Ayahs 29:46–51ربطِ آیات
سورة العنکبوت اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلاء کا ذکر کیا ہے اور اس سلسلہ میں بعض انبیاء کی آزمائش کے واقعات بیان کرکے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ کسی کو بغیر آزمائش کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ پھر اللہ نے شرک کی قباحت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا ، پھر توحید کی دعوت دی۔ اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو چیز آپ کی طرف بصورت وحی ناز کی جاتی ہے اس کو پڑھیں اور نماز قائم رکھیں کہ یہ بےحیائی اور برائی سے روکنے والی چیز ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے اور اللہ تعالیٰ تمہاری تمام کارگزاریوں سے واقف ہے۔
اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ
اہل کتاب اور مشرک لوگ اسلام اور پیغمر اسلام پر طرح طرح کے بیہودہ اعتراض کرتے تھے۔ پھر نبی کریم (علیہ السلام) کو ان کا جواب بھی دینا پڑتا تھا جسکی وجہ سے بحث مباحثہ بعض اوقات طول پکڑ جاتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں بعض ہدایات دی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ولاتجادلواھل الکتب الا بالتی ھی احسن اے اہل ایمان ! تم اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو۔ اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ قرآن پاک سے پہلے جو آسمانی کتابیں تورات اور انجیل نازل ہوئیں ان کو ماننے والے اہل کتاب کہلاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ دونوں کتابیں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں جن میں ان امتوں کی راہنمائی کے لیے ٹھیک ٹھیک احکام موجود تھے مگر خود ان کے ماننے والوں نے بعد میں ان کتابوں میں تحریف کرکے ان میں تفسیر و تبدل پیدا کردیا۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک تک اگرچہ یہ کتابیں اپنی اصلی شکل میں باقی نہیں رہی تھیں ، پھر بھی ان میں بعض باتیں محفوظ رہ گئی تھیں اور وہ قرآن پاک سے مطابقت رکھتی تھیں۔ اس سلسلے میں اکثر بحث و تمحیص ہوتی رہتی تھی۔ اللہ نے مشرکین کے ساتھ بھی بحث مباحثہ کی اجازت دی ہے مگر ان کے دین کی تو جڑ اور بنیاد ہی غلط تھی۔ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب کسی صورت میں بھی موجود نہیں تھی۔ البتہ اہل کتاب کے پاس چونکہ آسمانی کتابیں موجود تھیں اگرچہ وہ تحریف شدہ تھیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بحث کرنے میں احتیاط سے کام لینے کا حکم دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان کی کسی صحیح بات کا بھی انکار کر بیٹھو یا کسی غلط بات کو تسلیم کرلو۔
بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ تورات کا کچھ حصہ پڑھ کر مسلمانوں کو سناتے تو بعض اوقات مسلمان اسے پسند کرتے تھے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا لا تصدقواھل الکتب ولا تکذبو تم اہل کتاب کی نہ تو تصدیق کرو۔ نہ تکذیب کرو بلکہ قولو امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم یوں کہو کہ ہم ہر اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے کیونکہ والھنا والھکم واحد تمہارا اور ہمارا معبود ایک ہے ونحن لہ مسلمون اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں۔ سورة ال عمران میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا قل یاھل الکتب تعالو ا الی کلمۃ سواء بیننا وبیننکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا (آیت۔ 46) آپ اہل کتاب سے کہہ دیں کہ آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اہل کتاب کے ساتھ بحث کرتے وقت نرم رویہ اختیار کریں اور ان کی بات کی نہ تو تصدیق کریں اور نہ تکذیب بلکہ ہر اس چیز پر ایمان لانے کا اعلان کریں۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ الا الذین ظلمو منھم مگر ان میں سے جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کو یہ نرمی والی رعایت حاصل نہیں ہوگی۔ ان کے ساتھ گفتگو میں اگر تلخ کلامی بھی ہوجائے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ظالموں سے کون لوگ مراد ہیں۔ ظالم تو سارے کے سارے اہل کتاب تھے کیونکہ وہ شرک کے مرتکب ہوتے تھے مگر یہاں پر وہ لوگ مراد ہیں جو ہٹ دھرم تھے اور کسی بات کو سننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتے تھے۔ تاہم جو لوگ نرم رویہ اختیار کریں تم ان کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرو۔ وقولو امنا بالذی انزل الینا وانزل الیکم اور یوں کہوں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے اور اس پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہماری طرف تو اللہ تعالیٰ نے اپنا قرآن نازل فرمایا ہے اور اپنے نبی کو خاص شریعت احکام ، مسائل اور دین عطا کیا ہے ، لہٰذا ہمارا اس پر ایمان ہے۔ اور تمہاری طرف بھی اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل نازل فرمائی تھیں۔ جو مکمل برحق ہیں۔ ہمارے لیے اب بھی یہی حکم ہے کہ ہم تمام کتب کا دیہ پر ایمان لائیں۔ سورة الشورہ میں بھی اللہ نے یہی حکم دیا وقل امنت بما انزل اللہ من کتب ( آیت۔ 51) اے پیغمبر ! آپ صاف کہہ دیں کہ اللہ نے جو بھی کتاب اتاری ہے میرا اس پر ایمان ہے کہ وہ برحق ہے۔ اگر ان لوگوں نے بعد میں کوئی تبدیلیاں کرلی ہیں تو اس کے ذمے دار وہ خود ہیں ہم تو تمام اصل آسمانی کتب اور صحائف پر ایمان رکھتے ہیں۔
فرمایا ، آپ اہل کتاب سے یہ بھی فرما دیں والھنا والھکم واحد ونحن لہ مسلمون اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود بھی ایک ہی ہے۔ یہ تمہارے ساتھ یک گو نہ اشتراک بھی ہے کہ ہمارا سب کا معبود ایک ہی اللہ جل جلالہ ہے۔ اہل کتاب کے ساتھ تو یہ قدر مشترک ہے مگر مشرکین کے معبود بھی جدا جدا ہیں لہٰذا ان کے ساتھ یہ بات نہیں ہوسکتی۔ ان کے متعلق تو یہی حکم ہے لا اعبدما تعبدون (الکفرون 02) میں ان باطل معبودوں کی پوجا نہیں کرسکتا جن کی تم کرتے ہو۔ لکم دینکم ولی دین ( الکفرون۔ 6) تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔ مشرکوں کے ساتھ تو نقطہ اتحاد موجود ہی نہیں جس پر سب کی نگاہ مرتکز ہوسکے ، لہٰذا ان کو دو ٹوک جواب دو اور اہل کتاب کے ساتھ نرم رویہ رکھو کہ ان کے ساتھ قدر مشترک موجود ہے۔
