Ayahs 31:1–5نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة لقمان ہے ۔ یہ نام اس سورة کے دوسرے رکوع میں آمد ہ لفظ لقمان سے اخذ کیا گیا ہے ۔ حضرت لقمان (رح) ایک نیک ، صالح اور داناانسان تھے ، پرانی قوموں کے حال میں ان کے احل اور ان کی نصیحت آموز تقریر کا ذکر ملتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ، اور وہ نصیحت اس سورة مبارکہ میں بھی مذکورہ ہے۔
یہ سورة مبارکہ مکی دور کے وسطی زمانہ میں نازل ہوئی ۔ جب کہ حضور ﷺ کی نبوت کے چھ یا سات سال گزر چکے تھے ۔ بعض مقررین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ سورة الصفت کے بعد نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی چونتیس 4 3 آیات اور چار رکوع ہیں ، اور یہ 847 الفاظ اور 0112 حروف پر مشتمل ہے ۔
مضامین سورة :
اس سورة کے مضامین بھی دیگر مکی سورتوں کے ساتھ ملتے جلتے ہیں ، اس میں اسلام کے بنیادی عقائد کے علاوہ بعض ضمنی احکام بھی آگئے ہیں ۔ اللہ نے حکمت دانائی کے اصول کو سامنے رکھ کر کفرو شرک کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ توحید کو مسئلہ سمجھایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات ِ کمال اور اسکی قدرت ِ نامہ کے دلائل بھی ذکر کئے گئے ہیں تاکہ توحید کا مسئلہ اچھی طرح سمجھ میں آجائے ۔ وقوع ِ قیامت اور محاسبہ اعمال کا ذکر بھی ہے ۔ رسالت کا مسئلہ بھی بیان ہوا ہے اور ساتھ منکرین رسالت کا رد بھی آگیا ہے قرآن پاک کی حقانیت وصداقت اور اس کے وحی الٰہی ہونے کا تذکرہ ہے ۔ اس سورة مبارکہ میں اخلاقی تعلیمات اور نصیحت کی گراں بہا باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ اللہ کی کتاب سے مستفید ہونے والے اور اس سے اعراض کرنے والوں کا حال اور ان کا انجام بیان ہوا ہے ۔ بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ گزشتہ سورة الروم میں زیادہ ترا عراض کرنے والوں کا ذکر تھا ، جب کہ اس سورة میں خدا تعالیٰ کی توحید ، اس کی کتاب اور نصیحت کو ماننے والوں کا ذکر ہے۔ گزشتہ سورة میں اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن میں طرح طرح کی مثالیں بیان کر کے حقائق کو سمجھایا ہے ۔ ، اسی طرح اس سورة میں بھی حکیمانہ مثالوں کے ذریعے مسئلہ توحید کی وضاحت کی گئی ہے ۔ اور شرک کی قباحت بیان کر کے اس کی مذمت کی گئی ہے ۔
1 ؎ کثاف ص 984 ج 3 و تفسیر المراغی ص 17 ج 12 2 ؎ معارف القرآن ص 024 ج 5 (فیاض )
حروف مقطعات :
گزشتہ سورة کی طرح اس سورة کا آغاز بھی حروف مقطعات الم سے ہوا ہے ۔ قرآن پاک کی کل انتیس 92 سورتوں کا آغاز مختلف حروف مقطعات سے ہوا ہے ۔ اس سورة کے علاوہ ، سورة بقرہ ، سورة عنکبوت ، سورة روم ، سورة سجدہ اور سورة آل عمران کا آغاز بھی انہی حروف سے ہوتا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول 1 ؎ ہے کہ (اے اللہ ل ؔ سے جبرائیل (علیہ السلام) اور مؔ سے محمد ؔ ﷺ مراد ہیں اور مفہوم یہ ہے کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی جانب سے جبرائیل (علیہ السلام) کی وساطت سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوا ہے ۔ بعض فرماتے ہیں 2 ؎ ہیں کہ اس مقام پر (اے مراد آلاء یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق خاص طور پر انسان پر بےشمارنعمتیں نازل کی ہیں ۔ اس لئے فرمایا فاذکرو الاء اللہ (اعراف 096) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور ان کا شکر ادا کرو ۔ مگر وقلیل من عبادی الشکور (سبا۔ 3 1 ) اللہ کے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں ۔ بعض 3 ؎ فرماتے ہیں کہ ل سے لی اور م سے مجد اور ملک مراد ہے ۔ اور اس طرح مکمل مفہوم یہ بنتا ہے کہ تمام نعمتیں خدا تعالیٰکی جانب سے ہیں اور ساری بزرگی اور عظمت اسی کے لئے ہے ۔
نعمتیں دو قسم کی ہیں یعنی مادی اور روحانی ، مادی نعمتیں تو ہر مومن ، کافر ، گورے ، کالے ، چرندے ، پرند اور جانوروں کو بھی حاصل ہیں ۔ البتہ روحانی نعمتوں سے خاص لوگ ہی مستفید ہوتے ہیں۔ قرآن کریم روحانی نعمتوں میں سب سے اعلیٰ نعمت ہے ۔ اسی لئے آگے اسی کا ذکر آرہا ہے ۔ اس کیب عد دوسری بڑی نعمت پیغمبر ﷺ کی ذات مبارکہ ہے ۔
بعض 2 ؎ فرماتے ہیں کہ (اے انوار ، ل سے لامع یعنی چمکدار اور م سے متوالی مراد ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ مسلسل چمکنے والے انوار کا نظارہ کرنا ہے تو اس سورة کو پڑھ
1 ؎ تفسیر کبیر ص 6 ج 2 وتنویر المقیاس ص 3 2 ؎ تنویر المقیاس 3 ؎ ابن کثیر ص 63 ج 1 4 ؎ والا تقان اردو ص 72 ج 2 (فیاض )
لو کیونکہ اس میں حکمت کی بلند ترین چیزیں مذکور ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ اپنے ذوق اور کشف کے مطابق ان حروف کے متعلق بتاتے ہیں کہ عالم غیب سے جو حقائق اس مادی جہان میں متعین ہوتے ہیں ، وہ لوگوں کے بڑے عقائد اور اعمال واخلاق سے مسلسل ٹکراتے رہتے ہیں تو ان کی حقیقت واضح ہوتی ہے ۔ مطلب یہ کہ اس سورة مبارکہ میں عالم غیب سے آنے والے حقائق کی طرف اشارہ ہے ۔
