Ayahs 28:61–70ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی ہے ۔
نیک و بد کا تقابل
ارشاد ہوتا ہیافمن وعذنہ وعدا حنا فھولا فیہ بھلا وہ شخص جس کے ساتھ ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اچھا وعدہ اور وہ اس کو پانے والا ہے کمن متعنہ متاع الحیوۃ الدنیا کیا وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کو ہم نے صرف دنیا کی زندگی میں فائدہ اٹھانے کا سامان دیا ہے۔ ثم ھو یوم القیمۃ من المحضرین پھر وہ قیامت والے دن ( مجرموں کے ساتھ گرفتار) لوگوں میں حاضر کیا جائے گا ۔ ظاہر ہے کہ ایک نیک آدمی جس کے ساتھ اللہ نے بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے ۔ وہ مجرموں کے ساتھ گرفتار شخص کے برابر کیسے ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ایمان اور نیکی والے کو وعدے کے مطابق نہایت اچھا مقام عطا کرے گا ، اس کو انعام و اکرام سے نوازے گا ، وہ عیش و آرام کی دائمی زندگی بسر کرے گا ، اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگی اور وہ خدا کی رحمت کے مقام میں داخل ہوگا ۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو اس دنیا کے سازو سامان پر ہی ریچھ گیا ہے۔ اس چندروزہ زندگی کی رنگینیوں میں ہی الجھ کر رہ گیا ہے اور آخرت کی دائمی زندگی کا کچھ خیال نہیں کرتا ، وہ بھلا نیک آدمی کے ہم پلہ کیسے ہو سکتا ہے جو دائمی نعمت میں ہوگا۔
معبودان باطل کا اعلان بیزاری
ارشاد ہوتا ہے ویوم یناد لھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون اور جس دن ( ان کا پروردگار ) ان کو پکار کر کہے گا ، کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم گمان کرتے تھے کہ یہ تمہاری مشکلات حل کردیں گے اور تمہاری حاجت روانی کریں گے ۔ تم نے ان کو خدائی میں حصہ دار بنا لیا تھا۔ اب بلائو تو ان کو اپنی حمایت میں کہ تمہاری مدد کریں ۔ اب ان مشرکوں سے تو کوئی جواب نہیں بن پڑے گا ، البتہ ان معبودوں کو حاضر کیا جائے گا جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے قال الذین حق علیھم القول کہیں گے وہ لوگ جن پر بات ثابت ہوجائے گی ۔ اس سے مراد وہ معبودان باطلہ ہیں جن کی مشرک لوگ پوجا کرتے تھے ۔ وہ جواب دیں گے ۔ ربنا ھولاء الذین اغوینا اے ہمارے پروردگار ! یہی وہ مشرک ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا ۔ ان میں شیاطین بھی شامل ہیں جو ہمیشہ انسانوں کو ورغلاء کو شرک کی دعوت دیتے رہے ، وہ کہیں گے اغوینھم کما غوینا ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح خواہ گمراہ ہوئے ۔ ہم خود کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا تھے تو ان کو بھی اسی ڈگر پر چلایا ، یہ تو دنیا میں ہوچکا ۔ تبرانا الیک اب ہم تیرے روبرو بیزاری کا اعلان کرتے ہیں ۔ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ما کانوا ایانا یعبدون یہ مشرک لوگ ہماری پرستش نہیں کیا کرتے تھے بلکہ اپنی خواہشا ت نفسانی کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئے لہٰذا یہ اپنی تباہی کے خود ذمہ داری ہیں ۔ و قیل ادعوا شرکاء کم اور مشرکوں سے کہا جائے گا کہ آج اپنے معبودوں کو بلائو جن کو تم دنیا میں پکارا کرتے تھے ۔ فدعوھم پھر وہ ان کو بلائیں گے فلم یستجیبوا لھم مگر وہ کسی بات کا جواب نہیں دے سکیں گے ۔ اور نہ ہی کوئی مدد کرسکیں گے ۔ اس وقت عابد اور معبود سب بےبس اور لا جواب ہوجائیں گے خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی کو لب کشائی کی ہمت نہیں ہوگی وراوالعذب اور وہ عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے ۔ اس وقت وہ بالکل مایوس ہوجائیں گے ، اور تمنا کریں گے لو انھم کانوا یھتدون کاش کہ وہ ہدایت یافتہ ہوتے دنیا میں گمراہی سے بچ کر سیدھے راستے پر چلتے رہتے تو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا مگر اس وقت ان کی یہ حسرت کچھ مفید نہیں ہوگی اور انہیں عذاب الٰہی کا مزہ چکھنا ہی ہوگا۔
رسالت کے متعلق سوال
قیامت والے دن رسالت کے متعلق بھی سوال ہوگا کہ لوگو ! تم نے ہمارے رسولوں کے ساتھ سلوک کیا ۔ یوم ینادیھم اور جس دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پکاریگا ۔ فیقول ماذا اجبتم المرسلین اور فرمائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ۔ وہ میری عورت لے کر تمہارے پاس آئے تھے۔ میرا پیغام پہنچایا تھا۔ بتلائو تمہارا کیا ردعمل تھا ؟ اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں بن آئے گا اور پھر حالت یہ ہوجائے گی کہ فعملیت علیھم الانباء یو مئذ اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہوجائیں گی ایسی دہشت طاری ہوگی کہ بات تک نہیں کرسکیں گے فھم لا یتساء لون حتیٰ کہ ایک دوسرے سے بھی نہیں پوچھ سکیں گے ۔ مطلب یہ کہ آپس میں مشورہ بھی نہیں کرسکیں گے کہ کئی معقول جواب دے سکیں ۔ اس طرح گویا رسالت کے سوال پر بھی لا جواب ہوجائیں گے۔
کامیابی کا زینہ
گمراہی کی وجوہات تو بیان ہو چکیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ کامیابی کس طرح حاصل ہو ؟ تو فرمایا فاما من تاب بہر حال جس نے توبہ کرلی کفر ، شرک اور معاصی سے دنیا میں ہی بیزاری کا اظہار کردیا اور پھر زندگی بھر ان کے قریب نہ آیا ۔ وامن اور ایمان لے آیا ، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت ، معاد ، کتب سماویہ ، ملائکہ کو دل سے تسلیم کرلیا ۔ وعمل صالحا ً اور پھر نیک اعمال شرو ع کردیئے۔ گویا یہ تین اعمال کامیابی کا زینہ ہیں جو اس زینے پر چڑھ گیا فعسیٰ ان یکون من المفلحین پھر امید ہے کہ یہی لوگ فلاح پانے والوں میں ہوں گے ۔ یہ تو ہر ایمان اور عمل کا راستہ ہے جو اس راستے پر گامزن ہوگیا ۔ وہ انشاء اللہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ان کی خطائوں کی معاف فرمائے گا اور وہ فائز المرام ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شان بےنیازی میں اپنے بندوں سے اس طرح خطاب کیا ہے کہ امید ہے کہ یہ لوگ کامیاب ہو جئیں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں عاجزی اور انکساری پیدا ہو اور وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے آئندہ کے لیے ایمان اور نیکی کی راہ پر چل نکلیں۔
اختیار خداوندی