ارشاد ہوتا ہے وکذلک انزلنا الیک الکتب اور اسی طرح منصف مزاج اہل کتاب ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف کتاب یعنی جس طرح اہل کتاب کی طرف تورات اور انجیل نازل کی گئی۔ اسی طرح آپ کی طرف قرآن پاک جیسی عظیم کتاب نازل کی گئی ہے فالذین اتینھم الکتب یومنون بہ پس وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اہل کتاب سارے کے سارے تو قرآن پاک پر ایمان نہیں رکھتے تھے بلکہ ایک قلیل تعداد ایمان لائی۔ سورة آل عمران میں وضاحت موجود ہے۔ ولو امن اھل الکتب لکان خیرا لھم منھم المومنون واکثرھم الفسقون (آیت۔ 011) اگر وہ سارے ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے تھوڑے ایمان لاتے ہیں جب کہ ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ سے لیکر آج تک اہل کتاب کی اکثریت نافرمان ہی رہی ہے اور اصل یہ مشرکوں سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ البتہ ہر زمانے میں ان میں سے کچھ لوگ ضرور منصف مزاج پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کے اطراف میں دس بڑے بڑے یہودی عالم تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ سارے کے سارے ایمان لے آئیں تو روئے زمین پر کوئی یہودی ایمان قبول کیے بغیر نہ رہے۔ مگر ان دس علماء میں سے صرف حضرت عبداللہ بن سلامہ ؓ ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے جب کہ باقی نو اپنی ضد اور عناد پر ہی اڑے رہے۔ بعد کے ادوار میں بھی بعض لوگ ایمان قبول کرتے رہے ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں عبداللہ کو یلم بہت بڑا بیرسٹر تھا جس نے ایمان قبول کیا۔ اس کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ اس کے اسلام لانے سے انگریز بڑے سیخ پا ہوئے تھے مگر وہ مرد مومن بمع اپنے چالیس ساتھیوں کے ایمان پر ڈٹا رہا۔
جنگ عظیم کے دوران مارما ڈیوک پکھتال کو انگریز نے جاسوسی کے لیے ترکی بھیجا۔ وہ سات سال تک شیخ السلام کی مجلس میں بیٹھا تو اللہ نے اس کا دل پلٹ دیا اور مسلمان ہوگیا۔ اس نے انگریزی زبان میں قرآن پاک کا بڑا مستند ترجمہ کیا ہے حیدرآباد دکن میں انگریزی اخبار کا ایڈیٹر بھی رہا۔ حال ہی میں فرانس کے ایک بڑے فلسفی نے ایمان قبول کیا ہے۔ جرمنی کالیوپولڈ یہودی تھا۔ کہیں بدئوں کے ساتھ سفر میں جارہا تھا۔ راستے میں کھانے کا وقت ہوا تو بدو نے کھانا لیا ، بسم اللہ کہہ کر دستر خوان پر خپا اور اپنے ہم سفر کو بھی دعوت دی۔ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کیا اور کھانے کے بعد الحمد للہ کہا تو اس شخص پر اس کا بڑا اثر ہوا اور وہ مسلمان ہوگیا۔ بڑا عالم فاضل آدمی تھا محمد اسد نام رکھا۔ اب بھی کہیں یورپ میں زندگی کے دن گزار رہا ہے۔ اسلام لانے کے بعد اس نے کئی کتابیں بھی لکھیں۔ ان میں اسلام چورستے پر (ISLAM AT THE CROSS ROAD) اور شاہراہ مکہ (ROAD TO MAKKAH) مشہورد تصنیفات ہیں۔ بہرحال منصف مزاج لوگ ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں جو حقیقت کو تسلیم کرلیتے ہیں مگر اہل کتاب کی غالب اکثریت ہمیشہ عناد کا شکار ہی رہی ہے۔
منصف مزاج مشرکین
فرمایا ومن ھولاء من یومن بہ اور ان میں سے یعنی مشرکین میں سے بھی بعض ایسے ہیں جو ایمان قبول کرتے ہیں۔ چناچہ جاپان کا پروفیسر ہشامہ تھا۔ اس کے ہاتھ قرآن کا نسخہ آگیا۔ اس نے بنظیر عمیق مطالعہ کیا تو اللہ نے کایا پلٹ دی اور وہ مسلمان ہوگیا۔ دو سال تک مصر میں رہ کر عربی زبان سیکھی اور اسلامی لٹریچر کا مزید مطالعہ کیا۔ وہ خود کہا کرتا تھا کہ میں مسلمانوں کو دیکھ کر مسلمان نہیں ہوا ، بلکہ خوش قسمتی سے مجھے قرآن پاک میسر آگیا ، اس کو پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ قرآن سچا ہے اور اس کا لایا ہوا اسلام سچا ہے ، باقی سارے ادیان غلط ہیں۔ جاپانی اکثر مشرک یا بدھ ہیں مگر اللہ نے اس شخص کو ایمان کی دولت سے نوازا۔ ہندوئوں اور صابیوں میں سے بھی بعض اوقات منصف مزاج نکل آتے ہیں جو اسلام کی دعوت کو قبول کرلیتے ہیں ، نزول قرآن کے زمانہ میں مشرکین عرب میں سے بعض لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ایمان لے آتے ہیں وما یجعد بایتینا الا الکفرون اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا ، مگر نافرمان لوگ جو بڑے ضدی اور ہٹ دھرم ہوتے ہیں۔ وگرنہ جن میں قبولیتِ حق کا تھوڑا سا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ وہ ایمان قبول کرلیتے ہیں۔
حضور ﷺ کی صداقت کی دلیل
فرمایا اے پیغمبر آخر الزمان ! آپ کی صداقت کی یہ بہت بڑی دلیل ہے۔ وما کنت تتلو من قبلہ من کتب کہ آپ اس سے پہلے تو کتاب نہیں پڑھتے تھے ولا تخطہ بیمینک اور نہ آپ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اگر آپ پہلے پڑھے لکھے ہوتے۔ انا لا رتاب المبطلون۔ تو یہ باطل پرست لوگ شک کرتے کہ یہ تو پڑھا لکھا آدمی ہے۔ کہیں پرانی کتابوں سے مضامین اخذ کرکے ہمیں سناتا رہتا ہے ، مگر آپ نے تو کبھی پڑھا اور نہ لکھا ، نہ کسی سکول کالج میں گئے نہ کسی استاد کے سامنے زانوائے تلمذ طے کیا ، اس کے باوجود آپ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب پڑھتے ہیں اور لوگوں کے سامنے علوم و معارف کے سمندر بہاتے ہیں ، یہی تو آپ کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے کہ اُمّی ہونے کے باوجود اللہ نے آپ کی زبان پر قرآن کو جاری فرما دیا ہے اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ لوگ آپ پر شک کرسکتے تھے مگر اب تو ان کے پاس شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ گئی۔
قرآن پاک کی حفاظت
فرمایا بل ھو اٰیت بینت فی صدور الذین اوتو العلم بلکہ یہ تو واضح آیتیں ہیں جو اہل علم لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ یہ بھی اس کتاب کے برحق ہونے کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ایسا انتظام کردیا ہے کہ پوری کی پوری کتاب حفاظ کے سینوں میں بند کردی ہے ہمارا اندازہ ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی ایک ارب کی آبادی میں ایک کروڑ حافظ ضرور موجود ہیں۔ اس کے علاوہ عام مسلمانوں کو قرآن کا کچھ نہ کچھ حصہ تو یاد ہے جو وہ نماز میں پڑھتے ہیں۔ اس کے برخلاف یہودو نصاریٰ میں سے تورات یا انجیل کا ایک بھی حافظ آپ کو نہیں ملے گا۔ کیا یہ کتاب الٰہی کے برحق ہونے کی کھلی دلیل نہیں ہے ؟ ایک زمانے میں انگریزوں نے اس کتاب پاک کو ختم کرنے کا منصوبہ بنانا چاہا ، مگر انہیں جلد ہی معلوم ہوگیا کہ یہ ایسی کتاب ہے جسے کبھی مٹایا نہیں جاسکتا۔
حضور ﷺ کی ایک حدیث قدسی میں اللہ کا فرمان ہے نزلت الیک کتبا تقرہ نائما ویقظان میں نے آپ کی طرف ایک ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جس کو آپ بحالت نیند بھی پڑھتے ہیں اور بیداری میں بھی یہ ایسی کتاب ہے کہ جس کو نہ آگ جلا سکتی ہے اور نہ پانی دھو سکتا ہے اگر کسی وقت اس کے تمام نسخے بھی ضائع ہوجائیں تو حافظہ صاحبان اسے پھر سے تیار کرلیں گے۔ جہاں تک نیند کے دوران قرآن پاک کی تلاوت کا تعلق ہے تو ایسے واقعات بھی سننے میں آتے رہتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) کے ایک استاد نے لکھا ہے کہ میں نے خواب میں الحمد سے لیکر والناس تک پورا قرآن پاک حضور ﷺ کے سامنے پڑھا ، جسے آپ (علیہ السلام) نے سماعت فرمایا۔ تو دنیا میں ایسے خوش قسمت لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے نیند کی حالت میں قرآن بھی پڑھا اور حضور ﷺ کی زیارت بھی نصیب ہوگئی۔ بہرحال فرمایا کہ یہ واضح آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں۔ وما یجحد بایتینا الا الظلمون اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر ظالم لوگ جو حد سے زیادہ… اور ضدی ہوتے ہیں اور اتنی واضح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ اللہ نے اہل کتاب اور مشرکین کے بےانصاف لوگوں کا شکوہ بھی کیا ہے۔
