28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 28:14–17

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب سچے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوت پر اور سنبھل گئے ، تو وہی ہم نے ان کو حکمت اور سمجھ اور اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں نیکی کرنے والوں کو

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ داخل ہوئے شہر میں غفلت کے وقت وہاں کے رہنے والوں سے ۔ پس پایا اس میں دو شخصوں کو کہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ ایک موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں سے تھا اور ایک آپ کے دشمنوں میں سے ۔ پس مدد چاہی اس نے جو ان کے ساتھیوں میں سے تھا اس کے خلاف جو ان کے دشمنوں میں سے تھا ، پس مکہ رسید کیا اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر اس کا کام تمام کردیا ، اور پھر کہنے لگے کہ یہ تو شیطان کا کام ہے ۔ بیشک وہ دشمن ہے بہکانے والا کھلا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) اے میرے پروردگار ! بیشک میں نے زیادتی کی ہے اپنی جان پر ، پس بخش دے مجھے ، پس اللہ نے اسے بخش دیا ، بیشک وہ بخشش کرنے والا اور نہایت مہربان ہے

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ نے) اے پروردگار ! اس وجہ سے کہ تو نے مجھ پر انعام فرمایا ہے پس ہرگز نہ بنوں گا میں پشت پناہ مجرموں کا