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خلق ، اپنی پسند ، مخلوق کی نفی اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ وربک یخلق ما یشاء اور تیرا پروردگار جو چاہے پیدا کرتا ہے۔ صفت خلق میں اس کا کوئی شریک نہیں کسی چیز کے پیدا کرنے سے پہلے اسے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ویختار اور وہی پسند کرتا ہے یا جس کو چاہے منتخب کرتا ہے۔ یہ دراصل مشرکین کا رد ہے جو کہتے تھے لَوْ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف : 13) کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کی دو عظیم بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل ہوا ؟ یہاں پر بڑے بڑے سردار ہیں جن کے باغات ہیں ، نوکر چاکر ہیں ، مال تجارت ہے ، مویشی ہیں ، مگر نبوت کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا مگر اللہ نے فرمایا ، کہ نبوت و رسالت کے لیے مالی طور پر مضبوط ہونا ضروری نہیں بلکہ اس منصب کے لیے صلاحیت کو ضرورت ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے کہ کون اس منصب کے اہل ہے۔ اَ اللہ ُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ( الحج : 57) اللہ تعالیٰ ہی فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب کرتا ہے۔ وہی اس کی مصلحت کو بہتر جانتا ہے ، مخلوق کو اس معاملے میں نہ کوئی اختیار ہے اور نہ ان کے مشورے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ اس کے سوا کوئی کسی کی مشکل کشائی اور حاجت روائی نہیں کرسکتا ، مخلوق میں سے کسی کو کچھ بھی اختیار نہیں ہے۔
صحابہ کرام ؓ کے مناقب
امام قرطبی (رح) نے اپنی تفسیر 1 ؎ میں مسند بزار کے حوالے سے حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔
ان اللہ تعالیٰ اختار اصحابی علی العلمین سوی النبین والمرسلین ۔
بیشک اللہ تعالیٰ نے میرے اصحابہ کو تمام جہان والوں پر پسند کیا ہے سوائے نبیوں اور رسولوں کے۔
واختارمن اصحابی اربعۃ و فی صحابی کلھم خیرو اختار متی علی سائر الامم وا اختار من امتی اربعۃ قرون
اور میرے صحابہ میں سے چار کو منتخب فرمایا ہے۔ میرے تمام صحابہ میں بہتری ہے اور میری امتوں کو تمام امتوں کے مقابلے میں منتخب فرما دیا ہے اور میری امتوں میں سے چار قرنوں کو خاص طور پر منتخب فرمایا ہے۔
اس حدیث شریف میں صحابہ کرام کے فضائل بیان ہوئے ہیں ۔ نبیوں اور رسولوں کے علاوہ حضور کے صحابہ کو باقی تمام لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔ اور پھر ان میں سے چار صحابہ کو باقی صحابہ پر فوقیت حاصل ہے اسی طرح حضور ﷺ کی ساری امت کو باقی امتوں پر فضلیت ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے چار زمانے بہترین ہیں ۔ یہ چار قرن ( 1) حضور ﷺ کا زمانہ (2) صحابہ کا زمانہ (3) تابعین کا زمانہ اور (4) تبع تابعین کا زمانہ ہے ، بہر حال یہ سارا انتخاب اللہ تعالیٰ کا اپنا ہے کسی امت کا انتخاب ، اس امت میں سے خاص افراد کا انتخاب اور پھر خاص زمانوں کا انتخاب سب اللہ تعالیٰ کی مشیت پر منحصر ہے۔ اس میں کسی مخلوق کا کوئی دخل نہیں ہے۔
رافضیوں کی گمراہی
اب ذرا رافضیوں کا باطل عقیدہ بھی ملاحظہ فرما لیں ۔ یہ فرقہ حضرت علی ؓ کے زمانے میں پیدا ہوا ۔ ان کے بھی آگے بہت سے فرقے ہیں جن میں سے اثناء عشری فرقہ
1 ؎۔ قرطبی ص 503 ج 31 (فیاض)
زیادہ مشہو رہے ۔ یہ لوگ اپنے بارہ اماموں کو معصوم تسلیم کرتے ہیں ۔ ایران کے شیعہ بھی اسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے پراپیگنڈہ کے زور پر ایرانی انقلاب کو اسلامی انقلاب سے تعبیر کر رکھا ہے ، حالانکہ یہ قطعاً اسلامی انقلاب نہیں ، محض شیعیت کا پرچار ہے ۔ اس بات کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایران کا سرکاری مذہب شیعہ ہے اور وہاں کی اقلیت سنیوں کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے ، حتیٰ کہ اہل سنت کو اپنی علیحدہ مسجدیں بنانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ تہران کا شہر دس بارہ لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے مگر وہاں سنیوں کی ایک بھی مسجد نہیں رہے یہ لوگ جمہور صحابہ کرام ؓ کے ساتھ سخت نفرت رکھتے ہیں حتیٰ کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور عمرفاروق ؓ کو مسلمان تک سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔ نعوذ باللہ یہ ان حضرات کو منافق سمجھتے ہیں ۔ اب ذرا ان کے امام خمینی کا عقیدہ بھی سن لیجئے جو اس نے اپنی فارسی کی معتبر کتاب 1 ؎ کشف الاسرار میں بحوالہ مراۃ العقول نقل کیا ہے۔ یہ کتاب شیعوں کی معتبر کتاب ” کافی “ کی شرح ہے۔ امام جعفر صادق ؓ کے حوالے سے امام خمینی نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ اللہ نے حضور ﷺ سے خطاب کیا ۔ یا محمد اللہ لم یزل متفرد ، بوحد نیتہ ثم خلق محمد ۔ وعلیا وفاطمۃ ثم مکثوا الف دھر ثم خلقو جمیع الاشیا وفوض امورھا الیھم فھم یحلون ما یشاء ون و یحرمون ما یشاء ون یا محمد ھذہ الدیانۃ۔۔۔۔ اے محمد بیشک اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت کے ساتھ متفرد تھا ، پھر اس نے تین ہستیوں یعنی محمد ﷺ ، علی ؓ اور فاطمہ ؓ کو پیدا فرمایا۔ پھر یہ ہزاروں سال تک اسی طرح ٹھہرے رہے ۔ پھر خدا نے باقی ساری چیزوں کو پیدا کیا اور ان تین اصحاب کو گواہ بنایا اور تمام معاملات ان کو تفویض کردیئے ، پھر وہ جس چیز کو چاہتے حلال اور جس چیز کو چاہتے حرا م قرار دیتے اور
1 ؎۔ کشف الاسرار ص 57 مطبوعہ ایران ( فیاض)
ساتھ یہ جملہ بڑھا دیا کہ یہ تینوں وہی کچھ چاہتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے ، پھر فرمایا اے محمد ! یہی دین ہے جو اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کریگا وہ سر کش ہوگا اور جو کوئی پیچھے رہنے کی کوشش کرے گا ، مٹا دیا جائے گا ، اور جو اس کو لازم پکڑے گا وہ حق کے ساتھ مل جائے گا۔
خدا تعالیٰ کی کبریائی
اس کے بر خلاف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حلت و حرمت کا تعین اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ میں ہے ، یہ صرف اللہ کا حق ہے اور کسی ایام معصوم کو حلال حرا م کا اختیار حاصل نہیں ۔ بہر حال شیعوں کا دین یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اختیارات حضور ﷺ ، حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو سونپ دیئے ہیں ۔ ادھر اللہ کا فرمان یہ ہے کہ وہی پیدا کرتا ہے اور اسی کے پاس سارے اختیارات ہیں ۔ ما کان لھم الخیر ہ مخلوق کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں ۔ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون اللہ تعالیٰ کی ذات پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ خدا کا شریک بناتے ہیں فرمایا وربک یعلم ما لکن صدورھم وما یعلنون اور تیرا پروردگار کا ر خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جس چیز کو یہ ظاہر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ مشرکین کے تمام باطل عقائد و اعمال سے واقف ہے ، وہ ان کے ساتھ ویسا ہی سلو کریگا ۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو اور وہی اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ خالق ، مالک ، علیم ، مختار اور قادر ہے ہر ایک کی مشکل کشائی اور حاجت روانی کرنے والا وہی ہے لہ الحمدفی الاولی والاخرۃ دنیا میں بھی اسی کے لیے تعریف ہے ۔ اور آخرت میں بھی وہی تعریفوں کے لائف ہے ولہ الحکم اور ہر قسم کا فیصلہ بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر چیز کا فیصلہ خود کرتا ہے ۔ اسے کسی مشیر کی ضروت نہیں ہے والیہ ترجعون اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جائو گے ، جب اول و آخر اللہ تعالیٰ ہی قادر و مختا رہے اور محاسبہ اعمال کے لیے بھی اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے ، تو اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بنانے کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لطیف پیرائے میں یہ بات سمجھا دی۔
Ayahs 28:71–75ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد فرمایا اور ساتھ دونوں کا انجام بھی بیان کیا ۔ پھر اللہ نے اپنی صفت خلق کا ذکر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ جو چاہے پسند کرے سارا اختیار اسی کو ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی با اختیار ہستی نہیں ہے۔ فرمایا اللہ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ فرمایا خدا تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ وحدہٗ لا شریک ہے ، دنیا آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
لیل و نہار کا نظام
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں دو عقلی دلائل پیش کیے ہیں جو لیل و نہار کے نظام پر مشتمل ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے یعنی کفار و مشرکین کے سامنے یہ دلیل پیش کریں ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمد الی یوم القیمۃ بھلا بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے یعنی قیامت کے دن تک رات ہی مسلط کردے من لہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء تو اللہ کے علاوہ کون الٰہ ہے ، جو تمہارے پاس روشنی لے آئے ، سرمد کا معنی دائمی ہوتا ہے جیسے عربی میں یہ محاورہ مستعمل ہے۔
لعمرک ما امری علی بغمۃ
نھادی ولا لیلی علی بسرمد
اے مخاطب ! تیری جا ن کی قسم میر ا معاملہ تجھ پر تاریک نہیں ہے ( یعنی میں بقائمی ہوش و حواس تمام امور انجام دیتا ہوں) میرے شب و روز دائمی نہیں ۔ رات کو دائمی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک تاریکی ہی رہے اور روشنی کی کوئی کرن نہ پھوٹے۔ یا اگر سورج طلوع ہو بھی جائے تو اللہ اس کی روشنی کو ہی سلب کرلے ۔ زندگی کے تمام کاروبار اور معیشت کا انحصار دن کی روشنی پر ہی ہے فرمایا اگر تمہارا پروردگار اس روشنی کو ہی روک لے تو اس کے سوا کون ہی ذات ہے جو تمہارے لیے ایسی روشنی مہیا کر دے جس میں تم معمولات زندگی جاری رکھ سکو ۔ افلا تسمعون کیا تم سنتے نہیں ؟ اس معاملہ میں غور و فکر کرو اللہ نے دن کی صورت میں کتنا بڑا انعام کیا ہے۔ اس کے بر خلاف فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ یہ بھی واضح کردیں اریتم ان جعل اللہ علیکم النھار سرمد الی یوم القیمۃ بھلا بتلائو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے تا قیام قیامت دن کو ہی مسلط کر دے تو من الہ غیر اللہ یاتیکم بلیل تسکنون فیہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمہارے پاس رات کو لے آئے جس میں تم سکون پکڑتے ہو ۔ فرمایا افلا تبصرون کیا تم دیکھتے نہیں ؟ یہ دونوں عقلی دلیلیں ہیں جنہیں انسان غور و فکر کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں ۔ اللہ نے شب و روز کا توازن عجیب طریقے سے قائم رکھا ہے۔ یہ دونوں یکے بعد دیگرے واردہو کر انسانی زندگی کے معمولات میں معاون ثابت ہوتے ہیں ۔ دن کے وقت لوگ اپنا کاروبار زندگی انجام دیتے ہیں جب کہ رات کے وقت آرام اور سکون حاصل کر کے اگلے دن کی مصروفیات کے لیے پھر سے تازہ دم ہوجاتے ہیں ۔ یہ نظام اللہ نے تمام جانداروں کی مصلحت کے لیے مقرر کر رکھا ہے ، اگر ان میں ذرا بھی اختلاف معمول تفسیر و تبدل واقع ہوجائے تو زندگی کی گاڑی میں خرابی پیدا ہوجائے ۔ اللہ نے فرمایا کہ اس نے اپنی قدرت تامہ کے ساتھ یہ نظام قائم کیا ہے ، بھلا کون ہے جو اس میں کوئی تبدیلی لاسکے ؟ مفسرین کرام 1 ؎ فرماتے ہیں کہ ان دو آیات کے آخر میں دو مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ پہلی آیت میں جہاں روشنی لانے کا چیلنج کیا گیا وہاں فرمایا افلاتسمعون کیا تم سنتے نہیں ۔ دن کے وقت چونکہ انسان کو بیشمار نعمتیں حاصل ہوتی ہیں جنہیں وہ شمار بھی نہیں کرسکتے ، لہٰذا اس مقام پر سماعت کا لفظ استعمال کیا کہ تم سنتے ہیں ؟ اور دوسری آیت میں رات کو لانے کا چیلنج کیا گیا ہے۔ رات کے وقت چونکہ اشتغال کم ہوتا ہے اور انعامات بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں ۔ اس لیے وہاں پر بصارت کا لفظ استعمال کیا ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے یہ کیسا نظام قائم کر رکھا ہے ؟
شب و روز میں تقسیم کار
آگے اللہ نے دن اور رات کا اکٹھا ذکر فرمایا ہے ومن رحمتہ یہ اس اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا نتیجہ ہے جعل لکم الیل والنھار لتسکنوا فیہ کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا ہے اس نے عجیب و غریب نظام قائم کر رکھا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تم رات کے وقت سکون پکڑ سکو ۔ تما م انسان ، دردن ، چرند ، پرند وغیرہ رات کو آرام کرتے ہیں ۔ دن بھر کی مشقت سے تھک ہار کر سو جاتے ہیں ۔ ولتنبتغوا من فضلہ اور تا کہ تم ( دن کے وقت ) اللہ کا فضل تلاش کرسکو ۔ یعنی محنت مزدوری ، تجارت ، کاروبار ، کھیتی باڑی وغیرہ کر کے اپنی معیشت کا سامان پیدا کرسکو۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام کام دن کی روشنی میں ہی بطریق احسن انجام پا سکتے ہیں لہٰذا اللہ نے دن کے اشغال کو فضل یعنی ذریعہ ورزی سے تعبیر کیا ہے۔ اللہ نے دوسرے مقام پر فرمایا ہے وجعل الیل سکنا ( الانعام : 79) ا س نے رات کو سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ وجعل النھار معاشا ً ( النبائ : 11) اور دن کو روزگار کا ذریعہ بنایا ہے۔
1 ؎۔ ابن کثیر ص 893 ج 3 ( فیاض)