معجزات کا مطالبہ
آگے مشرکین کی ایک اور ہٹ دھرمی کا ذکر کیا ہے۔ وقالو لولا نزل علیہ اٰیت من ربہ کہتے ہیں کہ اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری جاتیں ؟ مشرکین چاہتے تھے کہ نبی (علیہ السلام) ہماری مرضی کے مطابق معجزات ظاہر کریں تو پھر ہم ایمان لائیں گے۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا قل انما الایت عند اللہ آپ کہہ دیں کہ نشانیاں تو ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں پیغمبر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ تمہاری خواہش پر جب چاہے کوئی معجزہ پیش کردے۔ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے ، وہ جب چاہتا ہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے جہاں تک نبی کی ذات کات علق ہے تو آپ کہہ دیں وانما انا نذیر مبین کہ میں تو کھول کر ڈر سنانے والا ہوں۔ میں تو اللہ کا پیغام سناتا ہوں اور بُرے انجام سے ڈراتا ہوں یعنی میرا کام اندوتبشیر ہے۔ نشانیاں ظاہر کرنا نہیں اور نہ فرمائشیں پوری کرنا میرے اختیار میں ہے۔ سورة المومن میں صراحت موجود ہے وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ (آیت 87) کسی نبی اور رسول کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی معجزہ پیش کرسکے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے ، وہ کبھی فرمائش پوری کردیتا ہے اور کبھی نہیں کرتا۔
قرآن بطور رحمت اور نصیحت
فرمایا اولم یکفھم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیھم کیا ان لوگوں کے لیے یہ نظانی کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جارہی ہے اور یہ نازل بھی ایسی ہستی پر ہوتی ہے جو بالکل امی ہے۔ ان فی ذلک الرحمۃ بیشک اس میں رحمت ہے۔ رحمت ہدایت پر چلنے کے نتیجہ میں ملتی ہے جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو اختیار کرے گا وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگا۔ وذکری لقوم یومنون اور یہ کتاب نصیحت ہے ۔ ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اس کے برخلاف جو ضد اور عناد سے کام لیتے ہیں۔ جو ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کتاب الٰہی کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یہ تو ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے ۔ جو انصاف پسند ہیں بہرحال یہ قرآن پاک اہل ایمان کے لیے نصیحت اور رحمت کا ذریعہ ہے۔
Ayahs 29:52–59ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔
رسالت پر شہادت خداوندی
اللہ نے فرمایا کہ اگر انکار کرنے والے انکار کرتے ہیں تو قل کفی باللہ بینی وبینکم شہیدا اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔ مطلب یہ کہ اگر تمہیں میری رسالت پر شک ہے اور طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے ہو اور میری تصدیق کرنے کی بجائے تکذیب کرتے ہو تو میں اسے اللہ تعالیٰ کی گواہی پر چھوڑتا ہوں کیونکہ یعلم ما فی السموت والارض آسمان و زمین کی تمام چیزوں کو وہ خوب جانتا ہے وہ میری رسالت سے بھی واقف ہے اور تمہاری مخالفت اور ہٹ دھرمی سے بھی واقف ہے۔ جو کچھ تم زبان پر لاتے ہو اس سے بھی واقف ہے اور جو دل میں رکھتے ہو اس کو بھی جانتا ہے۔ لہٰذا میں اپنے اور تمہارے درمیان فیصلے کے لیے اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں وہ جو بھی فیصلہ کرے مجھے منظور ہے اور تم بھی اس کو قبول کرلو۔
فرمایا تم لوگ حق شناسی سے اجتناب کر رہے ہو مگر یاد رکھو ! والذین امنو بالباطل وکفرو باللہ جو لوگ باطل پر یقین رکھتے ہیں اور خداوندی کی توحید کا انکار کرتے ہیں اولیک ھم الخسرون یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ یہ بڑے بدبخت لوگ ہیں جو جھوٹی باتوں کو تو مانتے ہیں مگر خدا کی وحدانیت۔ اس کی وحی اور نبیوں کی رسالت کا انکار کرتے ہیں ، ان کے حصے میں ہمیشہ کی ناکامی آئیگی۔
عذاب کا مطالبہ
فرمایا یہ لوگ تعصب اور عناد کی وجہ سے ویستعجلوک بالعذاب آپ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ اگر تو اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو ہم پر کوئی عذاب بھیج دے۔ اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفاً (بنی اسرائیل۔ 29) یا ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرادے۔ یا قامطر علینا حجارۃ من لسمائ (الانفال۔ 22) ہم پر آسمان سے چھتر برسائے دے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے ولولا اجل مسمیً لجاء ھم العذاب اور اگر یہ وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر فوراً عذاب آجاتا اور یہ خدا کی گرفت میں آجاتے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر امت اور قوم کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے فاذاجاء اجلھم لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون ( الاعراف۔ 42) پھر جب وہ وقت پورا ہوجاتا ہے تو ایک سکینڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا۔ فوراً گرفت شروع ہوجاتی ہے۔
فرمایا یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب طلب کرتے ہیں ولیا تینھم بغتۃً یہ یقینا ان کے پاس اچانک آجائے گا وھم لا یشعرون در انہیں پتہ بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح موت بھی اچانک آجاتی ہے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا مگر انسان موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اقوام کو شکست بھی اچانک ہی آجاتی ہے۔ اللہ نے فرعونیوں کو سزا دی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اتنی جلدی سارے کے سارے غرق ہوجائیں گے۔ جب مکہ والوں کا وقت پورا ہوگیا تو حضور ﷺ دس ہزار قدسیوں کی جماعت کے ساتھ عازم مکہ ہوئے جب کہ وہ بالکل بیخبر تھے حتیٰ کہ مسلمانوں کی جماعت مرانطہران تک پہنچ گئی۔ اب مکہ والوں کو علم ہوا کہ ان کی سزا کا وقت آگیا ہے۔ خیبر کے یہودی بھی اسی طرح اچانک گرفت میں آئے۔ وہ صبح سویرے حسب معمول اپنے توحرے اور بیلچے وغیرہ لے کر اپنے کھیتوں کی طرف کام پر جا رہے تھے کہ اچانک خدائی لشکر ان کے سروں پر پہنچ گیا۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ موت کا اور سزا کا ایک وقت مقرر ہے جب وہ آجاتا ہے تو پھر ڈھیل نہیں ملتی اور کام تمام ہوجاتا ہے ، فرمایا یہ لوگ عذاب مانگتے ہیں مگر وہ اپنے وقت پر اچانک آجائے گا۔
کفار کی جہنم رسیاکی
