Ayahs 29:31–40ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے تھے۔ باوجود انتہائی کوشش اور محنت کے جب لوگوں نے لوط (علیہ السلام) کی دعوت کو تسلیم نہ کیا تو اپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اس مفسد قوم کے مقابلے میں ان کی مدد کرے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی۔ قوم کو کافی مہلت مل چکی تھی اور اب ان کی گرفت کا وقت آ چکا تھا۔
ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے خوشخبیری۔
اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کی ہلاکت پر مامور فرشتوں کو حکم دیا کہ پہلے وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جا کر انہیں اس پیرا نہ سالی میں بیٹے کی خوش خبری دیں اور پھر قوم لوط کی ہلاکت کے لیے ان کی بستی میں جائیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عجیب حکمت تھی کہ ایک طرف پوری قوم کو تباہ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے جس کی نسل سے عظیم قوم بنی اسرائیل کو پیدا کرنا مقصود تھا۔ اس واقعہ کی تفصیلات تو سورة ہود اور سورة حجر اور بعض دوسری سورتوں میں مذکور ہیں ، تا ہم یہاں پر نہایت اختصار کے ساتھ اس واقعہ کو محص عبرت کی خاطر بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولما جاء ت رسلنا ابراہیم بالبشری جب ہمارے بھیجے ہوئے قاصد ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لے کر آئے یہاں پر خوش خبری کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ دوسری سورتوں میں تفصیل موجود ہے کہ قاصد انسانی شکل میں جبرائیل ، میکائل ، اسرافیل (علیہ السلام) وغیرہ فرشتے تھے ، مگر ابراہیم (علیہ السلام) ان کو پہچان نہ سکے ، ان کو انسانوں کی صورت میں مہمان سمجھنا ، بچھڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت بھون کر مہمانوں کی خدمت میں پیش کردیا ۔ آپ یہ دیکھ کر پریشان ہوگئے کہ مہمان کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ۔ آخر مہمانوں نے اپنا تعارف خود کرایا کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ آپ کو بیٹے کی خوش خبری دیتے ہیں ۔ سورة الحجر میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرشتوں سے دریافت کیا قال فما خصبکم ایھا المرسلون ( آیت : 75) اے فرشتو ! تم کس مقصد کے لیے آئے ہو تو انہوں نے کہاقالو ا انا مھلکوا اھل مذہ القریۃ کہ ہم سدوم کی بستی والوں کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں ، کیونکہ ان اھلھا کانوا ظلمین اس بستی کے رہنے والے بڑے ظالم لوگ ہیں ، اور ان کی ہلاکت کا حکم ہوچکا ہے۔ بستی کی تباہی کی خبر سن کر ابراہیم (علیہ السلام) پریشان ہوگئے ۔ قال ان فیھا لوطا اور کہنے لگے کہ اس بستی میں تو اللہ کا نبی اور میرا بھتیجا لوط علیہ السلا م بھی ہے ، ان کا کیا ہوگا ۔ قالوا نحن اعلم بمن فیھا فرشتوں نے کہا کہ ہم خوب جانتے ہیں جو اس بستی میں مقیم ہے یعنی ہم لوط (علیہ السلام) کی شخصیت سے غافل نہیں ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق۔ لننجینہ واھلہ الا امراتہ ۔ ہم ضرور بچا لیں گے لوط (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو ماسوائے ان کی بیوی کے۔ کانت من الغبرین۔ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہے۔ بیوی کے پیچھے رہ جانے کی تفصیل سورة ہود میں موجود ہے کہ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا۔ فاسر باھلک بقطع من الیل ولا یلتفت منکم احد الا امراتک۔ کہ رات کے پچھلے حصے میں اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر بستی سے نکل جاؤ۔ اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سوائے تمہاری بیوی کے۔ یہی پیچھے رہنے والوں میں تھی کہ اس پر بھی وہی آفت پڑنے والی تھی جو باقی قوم پر نازل ہونے والی تھی۔ بہرحال فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دلا دی کہ ان کے گھر والے ، ماسوائے ان کی بیوی کے جو کافرہ تھی۔ بچ جائیں گے۔ چناچہ لوط (علیہ السلام) اپنی بچیوں کو لے کر رات کے پچھلے حصے میں بستی سے نکل گئے۔ آپ کی بیوی آپ کے ساتھ نہ گئی۔ چناچہ وہ بھی باقی لوگوں کے ساتھ ہی عذاب الہی کا شکار ہوئی۔
لوط (علیہ السلام) کی پریشانی : اسی واقعہ کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ولما ان جاءت رسلنا لوطا۔ جب ہمارے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ فرشتے نہایت حسین و جمیل نوجوان لڑکوں کی شکل میں تھے۔ بستی میں داخل ہو کر انہوں نے لوط (علیہ السلام) کا پتہ پوچھا اور آپ کے پاس پہنچ گئے انہیں دیکھ کر سیء بھم آپ بڑے ناخوش ہوئے۔ وضاق بھم ذرعا۔ اور آپ کا سینہ تنگ ہوا۔ آپ جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ بڑے بدبخت ہیں جو اپنی ہم جنسی کی خواہش کی تکمیل کے لیے مہمانوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔ لہذا آپ نے ان مہمانوں کی عزت کو غیر محفوظ خیال کرتے ہوئے سخت پریشانی کا اظہار کیا ، اور فرمانے لگے ھذا یوم عصیب۔ یہ تو بڑا مشکل دن آگیا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے بستی کے لوگوں کو اطلاع دے دی کہ ان کے گھر میں بڑے حسین و جمیل مہمان آئے ہیں ، چناچہ لوگ آپ کے گھر میں آنا شروع ہوگئے ۔ کوئی دیواریں پھلانگنے لگے اور بعض نے دروازے توڑ دیئے ، وہ کہتے تھے کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کرو تا کہ ہم اپنی خواہشات کی تکمیل کرسکیں ۔ لوط (علیہ السلام) نے ہر چند سمجھایا قال یقوم ھولا بناتی ھن اطھر لکم فاتقوا اللہ ولا تخزون فی ضیفی الیس منکم رجل رشید ( ہود : 87) اے لوگو ! یہ میری قوم کی لڑکیاں ہیں تمہارے لیے حلال میں ، خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کو بےآبرو نہ کرو ، کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں ہے ؟ مگر وہ بد طینت لوگ کہاں مانتے تھے کہنے لگے ما لنا فی بنتک من حق وانک لتعلم ما نرید ( ہود : 97) ہمیں تمہاری لڑکیوں سے کچھ غرض نہیں اور تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں لہٰذا مہمانوں کو ہمارے سپرد کرو۔