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس ضمن میں دو اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں ۔ ان میں سے ایک اقتراب ہے اور دوسری ارتفاق ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ فضل کا تعلق ارتفاق سے ہے یعنی انسان جائز ذرائع رزق حلال حاصل کر کے اپنی زندگی خوش اسلوبی سے بسر کرتا ہے ، چناچہ اللہ نے حضور ﷺ کے صحابہ کرام کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہ ِ وَرِضْوَانًا ( الفتح : 92) یعنی وہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ فضل کا تعلق معاش سے ہے جب کہ رضوان کا تعلق اقتراب سے ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت ، ریاضت اور ذکر وغیرہ کر کے اس کی رضا حاصل کرتے ہیں اور یہ چیز اس کے قرب کا ذریعہ بنتی ہے۔ بہرحال رات اور دن دونوں خدا تعالیٰ کے انعامات ہیں کہ رات کے وقت انسان ایک تو آرام اور سکون پکڑتے ہیں اور دوسرے اس کے حضور کھڑے ہو کر اس کا قرب حاصل کرتے ہیں ۔ اسی طرح دن کے وقت انسان اپنے وسائل کے مطابق کاروباری زندگی انجام دے کر اپنی معیشت کا سامان پیدا کرتے ہیں اور یہ دونوں چیزیں انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ آگے اللہ نے ایک تیسری بات بھی بیان فرمائی ہے ولعلکم تشکرون اور تا کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرسکو ۔ دن کے وقت کو محض لہو و لعب میں نے گزاردو ، اور نہ ہی رات کو غفلت میں بسر کر دو بلکہ اوقات میں اللہ کے بےپانیاں انعامات کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اللہ کی ان نعمتوں کو بر محل صرف کیا جائے۔ اگر انعامات الٰہیہ کا استعمال صحیح نہ کیا تو یہ کفران نعمت ہوگا ۔ رات بھر نیند میں پڑے رہے اور اللہ کا ذکر نہ کیا ، اور اسی طرح پورا دن کھیل کود میں گزار دیا تو اس کی نعمتوں کا شکریہ کیسے ادا ہوگا ۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے دلیل و نہار کا انتظام قائم کیا ہے تا کہ تم شکریہ ادا کرو۔
اللہ کے حضور گواہی
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت والے دن لوگوں کو اپنے حضور حاضر کیے جانے کا نقشہ کھینچا ہے ۔ فرمایا ویوم ینا دیھم جس دن اللہ ان کافروں اور مشرکوں کو طلب کرے گا ۔ اپنے سامنے کھڑا کریگا ۔ فیقول این شرکاء ی لذین کنتم تزعمون اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کو تم گمان کرتے تھے کہ یہ ہماری مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں ۔ یا ہماری سفارش کر کے ہمیں خدا تعالیٰ سے چھڑا لیں گے ۔ فرمایا اس وقت کوئی حیلہ کام نہیں آئیگا ، کسی فرد اور مشرک کے حق میں نہ کوئی سفارش کریگا اور نہ کسی کی سفارش قبول ہوگی ۔ فرمایا وہ تو محاسبہ اعمال کاد ن ہوگا اور اس مقصد کے لیے ونزعنا من کل امۃ شھیدا ً ہم ہر امت سے کھینچ کر گواہ لائیں گے۔ ہر امت کا نبی اور اس کا نائب گواہی دینے کے لیے آئے گا ۔ اور بتلائے گا کہ ان لوگوں نے اللہ کے دین ، شریعت اور احکام کو کس حد تک تسلیم کیا ۔ فرشتے بھی انسان کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دیں گے ، خود انسان کے اپنے اعضاء وجوارح بھی بطو گواہ پیش ہوں گے ، اللہ تعالیٰ زبانوں پر مہر لگا دیگا اور ہاتھ پائوں بول کر شہادت دیں گے کہ یہ شخص دنیا میں کیا کچھ کرتا رہا ۔ اس کے علاوہ فرمایا شجر اور حجر بھی انسان کے حق میں گواہی دیں گے۔ حدیث شریف 1 ؎ میں آتا ہے کہ اذان کی آوازجہاں تک پہنچتی ہے وہاں کی ہر چیز مؤذن کے حق میں گواہی دیگی ۔ پھر مشرکوں سے کہا جائیگا فقلنا ھانوا بن ھانکم اگر تمہارے پاس کفر و شرک کے حق میں کوئی دلیل ہے تو اسے پیش کرو آج بتلائو کہ تم نے کس طرح حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا ۔ تم ساری شرکیہ رسوم کس دلیل کی بناء پر ادا کرتے رہے۔ اللہ کی وحدانیت کو کیوں تسلیم نہ کیا ۔ خدا کے پیغمبروں کو جھٹلاتے رہے اور کیوں ان کو تکالیف پہنچاتے رہے ۔ لائو اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے ، مگر اس دن کسی کو بھی دم مارنے کی ہمت نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی دلیل پیش کرسکیں گے۔
حق و باطل کا امتیاز
فرمایا جب تمہاری حالت یہ ہے کہ تم اپنی کرتوتوں پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے ۔ فعلموا ان الحق للہ تو خوب جان لو کہ بیشک سچ بات اللہ ہی کے لیے ہے۔
1 ؎۔ بخاری ص 68 ج 1 (فیاض)
اس نے اپنے انبیاء اور رسل بھیج کر حق کو واضح کردیا تھا ، اپنی کتابوں کے ذریعے حق و باطل میں امتیاز پیدا کردیا تھا۔ اس نے بتلا دیا تھا کہ خالق ، مالک ، قادر مطلق ، مختار ، مطلق ، نافع اور ضار ، مشکل کشا اور حاجت روا صرف وہی ہے ۔ تم خواہ مخواہ مخلوق کی پوجا کرتے رہے ، اس نے حقیقت کو واضح کردیا تھا۔ فرمایا وضل عنھم ما کانوا یفترون قیامت والے دن وہ تمام چیزیں گم ہوجائیں گی جو انہوں نے افتراء کر رکھی تھیں۔ ان کے غلط عقائد ، بد عتی ، رسومات اور لا یعنی چیزیں سب ختم ہوجائیں گی اور اپنے حق میں پیش کرنے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا ۔ انہیں نجات حاصل نہیں ہوگی ، کیونکہ نجات کا دارمدار ایمان اور نیکی پر ہے اللہ کی وحدانیت اور رسالت پر ایمان ہی مدار فلاح ہے مگر یہ چیزیں ان کے پاس نہیں ہوں گی۔
Ayahs 28:76–78ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے مشرکوں کا د کیا ، پھر توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے مشرکین کو تنبیہ کی گئی جو غرور وتکبر کی وجہ سے توحید اور رسالت کا انکار کرتے تھے اور ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے ، اللہ نے ان کو سمجھانے کے لیے بعض پہلی بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا ۔ اب سورة کے آخری حصے میں اللہ نے ایسے ہی لوگوں کو نصیحت کے لیے قارون کا واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا آدمی تھا۔ اللہ نے بےتحاشا مال و دولت دے رکھا تھا ، مگر اس نے سرکشی اختیار کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حسد اور ضد کا اظہار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس اس کے مال و دولت سمیت ہلاک کردیا۔ مشرک لوگ بھی چونکہ ضد ، عناد ، حسد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے تھے ، یہ واقعہ بیان کر کے اللہ نے ان کو بھی عبرت دلائی ہے۔
قارون کا تعلق
ارشاد ہوتا ہے ان قارون کان من قوم موسیٰ بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا۔ امام بیضاوی 1 ؎ اور بعض دوسرے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم قومہ تھا بلکہ آپ کا چچا زاد بھائی تھا۔ قارون ابن یصہر ابن قابث ابن لاویٰ ، موسیٰ (علیہ السلام) کے باپ کا نام عمران تھا۔ گویا قابث کے دو بیٹے تھے۔ یصہر اور عمران ، تا ہم بعض نے قارون کو موسیٰ (علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی بھی لکھا ہے قارون اگرچہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور انہی میں رلا ملا ہوا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بظاہر تصدیق بھی کرتا
