Ayahs 29:1–7نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام اس کی آیت 014 میں آمدہ لفظ عنکبوت سے مآخوذ سورة العنکبوت ہے۔ اللہ نے اس آیت میں شرک کے بودہ پن کو مکڑی کے جالے کے کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی ہے کہ اللہ کے علاوہ دوسرے کو معبود ٹھہرانے کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح ہے جو کہ کمزور ترین گھر ہوتا ہے۔ ترتیب نزول کے اعتبار سے یہ سورة الروم کے بعد نازل ہوئی مگر ترتیب تلاوت میں اس کو مقدمہ رکھا گیا ہے۔ یہ سورة مکی دور کے اس زمانہ میں نازل ہوئی جب کہ اہل ایمان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، چناچہ اللہ نے ابتدائی آیات میں ہی مسلمانوں کو تسلی دی ہے کہ ایمان قبول کرنے کے بعد آزمائش سے گزرنا پڑے گا ، اور جو اس کسوٹی پر پورا اترے گا ، وہی ابدی فلاح پائے گا ۔ اس سورة مبارکہ کی 96 آیات اور سات ، رکوع ہیں اور یہ 087 الفاظ اور 5414 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة کا خاص موضوع ایمان اور ابتلاء ہے۔ ایمان کے ساتھ آزمائش ضروری ہے۔ اس ضمن میں اللہ نے چند ایک نبیوں کا ذکر بھی کیا ہے جن پر بڑی بڑی آزمائش آئیں ، مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا استقلال تو ضرب المثل بن چکا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) پر بہت سی آزمائش آئیں اور وہ ہر آزمائش پر پورا اترے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعات گزشتہ سورة میں بیان ہوچکے ہیں اور اس سورة میں بھی ان کے صبر و استقلال کا ذکرآ رہا ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے 1 ؎ اشد البلاء ً علی الانبیاء ثم الامثل فالا مثل سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء (علیہم السلام) پر آئی ہیں ۔ پھر ان لوگوں پر جو ان کے قریب ہوتے ہیں ۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان 2 ؎ بھی
1 ؎۔ ابن کثیر ص 404 ج 3 و قرطبی 523 ج 31 ۔ 2 ؎۔ ابن کثیر ص 404 ج 3 و قرطبی ص 523 ج 31 (فیاض)
ہے یبتلی الرجل علی قدر دینہ آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مرتبے کے مطابق ہوتی ہے ۔ دین میں جس قدر پختگی ہوگی ، آزمائش بھی اتنی ہی کڑی ہوگی ۔ اس سورة مبارکہ میں جہاد اور ہجرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور ان دونوں چیزوں کو اہل ایمان کے لیے مدار فوز و فلاح قرار دیا گیا ہے اس کے علاوہ دیگر مکی سورتوں کی طرح توحید ، رسالت ، بعث بعد الموت ، جزائے عمل اور استقامت علی الدین کے باعث ہی بیان ہوئے ہیں ۔ سابقہ سورة القصص کی طرح فرعون ، ہامان اور قارون کا ذکر اس سورة میں بھی آ رہا ہے۔ انسانی سوسائٹی کے یہ تین کردار مختلف صفات کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ مستنبد اور جابر لوگوں کی نمائندگی فرعون کرتا ہے۔ نوکر شاہی یعنی بیورو کریسی کا نمائندہ ہامان ہے جب کہ سرمایہ دار طبقہ کی نمائندگی قارون کرتا ہے۔ عام طور پر ہر طبقات دین کے مخالفین میں شمار ہوتے ہیں ۔ چونکہ دین حق کی موجودگی میں ان لوگوں کی خواہشات کی تکمیل ممکن نہیں ہوتی ۔ لہٰذا انبیاء کی تاریخ میں ہی طبقات مخالفت میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ اللہ نے ان کی مثال بھی بیان فرمائی ہے۔
حروف مقطعات
اس سورة مبارکہ کی ابتداء بھی حروف مقطعات الم سے ہوتی ہے بعض مفسرین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ اس مقام پر الف سے مراد اللہ تعالیٰ کا اسم پاک ہے۔ ل سے مراد لطیف اور لطف ہے جب کہ م سے مراد مجید اور مجد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ لطیف ہے اور اس کی صفت لطیف یعنی مہربانی اور باریکی ہے۔ اسی طرح بزرگی اور عظمت بھی خدا تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ غرضیکہ ان حروف میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ انسان کا فرض ہے کہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ اپنا رخ خدا تعالیٰ کی اطاعت کی طرف موڑ دے گا اگر ایسا کریگا ۔ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور لطف حاصل ہوگا اور اگر اطاعت خداوندی میں کوتاہی کریگا تو نقصان اپنا ہی ہوگا ، کیونکہ خدا تعالیٰ تو ہر حالت میں بزرگی والا ہے ۔ اس کی عزت و احترام میں تو کوئی فرق نہیں آئے گا ۔ بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں الم سورة ہذا کا عنوان ہے اور وہ اس طرح کہ الف سے مراد تبد اء ل سے لازم اور م سے مطلوب مراد ہے ۔ گویا مطلب یہ ہوا کہ آزمائش ایک لازمی چیز ہے جو اہل ایمان سے ہر حالت میں مطلوب ہے۔
1 ؎۔ جریر طبری ص 88 ج 1 و تفسیر کبیر ص 5 ج 3 ۔ 2 ؎۔ الفوز الکبیر ص 801 ، 901 (فیاض)
امام شاہ ولی اللہ محدث 1 ؎ دہلوی تشفی طریقے پر الم سے عالم غیب سے آنے والے وہ علوم مراد لیتے ہیں جو اس مادی جہان میں آ کر لوگوں کے برے اعمال ، اخلاق اور عادات سے ٹکراتے رہتے ہیں ، تا ہم امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں 2 ؎ کہ حروف مقطعات کی تحقیق میں نہیں پڑنا چاہئے مبادا کہ انسان بہک جائے ۔ لہٰذا زیادہ سلامتی والی صورت میں ہے کہ اللہ اعلم بمراد بذلک امنا وصدقنا ان حروف کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، اور ان حروف سے جو بھی مراد ہے ہمارا اس پر ایمان ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں ، ظاہر ہے کہ انسانوں کو ہر چیز کا علم تو نہیں ہے ، چناچہ ان حروف کے متعلق بھی یہی سمجھنا چاہئے کہ ہمیں ان کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے ، ان کے مفہوم کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
انسانوں کی لازمی آزمائش
ارشاد ہوتا ہے احسب الناس ان یترکو کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ چھوڑ دیئے جائیں گے ان یقولو امنا محض اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں وھم لا یفتنون اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے ، فرمایا ایسی بات نہیں ہے ۔ کوئی شخص محض زبانی دعویٰ ایمان کی بدولت آزمائش سے بچ نہیں سکتا ۔ ذرا سابقہ اقوام کی طرف نظر مار کر دیکھ لو ۔ ولقد فتنا الذین من قبلھم ہم نے آزمایا ان لوگوں کو بھی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب سابقہ اقوام آزمائش سے نہیں بچ سکیں تو ان کو بھی ویسے ہی نہیں چھوڑ دیا جائے گا ۔ بلکہ ان کی بھی ضرور آزمائش ہوگی اور پھر اس کے نتیجے میں فلیعلمن اللہ الذین صدقوا اللہ تعالیٰ ضرور ظاہر کر دے گا ان لوگوں کو جو سچے ہیں ولیعلمن لکذبین اور ان کو بھی ظاہر کر دے گا جو جھوٹے ہیں۔ علم کا عام فہم معنی تو جانتا ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ سچے اور جھوٹے لوگوں کو ازل سے ابد تک جانتا ہے مگر یہاں پر علم سے مراد ظاہر کرنا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا قوم کو امتحان میں ڈالتا ہے تو پھر اس کے نتیجے میں متعلقہ فرد یا قوم