فرشتوں کی طرف سے تسلی
جب معاملہ اس حد تک طول پکڑ گیا تو فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو بازو سے پکڑ کر کہا کہ تم پیچھے ہٹ جائو ، ہم انسان نہیں فرشتے ہیں اور قوم کی تباہی پہ مامور من اللہ ہیں ، اور پھر جیسا کہ سورة القمر میں موجود ہے فطمسنا اعینھم ( القمر : 73) جبرئیل (علیہ السلام) نے ذرا ہاتھ مارا تو سارے حملہ آوروں کی آنکھیں اندھی ہوگئیں مگر اس کے باوجود ان کے ذوق معصیت میں فرق نہ آیا اور وہ ہاتھوں سے ٹٹول ٹٹول کر مہمانوں کو تلاش کرتے رہے ۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کی پریشان کو دیکھتے ہوئے تسلی دی وقالوا لا تخف ولا تحزن کہنے لگے کہ نہ خوف کھائو اور نہ غمگین ہو انا منجوک واھلک الا امراتک کانت من الغبرین ہم تجھے اور تیرے گھر والوں کو بچا لیں گے ماسوائے تیری بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہے۔
قوم کی ہلاکت
فرشتوں نے آخر کار لوط (علیہ السلام) کو صاف بتلا دیا انا منزلون علی ھن ھذہ القریۃ رجزا من السماء بما کانوا یفعلون ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ نافرمان اور شرارتی لوگ ہیں۔ چناچہ جیسا کہ پہلے عرض کیا ، فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے پچھلے حصے میں بستی سے نکل جائیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا پھر جب سورج چمکا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کردیا۔ اور اس کی صورت یہ تھی کہ ان نافرمان لوگوں کی بستیوں کو اوپر اٹھا کر کر پلٹ دیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش اور آگ کے شعلے بھی برسائے جس سے یہ ساری بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں یہ ساری بستیاں بحر میت کے اطراف میں آباد تھیں۔ خود بحر میت اس حد تک متاثر ہوا کہ اس کا پانی بھی زہریلا ہوگیا اور آج بھی اس پانی میں کوئی جانور زندہ نہیں رہ سکتا۔ فرمایا ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔ اور ہم نے ان بستیوں کو صاحب عقل لوگوں کے لیے نشان عبرت بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد صدیوں تک وہاں سے گزرنے والے ان بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھ کر عبرت حاصل کرتے تھے کہ یہاں پر کس قدر بدبخت لوگ آباد تھے ، جن پر خدا کا قہر نازل ہوا اور انہیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو سخت امتحان میں ڈالا اور آپ کے مخالفین کو نیست و نابود کردیا۔
قوم شعیب (علیہ السلام) کی ہلاکت :
فرمایا۔ والی مدین اخاھم شعیبا۔ اور اسی طرح ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے لوگوں کو اس طرح نصیحت کی۔ فقال یقوم اعبدوا اللہ۔ فرمایا اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو۔ وارجوا الیوم الآخر۔ اور آخرت کی امید رکھو یعنی اخرت کا خوف ہر وقت پیش نظر رکھو۔ ولاتعثوا فی الارض مفسدین۔ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ کفر اور شرک سے باز آجاؤ، تجارت میں دھوکہ نہ کرو۔ ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ لوگوں کے حقوق ضائع نہ کرو اور شرکیہ رسوم سے باز آجاؤ۔ قوم نے آپ کی کوئی بات نہ مانی بلکہ الٹا۔ فکذبوہ۔ آپ کو جھٹلایا۔ یعنی آپ کی نبوت و رسالت کا ہی انکار کردیا اور کہنے لگے اے شعیب ! ہمارے دین میں واپس آ جائو ، یہ روز روز کی تبلیغ چھوڑ دو ورنہ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰـشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَـآ ( الاعراف : 88) ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے ، انہوں نے اس طرح کی دھمکی بھی دی ولولا رھصک لرجمنک ( ہود : 19) اگر تیری برادری کا لحاظ نہ ہوتا تو ہم تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے ، تمہاری برادری کے لیے آدمی ہماری پارٹی سے متعلق رکھتے ہیں ، لہٰذا ہم ان کے لحاظ میں تمہارے خلاف انتہائی قدم اٹھانے سے گرزکر رہے ہیں ۔ بالآخر اس کا نتیجہ یہ ہوا فاخذتھم الرجفعۃ ان نافرمانوں کو زلزلے نے آپکڑا اور دوسری جگہ موجود ہے اس قوم پر دو قسم کا عذاب آیا ہے یعنی نیچے سے زلزلہ آیا اور اوپر سے سخت چیخ بھی آئی جس سے ان کے دل اور جگڑ پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے ، ایکہ والے بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم سے تھے ، اور آپ ان کی طرف بھی معبوث ہوئے تھے۔ سورة الشعراء میں ہے فلخذھم عذاب یوم الظلۃ (آیت : 981) ہم نے ان کو سائبان کے عذاب میں پکڑ لیا سیاہ بادل گھر کر آئے ، لوگوں نے سمجھا کہ اب بارش ہوگی ۔ جب لوگ اس سائبان نما بادل کے نیچے جمع ہوگئے تو اس سے آگ برسنے لگی جس نے سب کو بھسم کردیا ۔ بہرحال فرمایا کہ مدین والوں کو زلزلے نے پکڑ لیا فاصجوا فی درھم جمین پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرنے والے۔ ظاہر ہے کہ جب زلزلہ آتا ہے تو لوگوں کے قدم ٹک نہیں سکتے اور وہ گھٹنوں کے بل اوندھے منہ گرتے ہیں اس وقت اتنی دہشت طاری ہوتی ہے کہ پرندے بھی زمین پر پر پھیلا دیتے ہیں ۔
قوم عاد و ثمود