ربط آیات اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قبل از نبوت زندگی کے حالات بیان فرمائے ہیں اور آپ پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہی نامساعد حالات میں ہوئی جب کہ فرعون اسرائیلیوں کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کروا دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی فرمائی کہ فرعون کے دشمن موسیٰ (علیہ السلام) کی کسی کے گھر میں شاہانہ طریقہ پر پرورش فرمائی۔ پہلے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی برآمدگی کے بعد آپ کی رضاعت کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے آپ کا پیچھا کیا اور پھر رضاعت کے لیے اپنی ماں کا پتہ بتایا ۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو نہ صرف اپنی والدہ کے پاس واپس لوٹا دیا گیا بلکہ اسے دودھ پلانے کی اجرت اور دیگر انعام و اکرام بھی ملنے لگا ۔ اس مقام پر اللہ نے فرمایا ہے وحرمنا علیہ لمرضع ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دودھ پلانے والیوں کو حرام قرار دے دیا جس کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کسی غیر عورت کا دودھ نہیں پیتے تھے ، گزشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ یہاں پر حرام سے مراد شرعی حرام نہیں بلکہ محض ممنوع مراد ہے ، اور اسکی مثالیں قرآن میں دوسری جگہوں پر بھی موجود ہے ، جیسے سورة الانبیاء میں فرمایا ہیوَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰـہَآ اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ( آیت : 59) جس بستی کو ہم ہلاک کردیں ہم نے اس کو ممنوع کردیا ہے کہ وہ پلٹ کر نہیں آئیں گے ۔ امام قشیری (رح) نے لکھا ہے کہ ایک سوئے ہوئے درویش کو دیکھ کر دوسرے بزرگ نے کہا ؎ عجباً للمحب کیف ینام کل نوم علی المحب حرام تعجب کی بات ہے کہ ایک درویش سو رہا ہے کیونکہ ایسے لوگوں پر تو ہر قسم کی نیند ممنوع ہے۔ اللہ والے تو ظاہر و باطن میں ہر وقت بیداررہتے ہیں ، ان پر تو کسی وقت بھی نیند طاری نہیں ہوتی ۔ سعدی (رح) نے بھی اسی قسم کی بات کی ہے ؎ متی یرجع نومی و قزری وان علی لعاشق ھذا ان خرمان اے میرے دوست ! میری نیند اور میرا قرار کب واپس لوٹ کر آئیگا کیونکہ عاشق محبت لوگوں پر تو یہ دونوں چیزیں حرام ممنوع ہوتی ہے۔ یہاں بھی حرام سے مراد شرعی حرام نہیں بلکہ ممنوع قرار ہے۔ بچپن سے جوانی تک بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) کی رضاعت کا زمانہ گزر گیا جب آپ اپنی والدہ کی پرورش سے فارغ ہوئے تو شاہی محل میں شہزادوں کی طرح رہنے لگے ۔ وقت گزرتا گیا حتیٰ کہ ولما بلغ اشدہ وستوی جب آپ قوت یعنی جوانی کو پہنچ گئے اور اچھی طرح سنبھل گئے ۔ یہ آپ کا عالم شباب تھا جو عمر تیس 03 سے تینتیس 33 سال کی عمر کا زمانہ ہوتا ہے ۔ اہل جنت کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ ہمیشہ عمر کے اسی زمانہ میں رہیں گے اور کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے ۔ ہم اس سے موسیٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچے تو اللہ نے فرمایا اتینہ حکما و علما تو ہم نے ان کو حکمت یعنی دانائی اور علم یعنی سمجھ عطا کی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر جوانی کا عالم تھا۔ قد کاٹھ بھی لمبا اور چست و چالاک چھریرا بدن تھا یعنی موٹاپے کا بھاپن نہیں تھا۔ حضور ﷺ نے معراج کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میری ملاقات موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی تو انہیں یمن میں آباد قبیلہ ازد شنوۃ کے نوجوانوں کی طرح دراز قد اور پھرتیلے جسم کا حامل پایا ۔ بہر حال فرمایا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچے تو ہم نے انہیں دانائی اور سمجھ عطا فرمائی ۔ تیس سال کی عمر میں اللہ نے یہ دو چیزیں ہی عطا کیں جب کہ نبوت چالیس سال کی عمر میں ملی جب آپ مدین سے واپس منہ کی طرف آ رہے تھے ۔ اس قسم کے انعام کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ملتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل ( الانبیائ : 5) ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پہلے سے ہی یعنی اوائل عمل سے ہی کمال درجے کی سمجھ عطا فرمائی۔ آپ اللہ تعالیٰ کی ذات کو خوب پہچانتے تھے اور آپ کو توحید خداوندی پر پورا پورا اعتماد تھا۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ نے حکمت اور سمجھ عطا فرمائی وکذلک نجزی المحسنین فرمایا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں قتل موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے محل میں رہتے ہوئے وہاں کے ہر حسن و قبیح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور آپ کی حکمت و سمجھ کا تقاضا یہ تھا کہ آپ یہ بری چیز کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، ظلم و ستم کے خلاف نہ صرف آواز بلند کرتے تھے بلکہ اسے بزور روکنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔ اسی دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ودخل لمدینۃ علی حین عفلۃ من ھلھ کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایسے وقت میں شہر میں داخل ہوئے جب وہاں کے باشندے غفلت کی حالت میں تھے یعنی جب لوگ کاروبار سے فارغ ہو کر عام طور پر آرام کرتے ہیں ۔ یہ وقت دوپہر کا بھی ہو سکتا ہے ، رات کا بھی یا علی الصبح کا بھی جب لوگ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوتے ۔ تو ایسے وقت میں آپ شہر میں داخل ہوئے یہ کون سا شہر تھا ؟ کہتے ہیں کہ اس شہر کا نام منوف یا منصف 1 ؎ تھا جو فرعون کے دارالحکومت سے دس بارہ میل کے فاصلے پر تھا۔ یہ فرعون کا خصوصی علاقہ تھا جسے جشن کا نام دیا گیا ہے۔ 1 ؎۔ قرطبی ص 952 ج 31 و ابو مسعود ص 841 ج 4 ( فیاض) یہاں پر قطیوں کے علاوہ اسرائیلوں کی بستیاں بھی تھیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بھی یہیں رہتی تھیں لہٰذا آپ گاہے بگاہے وہاں چلے جاتے تھے۔ اس علاقے میں فرعونیوں نے اسرائیلیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ تمام مشقت کے کام ان سے لیتے تھے اور انکی حیثیت غلاموں سے بھی بدتر تھی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور حتی الامکان مظلوموں کی مدد بھی کرتے۔ تو جب آپ اس شہر میں داخل ہوئے فوجہ فیھا رجلین یقتتلن تو آپ نے وہاں دو آدمیوں کو آپس میں لڑتے جھگڑتے پایا ھذا من شیعتۃ ان میں سے ایک آدمی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں سے یعنی اسرائیلی خاندان سے تھا۔ وھذا من عدوہ اور دوسرا شخص دشمن گروہ یعنی قبطی خاندان سے تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص فرعون کا کارندہ تھا۔ یعنی اس کے باورچی خانے کا نگران تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے گزرے فاستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذی من عدوہ تو مدد طلب کی موسیٰ (علیہ السلام) سے اس شخص نے جو ان کی پارٹی سے تھا اس کے خلاف جو ان کی دشمن جماعت سے تھا۔ استغاثہ کا معنی فریاد کرنا یا مدد طلب کرنا ہوتا ہے۔ اسرائیلی مظلوم تھا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی ، موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی دیکھا کہ قبطی واقعی اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ۔ لہٰذا آپ نے آگے بڑھ کر مظلوم کو ظالم کے نیچے سے چھڑانا چاہا مگر مؤخر الذکر اس کے لیے تیار نہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے رہا نہ گیا فوکزہ موسیٰ تو آپ نے اس کو ایک گھونسہ رسید کیا ۔ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ قبطی کو جان سے مارنا نہیں تھا مگر اس کو وہ ضرب ایسی کاری لگی قفضی علیہ کہ قبطی کا کام تمام ہوگیا یعنی وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا ۔ شیطانی عمل چونکہ یہ حادثہ موسیٰ علیہ لسلام کی نیت اور ارادے کے بالکل خلاف پیش آ گیا تھا۔ لہٰذا آپ نے فوراً کہہ دیا قال ھذا من عمل الشیطن کہ یہ تو شیطان کے کام سے ہے ، اس کو شیطانی عمل اسی لیے کہا کہ شیطان ایسے کام پر بڑا جوش ہوتا ہے جس کے ذریعے فتنہ و فساد برپا ہونے کی امید ہو ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نماز کی حالت میں اگر کسی شخص کو کوئی زخم آجائے نکسیر پھوٹ جائے یا عورت کو حیض آنے لگے تو یہ شیطانی فعل ہوتا ہے کہ اس سے شیطان بڑاخوش ہوتا ہے کہ کسی کی نماز میں خلل واقع ہوا ۔ موسیٰ اور یوشع (علیہ السلام) کے سفر کے واقعہ میں بھی آتا ہے کہ جب وہ دونوں اپنی منزل سے آگے نکل گئے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے ناشتہ طلب کیا تو یوشع (علیہ السلام) کہنے لگے کہ میں مچھلی والاواقعہ تو بھول ہی گیا ۔ وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہٗ (الکہف : 36) اور مجھے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ، چونکہ یہاں بھی اللہ کے نیک بندوں کو سفر کی زید مشقت برداشت کرنا پڑی۔ جس سے شیطان خوش ہوا ، لہٰذا اسے بھی شیطانی عمل کہا گیا ہے بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کے قتل کو شیطان کی طرف منسوب کیا ۔ اور فرمایا انہ عدو مفصل مبین بیشک شیطان انسان کا صریح دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے۔ انسان کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لغزش کی معافی اگرچہ قبطی کا قتل قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا مگر موسیٰ (علیہ السلام) اس پر بھی بحث پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بیان القرآن میں لکھتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) چونکہ اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کو ان کی خصوصیت تربیت مطلوب ہوتی ہے ، لہٰذا وہ ان کی معمولی لغزشوں پر بھی سخت گرفت کرلیا ہے ۔ دیکھ لیں حضرت یونس (علیہ السلام) سے ذرا سی لغزش ہوئی تھی تو اللہ نے انہیں کس قدرابتلا میں ڈالا ۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اسی غیر ارادی قتل پر اپنی غلطی کا اعتراف کیا ۔ قال رب انی ظلمت نفسی کہنے لگے پروردگار ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے۔ مجھ سے یہ لغزش واقع ہوگئی ہے۔ فاغفرلی لہٰذا مجھے معاف کر دے ۔ اگرچہ یہ گناہ نہیں تھا مگر ایک جان تو چلی گئی تھی۔ لہٰذا آپ نے سخت ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی فغفرلہ تو اللہ نے آپ کو معاف کردیا ۔ جو لوگ اس عمل کو گناہ کہتے ہیں وہ درست نہیں ہیں کیونکہ گناہ تو نیت اور ارادے کے ساتھ ہوتا ہے۔ ارادے کے بغیر تو خطا ہو سکتی ہے یا نسیان ہو سکتا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے بھی ایک خطا ہوئی تھی کہ وہ اللہ کے حکم کے بر خلاف شجرممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے مگر فنسی ولم نجدلہ عزما ً (طہٰ : 511) اللہ نے فرمایا کہ وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم و استقلال نہ پایا۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی کی کیونکہ وہ بڑی شخصیت تھے اور ایسے لوگوں کی ابتداء سے ہی بہترین تربیت مقصود ہوتی ہے۔ ابنیاء نبوت سے پہلے بھی ایمان والے اور ولی کامل کے درجے میں ہوتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) نبوت سے پہلے قطب باطنی کے درجے میں ہوتے ہیں ۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے اس فعل کی معافی بھی دے دی۔ ا س قسم کی معافی کا علم دیگر نیک لوگوں کی طرح بذریعہ الہام یا بذریعہ خواب ہو سکتا ہے یا پھر نبوت ملنے کے بعد بذریعہ وحی بھی ہو سکتا ہے ، تو اللہ نے معافی کردیا انہ ھو لغفور رحیم بیشک وہ بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ مجرموں کی پشت پناہی اس قتل خطا پر اللہ تعالیٰ سے معافی ملنے پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کا عجیب طریقے سے شکر ادا کیا ۔ پہلے اپنے آپ پر ہونے والے انعامات الٰہیہ کا ذکر کیا قال رب بما انعمت علی کہا اے میرے پروردگار ! جس طرح تو نے مجھ پر انعام کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتنے ہی انعامات کیے تھے۔ پہلے دشمن کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچایا ۔ پھر اپنی طرف سے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دی ، جو دیکھتا گرویدہ ہوجاتا ۔ اور اسی وجہ سے آپ کی جان بچ گئی ۔ آپ کو حکمت اور سمجھ عطا فرمائی ، نبوت سے سرفراز فرمایا عظیم المرتبت کتاب دی ، اپنے کلام سے مشرف فرمایا ۔ پھر خلاف سے بھی عطا فرمائی ۔ سورة الصفت میں ہے وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلٰی مُوْسٰی وَہٰـرُوْنَ (آیت : 411) ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) دونوں پر احسان فرمایا ۔ ان کو ظالم قوم سے نجات دی ، ان کی مد د کرکے انہیں غالب بنایا ، کتاب دی اور صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائی ان انعامات کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کا شکریہ اس طرح ادا کیا فلسن اکون ظھیراً للمجرمین کہ میں کبھی مجرموں کا پشت پناہ نہیں بنوں گا ۔ یعنی آئندہ کبھی کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا۔ یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے حمایت تو اسرائیلی آدمی کی تھی ، جو قبطی کے ظلم کا نشانہ بن رہا تھا اور ظاہر ہے کہ وہ جرم تو نہیں تھا بلکہ مظلوم تھا مگر یہاں پر وہ مجرموں کی اعانت سے دست کش ہو رہے ہیں ۔ مفسرین کرا م فرماتے ہیں کہ ان مجرموں سے مراد اسرائیلی نہیں بلکہ قبطی ہیں جو اسرائیلیوں پر طرح طر ح کے مظالم ڈھاتے تھے۔ جو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تے ان میں بھی قبطی ہی مجرم تھا جو اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ۔ ممکن ہے کہ اسرائیلی کا بھی کوئی قصور ہو ، اگر ایسا ہے تو اس کو بھی مجرمین کی فہرست میں داخل کرسکتے ہیں ، تا ہم فرعونی تو سارے کے سارے مجرم تھے ، جنہوں نے اسرائیلیوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار ! تو نے مجھ پر اس قدر انعامات کیے ہیں تو میں ان کا شکریہ اسی طریقہ سے ادا کرسکتا ہوں کہ آئندہ کسی مجرم کی پشت پناہی نہیں کروں گا۔ اس آیت سے یہ قانون نکلتا ہے کہ اہل ایمان اور نیکی والے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ کبھی کسی مجرم کی پشت پناہی نہ کریں ، ایسا کرنے سے پورے معاشرے کا نظام درہم برہم ہوجاتا جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے لعن اللہ من اوی محرثاً اس پر اللہ کی لعنت ہو جو کسی مجرم کو پناہ دیتا ہے۔ مجرم کو تو سزا ملنی چاہئے ، جو شخص اس کی سزا میں حائل ہونا چاہتا ہے وہ ملعون ہے ۔ چناچہ سلف صالحین نے کبھی کسی مجرم کا ساتھ نہیں دیا ۔ ائمہ کرام اور اولیاء اللہ ظالم حکمرانوں کو نصیحت تو کرتے رہے مگر ان کے ہاں میں ہاں ملا کر ظلم میں حصے دار نہیں بنے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے سودے کھانا منظور کیے۔ جیل گئے ، زخمی ہوئے مگر سرکاری ملازمت محض اس لیے قبول نہیں کی کہ حکمران صحیح نہیں تھے۔ آپ نے وقت کے کمانڈر انچیف کو نصیحت کی کہ ظلم نہ کرو ، ورن مآخوذ ہو گے تو اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔ اسی طرح امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) نے بھی کسی ظالم حکمران کی پشت پناہی کی ۔ انہیں بڑی بڑی تکلیفیں دی گئیں مگر انہوں نے کبھی ناحق کا ساتھ نہیں دیا ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے کہ انبیاء کے مشن میں رفع التظالم من بین الناس بھی شامل ہے یعنی ان کا فرض ہے کہ لوگوں سے ظلم کو ہٹائیں ۔ جب ان کے مشن میں یہ چیز داخل ہے تو پھر وہ ظالم کی پشت پناہی کیسے کرسکتے ہیں ؟ آج ہماری سوسائٹی میں ظالم کی پشت پناہی رچ بس چکی ہے جس کی وجہ سے ہم طرح طرح کے مصائب کا شکار ہیں ، معاشرے میں فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے ، کسی کی عزت ، مال اور جان محفوظ نہیں ۔ گھر گھر میں ڈاکے پڑ رہے ہیں ۔ شاہراروں پر لوٹ مار مچی ہوئی ہے قتل و غارت عام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان غنڈوں ، بد معاشوں اور چوروں کے پشت پناہ بڑے بڑے جاگیردار ہیں ۔ انہوں نے کرائے کے قاتل پال رکھے ہیں جو واردات کرنے کے بعد ان کی پناہ میں آ کر گرفت سے بچ جاتے ہیں ۔ پولیس کی طرف سے مجرموں کی پشت پناہی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ پورے معاشرے میں بےسکونی کی کیفیت ہے ۔ جب تک معاشرے سے مجرم کی پشت پناہی ختم نہیں ہوگی لوگ آرام کی نیند نہیں سو سکیں گے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ایسے لوگوں پر آہنی ہاتھ ڈالے اور مجرموں سے پہلے ان کے حمایتوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ 1 ؎۔ حجۃ اللہ البالغہ ص 151 ج 1 (فیاض)
Ayahs 28:18–21

