Ayahs 32:17–22ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین اور منکرین قیامت کا رڈ فرمایا اور ان کی جزا کا ذکر کیا اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان کی تعریف فرمائی کہ جب ان کو اللہ
کی آیتیں یا دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ، رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے جدا ہوجاتے ہیں وہ اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں مناجات کرتے ہیں ، ان کے دل خدا کے عذاب سے خوفزدہ اور وہ اس کی رحمت سے پر امید ہوتے ہیں ، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزی میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔
خفیہ انعامات :
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صفات کے حامل مومنین کے لئے اپنے خفیہ انعامات کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین پس کوئی نفس نہیں جانتا جو پوشیدہ رکھی گئی ہے ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ، مطلب یہ کہ آج کسی اہل ایمان کے علم میں بھی نہیں کہ اللہ نے ان کے لئے کیسے کیسے انعامات خفیہ طور پر رکھے ہوئے ہیں ۔ جو انہیں بہشت میں پہنچ کر ہی معلوم ہوں گے ، اور ان کے لئے آنکھوں کی ٹھندک بن جائیں گے ، یعنی وہ اس جزائے علم سے بہت خوش ہوں گے ، فرمایا جزاء بما کانو یعملون یہ بدلہ ہے ان اعمال کا جو وہ انجام دیتے رہے ۔
گذشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے بندے راتوں کو اٹھ کر اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں رات کے وقت چھپ چھپا کر بارگاہ ایزدی میں مناجات کرتے رہے اسی طرح اللہ نے ان کے انعامات کو بھی پوشدیہ رکھا ہوا ہے جن کا علم انہیں وہیں جاکر ہوگا ۔ اور وہ ان کے لئے اچانک خوشی کا باعث بنیں گے ۔ حدیث شریف 1 ؎ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی موجود ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہیں ، نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی دل پر کھٹکی ہیں ، پھر حضور ﷺ نے یہی آیت تلاوف فرمائی فلا تعلم …الخ
نیک وبد کا انجام :
ان انعامات کا تذکرہ کرنے کے بعد استفہا میہ انداز میں فرمایا افمن کان مومنا کما کان فا سقا کیا بھلا ایک مومن
1 ؎ تفیر طبری ص 401 ج 2 وابن کثیر ص 64 ج 3 وروح المعافی ص 231 ج 1 2 (فیاض )
اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ ایک طرف اللہ کی توحید کو تسلیم کرنے والا شخص ہے ، اس کے رسولوں ، کتابوں اور بعث بعد الموت پر ایمان رکھنے والا ہے اور دوسری طرف آیا ت الٰہی کو جھٹلا نے والا ، پیغمبروں کا تمسخر اڑانے والا ، کتابوں کو قصے کہانیاں بتانے والا اور جزائے عمل کا کلیتا منکر آدمی ہے ۔ بھلا ان دونوں کا انجام برابر کیسے ہو سکتا ہے ؟ اللہ نے خودہی فرمادیا لا یستون یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں نعوذ باللہ کوئی اندھیرنگری نہیں ہے ، کہ بڑا بھلا ایک جیسے ہوں ، بلکہ وہاں تو حق و انصاف کے فیصلے ہوتے ہیں ، وہاں ایماندار اور نافرمانوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں ہوگا بلکہ ہر ایک کا انجام اس کے عقیدے اور عمل کے مطابق ہوگا ۔
اہل ایمان کی مہمان نوازی :
آگے اہل ایمان اور نافرمان کا انجام بیان کیا گیا ہے اما الذین امنو بہرحال وہ لوگ جو ایمان لائے ، ایمان لانے سے مراد ہے کہ اللہ کی وحدنیت کو تسلیم کیا ، اس کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ، کتب سماویہ پر یقین رکھا اور وقوع قیامت کو برحق جانا ، اللہ کے تمام انبیاء اور علماء کو تسلیم کیا اور اس طرح پہلے اپنے ایمان کی اصلاح کی وعملوالصلحت اور اس کے بعد نیک اعمال انجکام دیئے ، نیک اعمال وہی ہوں گے جن کو خدا کا دین اور شریعت بھی لیگ قرار دیئے ۔ اور عقل سلیم بھی نیک تسلیم کرے ، ان اعمال میں سرفہرست عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ہیں ، پھر جہاد صدقہ ، خیرات اور احسان وغیرہ اعمال صالحہ میں شامل ہیں ، تو فرمایا کہ جو لوگ ایمان لانے اور پھر اچھے اعمال بھی انجام دے فلھم جنت الماوی ایسے لوگوں کے لئے رہائش کے قابل باغات ہوں گے ، بعض باغات میں رہائش اختیار نہیں کی جاسکتی مگر اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں کہ جن کے اندر ہی رہائش کی تمام سہولتیں میسر ہوں گی ، گویا وہ رہائش گاہ بھی ہوگی اور سیر گاہ بھی ہر طرح کا آرام و سکون میسر ہوگا ۔ ضرورت کی ہر چیز وہاں دستیاب ہوگی ، ایسے باغات میں پانی کی نہریں جاری ہوگی اور درختوں پر ہر طرح کے پھل موجود ہوں گے ، فرمایا یہ سب کچھ نزلا بما کانو یعملون ان کی مہمان نوازی کے طور پر ہوگا ان اعمال کے بدلے میں جو وہ دنیا کی زندگی میں انجام دیتے رہے ۔
اہل جنت کو یہ نعمتیں بغیر مشقت کے حاصل ہوں گی کیونکہ یہ ان کی مہمان نوازی کے طور پر ہوگا ، اپنے گھر میں انسان ہر طرح کی نعمتیں حاصل کرلیتے ہیں مگر اس کے لئے محنت ومشقت کرنا پڑتی ہے تب جاکر مطلوبہ چیز حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود نعمت کے ختم ہوجانے کا ہر آن امکان ہوتا ہے ، خود انسانی زندگی روبہ زوال رہتی ہے اور آخر ایک نہ ایک دن ختم ہوجاتی ہے اور تمام نعمتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ، موت سے پہلے طرح طرح کی بیماریاں اور حوادثات پیش آتے رہتے ہیں ، جن کی وجہ سے انسانوں کو پریشانی لاحق ہوتی ہے ، مگر جنت میں نہ تو زندگی ختم ہوگی اور نہ کسی نعمت کے چھن جانے کا خطرہ ہوگا ، اہل ایمان کی یہ مہمان نوازی دائمی ہوگی اور یہ اس لئے کہ وہ دنیا میں اچھے اعمال انجام دیتے رہے ۔