پھر فرمایا یستعجلوک بالعذاب یہ لوگ آپ سے جلدی عذاب طلب کرتے ہیں۔ انہیں جان لیناچاہئے کہ وہ عذاب آکر رہیگا وان جہنم لمحیطۃ بالکفرین اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرنے والی ہے بس مرنے کی دیر ہے۔ فوراً جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ اس دن اس کی حالت یہ ہوگی یوم یغشھم العذب من فوقھم ومن تحت رجھم کہ اوپر سے بھی اور پائوں کے نیچے سے بھی ان کو اللہ کا عذاب ڈھانپ لے گا۔ ہر طرف آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے ۔ جس طرح آج یہ لوگ کفر ، شرک اور معاصی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ایمان اور توحید سے دور ہیں۔ اسی طرح عذاب ان کو ہر طرف سے گھیرلے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا۔ ویقول ذوقوا ما کنتم تعملون اب اپنے اعمال کا مزہ چکھو۔ یہ تمہاری کارکردگی کے بدلے میں تمہیں سزا دی جارہی ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں مانعین زکوٰۃ کے متعلق آتا ہے کہ ان کا مال قیامت والے دن سانپ بن کر ان کے گلے میں لٹک جائیگا اور انہیں کاٹے گا اور وہ بول کر کہے گا انا کنزک انا مالک میں تیرا مال اور خزانہ ہوں جسے تو سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا۔ اور اس میں سے اللہ اور بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتا تھا۔ وہ شخص چیخے چلائے گا مگر اب اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
ہجرت کا حکم
دوسری طرف ایمان والوں کو تسلی بھی دی جارہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے یعبادی الذین اٰمنو اے میراے ایماندار بندو ! ان ارضی واسعۃ بیشک میری زمین کشادہ ہے فایای فاعبدون لہٰذا خالص میری ہی عبادت کرو۔ اگر تمہیں کفار مکہ کی سرزمین میں رہنے نہیں دیتے تو یہاں سے ہجرت کرجائو۔ دین میں ہجرت کو بھی بہت بڑا مقام حاصل ہے۔ ساری زمین اللہ کی ہے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ اللہ کی عبادت میں رکاوٹ بنتے ہیں تو اس سرزمین کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جائو۔ جہاں تم آزادی کے ساتھ اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود ہوسکو۔ دین اور آخرت کی خاطر وطن کو چھوڑنا ضروری ہوجاتا ہے۔ حقیت یہ ہے کہ ترک وطن بڑا مشکل مرحلہ ہے۔ لوگوں کو اپنے وطن کے ساتھ انس ہوتا ہے ۔ ان کی زمین ، مکان ، دکان ، کاروبار ہر چیز سے پیار ہوتا ہے۔ انسان کی رشتہ داری اور برادری ہوتی ہے ، یار دوست ہوتے ہیں۔ آب و ہوا موافق ہوتی ہے۔ ان تمام چیزوں کو خیر آباد کہہ کر دوسری جگہ چلے جانا جہاں یہ چیزیں فوری طور پر میسر نہیں آتیں ، ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے مکہ کے مسلمان جب ہجرت کرکے مدینہ طیبہ پہنچے تو ان کو بھی مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہونے لگے۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی کہ مولا کریمہ ! جس طرح ان کو مکہ محبوب اور موافق تھا۔ اسی طرح مدینہ کو بھی بنادے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ہجرت کی طرف بھی اشارہ کردیا ہے۔
ہجرت کی فرضیت
جب کا فر لوگ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیں۔ ان کا غلبہ اتنا شدید ہو کہ مسلمان شعائر اسلام بھی ادا نہ کرسکیں۔ نہ اذان دے سکیں ، نہ نماز با جماعت ادا کرسکیں تو ایسی حالت میں ہجرت فرض عین ہوجاتی ہے۔ مکہ میں یہی حالات پیش آرہے تھے جب اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو ہجرت کا حکم دیا۔ مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) لکھے ہیں کہ ہجرت دو وجہ سے فرض ہوتی ہے ایک وجہ یہ ہے کہ کوئی اہل ایمان اپنے دین اور ایمان کی حفاظت نہ کرسکے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ایسی جگہ سے چلا جائے۔ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے اس وجہ کی بنا پر مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کی۔ ایسے حالات میں جو شخص ہجرت کی استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتا۔ اس کی سزا جہنم ہے جیسے سورة النساء میں فرمایا فاولیک ماوھم جھنم ( آیت 79) شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر ہجرت اس وقت بھی فرض ہوجاتی ہے جب کسی مقام پر اس کے لیے رزق حلال حاصل کرنا محال ہوجائے یا وہ گناہ سے نہ بچ سکے۔ ہجرت کی فرضیت کے یہ دو مقامات ہیں۔
موت کا پروانہ
فرمایا یاد رکھو ! کل نفس ذائقۃ الموت ہر جان کو موت کا ذوائق چکھنا ہے۔ ہر نیک و بد کو موت کا پیالہ پینا ہے ثم الینا ترجعون پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے۔ ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں پیش ہو کر اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ لہٰذا دنیا میں ایسا عمل اختیار کرو جو اللہ کے ہاں پسندیدہ ہو اور جس کی وجہ سے اللہ کی گرفت سے بچ جائو۔ دنیا میں ایمان اور توحید کے بعد نیک اعمال انجام دو ۔ کفر شرک اور معاصی سے بچ جائو تو خدا کی نعمتوں سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مستفید ہونے والے بن جائو گے۔
اہل ایمان کے لیے انعامات
آگے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے۔ والذین اٰمنو وعملو الصلحت اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دئیے۔ ایمان سے مراد صحیح عقیدہ توحید ہے اور اچھے اعمال میں نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج ، جہاد ، قربانی اور صدقہ خیرات وغیرہ امور ہیں۔ فرمایا ایسے لوگوں کو لنبوئتھم من الجنۃ غرفاً ہم ضرور جنت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے۔ حدیث شریف میں بالاخانوں کی بڑی تعریف آئی ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کی دیواریں ایسی شفاف ہوں گی کہ اندر کی چیز باہر سے اور باہر کی چیز اندر سے صاف نظر آئے گی۔ ایک دیہاتی آدمی نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ بالاخانے کن لوگوں کو ملیں گے۔ تو آپ نے فرمایا لمن الان الکلام واطعم الطعام وادم الصیام وصلی والناس نیام یہ ان لوگوں کو میسر ہوں گے جو محتاجوں کو کھانا کھلائیں گے نفلی روزے رکھیں گے ، خوش اخلاقی سے کام کریں گے اور ایسے وقت میں نماز پڑھیں گے جب لوگ سو رہے ہوں گے۔ فرمایا یہ ایسے بالا خانے ہوں گے تجری من تحتھا الانھر جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گے۔ خلدین فیھا وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے یعنی وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے۔ نعم اجر العملین یہ عمل کرنے والوں کا نہایت ہی اچھا بدلہ ہوگا۔ ہر عامل کا عمل نتیجہ خیز ثابت ہوگا اور اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کریگا بشرطیکہ اس کی تہ میں ایمان اور اخلاص موجود ہو۔
صبر وتوکل