1 ؎۔ بخاری ص 002 ج 3 ( فیاض)
تھا مگر در پردہ فرعون کے ساتھ رابطہ رکھتا تھا ، بلکہ اس کا ایجنٹ تھا فرعون جو بلکہ غیرہ ، اسرائیلیوں سے لینا چاہتا اس کے لیے قارون کی خدمات حاصل کرتا تھا ، فرعون بڑے بڑے ٹھیکے قارون نے سپرد کرتا اور پھر وہ یہ کام معمولی اجرت پر اسرائیلیوں سے کرواتا ، جس کی وجہ سے اس نے بہت سا مال و دولت جمع کرلیا تھا۔ عام ظالم حکمرانوں کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ وہ بعض لوگوں کو اپنا گروہ بنا کر قوم کا خو ن چوسے رہتے ہیں ۔ انگریز نے برصغیر میں حکمرانی کے دوران کئی مسلمانوں کو اپنا ایجنٹ بنا کر پوری قوم کی دلیل کیا اپنے حامیوں کو بڑے بڑے عہدے اور جاگیریں دیں اور پھر ان کے ذریعے فوجی بھرتی لی اور بہت سے دیگر کا ر کروانے سر محمد شفیع حضرت مولانا شیر محمد شرقپوری کا خالہ زاد بھائی تھا ، مگر انگریز کا ایجنٹ تھا اسی طرح سرف ضل حسین ، سر سکندر حیات اور پنجاب ، سندھ اور سرحد کے دیگر بڑے بڑے خاندانوں کو مراعات دیں اور بڑے بڑے کام لیں ، قارون بھی اسی طرح فرعون کا ایجنٹ تھا اسے بڑی مراعات حاصل تھیں جسکی وجہ سے وہ بڑا مالدار بن گیا۔
قارون کا غرور اور حسد
فرعون کی غرقابی کے بعد بھی قارون اپنی قوم اسرائیل کے ساتھ ہی رہا تورا پڑھتا تھا اور بظاہر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان بھی رکھتا تھا مگر آپ کی سیادت و قیادت اور نبوت و رسالت کی وجہ سے حسد کرنے لگا ۔ کہنے لگا موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) تو دونوں نبی بن گئے ۔ دنیا اور آخرت کی قیادت ان دونوں بھائیوں نے سنبھال لی مگر اتنے مال و دولت کے باوجود میری تو کوئی قدر و منزلت نہ ہوئی ۔ ادھر یہ حسد پیدا ہوا ، اور ادھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے کل مال کا ایک چوتھائی زکوۃ ادا کرنے کے لیے کہا ، اس پر قارون اور بھی جل بھن کر کباب ہوگیا کہنے لگا میں نے یہ دولت اپنے علم و ہنر کی بناء پر یہ حاصل کی ہے ، اب یہ میری دولت بھی زکوٰۃ کے نام پر سمیٹنا چاہتا ہے۔ وہ شخص پہلے ہی متکبر تھا ، مال و دولت کو جاتا دیکھا تو مزید غصے سے بگڑ گیا اور صاف انکار کردیا کہ ہم موسیٰ (علیہ السلام) کے احکام کی پابندی نہیں کرسکتے ۔ یہی صورت حال خود حضور ﷺ کے ساتھ پیش آئی ۔ مکہ میں ابو جہل اور ابو لہب جیسے بڑے بڑے مردار تھے۔ حضور ﷺ نے دعویٰ نبوت سے سیخ پاہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر نبوت اس کو مل گئی تو ہمارے پاس کیا رہ گیا ، حاجیوں کی خدمت پر پہلے بنی ہاشم قابض ہیں ، اب نبی بھی اسی خاندان سے بن گیا تو ہماری سرداری کا تو جنازہ نکل گیا ، چناچہ انہوں نے حسد اور غرور کی بنا کر آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا ، بعینہٖ اسی طرح قارون بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا مخالف ہوگیا ، اور ان کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشی کرنے لگا ۔ فبغی علیھم اس طرح اس نے اسرائیلیوں کے خلاف سر کشی کی۔
قارون کی دولت مندی
اس کی دولت مندی کے متعلق اللہ نے فرمایا واتینہ من الکنوز ہم نے اسے خزانوں میں سے اس قدر عطا کیا ما ان مفاتحۃ لتنواء با لعصبۃ اولی القوۃ کہ ایک طاقتور جماعت اس کی چابیاں اٹھانے سے بوجھل ہوجاتی تھی ۔ مطلب یہ کہ اس کے خزانوں کی الماریوں اور صندوقوں وغیرہ کی چابیاں اس قدر تھیں کہ بہت سے لوگ مل کر بھی بمشکل اٹھاتے تھے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی 1 ؎ فرماتے ہیں کہ عصبہ کا اطلاق تین سے دس افراد کی جماعت پر ہوتا ہے ، اگر ہر آدمی کے حصے پانچ پانچ سو چابیاں آئیں تو گویا خزانوں کی صندوقوں کی تعداد چار پانچ ہزار بنتی ہے۔ ان میں روپے پیسے ہوں ، سونا چاندی ہو یا دیگر قیمتی اشیاء بہر حال قارون اتنے مال کا مالک تھا۔ مفاتح دو الفاظ کی مشترک جمع ہے یعنی مفتح اور مفتح ، مفتح کا معنی خزانہ ہوتا ہے جب کہ مفتح چابی کو کہتے ہیں ۔ ہر دو الفاظ قارون کی کثرت مال و دولت پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس زمانے میں تو اتنا بڑا مالدار شخص اکا د کا ہی ہوتا تھا مگر آج کے دور میں قارون جیسے بیشمار دولت مند موجود ہیں ۔ آج کے کروڑ پتی سیٹھوں کی تجوریوں ، تہہ خانے ، سٹور اور بینک بیلنس وغیرہ کا حساب لگایا جائے ، ان کے ملازمین ، کارندوں اور ایجنٹوں کو شمار کیا جائے تو یہ بھی قارون سے کسی طرح کم نہیں نکلیں گے بلکہ اس سے بڑھ کر مالدار ظاہر ہوں گے۔ بہر حال قارون کی ٹھاٹھ باٹھ ، اس کے چال چلن اور غرور وتکبر کو دیکھ کر اذ قال لہ قومہ ، اس کی اپنی قوم نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی اور نصیحت کی لا تفرح کہ اس مال و دولت پر اترائو نہیں ۔
1 ؎۔ بیان القرآن ص 121 ج 8 ( فیاض)
فرح کا معنی اترانا بھی ہوتا ہے ، اور خوش ہونا بھی ، لوگوں نے کہا اس عارضی مال کی وجہ سے نہ تو غرور وتکبر میں مبتلا ہو اور نہ ہی اس پر خوش ہو۔ ایسا کرنا حرام ہے ، ضد اور حسد کو چھوڑ دو اور موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت سے باز آ جائو ۔ اسرائیلی اور تفسیری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قارون کے ساتھ اڑھائی تین سو آدمی ہر وقت رہتے تھے ، یہ اس کے حامیوں کا خصوصی دستر تھا ، جن کا کام صرف ہاں میں ہاں ملانا تھا۔ یہ لوگ قارون کو غلط مشورے دے کر اس کی دعونت میں اضافہ کا باعث بنتے تھے ۔ لوگوں نے کہا کہ اللہ نے تمہیں اس قدر دولت عطا کی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرو ، اور اس کے راستے میں خرح کرو ۔ یاد رکھو ! ان اللہ لا یحب الفرحین بیشک اللہ تعالیٰ اترانے والوں یعنی تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اللہ کی نعمت پا کر تو خوش ہونا چاہئے نا کہ اکڑ دکھائی چاہئے ، قرآن اور ایمان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ اس کا فضل اور رحمت ہے ۔ فبذلک فلیفرحوا ( یونس : 851) لوگوں کو اس سے خوش ہونا چاہئے۔
آخرت کا گھر
