Ayahs 28:26–28ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات زندگی میں سے رسالت کو اس کے بعد کے واقعات تو سورة الشعراء میں بیان ہوئے ہیں ۔ البتہ ابتدائی زندگی کے بیشتر واقعات یہاں اس سورة میں مذکورہ ہیں ۔ ان واقعات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آمادہ نسلیں انت سے نصیحت حاصل کریں ۔ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ، ان کی پرورش ، پھر آپ کے ہاتھوں ایک قبطی کا قتل ، فرعونیوں کا موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا مشورہ پھر ایک مومن آدمی کا موسیٰ (علیہ السلام) کو مطلع کرنا اور آپ کا مصر سے نکل کر مدین جانا ، وہاں دو عورتوں کی بکریوں کو پانی پلانا اور پھر لڑکیوں کے باپ کا آپ کو اپنے گھر طلب کرنا ، یہ سب واقعات بیان ہوچکے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سن کر لڑکیوں کے باپ ( شعیب علیہ السلام) نے آپ کو تسلی دی کہ فکر نہ کرو ۔ اب تم فرعون کی عملداری سے نکل آئے ہو ، اللہ تعالیٰ ان ظالموں سے تمہاری حفاظت کرے۔
ملازمت کے لیے سفارش
شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے گھر بلایا اور ان سے ساری داستان سنی اور تسلی دی ۔ اس کے بعد آپ کو کھانا کھلایا گیا ۔ پھر ان خواتین میں سے ایک نے اپنے باپ سے اس طرح بات کی قالت احد ھما ان میں سے ایک کہنے لگے یابت استاجرہ اے ابا جی ! اس شخص کو اپنا نوکر رکھ لیں ، آپ بوڑھے ہوچکے ہیں ۔ بینائی بھی جاتی رہی ہے۔ کام کاج نہیں کرسکتے لہٰذا بکریوں کی دیکھ بھال کے لیے اس شخص کو اپنے ہاں ! جیر رکھ لیں تو بڑا اچھا ہوگا ۔ اس عور ت کا نام یہاں ذکر نہیں کیا گیا ، تا ہم تفاسیر 1 ؎ اس کا نام صفور بیان کیا گیا ہے جب کہ چھوٹی بہن کا نام شرفا تھا۔ تو صفورا نے سفارش کی کہ یہ شخص غریب لوطن ہے ، اس کے ساتھ بہت سے حادثات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے خوفزدہ ہے تو آپ اس کی بکریاں چرانے پر نوکر رکھ لیں ۔ اس کی مصروفیت کا سامان پیدا ہوجائیگا اور ہمیں سہولت حاصل ہوجائے گی۔
شرائط ملازمت
آگے اس خاتون نے ایک بڑا عمدہ جملہ کہا ان خیر من استاجرت لقوی الامین اسے باپ ! آپ جو بھی نوکر رکھیں اسے طاقتور اور
1 ؎۔ کبیر ص 042 ج 42 و طرب ی ص 66 ج 02
امانتدار ہونا چاہئے ۔ ملازمت کے لیے ایسا ہی آدمی بہتر ہے ۔ حضرت عمر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہے کہ یہ شخص ان صفات کا حامل ہے تو لڑکی نے بتایا کہ جب اس شخص نے بڑا وزنی پتھر کنوئیں کے منہ سے ہٹایا تو میں سمجھ گئی کہ بھوکا پیاسا ہونے کے باوجود یہ شخص دس آدمیوں پر بھاری ہے ، اور امانت دار اس طرح ثابت ہوا کہ جب میں اسے کنوئیں سے بلا کر گھر لا رہی تھی تو اس کے آگے آگے چل رہی تھی ۔ اتفاقاً ہوا کی تیزی سے میرے جسم کا کپڑا ذرا اڑا تو اس نے کہا کہ تم میرے پیچھے پیچھے چلو اور جہاں راستہ تبدیل کرنا ہو مجھے آواز دے دینا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملازمت کی شرائط میں یہ چیز ضروری ہے کہ امیدوار کی قوت صلاحیت کا جائزہ لیا جائے اور دوسرا یہ کہ وہ دیانت دار بھی ہو۔
صحت بطوربنیادی حق
کام کاج کرنے کے لیے صحت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر ملازم کی صحت اچھی نہیں ہوگی تو وہ اپنے فرائض بطریق احسن انجام نہیں دے سکے گا ۔ آج کل اقوام (U.N.O) والے انسانوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کے دعویدار بنے بیٹھے ہیں ، حالانکہ یہ حقوق تو ڈیڑھ ہزار سال پہلے اللہ کے قرآن اور نبی کے فرمان نے واضح کردیئے تھے ابن آدم کے بنیادی حقوق خوراک ، پانی ، لباس اور مکان ہیں ۔ اس کے علاوہ فرائض کی ادائیگی کی حد تک تعلیم بھی فرض عین ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ ہر ہر دو وزن مسلمان پر علم وہ حصو ل فرض ہے۔ اسی طرح انسان کی صحت بھی ان حقوق میں شامل ہے کہ اس کے بغیر نہ عبادت ہو سکتی ہے اور نہ روزگار کے سلسلے میں امور ضرور یہ انجام دیے جاسکتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مزدور یا کسان کو کام پر لگائو تو درمیان میں وقفہ بھی دو تا کہ وہ آرام کرسکے ، مسلسل بارگاہ گھنٹے مزدور سے کام لینا زیادتی ہے ۔ اسے مہذب سوسائٹی میں جانے کا موقع ملنا چاہئے ، تعلیم حاصل کرنے کا وقت ملنا چاہئے ، عبادت کے لیے وقفہ چاہئے۔ یہ سب چیزیں اس کے بنیادی حقوق میں شامل ہیں اگر وہ آخرت کی فکر نہیں کرے گا تو ہمیشہ کے لیے گھاٹے میں پڑجائے گا ۔ پرانے زمانے میں روم اور ایران والے اپنے غلاموں اور نوکروں سے گھوڑے بیل کی طرح کام لیتے تھے اور انہیں خوراک بھی معمولی فراہم کرتے تھے۔ یہ تو ظلم کی بات ہے ، لہٰذا یہ زمیندار ، دکاندار ، کارخانے دار کا فرض ہے کہ وہ مزدوروں سے کام لیتا ہے تو ان کے حقوق کا بھی خیال کرے۔ مزدور کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ امانتدار ہو ، اگر اس میں یہ صفت پائی جاتی ہے تو وہ اپنے کام میں کوتاہی نہیں کریگا۔ وقت کو ضائع نہیں ہونے دیگا ۔ مالک کے مال میں کسی قسم کی خیانت نہیں کریگا ۔ اس کے بر خلاف بد دیانت ملازم کا … ہوگا ، مالک کی چوری کریگا ۔ وقت ضائع کریگا ، اور حیلے بہانے سے کام سے جی چرائے گا یہ دو شرطیں ضروری ہیں ، جن کی عدم موجودگی میں دنیا میں فتنے پیدا ہو رہے ہیں ۔ مالک شاکی ہے کہ مزدور کام نہیں کرتے اور مزدور نالاں میں کہ مالک معاوضہ پورا نہیں دیتا ، آج ہر کارخانے ، ہر دفتر اور دکان پر مالک اور نوکر کے درمیان کش مکش جا ری ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ فریقین نقصان اٹھا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے ، بہر حال صلاحیت اور دیانت مزدور کی ضروری شرائط ہیں ۔ دوسری طرف مالک پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، ان کا ذکر بھی شعیب (علیہ السلام) کے بیان میں آ گیا ہے کہ میں تم پر مشقت نہیں ڈالوں گا اور یہ کہ تو مجھے نیکی والوں میں پائے گا ۔ اور تیسری ذمہ داری خود حضور ﷺ نے واضح کردی کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ جب کسی مزدور سے مشقت کا کام لو تو اس میں خود بھی اس کا ہاتھ بٹائو ، اس کو ایسا کام نہ دو جو اس کی قوت اور صلاحیت سے زیادہ ہو ۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ جب کسی شخص کو کام پر لگاتے تو گھروالوں کو تاکید کرتے کہ مزدور کی مزدوری بر وقت اور پوری پوری ادا کرنا ۔ غرضیعہ مالک بھی نیکی والا ہونا چاہئے ، جو غریبوں کا استحصال نہ کرے بلکہ ان کے جائز حقوق ادا کرے اسی لیے شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بتلا دیا کہ میں تجھ پر ناجائز مشقت نہیں ڈالوں گا اور تم مجھے نیکی والوں میں پائو گے۔
