33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 33:45–48

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ! بیشک ہم نے بھیجا ہے آپ کو شاہد بنا کر اور خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور بلانے والا اللہ کی طرف اس کے حکم سے اور روشن چراغ

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور آپ خوشخبری دیں ایمان والوں کو کہ بیشک ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور آپ نہ بات مانیں کفر کرنے والوں کی اور منافقوں کی ، اور چھوڑ دیں آپ ان کی طرف سے ایذارسانی اور بھروسہ کریں اللہ کی ذات پر اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے والا

ربط آیات گزشتہ درس میں پہلے اہل ایمان کو کثرت سے ذکر الٰہی کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنی مربانیوں کا تذکرہ کیا کہ وہ خود رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں پر بہت مہربان ہے اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس سے پچھلی آیت میں حضور ﷺ کی فضیلت اور آپ کی ختم نبوت کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے معترضین اور مخالفین کا منہ بند کردیا اللہ نے واضح فرمایا کہ آپ مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ ساری امت کے روحانی باپ ہیں۔ لہٰذا نہ تو زید ؓ آپ کے حقیقی بیٹے ہیں اور نہ ان کی بیوی آپ کی بہو ہے کے اس سے نکاح حرام ہو۔ اللہ کی حلال کردہ چیز پر طعن کرنا گویا اللہ کی ذات پر طعن کرنا ہے۔ لہٰذا آپ ان لوگوں کی باتوں سے متاثر نہ ہوں۔ بلکہ جائز کام پر عمل کر کے باقی امت کے لئے بھی آسانی کا سامان پیدا کردیں۔ حضور ﷺ بطور شاہد اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی فضیلت اور بعض صفات کا ذکر فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ ایمان والوں کو بشارت بھی دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یایھا النبی انا ارسلنک شاہد اے نبی ! بیشک ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا ہے ، قرآن پاک میں عام طور پر حضور ﷺ کو اے رسول ﷺ یا اے نبی کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے جس میں آپ کی تکریم کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اکثر انبیاء کو نام لے کر بھی مخاطب کیا ہے ، مگر خاتم النبیین ﷺ کو کہیں بھی یا محمد کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سے باقی انبیاء پر آپ کی فضیلت کا اندازہ بھی ہوتا ہے چناچہ ایمان والوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ آپ کی تعظیم و تکریم کو ملحوظ رکھیں اور قول و فعل سے کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے نبی ﷺ کو تکلیف پہنچے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا ہے۔ شاہد کا معنی گواہ وہتا ہے۔ اور شہدت کا معنی گواہی دینا بھی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا و اقیمو الشھادۃ للہ یعنی اللہ کی رضا کی خاطر ٹھیک ٹھیک گواہی دو ۔ شاہد کے حاضر و ناظر ہونے کی نفی بعض لوگ شاہد کو غلط معانی پہنا کر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے شاہد کا معنی حاضر و ناظر کیا ہے اور دلیل یہ دی ہے کہ گواہ وہی ہوتا ہے جو کسی چیز کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گواہی دیتا ہے۔ حضور ﷺ کو چونکہ شاہد کا لقب دیا گیا ہے لہٰذا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور اسی بناء پر قیامت کے روز اللہ کی بارگاہ میں گواہی دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ لفظ شاہد کا معنی حاضر و ناظر اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی کئی مقامات پر نفی کی ہے۔ مثلاً سورة قصص میں ہے کہ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف حکم بھیجا تو آپ طور کے مغربی جانب تو نہیں تھے وما کنت من الشھدین (آیت۔ 44) اور نہ ہی آپ دیکھنے والوں میں تھے یعنی آپ واں حاضر و ناظر نہیں تھے۔ اس کے برخلاف واللہ علی کل شیء شہید (البروج۔ 9) ہر مقام اور ہر چیز پر حاضر و ناظر تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ یہ صفت مخلوق میں سے کسی میں نہیں پائی جاتی۔ اللہ کی وحدانیت کی گواہی مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ شاہد کا معنی گواہی دینے والا بھی درست ہے اور اس کا اطلاق حضور ﷺ کی ذات مبارکہ پر کیا جائے تو جملے کا معنی یہ ہوگا۔ کہ اے نبی ! ہم نے آپ کو اللہ کی وحدانیت کی گواہی دینے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اس معنی کی تائید حضور ﷺ کی ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کے سامنے سے دو جنازے گزرے۔ امیک میت کے متعلق صحابہ کرام ؓ نے بتایا کہ یہ نیک اور اچھا آدمی تھا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا اس پر واجب ہوگی۔ پھر دوسرے جنازے کے متعلق صحابہ ؓ نے کہا کہ یہ برا آدمی تھا تو حضور نے فرمایا کہ واجب ہوگئی۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، حضور ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ فرمایا جس شخص کے متعلق تم نے اچھائی کی گواہی دی۔ اس کے لئے جنت واجب ہوگئی اور جس کے لئے برائی کی گواہی دی اس پر دوزخ واجب ہوگئی۔ پھر آپ نے تین دفعہ فرمایا انتم شھداء اللہ فی الارض یعنی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو 1 ؎ تفسیر عثمانی ص 055 یعنی اللہ کے دین حق اور اس کی وحدانیت کی گواہی دینے والے ہو۔ الغرض ! گواہ سے مراد دین حق اور اللہ کی وحدانیت کی گواہی دینے والا ہے۔ مبلغ دین کی گواہی بعض فرماتے ہیں کہ اس گواہی سے مراد تبلیغ دین حق کی شہادت ہے۔ قیامت کے دن جب حضور ﷺ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو گواہی دیں گے کہ میں نے دین حق لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ اس کے علاوہ قیامت کو پیغمبر اور امت دونوں کے لئے گواہی ہوگی۔ فکیف اذا جئنا من کل امتۃ بشہید و جئنا بک علی ھئولاء شہیدا (النسائ۔ 14) اس دن کیا حال ہوگا۔ جب ہم ہر امت میں سے گواہ لائیں گے۔ اور پھر ان سب پر آپ کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا اور آپ گواہی دیں گے کہ میں نے دین حق کا پیغام امت تک پہنچا دیا تھا۔ یہی مضمون حجتہ الوداع کے خطبہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بارے میں تم سے قیامت کے دن سوال ہوگا۔ تو تم کیا جواب دو گے۔ تو لوگوں نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیں گے قد ادیت الامانۃ و سبلغت الرسالۃ و نصحت الامتۃ کہ آپ نے امانت کو ادا کردیا ، تبلیغ کا حق ادا کردیا اور امت سے خیرخواہی کا حق بھی ادا کردیا۔ غرضیکہ یہاں پر گواہی سے مراد دین حق کی تبلیغ کی گواہی بھی ہو سکتی ہے۔ اعمال امت کی گواہی شہادت سے مراد اعمال کی شہادت بھی ہو سکتی ہے۔ حضور ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں اپنی امت کے جن اعمال کو دیکھا ان کی گواہی دیں گے۔ مگر بعد میں آنے والوں کے متعلق آپ کو خبر نہیں ہوگی اور اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ مجموعی طور پر آپ اگلی پچھلی ساری امت کی گواہی دیں گے تو یہ اس صورت میں ہوگا۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تمام اعمال خیر و شر سے مطلع کر دے گا بعد میں آنے والوں کے اعمال سے لاعلمی کی تائید صحیح حدیث میں بھی موجود ہے۔ حضور ﷺ حوض کوثر پر موجود ہوں گے اور لوگوں کو پانی پلا رہے ہوں گے۔ پھر کچھ لوگ آپ کے پاس پہنچنا چاہیں گے مگر اللہ کے فرشتے ان کے راستے میں مزاحم ہوں گے۔ حضور ﷺ فرمائیں گے کہ فرشتو ! ان کو آنے دو کہ یہ میرے ساتھی معلوم ہوتے ہیں مگر وہ جواب دیں گے انک لا تدری ما احد نوم بعدک آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کیسا بگاڑ پیدا کیا۔ چناچہ حضور ﷺ فرمائیں گے سحقاً سحقاً لمن غیر بعدی ان لوگوں کو مجھ سے دور لے جائو جنہوں نے میرے بعد دین میں تغیر پیدا کردیا۔ مطلب یہ کہ نبی (علیہ السلام) کو ساری امت کے اعمال کا علم تو نہیں۔ آپ اسی قدر گوایہ دیں گے جتنا آپ کو علم ہے یا اگر اللہ سب کے متعلق مطلع کر دے گا تو سب کے متعلق شہادت دیں گے۔ اعمال امت سے لاعلمی کی تصدیق مسیح (علیہ السلام) کے واقعہ سے بھی ہوتی ہے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آپ سے دریافت کرے گا کہ کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے ار میری والدہ کو معبود بنا لو۔ تو آپ بارگاہ رب العزت میں جواب دیں گے کہ مولا کریم ! میرے لائق یہ بات ہرگز نہیں کہ میں وہ بات کروں جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ میں نے انہیں ہمیشہ توحید کی دعوت دی و کنت علیھم شہیدا ما دمت فیھم (المائدہ۔ 711) جب تک میں ان لوگوں کے درمیان رہا ، ان کے اعمال کو دیکھتا رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہی ہر چیز کو دیکھنے اور جاننے والا ہے۔ صفائی کی گواہی قیامت والے دن صفائی کے گواہ بھی پیش ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بھن مبارک (رح) ایک حدیث لائے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ کریم انبیاء (علیہم السلام) سے پوچھیں گے کہ میں نے تمہیں امانت دے کر بھیجا تھا۔ تم نے اس امانت کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ ہ جواب دیں گے کہ مولا کریم ! ہم نے تیری امانت یعنی تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیا۔ پھر امتوں کو طلب کیا جائے گا۔ اور پوچھا جائے گا کیا میرے نبیوں نے میری امانت تم تک پہنچائی فمنھم المصدق ومنھم المکذب پھر بعض امتیں پیغام الٰٓہیوصول کرنے کی تصدیق کریں گی اور بعض انکار کردیں گی کہ ہم تک مذکورہ امانت نہیں پہنچی۔ پھر انکار کرنے والی امتوں کے نبیوں سے صفائی کی گواہی طلب کی جائے گی کہ انہوں نے واقعی اللہ کا پیغام امت تک پہنچا دیا تھا۔ اس گواہی کے لئے اللہ کے نبی اللہ کے آخری رسول کی امت کی گواہی پیش کریں گے اور وہ امت گواہی دے گی کہ سابقہ انبیاء نے اپنی اپنی امتوں تک خدا کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ وہ امتیں اس گواہی پر اعتراض کریں گی کہ آخری امت کے لوگ ہم پر کیسے گواہ بن سکتے ہیں۔ جب کہ یہ تو ہمارے دور کے بعد دنیا میں آئے۔ وہ عرض کریں گے مولا کریم ! تو نے ہمایر طرف اپنا آخری رسول بھیجا اور کتاب نازل فرمائی۔ ہمیں تیری اس کتاب سے معلوم ہوا ان قد ابلغوا رسلت ربھم (الجن۔ 82) تمام انبیاء نے اللہ کا پیغام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیا لہٰذا ہم یہ گواہی دینے میں حق بجانب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کو کھڑا کرے گا جو کہ اپنی امت کی صفائی پیش کریں گے کہ یہ لوگ صحیح گواہی دے رہے ہیں۔ شاہد کا یہ معنی بھی درست ہے۔ شاہ عبدالقادر اور صاحب مفردات القرآن امام راغب اصفہانی نے اس مقام پر شاہد کا معنی معلم کیا ہے یعنی اے اللہ کے نبی ! ہم نے آپ کو معلم بنا کر بھیجا ہے۔ آپ اپنے زمانے کے لوگوں کے معلم ہیں اور یہ لوگ دوسرے لوگوں کے معلم ہوں گے اور اس طرح دین حق کا پیغام قیامت تک آنے والے لوگوں تک پہنچتا رہے گا۔ نبی بطور مبشر و نذیر فرمایا : اے نبی ! ہم نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا و مبشر و نذیرا یہ اور خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بھی۔ بشارت ہمیشہ پاکیزہ عقیدے ار نیک اعمال پر دی جاتی ہے جو لوگ عقیدہ توحید کو اختیار کریں گے کفر شرک ، نفاق اور معصیت سے پرہیز کریں گے ، اعمال صالحہ انجام دیں گے ، اخلاق حسنہ کا مظاہرہ کریں گے ، تمام حقوق ادا کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے محنت کریں گے ، نہیں ان کی کامیابی پر بشارت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام میں پہنچیں گے اور انہیں مراتب عالیہ حاصل ہوں گے۔ اس لحاظ سے حضور ﷺ امت کے لئے بطور مبشر ہیں۔ اس کے برخلاف جو شخص کفر ، شرک ، نفاق اور بدعات کا راستہ اختیار کرے گا۔ عملی طور پر ہر قسم کی برائی کو اختیار کرے گا۔ وہ بالآخر خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئے گا۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے حضور نبی کریم (علیہ السلام) ڈر سنانے والے ہیں۔ آپ ان کو برے انجام سے آگاہ کرتے ہیں۔ شاید کہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ داعی الی اللہ حضور نبی کریم ﷺ کی ایک حیثیت دایع الی اللہ کی بھی ہے آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ اسی لئے یہاں فرمایا ہے و داعیا الی اللہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو اللہ کی کتاب اور اس کے احکام پڑھ کر سناتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ نیکی کا انجام بخیر اور برائی کا نتیجہ بہت برا ہوگا۔ دعوت الی اللہ بہت بڑی نیکی کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے و من احسن قولا ممن دعا الی اللہ و عمل صالحا (حم السجدۃ۔ 33) اس شخص سے اچیھ بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور نیک اعمال انجام دیتا ہے۔ الغرض حضور ﷺ داعی الی اللہ ہیں مگر باذنہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے۔ اللہ نے آپ کو یہ منصب سونپا ہے تو ساتھ آسانی بھی پیدا کردی ہے۔ سراج منیر پھر فرمایا و سراجا منیرا ہم نے آپ کو روشن چراغ بھی بنا کر بھیجا ہے۔ اس سے مراد ہدایت کا روشن چراغ ہے۔ آپ کا قلب مبارک مرکز ہدایت اور آپ کی ذات مبارکہ سراج منیر ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ سراج منیر سے مراد سورج ہے جس کی آب و تاب سب سے زیادہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ آپ دنیا میں آفتاب ہدایت ہیں۔ قرآن پاک میں سورج کو بھی سراج منیر کہا گیا ہے لیکن بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ کو سورج کی بجائے روشن چراغ سے تشبیہ دینے میں خاص حکمت ہے ار وہ یہ کہ سورج کی رشنی صرف دن کے وقت ہوتی ہے اور رات کو غالب وہ جاتی ہے۔ جب کہ چراغ کو دن رات کے کسی بھی حصہ میں روشن کرلو وہ ہوجائے گا چونکہ حضور ﷺ سے ہدایت کی روشنی کی ضرورت ہر وقت اور ہر آن ہے لہٰذا آپ کو روشن چراغ سے تشبیہہ دینے میں خاص حکمت ہے اور وہ یہ کہ سورج کی روشنی صرف دن کے وقت ہوتی ہے اور رات کو غائب ہوجاتی ہے جبکہ چراغ کو دن رات کے کسی بھی حصہ میں روشن کرلو وہ ہوجائے گا۔ چونکہ حضور ﷺ سے ہدایت کی روشنی کی ضرورت ہر وقت اور ہر آن ہے لہٰذا آپ کو روشن چراغ سے تشبیہہ دینا زیادہ مناسب ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سورج ایک ہی ہے اور اس سے دوسرا سورج نہیں نکلتا اس کے برخلاف چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ چناچہ حضور ﷺ جیسے روشن چراغ سے روشنی کے لے کر کتنے ہی چراغ دنیا میں پھیل گئے اور اس طرح پوری دنیا کفر و شرک کے اندھیروں سے نکل کر نور ہدایت کی روشنی میں آگئی اور تیسری بات یہ ہے کہ انسان اپنی مرضی کے مطابق جب چاہے چراغ سے روشنی حاصل کرسکتا ہے اور حسب ضرورت اس سے مستفید ہو سکتا ہے۔ اس کے برخلاف سورج کی روشنی اضطراری ہے اور کوئی انسان چاہے یا نہ چاہے و اپنے وقت پر پہنچتی ہے اور انسان کو اس پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ چونکہ حضور ﷺ کے علم و عرفان اور تعلیمات سے شب و روز استفادہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے بھی آپ کو روشن چراغ کے ساتھ زیادہ منسابت ہے۔ آپ (علیہ السلام) کا تذکرہ تورات میں بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی قرآن میں مذکور بعض صفات کا ذکر تورات میں موجود ہے۔ موصوف بلتورتہ ببعض صفتہ فی القرآن تورات میں حضور ﷺ کے تمعلق یہ الفاظ ہیں حزراً للامین یعنی آپ عرب کے امیوں کے لئے حفاظت اور بچائو کا ذریعہ ہیں اور یہ بات سو فیصدی درست ہے۔ دیکھ لیں اللہ تعالیٰ 1 ؎ السراج المنیر ص 552 ج 3 2 ؎ بخاری نے عربوں کو کس قدر بلند مرتبے پر پہنچایا کہ ساری دنیا کے معلم بن گئے۔ اللہ نے ساری دنیا کی سیاست کو ان پڑھ عربوں کے ہاتھ میں دے دیا۔ اللہ نے تورات میں آپ کے متعلق یہ بھی فرمایا کہ آپ میرے بندے اور رسول ہیں اور میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے۔ آپ نہ بدگو اور فحش کلام کرنے والے ہیں اور نہ بازاروں میں شور و شر کرنے والے آپ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتے بلکہ درگزر کرتے ہیں اور معاف کردیتے ہیں۔ اس آخری نبی کو اللہ تعالیٰ نہیں اٹھائے گا یہاں تک کہ ٹیڑھی ملت کو درست نہ کر دے اور لگ اپنی زبانوں سے لا الہ الا اللہ پڑھنے لگیں جس سے اندھی آنکھیں روشن ہوجائیں اور بہرے کان سننے لگیں اور بند دل کھل جائیں۔ حضور ﷺ کے یہ تمام اصوال تورات میں بیان کئے گئے ہیں۔ شعیا نبی کی شہادت مفسر قرآن امام ابن ابی حاتم کی روایت (جسے امام ابن کثیر نے بھی نقل کیا ہے) میں آتا ہے کہ حضرت وہب ابن منبہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک نبی حضرت شعیا (علیہ السلام) پر خدا تعالیٰ نے وحی کی کہ اپنی قوم بنی اسرائیل میں کھڑے ہو جائو ، میں تمہاری زبان کو وحی کے ساتھ گویا کروں گا اور تم لوگوں کو یہ باتیں سنا دو کہ خدا تعالیٰ کا فرمان ہے ابعث امیا من الامین کہ میں امیوں میں سے ایک امی نبی کو بھیجنے والا ہوں۔ وہ درشت مزاج اور سنگدل نہیں ہوگا۔ بازاروں میں شور و شر کرنے والا نہیں ہوگا۔ اتنے سکون والا ہوگا کہ چراغ کے پاس سے گزرے تو اس کو بجھائے نہیں اگر سکنڈوں کے اوپر پائوں رکھ کر چلے تو ان کی آواز تک نہ آئے۔ میں اس کو مبشر اور نذیر بنا کر بھیجوں گا ، وہ کوئی فحش بات نہیں کرے گا۔ میں اس کے ذریعے اندھی آنکھوں کو کھول دوں گا۔ اور بہرے کانوں کو سنوا دوں گا۔ میں اس کے لئے ہر امر جمیل کو درست کر دوں گا۔ اور اسے خلق جمیل عطا کروں گا۔ میں سکونت اور اطمینان کو اس کا لباس بنا دوں گا ، نیکی اس کا شعار ہوگی اور تقویٰ اس کے ضمیر کی بات ہوگی ، حکمت اس کی گفتگو ، صدق و وفا اس کا مزاج ، اور عفو و نیکی اس کا اخلاق ہوگا۔ حق اس کی شریعت ہوگی اور عدل اس کی سیرت ہوگی ، ہدایت اس کی پیشوا ہوگی۔ اور اسلام اس کی ملت ہوگی اور احمد اس کا نام ہوگا۔ میں اس کے ذریعے گمراہی کے بعد ہدایت عطا کروں گا اور کائنات کے لوگوں کو جہالت کے بعد علم عطا کروں گا۔ میں اس کے ذریعے (عرب کے) گمنام لوگوں کو بلند کروں گا اور ان کو اوپر ہونے کے بعد معروف کر دوں گا۔ ان کی قلت کو کثرت میں تبدیل کر دوں گا اور محتاجی کو غنیٰ میں بدل دوں گا۔ ان کو تفرقہ کے بعد جمع کر دوں گا۔ میں اس کے ذریعے مختلف دلوں مختلف امتوں اور مختلف خواہشات کو اکٹھا کر دوں گا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ہلاکت یس بچا دوں گا۔ اس کی امت کو تمام امتوں سے بہتر امت بنا دوں گا اور اسے تمام لوگوں کی ہدایت پر مامور کر دوں گا۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کریں گے۔ وہ اللہ کی توحید کو ماننے والے صحیح ایمان رکھنے والے اور اخلاص کی دولت سے بھرپور ہوں گے۔ وہ مصدقین یعنی میرے رسولوں کی تمام باتوں کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔ میں ان کو تسبیح وتحمید اور ثناء الہام کروں گا جسے وہ ادا کریں گے اور میری بڑائی بیان کریں گے اور میری توحید کی گواہی دیں گے۔ وہ لوگ اپنی مسجدوں ، مجلسوں راستوں اور ٹھکانوں میں کھڑے ہو کر بیٹھ کر نماز پڑھیں گے اور صف در صف ہو کر اللہ کے راستے میں جنگ کریں گے۔ وہ ہزاروں کی تعداد اپنے گھروں سے میری رضا کی تلاش میں نکلیں گے۔ اپنے چہروں اور اعضاء کو پاک بنائیں گے یعنی طہارت اختیار کریں گے اور کپڑے (چادر تہبند وغیرہ) کو نصف پنڈلی تک باندھیں گے ان کی قربانیاں اللہ کی راہ میں خون بہانے سے ہوں گی اور ان کی انجیلیں ان کے سینوں میں ہو گے (یعنی قرآن ، حفظ ہوگا) وہ رات کے وقت راہب ہوں گے اور دن کے وقت شیر ہوں گے (یعنی رات کو عبادت گزار اور دن کو مجاہد ہوں گے) فرمایا اس نبی کے اہل بیت میں سبقت کرنے والے صدیقین ، شہداء اور صالحین ہوں گے۔ اور آپ کی امت آپ کے بعد حق کی ہدایت کرنے والی ہوگی۔ جو ان کی مدد کرے گا۔ میں اس کو عزت دوں گا اور جو ان کے لئے دعا کرے گا میں اس کی تائید کروں گا اور گردش ان کے مخالفوں پر ڈال دوں گا ، اور انہیں اپنے نبی کا وارث بنائوں گا۔ فرمایا جس طرح وہ نبی داعی الی اللہ ہے اسی طرح اس کی امت کے لوگوں میں بھی داعی الی اللہ ہوں گے۔ جو نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ ادا کریں گے اور عہد کو پورا کریں گے۔ میں ان کا اختتام بھی اسی بہتری پر کروں گا جس سے ان کی ابتدا کی گئی تھی اور پھر آخر میں فرمایا ذالک فضلی ، یہ میرا فضل ہے جس کو چاہوں عطا کروں میں فضل عظیم کا مالک ہوں۔ اہل ایمان کے لئے بشارت حضور نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان کرنے کے بعد اللہ نے دیگر اہل ایمان کا ذکر بھی کیا اور فرمایا و بشر المومنین آپ ایمان والوں کو بشارت سنا دیں بان لھم من اللہ فضلاً کبیرا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔ اللہ نے اس امت کو تمام سابقہ امتوں پر فضیلت بخشی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں مگر سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت ہر جگہ اس امت کو فوقیت عطا فرمائی ہے۔ حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے ، لوگو ! اللہ نے تمہیں خیرالامم بنایا ہے ، لہٰذا اس کی شرائط کو بھی پورا کرو۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے رہو اور دین کے قیام میں وفاداری بھی دکھائو۔ مشن پر استقامت حضور ﷺ اور آپ کی امت کے فضائل بیان کرنے کے بعد فرمایا ولا تطع الکفرین والمنفقین آپ کافروں اور منافقین کی بات نہ مانیں وہ تو آپ کو آپ کے مشن سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ طعن وتشنیع اور جھوٹا پراپیگنڈا کرتے ہیں مگر آپ ان کی باتوں پر توجہ نہ دیں ودع اذاھم جو اذیتیں وہ مخالفین پہنچا رہے ہیں ان کو چھوڑ دیں اور اپنے مشن پر قائم رہیں و توکل علی اللہ اور اللہ پر بھروسہ رکھیں کیونکہ طاقت کا سرچشمہ وہی ہے۔ وہ آپ کو ہر شر سے محفوظ فرمائے گا۔ و کفی باللہ وکیلا اور اللہ تعالیٰ ہی کارساز کافی ہے وہی کام بنائے گا کیونکہ سارا اختیار اسی کے پاس ہے۔ وہ ساری بگڑی کو خود بنائے گا۔ آپ بس اپنے پروگرام کے مطابق چلتے رہیں۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم نکاح کرو مومن عورتوں کے ساتھ ، پھر تم ان کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم ان کو ہاتھ لگائو ، پس نہیں ہے تمہارے لئے ان پر کوئی عدت جس کو تم ان عورتوں سے برا کر ائو پس فائدہ پہنچائو ان کو اور رخصت کرو ان کو رخصت کرنا اچھے طریقے سے

ربط آیات گزشتہ آیات میں متنبیٰ کی مطلقہ سے نکاح کا مسئلہ بیان ہوا۔ پھر حضور ﷺ کے مرتبہ عالیہ اور آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور فرشتوں کی طرف سے دعائے رحمت کا بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اپنے آخری پیغمبر کو شاہد ، مبشر ، نذیر ، داعی الی اللہ اور سراج منیر بنا کر مبعوث فرمایا۔ پھر آخری امت کی فضیلتکا تذکرہ بھی ہوا۔ حضور ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ مخالفین کی ایذاررسانیوں کی طرف توجہ نہ کریں بلکہ اپنا مشن دلجمعی کے ساتھ جاری رکھیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں کہ حقیقی کارساز وہی ہے۔ عدت کے مسائل گزشتہ دروس میں حضرت زید ؓ اور حضرت زینب ؓ کے نکاح ، پھر ان کے درمیان علیحدگی بصورت طلاق اور پھر حضرت زینب ؓ کے حضور ﷺ کے ساتھ نکاح کا بیان ہوچکا ہے۔ جہاں طلاق کا ذکر آتا ہے وہاں عدت کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مختلف صورتوں میں عورت کی عدت کتنی ہے جس کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے۔ قرآن پاک میں مختلف صورتوں میں عدت کی مقدار کا تعین ہوچکا ہے۔ مثلاً جب کسی عام جوڑے کے درمیان طلاق واقع ہوجائے تو مطلقہ عورت کی عدت تین حیض ہے اور اگر وہ کم سن ہے یا کبر سنی کی وجہ سے حیض ختم ہوچکا ہے تو عدت تین ماہ تصور ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کی گئی ہے اور اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ یہ مدت تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا کچھ لحاظ نہیں ہوگا۔ طلاق قبل از مساس طلاق کی مذکورہ صورتوں کے علاوہ ایک اور صورت بھی ہے جس کا ذکر آیت زیر درس میں کیا گیا ہے۔ یہ ایسی صورت ہے کہ نکاح کے بعد میاں بیوی کی مباشرت سے قبل ہی طلاق واقع ہوجائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس قسم کا واقعہ خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا۔ آپ نے ایک خاتون کے ساتھ نکاح کیا جب اس کے ٹھکانے پر تشریف لے گئے تو وہ عورت کہنے لگی میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ آپ باہر آگئے اور فرمایا کہ تو نے بہت بڑی ذات کی پناہ طلب کی ہے ، لہٰذا میں نے تمہیں پناہ دے دی ہے پھر آپ نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ ایسی ہی طلاق کے متعلق اللہ نے یہاں ارشاد فرمایا ہے یایھا الذین آمنوا اے ایمان والو ! اذا نکحتم المومنت جب تم مومنہ عورتوں سے نکاح کرو ثم طلقتموھن من قبل ان تموھن پھر تم ان کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو۔ فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا پس تمہارے 1 ؎ ابن کثیر 894 ج 3 لئے ایسی عورتوں پر کوئی عدت نہیں ہے جسے تم پورا کرائو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مومنہ عورتوں سے نکاح اور پھر قبل از مساس طلاق کا ذکر کیا ہے جو کہ محض مومنہ کی شرف و فضیلت کے لئے ہے ، وگرنہ اگر کوئی شخص کسی کتابیہ عورت سے بھی نکاح اور پھر اسے خلوت سے قبل طلاق دے دے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر لمسوھن کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنی محض مس کرنا یا ہاتھ لگانا ہوتا ہے۔ مگر مطلب محض ہاتھ لگانا نہیں بلکہ مباشرت کرنا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدت کو مجامعت کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ کیونکہ جب میاں بیوی آپس میں ملتے ہیں تو حمل قرار پانے کا امکان ہوتا ہے۔ اللہ نے تینذ حیض کی عدت اسی لئے مقرر کی ہے تاکہ اچھی طرح تسلی ہوجائے کہ عورت حاملہ نہیں ہے اور نکاحثانی کی صورت میں نسل میں خلط ملت نہ ہو۔ اور اگر حمل موجود ہے تو عدت کی مدت وضع حمل بھی اسی نظریہ کے تحت رکھی گئی ہے۔ بایں ہمہ امام ابوحنیفہ خلوت صحیحہ کو بھی مباشرت کے قائم مقام قرار دیتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اگر میاں بیوی کو نکاح کے بعد ایسی خلوت حاصل ہوجائے کہ مباشرت میں کوئی چیز حائل نہ ہو اور اس کے بعد طلاق واقع ہوجائے تو اس خلوت کو مباشرت کے قائم مقام سمجھا جائے گا اور عورت کے لئے عدت پوری کرنا ضروری ہوجائے گا۔ دوران عدت کے احکام دوران عدت بھی عورت کے لئے بعض احکام لاگو ہوتے ہیں۔ مثلاً اللہ کا فرمان ہے کہ عورت طلاق سے قبل خاوند کے ساتھ جس مکان میں رتہی تھی ، وہ اسی مکان میں عدت گزارے ار خاوند یا اس کے لواحقین کو حکم دیا ہے کہ وہ مطلقہ یا بیوہ کو زبردستی اس مکان سے نہ نکالیں۔ ہاں اگر کوئی ایسی غیرمعمولی صورت حال پیدا ہوجائے کہ اس گھر میں عدت پوری کرنا ممکن نہ ہو تو پھر وہ دوسری جگہ بھی جاسکتی ہے۔ البتہ 1 ؎ درمنثور ص 702 ج 5 2 ؎ کثاف 945 ج 3 دوران عدت خرچہ اس کے خاوند یا لواحقین کے ذمے ہوگا۔ جہاں تک مرد کا تعلق ہے تو اگر میاں بیوی میں مباشرت ہوچکی ہے تو پورا مہر ادا کرنا ہوگا اور اگر مقاربت نہیں ہوئی اور طلاق واقع ہوگئی ہے تو مقررہ مہر کا نصف دینا ہوگا۔ اور اگر مہر مقرر نہیں ہوا اور قبل از مساس طلاق ہوگئی تو فرمایا فمتعوھن تو ان کو فائدہ پہنچائو فائدے کی تشریح میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کم از کم ایک جوڑا کپڑے دے دو جو کہ ایسی عورت کو ادا کرنا واجب ہوگا۔ ہاں ! طلاق کی عام صورتوں میں بھی مطلقہ کو ایک جوڑا کپڑے دے کر رخصت کرنا مستجب ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ جوڑا کس قسم کا ہو ، کم قیمت کا ہو یا زیادہقیمت کا۔ تو سورة بقرہ میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔ وہاں ارشاد ہے فمتعوھن علی موسع قدرہ و علی المقتر قدرہ (آیت۔ 632) مطلب یہ کہ امیر آدمی اپنی حیثیت کے مطابق جوڑا دے اور تنگ دست اپنی مالی حالت کے مطابق دے اور اگر ایسی صورتحال پیش آجائے کہ مرد اور عورت کے خاندانوں میں سے ایک خاندان امیر ہے اور دوسرا غریب تو پھر درمیانے درجے کا جوڑا دینا ہوگا۔ عالمی قوانین کی خرابیاں ہمارے ملک کے عالمی قوانین کی بعض دفعات کے خلاف علمائے کرام اکثر آواز احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں۔ اس قانون کی خرابیوں میں عدت کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ طلاق کی مختلف صورتوں میں عدت بھی مختلف ہے۔ مگر عالمی قوانین میں ہر حالت میں عدت کی میعاد نوے دن مقرر کی گئی ہے جو کہ درست نہیں۔ اسی طرح یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ بھی ہے۔ اللہ نے یتیم پوتے کا دادے کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں رکھا۔ مگر ہمارے عالمی قوانین میں اس کا حصہ بھی رکھا گیا ہے۔ جو کہ قرآن پاک کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ پرویزیوں کچا مشورہ تھا اور اسلامی قانون وراثت کے خلاف ہے بہرحال اس آیت کریمہ میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ جس عورت کو مقاربت سے پہلے طلاق مل جائے اس کی کوئی عدت نہیں ۔ اچھے طریقے سے رخصتی وسرحوھن سراحا جمیلا پھر انہیں اچھے طریقے سے رخصت کرو۔ مطلقہ کو اچھے طریقے سے رخصت کرنا ایک ایسی خصوصیت ہے جو اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔ یہ حسن معاشرت کا اسلامی اصول ہے کہ اگر بوجوہ میاں بیوی کا نباہ نہیں ہو سکتا تو پھر مجبوراً ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے رہ کر زندگی کو اجیرن بنا لینا۔ اچھی بات نہیں بلکہ طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرلو۔ اور اس موقع پر بھی کسی گالی گلوچ یا تشدد کی ضرورت نہیں بلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ طلاق جیسے ناپسندیدہ فعل کے باوجود مطلقہ کو عزت و احترام کے ساتھ احسن طریقے سے رخصت کرو۔ اگر مہر مقرر ہے اور قابل ادائیگی ہے تو ادا کرو۔ ایک جوڑا کپڑے دو ۔ دوران عدت عورت کو گھر سے نہ نکالو اور ہر ممکنہ سہولت بہم پہنچائو۔ اسلام نے تو اپنے مخالف کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دی ہے اور کسی برائی کی اجازت نہیں دی۔ طلاق کا معاملہ ہی دیکھ لیں۔ جب میاں بیوی کا اختلاف بڑھ جاتا ہے تو بعض لوگ غصے میں آ کر ناک کاٹ ڈالتے ہیں مگر اسلام نے ایسی چیزوں کی اجازت نہیں دی بلکہ فرمایا کہ تمام فرائض اور حقوق ادا کرو۔ پوری ذمہ داری کا ثبوت دو اور قرآن و سنت کے بتائے ہوئے ضابطے پر عمل پیرا ہو جائو۔ اسلام کی بہترین تعلیم ہی اس کے برحق ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے باوجود اگر لوگ بھٹکتے پھریں اور معاشرتی قوانین کے لئے اغیار کی طرف دیکھتے پھریں ، تو یہ ان کی بدبختی کی علامت ہے۔ انسانی ہمدردی کا اصول آج کل دنیا میں انسانی ہمدردی کی بڑی تشہیر ہو رہی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے انسانی ہمدردی کے بڑے بڑے اصول وضع کئے ہیں۔ اقوام متحدہ (UNO) کا چارٹر بھی موجود ہے۔ انسانی ہمدردی کے عالمی ادارے دنیا بھر میں مستحقین کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔ کیں قحط پڑجائے ، زلزلہ آجائے ، جنگ لگ جائے یا طوفان آجائے تو یہ ادارے حتی المقدور متاثرین کی امداد کرتے ہیں مگر کوئی بھی ادارہ خود غرضی سے خالی نہیں یہ ادارے اس امداد کے ذریعے مذہبی یا سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بعض عیسائی مشنریاں ہیں جو امداد کے نام پر لوگوں کو عیسائیت کی طرف مائل کرتی ہیں۔ بعض ملک اپنی سیاسی برتری کے لئے امداد دیتے ہیں۔ مگر جونہی انہیں سیاسی مفاد حاصل ہوتے ہیں تو وہ فوراً ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان اداروں اور ملکوں میں انسانی ہمدردی کا خالص جذبہ موجود نہیں ہے۔ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام اور غیرمذاہب کا تقابلی مطالعہ اسلام ایک نہایت ہی اعتدال پسند دین ہے جو کہ افراط وتفریط سے پاک ہے یہی طلاق اور عدت کا مسئلہ لے لیں اگر یہودیوں میں کسی عورت کو طلاق ہوجائے وہاں عدت گزارنے کا کوئی اصول نہیں بلکہ عورت اسی وقت نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نسل کی طہارت کیسے قائم رہ سکتی ہے۔ عیسائیوں اور ہندوئوں میں طلاق کا تصور ہی نہیں ہے۔ زوجین کی زندگی خواہ کتنی ہی اجیرن ہوجائے۔ ان کو موت ہی جدا کرسکتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اگر کوئی ہندو عورت بیوہ ہوجاتی تھی تو وہ خاوند کے ساتھ ہی آگ میں جل کر راکھ ہوجاتی تھی۔ عیسائیوں میں طلاق کی بنیاد صرف ایک ہی وجہ بن سکتی ہے کہ عورت زنا کی مرتکب ہوجائے۔ مگر اب ترقی یافتہ عیسائیوں نے اس اصول کو بھی ترک کردیا ہے اب وہ دنیاوی قانون کے تحت قانونی طلاق حاصل کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یورپی ممالک اور امریکہ میں کم و بیش اسی فیصد طلاقیں واقع ہو رہی ہیں۔ ذرا سا اختلاف رائے پیدا ہوا تو عورت نے طلاق کے لئے عدالت کی طرف رجوع کرلیا۔ ہم اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں کہ کسی عورت نے محض اس بناء پر طلاق حاصل کرلی کہ اس کا شوہر خراٹے بہت لیتا ہے۔ کسی نے یہ وجہ بیان کی کہ اس کا شوہر اس کے کتے کو پیار نہیں کرتا۔ ایک عورت نے اس لئے طلاق حاصل کرلی کہ اس کا شوہر اس کے دوستوں کو پسند نہیں کرتا غرضیکہ جس دین میں طلاق کا تصور تک نہیں تھا وہاں پر اسی فیصد طلاقیں واقع ہو رہی ہیں۔ اسلام ایک سچا مذہب ہے جس کے اصول دائمی اور قابل عمل ہیں۔ اسلام نے نکاح کو مردوزن کی ضروریات کی تکمیل اور بقائے نسل انسانی کے لئے ضروری قرار دیا ہے اور اس عقد نکاح کو قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ اس کے باوجود اگر حالات کا تقاضا ہو تو پھر اس سے گلوخلاصی کی گنجائش بھی رکھی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے ، کہ اگر میاں بیوی کا آپس میں نباہ نہ ہو سکے تو وہ طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں مگر طلاق کو غیرپسندیدہ فعل قرار دیا گیا ہے تاکہ حتی الامکان طلاق تک نوبت نہ پہنچے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ابغض المباحات الی اللہ الطاق یعنی اللہ کے نزدیک مباح چیزوں میں مبغوٗض ترین چیز طلاق ہے۔ تاہم اگر زوجین کی زندی میں مزید خرابیاں پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو طلاق کی اجازت ہے۔ 1 ؎ جامع صغیرہ ص 241 ج 2 و مستدرک 691 ج 2
Ayah 33:50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ! بیشک ہم نے حلال قرار دی ہیں ، آٰپ کے لئے آپ کی وہ بیویاں جن کے مہر آپ نے ادا کردیئے ہیں ، اور و جو آپ کی ملکیت میں ہیں جو اللہ نے آپ پر لوٹانی ہیں اور آپ کی چچازاد ، پھوپھی زاد ، ماموں زاد ار خالہ زاد بیٹیاں جنہوں نے ٓپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ ایماندار عورت بھی جو اپنے آپ کو نبی کے لئے ہبہ کر دے اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ آپ کے لئے خاص ہے۔ دیگر مومنوں کے علاوہ۔ تحقیق ہم جانتے ہیں جو ہم نے مقرر کیا ہے۔ ایمان والوں پر ان کی بیویوں کے بارے میں اور ان کی لونڈیوں کے بارے میں تاکہ تم پر کوئی حرج نہ ہو اور اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے

ربط آیات گزشتہ آیت میں مطلقہ عورت کی عدت کا مسئلہ بیان ہوا تھا کہ اگر کسی عورت کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دی جائے تو اس کے لئے کوئی عدت نہیں ، وہ جس وقت چاہے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ پھر اللہ نے حسن معاشرت کے ضمن میں فرمایا کہ طلاق شدہ عورت کو کپڑوں کا ایک جوڑا دے کر اچھے طریقے سے رخصت کرو۔ اور اگر مہر مقرر ہے اور ابھی ادا نہیں کیا تو وہ بھی ادا کرو۔ اگر مہر مقرر نہیں ہوا تو کپڑوں کا جوڑا دینا واجب ہوگا ، بصورت دیگر مستجب ہوگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نکاح کے سلسلے میں پیغمبر ﷺ کی سات خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ جن میں سے چار خصوصیات اس آیت کریمہ میں آگئی ہیں اور باقی تین آمدہ دروس میں بیان ہوں گی۔ تعدد ازواج کی اجازت حضور ﷺ کی پہلی خصوصیت کے متعلق ارشاد بایر تعالیٰ ہے یایھا النبی اے نبی (علیہ السلام) انا احللنا لک ازواجک التی اتیت اجورھن ہم نے آپ کے لئے وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کے مہر آپ ادا کرچکے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ازواج جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے کہ آپ نے جتنی بھی عورتوں کے مہر ادا کردیئے ہیں وہ سب آپ کے لئے حلال ہیں چاہے ان کی تعداد کتنی بھی ہے۔ یہ آپ کی خصوصیت ہے۔ وگرنہ عام مسلمانوں کے لئے بیک وقت چار عورتوں سے زیادہ کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ جیساذ کہ سورة النساء میں اللہ کا فرمان موجود ہے فنکحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و ربع (آیت۔ 3) پس اپنی طاقت کے مطابق دو ، تین یا چار عورتوں سے نکچاح کرسکتے ہو۔ بشرطیکہ ان کے حقوق ادا کرسکو اور ان کے درمیان انصاف کرسکو۔ اور اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر ایک عورت پر ہی اکتفا کرو۔ کثرت ازواج پر اعتراض حضور ﷺ کی تعدد ازدواج پر لوگ اعتراض کرتے آئے ہیں۔ خاص طور پر ہندو اور عیسائی اس اعتراض میں پیش پیش رہے ہیں بلکہ بعض غلط کار لوگوں نے اس پر کتابیں لکھی ہیں۔ ہندوئوں میں سے لاہور کا راجپال تھا جس نے ” رنگیلا رسول “ نامی کتاب لکھ کر اپنی خباثت کا اظہار کیا تھا۔ اس کو غازی علم الدین شہید (رح) نے کیفر کردار تک پہنچایا اور خود بھی تختہ دار پر چڑھ گیا۔ لوگ اس کے جذبہ ایمانی کے معترف ہیں۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی کثرت ازواج پر اعتراض کرنے والے انصاف سے کام نہیں لیتے۔ حضور ﷺ نے 52 سالہ ازدواجی زندگی نہایت اچھے طریقے سے بسر کی۔ گویا پچاس سال کی عمر تک تو آپ نے اسی ایک عورت پر اکتفا کیا۔ تو کیا باون سال کی عمر میں نعوذ باللہ آپ کو عیاشی کی ضرورت پیش آگئی تھی ؟ حضرت خدیجہ ؓ کی فوتیدگی کے بعد آپ نے ایک دوسری معمر عورت حضرت سودہ ؓ سے نکاح کیا۔ اور چار سال تک وہی اکیلی آپ کے نکاح میں رہی۔ تیسری خاتون جس سے آپ نے نکاح کیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی حضرت عائشہ ؓ تھی۔ ان کے ساتھ نکاح مکہ میں نابالغ عمر میں ہوا اور رخصتی مدینہ میں آ کر ہوئی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جوانی کا زمانہ تو آپ نے بوڑھی عورتوں کے ساتھ گزار دیا تو بڑھاپے میں آپ کو زیادہ بیویاں کرنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی ؟ آیت کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کثرت ازواج کا حکم حضور ﷺ کو خود اللہ نے دیا تھا انا احللنا لک یعنی ہم نے آپ کے لئے حلال کردیں۔ اور اس میں مصلحت یہ تھی کہ دین اسلام کی تبلیغ کو عام کیا جاسکے۔ چونکہ عورتوں کے مسائل عورتوں سے ہی دریافت کئے جاسکتے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ عورتیں حضور ﷺ کی صحبت میں رہ کر احکام دین سیکھیں اور پھر ان کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں چناچہ آپ کی تمام ازواج مطہرات عالمہ فاضلہ اور نہایت پاکباز تھیں ، لہٰذا انہوں نے تبلیغ دین کے لئے بڑا کام کیا۔ اس کام میں ان کا حصہ بعض اوقات مردوں سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ کثرت ازواج کا دوسرا بڑا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف نفرت کو حتی الامکان دور کیا جائے۔ چناچہ اس سلسلہ میں بہت حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ ابو سفیان ؓ اگرچہ قریش خاندان سے تھے مگر حضور ﷺ اور دین کے سخت دشمن تھے ، مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ کا نکاح حضور کے ساتھ ہوگیا تو ابو سفیان ؓ کی دشمنی بہت حد تک کم ہوگئی تھی۔ یاد رہے کہ آپ پہلے ہی اسلام لا چکی تھیں اور مہاجرین حبشہ میں بھی شامل تھیں۔ وہیں آپ کا نکاح حضور ﷺ کے ساتھ غائبانہ طور پر وہا تھا۔ حضرت صفیہ ؓ بطور لونڈی آپ کے پاس آئی تھیں مگر آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کرلیا۔ اس طرح یہودیوں کی نفرت بھی کم ہوگئی۔ اسی نکاح کی وجہ سے یہودیوں کو حضور ﷺ کے قریب آنے کا موقع ملا۔ اور ان میں سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے ، عربوں میں یہ عام دستور تھا کہ جس خاندان میں کسی شخص کا نکاح ہوجاتا وہ سارا خاندان اس شخص کو اپنا داماد سمجھتا۔ اور حتی الامکان اس سے حسن سلوک سے پیش آتا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ کثرت ازواج کی وجہ سے آپ کی دشمنی بہت کم و گئی۔ اسی طرح باقی نکاحوں کی وجہ سے بھی اسلام کو بہت فائدہ پہنچا۔ لونڈیوں کی علت حضور ﷺ کی پہلی خصوصیت تو اللہ نے یہ بیان فرمائی کہ آپ کو کثرت ازواج کی اجازت فرما دی اور آپ کی دوسری خصوصیت یہ ہے وما ملکت یمینک مما افاء اللہ علیک اور وہ لونڈیاں بھی آپ پر ہم نے حلال قرار دی ہیں جو اللہ نے آپ پر لوٹائی ہیں۔ مثلاً حضرت صفیہ کا تعلق یہودی خاندان سے تھا اور وہ آپ کے ہاں بحیثیت لونڈی آئی تھیں۔ یہودیوں کی ایک اور عورت ریحانہ بھی بطور لونڈی آپ کی تحویل میں آئی تھی۔ اسی طرح مصر کے بادشاہ مقوقس نے ماریہ قبطیہ ؓ نامی لونڈی آپ کی خدمت میں بھیجی تھی جس سے اولاد بھی ہوئی۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آپ کے لئے لونڈیاں بھی حلال قرار دی ہیں۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ لونڈیاں تو عام مسلمانوں کے لئے بھی حلال ہیں اس میں حضور ﷺ کے لئے کیا خصوصیت ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لونڈیوں کے معاملے میں حضور ﷺ کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد بھی کوئی امتی ایسی لونڈی سے نکاح نہیں کرسکتا جو حضور ﷺ کی ملکیت میں رہی ہو۔ خاندانی و مہاجر عورتوں سے نکاح اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تیسری خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے و بنت عمک و بنت عمتک و بنت خالک و بنت خلتک التی ھاجون معک اور آپ کے لئے ہم نے حلال قرار دی ہیں آپ کی چچا کی بیٹیاں اور پھوپھی کی بیٹیاں اور ماموں کی بیٹیاں اور خالہ کی بیٹیاں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ رشتہ کی مذکورہ عورتوں سے نکاح تو عام مسلمانوں کا بھی حلال ہے۔ تاہم حضور ﷺ کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کا نکاح مذکورہ عورتوں میں صرف اسی وقت حلال ہے جب کہ انوں نے ہجرت بھی کی ہو یعنی مکہ چھوڑ کر آپ کے پاس مدینہ طیبہ آگئی ہوں۔ البتہ جن عورتوں نے ہجرت نہیں کی ان کے ساتھ آپ کا نکاح حلال نہیں۔ حالانکہ عام مسلمانوں کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔ چناچہ حضور ﷺ نے حضرت علی کی ہمشیرہ ام ہانی ؓ سے نکاح کی خواہشظاہر کی تھی مگر اللہ نے محض اس لئے منع فرما دیا کہ اس نے ہجرت نہیں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے خاندان کی غیر مہاجر عورتوں سے شادی سے اس لئے منع کردیا کہ اس طرح ان عورتوں کو دوہری فضیلت حاصل ہوجائے گی۔ ایک تو وہ آپ کے خاندان قریش سے تعلق رکھتی تھیں اور دوسرے اگر وہ آپ (علیہ السلام) کی زوجیت میں آ جتایں تو شاید اس دوہری فضیلت پر اترانے لگتیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگا دی کہ ان عورتوں سے نکاح صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ہجرت کی ہو۔ ہجرت چونکہ محض رضائے الٰہی کے لئے کی جاتی ہے ، لہٰذا مہاجر عورتوں میں فخر و خود پسندی کا احتمال بہت کم تھا۔ ہجرت کے ساتھ مشروط کرنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جس عورت نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہوگی ، اس کو دین کی تعلیم و تربیت کا بھی زیادہ موقع ملا ہوگا اور زیادہ عورتوں سے نکاح کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اسلام کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہو لہٰذا اللہ نے ہجرت کی یہ شرط عائد کردی۔ بغیر مہر کے نکاح کی اجازت اللہ نے حضور ﷺ کی چوتھی خصوصیت یہ بیان فرمائی ہے۔ وامراۃ مومنۃ ان و ھبت نفسھا للنبی ان ارادنبی ان یستنکحھا اور ہم نے وہ مومنہ عورت بھی آپ کے لئے حلال کردی ہے جو اپنے نفس کو نبی کے لئے بخش دے۔ اگر اللہ کا نبی اس سے نکاح کا ارادہ رکھتا ہے مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عورت ازخود بغیر مہر کے نبی (علیہ السلام) سے نکاح پر رضامند ہے تو اس کی بھی اجازت دے دی گئی۔ جب کہ عام امتیوں کے لئے مہر کی ادائیگی ضروری ہے۔ جیسا کہ سورة النساء میں ہے و احل لکم ما وراء ذلکم ان تبتغوا باموالکم (آیت۔ 42) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے چار محرکات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے علاوہ باقی عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں بشرطیکہ تم مال خرچ کرو یعنی انہیں حق مہر ادا کرو۔ یہ ادائیگی اس قدر ضروری ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے نکاح کے بعد مباشرت نہیں کی فنصف ما فرضتم (البقرہ۔ 732) تو پھر بھی اسے نصف مہر ادا کرنا ہوگا۔ تاہم اللہ نے نبی (علیہ السلام) کو مہر کی ادائیگی کے بغیر بھی نکاح کی اجازت دے دی جب کہ کوئی عورت ازخود ایسا کرنے پر رضامند ہو۔ حضور ﷺ کو اللہ کی طرف سے یہ اجازت تو مل گئی ، مگر آپ کی حیات مبارکہ میں ایسا کوئی موقع نہیں آیا کہ آپ نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا ہو۔ ایک خاتون نے اپنے آپ کو حضور کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ مگر آپ نے یہ پیشکش قبول نہیں فرمائی تھی بلکہ اس عورت کا نکاح اپنے ایک صحابی سے کرا دیا تھا۔ یہ بھی حضور ﷺ کی خصوصیت ہے۔ اللہ نے فرمایا خالصۃ لک من دون المومنین یہ سہولت خالص آپ کے لئے ہے۔ باقی مومنوں کے لئے نہیں۔ احکام الٰہی کی حکمت آگے ارشاد ہوتا ہے قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم تحقیق ہم جانتے ہیں جو ہم نے ان کی بیویوں کے بارے میں مقرر کیا ہے وما ملکت ایمانھم اور ان کی لونڈیوں کے بارے میں بھی مطلب یہ ہے کہ ہم نے عام نکاح اور لونڈیوں کے بارے میں جو قحقو و مہر مقرر کئے ہیں ان کی ادائیگی ضروری ہے ہاں اگر کوئی عورت از خود سارا یا مہر کا کچھ حصہ معاف کر دے تو اس کی اجازت ہے فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ہنیئا من یا (النسائ۔ 4) یعنی اگر وہ مہر کا کچھ حصہ معاف کر کے تمہیں خوش کرلیں۔ تو پھر تم اسے خوشگوار اور خوش ہضم کھا سکتے ہو۔ اور اگر تمہاری بیوی مہر لینا چاہتی ہے تو ادا کرنا ہوگا۔ ورنہ آخرت میں مواخذہ ہوگا۔ فرمایا ، نکاح کے بارے میں ہم نے یہ خصوصی احکام اس لئے جاری کئے ہیں لکیلا یکون علیک حرج تاکہ آپ پر کوئی تنگی نہ ہو۔ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کو قائم کرنا ہے ، اسلام کو پھیلانا ہے ، لہٰذا اللہ نے آپ کے لئے بعض سہولتیں پیدا کردی ہیں تاکہ آپ ترویج دین کے سلسلہ میں کوئی دقت محسسو نہ کریں مثلاً یہ کہ آپ بیک وقت چار سے زیادہ نکاح بھی کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی عورت ایسا چاہے تو آپ بغیر مہر کے بھی نکاح کرسکتے ہیں۔ فرمایا و کان اللہ غفور رحیما اللہ تعالیٰ نہایت ہی بخشش کرنے والا مہربان ہے۔ وہ معمولی غلطیوں ، کوتاہیوں کو معاف کرتا رہتا ہے اور بندوں کو اپنی رحمت سے نوازتا رہتا ہے۔