قوم نے کہا اس دنیا کی رنگینوں میں الجھ کر رہ جانے کی بجائے واتبع فیما اتک اللہ الدارالاخرۃ جو چیز اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کرو۔ مال و دولت کو صحیح طریقے پر خرچ کرو گے اور اس انعام پر اللہ کا شکر ادا کرو گے ۔ غرباء و مساکین کا خیال رکھو گے ۔ تمام حقوق ادا کرو گے تو آخرت میں بہتر گھر حاصل ہوگا۔ فرمایا ولا تنس نصیبک من الدنیا اور دنیا سے اپنا حصہ مت بھولو ۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس دنیا میں اتنا مال دیا ہے تو اس سے آخرت کا توشہ بنائو ۔ اس مال سے دنیا میں تمہارا حصہ یہی ہے کہ اس کے ذریع نیکی کمائو اور اطاعت کرو ۔ اس مال کو حرام راستوں میں خرح کرنے کی بجائے شکر گزاری کے مقام میں خرچ کرو ۔ اس کو عیاشی ، فحاشی اور بد معاشی میں مت گنوائو ۔ بلکہ دنیا میں اس سے فائدہ اٹھا کر آخرت کا سامان پیدا کرو۔ تمہارے لیے یہی بہتر ہے۔ اس کے علاوہ قوم نے قارون کو ایک اور نصیحت بھی کی ۔ کہنے لگے واحسن کما احسن اللہ الیک اور تم بھی لوگوں پر اسی طرح احسان کرو ، جس طرح اللہ نے تمہیں مال و دولت دیکر تم پر احسان کیا ہے۔ اس میں سے غرباء و مساکین ، بیوگان ، مسافروں اور قیدیوں کی اعانت کرو ، ضرورت مندوں کو قرض دو تا کہ وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو سکیں ، صدقہ خیرات کرتے رہو ، تا کہ تمہارے مال میں برکت آئے۔
فساد فی الارض
قوم نے یہ بھی کہا ولا تبغ الفساد فی الارض اور زمین میں فساد مت تلاش کرو ۔ فساد سے مراد اخلال بالشرائع ، معاصی کا ارتکاب ، رضا کی قائم کردہ حدو د کو توڑنا اور من مانی کرنا ہے۔ مشرک ، کفر ، بد عت اور رسومات باطلہ کا ادا کرنا ، فساد فی الارض ہے ، اسی طرح مال کو غلط جگہ پر خرچ کرنا ، کھیل تماشے ، لہو و لعب ، شراب نوشی ، بارود بازی ، پتنگ بازی اور شادی بیاہ کی رسومات پر خرچ کرنا بھی فساد ہے۔ موت کی رسومات تیجا ، ساتواں اور چالیسواں وغیرہ کرنا ، قبروں کو پختہ بنابا ، غرباء و مساکین کا خیال نہ کرنا ، صدقہ و خیرات کا غلط طریقہ اختیار کرنا اور لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا بھی فساد فی الارض کا حصہ ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا ولا تفسدو فی الارض بعد اصلاحھا ( الاعراف : 65) زمین میں فساد نہ کرو ، اس کی اصلاح کے بعد ، اصلاح تو نیکی ، اطاعت اور عبادت و ریاضت سے ہوتی ہے ۔ اگر اس کا الٹ ہو رہا ہے تو بظاہر ہے کہ وہ فساد ہے ۔ اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ ان اللہ لا یحب المفسدین بیشک اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ بہر حال قارون کی قوم نے اس کو سمجھایا کہ مال و دولت پر اترائو نہیں بلکہ اس کے ذریعے آخرت کا بہتر گھر تلاوش کرو ، جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے ، اسی طرح تم بھی لوگوں پر احسان کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلائو۔
علم و ہنر پر اعتماد
قوم کی اس نصیحت کے جواب میں قال انما وتیتہ علی علم عندی کہنے لگا یہ سب کچھ مجھے میرے علم کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ میں اہل علم ہوں ، ہنر مند ہوں ، استعداد کا مالک ، میں نے یہ دولت اپنی عقل و حکمت کی وجہ سے کمائی ہے ۔ اس میں کسی کا مجھ پر کیا احسان ہے ؟ دنیا کے اکثر دولت مند اسی قبیل سے ہوتے ہیں ۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی ہے ۔ ہمارے پاس لیبارٹریاں جن میں بڑے بڑے تجربات کر کے نئی نئی چیزیں ایجاد کرتے ہیں اور پھر دولت کماتے ہیں ایسے لوگ اللہ کے فضل کو دخیل نہیں سمجھتے ، بلکہ اپنی عقل ، فن اور مہارت کو آمدنی کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل و فہم اور حکمت و دانائی بھی تو اللہ ہی کی عطا کردہ ہوتی ہے۔ وہ جب چاہے کسی کو دے دے اور جب چاہے واپس لے لے ، لہٰذا ہر اچھائی منجانب اللہ ہوتی ہے اور اسی کی طرف منسوب کرنی چاہئے۔ اللہ کا فرمان ہے مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللہ ِ (النسائ : 97) تمہیں جو بھی بھلائی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے لہٰذا علم و ہنر اور استعداد و قابلیت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنا پرلے درجے کی حماقت ہے ، قارون کے دماغ میں یہی فتور تھا ، لہٰذا اس نے مال و دولت کو اپنی ذاتی استعداد کی طرف منسوب کیا ۔
طاقتور اقوام کی ہلاکت
اللہ نے فرمایا کہ یہ شخص مال و دولت ، قوت اور جتھے پر غورکر رہا ہے حالانکہ اس کو اتنا علم نہیں اولم یعلم ان اللہ قد ھلک من قبلہ من القرون من ھو اشد قوۃ و اکثر جمعا ً کہ اس سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جو ان سے طاقت میں بھی زیادہ تھے اور افرادی قوت کے لحاظ سے بھی زیادہ تھے ، اللہ نے فرمایا کہ قارون تو ایک عام پبلک کا آدمی ہے کسی سلطنت کا مالک بھی نہیں ۔ محض مال و دولت پر اترا رہا ہے ہم نے تو عاد ، ثمود ، قوم نوح ، قوم ابراہیم ، قوم لوط ، کلدانیوں اور مصریوں جیسی بڑی بڑی مہذب قوموں کو نیست و نابود کردیا ۔ بلا شبہ وہ قارون کی نسبت ہر لحاظ سے طاقتور تھے ، سلطنتوں کے مالک تھے ، ان کے پاس فوجیں تھیں ، دنیا کی ہر چیز میسر تھی ، مگر جب انہوں نے سر کشی کی ، غرور وتکبر کیا ، تو ہم نے انہیں صحیفہ ہستی سے ناپید کردیا ۔ فرمایا ولا یسئل عن ذنوبھم المجرمون مجرموں کو ان کے گناہوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر انہیں صفائی کا موقع دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی ۔ اللہ تعالیٰ کو ان کے جرائم کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ سورة الرحمن میں ہے یعرف المجرمون بسیمھم ( آیت : 14) مجرم اپنے چہروں سے ہی پہچانے جاتے ہیں اور پھر انہیں گھسیٹ کر دوزخ میں پھینک دیا جاتا ہے قارون کا بھی یہی حال ہوگا ، مکہ کے مشرکوں کو بھی تنبیہ مقصود ہے کہ وہ بھی مال و دولت اور نفری پر غرور نہ کریں بلکہ حقیقت کو پہچاننے کی کوشش کریں ، ورنہ ان کا انجام بھی قارون اور سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔
Ayahs 28:79–82ربط آیات :
اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم قوم قارون کا ذکر کیا جو سرکش اور مغرور ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال و دولت پر اتراتا تھا ، اس کی قوم کے لوگوں اور خود موسیٰ نے بھی سمجھایا کہ وہ اس مال پر غرور وتکبر کرنے کی بجائے اس کے ذریعے آخرت کا بہتر گھر تلاش کرے۔ نیز یہ کہ مخلوق اسی طرح احسان کرے جس طرح اللہ نے اسے مال و دولت دے کر اس پر احسان کیا ہے ، مگر وہ سخت مغرور تھا ، کہنے لگا مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے۔ یہ دولت تو میں نے اپنے علم و ہنر کی بنا پر کمائی ہے ، مگر اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ اس شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ اس جیسی متکبر قوموں کو ہم نے پہلے ہی ہلاک کیا ہے۔ وہ تو اس سے بھی زیادہ طاقتور تھے اور تعداد میں بھی زیادہ تھے مگر اللہ کے فیصلے کے مقابلے میں ان کا مال و دولت ، جاہ و حشمت ، فوج اور پولیس کچھ کام نہ آئی اور وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہے۔ فرمایا جب اللہ کسی مجرم کو گرفت میں لیتا ہے تو پھر اس سے اس کے جرموں کے متعلق پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ، ان کی ساری کارگزاری اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور وہ ان کے عقیدہ و عمل کے مطابق ان سے سلوک کرتا ہے۔
