Ayahs 28:1–6نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القصص ہے ۔ قصص قصہ کی جمع ہے جس کا معنی واقعہ یا کہانی ہوتا ہے ، چونکہ اس سورة میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون اور بعض دیگر اقوام کے واقعات مذکور ہیں ۔ اس لیے اس کا نام سورة القصص ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی واقعات کی نسبت سے اس سورة کا دوسرا نام سورة موسیٰ بھی بیان کیا جاتا ہے تا ہم زیادہ مشہور زیادہ سورة القصص ہی ہے۔ گزشتہ سورة الشعراء اور سورة النمل کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہوئی ۔ اس کی بعض آیات دوران ہجرت حجفہ کے مقام پر نازل ہوئیں ۔ جن میں آپ کی تسلی دی گئی ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے پہلے مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی آیات اور نور کی رکوع ہیں اور یہ 454 کلمات اور 1104 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات مختلف سورتوں میں مختلف پہلوئوں سے بیان کیے گئے ہیں ۔ سورة کہف میں حضرت موسیٰ اور خضر (علیہما السلام) کے سفر کا واقعہ بیان ہوا تھا۔ پھر سورة طہٰ میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برگزیدگی کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے کہ میں نے تم کو پسند کرلیا ہے اور رسالت کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ آگے سورة الشعراء میں موسیٰ (علیہ السلام) کا تبلیغی پہلو نمایاں ہے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام کس طرح فرعون اور قوم فرعون کو پہنچایا ۔ اور اب اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر پیدائش سے لے کر بچپن کے حالات اور آپ کی ترتیب کا ذکر ہے۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی بنیادی عقائد کا ذکر ہے توحید کے عقلی ، نقلی اور مشاہداتی دلائل پیش کیے گئے ہیں ۔ رسالت کا ذکر بھی آ گیا ہے اور خاص طور پر معاد کا تذکرہ ہے ۔ مکی زندگی کا آخری زمانہ مسلمانوں کے لیے بڑے مصائب و آلام کا زمانہ تھا۔ ہجرت کا حکم نازل ہونے والا تھا۔ مسلمان قریش مکہ کے مظالم کا شکار بنے ہوئے تھے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کر کے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ آپ دل برداشتہ نہ ہو ۔ یہ تکالیف صرف آپ ہی کو نہیں پہنچیں بلکہ آپ سے پہلے دیگر انبیاء (علیہم السلام) اور ان پیروکار بھی اسی قسم کے مصائب کا شکار ہوتے رہے ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة میں حضور ﷺ کی کامیابی اور روشن مستقبل کا اشارہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے جس طرح اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متکبر ، مغرور اور ڈکٹیٹر دشمن کو ذلیل و خوار کیا ۔ اسی طرح آپ کے دشمن بھی ناکام ہوں گے اور کامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی۔
حروف مقطعات
اس سورة مبارکہ کی ابتداء بھی حروف مقطعات طسم سے ہوئی ہے۔ بعض 1 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ حروف اس سورة کا نام ہے ۔ اور بعض 2 ؎ فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر حروف کا اشارہ خدا تعالیٰ کے کسی اسم پاک کی طرف ہے ، جیسے ط سے طیب سے س سے سمیع اور م سے مجید ۔ بعض دوسرے 3 ؎ مفسرین فرماتے ہیں کہ ط سے مراد طہارت ہے جس میں ظاہری اور باطنی ہر قسم کی طہارت آتی ہے ۔ باطنی طور پر نفس اور قلب کی طہارت ہے کہ انسان کا عقیدہ ، عمل اور اخلاق پاک ہو اور ظاہری طہارت میں جسم ، لباس اور خوراک کی طہارت مطلوب ہے۔ طہارت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے اسی لیے 4 ؎ الطھور شطر الایمان کہا گیا ہے یعنی طہارت نصف ایمان ہے۔
1 ؎۔ مظہری ص 45 ج 7۔ 2 ؎۔ مظہری ص 45 ج 7 ۔ 3 ؎۔ روح البیان ص 083 ج 6 ۔ 4 ؎ ص 811 ج 1 مسلم ( فیاض)
بعض مفسرین 1 ؎ کرام فرماتے ہیں کہ س سے مراد وہ اسرار الٰہی جن کا تعلق بندوں کو مکلف بنانے سے ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ م کا اشارہ اللہ تعالیٰ کی منت اور اس کے احسان کی طرف ہے۔ منت عربی زبان میں احسان ہی کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر بالعموم اور اہل ایمان پر بالخصوص بیشمار احسانات فرماتے ہیں ۔ امام شاہ ولی 2 ؎ ولی اللہ دہلوی کشفی طور پر بتلاتے ہیں کہ ان حروف کا اشارہ انبیاء (علیہم السلام) کی حکمت فوقانی کی طرف ہے گویا یہ انبیاء (علیہم السلام) کے عالم بالا کی طرف ان کے مراتب و منازل اور اس تخلیط والے جہاں میں پاک ہدایت کے تعین کا بیان ہے۔ البتہ امام 2 ؎ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق بہتر طریقہ یہ ہے اللہ اعلم بمراد ہ بذلک یعنی ان حروف سے حقیقی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور جو بھی اس کی مراد ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ بر حق ہے۔
توضیح البیان
