Ayahs 32:1–5ناعداد کوائف :
اس سورة کا نام سورة السجدۃ ہے ، اسی نام کی ایک اور سورة سورة م سجدۃ بھی ہے ۔ وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان کے اتصال کے ساتھ کرتے ہیں یعنی وہ سورة مبارکہ جو سورة لقمان سے متصل ہے ۔ اس سورة کا دوسرا نام سورة المضاجع بھی ہے کیونکہ اس میں بستروں کا ذکر بھی آتا ہے کہ اہل ایمان اپنے بستروں کو چھوڑ کر رات کے وقت اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں۔
1 ؎ جوع المعافی ص 411 ج 12 (فیاض)
اس سورة کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں سجدہ تلاوت آتا ہے ۔ مگر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سجدہ تلاوت تو بہت سی سورتوں میں آتا ہے۔ پھر اس سورة کی کیا خصوصیت ہے کہ اس کا نام ہی سجدہ کے نام پر رکھ دیا گیا ہے ۔ اس کے جواب میں مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس سورة میں سجدے کا ذکر خاص انداز میں کیا گیا ہے کہ جب اہل ایمان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ فوراً سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ۔ اسی لئے اس سورة کا نام ہی سورة السجدہ رکھ دیا گیا ہے۔ اس سورة کی تیس آیتیں اور تین رکوع ہیں ۔ یہ سورة تین سو تیس الفاظ اور ایک ہزارپانچ سو اٹھارہ (8151) حروف پر مشتمل ہے ۔ اس سورة کا زمانہ نزول سورة لقمان کے قریب قریب ہی ہے یعنی یہ بھی مکی دور کے درمیانی یا آخر دور کی سورة ہے ۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
گزشتہ سورة لقمان میں حضرت لقمان (رح) کی بعض نصیحتوں کا ذکر کیا گیا تھا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھیں ۔ ان میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی ان اشکر اللہ کہ اللہ کا شکر ادا کرو ۔ اب اس سورة مبارکہ میں اللہ کا شکر ادا کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور وہ ہے اقامت صلوٰۃ ۔ نماز پڑھنے والا آدمی گویا یا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ دونوں سورتیں آپس میں مربوط ہیں۔
فضائل سورة :
حدیث شریف 1 ؎ میں آتا ہے کہ تیس آیات پر مشتمل ایک ایسی سورة ہے جسے ایک شخص نے پڑھا تھا ۔ تو اس سورة نے اس آدمی کے حق میں سفارش کی اور اس شخص کو اللہ نے عذاب سے بچالیا۔ یہ وہی سورة السجدۃ ہے ۔ قرآن پاک میں تیس تیس آیات والی سورتیں ہیں یعنی سورة السجدۃ ، سورة الملک ، سورة الفجر ، عذاب قبر سے بچائو کے لئے ان تینوں سورتوں کی تلاوت مفید ہے ۔ چناچہ حدیث شریف 2 میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سونے سے پہلے سورة الملک
1 ؎ درمنشور ص 1 71 ج 5
2 ؎ درمنشور ص 071 ج 5 وجمل ص 214 ج 3 وفتح القدیر ص 642 ج 4 و تفسیر الثعالبی ص 212 ج 3 (فیاض )
اور سورة السجدہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ، مسند احمد میں یہ روایت 1 ؎ بھی موجود ہے کو حضور ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں عام طور پر سورة السجدہ اور سورة الدھر تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ گویا جمعہ کے دن ان سورتوں کی تلاوت مستحب یعنی زیادہ باعث ثواب ہے ۔
مضامین سورت
گزشتہ سورة کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد کا ہی ذکر ہے چناچہ اس سورة میں بھی توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ہیں ۔ شرک کی تردید ہے ۔ رسالت کا بیان ہے اور قیامت اور جزائے عمل کی بات بیان کی گئی ہے۔ جہاں تک قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا تعلق ہے تو یہ ذکرگزشتہ سورة کی ابتداء میں بھی گزرچکا ہے اور اس سورة کی ابتداء بھی اسی موضوع سے ہوئی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تورات جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی تھی مگر آپ کی قوم بنی اسرائیل نے اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں ذلت و خواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ لہٰذا اس آخری امت کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی آخری کتاب ملنے پر اس کا شکر ادا کریں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کتاب کو پڑھیں ۔ اس میں غور وفکر کریں ۔ اس کے اصولوں کو اپنائیں اور اسے پوری زندگی کا دستور العمل بنالیں ۔ اتنی عظیم کتاب کی موجودگی میں بھی اگر ہم ہدایت کسی دوسری جگہ سے تلاش کریں تو یہ ہماری بہت بڑی بد قسمتی ہے ۔
علیحد انہ نظام کی درآمد :
ابھی کل کے اخبار میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ پاکستان سے چھبیس آدمیوں پر مشتمل وفد کو ریا کے دورے پر روانہ ہوا ہے اس دورے کا مقصد یہ ہے ، کہ کو ریا کے دیہات سدھار پروگرام کا مطالعہ کریں اور اسے پاکستان میں بھی نافذ
1 ؎ مسند احمد ص دور منشور ص 071 ج 5 وتفسیرجمل ص 114 ج 3 وفتح القدیر ص 64 2 ج 4 (فیاض )
کریں ۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان قوم جس کے پاس قرآن پاک جیسا عظیم دستور اعمل موجود ہے ۔ وہ دیہات سدھار کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ، کافر ، مشرک اور اشتراکیت زدہ ملک کو ریا کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ اسلام کے نام پر بلنے والے اس ملک پاکستان کے لئے اس سے بڑی لعنت کیا ہو سکتی ہے ۔ سورة الا عراف میں اللہ کا فرمان ہے۔ ولو اناھل القری امنو واتقو الفتحنا علیھم برکت من السماء والارض ولکن کذبوا فاخذنھم بما کانو یکسبون (آیت ۔ 69) اگر بستیوں والے ایمان اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھول دیتے ۔ مگر ان لوگوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کی کمائی کے بدلے میں ان کو سزاد دی ۔ خدا نے تو ایمان اور تقوییٰ کے ذریعے بستیوں کو سدھار نے کا حکم دیا ہے مگر ہم اغیار کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ دیہات اور شہروں کی ترقی کے لئے قرآن سے بڑھ کر کون سا پروگرام ہے ۔ کو ریاں سے تو محض الحاد کی درآمد ممکن ہے ۔ ایک مسلمان قوم کو چاہئے کہ وہ ایمان ، تقویٰ اور عدل کی راہ اختیار کرے تو ان کے لئے سارے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے ۔