اس کے بعد اللہ نے قوم عاد اور ثمود کا ذکر فرمایا ہے۔ وعادا وثمود اور قوم عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کیا ۔ ان کی ہلاکت کی نشانی یہ ہے وقد تبین لکم من مسکنہم۔ کہ ان کے گھر تمہارے سامنے واضح ہوچکے ہیں۔ یہ قومیں پہاڑوں کو تراش تراش کر نقش و نگار والے عالیشان مکان تیار کراتے تھے۔ اللہ نے سب کو تباہ و برباد کردیا۔ فرمایا جب یمن اور تبوک کی طرف سفر کرتے ہو تو ان قوموں کی بستیوں کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو جس سے ان کی ہلاکت کا پتہ چلتا ہے۔ ان کے مکانات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے آسودہ حال لوگ تھے مگر ان کی بدبختی یہ تھی۔ وزین لھم الشیطان اعمالھم۔ کہ شیطان نے ان کے برے اعمال کو انہیں مزین کرکے دکھایا۔ فصدھم عن السبیل۔ اور اس طرح انہیں سیدھے راستے سے روک دیا یعنی ان کو نیکی کی طرف آنے ہی نہیں دیا۔ وہ اپنے قبیح افعال کو اچھا سمجھ کر انجام دیتے رہے اور بالآخر خدا تعالیٰ کی گرفت میں آگئے۔ فرمایا وکانوا مستبصرین۔ یہ بڑے ہوشیار لوگ تھے بظاہر بیوقوف نہیں تھے بلکہ بڑے بڑے صناع اور کاریگر تھے ، دنیا کے کاروبار کو خوب سمجھتے مگر آخرت کی زندگی سے بالکل بیخبر تھے۔
امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ عقل معاش میں تو بڑے طاق ہوتے ہیں مگر عقل معاد سے خالی ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں کافر ، مشرک اور ملحد قسم کے لوگ عقل معاش میں کمال درجے کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے سائنسدان ، پروفیسر اور فلاسفر ہیں ، تجارت کے معاملے میں بڑے تجربات رکھتے ، بڑی بڑی سلطنتوں کے مالک ہیں ، سیاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ، صنعت و حرفت میں کمال کو پہنچے ہوئے ہیں مگر آخرت کی عقل نہیں رکھتے۔ اس قسم کے لوگوں میں بڑے بڑے بیرسٹر بھی ہیں کہ جب دلائل دیتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے مگر معرفت الہی ، قیامت ، محاسبہ اعمال ، جنت اور دوزخ کے معاملات میں ان کا ذہن بالکل کام نہیں کرتا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخرت کی دائمی زندگی میں ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔
قارون ، فرعون اور ہامان کا انجام : اگلی آیت میں ارشاد ہے۔ وقارون و فرعون و ھامن۔ اور قارون ، فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کیا۔ فرعون ڈکٹیٹر تھا۔ بڑا مستبد اور ظاہر بادشاہ تھا۔ انتہائی درجے کا خود سر اور مغرور تھا۔ سورة یونس میں ہے۔ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِج وَاِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ (آیت : 38) بیشک فرعون زمین میں بڑا بنتا تھا یعنی مغرور تھا اور وہ بےلگام لوگوں میں سے تھا اس کا وزیر ہامان بیورو کریسی یعنی نوکر شاہی کا نمونہ تھا۔ یہ نوکر شاہی آج بھی موجود ہے یہ خاص ذہنیت اور خا ص ڈھب کے لوگ ہوتے ہیں جو حکومت میں دخیل ہوتے ہیں ۔ تنخواہیں ، وظیفے ، پنشن اور دیگر مراعات حاصل کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہر حاکم کو اپنے پیچھے لگنے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ اور اس طرح اپنی من مانی کرتے ہیں ۔ تیسرا طبقہ سرمایہ داروں کا ہے جسکی مثال قارون کی شکل میں موجود ہے۔ یہ لوگ مال و دولت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں یحسب ان مالہ اخلدہ ص الہمزۃ : 3 ) اور گمان کرتے ہیں کہ ان کا مال انہیں لازوال بنا دے گا۔ سیٹھ قسم کے ان لوگوں کی تجوریاں دولت سے بھرتی رہتی ہیں ۔ بینک بیلنس نصب ہوتا ہے ، تجارت پر چھائے رہتے ہیں ۔ صنعت و حرفت کے مالک ہوتے ہیں اور اپنی دولت کی بناء پر دین کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اپنی چودھراہٹ اور رسومات کو ہی دنیا میں جاری کرنے کی فکر میں رہتے ہیں ، نہ خدا کو مانتے ہیں ، نہ اس کے نبی کو اور نہ دین کو دیکھ لیں فرعون اور قارون نے کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی ۔ بہر حال اللہ نے قارون ، فرعون اور ہامان کو علی الترتیب سرمایہ داروں جابر حکمرانوں اور بیورو کریسی کا نمونہ قرار دیا ہے۔ فرمایا ہم نے ان تینوں کو بھی ہلاک کردیا ۔ ولقد جاء ھم موسیٰ بالبینت موسیٰ (علیہ السلام) ان تینوں یعنی قارون ، فرعون اور ہامان کے پاس آئے واضح نشانیاں لے کر۔ فاستکبروا فی الارض انہوں نے زمین میں تکبر کیا ، موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کردیا وما کانوا سابقین اور وہ کہیں بھاگ کر جانے والے نہیں تھے اپنے تمام تر وسائل کے باوجود وہ خدا کی گرفت سے آزاد نہیں تھے۔ پھر جب ان کی سر کشی حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے فرمایا فکلا ً اخذنا بذنبہ تو ہم نے سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا ۔ ان پر عذاب الٰہی نزول ہوا اور فرعون اور ہامان تو بحر قلزم پر ڈوب کر ہلاک ہوئے جبکہ قاون کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ یہ ان کے گناہوں کی سزا تھی۔