1 ؎۔ الفوز الکبیر ص 382 جلالین ص 4 (فیاض)
کی سچائی یا جھوٹ کو لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے کہ ان کی پوزیشن یہ ہے ۔ عام لوگوں کو بھی ایک دوسرے کے حق و باطل کا علم ہوجاتا ہے اور ہر شخص جان لیتا ہے کہ فلاں شخص موحد ہے یا مشرک اور فلاں مخلص ہے یا منافق اور فلاں دھوکہ باز ہے یا ایمان دار ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی آزمائش ان کی حیثیت کی وضاحت کے اظہار کے لیے کرتا ہے۔
برائی پر لازمی گرفت
ارشاد ہوتا ہے امر حسب الذین یعلمون السیات ان یسبقونا کیا گمان کرتے ہیں وہ لوگ جو برائیوں کے مرتکب ہوتے ہیں کہ وہ ہم سے بچ جائیں گے ؟ اکثر لوگ معاد کی طرف سے غافل ہوتے ہیں ۔ آخرت کے لیے کچھ تیاری نہیں کرتے جسکی وجہ سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بالکل محفوظ بیٹھے ہیں ۔ فرمایا اگر وہ ایسا خیال کرتے ہیں تو ساء ما یحکمون تو بہت ہی برا فیصلہ کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا ، وہ بندوں کو مہلت ضرور دیتا ہے ، مگر بالآخر مجرموں کو پکڑ لیتا ہے۔ ہر شخص کی نیت عمل اور کردار اس کے علم میں ہے ، لہٰذا وہ کسی کو جزا یا سزا کے بغیر نہیں چھوڑتا ۔
اللہ کے حضور پیشی
آگے ارشاد ہوتا ہے من کان یرجوا لقاء اللہ جو شخص امید رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی فان اجل اللہ لات تو اللہ کا مقرر کردہ وقت تو ضرور آنے والا ہے۔ وہ ٹل نہیں سکتا ۔ رجی امیدوار خوف دونوں معنوں میں آتا ہے ، یعنی جو شخص اللہ کی ملاقات کی امید رکھتا ہے یا اس کی ملاقات سے خوف کھاتا ہے۔ دونوں معنی درست ہیں ، اللہ تعالیٰ سے ملاقات یعنی اس کے حضور پیشی نو ایمان کا جزو بھی ہے یومن باللہ ولقاء ہ جو ایمان لاتا ہے اللہ پر اور اس کی ملاقات پر کہ ایک دن ضرور اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے اور پھر اللہ کے ساتھ بالمشافہ گفتگوہو گی ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لیس بینہ وبینہ ترجمان یعنی اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان بھی نہیں ہوگا ۔ سورة النمل میں ہے یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا ( آیت : 111) ہر نفس کو اپنی طرف سے خود جواب دینا پڑے گا وہاں کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا ۔ جو کسی شخص کی ترجمانی کرسکے تو فرمایا کہ اللہ کا مقرر ہ وعدہ ضرور آنے والا ہے۔ وھو السمیع العلیم اور اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ وہ ہر ایک کے ارادے عمل اور اخلاص کے مطابق فیصلہ کرے گا ۔
مجاہدہ کی اہمیت
ارشاد ہوتا ہے ومن جاھد فانما یجاھد لنفسہ اور جس نے مجاہدہ کیا یعنی محنت و مشقت کی تو بیشک وہ محنت اٹھاتا ہے اپنے ہی نفس کے لیے ، مجاہدہ میں جہاد یالسیف بھی آتا ہے اور خود اپنے نفس سے بھی جہاد کرنا پڑتا ہے تا کہ پہلے اپنی اصلاح ہو ، آگے جہاد کی مختلف صورتیں ہیں ، انسان کبھی مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے تو کبھی جان کے ساتھ تبلیغ حق کے سلسلہ میں زبان اور قلم سے جہاد ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مشرکین کے ساتھ مال ، جان اور زبان سے جہاد کرو۔ غیر مسلموں کے ساتھ بحث و محیص کر کے اسلام کے متعلق اٹھے شکوک و شبہات رفع کرنا بھی جہاد ہی کا حصہ ہے۔ جہاد یا مجاہدہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہے ، کوئی شخص جتنی محنت کریگا اسی قدر اللہ کے قریب ہوگا ، عبادت و ریاضت کرنے والا مجاہد بعض اوقات خود پسندی کا شکار بھی ہوجاتا ہے اللہ نے اس کی تردید فرمائی ہے ، کسی شخص کو اپنی محنت پر نازاں نہیں ہونا چاہئے اور محض کسی چیز کا خالی دعویٰ کردینا بھی درست نہیں جب تک کہ اس کے ساتھ عمل اور نیکی شامل نہ ہو۔ تو فرمایا جو شخص مشقت اٹھاتا ہے ، وہ اپنی ہی ذات کے لیے ایسا کرتا ہے اس محنت کا فائدہ خود اسی کو ہوگا ، کیونکہ ان اللہ لغنی عن العلمین اللہ تعالیٰ تو جہان والوں سے بےنیاز ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی شخص کی عبادت و ریاضت اور محنت و مشقت کی کوئی ضرورت نہیں ہے نہ ہی اللہ تعالیٰ کو اس کا کچھ فائدہ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے ، معصیت کا ارتکاب کرتا ہے ، تو اس سے خدا تعالیٰ کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ لھاما کسبت و علیھا ما اکتسبت ( البقرہ : 683) انسان کو اچھے اعمال کا فائدہ بھی پہنچتا ہے اور برے اعمال کا خمیازہ بھی اسی کو بھگتنا پڑے گا ، اگر ساری مخلوق نیک ہوجائے تو خدا کی خدائی میں کوئی اضافہ نہیں ہوجائے گا اور سارے کے سارے نادان ہوجائیں ۔ تب بھی اس کی سلطنت میں کوئی خرابی نہیں آئیگی۔ یہ نفع نقصان تو خود انسان کی اپنی ذات کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔
ایمان اور اعمال صالحہ کا بدل
ارشاد ہوتا ہے والذین امنوا و عملوالصلحت دروہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیئے لنکفون عنھم ساتھم اس کے بدلے میں ہم ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کردیں گے یعنی معاف کردیں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ بھی ہے کہ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ، اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کی کوتاہیاں اللہ تعالیٰ معاف کرتا رہتا ہے۔ بشرطیکہ انسان کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے۔ چھوٹی موٹی تقصیریں تو انسان کے اعضاء وجوارح سے بھی سرزد ہوتی رہتی ہیں جو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کی بدولت از خود معاف فرما دیتا ہے ، البتہ کبائر کی معافی توبہ اور تلافی کے بغیر نہیں ہوتی ۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان و نیک اعمال ہی مدار فوز و فلاح ہیں۔
فرمایا ، ایسے لوگوں کی ایک تو ہم برائیاں دور کردیں گے ولخیز بینھم حسن الذین کانوا یعلمون اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم ان کے اعمال سے ان کو بہتر بدلہ عطا کریں گے ۔ بہتر بدلے سے مراد یہ ہے کہ ہر نیکی یا کم از کم بدلہ دس گنا ہوگا ۔ جس کو اللہ تعالیٰ جتنا چاہے بڑھا بھی دیتا ہے ، نیکی کا بدلہ اس لیے بھی نیکی سے بہتر ہوگا کہ نیکی کا کام تو ایک محدود وقت میں انجام دیا تھا مگر اس کا بدلہ دائمی ہوگا ۔ جو ہمیشہ ملتا رہے گا ، بہر حال نیکو کار اہل ایمان کی برائیاں اللہ تعالیٰ معاف بھی کرتا رہتا ہے اور ان کو بڑا اجر بھی عطا کرتا ہے۔ یہ اہل ایمان کی حوصلہ افزائی بھی ہوگئی۔
