Ayahs 30:20–23ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور کفار کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا۔ پھر مجرموں کی گرفتاری اور خدا تعالیٰ کے حضور پابند سلاسل پیشی کا ذکر فرمایا اللہ نے ان اوقات کا ذکر کیا۔ جن میں تجدید نعمت ہوتی ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں ظاہر ہوئی ہیں۔ ان اوقات میں اللہ کی تسبیح اور عبادت کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اللہ کی قدرت کا ذکر ہوا کہ وہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور اس مشاہدے کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں اور توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا۔ ساتھ ساتھ یہ وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر بھی دلیل بنتی ہے کہ جس طرح یہاں پر اللہ تعالیٰ مردہ چیز سے زندہ نکالتا ہے۔ اسی طرح قیامت کو مردہ زمین سے مردہ اجسام کو دوبارہ زندہ کرکے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا۔
انسان کی پیدائش
آج کی آیات میں بعض دیگر نشاناتِ قدرت کا ذکر کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے
ومن اٰیتیہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ ان خلقکم من تراب کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ انسان کی ابتدائی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی جو کہ ایک بےجان چیز ہے۔ دنیا میں اولین انسان اور پیغمبر حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) کی ہے۔ خلقہ من تراب (آل عمران۔ 95) اللہ نے آپ کو مٹی سے پیدا کیا۔ یہ بات قرآن میں بار بار دہرائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اولین تخلیق مٹی سے کی۔ ثم اذا انتم بشر تنتشرون پھر تم انسان ہو جو زمین میں منتشر ہوتے ہو یعنی پھیل جاتے ہو۔ دیکھو یہ اللہ کا کمال قدرت ہے کہ کہاں حقیر مٹی اور کہاں اشرف المخلوقات انسان۔ تو جس طرح اللہ نے انسان کو پہلی دفعہ مٹی سے تخلیق کیا ، اسی طرح وہ اسے دوبارہ بھی مٹی سے ہی اٹھائیگا۔ جب تم پہلی تخلیق کو تسلیم کرتے ہو تو دوبارہ زندگی کو تسلیم کرنے میں کون سا امر مانع ہے۔
میرے حق میں مالک نے یہ احسان کیا
خاکِ ناچیز سو مجھے انسان کیا
بہرحال اللہ نے توحید ، وقوع قیامت اور بعث بعد الموت پر یہ عقلی دلیل پیش کردی ہے۔
انسان کو اسی لیے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کی مقرب ترین مخلوق فرشتوں سے بھی بلند تر مقام رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاک میں وہ کمالات و دیعت کردیے ہیں جو دوسرے عناصر میں نہیں پائے جاتے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے فرشتے کو حکم دیا کہ تم روئے زمین سے تھوڑی تھوڑی مٹی اکٹھی کی جائے۔ اس مٹی کے خمیر سے آدم (علیہ السلام) کا جسم بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی جس طرح روئے زمین کے مختلف خطوں میں کہیں کی مٹی سرخ ہے اور کہیں کی سیاہ کہیں کی سخت اور کہیں کی بھربھری ، اسی طرح اللہ نے مختلف خطوں کے لوگوں کو بھی مختلف الانواع بنایا ہے ، کوئی گورا ہے اور کوئی کالا ، کوئی سرخ ہے اور کوئی زرد اسی طرح ابن کی طباع بھی مختلف ہے۔ کوئی سخت طبیعت ہے تو کوئی نرم مزاج۔ یہ اس مٹی کا اثر ہے جو انسان کی تخلیق میں داخل ہے۔
انسان کا جوڑا
ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتیہ یہ بھی اسی کی نشانیوں میں سے ہے۔ ان خلق لکم من انفسکم ازواجاً کہ اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ ان خلق لکم من انفسکم ازواجاً کہ اس نے تمہارے نفسوں میں سے تمہارے لڑے جوڑے پیدا کیے۔ سارے کے سارے مرد یا ساری کی ساری عورتیں ہی پیدا نہیں کیں۔ بلکہ ہر صنف کے لیے اس کا جوڑ بنایا۔ سور ۃ النساء کی ابتدائی آیت میں فرمایا۔ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈر جائو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا وخلق منہا زوجھا (آیت۔ 1) اور پھر اسی میں سے اس کا جوڑ پیدا کیا۔ پھر اس جوڑے میں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پیدا کرکے زمین میں پھیلا دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور پھر انہی سے حضرت حوا (علیہ السلام) کو پیدا کرکے ان کا جوڑا بنایا جن کے اختلاط سے پوری نوع انسانی وجود میں آئی۔ تو گویا مرد اور عورت دونوں کی جنس ایک ہی ہے البتہ ان کی صنف الگ الگ ہے تاکہ ان کا دائرہ کار صحیح رہے اور مقصد تخلیق پورا ہوتا رہے۔ لتسکنو الیھا تاکہ تم ان کے پاس سکون پکڑو۔ عورت اور مرد میں اللہ نے ایسی کشش رکھی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے باعث سکون ہیں۔ سورة البقرہ میں ہے ھن لباس لکم وانتم لباس لھز ( آیت۔ 781) عورتیں تمہارے لئے بنرلہ لباس کے ہیں۔ اور تم ان کے لیے ہو ، گویا عورتوں کی پردہ پوشی تمہارے ذریعے ہے اور تمہاری پردہ پوشی ان کے ذریعے ہے۔ جس طرح لباس جسم کے ساتھ متصل ہوتا ہے اسی طرح اللہ نے تمہارے درمیان بھی اتصال کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ انسانی زندگی میں طرح طرح کے حوادثات پیش آتے ہیں۔ انسان کو غم ، پریشانی اور اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں زوجین ہی ایک دوسرے کے غمگسار اور ذریعہ تسکین بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ فرمایا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ اللہ نے تمہارے درمیان دوستی اور مہربانی کا جذبہ بھی پیدا کردیا۔ میاں بیوی کے درمیان قریب ترین دوستی اور مہربانی کا تعلق ہوتا ہے۔ اگر اپنے دل میں طلب پیدا ہوتی ہے تو یہ محبت ہوگی اور اگر طلب دوسری صنف کی طرف سے ہے تو رحمت اور مہربانی کا ظہور ہوگا ، اور پھر اس محبت اور مہربانی کے جذبہ کے تحت ہی ایک دوسرے کا ملاپ ہوگا جو کہ ذریعہ اولاد ہے گویا اللہ تعالیٰ نے زوجین کے درمیان محبت ، دوستی اور رحمت کا رشتہ قائم کرکے اسے نسل انسانی کی بقاء کا ذریعہ بنادیا ہے۔
غورو فکر کی دعوت