حروف مقطعات :
اس سورة کی ابتداء بھی حروف مقطعات الم سے ہوئی ہے۔ ان حرف کے معافی گزشتہ سورة کی ابتداء میں اجمالی طور پر بیان کردیئے گئے تھے ۔ جن کا بہترین مفہوم وہی ہے جو امام جلال الدین سیوطی (رح) نے بیان 1 ؎ کیا ہے اللہ اعلم بمزادہ بذلک ان حروف کی مراد کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ۔ امنا وصدقنا ہمارا اس پر ایمان ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں ان تین حروف 2 ؎ 1 ، ل اور حر میں سے 1 حلق کی انتہا سے نکلتا ہے ۔ ل حلق کو دسط سے اور م کا مخرج ہونٹ ہیں ان حروف سے یہ نقطہ سمجھایا گیا ہے کہ انسان جو ۔
1 ؎ جلالین ص 4 2 ؎ بیضادی ص 3 ج 1 (فیاض)
بھی کام کرے ۔ اس کی ابتداء وسط اور انتہا اللہ کے ذکر سے ہونی چاہئے ۔ ایسے کام میں ضرور کامیابی ہوگی ۔ اور جوش خص خدا تعالیٰ کی یاد کو فراموش کردیتا ہے ۔ وہ کامیابی کا منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
قرآن کی حقانیت :
ارشاد ہوتا ہے تنزیل الکتب لا ریب فی کتاب کے اتارے جانے میں کوئی شک نہیں ہے من رب العلمین کہ یہ ہے بھی پروردگار عالم کی طرف سے ۔ اس میں قرآن حکیم کے وحی الٰہی اور حق وصداقت کے پیکر ہونے کا ارشارہ ہے ۔ یہ ایسی واضح کتاب ہے جس کی صداقت میں شک نہیں کیا جاسکتا یہ دراصل کفار ومشرکین کے اس اعتراض کا جواب ہے جس میں وہ کہتے تھے امر یقولون افترتہ کہ اس کتاب کو پیغمبر ﷺ نے از خود گھڑ لیا ہے ، حالانکہ یہ بڑی ہی بیہودہ بات ہے ، اللہ نے تصدیق کی کہ یہ من گھڑ لیا ہے ، حالانکہ یہ بیڑ ہی بیہودہ بات ہے ، اللہ نے تصدیق کی کہ یہ من گھڑت کتاب نہیں ہے بل ھو الحق من ربک بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے یعنی باکلل سچی کتاب ہے ، اور اسکے نزول کا مقصد یہ ہے لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قلک تاکہ آپ ذرائیں اس قوم کو جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا لعلھم بھتدون تاکہ یہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔
یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ سورة فاطر میں تو اللہ نے فرمایا ہے وان من امد الا خلا فیھا نذیر (آیت 4 2 ) اللہ نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے مگر یہاں فرمایا کہ اس کتاب سے اس قوم کو ڈرانا مقصود ہے ، جن کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ مفسرین 1 ؎ کرام اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس قوم سے مراد بنی اسماعیل ہے جن کے ہاں زمانہ قریب میں کوئی نبی معبوث نہیں ہوا تھا ۔ حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیما السلام کے بعد ڈیڑھ ہزار برس
1 ؎ کبیر ص 661 ج 5 2 وقطر طبی ص 5 8 ج 4 1 (فیاض )
تک عرب کی سرزمین پر کوئی بنی نہیں آیا تھا ۔ اور اس لحاظ سے یہ لوگ وان کی محروم تھے ۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تو بہت سے انبیاء شاموفلسطین میں آتے رہے حتیٰ کہ یمن میں حضرت ہو د اور صالع (علیہما السلام) بھی مبعوث ہوئے۔ مگر عرب کا علاقہ انبیاء کی آمد سے طویل عرصہ تک محروم رہا اور یہ لوگ وحی کے علم سے نا بلد رہے ۔ اس لئے ان کا قلب امی مشہور ہوچکا تھا ۔ چناچہ بعض 1 ؎ مفسرین نے اس سورة کا نام سورة الا میتین بھی بتایا ہے بہرحال مطلب یہی ہے کہ بنی اسماعیل میں طویل عرصہ تک کوئی نبی نہیں آیا تھا ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نازل فرما کر ان لوگوں کی تعلیم کا بندوبست کیا تاکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب سے ڈر کر ہدایت کا راستہ اختیار کرلیں ۔
استویٰ علی العرش :
آگے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کی گئی ہے اللہ الذی خلق السموات والارض وما بینھما فی ستہ ایام اللہ تعالیٰ کی ذات ہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ۔ تخلیق ارض وسما کا ذکر قرآن میں کئی مقامات پر آیا ہے ۔ تو فرمایا کہ ان چیزوں کی تخلیق کے بعد ثم استویٰ علی العرش اللہ تعالیٰ عرش پر قائم ہوا اللہ کریم کا عرش پر مستوی ہونا متشا بہات میں سے ہے ۔ اس کا عرش پر قائم ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اسکی شان کے لائق ہے ۔ ہم اس استویٰ کو عام انسان کے کرسی ، صوفییا چار پائی وغیرہ پر بیٹھنے پر قیاس نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات مادی اشیاء اور زمان ومکان کی قید سے پاک ہے ۔ وہ ان چیزوں سے وراء الوراد ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی 3 ؎ اس کو تجلی سے تعبیر کرتے ہیں ، اور فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس سب سے پہلے عرش پر پڑتا ہے ، جس سے سارا عرش رنگین ہوجاتا ہے ، عرش کے نیچے حظیر ہ القدس کی جماعتیں رہتی ہیں ۔
1 ؎ 2 ؎
جہاں پر قضاء وقدر کے فیصلے ہوتے ہیں اور پھر ساری کائنات میں نافذہوتے ہیں پھر ان فیصلوں کے نتائج پلٹ کر وہیں آجاتے ہیں۔
مسئلہ سفارش :
فرمایا مالکم من دونہ من ولی ولا شفیع اسکے علاوہ تمہارے لئے کوئی حمائتی اور کوئی سفارشی نہیں ہے ۔ اس سفارش سے مراد مشرکا نہ سفارش ہے ۔ مشرکوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جن خود ساختہ معبودوں کی وہ عبادت کرتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور نذرونیاز پیش کرتے ہیں وہ انہیں قیامت کے دن بچا لیں گے ، خواہ خدا راضی ہو یا نا راض ، اس قسم کی سفاعت باطل ہے ۔ البتہ صحیح سفارش وہ ہوگی جس میں الا باذن اللہ کی شرط ہوگی اللہ تعالیٰ جن مقصومین کو جن لوگوں کے حق میں سفارش کی اجازت دیں گے ۔ وہ سفارش مفید ہوگی اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو کفر ومشرک سے پاک اور عقیدہ تو حید پر پختہ ہوں گے ، اگر ان کے اعمال میں کوتاہی ہوگی ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں ، انبیاء خصوصاً خاتم النبیین ﷺ ، شہداء صالحین اور کامل الایمان لوگوں کو اجازت دیں گے اور وہ گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے ، فرمایا تو حید کا یہ مسئلہ بالکل واضح ہے افلا تنذکرون کیا تم ان باتوں میں غو وفکر کر کے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر چیز سے بلندو برتر ہے اور اس کے سوا کوئی حمائتی اور سفارش بھی نہیں ہے ، لہٰذا مشرک کفر کو ترک کر کے اس کی توحید پر کار بند ہو جائو ۔