ارشاد ہوتا ہے تلک ایت الکتب المبین یہ کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔ آیات کی توضیح و تشریح کبھی تو خود اللہ کے کلام میں ہوتی ہے کسی ایک جگہ اجمال ہے تو دوسری جگہ تفصیل مل جاتی ہے اور کبھی ان کی وضاحت نبی کی زبان سے ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی معاملہ پھر بھی واضح نہ ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے معاملات کی وضاحت امت کے اہل علم کے ذریعے کرا دیتا ہے ۔ امت میں سے قرآن کو سب سے زیادہ جاننے والے صحابہ کرا م ؓ ہیں ۔ ان کی وضاحت قابل قبول ہوتی ہے۔ ان کے بعد تابعین عظام ہیں اور پھر ائمہ مجتہدین میں ہو استنباط کے ذریعہ مسائل کا حل پیش کرتے ہیں ۔ بہر حال فرمایا کہ یہ کھول کر بیان کرنیوالی کتاب کی آیات ہیں جن کے ذریعے حق واضح ہوجاتا ہے اور کوئی چیز حل طلب نہیں رہتی۔
فرعون کے مظالم
آگے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی حق پرستی اور فرعون کے مظالم کی داستان بیان کی ہے تا کہ حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ ؓ جان لیں کہ دنیا میں حق و باطل کا ہمیشہ سے ٹکرائو رہا ہے اور ہمیشہ اللہ کا کلمہ ہی بلند ہوا ہے۔ جابر و ظالم لوگ ہمیشہ تباہ و برباد ہوئے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے نتلوا علیک من نباء
1 ؎۔ درج البیان ص 083 ج 6 ۔ 2 ؎۔ الفوز الکبیر ص 801 ۔ 3 ؎۔ جلالین ص 4 ( فیاض)
موسیٰ و فرعون بالحق ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا حال ٹھیک ٹھیک بتلاتے ہیں ۔ اور ان واقعات سے عبرت وہ لوگ حاصل کریں گے۔ نقوم یومنون جو اللہ ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں ، اس کے ملائتہ اور معاد پر ایمان رکھتے ہیں ۔ وہ جان لیں گے تمام تر مصائب و آلام کے باوجود آخری فتح انہی کی ہوگی ۔ ان فرعون علا فی الارض بیشک فرعون چڑھ گیا تھا ۔ زمین میں یعنی وہ غرور وتکبر کی وجہ سے اللہ کی زمین پر خود خدا بن بیٹھا تھا وجعل اھلھا شیعا ً اور اس نے اہل زمین یعنی اپنی رعایا کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس نے اپنی قبطی قوم کو تو ہر طرح کی مرعات دے رکھی تھیں ۔ مگر اسرائیلی قوم کے متعلق فرمایا یستضعف طائفۃ منھم اس گروہ کو کمزور بنارکھا تھا ان پر ظلم و ستم ڈھاتا تھا۔ ان سے بیگار لی جاتی اور نہایت ہی اہانت آمیز سلوک کیا جاتا ۔ اس کے ظلم و ستم کا ایک نمونہ یہ تھا یذبح ابناء ھم وہ اسرائیلیوں کے بچوں کو ذبح کر ڈالتا تھا۔ ویسخی نساء ھم اور ان کی بچیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا تا کہ انہیں لونڈیاں بنا کر ان سے خدمت لی جاسکے۔ مفسرین 1 ؎ کرام بچوں کے قتل کی وجہ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ فرعون نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک آگ شام و فلسطین کی طرف سے آئی ہے جو مصریوں کے گھروں کو جلا رہی ہے۔ اس نے کاہنوں اور ساحروں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ تمہارا ملک کے زوال کا باعث وہ بچہ ہوگا جس کا تعلق و فلسطین سے ہوگا ظاہر ہے کہ شام و فلسطین سے تعلق اسرائیلیوں کا تھا جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر میں وارد ہونے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ اس وقت وہ گنتی ہے افراد تھے مگر اب ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی ۔ چناچہ اپنی سلطنت کو زوال سے بچانے کے لیے فرعون نے یہ تدبیر اختیار کی کہ اسرائیل گھر میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو اس کے والدین کے سامنے ذبح کروا ڈالتا ۔ مفسرین 2 ؎ بیان کرتے ہیں کہ اس طرح فرعون نے کم و بیش نوے ہزار نوزائیدہ بچے قتل کروائے جو کہ پوری
1 ؎۔ طبری ص 72 ج 02 و در منثور ص 911 ج 5 و روح المعانی ص 34 ج 02 ۔ 2 ؎۔ کبیر ص 532 ج 42 (فیاض)
انسانیت کے لیے بہت بڑا ظلم تھا ۔ فرمایا انہ کان من المفسدین بیشک وہ فرعون فساد کرنے والوں میں سے تھا ۔ فساد کا معنی خرابی ہوتا ہے اور مطلب یہ کہ فرعون ظلم و ستم کرنے میں ذرا شر و محسوس نہیں کرتا تھا وہ کمزور طبقے کو ظلم کا تختہ مشق بنائے رکھتا تھا۔
طبقات کشمکش
اس آیت کریمہ میں اللہ نے دو طبقات کا ذکر فرمایا ہے جن میں سے ایک مراعت یافتہ اور دوسرے بےکس و مظلوم تھا ۔ یہ طبقاتی کشمکش آج بھی دنیا میں پائی جاتی ہے۔ ایک طبقے کو اس کے حق سے زیادہ دنیا اور دوسرے کو اس کے حق سے بھی محروم کردینا فرعونی پالیسی کا حصہ ہے۔ جب انگریز برصغیر پر قابض ہوگیا تو اس نے بھی لوگوں کو دو طبقات میں تقسیم کردیا تھا ۔ وہ اپنے وفاداروں کو عزت و احترام سے رکھتا تھا۔ ان کو بڑے بڑے خطابات ، عہدے اور انعام و اکرام دیئے جانے جبکہ وفاداری میں مشکوک لوگوں کو ان کے حق سے محروم کر کے انہیں کمزور تر کردیتا تا کہ وہ کسی وقت بھی ان کی سلطنت کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکیں ۔ کسانوں اور مزدوروں کو غریب سے غریب تر کردیا ۔ جب کہ آسودہ حال مگر حکومت کے وفاداروں کو مزید جاگیریں دے کر کمزور طبقے پر حاوی کردیا ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی یہ پالیسی پائی جاتی ہے ، اس کا نتیجہ تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
