28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 28:43–46

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب بعد اس کے کہ ہم نے ہلاک کیا پہلی قوموں کو یہ بصیرت کی چیزیں ہیں لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ہے ، تا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور نہیں تھے آپ مغربی جانب جب کہ ہم نے فیصلہ کیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مقابلے کا ، اور نہیں تھے آپ دیکھنے والوں میں

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے اٹھایا کئی قوموں کو پس دراز ہوگئی ان پر زندگی ، اور نہیں تھے آپ ٹھہرنے والے مدین والوں کے درمیان کہ پڑھتے آپ ان پر ہماری آیتیں ، لیکن ہم ہیں بھیجنے والے رسولوں کو

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہیں تھے آپ طور کے کنارے پر جب کہ ہم نے آواز دی تھی ۔ لیکن یہ مہربانی ہے تیرے رب کی طرف سے تا کہ ڈرائے تو ان لوگوں کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے ، تا کہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں

ربط آیات گزشتہ رکوعات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن سے لے کر کچھ حالات بیان کیے ہیں اور ان پر آنے والے مشکلات کا ذکر کیا ہے ، ایک قبطی کے قتل کے بعد آپ مدین تشریف لے گئے ، دس سال کے بعد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا جیسی عظیم نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس تبلیغ کے لیے بھیجا ۔ وہ سب مغرور لوگ تھے ، نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ اللہ نے ان سب سرکشوں کو بحر قلزم کی موجوں میں غرق کردیا ۔ فرمایا یہ لوگ کفر ، شرک اور ظلم و زیادتی کے پیشوا تھے ، دیکھو ان کا کیسا عبرت ناک انجام ہوا۔ دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی ، اور آخرت میں تو عذاب کے طور پر ان کی شکلیں ہی تبدیل ہوجائیں گی اور پھر یہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا کندہ ناتراش بن جائیں گے۔ تورات کا نزول موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت دو اقوام کی طرف تھی ، ایک تو فرعون کی قطبی قوم تھی اور دوسری آپ کی اپنی قوم بنی اسرائیل تھی ۔ اس مقام پر اللہ نے اپنی عظیم الشان کتاب تورات کے نزول کا ذکر کیا ہے جو آپ کی قوم بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لیے عطا کی گئی ۔ بنی اسرائیل جب بحرقلزم کو عبور ک کے صحرائے سینا پہنچے تو وہ فرعون کی غلامی سے آزاد ہوچکے تھے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ پہلے تو ہم غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور فرعونی قانون کے اسیر تھے ، اب ہم آزاد ہیں لہٰذا ہمارے لیے کوئی قانون ہونا چاہئے جس پر ہم اپنی روز مرہ زندگی میں عمل کریں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تو حکم ہوا کہ چالیس دن تک کوہ طور پر اعتکاف بیٹھو تو تمہیں کتاب تورات عطا کی جائے گی ۔ تورات کا معنی یہ قانون یعنی لا (LAW) ہوتا ہے۔ اسی کتاب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا فرمائی جس کا ذکر قرآن پاک کی بہت سی سورتوں میں آتا ہے۔ آسمانی کتب میں سب سے زیادہ فوقیت اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کو حاصل ہے۔ دوسرے نمبر پر تورات ، تیسرے پر انجیل اور چوتھے پر زبور ہے۔ اس کے بعد چھوٹے چھوٹے صحیفے بھی ہیں جو اللہ نے مختلف انبیاء (علیہم السلام) پر مختلف زمانوں میں نازل فرمائے۔ اس وقت دنیا میں جو مجموعہ بائبل موجود ہے ، اس میں کل انتالیس کتابیں جمع کردی گئی ہیں ، اور اس کے ابتدائی پانچ بڑے ابواب تورات پر مشتمل ہیں ، اللہ نے فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطاء فرمائی من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بعد اس کے کہ ہم نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا ۔ قرون ، قرن کی جمع ہے جس کا معنی جماعت ، قوم ، گروہ ، سنگت یا ایک دور کے لوگ ہوتے ہیں۔ پہلی اقوام میں سے قوم نوح ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط اور مدین والوں کو اللہ نے ہلاک کیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کا ابھی ذکر ہوا ہے۔ تو فرمایا کہ ہم نے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کرنے کے بعد (علیہ السلام) کو تورات دی۔ تورات کی خصوصیات (1) بصیرت کتاب تورات کی حیثیت کو اللہ نے اس طرح بیان فرمایا ہے بصائر للناس اس میں لوگوں کے لیے بصیرت کی چیزیں ہیں ۔ سورة الاعراف میں قرآن پاک کے متعلق بھی یہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ بصارت ظاہری آنکھ سے دیکھنے کو کہتے ہیں ۔ جب کہ بصرت سے مراد دل کی روشنی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں میں جو روشنی ، نور ، فہم اور فراست پیدا کردیتا ہے ، وہی بصیرت کہلاتی ہے ۔ اور جس فرد یا قوم میں یہ چیزنہ پائی جاتی ہو ، وہ ظاہری آنکھیں رکھنے کے باوجود اندھی ہے ۔ اس لیے اللہ نے پوری قوم نوح کو ( ماسوائے اہل ایمان کے) انھم کنوا قوما عمین ( الاعراف : 46) اندھی قوم کہا ہے۔ انہوں نے دل کی آنکھوں سے اللہ کے جلیل القدر بنی نوح (علیہ السلام) کو نہ پہچانا ، اس لیے ناکام ہوئے۔ اللہ نے سورة الحج میں مزید وضاحت فرمائی ہے۔ فَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰـکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ (آیت : 64) ایسے لوگوں کی ظاہر ی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے سینوں میں پڑے ہوئے دل بینائی سے محروم ہوتے ہیں ۔ تو فرمایا تورات میں بصیرت کی باتیں جنہیں دل کی آنکھوں کے ساتھ دیکھ کر ان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ (2) ہدایت فرمایا تورات کی دوسری خصوصیت وھدی یعنی ہدایت ہے۔ جب انسان میں فہم و فراست پیدا ہوجائے عقل و شعور آجائے ، حق و باطل کو پہچان ہونے لگے تو پھر اس کو ہدایت میسر آتی ہے جس کے مطابق و ہ عمل کرتا ہے۔ قرآن پاک بھی اہل ایمان کے لیے بصیرت اور ہدایت ہے منافق آدمی فہم و فراست سے محروم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ دین کی سمجھ سے بھی عاری ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان 1 ؎ ہے ۔ من یرد اللہ بہ خیراً یفقھہ فی الدین اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے سے بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسے دین میں فہم و فراست فقاہت اور سمجھ عطا کرتا ہے ، مگر منافق اس سے محروم رہتے ہیں ۔ کفار و مشرکین کے دلوں پر بھی کفر و شرک کے اندھیرے چھائے رہتے ہیں ۔ بد عتی لوگ بھی ہدایت کی روشنی سے بےبہرہ ہوتے ہیں ۔ ان کے دلوں پر بھی حجاب پڑے ہوتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ہدایت میسر نہیں آتی ۔ ہدایت تو جب ملے گی جب عقیدہ عمل اور اخلاق درست ہوگا ۔ (3) رحمت تورات کی تیسری خصوصیت فرمایا ورحمۃ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے جب انسان کے دل میں صحیح سمجھ اور فہم پیدا ہوجائے اور وہ صحیح راستے پر گامزن ہوجائے ۔ اپنا عقیدہ ، اخلاق اور عمل درست کرلے تو و ہ خدا تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جاتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی قربت اور اس کی مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے اور اس کی مہربانیاں اور نوازشیں شامل حال کا مقصد یہ ہے لعلھم یتذکرون تا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ 1 ؎۔ بخاری ص 61 ج 1 (فیاض) ختم المرسلین کا تذکرہ قرآن پاک اور تورات کے محاسن اگلی آیات میں بھی آرہے ہیں ۔ تا ہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کی رسالت و نبوت کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضور خاتم النبین ﷺ میں بہت سی قدریں مشترک ہیں ۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو عظیم دشمنوں کا سامنا تھا۔ اسی طرح حضور ﷺ کے جانی دشمن بھی موجود تھے جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر کڑی آزمائشیں آئیں اسی طرح حضور ﷺ پر بھی آئیں۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک عظیم کتاب عطا فرمائی تو حضور سرور کائنات کو بھی عظیم المرتبت کتاب دی دونوں امتوں کے حالات بھی تھوڑے بہت ملتے جلتے ہیں۔ تو یہاں پر اللہ نے حضور ﷺ کی نبوت رسالت کی حقانیت کو بیان فرمایا ہے اور وہ اس طرح کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جو واقعات بیان کیے ہیں اور آپ نے انہیں آگے امت کو سنایا ہے ، یہ بالکل سو فیصدی صحیح ہیں جن میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ آپ نے نہ تدریس پڑھی ہے اور نہ کسی اور ذریعے سے آپ کو ان واقعات کا علم ہوا ہے تو ان کو …امت کے سامنے بیان کردینا ہی آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سارے واقعات آپ کو بذریعہ وحی بتلا دیے۔ مسند حاضر و ……دوعلم غیب اگلی آیات اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت اور وحی الٰہی کی حقانیت کے طور پر بیان فرمائی ہیں ۔ ان آیات سے آنحضرت (علیہ السلام) کے حاضر و ناظر اور عالم الغیب ہونے کی صراحتاً نفی ہوتی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے وما کنت بجانب لغربی اذ قضینا الی موسیٰ الامر آپ اس وقت مغربی جانب تو نہیں تھے ۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے معاملے کا فیصلہ کیا ۔ اس مغربی جانب سے صحرائے سینا کا وہ پہاڑ مراد ہے ، جہاں سلسلہ کوہ عبور بھی ہے اور جہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام شریعت عطا ہوئے تھے۔ یہ علاقہ حجاز سے مغربی جانب ہے ، اسی لیے فرمایا کہ آپ اس وقت مغربی جانب تو نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے کا فیصلہ کیا تھا وما کنت من السمع دین اور آپ وہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات کو دیکھنے والوں میں بھی شامل نہیں تھے ۔ جو یہ واقعات دیکھ کر بیان کیے ہوں ۔ گویا آپ کے حاظر و ناظر ہونے کی صراحت کے ساتھ نفی کی گئی ہے۔ آگے سورة کے آخر میں بھی آ رہا ہے کہ ہم نے اپنی رحمت سے یہ کتاب آپ کی طرف نازل فرمائی ہے جس میں یہ سارے واقعات آ رہے ہیں وگرنہ آپ کو ان کا کیا علم تھا۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ آج لوگوں نے بلاوجہ حاضر و ناظر اور علم غیب کا عقیدہ گھڑ لیا ہے ، حالانکہ یہ دونوں صفات اللہ تعالیٰ کی صفات مختصر میں شامل ہیں اور ان میں کوئی دوسری ہستی شریک نہیں ۔ صفت خلق ، تدبیر اختیار یہ سب صفات مختصر ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنی کتاب تفہیمات الٰہیہ میں فرماتے ہیں کہ اللہ کی صفات مختصہ کی نبیوں سے نفی کرنا واجب ہے مثلاً قدرت علی الخلق ہے علم غیب ہے ، نہ تو کسی کو پیدا کرنے کی قدرت ہے اور نہ ہی کوئی غیب جانتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے مطلع کردیتا ہے تو نبی کو علم ہوجاتا ہے۔ غیب تو وہ ہے جو بغیر کسی واسطے کے خود بخود ہو اور یہ خاصہ خداوندی ہے ، انبیاء صلحا یا اولیاء سے علم غیب کی نفی ان کی قطعاً توہین نہیں ہے۔ بہر حال فرمایا کہ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مغربی جانب نبوت فرمائی تو آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے ولکنا انشا ا قرونا ً فتطاولی علیھم العمر مگر ہم نے بہت ہی قوموں کو پیدا کیا ، پھر ان پر زندگی دراز ہوگئی ، وہ سر کشی ، ظلم و زیادتی کے مرتک ہوئے تو اللہ نے ان کو تباہ و برباد کردیا ۔ گزشتہ آیات میں فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا وما کنت ثاویا ً فی اھل مدین آپ مدین والوں میں بھی مقیم نہیں تھے تتلو علیم اتینا کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ۔ مدین کے واقعات بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ہم نے ہی آپ کو بتلائے ہیں ۔ آپ کوئی عام الغیب تو نہیں ہیں ۔ ولکنا کنا مرسلین بلکہ رسولوں کو بھیجنے والے ہیں ۔ ہم ان پر وحی نازل کر کے سابقہ واقعات سے آگاہ کرتے ہیں ، آئندہ حالات سے مطلع کرتے ہیں اور پھر انہیں ایک لائحہ عمل عطا کر کے تبلیغ کا حکم دیتے ہیں۔ حضور ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے ۔ ایک یہودی نے تخلیق کے بارے میں سوال کیا ۔ آپ نے قدرے سکوت کے بعد سوال کا جواب دیا اور یہودی چلا گیا ۔ حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ جب یہودی نے مجھ سے مذکورہ سوال کیا تو مجھے جواب معلوم نہیں تھا ، اللہ نے فوراً جبرائیل کو نازل فرما کر سوال کا جواب بھیج دیا جو یہودی کے علم کے مطابق بھی درست تھا لہٰذا وہ مطمئن ہو کر چلا گیا۔ اس سے بھی آپ کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ آگے فرمایا وماکنت بجانب الطور اذ نا دینا اور آپ طور کے کنارے پر بھی نہیں تھے جب ہم نے آواز دی تھی کہ اے موسیٰ ! آپ وادی مقدس میں ہیں ، اپنے جوتے اتار دیں ، میں نے تجھے نبوت و رسالت کے لیے منتخب کیا ہے اب تم میرا پیغام فرعون اور اس کے سرداروں کو جا کر پہنچائو ، فرمایا ولکن رحمتہ من ربک یہ تو تیرے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے جو تمہیں ان حالات سے مقطع کر رہا ہے ، وگرنہ تم تو وہاں حاضر و ناظر نہیں تھے۔ قومی اور بین الاقوامی نبی فرمایا : یہ رحمت ہے تیرے پروردگار کی طرف سے لتنذر قوما ً ما اتھم من نذیر من قبلک تا کہ آپ ڈر میں ان لوگوں کو جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پوری دنیا میں کوئی ڈرنے والا نہیں آیا بلکہ اس سے اہل عرب مراد ہیں کہ ان کے پاس حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد طویل عرصہ تک کوئی نبی نہیں آیا اور پھر اللہ نے آخر میں حضور خاتم النبیین کو مبعوث فرمایا ۔ عرب بھی ابتداء میں صحیح دین ابراہیمی پہ تھے مگر حضور ﷺ سے تقریباً پانچ سو سال پہلے قصی ابن کلاب کے زمانے میں یہاں شرک کی ابتداء ہوئی۔ لوگوں کی اکثریت مشرک ہوگئی اور اس دوران حضور ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ یہاں پر قوما ً کا لفظ خاص طور پر توجہ طلب ہے ۔ آپ کی پہلی حیثیت تو قومی نبی کی ہے کہ آپ سر زمین عرب میں عربوں میں مبعوث ہوئے اور تبلیغ کی ابتداء بھی یہیں سے ہوئی ۔ مگر اللہ نے آپ کی زبان سے یہ بھی کہلوایا یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا ً ( الاعراف : 85) اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ لتنذر ام القری ومن حولھا ( انعام : 39) تا کہ مکہ اور ارد گرد والوں کو ڈرائوں ۔ ومن بلغ ( الانعام : 91) اور ان کو بھی جہاں تک یہ قرآن پہنچے ۔ مطلب یہ کہ دنیا کے کونے کونے تک خدا کا یہ پیغام پہنچے گا اور میں ان سب کے لیے ڈرانے والا یعنی نبی اور رسول ہوں۔ تو گویا اس لحا ظ سے آپ بین الاقوامی نبی بھی ہیں ۔ قریش اور عربوں کی سعادت بھی آپ کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب کہ تمام اقوام عالم کی سعادت کی وابستگی بھی آپ ہی کے ساتھ ہے ، خدا کا فرمان ہے کہ آپ عربوں کے معلمہ میں در میر یہ پیغام ان کے ذریعے اقوام عالم تک پہنچے گا ۔ چناچہ قرآنی مشن کو پوری دنیا میں پھیلانے کا ذریعہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ بھی ہے۔ فرمایا میں نے آپ کو اقوام عام کو ……لعلھم یتذکرون تا کہ یہ لوگ نصیحت حاصل کرلیں اس میں انہی کی بہتری ہے کہ خدا کی گرفت سے بچ جائیں گے۔
Ayahs 28:47–50