ان تمام چیزوں کے متعلق فرمایا ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون کہ اس میں غوروفکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کی توجہ اس کی پیدائش کی طرف دلائی ہے کہ دیکھو ! ابتدائی طور پر تمہیں مٹی سے تخلیق کیا۔ پھر آگے قطرہ آب سے نسل انسانی کو چلایا۔ اس قطرہ آب میں بھی مٹی کا اثر موجود ہے کیونکہ انسان کی ساری خوراک مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی کتنی بڑی نشانی ہے کہ انسان جیسی باکمال ہستی کو ایسے ناپاک قطرہ سے پیدا کیا کہ اگر جسم یا کپڑے کو لگ جائے تو دھوئے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔ پھر مردوزن میں محبت و الفت کی کشش پیدا کرکے نسل انسانی کے آگے چلانے کا بندوبست کیا۔ ان چیزوں میں غور کرنے سے اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت کا مسئلہ سمجھ میں آسکتا ہے۔ اللہ نے بار بار غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفا لھا (لحم۔ 42) یہ لوگ قرآن پاک میں غور کیوں نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں ؟ اس کے باوجود جو شخص دھیان ہی نہیں کرتا اس کے لیے کوئی چیز نشانی نہیں بن سکتی ، اور نہ ہی وہ اس کے لیے مفید ہوسکتی ہے۔
ارض و سما کی تخلیق
آگے اللہ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی کا تذکرہ کیا ہے ومن اٰیتِہ خلق السموت والارضِ ارض و سما کی تخلیق بھی اس کی… میں سے ہے ، اللہ نے اتنی بڑی زمین پیدا فرما کر فضا میں … کردیا اس کے متعلق اللہ نے الم یجعل الارض مھا (النبا 6) کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا وبنینا فوقکم سبعاً شداداً ( النبا …) اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنادئیے۔ بھلا اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی… چیزوں کو کوئی پیدا کرسکتا ہے یا … تخلیق ہے اور اس کی وحدانیت اور قدرت کی دلیل ہے۔
زبان کا اختلاف
پھر فرمایا واختلاف السنتکم تمہاری زبانوں کا مختلف ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اولاد آدم ہزاروں بولیاں بولتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں … چار ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ یہ بھی قدرت کا جاری کردہ نظام ہے کہ جس طرح پہلی نسلیں ختم ہوتی جاتی ہیں اور نئی نسلیں آتی رہتی ہیں۔ اسی طرح بعض پرانی بولیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور نئی نئی زبانیں ایجاد ہوتی رہتی ہیں۔ ہماری اردو زبان آج سے آٹھ سو سال پہلے دنیا میں کہیں نہیں بولی جاتی تھیں اسی برصغیر میں مختلف اقوام کے اختلاط سے اس زبان نے جنم لیا اور اب یہ اتنی وسیع ہوچکی ہے کہ اس میں علوم کے ذخیرے موجود ہیں اور دنیا پر کم و بیش ایک ارب انسان یہ زبان بولتے ہیں اسی طرح انگریزی ، عربی ، فارسی ، فرانسیسی ، جرمنی ، روسی ، چینی بیشمار زبانیں ہیں ان بڑی زبانوں کے علاوہ ہر علاقے کی چھوٹی چھوٹی اپنی زبانیں بھی ہیں جیسے ہمارے ہاں مرکزی ، پنجابی پھر پوٹھو ہاری ، سرائیکی ، بروہی ، کشمیری ، پشتو اور بلوچی زبانیں ہیں اسی طرح ملک کی علاقائی زبانیں بھی ہیں ان سب کو اکٹھا کیا جائے تو شمار سے باہر ہوجائیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان میں چودہ زبانیں تو سرکاری طور پر مسلمہ ہیں اور ان کے علاوہ علاقائی زبانیں تو بیشمار ہیں۔ بہر حال زبان کا اختلاف کوئی بُری بات نہیں ہے۔ مختلف زبانوں کے لوگ آپس میں ملتے ہیں تبادلہ خیال ہوتا ہے اور پھر ترقی کی نئی نئی راہیں ملتی ہیں۔ آج انگریزی دنیا کی اول درجہ کی زبان ہے جسے ساری دنیا میں بولا اور سمجھا جاتا ہے مگر آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس زبان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔
دنیا میں عربی زبان کو سب پر فضیلت حاصل ہے۔ یہ مختصر ہونے کے باوجود انتہائی ترقی یافتہ زبان ہے۔ اس کے حروف مختصر اور قواعد سائنٹفک ہیں۔ انگریزی زبان میں اس لحاظ سے طوالت پائی جاتی ہے کہ اس زبان میں بہت سے حروف زائد ہوتے ہیں جو بولنے میں نہیں آتے۔ پھر اس کے بعض حروف مختلف آوازیں دیتے ہیں ، کسی لفظ میں حرف سی (C) کی کی آواز دیتی ہے۔ جب کہ کسی دوسرے لفظ میں یہی حرف س کی آواز دیتا ہے کہیں TION شن بنتا ہے اور کہیں SION یہی آواز دیتا ہے ۔ کہیں CH چ کا آواز دیتا ہے اور کہیں ک ہ ، عربی زبان میں ایسا تفاوت نہیں پایا جاتا بلکہ ہر لفظ کے اپنے ہجے اور ہر حرف کی مستقل آواز ہے۔ گرائمر کے مطابق اس کے الفاظ بنتے چلے جاتے ہیں اور کہیں بھی مسلمہ اوصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ بہر حال ہر خطے کی اپنی اپنی زبان ہے اور کسی زبان کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے ہر زبان کا ماحول ، اس کے علوم اور اس کی شاعری کے اپنے اپنے اسلوب ہوتے ہیں جب مختلف زبانیں ملتی ہیں تو اسی سے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اگر پوری دنیا میں ایک ہی زبان بولی جاتی تو تمدن اپنی ترقی نہ کرسکتا۔
رنگوں کا اختلاف فرمایا جس طرح تمہاری زبانیں مختلف ہیں اسی طرح والوانکم تمہارے رنگ بھی مختلف ہیں۔ اللہ نے زمین کے مختلف خطوں میں مختلف رنگ کے لوگ پیدا کئے ہیں۔ گرم ممالک کے رہنے والے لوگوں کا رنگ عام طور پر کالا ہوتا ہے۔ جب کہ سرد علاقوں کے لوگ سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ بعض گندمی رنگ کے انسان ہیں اور بعض زرد اور سرخ رنگ کے ہیں ، یہ سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کی مختلف ہیں۔ لہٰذا رنگ کی بناء پر کسی شخص کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔ جس طرح اللہ نے رنگ مختلف بنائے ہیں اسی طرح شکل و صورت بھی مختلف ہے۔ انسان کے چہرے کا طول عرض کتنا ہوگا مگر آدم (علیہ السلام) سے لیکر قیامت تک پیدا ہونے والے اربوں لوگوں میں سے کسی ایک کی شکل و صورت بھی ہوبہو دوسرے سے نہیں ملتی۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بہت بڑا شاہکار ہے۔ اگر کوئی انسان اپنے ہاتھ سے مختلف شکل و صورت کی تصویریں بنانا چاہے تو سو پچاس تک جانے کے بعد عاجز آجائے گا۔ کہ اب کیسی شکل بنائوں جو پہلی شکلوں سے مختلف ہو مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانی ہے کہ کسی ایک انسان کی شکل دوسرے سے نہیں ملتی ۔ اسی طرح ہر آدمی کی آواز بھی مختلف ہے۔ ہم ایک دوسرے کو بغیر دیکھے محض آواز سے پہچان لیتے ہیں۔ اللہ نے ہر انسان کا گلا ایک سا بنایا ہے مگر ہر گلے کی آواز مختلف ہے۔ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت للعلمین اس میں نشانیاں تو ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں اور ان چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جاہل لوگ نہ تو ان کی طرف توجہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ ان کو سمجھ سکتے ہیں۔
