا کہ ہر طرف سے کافروں کے لشکر کثیر تعداد میں آ رہے ہیں۔ قالو ھذا ما وعدنا اللہ و رسولہ تو کہنے لگے کہ یہی ہے وہ چیز جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور حقیقت یہ ہے و صدق اللہ و رسولہ کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ یہ اس پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے جس میں اللہ کے رسول نے ایمان والوں کو بتلا دیا تھا کہ چند دن بعد دشمن کثیر تعداد میں حملہ آور ہوں گے۔ حافظ ابن مجر عسقلانی کے مطابق کفار چوبیس ہزار فوج لے کر حملہ آور ہوئے تھے۔ تاہم عام مفسرین نے جنگ احزاب میں کفار کی تعداد دس ہزار بتائی ہے جس کے مقابلے کے لئے مسلمانوں کے پاس صرف تین ہزار آدمی تھے جو دفاع کرنے کے قابل تھے۔ باق یعورتیں ، بچے اور بوڑھے تھے جو دفاع میں حصہ لینے کے قابل نہیں تھے۔ بہرحال فرمایا کہ اہل ایمان نے کفار کے لشکر کو دیکھ کر کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا وعدہ سچا ثابت ہوا ہے۔ اور کفار کے حملہ سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ومازادھم الا ایمانا و تسلیما ان کی آمد نے سچے مسلمانوں کے ایمان اور اطاعت میں اضافہ ہی کیا اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کے وعدے رپ کامل یقین تھا ، لہٰذا انہوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
ایفائے عہد
ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا من المومننی رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ مومنوں میں سے بعض وہ ہیں کہ جس بات کا انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچ کر دکھایا ، عہد یہ تھا کہ آخر دم تک اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے۔ فرمایا فمنھم من قضیٰ نحبہ ان میں سے بعض وہ ہیں کہ جنہوں نے اپنی نذر پوری کرلی ہے یعنی شہادت کا درجہ پا لیا ہے مثلاً غزوہ احد کے موقع پر حضر تانس بن نضر ؓ کا واقعہ ہے کہ وہ میدان جنگ کی طرف جا رہے تھے ، کسی نے پوچھا ، کہاں کا ارادہ ہے ؟ کہنے لگے ، احد پہاڑ کے اس طرف مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے ، میں ادھرجا رہا ہوں۔ میدان جنگ میں پہنچ کر دشمن کا خوب مقابلہ کیا۔ آپ کے جسم پر اتنے زخم آئے کہ شناخت نہیں ہو رہی تھی۔ آخرکار انگلیوں سے ان کی شناخت ہوئی۔ اس طرح انہوں نے جام شہادت پی کر اپنے عہد کو پورا کیا۔ نحبہ کا معنی عہد و پیمان اور نذر ہوتا ہے۔ اور مراد اس سے زندگی بھی ہو سکتی ہے کہ ان میں سے بعض مومن وہ ہیں جنہوں نے
1 ؎ مظہری 243 ج 7
2 ؎ ابن کثیر ص 574 ج 3
3 ؎ احکام القرآن للجصاص ص 653 ج 3
راہ حق میں زندگی کی ابزی لگا دی اور اس طرح اللہ سے کیا وا وعدہ پورا کر دکھایا۔
فرمایا ان میں سے بعض تو وہ ہیں جنوں نے اپنی نذر پوری کردی ومنھم من ینتظر اور ان میں سے بعض ، بھی منتظر ہیں کہ انہیں اپنی نذر پوری کرنے یعنی جام شہادت نوش کرنے کا کب موقع ملتا ہے۔ حضرت ابو دجانہ ؓ کے متعلق آتا ہے کہ جنگ احد میں ان کے جسم پر تیر و تلوار کے چوراسی زخم آئے۔ حضور ﷺ گڑھے میں گر گئے ھتے۔ دشمن نے ہجوم کردیا تھا اور ابو دجانہ ؓ نے حضور ﷺ کو بچانے کے لئے اپنی پشت کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا ، ان کے اپنے ہاتھ سے لڑتے لڑتے تین تلواریں ٹوٹی تھیں۔ اسی طرح حضرت طلحہ ؓ نے حضور کی حفاظت کے لئے اپنا ہاتھ آگے کردیا تھا۔ اس پر تیروں کے اتنے زخم آئے کہ ہاتھ بالکل شل ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ طلحہ ؓ کے اس ہاتھ پر دوزخ کی آگ حرام ہے اور طلحہ نے اپنے لئے جنت کو واجب قرار دے لیا ہے۔ آ پنے اس کے بعد بھی لمبی زندگی پائی اور بالآخر جنگ جمل میں شہید ہوئے۔ حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ طلحہ ؓ ان لوگوں میں سے ہیں ممن قضیٰ نحبہ جنہوں نے اپنی زندگی کا دور نہایت جرأت اور بہادری کے ساتھ پورا کیا۔ فرماتے تھے یہ زندہ شہید ہیں جو زمین پر چل رہے ہیں۔
فرمایا بعض اپنی نذر کے پوری ہونے کے منتظر ہیں وما بدلوء تبدیلا اور انہوں نے عہد و پیمان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔ اللہ اور اس کے رسول سے جو بھی عہد کیا اس کو پورا کر رہے ہیں۔ لیجزی اللہ الصدقین بصدقھم تاکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے و یعذب المنفقین ان شاء اور اگر چاہے تو منافقوں کو سزا دے او یتوب
1 ؎ خازن ص 742 ج 5
2 ؎ ابن کثیر ص 33 ج 3