تین صاحب فراست ہستیاں
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ تین ہستیاں بڑی ہی صاحب فراست ہوتی ہیں ۔ ایک شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی صفورا ہے جس نے اپنی ذہانت سے جان لیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) طاقتور اور امانتدار ہیں۔ دوسری ہستی حضرت یوسف (علیہ السلام) خریدو ہے جس نے گھر والوں کو کہا کہ اس غلام کو اچھے طریقے سے رکھنا عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَـآ اَوْ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا (یوسف : 12) شاید کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم سے اپنا بیٹا بنا لیں اور پھر یوسف (علیہ السلام) اس پر پورے اترے انہوں نے اپنی صلاحیت کی بناء پر مالک کا سارا کاروبار سنبھال لیا ۔ فوطیفار کا تمام تجارتی کاروبار یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھا ۔ آپ نے تمام نظم و نسق اس ذہانت سے چلایا کہ آمدنی میں تین گنا اضافہ ہوگیا۔ فرماتے ہیں کہ تیسری صاحب فراست ہستی حضر ت ابوبکر صدیق ؓ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں حضرت عمر ؓ کو خلیفہ نامزد کر کے بہت بڑی فراست کا ثبوت دیا ۔ بعد میں اس انتخاب نے ثابت کردیا کہ آپ امت کے حق میں بہترین آدمی تھے۔
شعیب (علیہ السلام) کے حالات
صاحب تفسیر مظہری اور بعض دیگر مفسرین 2 ؎ ذکر کرتے ہیں کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) معمر ہوچکے تھے اور اکثر گریہ کرتے رہتے تھے حتیٰ کہ آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی۔ اللہ نے فرمایا ، شعیب ! روتے کیوں ہو ؟ کیا جنت کا شوق ہے یا جہنم کا خوف ہے ؟ تو آپ نے عرض کیا ، پروردگار ! شوقا الی لقائک تیری ملاقات کے شوق میں روتا رہتا ہوں ۔ اس پر اللہ نے وحی نازل فرما کر آپ کی حوصلہ افزائی فرمائی ھنیالک لقاری یا شعب یعنی اے شعیب ! تمہیں میری ملاقات مبارکہ ہو ، وہ یقینا تمہیں نصیب ہوگی ۔ اسی واسطے میں نے تیری خدمت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیج دیا ہے۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ میں نے اپنے کلیم کو تیری خدمت پر مامور کردیا ہے۔ بعض کہتے ہیں ۔
1 ؎۔ کشاف ص 404 ج 3 و کبیر ص 242 ج 42 و مدارک ص 332 ج 3 تے معالم التنزیل ص 131 ج 3 ، خازن ص 171 ج 5 والسراج المنیرص 59 ج 3 ( فیاض)
کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کی بینائی بھی لوٹا دی تھی۔
اسباب ……سے استفادہ
مفسرین کرام بیان کرن کرتے ہیں کہ اس آیت کریمہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ عالم اسباب میں ضروری اور جائز اسباب کو اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں ۔ بو قت ضرورت موسیٰ (علیہ السلام) کا ملازمت اختیار کرنا بالکل درست تھا ، البتہ بعض ہستیوں کے ترک اسباب کا ذکر بھی ملتا ہے اور وہ اسی صورت میں ہے جب کہ برداشت کا مادہ باجر تم موجود ہو ، مثلاً پرانے زمانے کے جو پائے علم اسباب کو اختیار نہیں کرتے تھے تا کہ ان سے حصول علم میں کمی نہ آجائے ۔ ایسی حالت میں وہ دست سوال بھی دراز نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ کے بھروسے پر اشتغال علم میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے ۔ مثال کے طور پر امام بخاری عبد الرزاق ابن ہمام اور ابن جریر طبری کا نام پیش کیا جاسکتا ہے جنہوں نے حصول علم کے لیے طویل سفر کیے مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا ۔ آج تو دینی مدارس میں طالب علموں کے لیے خاطر خواہ انتظامات ہوگئے ہیں اور انہیں لباس ، خوراک ، رہائش اور دوسری ضروریات زندگی دستیاب ہیں مگر سلف صالحین تو کسی سرکاری آدمی کی سرپرستی بھی قبو ل نہیں کرتے تھے۔ امام ابن جریر گھر سے نکلے تو والد نے چھوٹے چھوٹے دو صد کلچے تیار کر کے ساتھ دے دیئے۔ چناچہ آپ نے دو سو روز تک انہی کلچوں پر گزارہ کیا اور کسی سے کھانے کا سوال نہ کیا ۔ امام جاحثہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ یادہ وقت تحصیل علم میں صرف کرتے تھے اور کچھ وقت نکال کر علاقے میں مچھلی فروخت کرتے تھے ، اور اس طرح اپنے ضروری اخراجات پورے کرتے تھے ، بہر حال ظاہر ی اسباب کا اختیار کرنا جائز ہے ، اور اگر ایسا کرنا حصول علم یا جہاد میں شرکت کے منافی ہو تو اسباب کا ترک کرنا بھی روا ہے بشرطیکہ برداشت کا مادہ موجود ہو ۔ اور اس سلسلے میں مزدوری یا ملازمت کرنا بھی بالکل جائز ہے۔ حضرت موسیٰ اور خضر (علیہما السلام) کے سفر کے واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ مسافری کی حالت میں بوقت ضرورت کھانا طلب کرنا بھی جائز ہے۔ اللہ کے یہ برگزیدہ بندے جب اس بستی میں پہنچے تو انہیں بھوک لگ رہی تھی ۔ انہوں نے بستی والوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا ۔ اس کے باوجود خضر (علیہ السلام) نے اس بستی میں ایک کرتی ہوئی دیوار کو سیدھا کردیا اور اس پر اجرت بھی نہیں لی تھی ۔ مطلب یہ کہ بوقت ضرورت کھانا طلب کرنا جائز ہے۔
نکاح میں پیش کش
