Ayahs 30:1–7نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الروحہ ہے جو اس کی دوسری آیت میں آمدہ لفظ روم سے اخذ کیا گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق یہ سورة مکی زندگی میں سورة انشقاق کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورة مبارکہ کی ساٹھ آیات میں اور یہ چھ رکوع پر مشتمل ہے ۔ اس میں 918 الفاظ اور 0252 حروف میں یہ سورة طوالت کے لحاظ سے درمیانی سورتوں میں شمارہوتی ہے۔
رومی سلطنت
روم ایک سلطنت کا نام تھا جسے نزول قرآن کے زمانہ میں رومۃ الکبریٰ بھی کہتے تھے ، بالکل اسی طرح جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک برطانیہ کو برطانیہ عظمی Great BRITAIN کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کا اصل مرکز تو اٹلی میں تھا مگر بعد میں اس کا ایک حصہ الگ ہو کر جدید روم کو ملا جس کا دارلخلافہ استنبول (قسطنطنیہ) تھا اور اس کے ماتحت شام فلسطین اور ایشیائے کوچک کے دوسرے علاقے تھے۔ اس سلطنت کا بادشاہ ہرقل عیسائی مذہب رکھتا تھا جسے حضور ﷺ نے 7 ھ میں دعوت نامہ اسلام بھیجا تھا۔
بعد کے دور میں لفظ رومہ عیسائیوں کے لیے مخصوص ہوگیا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے والروم ذوات القرون اذا ھک قرن خلفہ قرن آخر رومی یعنی عیسائی لوگ قرناً بعد قرن دنیا میں موجود رہیں گے۔ جب ایک گروہ ختم ہوجائے گا تو دوسرا آجائے گا۔ یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا۔ چناچہ یہ لوگ آج تک دنیا میں بڑی بڑی سلطنتوں کے مالک چلے آرہے ہیں مسیح علیہ اسلام کے نزول کے بعد ساری زمین غیر مذاہب سے پاک ہوجائے گی۔ اور دنیا میں صرف اسلام ہی باقی رہ جائے گا۔
دو عظیم حکومتیں
نزول قرآن کے زمانہ میں دنیا پر دو بڑی زبردست سلطنتیں تسلیم کی جاتی تھی۔ ایک ایرانیوں کی حکومت کسریٰ جس کے زیرنگیں تقریباً آدھی دنیا بشمول ہندوستان کی مختلف ریاستیں ، چین ، روس وغیرہ تھی۔ اگر کوئی علاقائی بادشاہ بھی تھا تو وہ بھی کسریٰ کا باجگزار تھا۔ دوسری آدھی دنیا قیصر روم کے ماتحت تھی۔ اس میں یورپ ، افریقہ مصر وغیرہ شامل تھے اس زمانے میں قیصر اور کسریٰ کی حیثیت دنیا میں اسی طرح تسلیم کی جاتی تھی جس طرح آج کے زمانے میں امریکہ اور روس دو بڑی سلطنتیں ہیں اور دنیا کے بیشتر ممالک ، سیاسی ، اقتصادی یا معاشرتی لحاظ سے کسی نہ کسی طرح ان دو کے دست نگر ہیں۔ بہرحال اس زمانے میں رومی عیسائی تھی جب کہ ایرانی مجوسی تھے۔
امام شاہ ولی اللہ محدیث دہلوی اپنی معرکۃ الآرا کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ ان دونوں بڑی سلطنتوں کو ختم کردیاجائے۔ چناچہ اس نے عرب کے خطے میں اپنی نبی امی کو مبعوث فرمایا جو نہ رومیوں کے ساتھ ملتے تھے اور نہ ایرانیوں کے ساتھ۔ اللہ نے آپ کی ذات کے ذریعے ان دو بڑی حکومتوں کو مٹا دیا جنہوں نے دنیا پر مظالم ڈھا رکھے تھے۔ یہ عظیم سلطنتیں حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کے ہاتھوں اپنے اختتا م کو پہنچیں۔ چناچہ جنگ یرموک میں عیسائیوں کی کمر ٹوٹ گئی اور قادسیہ کی جنگ میں ایرانی مجوسیوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگیا۔ یہ حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں ہوا۔
سلطنت سے متعلق پیش گوئی
حضور ﷺ کی نبوت کو چھ سال گزر چکے تھے جب وہ سورة مبارکہ نازل ہوئی یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ سورة ہجرت مدینہ سے چھ سال قبل نازل ہوئی۔ مسلمانوں کی ایک جماعت کفار کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھی۔ اسی زمانے میں رومی اور ایرانی آپس میں برسر پیکار تھے ، مختلف مقامات پر جنگیں ہوتی رہتیں تھی۔ رومی عیسائی آپس میں یعقوبی ، نسطوری وغیرہ کئی فرقوں میں تقسیم ہو کر لڑتے جھگڑتے رہتے تھے عیسائیوں کے اندرونی خلفسار سے مجوسیوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور انہوں نے یکبارگی حملہ کرکے رومیوں کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔ ایرانیوں نے قسطنطنیہ پر حملہ کرکے وہاں کے عیسائیوں کو بھی محبوس ہونے پر مجبور کردیا۔ ان حالات میں یہ سورة الر وم نازل ہوئی جس میں واضح کیا گیا کہ رومی مغلوب ہوچکے ہیں مگر ساتھ یہ پیش گوئی بھی کردی کہ چند ہی سالوں میں یہ دوبارہ غالب آجائیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ پیش گوئی نو سال کے عرضہ میں پوری کردی۔
پیش گوئی پر شرط
اس زمانے میں مکہ کے مشرکوں کو ایرانی مجوسیوں کے ساتھ دلی ہمدردی تھی کیونکہ دونوں فریق مشرک تھے۔ ادھر مسلمانوں کو بالطبع روم کے عیسائیوں کے ساتھ زیادہ مناسبت تھی کہ وہ بھی اہل کتاب تھے اور مسلمانوں کا تمام انبیاء پر ایمان تھا۔ جب رومی مغلوب ہوگئے تو مسلمانوں کو ذہنی طور پر تکلیف پہنچی کیونکہ وہ ایک حد تک ان کے ہمدرد تھے۔ دوسری طرف مکہ کے مشرک خوشیاں مناتے تھے کہ ان کی پارٹی غالب آئی تھی اور اسی ضمن میں وہ مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے اور دل آزاری کرتے کہ دیکھو جس طرح رومی عیسائی مغلوب ہوگئے ہیں اسی طرح تم بھی مغلوب ہی رہو گے اور تمہارے غلبے کی حسرت کبھی پوری نہیں ہوگی۔