امام جلالی الدین سیوطی (رح) 2 ؎ اور بعض 3 ؎ دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات سے متعلق یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ حضور ﷺ نے نہ تو ان حروف کی از خود تشریح کی ہے اور نہ ہی صحابہ کرام ؓ نے ان کے متعلق دریافت آیا ۔ بلکہ اسی طرح تلاوت کرتے ہے ۔ حضرت علی ؓ کے زمانہ میں ان حروف کے متعلق کچھ سوالات اٹھے تو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے تقریب فہم کے لئے کچھ معافی بتائے ۔ تاہم سلامتی والا راستہ ہی ہے کہ اللہ اعلم بمودہ بذالک ان حروف کی حقیقی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ لہٰذا عوام کے لئے اتناہی کافی ہے کہ ان حروف سے اللہ تعالیٰ کی جو بھی مراد ہے ہمارا اس پر ایمان ہے ہمیں اس کی تہہ میں جانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے ۔
کتاب حکیم کی آیتیں :
ارشاد ہوتا ہے تلک ایت الکتب الحکیم یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ، حکیم سے حکمت والی بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور مستقم بھی ۔ مطلب یہ کہ مضبوط کتاب کی آیتیں ہیں ، جہاں تک حکمت کا تعلق ہے اس کا ذکر آگے لقمان کے واقعہ میں آرہا ہے ۔ قرآن کریم بلا شبہ حکمت پر مشتمل ہے ، جیسے اللہ کا فرمان ہے یوتی الحکمۃ من یشاء ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیر کثیر (البقرہ ۔ 962) اللہ تعالیٰ جسے چاہے
1 ؎ الفوز الکبیر ص 38 2 ؎ جلالین ص 4 3 ؎ محمد اللہ البالغہ ص 37 ، 4 7 ج 1 وطبری ص 98 ج 1 (فیاض)
حکمت اور دانائی عطا کردے ، اور جسے اس نے حکمت عطا کردی ، اس کو خیر کثیر عطا کردیا گیا ۔ حکمت کو خیر کثیر سے تعبیر کیا گیا ہے جس کا مکمل نصاب قران کریم میں موجود ہے اس کے علاوہ پیغمبر کی زبان سے جو شرح بیان ہوتی ہے وہ سنت کہلاتی ہے اور وہ بھی حکمت میں داخل ہے ۔
ہدایت اور رحمت :
فرمایا ، یہ ایسی کتاب حکیم کی آیتیں ہیں جو ھدی ورحمۃ للمحسنین نیکی کرنیوالوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ۔ قرآن کریم میں بینات اور ہدی دو الفاظ آتے ہیں جیسے فرمایا ان الذین یکتمون ما انزلت من البینت والھدی (البقرہ ۔ 951) بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ بینات اور ہدی کو چھپاتے ہیں ۔ محققین فرماتے ہیں کہ بینات سے مراد وہ واضح واضح باتیں ہیں جو ہر عام وخاص آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ ان میں خدا تعالیٰ کو توحید ، ذکر شکر ، صبروغیرہ چیزیں شامل ہیں اور ہدایت میں وہ چیزیں شامل ہیں جو استاد سے سیکھے بغیر سمجھ نہیں آتیں ۔ اسی لئے امام بخاری (رح) 1 ؎ فرماتے ہیں کہ انما العلم بالتعلیم یعنی علم سیکھنے سے آتا ہے ۔ کوئی شخص کتابیں پڑھ کر خود بخود عالم نہیں بن سکتا۔ اس قسم کی باریک باتوں کو ہدایت سے تعبیر کیا گیا ہے تو فرمایا ، قرآن کریم ایک تو ہدایت ہے اور دوسری چیزرحمت ہے ۔ جب کوئی شخص اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت پر چلنے لگتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے ۔ اسی لئے فرمایا ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین (الاعرف ۔ 65) بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہوجاتی ۔ ایمان اور عمل صالح کا نتیجہ رحمت کی صورت میں نکلتا ہے جس شخص کا عقیدہ درست ہوگا ۔ ایمان صحیح ہوگا ۔ توحید پر استقامت ہوگی ، اعمال واخلاق ٹھیک ہوں گے ۔ وہی شخص نیکی والا ہوگا ۔ اور اللہ کی رحمت اس کے قریب ہوگی ۔ بہر حال رحمت
1 ؎ بخاری ص 61 ج 1 (فیاض )
کی بنیاد ہدایت ہے جو سب کے لئے ہے مگر اس سے فائدہ نیکی والے ہی اٹھاتے ہیں ۔ اسی لئے سورة بقرہ کی ابتداء میں قرآن کو ھدی للمتقین (آیت 02 ) کہا گیا ہے یعنی یہ ہدایت متقیوں کے لئے مفید ہوتی ہے ۔
نماز پر استقامت :
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے محسنین یعنی نیکی کرنے والوں کے بعض اوصاف بیان کئے ہیں جن میں سے پہلا وصف یہ ہے الذین یقیمون الصلوٰۃ کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں ۔ نماز تعلق باللہ کی درستگی کا اعلیٰ ترین ذریعہ ہے ۔ یہ اعمال مقربہ میں سے پہلے نمبر ہے ۔ یہ جامع العبادات ہے کیونکہ اس میں تولی ۔ فعلی اور قلبی ساری عبادات شامل ہیں ۔ نماز کے دور ان انسان کی زبان پر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا اور مناجات ہوتی ہے ۔ آدمی کے اعضاء وجوارح اطاعت الٰہی میں ہمہ تن مصروف ہوتے ہیں اور قلب میں خشوع و خضوع ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کو اللہ کا قرب دلانے والی اولین عبادت قرار دیا گیا ہے ۔ سورة الفلق کے آخر میں ہے ۔ واسجد واقترب یعنی نماز کے ذریعے سجدہ ریز ہو کر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرلو ۔
موطا امام مالک (رح) 1 ؎ میں حضرت عمر قاروق ؓ کا وہ سرکلر موجود ہے جو آپ نے خلافت اسلامیہ کے تمام گورنروں کو لکھا تھا ان من اھم امورکم عندی الصلوٰۃ تمہارے کاموں میں سے میرے نزدیک اہم ترین کام نماز ہے ۔ جس نے نماز کو قائم کیا ۔ اس نے سارے دین کو قائم کیا اور جس نے تمام کو ضائع کیا وہ باقی چیزوں کو بھی بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ عروج اسلام کے زمانے میں علاقے کے گورنر یا دوسرے اعلیٰ افسر لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے وہ صلاحیت والے لوگ تھے اور کتاب اللہ کو جانتے تھے ۔ ہمارے زمانے میں حاکموں کی اکثریت فساق وفجار پر مشتمل ہے ۔ نہ شکل و صورت اسلامی اور نہ اخلاق و