تدبیر الٰہی :
ارشاد ہوتا ہے خدا تعالیٰ وہ ہے ید تبرالا مرمن السماء الی الارض جو آسمانوں کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہرچیز کی تدبیرخود کرتا ہے ۔ ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدرۃ الف سنۃ مما تعدون پھر وہ چڑھتا ہے اس کی طرف ایک دن میں جس کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر ہے جسے تم شمار کرتے ہو ، اس سے مراد وہ بڑے بڑے امور میں جنہیں اللہ تعالیٰ جاری کرتا ہے اور پھر انکی تکمیل ہوتی ہے اور ان کے نتائج اُوپر چڑھتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی حکمنافذ کرتا ہے تو وہ نافذ ہوجاتے ہیں اور پھر ہزارسال تک ان پر عملدرآمد ہوتا ہے اور اسکے نتائج برآمد ہو کر اوپر چڑھتے ہیں اور پھر دوسراحکم نافذ ہوجاتا ہے ۔ یہ مضمون دوسرے مقام پر بھی آتا ہے وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعذون (الحج ۔ 74) تمہارے پروردگار کے ہاں کا ایک دن تمہاری گنتی کے حسب سے ایک ہزار سال کا ہوگا۔
شاہ عبد القادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ بڑے بڑے امور اور انتظامات سے متعلق حکم عرش سے جاری ہوتا ہے ، پھر وہ نیچے کی طرف آتا ہے تو تمام حسی ، معنوی ، ظاہری اور باطنی اسابب جمع ہو کر اس حکم کی تعمیل میں لگ جاتے ہیں اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق وہ حکم طویل مدتک نافذ رہتا ہے ۔ اور اس کے بعد اسے واپس لے لیا جاتا ہے اور دوسرا حکم جاری کردیا جاتا ہے ۔ اس کی مثال پیغمبروں کی بعثت ہے ۔ اللہ کے جلیل القدر پیغمبروں کی تعلیم کا اثرقرنوں تک رہا۔ اس طرح بڑ ی بڑی قوموں اور نسلوں کی عملداری سینکڑوں اور ہزاروں سال تک چلتی رہی غرضیکہ فرمایا کہ اس دنیا کا ایک ہزار سال اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن کے برابر ہے ۔
دوسرے مقام پر ایک دن کی مقدار پچاس ہزارسال کے برابر بھی بتائی گئی ہے تعرج المئلکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارۃ خمسین الف سنۃ (المعارج 04 ) فرشتے اور جبریل امین ایک دن میں اوپر چڑھتے ہیں اور اس دن کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہوگی ، گنہگاروں کے لیے یہ دن اگر چہ اتنا طویل ہوگا ۔ مگر اہل ایمان پر یہ عرصہجلد گزر
1 ؎ موضح القرآن ص 794 (فیاض )
جائے گا۔ تاہم تدبیرات الٰہیہ والے دن کی مقدار ایک ہزار سال کے برابر بتائی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ایک سکیم ہمارے ہاں کے ہزار سال کے برابر نافذ العمل رہتی ہے ۔ پھر جب اس کے نتائج برآمد ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کوئی دوسری سکیم نافذ کردیتے ہیں ۔ قوموں اور خطوں کی ترقی و عروج کے دور اسی طریقے سے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ بعض قومیں اور ملک عرصہ دراز تک بام عروج پر متمکن رہتے ہیں۔ پھر کوئی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ ان پر زوال آجاتا ہے اور کوئی دوسری قوم یا ملک ترقی کی منازل طے کرنے لگتا ہے ۔ عروج دزوال کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔
Ayahs 32:6–11پہلے سورة کی ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، اور اس کے بعد رسالت کا ، پھر قرآن کے نزول کی غرض وغایت بیان ہوئی تاکہ ان پڑھ لوگ اس سے ہدایت پائیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کا ذکر ہوا ، خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو چھ دن کے وقفے سے پیدا کیا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا ۔ اس کے سوا تمہارے لئے کوئی حمائتی اور مددگار نہیں ہوگا ۔ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے ، پھر اس تدبیر کے نتائج ایک دن میں اسکی طرف چڑھتے ہیں اور ایک دن کی مقدار یہاں کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ یہ تدبیر خدا تعالیٰ خود کرتا ہے اور یہ کام اس نے کسی دوسرے ذات کے سپرد نہیں کیا۔ بعض دوسری صفات کی طرح تدبیر بھی خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ میں شامل ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی چار صفات مختصہ :
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی
1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 01 ج 1 (فیاض )
عقات کی نسبت جب اس جہان کی تخلیق کی طرف کی جاتی ہے تو یکے بعد دیگرے اس چارصفات مختصہ کا ظہور ہوتا ہے ۔ اس کی پہلی صفت ابداع یا فطور ہے ۔ قرآن میں اس صفت کا ذکرجگہ جگہ آتا ہے بدیع السموت والارض (البقرۃ ۔ 711 ) فا طر السموات والارض (فاطر۔ 1) وہ خدا تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا پیدا کنندہ ہے ۔ بدیع یا فاطر ایسی تخلیق کو کہتے ہیں جو بغیر کسی مادے آلے یا نمونے کے کی گئی ہو ۔ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے نہ کوئی اس کے لئے مادہ تیار کیا گیا ۔ نہ ان کو بنانے کے لئے کسی مشینری یا لیبر کی ضرورت پڑی اور نہ ہی پہلے سے کوئی سمپل موجود تھے جسکی نقل کی گئی ہو ، تو گویا آسمان و زمین کی تخلیق کے ضمن میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات بدیع نے کام کیا۔
اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت خلق ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز کسی دوسرے مادے سے تیار کی جائے ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر مادے کے پیدا نہیں کیا بلکہ خلقہ من تراب (آل عمران ۔ 95 ) ۔