کفار کا انجام :
اس کے بالمقابل کفار کے متعلق فرمایا و امام الذین فسقو ا بہر حال وہ لوگ جنہوں نے نافرمانی کا ارتکاب کیا ۔ فسق کا اطلاق انسان کی مختلف حالتوں پر ہوتا ہے ۔ یہ لفظ مطلق گنہگار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جب کہ اس کا لغویٰ معنی اطاعت سے باہر نکل جاتا ہے ۔ اللہ نے مشرکوں کے متعلق فرمایا و اکثر ھم فسقون (التوبہ ۔ 8) ان میں سے اکثر فاسق ہیں اہل کتاب کے متعلق بھی فرمایا و اکثر ھم الفسقون (آل عمران ۔ 011) ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے ۔ منافقوں کے متعلق بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے انکم کنتم قوما فسقین (التوبہ 035 ) تاہم اس مقام پر فاسق سے مراد کافر ہیں کیونکہ یہ لفظ ایمان کے مقابلہ میں لایا گیا ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ جنہوں نے کفر اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا فما ولھم الناران کا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہوگا ۔ اور وہ ایسا بڑا ٹھکانا ہے ۔ کلما اراد وا ان یخرجو منھا جب بھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اعید وافیھا تو اس میں دھکیل دیئے جائیں گے اور دوزخ سے باہرنکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وقیل لھم اور ان سے کہا جائے گا ذوقو اعذاب النار الذی کنتم بہ تکذبون اس دوزخ کا عذاب چکھو جس کی ہمیشہ تکذیب کرتے رہے ، کہ کوئی قیامت نہیں ہے اور نہ ہی کو جزائے عمل کا موقعہ آئے گا ۔ آج وہ موقعہ آچکا ہے ، لہٰذا اس کا عذاب برداشت کرو۔ سورة الطور میں اہل دوزخ کے متعلق حکم ہے (صلو ھا وصابرواولا تصبر واخوۃ علیکم (آیت ۔ 01) کہ اس دوزخ میں داخل ہو جائو ۔ اب یہاں صبر سے عذاب کو برداشت کردیا ہے صبری کا اظہار کرو۔ تمہارے لئے برابر ہے ۔ یعنی تمہیں یہ عذاب ملتا رہے گا اور تمہاری چیخ و پکار رائیگاں جائے گی۔ بہر حال فرمایا کہ ایک مومن اور کافر کا انجام برابر نہیں ہو سکتا ۔
دنیا میں کمر عذاب :
آگے اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر اور ہم انہیں بےعذاب سے پہلے قریب کا عذاب رضور چکھاتے ہیں لعلھم یر جعون تاکہ یہ لوگ واپس لوٹ آئیں ۔ آخرت کا عذاب تو بڑا اور دائمی عذاب ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے پہلے ہم دنیا میں کمتر عذاب کا مزہ بھی چکھاتے ہیں یہ طلب یہ ہے کہ لوگ فسق وفجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کسی دبائو ، بیماری ، طوفان ، زلزلہ ، قتل وغار نگری یا مالی وجانی نقصان کی صورت میں ان پر عذاب نازل فرمادیتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس سے ڈر کر کفر شرک اور معاصی سے باز آجائیں انہیں اس چھوٹے عذاب کے ذریعے تنبیہ ہوجائے اور شاید یہ فسق وفجور کو ترک کر کے بڑے عذب سے بچ جائیں ۔
1 ؎ فتح الخیر ص 3 و تفسیر الثعا طبی ص 01 2 ج 3 (فیا ض)
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) حجۃ اللہ البالغہ 1 ؎ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مجرمین کو دنیا میں اس دنیوی نظام کی موجودگی میں بھی بعض جرائم کی سزا دیتا رہتا ہے ۔ کوئی بیماری آگئی ، حادثہ پیش آیا ، جان ، مال یا اولاد کا نقصان ہوگیا ، قحط پڑگیا یا جنگ مسلط ہوگئی ۔ یہ سزا ہی کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ لوگوں کی تنبیہ کے لئے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں سعادت مند لوگ سمجھ جاتے ہیں اور وہ جرائم سے باز بھی آجاتے ہیں مگر جو نا ہنجار قسم کے لوگ ہوتے ہیں وہ تنبیہ کا کچھ اثر قبول نہیں کرتے اور اعمال بدد میں منہمک رہتے ہیں اور پھر آخرکا ر بڑے عذاب کے مستحق بن جاتے ہیں شاہ صاحب (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ بعض اوقات لوگ سزا کے مستحق بن جاتے ہیں مگر بعض اسباب کی وجہ سے وہ سزار کی رہتی ہے ۔ پھر وہ اسباب رفع ہوجاتے ہیں تو مقررہ سزا طوفان کی طرح یکدم وارد ہوجاتی ہے ۔
آیات الٰہی سے اعراض :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے ۔ ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے کہ جب اس کے سامنے اس کے پروردگار کی آیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نازل فرمائے ہیں یا اس نے اپنی وحدانیت کے یہ دلائل پیش کئے ہیں ثم اعرض عنھا تو پھر وہ شخص ان سے اعراض کرجاتا ہے ۔ آیات الٰہی کی طرف توجہ ہی نہیں کرتا بلکہ ہر اچھی بات سنی ان سنی کردیتا ہے ۔ اللہ نے اعراض کی یہ صورت بھی بیان فرمائی ہے ، صم بکم عمی وہ اندھے ، بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں ، حق بات سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا انا من المجرمین منتقمون بیشک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں ۔ ظاہر ہے