کمزور طبقے پر احسان
فرعون کی پالیسی تو یہ تھی کہ اسرائیلیوں کو کمزور سے کمزور تر بنا دیا جائے مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ارشاد ہوتا ہے ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جن کو زمین میں کمزور و خیال کیا تھا ، اللہ کی منشاء یہ تھی کہ وہ اسرائیلیوں کو ذلت کی زندگی سے نکال کر عزت کر کسی پر بٹھائے ۔ فرمایا ہمارا پروگرام یہ بھی تھا ونجعلھم ائمۃ و نجعلھم الورثین کہ ہم ان کمزوروں کو غلامی سے نکال کر سردار بنا دیں اور پھر انہیں زمین میں وارث بنا دیں یعنی سلطنت بھی انہی کو عطا کردیں ، چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے اسرائیلیوں کو پہلے شام و فلسطین کا وارث بنایا اور پھر مصر کی سلطنت بھی عطا کی ۔ اللہ نے ان کمزوروں کو بلندی تو عطا کی مگر بڑی آزمائش سے بعد ، سورة اعراف اور سورة یونس میں اللہ نے ان آزمائش کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة اعراف میں موجود ہے کہ فرعون کے ظلم و جور سے تنگ آئے ہوئے اسرائیلیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کی کہ آپ کی مدین سے واپسی سے قبل بھی ہم ظلم و ستم کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور آپ کے آنے کے بعد ہماری تکالیف میں کوئی فرق نہیں پڑا ۔ آپ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا پروردگار عنقریب تمہارے دشمن کو ہلاک کر کے زمین کی خلافت تمہارے سپرد کرے گا ۔ لہٰذا فی الحال تم اللہ کی استعانت چاہو اور صبر سے کام لو ۔ اِنَّ الْاَرْضَ ِ اللہ ِقف یُوْرِثُہَا مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف : 831) زمین اللہ کی ہے ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے اور بہتر انجام متقیوں کا ہی ہوگا ۔
اللہ نے فرمایا ہمارا منشاء یہ تھا ونمکین لھم فی الارض کہ ہم ان کمزوروں کو ہی زمین میں پختہ کردیں ۔ مغروروں کو ہٹا کر ایمان والوں کو قدم جما دیں اور انہیں شام و فلسطین اور مصر کی سلطنت عطا کردیں ۔ اللہ نے عام ایمانداروں سے بھی یہی وعدہ کر رکھا ہے کہ انہیں زمین میں خلافت عطا کرے گا ۔ جیسے پہلے لوگوں کو عطا کی ۔ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ ( نور : 55) اور جس دین کو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اس دین کو ان کے لیے مستحکم کر دیگا ۔ وہی کامیاب ہوں گے۔
استحکام کے لیے …کی ضرورت
کسی مشن کو استحکام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب قوم کا ہر ہر فرد ، ہر شہر اور ہر بستی کا ایک ایک باشندہ اس مشن سے واقف ہو ۔ اگر کسی مشن کا بعض کو پتہ ہو اور بعض کو علم ہی نہ ہو تو اس میں استحکام اور پختگی کیسے آئے گی ؟ اسلام بھی دنیا میں اسی لیے پختہ نہیں ہے کہ صرف دو فیصدی لوگ اس سے واقف ہیں ۔ باقیوں کو اسلام کے متعلق علم ہی نہیں ۔ جب تک اسلام کا پیغام سو فیصدی لوگوں تک نہیں پہنچتا ، اس کے خاطر خواہ نتائج نہیں ہو سکتے ۔ اور اس کام کے لیے وسیع پیمانے پر تشہیر کی ضرورت ہے۔ آج دنیا میں دیکھ لیں عریانی ، فحاشی اور کھیل تماشے کی تشہیر ہو رہی ہے۔ ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، اخبارات و رسائل سب اسی کام میں لگے ہوئے ہیں جن کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں انہی چیزوں کو استحکام حاصل ہو رہا ہے۔ فلموں اور ڈراموں کی تشہیرہو رہی ہے تو بچے بچے کی زبان پر وہی ڈائیلاگ ہیں ۔ ہمارے ذرائع ابلاغ کھاد اور بیج کی بھی بڑی تشہیر کر رہے ہیں ، لہٰذا زمینداروں کی غالب اکثریت اسی طرف متوجہ ہوچکی ہے اسی طرح اگر دین اسلام کا استحکام منظور ہے تو اس کی نشرو اشاعت کے لیے پورے ذرائع ابلاغ کو کا م میں لانا ہوگا۔ تا کہ یہ پیغام ایک ایک فرد تک بار بار پہنچے اور وہ اس کی طرف متوجہ ہو سکے ، جب برائی کی تشہیر سے برائی پھیل سکتی ہے تو پھر نیعی کی تشہیر سے نیکی کیوں عام نہیں ہو سکتی ۔ کار پرواز ان ملک و ملت کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔
فرعون اور زمان کی سرزنش
اللہ نے فرمایا کہ ہم کمزوروں کے قدم زمین میں مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔ و نری فرعون وھا من وجنود ھما منھم ما کانوا یحذرون اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ فرعون ، ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ چیز دکھا دیں جس سے وہ ڈرتے تھے ، ظاہر ہے کہ فرعونیوں کو اپنی سلطنت کے زوال کا خطرہ تھا اور اسی سے بچنے کے لئے انہوں نے نوے ہزار نوزائیدہ بچے قتل کروا دیے۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ جس چیز سے وہ ڈرتے تھے ہم وہی کچھ کر کے دکھائیں گے یعنی ان کی سلطنت کو زوال آ کر رہے گا ، اور آئے گا بھی اس قوم کے ایک فرد کے ذریعے جس کو انہوں نے غلام بنا رکھا تھا اور ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھاتے تھے۔ اللہ نے اسی قوم کے ایک فرد کی خود فرعون کے گھر میں پرورش کرائی اور پھر اسی کے ذریعے فرعون کی سلطنت کو ختم کیا ۔ یہاں پر فرعون کے ساتھ ہامان کا بھی ذکر ہے جو کہ اس کا وزیر تھا ۔ ہامان کا ذکر پہلی دفعہ آ رہا ہے ، البتہ اگلی سورتوں میں بھی آئے گا ۔ اس کے علاوہ قارون کا ذکر بھی آئے گا ۔ جو سرمایہ دارو کا پیشوا تھا۔ بہر حال اللہ نے ان تمام طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں دین حق کی کامیابی کی پیشن گوئی فرما دی ۔
