30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 30:33–37

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب پہنچتی ہے ان کو کوئی تکلیف تو پکارتے ہیں اپنے پروردگار کو ، اسی کی طرف رجوع رکھنے والے ہوتے ہیں ، پھر جب وہ ان کو چکھاتا ہے اپنی طرف سے مہربانی کا مزہ تو اچانک ایک گروہ ان میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

( اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے) کہ وہ کفر کرتے ہیں اس چیز کے ساتھ جو ہم نے ان کو دی ہے۔ پس فائدہ اٹھالو ، عنقریب تم جان لوگے

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے اتاری ہے ان پر کوئی دلیل۔ پس وہ بول رہی ہے اس چیز کے بارے میں جس کے ساتھ یہ اس کے ساتھ شریک بناتے ہیں

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم چکھاتے ہیں لوگوں کو مہربانی کا مزہ تو خوش ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ۔ اور اگر پہنچتی ہے ان کو کوئی برائی اس کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے تو اچانک وہ مایوس ہوجاتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لیے چاہے اور تنگ کردیتا ہے ( جس کے لیے چاہے) بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ا ُ ن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کا ذکر فرمایا تھا نیز یہ کہ توحید ایک فطری چیز ہے۔ ہر موادد اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے یعنی اس میں توحید خداوندی کو تسلیم کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی سے ڈرو۔ نیز فرمایا کہ نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنو۔ شرک خلاف فطرت چیز ہے یہ عقل اور نقل دونوں کیخلاف ہے جب عقائد بگڑتے ہیں تو فرقے پیدا ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے عقیدہ پر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صرف وہی راہ راست پر ہے۔ یہ سب گمراہی ہے ، توحید کو ماننا ہی فطری امر ہے۔ اس کی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے واذا مس الناس ضر جب کسی انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے دعوا ربّھم منیبین الیہ تو وہ اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اسی کی طرف رجوع رکھنے والے ہوتے ہیں مطلب یہ کہ تکلیف کے وقت انسان لازمی طور پر خالص اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اور تکلیف کے ازالے کے لیے اسی کے آگے دست بدعا ہوتے ہیں ظاہر ہے کہ جب تمام مادی وسائل ختم ہوجاتے ہیں تو اس وقت اللہ کی طرف رجوع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ گر نہیں۔ وہ وحدہ لا شریک ہے اگر مافوق الاسباب کوئی اور بھی مشکل کشا ہوتا تو لوگ اس کی طرف رجوع کرتے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ فرمایا ثم اذا ازا قھم منہ رحمۃ پھر جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت اور مہربانی کا مزا چھکھاتے ہیں یعنی ان کی تکلیف دور کردیتے ہیں ۔ ان کے فقر کو غنی میں تبدیل کردیتے ہیں۔ بیماری کی بجائے صحت عطا کرتے ہیں شکست کو فتح اور تنزل کو ترقی میں بد ل دیتے ہیں اذا فریق منھم بربھم یشرکون تو اچانک ان میں سے ایک گروہ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے ، مطلب یہ کہ تکلیف کے وقت ان کا پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ مگر جب وہ مشکل کو حل کردیتا ہے تو اسے دوسروں کے نام منسوب کرکے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی بجائے غیروں کو مددو نیاز دینے لگتے ہیں کبھی کسی قبر پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور کبھی کسی زندہ کے آگے نیاز خم کرنے لگتے ہیں کہ اس کی وجہ سے تکلیف دور ہوئی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ بارش تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے مگر لوگ اسے ستاروں کی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ فلاں نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی۔ یہ کفرانِ نعمت ہے اور یہی شرک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے لیکفرو ابما اتینھم کہ جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس کی ناشکری کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عنایت کو غیروں کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا فتمتعوا پس آج تو تم اس نعمت سے فائدہ اٹھائو۔ دنیا کی زندگی میں عیش و آرام کرلو اور سمجھتے رہو کہ ہم ٹھیک راستے پر جار ہے ہیں۔ فسوف تعلمون تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا دنیا میں تم نے فطرت کے خلاف کام کیا ، تمہاری حالت بتلاتی ہے کہ پریشانی کے وقت خالص خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور گڑ گڑا کر کسی سے دعائیں مانگتے تھے مگر جب وہ پریشانی دور ہوگئی تو عبادت اور نذر و نیاز دوسروں کی ہونے لگتی۔ یاد رکھو ! تکلیف کے رفع ہونے پر یا نعمت کے عطا ہونے پہ اللہ تعالیٰ ہی کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اسی کی خوشنودی کے لیے اس کی نذر ونیاز ہونی چاہئے۔ تم نے یہ غلط کام کیا جس کا نتیجہ عنقریب سامنے آنے والا ہے جونہی موت آئے گی تمام پرت ہٹ جائیں گے اور تمہاری ساری کارگزاری سامنے آجائیگی مگر اس وقت کا کف افسوس ملنا کسی کام نہ آئے گا۔ شرک کی دلیل آگے اللہ نے شرک کے ردّ میں فرمایا ام انزلنا علیہم سلطناً کیا ہم نے ان کی طرف شرک کی کوئی دلیل نازل کی ہے ؟ کیا کسی کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلاف نبی ، ولی ، بزرگ یا صاحب قبر کو کوئی اختیار دیدیا ہے کہ وہ لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرے۔ حقیت یہ ہے کہ اللہ نے کسی کو کوئی اختیار نہیں دیا۔ وہ ہر چیز کی تدبیر خود کرتا ہے۔ اس کا کوئی معاون ومدد گار نہیں ۔ یدبر الامر من السماء الی الارض ( السجدہ۔ 5) آسمانوں کی بلندیوں سے لیکر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کا انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے اس نے کسی مخلوق کو اختیار نہیں دیا کہ فلاں کا رد کردیا کرے حتیٰ کہ فرشتے بھی اسی کے حکم کے پابند بندے ہیں اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا اللہ انہیں حکم دیتا ہے۔ فرمایا کہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے فھو یتکم بما کانو بہ یشرکون جو انہیں بول کر خدا کے ساتھ شریک کرنا بتلاتی ہے ؟ فرمایا اللہ نے ایسی کوئی دلیل نہیں اتاری بلکہ یہ از خود شرک کے مرتکب ہو کر اپنے لیے جہنم کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔ خوشی اور مایوسی اب اللہ نے انسانوں کی دوسری حالت بھی بیان فرمائی ہے واذا اذقنا الناس رحمۃ جب ہم لوگوں کو اپنی مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں یعنی ان پر انعام و اکرام کی بارش کرتے ہیں۔ انہیں مال و دولت ، صحت اور خوشحالی عطا فرماتے ہیں فرحر بھا تو وہ اس کے ساتھ خوش ہوجاتے ہیں و ان تبصھم سیۃ لیکن جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور وہ بھی بما قدمت ایدیھم اس وجہ سے کہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔ یعنی ان کے اپنے بُرے کرتوتوں کی وجہ سے جب وہ گرفتار مصیبت ہوتے ہیں۔ کاروبار میں نقصان ہوجاتا ہے ، قحط سالی واقع ہوجاتی ہے۔ بیماری لاحق ہوجاتی ہے یا کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے اذا ھم یقنطون تو اچانک وہ ناامید ہوجاتے ہیں اور پھر خدا کا شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ ان نے زیادتی کی ہے مگر جب آسودہ حالی آتی ہے تو اسے خدا کا انعام سمجھنے کی بجائے اسے اپنے علم و ہنر اور عقل و دانش کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ مشرک لوگ تو تکلیف میں مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں مگر اہل ایمان کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے لا یقضی اللہ القضہ الا کان خیراً لہ اللہ تعالیٰ ان کے حق میں جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ ان کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے اور ان کا یہی ایمان ہوتا ہے چناچہ ان صابتہ سر شکر جب ایسے کسی شخص کو راحت نصیب ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔ و کان خیراً لہ اور یہ بھی اس کے حق میں بہترہی ہوتا ہے۔ رزق کی کشادگی اور تنگی آگے اللہ تعالیٰ نے رزق کی کشادگی اور تنگی کا فلسفہ بیان فرمایا ہے ا ولم یرو کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء کہ اللہ تعالیٰ کشادہ کرتا ہے رزق جس کی چاہتا ہے و یقدر اور تنگ کردیتا ہے روزی جس کے لیے چاہے۔ رزق کی وسعت اور تنگی میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ مشیت ایزدی پر موقوف ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق روزی کا فیصلہ کرتا ہے۔ دوسری جگہ اللہ نے اس کی حکمت بھی بیان کردی ہے ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغو فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء (الشوری۔ 72) اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے سب کے لیے رزق کے دروازے کشادہ کردیتا تو وہ بغاوت پر اتر آتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق روزی نازل کرتا ہے۔ اس کی مصلحت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی شخص کے حق میں کتنی روزی بہتر ہے اور اس سے زیادہ خود اسی کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بعض نا ہنجاروں اور بیوقوفوں کی روزی بہت زیادہ وسیع کردیتا ہے جب کہ بعض عقلمند اور ہنر مند بھی تنگی میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ اس کی حکمت کو وہی بہتر جانتا ہے اور اس کا تذکرہ قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے ۔ توحید کے اثبات اور شرک کی قباحت کی جو جو باتیں بیان کی گئی اللہ تعالیٰ کی صفات ، اس کے اختیار اور تدبر کا جو بھی مسئلہ ذکر ہوا ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لقومٍ یومنون بیشک اس میں نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو ایمان اور یقین رکھتے ہیں۔ اہل ایمان بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ کا فرمان برحق ہے۔ البتہ مشرک کا فر اور منافق وغیرہ شک و شبہات میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ تسلیم کرنے کی بجائے اعتراض ہی کرتے رہتے ہیں غرضیکہ انسانوں کو اپنی فطری حالت ہی اختیار کرنی چاہئے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے ہر قسم کے اختیارات اسی کے پاس ہیں اس نے کسی دوسرے کو یہ اختیار تفویض نہیں کیے ہر چیز کی تدبیر بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے اور کفر اور شرک باطل ہے۔
Ayahs 30:38–40