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر صبح کی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی شہر میں ، وہ ڈرتے ہوئے انتظار کر رہے تھے کہ اچانک وہی شخص جس نے گزشتہ روز آپ سے مدد طلب کی تھی ، پھر مدد کے لیے پکار رہا تھا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا کہ بیشک تم کھلے کجرو آدمی ہو

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب ارادہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ ہاتھ ڈالیں اس شخص پر جو ان دونوں کا دشمن تھا ، تو اس شخص نے کہا کہ اے موسیٰ ! کیا تو ارادہ کرتا ہے کہ مجھے قتل کر ڈالے جیسا کہ تو نے ایک جان کو کل قتل کیا تھا تو نہیں چاہتا مگر یہ کہ تو زبردست ہو زمین میں ، اور تو نہیں چاہتا کہ تو اصلاح کرنے والوں میں ہو

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

(اس دوران میں ) آیا شخص شہر کے دوسرے کنارے سے دوڑتا ہوا ، اور کہنے لگا ، اے موسیٰ ! بیشک فرعون کے سربر آوروہ لوگ مشورہ کر رہے ہیں تیرے بارے میں تا کہ تجھ کو قتل کر ڈالیں ۔ پس آپ نکل جائیں یہاں سے ، بیشک میں آپ کے لیے البتہ خیر خواہی کرنے والا ہوں

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پھر نکلے ( موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوف کھاتے ہوئے اور انہوں نے ( اللہ کی بارگاہ میں) عرض کیا ، اے میرے پروردگار ! بچا لے مجھے ظالم قوم سے