Ayahs 28:7–10ربط آیات
اس سورة مبارکہ کی ابتدائی آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے ذکر کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا گیا ۔ امام احمد (رح) نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت معدی کرب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے عرض کیا کہ مجھے سورة طسم سنائو تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ سورة اس شخص سے سنو جس نے اے براہ راست حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کیا ہو ۔ اس سلسلے میں انہوں نے حضرت خباب بن ارت ؓ کا پتہ بتایا ۔ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے یہ ساری سورة سنا دی ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کل ستتر 77 سورتیں حضور حضور ﷺ کے دہن مبارک سے سن کر سیکھی تھیں مگر اس سورة سے متلق انہوں نے معذوری کا اظہار کردیا ۔ دراصل اس سورة میں اہل ایمان کے لیے تسلی کا مضمون ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے ظلم و ستم میں پسے ہوئے بنی اسرائیل کو کس طرح نجات دی اور فرعون اور اس کے حواریوں کو غر ق کیا ۔
سورۃ کی ابتدائی آیات میں فرعون کی پالیسی کا اجمالا ً ذکر تھا کہ وہ بڑا مغرور اور سر کش تھا۔ اس نے عوام کو مختلف طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا۔ بعض کی عزت افزائی کرتا تھا۔ اور بعض کو ذلیل و خوار کرتا تھا ، اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ کمزوروں اور بےکسوں کو قعر مذلت سے نکال کر ان کو پیشوائی عطا کی جائے ، اور فرعون اور اس کے حواری ہامان وغیرہ کو وہی چیز دکھادے جس سے وہ ڈرتے تھے ۔ وہ اسی چیز سے خوف کھاتے تھے کہ ان کی سلطنت ضائع نہ ہوجائے مگر اللہ نے ان کی جڑ بنیاد ہی سے اکھاڑ کر رکھ دی۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی ابتدائی زندگی
موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے مختلف حصوں کا ذکر مختلف سورتوں میں بیان کیا گیا ہے ۔ سورة الشعراء میں زیادہ تر نبوت کے بعد کے حالات تھے جب کہ اس سورة میں روئے سخن قبل از نبوت حالات کی طرف زیادہ ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے واوحینا الی امر موسیٰ ان ارضعیہ اور ہم نے وحی بھیج موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف کہ اس بچے کو دودھ پلاتی رہیں ۔ فاذا اخفت علیہ فالقیہ فی الیم پھر جب تجھے کوئی خطرہ ہو فرعونیوں کی طرف سے تو اس بچے کو دریا میں ڈال دیں ولا تخا فی ولا تخزنی اور نہ خوف کھانا اور نہ عم کرنا انا رادہ الیک ہم اسے تیری طرف لوٹا دیں گے۔ وجاعلوہ من المرسلین اور ہم اس کو رسولوں میں سے بنانے والے ہیں ۔ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے ہر نوزائیدہ بچے کو محض اس لیے قتل کروا دیتا تھا مبادا کہ یہی بچہ میری سلطنت کے زوال کا باعث نہ بن جائے جب موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تو آپ کی والدہ کو فکر ہوئی کہ اگر فرعون کے گماشتوں کو بچے کی پیدائش کا علم ہوگیا تو وہ اسے قتل کردیں گے ، لہٰذا وہ بچے کو بچانے کے لیے تدبیریں سوچنے لگی۔ اسی پریشانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو وحی کے ذریعے یہ تدبیر بتائی کہ اس بچے کو فوری طور پر اپنے آپ سے جدا نہ کرنا بلکہ اسے اپنے پاس رکھ کر اس کی پرورش کرتی رہو اور جب بچے کی جان پر زیادہ خطرہ محسوس کرو تو کوئی دوسری تدبیر کرنے کی بجائے اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دینا اس کی زندگی کے محافظ ہم خود ہیں ۔ تم اس کے متعلق فکر مند نہ ہونا ، ہم خود بچے کو تمہیں واپس لوٹا دیں گے اور یہ تمہاری ہی تحویل میں پرورش پائیگا۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ ہم اس کے سر پر نبوت و رسالت کا تاج بھی رکھیں گے۔
اور موسیٰ کی طرف وحی پر اشکال
اس آیت کریمہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی بھیجنے کا ذکر ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک عورت تھیں اور عورت نبیہ نہیں ہوتی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلاَّ رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ (الانبیائ : 7) ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول بھیجے ہیں وہ سب مرد تھے اور ہم نے ان کی طرف وحی نازل کی ۔ اب سوال یہ ہے کہ ام موسیٰ کی طرف کس حیثیت سے وحی بھیجی گئی۔ تمام مفسرین 1 ؎ اس بات پر متفق ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نبی یا رسول نہیں تھیں ۔ البتہ بعض عورتوں کو اللہ نے صدیقت کے درجے پر فائز کیا ہے۔ ان میں حضرت مریم ؓ ، حضرت خدیجہ ؓ ، حضر ت فاطمہ ؓ ، فرعون کی بیوی آسیہ ؓ اور بعض دیگرنیک خواتین شامل ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو بھی زیادہ سے زیادہ انہی خواتین میں شامل کیا جاسکتا ہے ، تا ہم وہ نبیہ نہیں تھیں ۔ ان کے نام میں اختلاف ہے بعض 2 ؎ نے محیانہ ، بعض نے یا راہ اور بعض 3 ؎ نے یو خابد لکھا ہے ۔ اس ضمن مفسرین 4 ؎ کر ایم فرماتے ہیں کہ دراصل وحی کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک وحی نبوت و رسالت ہے اور یہ انبیاء اور رسل کے ساتھ مخصوص ہے ، کسی غیر ینی پر یہ وحی نہیں آتی ۔ البتہ وحی کی دوسری قسم الہامی ہے جو نبیوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ اس وحی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق کی طبیعت اور مزاج میں کوئی بات ڈال دے جیسے شہد کی مکھیوں کے متعلق فرمایا واوحی ربک الی النحل ( النحل : 86) تیرے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کی طرف وحی بھیجی یعنی ان کی طبیعت اور مزاج میں یہ بات ڈال دی کہ وہ پھلوں اور پھولوں کا رس چوس کر اس سے شہد تیار کریں ۔ وحی الہام کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی چیز کسی کو خواب میں بتلا دے ، ہو سکتا ہے کہ ام موسیٰ کو مذکورہ بات خواب کے ذریعے بتا دی دی گئی ہو۔ یا ان کے مزاج میں یہ بات ڈال دی گئی ہو۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو انسانی شکل میں بھیج کر بھی کوئی بات سمجھا دیتا ہے۔ صحیح حدیث میں تین آدمیوں کی آزمائش کا ذکر آتا ہے۔ ان میں سے ایک برص والا ، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا تھا۔ اللہ نے ان کی آزمائش انسانی شکل میں فرشتے کے ذریعے کرائی ۔ مگر ان میں سے صرف
1 ؎۔ قرطبی ص 052 ج 31۔ 2۔ روح المعانی ص 543 ج 02۔ 3۔ مظہری ص 341 ج 7 ۔ 4۔ معالم التنزیل ص 621 ج 3 ، روح المعانی ص 45 ج (فیاض)
ایک کامیاب ہوسکا ۔ جب کہ دو ناکام ہوگئے۔ مسلم شریف میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ کوئی شخص سفر پر جا رہا تھا ۔ اللہ نے ایک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا ، جس نے اس شخص سے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو ؟ کہا ایک شخص کی ملاقات کے لیے جا رہا ہوں ۔ فرشتے نے پوچھا ، کیا اس شخص نے تم پر کوئی احسان کیا ، یا تمہارا اس کے ساتھ کوئی مفاد وابستہ ہے ، اس شخص نے بتایا کہ نہ تو اس شخص نے مجھ پر کوئی احسان کیا ہے اور نہ ہی مجھے اس سے کوئی دنیاوی عرض ہے ۔ میں تو اسے نیک آدمی سمجھ کر محض اللہ کی رضا کی خاطر اس کی ملاقات کے لیے جا رہا ہوں ۔ اس پر فرشتے نے کہا کہ میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں ۔ وہ خداوند کریم جس کی محبت اور رضا کے لیے تم نے یہ سفر اختیار کیا ہے ، تو میں تم کو خوش خبری سناتا ہوں کہ جس طرح تم اللہ کے اس نیک بندے سے محبت کرتے ہو ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرتا ہے۔ بہرحال مفسرین 1 ؎ اس بات پر متفق ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف وحی یہ تو طبیعت کے ذریعے تھی ، یا اللہ نے انسانی شکل میں کوئی فرشتہ بھیج کر بات سمجھا دی یا پھر خواب کے ذریعے مطلع کردیا تھا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی دریا بردگی
وحی 2 ؎ یہی تھی کہ بچے کو دودھ پلاتی رہو اور اگر کوئی زیادہ خطرہ محسوس کرو تو اسے دریا میں بہا دینا ، غم نہ کرنا ، ہم بچے کو دوبارہ تیری طرف لوٹا دیں اور اسے بنائیں گے ۔ تفسیری 3 ؎ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی والدہ نے تین ماہ تک موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے گھر میں رکھ کر دودھ پلایا ۔ جب فرعون کے گماشتوں کی گھر گھر تلاشی کا خطرہ بڑھ گیا تو آپ نے وحی کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ بائبل کی روایت کے مطابق آپ نے سر کنڈے کی ٹوکری بنائی اور اس میں رال لگا کر اس کے سوراخ بند کردیے تا کہ اس میں پانی داخل نہ ہو سکے۔ بعض روایات میں صندوق کا ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا کی لہروں کے سپرد کردیا ۔
یہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے سامنے پہنچا ، بائبل کی روایت یہ ہے۔
1 ؎۔ روح المعانی ص 54 ج 2 ۔ 2 ؎۔ در منثور ص 021 ج 5۔ 3 ؎ مظہری ص 441 ج 7 ( فیاض)