نیند ذریعہ آرام
آگے ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتہ منامک بالیل والنھار رات اور دن کے وقت تمہاری نیند بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ سورة الانعام میں اللہ نے فرمایا وجعل الیل سکنا ( آیت 89) اس نے رات کو سکون کا باعث بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ طبعی نظام کے تحت تمام انسان اور جانور رات کے وقت آرام کرتے ہیں تاکہ ان کی تخلیل شدہ قوتیں بحال ہوجائیں اور وہ اگلے دن کے کام کے لیے دوبارہ تازہ دم ہوجائیں۔ دن کے وقت انسان تعلیم حاصل کرتے ہیں اپنی معاش کے لیے کاروبار ملازمت ، کھیتی باڑی یا محنت مزدوری کرتے ہیں تاہم اگر کوئی شخص کسی اشتعال کی وجہ سے رات کو نہیں سو سکا تو وہ دن کو بھی سو سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کاج اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ بعض کام تواتر چوبیس گھنٹے کرنا پڑتے ہیں۔ اگرچہ اب کام کا بیشتر حصہ مشینوں نے سنبھال لیا ہے مگر مشینوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا کتنی ہی صنعتیں ہیں جن میں دن رات کام ہوتا ہے۔ مواصلات کا سارا نظام چوبیس گھنٹے چلتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنی ڈیوٹی رات کے وقت انجام دیتے ہیں وہ دن کو آرام کرلیتے ہیں چناچہ اللہ نے یہاں پر یہی فرمایا ہے کہ رات اور دن کو تمہارے لیے نیند کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ بہر حال ہر جاندار کے لیے نیند ضروری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سے ایک نعمت ہے۔ اگر کسی شخص کو دو دن نیند نہ آئے تو اس کا دماغ ہی خراب ہوجائے۔ تو نیند میں بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
رزق حلال کی تلاش
فرمایا وابتغا ئوکم من فضلہ رزق حلال بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ کے فضل میں سرفہرست رزق حلال ہے انسان دن رات کے کسی حصہ میں اپنے حالات کے مطابق روزی کے لیے کام کاج کرتے ہیں جو ان کے لیے رزق کا سبب بنتا ہے۔ یہ بھی انسان کے لیے ضروری ہے۔ حتیٰ کہ جمعہ کے دن جہاں اللہ تعالیٰ نے نماز جمعہ کی ادائیگی کی تاکید کی ہے وہاں فکر معاش کا بھی حکم دیا ہے ۔ فاذا قضیلت الصلوٰۃ فانتشروفی الارض وابتغو من فضل اللہ ( الجمعہ۔ 01) جب نماز ختم ہوجائے تو رزق حلال کی تلاش کے لیے زمین میں پھیل جائو۔ یہودیوں کے ہاں ہفتہ کا دن صرف عبادت کے لیے مخصوص تھا اور اس میں کوئی دوسرا کام نہیں کیا جاسکتا تھا مگر اہل ایمان کو اللہ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن نماز سے فارغ ہو کر اپنے کاروبار میں لگ جائو۔ بہر حال دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں جس طرح نیند اور آرام ضروری ہے اسی طرح روزی کی تلاش بھی ضروری ہے اور یہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے اس ضمن میں دو اصلاحیں استعال کی ہیں۔ ایک اقتراب ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کرکے اس کا قرب حاصل کرے۔ اور دوسری چیز ارتفاق سے یعنی زندہ رہنے کے لیے ضروریات زندگی مہیا کرنا۔ اہل ایمان آدمی کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ سورة الفتح میں صحابہ کرام کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے یبتغون فضلاً من اللہ ورضوان ( آیت۔ 92) وہ اللہ کا فضل رزق حلاق کی جستجو بھی کرتے ہیں اور ان کی خوشنودی بھی یعنی قلب حاصل کرنے کے لے بھی برابر تگ ودو کرتے ہیں مگر عام اہل دنیا کا وطیرہ یہ ہے کہ وہ فکر معاش میں اقتراب کو بالکل ہی بھول جاتے ہیں اور آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔
فرمایا ان فی ذلک لایت لقوم تسمعون ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ جس طرح آنکھیں ذرائع علم میں سے ہیں اسی طرح انسان کانوں سے سن کر بھی بہت سا علم حاصل کرتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص سننے سے ہی عاری ہے تو کسی چیز میں غور و فکر کیسے کریگا ؟ اسی لیے فرمایا کہ مذکورہ چیزوں میں سننے اور غورو فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
Ayahs 30:24–27قدرتی بجلی بطور نشانی
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں اب اسی سلسلہ میں ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتہِ اور یہ بھی اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے یریکم البرق خوفاً وطمعاً کہ وہ دکھاتا ہے تم کو بجلی خوف اور امید سے۔ یہ آسمانی بجلی کا ذکر ہورہا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اور بجلی چمکتی ہے تو اس سے نقصان ہوجانے کا خوف بھی آتا ہے اور نزول رحمت بھی امید بھی ہوتی ہے۔ حضرت قتادہ (رح) سے منقول ہے کہ مسافروں کے لیے باعث خوف ہوتی ہے کہ بجلی ان کے اوپر نہ آگرے۔ جب کسی مقام پر بجلی گرتف ہے تو سخت نقصان ہوتا ہے۔ کہیں آگ لگ جاتی ہے اور کبھی انسان اور جانور ، ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ابھی گذشتہ ہفتے کی بات ہے کہ دو آدمی کھیتوں میں کام کر رہے تھے ۔ جب بجلی چمکی تو وہ بھاگ کر درخت کے نیچے چلے گئے مگر ان پر بجلی گری اور وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح سیالکوٹ کا واقعہ ہے کہ دو بچے سکول جا رہے تھے ۔ جب طوفان بادو باراں تھا تو انہوں نے کسی چھت کے نیچے پناہ پکڑی مگر بجلی گری اور دونوں بچے ہلاک ہوگئے تو حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ بجلی میں مسافروں کے لیے خوف اور مقیم لوگوں کے لیے امید ہوتی ہے کہ بارش برسے گی تو کھیت لہلہا اٹھیں گے اور پھل ، پھول اور اناج پیدا ہوگا۔ بعض فرماتے ہیں کہ خوف اس بات کا بھی ہوسکتا ہے کہ چمکنے والی بجلی بھی بارش سے خالی نہ ہو اور بارش ہونے کی امید بھی ہوتی ہے۔ غرضیکہ بجلی میں خوف اور امید دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں۔