علیھم یا انہیں توبہ کی توفیق عطا کر دے کہ وہ نفا قکو چھوڑ کر پکے سچے ایماندار بن جائیں۔ فرمایا ان اللہ کان غفورا رحیما بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور ازحد مہربان ہے مطلب یہ کہ جن مومنوں نے ایفائے عہد کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کردیا اور وہ جو بھی اپنی باری کے منتظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی سچائی کا ضرور بدلہ دے گا۔ رہا منافقوں کا مسئلہ تو اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی کرتوتوں کی انہیں سزا دے دے یا پھر انہیں توبہ کی توفیق دے کر معاف کر دے کیونکہ وہ بخشنے والا بھی ہے اور مہبران بھی۔ اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں۔ وہ لوگوں کی توبہ قبول کرتا رہتا ہے۔
کافروں کی ناکامی
ادھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ورد اللہ الذین کفروا بغیظھم اللہ نے غصے سے بھرپور کافروں کو واپس پلٹا دیا۔ ایک طرف فرشتوں کا لشکر بھیج کر اہل ایمان کے دلوں کو مضبوط کیا اور وہ کفار کے مقابلے میں ڈٹے رہے اور دوسری طرف اتنی تیز آندھی چلائی کہ کافر حملہ آور محاصرہ اٹھانے پر مجبور ہوگئے اور اس طرح ناکام و نامراد واپس ہوئے۔ لم ینالوا خیرا اور وہ کوئی بہتری نہ پا سکے۔ وہ مدینہ کو فتح کر کے لوٹ مار کرنے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے آئے مگر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ و کفی اللہ المومنین القتال اور اللہ نے اہل ایمان پر یہ احسان فرمایا کہ ان کی جنگ سے کفایت کی یعنی وہ جنگ لڑنے سے بچ گئے۔ اور اس طرح انہیں کچھ نقصان نہ پہنچا۔ و کان اللہ قویاً عزیزا اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور کمال قدرت کا مالک ہے اور ہر چیز پر غالب ہے۔ وہ اپنی مشیت اور ارادے کے مطابق جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی۔ وہ چاہے تو تھوڑی جماعت کو کثیر تعداد پر غالب کر دے کیونکہ قوت تو اسی کے ہاتھ میں ہے لہٰذا بھروسہ بھی اسی کی ذات پر رکھنا چاہئے کیونکہ قوت کا سرچشمہ وہی ہے۔
بنی قریظہ کی سرکوبی
قبیلہ بنو قریظہ مدینے کی شرقی جانب چند میل کے فاصلے پر آباد تھا۔ یہ لوگ معاشی لحاظ سے بڑے مضبوط تھے ، پورے عرب میں تجارت تھی ، سودی کاروبار بھی کرتے تھے ، ان کی اپنی بستیاں اور قلعے تھے ، جب حضور ﷺ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ نے متخلف قبائل کے ساتھ عہد و پیمان کئے تھے جن میں بنی قریظہ بھی شامل ھتے۔ مگر جنگ احزاب کے موقع پر انہوں نے مسلمانوں کی مدد کرنے کی بجائے کافروں کی طرفداری کی اوار اس طرح مسلمانوں کے ساتھ کعئے گئے دفاعی معاہدہ کو عملی طور پر توڑ دیا۔ جب حملہ آور کافر ناکام واپس چلے گئے تو مسلمانوں کو اطمینان حاصل ہوا اور وہ ہتھیار اتار کر حالت جنگ سے نکلنا چاہتے تھے۔ حضور ﷺ نے بھی اپنی زرہ اتارنے کا ارادہ کیا کہ اتنے میں جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور حضور ﷺ سے کہا کہ آپ لوگ تو اپنے ہتھیار اتارنا چاہتے ہیں مگر اللہ کے فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے۔ کہنے لگے خدا تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ ہتھیار اتارنے سے پہلے بنی قریظہ کی عہد شکنی کا فیصلہ بھی کرلیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے اعلان فرمایا کہ کوئی شخص ہتھیار نہیں اتارے بلکہ اسی حالت میں بنو قریظہ کی طرف روانہ ہو جائو ، اگرچہ نماز ظہر کا وقت ہوچکا تھا۔ مگر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ لا یصلی الا فی بنی قریظۃ سب لوگ بنی قریظہ میں پہنچ کر نماز ادا کریں لوگ فوراً چل دیئے اور بنی قریظہ کا محاصرہ کرلیا جو کہ کئی روز تک جاری رہا۔ یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے ، ان کے پاس راشن اور دیگر سروسامان بھی موجود تھا لہٰذا وہ کچھ دنوں تک محصور رہے اور بالآخر ہتھیار ڈال دیئے۔ کہنے لگے ہمارے معاملہ میں حضرت سعد بن معاذ ؓ جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا۔
حضرت سعد ؓ اگرچہ مخلص مسلمان تھے مگر بنی قریظہ کے دوست اور حلیف تھے اس لحاظ سے ان کا خیال تھا کہ سعد ؓ ہمارے معاملہ میں زیادہ سخت رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ حضور ﷺ نے بھی حضرت سعد ؓ کے فیصلہ کو قبول کر لینے
1 ؎ جمل ص 134 ج 3 و خازن ص 152 ج 5 و ابن کثیر ص 744 ج 3
کا اعلان فرما دیا۔ پھر حضرت سعد ؓ سے فرمایا کہ ان بدعہدوں کے لئے جو مناسب سمجھو سزا تجویز کرو۔ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ بنی قریظہ کے تمام بالغ مردوں کو قتل کردیا جائے ، ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں بنا لیا جائے اور ان کی زمینوں پر مسلمان قابض ہوجائیں۔ چناچہ اس فیصلے پر عملدرآمد کیا گیا اور بنی قریظہ کے تمام بالغ مرد جن کی تعداد چار اور چھ سو کے درمیان تھی قتل کردیئے گئے۔ حضرت سعد ؓ کے اس فیصلے کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے سعد ؓ ! تم نے یہ فیصلہ پہلی کتابوں کے مطابق کیا ہے۔ تورات میں یہ حکم موجود ہے کہ غداری کرنے والوں کی سزا یہ ہے کہ ان کے تمام قابل جنگ مردوں کو قتل کردیا جائے ، عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے اور ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیا جائے۔