کہ فرعون کی بیٹی اپنی سہیلیوں وہاں موجود تھی جنہوں نے بہتے ہوئے صندوق کو نکلوایا ۔ تا ہم قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ بچے کو فرعون کی بیوی وساطت سے اٹھایا گیا ۔ یہاں پر الفاظ یہ ہیں فالتقطہ ال فرعون پس اٹھالیا اس بہتے ہوئے صندوق کو فرعون کے گھر والوں نے لیکون لھم عدوا و حزنا تا کہ ہوجائے یہ بچہ ان کے لیے دشمن اور غم کا باعث ۔ ان الفاظ سے بھی کچھ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بچہ انہوں نے دشمن سمجھ کر تو نہیں اٹھایا ، بلکہ جیسا کہ آگے آ رہا ہے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۔ دراصل لیکون کا لام لام علت نہیں بلکہ لام معاقبت ہے اور مطلب یہ ہے نتیجے کے طور پر یہ بچہ فرعون کا دشمن اور اس کے لیے باعث غم بنا ۔ اس کی مثال عربی محاورے میں بھی ملتی ہے جیسے کہتے ہیں لدواللموت وابنو ا للخراب یعنی بچے جنو موت کے لیے اور عمارات تعمیر کرو بربادی کے لیے ۔ حقیقت یہ ہے نہ تو لوگ بچے مرنے کے لیے جتنے ہیں اور نہ ہی عمارتیں مہندم ہونے کے لیے بناتے ہیں ۔ البتہ جملے کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوگا اسے ایک نہ ایک دن مرنا ہے اور جو بھی عمارت تعمیر ہوگی وہ بہر چال ٹوٹ پھوٹ جائے گی ۔ تو یہاں بھی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے بہتے ہوئے بچے کو اٹھا تو لیا مگر بالآخر وہ ان کا دشمن ثابت ہوا اور ان کے لیے غم کا باعث بنا ۔ ایسی ہی مثال قرآن پاک میں بھی ملتی ہے۔ سورة الاعراف میں اللہ کا فرمان ہے وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ (آیت : 971) ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا ۔ یہاں بھی یہ ظاہری مفہوم اور نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جنوں اور انسانوں کی کثیر تعداد جہنم میں جائے گی ۔ فرمایا ان فرعون وھامن وجنود ھما کانوا خطین بیشک فرعون ، اس کا وزیر ہامان اور ان دونوں کے لشکر خطا کار تھے ، ان کی پالیسی ہی غلط تھی ۔ اور بچے کو اٹھا لینے میں بھی انہوں نے غلط کی ۔ وہ اس سے مفاد وابستہ کیے بیٹھے تھے ، مگر اللہ نے اسی کو ان کی تباہی کا ذریعہ بنا دیا۔ ویسے بھی فرعون اور انس کے حواری سخت گناہ گار اور مجرم تھے۔ اللہ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے محل میں
فرعون کے محل میں جب صندوق کو کھولا گیا تو اس سے بڑا پیار بچہ برآمد وقالت امرت فرعون جسے دیکھ کر فرعون کی بیوی پکار اٹھی ۔ قرت عین لی ولک اے فرعون ! یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ مفسرین 1 ؎ لکھتے ہیں کہ اس کے جواب میں فرعون نے کا کہ یہ بچہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا ۔ میری آنکھوں کی نہیں ۔ فرعون کے دل میں یہی بات آئی کہ کسی اسرائیلی نے اس بچے کو قتل سے بچانے کے لیے دریا میں بہا دیا ہے ، لہٰذا اسے قتل کردینا چاہئے ۔ مگر بیوی نے سفارش کی ۔ لا تقتلوہ اسے قتل نہ کرو ۔ یہ تو بڑا پیارا بچہ ہے ۔ عسی ان ینفعنا ونتخذ ہ ولدا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۔ مگر اللہ نے فرمایا وھم لا یشعرون وہ حقیقت حال کو نہیں جانتے تھے کہ آگے چل کر ان کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ فرعون 2 ؎ کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ابن عبید ابن بریان سلیم الفطرت اور ایماندار خاتون تھی ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کا تعلق اسرائیلی خاندان سے تھا ، مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ بھی فرعون کے خاندان سے تھی ۔ اس نے بھی فرعون کے بڑے مظالم برداشت کیے تو اللہ نے اسے صدیقہ کا درجہ دیا ۔ بہر حال اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی من موہنی شکل و صورت دیکھی تو اس کے دل میں محبت بھر آئی۔ سورة طہٰ میں ہے وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِّنِّیْج وَلِتُصْنَعَ عَلٰی عَیْنِیْ (آیت : 93) اے موسیٰ ! میں نے تم پر اپنی محبت ڈال دی جو دیکھتا تھا فریفتہ ہوجاتا تھا اور اس لیے کہ تم میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائو ، غرضیکہ فرعون کی بیوی نے بچے کو قتل نہ کر نیکی سفارش کی ۔
ام موسیٰ کی بیقراری
بچے کو دریا میں بہا دینے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی کیفیت یہ ہوئی۔ واصبح فواد ام موسیٰ فرعا ً د اس کا دل صبر سے فارغ ہوگیا یعنی بقرار
1 ؎۔ ابو سعود ص 841 ج 4 ۔ 2 ؎۔ مظہری ص 641 ج 7 و روح المعانی ص 84 ج 03 (فیاض)
ہو گیا ۔ یہ انسانی مزاج اور ماں کی مامتاکا تقاضا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے بچے کو دریا کی لہروں کے سپرد کیا مگر دل بےقرار ہوگا کہ نامعلوم بچے کے ساتھ کیا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ اگرچہ اللہ کی طرف سے الہام ہوچکا تھا کہ خوف اور غم نہ کھائو ، ہم بچے کو تمہاری طرف لوٹا دیں گے ۔ مگر دل بیقرار کو قرار کہاں آتا ان کی حالت یہ ہوچکی تھی ان کا دت لتبدی بہ قریب تھا کہ وہ راز لو فاش کردیتی مگر اللہ نے فرمایا لو لا ان وبطنا علی قلبھا اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی کہ اس نے امر موسیٰ کے دل کو قرار بخشا ، ورنہ سارا معاملہ ہی الٹ پلٹ ہوجاتا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تائید کے بغیر کوئی بھی انسان بذاتہٖ کمال کو نہیں پہنچ سکتا ۔ اسی لیے اہل ایمان ہمیشہ یہی دعا مانگتے ہیں 1 یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دن کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ 2 ؎ صرف قلبی لی صعتک میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا ۔ لتکون من المومنین تا کہ وہ ایمان والوں میں سے ہو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے راز کو فارش نہ کیا اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش فرعون کے گھر میں ہوئی اور وہ تیس سال تک وہاں رہے۔ اس کے بعد اگلے واقعات میں آئے ہیں۔