فرمایا یہ ان عاملین کا تذکرہ ہے الذین صبروا جنہوں نے ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کرکے صبر کا مظاہرہ کیا ، مخالفین کی ایذائیں جھیلیں ، وطن سے ہجرت کی اور دیگر مصائب برداشت کیے۔ اللہ کی توحید ، خدا کا ذکر ، اس کی نعمتوں کا شکر اور نما ز کی طرح صبر بھی ہمارے دین کا بہت بڑا اصول ہے۔ صبر مصیبت کے وقت بھی کرنا پڑتا ہے اور عبادت کے وقت بھی صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ نفسانی خواہشات اور رسومات باطلبہ کے ترک کرنے میں بھی صبر کی ضرورت پڑتی ہے جو شخص صبر نہیں کرتا وہ ناکارہ ہوجاتا ہے۔
فرمایا کہ آخرت کے انعام ان لوگوں کا حصہ ہیں جنہوں نے صبر کیا وعلیٰ ربھم یتولکون اور جنہوں نے اپنے پروردگار پر بھروسہ کیا جن کو یقین ہے کہ سارا اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی قادر مطلق اور علیم کل ہے اور وہی وحدہ لاشریک ہے اور نیکی کا بدلہ دینے والا بھی وہی ہے جو لوگ دنیا کی زندگی میں اپنی کوشش کو جاری رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد کرتے رہے ان کو جنت میں یقینا اعلیٰ درجات حاصل ہوں گے۔
Ayahs 29:60–63ربطہ آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کی مثالیں بھی بیان فرمائیں کہ اس نے اپنے جلیل القدر بندوں کو کس طرح آزمائش میں ڈالا پھر کفرو شرک کا رد کیا ، نبوت و رسالت پر معترضین کے اعتراضات کے جوابات دئیے۔ پھر ابتلا ہی کے ضمن میں ہجرت کا مقام بیان فرمایا اور اہل ایمان کو حکم دیا کہ جب کفار اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ کردیں اور انہیں دینی شعائر بھی ادا نہ کرنے دیں تو موخر الذھر کا فرض ہوجاتا ہے کہ ایسی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ ہجرت کر جائے کیونکہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضرت زبیر بین العوامہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا البلاد بلاد اللہ والعباد عباد اللہ فحیث ما کسبت خیراً فافم یعنی شہر بھی اللہ کے ہیں اور بندے بھی اسی کے ہیں ، لہٰذا جہاں تمہیں بہتری نصیب ہو وہاں جا کر قیام کرو۔ یعنی اگر کسی مقام پر کفار کا سخت غلبہ ہے تو دوسری جگہ چلے جائو۔
اس کے علاوہ اللہ نے اہل ایمان کے اچھے انجام کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی کہ ہر نفس پر موت وارد ہونے والی ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر اہل ایمان اپنا وطن ، برادری ، کاروبار ، مکان ، دکان وغیرہ چھوڑ کر ہجرت کریں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں عالیشان محل عطا فرمائیگا ، جو کہ اعمالِ حسنہ انجا م دینے والوں کا صلہ ہے۔ ایسے ایمان والے کہ جن کا خاصہ صبر علی المصائب اور توکل علی اللہ ہوتا ہے۔
روزیٔ سانی کی ذمہ داری
ہجرت کے نتیجے کے طور پر انسانی ذہن میں یہ بات ہو سکتی ہے کہ جب آدمی اپنا گھر بار ، عزیزو اقارب ، کاروبار چھوڑ کر چلا جائے گا تو اس کی گذر اوقات کیسے ہوگی ؟ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے روزی رسانی کا اصول بیان کردیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکاین من دابۃ لا تحمل رزقھا زمین میں چلنے پھرنے والے بہت سے جانور ہیں جو رزق کو اپنی پشتوں پر نہیں اٹھاتے پھرتے ، بلکہ اللہ یرزقھا وایاکم اللہ ہی رزق پہنچاتا ہے ۔ اُن جانوروں کو بھی اور تمہیں بھی۔ رزق رسانی کا اختیار اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کاروبار ، ملازمت ، کھیتی باڑی یا محنت مزدوری وغیرہ سے روزی ملتی ہے حالانکہ وسائل رزق تو اللہ کے پاس ہیں۔ وہ اسباب پیدا کرتا ہے تو انسان کی محنت بھی کارآمد ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہو تو اپنی پوری جدوجہد کے باوجود انسان روزی کا بندوبست نہیں کرسکتا۔ سورة الذریت میں ہے۔ وفی السماء رزقکم وما توعدون (آیت۔ 22) بیشک اللہ تعالیٰ ہی رزق اور مضبوط قوت کا مالک ہے جو لوگ رزق کو اپنے اختیار میں سمجھتے ہیں اس پر حرص کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ غلط ہے خواہش کے مطابق کسی کو روزی نہیں ملتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا انتظام ہے کہ وہ مصلحت کے مطابق جس کو جتنی روزق چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔
ابن ابی … کے حوالے سے امام ابن کثیر ، امام … اور بعض دوسرے مفسرین نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں حضور ﷺ کے ہمراہ ایک باغ میں داخل ہوا۔ آپ نے اس باغ میں سے کھجوریں تناول فرمانا شروع کیں اور مجھے بھی کھانے کی دعوت دی میں نے عرض کیا لا اشتھی حضرت ! مجھے تو بھوک نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا لکنی اشتھی کہ مجھے اس وقت کھانے کی خواہش ہے کیونکہ آج چوتھا دن ہے کہ میں نے کچھ نہیں کھایا۔ پھر فرمایا اے ابن عمر ؓ اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو وہ مجھے قیصرو کسریٰ سے زیادہ خزانے عطا کردے ، مگر میں یہ نہیں چاہتا میں تو اس چیز کو پسند کرتا ہوں کہ اشبع یوماً و اجوع یوماً کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھائوں اور ایک دن بھوکا رہوں ، جب کھانے کو مل جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا اور نہیں ملے گا تو صبر کروں گا کہ اس پر مجھے اجر ملے گا۔ فرمایا ، اس وقت کیا حال ہوگا جب لوگ سال بھر کے لیے اناج وغیرہ وغیرہ کرکے رکھیں گے۔ یعنی لوگوں کا یقین اتنا کمزور ہوجائے گا ، ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ابھی ہم اسی باغ میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی وکاین من…وایاکم
ذخیرہ اندوزی کا مسئلہ
اسی بناء پر عام حالات میں اناج وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی پسندیدہ نہیں ہے البتہ اگر اناج کے ضائع ہوجانے کا خطرہ ہو تو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت یوسی (علیہ السلام) نے اپنے زمانے میں ایسا کیا تھا۔ ترمذی شریف میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے۔ لاید خن شیئاً تغد یعنی حضور ﷺ کوئی چیز کل کے لیے ذخیرہ بنا کر نہیں رکھتے تھے۔ البتہ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ خیبر یا فدک کی زمین کی پیداوار کا اناج آتا تو حضور ﷺ اپنی ازواج مطہرات میں سال بھر کا غلہ تقسیم فرمادیتے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ ازواج مطہرات اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتیں مگر وہ اسے ذخیرہ بنا کر نہیں رکھتیں تھیں بلکہ فی سبیل اللہ خرچ کردیتیں اور خود خدا پر توکل کرکے گزر اوقات کرتیں۔ حضرت سلیما فارسی ؓ کا بھی یہی معمول تھا کہ وہ اپین گورنری کے دوران بیت المال سے وظیفہ تو وصول کرلیتے مگر سارے کا سارا اللہ کے راستے میں خرچ کردیتے اور خود محنت مشقت کی کمائی سے گزر اوقات کرتے۔ چناچہ امام سفیان اب عینیہ کا قول ہے کہ تمام مخلوق میں انسانوں ، چیونٹیوں اور چوہوں کے سوا کوئی مخلوق ذخیرہ اندوزی نہیں کرتی۔ اس بیماری کا آغاز انسانوں میں یہودیوں سے ہوا اور انہوں نے دنیا میں باقی لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دی۔ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے عام لوگوں کو غلے کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ المحتکر ملعون یعنی ذخیرہ اندوز ملعون ہے جو محض اس لیے ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تاکہ غلے کی مصنوعی قلت پیدا کرکے اس کے دام بڑھائے جائیں اور مناسب وقت پر زیادہ قیمت وصول کی جائے۔ حضور ﷺ نے بھی یہ فرمایا و الجالب مرزوق جو شخص کھینچ کر مال منڈی میں لاتا ہے تاکہ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق خریداری کرسکیں اور غلے کی قلت پیدا نہ ہو تو فرمایا ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ مزید روزی دیتا ہے اور اس پر خدا کی رحمت نازل ہوتی ہے۔
توکل علی اللہ
حضرت عمر ؓ کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ شریف میں موجود ہے کہ حضور ﷺ ے فرمایا ، لوگو ! لوانکم تتوکلون علی اللہ حق توکلہ لرزقکم کما یرزق الطیر یعدو ا خما صاو و تروح بطانا اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرتے جس طرح توکل کا حق ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی اسی طرح رزق پہنچاتا ہے جس طرح پرندوں کو پہنچاتا ہے۔ وہ صبح کو خالی پیٹ گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ آخر وہ بھی تو اللہ کے بھروسے پر ہی زندگی گزارتے ہیں۔ وہ کونسا ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں ما من شئی یقربکم من الجنۃ ویباعدکم من النار الا امرتکم بہ لوگو ! میں نے ہر وہ چیز جو تمہیں جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کرتی ہے۔ وہ تمہیں بتلا دی ہے اور ہر وہ چیز جو تمہیں جنت سے دور اور دوزخ کے قریب کرتی ہے اس سے تمہیں منع کردیا ہے۔ پھر فرمایا الا ان روح القدس نفث فی روعی ا ن لنفس لن تموت حتی تستکمل روقھا سنو ! جبرائیل (علیہ السلام) ے میرے جی میں یہ بات ڈال دی ہے کہ کوئی جاندار اس وقت تک موت سے ہمکنار نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے حصے کا رزق مکمل طور پر حاصل نہیں کرلیتا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب کسی انسان کی تخلیق ہوتی ہے تو فرشتے اپے رجسٹروں میں درج کرلیتے ہیں کہ مارزقہ ما اجلہ ما عملہ شقی او سعید اس شخص کو روزق کتنی ملیگی۔ اس کی عمر کتنی ہوگی اور عملی طور پر یہ بدبخت ہوگا یا خوش بخت۔ اسی لیے حضور ﷺ ے۔ مزید فرمایا الا فاتقو اللہ واجملو فی الطلب سو ! اللہ سے ڈرو اور روزی اچھے راستے سے تلاش کرو۔ اور اگر کسی وقت روزی کے حصول میں تاخیر ہوجائے گی تو گناہوں کے ذریعے اسے تلاش نہ کرنے لگو کیونکہ لا یدرک ما عند اللہ الا بطاعتہ اللہ کے پاس جو چیز ہے وہ اس کی اطاعت سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ معصیت کے ساتھ وہ چیز حاصل نہیں کی جاسکتی۔ بہرحال ہر انسان بلکہ ہر جاندار کی روزی تو اللہ کے ہاں مقرر ہے لہٰذا اسے اسکی تلاش میں ناجائز ذرائع اختیار نہیں کرنے چاہئیں۔
خاندانی منصوبہ بندی
یہ آیت کریمہ خاندانی منصوبہ بندی کے نظریہ کو بھی باطل قرار دیتی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ انسانی آبادی کو بڑھنے سے روکاجائے۔ ایسی دوائیں استعمال کی جائیں یا نس بندی کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے جو مانع حمل ہو آجکل یہ ساری منصوبہ بندی اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہورہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا میں خوراک کی قلت ہے اور اگر آبادی بڑھے گی تو بھوکھوں مریگی۔ یہ نظریہ دنیا میں ایک انگریز مالتھوس نے قائم کیا تھا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے آبادی پر کنٹرول کیا جائے اور اس طرح خوراک کا مسئلہ حل کیا جائے۔ نزول قرآن کے زمانہ میں عرب کے لوگ بھی قتل اولاد کے مرتکب ہوتے تھے۔ ان کے پیش نظر دو وجوہات تھیں۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ بچیوں کو محض اس لیے قتل کردیتے تھے کہ وہ اسے عار سمجھتے تھے کہ کوئی ان کا داماد بنے۔ اور دوسری وجہ یہی معاشی تھی کہ بچے زیادہ ہوں گے تو ان کی روزی کہاں سے آئیگی اس نظریہ کے برخلاف اللہ نے حکم دیا ولا تقتلو اولادکم خشیۃ املاق نحن نرقھم وایاکم ( بنی اسرائیل ، 13) اپنی اولاد کو فقر کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ انکو روزی ہم دیتے ہیں اور تمہیں بھی روزی پہنچانا تو ہمارے ذمہ ہے تم کیوں فکر کرتے ہو ؟ یہاں فرمایا کہ کتنے جاندار ہیں جو اپنی روزی اپنی پشتوں پر نہیں لاے پھرتے بلکہ انہیں اور تمہیں سب کو ہم ہی روزی پہنچاتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ جانداروں کے لیے روزی کی کمی نہیں بلکہ کار پروانِ اقتدار اس کی تقسیم غلط طریقے سے کر رہے ہیں ۔ اگر خوراک کی تقسیم کا نظام درست ہوجائے تو کوئی آدمی بھوکا نہ رہے۔ مگر یہاں تو حالت یہ ہے کہ صاحب ثروت لوگ دن میں چھ چھ مرتبہ کھاتے ہیں جب کہ دوسروں کو ایک وقت کا کھانا بھی با افراطِ میسر نہیں۔ اگر یہی لوگ صرف دو وقت کھائیں اور باقی چار وقت کا کھانا دوسرے لوگوں کے لیے چھوڑ دیں تو لوگوں میں فاقہ کشی کی نوبت نہ آجائے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عمومی حکمت کا تقاضا ہے کہ نسل انسانی کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے جیسے فرمایا ھو الذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون ( الملک۔ 42) خدا تعالیٰ کی ذات وہی ہے جو تمہیں زمین میں پھیلاتا ہے اور پھر تم سب اس کی طرف اکٹھے کیے جائو گے اس کے برخلاف جب اس زمانے کے بڑے بڑے منصوبہ ساز آبادی کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو اس سے مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ترقی یافتہ ملکوں میں فاقہ کشی نہیں ہوتی اور کیا وہاں کوئی بیماری نہیں ہوتی ؟ یہ مسائل محض غریب ممالک میں نہیں ہیں کہ ان میں خاندانی منصوبہ بندی کو رائج کیا جائے بلکہ یہ مسائل تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں مگر وہاں ایسی کوئی پلاننگ نہیں کی جاتی۔
تقسیم رزق کی حکمت
الغرض ! تقسیم رزق کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے اور وہ اسے خاص حکمت کے تحت تقسیم کرتا ہے ، اگر اللہ تعالیٰ ہی کسی کو بھوکوں مارنا چاہے تو پھر دنیا میں کون ہے جو ایک دانہ بھی پہنچا سکے۔ روزی کی کم و بیش تقسیم کی اللہ نے یہ حکمت بھی بیان فرمادی ہے ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء انہ بعبادہ خبیر بصیر (الشوری۔ 72) اگر اللہ تعالیٰ سب کے لیے روزی کے دروازے یکساں کشادہ کردیتا تو لوگ سرکشی پر اتر آتے۔ وہ تو ہر ایک کی روزی اپنے اندازے کے مطابق نازل کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے اور ان کو دیکھ رہا ہے ان کی مصلحت کے مطابق ان کو روزی پہنچاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کی مصلحت کے مطابق جہاں روزی کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر وہاں کسی کی منصوبہ بندی کا کام نہیں کرتی بلکہ ویرزقہ من حیث لا یحتسب (الطلاق۔ 3) وہ ضرورت مند کی ضرورت ایسی جگہ سے پوری کردیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ کوئی پرندہ اپنے منہ میں دانہ اٹھائے اپنے گھونسلے کی طرف جارہا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اس کے منہ سے دانہ گرا کر گندی نالی میں موجود ایک معذور کپڑے کے منہ میں ڈال دیا جو بیچارہ کھانے کے لیے کہیں جا بھی نہیں سکتا تھا۔ بسا اوقات اللہ تعالیٰ طاقتوروں سے چھین کر کمزوروں کو بھی دے دیتا ہے مگر یہ اس کی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے وھو السمیع العلیم اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