اسی واقعہ کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا و انزل الذین ظاہر و ھم من اھل الکتب من صیاصیھم اللہ نے کافروں کی مدد کرنے والے اہل کتاب کو ان کے قلعوں سے اتار دیا اور وہ شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔ و قذف فی قلوبھم الرعب اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا اور مسلمان ان پر غالب آئے۔ اس کے نتیجہ میں فرمایا فریقا تقتلون اور ان میں سے ایک گروہ یعنی بالغ مردوں کو قتل کرتے ہو و تاسرون فریقا اور ایک گروہ کو قیدی بناتے ہو۔ مسلمانوں نے یہودیوں کی عورتوں اور بچوں اور لونڈیاں اور غلام بنا کر آپس میں تقسیم کرلیا۔ اللہ نے فرمایا کہ مسلمانوں کو یہ فائدہ بھی ہوا۔ و اور ثکم ارضھم کہ تمہیں ان کی زمینوں کا وارث بنا دیا۔ و دیارھم و اموالھم تم ان کے گھروں اور مالوں کے بھی مالک بن گئے۔ اگرچہ اس موقع پر باقاعدہ جنگ کی نوبت تو نہ آئی مگر مسلمانوں کو مالی لحاظ سے بڑی قوت حاصل ہوگئی۔
فتح خیبر
فرمایا و ارضا لم تطوھا اللہ نے تمہیں اس سرزمین کا وارث بھی بنایا جس کو تم نے ابھی تک پامال نہیں کیا۔ یہ کون سی سرزمین ہے ؟
اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سرزمین مکہ کی طرف اشارہ ہے کہ بالآخر مکہ بھی فتح ہوگا۔ تاہم زیادہ تر مفسریناس کو خیبر پر محمول کرتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد قریب زمانہ میں خیبر بھی فتح ہوگیا اور وہاں کی زمینیں مسلمانوں کے قبضے میں آئیں۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں روم اور فارس کی سرزمینوں کی طرف اشارہ ہے جو ج کہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں فتح ہوئے۔ تاہم خیبر کا اشارہ زیادہ تر قرین قیاس ہے۔ وہاں کے یہودی بھی بڑے سازشی تھے۔ اللہ نے ان کو مغلوب کیا اور ان کے ساتھ معاہدہ ہوگیا کہ وہ اپنی زمینوں پر کاشتکاری کرتے رہیں گے۔ البتہ آمدنی کا ایک حصہ مسلمانوں کو ادا کیا کریں گے۔ فرمایا اللہ نے کچھ اور زمین بھی تمہارے مقدر میں کردی ہے و کان اللہ علی کل شیء قدیرا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ہ اپنی منشاء کے مطابق جو چاہے کرے ، وہ تھوڑی جماعت کو کثیر جماعت پر غالب کرنے پر بھی قادر ہے۔ اس نے مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ عطا فرمایا ، وہ کمال قدرت کا مالک ہے۔
1 ؎ خازن ص 153 ج 5 ابن کثیر ، ص 874 ج 3
Ayahs 33:28–31ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ خندق کا حال بیان کیا اور منافقوں کی مذمت بیان کی۔ پھر اللہ نے بنی قریظہ کی سرکوبی کا حکم دیا۔ چناچہ ان کو مغلوب کر کے ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا ، عورتوں اور بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا گیا ، اور ان کے مالوں ، زمینوں اور مکانات پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ پھر اللہ نے ایک اور سرزمین کی فتح کی خوشخبری دی جس کو 6 ھ میں فتح کیا گیا۔ یہ خیبر کی فتح تھی۔ وہاں سے بھی مسلمانوں کو کافی مال و دولت حاصل ہوا اور ان زمینوں کا خراج بھی ملنے لگا۔
ازواج مطہرات کا مطالبہ
مسلمانوں کی پے درپے فتوحات اور ان کے نتیجے میں مال و دولت حاصل ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی اقتصادی حالت بہت اچھی ہوگئی۔ اب ازدواج مطہرات کو بھی خواشہ پیدا ہوئی کہ جس طرح عام مسلمانوں کی مالی حالت بہتر ہوگئی اسی طرح ان کو بھی کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچنا چاہئے اور ان کو ملنے والے خرچہ میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اس مسئلہ پر ساری ازواج مطہرات نے مشورہ کیا اور پھر حضرت ام سلمہ کو نمائندہ مقرر کیا کہ وہ اس معاملہ میں حضور ﷺ سے بات کریں۔ کیونکہ آپ بڑی شائستہ اور سمجھدار خاتون تھیں۔ انہوں نے مناسب موقع پر دیگر بیویوں کی موجودگی میں حضور ﷺ کی خدمت میں عرضداشت پیش کی۔ یہ مطالبہ اگرچہ ناجائز نہیں تھا کیونکہ بیوی کا حق ہے کہ وہ خاوند سے ضروریات زندگی کا مطالبہ کرے۔ بایں ہمہ حضور ﷺ نے اسے قناعت کے خلاف سمجھا اور آپ بیویوں سے ناراض ہوگئے۔
ازواج سے علیحدگی