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ پہنچتی ان کو کبھی مصیبت ان کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! کیوں نہیں بھیجا تو نے ہماری طرف رسول ، پس ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی ، اور ہوتے ہم ایمان والوں میں سے

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

پھر جب آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق تو کہا نہوں نے کہ کیوں نہیں دی گئی ( اس نبی کو) مثل اس کے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی ، کیا نہیں ر کیا انہوں نے اس چیز کے ساتھ جو دی گئی موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے پہلے ، انہوں نے کہا کہ دو جادوگر آپس میں موافق ہیں ، اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کا انکار کرنے دے ہیں

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

( اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے ، پس لائو کوئی کتاب اللہ کی طرف سے جو زیادہ راہ بتلانے والی ہو ان دونوں ( کتابوں سے کہ میں بھی اس کی پیروی کروں ، اگر تم سچے ہو

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پس اگر یہ نہ جواب دے سکیں آپ کی بات کا پس یقین جانیں کہ بیشک یہ لوگ پیروی کرتے ہیں جنکی خواہشات کے بغیر اللہ کی ہدایت کے ، بیشک اللہ نہیں راہ دکھاتا بےانصاف قوم کو

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے واضح طور پر فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطاہو رہی تھی تو آپ تو وہاں موجود نہیں تھے۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی تھی تو آپ نے تو وہ آواز نہیں سنی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات ہم نے اپنی خاص مہربانی سے بذریعہ وحی آپ کو بتلائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی نبی اور رسول بنایا ہے اور آپ کو ایک عظیم المرتبت کتاب بھی عطا فرمائی ہے ۔ مقصود یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کردیں اور ڈرا دیں جن کے پاس پہلے کوئی منذر نہیں آیا ۔ یہ اشارہ خاص طور پر مشرکین عرب کی طرف ہے جن میں تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک نہ کوئی نبی آیا ورنہ کوئی کتاب نازلہوئی ۔ اس سر زمین پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فرزند اسماعیل (علیہ السلام) نبوت سے سرفراز ہوئے اور پھر حضور خاتم النبیین تک درمیان میں کوئی نبی نہیں آیا۔ عذر گناہ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مکہ اور عرب کے مشرکین کا خاص طور پر شکوہ کیا ہے۔ اور اس ضمن میں نزول قرآن کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولولا ان تصیبھم مصیبۃ بما قدمت ایدیھم اور اگر ایسا نہ ہوتا اور ان لوگوں کو ان کے لیے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے کبھی مصیبت پہنچتی ۔ فیقولوا ربنا لو لا ارسلت لینا رسولاً فنتبع ایتک تو یہ لوگ کہہ اٹھتے اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف رسول کیوں نہ بھیجا تا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے ونکون من المومنین اور ہم بھی ایمان لانے والوں میں ہوتے ۔ ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس تک اہل عرب میں کوئی نبی آیا اور نہ کتاب ، تو اللہ نے اس عذر کو رفع کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ اگر ہم نبی آخر الزماں کو بھی عربوں میں مبعوث نہ کرتے اور پھر ان پر کوئی مصیبت آجاتی تو فوراً کہہ دیتے کہ ہمارے پاس تو کوئی رسول ہی نہیں آیا جو ہمیں صراط مستقیم کی تعلیم دیتا اور ہم عذاب الٰہی سے بچ جاتے ۔ اب اللہ نے گویا اپنا آخری نبی اور آخری کتاب نازل کر کے مشرکین عرب کا منہ بند کردیا ہے۔ سورة المائدہ میں اس قسم کا خطاب اہل کتاب سے بھی کیا گیا ہے کہ کل قیامت والے دن یہ نہ کہنا ما جاء نا من بشیر ولا نذیر (آیت : 9) کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا فقد جاء کم بشر و نذیرا ( آیت : 91) دیکھ لو تمہارے پاس بشیر اور نذیر آ چکا ہے ، اب تمہارا کوئی عذ ر قبول نہیں رہا ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے ہر ملک اور قوم میں اپنے انبیاء مبعوث فرما کر لوگوں کو حق و باطل سے آگاہ کردیا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگ اعتراض کرتے کہ ہمیں سزا کیسی دی جا رہی ہے جب کہ ہمیں بتلانے والا کوئی رسول تو آیا ہی نہیں ۔ دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ ہم تو اپنے آبائو اجداد کے طریقے پر ہی چلتے رہے۔ ہمیں کوئی سمجھانے والا ہی نہیں آیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنا آخری رسول اور کتاب بھیج کر یہ تمام اعتراضات رفع کردیئے ہیں۔ بد تر از گناہ پہلے تو وہ رسول کے نہ آنے کا عذر پیش کرتے تھے فلما جاء ھم الحق من عندنا پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ گیا ہے۔ یعنی اللہ کا آخری نبی بھی مبعوث ہوگیا اور اللہ نے اپنی آخری کتاب بھی نازل فرما دی ۔ قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ تو کہنے لگے ہمیں ویسی ہی چیز کیوں نہیں دی گئی جیسی موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی ۔ یہ دوسرا اعتراض کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو تو عصا اور ید بیضاء جیسے عظیم معجزات عطا کیے گئے تھے ، ویسے معجزات نبی آخر الزمان کو کیوں نہیں دیے گئے ۔۔۔۔ ؟ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو تو پوری تورات تختیوں پر لکھی لکھائی بیک وقت دی گئی تھی ، مگر محمدرسول اللہ ﷺ پر قرآن پاک تھوڑتھوڑ کر کیوں نازل ہو رہا ہے ؟ مطلب یہ کہ جب اللہ کی طرف سے حق آ گیا تو انہوں نے پھر بھی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا انکار ہی کیا ۔ اللہ نے فرمایا کہ مشرکین عرب اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اور ان کی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں اور ویسی ہی چیز کو تسلیم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں ۔ مگر ذرا ان سے یہ پوچھو کو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ افلم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل کیا وہ اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی گئی چیز کا انکار نہیں کرچکے ؟ جب موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے نبوت کا دعویٰ کیا قالوا سحران تظھرا تو کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے موافق بن کر آگئے ہیں ان دونوں کا مشن ایک ہی ہے ، ہم ان کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں وقا لوانا بکل کفرون ہم سب کا انکار کرتے ہیں ، اللہ نے کوئی نبی نہیں بھیجا ، یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے 1 ؎ ہیں کہ مشرکین مکہ نے پہلے تو موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا تذکرہ کیا کہ اگر ایسے ہی معجزات حضور ﷺ کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے تو ہم تسلیم کرلیتے پھر جب یہودیوں سے تبادلہ خیال کیا تو پتہ چلا کہ تورات کی باتیں تو ہمارے خلاف پڑتی ہیں۔ مثلاً تورات میں بت پرستی کو کفر اور بعث بعد الموت کو بر حق قرار دیا گیا ہے نیز یہ کہ غیر اللہ کے نام پر ذبیح حرا م ہے ۔ تورات میں نبی آخر الزمان کو بعض نشانیاں بھی ملتی ہیں جو آپ پر صادق آتی ہیں ۔ تو پھر کہنے لگے ہم دونوں کا انکار کرتے ہیں ، نہ تورات کو مانتے ہیں اور نہ قرآن کریم کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں 1 ؎۔ موضح القرآن ص 864 (فیاض) کتابیں ہمارے خلاف جاتی ہیں ۔ جب کتابوں کا انکار کیا تو رسولوں کا بھی انکار کردیا ، اور موسیٰ اور حضور (علیہما السلام) دونوں کو جادوگر کہہ دیا ، واضح رہے کہ قرآن اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تورات کی بہت سی باتیں اب بھی قرآن سے مطابقت رکھتی ہیں اگرچہ اہل کتاب نے اس کتاب میں بہت سی تحریفات کردی ہیں۔ بہتر کتاب لانے کا چیلنج آخر میں اللہ نے فرمایا کہ یہ کفار و مشرکین تورات و قرآن اور موسیٰ اور حضور خاتم النبین ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ، تو پھر اے پیغمبر ! آپ ان کو چیلنج دے دیں قل آپ کہہ دیں فاتو بکتب من عند اللہ ظالمو ! اگر تمہیں تورات و قرآن منظور ہیں تو پھر اللہ کے ہاں سے کوئی اور کتاب لے آئو ھو ھدی منھما جو ان دونوں سابقہ کتب سے زیادہ ہدایت دہندہ ہو ۔ اگر نہ کرسکتے ہو تو لائو ایسی کتاب اتبعۃ تا کہ میں بھی اسی کتاب کی پیروی کرلوں ۔ فرمایا اس چیلنج کو قبول کرو ان کنتم صدقین اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو ۔ یہ تو مشرکین سے خطاب تھا۔ اللہ نے یہودیوں سے بھی بار بار کہا ہے کہ تم اپنی تورات کے احکام پر قائم نہیں رہے بلکہ انہیں بگاڑدیا ہے ۔ تورات اور قرآن کے بہت سے احکام اب بھی ملتے تھے ہیں مگر تم انکار کر رہے ہوقُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (آل عمران : 39) اگر سچے ہو تو لائو تورات اور پڑھ کر دیکھو کہ اس کے احکامات کیا ہیں اور تم نے کونسا دین بنا رکھا ہے۔ پہلے دور میں تورات ہی عظیم المرتبت کتاب بھی جس میں احکام ، حدود ، تعزیرات اور اخلاقیات ہر قسم کی تعلیم موجود تھی ، پھر آخری دور میں اللہ نے قرآن کریم کو بطور آخری کتاب نازل فرما کر سابقہ کتب سماویہ کے تمام مضامین اور اس کے علاوہ بھی ہزاروں قسم کے علوم و معارف اس کتاب میں سمو دیے ہیں ۔ بہرحال تورات اور قرآن دونوں اللہ کی عظیم کتابیں میں ، اللہ نے مشرکین و کفار کو چیلنج کیا ہے کہ اس سے زیادہ راہ دکھانے والی کوئی کتاب لے آئو ، ہم اس کو تسلیم کرلیں گے۔ خواہشات کا اتباع اللہ نے فرمایا فان لم یستجیبولک اگر یہ لوگ آپ کی بات کا جواب نہ دے سکیں یعنی چیلنج قبول نہ کریں ۔ فالعم انما یبعون اھواء ھم تو آپ یقین جانے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں ۔ اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام کو مسترد کر کے خواہشا ت نفسانی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ خواہشات کی پیروی دراصل شیطان یہ اتباع ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے ۔ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ( البقرہ : 861) شیطان کے نقش قدم پر مت چلو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے جو کوئی شیطان کے نقش قدم پر چلے گا ۔ وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ خطیرۃ القدس کا ممبر بن سکتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا ومن اضل ممن اتبع ھو ہ بغیر ھدی من اللہ اس سے بڑھ کر کون گمر اہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر خواہشات کا اتباع کرتا ہے۔ سورة الفرقان میں ہے۔ ارء یت من اتخذ الھہ ھوہ ( آیت : 34) کیا تم نے اس شخص کو دیکھا ہے۔ جس نے اپنی خواہش کو ہی معبود بنا لیا ہے۔ وہ اسی طرح خواہشات کی پیروی کر رہا ہے جس طرح معبود بر حق کی اطاعت کرنی چاہئے ، غرضیکہ خواہش نفسانی بد ترین معبود ہے جس کی اطاعت کی جائے ، اور یہی گمراہی کا سبب ہے ، خواہشات میں ، انفرادی ، اجتماعی ، قومی ، ملکی ہر قسم کی خواہشات شامل ہیں۔ ظالموں کی محرومی فرمایا ان اللہ لا یھدی لقوم الظلمین بیشک اللہ تعالیٰ بےانصاف لوگوں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا اور وہ ہمیشہ اس سے محروم رہتے ہیں صراط مستقیم انہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن میں حقیقت کو پانے کی طلب ہوتی ہے ۔ جو لوگ کفر ، شرک اور بدعت پر اڑے رہتے ہیں۔ وہ ہدایت یافتہ نہیں بن سکتے ، ایسے لوگوں کے متعلق قرآن پاک کا فیصلہ یہ ہے۔ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ ط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا ( النسائ : 511) کہ یہ لوگ جس طرف جانا چاہتے ہیں ، جس گمراہی کی دلدل میں پھنسنا چاہتے ہیں ہم ادھری ہی کی توفیق دے دیتے ہیں ۔ ان کا بالآخر ٹھکانہ جہنم ہوگا ، جو کہ بہت ہی بری جگہ ہے ۔ غرضیکہ ظلم کی موجودگی میں ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی۔
Ayahs 28:51–56