اسی دوران میں جب اس سورة کے ذریعے پیش گوئی کی گئی کہ رومی عنقریب دوبارہ غالب آجائیں گے تو مشرک ہنسی اڑاتے تھے کہ دیکھو مسلمان کیسی فضول امیدیں لگانے بیٹھے ہیں۔ اس ضمن میں مسلمانوں اور مشرکوں کا بحث مباحثہ بھی ہوتا رہتا چناچہ ایسے ہی ایک موقعہ پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ابی ابن خلف مشرک کے درمیان جب بحث نے طول پکڑا تو دونوں کے درمیان ایک شرط طے پاگئی کہ اگر رومی چار پانچ سال کے اندر اندر دوبارہ غالب آگئے تو ابی ابن خلف دس اونٹ حضرت ابو بکرصدیق ؓ کو دیگا اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھر حضرت صدیق ؓ دوسرے فریق کو دس اونٹ دیں گے جب اس شرط کا تذکرہ حضور ﷺ کے سامنے کیا گیا تو آپ نے صدیق اکبر ؓ سے فرمایا کہ بضع کا اطلاق تین سے نو تک کی گنتی پر ہوتا ہے اور اللہ کا فرمان… سے مراد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ نو سال کے عرصہ میں عیسائی اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ آپ کی طرف سے چار پانچ سال کی مدت کا تعین درست نہیں۔ اسے نو سال تک بڑھاناچاہئے تھا تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہوجائے۔ حضرت صدیق ؓ نے اس ضمن میں ابی ابن خلف سے دوبارہ بات کی اور شرط میں اس حد تک ترمیم کردی گئی کہ مکمل پیش گوئی کی مدت نو سال ہوگی اور شرط کی مقدر دس اونٹ کی بجائے سو اونٹ ہوگی۔
پیش گوئی کی تکمیل
اس شرط کے تقرر نے چند سال بعد 226 ء میں آنحضرت ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی ، اور ادھر اور ادھر قیصر روم قسطنطنیہ کے ایرانی خاصہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ ہرقل پے درپے ثلقوں سے سخت مایوس ہو کر افریقہ کی طرف بھاگ جانا چاہتا تھا کہ دفعتاً اسے ایک تدبیر سوجھی ہرقل جانتا تھا کہ ایرانیوں کی بحری طاقت کمزور ہے۔ اس نے اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی پشت سے بحری بیڑے کے ذریعے حملے کا منصوبہ بنایا۔ چناچہ اس نے اچانک حملہ کرکے ایرانیوں کے قدم اکھاڑ دئیے پھر دوسرے سال آذر بائیجان میں گھس کر ایرانیوں کے سب سیب ڑے آتش کدو کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اس طرح رومی ایرانیوں پہ دوبارہ غالب آگئے اسی زمانے میں یعنی 2ء میں مسلمانوں کو میدان بدر میں کفار کے خلاف عظیم فتح حاصل ہوئی۔ اور اس طرح قرآن پاک کی دونوں پیش گوئیاں پوری ہوئیں۔ اُدھر عیسائیوں کو فتح نصیب ہوئی تو ادھر مسلمان کفار پر غالب آگئے۔ اس سورة مبارکہ کی ابتدائی آیات کا یہ پس منظر ہے۔
گذشتہ سورة العنبوت میں ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر تھا۔ نیز اس میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قیامت اور مشرکین سے ردّ کا بیان تھا ، اس سورة مبارکہ میں بھی بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے۔ یہاں پر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ نبوت و رسالت پر اعتراضات کے جوابات میں محاسبے اور جزائے عمل کا ذکر ہے۔ پچھلی سورة میں ابتلاء کا ذکر تھا تو اس سورة میں مسلمانوں کے لیے بشارت ہے کہ ثابت قدمی کی صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب کریگا۔ اس کے علاوہ اس سورة میں بہت سے حقوق کا ذکر بھی ہے۔
حروف مقطعات
اس سورة کی ابتداء حروفِ مقطعات الم (1) سے کی گئی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان حروف سے اللہ تعالیٰ نے بعض اسمائے پاک کی طرف اشارہ ہے جیسے ا سے اللہ ، ل سے الاء یعنی اللہ کی نعمتیں ، اس کا اسم لطیف یا لطف ہے جس کا معنی مہربانی اور شفقت ہوتا ہے۔ اور م سے مراد علیم ہے تو اس طرح ان حروف کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے حق میں نہایت ہی مہربان ہے جن کا انجام اچھا ہوگا۔
بعض فرماتے ہیں کہ ا سے مراد الوہیت ہے جب کہ ل سے مراد اللہ کی آلاء یعنی نعمتیں ہیں اور م سے مراد ملک یا بادشاہی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ الوہت بھی خدا تعالیٰ کی ہے اور انعامات اور بادشاہی بھی اسی کے فیضان سے ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ا سے اللہ ، ل سے جبریل (علیہ السلام) اور م سے محمد مراد ہیں۔ یہ قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ آخری کتاب جبریل (علیہ السلام) کے توسط سے حضرت محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے لشفی طورپر… ہے کہ الم سے عالم مجرد کا وہ غیب مراد ہے جو اس مادی جہان میں آکر متعین ہوا ہے اور لوگوں کے برے اعمال و اخلاق کے ساتھ ٹکراتا رہتا ہے ، اس کے ذریعے لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور اس سے انبیاء (علیہم السلام) کے مقامات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ا غیب مجرد کی طرف اشارہ ہے جب کہ ل تعین پر دلالت کرتا ہے اور م سے مراد مادہ (MATTER) ہے مقصد یہ ہے کہ عالم غیب سے جو قانون ، تشریح یا تحقیق آکر متعین ہوتی ہے وہ لوگوں کے عادات ، علوم اور سنگدلی کے ساتھ ٹکراتی رہتی ہے گویا اس کا تصادم بُرے اعمال و اخلاق اور فاسد ارادوں سے ہوتا رہتا ہے ، تو اس سورة مبارکہ میں انہی چیزوں کا ذکر ہوگا ، گویا الم سورة کی سرخی (HEADING) ہے اور اس کی تفصیلات سورة میں موجود ہیں۔
تاہم امام جلال الدین سیوطی اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بیان کردہ معافی و مطالب میں سے کوئی بھی یقینی معنی نہیں ہے۔ مفسرین کرام یہ معافی محض تقریب فہم کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے اذہان کو قرآن کریم کے قریب لایاجاسکے۔ البتہ زیادہ سلامتی والا راستہ یہ ہے کہ ان حروفوں کے بارے میں یہی نظریہ قائم کیا جائے کہ اللہ اعلم بمرادہ بذلک ان حروف سے جو بھی مراد ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو بہتر جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ جو بھی اللہ کی مراد ہے وہ برحق ہے ہمیں اس کی کرید نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے گمراہی میں پڑنے کا احتمال ہے۔