1 ؎ موطا امام مالک (رح) ص 5 (فیاض )
اعمال ۔ عالمگیر (رح) ، صلاح الدین ایوبی (رح) ، ناصر الدین ، التمش (رح) اور محمود غزنوی (رح) جیسے حکمران اسلامی تاریخ میں خال خال ہی نظر آتے ہیں ۔ یہ لو اسلامی تعلیمات سے واقف تھے ۔ اور ان کا عمل بھی صحیح تھا۔ آج کے احکام تو نماز کا تمسخر اڑاتے ہیں اور نمازیوں کی تحقیر کرتے ہیں بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ یہ دو رکعت کے امام کیا جانیں افسوس کہ انہوں نے نماز کی حقیقت کو نہیں سمجھا ، ورنہ نماز کا یوں مذاق نہ اڑاتے ۔
زکوٰۃ کی ادائیگی :
فرمایا نیکی والے لوگوں کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں اور دوسری یہ ویوتون الزکوٰۃ کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ۔ زکوٰۃ کا ذکر اس مکی سورة میں آیا ہے حالانکہ زکوٰۃ ہجرت کے بعد 2ھ میں فرض ہوئی تھی امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ بھی ابتداء میں ہی فرض ہوگئی تھی ۔ چناچہ اس کا تذکرہ سورة مزمل میں بھی ہے حالانکہ یہ سورة نبوت کے بعد پہلے سال ہی نازل ہوگئی تھی ، البتہ زکوٰۃ کا نصاب 2ھ میں مقرر ہوا ، جو کہ صاحب ِ نصاب آدمی کے لئے چالیسواں حصہ ہے ۔ نقد مال میں سے اڑھائی فیصد سالانہ ، پانچ اونٹوں میں ایک بکری تیس گائے بھینسوں میں ایک بچھڑا ، چالیس بکریوں میں ایک بکری ، زمین کی پیدوار کا دسواں یا بیسواں حصہ ، اور معدنی پیداوار کا پانچواں حصہ ادا کرنا لازمی قرار پایا ۔ الغرض مکی زندگی میں زکوٰۃ کے طور پر کچھ نہ کچھ حصہ ادا کرنا ضروری تھا۔ پھر جب مدنی زندگی میں اسلامی ریاست قائم ہوگئی تو مال کا نصاب اور شرح ادائیگی بھی مقرر ہوگئی ۔
ایمان بالآخرت :
فرمایا نیکی والوں کی تیسری علامت یہ ہے کہ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ وقوع قیامت ، محاسبہ اعمال اور جزا سزا پر ایمان لانا بھی مسلمان کے بنیادی عقائد میں شامل ہے ، جو شخص نماز پڑھتا ہے ، زکوٰۃ دیتا ہے مگر آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کی نماز وزکوٰۃ کا کچھ فائدہ نہیں ۔ نیکی والے لوگوں کو یقین ہے کہ قیامت کا دن آنے والا ہے ۔ اس دن
1 ؎ ابن کثیر ص 1 44 ج 4 (فیاض )
اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اعمال کا حساب کتاب دینا ہے ، فرمایا جن لوگوں میں یہ تین اوصاف پائے جائیں گے اولئک علی ھدی من ربھم اپنے رب کی طرف سے وہی لوگ ہدایت پر ہوں گے واولئک ھم المفلحون اور فلاح بھی انہی کے حصے میں آئے گی ۔ یہی لوگ آخرت میں کامیاب کامران ہوں گے۔ یہ لوگ خدا کے عذاب بچ کر راحت کے مقام تک پہنچ جائیں گے ۔ سورة ال عمران میں سے فمن رحزع عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز (آیت : 581 ) جو شخص دوزخ سے بچ گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا ۔ تو فرمایا نیکی والے لوگ کامیاب ہوجائیں گے ۔
Ayahs 31:6–7ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں حکمت والی کتاب قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان فرمایا ، نیز فرمایا کہ قرآن حکیم سراسر ہدایت ہے جس کو اختیار کرنے والے نیکوکاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہر بانی حاصل ہوتی ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نیکی والے لوگوں کے اوصاف بھی بیان کئے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں ، اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ۔ فرمایا ایسے ہی لوگ ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں ۔
للہو الحدیث :
مفلحین کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے ان بد بخت لوگوں کا ذکر کیا ہے جو اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر قرآن پاک کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ کھیل تماشا ، گانا ، بجانا اور دیگر واہیات و خرافات میں رغبت رکھتے ہیں ایسی ہی چیزوں میں پڑ کر لوگ دین کی طرف سے لاپرواہ ہوجاتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ ومن الناس من یشتری لھو الحدیث اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو خریدتے ہیں کھیل کی باتوں کو لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم تاکہ وہ اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں نادانی اور بےسمجھی کے ساتھ ویتخذھا ھزوا اور بناتے ہیں ان چیزوں کو ہنسی مذاق کا ذریعہ اولئک لھم عذاب مھین ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلت ناک عذاب ہوگا ۔