1 ؎۔ ترمذی ص 705۔ 2 ؎۔ حصن حصین ص 374 ( فیاض)
Ayahs 28:11–13ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد جب آپ کی والدہ نے خطرہ محسوس کیا کہ فرعون کے آدمی اس کو پکڑ کر ذبح کر ڈالیں گے تو الہامی ہدایات کے مطابق اس نے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا ۔ یہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے قریب سے گزرا تو فرعون کے گھر والوں نے اسے نکلوا لیا ، محل میں لا کر جب صندوق کھولا گیا تو اس سے خوبصورت بچہ برآمد ہوا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ نام بھی اسی مناسبت سے کہ آپ پانی سے برآمد ہوئے موکا معنی پانی اور سی لڑکی کو کہتے ہیں ، گویا لکڑی کے صندوق سے برآمد شدہ۔
موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے
موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اگرچہ الہامی احکام کے تحت آپ کو دریا میں بہا دینے کی تدبیر کی تھی ۔ مگر فطری طور پر وہ بچے کی جدائی سے بےقرار ہوچکی تھی اور وہ اس کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بےچینی تھی ۔ فقالت لا حتہ قصیہ پس کہا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن یعنی اپنی بیٹی سے کہ بچے کا سراغ لگائو ۔ قصی کا معنی ہوتا ہے پیچھے پیچھے یعنی نقش قدم پر جانا ۔ اس کی مثال سورة الکہف میں ملتی ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع بن نون اپنے ہدف سے آگے نکل گئے اور انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ۔ فارتد اعلیٰ اثارھم قصما ( آیت : 46) تو وہ اپنے قدموں کے نشانات پر واپس آگئے۔ یہ موسیٰ 1 ؎ (علیہ السلام) کی بڑی بہن مریم تھی ۔ واقعات سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ اس وقت اچھی خاصی سوجھ بوجھ رکھی تھی اور فرعون کے محل میں پہلے سے آنا جانا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے والد بھی فرعون کے قریبی کارندوں میں شامل تھے۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے ان کی بڑی بہن سے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے پیچھے جائو اور سراغ لگائو کہ یہ صندوق کہا پہنچا ہے اور پھر کیا معاملہ پیش آتا ہے فبصرت بہ عن جنب موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن آپ کی طرف دور سے دیکھتی ہیں ۔ اجنبی بن کرتا کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ اس لڑکی کا اس صندوق کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ جنب کا معنی پہلو بھی ہوتا ہے اور دوری بھی ۔ جنابت بھی اسی مادے سے ہے کہ انسان طہارت سے دور ہوجاتا ہے ۔ جس سے فرشتوں کو نفرت ہوتی ہے جنب کے یہ معانی عربی ادب میں بھی ملتے ہیں ، جیسے کسی نے کہا ہے۔
1 ؎۔ مظہری ص 841 ج 7 و روح المعانی ص 05 ج 02 ( فیاض)
؎ اتیت حریت زئرا عن جبانۃ
وکان حریثا عن عطائی جاحد
میں حریث کے پاس دور سے پہنچا مگر وہ اتنا ڈل ثابت ہوا کہ اس نے مجھے کچھ عطیہ نہ دیا۔
؎ فلا تحرمنی نا ئلا ً عن جنا بۃ
فانی امر وسط القیاب غریب
مجھے دوری کی وجہ سے محروم نہ رکھنا کیونکہ میں ان خیموں کے درمیان ایک اجنبی آدمی ہوں۔
بہر حال فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن آپ کو دور سے دیکھتی رہی وھم لا یعشرون مگر فرعون اور اس کے کارندوں کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے اور یہ کہ اس لڑکی کا اس صندوق والے بچے کے ساتھ واقعی کوئی تعلق ہے۔ جب بچے کو صندوق سے نکالا گیا تو فرعون کا ذہن فوراً اس طرف گیا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وہی بچہ ہو جس کی مجھے تلاش ہے لہٰذا اسے قتل کردینا چاہئے مگر اس کی بیوی نے کہا کہ اسے قتل نہ کرو ۔ یہ بڑا پیارا بچہ ہے ، ہو سکتا ہے یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں ۔ ادھر اللہ کی بھی تدبیر تھی ۔ اس نے موسیٰ علیہ السلا م کو یہ احسان جتالا ۔ والقیت علیک محبۃ منی ( طہٰ : 93) میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت ڈال دی ۔ جو بھی شکل و صورت دیکھتا گرویدہ ہوجاتا ، اگرچہ فرعون کی حس اسے قتل پر آمادہ کر رہی تھی مگر بچے کی خوبصورتی دیکھ کر اور بیوی کی سفارش سے اس کا دل بھی نرم ہوگیا اور اس نے نہ صرف قتل کا ارادہ ترک کردیا بلکہ بچے کی پرورش کا ذمہ بھی اٹھا لیا ۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی رضاعت