قارون پر رشک
قارون کی شان و شوکت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا فخرج علی قومہ فی زینہ ایک روز قارون اپنی قوم کے پاس نہایت زیب وزینت اور شان و شوکت کے ساتھ نکلا ۔ شیخ سعدی (رح) نے قارون کے متعلق کہا ہے ؎
قارون ہلاک شد کہ چہل خانہ کنج داشت
نو شیرواں نمرد کہ نام نکو گذاشت
قارون ہلاک ہوگیا ، حالانکہ اس کے پاس سونے سے بھرے ہوئے چالیس مکان تھے اس کے بر خلاف نو شیرواں عادل تھا ، اس کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ تو فرمایا کہ ایک دن قارون بڑی شان کے ساتھ باہر نکلا ، کسی تقریب میں جانا ہوگا ، نہایت فاخرہ لباس پہنچ رکھا تھا۔ سنہری زین والے شہابی رنگ کے خچر یا گھوڑے پر سوار تھا ، نوکر چاکر ، غلام اور لونڈیاں ہمراہ تھے۔ اس کی اس شان و شوکت کو دیکھ کر قال الدین یریدون الحیوۃ الدنیا کہا ان لوگوں نے جو دنیا کی زندگی کے ہی خواہش مند تھے۔ اکثر لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں جو دنیا کی زیب وزینت اور ٹھاٹھ باٹھ پر ہی فریفتہ ہوتے ہیں اور وہ اسی کو اول و آخرسمجھتے ہیں ۔ قارون کو اس حالت میں دیکھ کر ان کے منہ میں بھی پانی بھر آیا اور کہنے لگے یلیت لنا مثل ما اوتی قارون کاش کہ ہمیں بھی وہی کچھ حاصل ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ دیکھو یہ کتنا خوش قسمت آدمی ہے جسے دنیا کی ہر آسائش حاصل ہے۔ کاش ہمیں بھی یہ چیز میسر آئیں ۔ اس زمانے میں بھی لوگوں کا یہی حال ہے ، کسی کی کار ، کوٹھی ، لباس ، عیش و عشرت ، کارخانے ، زمین وغیرہ دیکھ کر ویسی ہی تمنا کرنے لگتے ہیں ، بلکہ اللہ نے فرمایا کہ بعض لوگ تو دنیا پر اس قدر ریجھ جاتے ہیں کہ وہ یوں کہنے لگتے ہیں رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ( ص : 61) اے ہمارے پروردگار ! ہمیں جو کچھ دینا ہے قیامت سے پہلے پہلے اسی دنیا میں دے دے۔ ایسے لوگ لازما ً آخرت کو پس پست ڈال دیتے ہیں ، تو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے بعض لوگوں نے بھی قارون پر رشک کیا اور کہنے لگے انہ لذوحظ عظیم بیشک وہ تو بڑا خوش قسمت آدمی ہے جس کے پاس مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہے۔
اہل علم کا نظریہ
اس کے بر خلاف وقال الذین اوتوا العلم کہا ان لوگوں نے جن کو علم دیا گیا تھا۔ اس علم سے دنیا کے علم سائنس ، ریاضی ، ٹیکنالوجی ، جغرافیہ وغیرہ نہیں بلکہ اس سے انبیاء (علیہم السلام) کا علم مراد ہے جو انہیں وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور یہ علم اللہ تعالیٰ کے دین شریعت اور احکام پر مشتمل ہوتا ہے دنیا کا علم جاننے والے تو آج عیسائی اور یہودی اور دیگر لوگ بہت زیادہ ہیں جو آسمانوں پر کمندیں ڈال رہے ہیں مگر یہ علوم آخرت کے لحاظ سے بےسود ہیں ۔ مفید علم تو وہ ہے جس پر خدا تعالیٰ راضی ہو ، جس کے ذریعے اللہ اور اس کی مخلوق کے حقوق معلوم ہو سکیں اور جس سے دل میں روشنی پیدا ہو ۔ بہر حال اہل علم لوگوں نے کہاویلکم تمہارے لیے خرابی ہے۔ تمام دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ کی تمنا کر رہے ہو حالانکہ یہ سازو سامان بالکل عارضی اور ناپائیدار ہے۔ یاد رکھو ! ثواب اللہ خیر لمن امن وعمل صالحا ً اللہ کا عطا کردہ اجر وثواب بہتر ہے مگر اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور جس نے اچھا عمل کیا ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا کے فانی مال کی تمنا کرنے کی بجائے اللہ کے دائمی انعامات کی خواہش کرے۔ حضور ﷺ نے دعا سکھائی ہے 1 ؎ اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا اے اللہ ہمارا مقصود صرف دنیا کی طلب کو نہ بنا اور نہ ہی ہمارے علم کو صرف دنیا تک محدود رکھ ۔ دنیا کی خواہش تو کافر ، مشرک اور ملحد کرتے ہیں ۔ جب کہ مومنوں کو برزخ اور آخرت کی فکر ہوتی ہے اور وہ اس کی بہتر ی کے طالب ہوتے ہیں ۔ دنیا کی زندگی تو سو پچاس سال میں ختم ہو جائیگی اور یہاں کی ہر چیز یہیں رہ جائے گی ۔ جب کہ آخرت کی زندگی لا محدود اور دائمی ہے۔ لہٰذا اس کی فکر ہونی چاہئے۔ حضرت شعیب علیہ السلا م نے اپنی قوم کو تجارتی بد دیانتی سے منع
1 ؎۔ ترمذی ص 405 ( فیاض)
کرتے ہوئے فرمایا ، کسی کا حق غضب نہ کرو اور جو حقوق قابل ادائیگی ہیں ۔ ان کو ادا کرنے کے بعد بَقِیَّتُ اللہ ِ خَیْرٌ لَّـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَج وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ (ھود : 68) جو کچھ تمہارے پاس بچ رہے۔ وہی تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم ایمان والے ہو ، مطلب یہ ہے کہ حلال روزی میں اللہ تعالیٰ برکت ڈالتا ہے جب کہ ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ مال ناجائز اور حرام کاموں میں ہی صرف ہوتا ہے۔ مال حرام بود بجائے حرام رفت کے مصداق عامہ مال حرام راستے ہی حرچ ہوتا ہے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے اہل علم لوگوں نے قارون پر رشک کرنے والوں کو سمجھایا کہ تم قارون کی طرح دنیا کے طالب بن رہے ہو ۔ تمہارا یہ سودا اچھا نہیں ہے بلکہ اہل ایمان اور اعمال صریح انجام دینے والوں کو جو کچھ اللہ کے ہاں ملنے والا ہے۔ وہ بہتر ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ولا یلقھا لا الصبرون اور یہ سعادت تو صرف صبر کرنے والوں کو ہی حاصل ہوتی ہے اہل ایمان دنیا میں مشکلات کو برداشت کرتے ہیں ۔ ایمان اور نیکی کی دولت کماتے ہیں ، وہ دنیا کی آرزو نہیں کرتے ، طعن وتشنیع اور بھوک پیاس کو برداشت کرتے ہیں ۔ عبادت و ریاضت میں مشقت اٹھانے میں مال ہے تو اس کو صحیح مقام میں خرچ کرتے ہیں ، لہٰذا وہ اللہ کے بےپائیاں انعامات کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
قارون کی ہلاکت