1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ (فیا ض) ۔
کہ جرائم کا ارتکاب کر کے کوئی شخص خدا تعالیٰ کے انتقام سے بچ نہیں سکتا ۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں 1 ؎ کہ خدا تعالیٰ کی سزا وقتی طور پر رک تو سکتی ہے مگر ٹل نہیں سکتی ۔ بعض مجرم دنیا میں سزا سے بچے رہتے ہیں مگر مرنے کے فوراً بعد گرفتار بلا ہوجاتے ہیں ، حدیث 2 ؎ میں آتا ہے کہ بعض جرائم سزا آخرت کے عذاب سے پہلے ہی ملنے لگتی ہے ۔ جو لوگ والدین کو تن کرتے ہیں قطع رحمی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ظلم و زیادتی کرتے ہیں بسا اوقات ان کو دنیا میں ہی سزا ملنے لگتی ہے ۔
امام ابن جزیز 3 ؎ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ تین جرائم کی سزا اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی دے دیتا ہے ۔
(1) حق کی مخالفت کرنا دنیاہی میں سزا کا مستحق بنتا ہے ۔ آپ روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوگ جھنڈے اٹھا کر اور نعرے لگا لگا کر احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ اسلامی شعار کا مذاق اڑاتے ہیں حتیٰ کہ عورتیں بھی اپنے نام نہاد حقوق کے حق میں جلوس نکالتی ہیں ، مسئلہ وراثت کا ہو یا گواہی کا یا نکاح اور طلاق کا عورتوں کو اللہ کے عطا کردہ حقوق سے تسلی نہیں ہے ، وہ اس دنیا کے عارضی حاکموں سے اپنے لئے مزید حقوق طلب کرتی ہیں ، یہی تو حق کی مخالفت ہے جو آج سرعام ہو رہی ہے ۔
(2 ) دوسری چیزوالدین کی نافرمانی اور ان کو ناحق تنگ کرنا ہے ۔ ایسے لو دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں ۔
(3) جو شخص خود ظلم کرتا ہے یا ظالم کی مدد کرتا ہے ، وہ بھی دنیا میں سزا پانے کا اہل بن جاتا ہے ۔
1 ؎
2 ؎ تفسیر طبری ج 12 و تفسیر الثعالبی ص 612 ج 3 و تفسیر المراغی ص 611 ج 12 3 ؎ طبری (فیاض )
الغرض ! ان تین قسم کے جرائم کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے کہ جس کے سامنے اس کے رب کی آیات ذکر کی جائیں ۔ اور وہ اعراض کر جائے ۔ اللہ ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لے گا ۔
Ayahs 32:23–26اس سورة کی ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی ہے۔ پھر اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا۔ اس کے بعد وقوع قیامت اور جزائے عمل کا ذکر ہوا۔ پھر منکرین قیامت کا رد ہوا اور قیامت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا تذکرہ ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل اور فسق کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور بطور تنبیہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے برے عذاب سے پہلے ہم دنیا میں کمتر عذاب بھی بھیج دیتے ہیں تاکہ لوگ برے عقائد و اعمال سے باز آجائیں پھر اللہ نے منکرین کے متعلق فرمایا کہ جو لوگ آیات الٰہی کو سن کر ان سے اعراض کرتے ہیں ‘ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار نہیں کرتے ان سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ؟
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نزول تورات کا ذکر فرما کر حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد تورات ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی تعلیم و اشاعت میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، اسی طرح حضور خاتم النبیین ﷺ کو بھی اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم کی تعلیم ، تبلیغ اور اشاعت پر بیشمار مصائب برداشت کرنا پڑیں گی۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی ہے کہ وانک لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم والنل۔ 6 بیشک آپ کو بھی حکیم و کلیم خدا کی طرف سے کتاب دی گئی ہے چونکہ آپ کے بہت سے حالات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سے ملتے جلتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بطور نمونہ پیش کیا ہے کہ ان کی طرح آپ بھی صبروبرداشت سے کام لے کر آنے والی مشکلات پر قابو پائیں۔
وفات میں شک کی تردید :
فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی فلا تکن فی مریۃ من لقابہ پس آپ اس کی ملاقات کے متعلق شک میں نہ پڑیں۔ اس سے کون سی ملاقات مراد ہے جس کے متعلق عدم تردد کی تلقین کی گئی ہے ؟ مفسرین کرام اس کی مختلف توضیحات بیان کرتے ہیں۔ امام بیضادی (رح) 1 ؎ فرماتے ہیں کہ لفابہ میں ہ کی ضمیر کتاب کی طرف لوٹتی ہے اور پورے جملے کا معنی یہ ہے کہ آپ کتاب کے ملنے سے متعلق شک میں نہ پڑیں۔ یعنی جس طرح اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تھی ، اسی طرح آپ کو بھی عظیم کتاب عطا فرمائی ہے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب کی تعلیم و تبلیغ میں سخت محنت کرنا پڑی اسی طرح آپ کو بھی سخت کاوش کرنا پڑے گی۔