حضور ﷺ نے اس مطالبے کا اس حد تک برا منایا کہ آپ نے اپنی تمام ازواج سے ایک ماہ کے لئے ایلا کرلیا یعنی علیحدگی اختیار کرلی۔ آپ مسجد نبوی کے قریب ہی ایک بالاخانے میں تشریف فرما ہوگئے۔ عام مشہور ہوگی کہ حضور ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ ان حالات میں ازواج مطہرات کا پریشان ہونا تو فطری امر تھا تمام مسلمانوں کو بھی سخت تشویش لاحق ہوگئی۔ سب سے زیادہ پریشانی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر ؓ کو تھی کیونکہ ان دونوں کی بیٹیاں حضور ﷺ کے نکاح میں تھیں۔ کوئی شخص اس معاملہ میں مداخلت کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ بالآخر حضرت عمر ؓ نے جرأت کر کے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی اور حضور ﷺ سے حاضر ہونے کی اجازت طلب کی جو دے دی گئی۔ حضرت عمر ؓ نے حاضر ہو کر کھڑے کھڑے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ آپ نے فرمایا ، نہیں۔ اس پر انہوں نے کہا اللہ اکبر۔ حضرت عمر ؓ کی کچھ ڈھارس بندھی تو انہوں نے حضور ﷺ سے بیٹھنے کی اجازت چاہی ، آپ کا مقصد یہ تھا کہ کوئی دل لگی کی بات کر کے حضور ﷺ کو خوش کیا جائے چناچہ اجازت ملنے پر آپ حضور ﷺ کے پاس بیٹھ گئے اور بات شروع کردی کہ مکہ میں تو ہم اپنی عورتوں پر غالب تھے اور کوئی ہمارے سامنے چوں چرا نہیں کرتی تھی مگر مدینہ میں آ کر ہماری عورتوں نے بھی یہودی عورتوں کی دیکھا دیکھی انہی کا رنگ ڈھنگ اختیار کرلیا ہے۔ ایک دفعہ خود میری بیوی نے مجھ سے زائد خرچہ کا مطالبہ کیا تو مجھے بڑا غصہ آیا اور میں نے اس کی گردن پر مکہ مارنے شروع کردیئے۔ یہ سن کر حضور ﷺ مسکرا دیئے اور اس طرح کچھ دیر تک گفتگو ہوتی رہی ادھر مسجد میں مسلمان بڑے پریشان تھے کہ پتہ نہیں حضور ﷺ نے کیا فیصلہ کیا ہے ، کہیں واقعی اپنی بیویوں کو طلاق تو نہیں دے دی ؟ اتنے میں حضرت
1 ؎ طبری ص 651 ج 12 و معالم التنزیل ص 371 ج 3
عمر ؓ نے واپس آ کر مسلمانوں کو تسلی دی اور بتایا کہ حضور ﷺ نے طلاق نہیں دی۔ اسی طرح ایام گزرتے رہے حتیٰ کہ 92 دن کے بعد حضور ﷺ بالا خانے سے نیچے اترے ، تو اس وقت آیات زیر درس نازل ہوئیں۔ ان آیات میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات سے خصوصی خطاب ہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہہ کی ہے اور اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی ازواج سے دریافت کرلیں۔ اگر وہ دنیا میں خلعہ باٹھ کی زندگی بسر کرنا چاہتی ہیں تو کہہ دیں کہ آخر میں تمہیں طلاق دے کر اھے طریقے سے رخصت کر دوں اور اگار تم اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو پھر موجودہ حالت پر ہی قناعت کرو۔
خاندان نبوت کی قناعت پسندی
حضور ﷺ کی ازواج مطہرات نے زندگی بھر دنیا کے مال و متاع اور زیب وزینت کی بجائے قھناعت کو پسند کیا۔ آپ اپنی بیویوں کو جس قدر خرچہ عطا کرتے تھے ، وہ اسی پر گزارا کرتی تھیں بلکہ اپنے حصہ میں سے زیادہ تر غرباء اور مساکین پر خرچ کر دیتیں اور خود عسرت کی زندگی بسر کر تیں حضور ﷺ کی وفات کے بعد بھی ازواج مطہرات نے خوشحالی کی زندگی نہیں گزاری۔ حضرت عائشہ ؓ کے پاس ایک بوری یا دو بوری بھر درہم ہدیہ کے طور پر آئے تو انہوں نے شام سے پہلے سب تقسیم کردیئے۔ خادمہ نے عرض کیا کہ آپ افطاری کے لئے تو کچھ رکھ لیتیں۔ فرمایا اگر پہلے یاد کرا دیتی میں تمہیں اجازت دے دیتی ، اب تو کچھ بھی باقی نہیں بچا۔
دشمنان اسلام خصوصاً یہود و نصاریٰ آج بھی اعتراض کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کی مکی زندگی تو واقعی پیغمبروں جیسی تھی مگر مدینے میں آپ نے بادشاہوں جیسے طور طریقے اختیار کر لئے اسی طرح تعدد ازواج کے متعلق بھی بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں ، بیہ تمام اعتراضات بعید از حقیقت اور محض ضد اور عناد کا مظہر ہیں حضور ﷺ کی پوری زندگی بالکل بےداغ اور روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ کوئی انصاف پسند آدمی آٓپ کی ذات پر بادشاہی یا عیش و عشرت کا الزام نہیں لگا سکتا اور یہی حال آپ کی ازواج مطہرات کا بھی تھا۔ انہوں نے بھی حضور ﷺ کے اتباع میں آخرت کی زندگی کو دنیا کی زندگی پر ترجیح دی اور ہمیشہ فقر و فاقہ کو پسند کیا۔
دنیا اور آخرت میں سے انتخاب
بہرحال جب نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات نے آپ سے آسودہ حالی کا مطالبہ کیا تو آپ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے بھی یہ آیات نازل فرما کر حضور ﷺ کی تائید فرما دی اور آپ کو حکم دیا یایھا النبی قل لا زواجک اے نبی ﷺ آپ اپنی ازواج سے کہ دیں۔ ان کنتن تردن الحیوٰۃ الدنیا و زینتھا اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زیب وزینت چاہتی ہو ، عیش و عشرت اور آسودہ حالی کی طلبگار ہو فتعالین امتعکن تو آئو میں تمہیں فائدہ پہنچا دوں۔ جب کوئی شخص اپنی عورت کو طلاق دے دیتا ہے۔ اور وہ مہر بھی ادا کرچکا ہے تو اس کے لئے مستجب ہے کہ عورت کو رخصت کرتے وقت حسب استطاعت ایک جوڑا کپڑے دے کر اسے رخصت کر دے اور اگر ایسی عورت ہے جس کا مہر مقرر نہیں ہوا تھا تو اس کے لئے ایک جوڑا کپڑے دینا واجب ہوجاتا ہے۔ فائدہ پہنچانے سے یہی مراد ہے۔ فرمایا اگر دنیا چاہتی تو میں تمہیں فائدہ پہنچائوں و اسر حکن سراجا جمیلا اور تمہیں اچھے طریقے سے رخصت کر دوں یعنی طلاق دے کر بالکل فارغ کر دوں۔