جب شعب (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے عادت سے واقف ہوئے اور ان کی لڑکی نے سفارش بھی کی قان انی رید ان انکحک حدی بنتی ھتین تو کہنے لگے میں چاہتا ہوں کہ پنی ان بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ تمہارا نکاح کر دوں ۔ مگر شرط یہ ہے کہ علی ان تاجرنی تمنی حج تم آٹھ سال تک ہماری ملازمت کرو یعنی بکریوں کی دیکھ بھال کرو۔ یہ بات تو نکاح کے لیے ضروری ہے۔ قال اتمتت عشر فمن عنک اور گر آپ آٹھ کی بجائے دس سال پورے کردیں تو یہ آپ کی مرضی پر منحصر ہے وما رید ان اشق علیک میں اپنی طرف سے تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا اور پانچویں بات یہ کہ سبجدنی ان شاء اللہ من الصلحین تم مجھے نیکیوں میں سے پائے گا ۔ میں تمہارے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کروں گا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مصلحت خداوندی کے تحت ملازمت کے دس سال پورے کیے۔ شاہ عبد القادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بھی اس قسم کے حالات پیش آئے ۔ آپ کو مکہ مکرمہ سے تنگ کر کے نکالا گیا مگر اللہ نے پورے آٹھ سال کے بعد آپ کا تسلط مکہ پر جما دیا ۔ ایک سال کی مشرلیں کو رعایت دی گئی کہ اس سال وہ حج کرلیں اور آئندہ سال انہیں بیت اللہ شریف میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ پھر آپ نے دسویں سال حجۃ الوداع ادا کیا جس میں ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ ؓ آپ کے ہمراہ تھے اور اس طرح س سال کے عرصہ میں اس کو مکمل غلبہ اور مشرکین کا مکمل خاتمہ ہوگیا ۔
1 ؎۔ موضح القرآن ص 905 ( فیاض)
حق خدمت بطور حق مہر
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا دس سال تک بکریاں چرانا ان کی طرف سے نکاح کے لیے حق مہر تصور ہوگا یا نہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر وہ بکریاں موسیٰ (علیہ السلام) کی ہونے والی بیوی کی تھیں تو پھر تو دس سال کی مزدوری حق مہر میں شمار ہو سکتی ہے کیونکہ حق مہر بیوی کا حق ہوتا ہے ۔ اور اگر بکریاں اس کے والد کی تھیں تو یہ حق مہر نہیں بن سکتا ، اس سلسلے میں فقہائے احناف کا مسلک یہ ہے کہ بیوی کے والد کی مزدوری حق مہر نہیں بن سکتا کیونکہ حق مہر نکاح کا لازمی جزو ہے اگرچہ بوقت نکاح اس کا تقرر ضروری نہیں مگر ہے الزم جو بعد میں بھی بطور مہر مثلی ( خاندان کی عورتوں کے عام مہر کی مقدار کے برابر ادا کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان بھی ہے سورة النساء میں اللہ نے محرمات نکاح کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ ان محرمات کے علاوہ تم باقی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہو ان تبتغواباموالکم ( آیت : 42) بشرطیکہ تم نکاح کے لیے اپنا ما ل خرچ کرو یعنی حق مہر ادا کرو ۔ اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ حق مہر میں چونکہ مال کا ذکر ہے اس لیے حق مہر کی مقدار کم از کم دس درہم تو ہونی چاہئے کہ جس مقدار کی چوری پر قطع دید کی سزا دی جاسکتی ہے اس کے بر خلاف دیگر ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ ہر وہ حق مہردرست ہے جس پر فریقین راضی ہوجائیں خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو۔ تا ہم امام ابوحنیفہ کی رائے زیادہ قرین قیاس ہے۔ البتہ امام بیضاوی 1 ؎ لکھتے ہیں کہ وہ بکریاں اس لڑکی کی تھیں جس سے نکاح ہونا ہے۔ حق مہر میں مزدوری درست ہے لیکن عام طور پر ایسا خیال نہیں کیا جاتا بلکہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ بکریاں اس کے والد کی ملکیت تھیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دس سال کی اجرت کا حساب لگا کر اگر وہ اس کی اجرت اپنی بیٹی کو ادا کردیں تو حق مہر ادا ہوجائے ، ورنہ باپ کی بکریاں چرانا بیٹی کا حق مہر نہیں بنتا ۔ البتہ متعلقہ عورت کی ذاتی مزدوری کرنا حق مہر میں شمارہو گا ۔ فقہائے کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ
1 ؎۔ بیضاوی ص 391 ج 2 ( فیاض)
ایسی صورت میں میں رو کے ذمے کوئی معیوب کا م مثلاً کپڑے دھونا ، کھانا پکانا گھر میں جھاڑو وغیرہ دینا نہیں لگانا چاہئے کہ یہ ادب کے خلاف ہے ، البتہ گھر سے باہر والے کام مثلاً کھیتی باڑی کرنا ریوڑ چرانا ، تجارت کرنا وغیرہ امور سونپے جاسکتے ہیں ۔ مفسرین کرام یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ ممکن ہے شعیب (علیہ السلام) کی شریعت میں حق خدمت بطور حق مہر شمار ہوتا ہے ، لہٰذا دس سال کی مزدوری حق مہر میں شمارہو گی۔
بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ کسی معینہ وقت کے لیے مزدوری کرنے کو حق مہر شمار کیا جاسکتا ہے جب کہ بعض دوسرے اصحاب کا خیال ہے کہ حق خدمت بطور مہر شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حق مہر کے لیے مال کا ہونا ضروی ہے جو بوقت نکاح یا بعد میں بیوی کو ادا کیا جائے اور مزدوری جو پھر نقد مال نہیں ہے جو قابل انتقال ہو لہٰذا اسے حق مہر کے طور پر نہیں تسلیم کیا جاسکتا ۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ کسی نکاح کی شرائط میں سے اگر کوئی شخص غیر مناسب ہو جیسے وٹہ سٹہ کی شادی ، تو ایسی صورت میں ایسی شرط تو بالکل ہوگی مگر نکاح ہوجائے گا ، گویا باطل شرط سے نکاح فاسد نہیں ہوتا ۔
تکمیل معاہدہ
جب شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بیٹی کے نکاح کے لیے اپنی طرف سے شرائط پیش کردیں کہ تم میری آٹھ یا دس سال تک ملازمت کرو میں تم پر کوئی مشقت نہیں ڈالوں گا ، اور تم مجھے انشاء اللہ صالحین میں سے پائو گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس پیش کش کو قبول کرلیا۔ قال ذلک بینی و بینک یہ میرے و تمہارے درمیان معاہدہ ہوگیا ایما لاجلین قضیت فلا عدوان علی میں آٹھ یا دس سال کی جو بھی مدت پوری کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہونی چاہئے یہ معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں واللہ علی ما نقول وکیل ہم جو بات کر رہے ہیں ۔ اس پر اللہ نگہبان ہے ، ہم اس کی ذات پر بھروسہ کر کے یہ معاملہ طے کر رہے ہیں ، وہی ہمارا حامل و ناصر ہوگا ۔