صاحب تفسیر مدارک فرماتے ہیں 2 ؎ کہ یہاں پرہ کی ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے اور معنی یہ ہے کہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ سے ملاقات کے متعلق کسی شک و تردد کا شکار نہ ہوں۔ ایسا وقت آنے والا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور وہ اللہ سے ان لوگوں کی شکایت کریں گے جنہوں نے کتاب تورات کی تکذیب اور مخالفت کی۔ اسی طرح حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام بھی قرآن پاک کے متعلق اللہ تعالیٰ کے سامنے شکایت پیش کرینگے آپ کی قوم نے اس عظیم کتاب سے اعراض کیا۔
(حاثیہ : 1 ؎ انوار التنزیل للبیضاوی ص 632 ج 2 ‘ 2 ؎ مدارک ص 092 ج 3 (ضیاض) ۃ
سورۃ الفرقان میں ہے۔
وقال الرسول یرب ان قوم اتخذوا ھذا القرآن مھجورا (آیت 03)
اللہ کا رسول کہے گا ‘ پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو پس پشت ڈال دیا یعنی اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن 1 ؎ عباس ؓ اور حضرت قتادہ (رح) نے ایک تیسری تفسیر بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی ملاقات کے متعلق کسی شک میں نہ پڑیں۔ حضور ﷺ کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تین ملاقاتوں کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔ واقعہ معراج والی حدیث 2 ؎ میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرا گزر ایک سرخ ٹیلے کے پاس ہوا جہاں حضرت موسیٰ علیہ اسلام مدفون ہیں ، تو میں نے دیکھا 3 ؎ رایت موسیٰ قائما یصلی فی قیرہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔ پھر جب آپ (علیہ السلام) بیت المقدس پہنچے تو وہاں تمام کے تمام انبیاء کو موجود پایا جن میں موسیٰ (علیہ السلام) بھی شامل تھے اور آپ نے سب کو نماز پڑھائی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے تیسری ملاقات چھٹے آسمان پر ہوئی۔ اللہ نے آپ کی امت کے لیے پچاس نمازیں مقرر فرمائیں مگر جب موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضور ﷺ کو مشورہ دیا کہ ان میں کمی کرائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی مشقت برداشت نہیں کرسکے گی۔ چناچہ حضور ﷺ بار بار اللہ کے حضور درخواست پیش کرتے۔ الغرض ! اللہ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات کے متعلق کسی شک میں نہ پڑیں کیونکہ آپ نے بعینہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ہی ملاقات کی تھی جو کہ جسم اور روح کے ساتھ تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ معراج کے موقع پر انبیاء کے روحوں سے یا تمثیل انبیاء سے ملاقات ہوئی تھی۔ مگر اللہ نے واضح کردیا۔ فرما دیا کہ آپ شک میں نہ پڑیں بلکہ آپ نے بعینہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی۔
(حاثیہ : 1 ؎ تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباس ؓ ص 723 ‘ 2 ؎ خازن ص 722 ج 5 و مظہری ص 592 ج 7 ‘ 3 ؎ مسلم ص 862 ج 3 و نسائی ص 342 ج 1 و مسند احمد ص 841 ج 3 فیاض)
٭٭٭٭
فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنایا۔ کتاب تورات کے نزول کے لئے خود بنی اسرائیل نے صحرائے سینا میں درخواست کی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن تک طور پر اعتکاف کیا تو اللہ نے تختیوں پر لکھی لکھائی تورات عطا فرمائی جس کا مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل اس کتاب کے قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کریں اور خدائی احکام کی تعمیل کریں۔
اللہ نے یہ بھی فرمایا وجعلنا منھم آئمۃ تھدون امرنا
اور ہم نے ان میں امام یعنی پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ ٭ آئمہ امام کی جمع ہے اور یہ لفظ تین قسم کے لوگوں پر بولا جاتا ہے۔ یعنی 1۔ اہل علم 2۔ فقہا اور 3۔ احکام وقت۔ امام سے مراد وہ شخص ہوتا ہے جس کے قول ، فعل اور اخلاق کی اقتدا کی جائے چناچہ مذکورہ بالا تینوں طبقات کے لوگ اقتداء کے قابل ہوتے ہیں۔ فرمایا ان کو امام اس وقت بنایا لقاصبرو جبکہ انہوں نے صبر کیا وکانو بایتنا یوقنون اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے گویا صبر اور یقین امامت کے لئے بمنزلہ شرائط کے ہیں۔
توحید ، نماز ، شکر ، زکر ، تعظیم ، شعائر اللہ کی طرح صبر بھی سنت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول ہے۔ صبر کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً صبر مصیبت اور تکلیف آنے پر ہوتا ہے یا نفس کی خواہش کی طرف جانے سے روکنے پر ہوتا ہے۔ صبر بہت بڑی چیز ہے جس کے متعلق فرمایا ہے انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر ملے گا۔ گویا مدار کامیابی صبر ہے۔ سورة اعراف میں موجود ہے کہ جب بنی اسرائیل کو سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو صبر کی تلقین کی۔ قال موسیٰ لقومہ استعینوا باللہ واصبروا اللہ سے مدد طلب کرو اور صبر اختیار کرو والعاقبۃ للمتقین (آیت 821) اچھا انجام متقیوں کا ہی ہوگا۔
(حاثیہ…)
امامت کے لئے دوسری شرط یقین ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے تمام احکام اور ان کے نتائج پر یقین ہو۔ اللہ نے انسانوں کو ہدایت کے لئے جو اصول وضع فرمائے ہیں سب کو دل و جان سے تسلیم کرے۔ اللہ کی توحید اور رسالت پر یقین ہو ، وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین ہو۔ اللہ کی جنت اور دوزخ پر یقین ہو۔ اگر کوئی شخص متردد رہے گا اور ان چیزوں پر یقین نہیں کرے گا تو وہ امامت کا مستحق نہیں بن سکتا۔