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

پس دے دو قرابتدار کو اس کا حق اور مسکین کو اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو چاہتے ہیں اللہ کی رضا۔ اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم دیتے ہو سود کے طور پر تاکہ بڑھے وہ لوگوں کے مالوں میں ، پس وہ نہیں بڑھتا اللہ کے نزدیک اللہ کی رضا کا۔ پس یہی لوگ ہیں جو اپنے اجر کو دگنا کرنے والے ہیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ، پھر وہ تمہیں روزی دیتا ہے ، پھر وہ موت طاری کرتا ہے پھر وہ تم کو زندہ کرے گا ، کیا ہے تمہارے شریکوں میں سے کوئی جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرتا ہو ؟ پاک ہے اس کی ذات اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو یہ ان کے ساتھ شریک بناتے ہیں

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی مذمت اور قیامت کا مسئلہ بیان فرمایا اور دین فطرت کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ نے خدا کی طرف رجوع کرنے اور اسی سے ڈرنے کی بھی تلقین کی۔ اقامت نماز کا تاکید کا حکم دیا اور فرمایا کہ مشرکو میں سے نہ بنو جو بنیادی عقائد میں خرابی پیدا کرکے گروہ در گروہ ہوگئے حالانکہ ہر گر وہ باطل عقیدے پر تھا۔ پھر اللہ نے انسانوں کی عام حالت بھی بیان فرمائی کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ان میں فطری جذبہ بیدار ہوجاتا ہے اور وہ خدا کے سامنے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں پھر جب وہ تکلیف دور ہوجاتی ہے تو اکثر لوگ شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور اللہ کے سوا دوسروں کی نذر ونیاز دینے لگتے ہیں اور قبروں پر چڑھاوے چڑھانا شروع کردیتے ہیں۔ وہ اپنی آسائش ، آسودہ حالی اور کامیابی کو خدا کی بجائے دوسروں کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا یہ کفران نعمت ہے جس کا نتیجہ انہیں عنقریب بھگتنا پڑے گا۔ اللہ نے یہ حقیقت بھی بیان فرمائی کہ جب ہم لوگوں پر کوئی مہربانی کرتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ دونوں حالتیں انسان کے حق میں مضر ہیں۔ پہلی حالت میں وہ اترانے لگتے ہیں۔ غرور اور تکبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب کہ دوسری حالت ان کے لیے مایوسی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے برخلاف مومن کے حق میں دونوں حالتیں بہتر ہوتی ہیں۔ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کا دامن تھام لیتا ہے۔ پھر اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں وسعت عطا کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے۔ رزق تنگ کردیتا ہے۔ رزق کی فراہمی کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے ساتھ ہے ، اس میں کسی انسانی ہاتھ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ قرابتدار کا حق جب یہ بات واضح ہوگئی کہ روزی کا کنٹرول صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو پھر انسان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ مال کو خرچ کرنے میں بخل نہ کرے بلکہ اس مال میں سے تمام حقداروں کے حقوق ادا کرے۔ چناچہ اس مقام پر اللہ نے سب سے پہلے قرابتدار کے حق کی طرف توجہ دلائی ہے۔ فات ذا القربی حقہ قرابتدار کو اس کا حق ادا کرو۔ یہ صیغہ تو واحد مخاطب کا ہے اور اس سے بظاہر حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہی مراد ہے لیکن عام مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حکم تمام اہل ایمان کے لیے ہے کہ اگر اللہ نے انہیں رزق میں وسعت دی ہے تو وہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں۔ قرابت داروں میں سب سے پہلے ذی الفروض آتے ہیں اور یہ وہ عزیز ہیں جن کا وراثت میں حصہ اللہ نے قرآن پاک میں مقرر کردیا ہے پھر عصبات ہیں جو کسی شخص کے قریبی رشتے دار ہوتے ہیں اور تیسرے نمبر پر قوی الانعام یعنی دور کے رشتہ دار ہیں۔ جیسے بھانجا ، ماموں یا ان کی اولاد وغیرہ۔ ان رشتہ داروں کے حقوق دو قسم کے ہیں ۔ ایک واجب اور دوسرے مستحب ، واجبات میں والدین کی خدمت پہلے درجہ میں آتی ہے۔ اگر وہ محتاج ہیں تو ان کی مالی معاونت کی جائے اور ان کی دیگر ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ اسی طرح اولاد کا بھی والدین پر حق ہے۔ جب تک اولاد چھوٹی ہے اس کی ساری ذمہ داری والدین پر ہوتی ہے۔ ان کی اچھی تربیت ، لکھائی ، پڑھائی ، ہنر مندی وغیرہ پھر جب بچہ بالغ ہوجاتا ہے تو وہ خود ذمہ دار بن جاتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے اور اس کے رشتہ دار محتاج ہیں تو اس پر واجب ہے کہ اپنے غریب قرابتداروں کو خرچہ دے۔ امام احمد سے بھی ایسے ہی منقول ہے اور اگر والدین یا دوسرے رشتہ دار صاحب استطاعت ہیں تو ان کی مالی خدمت ضروری نہیں ہوگی۔ البتہ ان کو جسمانی طور پر راحت پہنچانا ، والدین کی مٹھی چاپی کرنا ، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور ان کی بات ماننا ، صلہ رحمی کرنا وغیرہ مستجات میں داخل ہے۔ نادار اور مسافر کا حق قرابت داروں کے حقوق کے بعد فرمایا والمسکین اور نادار کا حق بھی ادا کرو۔ تمہارے مال میں اللہ نے اس کا حق بھی رکھا ہے فی اموالھم حق معلوم للساء ل والمحروم (المعارج 42 ، 52) سوالی اور نادار کو اس سے محروم نہ رکھو بلکہ ان کا حق بھی ادا کرو۔ پھر فرمایا وابن السبیل تمہارے مالوں میں مسافروں کا بھی حق ہے۔ دورانِ سفر ایسے حالات پیش آسکتے ہیں کہ کسی مسافر کا مال ضائع ہوجائے۔ جیب کٹ جائے یا کوئی دوسری پریشانی لاحق ہوجائے۔ ایسا مفاسر اگرچہ اپنے گھر میں صاحب مال ہو مگر جن حالات میں اسے اعانت کی ضرورت پڑی ہے ، اس حالت میں صاحب حیثیت لوگوں پر ان کی مدد کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے مسافر کا حق زکوۃ میں بھی رکھا ہے۔ فرمایا ذلک خیر للذین یریدون وجہ اللہ پھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے طالب ہیں۔ ایسے صاحب مال حضرات جنہیں آخرت پر یقین ہے اور وہاں کی کامیابی کیلئے انہیں اللہ کی رضا کی ضرورت ہے ، ان پر ضروری ہے کہ مذکورہ حقوق ادا کریں اور اس معاملہ میں غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ اگر انہوں نے یہ حقوق ادا کردئیے واُولیک ھم المفلحون تو یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ انہیں دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت کی کامیابی تو بہرحال دائمی ہے جو انہیں میسر آئے گی۔ سود کی ممانعت اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں سود کی قباحت اور زکوۃ کی برکات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ وما اتیتم من رباً اور جو تم سود کے طور پر دیتے ہو لیر بوافی اموال الناس تاکہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہوجائے فلا یربو عند اللہ پس ایسا مال اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا۔ سورة روم مکی ہے اور مکی زندگی میں سود کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ حرمت ہجرت کے دوسرے سال سورة بقرہ میں نازل ہوئی۔ چناچہ یہاں جو سود کا ذکر آیا ہے اس کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے وہ سود مراد نہیں جو قطعی حرام قرار دیا گیا ہے بلکہ اس سے مراد وہ زیادتی ہے جو کسی لین دین کے معاملہ میں وصول کی جائے۔ مثلاً ایک شخص دوسرے آدمی کو اس نیت کے ساتھ کوئی تحفہ پیش کرتا ہے کہ کسی ایسے ہی موقعہ پر وہ اس سے بہتر تحفہ وصول کریگا ، تو یہ چیز اگرچہ سود میں داخل نہیں مگر سماحت کے خلاف ہے جس کو ناپسند کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ تھوڑی چیز دے کر زیادہ کی توقع کرنا فیاضی جیسی نیک خصلت کے خلاف ہے۔ ایسی توقع سے حرص ، لالچ اور کمینگی کا اظہار ہوتا ہے۔ سورة المدثر میں بھی اللہ کا فرمان ہے ولا تمنن تسکتکر ( آیت۔ 6) زیادہ معاوضہ حاصل کرنے کی نیت سے کسی پر احسان نہ کرو۔ ہمارے ہاں بیاہ شادی کے موقع پر نوتا یا نیوندرا کی رسم پائی جاتی ہے۔ صاحب خانہ کو اس کے عزیزو اقارب ، یا ر دوست اور محلہ والے کچھ رقوم بطور نیوندرا ادا کرتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ نیت یہ ہوتی ہے کہ جب ہمارے ہاں ایسی تقریب ہوگی تو ہم اس سے زیادہ وصول کریں گے۔ چناچہ اسی نظریہ کے پیش نظر اہل خانہ وصول شدہ رقوم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھتے ہیں تاکہ آئندہ سے لوٹانے میں آسانی رہے۔ پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ اگر کوئی شخص وصول کردہ رقم سے زیادہ ادا نہیں کرپاتا تو قابل ملامت گردانا جاتا ہے ، یہی کمینہ پن ہے۔ اگر کسی تقریب پر کسی کو بایہ پیش کیا ہے تو اس سے زیادہ وصول کرنے کی نیت نہیں ہونی چاہئے بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ تحفہ نام اسی چیز کا ہوتا ہے جو بےلوث ادا کی جائے اور واپس لینے کی نیت نہ ہو اگر کوئی شخص کسی موقع پر اس کو بھی کوئی تحفہ پیش کرتا ہے تو خواہ وہ کم ہو یا زیادہ اس کے دل میں ملال نہیں ہوناچاہئے اور تحفہ کو بخوشی قبول کرلیناچاہئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کرتا تو آپ اس کا بدلہ عطا کرتے اور دوسروں کو بھی یہی حکم دیتے کہ ہدیہ کا بدلہ دیا کرو۔ اگر مادی بدلہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں ہے تو اس کے لئے دعا ہی کردو۔ جزاک اللہ خیراً یعنی اللہ تجھے بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ اس قسم کا کا تحفہ اس کا بدلہ حسب توفیق ہوتا ہے مگر یہ نیت کرنا کہ اس سے زیادہ ہی لوں گا یہ ایک غلط رسم ہے۔ الغرض ! اللہ نے فرمایا کہ جو تم سود کے طور پر دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہو ، اللہ کے نزدیک تو ایسا اضافہ نہیں ہوتا یعنی ایسے مال میں برکت نہیں ہوتی۔ زکوۃ میں برکت آگے فرمایا وما اتیتم من زکوۃ جو کچھ تم زکوۃ کی صورت میں دیتے ہو تریدون وحمہ اللہ اور اس سے تمہیں رضائے الٰہی مطلوب ہوتی ہے فرمایا فاولیک ھم المضعفون ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنے اجروثواب کو دن چوگنا کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز پاکیزگی اور اخلاص کے ساتھ فی سبیل اللہ دی جائے وہ اللہ کے نزدیک بڑھتی رہتی ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کو جو شخص خلوص نیت کے ساتھ کھجور۔ ایک دانہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بڑھاتا رہتا ہے حتیٰ کہ قیامت والے دن کھجور کا دانہ پہاڑ کے برابر ہوجائے گا۔ گویا متعلقہ شخص کو تھوڑے سے خرچے کا اتنا بڑا اجر حاصل ہوگا۔ اللہ کے راستے میں خرچ کا کم از کم اجر تو دس گناہ ہے اور سات سو گنا تک جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نیت اور خلوص کے مطابق اس… کروڑوں… تک بدلہ عطا فرمائے گا زکوۃ میں برکت کای ہی مفہوم ہے۔ …… اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے سلسلے میں یاد دلایا ہے اللہ الذی خلقکم اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا نہیں اس کا چیلنج ہے ھل من خالق یر اللہ (فاطر۔ 3) کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اس کے سوا کوئی خالق ہے اور نہ کوئی رازق۔ فرمایا اس نے تمہیں پیدا کیا ثم رزقکم پھر ہمیں روزی بھی بہم پہنچائی۔ رزق کی تقسیم بھی کلیتا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کسی دوسرے کو اختیار نہیں دیا کہ وہ روزی تقسیم کرے۔ گذشتہ سورة میں گزر چکا ہے۔ وکاین من دابۃ لا تحمل رزقھا ق اللہ یرزقھا وایاکم (العنکبوت۔ 06) بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اپنی پشتوں پر نہیں اٹھاتے پھیرتے اللہ ہی ان کو روزق دیتا ہے اور تمہیں بھی۔ یہ توحید کی بات سمجھائی جارہی ہے مندروں میں سناتن دھرمی فرقے کا عقیدہ ہے کہ پیدا کرنے والا ، تھامنے والا اور موت دینے والے مختلف خدا ہیں۔ یہ بالکل غلط عقیدہ ہے اللہ نے اس آیت میں واضح کردیا ہے کہ پیدا کرنے والا روزی رساں ، مارنے والا اور زندہ کرنے والا ایک ہی وحدہ لا شریک ہے۔ امام احمد (رح) نے اپنی مسد میں خالد … دو صحابیوں کا بیان نقل کیا ہے کہ ہم دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ کوئی چیزبنا رہے تھے ، مرمت کر رہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ حضور ﷺ اپنے حصہ کے بکری کا دودھ دوھ لیتے ، اپنا جوتا مرمت کرلیتے ، کپڑے دھو لیتے۔ بہر حال آپ اسی قسم کا کوئی کام کر رہے تھے تو اس وقت آپ نے فرمایا کہ رزق کے معاملے میں کبھی مایوس نہ ہونا۔ یعنی کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ سرخ رنگ کا ایک… ہوتا جو بالکل برہنہ ہوتا ہے پھر اللہ اس کے لئے دنیا میں لباس خوراک ، مکان غرضیکہ ہر چیز مہیا کرتا ہے لہٰذا جب تک تمہارے دل میں حرکت ہے اس کی نعمت سے مایوس نہ ہونا فرمایا وہی تمہیں پیدا کرتا ہے اور روزی دیتا ہے۔ ثم یمیتکم وہی تم پر موت بھی طاری کرتا ہے ثم یحییکم پھر قیامت کو وہی تمہیں دوبارہ زندہ کردے گا۔ یہ چاروں صفات یعنی پیدائش ، روزی ، موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں۔ اس نے کسی دوسری ذات کو اختیار نہیں دیا کہ ان معاملات میں تصرف کرسکے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ لہٰذا شرک سے بچ جائو۔ درس توحید فرمایا جب تمام امور کو انجام دینے والا صرف خدا تعالیٰ ہی ہے۔ ھل من شرکائکم من یفعل من ذلکم من شیء تو کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی جو ان امور کو انجام دے سکے ؟ تمہارے جعلی مشکل کشا اور حاجت روا یقینا یہ کام نہیں کرسکتے۔ جب یہ بات ہے تو پھر ان کو خدا کی صفات میں کیوں شریک کرتے ہو ؟ اور ان کو نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہو ؟ فرمایا سبحنہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے و تعلیٰ عما یشرکون اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو یہ خدا شریک بنا رہے ہیں۔ خدا تعالیٰ کا نہ کوئی ذات میں شریک ہے ، نہ عبادت میں اور نہ صفت میں۔ وہ بےنیاز ہے اور تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔ اتنے دلائل کے باوجود بھی خدا کا شریک ٹھہرانا کتنی حماقت کی بات ہے۔
Ayahs 30:41–45