رومیوں کا زوال و عروج
ارشاد ہوتا ہے غلبت الروم رومی عیسائی مغلوب ہوگئے فی ادنی الارض قریب کی سرزمین ہے ۔ اس سے سرزمین عرب مراد ہے کہ شام و فلسطین اور ایشائے کوچک وغیرہ کے علاقے عرب سے قریب تھے۔ جہاں پر عیسائی مغلوب اور مجوسی غالب آگئے تھے لیکن ساتھ ہی اللہ نے یہ پیش گوئی بھی فرمادی وھم من بعد غلبھم سیغلبون اور یہ رومی مغلوب ہونے کے بعد عنقریب پھر غالب آجائیں گے۔ فی بضع سنین اور ان کو دوبارہ غلبہ چند سالوں میں حاصل ہوجائے گا۔ بضع کا اطلاق تین سے نو تک کے اعداد پر ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ نو سال کے اندر اندر رومی اپنا وقار دوبارہ حاصل کرلینگے۔
اُدھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی بشارت سنائی للہ الامر من قبل ومن بعد اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں سارا معاملہ ہے پہلے بھی اور بعد بھی۔ مختار مطلق وہی ہے ہر چیز پر تصرف اسی کا ہے۔ ان دنیاوی بادشاہوں کو تو عروجِ وزوال ہوتا رہتا ہے مگر اللہ کی ذات ہی ہے جس کو کبھی زوال نہیں اور دنیا کی تمام اونچ نیچ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جب اسکی مشیت ہوتی ہے تو کسی قوم کو عروج حاصل ہوجاتا ہے اور جب وہ چاہتا ہے تو وہی قوم قعر مذلت میں جاگرتی ہے۔ فرمایا رومی چند سالوں میں دوبارہ غالب آجائیں گے و یومذ یفرح المومنون اور اس دن اہل ایمان بھی خوش ہوجائیں گے۔ کس طرح ؟ بنصر اللہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے۔ اللہ کی یہ مدد مسلمانوں کو میدانِ بدر میں مشرکین مکہ کے خلاف حاصل ہوئی۔ اُدھر رومی ایرانیوں پر غالب آئے اور ادھر مسلمانوں نے کافروں کو شکست فاش دے دی اور اس طرح یہ دونوں پیشن گوئیاں پوری ہوگئیں یعنی رومی بھی غالب آگئے اور اہل ایمان بھی خوش ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ جب رومیوں کو ایرانوں کے خلاف فتح حاصل ہوئی تو اس وقت شاہ ہرقل محصص میں تھا۔ اس نے نذر مان رکھی تھی کہ شام و فلسطین پر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی صورت میں وہ پیدل چل کر بیت المقدس کی زیارت کریگا۔ چناچہ اس نے اپنی یہ منت پوری کی۔
فرمایا ینصر من یشاء اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ وھو العزیز الرحیم وہ کمال قدرت کا مالک اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وعد اللہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے لا یخلف اللہ وعدہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا ، بلکہ اسے پورا کرتا ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون مگر اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ دیکھ لیں اللہ تعالیٰ نے اس پیشن گوئی کو کس طرح حرف بحرف پورا کیا۔ اس سے قرآن حکیم اور پیغمبر اسلام کی صداقت بھی واضح ہوتی ہے۔
فکر معاش اور فکر دنیا
آگے ارشاد ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی حالت یہ ہے یعلمون ظاہراً من الحیوۃ الدنیا کہ وہ دنیا کے ظاہری نشیب و فراز کو تو خوب جانتے ہیں۔ لوگ معاشیات ، سیاسیات ، سائنس ، ٹیکنالوجی ، صنعت و حرفت وغیرہ سے تو خوب واقف ہیں اور ان معاملات سے متعلق بڑے بڑے دعوے بھی کرتے ہیں۔ پرانی اقوام عاد اور ثمود وغیرہ کے متعلق بھی اللہ نے فرمایا وکانو مستبصرین ( العنکبوت۔ 83) بڑے سوجھ بوجھ والے لوگ تھے۔ دنیا کے اعتبار سے بڑے کامیاب لوگ تھے اور آج بھی ہیں۔ مگر فرمایا وھم عن الاخرۃ ھم غفلون یہ لوگ آخرت کی زندگی کا کچھ علم نہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ لوگ عقل معاش میں تو طاق ہیں مگر عقل معاد سے بالکل خالی ہیں۔ آج بڑے بڑے فلاسفر ، بیرسٹر اور سائنس دان دنیا میں موجود ہیں جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں مگر آخرت کے انجام سے بیخبر ہیں۔ وہ اس دائمی زندگی کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے سراسر نقصان میں جا رہے ہیں۔ اس کے برخلاف اہل ایمان دنیاوی لحاظ سے اگر کمزور بھی ہوں مگر ان کا آخرت کے متعلق عقیدہ صحیح ہے اور یہی ان کی دائمی فلاح کا ذریعہ ہے یہ اللہ کے نزدیک یقینا کامیاب ہوں گے۔ جب کہ کافر ، مشرک ، ملحد…جہنم کے کندہ کا ترشن بن کر رہیں گے کیونکہ ان کا آخرت پر ایمان نہیں ہے۔
Ayahs 30:8–10ربطہ آیات
سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پیشن گوئی فرمائی تھی کہ مغلوب رومی عیسائی چند سالوں میں دوبارہ غالب آجائیں گے۔ چناچہ یہ پیشن گوئی نو سال کے اندر اندر پوری ہوگئی۔ ادھر عیسائیوں نے اپنے مقدس مقدمات مجوسیوں سے واگذار کر الیے اور ادھر اللہ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کو کافروں پر فتح عطا فرمائی۔ اس پیشن گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ابی ابن خلف کے درمیان ایک ایک سو اونٹ کی شرط بھی لگ چکی تھی۔ عیسائیوں کے دوبارہ غلبہ پر حضرت صدیق ؓ شرط تو جیت چکے مگر ابی ابن خلف میدان بدر میں مارا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت صدیق ؓ نے سو اونٹ ابی ابن خلف کے رشتہ داروں سے وصول کیے تھے۔
قمار بازی کا مسئلہ