1 ؎ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لہو الحدیث سے ہر وہ چیز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اسکی عبادت کے راستے ہیں رکاوٹ بنے ۔ جب قرآن پاک کا نزول ہونے لگا اور لوگ اس سے متاثر ہونا شروع ہوئے تو مشرکین مکہ کو سخت تشویش ہوئی اور انہوں نے اس پروگرام میں ہر طرح کی رکاوٹیں کھڑ ی کرنے کی کوشش کی ، مشرکین میں سے ایک 2 ؎ شخص نفر ابن حارث ابن علقمہ ابن کلد ونس آدمی ، تجارت کے لئے اکثر ایران کی طرف جایا کرتا تھا۔ لوگوں کو قرآن کی طرف متوجا ہونا دیکھ کر اس شخص نے کہنا شروع کیا کہ محمد ﷺ تمہیں قوم عاد اور ثمود کے قصے سناتے ہیں ، آئو میں تمہیں سہمن ، اسفند یار اور ایران کے پرانے بادشاہوں کے قصے سنائوں جو عاد اور ثمود کی کہانیوں سے کہیں زیادہ دلچسپ ہیں ۔ پھر کہتا محمد ﷺ تمہیں نماز جیسا مشکل کام بتاتے ہیں جس کا کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا آئو میں تمہیں
1 ؎ روح المعافی ص 76 ج 1 2 ، وابن کثیر ص 14 4 ج 3 و تفسیر المراغی ص 4 7 ج 12 وصغوۃ التفایر ص 765 ج 2
3 ؎ روح المعافی ص 76 ج 1 ومظری ص 952 ج 7 ومعالم التنزیل ص 351 ج 3 دمدارک ص 872 ج 3 وزادا لمسیر ص 613 ج 6
وتفسیر ثعالی ص 602 ج 3 و غریب القرآن ص 4 4 3 و تفسیر المراغی ص 3 7 ج 1 2 (فیاض )
خوش طبعی والی چیزیں بتلائوں ۔ جن سے کم ازکم تمہیں تفریح تو حاصل ہو ۔ مقصد یہ تھا کہ لوگ لغویات میں مصروف رہیں اور حضور ﷺ کی باتوں کی طرف توجہ نہ دیں چناچہ بعض کمزور ذہن کے لوگ اس شخص کی باتوں میں آکر اسلام کی دعوت سے منہ پھیر لیتے ۔ اسی لئے مفسرین 1 ؎ کرام فرماتے ہیں کہ ہ وہ چیز جو دین اسلام سے ہٹانے والی ، احکام شرعیہ سے باز لکھنے والی یا کسی گناہ کا سبب بنتی ہولہو الحدیث میں شامل ہے جو چیزیں فرائض سے روکتی ہوں وہ ناجائز اور حرام ہیں بعض چیزیں مکرو وہ تحریمی کے درجے میں آتی ہیں ، اسی لئے حدیث 2 ؎ شریف میں آتا ہے کہ شکار میں اس قدر انہماک نہیں رکھنا چاہئے کہ اس کے پیچھے دوڑتے ہوئے نماز ہی ضائع ہوجائے ۔ ایسی صورت میں شکار حرام کے درجے میں آجائیگا ۔ البتہ بعض کھیل جائز بھی ہیں جن سے کوئی دینی یا دنیاوی مقصد حاصل ہو ۔ با تفریح طبع ہی حاصل ہوتی ہو ۔ اگر چہ ایسی چیزوں کو پسند نہیں کیا گیا مگر ان سے منع بھی نہیں کیا گیا لہٰذا یہ مباح کے درجے میں آتی ہیں ۔ حیدث شریف 3 میں آتا ہے کہ ہر کھیل کی چیز باطل ہے سوائے تین چیزوں کے یعنی گھوڑ دوڑ ، تیراندازی اور بیوی کے ساتھ دل لگی ۔ مفسرین کرام 4 ؎ فرماتے ہیں کہ مسابقت یعنی دوڑ میں مقابلہ کرنا بھی مباح ہے ، یہ دوڑ خواہ پیدل ہو گھوڑے ، سائیکل یا گاڑی وغیرہ پر مگر ایسی دوڑ شرط سے خالی ہونی چاہئے ۔ اگر ساتھ شرط بھی ہوگئی تو پھر یہ جوئے میں شمار ہو کر حرام ہوجائے گی ۔ اس قسم کے کھیل تفریح کے لئے ہوں یا صحت کیق یام کے لئے یا یکطرفہ کی خاطر ہوں تو پھر بھی جائز ہے ، ان میں ہا کی ، فٹ بال ، تیرا اندازی ، نشانہ بازی ، کشتی اور تیرا کی وغیرہ بھی شامل کیے جاسکتے ہیں آلات ضرب وحرب کے استعمال میں مہارت پیدا کرنا بھی مباحات میں شامل ہے ۔
1 ؎ ابن کثیر ص 1 4 4 ج 3 وروح المعافی ص 76 ص ج 1 2 ومظہری ص 852 ج 7
2 ؎ 3 ؎ 4 ؎ (فیاض )
البتہ جو کھیل کود انسان کے فرائض میں رکاوٹ بنتے ہیں ، ان کی اجازت نہیں ہے ۔ شطرنج ، چوسر ، تاش ، کبوتر بازی ، بیٹربازی ، کنوں اور دیگر جانوروں کی لڑائی ، پتنگ بازی گولیاں کھیلنا ، آتش بازی وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو مکرو ہ تحریمی اور حرام کے درجے میں آتی ہیں ، یہ مشغلے قدیم زمانے سے چلے آرہے ہیں اور آج بھی مختلف طبقات میں پائے جاتے ہیں ، البتہ اس زمانے میں ان میں بہت سی چیزوں کا اضافہ بھی ہوا ہے اس وقت کرکٹ کا کھیل ساری دنیا میں رائج ہے مگر یہ توضیع اوقات کے سوا کچھ نہیں فلم (رح) بینی جنون کی حد تک لوگوں کے سروں پر سوار ہوچکی ہے ۔ پہلے سینھا گھروں میں جاکر دل بہلا یا جاتا تھا ، اب ہر گھر سینما گھر بن چکا ہے جہاں ٹیلیویژن اور ریڈیو چوبیس میں سے سولہ گھنٹے لوگوں کی خرافات میں مصروف رکھتے ہیں ، وی سی آر کی کوئی تجدید نہیں چاہئے چوبیس گھنٹے اس کے سامنے بیٹھے رہو ۔ اب ہر گلی بازار میں ویڈیو گیمز کی وبا پھیل چکی ہے جس میں توضیع اوقات کے علاوہ توضیع مال بھی ہوتا ہے ایسی چیزوں میں پھنس کر نہ دنیاوی نقصان کی فکر ہوتی ہے اور نہ آخروی نقصان کا ڈر ، فضول قسم کے ڈرامے ، ساری ساری رات کلبوں میں توضیع اوقات ، آرٹ گیلریوں میں فنون لطیفہ کی پیش کش ، تصاویر وغیرہ کی نمائش ، ہنسی مذاق کی مجلسیں ، یہ سب چیزیں ہمارے تمدن کا حصہ بن چکی ہیں مگر بالکل ناجائز ہیں ۔ اسلام ان کی ہرگز اجازت نہیں دیتا ۔
اب تو ناچ گانا بھی فنون لطیفہ میں داخل ہوچکا ہے جسے کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ مختلف ممالک میں ثقافتی وفود کا تبادلہ کرتے ہیں اور اس طرح ایک ملک کی عریانی اور فحاشی دوسرے ملک میں پہنچ ہے ۔ ناچ گانا یہودیوں ، عیسائیوں ، ہندوئوں اور دہر یوں کی تہذیب ہے جو مسلمانوں میں بھی عود کر آتی ہے ۔ حالانکہ یہ شیطانی کام ہے اور انسانی ذہن کو غلط راستے پر ڈالنے کا ذریعہ ہے ۔ گانے کے متعلق بعض روایات 1 ؎ میں آتا ہے کہ یہ انسان کے دل میں نفاق پیدا کرتا ہے ۔
1 ؎ معالم التنزیل ص 351 ج 3 وقرطبی ص 25 ج 41 (فیاض)