پھر فرمایا و ان کنتن تردن اللہ و رسولہ والدار الاخرۃ اور اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رضا چاہتی ہو اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہو ، دنیا کی آسودگی کو ترک کرنے پر آمادہ ہو تو پھر خوب سن لو فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجراً عظیما کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایسی عورتوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ جو دنیا کی عیش و عشرت کو ترک کردیں گی ، اللہ تعالیٰاس کو آخرت میں دائمی آرام و راحت کا عطیہ عنایت فرمائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تصویر کا دوسرا رخ بھی بتلا دیا یٰنساء النبی اے نبی کی بیویو ! من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ تم میں سے جو کوئی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی یضعف لھا العذاب ضعفین تو اس کی سزا بھی دوگنی ہوجائے گی۔ و کان ذلک علی اللہ یسیرا اور یہ چیز اللہ کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ کسی کو دگنا عذاب دے۔
سزا اور جزا حسب مرتب
یہ ایک اصولی بات ہے کہ کسی شخصیت کا جس قدر درجہ بلند ہوگا کوتاہی کی صورت میں اس کا مواخذہ بھی اتنا ہی سخت ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جو مرتبہ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کو حاصل تھا ، وہ دنیا میں کسی دوسری عورت کو حاصل نہیں۔ لہٰذا فرمایا کہ نیکی پر تمہارا اجر وثواب بھی دوسروں کی نسبت دوگنا ہے۔ اسی طرح برائی کی صورت میں تمہایر سزا بھی دگنی ہوجائے گی۔ خود حضور ﷺ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ کفار کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے اور اگر آپ ایسی بات کر بیٹھتے اذا الا ذقنک ضعف الحیوٰۃ و ضعف الممات لم لا تجد لک علینا نصیرا (بنی اسرائیل) تو آپ کو دنیا میں بھی دگنی سزا دیتے اور بعد از وفات بھی اور پھر تم ہمارے مقابلہ میں کسی کو اپنا مددگار نہ پاتے۔
یہ بھی ایک مسلم قانون ہے کہ کسی مقدس مقام پر کیا جانے والا گناہ کسی عام مقام پر سرزد ہونے والے گناہ کی نسبت زیادہ سنگین تصور ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو سزا بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مسجد میں چوری یا کوئی دیگر جرم کرتا ہے یا حرم شریف میں کسی کجروی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی سزا بھی زیادہ ہوگی جس طرح حرم شریف میں ادا کی جانے والی ایک نماز کا اجر وثواب دیگر مساجد کی نسبت ایک لاکھ گنا اور مسجد نبوی اور بیت المقدس میں پچاس پچاس ہزار کے برابر ہے۔ اسی طرح ایسے مقدس مقامات پر جرم کی سزا بھی لازمی زیادہ ہوگی۔ اسی لئے نبی کی بیویوں کو بھی تنبیہہ کردی گئی کہ چونکہ تم مراتب عالیہ پر فائز ہو ، لہٰذا تمہاری کسی غلطی اور کوتاہی کی سزا بھی دگنی ہوگی۔
اس مقام پر اللہ نے نبی کی بیویوں کے متعلق فرمایا کہ اگر تم فحش کا ارتکاب کرو
1 ؎ ابن ماجہ ص 201 ، مشکوٰۃ ص 64 و جامع صغیر ص 64
گی تو تمہاری سزا دگنی ہوگی۔ اس لفظ کے مختلف معانی آتے ہیں۔ مثلاً اس کا اطلاق بدزبانی ، بےحیائی اور بخل پر بھی ہوتا ہے مگر یہاں پر اس لفظ سے زنا یا بدکاری مراد نہیں ہے کیونکہ اللہ کے پاک نبی کی بیویوں سے ایسا ممکن ہی نہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے ما ذنت امراۃ نبی قط یعنی نبی کی کسی بیوی نے کبھی زنا کا ارتکاب نہیں کیا۔ بعض انبیاء کی بیویوں نے کفر کا ارتکاب تو کیا ہے مگر بےحیائی کسی سے سرزد نہیں ہوئی۔ مقصد یہ کہ یہاں پر فحش سے بےادبی ، گستاخی یا بدزبانی وغیرہ جیسی لغزش تو مراد لی جاسکتی ہے ، زنا جیسے فعل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
نیکی کا دگنا اجر
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں نبی (علیہ السلام) کی بیویوں سے فرمایا تھا کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کا گھر پسند کرتی ہو تو اللہ نے تمہارے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ اب اگلی آیت میں ان کی پارسائی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے ومن یقنت منکن للہ و رسولہ اور تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی۔ وہ تعمل صالحاً اور نیک اعمال انجام دے گی نو تھا اجرھا مرتین ہم اس کو اجر بھی دگنا دیں گے۔ جس طرح مقدس مقام ، مقدس مہینے اور مقدس وقت میں عمل کا اجر بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی بلند مرتبت ہستی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی تو اس کے اجر وثواب میں اضافہ ہوجائے گا۔ جس طرح حرمت والے مہینوں ، مقامات مقدسہ اور پچھلی رات کے اوقات میں اجر وثواب بڑھ جاتا ہے ، اسی طرح مقدس ہستیوں کے اعمال صالحہ کا اجچر بھی بہت بڑھ جاتا ہے۔