مصنوعی بجلی
یہ تو قدرتی بجلی کا ذکر تھا ، تاہم جو بجلی ہم روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں یہ انسانی ہاتھوں کی تیار کردہ ہے اب اسی بجلی کا استعمال اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اگر تھوڑی سی دیر کے لیے بھی بند ہوجائے تو نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے اس بجلی سے بڑے بڑے کام لیے جا رہے ہیں۔ دیو ہیکل مشینوں کا چلانا بجلی ہی کے ذریعے ممکن ہوا۔ اس سے بڑے بڑے کارخانے چلتے ہیں اور ضروریات زندگی کی لاکھوں چیزیں تیار ہوتی ہیں۔ اگر بجلی نہ ہو تو عام استعمال کی چیزوں کی تیاری میں بڑی لاگت آئے اور چیزیں بہت زیادہ مہنگی ہوجائیں اور شہری زندگی میں روشنی کے لیے بجلی کا استعمال ایک بنیادی ضروریات بن چکا ہے۔ پرانے زمانے میں مٹی کے تیل کے لیمپ روشن ہوتے تھے مگر اب تو دیہات میں بھی بجلی ہے روشن ہوچکے ہیں کھیتی باڑی کے لیے ٹیوب ویل بجلی سے چلتے ہیں۔ ذرائع مواصلات میں بھی بجلی کا استعمال عام ہے۔ غرضیکہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں بجلی کی ضرورت نہ ہو۔
آج کے ایٹمی دور میں ہر ایک ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اس کا زیادہ تر انحصار بھی بجلی پر ہے۔ ابھی حال ہی میں روس کے ایٹمی ری ایکٹر میں خرابی پیدا ہوئی تو اس سے ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے۔ اب دنیا بھر میں مشورے ہو رہے ہیں کہ ایٹمی اثرات سے حفاظت کیسے ممکن ہو۔ کسی زمانے میں سرعت رفتاری کو بجلی سے تشبیہ دی جاتی تھی کہ فلاں واقعہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ رونما ہوا۔ شاعر لوگ بھی تیز رفتاری کے لیے ہوا یا بجلی کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ مثلاً گھوڑا ہوا کی طرح تیز رفتاری سے زیادہ بجلی کی سی تیزی سے کود جاتا ہے۔ بجلی کی رفتار سینکڑوں میل فی سیکنڈ ہے جب کہ روشنی اس سے بھی تیز ہے اور ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے۔
بہر حال مصنوعی بجلی سے بھی بڑے مفید کام لیے جاتے ہیں۔ تاہم اس میں دونوں چیزیں یعنی خوف اور امید پائی جاتی ہے جب بجلی کا کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے جانی یا مالی نقصان ہوجاتا ہے تو اس سے خوف پیدا ہوتا ہے اور جب یہ مفید کام انجام دیتی ہے تو یہ اس کا امید کا پہلو ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے بھی بجلی منقطع ہوجائے تو زندگی کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ کارخانے بند ہو کر کارکن بیکار بیٹھ جاتے ہیں۔ گھروں ، دفتروں ، دکانوں میں دن کے وقت بھی تاریکی چھا جاتی ہے ۔ بجلی قدرتی ہو یا مصنوعی یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔
وائرلیس یا لاسکی
موجودہ زمانے کی ایجاد وائرلیس یا لاسکی بھی اسی قبیل سے ہے پیغام رسانی کا یہ بھی تیز ترین ذریعہ ہے۔ دوران جنگ جب دیگر ذرائع مواصلات منقطع ہوجاتے ہیں تو پیغام رسانی کے لیے یہی ذریعہ کام آتا ہے اور ظاہر ہے کہ دوران جنگ مختلف محاذوں کا مرکز کے ساتھ ربط کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے بغیر نہ تو محاذ پر موجود سپاہیوں کو کمک اور گولہ بارود پہنچایا جاسکتا ہے۔ نہ ان کو بروقت ہدایات دی جاسکتی ہیں اور نہ ان کے لیے خوراک کا بندوبست ہوسکتا ہے۔ وائرلیس کی آوازیں فضا میں موجود ایتھر نامی مادہ کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں جب امریکہ میں یہ سسٹم دریافت ہوا تو مصری شاعر حافظ ابراہیم نے کہا تھا
وتخذتمواموج الاثیر بویدا
حین خلعم ان البروق کسالیٰ
تم نے ایتھر کی موجوں کو اس وقت پیغام رسانی کا ذریعہ بنالیا جب خیال تھا کہ اس کے مقابلے میں بجلی سست رفتار ہے۔
بارش کا نزول
آگے فرمایا کہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے وینزل من السماء وماء کہ وہ آسان کی طرف سے پانی نازل فرماتا ہے ، یعنی بارش ہوتی ہے فیحی بہ الارض بعد موتھا پھر اس پانی کے ذریعے مردہ اور خشک زمین کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو زمین میں روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں جس سے پھل ، پھول ، اناج پیدا ہوتا ہے اور جانوروں کے لیے گھاس پھونس اگتا ہے۔ ہر جاندار کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وجعلنا من الماء کل شئی حیی ( الانبیائ۔ 03) ہم نے پانی کے ذریعے ہر چیز کو زندگی بخشی ہے۔ نہ صرف انسان اور جانور پانی کے محتاج ہیں بلکہ اس کے بغیر نباتات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ انسان اور جانوروں کی خوراک کے لیے درختوں ، پھلوں اور اناج کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک پانی نہ ہو۔ یہ چیزیں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں دوڑنے والے خون کا اسی 08 فیصد حصہ پانی ہے اور باقی بیس فیصدی میں غذائی چیزیں اور مع دنیات ہوتی ہیں۔ اللہ نے پانی کو ایسی مفید چیز بنایا ہے کہ یہ خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرتا ہے پانی ہی سے غسل کرکے لوگ اپنا جسم پاک کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ کھڑے ، برتن اور دوسری استعمال کی چیزیں صاف کرتے ہیں جس قدر وسیع پیمانے پر پانی کی ضرورت ہے۔ اللہ نے اس کے ذخائر بھی اتنے ہی وسیع پیدا کردئیے ہیں۔ زمین پر جگہ جگہ دریا ، نہریں اور ندیاں چلا دی ہیں جو انسانوں ، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے لیے پینے اور کاشتکاری کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پھر اللہ نے زمین کے اندر بھی پانی کے وسیع ذخائر بند کردئیے ہیں جنہیں کنوئوں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے نکال کر استعمال کیا جاتا ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون بیشک اس میں نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ یہ اس کی قدرت کی نشانی ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کے لیے اتنی کارآمد چیز پیدا کی ہے۔ اگر انسان ذرا بھی عقل کو بروئے کار لائے تو یہ نشانی دیکھ کر اسے اللہ کی وحدانیت اور وقوع قیامت پر یقین آسکتا ہے مگر جو شخص عقل کو استعمال ہی نہ کرے ، اس کے لیے یہ نشانیاں بھی کچھ مفید نہیں ہوتیں۔