حضرت 1 ؎ عبد اللہ ابن مسعود ؓ عبد اللہ ابن عباس ؓ ، امام حسن بصری (رح) وغیرہہم لہو الحدیث سے گانا بجانا مراد لیتے ہیں ۔
قدیم زمانے میں رقص و سرور کے لئے لونڈیوں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں اور آزاد عورتیں یہ پیشہ اختیار نہیں کرتی تھیں ۔ اس مقصد کے لئے لونڈیوں کو خاص طور پر ٹریننگ دی جاتی تھی اور وہ محفلوں میں تفریح کا سامان پیدا کرتی تھیں ۔ مگر اس زمانہ میں نہ صرف آزاد بلکہ تعلیم یافتہ لڑکیوں نے ناچ گانے کو آرٹ کے طور پر اپنا لیا ہے ۔ اس کے لئے تربیت گاہیں قائم ہوچکی ہیں جہاں سے اس نام نہاد فن کی ڈگریاں ملتی ہیں ، حضور کا فرمان تو یہ ہے کہ گانے بجانے والی لونڈیوں کی خرید وفروخت بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ فحاشی پھیلانے اور لوگوں کو غلط راستے پر ڈالنے کا سبب بنتی ہیں۔ حضور ﷺ 3 ؎ نے ایسی لونڈیوں کی کمائی کو بھی حرار قرار دیا ہے مگر دیکھ لیں آج ہمارے ہاں کیا ہورہا ہے ؟ موجودہ دور کی ایکٹر یسیں امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتی ہیں ۔ ایک ایک فلم سے لاکھوں روپے کماتی ہیں اور ایک ایک گانے کی ریکارڈنگ کے لئے ہزاروں روپے وصول کرتی ہیں ۔ لوگ ان کو بڑا مقام دیتے ہیں اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ٹوٹے پڑتے ہیں۔ یہ سب لہو الحدیث کا حصہ ہیں ۔
گانے کے لئے استعمال ہونے والے آلات موسیقی بھی حرام میں ، ایسی لئے قوالی بھی ناجائز نہیں ہے ۔ البتہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول کی تعریف غزل یا نعت کی صورت میں کی جائے تو جائز ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ آلات موسیقی استعمال نہ ہوں ۔ خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) کے ملفوظات 3 ؎ میں ہے کہ ان سے قوالی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمیا ا کہ قوالی جائز ہے ۔ مگر اس کی بعض شرائط بھی ہیں کہ اس میں آلات موسیقی کا استعمال نہ ہو ، گانے والی
1 ؎ مظہری ص 952 ج 7 وقرطبی ص 15 ج 41 2 ؎ طبری ص 06 ج 12 3 ؎ (فیاض)
عورت یا بےریش بچہ نہ ہو بلکہ گانے والا آدمی متشر ع ہو ، حمد ونعت کی محفل کا مقصد تقریب الٰہی ہو نہ کہ کھیل تماشا ، دیکھ لیں ہماری قوالیاں کس طرح ان شرائط پر پوری اترتی ہیں ۔ چوہدری افضل حق مرحوم نے کہا تھا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ساری رات قوالی ہوتی رہتی ہے ، جب فخر کی نماز کا وقت ہوتا ہے تو سننے بنانے والے سو جاتے ہیں ۔ الا ما شاء اللہ ، ایسی محفل سے کیا فائدہ ہوگا جسکی وجہ سے نماز ہی ضائع ہوگئی ، آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ ایسی مجلسوں سے اللہ اور اس کا رسول خوش ہوں گے یا ناراض جو چیز نماز سے غافل کرتی ہے وہ تو نری لعنت ہے ۔ جو قوالی مذکورہ شرائط کے بغیر ہوگی وہ حرام یا مکرو ہ تحریمی کے زمرے میں آئے گی۔
قرآن سے روگردانی :
فرمایا لغویات میں منہمک لوگوں کی حالت یہ ہے فراذا تتلی علیہ ایتنا ولی مستکبرا کہ جب ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ پشت پھیر کر تکبر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اللہ کے کلام کی کچھ پروا نہیں کرتے کان لم یسمعھا گویا کہ انہوں نے اس کو مناہی نہیں کان فی اذنیہ وقرا گویا کہ ان کے کانوں میں ڈاٹ لگے ہوئے ہیں اور وہ سماعت سے یکسر محروم ہیں ، تمام غافل لوگوں کا یہی حال ہے کہ وہ آیات الٰہی سنتے وقت اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں ۔ ان کا فائدہ تو اسی میں ہے کہ وہ کلام الٰہی کو سنیں ، اس میں غور وفکر کریں اور اسکے مطابق عقیدہ اور عمل بنائیں نہ کہ اس کو سنی ان سنی کردیں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا فبشرہ یعذاب الیم انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنادیں ۔ یہاں پر خوشخبری کا لفظ تحکم کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ اور مطلب یہ ہے کہ ان کو مطلع کردیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا اور ان کی رہائی کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔
Ayahs 31:8–11ربط آیات :
سورۃ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآا پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کی اور پھر محسنین کے اوصاف بیان کر کے ان کی فلاح کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد اشقیا کی کارگزاری اور ان کے انجام کو بیان کیا۔ کہ وہ دنیا میں کھیل تماشے کو رائج کر کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں اب آج کی پہلی دوآیات میں اہل ایمان کا ذکر کر کے انہیں جنت کی خوشخبری دی گئی ہے ۔ پھر اللہ کی قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، اور انہیں توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ شرک کی تردید بھی ہوگئی ہے ۔
اجزائے ایمان :
ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنو بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کفر ، شرک ، نفاق ، بدعت وغیرہ کی طرح ایمان بھی قرآن پاک کی ایک اصطلاع ہے ۔ ان میں سے ہر اصطلاع کا ایک خاص معنی ہے جس کو ماننا ضروری ہے ۔ ایمان کی تعریف قرآن پاک کی مختلف آیات میں کی گئی ہے اس کے علاوہ حضور ﷺ کی ایک بڑی واضح حدیث 1 ؎ بھی ہے جس سے ایمان کا مفہوم مکمل کھل کر سامنے آجاتا ہے حدیث جبریل (علیہ السلام) میں ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا فا جبرنی عن الا یمان مجھے بتائیے کہ ایمان کیا چیز ہے ، تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ان تو من باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر ونومن بالقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ والبعث بعد الموت ایمان اس چیز کا نام ہے کہ تم اپنے اختیار اور
1 ؎ بخاری ص 21 ج 1 (فیاض)
ارادے سے اس بات کی تصدیق کرو کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے ، وہ واجب الوجود ، خالق کل ، مدبر ، معبود برحق اور غیر مرثی ہے ۔ غرضیکہ اس کی ذات اور تمام صفات پر ایمان لانا ضروری ہے ، اگر کسی چیز کے بارے میں دل میں خلل پیدا ہو تو ایمان ضائع ہوجائے گا ۔ بعض اوقات ایمان کا معنی یقین بھی کردیا جاتا ہے ۔ مگر یہ درست نہیں کیونکہ یقین تو کبھی اضطراری حالت میں بھی ہوجاتا ہے ۔ مثلاً کوئی حادثہ پیش آگیا ۔ یہ مستقل یقین نہیں ہوتا حقیقت میں ایمان تصدیق کا نام ہے اپنے دل سے اپنے اختیار اور ارادے سے تصدیق کرے کہ اللہ تعالیٰ واقعی وحدہ لاشریک ہے ۔
ایمان کا ایک جزوتو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تصدیق ہوگی اور دوسر ا یہ کہ انسان فرشتوں پر بھی یقین رکھے کہ وہ اللہ کی مقدس اور نور انی مخلوق ہے جسے اللہ نے بنی نوع انسان کی مصلحت کے لئے انسانوں کی پیدائش سے اربوں کھربوں سال پہلے تخلیق کیا ، فرشتے بل عباد مکرمون (الانبیاء ۔ 62) وہ خدا کے معزز بندے ہیں اور ہر وقت عبادت میں مصروف رہتے ہیں وھم بامرہ یعملون (لا نبی اء ۔ 72) وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں فرشتے ہماری طرح جسم اور اس میں روح رکھتے ہیں ۔ اس سے علامہ مشرقی والا ایمان مراد نہیں جو کہتے ہیں کہ فرشتے کوئی مخلوق نہیں بلکہ انسان کی ایک اچھی قوت کا نام ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے بھی اپنی کتاب حجۃ اللہ 1 ؎ البالغر میں وضاحت کی ہے کہ فرشتے وجود رکھتے ہیں اور ان کے جسم میں بھی روح ہے البتہ ان کے اجسام بہت لطیف ہیں ۔ ملاء اعلیٰ سے لیکر ملاء سافل تک فرشتوں کے سات طبقات ہیں اور ان میں سے ہر ایک طبقے کا مادہ تخلیق الگ الگ ہے ۔ فرشتوں کے علاوہ اللہ کی مخلوق جنات بھی وجود رکھتے ہیں ۔ البتہ
1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 61 ْج 1 والخیر الکثیر ص 64 ، 74 (فیاض )
شر پسند شیاطین کی روحیں گندی ہوتی ہیں جو شر پھیلاتی ہیں ۔ غرضیکہ فرشتے ، جنات اور شیاطین سب جسم اور روح رکھتے ہیں ، اس مادی جہان میں ہمیں نظر نہیں آتے جب یہ جہاں تبدیل ہوجائیگا اور اگلا جہان آئے گا تو سب کچھ نظر آئے گا ۔
ایمان کا ایک جزو اللہ کی تمام کتابوں پر بالاجمال اور قرآن حکیم پر بالتفصیل یقین رکھنا ہے ۔ قرآن پاک کی ہر بات کو برحق سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے تمام انباء پر یقین رکھنا بھی جزو ایمان ہے ۔ اللہ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے اپنے ان انبیاء کو مبعوث فرمایا۔ ان کو شریعتیں ، کتابیں اور صحیفے عطا کئے ۔ ہم دل سے سب انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں ۔ کسی ایک نبی کا انکار کرنے والا بھی کافر ہوجائے گا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان لانا بھی ضرو ری ہے آج تک جو کچھ کائنات میں ہوچکا ہے یا ہو رہا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے ، سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم ہثیت اور ارادے کے مطابق ہو رہا ہے خلقہ فقدرۃ (عبس ۔ 91) اللہ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور اس کی تقدیر بنائی ۔ لہٰذا تقدیر الٰہی سے انکار کرنے والا بھی ایمان سے خالی تصور ہوگا ، اور اس کی کوئی نیکی قابل قبول نہیں ہوگی ، اسی طرح بعث بعد الموت پر یقین رکھنا بھی جزو ایمان ہے ، مرنے کے بعد ہر انسان کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، قیامت قائم ہوگی ، حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا ، ان سب اجزائے ایمان کی تصدیق کرنا ضروری ہے ، اللہ کا فرمان ہے ومن یکفرباللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضللا بعید (النساء 621) جس نے اللہ تعالیٰ کی وحدنیت ، اسکی کسی صفت کا انکار کیا ، یا اس کے فرشتوں ، کتابوں ، رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کیا تو وہ گمراہ ہو کر رہ جاپڑا ۔ ایسے شخص کو نجات نہیں مل سکے گی ، گویا ایمان ایک ایسی بنیاد ہے جس پر عمل کی عمارت کھڑی ہوتی ہے ، سورة الانبیاء میں ہے فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ (الانبیاء ، 49)