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے ملا دیا ہے ان لوگوں کیلئے ( نصیحت کی) بات کو تا کہ یہ نصیحت حاصل کریں

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے اس سے پہلے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب پڑھ کر سنایا جاتا ہے ان کو تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس پر ، بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار کی طرف سے ، تحقیق تھے ہم اس سے پہلے فرمانبرداری کرنے والے

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

یہی لوگ ہی جو دیئے جائیں گے بدلہ دوہرا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا ۔ اور ہٹاتے ہیں وہ بھلائی کے ساتھ برائی کو ، اور جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب سنتے ہیں وہ کسی بیہودہ بات کو تو اس سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ، سلام ہو تم پر ، ہم نہیں الجھتے جہالت والوں کے ساتھ

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) بیشک آپ نہیں راہ راست پر رہ سکتے جس کو آپ چاہیں مگر اللہ تعالیٰ راہ راست پر لاتا ہے جس کو چاہتا ہے ، اور وہ بہتر جانتا ہے ہدایت پانے والا کو

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ایمان کی بات قبول کرنے کی بجائے ہدایت کی بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں لایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ ضدی او عنادی لوگ ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ مگر جب خود کلیم اللہ معجزات اور تورات لے کر آئے تھے تو کیا اس وقت انہوں نے تسلیم کیا تھا ؟ نہیں بلکہ ان بدبختوں نے اس وقت بھی ان کو جھٹلا دیا تھا۔ آپ کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا ۔ اور آپ کو جادوگر کہا گیا ۔ ان کو تو انکار کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ چاہئے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہدایت اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو اس کی طلب کرتا ہے اور جو خواہش کی پیروی کرتا ہے وہ محروم رہتا ہے۔ جب تک ظالم اپنے ظلم سے باز نہ آجائیں ، وہ ہدایت کو نہیں پا سکتے۔ ہدایت کا تسلسل اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آسمانی ہدایت کے تسلسل کو اس طرح واضح کیا ہے۔ ولقد وصلنا لھم القول اور البتہ تحقیق ہم نے ملا دیا ہے ہدایت کی بات کو ان لوگوں کے لیے ، نزول قرآن کے زمانے کے لوگوں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ جس طرح پہلے موجودہ کے پاس ان کے ہادی ہدایت کا سامان لے آتے رہے ہیں ۔ اسی طرح آخری امت کے لوگوں کے پاس بھی ہمارا آخری نبی کتاب ہدایت لے کر آیا ہے۔ نبی آخر الزمان سابقہ تمام انبیاء او کتب سماویہ کی تصدق کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے سابقہ اور موجودہ ہدایت کی باتوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔ مفسرین 1 ؎ کرام فرماتے ہیں کہ وصلنا کا اطلاق قرآنی آیات پر بھی کہا جاسکتا ہے یعنی ہم نے قرآن پاک کی آیات کو یکے بعد دیگرے نازل فرما کر ان کو آپس میں مربوط کردیا ہے۔ اللہ نے تورات کی طرح قرآن کو یکبارگی نازل نہیں کیا بلکہ 32 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ہے۔ اور اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے۔ وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰـہُ لَتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰـہُ تَنْزِیْلاً (بنی اسرائیل : 601) ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا تا کہ لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سنائو۔ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے ۔ سورة النحل میں یہ حکمت بھی بیان فرمائی ہے۔ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (آیت : 44) اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے تا کہ لوگوں پر واضح کردیں جو کچھ ان کی طرف اترا ہے اور تا کہ وہ غور و فکر کریں ، مطلب کہ یہ قرآن پاک کے بتدریج نزول میں خاص حکمت ہے ۔ جس طرح طلباء کو تھوڑا تھوڑا سبق دیا جاتا ہے کہ انہیں اچھی طرح ضبط ہوجائے ۔ اسی طرح قرآن پاک کو بھی تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا ہے ، تا کہ لوگ اس کے احکام اچھی طرح سیکھ سکیں ، ان پر عمل کرسکیں اور اگر کسی حکم میں کوئی اشکال ہو تو اس کی وضاحت کردی جائے ، اللہ نے فرمایا وَکُلَّ شَیْئٍ فَصَّلْنٰـہُ تَفْصِیْلاً ( بنی اسرائیل : 21) ہم نے ہر چیز کی تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے۔ غرضیکہ فرمایا کہ ہم قرآن کی آیتوں کو یکے بعد دیگرے نازل کر کے جوڑتے چلے گئے ہیں تا کہ لوگ ان کو ضبط کریں ، ان میں غور و فکر کریں لعلھم یتذکرون تا کہ وہ ان سے نصیحت حاصل کریں۔ اہل کتاب کا قبول ایمان اگل آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب کی تعریف بیان فرمائی کہ جو پہلی 1 ؎۔ مظہری صد 371 ج 7 ( فیاض) کتابوں پر ایمان رکھتے تھے ، پھر جب قرآن نازل ہوا تو اس کو بھی قبول کیا ۔ ارشاد ہوتا ہے الذین اتینھم الکتب من قبلہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی تھی اس قرآن سے پہلے ، قرآن سے پہلے مشہورتب سماویہ تورات اور انجیل تھیں جن کے ماننے والے یہودی اور نصاریٰ کہلاتے ہیں ۔ ھم بہ یومنون وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔ یہود و نصاری کی اکثریت تو اپنی ضد اور عناد پر ہی اڑی رہی اور اللہ نے ان کے متعلق فرمایا ۔ وان اکثر کم فسقون (المائدہ : 95) کہ ان کی اکثریت تو نافرمانوں کی تھی ، تا ہم ان میں بعض نبی آخر الزمان اور قرآن پاک پر ایمان بھی لائے۔ مدینہ کے بہت کم یہودی تھے جو مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ عبد اللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں نے ایمان قبول کیا وہ بڑے عالم فاضل تھے ۔ آپ کے دو بھتیجوں میں سے ایک ایمان لایا ، جو صاحب علم تھا۔ تمیم کا ذکر ملتا ہے ۔ وہ پہلے عیسائی تھی ، پھر مسلمان ہوئے ۔ بیرون عرب حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے حضرت عثمان ؓ اور حضرت جعفر ؓ کی دعوت پر ایمان قبول کیا ۔ جب یہ لوگ کے سے ہجرت کر کے حبشہ گئے تھے ۔ نجاشی کے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہوئی ، انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان قبول کیا ، اگرچہ نجاشی خود حضور ﷺ کی زیارت سے مشرف نہ ہوسکا ۔ حبشہ کے جن نصرانیوں نے ایمان قبول کیا ، تاریخی روایات میں ان کی تعداد بیس کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ تا ہم سورة المائدہ میں ان کی رقیق القلبی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِ (آیت : 38) جب انہوں نے اس چیز کو سنا جو رسول کی طرف نازل کی گئی ہے تو آپ نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اس وجہ سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا اور ان کے دلوں میں ایمان راسخ ہوگیا ۔ جب ابو جہل وغیرہ کو حبشہ کے ان لوگوں کی آمد کی خبر ہوئی تو کہنے لگے کہ یہ کتنے بیوقوف لوگ ہیں جو ابھی تحقیق کرنے کے لیے آئے ہیں۔ 1 ؎۔ مظہری ص 371 ج 7 ( فیاض) کہ یہاں واقعی کوئی نبی آیا بھی ہے یا نہیں ، مگر ایمان قبول کر کے جا رہے ہیں ۔ سیرت کی کتابوں میں آتا ہے کہ ان لوگوں نے یہی جواب دیا تھا جو آگے اسی درس میں آ رہا ہے یعنی ہم جاہلوں سے الجھتے نہیں ۔ تمہارے کام تمہارے لیے ہیں اور ہمارے کام ہمارے لیے ہیں ، تم جہالت پر قائم رہو ہم تو ایمان لاتے ہیں۔ دوہرے حکم کے مستحقین فرمایا : واذ یتلی علیھم اور جب پڑھ کر سنایا جاتا ہے ، ان کو جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی وہ قالوا امنا بہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے انہ الحق من ربنا کیونکہ یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے بر حق ہے انا کنا من قبلہ مسلمین ہم تو اس سے پہلے ہی فرمانبردار تھے یعنی ہمارا اس کتاب پر بھی ایمان ہے اور جس نبی پر یہ کلام اترا ہے ، ہم اس کی رسالت کی بھی گواہی دیتے ہیں ۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ۔ اولئک یوتوں اجرھم مرنین بما صبرو کہ ان کو دوہرا اجر دیاجائے گا ۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا ۔ پہلے وہ سابقہ دین پر ایمان رکھتے تھے ، مگر جب اللہ کا آخری نبی آ گیا تو اس کو تسلیم کیا اور اس پر نازل ہونے والی کتاب کو مانا جس کی وجہ سے انہیں طرح طرح کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ مگر انہوں نے صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا اور اللہ کے سچے دین پر جمے رہے ، یہ لوگ دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جس شخص کے پاس لونڈی تھی ، اس نے اس کی تعلیم و تربیت کا اچھا انظام کیا ، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا حالانکہ وہ بحیثیت لونڈی بھی اس سے استفادہ کرسکتا تھا تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عطاء فرمائے گا ۔ دوسرا وہ شخص بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے جو کسی کا غلام ہے ، آقا کی خدمت بھی کرتا ہے اور خدا کی عبادت بھی اچھے طریقے سے کرتا ہے ، اس میں کمی نہیں آنے دیتا ۔ فرمایا تیسراشخص وہ ہے کہ پہلے نبی اور پہلی کتاب پر ایمان رکھتا تھا جب اللہ کا نبی آیا اور اس کی آخری کتاب آئی ، تو وہ ان پر بھی ایمان لایا ، یہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے۔ 1 ؎۔ مظہری ص 471 ج 7 ( فیاض) شیخ ابن عربی (رح) بات اس طرح سمجھاتے ہیں کہ اہل کتاب کو دہرا اجر اس وجہ سے ملے گا کہ پہلے وہ اپنے نبی اور اپنی کتاب پر ایمان رکھتے تھے ، پھر جب حضور خاتم النبیین ﷺ تشریف لائے تو وہ آپ پر اور قرآن پر بھی ایمان لائے ، چونکہ حضور ﷺ تمام سابقہ انبیاء کے مصدق ہیں ، لہٰذا آپ کے ضمن میں بھی اپنے نبی پر ایمان لانا ثابت ہوا ۔ آخری امت کے لوگوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ تمام نبیوں پر ایمان لائیں کیونکہ ایک نبی کا انکار بھی کفر کے مترادف ہے ، بہر حال اہل کتاب کا اپنے نبی پر دو مرتبہ ایمان لانا ثابت ہوا ، لہٰذا انہیں دوہرے اجر کی بشارت دی گئی ہے۔ برائی کے بدلے بھلائی ان لوگوں کی ایک اور صفت یہ بیان کی گئی ہے ویدرء ون بالحسنۃ السیئۃ اور ہٹاتے ہیں نیکی کے ساتھ برائی کو ، مطلب یہ کہ ایسے لوگ برائی کا جواب برائی سے دینے کی بجائے بھلائی سے دیتے ہیں ، کسی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا بلا شبہ دوسرے کو متاثر کرتا ہے اور اس کے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے ، پھر یہی چیز ایمان قبول کرنے کی بنیاد پر بھی بنتی ہے ۔ حضور ﷺ 1 ؎ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ سے فرمایا تھا اتباع السیئۃ الحسنۃ اگر کوئی برائی کا کام ہوجائے تو اسکے بعد فوراً نیکی کرو ۔ حضرت ابو ذر غفاری (رح) کی روایت میں آتا ہے کہ برائی کے بعد نیکی کرو گے تو برائی مٹ جائیگی۔ سورة ہود میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی موجود ہے ان الحسنت یذھبن نسیئت ( آیت : 411) بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ تو یہاں بھی اللہ نے برائی کے بدلے نیکی اختیار کر نیکی تعریف فرمائی ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ فرمایا جو لوگ دوسرے اجر کے مستحق بنتے ہیں ان کی ایک صفت یہ بھی ہے ومما رزقنھم ینفقون اور جو کچھ ہم نے ان کو حلال روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ یہ حکم صرف اہل کتاب کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ تمام اہل ایمان کے لیے انفاق فی سبیل اللہ جزو ایمان ہے ۔ اس ضمن میں سب سے پہلے فرائض کو پورا کیا جائیگا ، پھر واجبات اور مستجباب وغیرہ۔ ان اخراجات 1 ؎۔ مظہری ص 571 ج 7 ( فیاض) میں زکوٰۃ کو اولین حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ اللہ نے یہ صاحب نصاب پر فرض قرار دی ہے۔ اس کے بعد صدقہ فطر ہے ، قربانی ہے ، جن لوگوں کے حقوق تم پر حقوق واجبہ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے حقوق ادا کرو ۔ حج اور عمرہ کے لیے خرچ کرو۔ مسافروں ، غرباء ، مساکین اور نا داروں کی خبر رکھو ۔ خرچ کی یہ تمام ہدایت قرآن پاک اور احادیث نبوی میں مذکور ہیں ۔ پھر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کن امور پر خرچہ ضروری اور کون سی جگہ حرام ہے۔ ظاہر ہے کہ لہو لعب ، کھیل کود ، اسراف و تبایہ ، رسم و راج اور شو بازی کے لیے خرچ کرنا کچھ مفید نہیں ہو سکتا بلکہ التاو بال ہوگا ، گویا ناجائز مقامات پر خرچ کرنے سے دین اور دنیا دونوں برباد ہوئے ۔ بہر حال جس خرچ کی تعریف بیان کی گئی ہے وہ جائز اور امور ضروریہ کے اخراجات ہیں۔ لغوبات سے ناراض دوہرے اجر والوں کی اللہ نے یہ صفت بھی بیان فرمائی ہے واذ سمعو اللغوا اعرضو نہ جب وہ کسی بیہودہ بات کو سنتے ہیں تو کنارہ کشی اختیار کرلیتے ہیں۔ وقالو ا لنا اعمالنا ولکم عما لکم اور یوں کہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں ہم تمہاری لغویات میں حصہ نہیں لیتے ، تم اپنا کام کرتے رہو ، ہم اپنا نیکی کا کام انجام دیتے رہیں گے۔ یہ لوگ یوں کہہ کر فضولیات سے بچ نکلتے ہیں سلم علیکم تم پر سلامتی ہو لا نبتغی الجھلین ہم جاہلوں کی تلاش میں نہیں رہتے یعنی نہ ہم ان کو منہ لگاتے ہیں اور نہ ان سے الجھتے ہیں ۔ سلام دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک ملاقات کا کہ دو مومن آپس میں ملتے وقت السلام علیکم کہتے ہیں اور دوسرا سلام متارکت کہلاتا ہے جس سے علیحدگی مراد ہوتی ہے کہ ہمارا آپس میں نبھاہ نہیں ہو سکتا ۔ نیک اور بد اکٹھے نہیں چل سکتے ، لہٰذا ہم تم سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں ۔ جب تم کسی کی بات کو سننے ، سمجھنے اور ماننے کے لیے تیار نہیں تو پھر ہمارا تمہارا کوئی واسطہ نہیں۔ ہدایت بدست خدا انہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو تسلیم دی ہے ۔ حضور ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ ساری مخلوق ہدایت حاصل کرکے خدا کے غضب سے بچ جائے مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ بات آپ کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انک لا تھدی من اجبت جسے آپ چاہیں اسے راہ راست پر نہیں لاسکتے ولکن اللہ یھدی من یشاء بلکہ اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس کو چاہتا ہے۔ یہ اختیار اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے وھو اعلم بالمھتدین اور وہی بہتر جانتا ہے ہدایت پانے والوں کی ۔ اسے علم ہے کہ ہدایت حاصل کر نیکی استعداد کون رکھتا ہے اور کون اس سے محروم ہے ۔ صحیح احادیث 1 ؎ میں حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کا واقعہ مذکور ہے۔ کہ حضور ﷺ کی شدید ترین خواہش کے باوجود اس نے ایمال قبول نہ کیا ۔ ابو طالب کے آخری لمحات میں حضور ﷺ اس کے سرہانے موجود تھے۔ آپ نے آخری کوشش کی اور کہا یا عم قل لا الہ لا اللہ اشھد لک یوم القیمۃ اے میرے چچا لا الہ الا اللہ کہہ دے میں قیامت کے دن تیرے حق میں گواہی دوں گا ۔ مگر اس نے یہ دعوت قبول نہ کی بلکہ انکار کردیا اور کہا کہ میں اپنے آبائو اجداد کے دین پر ہی مرنا چاہتا ہوں ، حضور ﷺ کو بڑا صدمہ ہوا کیونکہ ابو طالب نے زندگی بھر آپ کا ساتھ دیا تھا ، آٹھ سال کی عمر میں آپ کو کفالت میں لیا ۔ حضور ﷺ کی نبوت کے دس سال بھی پائے نبوت کے اظہار میں آپ کا ساتھ بھی دیتا رہا ، حتیٰ کہ شعب ابی طالب میں آپ کے خاندان کے ہمراہ تین سال تک نظر بند بھی رہا مگر خاتمہ کفر اور شرک پر ہی ہوا ، ایمان قبول نہیں کیا ۔ مشرک کے لیے دعا جب ابو طالب نے ایمان لانے سے صاف انکار کردیا تو حضور ﷺ نے مایوسی کے عالم میں فرمایا کہ میں تیرے لیے اس کے سوا کیا کرسکتا ہوں۔ لا ستغفرن لک کہ تیرے لیے بخشش کی دعا ہی کروں ۔ جب تک کہ مجھے روک نہ دیا جائے۔ اس کے جواب میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْم بَعْدِمَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (التوبہ : 311) نہ تو یہ نبی کی شان ہے اور نہ کسی دوسرے مومن کی کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں اگرچہ وہ ان کے قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں ، بعد اس کے کہ ان پر واضح ہوگیا کہ یہ لوگ جہنم والے ہیں ، مطلب یہ کہ اگر کسی کا باپ ، بیٹا ، بھائی ، بیو ی ، چچا ، بھتیجا کوئی بھی ہو اگر اس کا خاتمہ کفر شرک پر ہوا ہے تو اسکے لیے بخشش کی دعا کرنا حرام ہے۔ ہاں ! اس کی زندگی میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت نصیب فرما دے اور اگر وہ نہیں مانتا تو پھر نبی کی دعا بھی مقبول نہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب راہ راست پر لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے ۔ تو پھر کوئی ولی ، بزر گ یا پیر کیا کرسکتا ہے ؟ آج تو لوگ کہتے ہیں کہ پیر کا دامن پکڑ لیا تو بیڑا پار ہوجائے گا ، مگر نہ عقیدہ درست ہے ، نہ اخلاق اور نہ اعمال تو بیڑا کیسے پار ہوگا ؟ مرشدان بر حق کا کام سیدھا راستہ بتانا ہے ، لوگوں کی تربیت کرنا ہے ، حق و باطل سے روشناس کرانا ہے ، مگر منزل مقصود تک پہنچانا اللہ کا کام ہے۔ 1 ؎۔ مظہری ص 571 ج 7 و روح المعانی ص 65 ج 2 ( فیاض)
Ayahs 28:57–60