جب اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ کے سامنے ہوا کہ حضرت صدیق ؓ نے شرط کے سو اونٹ وصول کرلیے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ اونٹ تمہارے لئے جائز نہیں ہیں کیونکہ یہ قمار بازی سے حاصل ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کو صدقہ کردو ، واضح رہے کہ قمار بازی کی ممانعت کا حکم 2ء میں سورة البقرہ میں جنگ بدر کے بعد نازل ہوا تھا۔ اس سے فقہائے کرام پر مسئلہ نکالتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس شرط یا جوئے کا مال موجود ہو تو اس کے لیے اب بھی یہی حکم ہے کہ وہ مال اس کے مالک تک پہنچانے کی کوشش کرے اور اگر مالک فوت ہوچکا ہے تو اس کے وارثوں کو پہنچایاجائے۔ اور اگر ایسی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو پھر یہ مال صدقہ کردیاجائے۔ اس صدقہ سے ثواب حاصل کرنا مقصود نہ ہو ، بلکہ ایسے ناجائز مال کے بوجھ سے بچنا مطلوب ہو ، اگر ثواب کی نیت سے صدقہ کریگا تو خطرہ ہے کہ اس پر کفر لازم آجائے۔ اس صدقہ کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کسی شخص کے جسم ، کپڑے پر نجاست لگ جائے تو وہ فوراً دھولیتا ہے اور اس دھونے میں ثواب کی نیت نہیں ہوتی بلکہ نجاست سے چھٹکارا حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے ، اسی طرح ناجائز مال کے صدقہ سے اس سے گلو خلاصی مراد ہوتی ہے۔
بعض حضرات نے اس سے ایک دوسرا مسئلہ بھی نکالا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ دارالحرب میں کسی حربی کافر کے ساتھ اس قسم کے ناجائز معاملات بھی کیے جاسکتے ہیں۔ جس طرح جنگ کے دوران حربی کافر سے مال غنیمت حاصل کرنا جائز ہے اسی طرح اس سے سود بھی لیاجاسکتا ہے یا اس کے کسی دیگر مال پر بھی قبضہ کیا جاسکتا ہے برخلاف اس کے ذمی کافر کا مال ، جان اور عزت و آبرو اسی طرح محفوظ ہوتی ہے۔ جس طرح کسی مسلمان کی۔ اسی طرح کسی معاہدہ کافر ( جس کے ساتھ بعض شرائط پر صلح کا معاہدہ ہوچکا ہو) کا مال بھی غضب نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ دوسرے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جب حضرت صدیق ؓ نے ابی ابن خلف کے ساتھ شرط لگائی تھی۔ اس وقت قمار بازی کی حرمت نہیں آئی تھی ، لہٰذا وہ کسی حد تک جائز تھی ، مگر اب جب کہ اس کی صراحت کے ساتھ ممانعت آچکی ہے اب کسی حربی کافر کے ساتھ بھی ایسا معاملہ کرنا درست نہیں۔ یہ قمار بازی ہے جو کہ قطعی حرام ہے۔
وقوع قیامت
گذشتہ درس میں کفار و مشرکین کی بےسمجھی کا ذکر بھی ہوا تھا کہ یہ لوگ دنیا کے ظاہری حالات سے تو خوب واقف ہیں مگر آخرت معاملہ میں بالکل غافل ہیں جس کی وجہ سے وہ قیامت کا انکار ہی کردیتے ہیں۔ وہ لوگ طعن کے طور پر پوچھتے تھے۔ متی ھذا الوء دان کنتم صدقین ( الملک۔ 52) اگر تم وقوع قیامت کے وعدے میں سچے ہو تو تبائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا یعنی قیامت کب برپا ہوگی ؟ کہتے تھے تمہارا بعث بعدالموت کا فلسفہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ ابذا متناوکنا تراباً وعظاماً وانا المبعوثون ( الواقعہ۔ 74) جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا تم پھر اٹھائے جائیں گے ؟ یہ بھی کہتےء اذا کنا عظاماً نخرۃ ( النرعت۔ 11) جب ہماری ہڈیاں بھر بھری ہوجائیں گی۔ یعنی ان میں مادہ حیات باقی نہیں ہے۔ تو کیا پھر بھی ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ ایسے ہی لوگوں کو اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ آخرت سے بیخبر ہیں ورنہ وقوع قیامت اور محاسبہ اعمات کا اس طرح انکار نہ کرتے ارشاد ہوتا ہے اولم یتفکرو افی انفسھم کیا انہوں نے اپنے نفسوں میں غور و فکر نہیں کیا ؟ انسان کی جان اس کی قریب ترین چیز ہے اگر یہ اسی میں غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی حکمت کے ساتھ اس کے جسم میں جان ڈالی ہے جس کا سلسلہ سانس یعنی ہوا کے ساتھ قائم کیا ہے۔ جب یہ سانس چلتا رہتا ہے۔ انسان زندہ سلامت رہتا ہے اور جونہی سانس کا یہ سلسلہ ختم ہوجاتا ہے تو انسان کا جسم بھی بیکار ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کی یہی ایک بہت بڑی نشانی ہے ۔ جس طرح ہر نفس کے لیے اللہ نے حیات اور موت کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ اسی لیے جمیع عالم کے لیے بھی ایسا ہی نظام قائم ہے۔ جب تک اس کی مشیت سے یہ نظام چلتا رہیگا ، پھر جب اس کا وقت پورا ہوجائے گا تو یہ سارا نظام درہم برہم کرکے اس کی… اور یہ واقع ہو کر رہے گی۔
سورۃ الزریات میں بھی اللہ نے انسان کی توجہ اس کے نفس کی طرف دلائی ہے۔ فرمایا وفی انفسکم افلا تبصرون ( آیت۔ 12) تمہارے نفسوں میں قدرت کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں کیا تم ان کو نہیں دیکھتے یعنی ان میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ اگر ذرا بھی غور کرتے تو تمہیں قیامت بعید نظر نہ آتی ، عقلی اور نقلی… سے ثابت ہوتا ہے کہ وقوع قیامت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور وہ آکر رہیگی۔
جزائے عمل
پھر فرمایا ما خلق اللہ السموت والارض وما بینھما الا بالحق اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی چیزوں کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔ یہاں پر حق سے مراد حکمت ہے یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت کی شاہکار ہے۔ اللہ نے کسی چیز کو بیکار محض پیدا نہیں فرمایا بلکہ قیامت کو اس کا نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ انسان کو اللہ نے مکلف پیدا کیا ہے اور قیامت والے دن اس کا محاسبہ ہوگا اور پھر جزائے عمل کا فیصلہ ہوگا۔ سورة القیمۃ میں فرمایا ایحسب الانسان ان یترک سدی ( آیت۔ 63) کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیاجائے گا۔ نہیں بلکہ اللہ نے اسے قانون کا پابند بنایا ہے اس کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہے جسکی تکمیل اسے کرنا ہے۔ لہٰذا اگر انسان اپنے آپ میں ہی غور کرے تو اسے قیامت اور جزائے عمل کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے۔