اللہ نے ان کو مٹی کے مادے سے پیدا کیا ۔ مطلب یہ کہ مٹی یا زمین کی تخلیق صفت ابداع کے مطابق بغیر مادے کے ہوئی تھی۔ اب آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اس مٹی کے مادے سے ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت تدبیر ہے ، کسی چیز کا گھٹانا بڑھانا ، صحت ، بیماری ترقی وتنزل ، زندہ کرنا ، مارنا ، غرضیکہ تمام تغیرات وتصرفات اللہ کی صفات تدبیر کے تحت انجام پاتے ہیں ، یہ ساری تدبیر بھی اللہ تعالیٰ خود کرتا ہے اور یہ کام بھی اس نے کسی دوسری ہستی کے سپرد نہیں کیا۔
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت تدتی ہے ، جب انسان کی تخلیق ہوتی ہے تو اس کے قلب پر براہ راست اللہ تعالیٰ کی تجلی کا عکس پڑتا ہے ، اسی کو تدلی سے موسوم کیا جاتا ہے ، اس دنیا میں چونکہ لوگ حجاب مادیت ، حجاب رسم و رواج یا حجاب سود معرفت میں مبتلا رہتے ہیں ۔ اس لیے یہاں اس تجلی کو مخصوص نہیں کرتے ، البتہ اگلے جہان میں بینچ کر اس کو واضح طور پر محسوس کریں گے ، جب انسان کی موجودگی زندگی ختم ہوجائے گی ، اس کا یہ مادی خول اتر جائے گا اور اندر سے اصلی انسان ظاہر ہوجائے گا تو اس وقت اس تجلی کا پتہ چل جائیگا۔ یہ تجلی چونکہ اوپر سے آتی ہے اس لئے اس کی کشش بھی اوپر ہی کی طرف ہوتی ہے یعنی یہ کشش انسان کو عالم بالا یاخطیرۃ القدس کی طرف کھینچنا چاہتی ہے مگر نیکی سے محروم انسان نیچے کی طرف کھینچنے جائیں گے ، چناچہ اوپر اور نیچے والی کشش میں زبردست کھینچا تانی ہوگی جسکی وجہ سے انسان کو بڑی تکلیف پہنچے گی ،
عالم الغیب والشہادت :
گزشتہ درس کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفت تدبیر کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ تعالیٰ کے عالم الغیب ہونے کا تذکرہ ہورہا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ذالک علم الغیب والشہاتو یہی ذات ہے جو پوشیدہ اور ظاہر ہرچیز کو جانتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر مکان اور ہر زمان میں موجود ہے ، لہٰذا اس سیتو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ، تو اس کے غیب کو جاننے سے کیا مراد ہے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس غیب سے وہ چیز مراد ہے جو مخلوق کی نگاہ سے غیب ہے نہ کہ اللہ کی نگاہ سے ، اللہ تعالیٰ کا تو اپنا واضح ارشاد ہے وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض ولا فی السماء (یونی ۔ 16) تیرے پروردگار سے تو ارض وسماء میں ایک ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے ، تاہم یہاں پر خدا تعالیٰ کے لئے غیب کا لفظ اضافت کے طور پر استعمال ہوا ہے یعنی مخلوق کے اعتبار سے جو چیز غائب یا حاضر ہے ، اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے ، اور وہ خدا تعالیٰ العزیز کمال قدرت کا مالک اور الرحیم نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی مہر بانی کی دلیل ہے کہ اس نے انبیاء کو مبعثو ث فرمایا ، کتابیں نازل فرمائیں اور اس طرح لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان مہیا کیا ، اور پھر آخر میں قرآن پاک کے ذریعے ایک جامع پروگرام نازل فرما کر پوری کائنات کے لئے مادی اور روحانی حیات کا انتظام فرمادیا۔
بہترین تخلیق :
آگے اللہ تعالیٰ کی ایک اور صفت کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے الذی احسن کل شئی خلقہ جس نے اپنی پیدا کردہ ہرچیزکو خوب بنایا ہے ۔ اللہ کریم نے ہر شے کو ایسی کمال حکمت اور کمال مصلحت سے تخلیق کیا ہے کہ اس سے بہترین تخلیق ممکن ہی نہیں ۔ امام غزالی (رح) کا قول بھی ہے کہ کائنات میں خدا تعایلٰ کی پیدا کردہ چیزوں سے بہتر تخلیق ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں درخت ، پہاڑ ، چرند ، پرند ، پھل اور پھول وغیرہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کے شاہکار ہیں ۔ خاص طور پر انسان کے متعلق فرمایا ، لقد خلقنا الا نسان فی احسن تقویم (التین 04 1 ) ہم نے انسان کو بہترین سرشت میں پیدا کیا ۔ انسان کی ظاہری شکل و صورت اس کا قد ، رنگت ، بال ، کھال ، ہاتھ ، پائوں ، حواس ظاہر ہ اور باطنہ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ہر عضو کو کمال درجے کا بنایا ہے اور اس میں ضرورت کی ہر خوبی جمع کردی ہے ۔
پھر فرمایا وبدا خلق الا نسان من طین اور انسان کی پیدائش کی ابتداء مٹی سے کی ۔ انسان میں تمام ترخوبیوں کے باوجود اس کی اصل مٹی ہے جس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار ہوا۔ اللہ کا فرمان ہے خلقہ من تراب (آل عمران ۔ 95 ) اللہ نے آدم علیہ اسلام کو مٹی کے مادے سے تخلیق فرمایا ۔ الغرض ! اولین انسان کی تخلیق مٹی سے کرنے کے بعد ثم جعل نسلہ من سللۃ من ماء مھین اس کی نسل کو ایک حقیر قطرہ آب کے خلاصے سے چلا یا ۔ اب نسل انسانی قطرۃ آب سے چل رہی ہے ۔ یہ قطرہ عورت کے رحم میں پہنچ کر بچے کی پیدائش کا ذریعہ بنتا ہے اور اس طرح نسل انسانی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔
فرمایا ثم سوئہ پھر رحم مادر میں بچے کے اعضاء وجوارح کو درست کیا۔ ہر عضو کو اپنے ٹھکانے پر رکھا ، اس میں حواس ظاہرہ اور باطنہ پیدا کئے جب ڈھانچہ مکمل ہوگیا ونفع فیہ من روحیہ تو پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی لفظ روحہ وضاحت طلب ہے ۔ بظاہر اس کا معنی یہ بنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جسم سے روح پھونک دی۔ العیاذ للہ اللہ تعالیٰ تو جسمانیت سے پاک ہے۔ اس سے مراد ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی یعنی اس کی تجلی کے نتیجے میں انسان کی تخلیق ہوئی ۔
روح الٰہی ایک نہایت ہی لطیف چیز ہے جو حمل کے بعد چوتھے مہینے میں دوسرے حبان سے آکر انسان میں داخل ہوتی ہے ۔ دراصل روح تین چیزوں کا مرکب ہے ۔ پہلی چیز نسمہ ہے ۔ رحم مادر میں انسان نطفہ کی صورت میں داخل ہوتا ہے ، پھر اس کا لوتھڑا بنتا ہے ۔ پھر اسے اعضاء وجوارع تیار ہوتے ہیں ، خون پیدا ہوتا ہے اور نسمہ انسانی خون میں ایک لطیف نجار کا نام ہے جو خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے ۔