فرمایا فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا۔ ان میں سے بعض پر ہم نے پتھر مارنے والی ہوا بھیجی۔ ایسی آندھی آئی جس میں سے پتھر برستے تھے۔ ومنھم من اخذتہ الصیحۃ اور ان میں سے بعض کو چیخ نے آ لیا۔ اللہ نے فرشتے کے ذریعے ایسی چیخ نازل کی کہ اس کی دہشت سے لوگوں کے جگر پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔ ومنھم من خسفنا بہ الارض اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا۔ یہ قارون تھا۔ ومنھم من اغرقنا۔ اور ان میں سے بعض کو ہم نے پانی میں ڈبودیا۔ یہ فرعون اور ہامان تھے جو اکٹھے غرق ہوئے۔ اس سے پہلے قوم نوح بھی طوفان کی نذر ہوچکی تھی۔ فرمایا یادرکھو ! وما کان اللہ لیظلمھم اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ ولکن کانوا انفسہم یظلمون۔ بلکہ ی نافرمان لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ انہوں نے کفر ، شرک ، غرور ، تکبر ، استبداد اور حق تلفی کا ارتکاب کیا۔ اللہ کے نبیوں کو تکالیف پہنچائیں۔ ان کا انکار کیا۔ ہر مصلح کی بات کو ٹھکرا دیا۔ اور من مانی کرتے رہے اور اس طرح انہوں نے گویا خود اپنی جانوں پر زیادتی کی اور عذاب الہی کا شکار بنے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ اس کے علاوہ آخرت کا دائمی عذاب انہی ملنے والا ہے۔
Ayahs 29:41–44ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ ابتلا کا ذکر فرمایا۔ اور کچھ لوگوں کی مثالیں بھی بیان فرمائیں۔ اس سلسلے مٰں اللہ کے پاک انبیاء ، نوح (علیہ السلام) ابراہیم علیہ السلا ، لوط (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا انجام اور ان کو ملنے والی سزاؤں کا تذکرہ کیا۔ ایمان ہی کے سلسلے میں توحید کا بیان ہوا۔ باقی مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی مضامین۔ نبوت و رسالت ، معاد اور وحی الہی کا ذکر ہے جو کہ مختلف سورتوں میں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہ۔ اس درس میں مسئلہ توحید کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے اور ایک مثال کے ذریعے شرک کا رد کیا گیا ہے۔
شرک کی مثال مکڑی کے جالے سے :
ارشاد ہوتا ہے۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت۔ ان لوگوں کی مثال مکڑی کی ہے جنہوں اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنا لیا ہے۔ ولی کا معنی دوست ، رفیق ، ساتھی اور کارساز بھی ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو مشکل کشا اور حاجت روا بنا لیا ہے۔ مافوق الاسباب ان سے مدد طلب کرتے ہیں ، ان کو اپنا حمایتی سمجھتے ہیں ، ان کی مثال مکڑی کی ہے۔ اتخذت بیتا۔ جو اپنا گھر بناتی ظاہر ہے کہ مکڑی کا گھر وہ جالا ہوتا ہے جو وہ اپنے منہ سے نکلنے والے لعاب سے اپنے ارد گرد بن لیتی ہے۔ مکڑی اسی گھر میں رہائش اختیار کرتی ہے۔ اور اسی کے ذریعے شکار کرکے اپنی خوراک کا بندوبست کرتی ہے۔
ہرجاندار کو سر چھپانے اور گرمی اور سردی سے بچاؤ کے لیے گھر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان اپنی رہائش کے لیے کچے مکانوں سے لے کر عالیشان محلات تک تیار کرتے ہیں اور ان میں ہر طرح کی سہولتیں مہیا کرتے ہیں ۔ صحرائوں اور جنگلوں میں رہنے والے لوگ خیمے کا گھر بناتے ہیں ۔ جنگلوں میں رہنے والے درندے غاروں اور گہرے کھڈوں کو گھر کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔ پرندے درختوں پر اپنے گھونسلے بناتے ہیں اور وہیں انڈے بچے دیتے ہیں ۔ رینگنے والے جانور کیڑے ، مکوڑے ، سانپ بچھو وغیرہ زمین کے اندر گھر بناتے ہیں ۔ چیونٹیوں کا ذکر سورة النمل میں ہوچکا ہے ، وہ بھی اپنی بلوں میں رہتی ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان تمام گھروں کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے وان اوھن البیروت لبیت العنکبوت کہ سب سے کمزور گھر مکڑی کا گھر یعنی اس کا اجالا ہوتا ہے جو نہ اسے گرمی سردی سے بچا سکتا ہے اور نہ تیز ہوا کو برداشت کرسکتا ہے ، ذرا آندھی یا بارش آئی تو وہ ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ، اگر آپ قریب سے بھی گزر جائے تو یہ جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔ غرضیکہ تمام گھروں میں کمزور ترین گھر مکڑی کا جالا ہوتا ہے۔ اور مشرکین کے نظریات بھی یقینا اتنے ہی کمزور ہوتے ہیں جو غیر اللہ کو اپنا کار ساز ، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان سے حاجت براری کرتے ہیں ۔ فرمایا لو کانوا یعلمون کاش ان لوگوں کو سمجھ ہوتی اور یہ جان سکتے کہ سڑک کتنی کمزور چیز ہے جس پر وہ تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ۔ سورة الحج میں اللہ کا فرمان موجود ہے ، لوگو ! ذرا غور سے سنوجو لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اپنی حاجتوں میں پکارتے ہیں ، وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے ۔ اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ضعف الطالب والمطلوب ( آیت : 37) کہ مانگنے والا اور جس سے مانگا جا رہا ہے دونوں کمزور ہیں ، مانگنے والا تو ظاہر ہے کہ وہ اس چیز سے محروم ہے جس کا مطلب کر رہا ہے۔ اور جس سے مانگتا ہے ، نہ وہ چیز اس کے پاس ہے اور نہ وہ دینے پر قادر ہے۔ لہٰذا طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں ۔ حقیقت یہ ہے ان القوۃ للہ جمیعاً ـ(البقرہ۔ 165) ۔ ساری کی ساری طاقت اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور مخلوق ساری عاجز اور محتاج ہے۔ کوئی جن ، کوئی فرشتہ ، کوئی انسان خواہ نبی ، ولی ، یا صاحب قبر ہو ، سب کمزور اور محتاج ہے۔ کوئی کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں کرسکتا۔ جو مافقوق فی الاسباب ان کو پکارتا ہے۔ وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔
انسان کی بنیادی ضروریات : اس آیت میں گھر کا ذکر آیا ہے تو اس ضمن میں حضور ﷺ کا فرمان بھی سن لیجئے جو ترمذی شریف میں موجود ہے کہ انسان کی بنیادی ضروریات میں کھانا۔ پینا ، پہننا وبیت یسکنہ۔ اور وہ گھر ہے جس میں انسان سکونت اختیار کرسکے۔ گرمی سردی سے بچاؤ۔ جسمانی سکون و راحت ، جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر شخص کے پاس گھر ہونا چاہئے ، کچا ہو یا پکا۔ اگرچہ کرائے کا ہو مگر ہونا تو چاہئے جس میں کوئی شخص سکون پکڑ سکے۔ بعض دیگر چیزیں بھی انسان کی بنیادی ضوریات میں آتی ہیں اور ہر شخص کو میسر آنی چاہئیں۔ مثلاً ہر زندہ انسان کے لیے صحت ایک بنیادی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر انسان اپنے فرائض ادا نہیں کرسکتا ، اور نہ ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوسکتا ہے۔ انسان محنت مزدوری کر کے اپنے لیے روزی کا سامان بھی پیدا نہیں کرسکتا ، جنگ میں حصہ نہیں لے سکتا۔ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ حتی کہ اللہ کی عبادت بھی صحیح طریقے سے نہیں کرسکتا۔ لہذا صحت کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح انسان کے لیے کم از کم اتنی تعلیم تو ضروری ہے جس سے وہ اپنے حقوق و فرائض کو تو پہچان سکے ، حلال و حرام میں امتیاز نہ کرسکے ، جائز و ناجائز اور صحیح اور غلط کو پہچان سکے یہ چھ چیزیں انسان کے بنیادی حقوق میں شمار ہوتی ہیں۔ اقوام متحدہ والے تو ان حقوق کی آجکل بہت تشہیر کرتے ہیں اور ان کی فراہمی کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ چیزیں تو قرآن و سنت میں موجود ہیں اور کوئی انسان ان حقوق سے محروم نہیں رہنا چاہئے۔
انسان کی بےبسی :
شرک کے بودا پن کے متعلق عرض کر رہا تھا کہ لوگ خواہ مخواہ مخلوق سے امید لگا لیتے ہیں حالانکہ انسان اشرف المخلوق ہونے کے باوجود بےبس ہے اور اس کو کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ اسی سورة کے دوسرے رکوع میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں گزر چکا ہے کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں وہ روزی کے مالک نہیں ہیں لہٰذا فابتغوا عند اللہ الرزق ( آیت : 71) روزی بھی اللہ ہی کے ہاں تلاش کرو ، زمین و آسمان سے روزی کے تمام اسباب اللہ تعالیٰ ہی مہیا کرتا ہے ۔ مخلوق تو خود روزی کی محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کے متعلق فرمایا کانا یا کلن الطعام ( المائدہ : 57) کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ، جو کھانے کا محتاج ہے وہ الٰہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جب اللہ کے نبی معبود نہیں ہو سکتے تو باقی مخلوق کس شمار میں ہے ؟ انسان کھانے پینے کے علاوہ سانس لینے کے لیے ہوا کا محتاج ہے ، چلنے پھرنے کے لیے زمین کا محتاج ہے لوگ بلا وجہ انسانوں کو الوہیت کا درجہ دیتے ہیں ۔ کوئی یا علی ؓ مدد پکار رہا ہے ، کوئی یا حسین ؓ سے مدد مانگتا ہے ۔ کوئی یا غوث الاعظم کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے۔ کوئی کسی ولی کو پکاررہا ہے کوئی کسی صحابی کو اور کوئی جبرائیل اور میکائیل فرشتوں سے مدد کا طالب ہے۔ جب قیامت کا دن آئے گا تو یہ سب انکار کردیں گے اور اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ مولاکریم ! ہم نے تو تیرے سوا کسی کو اپنا کار ساز نہیں مانا ، پھر انہوں نے ہمیں کیسے اپنا کار ساز مان لیا ؟ ہم نے تو انہیں نہیں کہا کہ ہمیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا تسلیم کرلو ۔ بہر حال فرمایا کہ ہر قسم کا شرک مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے ، اور اس پر قطعاً اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ان الہ یعلم ما یدعون من دونہ من شی اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ان چیزوں کو جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ۔ وھو العزیز الحکیم اور وہ کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے۔ سارا اختیار اسی کے پاس ہے ، یہ ایک کی حاجت روانی اور مشکل کشائی وہی کرتا ہے ۔ اس نے کسی کو اختیار نہیں دیا ۔ واجب الوجود ، خالق ، مدبر اور معبود وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ، نہ کوئی نفع نقصان پہنچا سکتا ہے ، وہ جس طرح چاہے تصرف کرے اس کے سامنے کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ، کمال قدرت اور حکمت کا مالک وہی وحدہ لا شریک ہے۔
مثال کی اہمیت
فرمایا وتلک الا مثال نضر بھا للناس یہ مثالیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تورات ، انجیل اور قرآن پاک میں بہت سی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ اس مقاصد پر مکڑی کے جالے کی مثال ہے جب کہ سورة نمل میں چیونٹیوں کی مثال بیان کی ہے اور سورة النمل میں شہد کی مکھیوں کی مثال ہے۔ سورة النور میں نور خداوندی کی مثال بیان کی گئی ہے کہیں مکھی ، مچھر اور کیڑے مکوڑوں کی مثالیں ہیں کہیں مومن اور کافر کی مثال ہے تو کہیں کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی مثال ہے ۔ الغرض ! اللہ نے بہت سی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی بہت سی مثالیں بیان کی گئی ہیں امام ترمذی نے کتاب الامثالی کے نام پر ایک مستقل باب بیان کیا ہے۔ اور مثال بیان کرنے کا فلسفہ یہ ہے کہ کسی باریک مضمون کو انسانی عقل و فہم کے قریب لایاجاسکے۔ حضرت عمرو ابن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والصلام کی زبان مبارک سے سن کر ایک ہزار مثالیں یاد کر رکھی ہیں آپ فاتح مصر ہیں۔ پہلے کفر میں شدید تھے مگر جب ایمان لے آئے تو اسلام کی فدا کاری میں بھی پیش پیش رہے۔ کلیلہ ونمہ نامی کتاب تبت والوں نے آج سے دو ہزار دو سو سال قبل لکھی تھی جس کا ترجمہ سنسکرت ، فارسی عربی اور دیگر زبانوں میں ہوا۔ اس میں گیدڑ ، لومڑی ، ہاتھی ، سانپ ، بچھو وغیرہ کی زبانوں سے بڑی سبق آموز اور حکمت کی باتیں سمجھائی گئی ہیں یہ بھی جانوروں کی مثالیں ہیں اور ان کے ذریعے کوئی چیز آسانی سے سمجھ سکتے ہیں فرمایا وما یعقلھا الا العالمون ان مثالوں کو اہل علم اور اہل عقل ہی سمجھ سکتے ہیں اور پھر آگے دوسروں کو بھی سمجھا سکتے ہیں۔ لہٰذا عام لوگوں کو اہل علم کا اتباع کرنا چاہئے۔