Ayahs 28:29–35ربط آیات
یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے ۔ جب آپ شعیب (علیہ السلام) کے گھر پہنچے تو آپ کو اطمینان حاصل ہوا کہ فرعونیوں کے مظالم سے بچ گئے ہیں ۔ شعیب (علیہ السلام) کی دو بیٹیوں میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نوکر رکھ لیا جائے ۔ یہ شخص بڑا طاقتور اور امانتدار ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیش کش کی میں دو میں سے ایک بیٹی کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں گا ۔ بشرطیکہ تم کم از کم آٹھ سال میرے یہاں نوکری کرو۔ تم دس سال پورے کر دو تو یہ تمہاری منشاء پر منحصرہو گا اور میری طرف سے کوئی اصرار نہیں ہوگا ، البتہ میں تمہارے ساتھ انشاء اللہ اچھا سلوک کروں گا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کش قبول کرلی اور آپ وہیں رہنے لگے۔ بکریاں چراتے اور دوسرا ضروری کام انجام دیتے ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں رہتے ہوئے آٹھ اور پھر دس سال بھی گزر گئے اور ان کی ملازمت کی اضافی مدت بھی پوری ہوگئی۔ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح بھی کردیا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی مراجعت
اسی بات کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے فلمافضی موسیٰ الاجل جب موسیٰ (علیہ السلام) مقررہ مدت پوری کرچکے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دو مدتوں میں سے لمبی مدت دس سال کی تھی ۔ بعض روایات 2 ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خسر سے ذکر کیا کہ وہ اپنی والدہ اور بھائی کو ملنے
1 ؎۔ السراج المنیرص 179 ج 3 و زلوالمیر ص 712 ج 6 ۔ 2 ؎۔ روح البیان ص 004 ج 6 ( فیاض)
کے بڑے خواہش مند ہیں ، اگر اجازت ہو تو وہ اس مقصد کے لیے مصر کا سفر اختیار کریں ۔ خسر نے نہ صرف آپ کو اجازت دے دی بلکہ آپ کی بیوی کو بھی ہمراہ جانے کی اجازت دے دی ، چناچہ واقعات کے تسلسل میں ارشاد ہوتا ہے کہ جب مدت پوری ہوگئی وسان باھلہ تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوگئے ۔ مفسرین کرام 1 ؎ فرماتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) نے چلتے وقت کچھ بھیڑ بکریاں اور کچھ دوسرا مال بھی بیٹی کو ساتھ دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک خادم اور بعض بچوں کا ذکر بھی آتا ہے۔
میاں بیوی کی یکجا رہائش
اس واقعہ سے یہ مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو اپنے ساتھ کسی دور دراز جگہ حتیٰ وغیرملک میں بھی لے جانا چاہے تو وہ لے جاسکتا ہے۔ لڑکی کے والدین کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ ہماری شریعت کا بھی یہی قانون ہے۔ بعض لوگ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بیٹی کو خاوند کے ہمراہ بھیجنے پر طلاق لینے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ بالکل غلط بات ہے ، نکاح کے وقت اس قسم کی شرط لگانا کہ ہم بیٹی کو کسی دوسرے شہر یا ملک میں نہیں جانے دیں گے۔ درست نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ نکاح کی شرائط میں سے صرف جائز شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے جو شریعت کے مطابق ہوں ۔ کسی خلاف شرع شرط کی پابندی لازمی نہیں ۔ مثال کے طور پر شرعی شرائط میں بیوی کو آرام و سکون سے رکھنا ۔ اس کے نان و نفقہ کا بندوست کرنا ، مطلوب ہو تو جیب خرچ دینا ۔ اس کے ساتھ اچھ سلوک کرنا وغیرہ شامل ہیں جن کی تکمیل ضروری ہے اور اگر کوئی شخص یہ شرط لگائے کہ سفر کے دوران بیوی اپنے خاوند کے ہمراہ نہیں جائے گی ۔ تو یہ ناجائز ہے ، اسی طرح بعض لوگ یہ شرط بھی عائد کرتے ہیں کہ حالات کا کیسا بھی تقاضا ہوخاوند دوسری شادی نہیں کریگا وغیرہ وغیرہ ۔ ایسی شرائط باطل ہیں اور شریعت انہیں تسلیم نہیں کرتی نہ ان کی مکمل ضرور ی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال ، حادم اور بھیڑ بکریوں کے ہمراہ اپنے سفر پر
1 ؎۔ تفسیر جمل ص 643 ج 3 ( فیاض)
روانہ ہوگئے۔ راستے میں کوہ طور پڑتا تھا۔ اس کی وادی صحرائیس سینا کے اطراف میں ہے موسیٰ (علیہ السلام) اس وادی سے گزر رہے تھے ۔ رات کا وقت اور سردی کا موسم تھا ، بیوی کو کچھ تکلیف بھی تھی اس لیے ضرورت محسوس ہوئی ۔ اس زمانے میں مسافر لوگ حقماق کا پتھر سفر میں پاس رکھتے تھے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے گھاس پھونس اکٹھا کرنے آگ جلانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے اتنے میں آپ نے نس من جانب تصور نار دور سے آگ جلتی ہوئی دیکھی تو فان لا ھلہ اپنی بیوی سے فرمایا ۔ امکشوانی نست نار تم یہیں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے لعلی نیکم منھا بخبر شاید کہ میں تمہارے لیے وہاں سے خبر لائوں ۔ راستہ بھی ٹھیک سے معلوم نہیں تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ شاید آگ پر کوئی راستہ بتانے والا آدمی بھی مل جائے ۔ فرمایا وجروۃ من لنار یا میں آگ کا کوئی انگار ہی سلگا کرلے آئوں ، لعلکم تصطفون تا کہ تم آگ سیک کر سکون پکڑ سکو ۔
مقدس وادی میں ………