نظام کائنات
آگے اللہ نے وسیع تر نظام کائنات کو نشانی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ومن اٰیتیہ یہ بھی اسکی نشانیوں میں سے ہے ان تقوم السماء والارض نے ہی پیدا کیا ہے اور اسی نے ایک نظام کے تحت ان کو کام میں لگا رکھا ہے۔ چاند ، سورج ، ستارے اور سیارے سب اللہ کی مخلوق ہیں کل یجری لاجل مسمیً (الرعد 02) سب کے سب اپنے مدار میں ایک مقررہ مدت کے لیے رواں دواں ہیں۔ فرمایا ان اللہ یمسک السموت والارض ان نزولا ( فاطر۔ 14) ان متحرک چیزوں کو گرنے یا ٹکرا جانے سے اللہ ہی نے روک رکھا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا مقررہ کردہ وقت آجائے گا تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہوجائے گا۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر قائم نہیں رہے گی۔ یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت ( ابراہیم۔ 84) جس دن اس میں اور آسمان کی جگہ نئے زمین و آسمان قائم کیے جائیں گے اس واقعہ کو طامۃ الکبریٰ ( بڑا ہنگامہ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس وقت قیامت برپا ہوجائے گی ثم اذا دعاکم دعوۃً پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم سب کو بلاوا آئیگا۔ اذا انتم تخرجون اور تم اچانک نکل پڑو گے۔ یہ بلاوا صور اسرافیل کے ذریعے ہوگا اور تمام لوگ اپنی قبروں سے نکل کر دوڑتے ہوئے اپنی منزل کی طرف جائیں گے۔
سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق زمین ، آسمان اور تمام کڑے قانون کشش ثقل کے مطابق اپنے اپنے راستوں پر چل رہے ہیں اور یہ آپس میں ٹکراتے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کشش ثقل کا قانون کس نے پیدا کیا ہے ؟ آخر وہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی تخلیق ہے ، پھر جب وہ چاہتا ہے تو دقتاً فوقتاً اس میں جزوی تبدیلیاں بھی لاتا رہتا ہے۔ چناچہ دیکھتے ہیں کہ معمول کے خلاف چاند گرہن یا سورج گرہن کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ غرضیکہ یہ سارا نظام کائنات خدا تعالیٰ ہی کا قائم کردہ ہے اور بالآخر ہر چیز خدا تعالیٰ کے حکم کی طرف ہی راجع ہے۔
اللہ تعالیٰ کی کبریائی
ارشاد ہوتا ہے ولہ من فی السموت والارض اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کائنات کی ہر چیز اسی خداوند قدوس کی پیدا کردہ ہے۔ اسی کے ملک میں ہے اور اسی کے تصرف میں ہے ۔ دوسری جگہ اللہ نے اپنی وحدانیت کی دلیل سے طور پر فرمایا افمن یخلق کمن لا یخلق ( النحل۔ 71) کیا پیدا کرنے والا اور نہ پیدا کرنے والا برابر ہیں ؟ خالق صرف ایک ہے اور باقی سب مخلوق ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مخلوق عاجز ہے اور جو عاجز ہے وہ اللہ نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے مجازہ طور پر انسان اور بعض چیزوں کا مالک بنایا ہے ، مگر وہ اس عارضی اور مجازی ملکیت پر مغرور ہو کر اس کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ساری مخلوق عاجز ہے اور اس کو کسی چیز پر کچھ اختیار نہیں۔ سارا تصرف اللہ تعالیٰ کے قبضہـ قدرت میں ہے یدبر الامر من السماء الی الارض ( السجدۃ۔ 5) آسمانوں کی بلندیوں سے لیکر زمین کی پستیوں اور ہر چیز کی تدبیر وہی کرتا ہے کل لہ قنتون اور ہر چیز اسی کی اطاعت گزار ہے ، فرشتے تو ہر وقت خدا تعالیٰ کے مطیع ہیں۔ لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون (التحریر۔ 6) وہ اللہ نے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ حکم کی تکمیل کرتے ہیں انسانوں اور جنوں میں سے بھی خدا کے مطیع اور فرمانبردار بندے ہیں اور بعض لوگ سرکشی بھی کرتے ہیں مگر اللہ کے … حکم کے سامنے وہ بھی … ہوتے ہیں۔ موت وحیات کا قانون ہو یا صحت اور تندرستی کا ان کے سامنے ساری مخلوق عاجز ہے اور انہیں طوعاو حربا ان قوانین کو ماننا ہی پڑتا ہے۔ بہر حال یہ سب دلائل قدرت ہیں جن سے توحید باری تعالیٰ اور وقوع قیامت سمجھ میں آتی ہے۔
ابتدائی تخلیق اور اعادہ
ارشاد ہوتا ہے وھو الذی یبدو الخلق یعیدہ خدا کی ذات وہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی وہی کریگا اس نے ارض و سما کی تخلیق سے کروڑوں سال پہلے ملائلہ کو پیدا کیا پھر ارض و سما کو پیدا فرمایا ، جنات کو پیدا کیا ، پھر زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر آخر میں اولین انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ غرضیکہ ہر چیز کی ابتداء اسی نے کی اور قیامت کو دوبارہ بھی وہی اٹھائے گا۔ بعض لوگ بعث بعد الموت کا انکار کرتے ہیں ہر مذہب و ملت کا پیروکار اپنی ابتدائی پیدائش کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتا ہے۔ چند دہریوں کو چھوڑ کر باقی سب اس کے قائل ہیں۔ جب ابتدائی تخلیق کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر دوسری زندگی کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ جس خدا تعالیٰ نے پہلی دفعہ پیدا کیا ، کیا دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے مشکل ہوگا ؟ فرمایا ، نہیں وھو اھون علیہ یہ بھی اس کے لیے بالکل آسان ہے اس کے حکم کا انتظار ہوگی اور ہر چیز دوبارہ سامنے آجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کا پہلی بار بغیر نمونے کے تخلیق آنا دوبارہ و اعادہ کرنے سے مشکل ہوسکتا ہے ، مگر جسے پہلی تخلیق پر کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ اس کے لیے دوبارہ تخلیق کرنے میں کونسی دشواری پیش آئے گی ؟ وہ کمال قدرت کا مالک ہے وہ جس طرح چاہے کسی چیز میں تصرف کرے ، اس کے راستے میں کوئی مشکل حائل نہیں ہوتی۔