فرمایا ایک بات تو یہ ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اپنی خاص حکمت اور مصلحت کے تحت پیدا کیا ہے اور دوسری بات یہ ہے واجل مسمی یہ سارا نظام ایک مقررہ وقت تک کے لیے ہے۔ سورة الطلاق میں فرمایا قد جعل اللہ لکل شئی قد …( آیت 2) اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ جس طرح انسان کی انفرادی زندگی کا ایک وقت مقرر ہے اسی طرح اقوام و عمل کی اجتماعی زندگی کا وقت بھی مقرر ہے۔ پھر پوری کائنات کے لیے وقت مقرر ہے جب وہ پورا ہوجائے گا تو سارا نظام شمسی ختم ہوجائے گا اور پھر اگلے جہان کے لیے ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا۔ دیکھئے کچھ عرصہ پہلے تک انگریزوں کو دنیا میں کس قدر عروج حاصل تھا انکی سلطنت اتنی وسیع تھی کہ اس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا مگر جب اس کا وقت پورا ہوگیا تو آج وہی برطانیہ عظمیٰ ایک جزیرے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ان کے ہم زبان دیگر چھوٹے چھوٹے جزیرے آئرلینڈ وغیرہ بھی باغی ہوچکے ہیں۔ اب امریکہ کو دنیا بھر میں بالادستی حاصل ہے۔ روس اس کے ہم پلہ طاقت تھی مگر اس کا سورج بھی غروب ہورہا ہے۔ یہاں پر ستر برس قبل کمیونسٹ نظام آیا مگر آج وہ بھی ناکام ہوچکا ہے۔ اب دیکھئے امریکی عروج کب تک باقی ہے اور نئی کونسی قوم ابھرنے والی ہیں۔ غرضیکہ ہر فرد ، جماعت ، ملک و قوم کے عروج وزوال کا ایک وقت مقرر ہے۔ اور یہ سارا نظام اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے مطابق چل رہا ہے۔ تو فرمایا ہر چیز کے لیے ایک مدت مقرر ہے وان کثیراً من الناس بلقای ربھم لکفرون مگر بہت سے لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی ملاقات کا انکار کرنے والے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی محاسبہ نہیں ہے اور نہ کوئی جزا اور سزا کا تصور ہے ، وہ لوگ اسی دنیا کی زندگی کو اوّل و آخر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ بات عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل و شعور دے کر پیدا کیا ہے۔ اگر وہ اپنی پیدائش پر ہی غور کرے تو بعث بعد الموت کا مسئلہ اس کی سمجھ میں آسکتا ہے۔ اگر انسان اپنے آغاز یعنی پیدائش سے واقف ہے تو پھر وہ انجام کا کیوں انکار کرتا ہے۔ جس ذات نے اسے پیدا کیا ہے ، وہی اسے انجام تک بھی پہنچائے گا ، لہٰذا انسان کو جزائے عمل سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ ہر انسان کو جان لیناچاہئے۔ وان کل لما جمیع لدنیا محضرون (یس۔ 23) تمام کے تمام لوگ اللہ کی بارگاہ میں حاضر کیے جائیں گے۔ یوم تجدکل نفس ما عملت ( آل عمران۔ 03) اس دن ہر شخص اپنے اعمال کا موجود پائیگا۔ پوری زندگی کا اعمالنامہ سامنے رکھ دیاجائے گا۔ جس کا جواب دینا پڑے گا اور پھر جزائے عمل کے متعلق فیصلے ہوں گے۔
پہلی قوموں کا انجام
فرمایا اولم یسیروا فی الارض کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے فسینظرواکیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم تاکہ دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ کانو اشد منھم قوۃ وہ تو طاقت میں ان سے بھی زیادہ تھے۔ یہ نزول قرآن کے زمانہ کے کافروں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم کس غرور کا شکار ہو ، تم سے پہلے لوگ تو تم سے بھی زیادہ طاقتور تھے۔ واثار والارض انہوں نے زمین میں مل جل کر کھیتی باڑی کی اور اس سے فائدہ اٹھایا ، عراق اور مصر وغیرہ میں وسیع پیمانے پر کاشتکاری ہوتی تھی اور لوگ خوشحال تھے۔ زمین کے اندر بھی مع دنیات تھیں جنہیں نکالا جاتا تھا۔ فرمایا ان لوگوں نے زمین میں کاشتکاری کی وعمروھا اکثر مما عمروھا اور اسے آباد کیا زیادہ اس سے جو انہوں نے آباد کیا۔ وہ بھی متمدن لوگ تھے۔ بڑے خوشحال تھے ، تمہیں تو ان کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں۔ دنیا میں فرعونی ، کلدانی ، قاسیہ ، مصری ، گندھارا ، ہڑپہ ، مونجودارو جیسی عظیم تہذیبیں گزری ہیں عاد اور ثمود جیسی بڑی بڑی قومیں صفحہ ہفتی پر ابھری ہیں مگر آج ان کے صرف کھنڈرات ہی نظر آتے ہیں۔ ان کی کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیاء سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ کیسی کیسی صنعت کاری کرتے تھے۔ ان کی بڑی بڑی نقش و نگار والی عمارات کے نمونے دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ قوم عاد کی عمارتوں کے نمونے تو پانچ ہزار برس تک قائم ہے۔ اہرام مصر آج بھی موجود ہیں جن میں پچھتر پچھتر من وزنی پتھر استعمال ہوئے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتی کہ اس زمانے میں اتنے وزنی پتھروں کو کس طرح اس قدر بلندی تک پہنچایا گیا حالانکہ ان کے پاس جدید دور کی مشینری بھی نہیں تھی۔ اس زمانے میں لاشوں کو حنوط کرنے کا رواج بھی تھا۔ آج تو کچھ عرصہ کے لیے لاش کو شیشے کے بکس میں بند کرکے ہوا (AIR TIGHT) کردیا جاتا ہے مگر اس زمانے میں لاش کو کھلے رکھ کر اس پر ایسا مسالہ لگایاجاتا تھا کہ ہزاروں سال محفوظ رہتی تھی۔