1 ؎۔ مظہری ص 791 ج 7 والسراج المنیر ص 521 ج 3 ( فیاض)
Ayahs 29:8–13ربط آیات
اس سورة کا ایک خصوصی موضوع ابتلاباایمان ہے ، یعنی جہاں ایمان ہوگا وہاں آزمائش بھی آئیگی ، چناچہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کو صرف ایمان کا اقرار کرنے کی بناء پر چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی آزمائش بھی ہوگی ، اور اس امتحان میں کامیابی ہی ان کا اصل کامیابی کی بنیاد ہوگی ، پھر اللہ نے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا ذکر فرمایا اور اس کے بہتر اجر کی نوید سنائی۔ اس ضمن میں اللہ نے صبر و استقامت اور برداشت کی تلقین فرمائی ہے کہ ان چیزوں کے بغیر کامیابی ممکن نہیں ہے۔
والدین سے حسن سلوک
اس اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے ارشاد ہوتا ہے ووھینا الانسان بوالدیہ حسنا ً اور ہم نے انسان کو والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے تمام کتب سماویہ اور خاص طور پر قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر یہ حکم دیا گیا ہے۔ معاشرے میں سب سے زیادہ حق والدین کا ہوتا ہے ، ان کی عزت و احترام اور خدمت خاطر کو اللہ تعالیٰ نے نہایت ضروری قرار دیا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں بھی ہے وبالوالدین احساناً ( آیت : 32) گویا سابقہ امتوں اور ہماری امت سب کے لیے یہی حکم ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو ، ظاہر ہے کہ والدین ہی کسی شخص کی دنیا میں آمد اور پھر اس کی پرورش کا سبب بنتے ہیں ، والدین اپنی اولاد کی تربیت میں طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں اور مالی بوجھ اٹھاتے ہیں ۔ باپ کی نسبت ماں زیادہ مشقت برداشت کرتی ہے والدین کا اولاد کے لیے مشقت برداشت کرنا ایک مثال اور نمونہ ہے ، لہٰذا اولاد کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا پورا پورا حق ادا کرے ، اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو تاکیدی حکم دیا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
شرک باللہ کی ممانعت
جہاں اللہ تعالیٰ نے والدین کی اطاعت گزاری کا حکم دیا ، وہاں ایک خاص حکم بھی دیا وان جاھدک لتشرک بی ما لیس لک بہ علم اگر وہ دونوں ( ماں باپ) تجھے مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنا جن کا تجھے علم تک نہیں فلا تطعھما تو پھر تمہیں ان کا یہ حکم ماننے کی اجازت نہیں ہے پہلے اللہ نے والدین کے ساتھ مطلق حسن سلوک کا حکم دیا جس میں ان کی اطاعت گزاری پہلے نمبر پر آتی ہے مگر شرک ایک ایسی قبیح بیماری ہے کہ اللہ نے واضح طور پر فرما دیا کہ اگر والدین بھی اس پر آمادہ کریں تو ان کی بات نہ مانو ، حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں خدا کی شریک کوئی چیز نہیں ہے ۔ جب یہ بات ہے تو پھر مشرکوں کو کیسے علم ہوا کہ فلاں چیز خدا کے اختیار یا اس کی صفت میں شریک ہے ۔ سورة یونس میں ہے قل اتنبعون اللہ بما لا یعلم فی السموات ولا فی الارض ( آیت : 81) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کیا تم خدا تعالیٰ کو وہ چیز بتلانا چاہتے ہو جو وہ زمین و آسمان میں نہیں جانتا ۔ ظاہر ہے کہ خدا کے علم میں تو اس کا کوئی شریک نہیں ہے مگر تمہیں اس کا علم ہے جسے تم خدا تعالیٰ پر ظاہر کرنا چاہتے ہو ، یہ کتنی بیہودہ بات ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ والدین اگر شرک کی ترغیب دیں تو ان کی اطاعت نہ کریں ، البتہ وصاحبھما فی الدنیا معروفا ً (لقمن : 51) دنیا میں ان کے ساتھ معروف اور اچھے طریقے سے پیش آئو خواہ وہ کافر ، مشرک یا بےدین ہی کیوں نہ ہوں ۔ مفسرین 1 ؎ اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ صرف شرک ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ شریعت اور سنت کے خلاف اگر والدین بھی آمادہ کریں تو ان کا حکم ماننے کی اجازت نہیں ہے ، والدین کسی فرض کو چھڑانا چاہیں یا کسی واجب یا سنت کو ترک کرنے کی ترغیب دیں تو وہ واجب الاطاعت نہیں ہوں گے ، البتہ والدین کے حکم پر مستحبات کو ترک کرنے کی اجازت ہے ، مثلاً اگر والدین نفل پڑھنے کی بجائے کوئی دوسرا کام کرنے کو کہیں تو پھر نفل چھوڑ کر دوسرا کام کرتے ہیں ، مسجد میں نماز با جماعت سنت مؤکدہ ہے ، جو واجب کے قریب ہے ، لہٰذا اسے ترک کرنے کی اجازت نہیں ہے ، اسی طرح بدعت کا کام مکروہ اور ناجائز ہے ، اس معاملے میں بھی والدین کا حکم نہ مانو ، ویسے ہر لحاظ سے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو ۔ فرمایا الی مرجعکم تم سب نے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ فانبئکم بما کنتم تعملون پھر میں تمہیں بتا دوں گا ، جو کچھ تم دنیا میں کیا کرتے تھے ، اور پھر اس عمل اور عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ فیصلہ کریگا ۔
شان نزول
اس آیت کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام مسلم اور نسائی وغیرہ میں آمدہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ نوجوانی کے عالم میں ابتداء ہی میں اسلام لے آئے تھے ، اس وقت ابو سفیان ؓ کا خاندان تو اسلام کا سخت دشمن تھا۔ آپ کی والدہ ابو سفیان کی بیٹی تھی جب آپ اسلام لائے تو وہ والدہ سخت ناراض ہوئی۔ اس نے ہر چند کوشش کی کہ اس کا بیٹا ایمان کو ترک کر دے ، مگر حضر ت سعد ؓ بھی توحید کا مزہ چکھ چکے تھے اور واپس آنے والے نہیں تھے ۔ بالآخر ان کی والدہ نے اعلان کردیا کہ جب تک سعد ؓ اسلام کو نہیں چھوڑتا ، میں نہ کچھ کھائوں گی ، نہ پیوں گی اور نہ سائے میں بیٹھوں گی ، خاندان کے لوگوں نے اس کی بھوک ہڑتال توڑنے کی بڑی کوشش کی حتیٰ کہ اس کے منہ زبردستی
1 ؎۔ السراج المنیر ص 621 ج 3 و خازن 881 ج 5 و مدارک ص 152 ج 3۔ 2 ؎۔ ابو سعود ص 561 ج 4 و مدارک ص 152 ج 3 و روح المعانی ص 931 ج 02 (فیاض)
کھانا ڈالنے کی کوشش بھی کی مگر وہ نہیں مانتی تھی ۔ سعد ؓ کو کہی تھی کہ تمہارا اسلام والدین سے حسن سلوک کا درس دیتا ہے مگر تم میری بات نہیں مانتے ، آخر تم نے کون سا اسلام قبول کیا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نازل فرمائے کہ اگر والدین شرک پر آمادہ کریں تو ان کی بات ماننے کا حکم نہیں ہے ، البتہ ویسے ان کے ساتھ حسن سلوک جاری رکھو۔ اس قسم کے احکامات اس سورة کے علاوہ سورة لقمان ، سورة بنی اسرائیل ، سورة حقاف اور سورة بقرہ میں بھی موجود ہے۔