فلما متھا جب آپ اس آگ کے قریب پہنچے نوری من شاطی الودی الایمن فی نبقعہ نمبرکۃ من شجرۃ تو آپ کو آواز دی گئی وادی کی دائیں طرف کے مبارک خطے میں ایک درخت ہے ۔ ہو سکتا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کی جس سمت میں سفر کر رہے تھے ، وہاں سے وہ مقدس وادی دائیں طرپڑتی ہو۔ اس لیے ایسا ہی ذکر کیا ہے ، یہ وادی مقدس اس لیے تھی کہ وہاں پر خدا تعالیٰ کی تجلیات کا نزول ہو رہا تھا۔ چناچہ سورة طہٰ میں موجود ہے کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا اے موسیٰ اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَج اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی (آیت : 21) میں تیرا پروردگار ہوں ۔ اپنے جوتے اتار دو کہ اب تم ایک مقدس وادی ثوی میں ہو۔ عام مساجد بھی چونکہ مقدس مقامات میں ہیں اس لیے ہاں بھی جوتے اتار کر جانے کا حکم ہے۔ بیت اللہ شریف پر ہر وقت تجلیات الٰہی کا ظہورہوتا رہتا ہے ، اس لیے وہاں بھی جوتا اتار کر اور باادب ہو کر جانا چاہئے ، اور یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان کے پائوں اس مقدس خطے کے ساتھ مس کریں اور اسے فیض حاصل ہو ۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس پاک خطے میں پہنچے تو وہاں سے آواز آئی ان یموسی انی انا اللہ رب العلمین اے موسیٰ ! میں تمام جہانوں کا پروردگار ، اللہ ہوں۔
دو معجزات
موسیٰ (علیہ السلام) اس مقام پر گئے تو کوئی خبر معلوم کرنے یا آگ لینے کے لیے تھے مگر وہاں کچھ اور ہی معاملہ پیش آ گیا۔ سورة طہٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ابتدائی تعارف کرانے کے بعد فرمایا وَاَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی ( آیت : 31) میں نے تجھے رسالت کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ پس سنو جو کچھ آپکی طرف وحی کی جاتی ہے ۔ اور اب تمہیں میرا پیغام لے کر فرعون کے پاس جانا ہوگا ۔ اور اس سے دو باتیں کرنی ہوں گی ۔ ایک یہ کہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے ہمارے ساتھ بھیج دے جیسا کہ سورة الشعراء میں موجود ہے اس مقام پر فرمایا وان الق عصاک کہ موسیٰ (علیہ السلام) ! اپنی لاٹھ زمین پر ڈال د و ۔ یہ معجزے کا اظہارہو رہا ہے پہلے اپنی ربوبیت کا تعارف کرایا ۔ پھر معجزے کا اظہار کیا ۔ حسب الحکم موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینک دی فلما راھا تھتز پھر جب اس کو دیکھا تو وہ حرکت کر رہی تھی کانھا جان گویا کہ وہ ایک سانپ ہے۔ یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) گھبرا گئے ولی مدبراً ولم یعقب پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا ، مگر اللہ نے فرمایا یموسیٰ اقبل ولا تخف اے موسیٰ ! آگے آئو اور ڈرو نہیں ۔ انک من الامنین بیشک تم امن والوں میں سے ہو ، تمہیں کوئی خطرہ نہیں ۔ مفسرین 1 ؎ بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ لاٹھی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے روانگی کے وقت دی تھی کہ راستے میں تمہارے کام آئیگی اس سے بکریوں کو ہانک لیا کرنا اور درختوں سے پتے جھاڑ کر ان کی خوراک کا بندوبست کرلیا کرنا۔ بعض 2 ؎ کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) کی یہ لاٹھی اصل میں آدم (علیہ السلام) کی تھی جو آپ تک منزل منزل انبیاء کی وساطت سے پہنچی ۔ اور پھر آپ نے وہ
1 ؎؎۔ السراج المنیزص 59 ج 3۔ 2 ؎۔ ابو سعود ص 4 ج 4 و خازن ص 171 ج 5 ( فیاض)
موسیٰ (علیہ السلام) کو دیدی ۔ یہ تفسیری روایات میں آتا ہے ، کوئی یقینی بات نہیں ہے۔ بہر حال ایک معجزہ تو یہ ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی نے سانپ کا روپ دھار لیا ، اور اللہ نے دوسرا حکم یہ دیا اسلک یدک فی حبیبک اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو تخرج بیضاء من غیر سوء یہ نکلے گا بالکل سفید بغیر کسی تکلیف یا بیماری کے ، مطلب یہ کہ سفیدی کسی بیماری از قسم پھلہبری کی وجہ سے نہیں ہوگی بلکہ تمہارا ہاتھ معجزانہ طور پر سورج کی طرف چمکدار اور نورانی ہوجائے گا ۔
فرعون کے پاس جانے کا حکم
موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں ابھی تک خوف تھا۔ لاٹھی کا سانپ بن جانا ان کے لیے بڑا ہی عجیب معاملہ تھا ، نیز وہ فرعون کے پاس جانے سے بھی خوفزدہ تھے اسی طرح ہاتھ کی سفیدی بھی ان کے لیے خوف کا ذریعہ بنی ہوئی تھی ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا واضمم الیک جناحک من الرھب جب آپ ان چیزوں کا خوف محسوس کریں تو اپنے بازو اپنے جسم کے ساتھ ملا لیں اور انہیں کھلا نہ چھوڑیں ، آپ کی خوفزدگی فوراً دورہو کر دل میں تقویت پیدا ہوجائے گی ۔ فرمایا فذنک برھا نن من ربک الی فرعون وملائ کہ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنے رب کی یہ دو نشانیاں ( عصا اور یدبیضا) لے کر فرعون کے پا س جائو ۔ انھم کانوا قوما فسقین بےحساب وہ نافرمان لوگ ہیں ۔ سورة طہٰ میں ہے اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی (آیت : 42) فرعون کے پاس جائو ، وہ بڑا سر کش ہوچکا ہے ۔ ویسے تو ساری قوم ہی متکبر تھی مگر فرعون سے سب سے بڑھا ہوا تھا۔ کہتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کون سے الٰہ کی بات کرتا ہے ، میرے سوا اور کون الٰہ ہے میری سلطنت میں نہریں چلتی ہیں ڈیم بنے ہوئے ہیں ۔ فصلیں با افراط ہیں ، ہر چیز کی فروانی ہے جس کو چاہوں زندہ رکھوں اور جس کو چاہوں ختم کر دوں ، سب کچھ میرے اختیار میں ہے ۔ میرے سوا یہ کس خدا سے ہمیں ڈراتے ہیں ؟
موسیٰ (علیہ السلام) کا عذر
فرعون کی طرف ، جانے کا حکم پا کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں اس راستے میں آنے والی بعض مشکلات کا ذکر کیا ۔ قال رب انی قلت منھم نفساً کہنے لگے پروردگار ! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا اور پھر گرفتارہونے کے خوف سے بھاگ کر مدین چلا گیا تھا۔ اگر اب پھر میں فرعون کے پاس جائوں گا فلخاف ان یقتلون تو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے ۔ میں نے اس شخص کو ارادتا ً تو قتل نہیں کیا تھا بلکہ محض ایک مظلوم کی مدد کے لیے آگے بڑھا تھا مگر ایک گھونسے میں ہی اس شخص کا کام تمام ہوگیا اب فرعونی مجھے چھوڑیں گے نہیں۔
ہارون (علیہ السلام) کی شراکت
