Ayahs 28:83–85ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے قارون کے تکبر ، غرور ، دولت مندی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسائی کا ذکر کیا اور پھر اس کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور ایسے وقت میں اس کی دولت ، دوست احباب کچھ بھی کام نہ آئے۔ جو لوگ قارون کی شان و شوکت پر رشک کرتے تھے ان کو بھی ندامت اٹھانا پڑی ۔ اس کی تباہی کو دیکھ کر ان لوگوں کو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے رزق کے دروازے کشادہ کر دے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردے۔ دولت کی فراوانی نیکی کی علامت نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ، ان لوگوں نے تسلیم کیا کہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا جو ہماری تمنا کے باوجود ہمیں قارون کا ہم پلہ نہیں بنایا ورنہ ہم بھی اس کے ساتھ ہی زمین میں دھنس جاتے اور ہمارا کوئی پرسان حال نہ ہوتا ۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کافر لوگ کبھی فلاح نہیں پا سکتے ، ان کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔
…جنت
آج کی پہلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا ذکر کیا ہے جو انسان کے جنت کے جانے کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں ۔ ان میں سے ایک غرور ہے اور دوسرا فساد ، گزشتہ رکوع میں بھی دارالآخرت کا ذکر آ چکا ہے کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا کہ اللہ نے جو مال و دولت تمہیں عطا کیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو اور لوگوں پر احسان کرو جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے۔ اب اس آیت میں بھی دارآلاخرت کا ذکر اس حوالے سے کیا گیا کہ یہ ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو غرور اور فساد سے پرہیز کرتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے تلک الدار ا الاخرۃ آخرت کا گھر وہ ہے کہ نجعلھا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فسادا ہم بناتے ہیں اس کو ان لوگوں کے لیے جو نہیں چاہئے زمین میں بڑائی اور نہ فساد کرتے ہیں ۔ گویا آخرت کے گھر کے حصو ل میں دو چیزیں برائی یعنی غرور وتکبر اور فساد مانع ہیں۔
غرور اور تکبر
تکبر روحانی بیماریوں میں سے سب سے بڑی بیماری ہے۔ تکبر ہی کی وجہ سے ابلیس راندہ درگاہ ٹھہرا ۔ اللہ نے فرمایا ۔ ابی واستکبر وکان من الکفرین ( البقرہ : 43) اس نے حکم خداوندی کا انکار کیا اور تکبر کیا جس کی وجہ سے وہ کافروں میں شمار ہوگیا ۔ دوسرے کو اپنے سے کم تر اور حقیر سمجھنا تکبر کی علامت ہے ۔ اس قسم کا تکبر عام لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ کوئی شخص دوسرے کو علم کے اعتبار سے حقیرسمجھتا ہے ، کوئی خاندان ، برادری اور جتھے کے اعتبار سے ، کوئی دولت اور قوت کی بناء پر دوسرے کو حقیر جانتا ہے۔ یہ بڑی قبیح چیز ہے اور آخرت کے گھرکے راستے میں رکاوٹ ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لا یفخر بعضکم علی بعض ولا یبغی بعضکم علی بعض کوئی شخص دوسرے کے مقابلے میں فخر نہ کرے اور نہ کوئی ایک دوسرے پر سر کشی کرے۔ اس کی بجائے تو اضع اور انکساری کو اختیار کرنا چاہئے۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ تکبر ایسی قبیح بیماری ہے کہ انسانی جسم سے اس کو نکالنا بہت مشکل ہوا ہے ایک پہاڑ کو سوئی کے ذریعے اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے مگر تکبر کو انسان سے نکالنا مشکل ہے۔ اسی لیے تکبر کی بیماری سب سے آخر میں نکلتی ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جس آدمی کی جان اس کے جسم سے اس حالت میں جدا ہو کہ وہ شخص تکبر ، خیانت اور غلول سے پاک ہو تو ایسا شخص جنت میں داخل ہوگا ، ایک روایت میں دین یعنی قرضہ کا ذکر بھی آتا کہ اس سے بھی پاک ہونا ضروی ہے۔ یہ حقوق العباد کا حصہ ہے اور جب تک صاحب حق معاف نہ کرے ، اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں ہے۔ کسی کی حق تلفی خیانت ہے جس کے متعلق اللہ کا فرمان ہے ان اللہ لا یحب الخائنین ( الانفال : 85) وہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ خائن اللہ کی نگاہ میں مبغوض ہوتے ہیں۔
فساد فی الارض
دوسری مانع جنت چیز فساد فی الارض ہے ۔ فساد کا عام فہم معنی تو قتل و غارت مار دھاڑ اور ظلم و زیادتی وغیرہ ہوتا ہے۔ تا ہم قانون خداوندی کی خلاف ورزی ، کفر شرک اور معاصی کا ارتکاب بھی فساد فی الارض میں داخل ہے ۔ ابھی پچھلے رکوع میں گزرا ہے کہ قارون کی قوم نے اس سے کہا لا تبع الفساد فی الارض ان اللہ لا یحب المفسدین زمین میں فساد نہ تلاش کرو اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا سورة الاعراف میں واضح طور پر فسادفی الارض سے منع کیا گیا ہے۔ وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا ( آیت : 65) نہ فساد کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد ، بہر حال جب تک قوانین الٰہیہ پر عمل ہوتا رہے گا ۔ لوگوں کو امن حاصل ہوگا ۔ جب شرک کفر اور معاصی کا ارتکاب ہوگا ۔ تو بدامنی اور شر و فساد پیدا ہوگا ۔ بدعات اور خلاف سنت امور بھی فساد کا باعث ہوتے ہیں ، لہٰذا ایسی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔
حسد
غرور وتکبر اور فساد فی الارض کے علاوہ حسد کی بیماری بھی عام لوگوں میں پائی جاتی ہے ۔ بعض بزرگوں کا قول ہے ما خلا جسدا عن حسد یعنی کو فی انسانی جسم حسد سے خالی نہیں ہوتا ۔ اسی لیے حاسد کے حسد سے پناہ مانگی گئی ہے ومن شر حاسد اذا حسد ( الفلق : 5) ابو دائود شریف کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ لوگو ! حسد سے بچتے رہو فان الحسد یا کل الحسنت کما تا کل النار الحطب کیونکہ حسد آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے۔ جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ بہر حال فرمایا کہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے جو تکبر اور فسادفی الارض سے اجتناب کرتے ہیں ۔ والعاقبۃ للمتقین اور اچھا انجام متقیوں کا ہی ہوگا ۔ تقویٰ کا معنی اور محافظت بر حدود شرع ، یعنی شریعت کی حدود کی حفاظت کرنا ہے۔ جو شخص حدود شریعت کو قائم رکھے گا ۔ وہ کامیاب ہوگا ۔ متقی پر آزمائش تو آئیں گی لیکن بالآخر وہ خدا کی رحمت کے مقام میں پہنچ جائیگا ۔ اس کے بر خلاف تکبر اور فساد کرنے والے محروم رہ جائیں گے۔
نیکی اور برائی کا بدلہ
آگے ارشاد ہوتا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا
1 ؎۔ کنز العمال ص 362 ج 3 بحوالہ ابن مردویہ و بیہقی در منثور ص 914 ج 6 و ص 024 (فیاض)