اس کے علاوہ فرمایا اعتدنا لھا رزقاً کریما ہم نے اس کے لئے عزت کی روزی بھی تیار کر رکھی ہے دنیا میں عزت کی روزی وہ ہے جو حلال راستے سے آئے جس سے اطمینان قلب حاصل ہو اور جس کے استعمال سے عبادت کا جذبہ قوی ہوا اور اس میں دلجمعی پیدا ہو۔ اور آخرت میں رزق کریم سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو خاص مقام حاصل ہوگا ، انتہائی باعزت روزی نصیب ہوگی۔ اور ہمیشہ کے لئے نبی کی معیت حاصل ہوگی۔ بہرحال اللہ نے اپنے نبی کی بیویوں کو ترغیب و ترتیب دونوں طریقوں سے سمجھا دیا کہ انہیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
Ayahs 33:32–34ربط آیات
جب ازواج مطہرات نے اپنے اخراجات میں اضافہ کا مطالبہ کیا تو حضور ﷺ نے ناراض ہو کر ایک ماہ کے لئے علیحدگی اختیار کرلی۔ پھر اللہ نے یہ آیات نازل فرما کر نبی کی بیویوں کو تنبیہ کی۔ گزشتہ درس میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ نے نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی عورتوں سے کہہ دیں کہ اگر وہ دنیا کی زیب وزینت چاہتی ہیں تو آئو میں تمہیں طلاق دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور آخرت کے گھر کی متلاشی ہو تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے نیکی کرنے والوں کے لئے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے دنیا کی خواہش خدا اور اس کے رسول کے قرب کے منافی ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی عورت صریح غلطی کرے گی تو اسے دوسروں کی نسبت سزا بھی زیادہ ملے گی۔ البتہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور اچھے اعمال انجام دے گی تو اس کو اجر بھی دگنا ملے گا۔ اللہ نے ان کے لئے آخرت میں عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔
امہات المومنین کیلئے سلیقہ گفتگو
ان آیات میں بھی امہات المومنین سے خطاب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ینساء النبی اے نبی کی بیویو ! لسنن لاحد من النساء ان تقینن اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو تو تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اللہ نے تمہیں بڑا شرف عطا کیا کہ تمہیں نبی کی زوجیت کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ آیت 2 میں بھی گزر چکا ہے النبی اولی بالمومنین من انفسھم و ازواجہ امھتھم اللہ کا نبی مومنوں سے ان کی جانوں سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔ اگر تم میں تقویٰ اور طہارت ہوگی تو تمہیں تمام عورتوں پر فضیلت ہے۔ تمہاری اس برتر حیثیت کا تقاضا ہے فلا تخضعن بالقول کہ کسی اجنبی آدمی سے دب کر بات نہ کرو بلکہ کلام میں درشتگی اختیار کرو۔ کیونکہ نرم لہجے میں بات کرنے سے فیطمع الذی فی قلبہ مرض دل کا روگی آدمی لالچ کرے گا۔ دل کے روگ سے مراد نفاق ، خواہشات نفسانی اور شہوانی میلان ہے۔ اس لئے حکم دیا کہ اگر کسی اجنبی آدمی سے بات کرنی پڑے تو روکھا پن ظاہر کرو ، تاکہ کسی بد باطن آدمی کے دل میں کوئی خیال نہ آسکے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی بیویوں کو ادب سکھایا ہے کہ غیر مرد سے بات کرتے وقت اس طرح بات کرو جس طرح اپنے بیٹے سے کی جاتی ہے و قلن قولا معروفا اور بات بھی دستور کے مطابق بھلی اور معقول ہونی چاہئے۔
تبرج جاہلیت
اللہ نے امہات المومنین کو یہ حکم بھی دیا و قرن فی بیوتکن کہ اپنے گھروں میں ٹھہری رہو ، بلاوجہ گھر سے باہر نہ نکلو کیونکہ گھروں میں رہنا ہی عورتوں کی اصل وضع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں تقسیم کار کردیا۔ مرد کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ محنت مشقت کر کے کمائی کرے اور عورتوں کا کام یہ ہے کہ وہ امور خانہ داری کو انجام دیں ، بچوں کی پرورش ، کھانا پکانا ، کپڑے دھونا اور گھر کی صفائی کرنا عورت کے ذمے ہے۔ یہ سب کام گھر کی چار دیواری کے اندر انجام دیئے جاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے نبی کی بیویوں کو کم دیا ہے کہ وہ گھر میں مقیم رہیں ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولیٰ اور جاہلیت اولیٰ کی عورتوں کی طرح اپنے آپ کو کھلے طور پر نہ دکھاتی پھریں۔ مطلب یہ کہ گھر میں رہ کر امورخانہ داری انجام دیں اور اگر اشد ضرورت کے تحت گھر سے باہر جانا پڑے تو پھر جاہلیت اولیٰ کے زمانے کی طرح بےپردہ نہ جائیں۔
(موضح القرآن ص 505
جاہلیت اولیٰ کے… زمانے سے متعلق مختلف اقوال پائے جاتے ہیں بعض نے اسے حضرت نوح (علیہ السلام) یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے پر محمول کیا ہے مگر زیادہ صحیح زمانہ وہ ہے جو حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے عربوں کا دور تھا۔ یہ کفر کی جاہلیت تھی۔ کفر و شرکت کی رسومات عام تھیں اور عورتوں کی بےباکی تھی۔ وہ بنائو سنگھار کے ساتھ برہنہ سر گھروں سے باہر جاتی تھیں۔ اسی کو جاہلیت اولیٰ کا نام دی گیا ہے اور نبی کی بیویوں کو اس دور کی بےپردگی سے منع فرمایا گیا ہے۔