مفسرین کرام 1 ؎ یہاں کرتے ہیں کہ قارون کی ہلاکت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ایک سازش کرنے کے نتیجے میں ہوتی ۔ ایک موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے تعزیری احکام بیان کر رہے تھے کہ جس نے چوری کی اس کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں گے اور جس نے زنا کا ارتکاب کیا اس کو درے مارے جائیں گے یا سنگسار کردیا جائے گا ۔ قارون کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مل کر ایک سازش تیار کر رکھی تھی ۔ ایک فاحشہ عورت کو سونے کا تھال بھر کر اس مقصد کے لیے دیا تھا کہ وہ جمع عام میں موسیٰ (علیہ السلام) پر بدکاری کی تہمت لگائے چناچہ اس موقع اس عورت کو بلایا گیا ۔ بہت سے لوگ جمع تھے جنہیں موسیٰ (علیہ السلام)
1 ؎۔ طبری ص 611 تا 811 (فیاض)
وعظ کر رہے تھے ۔ عین اس وقت قارون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ کیا یہ مجرم کی یہی سزا ہے ؟ آپ نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر قارون نے مزید پوچھا کہ اگر آپ بھی نعوذ باللہ زناکے مرتکب ہوں تو کیا آپ کو بھی یہی سزا دی جائے گی ۔ آپ نے پھر تصدیق کی ۔ اتنے میں اس فاحشہ عورت کا اشارہ کیا گیا جس نے عام مجلس کے دوران موسیٰ (علیہ السلام) پر بدکاری کا الزام لگا دیا اس اچانک حملے سے موسیٰ (علیہ السلام) سخت پریشان ہوگئے مگر اللہ نے آپ کو ہمت عطا فرمائی آپ نے اس عورت کو قریب بلایا اور فرمایا تجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھ پر تورات نازل فرمائی ہے جس نے بحر قلزم میں بنی اسرائیل کیلئے راستے بنادیئے اور جس نے فرعون کو غرق کیا ۔ سچ سچ بتائو کہ تم نے یہ الزام کیوں لگایا ہے ، وہ عورت گھبرا کر حق لینے پر مجبورہو گئی کہ قارون اور اس کے ساتھیوں نے روپے پیسے دے کر اس سے یہ الزام لگوایا ہے ۔ جب حقیقت واضح ہوگئی تو موسیٰ (علیہ السلام) منبر سے نیچے اتر آئے اور نہایت گریہ درازی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کی پروردگار یہ لوگ حد سے گزر گئے ہیں ۔ اب تو ہی ان سے انتقام لے ، چناچہ اسی مجلس میں اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب کا حکم آ گیا کہ ان ناہنجاروں کو ابھی زمین نگل لے گی ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اعلان کیا کہ جو شخص قارون کی اس کمینہ حرکت کو ناپسند کرتا ہے وہ اس سے الگ ہو کر ہمارے ساتھ شامل ہوجائے کیونکہ اب اس پر خدا کا عذاب نازل ہونے والا ہے ، چناچہ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت نے قارون سے علیحدگی اختیار کرلی اور اس کے ساتھ چند افرادرہ گئے جو اس کے گھر والے یا دیگر حامی تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے قارون کے مکانات جن میں مال و دولت جمع کر رکھا تھا۔ زمین میں دھنسنے لگے ، اس کے ساتھ قارون اور اس کے حامی بھی زمین میں دھنسا دیئے گئے۔ قارون کے علاوہ یہ سزا بعض دوسرے لوگوں کو بھی ملی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ پہلی امتوں میں سے ایک شخص دو دیدہ زیب چادریں اوڑھ کر اکڑ کر جارہا تھا۔ ایک چادر تہہ بند کے طور پر باندھ رکھ ہوگی اور دوسری اوپر اوڑھی ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسکے غرور وتکبر کی بناء پر اللہ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک دھنستا ہی چلا جائے گا ۔ حتیٰ کہ قیامت کے دن کہیں اس کا قدم جا کر ٹکے گا ۔
قارون کی ہلاکت
اگلی آیت میں اللہ نے قارون کی ہلاکت کا حال بیان کیا ہے۔ فخسفنابہ وبدارہ الارض پھر دھنسا دیا ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں ، مطلب یہ کہ جن مکانات میں اس نے خزانے جمع کر رکھے تھے ۔ قارون کے ساتھ وہ بھی زمین میں دھنسا دیئے گئے اور اس طرح نہ وہ خود باقی رہا اور نہ اس کا مال و دولت ۔ اللہ نے خزانوں کو بھی زمین میں غر ق کردیا تا کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کی ہلاکت کے بعد قارون کے خزانوں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ، حالانکہ یہ تو اس کی اپنی غلط کارروائی کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے اسے عبرت ناک سزا دی ۔ فرمایا اس کی حالت یہ تھی فما کان لہ من فئۃ ینصرونہ من دون اللہ اللہ کے سوا کوئی گروہ اس کی مدد کرنے والا نہیں تھا۔ وما کان من المنتصرین اور نہ وہ کسی سے انتقام لینے کی طاقت رکھتا تھا۔ وہ کف افسوس ملتا ہوا زمین میں دھنس گیا ۔ دنیا میں خسف کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ۔ اخبار میں میں نے 9491ء کا واقعہ پڑھا تھا۔ فیروز پور کے کسی علاقے میں سکولی بچے سکو ل میں پڑھ رہے تھے کہ اچانک پوری کی پوری عمارت زمین میں دھنس گئی ۔ جب جاپان میں زلزلہ آیا تھا تو زمین میں ہزار ہزار میل لمبی دراڑیں پڑگئی تھیں ۔ اس زلزلے میں ڈیڑھ لاکھ انسان لقمہ اجل بنے اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔ امریکہ میں شہاب گرنے سے ایک بستی کے تین چار سو آدمی جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بہر حال اس قسم کی سزا بعض اوقات ملا کرتی ہے اور قارون بھی اسی طرح کی گرفت میں آیا۔
رشک کرنے والوں کا اعتراف حقیقت
فرمایا جب لوگوں نے قارون اور اس کے خزانوں کو اس طرح ہلاک ہوتے دیکھا واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس تو کل تک جو لوگ قارون کے مرتبے کی تمنا کرتے تھے یقولون و یکان اللہ یبسصر الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدر وہ کہنے لگے تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے روزی وسیع کردیتا ہے ، اور جس کی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، اس کی مصلحت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، مخلوق اس سلسلے میں بالکل عاجز ہے ، یہ اللہ کی حکمت ہے کہ بعض اوقات وہ بد ترین قسم کے نافرمانوں کے لیے بھی رزق کے دروازے کھول دیتا ہے ، وہ سونے چاندی میں کھیلتے ہیں ۔ جب کہ بعض نہایت ہی صالح آدمی تنگی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ان رشک کرنے والوں نے مزید کہا لولا ان من اللہ علینا لخسف بنا اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا اب ان لوگوں نے حقیقت کو پہچانا ، کہنے لگے کہ کل تک تو ہم قارون کی شان و شوکت کی تمنا کر رہے تھے مگر اس کا مال و دولت تو اس کے لیے قہر الٰہی کا سبب بن گیا ، اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ہم اس سزا سے بچ گئے ۔ ان لوگوں نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ویگانہ لا یفلح الکفرون کہنے لگے تعجب ہے یعنی حسرت اور افسوس کا مقام ہے کہ کافر لوگ کبھی فلاح نہیں پائیں گے ، اگر وہ آج بظاہرکامیاب نظر آتے ہیں تو کل جہنم کے کندہ ناتراش بننے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کفر و شرک سے محفوظ رکھے ۔ انسان کو توبہ کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