جو شخص نیکی لے کر آیا ، اللہ کے ہاں اس کے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امتالھا (الانعام : 161) یعنی نیکی کا کم از کم بدلہ دس گنا ہے اور زیادہ کوئی حد نہیں ، یہ بدلہ سات سو گنا یا سات لاکھ گنا سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے انسان کا خلوص جس قدر بڑھتا جائیگا ، اسی قدر اللہ کے ہاں اجر وثواب میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا ، حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا ہوا کھجور کا ایک دانہ اجر وثواب میں احد پہاڑ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کا عمل تو ایک محدود وقت کے لیے ہوتا ، مگر اس کا اجر وثواب چونکہ دائمی ہوتا ہے ، لہٰذا وہ عمل سے بہر صورت بہترہ وتا ہے۔ فرمایا ومن جاء بالسیئۃ فلا یجزی الذین عملا السیات الاما کانوا نعملو اور جو کوئی برائی لے کر آیا ، تو برائی کا ارتکاب کرنے والوں کا بدلہ ان کی برائی کے برابر ہی ہوگا ۔ اس سے زیادہ نہیں ہوگا ۔ شاہ عبد القادر دہلوی (رح) لکھتے 1 ؎ ہیں کہ اللہ نے نیکی کیلئے بہتر اجر کا وعدہ کیا ہے ، لہٰذا وہ تو ہر صورت ملنا ہے مگر برائی کے اجر کے لیے وعدہ نہیں فرمایا ، لہٰذا ممکن ہے کہ وہ معاف ہی ہوجائے ، ہاں اگر کسی کو سزا ملے گی تو اتنی ہی جتنی اس نے برائی کی ہوگی ، اس سے زیادہ نہیں۔
واپس لوٹانے کا اعلان
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بہتر مستقبل کی پیش گوئی کر کے تسلی دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان الذی فرض علیک لقرن وہ ذات جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے لرادک الی معاد وہ آپ کو لوٹائے گا ۔ لوٹانے کی جگہ کی طرف ، لوٹانے کی جگہ سے متعلق مفسرین 2 ؎ کرام دو قسم کی تفسیریں بیان کرتے ہیں ۔ معاد سے ایک مراد تو قیامت والے دن لوٹانے کی جگہ ہے کہ آپ اس دن بلند ترین مقام پر فائز ہوں گے ، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں آتا ہے ۔ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ( آیت : 97) امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز فرمائے گا ۔ جہاں آپ سجدہ ریز ہونگے۔
1 ؎۔ موضح القران ص 374 ۔ 2 ؎۔ ابن کثیر ص 304 ج 3 و طبری ص 431 ج 03 ( فیاض)
اور پھر اذن الٰہی سے شفاعت کبریٰ اور شفاعت صغریٰ کریں گے ۔ مطلب یہ کہ اگر اس لوٹانے سے قیامت کا لوٹانا مراد ہے تو وہاں بھی آپ کو نہایت ہی عزت و احترام والے مقام میں لوٹایا جائے گا ۔ معاد کا دوسرا معنی مفسرین کرام یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کا ارشاد آپ کو مکہ مکرمہ میں واپس لوٹانے کی طرف ہے ، چناچہ بعض مفسرین 2 ؎ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضور ﷺ کی ہجرت الی المدینہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی ۔ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ، وہیں جوان ہوئے ، نبوت بھی اسی مقام میں ملی مگر مشرکین مکہ نے آپ پر عرصہ حیات تنگ کردیا اور آپ کو ہجرت پر مجبور کردیا ۔ چناچہ آپ غار ثور سے نکل کر ایک غیر معروف راستے پر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ، پھر جب آپ حجفہ کے مقام پر پہنچے تو مدینہ کے لیے سیدھا راستہ اختیار کیا ۔ اسی دوران آپ خذورۃ نامی پہاڑ پر چڑھے اور حرم شریف کی طرف دیکھ کر آپ کا دل بھر آیا ، اور نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ فرمایا کہ اگر مکہ والے مجھے مجبور نہ کرتے تو اللہ کے گھر کا پڑوس چھوڑ کر نہ جاتا ، گویا مکہ کی جدائی حضور ﷺ کے لیے سخت اضطراب کا باعث بنی ۔ مفسرین فرماتے ہیں 3 ؎ کہ اس حالت میں اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر حضور ﷺ کو تسلی دی کہ جس خدا تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا وہ ضرور آپ کو مکہ کی طرف دوبارہ لوٹائے گا ۔ مطلب یہ کہ اب تو آپ مجبور مکہ مکرمہ سے خصت ہو رہے ہیں مگر ایک وقت آئے گا ۔ جب آپ فاتحانہ انداز میں ذہانت عزت و احترام کے ساتھ اس شہر میں واپس آئیں گے۔ اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور ہجرت کے آٹھ سال کے بعد آپ دس ہزار قدسیوں کی جماعت کے ساتھ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے مگر کسی نے رحمت نہ کی ۔ قرآن فرض کرنے سے مراد قرآن کا نزول ہے ۔ اس کے علاوہ پاک کی تلاوت بھی اس ضمن میں آتی ہے جیسے فرمایا اتل ما وحی الیک من الکتب ( العنکبوت : 54) آپ کے پاس جو کتاب نازل کی گئی ہے۔ آپ اس کی