صالحین کی رفاقت
ارشاد ہوتا ہے کہ والذین امنوا اور وہ لوگ جو صدق دل سے ایمان لائے ، جن باتوں کو مانناضروری ہے ، ان کی تصدیق کی اور اس کے ساتھ وعملوا الصلحت نیک اعمال بھی انجام دیئے ، ظاہر ہے کہ اچھے اعمال کا مدار ایمان پر ہے ، اگر ایمان ہوگا تو اعمال کام آئیں گے ورنہ رائیگاں جائیں گے ، ایمان کے بغیر اچھے سے اچھا عمل بھی بیکار محض ہے ، تو جنہوں نے ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیئے اللہ نے فرمایا لندخلنھم فی الصلحین ، ہم ضرور ان کو صالحین کے گروہ میں شامل کریں گے ، اللہ نے وعدہ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اچھے اور نیک لوگوں کی رفاقت نصیب ہوگی ، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کے لیے تو انبیاء بھی دعا کرتے رہے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السل ام نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا ، اے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے دنیا و آخرت میں تو ہی میرا کار ساز ہے۔ توفنی مسلما ً والحقنی بالصلحین ( یوسف : 101) مجھے فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کی حالت میں وفات دینا اور نیک لوگوں کی رفاقت نصیب فرمانا ، نیک لوگوں کی رفاقت بڑی اعلی چیز ہے اور اچھی سوسائٹی کا مل جانا بڑی سعادت کی بات ہے ، سورة الفجر میں اللہ کا فرمان ہے فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی ( آیت 92 : 03) پہلے میرے نیک بندوں کے گروہ میں شامل ہو جائو اسکے بعد جنت کا داخلہ ملے گا ، اور یہ اس کے بر خلاف ولئن جاء نصر من ربک اگر ان کو آپ کے پروردگار کی طرف سے مدد پہنچ جائے تو خوش ہو کر مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں لیقولن انا کنا معکم نہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ہم پکے سچے مسلمان ہیں مطلب یہ کہ ایسے لوگ میٹھا میٹھا ہڑپ اور کڑوا کڑوا تھو کا مکمل مصداق ہیں ، یہ لوگ طرح کی آسائش چاہتے ہیں اور جونہی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو بگڑ جاتے ہیں ۔ سورة البقرہ کی ابتداء میں بھی یہ مضمون بیان ہوچکا ہے وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِ اللہ ِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ہُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ (آیت : 8) لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو زبان سے تو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کا دعویٰ کرتے ہیں ، مگر حقیقت میں وہ ایماندار نہیں ہیں ، وہ تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ فائدہ کس طرف ہے اگر ایمان والوں کو کوئی بھلائی پہنچی تو ان کی طرف ہوگئے اور اگر دوسرا پلہ بھاری دیکھا تو ان کو یقین دلایا کہ ہم دل سے مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہیں انما نحن مستھزء ون ( البقرہ : 41) ہم ان کے ساتھ ٹھٹا کرنے کے لیے ان کی حمایت کا یقین دلاتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وما یخدعون الا انفسھم ( البقرہ : 9) یہ تو خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ فرمایا او لیس اللہ باعلم بما فی صدور العلمین بھلا اللہ تعالیٰ اتنا بھی نہیں جانتا کہ جہان والوں کے دلوں میں کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ مومن کون ہے اور منافق کون اللہ تعالیٰ ان کی نیت اور ارادے تک سے واقف ہے ، اور اسی کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کریگا ، فرمایا ولیعلمن اللہ الذین امنوا اور اللہ تعالیٰ ضرور ظاہر کرے گا ۔ ایمان والوں کو ولیعلن انمنفقین اور ضرور ظاہر کردے گا ۔ منافقوں کو بھی ، اللہ تعالیٰ اسی لیے آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ، تا کہ ایمان اور نفاق ظاہر ہوجائے ، امتحان کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ کوئی بوجھ وہ ہوگا جو اس نے دوسروں کو گمراہ کیا ۔ اس طرح گویا ضلال اور اضلال کے دونوں بوجھ اٹھانے پڑیں گے ۔ وجہ یہ ہے کہ وہ خود تو گمراہ ہوا تھا مگر دوسروں کو گمراہ کرنے کا سبب بھی بنا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک 1 ؎ ہے کہ قیامت تک جتنے بھی قتل ناحق ہو رہے ہیں ۔ ان میں ہر ایک کا ایک ایک گناہ تو قاتل کے سر پر پڑے گا اور ایسا ہی ایک ایک گناہ آدم (علیہ السلام) کے بیٹے قابیل پر بھی پڑے گا جس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے اس فعل شنیع کی بنیاد رکھی ۔ قیامت والے دن یہ منظر 2 ؎ بھی دیکھنے میں آئے گا کہ ایک شخص نیکیوں کے پہاڑ لے کر بارگاہ رب العزت میں پیش ہوگا ۔ مگر اس نے دنیا میں لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی روا رکھی ہوئی لوگوں کے حقوق غضب کیے ہوں گے ، مال چھینا ہوگا ، قتل کیا ہوگا یا کسی کو تنگ کیا ہوگا ۔ ایسے تمام مظلوم اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ مولا کریم ! ہمیں اس شخص سے ہمارا حق دلایا جائے ، اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اس شخص کی نیکیاں ان حقداران میں تقسیم کردو ، پھر تمام نیکیاں اس کے کھاتے سے نکل کر دوسروں کو مل جائیں گی ، مگر ابھی کچھ حقوق باقی ہوں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ان مظلوموں کے گناہ اس شخص پر ڈال دو جن کا حق یہ شخص ادا نہیں کرسکا ۔ تو اس طرح اسے نہ صرف اپنی نیکیوں سے محروم ہونا پڑے گا بلکہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص خود ہدایت یافتہ ہے اور وہ دوسروں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بنا ہے تو ہر ہدایت یافتہ کے نیک عمل کا ایک ایک بدلہ اس کو بھی ملتا رہے گا ، اس سلسلہ میں انبیاء (علیہم السلام) کا اجر وثواب بیحد و شمار ہوگا ، کیونکہ اپنی اپنی امت کے لیے وہی ہدایت کا منبع ہے اور امت کے ہر نیک کام کا ایک ایک اجر قیامت تک برابر ان کو بھی ملتا رہے گا ۔ فرمایا ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانو یفترون اور ضرور ان سے قیامت والے دن پوچھا جائے گا ، ان کاموں کے متعلق جو وہ افتراء کرتے رہے ، آج یہ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے گناہ اٹھا لیں گے ۔ یہ محض افترا
1 ؎۔ ابن کثیر ص 604 ج 3 ۔ 2 ؎۔ قرطبی ص 133 ج 31 ابن کثیر 504 ج 3 (فیاض)
Ayahs 29:14–23عمر اور تبلیغ نوح (علیہ السلام) :