روح کا دوسرا حصہ نفس ناطفہ اور تیسرا حصہ روح الٰہی کا ہے جو ان کے ساتھ آکرمل جاتا ہے ، یہ تینوں چیزیں مل کر روح بنتی ہے ، یہ روح چونکہ دوسرے جہان سے آتی ہے اور یہ مادی نہیں بلکہ محرد چیز ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف منسوب کیا ہے ، اور ہم نے ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی ۔
کان ، آنکھ اور دل :
یہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے انسان کو ا۔۔۔ مٹی سے تخلیق کیا ، پھر اس کی نسل نطفہ آب سے چلائی ، پھر اس کو برابر کیا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی وجعل لکم السمع والا بصار والا فدۃ پھر اس نے تمہارے کان ، آنکھیں اور د ل بنائے ، کان اور آنکھیں انسانکے لئے ذرائع علم اور بہت بڑی نعمت ہیں ۔ کانوں سے سن کر اور آنکھوں سے دیکھ کر نتائج اخذ کئے جاتے ہیں ۔ انسانکے بولنے کا انحصار بھی سماعت پر ہے جو شخص سننے سے عادی ہوتا ہے وہ کوئی لفظ بول بھی نہیں سکتا۔ جب تک وہ سنے گا نہیں سیکھے گا نہیں اور جب تک سیکھے گا نہیں ۔ بول بھی نہیں سکے گا۔
اسی طرح دل بھی انسانکے لئے بہت بڑی نعمت ہے ، یہ مرکز شعور ہے ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور محبت ونفرت کے جذبات دل میں ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان تین چیزوں کا بطور خاص ذکر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اللہ نے انسان کو حواس خمسہ کی نعمت عطا فرمائی ہے جن کے ذریعہ انسان سننے اور دیکھنے کے علاوہ سونگھتا ہے ، چکھتا ہے اور ٹٹولتا ہے ۔ فرمایا اتنی عظیم نعمتیں حاصل کرنے کے باوجود قلیلا ما تشکرون تم میں سے بہت تھوڑے لوگ ہیں جو اپنے خاق اور مالک کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ ان اعضائے رئیسہ کا شکر یہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان کا نوں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمودات اور دوسری اچھی باتیں سنے ۔ اپنے کاروبار ، صنعت و حرفت اور فن کو سیکھنے کے لئے استعمال کرکے حلال روزی کا بندوست کرے ۔ اسی طرح آنکھوں کے ساتھ قرآن پاک کی زیارت اور اس کی تلاوت کرے دیگر کتب دینہ کا مطالعہ کرے ، نشانات قدرت کو دیکھ کر اس کی تعریف کو توصیف کے کلمات زبان پر لائے اور ان سے عبرت حاصل کرے ۔ اللہ کی عطا کردہ نگاہ کسی غلط مقام پر نہ ڈالے اور نہ کانوں کے ذریعے حرام باتوں کو سنے ۔ اسی طرح دل کا شکر یہ یہ ہے کہ وہ اس کے ذریعے غوروفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہنچانے اور اس میں بڑے وساوس اور غلط ارادوں کو داخل نہ ہونے دے ۔ فرمایا تم میں سے بہت تھوڑے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرتے ہیں ۔
بعث بعد الموت :
کفارومشرکین بعث بعد الموت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ بلکہ اس بعت بعد ضمن میں طرح طرح کے اعتراضات کرنے تھے ۔ وقالو اء اذا ضللنا فی الارض کہتے تھے کہ کیا جب ہم بوسیدہ ہو کر مٹی میں رل مل جائیں گے اور ہمارے ذرات منتشر ہوجائیں گے انا لفی خلق جدید تو کیا ہم پھر نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ جب کوئی انسان مرجاتا ہے تو اس کو زمین میں دفن کردیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد اس کا جسم حتی کہ ہڈیاں بھی گل سڑ جاتی ہیں ۔ ان چیزوں کا مشاہدہ کر کے کفار ومشرکین کہتے ہیں کہ بالکل نابودیگر جانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے زندہ ہوجائیں گے ؟ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ان کا یہ اعتراض محض اس لئے ہے بل ھم یلق سی ربھم کفرون کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقت کے منکر ہیں ۔ دوبارہ زندگی کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ انسان اگلے جہان میں زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو اور اس زندگی کے عقائد و اعمال کا حساب کتاب دے اور پھر اس کے نتیجے میں جزا یا سزا کو قبول کرے مگر یہ لوگ چونکہ اپنی بد کرداری کی وجہ سے سزا کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ہی انکار کر رہے ہیں کہ نہ دوبارہ زندہ ہو کر خدا کے سامنے پیش ہوں گے ، نہ حساب کتاب کی منزل آئے گی لہو رنہ جزا وسزا کا مسئلہ پیدا ہوگا ۔ اللہ نے دوسری جگہ فرمایا کہ یہ لوگ تو اپنے اس نرم ونازک جسم کی دوبارہ زندگی کا انکار کر رہے ہیں قل کونوا حجارۃ اوحدیۃ (بنی اسرائیل 005 ) اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر تم پتھریا لوہے جیسی سخت چیز بھی بن جائو تب بھی اللہ تعالیٰ تم کو زندہ کرکے اپنے سامنے لاکھڑا کرے گا۔ تمہاری ان بوسیدہ ہڈیوں کے ساتھ تو پھر بھی حیات کا تعلق رہا ہے مگر لوہے اور پھر میں تو ایسی کوئی چیز نہیں اگر تم اتنی سخت چیز میں بھی تبدیل ہوجائو ۔ تو پھر بھی تم کو دوبارہ زندگی عطا کی جائیگی اور حساب کتاب لیا جائے گا۔
انسان کی جان کہتی :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی موت یا دلائی ہے ، ارشاد ہوتا ہے۔ قل یتو فکم ملک الموت الذی وکل بکم (اے پیغمبر ﷺ آپ ان سے کہہ دیں کہ موت کا وہ فرشتہ تمہیں وفات دیتا ہے ، جو تمہارے ساتھ مقرر کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کو زندگی عطا کرتا ہے اور پھر عزرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے اس پر موت بھی طاری کرتا ہے ۔ یہ فرشتہ اللہ چار مقرب فرشتوں میں سے ایک ہے ۔ اس کے ساتھ اس کا عملہ ہوتا ہے ۔