اور دوسری بات موسیٰ (علیہ السلام) نے سفارش کے انداز میں کی کہ اگر مجھے ضرور ہی فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانا ہے تو پھر واخی ھرون ھو افصح منی لسانا ً تو پھر میرا بھائی ہارون زبان کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔ میری زبان میں تو قدرے لکنت ہے مگر وہ اپنا ما فی الضمیر بہتر طریقے سے بیان کرسکتا ہے فارسلہ معی ردا پس اسے میرے ساتھ معاون کے طور پر بھیج دے۔ یصدقنی جو میر ی تصدیق کرے کہ واقعی ہم اللہ کے پیغمبر ہیں اور تمہیں صراط مستقیم کی دعوت دینے کے لیے مامور من اللہ ہیں ۔ سورة طہٰ میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ واشر کہ فی امری ( آیت : 23) ہارون (علیہ السلام) کو میرے نبوت کے کام میں شریک کر دے۔ انی اخاف ان یکذبون میں خوف کھاتا ہوں کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اللہ نے آپ کی یہ ساری دعا قبول فرمائی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کی لکنت بھی دور ہوگئی۔ ہارون (علیہ السلام) کو نبوت عطا کر کے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بطور معاون بھیج دیا۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے قال سنشد عضدک یا خیک اللہ نے فرمایا ہم تمہارے بھائی کے ساتھ تمہارے بازو کو مضبوط کریں گے ۔ یعنی اسے بھی رسول بنا کر تمہاری تائید کے لیے بھیجیں گے۔ ویسے دنیا کا عام دستور بھی یہی ہے کہ کسی کے بھائی اس کے دست وبازو ہوتے ہیں ۔ بھائیوں سے انسان کو بڑی توقعات وابستی ہوتی ہیں اور وہ دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں ۔ یہ تو اللہ کا بڑا احسان تھا کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر ان کے ہمراہ بھیجا۔
تسلی کا مضمون
اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی بھی دی ونجعل لکما سلطاناً ہم تم دونوں بھائیوں کو غلطہ عطا کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا فلا یصلون الیکما کہ فرعون اور اس کے حواری اور دیگر مخالفین تم دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ خدا تعالیٰ ایسا انتظام فرمائے گا کہ فرعونی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی اور اسکا فضل تھا کہ حکمرانوں سمیت ساری مستبد قوم کے سامنے یہ دو آدمی دھڑلے کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے تھے مگر کسی کو ان کے خلاف ہاتھ بڑھانے کی جرأت ہ ہوئی بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ کر فرعون اور اس کے حواریوں کے اوسان خطا ہوجاتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسارعب ڈال دیا تھا۔ حضور ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو آپ کے ارد گرد کافروں ، یہودیوں اور منافقوں کا حصار تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے دل میں خیال آیا کہ حضور ﷺ اکیلے میں ہیں کیونکہ نہ ان کی حفاظت کے لیے پہرہ دوں ۔ چناچہ آپ ہتھیار پہن کر آپ کے پاس حاضر ہوئے اور مدعا عرض کیا ۔ ادھر سورة المائدہ میں اللہ کا پیغام آ گیا یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ…وَ اللہ ُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (آیت : 76) اے اللہ کے رسول ! آپ اپنا تبلیغی مشن جاری رکھیں ، اللہ تعالیٰ دشمنوں سے آپ کی حفاظت کریگا ۔ نزول آیت کے بعد حضور ﷺ گھر سے باہر تشریف لائے اور حضرت سعد ؓ سے فرمایا کہ تم پہرہ ہٹا دو ، اللہ تعالیٰ نے میری حفاظت کا خود ذمہ اٹھا لیا ہے۔ چناچہ آپ واپس اپنے گھر چلے گئے ، یاد رہے کہ ایسا معاملہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے ، مسلمان مبلغین اس زمرہ میں نہیں آتے۔
فرعون سے حفاظت کی ضمانت
اللہ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) چالیس سال سے زیادہ عرصہ فرعونیوں کے درمیان رہ کر حق تبلیغ ادا کرتے رہے۔ مگر اللہ نے ان کی جانوں کی حفاظت فرمائی ۔ درمیان میں بڑی بڑی تکالیف بھی آئیں حتیٰ کہ ایک موقع پر اسرائیلیوں نے شکایت پیش کی کہ اے موسیٰ ! تمہاری مدین سے واپسی کے بعد بھی ہماری تکلیفوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ہم پہلے بھی فرعون کے ظلم کا شکار تھے اور اب بھی ہم پر مصیبتیں ہی نازل ہو رہی ہیں ۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو تسلی دیتے ہوئے کہا اسْتَعِیْنُوْا بِ اللہ ِ وَاصْبِرُوْاج اِنَّ الْاَرْضَ ِ اللہ ِقف یُوْرِثُہَا مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖط وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ (الاعراف : 821) اللہ سے مددطلب کرو ، اور صبر کرو ، بیشک ساری زمین کا مالک اللہ ہے ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے ، اور بہتر انجام متقیوں کا ہی ہوگا۔ تم گھبرائو نہیں ، یہی شکایت حضرت ارت ؓ نے حضور ﷺ سے بھی کی تھی ۔ عرض کیا ، کفار بڑی تکلیفیں پہنچا رہے ہیں آپ نے فرمایا ، صبر کرو ، تم ابھی سے گھبرا گئے ہو ، پہلی امتوں کے لوگوں کے سروں پر آرے رکھ کر ان کو دو ٹکڑے کردیا گیا اور انہوں نے برداشت کیا مگر تم کافروں کی بد سلوکی سے ابھی سے گھبرا گئے ہو ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ تمہیں ہی غالب بنائے گا ۔ مگر آزمائشیں از قسم مال کا ضیاع ، افرادی قوت میں کمی ، اور فصلوں کا نقصان وغیرہ ضرور آئینگی مگر کامیابی اسی کو حاصل ہوتی ہے جو آخر دم تک صراط مستقیم پر قائم رہتا ہے۔ بہر حال اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا بایتنا ہماری یہ دو نشانیاں لے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جائو انتما ومن اتبعکما الغلبون تم دونوں اور تمہارے پیرو کار ہی غالب ہوں گے پھر جیسا کہ آگے ذکر آ رہا ہے ، کامیابی اہل ایمان کے حصے میں ہی آئی ، اور فرعون اور اس کے سارے حواری بحر قلزم میں غرق کردیئے گئے۔