فرمایا کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے کہ اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان کی نسبت بڑے شاہ زور تھے۔ وتنحتون من الجبال بیوتاً فرھین (الشعرائ۔ 941) اور پہاڑوں کو تراش تراش کر رہنے کے لیے گھر بناتے تھے۔ جو کہ پُر تکلف اور پُر آسائش ہوتے تھے ان کے بنائے ہوئے مینار اور بڑے بڑے گنبد آج بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں برصغیر میں قریب زمانے کی بنی ہوئی بہت سی عمارات میں جیسے تاج محل آگرہ ، لال قلعہ دہلی ، شاہی مسجد اور قلعہ لاہور مقبرہ جہانگیر اور نور جہاں۔ یہ عمارات آج بھی یادگار کے طور پر موجود ہیں فرمایا جب تم سے زیادہ طاقتور اور زیادہ کاریگر قومیں نہ رہیں تو تم کو بھی بقا حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا اپنی پیدائش میں غور کرکے اپنے انجام کی فکر کرلو۔
زمین کی آباد کاری
اس آیت میں زمین کی آباد کاری کا اصول بھی موجود ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ زمین کو بےآباد نہ رہنے دے بلکہ اس کی آباد کاری کے لیے اقدام کرے اگر کوئی مالک اپنی زمین کو آباد نہیں کرتا تو اسے سے زمین لے کر کسی کاشتکار کو دے دی جائے تاکہ اسے آباد کرکے اس سے فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ بعض آئمہ کرام فرماتے ہیں کہ زمین کی آباد کاری حکومت کی اجازت سے کرنی چاہئے تاکہ بعد کے آباد کار کا حق فائق رہے ، تاہم حکومت کی اجازت کے بغیر بھی زمین کو آباد کیا جاسکتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص نے بنجر زمین کو آباد کیا اسے اس کا حق حاصل ہوجائے گا۔
جزائے عمل
فرمایا وجاء تھم رسلھم بالبینت پس ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں اور معجزات لے کر آئے مگر انہوں نے صاف انکار کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور وہ عذاب میں مبتلا ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ان کو مصیبت میں گرفتار دیکھ کر کوئی یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی زیادتی کی ہے حقیقت یہ ہے فما کان اللہ لیظلمھم کہ اللہ تعالیٰ تو ان پر ظلم نہیں کرنا چاہتا ولکن کانو انفسھم یظلمون بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے جس کی پاداش میں وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے۔ سورة ق میں اللہ کا فرمان ہے وما انا بطلام للعبید (آیت۔ 92) میں تو اپنے بندوں پر زیادتی نہیں کرتا میں تو رحیم اور عادل ہوں۔ البتہ لوگوں کو جزائے عمل سے دوچار کرتا ہوں ، چناچہ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ابن آدم ! یہ جو کچھ تو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے انما ھی اعمالکم یہ تمہارے اپنے ہی کئے ہوئے اعمال ہیں جن کو ہم نے شمار کر رکھا ہے۔ اگر ان میں کوئی اچھی چیز پائو تو میرا شکریہ ادا کرو اور اگر کوئی تلخ چیز پائو تو اس کے لیے اپنی ہی جانوں کو ملامت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ خود انسان ہیں جو برائی کا ارتکاب کرکے اپنے لیے ہلاکت کا سامان پیدا کرتے ہیں۔
فرمایا ثم کان عاقبۃ الذین اساء والسوای پھر برائی کا ارتکاب کرنے والوں کا انجام بُرا ہی ہوا۔ جن لوگوں نے دنیا میں کفر ، شرک کیا ، لوگوں کی حق تلفی کی اور ان پر مظالم ڈھائے ، ظاہر ہے کہ آخرت میں ان کا انجام برا ہی ہوگا۔ انہوں نے دنیا میں بھی عبرتناک سزا پائی اور آگے تو ہمیشہ کی سزا ان کی منتظر ہے بہرحال ان کا یہ بُرا انجام اس لیے ہوا ان کذبو بایت اللہ کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا۔ آیات میں تمام دلائل ، احکامات ، معجزات اور تعلیمات آجاتی ہیں۔ اللہ کے نبی اُ ن کو اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے ، انہیں معجزات دکھاتے رہے مگر انہوں نے ایک نہ مانی اور غرور وتکبر میں مبتلا ہو کر نہ صرف انکار کرتے رہے بلکہ وکانو بھا یستھزء ون ان کے ساتھ … اور مذاق کرتے رہے۔ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم آتا اس کا اور اہل ایمان کا تمسخر اڑاتے۔ فرمایا کیا ان مشرکین نے دنیا میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان جیسے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟
Ayahs 30:11–19ربطہ آیات
سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے رومیوں کے غلبہ کی پیشن گوئی فرمائی اور پھر کفر اور شرک کی قباحت بیان کی۔ منکرین قیامت اور ان کے انجام کا خاص طور پر ذکر کیا پھر برائی کرنے والوں کے برے انجام کا بھی ذکر کیا وہ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ان کے ساٹھ ٹھٹا ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور شکوہ کیا ہے کہ لوگ اس میں غور نہیں کرتے وگرنہ یہ کوئی خلافِ عقل بات نہیں ہے بلکہ اس کے نمونے روزمرہ میں مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔
وقوع قیامت کی عقلی دلیل
ارشاد ہوتا ہے اللہ یبدو الخلق ابتداء میں اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق کو پیدا کرتا ہے ثم یعیدہ پھر وہی اس کا اعادہ بھی کریگا یعنی ایک دفعہ فنا کرنے کے بعد دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ بظاہر یہ مشکل نظر آتا ہے کہ جب انسان مرکر مٹی میں مل جائے گا ، اس کا گوشت پوست اور ہڈی پسلی باقی نہیں رہے گی ، تو پھر وہ دوبارہ کیسے زندہ ہوجائے گا ، چناچہ جیسا کہ میں نے گذشتہ درست میں بھی عرض کیا تھا کہ کافر لوگ یہی اعتراض تھے تھے کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو تو آج تک دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا نہیں۔ بھلا جب ہم مٹی میں رَل مل جائیں گے اور ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور بھربھری ہوجائیں گی تو پھر کیسے جی اٹھیں گے۔ اللہ نے اس کا یہی جواب دیا ہے کہ جب خالق نے تمہیں پہلی دفعہ بغیر نمونے کے پیدا کردیا تھا ، کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک وہ قادر مطلق ہے اور وھو الخلق العلیم (یس۔ 18) ہے ، وہ سب کو ضرور دوبارہ زندہ کریگا۔ پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئیگی اور ہر شخص کو اس کی کار گزاری کا اچھا یابرا بدلہ مل کر رہے گا۔ فرمایا وہ خدا تعالیٰ ہے جس نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا۔ وہی اعادہ بھی کرے گا ثم الیہ ترجعون پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے جب قیامت برقا ہوگی تم سب کو زندہ کرکے اپنی بارگاہ میں جمع کرلے گا۔