جیسا کہ سورة کی ابتدا میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کا مرکزی مضمون ایمان اور اس کے ساتھ ابتلا ہے ، تو اسی ضمن میں اللہ نے نوح کا ذکر کیا ، آپ زمین پر اللہ کے اولین صاحب شریعت رسول تھے ، آپ کے حالات زندگی سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایمان کے ساتھ آزمائش کا آنا لازمی ہے۔ یہاں پر اللہ نے نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ نہایت اختصار کے ساتھ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ۔ اور البتہ تحقیق ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، ، آپ کا ذکر قرآن پاک کی کم و یش چودہ سورتوں میں ہوا ہے ، جس طرح حضرت یوسف کے نام پر ایک مستقل سورة ہے اور اس میں صرف آپ ہی کا ذکر ہے ، اسی طرح نوح کے نام پر بھی ایک مستقل سورة ہے جس میں صرف آپ ہی کے حالات بیان ہوئے ہیں ، نوح (علیہ السلام) نے تمام انبیا حتی کہ آدم (علیہ السلام) سے بھی زیادہ عمر پائی ہے۔ مفسرین کے مطابق حضرت آدم کی عمر مبارک ایک ہزار برس کے لگ بھگ تھی ، جبکہ نوح (علیہ السلام) کو اللہ نے ایک ہزار پچاس برس کی عمر عطا فرمائی۔ وہب بن منبہ تابعین میں سے ہوئے ہیں ، آپ کی روایت کے مطابق نوح (علیہ السلام) نے چودہ سو سال عمر پائی۔ مگر حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق چالیس سال کی عمر میں آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ ۔ فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما ً پھر آپ نے ساڑھے نو سال قوم میں رہ کر تبلیغ کی پرویزی اور چکڑالوی وغیرہ تو نوح (علیہ السلام) کی اتنی عمر تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ یہ عمرپوری قوم کے کھاتے میں ڈالتے ہیں ، حالانکہ یہاں پر تبلیغ کی مدت ساڑھے نو سو سال کا ذکر موجود ہے ۔ جب اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود قوم نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے طوفان کی صورت میں عذاب بھیج دیا جس میں اہل ایمان کے سوا باقی ساری قوم غرق ہوگئی ۔ طوفان تھمنے کے بعد نوح (علیہ السلام) مزید ساٹھ سال تک اس دنیا میں موجود ہے اور اس طرح آپ کی عمر 0059۔ 06۔ 05 سال بنتی ہے۔
زندگی کی ناپائیداری
اکثر لوگ اس چند روز زندگی پر معزز ہوجاتے ہیں حالانکہ اگر کسی کو عمر نوح بھی مل جائے تو وہ بھی بالآخر ختم ہوجاتی ہے ۔ تفسیری روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ آخری وقت میں جب ملک الموت حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئے تو آپ کو اس طرح خطاب کیا یا اطول الائمیاء عمر کیف وجدک الدنیا اے نبیوں میں سب سے زیادہ عمر پانے والے اللہ کے نبی آپ نے دنیا کو کیسا پایا ہے تو نوح (علیہ السلام) نے جو اب میں کلوک لہ بابان دخلت من احدھما وخرجت من الاخر یعنی اتنی لمبی عمر پانے کے باوجود مجھے ایسا محسوس ہوا کہ دنیا ایک گھر ہے جس کے دو دروازے ہیں ۔ ایک دروازے سے میں داخل ہوا ہوں اور دوسرے دروازے سے نگل گیا ہوں ۔ دنیا کی زندگی کی بس اتنی سی حقیقت ہے ، انسانی زندگی ایسی ناپائیدار چیز ہے کہ جس پر کچھ اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال (رح) نے کہا ہے ؎
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائیدار دیکھ
زندگی کی بےثباتی کا یہ نقشہ بھی عجیب ہے ۔ ایک دوسرے شاعر نے کہا۔
1 ؎۔ مدارک ص 352 ج 3 (فیاض)
کی کشتی میں سوار ہوگئے تھے ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا فانجینہ واصحب السفینۃ پھر ہم نے بچا لیا نوح (علیہ السلام) کو اور باقی کشتی والوں کو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بچانے کی تدبیر بھی خود ہی بتائی تھی واصنع الغلک باعینا ( ہود : 73) اے نوح (علیہ السلام) ! ہمارے حکم سے اور ہماری نگرانی میں کشتی تیار کرو ۔ اور سارے اہل ایمان کو اس میں سوار کرلو ۔ کہتے ہیں کہ یہ جہاز نمابہت بڑی 054 فٹ لمبی کشتی تھی جس کے اوپر نیچے تین منزلیں تھیں ۔ فرمایا ہم نے اس کشتی کے سواروں کو بچا لیا وجعلنھا ایۃ للعلمین اور اس کشتی کو جہان والوں کے لیے ایک نشانی بنا دیا ، یہ کشتی ایک لمبے عرصے تک جودی پہاڑ پر پڑی رہی ۔ لوگ صدیوں تک اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتے رہے ۔ اس کے علاوہ اس کشتی کا ذکر تاریخ اور کتب سماویہ خاص طور پر قرآن پاک میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا ۔ اس کشتی کو حضور ﷺ کے واقعات سے بھی کسی حد تک مماثلت ہے اسلام کے ابتدائی دور میں جب مشرکین مکہ نے اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کردیا تو ان کی دو جماعتیں کشتی پر سوار ہو کر ہی حبشہ کی طرف ہجرت کرگئی تھیں ۔ پھر واپسی کا سفر بھی انہوں نے کشتی پر کیا کیونکہ راستے میں سمندر پڑتا تھا۔ حدیث میں ان کشتی والوں کا حال بھی آتا ہے کہ ان میں مردوں اور عورتیں بھی تھیں اور اللہ نے ان کی حفاظت کشتی پر کی تھی کہ ایک ملک سے دوسرے ملک بحاظت پہنچایا ، اور پھر وہاں سے واپس مدینہ طیبہ کے لیے بھی کشتی استعمال کی ۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا درس توحید
نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہے و ابراہیم اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا ، ان کا حال بھی ملاحظہ کریں اذقال لقومہ اعبدو اللہ واتقوہ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون ۔ اسی میں تمہاری بہتری ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ فرمایا کفر اور شرک سے باز نہ آ جائو کہ یہ تمہاری ہلاکت کا باعث ہوگا۔ تمہاری حالت تو یہ ہے۔
دریغ نہیں کرتے ۔ قوم تباہ ہوجائے ، ملک غرق ہوجائے مگر ان کو مال ملنا چاہئے ان بیوقوفوں کو اتنا علم نہیں کہ روزی تو اللہ نے ہر حالت میں دینی ہے مگر تم غلط ذرائع اختیار کر کے اپنے ایمان کو کیوں ضائع کرتے ہو ؟ جائز ذرائع اختیار کرو ، محنت و مشقت کرو اور پھر اللہ تعالیٰ سے جائز رزق کا سوال کرو۔ اللہ تعالیٰ برکت دے گا ۔ فرمایا اللہ کے ہاں رزق تلاش کرو واعبدوہ اور عبادت بھی اسی کی کرو اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ۔ واشکروا الہ اور اس کی عطا کردہ نعمت پر اس کا شکر بھی ادا کرو اور یاد رکھو کفر اور شرک سے بڑھ کرنا شکری کی کوئی بات نہیں ۔ تم نعمت دینے والے کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا کر اس کی نعمت کی نا شکری کے مرتکب ہوتے ہو۔ وہ تمہاری حاجت روی کیس کریں گے وہ تو خود مجبور اور لا چار اور درماندہ ہیں۔ وہ تو خدا تعالیٰ سے مانگنے والے ہیں ، نہیں کیا دیں گے ؟ فرمایا ، آج تم اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہو اور اس کی ناشکری کرتے ہو مگر الیہ ترجعون تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ وہ تم سے ایک ایک عمل کا حساب لے گا ، لہٰذا قیامت کے دن کی رسوائی سے بچنے کے لیے آج ہی انتظام کرلو ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کو قبول کرلو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ فرمایا وان تکذبوا فقد کذب امم من قبلکم اگر تم اللہ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتاب کو جھٹلاتے ہو تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تم سے پہلے کتنی قوموں نے اپنے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور انہیں طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں جس کے نتیجے میں عاد وثمود ، قوم نوح ، قوم …قو لوط اور کتنی ہی نافرمان ہو کر تباہ ہوئیں ۔ آج بھی اللہ کا قانون وہی ہے ، اگر تم اللہ کے اس آخری رسول کو بھی جھٹلاتے ہو تو یاد رکھو وما علی الرسول الا البلغ المبین کہ ہمارے رسول کے ذمے تو اللہ کا پیغام کھول کر پہنچا دیتا ہے ۔ اس کے بعد اس کو تسلیم کرنا یا نہ کرنا تمہارا کام ہے ، اس نے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اب اگر تم نہیں مانتے تو تمہارا حشر بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا ، بلکہ جس طرح
(صفحہ مس۔۔۔ )
بالآخر سب کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے ، اس کے محاسبہ سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔
انسان کی بےبسی
ارشاد ہوتا ہے وما انتم بمعجزین فی الارض ولا فی السماء اور تم زمین و آسمان میں خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ، مطلب یہ کہ تم اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نکل نہیں سکتے ، وہ جب چاہے گا تمہیں پکڑے گا ، دنیا میں تو مجرم بعض اوقات قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ان کو پکڑنے والے عاجز آجاتے ہیں ، مگر اللہ کی عدالت میں ایسی کوئی بات نہیں کائنات کی ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے ، لہٰذا اس کو کوئی بھی عاجز نہیں کرسکتا ، اور یہ بھی یاد رکھو ! وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر اس کے بغیر تمہارے لیے نہ کوئی کار ساز ہے اور نہ کوئی مدد گار ہر ایک کا کام بھی وہی بناتا ہے اور پھر جب پکڑتا ہے تو مدد کو بھی کوئی پہنچ نہیں سکتا جو تمہیں چھڑا لے ۔ آج جن چیزوں پر بھروسہ کر رہے ہو ، اگلے جہاں میں وہ سب زائل ہوجائیں گی اور تمہیں کوئی چیز خدا کے عذاب سے بچا نہیں سکے گی۔
اللہ کی رحمت سے مایوسی
فرمایا والذین کفروا بایت اللہ ولقاء وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا ۔ آپ میں توحید ، رسالت ، احکام ، شرائع اور تمام مسائل آجاتے ہیں ، جس نے ان کا انکار کیا در ملاقات یعنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا انکار کیا ۔ فرمایا اولئک یئسوا من رحمتی وہ لوگ میری رحمت سے مایوس ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جس نے کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی کا ارتکاب کیا ، اس نے نہ تو اللہ کی آیتوں کو تسلیم کیا اور نہ ہی بعثت بعد الموت کو بر حق جانا ، اے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی رحمت حاصل نہیں ہو سکے گی اور وہ رحمت خداوندی سے مایوس ہی رہیں گے ، خدا کی رحمت سے مایوسی کی بجائے خود کفر ہے ۔ گویا انکار کرنے والے خدا کی رحمت سے مایوس ہیں اولئک لھم عذاب الیم ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 29:24–30ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ شخص چونکہ ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے ، لہٰذا پیشتر اس کے کہ ساری قوم کو گمراہ کر دے ۔ اسے قتل کردینا چاہیے یا آگ میں زندہ جلا دینا چاہئے ، چناچہ بہت سا ایندھن جمع کر کے آ گ جلائی گئی اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو منجنیق پر باندھ رک آگ کے وسط میں پھینک دیا گیا ۔ پرویز نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بالفعل آگ میں ڈالے جانے کا انکار کیا ہے جس کی وہ کوئی معقول دلیل پیش نہیں کرسکا ۔ اس کے بر خلاف سورة الانبیاء میں ہے کہ اللہ نے فرمایا قلنا یا نارکونی برد و سلما علی ابراہیم ( آیت : 96) ہم نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا ۔ اس حکم کی ضرورت تبھی پڑی جب آپ کو بالفعل آگ میں ڈال دیا گیا ۔ اگر ایسا نہیں ہوا کہ تو پھر آگ کو ٹھنڈی ہوجانے کے حکم کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ۔ اس مقام پر فانجہ اللہ من النار اللہ نے آپ کو آگ سے بچا لیا ۔ دشمنوں نے تو آپ کو آگ میں پھینک ہی دیا تھا مگر سورة ا الانبیاء والے تکوینی حکم کے ذریعے اللہ نے آپ کو بچا لیا ، چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آگ میں پھینکے جانے کے باوجود آگ نے آپ کا ایک مال بھی نہیں چلایا ۔ البتہ وہ رسی جل گئی تھی جس کے ساتھ آپ کو جکڑ کر آگ میں پھینکا گیا تھا۔
نشانات قدرت
فرمایا ان فی ذلک لایت لقوم یومنون o
بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ ذرا اندازہ لگائیں ک ابراہیم (علیہ السلام) نے پیغام حق پہنچانے کے سلسلے میں کس قدر تکالیف برداشت کیں اور کتنی قربانیاں پیش کیں۔ پہلے اپنے باپ سے پھر خاندان سے اور پھر پوری قوم کے ساتھ دشمنی مول لی ، حتی کہ آپ کو آگ میں پھینک دیا گیا۔ ابن سعد کی روایت میں آتا ہے کہ آپ نے سات سال تک قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہر امتحان میں آپ کو کامیاب کیا اور مخالفین کو ناکام بنایا۔ آگ نے آپ کا بال تک نہ جلایا۔ روایات میں آتا ہے کہ تاریخ میں اتنی بڑی آگ کبھی نہیں جلائی گئی۔ کم و بیش تین ماہ تو آگ کے لیے ایندھن ہی جمع ہوتا رہا۔ اس آگ میں پھینکے جانے کے باوجود آپ کا بال بیکا تک نہ ہونا۔ کیا یہ معجزہ اور نشانی نہیں ؟ آپ نے پوری زندگی صبر و استقلال کے ساتھ حق کی تبلیغ کی اور آپ میں کبھی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوئی بلکہ ہمیشہ حسبی اللہ و نعم الوکیل کا ورد ہی کرتے رہے اور اس طرح ہر مشکل سے کامیاب و کامران ہو کر نکلے۔ بلاشبہ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بہت بڑی نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں۔