جو تمام کائنات کے انسانوں اور دیگر جانداروں کی روحیں قبض کرنے پر مامور ہے ۔ سورة الاننعام میں ہے حتیٰ کہ اذا جاء احدکم الموت توقتہ رسلنا (آیت ۔ 16) جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان کو قبض کرلیتے ہیں ۔ مفسرین کرام 1 ؎ اس کی تشریح اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جب کسی کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے تو عزرائیل (علیہ السلام) کے ساتھی فرشتے متعلقہ شخص کی جان کو اس کے جسم حتیٰ کہ اس کے ناخنوں اور بالوں سے سمیٹ لیتے ہیں ۔ فلو لا اذا بلغت الحلقوم (الوالقۃ ۔ 3 8) حتیٰ کہ جبوہ بالکل حلق میں آجاتی تو ملک الموت اس کو لے لیتا ہے اور پھر وہ اس کو آگے لے جاتے ہیں ۔
حدیث 2 ؎ میں ایک انصاری صحابی ؓ کا واقعہ آتا ہے ۔ حضور ﷺ اس کی نزع کی حالت میں اس کے پاس گئے ۔ وہاں ملک الموتموجود تھے ۔ آپ نے اس سے فرمایا ۔ اے ملک الموت : میرے صحابی کے ساتھ جان کنی میں نرمی اختیار کرو ۔ اس نے جواب دیا ، اے محمد ﷺ ! خدا کی قسم میں تو ہر مومن کے ساتھ نرمی کا سلوک کرتا ہوں میں تو اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہوں اور اس کے حکم کی تعمیل میں تلاش کرتا رہتا ہوں کہ کس شخص کی جان کو کس وقت اوکس مقام پر قبض کرنا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ میں ایک مچھر کی جان بھی اپنے ارادے اور قدرت سے نہیں نکالتا میں تو صرف خدا تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں ، مجھے بھی عین وقت پر ہی بتلا یا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی جان فلاں ، وقت اور فلاں مقام پر قبض کرنی ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ ملک الموت مقرر ہے جو تمہارے جانوں کو قبض کرلیتا ہے ۔
بعداز وفات :
فرمایا جب کسی شخص کی روح قبض کرلی جاتی ہے ثم الی ربکم
1 ؎ جمل ص 5 14 ج 3
2 ؎ روح المعافی ص 5 2 1 ج 1 2 وقرطبی ص 3 9 ج 4 1 ودرمنشور ص 3 71 ج 5 (فیاض)
ترجعون پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف ہی لوٹائے جائو گے ، مرنے کی بعد انسان عالم برزخ میں داخل ہوجاتا ہے ، اللہ کے مقرب بندوں کی روح خطیر ہ القدس میں پہنچ جاتی ہے ، اور اس کا تعلق قبر میں موجود جسم کے ساتھ بھی رہتا ہے ، یہ قبض شدہ روح جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے وہاں رہتی ہے ، عالم برزخ میں جزا اور سزا کا احساس بھی ہوتارہتا ہے جیسا کہ اہل سنت کا عذاب قبر کے برحق ہونے پر اتفاق ہے اس کے بعد حشر کا تیسرا جہان قائمہوگا ، وہاں پر یہ مادی جسم اپنے تمام قویٰ ، اعمال اور اخلاق کے ساتھ موجود ہوگا ، پھر محاسبہ اعمال کی منزل آئیگی ، جزا اور سزا کے فیصلے ہوں گے اور پھر دائمی زندگی شروع ہو جائیگی۔ یہ چوتھی سٹیج ہوگی اما الی الجنۃ واما الی النار پھر یا تو کوئی شخص جنت میں چلا جائے گا یا جہنم کا ایندھن بن جائے گا ۔ جزائے عمل کا کوئی بھی عقلمند انسان انکار نہیں کرسکتا ، البتہ مشرک کافر اور نا داں لوگ ہی اس کو بعید خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی کیس اتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر کیسے جی اٹھیں گے ، اللہ نے فرمایا کہ جب وقت آئیگا تو اللہ کے حکم سے مٹی میں منتشر تمام ذرات پھر اکٹھے ہوجائیں گے کہ انسان پورے جسم اور قویٰ کی ساتھ زندہ ہو کر سامنے کھڑا ہوجائے گا ، اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے ، جس نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا فرمادیا اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل کام ہے ۔
Ayahs 32:12–16ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کا تذکرہ ہوا ۔ تو حید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے گئے ، رسالت کا بیان ہوا ۔ اور ساتھ ساتھ قیامت اور جزائے عمل کا تذکرہ ہو۔ پھر تخلیق انسان کا مسئلہ بیان ہوا ۔ پھر اس کی ناشکر گزاری کا شکوہ ہوا ۔ پھر وقوع قیامت کے متعلق کفارومشرکین کے انکار کا ذکر ہوا۔ کہ وہ کہتے ہیں ۔ کہ جب ہم مرکزی مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر ہمارا دوبارہ زندہ ہونا کیسے ممکن ہوگا ؟ اللہ نیف رمایا کہ دراصل یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں ۔ درمیان میں اختصار کے ساتھ پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب کیا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہاری جانوں کو ملک الموت قبض کرتے ہیں ۔ پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا ٹے جائو گے جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا فرمادیا تو اب دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے کیسے مشکل ہوسکتا ہے ۔ اس کا فیصلہ ہے کہ وہ سب کو ضرورزندہ کرکے اپنے سامنے لاکھڑا کریگا ، اور پھر حساب کتاب جزائے عمل کی منزل آئے گی۔
دنیا میں دوبارہ آمد کی خواہش :
اب اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کی دوبارہ زندگیکا کچھ حال بیان فرمایا ہے ۔ آج تو یہ لوگ اس چیز کو ناممکن خیال کرتے ہیں مگر قیامت والے دن جب برفی الوقعہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر کئے جائیں گے تو ان کی پیشمانی قابل دیذ ہوگی۔ فرمایا ولو تر ی اذالمجرمون ناکسواراء وسھم عند ربم اور اگر آپ دیکھیں ان مجرموں کو جب کہ وہ اپنے پروردگار کے سامنے سرنگوں حاضر ہوں گے ، تو ذلت اور ندامت کے ساتھ عرض کریں گے ربنا البصرنا اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنی آنکھوں سیدیکھ لیا وسمعنا اور اپنے کانوں سے سن لیا ، اب ہمیں یقین آچکا ہے کہ جس چیز کو ہم بعید خیال کرتے تھے ، وہ ہمارے سامنے ہے ، لہٰذا اب ہمارے درخواست یہ ہے ۔