1 ؎۔ ابن کثیر ص 204 ج 3 ۔ 2 ؎۔ ابن کثیر ص 304 ج 3 وقرطبی ص 123 ج 31 ۔ 3 ؎۔ بیضاوی ص 023 ج 2 (فیاض)
تلاوت کریں ۔ اس کے بعد کتاب اللہ کی تعلیم و حکمت ، اس پر عملدرآمد اور تزکیہ نفس وغیرہ سب فرض کے حکم میں داخل ہے۔ تو فرمایا کہ جس خدا نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے ۔ وہ ضرور آپ کو لوٹائے کے مقام پر لوٹائے گا ، لہٰذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ تسلی رکھیں ، سورة الضحیٰ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا۔ وللاخرۃ خیر لک من الاولی (آیت : 4) آپ کا آخری دور پہلے دور کی نسبت لازماً بہتر ہوگا ۔ اللہ نے اپنا وعدہ بھی پورا فرمایا اور اسلام کو غلبہ عطا کیا ۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ربی اعلم من جاء بالھدی میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس شخص کو جو ہدایت لے کر آیا ہے۔ ومن ھو فی ضلل مبین اور اس کو بھی جانتا ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی نیت ، ارادے اور اعمال سے واقف ہے اور اسی کے مطابق ہر ایک کو بدلہ دیگا ، پہلے نیکی اور برائی کا ذکر کر کے جزائے عمل کو بیان کیا ، اب ہدایت اور گمراہی کی رو سے بدلے کا ذکر کیا ہے کہ ہر ایک کو اس کے کیے کا پھل ملے گا ۔
Ayahs 28:86–88ربط آیات
سورۃ القصص میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے علاوہ بہت سی نصیحت کی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ اس میں کفر کی مذمت اور غرور وتکبر کی قباحت ذکر ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ بلا شبہ مشرکین آپ کی طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے ہیں مگر آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ انہیں زندگی بھر کن کن مشکل حالات سے گزرنا پڑا ۔ ان کا واسطہ بھی بڑے سرکش اور متکبر لوگوں کے ساتھ تھا ، آپ کے مخالفین بھی بڑے نا ہنجار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مغروروں میں فرعون اور ہامان تھا۔ جب کہ حاسدوں میں قارون تھا اسی طرح آپ کے بھی بڑی بڑے معتبر وظن اور حاسدین ہیں ۔ آپ دل برداشتہ نہ ہوں ، بلکہ حالات کا مقابلہ خندہ پیشانی سے کریں ، بالآخرکامیابی آپ ہی کے حصے میں آئیگی۔
نبوت عطیہ خداوندی ہے
آج کے درس میں سب سے پہلے نبوت و رسالت اور وحی الٰہی کو وہبی چیز قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ نبوت کسی کی خواہش یا محنت کی بدولت حاصل نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے جو اپنے فضل و رحمت سے جس کو چاہے اس منصب کے لیے چن لیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وما کنت ترجوان یلقی الیک الکتب اور آپ نہیں امید رکھتے تھے کہ آپ کی طرف کتاب نازل کی جائیگی ۔ اللہ نے حضور ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ آپ کو کتاب عطا ہونے یعنی نبوت ملنے کی کوئی امید یا توقع نہیں تھی الا رحمۃ من ربک بلکہ یہ تو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر خاص رحمت ہے اس نے اپنے فضل سے نبوت کا تاج آپ کے سر پر رکھا۔ مطلب یہ کہ عطا نے نبوت میں کسی عبادت و ریاضت یا کسی دوسری محنت کا کوئی دخل نہیں ہوتا کہ کوئی یہ امید کرنے لگے کہ اب مجھے نبوت ملنے والی ہے۔ یہ تو خالصتا ً عطیہ خداوندی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی استعداد اور خلوص کو جانتا ہے جس کی بناء پر وہ نبوت و رسالت کے لیے انتخاب کرتا ہے کسی نبی کو نبوت عطا ہونے سے پہلے کوئی توقع یا امید نہیں تھی کہ اسے اس منصب جلیل پر فائز کیا جا رہا ہے۔ خود حضور ﷺ پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ سخت خوفزدہ ہوئے اور لزرتے کانپتے گھر تشریف لائے۔ حضرت خدیجہ ؓ کو سارا واقعہ سنایا جنہوں نے آپ کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہلاک نہیں کرے گا ۔ آپ تو صلہ رحمی کرنے والے اور دوسروں کے کام آنے والے ہیں ، ہاں اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ قبل از نبوت بھی کسی نبی سے کوئی گناہ نہیں سر زد ہونے دیتا بلکہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس ضمن میں قادیانیوں نے نہایت ہی غلط عقیدہ وضع کر رکھا ہے۔ مرزا غلام احمد کے بیٹے مرزا محمود نے لکھا ہے کہ کوئی شخص عبادت و ریاضت کرتے کرتے نبی کا درجہ پا سکتا ہے۔ بلکہ نبی سے آگے بھی بڑھ سکتا ہے ( نعوذ باللہ) قادیانیوں کے لٹریچر میں اس قسم کی کفر یہ باتیں موجود ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی ایسی چیزوں کو پڑھ کر واہ واہ کرتے ہیں ۔ دنیا کا اقتدار ، ملازمت ، حکومت ، وزارت ، ممبری وغیرہ کے لیے تو انسان امیدوار بنتا ہے ، پھر محنت کرتا ہے انتخاب لڑتا ہے ، خرچ کرتا ہے ، تب کہیں جا کر اسے ممبری کی امید ہوتی ہے پھر وہ وزیر بنتا ہے۔ وزیراعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہوتا ہے یا وزیراعظم اور صدر بن جاتا ہے۔ اسی طرح عام ملازمت کا بھی یہی حال ہے ۔ انسان کسی معمولی عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ اور پھر اپنی محنت اور قابلیت کی بناء پر اعلیٰ عہدے تک ترقی کرجاتا ہے ، مگر نبوت کے لیے ایسا کوئی قانون نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہوتی ہے۔ نبی کو اپنی نبوت کا اس وقت علم ہوتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ اس پر وحی نازل فرما کر اسے آگاہ کرتا ہے ، تو یہاں بھی فرمایا کہ آپ کو امید نہیں تھی کہ آپ کو نبوت عطا ہو رہی ہے اور آپ پر یہ کتاب نازل ہونے والی ہے بلکہ یہ تو آپ کے پروردگار کی طرف سے خاص رحمت تھی کہ اس نے آپ کو اس منصب کے لیے منتخب فرمایا اور تمام انبیاء میں آپ کو بلند ترین مقام عطا فرمایا ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (الاحزاب : 04) آپ کو رسول بنایا اور نبیوں کا خاتم بھی بنا دیا ۔ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہوگیا ۔ اللہ نے فرمایا ہے تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ (البقرہ : 352) ہم نے رسولوں میں سے بعض کو بعض پر فضلیت بخشی ورفع بعضھم درجت ( البقرہ : 352) اور حضور ﷺ کو سب سے اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔
کفار سے عدم تعاون
فرمایا کہ جب اللہ نے آپ پر اس قدر احسان فرمایا ہے فلا تکونن ظھیر اً للکفرین پس نہ ہوں آپ کافروں کے مدد گار اور پشت پناہ یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکی ہے۔ جب ان کے ہاتھوں غیر ارادی طور پر ایک قبطی قتل ہوگیا تو وہ اس فعل پر نادم ہونے اور اسے شیطان کا عمل قرار دیا ۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اللہ نے ان کو معاف بھی کردیا اس پر موقع پر موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا ۔ قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ (القصص : 71) پروردگار ! اس وجہ سے کہ تو نے مجھ پر اس قدر احسان کیا ہے تو میں کبھی بھی مجرموں کا مدد گار یا پشت پناہ نہیں بنوں گا ۔ بل کے ہمیشہ حق پرستوں کا ساتھ دوں گا ۔ شاہ عبد القادر (رح) یہاں پر ایک اور لطیف بات بھی ذکر کرتے ہیں ۔ آپ اس آیت کا مفہوم اس طرح بیان کرتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کو اپنا نہ سمجھیں کہ انہوں نے آپ کو ہجرت پر مجبور کردیا ۔ اب آپ کا وہی اپنا ہے جو ایمان در توحید کو تسلیم کر کے آپ کا ساتھ دیگا ۔ اللہ نے عام مومنوں کے لیے بھی یہی اصول بیان فرمایا ہے۔ وَ لَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ (ہود : 311) اے ایمان والو ! ظالموں کی طرف مت جھکو۔ اگر ایسا کرو گے تو ان کی طرح تمہیں بھی جہنم چھوئے گی ، لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ کسی کافر ، مشرک یا مجرم کا ساتھ نہ دے اور نہ ہی ان کا مدد گار یا پشت پناہ بنے۔ اللہ نے ایک عام اصول یہ بھی بتلا دیا ہے۔ وتعادنوا علی البر وانتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ( المائدہ : 3) نیکی اور تقویٰ کے کام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور تعدی کے معاملے میں تعاون نہ کرو ، کوئی امیر ہو ، وزیر ہو ، صدر ہو یا بادشاہ ظلم و زیادتی میں کسی کے ممدو معاون نہ ہو ، اگر کفر ، شرک ، اتحاد اور بےدینی میں تعاون کرو گے ، تو جہنم کے مستحق ٹھہروگے۔
مداہنیت سے پرہیز
دوسری بات اللہ نے اپنے نبی کو یہ فرمائی ولا یصدنک عن ایت اللہ بعد دد نزئت انیک کہ کافر لوگ آپ کو آیات الٰہی کے نزول کے بعد ان سے روک نہ دیں ۔ مطلب یہ کہ آپ کافروں سے کوئی ایسا معاہدہ نہ کرلیں جو تبلیغ حق کے راستے میں رکاوٹ بن جائے ۔ مثلاً سورة القلم میں ہے وَدُّوْا لَوْتُدْھِنُ فَیُدْھِنُوْنَ ( آیت : 9) کافر لوگ چاہتے ہیں کہ آپ اپنے مشن میں کچھ ڈھیلے پڑجائیں تو وہ بھی مخالفت میں کمی کردیں گے۔ فرمایا دین کے معاملے میں اس قسم کی سودے بازی درست نہیں ۔ دین کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ اس کو مداہنت کہا جاتا ہے کہ کسی لالچ یا دبائو میں آ کر مشن کر ترک کردیا جائے یا نرمی پیدا کردی جائے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کافر لوگ آپ کو دین کی تبلیغ ، توحید کی شاعت یا کفر کی مذمت بیان کرنے کے معاملہ میں سودا بازی کریں کہ تم ان کو چھوڑ دو تو ہمیں تمہیں فلاح فلاں رعایت دے دیں گے ۔ اللہ نے فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ آپ اپنے مسلک پر قائم رہیں اور تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں۔
دعوت الی اللہ
فرمایا اپنے دین پر استقامت اختیار کرتے ہوئے وادع الی ربک لوگوں کو اپنے پروردگار کی طرف دعوت دیں کہ آئو اللہ کی توحید ، اس کے دین اور اس کی شریعت کو مانو ، اس کی کتاب پر ایمان لائو ، فرشتوں اور قیامت کے دن کو تسلیم کرو۔ ولا تکنن من المشرکین اور آپ شرک کرنے والوں میں نہ ہوں ، شرکیہ رسوم میں شریک ہونا یا دل سے ان کو اچھا سمجھنا انہی کے ساتھ شامل ہونے والی بات ہے ۔ مومن کا فرض ہے کہ وہ کفر ، شرک اور بدعات سے نفرت کرے ، اگرچہ یہ خطاب حضور خاتم النبیین ﷺ کو ہے مگر پوری نوع انسانی کو سمجھانا مقصود ہے کہ کسی طرح بھی شرک میں ملوث نہ ہوں کہ اللہ نے اس گناہ کی عدم معافی کا بار بار اعلان کیا ہے۔ فرمایا ولا تدع مع اللہ الھا ً اخر اور نہ پکاریں آپ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو اپنی حاجتوں میں غیر اللہ کو پکارنا اس کی عبادت کرنے کے مترادف ہے خواہ وہ فرشتہ ہو ، جن ہو ، پیغمبر ہو یا کوئی ولی ہو ۔ مافوق الاسباب کسی غیر اللہ کو پکارنا اسے الٰہ تصویر کرنا ہے۔ اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ عالم اسباب میں تو ایک دوسرے کو آواز دے کر اس کی حتیٰ الامکان مدد بھی حاصل کرسکتے ہیں مگر جہاں ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں ۔ وہاں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہی پکارنا روا ہے ، اگر کسی دوسری ذات کو پکارے گا تو مشرک بن جائے گا ، اللہ تعالیٰ ہی ہر مقام پر حاضر و ناظر ہے ، ہر چیز پر اسی کا تسفہ ہے ، وہی ہر آیات کی پکار کو سنتا ہے اور اسکی حاجت براری ہوتا ہے۔ لہٰذا پکارنا بھی صرف اسی کو چاہیے سورة الاعراف میں فرمایا وادعوہ مخلصین لہ الدین (آیت : 93) اسی کو پارو اس حال میں کہ اسی کی اطاعت کرنے والے ہو ۔ غیر اللہ کو پکارنا بھی منع ہے اور عبادت کرنا بھی منع ہے۔ عبادت کرنا انتہائی درجے کی تعظیم کا نام ہے جو کہ صرف خدا تعالیٰ کے لیے روا ہے۔ یہ تعظیم اگر جسم کے ساتھ ہو تو غیر اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا ۔ رکوع کرنا یعنی جھکنا یا سجدہ کرنا عبادت میں شمار ہوگا ۔ اسی طرح مالی عبادت میں غیر اللہ کی خوشنودی کے لیے قربانی فرما دیاصدقہ ہے……امر کی منت ماننا ، مال صرف کرنا ، سب عبادت میں شامل ہے۔ اگر کوئی اللہ کے و کسی دوست سے نفع نقصان کی امید رکھے گا ۔ تو وہ بھی مشرک سے کم قلبی عبادت …کی دمکتی ہے۔ اللہ کے سوا دل میں کسی دوسرے کا خوف تھا نا کہ فلاں ہمیں نقصان پہنچا نے پر قادر ہے۔ اسی طرح ماسوی اللہ کسی پر بھروسہ رکھنا بھی رواہ نہیں ۔ تو کل بھی اللہ کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَعَلَی اللہ ِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (آل عمران : 221) اگر صاحب ایمان ہو تو اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھو کہ سارا کنٹرول اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ لا الہ الا ھو اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا اس کے سوا کسی کو مت پکارو۔
ہر چیز ………
آگے اللہ نے اس چند روزہ زندگی کی بےثباتی کا ذکر فرمایا ہے کل شی ھالک الا وجھہ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وجہ کا لفظی معنی تو چہرہ ہوتا ہے مگر اس سے ذات ہی مراد لی جاتی ہے۔ …… اور بعض دوسرے مفسرین میں فرماتے ہیں ۔ وجھہ
1 ؎۔ بیضاوی ص 302 ج 2 و تفسیر کبیر ص 22 ج 52 ( فیاض)
سے اللہ کی ذات مراد ہے ہرچیز فانی ہے ، یا تو وہ بالفعل فنا ہے یا آگے چل کر فنا ہونے والی ہے ، اللہ کے سوا کوئی ذات اور کوئی چیز دائمی نہیں ہے ۔ ازلی اور ابدی ذات صرف ذات خداوندی ہے۔ جو حی اور قیوم ہے اور جس پر کبھی فنا نہیں ، فرشتوں کو اللہ نے انسانوں کی تخلیق سے کھربوں سال پہلے پیدا کیا ، مگر ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب اللہ کے مقرب ترین فرشتوں جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل اور عزارئیل پر بھی موت طاری ہو جائیگی ۔ اللہ کی ذات کے سوا کوئی چیز زندہ نہیں رہے گی۔ حضور ﷺ کے زمانے میں حضرت لبید ؓ بہت بڑے شاعر ہوئے ہیں ۔ ان کا شاعری میں مرتبہ ایسا ہی ہے ، جیسے یہاں پر غالب ، میر تقی میر ، حسرت مومن اور اقبال ہوئے ہیں ۔ آپ نے نوے سال تک دور جاہلیت میں گزارے اور پھر اس کے بعد اسلام لائے ، اور مزید پینتالیس سال اسلام کی حالت میں گزارے ، مسلمان ہونے کے بعد شاعری ترک کردی تھی ۔ کہتے تھے اب مجھے صرف سورة بقرہ ہی کافی ہے ۔ حضور ﷺ 1 ؎ نے اسلام کے متعلق فرمایا تھا اصدق کلمہ قالت العرب قول لبید یعنی عربوں کے ہاں سچا کلمہ اگر کوئی سے تو وہ لبید ؓ کا ہے ۔ آپ نے دنیا کی بےثباتی کے متعلق ہے ؎