اب بچے کی رضاعت کا مسئلہ در پیش تھا کہ اس کو دودھ کو ن پلائے ۔ شاہی حکم پر بہت سی دودھ پلانے والی عورتوں کو آزمایا گیا ، مگر اللہ کا حکم تھا ، و حرمنا علیہ المراضع من قبل ہم نے اس سے پہلے ہی بچے پر دودھ پلانے والیوں کو ممنوع قرار دیدیا تھا ، لہٰذا بچہ کسی بھی دائی کا دودھ پینے کے لیے تیار نہ ہوا ۔ اس حرمنا سے شرعی حرام مراد نہیں ہے ، بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) پر کسی غیر عورت کی رضاعت تکوینی طور پر حرام کردی گئی ۔ حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور تدبیر کار فرما تھی۔ اب شہر بھر میں مشہور ہوگیا کہ فرعون ایک بچے کی پرورش کرنا چاہتا ہے مگر وہ بچہ کسی عورت کا دودھ پینے کے لیے تیار نہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن جو اس موقع کی تلاش میں تھی فقالت ھل ولکم علی اھل بدت یکفلونہ لکم کہنے لگی ، کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کے متعلق نہ بتائوں جو اس بچے کی تمہارے لیے کفالت کریں ھم لہ ناصحون اور وہ لوگ اس کے لیے شیر خوار بھی ہوں گے۔ مفسرین 1 ؎ فرماتے ہیں کہ اس موقع فر فرعون کے وزیر ہامان کو شک گزرا کہ اس لڑکی کو پتہ ہوگا کہ یہ بچہ کس کا ہے ، اسی لیے تو وہ اس کے ساتھ خیر خواہی جتلا رہی ہے مگر لڑکی بڑی سمجھ دار تھی ۔ فوراً بولی کہ لہ سے مراد بچے کی خیرخواہی نہیں ، بلکہ خود فرعون کی خیر خواہی ہے جو اس کی اچھے طریقے سے پرورش کرنا چاہتا ہے وہ لوگ فرعون کے حق میں بڑے خیر خواہ ہیں ۔ اس پر برہان نے اپنی بات پر زور نہ دیا ، حالانکہ اس سے بچے کی خیرخواہ ہی مطلوب تھی۔
فرعون نے اس لڑکی کی بات کو تسلیم کرلیا اور حکم دیا کہ جس عورت کا پتہ دیتی ہو اسے حاضر کرو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو فوراً بلا لیا گیا جب اس نے بچے کو اپنی چھاتی سے لگایا تو اس نے فوراً دودھ پینا شروع کردیا ۔ فرعون کے گھر والوں نے اس کو غنیمت جانا اور اس لڑکی کی کارگزاری پر خوش ہوئے کہ اس نے ایک پاکیزہ گھر کی نشاندہی کی ہے جس کا دودھ بچہ پینے لگا ہے ۔ غرضیکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی خدمات بطور دائی ایک پونڈ یومیہ کی اجرت پر حاصل کرلی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے دوسرے بچے بھی ہیں جن کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے ، لہٰذا میں تمہارے بچے کو محل میں رہ کر دودھ نہیں پلا سکتی بلکہ اسے اپنے گھرلے جا کر پرورش
1 ؎۔ کشاف ص 693 ج 3 و کبیر ص 132 ج 42 و مدارک ص 822 ج 3 ( فیاض)
کروں گی ۔ فرعون نے یہ شرط بھی منظور کرلی اور کہا کہ بچے کو لے جائو مگر کبھی کبھی یہاں لا کر ملواجایا کرو ، ہم تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور مقررہ اخراجات کے علاوہ انعام و اکرام بھی دیں گے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے پاس مراجعت
اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا ۔ اللہ نے اسی بات کا ذکر کیا فرد دنہ انی امہ ہم نے اس کو اسکی والدہ کے پاس لوٹا دیا لی تقرعینھا ولا تحزن تا کہ اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو ، اور وہ غمگین بھی نہ ہو ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتا تھا ولتعلم وعد للہ حق تا کہ وہ جان لے کہ بیشک اللہ کا وعدہ۔۔۔ بر حق ہے ، اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ سے وعدہ کیا تھا کہ فکر نہ کرو ۔ اسے پانی میں بہائو ، ہم اسے تمہارے پاس لوٹا دیں گے۔ سو اللہ نے وہ وعدہ پورا کردیا ، اور اس شان کے ساتھ لوٹایا کہ وہ اپنے ہی بچے کو دودھ پلا کر فرعون سے اجرت بھی وصول کریگی ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص اپنی تیار کردہ کسی چیز میں خیر کی توقع رکھتا ہے۔ اس کی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی ہے۔ جس طرح وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت وصول کرتی تھی ۔ اسی طرح یہ شخص اپنی مصنوعات کی قیمت تو وصول کریگا ہی مگر ساتھ ساتھ ثواب بھی حاصل رہے گا ۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تیرتیار کرنے کی وجہ سے تین آدمی بخشے جائیں گے۔ ایک آدمی اس تیر کو تیار کرنے والا ہے ۔ جس نے اس نیت سے تیار بنایا کہ اس سے دشمن خدا ہلاک ہو تو اسے تیر کی قیمت کے علاوہ اللہ کی طرف سے ثواب بھی حاصل ہوگا دوسرا خوش قسمت شخص وہ ہے جو تیرانداز کو اس نیت کے ساتھ پکڑاتا ہے کہ اس سے دشمن ہلاک ہو ، تو وہ بھی بخشا گیا ۔ اور تیسرا شخص خود تیر انداز ہے ، جو اللہ کی رضا کی خاطر دشمن کی صفوں میں تیر پھینکتا ہے وہ بھی بخشا جائے گا۔
تدبیر خداوندی
فرمایا اللہ تعالیٰ تو اپنی تدبیر کے ذریعے اپنا وعدہ پورا کردیتا ہے ولکن اکثر ھم لا یعلمون لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے کہ تدبیر خداوندی کس طرح کام کرتی ہے۔ تمام تقلبات اور تصرفات اللہ کے قبضے میں ہیں ، لہٰذا وہ ہر کام کر گزرنے پر قادر ہے۔ ایسے میں دشمن کی تدبیر کیسے کامیاب ہو سکتی ہے ؟ اس کا تو اعلان ہے ویمکرون ویمکر اللہ ( انفال : 03) لوگ بھی تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ بھی تدبیر کرتا ہے۔ مگر اللہ ہی بہتر تدبیر کنندہ ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا واللہ غالب علی امرہ (یوسف : 12) وہ اپنے معاملے اور حکم میں غالب ہے ، وہ جو چاہے کرے ، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی ، مگر اکثر لوگ بےعلم ہیں ۔ جو ان چیزوں کو نہیں سمجھتے۔