شان ربوبیت
آگے اللہ تعالیٰ کی صفت کا ذکر ہے ولہ المثل الاعلیٰ فی السموت والارض ارض و سما میں اسی کی صفت اور شان بلند ہے۔ یہاں پر مثل ہے مراد صفت اور شان سے۔ مثل اور مثل میں فرق ہے کسی کی چیز مثل سے مراد اس کی نوع اور جوہر میں شراکت ہوتا ہے جیسے فرمایا لیس کمثلہ شی ( الشوریٰ 11) اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ اور جہاں شرک کا ردّ فرمایا ، وہاں ہے فلا تضربو للہ الامثال ( النحل۔ 40) اللہ کے سامنے ایسی مثالیں بیان نہ کرو کیونکہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ ہر حیثیت سے پاک اور منزہ ہے۔ وہاں تو اللہ تعالیٰ کی مثال کی نفی کی گئی ہے مگر آیت زیر درست میں مثال کا اثبات پایا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مثل کا معنی کسی چیز میں ” فی الجلہ شراکت “ ہوتا ہے۔ اگر ظاہری طور پر کسی صفت میں شراکت ہے تو یہ مثل ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا جیسے فرمایا مثل نورہ کشکوٰۃ ( النور۔ 53) اللہ کے نور کی مثال قندیل کی ہے۔ تاہم جوہر اور نوع میں اس کی کوئی مثل ن ہیں ہے۔
حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ ولہ المثل الاعلیٰ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت اور شان زمین و آسمان میں بلند ہے۔ اور اس بلند صفت سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے۔ امام مالک بھی فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفت یہ ہے کہ وہی معبود برحق ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں۔ آسمانوں میں بھی وہی معبود ہے اور زمین میں بھی وہی ہے۔
بخاری شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان نے میری تکذیب کی ہے اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں تھا۔ نیز انسان نے مجھے گالی دی ہے اور یہ اس کے لیے مناسب نہیں تھا۔ پھر فرمایا کہ میری تکذیب یہ ہے کہ انسان یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ پیدا نہیں کریگا گویا جزائے عمل کا انکار کردے۔ اور گالی یہ ہے کہ انسان کہے اتخذ اللہ ولدًا کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے حالانکہ انا الاحد الصمد الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احد میں وحدہ لا شریک ہوں۔ بےنیاز ہوں جس نے نہ کوئی جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے۔ عیسائیوں کا عقید ہے کہ اللہ نے عیسیٰ علیہ السلا م کو بیٹا بنا لیا ہے ، حالانکہ اختراء ہے۔ اگر اس سے حقیقی بیٹا مراد ہو تو وہ خبیث پر دلالت کرے گا اور اس سے مادیت ثابت ہوگی اور ایسا عقیدہ رکھنا خدا تعالیٰ کی توہین ہے۔ خدا تعالیٰ کا مجازی بیٹا بھی مراد نہیں لیا جاسکتا کہ اس سے کسی کو اختیارات کی تفویض ثابت ہوتی ہے۔ جیسے عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ لوگوں کی مرادیں پوری کرتے ہیں یہ بھی غلط ہے اللہ نے کسی کو اختیار نہیں دیا بلکہ وہ ہر کام براہ راست خود کرتا ہے۔ اس حدیث میں تکذیب اور گالی کا یہی مطلب ہے۔
فرمایا اس کی صفت اور شان ارض و سما میں بلند ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وھو العزیز الحکیم اور وہ کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے۔ اس کے ارادے اور مشیت میں کوئی چیز حائل نہیں ہوسکتی۔ اور اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے اگرچہ وہ انسانوں کے ادراک سے باہر ہو۔
Ayahs 30:28–32شرک کی مثال
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر کیا۔ جو اس کی وحدانیت اور وقوع قیامت کی دلیل بنتی ہیں ۔ پھر آخر میں فرمایا کہ اللہ کی صفت بلند ہے جس کے ساتھ کوئی چیز مماثلت نہیں رکھتی۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے شرک کی قباحت کو سمجھانے کے لیے ایک مثال بیان کی ہے ارشاد ہوتا ہے ضرب لکم مثلاً من انفسکم اللہ نے تمہارے لیے تمہارے نفسوں میں سے ہی ایک مثال بیان کی ہے۔ یعنی یہ مثال خود تمہارے افراد اور سوسائٹی میں پائی جاتی ہے ، اور وہ یہ ہے ھل لکم من ما ملکت ایمانکم من شرکاء فی مارزقنکم کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی ایسا ہے جو ہماری عطا کردہ روزی میں تمہارا شریک ہو فانتم فیہ سوء اور پھر تم اس چیز میں برابر ہوجائو۔ مطلب یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ تمہارے زرخرید غلام تمہارے مال و دولت میں برابر کے حصے دار بن جائیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص اپنی جائیداد میں اپنے غلام کی شرکت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ فرمایا صرف مال میں شراکت تک ہی بات محدود نہیں بلکہ تخافو نھم کخیفتکم انفسکم تم ان غلاموں سے بھی اسی طرح خوف کھائو جس طرح تم آزاد ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ آزاد لوگوں کا تو آپس میں جھگڑا بھی ہوسکتا ہے ، کہیں ایک دوسرے کا مال غصب کرلیا تو خوف پیدا ہوگیا کہیں جائیداد کا تنازعہ اور کہیں ایک دوسرے کیس اتھ لڑائی بھڑائی کی وجہ سے ایک کو دوسرے کا ڈر ہوتا ہے مگر غلام تو بیچارے مملوک ہوتے ہیں۔ ان سے ڈرنے کی تو کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ وہ تو ہر حالت میں اطاعت گزار اور خدمت گزار ہوتے ہیں۔ وہ تمہارے حقیقی مملوک نہیں بلکہ مجازی مملوک ہیں۔ جب تم ان غلاموں کو کسی صورت میں بھی اپنے برابر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں تو پھر اس خداوند قدوس کے ساتھ کیسے شریک ٹھہراتے ہو۔ جو ہر چیز کا حقیقی مالک ہے یہ کتنی بےانصافی کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات یا اس کی شہادت میں کوئی فرشتہ جن یا انسانوں میں نبی ، ولی ، پیر یا بزرگ کوئی بھی شریک نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے مثال کے ذریعے یہ بات سمجھا دی ہے کذلک تفمل الایت لقومٍ یعقلون اسی طرح ہم تفصیل کے ساتھ اپنی نشانیاں بیان کرتے ہیں مگر صاحب عقل لوگوں کے لیے یہ مثال اسی شخص کے لیے مفید ہوسکتی ہے جو اپنی عقل کو بروئے کار لا کر سوچے کہ جب ایک مجازی غلام اپنے مجازی آقا کا ہمسر نہیں ہوسکتا تو حقیقی مملوک اپنے حقیقی مالک کا کیسے شریک ہوسکتا ہے ؟