فارجعنا نعمل صالحا کہ ہمیں دنیا میں واپس پھیر دے ۔ اب کی دفعہ ہم نیک اعمال انجام دیں گے ، انا موقنون بیشک ہمیں یقین آگیا ہے کہ تیرا وعدہ برحق ہے ۔ تو نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے جو جو پیغام بھیجے ۔ وہ درست ثابت ہوئے ہیں ۔ اب ہم برے عقائد و اعمال کو ترک کر کے اچھے عقائد و اعمال اختیار کریں گے ۔ سورة الشعراء میں مجرموں کا یہ بیان آتا ہے ۔ فلو ان لنا کرۃ فنکون من المومنین (آیت 201) اگر ہمیں دنیا میں واپس جانے کا ایک موقعہ مل جائے تو ہم وقوع قیامت اور جزائے عمل پر ایمان لے آئیں گے ، تیرے انبیاء اور کتابوں کو تسلیم کرلیں گے اور نہایت اطاعت گزار بن کر زندگی گزاریں گے ، مگر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم اب جہنم بےسچنے کے لئے بہانے تراش رہے ہو ، میں تمہارے سر پست سے واقف ہوں حقیقت یہ ہے کہ ولو رد والعادوالما نھو عنہ وانھم لکذبون (الانعام ۔ 82 ) اگر انکو دنیا میں لوٹا بھی دیا جائے تو یہ لوگ پھر وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے ، بیشک یہ جھوٹ ولا رہے ہیں کہ واپس جاکر نیک اعمال انجام دیں گے ، اللہ کے ہاں دنیا میں دوبارہ لوٹ آنے کو کوئی قانون نہیں ہے ، جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا درالعمل ختم ہو کر دارا بھڑا شرع ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا اب انہیں اپنی کارکردگی کا بدلہ چکھنا ہوگا ۔
جبری اور اختیاری ہی ہدایت :
ارشاد ہوتا ہے ولو شیئنا لا تبنا کل نفس ھم لھا اگر ہم چاہیں تو ہر نفس کو ہدایت کے راستے پر چلا دیں مگر تو زبردستی ہدایت پر چلانے والی بات ہوگی ۔ سورة الا نعام میں فرمایا ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھید (آیت 53 ) اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا مگر ایسا کرنا اس کی حکمت کے خلاف ہے ۔ اس کا قانون یہ ہے انا ھدینہ اسبیل اما شاکر وایتا کفورا (الدھر ۔ 3 ) ہم نے انسان کی راہنمائی صراط مستقیم کی طرف کردی ہے اپنے انبیاء بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیئے ہیں ۔ اب یہ ہر شخص کی اپنی صوابد یہ پر ہے کہ وہ ہدایت والا راستہ اختیارات کرتا ہے ۔ یا کفر ، شرک اور گمراہی والا ۔ اب جو شخص اپنے اختیار اور ارادے سے ہدایت کو قبول کرے گا ، وہ اس امتحان میں سرخرد ہوگا ، اگر انسان کو اللہ تعالیٰ زبردستی ہدایت کے راستے پر ڈال دے تو انسان کو حیثیت ایک جدید پتھر سے زیادہ نہ ہو کہ جس طرف چابالڑھکا دیا ۔ الہل نے انسان کو قوائے ظاہرہ اور باطنہ دے کر فی الجملہ خود مختار بنا دیا ہے کہ وہ جو نساراستہ چاہے اختیار کرے اب اس کی کامیابی یاناکامی کا انحصار اس کی اپنی پسند ناپسند پر ہے ۔
فرمایا اگر ہم چاہتے تو سب کو راہ راست پر لے آئے ولکن حق القول منی لا مئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین مگر میری طرف سے حق بات یہ ہے کہ میں جنوں اور انسانوں سب سے جہنم کو بھردوں گا ، جنوں اور انسانوں میں سے جو بھی کفر ، شرک اور معاصی کے راستے پر چلے گا ، سب کو جہنم رسید کروں گا ، جب شیطان نے اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنے کی قسم اٹھائی تھی تو اللہ نے اس کے بارے میں بھی یہی الفاظ استعمال کئے تھے لا ملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین (ص ۔ 58) میں تجھے اور تیرے پیروکاروں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے ۔
ہمیشگی کا عذاب :
فرمایا اب تمہاری دنیا میں واپسی کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی ، اب تو صرف دنیا کی زندگی کا بدلہ ملنے والا ہے ۔ فذوقو بما نسیتم لقاء یو مکم ھذا پس اب عذاب کا مزہ چکھو اس وجہ سے کہ تم نے آج کے دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا ۔ اس وقت تو کہنے تھے کہ نہ کوئی قیامت ہے ، نہ حساب کتاب کی منزل اور نہ ہی جزائے عمل۔ دراصل فراموش شدہ چیز کا تذکرہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو نظر انداز کردیا جاتا ۔ مطلب یہی ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی میں رہ کر آخرت کی زندگی کو نظر انداز کردیا۔ لہٰذا اب اس کا مزہ چکھو انا نسینکم آج ہم بھی تمہیں نظر انداز کردیں گے ، آج تمہاری کوئی درخواست قبول نہیں کریں گے بلکہ اپنیرحمت سے دور کردیں گے اب تمہارے ساتھ یہی سلوک ہونے والا ہے ۔ وذوقو اعذاب الخلد بما کنتم تعملون اب اپنے اعمال کی پاداش میں ہمیشہ کا عذاب چکھو ، عقیدہ بھی ایک دائمی چیز ہے جسے انسان اپنے ذہن وقلب اور وح میں جمالیتا ہے ، پھر جب یہ عقیدۃ ہی باطل ہوجائے ، انسان کفر اور شرک کو اپنے آپ پر حادوی کرلے تو اس کی سزا بھی دائمی ہوگی ۔
اہل ایمان کا کردار :
منکرین اور مکذبین کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا تذکرہ بھی فرمایا ہے ۔ انما یو من بایتنا بیشک ایمان لاتے ہیں ہماری آیتوں پر الذین اذا اذکروا بھا وہ لوگ کہ جب ان کو ان آیات کے ساتھ نصیحت کی جاتی ہے ۔ حرواسجدا وسبحوا بحمدربھم تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تسبیح بیان کرتے ہیں اپنے پروردگار کی اس کی تعریف کے ساتھ ۔ آیات سے مراد قرآنی آیات کے علاوہ تمام معجزات اور دلائل بھی ہیں جو توحید اور قیامت کے اثبات یا کفرو شرک نے رو میں ہو سکتے ہیں آیات سے مراددین کے۔۔۔ بھی آجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ آیات سے مراد قدرت کی تمام نشانیاں ہیں جن کو دیکھ کر انسان خدا تعالیٰ کی وحدانیت کوس مجھ سکتا ہے ۔ تو فرمایا کہ جب اہل ایمان پر ہماری آیتیں پیش کی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید بیان کرتے ہیں ، مقصد یہ کہ آیات الٰہی سن کر اہل ایمان پر خشوع و خضوع طاری ہوجاتا ہے وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں ، زبان پر خدا تعالیٰ کی حمد وثناء جاری ہوجاتی ہے اور دل میں عاجزی اور انکساری آجاتی ہے اور تکبروغرور دفع ہوجاتا ہے ۔ سورة الفرقان میں یہ مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے والذین اذا ذکروا بایت ربھم لم یختروا علیھا صما وعمیا نا (آیت ۔ 3 7 ) جب ان کے سامنے اللہ کی آیتیں ذکر کی جاتی ہیں تو وہ ان پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گر پڑتے بلکہ ان میں غوروفکر کرتے ہیں اور تعمیل احکام بھی کرتے ہیں ۔
اس آیت کو ہر پڑھنے یا سننے والے مسلمان پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے ۔ اگر ایک مجلس میں یہی آیات باربار پڑھی جائے تو سجدہ ایک ہی بار کافی ہوگا اور اگر مجلس کی تبدیلی کے بعد دوبارہ یہی آیت پڑھی یا سنی گئی تو دوباہر سجدہ کرنا لازم ہوجائے گا۔