شرک کی مذمت : حد درجہ کی تکالیف برداشت کرنے کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے اثبات اور شرک کی مذمت کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ وقال انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا۔ اپنی قوم سے کہنے لگے۔ تم نے اللہ کے سوا بت بنا لیے ہیں جنہیں مختلف تصورات پر گھڑا گیا ہے۔ بعض جنوں کے تصور پر ہیں۔ بعض فرشتوں کے اور بعض انسانوں میں سے انبیاء اور اولیاء کے نام پر۔ تم ان کو نذر و نیاز پیش کرتے ہو۔ اور پھر ان سے مرادیں مانگتے ہو۔ ان کے سامنے شرکیہ رسوم ادا کرتے ہو۔ گویا ان کی پرستش کرتے ہو۔ عربی میں بتوں کے لیے وثن اور صنم دو نام استعمال ہوتے ہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ صنم کسی خاص شکل و صورت پر بنایا ہوا بت ہوتا ہے جب کہ وثن کوئی ان گھڑا پتھر وغیرہ ہوتا ہے ہندوؤں کے ہاں بیشمار ان گھڑے وثن ہیں جن کی وہ پوجا کرتے ہیں۔
فرمایا ان بتوں کی پوجا مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا۔ دنیا کی زندگی میں تمہارے لیے آپس میں دوستی کا ذریعہ ہے۔ مطلب یہ کہ کسی خاص بت قبر یا درخت کی پوجا تم میں قدر مشترک بن جاتی ہے اور پھر اسی کی بناء پر تم آپس میں پر بھائی بن کر ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہو ، ہر وقت اسی معبود کے گن گاتے ہو اور اسی پر جیتے اور اسی پر مرتے ہو۔ بعض مفسرین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ مودۃ کا مصدر میمی مفعول کے معنی میں مودودۃ ہے ، اور معنی یہ ہے کہ تم ان معبودوں کے ساتھ محبت کرتے ہو ، ظاہر ہے کہ ہر عابد اپنے معبود کے ساتھ محبت کرتا ہے ، مگر سورة البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی صفت یہ بیان کی ہے۔ والذین امنوا اشد حبا للہ ( آیت : 561) کہ ان کی شدید ترین محبت اپنے معبود بر حق خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوتی ہے ۔ فرمایا دنیا میں تو تم ان جھوٹے معبودوں کی محبت میں سر شار ہو ثم یو القیمۃ بکفر بعضکم ببعض پھر قیامت والے دن تم ایک دوسرے کا انکار کردو گے ۔ یہاں کی دوستی اس وقت دشمنی میں بدل جائے گی اور جن معبودوں کی تم عبادت کرتے تھے وہ بھی انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو ان کو نہیں کہا کہ ہماری پرستش کرو ۔ یہ تو خود اپنی خواہش پر چلتے رہے ، اپنی حاجت برری کے لیے ہمارے نام پر بنائے ہوئے بتوں کی طرف رجوع کرتے تھے ، ہمارا تو اس میں کوئی قصور نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھیں گے کہ کیا تم نے ان کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ جیسا کہ سورة المائدہ میں موجود ہے ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) انکار کردیں گے اور عرض کریں گے کہ مولا کریم ! میں نے تو اپنی قوم کے سامنے وہی بات کی جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا۔ ان اعبدو اللہ ربی وربکم ( آیت : 711) کہ صرف میرے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ فرمایا : قیامت والے دن کو بتوں کی پوجا کرنے والے نہ صرف ایک دوسرے کا 1 ؎۔ کشاف ص 054 ج 3 (فیاض) ۔ انکار کردیں گے بلکہ و یلعن بعضکم بعضا تم ایک دوسرے پر لعنت بھی بھیجو گے۔ ایک دوسرے کو برا بھلا کہوگے کہ تم نے غلط راستے پر ڈال کر مروا دیا۔ مگر اس وقت کا پچھتانا کسی کام نہیں آئے گا۔ وماوکم النار ۔ اور تمہارا ٹھکانا دوزخ کی آگ ہوگا۔ ومالک من نصرین۔ اور تمہارا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا جو تمہیں دوزخ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس دن دنیا میں قائم کیے ہوئے غلط تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ یہاں کی محبت نفرت میں بدل جائیگی اور تم ایک دوسرے کو کو ستے ہوئے جہنم رسید ہوگے۔
لوط (علیہ السلام) کا ایمان لانا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی سال ہا سال کی تبلیغ کے جواب میں قوم نے آپ کی کوئی بات نہ مانی۔ صرف دو شخصیتوں کے ایمان لانے کا ذکر ملتا ہے۔ ایک آپ کی بیوی حضرت سارہ تھی جو آپ کی چچا زاد تھی اور دوسرے آپ کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) تھے۔ بعض کہتے ہیں لوط (علیہ السلام) آپ کے بھانجے تھے مگر صحیح بات یہ ہے کہ آپ کے حقیقی بھتیجے تھے اور آپ کا نسب نامہ لوط ابن حاران ابن آزر ہے۔ لوط (علیہ السلام) بچپن میں ہی ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے ، چناچہ اللہ نے یہاں فرمایا ہے۔ فامن لہ لوط۔ باقی تو ساری قوم نے انکار کردیا۔ مگر لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی ، اور پھر جب آپ نے بابل سے ہجرت کی تو لوط (علیہ السلام) بھی آپ کے ہمراہ تھے اور راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور شرق اردن والوں کی طرف تبلیغ پر مامور کیا۔
ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت اور اولاد :
فرمایا لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی تصدیق کی وقال انی مھاجر الی ربی۔ اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تو اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ میں نے تبلیغ کے تمام وسائل استعمال کرلیے ہیں مگر قوم نہیں مانتی لہذا اب میں اللہ کے حکم سے جہاں وہ چاہے گا ہجرت کر جاؤں گا۔ چناچہ آپ نے انی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط (علیہ السلام) کے ہمراہ بابل سے مصر اور پھر شام و فلسطین پہنچے وہیں پر آپ کو خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم ہوا جس کی آپ نے تعمیل کی اور وہیں پر یروشلم سے کچھ فاصلے پر بستی انحلیل میں آپ کی قبر ہے ، فرمایا میں اپنے رب کے حکم سے ہجرت کر رہا ہوں انہ ھو العزیز الحکیم بیشک وہ اللہ تعالیٰ زبردست ، کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے ۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا لہٰذا اس میں اسی کے حکم سے ہجرت کر رہا ہوں ۔ بعد کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہجرت میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت کا ر فرما تھی ۔ آپ نے شام و فلسطین کو اپنا مستقل مستقر ٹھہرایا اور پھر عرصہ دراز کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولاد سے بھی نوازا پہلے اللہ نے حضر ت ہاجرہ ؓ کے بطن سے اسماعیل (علیہ السلام) پیدا کیے اور جیسا کہ اس مقام پر ذکر ہے بعد میں حضرت سارہ ؓ کو بھی اولاد دی ۔ اللہ نے رسول کی عمر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کی خواہش کو پورا فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا عطا فرمایا ، ابراہیم (علیہ السلام) نے دو سو سال کی عمر پائی اور آپ کی زندگی میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسحاق (علیہ السلام) کو یعقوب (علیہ السلام) بھی عطا فرمایا اور دونوں کو نبی بھی بنایا ۔ وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہم نے نبوت اور کتاب رکھ دی ۔ آپ کے بعد دنیا میں جتنے بھی نبی بمع نبی آخر الزمان سب کے سب ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے فرمایا واتینہ اجرہ فی الدنیا اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کا صلہ دنیا میں بھی دیا ۔ دنیا میں آپ کو عزت واکرام دیا ۔ آپ کو اولاد کو نبوت و رسالت عطا کر کے آپ کو ابو الانبیاء بنا دیا ۔ آپ کو دنیا کی امامت عطا فرمائی اور آپ کی ملت کو جاری فرمایا اور دوسری امتوں کو بھی حکم دیا فاتبعوا ملۃ ابراہیم حنیفاً (آل عمران : 59) یعنی ملت ابراہیمی کی پیروی کرو۔ یہ تو دنیا کے انعامات تھے ، فرمایا وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین اور بیشک آپ آخرت میں بھی نیکو کاروں میں سے ہیں ۔ دنیا میں بھی