عورت کے لئے پردہ
حضور ﷺ کے زمانہ کے بعد جو جاہلیت پیدا ہوئی اور آج بھی موجود ہے یہ جاہلیت ثانیہ ہے اور فسق و فجور کی نمائندگی کرتی ہے۔ عورتیں بےپردہ بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں۔ سینما گھروں ، آرٹ گیلریوں ، کلبوں اور کھیل کے میدانوں میں مردوں کے ساتھ اختلاط عام ہے۔ جاہلیت اولیٰ اور جاہلیت ثانیہ دونوں معیوب ہیں اس سے بداخلاقی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مطلب عورتوں کو پنجروں میں بند کرنا نہیں بلکہ خرابی کو روکنا ہے۔ ضرورت کے وقت عورت باہر بھی جاسکتی ہے۔ مگر پردے کے ساتھ۔ خود ازواج مطرات کے متعلق فرمایا اذن لکم ان تخرجن لحوائجکن تم اپنی ضروریات کے لئے باہر جاسکتی ہو۔ بعض بےسہارا عورتوں کو کام کاج کے لئے باہر جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کی اجازت ہے۔ نماز کے لئے خاوند کی اجازت سے مسجد میں جاسکتی ہے مگر پردے کے ساتھ۔ آگے آٹھویں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیں یدلین علیھن من جلائبھن کہ وہ اپنی چادریں لٹکا لیا کریں تاکہ ان کے جسم کے نشیب و فراز نظر نہ آئیں اور نہ ان کی زیب وزینت کسی کو فتنے میں ڈالے برقع ضروری نہیں ، یہ کام بڑی چادر سے بھی
1 ؎ تفسیر نسفی ص 203 ج 3 و جمل ص 634 ج 3 و مظہری ص 963 ج 7
2 ؎ بیان القرآن ص 84 ج 9
لیا جاسکتا ہے۔ بہرحال پردہ ہونا چاہئے۔
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو عورت گھر میں رہ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی اور نیکی کے کام انجام دے گی ، برائی سے بچے گی ، اللہ تعالیٰ اس کو مجاہدین جیسا اجر عطا فرمائے گا۔ عورت کا بلا اجازت باہر جانا مکروہ تحریمی ہے۔ اگر مسجد میں بھی جانا چاہیں تو خاوند یا سرپرست کی اجازت لے کر جائیں۔ مردوں کو بھی فرمایا کہ اگر عورتیں مسجد میں جانے کی اجازت طلب کریں تو دے دیا کرو بشرطیکہ راستہ پرامن ہو یعنی فساق و فجار سے کوئی خطرہ نہ ہو۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ عورت کا گھر کی کوٹھڑی میں نماز پڑھنا ، بڑے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ اور صحن کی نسبت بڑے کمرے میں پڑھنا افضل ہے۔ عورت جتنا چھپ کر نماز پڑھے گی اتنا اجر زیادہ ہوگا ، مسجد میں جانے کی صرف اجازت ہے فضیلت نہیں ہے کیونکہ عورتوں کی اصل وضع گھر میں قرار پکڑنا ہے۔ بنائو سنگھار کر کے ، زیورات اور بھڑکیلا لباس پہن کر عورتوں کا بےحجابانہ باہر نکلنا عورتوں کی وضع کے خلاف ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ کہ اگر عورت مسجد میں نماز کے لئے بھی جائے تو معمولی لباس پہن کر جائے اور خوشبو نہ لگائے کہ یہ فتنے کا باعث بن سکتی ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ عورت ستر ہے ، جب یہ باہر نکلتی ہے تو شیطان جھانک کر دیکھتا ہے اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے جس سے بےحیائی کے لوازمات پیدا ہوتے ہیں موجودہ عریانی انگریز اور بےدین لوگوں کی پیدا کردہ ہے جو عورت کو مردوں کے شانہ بشانہ لانے کو ترقی کا زینہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ قرآن کے خلاف جاہلیت کی طرف قدم ہے۔ اگر عورت مجبور ہے تو اس کو اجازت لے کر باپردہ باہر
1 ؎ ابن کثیر ص 284 ج 3 و مستدرک حاکم ص 902 ج 1
2 ؎ ابن کثیر ص 284 ج 3
نکلنا چاہئے۔ حیا تو عورتوں اور مردوں کا زیور ہے۔ اللہ نے جاہلیت اولیٰ کی تقلید سے منع فرمایا ہے :
اہل بیت کی طہارت
فرمایا ، اے نبی اپنی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنے گھروں میں اور جاہلیت اولیٰ کے طور اطوار اختیار نہ کریں اور یہ بھی وا اقمن الصلوٰۃ اور نماز قائم رکھو و آتین الزکوٰۃ اور زکوٰۃ دیتی رہو و اطعن اللہ و رسولہ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی رہو۔ ازواج مطہرات کے لئے اللہ نے یہ تاکیدی حکم دیا ہے اور پھر ان امور کی حکمت بھی بیان فرمائی انما برید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم سے جس یعنی گندی باتوں کو اہل بیت تم سے دور کر دے۔ و یطہرکم تطہیرا اور پاک کر دے تم کو پاک کرنا۔ غرضیکہ ان احکام کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کی بیویوں کو ہر قسم کی غلاظت سے بالکل پاک صاف رکھے۔ اللہ کے نبی تو معصوم ہوتے ہیں اور مقرب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ازواج کو بھی بلند مرتبہ عطا کیا ہے اور ان کی پاکیزگی کے ساتھ موصوف کیا ہے۔
افراد اہل بیت