تخلیق ارض و سما
آگے اللہ نے ارض و سما کا اپنی نشانی کے طور پر ذکر فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے خلق اللہ السموت والارض بالحق اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا حق کے ساتھ۔ اللہ نے اس کائنات کو بیکار محض پیدا نہیں کیا ، بلکہ یہ اس کی حکمت کا ایک نمونہ ہے انسان کی تخلیق بھی عبث نہیں ، اس کا انجام بھی سامنے آنے والا ہے فرمایا ان فی ذلک لایۃ للمومنین اس میں ایمان والوں کے لیے نشانی ہے۔ جو لوگ ایمان اور عقل سے عاری ہیں وہ ان نشانیوں سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اللہ نے ایمان کے ساتھ ابتلا کا سلسلہ بیان فرمایا ہے۔ اور اس کے لیے نیک بندوں کا حال ذکر کیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ مجرموں کی سزا کا ذکر بھی کیا ہے۔ دین اور توحید کے بنیادی مسائل کا ذکر فرمایا ہے اور شرک کی قباحت کو مثال کے ذریعے واضح کیا ہے تاکہ لوگ شرک سے باز آجائیں۔
Ayah 29:45تلاوت قرآن پاک
گذشتہ آیات میں ایمان کے ابتلا کا ذکر ہوچکا ہے۔ ایک مثال کے ذریعے کفر و شرک کی کمزوری کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اب کتاب الٰہی کی صداقت اور رسالت کا ضمنا بیان ہے۔ اس کے بعد توحید اور معاد کا ذکر ہوگا۔ آج کی آیت میں پہلے قرآن پاک کے متعلق ارشاد ہے۔ اتل ما اوھی الیک من الکتب آپ پڑھیں اس چیز کو جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ کتاب کی صورت میں یعنی قرآن کریمہ ، تلاوت کا معنی پڑھنا ہوتا ہے اور یہ دو مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ تلاوت کا ایک قصہ حصول ثواب اور روحانی تسلی ہوتا ہے ، جیسا کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ قرآن پاک کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر اللہ تعالیٰ دس دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ یہ ایسی بابرکت چیز ہے کہ ہر اہل ایمان نماز میں تلاوت قرآن پاک کا پابند ہے۔ نماز کے علاوہ بھی زبانی طور پر یا قرآن پاک کو کھول کر ناظرہ پڑھنا بھی باعث اجروثواب ہے البتہ دیکھ کر پڑھنے میں زبانی پڑھنے کی نسبت زیادہ ثواب ہوتا ہے بیہقی شریف کی روایت میں موجود ہے کہ زبانی تلاوت سے ایک ہزار اور دیکھ کر پڑھنے سے دو ہزار نیکیاں حاصل ہوتی ہیں۔ باوضو ہو کر قرآن پاک پکڑنا ، اس کو کھولنا ، اوراق کو الٹنا پلٹنا اور پھر الفاظ پر نگاہ ڈالنا یہ سب چیزیں موجب اجروثواب ہیں تاہم قرآن پاک کی افضل ترین تلاوت وہ ہے جودورانِ نماز کی جائے۔
تلاوت کا دوسرا مقصد لوگوں کو تعلیم ، وعظ اور نصیحت ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کا ایک فر ض منصبی یہ بھی ہے یتلو علیہ اٰیتہٖ ( الجمع 02) کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ لوگوں کو کتاب الٰہی کی طرف متوجہ کرنا۔ اس کے احکام کی وضاحت کرنا اور ان پر عمل کی ترغیب دینا بڑا عظیم مقصد ہے۔ سورة النحل میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وانزلنا الیک الذکر التبین للناس مانزل الیھم ولعلکم یتفکرون (آیت 44) ہم نے آپ کی طرف یہ ذکر یعنی قرآن پاک اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ سے لوگوں کے سامنے وضاحت کے ساتھ بیان کریں اور تاکہ وہ اس میں غوروفکر کریں۔ نیز فرمایا ولقد وصلنا لھم القول لعلکم یتذکرون ( القصص 15) ہم نے لوگوں کے لیے بلا دیا ہے قول کو تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ مطلب یہ کہ جس طرح پہلی قوموں کی طرف اللہ کا پیغام آتا رہا اسی طرح آخری امت کے پاس اللہ کا قول بصورت قرآن حکیم آچکا ہے لہٰذا اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اس میں غوروفکر کرکے نصیحت حاصل کریں۔ یہ غوروفکر تبھی ہوگا جب کوئی شخص قرآن پاک کو خود پڑھے گا۔ یا کسی دوسرے سے سُنے گا تو گویا تلاوتِ کلام پاک ایک عظیم مقصد ہے۔ البتہ تعلیم و تبلیغ کے لیے تلاوت درجہ اوّل میں آتی ہے جب کہ محض ثواب حاصل کرنے کے لیے پڑھنا درجہ دوئم کا عمل ہے۔ اس سے حضور ﷺ کی رسالت و نبوت کا علم بھی ہوگیا۔ کیونکہ اللہ نے آپ کو نبوت عطا کرکے اپنے کلام کو پڑھ کر سنانے کا حکم دیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن پاک آپ کی ذات بابرکات پر بذریعہ وحی جلی نازل کیا گیا ۔
نماز برائیوں سے روکتی ہے
تلاوتِ قرآن کو نماز کے ساتھ خاص تعلق ہے کہ یہ نماز کا لازمی جزو ہے نماز برائیوں سے روکتی ہے لہٰذا آگے اللہ نے فرمایا واقمہ الصلوٰۃ اور آپ نماز قائم کریں کیونکہ ان الصلوٰۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر بیشک نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ یہ خطاب تو پیغمبر (علیہ السلام) سے ہے مگر تمام اہل ایمان اس کے مکلف ہیں۔ جیسے سورة الکوثر میں فرمایا فصل لربک وانحر ( آیت 02) آپ اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔
یہاں پر اللہ نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ نماز بےحیائی اور برائی کے راستے میں رکاوٹ ہے جب کہ روزمرہ مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور برائیوں کا ارتکاب بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس قسم کا اشکال حضور ﷺ کے زمانہ میں بھی پیدا ہوا تھا۔ آپ کو بتایا گیا کہ فلاں شخص رات کو نماز پڑھتا ہے ، مگر دن کو چوری کرتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، فکر نہ کرو ، ابھی اس پر پوری طرح اثر نہیں ہوا۔ نماز اس کو ضرور برائی سے روکے گی ۔ مطلب یہ ہے کہ نماز کی تاثیر تو یہی ہے کہ وہ بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے مگر اس کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں اور اگر وہ شرائط پائی جائیں اور موانعات بھی نہ ہوں تو پھر یقینا نما از اپنا اثر ظاہر کریگی۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ بعض دوائیاں بعض امراض کے لیے تیربہدف ہوتی ہیں مگر وہ بعض مریضوں پر اثر نہیں کرتیں۔ جس کی وجوہات ہوتی ہیں مثلاً ملیریا بخار کے لیے کونین سو فیصدی علاج ہے لیکن بعض اوقات یہ بھی فائدہ نہیں دیتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مریض ملیریا کے علاوہ کسی دوسری بیماری میں بھی مبتلا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مریض صحت یاب نہیں ہوتا بعض اوقات یہ بھی فائدہ نہیں دیتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مریض ملیریا کے علاوہ کسی دوسری بیماری میں بھی مبتلا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مریض ہوتا۔ بعض اوقات صرف ملیریا نہیں بلکہ ساتھ کوئی دوسرا بخار بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے کونین مفید نہیں ہوتی۔
شرائط نماز
غرضیکہ نماز برائیوں سے اس وقت روکے گی جب وہ پوری شرائط کے ساتھ ٹھیک طریقے سے ادا کی جائے گی۔ مثلاً سورة الماعون میں ہے۔ فویل للمصلین (4) الذین ھم عن صلاتھم ساھون (5) ہلاکت اور تباہی ہے اُ نمازیوں کے لیے جو نماز کے مقصد سے ہی غافل ہیں نماز محض رواداری میں پڑھ جاتے ہیں اور اس کی حقیقت سے واقف ہی نہیں یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کی نقل اتارے جو کہ مفید نہیں ہوسکتی۔ نماز کے لیے طہارت بھی شرط ہے جو شخص نماز پڑھتا ہے مگر طہارت کا خیال نہیں رکھتا ، وہ بھی اس شرط کو پورا نہیں کرتا ، لہٰذا نماز بھی اپنا اثر نہیں دکھاتی۔ نماز کے لیے دلجمعی اور سکون کی بھی ضرورت ہے اللہ کا فرمان ہے قومو اللہ قنتین ( البقرہ 833) اور خدا تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ کھڑے ہو۔ اگر کوئی شخص دورانِ نماز سکون نہیں پکڑتا۔ کپڑوں اور بالوں سے کھیلتا رہتا ہے ، فضول حرکات کرتا ہے ، نظر کو ادھراُدھر کرتا ہے تو اس کو نماز کیسے مفید ہوگی اور وہ اپنی تاثیر کیسے ظاہر کریگی ، حضور ﷺ نے ایک شخص کو نماز میں فضول حرکات کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا لوخشع قلبہ لخشع جوارحہ اگر اس کے دل میں عاجزی ہوتی تو اس کے اعضا بھی عاجزی کا اظہار کرتے اور اس کے ہاتھ پائوں اور آنکھیں وغیرہ سکون پکڑتے۔
اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا۔ واقم الصلوٰۃ لذکری (طہ۔ 41) میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ لیکن اگر انسان نماز کے مقصد و مفہوم سے ہی واقف نہیں ، اس طرف بالکل توجہ ہی نہیں ، بلکہ منافق کی نماز پڑھ رہا ہے تو اس کا کیا اثر ظاہر ہوگا۔ حدیث شریف میں منافق کو گدھے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس کا مالک اس پر بوجھ لاد کر ڈنڈا مار دیتا ہے یا اس کے سامنے چارہ ڈال دیتا ہے ، کبھی اس کو باندھ رکھتا ہے اور کبھی کھلا چھوڑ دیتا ہے ، مگر گدھے کو کچھ معلوم نہیں کہ اسے کیوں مارا گیا ، کیوں باندھا گیا اور کیوں چھوڑا گیا۔ غافل نمازی کی بھی یہی مثال ہے جو نہیں جانتا کہ وہ کیا پڑا رہا ہے ، کیوں پڑھ رہا ہے اور کہاں کھڑا ہے ؟ اس کے برخلاف اہل ایمان ان سب چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اوقاتِ نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ طہارت کا خیال رکھتے ہیں۔ خشوع و خضوع کے ساتھ بارگاہِ رب العزت میں مناجات کرتے ہیں تو ان کی نمازوں کا یقینا اثر ہوتا ہے اور وہ بےحیائی اور برائی سے بچاتی ہیں۔
دائود شریف کی روایت میں آتا ہے کہ عام آدمیوں کی نمازوں میں مقبولیت کا حصہ کسی کا دسواں کسی کا نواں اور کسی کا آٹھواں یا ساتوں حصہ ہوتا ہے۔ وہ بڑا ہی خوش قسمت آدمی ہوتا ہے جس کی آدھی نماز قبول ہوجائے اسی طرح اس کو پھیلائیں تو کسی کا نماز میں ننانواں حصہ اور کسی کا سواں حصہ مقبول ہوگا۔ وجہ یہی ہے کہ نماز کی شرائط اور خشوع و خضوع مکمل نہیں ہوتا۔ نماز ایک بہترین عبادت ہے مگر اسے عادتاً پڑھا جاتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں ؎ الصلوٰۃ ام العبادات المقربۃ یعنی اللہ کا قرب دلانے والی عبادتوں کی جڑوا بنیاد نماز ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے جس شخص کی نماز اسے بےحیائی اور برائی سے نہیں بچاتی تو ایسے شخص کو قرب الٰہی کی بجائے لم یزدر الا بعدا دوری ہی نصیب ہوگی کیونکہ اس نے نماز کو اس کی روح کے مطابق ادا ہی نہیں کیا۔
نماز کا اقتضاد طبی
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نماز کا اقتصاد طبی یہ ہے کہ اس کے فرائض ، واجبات سنن ، مستجات اور تمام ارکان وہیات چاہتے ہیں کہ انسان برائی کا ارتکاب نہ کرے جو شخص اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہے یا رکوع و سجود کی حالت میں ہے۔ قرأت کر رہا ہے یا مناجات اور تسبیحات بیان کر رہا ہے۔ وہ برائی کا کام کیسے کریگا ؟ ان ارکان کا تقاضا ہے کہ وہ برائی کی بات نہ کرے۔ اور اگر انسان ان چیزوں کا پورے طریقے سے خیال نہیں رکھے گا تو اسے نماز برائیوں سے کیسے روکے گی ؟