مجرموں کی مایوسی
پھر قیامت کا کچھ سال ذکر کیا ہے ویوم تقوم الساعۃ جس دن قیامت برپا ہوگی یبلس المجرمون اس دن مجرم لوگ مایوس ہوجائیں گے وہ اپنے بہتر انجام سے مایوس ہوجائیں گے اور جان لیں گے کہ اب عذاب الٰہی سے بچنے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوگی۔ انہیں معاً خیال آئے گا کہ ہم نے دنیا میں بہت سے شریک بنا رکھے تھے اور امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ آج کے دن ہماری سفارش کرکے چھڑالیں گے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ان کی یہ حسرت دل میں ہی رہ جائے گی کیونکہ ولم یکن لھم من شرکاء ھم شفعوء ا آج ان کے شریکوں میں سے کوئی سفارشی نظر نہیں آئے گا جو آگے بڑھ کر اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرسکے۔ وکانو بشرکاء ھم کفرین اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کرنے والے ہونگے پھر قیامت کے دن ایک ایسا موقع بھی آئے گا کہ مشرک لوگ خود اپنے شرک کا انکار کردیں گے اور کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین ( الانعام۔ 32) بخدا ہم تو شرک نہیں کیا کرتے تھے۔ وہ سمجھیں گے کہ اس طرح شرک کا انکار کرکے مواخذے سے بچ جائیں گے۔ مگر ان دن کوئی چیز چھپی نہیں رہے گی ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یوم تبلی السراء ر ( الطارق۔ 9) اس دن تمام راز کھول دئیے جائیں گے۔ انسان کے خلاف شجر و حجر زمین کے خطے ، فرشتے حتیٰ کہ اس کے اپنے اعضاوجوارح بھی بطور گواہک کھڑے ہوجائیں گے۔ اس کی ساری کار گزاری ظاہر ہو کر ثابت ہوجائیگی اور پھر اسے اپنے کیے کی سزا پانا ہوگی۔
نیک اور بد کردار
ارشاد ہوتا ہے ویوم تقوم الساعۃ جس دن قیامت برپا ہوگی یومذ یتفرقون اس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ مطلب یہ کہ مومن اور کافر ، مشرک اور موحد ، منافق اور مخلص ، نیک اور بد سب الگ الگ گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے ، اور ہر شخص اپنے اپنے مرکز کی طرف جائے گا ، اور پھر ہر گروہ میں سے نیکی اور بدی کے معیار کے حساب سے مزید گروہ بندی ہوگی۔ نیک لوگ اپنی نیکی کے اخلاص کی بناء پر علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بٹ جائیں گے اور مجرم لوگ اپنے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مزید گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے مثال کے طورپرسو نمبر کے مجرموں کی علیحدہ قطار ہوگی اور نوے نمبر والوں کی علیدہ ، علیٰ ناالقیاس۔ آج تو سب نیک و بد دنیا کے معاملات میں یکجا ہیں۔ ایک دوسرے کی شادی غمی اور رسوم و رواج میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر قیامت والے دن یہی لوگ اپنی نیکی اور بدی کی حیثیت کے مطابق جدا جدا گروہوں میں بٹ جائیں گے۔
نیکو کاروں کے لیے انعام
پھر کیا ہوگا ؟ فاما الذین امنو اور وہ لوگ جو ایمان لائے جنہوں نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا کہ یہی چیز مدار فلاح ہے۔ اس کے علاوہ نبی ﷺ کی رسالت پر یقین کیا۔ اللہ کے فرشتوں ، کتابوں اور بعث بعد الموت پر ایمان لائے۔ وعملو الصلحت اور نیک اعمال انجام دئیے۔ نیک اعمال میں ارکان اربعہ ، نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج سرفہرست ہیں جس نے ان فرائض کو ادا کیا ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پابندی کی۔ فرمایا فھم فی روضۃ یحبرون ایسے لوگوں کو باغ میں خوش کیا جائے گا۔ روضہ کا معنی باغ ریاض یا جنت ہے۔ نیکو کاروں کو ایسے باغات میں جگہ ملے گی جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور وہ محض باغ نہیں ہوں گے بلکہ جنت عدن رہائشی باغات ہوں گے جن میں رہنے کے لیے عالیشان مکانات ہوں گے جن میں ہر طرح کی آسائش حاصل ہوگی۔ یہ ان کی نیکی اور ایمان کا صلہ ہوگا۔ ان انعامات کی خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ کبھی واپس نہیں لیے جائیں گے اور نہ ان باغات سے نکالے جانے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ وہاں نہ موت کا ڈر ہوگا ، نہ تکلیف ، پریشانی یا حوادثات کا ۔ دنیا میں تو اکثر نشیب و فراز آتے رہتے ہیں مگر آخرت کے انعامات میں کچھ کمی واقع نہیں ہوگی۔
کفار کی بدبختی
اس کے برخلاف واما الذین کفروا جن لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا۔ اس کے انبیائ ، ملائکہ ، کتب اور تقدیر پر ایمان نہ رکھا۔ وکذبو بایتینا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یعنی خدا تعالے کی طرف سے آنے والے دلائل۔ معجزات اور احکام کی تکذیب کی ولقای الآخرۃ اور آخرت کی ملاقات یعنی وقوع قیامت اور جزائے عمل کو بھی جھٹلایا ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا فاولیک فی العذاب محضرون کہ وہ عذاب میں جکڑے ہوئے حاضر کئے جائیں گے۔ فرشتے ان کو گرفتار کرکے اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں گے ، حکم ہوگا۔ خذوہ فعلوہ (الحاقہ۔ 03) پکڑلو اور گلے میں طوق پہنا دو اور پھر ستر ستر گز لمبی زنجیروں میں جکڑ کر جہنم میں پھینک دو ۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت ضرور واقع ہونے والی ہے کما بدانا اول خلق یعیدہ وعد علینا انا کنا فعلین (الانبیا 401) جس طرح ہم نے پہلی دفعہ لوگوں کو پیدا کیا۔ اسی طرح دوبارہ بھی اٹھائیں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم ضرور ایسا کریں گے۔