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

پھیل گیا فساد خشکی اور تری میں اس کی وجہ سے جو انسانوں کے ہاتھوں نے کمایا ہے۔ تاکہ چکھائے (اللہ تعالیٰ ) ان کو بعض ان کاموں کا بدلہ جو انہوں نے کیے ہیں ، شاید کہ یہ لوگ واپس پلٹ جائیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ چلو زمین میں اور دیکھوں کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو اس سے پہلے تھے ان میں سے اکثر شرک کرنیوالے تھے

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

پس قائم کریں آپ اپنے… کو دین قیم کے لیے قبل اس کے کہ آجائے وہ دن جس کو کوئی لوٹا نہیں سکتا اللہ کی طرف سے۔ اس دن وہ جدا جدا ہوجائیں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس نے کفر کیا ، پس اسی پر اس کے کفر کا بدل ہوگا۔ اور جس نے اچھا عمل کیا پس یہ لوگ اپنے نفسوں کے لیے ہی تمہید باندھتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کئے اپنے فضل سے ، بیشک وہ نہیں پسند کرتا کفر کرنے والوں کو

ربطہ آیات پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان فرمائے۔ اور ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ تمام اسباب پر اسی کا تصرف ہے اور رزق کی تنگی اور کشادگی ہونا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی انسانوں کو زندگی بخشتا ، روزی دیتا اور موت طاری کرتا ہے اور پھر قیامت کو دوبارہ بھی زندہ کریگا اللہ نے شکوہ بیان کیا کہ جب یہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے تو پھر لوگ شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں بخل کیوں کرتے ہیں ؟ بحردبر میں فساد کا ظہور اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ بسا اوقات لوگوں کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں کی وجہ سے دنیا میں سزا ملتی ہے پھر اللہ نے دنیا میں آنے والے حوادثات اور مصائب کے اسباب کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ظھر الفساد فی البر والبحر خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے بما کسبت ایدی الناس انسانوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے اور اس میں اللہ کی حکمت یہ ہے لیذیقھم بعض الذی عملو تاکہ ُ ان کو ان کے بعض کاموں کا بدلہ چکھائے۔ یعنی لوگوں کی بد اعمالیوں کی یا تو انہیں سزا دی جائے یا کم از کم تنبیہ کی جائے۔ لعلھم یرجعون تاکہ وہ واپس لوٹ آئیں یعنی بد اعمالیوں سے باز آجائیں۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس فساد سے مراد قحط سالی ، کثرت اموات اور وبائیں وغیرہ ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ فساد سے مراد جنگیں ہیں جو بڑی تباہی پھیلاتی ہیں۔ چناچہ اس سورة کے نزول کے وقت قیصرو کسریٰ کے درمیان جنگ ہورہی تھی جس کا ذکر سورة ہذا کی ابتدائی آیات میں ہوچکا ہے۔ اس وقت بحروبر میں قتل کا بازار گرم تھا ، فریقین ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے جس کے نتیجے میں کثرت سے موتیں واقع ہورہی تھیں ، جانور ہلاک ہو رہے تھے فصل تباہ ہو رہے تھے اور مکانات منہدم ہو رہے تھے موجودہ ایٹمی دور کی جنگیں تو مزید خطرناک ہیں۔ اب تو وسیع پیمانے پر بمباری ہوتی ہے توپیں گولہ باری کرتی ہیں ، ٹینک آگ برساتے ہیں۔ کیمیائی اور ایٹمی ہتھیار استعمال ہوتے ہیں جن سے لاکھوں نفوس آن واحد میں موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ شہر اور بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ فیکٹریاں تباہ اور کھیت ویران ہوجاتے ہیں ایسے ہی واقعات کے متعلق فرمایا کہ خشکی در تری میں فساد برپا ہوچکا ہے۔ بدعملی مبنیٰ فساد ہے اللہ نے فرمایا کہ مذکورہ تباہی و بربادی عام طور پر انسانوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے آتی ہے۔ جنگ چھڑ جانے یا کوئی دیگر حادثہ از قسم زلزلہ ، طوفان یا کوئی اور آفت آجائے اس میں کسی نہ کسی طور پر انسانی ہاتھوں کا دخل ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں مطلق انسانی دخل نہیں ہوتا تاہم عام طور پر یہ انسان کی بد اعمالیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ سورة الشوریٰ میں فرمایا وما اصابکم من مصیبۃ فبم کسبت ایدیکم ویعفو ا عن کثیر ( آیت۔ 02) تمہیں جو بھی مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ بہت سی باتوں میں درگزر بھی فرماتا ہے۔ اعمال بد میں سرفہرست کفر اور شرک ہے ، یہی ساری برائیوں کی جڑ بنیاد اور یہی فساد فی الارض ہے۔ اما م ابو العالیہ (رح) جو تابیعن میں سے ہیں فرماتے ہیں من عصی اللہ فی الارض فقد افسد فی الارض یعنی جس شخص نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اس نے گویا زمین میں فساد پھیلایا۔ منافقوں کے متعلق بھی سورة بقرہ میں موجود ہے لا تفسدو فی الارض (آیت۔ 11) زمین میں نفاق کے بیج بوکر فساد نہ برپا کرو۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا ولا تفسدو فی الارض بعد اصلاحھا (الاعراف۔ 58) زمین کی درستگی کے بعد اس میں فساد نہ پھیلائو۔ وہ لوگ تجارت میں خرابی کرتے تھے ، لین دین میں ڈنڈی مارتے اور لوگوں کے حقوق عضب کرتے تھے ، راستوں میں ڈاکے ڈالتے تھے اور اللہ کے نبی کو تبلیغ سے روکتے تھے یہ سب فساد فی الارض کی تعریف میں آتا ہے۔ جس شخص نے زمین میں معصیت کا ارتکاب کیا ، وہ بھی فساد فی الارض کا مرتکب شمار ہوگا کیونکہ صلاح الارض بالطاعۃ زمین کی درستگی اطاعت کے ذریعے ہوتی ہے اور نافرمانی باعث فساد ہوتی ہے اسی لئے بزرگان دین کا مقولہ ہے اللھم انقلنی من ذلّ المعصیۃ الی عز الطاعۃ اے اللہ ! ہمیں معصیت کی ذلّت سے نکال کر اطاعت کی عزت تک پہنچا۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اخلال بالشرائع یعنی قوانین الٰہیہ کی خلاف ورزی ہی فساد فی الارض ہے۔ اس کے برخلاف حضور ﷺ نے اصلاح فی الارض کے ضمن میں فرمایا لحدّ یقام فی الارض خیر الی اھلھا من ان یمطرو ا اربعین صاحباً یعنی زمین پر اللہ کی ایک حد جاری کردینا اہل علاقہ کے لیے چالیس دن کی اس مسلسل بارش سے زیادہ بہتر ہے جو فصلوں کے لیے مفید ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) بھی فرماتے ہیں الحدود زواجر حدود کا اجر باعث تنبیہ ہوتا ہے۔ کسی ایک مجرم پر حد جاری ہوتی ہے تو دوسروں کو تنبیہ ہوتی ہے اور وہ برائی سے باز آجاتے ہیں۔ نیک و بد کی موت بخاری ، مسلم اور موطا امام مالک میں یہ حدیث موجود ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ان الفاجر اذا مات یستریح منہ العباد والبلاد والشجر والدواب حب کوئی فاسق فاسر آدمی مر جاتا ہے تو بندے ، شہر ، درخت اور جانوراُس سے راحت پاتے ہیں کیونکہ اس گنہگار آدمی کے گناہوں کا ان اشیاء پر منفی اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے رزق میں آتا ہے۔ جب فرعون غرق ہوا تو اللہ نے فرمایا فما بکت علیھم السماء والارض (الدخان۔ 92) ان پر نہ زمین روئی اور نہ آسمان بلکہ ان پر یہ محاورہ صادق آیا۔ ” خس کم و جہاں پاک “ دیگر ظالم قوموں کے متعلق بھی اللہ کا فرمان ہے۔ فقطع دابر القوم الذین ظلمو والحمد للہ رب العٰلمین ( الانعام۔ 54) اللہ نے ظالم قوم کی جڑ ہی اکھاڑ کر رکھ دی۔ اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین کو ان ظالموں سے پاک کردیا۔ بہر حال جب کوئی فاسق ، فاجر نا ہنجار آدمی مرجاتا ہے تو زمین کی چیزیں اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ اس بد بخت کی نحوست سے بچ گئیں۔ اس کے برخلاف اگر کوئی اہل ایمان نیک آدمی اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو آسمان کے وہ دروازے روتے ہیں جہاں سے اس شخص کے اعمال اوپر جایا کرتے تھے۔ اور وہ دروازے بھی روتے ہیں جہاں سے اس کی روزی کا حکم آتا تھا امام ابن کثیر (رح) نے ابن زیاد کی گورنری کے زمانے کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کسی شخص کو ایک تھیلی ملی جس میں کھجور کی گٹھلی جتنے موٹے موٹے گندم کے دانے تھے۔ اس تھیلی پر لکھا تھا کہ یہ اس زمانے کی پیداوار ہے جب زمین پر عدل و انصاف کا دور دورہ تھا۔ گویا عدل و انصاف کی اتنی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ وافر غلہ پیدا کرتا تھا۔ اسی طرح صحیح حدیث میں آتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول پر کفر شرک مٹ جائے گا۔ دنیا میں نیکی اور اطاعت کا دور دورہ ہوگا۔ اس وقت زمین اپنی تما م برکات کو اگل دے گی۔ اور انار کا ایک دانہ سینکڑوں آدمیوں کی خوراک کے لیے کافی ہوگا۔ اس وقت فتنہ فساد ختم ہوجائے گا اور لوگ امن و سکون اور اتفاق و اتحاد کی زندگی بسر کریں۔ مصائب کی وجوہات مصائب و آلام دو وجہ سے آتے ہیں یا تو ان کے ذریعے سے نافرمان افراد اور قوموں کی ہلاکت مقصود ہوتی ہے اور یا پھر انہیں تنبیہ کرنا مطلوب ہوتا ہے تاکہ وہ نافرمانی سے باز آجائیں اور اطاعت کا راستہ اختیار کرلیں۔ قرآن پاک میں ان دونوں اسباب کا ذکر موجود ہے۔ دیکھئے مصائب تو انبیا پر بھی آئے ہیں حالانکہ وہ تو گناہ سے پاک ہوتے ہیں۔ ان کو مصائب کے ذریعے ابتلا میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کے درجات بلند ہوں ان کو تہذیب حاصل ہو ، اور ان کے نفوس پاک ہوجائیں۔ عام انسانوں کو بھی تکالیف آتی ہیں تو ان کے بھی مختلف اسباب ہوتے ہیں۔ بد کار آدمیوں کو سزا دینا یا تنبیہ کرنا مقصود ہوتا مگر نیک آدمیوں کے لیے تکالیف ان کے ثواب میں اضافہ اور بلندی درجات کے لیے آتی ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ اس کی مثال اس طرح بیان کرتے ہیں کہ کسی بیمار آدمی کو کڑوی دوائی پلا کر سمجھا دیا جاتا ہے کہ اس سے تمہیں تکلیف دینا مقصود نہیں بلکہ اس کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا ہوگا۔ یا اگر کسی شخص کے جسم کا کوئی حصہ بالکل ناکارہ ہوجائے اور اس کے اثرات جسم کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلنے کا خطرہ ہو تو ڈاکٹر اس مفلوحہ حصہ جسم کو کاٹ پھینکنے میں ہی مصلحت دیکھتے ہیں کیونکہ اس کا کٹ جانا ہی آدمی کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کی حکمت میں یہ بات مسلمہ ہے کہ انسانوں کو ان کے اعمال کا بدلہ ملنا ضروری ہے۔ بعض اوقات بدلے کا کچھ حصہ دنیا میں بھی مل جاتا ہے مگر اس کا زیادہ حصہ آخرت میں ہی ملے گا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ اسے اس کے عمل کی جزا یا سزا ضرور ملنی چاہئے اور اس کی آپ نے چار وجوہات بیان کی ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت ملکیت اور بہیمیت کی کشمکش کا نام ہے جو ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ بہیمیت مغلوب ہو کر ملکیت غالب آجائے۔ اب اگر اس کے برخلاف ہوگا تو وہ فطرت کے خلاف ہوگا۔ اور اس کیلئے انسان کو سزا ملنی چاہئے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملاء اعلیٰ کے فرشتوں کی دعائیں اور بد دعائیں بھی انسانی جزا و سزا کا سبب بنتی ہیں اور یہ دوسری وجہ ہے۔ جب کوئی شخص نیک عمل انجام دیتا ہے تو ملاء اعلیٰ کے فرشتوں سے شعاعیں نکلتی ہیں جو اس شخص پر بھی پڑتی ہیں اور اوپر بھی جاتی ہیں اور پھر ان کا انسان کے حق میں اچھا نتیجہ نکلتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی آدمی بُرے فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو فرشتوں سے شعاعیں نکلتی ہیں۔ یہ شعاعیں بھی متعلقہ شخص پر پڑتی ہیں اور اوپر کی طرف بھی جاتی ہیں۔ اسی طرح گویا فرشتوں کی دعائیں اور بد دعائیں بھی جزا یا سزا کا سبب بنتی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ جزا و سزا کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ شرائع کا تقاضا ہے کہ انسان ان کی پابندی کریں۔ اب اگر وہ ان قوانین کی پابندی کرتے ہیں تو جزا ورنہ سزا کے حقدار بننا چاہئیں۔ اور چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انبیاء کو مبعوث فرما کر حلال حرام اور جائز و ناجائز کو واضح کردیا ہے۔ اب جو شخص اچھا کام کریگا وہ اچھے بدلے کا حقدار ہے اور جو حرام اور ناجائز کو اختیار کریگا۔ معصیت کا ارتکاب کریگا اسے سزا ملنی چاہئے۔ یہ چار چیزیں جزائے عمل کا سبب ہیں۔ درس عبرت ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں سیروا فی الارض زمین میں چل پھر کر دیکھو ، ذرا سیروسیاحت کرو اور پھر فانظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبل دیکھو کہ تم سے پہلے لوگوں کا کیسا حشرہوا۔ لیکن یاد رکھو کان اکثرھم مشرکین ان کی اکثریت مشرک تھی۔ ظاہر ہے کہ تمام برائیوں میں شرک اور کفر سرفہرست ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے ان الشرک لظلم عظیم (لقمان۔ 3) نیز والکفرون ھم الظلمون (البقرہ۔ 452) جس طرح پہلے زمانے کے لوگ کافر اور مشرک تھے۔ اسی طرح آج بھی اکثریت انہی کی ہے۔ آج دنیا کی کل آبادی کا صرف پانچواں حصہ اہل ایمان ہیں۔ جب کہ باقی چار حصے کفرو شرک ہی میں مبتلا ہیں۔ خواہ وہ یہودی ہیں یا عیسائی ، احنامی بت پرست ہیں یا رسومی بت پرست ، روسی ہیں یا چینی یا دہریے سب کفر اور شرک میں مبتلا ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ پہلے لوگوں کی اکثریت مشرکوں کی تھی اور ایسے لوگوں کا انجام آپ دنیا میں چل پھر کر دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ نے انہیں کس کس قسم کے عذاب میں مبتلا کرکے ہلاک کیا۔ آج ان کی اجڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈرات دیکھنے والوں کے لیے درس عبرت بنے ہوئے ہیں۔ دین پر پختگی آگے ہر انسان کے لیے حکم ہورہا ہے فاقم وجھک للدین القیم اپنے رُخ کو دین قیم کے لیے قائم کریں یعنی اپنی توجہ خالص دین اسلام کی طرف مرکوز کردیں کیونکہ کفر اور شرک کا انجام آپ دیکھ چکے ہیں۔ اور یہ دین وذلک دین القیمۃ ( البنبۃ۔ 5) پختہ دین ہے جس کے اصول و ضوابط اٹل ہیں اور جو ہر زمان و مکان اور ہر قوم و ملت کے لیے موزوں ہے۔ یہ قوانین اللہ تعالیٰ نے جو علیم وخبیر ہے ، اپنے بندوں کی مصلحت کے لیے نازل فرمائے ہیں۔ لہٰذا ان کی پابندی ہی فلاح ہے۔ آپ اپنا رخ اسی دین کی طرف قائم رکھیں من قبل ان یاتی یوم لا مردلہ من اللہ پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے جسے کوئی روک نہیں سکے گا۔ اس سے قیامت کا دن مراد ہے جو اپنے مقرروقت پر آجائے گا۔ اور جسے کوئی ٹال نہیں سکے گا۔ اس دن محاسبے کی منزل آئے گی اور پھر ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ مل کر رہے گا۔ فرمایا وہ ایسا دن ہوگا یومذ یصدعون جس دن سب لوگ جدا جدا ہوجائیں گے۔ اسی طرح اطاعت اور نیکی والے اپنے اپنے درجے کی نیکی کے مطابق الگ الگ گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اس وقت دنیا میں تو نیک و بد سب مخلوط ہیں مگر قیامت والے دن ان کی الگ الگ ٹولیاں بن جائیں گی ۔ پھر اس کے بعد من کفر فعلیہ کفرہ جس شخص نے اس دنیا میں کفرکا ارتکاب کیا ہوگا ، اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، اس دن وہ سزا سے بچ نہیں سکے گا ۔ اور اعمال بد کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ ومن عمل صالحا جس نے دنیا میں نیک اعمال انجام دیے ہونگے فلا نفسھم یمھدون پس یہ لوگ اپنے نفسوں کے لیے تمہید اٹھا رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ ایمان اور نیکی والے لوگ اس دنیا میں اپنے لیے ابدی آرام و راحت کا سامان کر رہے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ ہوگا لیجزی الذین امنو وعملو الصلحت من فضلہ تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کو بدلہ دے اپنی خاص مہربانی سے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو محض اپنے اعمال پر ہی بھروسہ کرکے نہیں بیٹھ رہنا چاہئے بلکہ اصل چیز اللہ کی مہربانی ہے۔ اس کا فضل شامل حال ہوگا تو کامیابی حاصل ہوگی ، ورنہ نہیں ، فرمایا یاد رکھو انہ لا یحب الکفرین ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتایہ نہ سمجھنا کہ اس دنیا میں کامیاب امریکہ ، روس ، جرمنی اور فرانس جیسی بڑی بڑی سلطنتیں اللہ کے ہاں بھی محبوب ہیں۔ ایسے کافر و مشرک تو اللہ کے ہاں مبغوض ہیں دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دے رہا ہے ، پھر جب مقررہ وقت آپہنچے گا تو ان کو گرفت میں لے لے گا۔ سورة الزمر میں ہے ولا یرضی لعبادہ الکفر و ان تشکروا یرضہ لکم ( آیت۔ 7) اللہ تعالیٰ کافروں سے راضی نہیں ہوتا۔ بلکہ اگر تم ایمان کے ساتھ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کروگے تو وہ تم سے راضی ہوجائے گا۔ اسی لیے کفر اور شرک کی تردید ہورہی ہے اور دین قیم یعنی دین توحید کو اختیار کر نیکی تلقین ہے۔
Ayahs 30:46–49