Ayahs 28:36–42ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو منتظر پایا ، پھر وہ دونوں فرعون کے د ربار میں پہنچے تا کہ اللہ کا پیغام پہنچا سکیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) فرعونی دربار میں
فرعون کے دربار میں جانے سے متعلق اللہ تعالیٰ نے بعض مقامات پر حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) دونوں کا ذکر کیا ہے جیسے سورة طہٰ اور سورة الشعراء میں ہے اور بعض مقامات مثلاً اکیلے موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ ارشاد ہتا ہے فلملجاء ھم موسیٰ بایتنا بینت جب موسیٰ (علیہ السلام) ہماری واضح نشانیاں لے کر فرعون کے دربار میں پہنچے۔ یہ نشانیاں وہی دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء تھیں ۔ معجزہ کہتے ہیں ایسی چیز کو جس سے عام مخلوق عاجز آجائے اور اس کا مقابلہ نہ کرسکے ، اس کے علاوہ خود نبوت اور نبی کا کلام اور پیغام بھی ایک واضح چیز ہوتی ہے ۔ تو بینات میں معجزات اور نبی کی طرف سے پیغام دونوں چیزیں شامل ہیں۔ تو جب یہ چیزیں لے کر موسیٰ (علیہ السلام) فرعونی دربار میں پہنچے ، معجزات پیش کیے اور اللہ کا پیغام سنایا تو انہوں نے صاف انکار کردیا قالوا ما ھذا الا سحر مفتری کہنے لگے یہ تو محض گھڑا ہوا جادو ہے۔ فرعون کے درباریوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور اس طرح انہوں نے معجزات کو جادو سے تعبیر کر کے انکار کردیا ۔ یہاں پر قالوا جمع کا صیغہ اسی لیے لایا گیا ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں سب نے ان نشانیوں کا انکار کردیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ شخص نبوت کا دعوت کرتا ہے ، وحی الٰہی کی باتیں سناتا ہے اور ہماری طرف مبعوث ہوتے کی بات کرتا ہے مثلاً وما سمعنا بھذا فی ابائنا الاولین ہم نے ایسی باتیں اپنے آبائو اجداد سے پہلے تو کبھی نہیں سنیں ۔ یہ کہتا ہے کہ ساری کائنات کا ایک ہی خدا ہے ۔ وہی سب کو پیدا کرنے والا ، تھامنے والا اور فنا کرنے والا ہے ، اور پھر قیامت والے دن وہی دوبارہ زندہ کر کے حساب کتاب لے گا اور جزائے عمل کا فیصلہ کرے گا ۔ فرعون اور اس کے حواری کہنے لگے ہم نے تو ایسی باتیں پہلے کبھی نہیں سنیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی حق گوئی
اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وقال موسیٰ رب اعلم بمن جاء ابالھدی من عندہ میرا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اور کسی ذاتی غرض کے لیے تو نہیں آئے بلکہ اللہ کے حکم سے اس کا پیغام لے کر آئے ہیں اور وہی بہترجانتا ہے ومن تکون لہ عاقبۃ الدار کہ آخرت میں اچھا گھر کس کا ہے ، مگر اتنی بات یقینی ہے انہ لا یفلح الظلمون کہ ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پا سکتے ، وہ ہمیشہ نامراد رہیں گے ، ظلم میں سر فہرست کفر اور شرک ہے ، اس کے بعد دیگر مظالم از قسم لڑائی ، جھگڑا ، حق تلفی ، قتل ناحق وغیرہ آتے ہیں ۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں پروردگار عالم کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہوں ، اور اس کا فیصلہ یہی ہے کہ اس ہدایت کو قبول کرنیوالوں کا انجام بخیر ہوگا اور ظلم و زیادتی کے مرتکبین ناکام ہوجائیں گے۔
اونچے مینار کی تعمیر
فرعون پر اس تبلیغ کا چنداں اثر نہ ہوا ۔ کہنے لگا کہ مصر کی سلطنت میں مطلق العنان اور با اختیارحاکم تو میں ہوں ، میں سیاہ وسفید کا مالک ہوں ، ملک زرخیز ہے جس میں نہیں چل رہی ہیں ۔ ڈیم بنے ہوئے ہیں ، ہر طرح کی آسودہ حالی ہے ، مگر یہ موسیٰ (علیہ السلام) کسی اور الٰہ کا پتہ بتا رہا ہے ، پھر اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہوا ۔ وقال فرعون یایھا الملا ما علمت لکم من الہ غیر کہنے لگا ۔ اے میرے سردارو ! میں تو تمہارے لیے اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا۔ یہ موسیٰ کس الٰہ کی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اوپر آسمانوں میں ہے۔ اور سب اسی کے اختیار میں ہے ، پھر کہنے لگا ، اچھا میں موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ فاوقدلی یاھامن علی الطین اے ہامان اینٹوں کا ایک بھٹہ لگا اور اس میں پختہ اینٹیں تیار کر ائو ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت مصر جیسے متمدن ملک میں پکی عمارات کا عام رواج تھا اور اینٹیں پکانے کے لیے بھٹے بھی موجود ہوں گے۔ تو یہ چونکہ اہم کام تھا ، اس لیے وزیر سے کہنے لگا کہ پہلے اینٹیں تیار کرواذ فلجعل لی صرحا ً پھر میرے لیے ایک اونچا محل یعنی مینار تعمیر کر ائو لعلی اطلع الی الہ موسیٰ تا کہ میں اس کے اوپر سے جھانک کر موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھ سکوں کہ وہ کیسا ہے ۔ وانی لا ظننہ من الکذبین اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ مفسرین کو اس بارے میں اختلاف ہے کہ فرعون کے مذکورہ حکم کے مطابق کوئی محل یا مینار تیار بھی ہوا تھا یا نہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ فرعون نے یہ حکم دفع الوقتی کے لیے ازراہ تمسخردیا تھا تا کہ درباری موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سے متاثر نہ ہوجائیں ۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی صحیح روایت میں اس محل کی تیاری کا ذکر نہیں ملتا ، صرف تفسیری 1 ؎ روایتوں میں آتا ہے کہ ہامان نے پچاس ہزارکاریگر اور مزدور محل کی تیاری کے کام پر لگا دے اور مینار کی شکل کا محل تیار ہوگیا ۔ بعض 2 ؎ کہتے ہیں کہ فرعون اس مینار نما محل کے اوپر چڑھا مگر وہ آسمان تک کہاں پہنچ سکتا تھا۔ اسے کچھ نظر نہ آتا تو شرمسار بھی ہوا ۔ اور تعصب وعناد کی بناء پر خدا تعالیٰ کا انکار بھی کیا ، بعض کہتے ہیں کہ فرعون کو اس کے اوپر چڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ جب محل تیار ہوگیا تو اللہ نے فرشتے کو بھیج کر اس کو گرا دیا ۔ اس کے تین ٹکڑے ہوئے۔ ایک فرعون کے لشکر پر گرا جس سے بڑی تباہی پھیلی ۔ دوسرا حصہ پانی میں گرا اور تیسرا حصہ کیسے ہی نہتشر ہوگیا اور فرعون اپنی اس سکیم میں بھی ناکام رہا ۔