غلامی کا رواج
نزولِ قرآن کے زمانہ میں پوری دنیا میں غلامی کا رواج تھا ۔ جنگی قیدیوں کو لونڈیاں اور غلام بنا لیا جاتا تھا۔ پھر وہ مختلف ہاتھوں میں بکتے بکاتے کہیں کے کہیں بیچ جاتے تھے۔ اور اسی طرح غلامی کا یہ نظام پوری دنیا میں پھیل چکا تھا۔ آقا اپنے غلاموں سے سخت مشقت لیتے تھے اور ان پر مظالم ڈھاتے تھے مگر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے غلامی کے رواج کو یکسر ختم نہیں کیا بلکہ اس میں اصلاح احوال کا حکم دیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ غلام بھی تمہارے بھائی ہیں ، یہ کسی وجہ سے تمہارے ہاتھوں میں آگئے ہیں۔ ان پر ظلم نہ کرو۔ آخر یہ بھی انسان تو ہیں۔ اسلام نے حکم دیا کہ اپنے غلاموں کو بھی ویسا ہی لباس ، خوراک اور رہائش مہیا کرو جیسا خود استعمال کرتے ہو۔ ان کی اچھی تربیت کرو۔ اسلام نے غلاموں کی آزادی کی ترغیب دی اور اسے بہت بڑی نیکی قرار دیا۔ بعض جنایات کے کفارے کے لیے غلاموں کی آزادی کا حکم دیا۔ غرضیکہ اسلام نے اس نظام کو فی الفور ختم نہ کیا کیونکہ معیشت کا زیادہ تر دارومدار انہی غلاموں کے ہاتھوں میں تھا۔ البتہ اس رواج کے بتدریج خاتمہ کے لیے عملی اقدام کیے ، چناچہ آج دنیا کے کسی گوشے میں بھی انفرادی غلامی کا تصور نہیں پایاجاتا۔
خواہشات کا اتباع
اگرچہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرانے کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود نہیں تاہم اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم قرار دے کر شرک کرنے کی وجہ بیان فرمائی ہے بل اتبع ظلمو اھواء ھم بغیر علم کہ ان ظالموں یعنی مشرکوں نے شرک کے ارتکاب کے لیے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے اور وہ بھی بغیر علم کے۔ یعنی خواہشات نفسانی سے اتباع کے لیے بھی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں مگر وہ اس قدر ہٹ دھرم لوگ ہیں کہ اس سے باز نہیں آتے۔ اللہ نے فرمایا فمن یھدی من اضل اللہ بھلا اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے ، جب کوئی شخص اپنی ضد ، بےانصافی اور زیادتی کی بنا پر توحید خداوندی کو تسلیم نہیں کرتا تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے اور جدھر وہ جانا چاہتا ہے ادھر ہی کی توفیق دے دیتا ہے تو فرمایا ایسے شخص کو اللہ کے سوا کون راہ ہدایت پر لاسکتا ہے ، پھر جب لوگ اس قعر ذلت میں گر پڑتے ہیں وما لھم من نصرین تو پھر ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ آج یہ لوگ جن شرکاء کو اپنا حمایتی سمجھ رہے ہیں ، ان سے حاجت روانی اور مشکل کشائی کے طالب ہوتے ہیں۔ قیامت والے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور وہاں پر یہ بےیارومددگار رہ جائیں گے۔ وہ ان کی مدد کرنے کی بجائے ان کے خلاف بیان دیں گے۔
دین کی طرف توجہ
شرک کی قباحت کرنے کے بعد رجوع الی الدین کی تلیقین فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے فاقم وجھک للدین حنیفاً اپنے چہرے کو دین کی طرف قائم کریں حنیف بن کر چونکہ چہرہ انسانی جسم کا اہم ترین حصہ ہے۔ جس میں تمام حواس ظاہرہ اور باطنہ شمولہ آنکھیں ، کان ، عقل اور دماغ پائے جاتے ہیں۔ اس لیے چہرہ بول کر اس سے ذات مراد لی جاتی ہے اور حنیف کا معنی ہے ہر طرف سے کٹ کر صرف ایک طرف لگنے والا۔ تو جملے کا مطلب یہ ہوا کہ کفر ، شرک ، نفاق اور ا اسحاد وغیرہ سے ہٹ کر صرف دین خالص کی طرف متوجہ ہوں۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں جو شخص نماز کے وقت خانہ کعبہ کی طرف رخ کرتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی توحید کو مانتا ہے ، فریضہ حج ادا کرتا ہے اور ختنہ کرواتا ہے۔ وہ حنیف ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے۔ ما کان ابراہیم یھودیاً ولا نصرانیاً ولکن کان حنیفاً مسلمً وما کان من المشرکین (آل عمران۔…) ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ حنیف اور مسلمان تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ اللہ نے تمام لوگوں کو بھی حنیف بننے کا حکم دیا ہے حنفاء للہ غیر مشرکین…(الحج۔ 13) سارے کے سارے حنیف یعنی ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بن جائو اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے نہ بنو۔ فرمایا فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو تراشا ہے لا تبدیل لخلق اللہ اللہ کی پیدا کردہ چیز میں کوئی تبدیلی نہیں ہے ذلک الدین القیم یہی مضبوط دین ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
فطرت کا مفہوم
بعض کہتے ہیں کہ اس مقام پر فطرت سے مراد اسلام ہے۔ یہ اللہ کا دین اسلام ہے اور اسی پر قائم رہناچاہئے۔ تاہم مفسرین کرام کی اکثریت کا نظریہ یہ ہے کہ فطرت سے مراد وہ صلاحیت اور استعداد ہے جس کی بنا پر انسان نیکی یا بندی کو اختیار کرتا ہے۔ اللہ نے ہر انسان میں نیکی قبول کرنے کی صلاحیت رکھ دی کل مولود یولد علی الفطرت ہر بچہ میں فطرت یعنی حق قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان میں یہ استعداد و دیعت نہ کرتا تو اسے ایمان لانے کی دعوت ہی نہ دی جاتی کیونکہ لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا (البقرہ۔ 682) اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی استعداد سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا گویا اس فطری امر میں ہو تو تبدیلی نہیں ہوتی مگر بعد میں لوگ خود اس صلاحیت کو خراب کردیتے ہیں۔ فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ مگر بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا جس مذہب پر وہ خود ہو اس راستے پر بچے کو بھی ڈال دیتے ہیں۔ ابو جہل اور فرعون میں بھی یہ صلاحیت موجود تھی مگر انہوں نے دنیا کی رنگینیوں میں پھنس کر خود اس کو خراب کرلیا۔