درس…
فرمایا ولن سالتھم من خلق السموت والارض اگر آپ ان مشرکوں سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے و سخر الشمس والقمر اور سورچ اور چاند کو کس نے کام میں رکا رکھا ہے لیقولو اللہ تو یہ لوگ ہی کہیں گے کہ وہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا خالق اور مدبر ہے۔ فرمایا اگر اس چیز کو تسلیم کرتے ہو فانی یوفکون تو پھر یہ کدھر پھیرے جاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو کیوں تسلیم نہیں کرتے اور اس کے ساتھ شریک کیوں نہیں بناتے ہو ؟
فرمایا اللہ یسبط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر لہ اللہ تعالیٰ ہی رزق کشادہ کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے اور روزق تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے یہ تو اس کی مرضی اور حکمت پر موقوف ہے۔ ان اللہ بکل شیء علیہم بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ وہ اپنے علم کے مطابق ہی تمام فیصلے کرتا ہے پھر فرمایا ولن سالتھم من نزل من السماء ماء اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان کی طرف سے پانی کو نازل کرتا ہے فاحیا بہ الارض بعد موتھا پھر اس پانی کے ذریعے مردہ زمین کو نئی زندگی بخشتا ہے۔ اس میں سبزہ ، اناج ، پھل اور پھول پیدا ہوتے ہیں۔ لیقولن اللہ اس کا جواب بھی یہی دیں گے کہ یہ سب کچھ بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کو اس قدر قادر مطلق سمجھتے ہو تو پھر شرک کے کیوں مرتکب ہوتے ہو ؟
فرمایا کفر اور شرک کرنے کی بجائے قل الحمد للہ یوں کہو کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہی ہیں۔ وہی خالق ہے ، وہی سبب اور سباب ہے۔ جب پانی برسانے اور روزی پہنچانے والا وہی ہے تو معبود برحق بھی وہی ہے بل اکثر ھم لا یعقلون بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرکوں کی اکثریت اللہ کی عطا کردہ عقل کو بروئے کار نہیں لاتی جس کی وجہ سے سوچنے سمجھنے سے عاری اور شرک کی مرتکب ہوتی ہے۔
Ayahs 29:64–66ربطہ آیات
ابتلا اور آزمائش کے ذکر اور اس کی مثالیں بیان کرنے کے بعد اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا کہ واضح دلائل کی موجودگی میں ان کا توحید سے انکار اور کفر و شرک پر اصرار بڑی زیادتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام جانداروں کے متعلق فرمایا کہ سب کا روزی رساں وہی ہے۔ پھر ارض و سماء کی تخلیق اور شمس و قمر کی تسخیر کے متعلق فرمایا کہ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ یہ چیزیں تو محض اسباب ہیں وگرنہ حقیقی روزی رساں تو اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق کسی کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور کسی کی تنگ کردیتا ہے۔ پھر اللہ نے بارش کے نزول کی طرف توجہ دلائی کہ آسمان کی طرف سے پانی برسا کر خشک زمین کو زندہ کرنا بھی اسی کا کام ہے فرمایا اس بات کو سب کافر اور مشرک بھی تسلیم کرتے ہیں مگر اس کے باوجود اللہ کی وحدانیت کو نہیں مانتے بلکہ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ فرمایا یہ لوگ عقل سے کام کیوں نہیں لیتے ؟
دنیا ایک کھیل تماشا
اب اللہ تعالیٰ نے توحید کے انکار کے اسباب میں سے دنیا کی زندگی اس کی زینت اور چہل پہل کا ذکر کرکے فرمایا کہ اسی میں مبتلا ہو کر اکثر لوگ ایمان اور توحید کو اختیار کرنے کی بجائے کفر اور شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ فرمایا وما ھذہ الحیوۃ الدنیا الا لھو و لعب اور نہیں ہے یہ دنیا کی زندگی مگر جی کا بہلانا اور کھیل تماشا۔ انسان اس چند روزہ عارضی دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر دائمی زندگی کو بھول جاتے ہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں لہو بچوں کے کھیل کو کہا جاتا ہے جب کہ لعب نوجوانوں کے کھیل پر بولا جاتا ہے۔ بہر حال دنیا کی زندگی کھیل تماشے سے زیادہ نہیں ہے۔ کھیل محض ایک بناوٹی ڈرامہ ہوتا ہے جس میں حقیقت کی کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ڈرامہ میں کام کرنے والے کردار محض وقتی طور پر اپنا اپنا کردار پیش کرتے ہیں اور جب کھیل ختم ہوتا ہے تو پھر نہ وہ بادشاہ بادشاہ ہوتا ہے اور نہ مجرم حقیقت میں مجرم ہوتا ہے کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اس کھیل تماشے کی سرپرستی خود حکومتیں کر رہی ہیں۔ ان کے لیے وزارتیں قائم کی جاتی ہیں ، فنڈز مختص کئے جاتے ہیں مگر حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح دنیا کا حال ہے جو نہی یہ زندگی ختم ہوتی ہے تو کھیل ختم ہوجاتا ہے ، مگر انسان ہیں کہ اسی میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جاتے ہیں۔
دنیا کی بےثباتی
اس دنیا کی بےثباتی کو حکما ، ادیبوں اور شاعروں نے اپنے اپنے انداز کے مطابق بیان کیا ہے چناچہ مولانا جامی فرماتے ہیں…؎
دلا تاکے دریں کا نے مجازی
کئی مانند طفلاں خاک بازی
اے دل ! تو کب تک اس مجازی عمل میں بچوں کی طرح خاک سے کھیلتا رہے گا ، بچے مٹی کے یا ریت کے گھروندے سے بنا کر کھیلتے ہیں اور پھرجاتے وقت پائوں کی ٹھوکر سے انہیں توڑ پھوڑ دیتے ہیں۔ دنیا کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔
حافظ شیرازی صاحب بھی فرماتے ہیں…؎
مرادر منزل جاناں چرامن و عیش چوں ہر دم
۔ جرس فریاد می دارد کہ بربندیا محمل ہا
اس منزل جاناں میں عیش و آرام کیسے حاصل ہوسکتا ہے جب کہ گھنٹی بج رہی ہے اور ہر وقت خبردار کیا جارہا ہے کہ کجا دے کس لو ، عنقریب کوچ کرنا ہے ، مطلب یہ کہ اس عارضی زندگی کے خاتمے کے لیے ہر آن حکم خداوندی کا انتظار رہتا ہے۔ تو ایسی دنیا کی بےثباتی پر لوگ غور کیوں نہیں کرتے ؟
تامل فی الوجود بعین فر
تری الدنیا جمیلۃ کا لخیال
اگر غور کی آنکھ سے دیکھو تو اس کمینی دنیا کو خیال سے زیادہ نہیں پائو گے۔ مطلب یہ کہ ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے تو کتنی دیر قائم رہتا ہے ؟ بس جلدی ہی زائل ہوجاتا ہے دنیا کی حقیقت بھی یہی ہے کہ اس کی ہر چیز جلد فنا ہوجانے والی ہے۔ ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والا کرام (الرحمن۔ 72) اور خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔
اقبال نے بھی کہا ہے…؎
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپیدر دیکھ
انسان ایک شعلہ یا چنگاری کی مانند ہے جو کہ ذرا سی دیر کے لیے بھڑکتا ہے اور پھر ختم ہوجاتا ہے۔ انسانی زندگی کی حیثیت اس شعلے سے زیادہ نہیں ہے۔
شیخ سعدی نے بھی بڑے پیارے انداز میں بات کی ہے…؎
جہاں بر آب نہاد ست زندگی برباد
اے من غلام آں کہ دل برو نہ نہاد
جہان کو تو اللہ نے پانی پر رکھا ہے اور انسانی زندگی کی بنیاد ہوا پر قائم ہے۔ جب تک سانس آتا رہتا ہے چلتی رہتی ہے اور جونہی سانس یعنی ہوا رُک گئی یہ زندگی بھی ختم ہوگئی یہ اتنی ناپائیدار ہے۔ پھر فرماتے ہیں…؎
کس را بقائے دائم وعہد مقیم نیست
بقائے دائم و عہد مقسیم تست
کسی ذات کے لیے بقائے دائم او عہد قائم نہیں ہے۔ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کہ وہی قائم و دائم ہے اور اسی کا عہد مقیم ہے…؎
کم باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے ، باقی جو میں تیار بیٹھے ہیں
ہر روز مشاہدہ میں آتا ہے کہ کوئی آج جارہا ہے تو کوئی کل ، کوئی صبح گیا اور کوئی شام زندگی اتنی ناپائیدار چیز ہے کہ ایک سکینڈ بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا ، بہر حال اللہ تعالیٰ نے دنیا کو کھیل تماشا قرار دیا اور اس کی بےثباتی کا ذکر فرمایا ہے۔
آخرت کا کنہ
فرمایا دنیا کی بےثباتی کے مقابلہ میں وان الدار لآخرۃ لھی لحیوان آخرت کا گھر ہی مستقبل قرار گاہ حیات ہے۔ دنیا تو محض لہو و لعب ہے۔ اگر اس عارضی زندگی کی پونجی کو کسی اچھے کام میں لگائے گا تو آخرت کی ہمیشہ کی زندگی اچھی ہوجائے گی ورنہ خسارے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگی۔ سورة اعلیٰ میں اللہ کا ارشاد ہے بل توثرون الحیوۃ الدنیا (61) والآخرۃ خیر وبقی (71) تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت ہی بہتر اور دیرپا ہے لہٰذا اسی کی طرف دھیان دینا چاہئے اور اسی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اللہ نے اس دنیا کو آخرت کی کھیتی بنایا ، جو کچھ یہاں بوئو گے وہی آگے جا کر کاٹو گے لو کانو یعلمون اگر یہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے تو پھر کامیاب ہوجائوگے۔ کاش کہ تم کفر و شرک اور معصیت کا راستہ چھوڑ کر ایمان اور توحید کا راستہ اختیار کرتے اور پھر دائمی زندگی میں بہتری حاصل کرتے۔
تری اور خشکی میں مشرک کا نظریہ
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا شکوہ بیان فرمایا۔ فاذا رکبو فی الفلک جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں ۔ یعنی جب وہ کسی بحری راستے میں عازم سفر ہوتے ہیں اور ان کی کشتی یا جہاز طوفان میں گھر جاتا ہے یا کسی دوسرے حادثے کا شکار ہوجاتا ہے تو پھر دعو اللہ مخلصین لہ الدین تو پھر خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا اعتقاد رکھ کر مدد کے لیے صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ یہاں پر دین سے مراد اطاعت ہے۔ اس وقت ان کا ایمان یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا اس مصیبت سے نجات دینے والا کوئی نہیں ہے۔ جب سمندروں میں طوفان آتے ہیں تو ایک لاکھ ٹن وزی جہاز بھی سمندروں کی لہروں پر تنکے کی طرف تیرتا پھرتا ہے۔ پندرہ بیس سال پہلے سوارا نامی جہاز ڈوبا تھا جس میں بارہ سو آدمی سوار تھے مگر صرف اڑھائی سو کے قریب بچائے جاسکے۔ بچ رہنے والوں نے جہاز کی غرقابی کا جو منظر دیکھا اس قیامت صغریٰ کو وہی جانتے ہیں۔ غرضیکہ ایسے مشکل وقت میں بعض لوگ صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جیسا کہ عدی ؓ بن حاتم طائی کے واقعہ میں آتا ہے کہ جب کشتی طوفان میں پھنس گئی تو ملاحوں نے کہا اب صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ اس موقع پر کوئی دوسری ہستی کچھ نہیں کرسکتی۔ اسی بات سے عدی کے دل پر چوٹ لگی اور اس نے ارادہ کرلیا کہ اگر خشکی پر پہنچ گیا تو فوراً جا کر اپنا ہاتھ پیغمبر اسلام کے ہاتھ میں دے دوں گا۔
البتہ بعض شدید قسم کے مشرک ایسے بھی ہوتے ہیں جو بھنور میں پھنس کر بھی اللہ کی بجائے پیروں فقیروں کو پکارتے ہیں اور ان کے نام ہی کی دہائی دیتے ہیں۔ چناچہ آپ نے اس قسم کے نعرے سُنے ہوں گے یا باد الحق بیڑا دھک تاہم عام طور پر بڑے سے بڑا مشرک بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور مشکل وقت میں اسی کو پکارتا ہے۔ فرمایا فلما لجھم الی البر پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو طوفان سے بچا لیتا ہے اور خشکی کی طرف لے جاتا ہے اذاھم یشرکون تو یہ لوگ پھر شرک کرنے لگتے ہیں پھر دیکھیں چڑھتی ہیں ، نذر و نیاز ہوتی ہے ، کبھی داتا صاحب کی قبر پر حاضری دی جاتی ہے ، کبھی خواجہ صاحب کے ہاں اور کبھی کسی دوسرے قبر والے کے ہاں گویا طوفان سے بچانے والا یہی ہیں جس اللہ نے انہیں موت کی آغوش سے بچایا اس کو فراموش کردیا جاتا ہے۔
انجام کار
اللہ نے فرمایا ، یہ اس وجہ سے ہوتا ہے لیکفر وابما اتینھم تاکہ وہ انکار کردیں کہ اس چیز کا جو ہم نے انہیں دی ہے مطلب یہ کہ اللہ نے ان کی جا ن بچائی ان کی بحفاظت خشکی تک پہنچایا مگر وہ لوگ اللہ کے اس احسان کی ناقدری کرتے ہیں اور احسان فراموشی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے غیر اللہ کی نذر و نیاز دیتے ہیں اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے ولیتسمو تاکہ وہ فائدہ اٹھالیں اس چیز سے جو اللہ نے ان کو عطا کی ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لیکفرو اور لیستمتعو کا لام لام سببیہ ہے یعنی ان کے کفر اور فائدہ اٹھانے کا سبب یہ ہوگا کہ وہ سزا کے مستحق ٹھہریں گے بعض کہتے ہیں کہ لام امر ہے اور معنی یہ بنتا ہے کہ چاہے کہ یہ کفر کریں اور فائدہ اٹھائیں یعنی اگر یہ اسی طرف جانا چاہتے ہیں تو پھر چلے جائیں۔ اس قسم کا طرز تخاحب وعید کے لیے ہوتا ہے جیسے فرمایا اعملو ما شئتم ( حم سجدہ 4) جو تمہارا جی چاہتا ہے کرلو۔ ہم حساب لے لیں گے ، آخر ہمارے پاس ہی آنا ہے ، یہ وعید ہے بعض فرماتے ہیں کہ یہ لام عاقبت ہے یعنی یہ لوگ کفر کرتے ہیں اور اللہ کی نعمت کی ناقدری کرتے ہیں اور شکریہ ادا نہیں کرتے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ ہماری عطا کردہ چیزوں کے ناشکر گزار بن جائیں گے۔ اور اس دنیا کے مال و متاع سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے جو کہ بالکل عارضی چیز ہے۔ سورة … میں ہے قل تمتع بکفرک قلیلا انک من اصحب النار ( آیت 8) یہ اپنے کفر کیسا تھوڑا فائدہ اٹھا لیں ، انہیں بالآخر جہنم میں ہی جانا ہے فسوف تعلمون پس وہ عنقریب جان لیں گے پھر انہیں پتہ چلیگا کہ انہوں نے دنیا کی عارضی مہلت کو کس طرح ضائع کیا اور خدا تعالیٰ کی نعمت و شکرا دا کرنے کی بجائے کفر ، شرک اور شرکیہ رسومات ادا کرتے رہے گویا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دی۔