شاد عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یہ بات کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو کم از کم اتنی بات تو ہر شخص کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ جتنی دیر تک کوئی آدمی نماز کی حالت میں رہتا ہے اتنی دیر تک تو بےحیائی اور برائی سے رکا رہتا ہے۔ ایسے آدمی سے توقع رکھنی چاہئے کہ بعد میں بھی وہ برائی سے رکنے کی کوشش کرے گا۔ بےحیائی میں زنا ، لواطت ، عریانی ، بد اخلاقی ، گالی گلوچ ، فلمی گانے ، فوٹو گرافی سب کچھ آتا ہے اور منکر اسی چیزوں کو کہا جاتا ہے جو شریعت اور عقل کے نزدیک بری ہیں۔ ان میں لڑائی جھگڑا ، حق تلفی ، ظلم و زیاتی ، دھوکہ فریب ، ترک فرائض شریعت کی طرف سے عدم توجہی ، اللہ اور اس کے دل کے حکم سے لا پرواہی ، رسومات فاسدہ کی تائید وغیرہ شامل ہیں۔ نمازی سے توقع رکھنی چاہئے کہ وہ ان تمام فخش اور منکرات سے بچنے کی کوشش کرے۔
ذکرِ الٰہی کی برکات
پھر فرمایا ولذکر اللہ اکبر اور اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے نماز اللہ کے ذکر ہی کی ایک صورت ہے جس کے قیام کا حکم دیا گیا ہے۔ انسان کے اعمال کو اگر درجے کے لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے بڑا درجہ ذکر کا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ما من شیء انجیٰ من عذب اللہ من ذکر اللہ اللہ کے عذاب سے بچانے والی ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ سورة الاحزاب میں اللہ کا فرمان ہے یایھا الذین اٰمنو اذکر واللہ ذکر کثیرا (آیت۔ 14) اے ایمان والو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ سورة الانفال میں فرمایا واذکرو اللہ کثیراً لعلکم تفلحون ( آیت۔ 54) لوگو ! اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کرو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ یہ لسانی ذکر ہے جس میں قرآن کی تلاوت ، تسبیحات ، استغفار اور حمد و ثناوغیرہ شامل ہیں اور یہ ذکر کی عام صورت ہے۔
اس کے علاوہ قلبی ذکر بھی ہوتا ہے۔ اللہ کی نعمتوں میں غورو فکر کرکے اس کا شکر ادا کرنا قلبی ذکر ہے۔ حصن حصین کی روایت میں آتا ہے کل مطیع للہ وھوذاکر ہر وہ شخص جو اللہ کی اطاعت میں لگا ہوا ہے۔ وہ اللہ کا ذکر کرنے والا ہے۔ ہر نیکی کا کام انجام دینے والا آدمی ذاکر ہے۔ تاہم آسان ذکر زبان سے اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنا ہے۔ ایک شخص نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ، یا رسول اللہ ﷺ ! کونسا عمل افضل ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا ان تفارق الدنیا ولسانک رطب من ذکر اللہ تو ایسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔ ایک موقعہ پر آپ (علیہ السلام) سفر میں جا رہے تھے کہ سامنے جسمدان نامی پہاڑ آیا۔ آپ نے فرمایا سیرو ھذا جمدان سبق المفردون لوگو ! چلتے جائو۔
یہ جمدان پہاڑ ہے اور مفرد لوگ سبقت لے گئے۔ پہاڑ کا ذکر آپ نے اس لیے کیا کہ پہاڑ اور شجرو حجر ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے پھر صحابہ ؓ نے عرض کیا حضرت ! مفردون کون لوگ ہیں تو آپ نے فرمایا الذاکرون للہ کثیرًا والذاکرات یعنی اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں۔ مفرد کا لغوی معنی اپنے آپ کو الگ تھلک اور ہلکا پھلکا کرنے والا ہے۔ مطلب یہ کہ کثرت سے ذکر الٰہی کرنے والے جب پل صراط پر سے گزریں گے تو اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرینگے۔
الغرض ! ولذکر اللہ اکبر کا ایک معنی تو یہ ہوگیا کہ اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے جس کا آگے چل کر بڑا فائدہ ہوگا اور اس کا دوسرا مفہوم مفسرین کرام یہ بیان کرتے ہیں کہ تمہارے ذکر کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے تمہارا ذکر کرنا۔ تمہارے ذکر کی نسبت بہت بڑا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب میرا بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ پھر جب وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں۔ اور وہ لوگوں کے سامنے میرا ذکر کرے تو میں ان سے بہتر بندوں کی جماعت میں اس کا ذکر کروں گا یعنی فرشتوں کی جماعت میں اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ دیکھو ! میرا یہ بندہ میرا ذکر کر رہا ہے۔ بہرحال خدا تعالیٰ کا بندوں کا ذکر کرنا بندوں کے ذکر الٰہی سے بہتر ہے۔ اس کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ بندہ جو ذکرالٰہی کرتا ہے خواہ وہ زبان سے کرتا ہے یا جو روح سے قلب سے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب حاصل کرنا ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ جو اس کا ذکر کرے گا۔ یعنی اس کو جو اجر وثواب عطا کریگا۔ وہ بندے کی نیکی سے بہرصورت بہتر ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ( الانعام۔ 161) جو ایک نیکی کرتا ہے ، اللہ سے کم از کم دس گنا اجر پاتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد نہیں ہے۔ لہٰذا یہ اجر بندے کے ذکر سے بہرحال بہتر ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کان رسول اللہ ﷺ یذکر فی کل احیانہ یعنی رسول مقبول (علیہ السلام) اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے یعنی ان کا کوئی وقت ذکر الٰہی سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ فرمایا واللہ یعلم ما تصنعون اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ اس کے علم میں ہے کہ کون غافل ہے اور کون ذاکر ہے اور پھر یہ بھی کہ کون کس نیت اور ارادے سے ذکر کرتا ہے کس شخص میں خلوص ہے اور کس میں ریاکاری پائی جاتی ہے۔ تمہاری کارکردگی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے۔ اور وہ اسی کے مطابق بدلہ دیگا۔