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات کو خطاب کر کے ان کے لئے اہل بیت کا لفظ استعمال کیا۔ دوسری حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ ، حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو ایک چادر کے نیچے جمع فرما کر اللھم ھو لاء اھل بیتی اے مولا کریم یہ میرے اہل بیت ہیں۔ وہاں پر ام المومنین ام سلمہ بھی تھیں انوں نے عرض کیا ، حضور ! مجھے بھی ان میں شامل کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا انت علی خیر یعنی تم تو بہتری پر ہو۔
یہاں پر دو گروہ بن گئے کہ اہل بیت میں کون کون لوگ شامل ہیں۔
1 ؎ بیان القرآن 74 ج 9 و ابن کثیر ؟ 584 ج 3
ایک گروہ وہ ہے جو اس آیت کے مطابق صرف ازواج مطہرات کو اہل بیت میں شمار کرتا ہے اور حضور ﷺ کی اولاد اور آپ کے خاندان کے لوگوں کو اہل بیت کے افراد نہیں مانتا۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو مذکورہ حدیث کے مطابق صرف حضور ﷺ کے خاندان اور اولاد کو ہی اہل بیت سمجھتا ہے اور ازواج مطہرات کو اس میں شامل نہیں کرتا۔ یہ دونوں شیعہ اور رافضی ہیں اور گمراہ ہیں۔ جو لوگ صرف پنج تن کو اہل بیت کہتے ہیں وہ بھی گمراہ ہیں کیونکہ یہ نظریہ نص قرآنی کے خلاف ہے۔ دوسری طرف حدیث بھی صحیح ہے اس سلسلے میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ حقیقتاً قرآن اور حدیث میں تضاد نہیں ہے صرف سمجھنے کی بات ہے۔ نص قرآنی عام ہے اور اس کے مطابق اہل بیت میں ازواج بھی شامل ہیں اور اولاد بھی۔ ہم اپنی زبان میں اہل بیت کا متبادل لفظ ” گھر والے “ بولتے ہیں اور جب ایسا کہتے ہیں تو اس سے مراد نہ تو صرف ازواج ہوتی ہیں اور نہ صرف اولاد ، بلکہ ازواج اور اولاد دونوں مراد ہوتے ہیں۔ لہٰذا نہ تو ازواج کو اہل بیت سے خارج کیا جاسکتا ہے اور نہ اولاد کو حدیث میں صرف اولاد کو اہل بیت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ میری ازواج تو محص قرآنی کے مطابق اہل بیت میں شامل ہیں ، میری یہ اولاد بھی اہل بیت میں شامل ہے۔ ان سے بھی گندگی کو دور کر کے انہیں پاک صاف کر دے۔
مسلم شریف میں زید بن ارقم ؓ کی روایت ہے کہ آپ سے شاگردوں نے پوچھا۔ کیا حضور کی ازواج اہل بیت نہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ازواج مطرات اہل بیت ہیں۔ مگر حضور ﷺ کے اہل بیت وہ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے ان لصدقۃ لا تحل لمحمد ولا لاھل محمد بیشک صدقہ نہ تو محمد ﷺ کے لئے حلال ہے اور نہ آپ کے اہل بیت
1 ؎ بیان القرآن ص 84 ج 9
2 ؎ بیان القرآن ص 84 ج 9
کے لئے اوار اہل بیت میں یہ پانچ خاندان آتے ہیں جن پر صدقہ حرام ہے یعنی اہل حارث ؓ ، اہل عباس ؓ ، اہل علی ؓ ، اہل عقیل ؓ اور اہل جعفر ؓ یہ سارے خاندان اسلام لانے سے پہلے بھی حضور ﷺ کے معاون تھے اور اسلام لانے کے بعد بھی وفادار رہے۔ یہ حضور ﷺ کا عصبہ ہیں اور اہل بیت کہلاتے ہیں۔ الغرض اہل بیت میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ، اولاد اور مذکورہ پانچ خندان بھی جن پر صدقہ حلال نہیں شامل ہیں۔
کتاب و حکمت کی تعلیم
پھر اللہ نے ازواج مطہرات سے فرمایا واذکرن ما یتلیٰ فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ اور تمہارے گھروں میں جو اللہ کی آیتیں اور حکمت پڑھی جاتی ہے ، اس کو یاد کرو۔ ظاہر ہے کہ آیات الٰہی سے مراد قرآن پاک ہے جو ازواج مطہرات کے گھروں میں پڑھایا جاتا تھا اور حکمت کا معنی دانشمندی کی باتیں ، دین کا فہم اور اس کا اتباع اور پیغمبر (علیہ السلام) کا طور طریقہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی سنت کمال درجے کی حکمت ہے۔ تو یہ چیزیں جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں ان کو یاد کرو خود سیکھو اور دوسروں کو سکھائو تاکہ یہ چیزیں ان کے لئے بھی نمونہ بن جائیں۔ فرمایا ان اللہ کان لطیف خبیر بیشک اللہ تعالیٰ بہت مہربان باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ لطیف کے دونوں معنی آتے ہیں یعنی لطف و کرم والا بھی اور باریک بین بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ختم رسالت کے لئے منتخب فرمایا اور بلند مرتبے پر فائز کیا ، آپ کی ازواج مطہرات کو وہ شرف عطا فرمایا جو دنیا بھر میں کسی دوسری عورت کو حاصل نہیں۔ ان کو امت کی مائیں بنایا تاکہ وہ امت کے حق میں مربی اور معلمات بن جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضور ﷺ کی ازواج مطہرات نے امت کی صحیح تربیت کا حق ادا کردیا۔ امہات المومنین حضور ﷺ کی وفات کے بعد چالیس پینتالیس سال تک حین حیات رہیں اور امت کی کماحقہ تربیت کرتی رہیں۔ ان کو تقویٰ ، طہارت ، عبادت اور تعلیم میں اعلیٰ درجے کی حیثیت حاصل رہی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بہت مہربانی کرنے والا اور ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