تکبر کی بیماری :
فرمایا ہماری آیتوں پر ایمان لانے والے لوگ آیات کو سن کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید بیان کرتے ہیں وھم لا یستکبرون اور وہ کتبر نہیں کرتے ۔ تکبربہت بڑی خصلت ہے ، جو انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے ، شیطان تکبر ہہی کی وجہ سے مردود ٹھہرا ۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ دیگرقباحتوں کی نسبت تکبر کو دل سے نکالنا زیادہ مشکل ہے ۔ چناچہ بیعت کا مقصد انسان کی تربیت اور اصلاح ہے ، محض رسومات ازقسم عرس ، قوالی وغیرہ کرالینا تو بیعت کا مقصود نہیں ہے۔ مرشد کا کام تو یہ ہے کہ وہ اپنے مرید کی اس طرح تربیت کرے کہ اس کی تمام بڑی خصلتیں دور ہو کر اچھی خصلتیں پیدا ہوجائیں ۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بڑے بزرگ ، عالم دین ، مفتی اور پیر بھی تھے ۔ سلوک کے موضوع پر آپ کی کتاب ” تربیت السالک “ وغیرہ پڑھیں ۔ آپ کے مرید خطوط کے ذریعے اپنے اشکال پیش کرتے تھے اور آپ ہر اشکال کا علاج تجویز فرماتے تھے اور واضح کرتے تھے کہ فلاں خصلت کو اس طرح دور کرنا ہے اور اس کے مقابلہ میں فلاں عمل کرنا ہے ۔ آپ سے قدیم اور جدید تعلیم یافتہ ہر قسم کے لوگوں نے اصلاح کا سلسلہ قائم کیا اور درجہ کمال تک پہنچے ابھی حال میں کراچی کے ڈاکٹر عبد الحی (رح) فوت ہوئے ہیں آپ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے اور وکیل تھے ۔ انہوں نے حضرت تھانوی (رح) سے بعیت کر کے علم اور تربیت دونوں حاصل کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کی کا یا پلٹ دی اور انہیں کمال کا مرشد بنادیا ۔ بہر حال تکبر کے متعلق پرانے بزرگ فرماتے ہیں نقل الجبال ایسرین اخراج الکبرمن القلوب یعنی سوئی کے ذریعے پہاڑوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا تکبر کو دلوں سے نکالنے کی نسبت آسان کام ہے بزرگ فرماتے ہیں کہ بڑے اوصاف میں تکبر ایک ایسی چیز ہے جو سب سے آخر میں نکلتا ہے ، تکبر کا مسکن انسان کا دل ہوتا ہے ، کوئی علم کی وجہ سے تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ کوئی مال و دولت اور قوت کی وجہ سے کوئی حسن و جمال اور فن کی وجہ سے ، بہر حال تکبر بہت بڑی خصلت ہے ۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد 1 ؎ ہے لا یفخربعہ نکم علی بعض اے ایمان والو ! ایک دوسرے کے سامنے فخر نہ کیا کرو ۔ بلکہ فرمایا کہ خدا نے میری طرف وحی کی ہے کہ لوگ فخر نہ کریں بلکہ تواضع و انکساری اختیار کریں ۔ انہ ۔۔۔۔ المستکبرین (النحل ۔ 32) بیشک اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ۔
تہجد گزار بندے :
اللہ نے اہل ایمان کی یہ صفت بھی بیان فرمائی ہے تستجا فی جنوبھم عن المضاجع ان کے پہلو بستروں سے جدارہتے ہیں ، مطلب یہ کہ جب رات کو آرام کرنے کا وقت ہوتا ہے تو ایمان والے اپنے نرم وگرم بستروں کو چھوڑ کر اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہوجاتے ہیں اور پھر کیا کرتے ہیں ؟ یدعون ربھم خوفا وطمعا لپکارتے ہیں اپنے پروردگار کو خوف اور امید کے ساتھ اس بات میں قدرے اختلاف ہے کہ وہ کون سی نماز ہے جس کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان اپنے پروردگار کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں ۔ حضرت بلال ؓ کی روایت 2 ؎ میں آتا ہے کہ ہم لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل ادا کیا کرتے تھے اور اس آیت سے یہی نماز مراد ہے تاہم زیادہ تر مفسرین فرماتے ہیں 2 ؎ کہ اس سے تہجد کی نماز مراد ہے ، سونے کے بعد دوبارہ اٹھ کر نماز ادا کرنا بڑا مشقت طلب کام ہے مگر اس نماز تہجد کا اجر بھی بہت زیادہ ہے ۔
1 ؎ 2 ؎: ابن کثیر ص 164 ج 3 3 ؎ ابن کثیر 954 ص ج 3 (فیاض )
حضور ﷺ کے بعض ارشاد سے بھی ثابت ہے کہ اس آیت کریمہ میں جس نماز کا ذکر ہے ، وہ تہجد کی نماز ہے ۔ آپ 2 3 ؎ کا ارشاد مبارک ہے کہ جنت میں ایسے بہترین محلات ہوں گے کہ اندر سے باہر کا اور باہر سے اندر کا بخوبی نظارہ ہو سکے گا ۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، حضور ! یہ محلات کن لوگوں کی قسمت میں ہوں گے ؟ فرمایا جو روزہ رکھیں گے ، غرباء مساکین کو کھانا کھلائیں گے اور ایسے وقت میں نماز ادا کریں گے ۔ والناس نیام جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں گے اور اس سے تہجد کی نماز ہی مراد ہے ۔
اور باقی رہی یہ بات کہ اہل ایمان اپنے پروردگار کو خوف اور ایمان کے ساتھ پکارتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ایمان میں یہ دونوں چیزیں شامل ہیں بلکہ الا یمان بین الخوف والرجاء ایماندار آدمی کا ایمان خوف اور امید کے دوران ہوتا ہے ، اسے خدا تعالیٰ کے جلال و عظمت اور اس کی گرفت کا خوف ہوتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے جلیل القدر انبیاء بھی اس کے خوف سے لرزتے ہیں ۔ اسی لئے حضر ت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھ ان یغفرلی خطیتی یوم الدین (الشعراء 02 8) پروردگار ! قیامت والے دن میری لغرشوں کو معاف فرمادینا ۔ کہیں میری گرفت نہ ہوجائے ۔ دوسری طرف مومن اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ پر امید رہتے ہیں کہ وہ انکی لغزشوں کو معاف فرما کر نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا ۔ کیونکہ اس کی رحمت اس کے قہر پر غالب ہے ۔
فرمایا اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے و مما رزقنھم ینفقون وہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ فریضہ زکوٰۃ ادا کرنے کے علاوہ صدقات و خیرات کرتے ہیں ۔ غرباء مساکین
1 ؎ قرطبی ص 001 ج 4 1 و خازن ص 3 22 ج 5
2 ؎ معالم التزیل ص 951 و خازن ص 5 22 ج 5 (فیاض )
کا خیال رکھتے ہیں ، جہاد حج اور عمرہ کے لئے خرچ کرتے ہیں ، یہی اہل ایمان لوگ ہیں کہ اللہ کی آیات سن کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ۔