جو شخص نیک اعمال انجام دے گا بشرطیکہ اس میں ایمان موجود ہو تو اس کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی ، اگر ایمان کی بجائے کفر اور شرک بھرا ہوا ہے تو اسکے پہاڑوں جتنے بڑے بڑے عمل بھی ضائع ہوجائیں گے اور انسان مجرم بن کر دائمی جہنم کا مستحق ٹھہرے گا ، ایمان ہر نیکی کی جڑ اور بنیاد ہے اسی لئے تمام انبیاء اور ان کے متبعین اولیاء اور بزرگان دین سب سے پہلے ایمان کی درستگی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ آپ کی بزرگ کی کوئی کتاب یا ملفوظ اٹھا کر دیکھ لیں ، انہوں نے پہلا سبق ایمان کی درستگی کا ہی دیا ، ہر نبی نے بھی یہی تعلیم دی قال یقول اعبد واللہ مالکم من الہ غیر ہ (ہود ۔ 4 8) اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، بہرحال یہ سارے اجزائے ایمان ہیں جن کی تصدیق کرنا ضروری ہے ورنہ ایمان مکمل نہیں ہوگا ۔
اعمال صالحہ ہو ر انعام :
فرمایا ، وہ لوگ جو ایمان لائے وعملو الصلحت اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیئے ، نیک اعمال تو بیشمار ہیں تاہم بنیادی طور پر ان سے فرائض مراد ہیں ، حضرت مجد د الف ثانی (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ ایمان اور توحید کی درستگی کے بعد فرائض اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج نیک اعمال ہیں ، دیگر نیک اعمال میں جہاد ، قربانی ، صلہ رحمی ، صدقہ ، خیرات حسن اخلاق وغیرہ شامل ہیں ۔
تو فرمایا ایمان لانے کے بعد جن لوگوں نے اچھے اعمال انجام دیئے ، لھم جنت النعیم ان کے لئے نعمتوں کے باغات ہیں خلدین فیھا وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے اور ہاں سے نکالے نہیں جائیں گے عالم طور پر جنت کے ذکر کے ساتھ اللہ نے جنت عدن تجری من تحتھا الانھر (البینۃ 08) کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ ایسے رہائشی باغات ہوں گے جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی ، فرمایا وعد اللہ حقا یہ اللہ کا وعدہ ہوچکا ہے ، جو سچا ہے ،
1 ؎
اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں وھو العزیز الحکیم خدا تعالیٰ کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے ، اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے ، انسان کی تخلیق اور پھر پرانے عمل کا سارا نظام اس کے حکیم ہونے کی واضح دلیل ہے۔
آسمانوں اور پہاڑوں کی تخلیق :
فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسا کمال قدرت کا مالک ہے اور ایسا حکیم ہے جس نے خلق السموت بغیر عمد ترونھا بغیر ستونوں کے آسمان پیدا کئے جنہیں تم دیکھتے ہو ، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں 1 ؎ کہ آسمان کے ستون تو ہیں مگر تمہیں نظر نہیں آتے ، والقی فی الارض رواسی اور زمین میں بوجھل پہاڑ رکھ دیئے ان تمید بکم تاکہ وہ کسی طرف جھک نہ جائے یعنی ڈولنے نہ لگے ۔ ایک عام مثال ہے کہ اگر کشتی میں ایک طرف بوجھ زیادہ ہو تو وہ چلتے وقت اس طرف کو ڈھلک جائیگی لہٰذا اس کو متوازن بنانے کے لئے دوسری طرف بھی بوجھ رکھنا پڑتا ہے ، زمین بھی ایک کرہ ہے جو فضا میں معلق ہے قدیم فلا سفر کہتے تھے کہ زمین ساکن ہے مگر جدید سائنس نے ثابت کردیا ہے کہ یہ متحرک ہے اور چو بیس گھنٹے میں اپنے محو کے گرد گھومتی ہے ، جب کہ سال بھر میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتی ہے ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ حرکت کرتی ہے تو اس پر موجود ہر چیز بھی حرارت کرتی ہے لہٰذا اس کے ڈولنے کا کیا مطلب ؟ مفسرین کرام 2 ؎ فرماتے ہیں کہ مجموعی طور پر زمین کے ساتھ تمام چیزیں بھی حرکت کرتی ہیں مگر بعض مقامی عوامل بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے زمین کے توازن میں خلل واقع ہو سکتا تھا ، مثال کے طور پر زمین کے بعض خطے میدانی اور ہموار ہیں بعض سطح مرتفع اور بعض جگہ گہرے کھڈ ہیں ، اس نشیب و فراز کی وجہ سے زمین کے توازن میں خرابی پیدا ہو کر وہ ڈول سکتی تھی یا ایک طرف کو جھک سکتی تھی مگر اللہ تعالیٰ ے اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے مناسب خطوں میں بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں ، جن کی وجہ سے اس کی رفتار متوازن ہوگئی ہے اور یہک سی ایک طرف کو ڈھلک نہیں جاتی ۔
1 ؎ تفسیر تنویر المقیاس ص 323 وابن کثیر ص 244 ج 3 2 ؎ روح المعافی ص 18 ج 12 (فیاض )
پرانی تحقیق کے مطابق دنیا کے بلند ترین پہاڑوں کی بلندی تین میل کے قریب ہے ، زمین کی وسعت کے اعتبار سے اتنے بڑے پہاڑ کی مثال ایسی ہیں ، جیسے گزر کے اوپر ایک جو کا سترہواں 71 حصہ رکھ دیا گیا ہو ، پہاڑ کی بلندی کے مقابلے میں سمندروں کی گہرائی کہیں زیادہ ہے ، کرہ ارض کے اردگرد چودہ کروڑ مربع میل پر سمندر پھیلے ہوئے ہیں اور انسانوں اور جانروں کی رہائش کے لئے خشکی کا حصہ صرف ایک چوتھائی کے قریب ہے ، لہٰذا پورے کرہ ٔ ارض میں توازن برقراررکھنے کے لئے اللہ نے بوجھل پہاڑوں کو تخلیق فرمایا ہے ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث 1 ؎ دہلوی (رح) ان تمید بکم کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں جگہ جگہ پہاڑ نصب کر کے میدانی لوگوں کو اضطراب سے محفوظ کردیا ہے ، پہاڑوں میں بیشمار پتھر ، درخت ، جڑی بوٹیاں اور طرح طرح کی مع دنیات ہوتی ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اگر پہاڑ نہ ہوتے تو میدانی علاقوں کے رہنے والے لوگ بہت سی چیزوں سے محروم رہ جاتے جو ان کے لئے وجہ اضطراب بنتی۔ و شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ زمین کے ڈولنے کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں کے بغیرزمین کے رہنے والے مضطرب ہوجاتے ۔ اللہ نے پہاڑوں کو پیدا کر کے زمین کے اضطراب کو نہیں بلکہ لوگوں کے اضطراب کو دورکر دیا ۔