الا کل شیء ما خلا اللہ باطل
وکل نعیم لا محالۃ زائل
نعیمک فی الدنیا غرور وحسرۃ
وانت عنقریب عن مقیلک رجل
خدا کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے ، اور دنیا کی ہر نعمت لا محالہ زائل ہوجانے والی ہے ، تمہاری دنیا کی نعمتیں باعث افسوس اور حسرت میں اور تم عنقریب پہلے ٹھکانے سے کوچ کر کے جانے والے ہو ، گویا انسان کی ہستی کچھ نہیں ، سعدی صاحب نے بھی کہا ہے۔
کس اربقائے دائم و عہد مقیم نیست
جاوید پادشاہی و عہد مقیم تست
1 ؎۔ ابن کثیر ص 304 ج 3 ( فیاض)
کسی کے لیے ہمیشگی اور عہد مقیم نہیں ہے۔ اے پروردگار ! ہمیشہ کی بادشاہی اور عہد مقیم صرف تیری ذات کی ہے۔ نظام حیدر آباد کا استاد جلیل مانک پوری بڑا عالم اور شاعر بھی تھا ، وہ کہتا ہے۔
ہستی ہے عدم میری نظر میں
سوجھی ہے یہی ایک عمر بھر میں
میر تقی نے بھی اس مضمون کو عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔
بود و نقش و نگار سا ہے کچھ
صورت اعتبار سا ہے کچھ
یہ فرصت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو تو ایک انتظار سا ہے کچھ
خود اللہ تعالیٰ نے سورة الرحمن میں اس مضمون کو اس طرح بیان فرماتا ہے۔ کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ (62 تا 72) اس جہان کی ہر چیز فانی اور باطل ہے اور باقی رہنے والی صرف اللہ کی ذات ہے جو صاحب جلال و عظمت ہے۔ فرمایا لہ الحکم والیہ ترجعون اسی کا حکم ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہو ۔ ایک دن آنے والا ہے۔ جب ساری مخلوق اس کی عدالت میں حاضر ہوگی ، اور اس دنیا میں کردہ اعمال کا ثمرہ پائے گی۔
امام ابن جریر ؓ کی توجیہہ
امام ابن جریر (رح) فرماتے ہیں 1 ؎ کہ کل شی ھالک الا وجھہ کا تعلق انسان کے عمل سے بھی ہو سکتا ہے ، گویا انسان کا ہر عمل فانی اور زائل ہے سوائے اس عمل کے جس کا رخ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف ہے۔ یعنی جو عمل خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کیا جائے گا ۔ وہی قائم رہیگا ، وہی مقبول ہو کر اچھا بدلہ پائے گا ۔ اور باقی سارے اعمال صائع ہوجائیں گے ۔ گویا وجھہ سے خدا تعالیٰ کی رضا بھی مراد ہو سکتی ہے۔ جیسے ؎
استغفر اللہ دنبا لست محسیہ
رب العباد الیہ الوجہ العمل
1 ؎۔ طبری ص 721 ج 02 (فیاض)
میں اللہ تعالیٰ نے ان گناہوں کی معافی طلب کرتا ہوں کہ جن کو میں شمار کرنے سے بھی عاجز ہوں ۔ اے بندوں کے پروردگار ! انسان اور اس کے عمل کا رخ اسی کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو عمل خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے کیا جائے گا ۔ وہی مقبول ہوگا ۔ باقی کچھ نہیں ، اگرچہ یہ مفہوم بھی بیان کیا جاتا مگر پہلا مفہوم زیادہ راجح ہے۔ امام ابن کثیر نے بیان 1 ؎ کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اپنے آپ کو نصیحت کرنے کے لیے کسی ویران مکان یا کھنڈرات کی طرف نکل جاتے ۔ وہاں کسی ٹوٹے پھوٹے درو دیوار پر کھڑے ہو کر آواز دیتے ، راستے مکان این اھلک تیرے مکین کہاں گئے۔ اس کے بعد یہی آیت تلاوت فرماتے کل شیء ھالک الا وجھہ لہ الحکم والیہ ترجعون ان کا مقصد عبرت حاصل کرنا ہوتا تھا کہ اتنے عالیشان محلات میں رہنے والے باقی نہ رہے۔ ان کی رہائش گاہیں بھی اجڑ گئیں ، گویا ہر چیزفانی ہے ۔ قبرستان میں جا کر بھی انسان کو یہی نصیحت ہوتی ہے کہ دنیا کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی قائم و دائم ہے۔
1 ؎۔ ابن کثیر ص 304 ج 3 ( فیاض)