تین نجات دہندہ اشیاء
امام ابن جریر ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں حضرت معاذ ؓ بیٹھے ہوئے ملے۔ آپ نے حضرت معاذ ؓ سے پوچھا ما قوام ھذہ الامۃ یعنی اس امت کا ڈھانچہ کیا ہے جس پر درستگی قائم ہوتی ہے تو انہوں نے کہا امت کا قوام تین چیزوں پر ہے۔ اور فرمایا ھن منجیات یہ تین چیزیں نجات دلانے والی ہیں۔ فرمایا پہلی چیز اخلاص ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے وادعو مخلصین لہ الدین (الاعراف۔ 92) اللہ کو پکارو خالص اسی کے اطاعت گزار بن کر۔ گویا تم میں اخلاص ہوناچاہئے کیونکہ جہاں اخلاص ہوگا۔ وہاں شرک اور نفاق نہیں ہوگا۔ یہ اخلاص فطرت میں داخل ہے اور ہر انسان میں پایاجاناچاہئے۔
فرمایا دوسری نجات دہندہ چیز نماز ہے جس پر ملت کا ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے اللہ کے ساتھ تعلق کی درستگی نماز ہے۔ اور فرمایا تیسری چیز اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت ہے۔ اطاعت عصمت ہے جس کے ذریعے انسان کفر شرک ، نفاق ، الحاد اور معاصی سے محفوظ ہوجاتے ہیں تو فرمایا ان تین چیزوں پر امت کا قوام یعنی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔
شاہ ولی اللہ کی تشریح
امام شاہ ولی اللہ حدیث فرماتے ہیں کہ چار خصلتیں ایسی ہیں جو سارے نبیوں کی شریعت میں تھیں اور ہماری آخری شریعت میں بھی ضرویر ہیں۔ (1) طہارت یعنی پاکیزگی (2) اخبات یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار (3) سماحت ، یعنی خود غرضی اور خسیس چیزوں سے بچنا (4) عدالت یعنی عدل و انصاف ، ان چاروں چیزوں سے جو مرکب کیفیت انسان میں پیدا ہوتی ہے اسی کو فطرت کہا جاتا ہے پھر فرمایا اس فطرت کے راستے میں تین حجاب رکاوٹ بنتے ہیں۔
(1) حجابِ طبع کہ انسان دنیا کی مادیت میں ہی ڈوب کر رہ جائے اور آخرت کا خیال دل سے نکل جائے۔
(2) حجاب رسم یعنی انسان ماحول کے رسم و رواج میں ہی پھنس جائے۔ اور حقیقت کی طرف متوجہ نہ ہو۔
(3) حجاب سوہ معرفت یعنی خدا کی پہچان ہو مگر غلط طریقے سے۔ اس کی وجہ سے انسان شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے یا پھر تشبیہ میں۔ اگر خدا تعالیٰ کی صفتِ خاصہ بندے میں مانی جائے تو یہ شرک ہوگیا۔ مثلاً خدا بھی عالم الغیب اور فلاں بزرگ یا نبی بھی عالم الغیب ہے اور اگر بندے کی صفت خدا میں تسلیم کی جائے تو یہ تشبیہ ہے مثلاً بندہ صاحب اولاد ہے تو اللہ کی بھی اولاد تسلیم کی جائے۔
الغرض ! یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی اصل فطرتِ سلیمہ کو ظاہر نہیں ہونے دیتیں۔ جو شخص ان حجابات سے بچ گیا وہ کامیاب ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت عام طور پر حجابِ طبع میں مبتلا رہتی ہے ، اگر اس سے بچ جائیں تو لوگ حجاب رسم میں اٹک جاتے ہیں ۔ اور اگر وہ آگے بڑھیں تو حجاب سو معرفت میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ پھر نہ تو اللہ کی صحیح پہچان ہوتی ہے اور نہ وہ شرک اور تشبیہ سے نجات حاصل کرسکتے ہیں اور ان کی ساری عمر گمراہی میں گزر جاتی ہے۔
بہرحال اللہ نے فرمایا کہ حنیف بن کر اپنے چہرے کو دین کے لیے قائم کریں۔ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے اور اللہ کی پیدا کردہ چیز میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی مضبوط دین ہے جس کے اصول اٹل ہیں اور ہر زبان و مکان کے لیے کارآمد ہیں مگر لوگوں کی اکثریت لا علمی کی وجہ سے ان اصول و ضوابط کے خلاف ہی چلتی ہے۔
فرمایا دین کے لیے چہرے کو قائم کریں منبین الیہ اس حالت میں کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے ہو۔ واتقوہ اسی سے ڈرتے رہو اپنے اندر صفت تقویٰ پیدا کرو۔ واقیمو الصلوٰۃ اور نماز قائم کرو۔ والا تکونو من المشرکین اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ شرک کی تروید بھی ہوگئی کہ یہ فطری حالت کے خلاف ہے۔
فرقہ بندی
آگے فرقہ بندی کی مذمت بیان کی گئی ہے من الذی فرقو دینھم ان لوگوں میں سے بھی نہ ہوں جنہوں نے دین میں تفریق پیدا کی۔ جب کسی اصول دین میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو ایک نیا فرقہ جنم لیتا ہے۔ البتہ فروعات دین کے اختلافات مضر نہیں بلکہ باعث رحمت ہیں۔ حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی مسالک میں کوئی اصولی اختلاف نہیں بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہیں۔ اصول دین کا اختلاف یہ ہے کہ توحید رسالت ، قیامت کے متعلق اختلاف کیا جائے۔ جو ان پر ایمان نہیں وہ کافر یا منافق ہوگیا۔
جن لوگوں نے اصول دین میں غلط راستہ اختیار کیا وکانو شیعاً اور گروہ در گروہ تقسیم ہو کر جہنمی بن گئے ان کی حالت یہ ہے کل حزب بما لدیھم فرحون ان میں سے ہر گروہ اپنے اپنے عقیدہ میں مگن اور خوش ہے اور سمجھتا ہے کہ وہی صحیح راستے پر ہے۔ اسماعیلی فرقے والوں کا عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ امام میں حلول کرگیا ہے۔ گویا اما م کو الوہیت کے درجے پر پہنچادیا ۔ رافضیوں نے بھی اپنے امام کو معصوم قرار دیدیا اور قادیانیوں نے نبوت کے متعلق اپنے عقیدے کو مسخ کرلیا اور کافر ٹھہرے۔ بعض فرشتوں کا انکار کرکے گمراہ ہوئے اور بعض نے غلط تاویل کرکے فرائض کا انکار کیا اور علیحدہ فرقہ بن گئے۔ یہ سب جہنمی فرقے ہیں۔ اللہ نے ان کی مذمت بیان کی ہے اور حکم دیا ہے کہ حنیف بن کر اپنے چہرے کو دین کے لیے قائم رکھو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھو۔ اس نے ڈرتے رہو۔ نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ بن جائو۔ فرقہ بندی سے بچتے رہو اور کوئی غلط راستہ اختیار نہ کرو کہ کامیابی کی مدار اسی چیز پر ہے۔