30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 30:50–53

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

پس دیکھو اللہ کی رحمت کی نشانیوں کی طرف کہ کس طرح وہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد۔ بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم بھیج دیں ہوا ، پس یہ دیکھیں اس (کھیت) کو زرد تو البتہ ہوجائیں گے اس کے بعد ناشکرگزار

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

پس بیشک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو اور نہیں سنا سکتے بہروں کو پکار جب کہ وہ پشت پھیر کر جار ہے ہوں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور آپ نہیں ہدایت دے سکتے اندھوں کو ان کی گمراہی سے۔ آپ نہیں سناتے مگر ان کو جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیتوں پر۔ پس وہ فرمانبرداری کرنے والے ہیں

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا ردّ فرمایا اور ساتھ ساتھ اپنی قدرت کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں جو اثبات توحید اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہوائوں کو چلاتا ہے ، فضا میں بادل اٹھتے ہیں اور پھر ان سے بارش برسا کر اپنی مخلوق کو خوش کرتا ہے اگرچہ لوگ قبل از بارش مایوس ہوچکے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔ پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کے لیے خوراک بنتے ہیں اور اسی لیے یہ ان کے لیے راحت کا سامان ہوتا ہے۔ مردہ سے زندہ اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فانظر الی اثر رحمت اللہ پس دیکھو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نشانیوں کی طرف کیف یحی الارض بعد موتھا کہ وہ کس طرح زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے خشک ہوجانے کے بعد۔ ان ذلک لمحی الموتی بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنیوالا ہے یہی مشاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ جو اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرتا ہے ، وہی مرنے کے بعد انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے وھو علی کل شئی قدیر وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے کوئی شے اس کے اختیار سے باہر نہیں ہے۔ اسی سے قیا س کیا جاسکتا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ مردہ دلوں کو انبیاء مبعوث فرما کر اپنی کتابیں نازل فرما کر ان کے لیے ہدایت کا سامان پیدا کرتا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا اومن کان میتاً فاحیینہ ( الانعام۔ 321) جو شخص مردہ تھا یعنی جس کا دل ہدایت سے محروم تھا ، کفر ، شرک میں مبتلا تھا ، ہم نے اس کو ایمان کی دولت دے کر زندہ کردیا۔ کافروں اور مشرکوں کے دل مردہ ہوتے ہیں جب کہ ایمان اور توحید سے دلوں میں زندگی پیدا ہوتی ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ کا ذکر کرنے والا آدمی زندہ ہے اور جو اس سے غافل ہے وہ مردہ ہے یعنی اس کا دل مردہ ہے۔ شکر گزاری اور ناشکری انسان کی ناشکری کے متعلق فرمایا ولن ارسلنا ریحاً فرائوہ مصفراً اور اگر ہم ایسی ہوا چلا دیں جس سے کھیت زرد پڑجائیں یعنی سوکھ جائیں لظلو من م بعدہ یکفرون تو اس کے بعد انسان نا شکری کرنے لگتے ہیں۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ خوشخبری لانے والی ہوائوں کو چلاتا ہے ، فضا میں بادل بلند ہوتے ہیں اور پھر جہاں اللہ کو منظور ہوتا ہے ، بارانِ رحمت نازل ہوتا ہے تو لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر اللہ تعالیٰ خشک ہوائیں چلا دے جس سے لوگوں کے کھیتخشک اور فصل ویران ہوجائیں تو انسان ناشکری کرنے لگتے ہیں۔ مطلب یہ کہ انسان کے پیش نظر اس کا اپنا مفاد ہوتا ہے اگر وہ حاصل ہوگیا تو راضی ہوگیا۔ ورنہ ناراض حقیقت یہ ہے کہ انسان کے پیش نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہونی چاہئے کہ وہ کن کاموں پہ خوش ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آجائے جو انسان کے لیے غیر مفید ہو تو بھی اسے اللہ کا شکر ہی ادا کرنا چاہئے اور کسی وقت بھی ناشکری کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ کفار کی سماعت سے محرومی آگے ارشاد ہوتا ہے فانک لا تسمع الموتی بیشک آپ نہیں سنا سکتے مردوں کو ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولو مدبرین ورنہ آپ بہروں کو پکارسنا سکتے ہیں جب کہ وہ پشت پھیر کر جا رہے ہوں۔ وما انت بھدی العمی عن ضللتھم اور آپ اندھوں کو بھی ان کی گمراہی سے ہدایت کی طرف نہیں لاسکتے۔ ان تسمع الامن یومن بایٰتینا فھم مسلمون آپ تو صرانہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ حضور ﷺ خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور انہیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر نور اسلام کی طرف لانے کی پوری پوری کوشش کرتے۔ اس کے باوجود جب لوگ آپ کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوتے تو آپ سخت رنجیدہ ہوتے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی ہے کہ مردوں اور بہروں کو سنانا یا اندھوں کو راہ ہدایت کی طرف لانا آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ آپ کی بات تو وہ شخص سنے گا جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتا ہے اور ہمارے احکام کی اطاعت کرتا ہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کو مردوں بہروں اور اندھوں سے تشبیہ دی ہے جس طرح یہ لوگ نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔ اور نہ دلائل قدرت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ اس قسم کی آیات سورة نمل اور سورة نمل میں بھی گزر چکی ہیں اور آگے سورة فاطر اور نہ زخرف میں بھی آرہی ہیں۔ ان میں مذکورہ مردوں سے مراد حقیقی مردے نہیں بلکہ کافر اور مشرک ہیں۔ جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں اور ان پر آیات الٰہی کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ گویا اس سننے سے وہ سننا مراد ہے جو کافروں اور مشرکوں کے لیے مفید ہو ، وگرنہ ان کے محض سننے سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بلاشبہ کفارو مشرکین سنتے تھے اور دیکھتے بھی تھے ، مگر احکامِ الٰہی کو سن کر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اس لیے فرمایا کہ آپ ان کو نہیں سنا سکتے یعنی راہ ہدایت پر نہیں لاسکتے جیسا کہ فرمایا انک لا تھدی من اجبت ولکن اللہ یھدی من یشائ ( القصص : 65) جسے آپ پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ ہدایت اس کو ملتی ہے جس کو اللہ چاہے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ، قاضی شاء اللہ پانی پتی اور امام بیضاوی نے بھی اس آیت سے یہی احذ کیا ہے کہ جس طرح حقیقی مردے کسی کی بات سن کر مستفید نہیں ہوسکتے اس طرح کافروں اور مشرکوں پر بھی اللہ کے نبی کی بات نہ سننے کے برابر ہے۔ اگر حقیقی مردوں کو سارا قرآن بھی سنایا جائے تو وہ اس سے کیا فائدہ اٹھائیں گے کیونکہ وہ دارالعمل سے دار الجراء میں پہنچ چکے ہیں۔ اسی طرح کافروں اور مشرکوں کے متعلق بھی فرمایا کہ آپ ان کو ایسی بات نہیں سنا سکتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ سماع گوئی پر اختلاف یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی مردے جو قبروں میں دفن ہوچکے ہیں کیا وہ بھی زندوں کی بات سنتے ہیں یا نہیں ؟ ا س مسئلہ کے بھی دو حصے ہیں یعنی عام مردے اور انبیاء (علیہم السلام) جہاں تک عام مردوں کا تعلق ہے ، یہ مسئلہ صحابہ کرام ؓ کے زمانہ سے اختلافی چلا آرہا ہے۔ بعض سماع ہوتی کے قائل ہیں اور بعض نے انکار کیا ہے تاہم خصوص دونوں جانب موجود ہیں۔ امام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سماع ہوتی کا انکار کرتی ہیں جب کہ حضرت عمر ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ اس کے قائل ہیں۔ محدثین میں سے امام بخاری ؓ نے سماع ہوتی کا باب باندھا ہے ” باب المیت یسمع قرع نفعال “ یعنی جب لوگ مردے کو دفن کرکے واپس لوٹتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور حضرت انس ؓ سے روایت بھی منقول ہے کہ جب کوئی شخص قبر پر جا کر سلام کرتا ہے تو اگر صاحب قبراس شخص کو دنیا میں پہچانتا تھا۔ تو دعا اور سلام کے وقت بھی پہچانتا ہے۔ نیز وہ دعا گوئی اور سلام کو سنتا ہے اور اس کا جواب بھی دیتا ہے۔ مگر فرمایا تم اس کی آواز کو نہیں سن سکتے۔ چناچہ اسی اختلاف کے پیش نظر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں ہیں جو اختلاف صحابہ کرام ؓ کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ اس کے بارے میں اب کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا ایسے مسائل کو اپنی جگہ پر رہنے دو ۔ کوئی شخص جس پہلو کو بھی اختیار کرے گا۔ وہ درست ہوگا ، لہٰذا کسی شخص کو بُرا بھلا نہیں کہناچاہئے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی حاشیہ قرآن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ وہ کسی مردہ کو زندہ کردے مگر تمہیں قدرت حاصل نہیں کہ کسی مردہ کو بات سنوا سکو۔ اللہ چاہے تو سب کچھ ہوسکتا ہے اسی طرح آپ نہ بہروں کو سنا سکتے ہیں اور نہ اندھوں کو دکھا سکتے ہیں خصوصاً جب کہ وہ سنتے اور دیکھنے کا ارادہ بھی نہ رکھتے ہوں۔ لہٰذا آپ ان کافروں اور مشرکوں کے متعلق دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ تبلیغ حق کا کام جاری رکھیں۔ آپ کی بات وہی سنے گا جو ہماری آیتوں پر یقین رکھتا ہے اور اطاعت گزار ہے۔ قسم کا مدار عرف پر سماع موتی سے فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بھی اخذ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے متعلق قسم اٹھا لے کہ میں اس سے بات نہیں کروں گا اور وہ مر جاتا ہے۔ پھر اگر اس نے مرنے کے بعد اسے کسی معاملہ میں مخاطب کیا تو اس کی قسم بھی نہیں ٹوٹے گی کیونکہ قسم کا مدار عرف عام پر ہوتا ہے۔ کسی شخص کی دوسرے آدمی سے بات نہ کرنے کی قسم عرفِ عام میں اس کی زندگی تک محدود سمجھی جاتی ہے اور اگر اس نے مرنے کے بعد بات کی تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ بعض فقہانے قسم نہ ٹوٹنے کی وجہ یہ لی ہے کہ مرنے کے بعد چونکہ وہ شخص سننے سے عاری ہوچکا ہے ، لہٰذا اسے بات کرنے پر محمول نہیں کیا جائیگا اور نہ ہی قسم ٹوٹے گی۔ ہر حال صحیح بات یہی ہے کہ قسم کا مدار عرف پر ہوتا ہے نہ کہ سماع یا عدم سماع پر ۔ عرف کی دوسری مثال اس طرح ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ میں فرش پر نہیں لیٹوں گا۔ مگر وہ زمین پر لیٹ جاتا ہے تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ عرفِ عام میں فرش سے مراد خالی زمین نہیں بلکہ بستر ہوتا ہے جس میں دری ، چادر ، گدا وغیرہ شامل ہو۔ علی ہذا القیاس اگر کوئی شخص گوشت نہ کھانے کی قسم اٹھا کر مچھلی کا گوشت کھالے تو بھی حائی نہیں ہوگا کیونکہ عرف میں گوشت کا اطلاق گائے بھیڑ ، بکری وغیرہ کے گوشت پر ہوتا ہے حالانکہ خود اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو لحماً طریاً ( فاطر۔ 21) یعنی تازہ گوشت فرمایا ہے۔ اس کی یہ مثال بھی دی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی شخص قسم کھالے کہ وہ سری کا گوشت نہیں کھائے گا اور پھر چڑیا کے سر کا گوشت کھالے تو بھی قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ سری کا اطلاق عرف عام میں جانوروں کے سر پر ہوتا ہے نہ کہ پرندوں کے سر پر۔ الغرض قسم کا معاملہ عرف پر مبنی ہوتا ہے اور اسے عدم سماع ہوتی پر قیاس نہیں کی جاسکتا۔ انبیاء کا سماع جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ عام مردوں کے سماع کے متعلق تو صحابہ کرام ؓ کے زمانے سے اختلاف چلا آرہا ہے لہٰذا ہمیں اس مسئلہ میں زیادہ کرید کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، البتہ وفات کے بعد انبیاء (علیہم السلام) کے سماع کا مسئلہ متفق علیہ ہے۔ امت کے تمام فرقے اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نبی ﷺ سنتے ہیں۔ صحیح حدیث کے الفاظ یہ ہیں من صلی علی عند قبری سمعتہ ومن صلی علی ناسیاً ابلغتہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری قبر کے قریب صلوٰۃ وسلام پڑھتا ہے میں اس کو خود سنتا ہوں اور جو دور سے پڑھتا ہے تو فرشتے اسے پہنچا دیتے ہیں۔ یہ حدیث اگرچہ غریب ہے مگر سند کے لحاظ سے صحیح ہے۔ تاہم اس زمانے میں عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی بھی نہیں سنتے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ اگر انبیاء کے سماع کو تسلیم کر لیاجائے تو لوگ ان سے استمداد کر جائز تصور کرکے شرک میں مبتلا ہوجائیں گے۔ یہ قیاس درست نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص نبی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ کر پکارتا ہے تو وہ شرک ہے خواہ نبی کی زندگی میں پکارا جائے یا وفات کے بعد۔ لہٰذا ان دو مسائل کو آپس میں خلط ملط نہیں کرنا چاہئے۔ فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بھی لکھا ہے جو شخص نبی کی قبر کے قریب جا کر سلام پیش کرے اسے شفاعت کی درخواست بھی کرنی چاہئے کہ آپ اس کے حق میں اللہ کے حضور سفارش کریں کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہو اور آپ کی امت میں میرا حشر ہو۔ بہرحال انبیاء کے سماع میں عام طور پر کسی کا اختلاف نہیں حتیٰ کہ جماعت اہل حدیث کے پیشوا سید نذیر حسین دہلوی نے بھی اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) قریب سے صلوٰۃ وسلام سنتے ہیں۔ آج سے تقریباً چھیاسی سال پہلے اہل بدعت کے پیشوا مولوی احمد رضا خان نے علمائے حق کے متعلق جب کفر کا فتویٰ دیا تھا تو مولانا خلیل احمد صاحب نے ” المسند “ مرتب کیا تھا جس میں انہوں نے چھبیس مسائل بیان کیے تھے جو بریلویوں کے فتویٰ کا جواب تھا۔ اس پر علمائے دیوبند کے علاوہ مصر اور شام وغیرہ کے مستند علما کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ان مسائل میں حیات النبی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ علمائے دیو بند قائل ہیں کہ انبیاء کرام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور جو صلوٰۃ وسلام قریب سے پڑھاجائے اس کو سنتے ہیں۔ عام مردوں کا سماع یہاں یہ بات سمجھ لین چاہئے کہ دنیا کا کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ البتہ جو کام انسان خود اسباب عادیہ کے دائرے میں رہ کر کرتا ہے وہ ان کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور جو عام حالات کے برخلاف غیر معمولی طریقے سے انجام پاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ارادتاً گولی مار کر دوسرے کو ہلاک کردیتا ہے تو وہ قاتل کہلائے گا اور اگر ایک مٹھی کنکریاں پھینکنے سے دشمن کا سارا لشکر ہی ہلاک ہوجائے تو یہ اللہ کا فعل شمار ہوگا۔ کیونکہ یہ اسباب عادیہ کے تحت نہیں آتا۔ اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے کردی اور فرمایا وما رمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی (الانفال۔ 71) کنکریوں کی مٹھی آپ نے نہیں پھینکی تھی اے پیغمبر ! بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ بالکل اسی طرح فانک لا تسمع الموتی کہ تم خود کلام کرکے اپنی آواز مردے کو نہیں سنا سکتے کیونکہ یہ چیز اسباب ظاہرہ کے خلاف ہے ، البتہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے تمہاری کوئی بات مردے کو سنادے تو اس سے کوئی مومن انکار نہیں کرسکتا ، چناچہ جن باتوں کا سماع غیر معمولی طریقے سے نصوص کے ذریعے ثابت ہے ، ہم اس سماع کے قائل ہیں۔ محض قیاس کی بناء پر دوسری چیزوں کو سماع کے تحت نہیں لاسکتے۔ مثلاً نص سے ثابت ہے کہ مردہ دفن کرکے جانے والوں کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے تو اس کو تو تسلیم کریں گے مگر اس حد سے آگے نہیں جائیں گے ۔ بعض صحیح احادیث سے سلام کو سننے اور اس کا جواب دینے کا بھی تذکرہ آتا ہے مگر فرمایا تم ان کی آواز کو نہیں سن سکتے۔ قبرستان میں جا کر مسنون طریقے پر کہا جاتا ہے السلام علیکم یا ھل القبو۔ السلام علیکم دار قوم مومنین وانا انشاء اللہ بکم للاحقون اے قبروں والو ! تم پر سلام ہو۔ اے مسلمان قوم کے گھر والو ! تم پر سلام ہو۔ اور ہم بھی عنقریب تم سے ملنے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خطاب ایسا ہی ہے جیسے زندوں سے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے مولانا محمد قاسم نوتوی فرماتے ہیں کہ اگر مردوں کے سننے کا بالکل ہی انکار دیا جاتے تو یہ توتضحیک والی بات ہوگی کہ پتھروں کی طرح سننے کی صلاحیت ہی نہ ہو مگر انہیں اس طرح سے خطاب کیا جائے۔ خطاب کا یہ طریقہ بتا رہا ہے کہ سماع کی کوئی صورت ضرور ہے اگرچہ وہ ہمارے بس کی بات نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اسن میں ایسا شعور ضرور رکھا ہے جس کے ذریعے وہ سنتے ہیں خواہ ایک خاص حد تک ہی ہو۔ عذاب قبر بعض لوگوں نے سماع کا انکار کرکے عذاب قبر کا بھی انکار کیا ہے حالانکہ یہ نصوص سے ثابت ہے ، یہ بات بھی مسلم ہے کہ عذاب روح اور جسم دونوں کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ صرف روح کے ساتھ۔ اگر روح جسم سے باہر ہے۔ تب بھی اس کا عکس جسم پر پڑتا ہے جس سے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سورج اگرچہ ہماری زمین سے کروڑوں میل دور ہے مگر اس کی روشنی اور حرارت کا اثر ہم تک پہنچتا ہے۔ اگر انسان کا سارا جسم گل سڑ بھی جائے تب بھی اس کا کچھ نہ کچھ حصہ باقی رہتا ہے جسے جزا یا سزا کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عام مردوں کے اجسام گل سڑ جاتے ہیں مگر دلچی کی ہڈی کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور باقی رہتا ہے اور اسی سے قیامت کو انسان کا ڈھانچہ دوبارہ کھڑا کیا جائے گا۔ بہرحال جمہور فقہاء اور محدیثن اس بات کے قائل ہیں کہ عالم برزخ میں عذاب قبرروح اور جسم دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ حرف آخر بہر حال ان آیات میں جس سماع کی نفی کی گئی ہے وہ ایسا سماع ہے جو مفید ہو۔ مطلب یہ کہ آپ مردوں کو ایسی بات نہیں سنا سکتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ فرمایا جس طرح بہرہ اور اندھا سماعت اور بصارت سے مستفید نہیں ہوسکتا۔ خاص طور پر جب کوئی توجہ بھی نہ کرے اور پشت پھیر کر چلا جائے تو ایسے شخص کو سماعت کا کیا فائدہ ہوگا ؟ اسی طرح کفارو مشرکین کی مثال بہروں اور اندھوں جیسی ہے ، یہ لوگ بھی ہدایت سے مستفید نہیں ہوسکتے ، اس سے تو وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو ایمان رکھتے ہیں اور ہماری فرمانبرداری کرتے ہیں۔
Ayahs 30:54–57

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے کمزوری سے پھر اس نے بنائی کمزوری کے بعد قوت ، پھر بنائی قوت کے بعد پھر کمزوری اور بڑھاپا۔ پیدا کرتا ہے جو چاہے ، اور وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن برپا ہوگی قیامت تو قسم کھائیں گے مجرم کہ نہیں ٹھہرے وہ سوائے ایک گھڑی سے ، اسی طریقے سے وہ پھیرے جاتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ لوگ جن کو علم اور ایمان دیا گیا ہے البتہ تحقیق ٹھہرے ہو تم اللہ کی کی کتاب میں بعث کے دن تک ، پس یہ بعث کے دن ہے ، لیکن تم نہیں جانتے تھے

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

پس اس دن نہیں فائدہ دیگا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا ان کا عذر پیش کرنا اور نہ ان کو موقع دیاجائے گا کہ وہ راضی کرسکیں

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر و شرک کی تردید کے ساتھ اپنے رخ کو دین حق کی طرف پھیرنے کا حکم دیا ، اہل ایمان اور کفار کا انجام بیان فرمایا اور پھر قدرت کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ ہوائوں کا چلنا ، سمندروں میں کشتی رانی ، فضا میں بادلوں کا پھیلانا اور بارش برسانا اور اس کے ذریعے خشک زمین کو سرسبز بنانا سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، پھر اللہ نے بےانصاف لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ہدایت کی بات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ وہ تو قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کی مانند ہیں جنہیں کتنا بھی وعظ و نصیحت کیا جائے ، وہ مستفید نہیں ہو سکتے۔ اس کی مثال بہرہ اور اندھا آدمی ہے کہ وہ بھی سننے اور دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کی وجہ سے اچھی بات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسی طرح کفار بھی ایمان اور نیکی کی بات سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے برخلاف ہدایت ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کے طلبگار ہوتے ہیں۔ انسانی زندگی کے تین دور اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس پر آنیوالے تین مختلف ادوار کا تذکرہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اللہ الذی خلقکم من ضعف اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا کمزوری سے یعنی تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا فرمایا۔ انسان کی ابتدائی تخلیق تو مٹی سے ہوئی اور اس کے بعد نوع انسانی کے بقا کا سلسلہ حقیر قطرہ آب سے ہوا۔ اللہ تعالیٰ خلاق علیم ہے اور وہ قیامت تک انسانوں کو پیدا کرتا رہے گا۔ اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے الم تخلقکم من ماء مھین ( المرست۔ 02) کیا ہم نے تمہیں حقیر قطرہ آب سے پیدا نہیں کیا ؟ سورة الطارق میں فرمایا فلینظر الانسان مم خلق (5) خلق من مہ دافق (6) انسان دیکھے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے اسے اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پشت اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے مطلب یہ کہ انسان کی پیدائش ایک نہایت ہی کمزور چیز ہوتی ہے اس کمزور ابتداء کے بعد فرمایا ثم جعل من م بعد ضعف قوۃً پھر تم میں قوت پیدا کردی۔ بچپن سے لیکر جوانی تک انسان نسبتاً کمزور حالت میں ہوتا ہے۔ پھر جب شباب کو پہنچتا ہے تو اس میں قوت آجاتی ہے۔ یہی زمانہ انسان کے لیے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، جوانی میں انسان کی ساری قوتیں ٹھیک سے کام کرتی ہیں۔ وہ بہتر سوچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت اچھے طریقے سے کرسکتا ہے۔ محنت مشقت کرکے اپنے لیے آسودہ حالی کا سامان پیدا کرسکتا ہے گویا اس بہترین دور میں وہ دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہتر طور پر کام کرسکتا ہے اسی لیے فرمایا کہ تمہاری بچپن کی کمزوری کو ہم نے طاقت میں بدل دیا۔ فرمایا ثم جعل من م بعد قوۃ ضعف و شیبۃً پھر اللہ نے قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپے کو طاری کردیا ، جب جوانی کا زمانہ ختم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ انسان پر بڑھاپا طاری کردیتا ہے۔ اس کے بال سفید اور اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں۔ اس زمانے میں بہترین خوراک بھی انسان کے لیے مفید ثابت نہیں ہوتی بلکہ وہ تنزل کی طرف ہی گامزن رہتا ہے۔ ہاتھ پائوں کمزور ہوجاتے ہیں جسم میں طاقت نہیں رہتی ، آنکھوں کی بینائی اور کانوں کی سماعت جانے لگتی ہے۔ حتیٰ کہ انسان کا ذہن بھی مائوف ہوجاتا ہے۔ حافظہ کمزور ہو کر یادداشت باقی نہیں رہتی۔ سورة المومن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض کو اس حالت سے پہلے ہی موت دے دیتا ہے یعنی بعض بچپن میں اور بعض جوانی کے عالم میں فوت ہوجاتے ہیں اور بعض بڑھانے کی حالت میں راہی ملک عدم ہوتے ہیں۔ بعض بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اگر کسی انسان کی کل زندگی ساٹھ سال فرض کی جائے تو اس کی حقیقی زندگی بیس 02 سال ہی ہوتی ہے ، ظاہر ہے کہ انسان نے آدمی زندگی یعنی تیس 03 سال تو سو کر گزار دئیے۔ ابتدائی دس سال بچپن کے کھیل کود میں نکل گئے اور باقی اصل زندگی بیس 02 سال ہی رہ جاتی ہے جو انسانی زندگی کا بہترین عرصہ ہوتا ہے ، اگر اس عرصہ میں انسان نے کوئی نیکی کمائی تو اس نے اپنی دائمی زندگی کے لیے راحت کا سامان پیدا کرلیا۔ اور اگر یہ مدت کھیل کود ، کفرشرک ، بدعات اور رسوماتِ فاسدہ میں گزار دی تو پھر اس کی یہ زندگی بھی ضائع ہوگی ہو۔ اگلی زندگی تو ہمیشہ کے لئے خراب ہوگئی اور ایسا شخص ہمیشہ کے لیے نقصان میں پڑگیا۔ ملت اسلامیہ کے ادوار علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس طرح انسان کی انفرادی زندگی میں مختلف دور آتے ہیں ، اسی طرح قومی اور ملکی زندگی کے بھی ادوار ہوتے ہیں۔ ملت اسلامیہ کی حالت کو دیکھئے ، مکی زندگی میں مسلمانوں کی حالت کمزور تھی اور یہ ابتدائی ضعف کا زمانہ تھا ، پھر مدنی زندگی میں اللہ نے مسلمانوں کو قوت بخشی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال کے قلیل عرصہ میں نصف دنیا مسلمانوں کے زیر نگیں آچکی تھی اس کے بعد پھر انحطاط کا دور شروع ہوا جو ملی زندگی میں بڑھاپے کے مشابہ ہے۔ مسلمان قوم بحیثیت مجموعی ہر جگہ کمزور ہے اگرچہ تعداد بہت زیادہ ہے مگر دینی قوت مفقود ہوچکی ہے اس انحطاط کے اسباب میں اہل اسلام کا انتظار ، نظام خلافت سے محرومی ، ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ ، اتحادی طاقتوں یعنی عیسائیت ، یہودیت اور دہریت کا دور دورہ ، شرک کی بہتات ، بد اخلاقی ، عریانی ، فحاشی اور شیطان کا اغواء وغیرہ شامل ہیں۔ خواص ان حالات میں ہمیشہ متفکر رہے ہیں اور مسلمانوں کو اس پستی سے نکالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ قومی و ملکی شعور رکھنے کو نفخہ اولیٰ اور نفخہ ثانیہ کے درمیانی عرصہ پر محمول کرتے ہیں کہ ہم تھوڑا عرصہ ٹھہرے… یہ بھی کم و بیش چالس سال کا عرصہ ہوگا۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کی دنیاوی زندگی پچاس ، ساٹھ اور سو سال تک بھی محیط ہوتی ہے اور عالم بزرخ میں تو صدیاں بھی بیت سکتی ہیں۔ ان حالات میں گھڑی بھر زندگی کا دعویٰ کرنا تو محض جھوٹ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ انسان برزخ کی زندگی میں تو جھوٹ نہیں بول سکتے ، کیونکہ جو نہیقبر میں منکر نکیر سوال کرتے ہیں تو گنہگار آدمی کہتا ہے ھا ھا لا ادری ہائے افسوس ! میں اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ البتہ حشر میں بعض مواقعے ایسے بھی آئیں گے کہ لوگ اپنی کرتوتوں سے مکر جائیں گے حتیٰ کہ سب سے بڑے مجرم مشرک بھی کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین (الانعام۔ 32) بخدا ہم تو شرک نہیں کیا کرتے تھے۔ مگر ان کا انکار ہرگز مفید نہیں ہوگا۔ اللہ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی شخص زبان سے غلط بیانی کریگا تو الیوم تحتم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانو یکسبون (یس۔ 56) ہم ان کے مونہوں پر مہریں لگا دیں گے اور پھر ان کے ہاتھ پائوں ان کے کرتوتوں کے متعلق بول کر گواہی دیں گے۔ اور بالآخر گنہگار آدمی اپنے گناہوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ بہر حال فرمایا کہ جس طرح گنہگار لوگ دنیا کی زندگی کو گھڑی بھر پر محمول کریں گے۔ اسی طرح دنیا میں بھی یہ حقیقت سے دوسری طرف پھیرے جاتے تھے۔ انہوں نے ایمان اور توحید کا انکار کیا اور آج گرفتار مصیبت ہوگئے۔ مجرمین کے مذکورہ بیان کے برخلاف وقال الذین وتو العلم والایمان صاحب علم اور صاحب ایمان لوگ گواہی دیں گے کہ گنہگار تم غلط کہتے ہو۔ حقیقت یہ ہے لقد بعثتم فی کتب اللہ الی یوم البعث کہ اللہ کی کتاب کے مطابق تم یوم بعث تک ٹھہرے ہو۔ اللہ کی کتاب سے مراد لوح محفوظ ہدایت کا علم ہے۔ فھذا یوم البعث آج دوبارہ جی اٹھنے
Ayahs 30:58–60

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے بیان کی ہیں لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں۔ اور اگر آپ لائیں ان کے پاس کوئی نشانی تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ نہیں ہو تم مگر باطل پرست

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس آپ صبر کریں بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے۔ اور نہ خفیف بنائیں آپ کو وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور اس کی زندگی کے تین ادوار کا ذکر کیا ہے۔ انسان کی پیدائش اور بچپن کمزوری اور ناتوانی کا دور ہوتا ہے۔ پھر جب وہ سن بلوغت کو پہنچتا ہے تو یہ اس کی قوت کا زمانہ ہوتا ہے۔ آخر میں پھر انسان کے اعضا کمزور پڑنے… بیان کی ہے ، عربی زبان میں ضرب کا معنی مارنا ، سفر کرنا اور بیان کرنا بھی ہوتا ہے۔ اس مقا م پر مراد بیان کرنا ہی ہے۔ اللہ نے مختلف سورتوں میں تقریب فہم کے لیے بہت سی مثالیں بیان فرمائی ہیں ، چناچہ کلی سورة لقمان میں مسئلہ توحید سے متعلق مثال بیان کی گئی ہے۔ وقوع قیامت کے متعلق مثالیں سورة اعراف و سورة حج میں گزر چکی ہیں۔ نور خداوندی کی مثال سورة نور میں گزر چکی ہے۔ شرک کے بودا پن کی مثال گذشتہ سورة العنکبوت میں بیان ہوئی تھی۔ اسی طرح منافقین اور کفار کے طرز عمل کی مثالیں اللہ نے مختلف سورتوں میں بیان فرمائی ہیں۔ حق و باطل کی مثال ، مومن اور کافر کی مثال ، علمائے یہود کی مثال ، دینوی زندگی کی مثال ، کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال اور ریا کاری وغیرہ کی مثالیں مختلف سورتوں میں بیان ہوئی ہیں۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن پاک میں لوگوں کو سمجھانے کے لیے بہت سی مثالیں بیان کی ہیں۔ کسی مئلہ میں مثال کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے تاکہ مقصد کی وضاحت ہوجائے۔ بعض موٹے موٹے مسائل تو آسانی سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ تاہم بعض باریک چیزوں کو مثال کے ذریعے فہم کے قریب کردیا جاتا ہے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مثال سے مراد مثال بھی ہوسکتی ہے اور اس سے صفت بھی مراد لی جاسکتی ہے جیسا کہ گذشتہ آیت 072 میں گزر چکا ہے ولہ المثل الاعلیٰ فی السموت والارض آسمانوں اور زمین میں اللہ کی صفت بہت بلند ہے۔ بہر حال اللہ نے قرآن پاک میں مختلف الانواع چیزیں بیان فرمائی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے یا پھر دیگر باریک چیزیں آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں۔ سربمہر قلوب ارشاد ہوتا ہے اے نبی (علیہ السلام) ! ولِن جتھم باٰیتہِ اگر آپ ان کفارو مشرکین کے پاس کوئی نشانی لیکر آئیں ، کوئی معجزہ و دلائل پیش کریں لیقولن الذین کفروا ان انتم الا مبطون تو کافر لوگ کہیں گے کہ نہیں ہو تم مگر باطل راستے پر یہ بدسخت حق کو باطل کہہ کر انکار کردیں گے۔ مطلب یہ کہ ہٹ دھرم اور بد عقیدہ لوگوں کے سامنے کوئی مثال یا کوئی… فرماتے ہیں کہ غینی عذاب تو توبہ استغفار سے دور ہوتا جاتا ہے مگر رینی عذاب کو اللہ نے حد ٹھپے سے تعبیر کیا ہے جو پختہ ہوجاتا ہے اور پھر اس کے اترنے کے تمام مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔ سورة النسا میں ہے بل طبع اللہ علیھا بکفرھم ( آیت۔ 55) اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دئیے ہیں۔ جس سے ان کی قبولیت حق کے لیے صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے اور ان کی اصلاح کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ہے۔ یہاں بھی فرمایا کہ ہم اسی طرح بےسمجھ لوگوں کے دلوں پر تھپڑ مار دیتے ہیں۔ جہل مرکب جو لوگ سمجھ اور عقل سے کام نہیں لیتے ، وہ جہل مرکب کا شکار ہوتے ہیں۔ جہالت دو قسم کی ہے یعنی جہلس بسیط اور جہل مرکب ، جہل بسیط سادہ اور محض لا علمی ہوتا ہے۔ جو حصول علم سے دور ہوجاتا ہے اور اس جہل میں مبتلا شخص کی اصلاح ممکن ہوتی ہے۔ البتہ جہل مرکب یہ ہے کہ انسان کسی غلط چیز پر پختہ ہوجائے اور اسے اچھا سمجھ کر اس پر کاربند ہوجائے۔ ایسے جہل کی اصلاح ممکن نہیں رہتی کیونکہ ایسا شخص غلط کو صحیح سمجھ رہا ہے لہٰذا وہ کبھی بھی اس سے باز نہیں آئے گا۔ صاحبِ تفسیر روح المعانی ایک لطیفے کی بات لکھتے ہیں قال حمار الحکیم یوماً و تصفونی لکنت رکب لانی جاھل یسیط وصاحبی جاھل من کب ایک روز ایک دانشور آدمی کے گدھے نے کہا کہ اگر لوگ انصاف سے کام لیں تو مجھے میرے آقا پر سوار ہونے کا زیادہ حق ہے کیونکہ میں تو صرف جہل بسیط میں مبتلا ہوں۔ جب کہ میرا مالک جہل مرکب کا شکار ہے بہرحال جو لوگ عقل اور سمجھ سے کام نہیں لیے بلکہ غلط چیز پر ہی اڑے رہتے ہیں ، وہ جہل مرکب کا شکار ہو کر ناقابل اصلاح بن جاتے ہیں۔ صبر کی تلقین آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی علیہ السالم کو خطاب کرکے فرمایا فاصبرو ان وعد اللہ حق آپ صبر سے کام لیں کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ … کو اخلاص سے حدار کو توبہ سے ، کذب کو صدق سے اور غفلت کو تفکر سے تبدیل کرتا ہے۔ کمزور وضو کا اثرات اما م ابن کثیر نے سورة روم کی تفسیر کے آخر میں امام احمد بن حنبل (رح) کے حوالے سے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ کے بعض صحابہ ؓ نے بیان کیا کہ آپ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة روم تلات فرمائی۔ آپ کو نماز میں کچھ وہم اور بھول ہوگئی۔ جب حضور ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ ہم پر قرآن کو ملبس کیا جاتا ہے یعنی تلاوت قرآن میں گڑبڑ ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم میں سے بعض لوگ اچھی طرح وضو کرکے نہیں آتے۔ فرمایا جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتا ہے اس کو اچھے طریقے سے وضو بناناچاہئے۔ ورنہ اس کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور قرآن کی تلاوت میں گڑبڑ ہوتی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند اور متن حسن ہیں۔ امام صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے ساتھ متعلق ہوتی ہے دوسری حدیث میں صراحتاً موجود ہے الامام ضامن یعنی امام مستدیوں کا ضامن ہوتا ہے اگر اس کی نماز صحیح ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی درست ہوگی اور اگر امام کی نماز فاسد ہے تو مقتدیوں کی بھی فاسد ہوگی۔ چناچہ امام ابوحنیفہ (رح) اسی بنا پر اما م کے پیچھے مقتدیوں کی قرات کے قائل نہیں ہیں۔