فرعونیوں کا تکبر
فرعون کے انکار ، تعصب ، ضد اور انکار کی وجہ سے یہ بیان فرمائی ہے واستکبر ھو و جنودہ فی الارض بغیر الحق فرعون اور اس کے لشکر نے زمین میں ناحق تکبر اور غرور کیا ۔ اقتدار کے نشے میں توحید کا انکار کیا اور خود الوہیت کا دعویدار بناء نبی کی بات کو ٹھکرایا ۔ سورة النمل میں موجود ہے وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا (آیت : 41) کہ فرعونی ظلم و زیادتی کی وجہ سے احکام الٰہی اور معجزات کا انکار کرتے تھے حالانکہ ان کے دل اسکی تصدیق کرتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں ۔ جب فرعون نے انکار کردیا ۔ تو الناس علی دین ملوکھم کے مطابق اس کے حواریوں اور دیگر رعایا نے بھی انکار کردیا ۔ جیسا حاکم ہوتا ہے ، ویسے ہی اس کے کارندے اور عام لوگ ہوتے ہیں ، وہی وضع قطع اور وہی رسم و رواج سب اپناتے ہیں ، لہٰذا اہل ایمان کے سوا ساری قوم نے انکار کردیا محض تکبر کی وجہ سے اور دوسری بات انہوں نے یہ کی ۔ وظنوا انھم الینا لا یرجعون کہنے لگے کہ ہم گمان کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے ، گویا انہوں نے معاد اور جزائے عمل کا بھی انکار کردیا ۔ کہنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) ہمیں خواہ مخواہ آنے والے ان دیکھے دن کے خوف میں مبتلا کر رہا ہے ، کہتا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائو گے ، اللہ کے حضور پیشی ہوگی ، محاسبہ اعمال ہوگا اور جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا ، ہمیں تو ان باتوں پر یقین نہیں آتا ، ہم نہیں خیال کرتے کہ مرنے کے بعد پھر خدا تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
انجام کار
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے فرمایا فلخذنہ و جنودہ ہم نے پکڑ لیا فرعون اور اس کے لشکر کو ، ان کی گرفت کا وقت آ گیا فنبذنھم فی الیم اور ان سب کو سمندر میں پھینک دیا ۔ یہاں تفصیل نہیں ہے دوسری سورتوں میں موجود ہے کہ میلے کے دن موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل گئے ۔ سمندر کے کنارے پہنچے تو اللہ نے ان کے لیے بارہ راستے بنا دیئے جن سے وہ گزر گئے تعاقب میں فرعون اور اس کا لشکر بھی انہی راستوں سے سمندر میں داخل ہوا ۔ مگر اللہ نے طرفین کے پانیوں کو ملا دیا ، اور اس طرح وہ سب کے سب بحر قلزم میں غرق ہوگئے ، تو فرمایا ہم نے ان پر گرفت کی اور ان کو پانی میں ڈبو دیا ۔ فانظر کیفی کان عاقبۃ الظلمین بس دیکھ لو ظالموں کا کیسا انجام ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے غرور کو کس طرح خاک میں ملا دیا۔
نیز فرمایا وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار اور ہم نے ان کو ایسا پیشوا ( لیڈر) بنایا جو آگ کی طرف دعوت دیتے ہیں یعنی لوگوں کو گمراہ کر کے دوزخ کا ایندھن بناتے ہیں۔ پیشوا ہدایت کے بھی ہوتے ہیں اور گمراہی کے بھی ، اللہ نے فرعونیوں کو گمراہی کفر اور دعوت الی النار کا لیڈر بنایا ، دوسرے مقام پر عام مشرکین کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح بھی نہ کرو ، کیونکہاُولٰٓـئِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِج وَ اللہ ُ یَدْعُوْٓا اِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ (البقرہ : 122) کیونکہ وہ تمہیں دوزخ کی طرف بلاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جنت اور اپنی مغفرت کی طرف دعوت دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرو اور دوزخ کے عذاب سے بچ جائو۔
شیخ ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانوں کے اس دنیا میں کیے جانے والے کام آگے چل کر ان کے لیے جزائے عمل میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ بعض لوگوں کے اعمال انہیں سانپ ، بچھوئوں اور درندوں کی شکل میں کاٹیں گے اور بعض چیزیں آگ کی شکل میں تبدیل ہو کر گناہ گاروں پر مسلط ہوں گی ۔ اسی طرح اعمال حسنہ ، باغات ، پھلوں ، پھولوں اور حور و قصور میں تبدیل ہوجائی گے ترمذی شریف میں آتا ہے کہ جب کوئی بندہ مومن اللہ کی حمد وثناء بیان کرتا ہے اور زبان سے ایک دفعہ سبحان اللہ کہتا ہے جس میں اس کی محبت ، عقیدت ، تعظیم اور اخلاص شامل ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگا دیتا ہے۔ غرضیکہ کفر و شرک والے لگ بظاہر تو کفریہ اور شرکیہ رسوم کی دعوت دیتے ہیں مگر درحقیقت وہ لوگوں کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔
قیامت والے دن مایوسی
فرمایا کہ دنیا کے اندر تو ہم ان لوگوں کو دوزخ کی طرف دعوت کا امام بتائیں گے ویوم القیمۃ لا ینصرون اور قیامت والے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائیگی۔ نہ ان کا لشکر کام آئے گا اور نہ مال و دولت ، تابع اور متبوع سب جہنم رسید ہوں گے ، نہ کوئی سفارش کام آئیگی اور نہ کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا۔ فرمایا اس دنیا میں یہ حال بھی ہوگا واتبعنھم فی ھذہ الدنیالعنۃ اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ شرائع الٰہیہ کے تمام پیروکار اور نیک لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہیں لعنۃ اللہ علی الظلمین ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔ فرعونیوں ، کافروں اور مشرکوں پر لوگ لعنت بھیجتے ہیں ۔ فرعون نے تو حید کا انکار کیا ، معاد کی تکذیب کی ۔ رسولوں کی بات نہ مانی تو ہمیشہ کے لیے بمع اپنے متبعین کے لعنتی ٹھہرا ، ان کے لیے یہی تحفہ ہے ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین یہ لوگ قیامت والے دن برائی اور قباحت والوں میں سے ہوں گے ۔ ان کی شکلیں تبدیل اور حال برا ہوگا ، گویا کہ ہر قسم کی قباحت میں مبتلا ہوں گے ، اللہ نے دنیا اور آخرت کی دونوں سزائوں کا ذکر کردیا ہے۔