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ چلاتا ہے ہوائوں کو جو خوشخبری دینے والی ہوتی ہیں۔ اور تاکہ چکھائے تمہیں اپنی رحمت سے اور تاکہ چلیں جہاز اس کے حکم سے اور تاکہ تلاش کرو تم اس کے فضل سے ، اور تاکہ تم شکر ادا کرو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا آپ سے پہلے رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف۔ پس آئے وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر۔ پھر انتقام لیا ہم نے ان لوگوں سے جو گنہگار تھے اور ہم پر حق ہے مدد کرنا ایمان والوں کی

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ کی ذات وہ ہے جو چلاتا ہے ہوائوں کو ، پھر وہ اٹھاتی ہیں بادلوں کو۔ پھر پھیلاتا ہے ان کو فضا میں جس طرح چاہے ، اور بناتا اس کو تر…پس دیکھے گا تو بارش کو کہ نکلتی ہے اس کے درمیان سے۔ پس جب پہنچاتا ہے وہ جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے تو اچانک وہ خوش ہوجاتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور اگرچہ وہ تھے ، قبل اس کے کہ ان پر بارش اتاری جاتی ، البتہ ناامید ہونے والے

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین فیم کی طرف توجہ کرنے کا حکم دیا ، فرمایا کہ بحروبر میں لوگوں کے کفر ، شرک اور بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد برپا ہوچکا ہے۔ اللہ نے بعض انسانی اعمال بد کا بدلہ دنیا میں دیا ہے اور تنبیہ کی ہے تاکہ لوگ باز آجائیں پھر ایمان اور اعمال صاحلہ کی فضیلت کا ذکر فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کفر کو کبھی بھی پسند نہیں کرتا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ایمان اور اعمال صالحہ کی ترغیب اور کفر و شرک کی تردید فرمائی ہے۔ بارش کی ہوائیں اب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بعض نشانیوں کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ ومن اٰیتہِ ان یرسل الریاح مبشرتٍ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ خوشخبری لانے والی ہوائیں چلاتا ہے۔ ان ہوائوں سے مراد وہ خوشگوار ہوائیں ہیں جو بارش کی آمد سے پہلے چلتی ہیں اور جن سے بارانِ رحمت کے نزول کی امید پیدا ہوتی ہے۔ بارش کے ظاہری اسباب کے متعلق سائنسدان کہتے ہیں کہ سمندر کی فضا گرم ہوتی ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ پھر جہاں اللہ کی مشیت ہوتی ہے ، اُن بادلوں کو ہانک کر ادھر لے جاتا ہے۔ اور بارش کا نزول ہوتا ہے۔ بہر حال ظاہری اسباب کے علاوہ اصل بات یہ ہے کہ جب اور جس جگہ کے لیے حکم خداوندی ہوتا ہے ، اس مقام پر اتنی ہی بارش ہوجاتی ہے۔ جتنی مشیت ایزدی میں مقرر ہوتی ہے تو یہ بارش والی ہوائوں کا چلنا اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کے دلائل میں سے ہے۔ قرآن پاک میں ہوائوں کے چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہوائیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہیں۔ وہ نام یہ ہیں۔ (1) مبشرتٍ یعنی خوشخبری سنانے والی (2) نشرتٍ (اٹھانے والی) (3) مرسلتٍ (چھوڑی ہوئی) (4) ذریتٍ (گردوغبار اڑانے والی) اسی طرح ہوائوں کے چار نام ایسے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ رحمت کی علامت ہیں اور سزا کے طور پر چلائی جاتی ہیں۔ (1) عقیمٍ یعنی بانجھ یہ ہوا قوم حاد پر چلی تھی۔ (2) صر صرٍ یعنی تندو تیز ہوا جو جنگلوں اور صحرائوں میں چلتی ہے۔ (3) عاصفٍ یعنی تیز آندھی جو درختوں کو اکھڑا دیتی ہے اور مکان گرا دیتی ہے۔ (4) قاصفتٍ یعنی توڑنے والی۔ جب سمندروں میں چلتی ہیں تو جہازوں کے تختے توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ہوائیں بطور رحمت فرمایا کہ خوشخبری دینے والی ہوائوں کا ایک مقصد اللہ کے نزدیک یہ بھی ہے ولیذ یقکم من رحمتہ تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت اور مہربانی کا مزا چکھائے جب یہ ہوائیں چلتی ہیں اور باران رحمت کی خوشخبری لاتی ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہی ہوتی ہے۔ سمندروں میں بادبانی کشتیوں کے چلنے کا انحصار موافق ہوائوں پر ہی ہوتا ہے۔ جب یہ چلتی ہیں تو مسافر اپنی منزل مقصود تک پہنچتے ہیں اور یہ بھی اس کی مہربانی کا ہی نتیجہ ہوتا ہے آجکل تو بڑے بڑے جہاز بھاپ یا نیل سے چلتے ہیں۔ لاکھوں ٹن وزنی جہازوں کے لیے بھی موافق ہوائیں بڑی مفید ثابت ہوتی ہیں اور جہاز کی رفتار قدرے تیز ہوجاتی ہے۔ اس کے برخلاف اگر ہوائیں ناموافق ہوں تو بڑی دقت پیش آتی ہے اور جہازوں کی رفتار بالکل سست پڑجاتی ہے یا انہیں روکنا پڑتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ ہوائوں کا چلنا بہرحال اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دلیل ہے۔ تلاش رزق فرمایا ہوائوں کا یہ فائدہ بھی ہے ولتجری الفلک بامرہ تاکہ کشتیاں اللہ کے حکم سے چلیں ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کشتیوں اور جہازوں کے چلنے کا دارومدار بہت حد تک ہوائوں پر ہے۔ اور پھر اس نقل و حمل کے ذریعے وللبستغو من فضلہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔ اللہ کے فضل میں بہت سی چیزیں آتی ہیں جن میں سرفہرست رزق حلال ہے لوگ کشتیوں کے ذریعے اور بڑے بڑے جہازوں کے ذریعے مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے تجارت کرتے ہیں اور اس طرح اپنے لیے روزی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصلاح ہیں فضل ارتفاق کی طرف اشارہ ہے یعنی اچھے طریقے سے زندگی بسر کرنا ، چناچہ جب کوئی شخص محنت کرکے رزق حلال حاصل کرتا ہے تو اس کی زندگی خوشگوار طریقے سے بسر ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں ارتفاق کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چناچہ سورة الجمعۃ میں ہے وابتغو من فضل اللہ ( آیت۔ 01) جب نماز سے فارغ ہوجائو تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل یعنی روزق حلال تلاش کرو۔ اس کے علاوہ دوسری چیز افتراب یعنی اللہ کا قرب ہے جسے قرآن میں رضوان کا نام دیا گیا ہے جیسے حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے متعلق فرمایا یبتغون فضلاً من اللہ ورضواناً (الفتح۔ 92) کہ وہ اللہ کا فضل یعنی روزق حلال اور اسکی رضا تلاش کرتے ہیں۔ جب تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق انجام دیے جائیں گے تو اس کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی اور اسی سے اللہ کا قرب حاصل ہوگا۔ اللہ کا شکر فرمایا ہوائوں کے چلانے سے ایک مقصود یہ بھی ہے ولعلکم تشکرون تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ دیکھوں اس نے ہوائیں چلا کر تمہاری زیست کے کیسے کیسے سامان پیدا کیے ہیں۔ سامان کی سب سے زیادہ نقل و حمل آج بھی بحری راستوں سے ہوتی ہے اور ایک ملک کی چیزیں دوسرے ملک میں پہنچ کر لوگوں کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ جس سے زندگی خوشحال ہوجاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا شکر ادا کرے۔ اور شکریہ کا اولین اظہار اس طرح ہے کہ انسان اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو صحیح طریقے سے برمحل صرف کرے۔ فضول خرچی اور حرام کے راستے میں اپنے رزق کو ضائع نہ کرے۔ مالک حقیقی کو پہچان کر اس کی توحید پر ایمان لائے اور مال و دولت کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق خرچ کرے۔ اگر مال کو غلط رستے پر خرچ کریگا ، حرام کاموں میں لگائے گا۔ عیاشی اور فحاشی کا سامان کریگا۔ یا رسومات بد اور بدعات میں ضائع کریگا تو یہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہوگی۔ اللہ نے ہوائوں کو چلا کر تمہارے لیے زیست کا سامان پیدا کیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرو۔ مجرمین سے انتقام ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا من قبلک رسلاً الی قومھم البتہ تحقیق ہم نے بھیجے آپ سے پہلے رسول ان کی اپنی اپنی قوم کی طرف فجاء وھم بالبینت پھر وہ آئے اپنی قوم کی طرف واضح نشانیاں لے کر۔ بینات میں معجزات دلائل ، احکام ، مسائل اور شرائع سب شامل ہیں اللہ کے نبی لوگوں کی راہنمائی کے لیے ہی چیزیں پیش کرتے رہے مگر لوگوں کی اکثریت نے ان کا انکار کیا۔ اور جیسا کہ آیت میں گزر چکا ہے کان اکثرھم مشرکین ان کی اکثریت شرک میں ہی مبتلا رہی اور ایمان نہ لائی۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہر زمانے میں نافرمان ، باغی ، مشرک اور کافر اکثریت میں رہے۔ جب کہ اطاعت گزار لوگوں کی تعداد کم رہی ہے بہرحال فرمایا کہ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا ، انہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچایا ، مگر جب وہ ایمان نہ لائے بلکہ الٹا اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی ، انہیں جادوگر کاہن اور جھوٹا کہا تو اللہ نے فرمایا فانتقمنا من الذین اجرمو پھر ہم نے ان مجرموں سے انتقام لیا۔ انہوں نے انکار کیا تو سزا کے مستحق ٹھہرے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ انتقام کبھی تو دنیا میں ہی لیا جیسے قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم نوح ، قوم لود اور قوم ابراہیم کو دنیا میں ہی تباہ و برباد کردیا۔ اور مکمل طور پر آخرت میں ہی انتقام لیاجائے گا۔ جب انہیں ان کی کارگزاری کی پوری پوری سزا ملے گی۔ نصرت الٰہی فرمایا مجرموں سے تو ہم نے انتقام لیا وکان حقاً علینا نصر المومنین اور مونوں کی مدد کرنا ہم پر حق ہے۔ حق و باطل کی کشمکش میں اللہ تعالیٰ نے بسا اوقات اہل ایمان کی مدد فرمائی اور ان کو کافروں اور مشرکوں پر غلبہ عطا فرمایا ، ان کو سزا سے بچایا اور ان کے دین اور صداقت کو دنیا میں واضح کیا۔ مومنوں کی مدد کی یہ بھی ایک صورت ہے۔ فقہائے کرام نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کس طرح حق ہے ؟ بعض فرماتے ہیں کہ بندوں کا اللہ پر کوئی حق نہیں ، بلکہ صرف اللہ کا حق بندوں پر ہے۔ اس لیے یہ اصحاب فرماتے ہیں کہ کسی شخص کو اپنی دعائیں ” بحق فلاں “ نہیں کہناچاہئے لانہ لاحق للمخلوق علی الخالق کیونکہ مخلوق کا کوئی حق خالق پر ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ خالق کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس پر ایمان لائیں۔ اس کی توحید کو تسلیم کریں۔ اس کے انبیاء پر ایمان لائیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ گمراہ فرقوں میں معتزلہ ایک ایسا فرقہ ہے جو ہر چیز کو عقل کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو چیز عقل کی کسوٹی پر پوری نہ اترے اس کی الٹی سیدھی تاویل کرلیتے ہیں۔ اسی لیے ان لوگوں نے عذاب قبر کا انکار کیا ہے اور معجزات میں کسی قسم کی تاویلیں کی ہیں۔ بہرحال معتزلہ کا عقیدہ یہ ہے کہ جو چیز بندوں کے حق میں اچھی ہے وہ اللہ تعالیٰ پر واجب ہے ، ظاہر ہے کہ یہ عقیدہ سو فیصدی باطل ہے ، اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ دعا میں حق کا لفظ استعمال نہ کیا جائے کہ اس سے معتزلہ جیسے گمراہ فرقے کی تائید ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں حق کا لفظ دو مقامات پر استعمال ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حقوق اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے اپنے ذمے لے رکھے ہیں۔ ایک تو یہی نصر المومنین یعنی اللہ نے ایمان والوں کی مدد اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اور دوسری جگہ سورة یونس میں ہے ، جہاں فرمایا حقاً علینا ننج المومنین (آیت۔ 301) یعنی ایمان والوں کو نجات دینا ہمارے ذمے حق ہے۔ اس سلسلہ میں محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ حق دو قسم کے ہیں ایک وجوبی یعنی لازمی حق ہے جو کو مخلوق میں سے کسی کا بھی اللہ پر نہیں ہے۔ البتہ دوسرا حق اللہ کے فضل و کرم کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے بعض چیزیں اپنے اپنے ذمے لازم قرار دے رکھی ہے کہ وہ ایسا ضرور کرے گا۔ چناچہ مذکورہ دونوں حق یعنی مومنوں کی مدد اور ان کی نجات کے حقوق اللہ نے خود اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمے لے رکھے ہیں ، ورنہ فی الواقعہ مخلوق میں سے کسی کا حق اللہ پر لازم نہیں آتا۔ اس بات کا ثبوت حدیث شریف میں بھی ملتا ہے صحیین کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ حضور ﷺ کے پیچھے خچر پر سوار تھے۔ اس دوران میں آپ نے فرمایا اے معاذ ؓ اتدری ماحق اللہ علی العباد کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا حق اللہ علی العباد ان یعبدوہ ولا یشرکوا بہ شیئاً اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ حضور ﷺ نے پھر فرمایا معاذ ؓ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے ؟ انہوں نے پھر عرض کیا ، کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان لا یعذب من لا یشرک بہ شیئاً یعنی بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ اگر وہ شرک کا ارتکاب نہ کریں تو اللہ انہیں عذاب سے بچالے۔ بایں ہمہ اللہ نے یہ حق اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمے لے رکھا ہے وگرنہ خالق پر مخلوق کی کوئی چیز ضروری نہیں۔ آیت زیر درس میں نصرت مومنین کا جو حق اللہ نے اپنے ذمہ لیا ہے وہ بھی اس کے فضل و کرم سے ہے اور اس طرح یہ بھی مومنوں کا لازمی حق نہیں بنتا۔ الغرض ! معتزلہ کے عقیدے کے مطابق دعا میں حق کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں ہے ، البتہ اگر اس حق سے فضل و کرم و الا حق مراد ہو تو پھر بحق فلاں کہناجائز ہے جیسا کہ شیخ سعدی (رح) کے کلام میں بھی موجود ہے…؎ الٰہی بحق بنی فاطمہ کہ برقول ایمان کنی خاتمہ اے اللہ ! حضور ﷺ کے اہل بیت کے طفیل یعنی ان کے حق کی وجہ سے میرا خاتمہ ایمان پر کردے۔ دوسرا لفظ طفیل بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کا معنی وسیلہ ہے۔ اسی طرح بجاہ کا لفظ بھی انہی معنوں میں آتا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) نے اپنے مکتوبات میں بحرمت کا لفظ بھی استعمال کیا ہے ، اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ ان کے وسیلہ سے ہمارا خاتمہ بالایمان ہو۔ اللہ تعالیٰ ہماری پریشانیوں کو دور فرمائے اور ہماری مرادوں کو پورا کرے۔ ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں ، پھر وسیلہ سے بھی وہی وسیلہ مراد لینا چاہئے جو شروع ہے۔ مشرک لوگ وسیلے سے یہ مراد لیتے ہیں کہ جن کے وسیلے سے دعا کی جارہی ہے۔ وہ ضرور ہی ہماری مراد پوری کرادیں گے ۔ چاہے خدا تعالیٰ راضی ہو یا ناراض۔ اس قسم کا وسیلہ باطل ہے البتہ اگر یوں کہاجائے کہ مولا کرم ! تیرا فلاں بندہ نیک آدمی اور عبادت گزار تھا۔ ہمیں اس سے محبت ہے اس نے ہمیں صحیح راستہ بتلایا۔ لہٰذا اس کی برکت ، اس کے طفیل اور اس کے وسیلے سے ہماری دعا قبول فرما تو ایسے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ علمائے دیو بند اس وسیلہ کے قائل ہیں ہاں اس طریقے سے دعا مانگنا ضروری بھی نہیں کہ اس کے بغیر قبول ہی نہیں ہوگی۔ بارش ذریعہ مسرت ارشاد ہوتا ہے اللہ الذی یرسل الریح اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو ہوائوں کو چلاتا ہے فتشیرو سحاباً پھر وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں فیبسطہ فی السماء کیف یشاء پھر پھیلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو فضا میں جس طرح چاہتا ہے ویجعلہ کسفاً اور بنا دیتا ہے اس کو تہ بر تہ فتری الودق یخرج من خللہ پھر تم دیکھتے ہو کہ بارش اس کے درمیان سے نکلتی ہے یعنی خدا کے حکم سے بارش برسنے لگتی ہے فاذا اصاب بہ من یشاء من عبادہ پھر جب پہنچاتا ہے ، بارش اپنے بندوں میں سے جو کو چاہے یعنی جس علاقے میں بارش بارسانا مقصود ہو ، وہاں بارش ہونے لگتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اذا ھم یستبشرون تو اچانک وہاں کے لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی باران رحمت ہورہی ہے ، زمین سرسبز ہوگی ، پھل پھول اور اناج پیدا ہوگا جس سے انسان اور جانور مستفید ہوں گے لہٰذا وہ خوش ہوجاتے ہیں و ان کانو من قبر ن ینزل علیھم من قبلہ لمبلسین اگرچہ نزول باران سے پہلے وہ مایوس ہوچکے تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی ہوگی اور انسان اور جانور خوراک سے محروم ہوجائیں گے۔ لیکن خدا تعالیٰ کی مہربانی سے بارش ہوجاتی ہے تو لوگ خوش ہوجاتے ہیں کہ اب ان کی امید بر آنے والی ہے۔