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) عالم شباب کو پہنچے تو اللہ نے انہیں حکمت اور سمجھ عطا فرمائی آپ بری باتوں پر تنقید اور ظالموں کی مدد کرتے تھے ۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ آپ دارالحکومت سے بارہ میل کے فاصلہ پر واقع شہر منصف میں ایسے وقت میں داخل ہوئے جب لوگ آرام کر رہے تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی آپس میں جھگڑ رہے ہیں ۔ حسب معمول قبطی آدمی اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا ، لہٰذا اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد کی درخواست کی ۔ آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی ایسا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اس پر آپ نے قبطی کو ایک گھونسہ رسید کیا جسے وہ برداشت نہ کرسکا اور ہلاک ہوگیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑا افسوس ہوا کہ ان کی ایک معمولی سی بلا ارادہ لغزش سے ایک جان چلی گئی۔ آپ نے اس کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور کہا کہ تو نے مجھ پر بڑے انعامات کیے ہیں اور دیگر سہولتیں مہیا کی ہیں۔ لہٰذا میں عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کسی مجرم کی حمایت نہیں کروں گا ۔ لڑائی کا دوسرا واقعہ قتل کا پہلا واقعہ تو دب گیا ۔ بائبل کی روایت کے مطابق لاش کو ریت میں دبا دیا گیا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوئی ۔ اس واقعہ کے بعد فاصبح فی المدینۃ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی شہر میں رات گزار کر صبح کی یعنی اگلا دن آپہنچا ۔ مقتول سرکاری کارندہ تھا۔ دن بھر اس کی تلاش ہوتی رہی کہ وہ کہاں چلا گیا ۔ اسرائیلی آدمی کو بھی فکر تھی کہ اگر قتل کا راز افشا ہوگیا تو مصیبت آ جائیگی ۔ ادھر موسیٰ (علیہ السلام) کی حالت بھی یہ تھی خائفاً وہ بھی خوفزدہ تھے کہ کوئی مصیبت نہ آجائے۔ یترقب آپ منتظر تھے کہ دیکھیں کل والے واقعہ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ آپ اسی شش و پنج میں تھے فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ کہ اچانک وہی شخص جس کی گزشتہ روز آپ نے مدد کی تھی ، پھر مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ آج وہ کسی دوسرے شخص سے الجھ رہا تھا۔ اسرائیلی عام طور پر بڑے مظلوم و مقہور تھے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہ اس اسرائیلی کے مزاج میں بھی کچھ خلل تھا جو ہر ایک سے الجھتا پھرتا تھا اس کی مدد میں ابھی کل ہی ایک آدمی قتل ہوچکا تھا اور یہ آج بھی ویسا ہی کام کر رہا تھا اس پر موسیٰ (علیہ السلام) کو اس اسرائیلی پر غصہ آ گیا کہ اس کا تو کام ہی لڑنا جھگڑنا قال لہ موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا انک لغوی مبین تم تو کھلے کجرو ہو جو ہر ایک سے جھگڑتے ہو ۔ گویا آپ نے اسی اسرائیلی کو سخت ڈانٹ پلائی کہ تم خواہ مخواہ لوگوں سے لڑائی جھگڑا کرتے ہو ۔ اسرائیلی کے سخت سست کہنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) آج پھر اسکی مدد کرنا چاہتے تھے ، چناچہ اس مقصد کیلئے فلما ان ارادہ ان یبطش بالذی ھو عدو لھماجب آپ نے ارادہ کیا کہ اس شخص پر ہاتھ ڈالیں جو دونوں یعنی آپ کا اور اسرائیلی کا دشمن تھا۔ گویا آج آپ پھر قبطی کو ظلم سے ہٹانا چاہتے تھے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اگرچہ فرعون کے محل میں پرورش پائی تھی مگر تھے تو آپ اسرائیلی خاندان سے اور اسی لیے اپنی والدہ سے ملنے کے لئے گاہے بگاہے ان کے پاس بھی آتے تھے ، لہٰذا فطری طور پر ان کی ہمدردیاں مظلوم اسرائیلیوں کے ساتھ تھیں چناچہ انہوں نے اسرائیلی آدمی کو قبطی کے ظلم سے بچانا چاہا ۔ ادھر اسرائیلی سمجھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مجھے ڈانٹ پلائی ہے اور اب یہ میری طرف بڑھ رہے ہیں تا کہ روز روز کی لڑائی کا مجھے بھی کچھ مزہ چکھائیں ۔ وہ شخص آپکی قوت کا اندازہ تو کر ہی چکا تھا کہ کل ایک ہی مکہ سے قبطی ہلاک ہوگیا ، لہٰذا اسے جان کی فکر پڑگئی اور قال کہنے لگا۔ یموسیٰ اتر ید ان تقتلنی کما قلت نفسا ً بالامس اے موسیٰ ! کیا تو مجے بھی ویسے ہی قتل کرنا چاہتا ہ جیسے کل ایک شخص کو جان سے مار ڈالا ان ترید الا ان تکون جباراً فی الارض وما تریدان تکون من المصلحین اور تو زمین میں اصلاح کنندہ نہیں بننا چاہتا ۔ اب راز فاش ہوچکا تھا وہ قبطی سمجھ گیا کہ جس کا سراغ نہیں مل رہا ہے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کو مزید پریشانی لا حق ہوئی کہ یہ شخص جا کر سرکاری کاروندوں کو بتا دے گا کہ کل والا قتل میں نے کیا تھا۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ عربی کافر کا خون تو جائز ہے ، اور اس لحاظ سے وہ قبطی بھی مباح الدم تھا ، اگرچہ یہ قتل خطا کے طور پر ہوا تھا۔ تا ہم اگر یہ قتل عمد بھی ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) پر کچھ گناہ نہیں تھا ، مگر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے ، لہٰذا انہوں نے اس خطا کو گناہ سے تعبیر کیا ، چناچہ سورة الشعراء میں موجود ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ قوم فرعون کے پاس جا کر تبلیغ کرو تو آپ نے ایک عذرپیش کیا تھا۔ وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ (آیت : 41) قبطیوں کا مجھ پر ایک گناہ بھی ہے کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا۔ اب اگر میں ان کے پاس تبلیغ کے لیے جائوں گا تو مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل ہی نہ کردیں ، کیونکہ وہ تو ہر حال یہی سمجھیں گے کہ میں نے ان کا آدمی عمداً قتل کیا تھا حالانکہ میرا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا بلکہ مظلوم کو ظالم کے پنجے سے چھڑانا مقصود تھا۔ فرعون کے پاس مخبری بہر حال قبطی جان گیا کہ کل والا قتل موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہوا ہے۔ وہ فوراً فرعون کے دربار میں پہنچا اور اسے حقیقت حال سے آگاہ کیا ۔ فرعون پہلے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کی بعض باتوں سے ناراض تھا ، کیونکہ آپ ہر برے کام پر تنقید کرتے تھے 1 ؎۔ بیان القرآن ص 501 ج 8 ص ( فیاض) اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ اب فرعون کو یقین ہوگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہمارا دشمن ہے۔ کہیں یہ وہی نہ ہو جس کی پیشین گوئی نجومیوں نے کی تھی کہ وہ ہماری سلطنت کو تہس نہس کر دے گا ۔ چناچہ تمام امراء ، وزراء ، مشیران حکومت کو اس معاملہ پر غور کرنے کے لیے طلب کیا گیا ۔ سارے عمائدین جمع ہوئے اور بالآخر یہی طے پایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو فوراً گرفتار کرلیا جائے کیونکہ یہ شخص ہماری سلطنت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ فرعون کے حواریوں کا یہ اجلاس ابھی جاری تھا اور ادھر وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسعی شعر کی دوسری طرف سے ایک آدمی دوڑتا ہوا موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا ۔ قال یموسیٰ ان الملا یا تمرون بک لیقتلوک اور کہنے لگا ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! فرعون کے درباری تیرے متعلق مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کردیں ، لہٰذا میں تجھے یہی نصیحت کرتا ہوں فاخرج انی لک من النصیحن آپ یہاں سے نکل جائیں بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں ۔ یہ شخص کون تھا جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعونی منصوبے سے آگاہ کیا ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ شخص وہی مرد مومن تھا جس کے نام پر قرآن پاک کی سورة مومن ہے۔ سورة مومن میں آتا ہے وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق صلے مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗٓ (آیت 82) یہ شخص فرعون 1 ؎ کے خاندان کا فرد تھا ، موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر اس وقت تک ایمان کو چھپا رہا تھا یہ شخص ابتداء سے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کا خیر خواہ تھا ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ کا آغاز کیا تھا تو اس وقت بھی اس مومن شخص نے قبطیوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ زیادتی کرنے سے منع کیا تھا۔ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللہ ُ (آیت : 82) کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے۔ موسیٰ علیہ اسلام کا خروج جب مرد مومن نے آ کر یہ اطلا دی فخرج منھا خائف نیترکب 1 ؎۔ کشاف ص 693 ج 3 و مدارک ص 032 ج 3 ( فیاض) تو موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے نکل کھڑے ہوئے خوف کھاتے ہوئے راہ دیکھتے تھے کہ اب کیا معاملہ پیش آتا ہے۔ آپ کو تشویش تھی کہ میں بھاگ جانے میں کامیاب ہو جائوں گا یافرعونی کارندے میرا تعاقب کر کے پکڑ لیں گے۔ لہٰذا وہ مڑ مڑ کر پیچھے بھی دیکھتے جاتیت ہے کہ کہیں کوئی خطرہ تو نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے بارگاہ رب العزت میں دعا بھی کی قال رب نجنی من القوم الظلمین کہنے لگے اے میرے پروردگار ! تجھے ظالم قوم سے نجات دے دے ۔ مجھے ان کے رحم و کرم پر نہ چھوڑنا ، چناچہ عام اہل ایمان کے لیے بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی اس طرح دعا کیا کریں رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِکَ مِنَ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (یونس : 85 ، 68) اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ظالم قوم کی آزمائش میں نہ ڈالنا ، اور اپنی رحمت سے کافروں کی قوم سے نجات دینا ، آج دنیا کی ظالم قومیں مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ تو ڑ رہی ہیں ، لہٰذا دعا کرنی چاہئے کہ اللہ ان کے پنجہ استبداد سے محفوظ رکھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہ دعا کرکے اس شہر سے نکل پڑے ، آگے جس منزل پر پہنچے اس کا حال آگے بیا ن ہو رہا ہے۔
Ayahs 28:22–25