امام سفیان ثوری (رح) کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ ان سے حضرت علی ؓ کے اس قول کے متعلق پوچھا گیا الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الجسد یعنی صبر کا ایمان کے ساتھ وہی تعلق ہے جو سر کا جسم کے ساتھ ہے۔ اگر سر نہ ہو تو جسم بیکار ہے۔ اسی طرح اگر صبر نہیں تو ایمان ناممکن ہے۔ اس پر امام ثوری (رح) نے فرمایا کہ جب بنی اسرائیل نے اس بنیادی چیز کو پکڑ لیا تو اللہ نے ان کو دنیا میں امامت عطا فرمائی۔ سورة الفرقان میں اللہ کے نیک بندوں کی دعا بھی ہے۔ واجعلنا للمتقین اماما (آیت 47) مولا کریم ! ہمیں نیک لوگوں کا پیشوا بنا دے جو ہماری اقتداء کریں۔ غرضیکہ جب صبر اور یقین جیسی چیزیں حاصل ہوں گی تو اللہ تعالیٰ منصب امامت پر فائز کرے گا۔
مسلمانوں کی محرومی :
مسلمان آج دنیا کی امامت سے محروم ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ یہ صبر اور یقین سے خالی ہیں۔ اگر وہ ان دو چیزوں کو اپنا لیں تو امامت بھی ان کے حصے میں آسکتی ہے۔ اس وقت امریکہ ، روس ، جرمنی ، چین اور فرانس دنیا کی پیشوائی کر رہے ہیں۔ دو سو سال پہلے برطانیہ دنیا کا امام تھا۔ دنیا کی امامت اگرچہ محمود نہیں ہے تاہم ان اقوام نے یہ پیشوائی محنت ، ہمت اور علم و ہنر کی بناء پر حاصل کی ہے۔ وہ قربانی دینا جانتے ہیں۔ فضائوں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ اس کام میں مصروف رہے ہیں مال صرف ہورہا ہے۔ مگر کچھ پرواہ نہیں بلکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے سخت سے سخت محنت کر رہے ہیں۔ انگریز یہاں کی بلند ترین پہاڑی چوٹی مونٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے لئے ڈیڑھ سو سال تک کوشش کرتے رہے تب جا کر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے برخلاف مسلمان کاہل اور سست ہوچکے ہیں۔ خود آگے قدم نہیں بڑھاتے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی کوئی بھی حکومت معیاری نہیں ہے۔ حکام فاسق و فاجر اور عیش پرست ہیں۔ ملوک اور ڈکٹیٹر ہیں۔ نظام سرمایہ داری میں پھنسے ہوئے ہیں۔ صبر اور یقین سے عاری ہوچکے ہیں۔ لہٰذا یہ دنیا کی امامت کے قابل ہی نہیں رہے۔
عوامی معیار کا قیام :
ہمارے حکام دعوے تو بہت کرتے ہیں کہ ہم عوام کا معیار زندگی بلند کریں گے مگر ان کے دعوے اور عمل میں تضاد ہے۔ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں جب تک حکام اپنا معیار زندگی عوامی سطح پر نہیں لائیں گے۔ عوام کی حالت کیسے سدھر سکتی ہے ؟ آج ان حکام کی اقتداء کون کرسکتا ہے ؟ یہ تو عالیشان کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔ لاکھوں روپے کی کار استعمال کرتے ہیں ، لباس شاہانہ ہیں ، غریب کو قریب نہیں آنے دیتے۔ لہٰذا یہ لوگ اقتداء کے قابل کیسے ہو سکتے ہیں ؟ جب تک مسلمان صاحبان اقتدار خلفائے راشدین والا طریقہ اختیار نہیں کریں گے ، خود عوام کی سطح پر آکر ان کا معیار زندگی نہیں اپنائیں گے ، ان کو امامت کیسے حاصل ہو سکتی ہے اور عوام کی حالت کیسے درست ہو سکتی ہے ؟
ہمارے عوامی نمائندے کہتے ہیں کہ ہر بےزمین کاشتکار کو زمین اور ہر بےگھر خاندان کو مکان کے لیے پلاٹ دیئے جائیں گے۔ یہ تو جبھی ہو سکتا ہے۔ جب یہ خود اپنی زمینوں کو چھوڑ دیں۔ اگر یہ اپنی جاگیریں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو باقیوں کو تقسیم کرنے کے لیے زمین کہاں سے آئے گی ؟ یہ سب دھوکہ ہے۔ جب تک تم خود عوامی معیار اختیار نہیں کرو گے ، عوام کا معیار کیسے بلند ہو سکتا ہے ؟ جو لوگ اعلیٰ ترین رہائش اختیار کرتے ہیں۔ اعلیٰ ترین ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں۔ بہترین کار استعمال کرتے ہیں ، دیگر تمام مراعات حاصل کرتے ہیں ان کو عوامی مسائل سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ؟
بہرحال اللہ نے اصول کے طور پر بتلا دیا کہ بنی اسرائیل نے صبر کیا ، ہماری آیتوں پر یقین کیا تو اللہ نے دنیا کی امامت ان کے سپرد کردی۔ اگر مسلمان بھی دنیا کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے تو انہی اصولوں کو اپنانا پڑے گا اور اس کے لیے سب سے پہلے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ وگرنہ موجودہ الحادی اور سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں تو اصلاح کی کوئی صورت ممکن نظر نہیں آتی۔
قیامت کے دن فیصلہ :
فرمایا آپ مخالفین کی ایذا رسانیوں پر صبر کا دامن نہ چھوڑیں ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ بیشک تیرا پروردگار قیامت والے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ فیما کانوا فیہ یختلفون ، ان معاملات میں جن میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے۔ یہ لوگ حق کی مخالفت کرتے تھے اور باطل کو رائج کرنا چاہتے تھے ، اللہ کے انبیاء اور مصلحین کو ایذائیں پہنچاتے تھے۔ قیامت اور جزائے عمل کا انکار کرتے تھے ، ان کا عملی فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا۔ دنیا میں تو اللہ نے ہدایت اور گمراہی کو بالکل واضح کردیا تھا جیسا کہ فرمایا قد تبین الرشد من الغنی (البقرہ۔ 652) اس وضاحت کے باوجود جنہوں نے غلط راستے کا انتخاب کیا ان کے متعلق دوٹوک فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا۔