جانور اور پانی :
آگے ارشاد ہوتا ہے وبث فیھا من کل دابۃ اور اللہ نے زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیئے ہیں ، مویشیوں کو تو اللہ نے بہت سے جانور اور کیڑے مکوڑے پیدا کئے ہیں ، جو انسانوں کی خدمت پر مامور ہیں ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ۔
پھر فرمایا وانزلنا من السماء وماء اور ہم نے آسمانوں کی طرف سے پانی اتارا ہے ، یہ بھی انسانوں اور جانروں کی حیات کے لئے ضرور ہے ، پانی نہ رف جانداروں
1 ؎ تفہمات الٰہیہ ص 011 ج 2 (فیاض )
کی چننے کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ بوالوسطہ انکی خوراک کا انحصار بھی پانی پر ہی ہے فرمایا اسی پانی کے ذریعے فا نبتنا فیھا من کل زوج کریم ہم نے زمین میں عمدہ جوڑے پیدا کئے ہیں ، اللہ نے آسمانوں کی طرف سے بارش برسا کر پررونق خوش منظر اور کار آمددرخت پیدا کئے ہیں ، طرح طرح کے پھو ل پھل اناج اور سبزیاں پیدا کی ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنتی ہیں ۔ سورة الرعد میں اللہ نے پانی کا یہ کمال بھی بیان کیا ہے کہ دیکھو ! زمین پر طرح طرح کے درخت پودے اور بیلیں ہیں جو مختلف نرخوں اور مختلف ذائقوں کے پھل پیدا کرتے ہیں حالانکہ یسقی بماء واحد (آیت 4 ) وہ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ۔ کوئی چھوٹا پھل ہے ، کوئی بڑا کوئی سبز ہے کوئی سرخ اور کوئی زردہ ، کسی کا ذائقہ میٹھا ہے ، کسی کا پھیکا اور کسی کا کڑوا مگر پانی سب نے ایک ہی گھاٹ سے پیا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بہت بڑا شاہکار ہے ایسے عجیب و غریب امور وہی انجام دیتا ہے جو تمام قدرتوں کا مالک اور ہر چیز کا خالق اور بدتر ہے ۔
توحید پر دلیل :
آگے ارشاد ہوتا ہے ھذا خلق اللہ یہ سب کچھ اللہ کا پیدا کردہ ہے ۔ آسمانوں سے لے کر زمین تک اور زمین اور سمندروں کے اندر کی ہر چیز اللہ ہی نے پیدا کی ہے ، فارونی ماذخلق الذین من دونہ ، اب بتلائو کہ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن کو اپنا معبود ، حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھا ہے انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ جب کسی دوسرے نے پیدا کچھ نہیں کیا ، تو پھر وہ معبودیت کا کیا حق رکھتا ہے ؟ یہ ایسی دلیل ہے جسے عالم اور جاہل یکساں طور پر سمجھ سکتا ہے ۔
مفسر حقانی 1 ؎ نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ کسی راستے پر ایک عیسائی پادری لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے کہہ رہا تھا یسوع مسیح خدا ہے ، خدا کا بیٹا ہے ، وہ خدا کا پیارا اور باختیار ہے ، اتنے میں ایک ان پڑھ دیہاتی آدمی ادھر سے گزرا اور کہنے لگا کہ پادری صاحب تم مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا سپوت یعنی لائق بیٹا کہتے ہو ، بھلا یہ تو بتلائو کہ کائنات کی تمام چیزوں کا خالق کون ہے ؟ پادری کہنے لگا کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے ، پھر دیہاتی کہنے
1 ؎ تفسیر حقانی ص 64 ج 6 (فیاض )
لگا کہ اگر ہر چیز اللہ کی پیدا کردہ ہے تو بتلائو عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کچھ پیدا کیا ہے ؟ پادری لاجواب ہوگیا کہ جو کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہوگیا اس آیت کریمہ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اگر تمہارے خود ساختہ معبودوں نے کچھ پیدا کیا ہے تو دکھا دوکون سی چیز پیدا کی ہے اور اگر کوئی چیز پیدا نہیں کی تو پھر وہ حاجت روا اور مشکل کشا کیسے ہو سکتے ہیں ؟ ، پھر ان کو مصیبت کے وقت کیوں پکارتے ہو اور ان کے سامنے نذونیاز کیوں پیش کرتے ہو ؟ وہ تو خود لاچار اور درماندہ ہیں ، وہ خود ہر چیز اللہ سے طلب کرتے ہیں ، بھلا تم ان سے کیا توقع رکھتے ہو ؟
فرمایا حقیت یہ ہے بل الظلمون فی ضلل مبین کہ ظالم یعنی شرک لوگ ہی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ، یہ اتنی واضح دلیل ہے کہ جو شخص خود محتاج ہے وہ دوسرے کو کیا دے سکتا ہے اور معبود کیسے بن سکتا ہے ؟ اللہ کا فرمان تو یہ ہے کہ یسلہ من فی السموت والارض (الرحمن ۔ 92 ) آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ ہی کے سامنے دست سوال دراز کرتی ہے مگر تم کہتے ہو کہ فلاں بھی رزق ، اولاد ، کاروبار وغیرہ دے سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس دلیل کے ذریعے شرک کا رد بھی فرمادیا ہے ۔