خدا تعالیٰ کی تسبیح کے اوقات
فرمایا فسبحن اللہ حین تمسون پس اللہ کی پاکی بیان کرو جبکہ تم شام کرتے ہو۔ وحین تصبحون اور جب کہ تم صبح کرتے ہو۔ ولہ الحمد فی السموت والارض اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ اور اسی کی تسبیح بیان کرو وعیشاً ویحن تظھرون پچھلے پہر بھی اور جب کہ تم دوپہر گزارتے ہو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس تسبیح وتنزیہہ کا حکم دیا ہے وہ دل سے بھی ہونی چاہئے اور زبان سے بھی۔ انسان کے اعضاو جوارح بھی اس تسبیح میں شامل ہونے چاہئیں۔
اوقات صلوٰۃ خمسہ
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں پانچ نمازوں اور ان کے اوقات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نافع ابن ازرق خارجی نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے ہی آیت تلاوت فرمائی۔ اس آیت کریمہ میں تمسون سے مراد مغرب تصبحون سے فجر ، عشیاً سے عصر اور تظہرون سے ظہر کی نماز مراد ہے ، چار نمازیں تو یہ ہوگئیں اور پانچویں عشا کی نماز کے متعلق سورة نور کی آیت۔ 85 تلاوت فرمائی جس میں ومن بعد صلوٰۃ العشاء تصریح کے ساتھ ذکر ہے۔ اس آیت کریمہ میں نابالغ بچوں کو بھی تین اوقات میں خلوت میں آنے سے منع کردیا گیا ہے ، جو کہ یہ ہیں فجر سے پہلے ، دوپہر کو آرام کے وقت اور عشاء کے بعد ، اس طرح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس خارجی کے سامنے پانچوں نمازوں کا ذکر کردیا۔ آپ ہی سے یہ قول بھی مصنول ہے کہ تمسون میں مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کی طرف اشارہ ہے اور باقی تین نمازوں کا ذکر تصبحون ، عشیاً اور تطھرون میں آگیا ہے۔ نمازوں کے اوقات کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں بھی موجود ہے اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل وقرآن الفجر ( آیت 8) یعنی نماز قائم کریں سورج ڈھلنے کے وقت سے لیکر رات کی تاریکی تک اور فجر کی نماز کہ جس میں قرآن کریم زیادہ پڑھا جاتا ہے اور جو فرشتوں کی حاضری کا وقت ہوتا ہے۔ اس آیت کے متعلق بھی حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سورج ڈھلنے میں ظہر ، عصر اور مغرب کی نمازیں آتی ہیں جب کہ رات کی تاریکی سے مراد عشاء کی نماز ہے اور پانچویں نماز فجر کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
ان اوقات کی خصوصیت یہ ہے کہ ان اوقات میں نعمت کے اظہار کا زیادہ موقع ہوتا ہے اور ان میں نشاناتِ قدرت زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ رات اور دن کی تبدیلی یعنی طلوع و غروب آفتاب اور عین دوپہر کے وقت نشانات قدرت اچھی طرح واضح ہوتے ہیں اس لیے ان اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ہمارے ملک کے بعض گمراہ فرقے نماز کے پنجگانہ اوقات کو تسلیم نہیں کرتے ان میں ملحد قسم کے چکڑالوی اور پرویزی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان میں بعض تین نمازوں کے قائل ہیں اور بعض صرف ایک پر اکتفا کرتے ہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ نے آیات قرآنی سے پانچوں نمازیں مراد لی ہیں۔
بعث بعدالموت
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا احسان جتلایا ہے یخرجلحی من المیت اللہ تعالیٰ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے ویخرج المیت من الحی اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ مثلاً زمین مردہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے جاندار چیزوں کو نکالتا ہے۔ انڈا مرد ہوتا ہے مگر اس سے زندہ چوزہ نکلتا ہے۔ انسان کا مادہ منویہ ایک بےجان قطرہ ہوتا ہے جس سے انسان جیسی اشرف المخلوقات پیدا ہوتی ہے۔ ایک کافر کی مثال مردہ کی ہے مگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ابو جہل سے عکرمہ ؓ جیسا زندہ یعنی صاحب ایمان انسان پیدا کردے۔ آزربت فروش اور پکا کافر تھا مگر اللہ نے اس سے ابراہیم (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر کو پیدا فرمایا اس کے برعکس مرغی زندہ ہوتی ہے مگر اس سے مراد انڈا پیدا ہوتا ہے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ باپ بڑا نیک اور ایماندار ہے مگر اولاد ناصنجاز نکلتی ہے جو کہ مردہ کے مشابہ ہے ۔ بعض وہریے بن جاتے ہیں اور بعض مرزائیت کو قبول کرلیتے ہیں۔ زمین بالکل خشک یعنی مردہ ہوتی ہے۔ اس کی نشونما کی کوئی علامت نہیں ہوتی ، مگر اللہ تعالیٰ بارش برسا کر اس کو زندہ کردیتا ہے اور پھر اس سے پھل ، پھول اور فصل پیدا ہوتے ہیں جن سے لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ فرمایا ویحیی الارض بعد موتھا اللہ تعالیٰ زمین کو مردہ ہونے کے بعد پھر زندہ کردیتا ہے ، اس میں ہریالی آجاتی ہے اور وہ اپنے خزانے اگلنے لگتی ہے وکذلک تخرجون فرمایا قیامت والے دن تم بھی اسی طرح زمین سے زندہ نکالے جائو گے ، جس طرح تم روزمرہ زندگی میں مردہ سے زندہ ہوتے دیکھتے ہو۔ اسی طرح قیامت کو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی دوبارہ زندہ کرکے اپنے سامنے لاکھڑا کرے گا اور پھر حساب کتاب اور جزائے عمل کی منزل آئیگی جس سے ہر شخص کو گزرنا پڑے گا۔