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے توجہ کی مدین کی طرف تو انہوں نے کہا ، امید ہے کہ میرا پروردگار میری رہنمائی فرمائے گا سیدھے راستے کی

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچے تو پائی انہوں نے وہاں ایک جماعت لوگوں کی جو پانی پلاتے تھے۔ اور پایا ان کے درے دو عورتوں کو جو ( اپنے جانوروں کو) روک رہی تھیں ۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا حال ہے تمہارا ، تو انہوں نے کہا کہ ہم نہیں پلاتیں پانی یہاں تک کہ یہ چرواہے لوٹ جائیں ، اور ہمارا باپ عمر رسیدہ بوڑھا آدمی ہے

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پس پانی پلایا ان دونوں کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے ، پھر پلٹے سائے کی طرف اور کہا ، اے میرے پروردگار ! بیشک میں ، تو جو بھی نازل فرمائے میری طرف بہتری سے ، محتاج ہوں

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پس ان دو عورتوں میں سے ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی ۔ کہنے لگی ! بیشک میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تا کہ آپ کو بدلہ دے اس کا کہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ، پھر جب آئے موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس اور بیان کیا ان پر حال ، تو انہوں نے کہا کہ خوف مت کھائو ، تو بچ گیا ہے ظالموں کی قوم سے