اللہ نے مال ، اولاد ، عزت اور نیک نامی دی ، اولاد کو حکومت بھی عطا فرمائی اور آخرت میں آپ یقیناً اعلی درجے پر فائز ہوں گے ، آپ اللہ کے خلیل اور مقرب ہیں۔ یہ اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کے ساتھ ابتلا کا اجمالی طور پر ذکر کردیا ہے۔
قوم لوط کے قبائح : ایمان اور ابتلاء کے ضمن میں ہی اللہ تعالیٰ نے دوسری مثال حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیان فرمائی۔ ولوطا۔ اور لوط (علیہ السلام) کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا۔ انہیں شرق اردن کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مامور فرمایا۔ آپ نے ان کی خرابیوں کا بغور مطالعہ کیا اور پھر ان کی نشاندھی بھی کی۔ اذ قال لقومہ۔ جب کہا انہوں نے اپنی قوم سے۔ شرق اردن اور خاص طور پر وہاں کی مرکزی بستی سدوم کے لوگ آپ کی نسلی قوم نہیں تھے بلکہ آپ تو بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے اور آپ کا تعلق دوسری قوم سے تھا۔ یہاں پر " آپ کی قوم " اس لیے کہا گیا ہے کہ آپ اس قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ اس قوم میں کفر اور شرک کے علاوہ ہم جنسی کی قبیح بیماری بھی تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اسی خرابی پر متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔ انکم لتاتون الفاحشۃ۔ تم ایک ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو۔ ما سبقکم بھا من احد من العلمین۔ جس کا ارتکاب تم سے پہلے جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ گویا تم ہی اس مہلک بیماری کے موجد ہو۔ شرق اردن کا علاقہ بڑا زرخیز علاقہ تھا ، یہاں پر تجارتی منڈیاں تھیں۔ لوگ بڑے مالدار اور متمدن تھے مگر ہم جنسی جیسی قبیح بیماری میں مبتلا تھے۔ یہ ایسی بےحیائی ہے جو بندروں اور خنزیروں کے سوا کسی دوسرے جانور میں بھی نہیں پائی جاتی۔ مگر یہ کام اس خطے کے لوگ انسان ہو کر کرتے تھے۔
لوط (علیہ السلام) نے اس قباحت کی وضاحت فرمائی اء نکم لتاتون الرجال۔ کیا تم شہوت رانی کے لیے مردوں پر دوڑتے ہو۔ زنا اور لواطت دونوں کو فحش کہا گیا ہے ، مگر لواطت زنا سے بھی زیادہ جرم ہے کیونکہ یہ فعل خلاف وضع فطری ہے۔ فرمایا ۔ ایک تو تم مردوں سے ہم جنسی کرتے ہو اور دوسرا برا کام یہ کرتے ہو وتقطعون السبیل کہ تم راہ کاٹتے ہو یعنی راستے پر چلتے لوگوں پر ڈاکے ڈالتے ہو اور ان کا مال و اسباب لوتے رہتے ہو ۔ راہ کاٹنے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم نسل انسانی کی راہ کاٹتے ہو۔ نسل انسانی کی بقاء کے لیے اللہ نے مرد اور عورت کا جوڑا بنایا ہے مگر تم عررتوں کو چھوڑ کر مردوں سے لتفات کرتے ہو۔ اور اس طرح فطری طریقے کو چھوڑ کر نسل انسانی کو منقطع کرنے کی کوشش کرتے ہو ، بھلا دو مردوں کے اختلاط سے اور اولاد کہاں پیدا ہوگی اور نسل انسانی کیسے آ گے بڑھے گی ؟ اسی لیے مشیت زنی اور جانوروں کے ساتھ التفات کو بھی ملعون کاموں میں شمار کیا گیا ہے ۔ اسی سے انسان کا دین ، اخلاق اور صحت برباد ہوتی ہے ۔ اللہ نے شہوت رانی کے لیے منکوحہ بیوی یا شرعی لونڈی کو مقرر کیا ہے ، اس کے علاوہ تمام ذرائع ناجائز اور حرام ہیں ۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی تیسری خرابی یہ بیان فرمائی وتاتون فی نادیکم المنکر اور تم اپنی بھری مجلسوں میں برائی کا ارتکاب کرتے ہوے اور اس معاملہ میں ذرا شر م محسوس نہیں کرتے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ لوگ برائی میں اس قدر طاق ہوچکے تھے کہ برائی ان کے نزدیک برائی نہیں رہی تھی ۔ لہٰذ ا وہ عام مجلسوں میں اس کا ارتکاب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قرب قیامت میں لوگ گدھوں کی طرح بےحیائی کے کام کریں گے ، پھر جب دنیا میں خدا کا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا ۔ تو قیامت کا بگل بج جائیگا ، قوم لوط کے لوگ راہ چلتے لوگوں پر آواز کستے تھے ، ان کو پتھر مارتے تھے ، گالی گلوچ کرتے اور بد اخلاقی کے دوسرے کام کرتے تھے ، عام مجلس میں گوز مارنے میں حیا محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ امام زمحشری (رح) لکھتے 1 ؎ ہیں کہ وہ گوز مارنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے تھے ، اور ان کی سب سے بڑے خرابی یہ تھی کہ ہم جنسی کے مرتکب ہوتے تھے۔
عذاب کا مطالبہ
جب لوط (علیہ السلام) نے قوم کو ان قبیح کاموں سے منع فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا ئتنا بعذاب للہ تو قوم کا اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا۔ کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آ۔ ان کنت من الصدقین۔ اگر تو سچا ہے۔ یعنی تو ہمیں عذاب الہی سے ہر وقت ڈراتا دھمکاتا رہتا ہے۔ اگر تیرے پاس کوئی ایسا عذاب ہے تو لاکر ہم پر وارد کردے ، ہم تیری بات کو مان کر یہ برائیاں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ سورة الاعراف میں قوم کا یہ بیان بھی آیا ہے۔ کہ انہوں نے آپس میں فیصلہ کیا۔ اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون۔ کہ لوط (علیہ السلام) کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ بڑا پاکباز بنا پھرتا ہے اور ہم کو پلید کہتا ہے۔ نہ یہ ہماری بستی میں رہے گا اور نہ ہمیں کسی کام سے روکے ٹوکے گا۔
جب قوم نے ہر طرف سے لوط (علیہ السلام) کو تنگ کردیا تو آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ قال رب انصرنی علی القوم المفسدین۔ عرض کیا ، پروردگار ! میری اس ناہنجار اور فسادی قوم کے مقابلے میں مدد فرما۔ میں ان سے مایوس ہوچکا ہوں۔ اب تو ہی ان سے انتقام لے۔
1 ؎۔ کثاف ص 254 ج 3 ( فیاض)