مقام عبرت :
ارشاد ہوتا ہے۔ اولم یھد لھم کیا ان کے لئے یہ بات واضح نہیں ہوئی کم اھلکنا من قبلھم من القرون کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی جماعتوں کو ہلاک کردیا بمون فی مسکنھم آج یہ لوگ ان ہلاک شدگان کی رہائش گاہوں میں چلتے پھرتے ہیں۔ ان کے کھنڈرات پر سے گزرتے ہیں۔ یہ لوگ بھی کبھی دولت مند اور صاحب اقتدار تھے۔ مگر آج ان کی ہلاکت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان میں سے بعض تو طبعی موت مرے اور عادومود ، پرانے مصریوں اور کلدانیوں وغیرہ کو اللہ نے سزا بھیج کر ہلاک کیا۔ کیا یہ چیز ان کے لئے جائے عبرت نہیں ہے ؟ جب یہ سرکش اور نافرمان لوگ دنیا سے نابود ہوگئے تو آج کے زمانہ میں اسی ڈگر پر چلنے والے کیسے بچ سکتے ہیں۔
فرمایا ان فی ذالک لایت بیشک اس میں نشانیاں ہیں۔ افلا یسمعون کیا یہ لوگ سنتے نہیں۔ اللہ نے پرانی قوموں کی ہلاکت کا حال بیان کر کے خبردار کیا ہے مگر اس کا فائدہ تو اسی کو ہوگا جو ان حالات کو بغور سنے گا جس نے سنا ہی نہیں۔ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا۔ دل میں جگہ ہی نہیں دی۔ انہیں کون سی عبرت حاصل ہوگی ؟ وہ تو انہی کے نقش قدم پر چل کر انہی کے انجام کو پہنچیں گے۔
Ayahs 32:27–30ربط آیات :
گزشتہ آیات میں تاریخی واقعات کی طرف اشارہ تھا کہ کیا کافروں اور مشرکوں پہ یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ ان سے پہلے ہم نے بہت سی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کیا جن کی رہائش گاہوں میں آج یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں۔ بلاشبہ ان واقعات میں سننے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ ایسے لوگوں کے واقعات تاریخ میں محفوظ اور زبان زد عام تھے۔ جنہیں سن کر عبرت حاصل کی جاسکتی ہے مگر یہ لوگ تو ایسے عبرتناک واقعات سننے سے بھی عاری ہیں ، انہیں اس کا کیا اثر ہوگا ؟
تاریخی واقعات کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے لہٰذا اللہ نے پہلی آیت میں سننے کا ذکر کیا۔ اب آج کی آیت میں مشاہداتی دلیل کا تذکرہ کر کے ٭ میں فرمایا ہے کہ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ؟ سننے اور دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ لوگ انہیں سن کر اور دیکھ کر ان میں غوروفکر کیوں نہیں کرتے اور یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جب پہلے لوگ اللہ کی نافرمانی کر کے اس کے عذاب سے نہیں بچ سکے تو ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر عذاب الٰہی سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ غرضیکہ اللہ نے دونوں قسم کے دلائل دے کر غوروفکر اور عبرت پکڑنے کی دعوت دی ہے۔
پانی کی بہم رسائی :
یہ مشاہداتی دلیل پانی کی بہم رسانی سے متعلق ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اولم یروا انا نسوق الماء الی الارض الحرز کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو خشک اور ٭ زمین کی طرف چلاتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں بارش رک جاتی ہے۔ زمین خشک ہوجاتی ہے اور اس میں روئیدگی کی قوت باقی نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ سمندروں سے بادل اٹھاتا ہے اور پھر انہیں بےآب وگیاہ زمین کی طرف لے جا کر بارش برسا دیتا ہے جس سے مردہ زمین پھر سے زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں روئیدگی کی قوت آجاتی ہے۔ لوگ ایسی زمین پر پہنچ کر ہل چلاتے ہیں۔ پھر اس میں اناج کا بیج ڈالتے ہیں۔ فنخرج بہ زرعا تو پھر ہم اس زمین سے کھیتی نکالتے ہیں۔ پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتا ہے اور اس طرح قحط سالی دور ختم ہو کر خوشحالی کا دور آتا ہے۔
قرآن پاک میں اکثر مقامات پر اللہ نے پانی کے نزول کا ذکر اس طرح کیا ہے وانزل من السماء ماء (البقرہ 22) ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا۔ ظاہر ہے کہ نزول آب سے مراد نزول بارش ہے جو براہ راست کسی خطہ ارض میں برس کر وہاں کی خوشحالی کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ تاہم اس مقام پر اللہ نے پانی کو چلانے کا ذکر فرمایا ہے کہ ہم پانی کو خشک زمین کی طرف چلاتے ہیں۔ اس چلانے سے بادلوں کا چلانا بھی مراد ہو سکتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم سے کسی چٹیل زمین کی طرف چل کر بارش برساتے ہیں۔ تاہم اس سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم پانی کو ایسی جگہوں تک چلا کرلے جاتے ہیں جہاں براہ راست بارش نہیں ہوتی ، یا اگر ہوتی ہے تو مفید نہیں ہوتی۔ اس کی واضح مثال پہاڑوں پر ہونے والی بارش کی ہے کہ بارش کا پانی پہاڑوں سے نیچے ندی نالوں کی صورت میں بہہ نکلتا ہے اور اس سے میدانی علاقے سیراب ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے علاقے بھی ہوتے ہیں۔ جہاں بارش بالکل نہیں ہوتی یا ہوتی ہے تو کم یا بےوقت ہوتی ہے اور لوگ اس سے کما حقہ مستفید نہیں ہو پاتے۔ پھر جب پہاڑوں پر ہونے والی بارش یا پہاڑوں پر پڑنے والی برف کا پانی دریائوں اور نہروں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچتا ہے تو لوگ ہر موسم میں حسب ضرورت اس کو استعمال کرتے ہیں اور اس سے کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ پانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک چلانے کی ایک اور صورت بھی اللہ نے قرآن میں بیان فرمائی ہے الم تران اللہ انزل من السماء ماء فسل کہ ینابیع فی الارض (الزہر۔ 12) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے اور اسے زمین میں چشمے بنا کر چلاتا ہے۔ گویا زمین دوز نالیوں کے ذریعے پانی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتا ہے اور پھر لوگ ٹیوب ویلوں اور کنوئوں کے ذریعے پانی نکال کر زمین کو سیراب کرتے ہیں ، خود بھی استعمال کرتے ہیں اور جانوروں کو بھی پلاتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے پانی کو دلیل قدرت کے طور پر پیش کیا ہے تاکہ لوگ اس میں غوروفکر کرکے صحیح نتیجے پر پہنچ سکیں۔
پانی کے فوائد :
اس پانی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کھیتی پیدا ہوتی ہے۔ تاکل منہ انعامھم وانفسھم جسے ان کے جانور کھاتے ہیں اور یہ خود بھی بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اللہ نے پانی کے ذریعے گھاس ، اناج ، پھل اور جڑی بوٹیاں پیدا کر کے انسانوں اور جانوروں سب کی خوراک کا بندوبست کردیا ہے۔ جب غلہ پیدا ہوتا ہے تو اصل دانے انسانوں کی خوراک بنتے ہیں ، جب کہ بھوسہ ، گھاس پھونس اور جڑی بوٹیاں جانور اور مویشی کھالیتے ہیں۔ سورة النحا ، سورة الانعام اور بعض دوسری سورتوں میں موجود ہے کہ اللہ نے جانوروں کو تمہاری خدمت کے لیے پیدا کیا ہے ، ان کی خوراک کا بندوبست کیا ہے ، پھر تم ان سے کام لیتے ہو ، ان کا دودھ پیتے ہو ، کھال اور بال استعمال کرتے ہو اور ان کا گوشت بھی استعمال کرتے ہو۔ غرضیکہ فرمایا وجعلنا من الماء کل شیء وحی (الانبیائ۔ 03) ہم نے ہر چیز کو پانی کے ذریعے زندگی بخشی ہے۔ ہر چیز کا مبدأ حیات پانی ہے۔ تمام انسانوں ، جانوروں اور نباتات کی زندگی پانی کے ساتھ وابستہ ہے۔
پانی انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ انسانی نشونما کا انحصار خون پر ہے جس میں اسی فیصد پانی اور باقی بیس فیصد دیگر نمکیات اور پروٹین ہیں۔ ہر جاندار کا جگر خون کی فیکٹری کے طور پر کام کرتا ہے۔ تمام خوردہ غذائیں آنتوں اور باریک رگوں کے ذریعے جگر میں پہنچتی ہیں۔ اس فیکٹری میں اللہ کے کروڑوں کارندے کام کر رہے ہیں جو خوراک کو خون میں تبدیل کرتے ہیں۔ خون خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ بہت بڑی نعمت ہے۔ جو مصنوعی طریقے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے جب حادثاتی طور پر انسانی جسم سے خون زیادہ مقدار میں بہہ جاتا ہے تو اسے پورا کرنے کے لیے انسانی خون ہی منتقل کرنا پڑتا ہے۔ الغرض ! پانی کے بغیر خون تیار نہیں ہو سکتا۔ اور خون پر ہی انسانی جسم کا دارومدار ہے ، لہٰذا پانی ہر جاندار کے لیے نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ نے اسی لیے یہ احسان جتلایا ہے کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف چلاتے ہیں ، پھر اس سے کھیتی اگاتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتی ہے۔
حیوانات اور نباتات کے لیے پانی کی جس قدر زیادہ ضرورت ہے ، اللہ نے اسی قدر اس کی بہم رسانی کا بھی فری انتظام فرمایا ہے۔ قدرت کا مہیا کردہ ذخیرہ آب تو بالکل مفت ہے ، البتہ اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے کبھی کم اور کبھی زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کے لیے ہوا (آگسیجن) پانی سے بھی زیادہ ضروری ہے ، اس لیے اللہ نے اس کو بالکل ہی فری مہیا کیا ہے۔ ہوا ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہے جسے حاصل کرنے کے لیے کسی محنت مشقت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح پانی کی سپلائی بھی بالکل فری ہونی چاہئے ، اور اس پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں عائد ہونا چاہئے۔ ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک کے کونے کونے میں حسب ضرورت پانی مہیا کرنے کا انتظام کرے۔
دلائل قدرت کا مشاہدہ :
فرمایا ہم نے پانی کو چلا کر اس سے سبزی ، پھل اور اناج پیدا کیے ہیں ، اور اسے انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنایا ہے۔ افلا یبصرون کیا یہ لوگ قدرت کی اس نشانی کو دیکھتے نہیں۔ اللہ نے اپنی قدرت کی ایک ایسی زندہ مثال پیش کی ہے جو ہر روز مشاہدہ میں آتی ہے ، لوگوں کے سامنے بارش برستی ہے ، زمین میں ہریالی پیدا ہوتی ہے۔ فصل پکتی ہے اور پھر وہ جانداروں کی خوراک بنتی ہے۔ کیا یہ دلیل ان کے لیے کافی نہیں ؟ گزشتہ درس میں تاریخی واقعات کا ذکر کر کے اللہ نے فرمایا کیا یہ سنتے نہیں ؟ ظاہر ہے کہ واقعات کا تعلق سماعت سے ہی ہوتا ہے اور اب مشاہداتی مثال بیان کر کے فرمایا ہے ، کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ مطلب یہ کہ دونوں مثالیں غوروفکر کا مطالبہ کرتی ہیں تاکہ لوگ بعض باتیں سن کر اور بعض چیزیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں اور آنے والی ابدی زندگی کو سنواریں۔