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک قبطی آدمی قتل ہوگیا اور قتل کا الزام بھی آپ پر لگا تو فرعون کے درباریوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس شخص کو سزائے موت دینی چاہئے۔ چناچہ آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا گیا ۔ اسی اثناء میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ایک خیر خواہ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ فرعون نے آپ کی گرفتاری اور قتل کا حکم دے دیا ہے لہٰذا آپ بلا تاخیر یہاں سے نکل جائیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) فوراً وہاں سے چل دیے ، آپ کو پریشانی بھی لا حق تھی کہ پتہ نہیں اب کیا صورت حال پیش آئے گی اور ضمن میں آپ پیچھے مڑ مڑ کر بھی دیکھتے تھے۔ اندریں حالات آپ نے یہ دعا بھی کی ، پروردگار ! تجنی من القوم الظلمین مجھے ظالم قوم سے بچا لے ۔ اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور آپ کو ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جو مدین کی طرف جاتا تھا اور جہاں آپ کو امان حاصل ہو سکتی تھی ۔ اسی زمانے میں فرعون کی عملداری سے باہر قریب ترین علاقہ کا ہی تھا ، لہٰذا آپ اسی طرف چل دیئے۔ مدین کا سفر ارشاد ہوتا ہے ولما توجہ تلقاء مدین جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کی طرف توجہ یعنی رخ کیا تو اس کو امید کی اس لش لش کے درمیان قال آپ کی زبان سے یہ نکلا عسی ربی ان یھدینی سواء السبیل امید ہے کہ میرا پروردگار سیدھے راستے کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا ۔ آپ منزل کے راستے سے واقف نہیں تھے ، ویسے بھی پریشانی لا حق تھی تو ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے رست راستے کی دعا بھی کی ۔ اس شہر سے مدین آٹھ دس دن کی مسافت پر تھا۔ آپ بےسرو سامانی کی حالت میں چل دیے ، نہ کوئی توسہ اندر دیگر زا و سفر ، آپ اللہ کے بھروسے پہ تن تنہا چلتے رہے۔ راست میں شکم پروری کے لیے درختوں اور جھاڑیوں کے پتوں اور گھاس پھونس کے سوا کچھ نہیں تھا۔ آپ اسی حالت میں دس دن کے سفر کے بعد مدین پہنچ گئے۔ دوران سفر کے تفصیلی حالات کا ذکر قرآن پاک نے نہیں کیا ۔ البتہ وہاں پر پہنچ جانے کے بعد کے حالات کا ذکر ہے۔ فرمایا ولما ورد ماء مدین جب آپ مدین کے پانی یعنی کنویں پر پہنچے وجد علیہ امۃ من الناس یسقون تو آپ نے واں پر لوگوں کی ایک جماعت کو پایا جو جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ مفسرین کرام 1 ؎ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے چل کر خلیج عقبہ کے کنارے مدین پہنچے یہاں پر آنے کا خیال اللہ نے آپ کے دل میں اس لیے ڈالا کہ آپ کو اس مقام کے ساتھ کچھ مناسبت بھی تھی ۔ مدین کی بستی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے مدین کے نام پر موسوم تھی ۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ، لہٰذا ادھر آنے میں آپ کے لیے اللہ نے ایک خاص کشش پیدا کردی تھی ۔ اب مدین کی بستی تو وہاں موجود نہیں البتہ اس کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے سیاح اب بھی جاتے ہیں وہاں کے مقامی لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کے تاریخ مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس سلسلے میں دو کنوئیں بھی دکھاتے ہیں جو اب ویران ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک کنوئیں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی نکال کر شعیب (علیہ السلام) کی بکریوں کو پلایا تھا۔ اس زمانے کے لوگ پانی کی ضروریات اسی کنویں سے پوری کرتے تھے۔ 1 ؎۔ قرطبی ص 862 ج 31 ( فیاض) شعیب (علیہ السلام) کی …… بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) دس دن کے سفر کے بعد تکے مانے مدین کے کنوئیں پر پہنچے۔ لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔ ووجد من دونھم امراتین تذورن ان لوگوں کے علاوہ آپ نے دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانوروں کو پانی پر جانے سے روک رہی تھیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو شروع سے ہی کمزوروں کے حامی اور ظالموں کے دشمن تھے ، یہ ماجرا دیکھ کر وہ رہ نہ سکے اور ان دو عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے قال ما خطبکما کہنے لگے تم دونوں کا کیا حال ہے یعنی کیا وجہ ہے کہ تم اپنی بکریوں کو پانی کی طرف جانے سے روک رہی ہو۔ جب کہ انہیں بھی پانی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا قالتا لانسقی حتی یصدر الرعاء دونوں نے کہا کہ ہم اپنے جانوروں کو اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں ، جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو سیراب کر کے چلے نہ جائیں ۔ ہم اپنے جانوروں کو اس لیے روک رہی ہیں کہ یہ چرواہے فارغ ہو کر چلے جائیں تو بچھا کھچا پانی ہم بھی اپنی جریوں کو پلا لیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وابونا شیخ کبیر اور ہمارا باپ بوڑھا اور عمر رسیدہ آدمی ہے۔ وہ اس قابل نہیں کہ مشقت کا کام کرسکے لہٰذا باہر مجبوری جانوروں کی دیکھ بھال ہمیں کرنا پڑتی ہے۔ یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) کا دل بھر آیا ۔ اگرچہ وہ خود طویل سفر کر کے تھکے ہارے پہنچے تھے مگر انہوں نے لڑکیوں کی مدد کرنا ضروری سمجھا فسقی لھما چناچہ آپ نے ان کے جانوروں کو پانی نکال کر پلایا ، چونکہ آپ کو عنقرب نبوت ملنے والی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ آپ کو مختلف آزمائشوں میں ڈال رہا تھا ، سورة طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وفتنک فتونا ( طہٰ : 04) ہم نے تمہیں مختلف طریقوں سے آزمایا مصر سے مدین تک کا طویل سفر بھی آپ کی آزمائش تھی ۔ اس سے پہلے پیدائش کے وقت بھی آپ کی آزمائش ہوئی تھی ۔ اس کے بعد بھی آپ کو بار بار آزمائش میں ڈالا گیا اور آپ ہر بار سرخرو ہوتے ۔ آپ کی اس غریب الوطنی کے باوجود آپ کے دل میں شفقت کا جذبہ بیدا ہوا اور آپ نے ان عورتوں کے جانوروں کو پانی پلایا انبیاء کے جذبات ایسے ہی پاکیزہ ہوتے ہیں ۔ وہ خود بھوکے پیاسے رہ کر بھی دوسروں کو کھلا تے پلاتے ہیں ، ان کی نت اور عزائم نیک ہوتے ہیں ، لہٰذا وہ غریب الوطنی میں بھی مستحقین کی مدد کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہی کام کیا ۔ حضرت عمر ؓ سے منقول 1 ؎ ہے کہ اس علاقے کے چرواہے جب اپنے جانوروں کو پانی پلا لیتے تھے تو کنوئیں پر بھاری پتھر رکھ جاتے تھے تا کہ کوئی دوسرا پتھر پانی نہ نکال سکے وہ پتھر دس آدمی بھی مل کر بمشکل ہٹاتے تھے ، مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے تن تنہا اس پتھر کو سرکا کر پانی کا ایک ڈول نکالا اور بکریوں کو پلایا۔ مرد و زن کے لیے دائرہ ہائے کار اس آیت کریمہ سے لڑکیوں کی مجبوری کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ مخصوص حالات کی بناء پر بکریوں کی دیکھ بھال کر رہی تھی ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مشقت کے تمام کام مردوں کی ذمہ داری ہے نہ کہ عورتوں کی کھیتی باڑی ، تجارتی سفر ، کان کنی ، حیوانات کی پرورش وغیرہ مردوں کے ذمے ہے۔ اللہ نے مردوں اور عورتوں کے لیے مختلف دائرہ ہائے کار متعین فرمائے ہیں ۔ باہر کا کام مردوں کے ذمے ہے۔ جب کہ گھر کی چار دیواری کے نذر بچوں کی دیکھ بھال اور امور خانہ داری عورتوں پر عائد ہوتے ہیں ۔ آج مغربی تہذیب کے شیدائی محض پراپیگنڈا کے زور پر مرد و زن کو شانہ بشانہ کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ دونوں اصناف کے حقوق و فرائض مختلف ہیں اور ان کا اختلاط معاشرے میں بےراہ روی کا باعث بن رہا ہے ۔ اس حد تک تو درست ہے کہ بحیثیت انسان ہونے اور مکلف ہونے کے مرد و زن برابر ہیں ، مگر صنف کے اعتبار سے دونوں میں فرق ہے ایک صنف نازک ہے اور دوسری مشتاق ، برابری کا تصور خلاف فطرت ہے ، ہر صفت کے الگ الگ حقوق اور جدا جدا فرائض ہیں ۔ جو لوگ عورتوں کو معاشرے کے ہر میدان میں کھینچ لانا چاہتے ہیں ، وہ حقوق و فرائض سے تجاوز کرے مرتکب ہوتے ہیں ، اسمبلیوں کی رکنیت ، کارخانوں اور دفتروں کی ملازمت ، پولیس اور فوج میں بھرتی ، کھیلوں کے میدان میں آمد ، صنف نازک کے لیے ہرگز روا نہیں ۔ البتہ جہاں عورت کی حیا داری کو ملحوظ خاطر 1 ؎۔ ابن کثیر ص 383 ج 3 ( فیاض) رکھتے ہوئے اس کے لیے کام کرنا ممکن ہو ، وہاں وہ اپنا فریضہ ادا کرسکتی ہے ، مثلاً لڑکیوں کے سکول و کالج میں تعلیم دے سکتی ہے ، ایسے اداروں میں جہاں مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہو ، وہاں جاسکتی ہے ، البتہ جہاد مرد و زن مل کر کام کریں گے وہاں لازماً خرابی پیدا ہوگی ، لہٰذا اس معاملہ میں امریکہ ، روس اور یورپ کی اندھی تقلید کی بجائے اسلامی نقطہ نظر کے مطابق عربی اور فحاشی سے بچ کر بہتر طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا آرام کرنا جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمدردانہ جذبے کے تحت دو عورتوں کی بکریوں کو پانی پلا چکے ثم تولی الی الظلل پھر آپ سامنے کی طرف پلٹے ، قریب ہی کوئی درخت تھا ، اس کے نیچے بیٹھ گئے ۔ اس سے لڑکیوں نے اندازہ لگایا کہ یہ کوئی مسافر آدمی ہے جس کی یہاں کوئی جان پہچان نہیں ، لہٰذا تھوڑی دیر آرام کرنے کے لیے سائے میں بیٹھ گیا ہے ، ظاہر ہے کہ مسافروں کا گھر بار تو ہوتا نہیں ، وہ ذرا ستانے کے لیے سائے کا ہی رخ کرتے ہیں ، کسی ایسے ہی مسافر نے کہا تھا ؎ بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھائوں گھنی ہوتی ہے ہائے کیا شے غریب الوطنی ہوتی ہے دنیا کے مسافر کی طرح آخرت کا مسافر بھی غریب الوطن ہوتا ہے جو قبر میں تنہا پڑا رہتا ہے ، کسی شاعر نے اس سے یہ تصور باندھا ہے ؎ دن کو نور برستا ہے مری تربت پر اور رات کو چادر مہتاب تنی ہوتی ہے بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) چھائوں میں آ کر بیٹھ گئے ، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے 1 ؎ کہ جب وہ شام و فلسطین گئے تو وہاں سے مدین دو دن کی مسافت پر تھا۔ کہتے ہیں کہ وہاں جانے کے لیے میں نے سواری کو تیز چلایا ، جب وہاں پہنچا تو میں نے وہاں کے ان تاریخی مقامات کے متعلق دریافت کیا ، چناچہ مجھے وہ کنواں دکھایا گیا ، جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی نکالا تھا اور وہ درخت بھی جس کے نیچے آپ نے آرام فرمایا تھا ، کہتے ہیں کہ میرے اونٹ نے اس درخت کے کچھ پتے 1 ؎۔ ابن کثیر ص 483 ج 3 و طبری ص 85 ج 02 ( فیاض) بھی کھانے ، مگر وہ اس کے مزاج کے مطابق نہیں تھے لہٰذا پھینک دیئے ، کہتے ہیں کہ میں نے وہاں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی حالت پر غور کیا اور پھر یہ دعا بھی کی ، فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر کہنے لگے ، اے میرے پروردگار ! تو میری بہتری کے لیے جو کچھ بھی اتارے میں اس کا محتاج ہوں ، موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کی بھیک مانگی ، ذر غور فرمائیں کہ آپ اللہ کے مقرب بندے ہیں مگر اس سے سامنے عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں اور اس سے بہتر ی کے طلب گار ہیں ۔ آپ نے مشکل کشائی اور حاجت روائی کا دعویٰ نہیں بلکہ اپنی بےبسی کا اظہار کیا ہے ، اللہ کی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے ۔ خواہ وہ فرشتے ہوں ، جنات ہوں ، انسان ہوں ، پیغمبر ہوں یا ولی ہوں ، اس کی رحمت کے بغیر کسی کو جائے پناہ نہیں اللہ کا فرمان ہے یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللہ ِج وَ اللہ ُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (فاطر : 51) لوگو ! تم سب اللہ کے محتاج ہو اور وہ غنی لو اور تعریفوں والا ہے۔ ہر جاندارکھانے ، پینے چلنے پھرنے ، صحت ، آرام حتیٰ کہ سانس لینے تک کے لیے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے ، اس میں یک و بد کی کوئی تمیز نہیں یسئلہ من فی السموات والارض ( الرحمن : 92) آسمان و زمین کی ساری مخلوق اسی کے در کی سوالی ہے ، با شعور مخلوق زبان قال سے مانگ رہی ہے ، جب کہ بےشعور اشیاء زبان حال سے اپنی حاجت طلب کرتی ہے ، مانگنے والے سب میں مگر دینے والا صرف خدا تعالیٰ ہے ۔ یہ تو انسانوں کی بد بختی ہے جو مخلوق میں سے بعض کو حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں ، حالانکہ خدا کے سوا کسی کے کچھ اختیار میں نہیں ، موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اسی لیے کہا تھا کہ تو جو مجھ پر مہربانی کرتے ہیں ، اس کے لیے محتاج ہوں۔ شرم و حیا کی پیکر موسیٰ (علیہ السلام) کو سائے میں بیٹھے ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی فجاء تہ احد لھما تمشی علی استحیاء کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ علیہ السلا م کے پاس آئی ۔ اس ایک لفظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لیے شرم و حیاء کے مسئلہ کی پوری حقیقت بیان کردی ہے ۔ حیا تو مردوں کے لیے بھی ضروری ہے مگر یہ چیز اللہ نے عورت کی فطرت میں ڈال دی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لا ایمان لمن حیاء لہ جس میں حیا نہیں اس میں ایمان بھی نہیں ۔ بہر حال وہ لڑکی شرم و حیا کا پیکر بن کر با پردہ جھکی نظروں کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بات کرتے وقت اس نے اپنے منہ پر آستین کا پلورکھ لیا تھا۔ شرم و حیا تو عورت کا زیور ہے مگر آج دنیا میں دیکھ لیں کہ اس کو کس طرح پامال کیا جا رہا ہے۔ اخبارات اور رسائل میں عورتوں کی نیک عریاں تصویریں کس قدر بےحیائی کا ثبوت ہے۔ مغربیت اور الحاد نے لوگوں کو کس بےراہ روی پر ڈال دیا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے نئے نئے ڈیزائنوں کی تراش اور میک اپ کے نئے نئے طریقے لوگوں کو کس طرف لے جا رہے ہیں ۔ تمام ذرائع ابلاغ عریانی اور فحاشی کی تشہیر میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریڈیو ، ٹی وی اور سٹیج پر نسوانی گانوں کی بھر مار ہے۔ ہم اسے ترقی کا زینہ سمجھ رہے ہیں حالانکہ اس پر خدا کی لعنت برس رہی ہے۔ معاشرے میں بےراہ روی پیدا ہوتی ہے ۔ اخلاق بگڑتے ہیں اور نسلیں خراب ہوتی ہیں پہلے یہ فحاش صرف سینما گھروں میں حاصل ہوتی تھی ۔ اب ٹی وی اور وی سی آر کے ذریعے ہر گھر اس کا اڈا بن چکا ہے ۔ ہم مغرب والوں کی کتنی بھی نقالی کرلیں ۔ ان کا مقام حاصل نہیں کرسکتے ، ہم ان سے یہ تباہ کن عریانی اور فحاشی ہی لے سکتے ہیں ورنہ جس ٹیکنالوجی کی ہمیں ضرورت ہے۔ وہ ہرگز دینے پر تیار نہیں ، امداد کے نام پر تیار مال دیں گے۔ اپنے آدمی بطور مشیر بھجیں گے۔ مگر مطلوبہ ٹیکنالوجی دینے کے لیے تیار نہیں کہ کہیں یہ بھی ہمارے ہم پلہ نہ بن جائیں امریکہ کے ساتھ طویل ترین دوستی کے باوجود وہ آپ کو ایٹمی ٹیکنالوجی دینے کے لیے تیار نہیں ۔ فرانس نے کس قدر آمادگی ظاہر کی تھی مگر اس کو بھی روک دیا گیا ۔ تمام بڑی طاقتیں مسلمانوں کی ازلی دشمن ہیں اور وہ انہیں کبھی پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔ بلکہ ہمیشہ اپنا دست نگر بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔ مسلمانوں نے جب بھی کوئی چیز حاصل کی اللہ کے بھروسے پر اپنی ذہانت سے غمیر اقوام کے بھروسے پر کبھی کچھ نہیں ملے گا ۔ یہ تو انسانیت کے دشمن ہیں ، ان کی تہذیب تمدن کو اختیار کرنا اور پھر اس پر فخر کرنا تو لعنت ہے۔ ہمارا تمدن تو قرآن پاک اور اسوہ حسنہ کی تعلیمات میں مضمر ہے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے اپنی وفات سے پہلے وصیت کی تھی کہ مجھے رات کے وقت دفن کرنا ، تا کہ میری میت پر بھی کسی غیر مرد کی نگاہ نہ پڑے ، مگر آج ہم جس طرف جا رہے ہیں وہ تباہ کن ہے۔ شعیب (علیہ السلام) کی طرف دعوت بہر حال ان میں سے ایک لڑکی شرم و حیاکا پیکر بن کر آئی ۔ قالت اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ان ابی یدعوک بیشک میرا باپ تجھے بلاتا ہے۔ لیجزیک اجرما سقیت لنا تا کہ وہ آپ کو بدلہ دے اس چیز کا جواب آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔ مفسرین کرام 1 ؎ بیان کرتے ہیں کہ جب لڑکیاں بکریوں کو پانی پلا کر واپس اپنے گھر گئیں تو ان کے باپ نے پوچھا کہ آج تم اتنی جلدی کیسے آگئیں ؟ انہوں نے بتایا کہ وہاں کنوئیں پر ایک مسافر آ گیا تھا جس نے ہمدردی کے طور پر ہماری بکریوں کو پانی نکال کر پلایا ، اور اب وہ وہاں سائے میں آرام کر رہا ہے ، باپ نے کہا کہ تم نے اسے بلا لیا ہوتا تا کہ ہم اس کو کھانا کھلاتے ، وہ مسافرپتہ نہیں کب سے بھوکاپیاسا ہے ، اور کیسا ہے ؟ بہر حال اس لڑکی نے اپنے با پ کی طرف سے دعوت دی کہ میرا باپ تجھے بلاتا ہے ، کیونکہ اس کا اپنی طرف سے دعوت پسندیدہ معلوم نہیں ہوتا تھا ، اور ادب کا تقاضا بھی یہی تھا کہ بڑوں کو مقدم رکھا جائے۔ 1 ؎۔ کشاف ص 302 ج 3 ( فیاض) لہٰذا اس نے یہی کہا کہ میرا باپ تجھے بلاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) لڑکی کے کہنے پر چل دیے فلما جاء کا پھر جب وہ اس کے باپ کے پاس پہنچے وقص علیہ نقصص اور اس کے سامنے سارا واقعہ بیان کیا کہ اس طرح میرے ہاتھوں سے قتل ہوگیا ہے ۔ اور فرعونی حکومت مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے ، لہٰذا میں ادھر بھاگ آیا ہوں ۔ آپ کی سر گزشت سن کر اس بزرگ نے کہا قال لا تخف خوف نہ کھائو نجوت من القوم الظلمین تم ظالم قوم کی دست برد سے بچ نکلے ہو ۔ اس علاقے میں فرعون کی عملداری نہیں ہے ، نہ اس کے کارندے یہاں آتے ہیں ، لہٰذا تم بےفکر ہو جائو اللہ نے تمہیں ان کے ظلم سے بچا لیا ہے۔ مفسرین کرام 1 ؎ بیان کرتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو کھانا پیش کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر کھانا کھانے سے انکار کردیا کہ میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جو نیکی کے کام پر بدلہ نہیں لیا کرتے۔ تو اس بزرگ نے کہا کہ ہماری عادت بھی یہ ہے کہ ہم مسافروں کو ضرو ر کھاناکھلاتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی کے بہت سے واقعات زبان زد عام ہیں ۔ خود حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من لم یکرم ضیف فلیس منا جو شخص مہمان کی عزت نہیں کرتا وہ ہمارے گروہ میں سین ہیں ہے۔ واقف کار کی عزت تو کی ہی جاتی ہے ، ناواقف کی مہمان نوازی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی جانے پہچانے مہمان کی۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آپ کے صحابہ کرام ؓ آپ کے حکم کے مطابق یحفظون الغریب مسافر کی حفاظت کرتے تھے اور اس کو بھوکا پیاسا نہیں چھوڑتے تھے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے گھر میں بلانے والے بزرگ کون ہیں ؟ اس کے متعلق 3 ؎ اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے جلیل القدر نبی شعیب (علیہ السلام) ہیں اور بعض دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ آپ شعیب (علیہ السلام) نہیں کیونکہ ان کے زمانے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں چار سو سال کی مسافت ہے۔ 1 ؎۔ ابو المسعود ص 151 ج 2۔ 2 ؎۔ ابن کثیر ص 382 ج 3 ( فیاض) اور فرماتے ہیں کہ آپ شعیب (علیہ السلام) کے بھیجتے تھے ، تا ہم زیادہ مشہور یہی ہے کہ آپ شعیب (علیہ السلام) ہیں اللہ نے آپ کا نام قرآن میں نہیں بتلایا ، بائبل میں راوید یا راد عید کا ذکر آتا ہے ، کہیں ثیرون نام ذکر کیا گیا ہے اور کہیں تو باب بھی آتا ہے ، تا ہم یہ بات یقینی ہے کہ آپ اللہ کے نیک سیرت انسان تھے۔