فیصلے کا دن :
سختی کے زمانے میں جب اہل ایمان اور کافر کسی مجلس میں جمع ہوتے تو کافر لوگ ایمان والوں کا مذاق اڑاتے۔ اس کے جواب میں اہل ایمان کہتے کہ آج تو تم ہماری اس حالت پر ہنستے ہو مگر ایک وقت آنے والا ہے جب ہم تمہارے ساتھ ہنسا کریں گے اور ذلت و خواری کی وجہ سے تمہاری نظریں جھکی ہوئی ہوں گی۔ اس پر کافر اور مشرک کہتے ویقولون متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بتلائو کہ فیصلے کا وہ دن کب آئے گا جب تم کامیاب و کامران نظر آئو گے اور ہم ذلیل و خوار ہوجائیں گے۔ اس کا جواب اللہ نے یوں دیا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں یوم الفتح لا ینفع الذین کفرو ایمانھم کہ فیصلے کے دن کافروں کا ایمان لانا ان کو کچھ فائدہ نہیں دے گا بعض فرماتے ہیں 1 ؎ کہ فیصلے کے دن سے مراد یوم بدر یا فتح مکہ کا دن ہے جس مسلمانوں کو مادی غلبہ حاصل ہوا۔ ان دو مواقع پر فیصلہ واقعی مسلمانوں کے حق میں ہوا اور کفارو مشرکین ذلیل و خوار ہوئے۔ مگر یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اس دن بعض لوگوں کا ایمان لانا ان کے لیے بلاشبہ مفید ثابت ہوا اور ان کی کایا پلٹ گئی۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار ہونے والے کافروں میں سے بعض بعد میں ایمان لائے اور ان کی وفات ایمان پر ہوئی۔ لہٰذا وہ کامیاب ٹھہرے۔ اسی طرح فتح مکہ کے دن بھی تقریباً دوہزار کافر ایمان لائے اور ان میں سے بعض نے بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جو بلاشبہ ان کے جنتی ہونے کی علامت ہے۔
صحیح بات 2 ؎ یہ ہے کہ اس فیصلے کے دن سے مراد قیامت کا دن ہے۔
(حاثیہ : 1 ؎ غریب القرآن ص 743 وزادالمیر ص 443 ج 6 ‘ 2 ؎ صفوۃ التفاسیر المصابونی ص 705 ‘ ج 2 ‘ (فیاض)
کہ اس دن ہر چیز اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لانا ہرگز مفید نہیں ہوگا۔ ولا ھم ینظرون اور نہ ہی ان کو مزید مہلت دی جائے گی کہ دنیا میں واپس جا کر اپنے عقائد اور اعمال کو درست کرلیں۔ پیچھے دوسرے رکوع کی ابتداء میں گزر چکا ہے کہ جب مجرم لوگ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو کہیں گے ، ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحاً انا موقنون (آیت۔ 21) اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا ، اب ہمیں دنیا میں واپس بھیج ہم اچھے کام انجام دیں گے اور تیری باتوں پر یقین کریں گے۔ مگر اس وقت کوئی درخواست قبول نہیں ہوگی اور ایسے مجرموں کو کوئی مہلت نہیں دی جائے گی۔ اللہ فرمائے گا اب عمل کا وقت ختم ہو کر جزائے عمل کا وقت شروع ہوچکا ہے۔ اس وقت ان کی حالت یہ ہوگی۔ فیومئذ لا ینفع الذین ظلمو معذرتھم ولاھم یستعتبون (الروم۔ 57) کہ ان دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ مفید نہیں ہوگی اور نہ ہی انہیں خدا تعالیٰ کو منا لینے کا موقع ملے گا۔
درگزر اور انتظار :
آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ فاعرض عنھم وانتظر آپ ان بدبختوں کو ایذاء رسا انیوں پر درگزر کریں ، ان کی طرف دھیان نہ دیں اور جزاء کے وقت کا انتظار کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ایذاء رسانیوں اور تمہارے صبر کا کیا نتیجہ نکالتا ہے۔ اہل ایمان کو دنیا و آخرت ہر دوجگہ پر کامیابی حاصل ہوگی ، جب کہ کافر اور مشرک ذلیل و خوار ہی ہوں گے۔ آج تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ مٹھی بھر مسلمان کامیابی حاصل نہیں کرسکیں گے مگر انہیں جلدی ہی پتہ چل جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کن کے ساتھ ہے اور وہ کس طرح اہل ایمان کے حق میں نتیجہ نکالتا ہے۔ انھم منتظرون بیشک یہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔
فضائل سورة :
یہ تین رکوع کی تیس آیات والی سورة ہے۔ سورة الملک کی بھی تیس ہی آیات ہیں۔ ان دونوں سورتوں کی حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضور 1 ؎ علیہ الصلوٰۃوالسلام سونے سے پہلے ان دونوں سورتوں کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ حدیث 2 ؎ میں آتا ہے کہ ایک شخص بڑا گنہگار تھا۔ مگر ا ان سورتوں کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ جب اس کی گرفت ہوئی تو یہ سورة اس پر ٭ پھیلا کر کھڑی ہوگئی اور اس شخص کے حق میں سفارش کی کہ پروردگار ! یہ شخص میری تلاوت کیا کرتا تھا۔ آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ بعض 3 ؎ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری سورتوں کے مقابلے میں ان دو سورتوں کی فضیلت ساٹھ گنا زیادہ ہے۔ خاص طور پر عذاب قبر سے بچنے کے لیے ان دو سورتوں کی تلاوت بہت مفید ہے۔ بسا اوقات حضور 4 ؎ علیہ السلاام سورة سجدہ کو جمعہ کے دن فجر کی نماز میں تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ گویا ایسا کرنا مستحب ہے۔
(حاثیہ : 1 ؎ روح المعانی ص 011 ج 212 ، 2 ؎ روح المعانی ص 511 ج 12 و الافقان ص 374 ج 2 ، 3 ؎ روح المعانی ص 611 ج 13 وا الافقان ص 304 ج 2 ، 4 ؎ روح المعانی ٭٭٭٭ فیاض)