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہا ( ان کفار و مشرکین نے) اگر ہم تابعداری کریں ہدایت کی آپ کے ساتھ تو اچک لیے جائیں گے ہم اپنی سر زمین سے (فرمایا) کیا ہم نے نہیں جگہ دی ان کو حرم میں بحالت امن کھینچی کر لائے جاتے ہیں اس کی طرف پھل ہر قسم کے یہ روزی ہے ہماری طرف سے ، لیکن اکثر ان میں سے سمجھ نہیں رکھتے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور بہت سی ہلاک کیں ہم نے بستیاں کہ وہ اتر ا گئی تھیں اپنی معیشت میں ، پس یہ ان کے ٹھکانے ہیں ۔ میں ہاش معیار کی کئی ان کے بعد مگر بہت کم ، اور ہم ہی وارث ہیں

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور نہیں تیرا پروردگار ہلاک کرنے والا بستیوں کو یہاں تک کہ بھیج دے ان کی مرکزی بستیوں میں رسول جو پڑھتے ہیں ان پر ہماری آیتیں اور ہم نہیں ہلاک کرتے بستیوں کو مگر اس حال میں کہ ان کے رہنے والے ظالم ہوتے ہیں

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو چیز دی گئی ہے تم کو یہ سامان ہے ۔ دنیا کی زندگی کا اور اس کی زینت ہے ، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ، کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ہدایت کی عد م قبولیت کے لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں ، اور ساتھ اہل ایمان کو تسلی بھی دی کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم رہنے والوں کے ایک حیلے بہانے کا ذکر کیا اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔ مشرکین مکہ کا عذر لنگ ارشاد ہوتا ہے وقالو ان نتبع الھدی معک اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں نتخطف من ارضنا تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی سر زمین سے ، یعنی اگر ہم نے ایمان قبول کرلیا تو ہمیں مخالفین سے اپنی جانوں اور مال کا خطرہ ہے ، وہ میں مار ڈالیں گے ، یہ قبول حق لے انکار کا محض ایک بہانہ تھا وگرنہ ایسی کوئی بات نہ تھی ۔ بعض مشرکین نے خود حضور ﷺ سے بھی عرض کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ بر حق ہیں مگر ہم ایمان لا کر سارے عرب کو اپنا دشمن بنا لینا چاہتے ۔ ظرف کے سارے قبائل ہم پر چڑھائی کردیں گے۔ اللہ نے جواباً فرمایا اولم نمکن لھم حرما ً امینا ً کیا ہم نے انہیں حرم مانوس کردیا … وہ موسم گرما اور سرما میں سفر کرتے تھے مگر انہیں …… فرمایا اللہ نے ان کے لیے آتے ہی مامون نہیں کردیے بلکہ اطعمھم من جوع وامنھم من خوف بلکہ انہیں بھوک کی حالت میں کھانا بھی کھلاتا ہے اور خوف سے مامون بھی رکھتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں سر زمین عرب میں امن وامان کی حالت اس قدرمخدوش تھی کہ آٹھ ماہ تک لوٹ مار کا بازار گرم رہتا کوئی شاہراہ محفوظ نہیں تھی ہر طرف ڈاکوئوں کی عملداری ہوتی ، جونہی کوئی قافلہ ہتھے چڑھ جاتا لوٹ لیا ہے ، مقابلہ ہونا ، قتل و غارت ہوتی اور اس طرح سال کا دو تہائی حصہ غیر محفوظ رہتا ۔ صرف چار حرمت والے مہینے ایسے تھے جن میں لوٹ مار اور لڑائی جھگڑا بند ہوتا تھا اور عام طور پر تجارتی قافلے انہی مہینوں میں سفر کرتے تھے ۔ اس کی تصدیق حضور ﷺ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ یمن کے اطراف میں رہنے والے قبیلہ عبد القیس کے کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ تک پہنچنے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے راستے میں قبیلہ مضر ہے جس کا کافر حرمت والے مہینوں کے علاوہ ہمارے راستے میں ہمیشہ مزاحم ہوتے ہیں ، لہٰذا آپ ہمیں کوئی جامع مانع تعلیم ارشاد فرما دیں تا کہ ہم اس پر عمل کرتے رہیں اور بار بار آپ کی خدمت میں نہ آنا پڑے۔ اس تمام سر افراتفری کے باوجود مکہ کی سر زمین ایک ایساخطہ تھا جو سارا سال مامون رہتا تھا۔ بیت اللہ شریف کی حرمت کی وجہ سے لوگ سارے مکہ شریف کا احترام کرتے تھے اور یہاں کسی قسم کا جنگ و جدل یا لوٹ مار نہیں ہوتی تھی ۔ بیت اللہ شریف ہی کے حوالے سے پورا عرب اس کے متولیان قریش کا بھی احترام کرتے تھے ، ان کو پیر زادے مانتے ، ان کی عزت کرتے اور سارا سال یہ جہاں جانا چاہیں انہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی تھی حتیٰ کہ ان کے تجارتی قافلے بھی بحفاظت منزل مقصود تک پہنچ جاتے تھے۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو جواب دیا ہے کہ تم کہتے ہو کہ اگر ایمان لے آئے تو عرب قبائل ہمیں کھا جائیں گے ۔ بھلا یہ تو بتائو کہ اب تمہاری حفاظت کون کرتا ہے جب کہ پورے عرب میں لوٹ ما ر کا بازار گرم ہوتا ہے ؟ فرمایا کیا ہم نے تمہیں امن والے حرم شریف میں جگہ نہیں دی ۔ جس خدا تعالیٰ نے اس وقت تمہاری حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے کیا وہ ایمان لانے کے بعد تمہیں بےیارو مدد گار چھوڑے گا ؟ اللہ نے فرمایا تمہیں یاد نہیں کیف فعل ربک با صحب الفیل ( الفیل) اللہ نے ہاتھیوں والوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا ۔ جو لوگ بیت اللہ کی حرمت کے درپے ہوئے تھے انہیں چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے تباہ کردیا اور نہ صرف بیت اللہ کی حفاظت فرمائی بلکہ تمہارے اوپر بھی کوئی آنچ نہیں آنے دی ۔ تو اب تم کیسے کہتے ہو کہ محض ایمان لانے کی وہ سے مارے جائو گے۔ حرم میں ثمر آوری فرمایا یہ وہ حرم پاک ہے حی الیہ ثمرت کل شی رزقاً من لدنا کہ جس کی طرف ہر قسم کے پھل کھینچ کھینچ کر لائے جاتے ہیں مکہ کا علاقہ بالکل بےآب وگیاہ خشک پہاڑ ہے جہاں نہ کوئی درخت ہے نہ سبزہ ۔ بس چلچلاتی دھوپ اور سڑتے ہوئے پہاڑ ۔ اس طرح کے علاقے میں ہر قسم کے پھلوں کی فروانی محض تائید خداوندی سے ممکن ہے ، یہ دراصل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت کا ثمرہ ہے ، جو انہوں نے حضرت ہاجرہ ؓ اور اسماعیل (علیہ السلام) کو اس مقام پر آباد کرتے ہوئے کی تھی وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ (ابراہیم : 73) پروردگار ! انہیں پھولوں سے روزی دے تا کہ تیرا شکر ادا کریں ۔ آپ نے یہ بھی دعا کی اے پروردگار ! اس گھر کو امن والا بنا دے۔ وارزق اھلہ من الثمرت من امن منھم باللہ (البقرہ : 62) یہاں کے رہنے والوں کو پھلوں کا رزق عطا فرما۔ جو ان میں سے ایمان لے آئیں ، اللہ نے فرمایا کہ البتہ کافروں کو بھی کچھ فائدہ پہنچائوں گا ۔ ثم اضطرہ الی عذاب النار ( البقرہ : 631 ) اور پھر گھسیٹ کر جہنم میں بھی داخل کر دوں گا ۔ بہر حال اللہ نے قریش مکہ کو یاد دلایا کہ اس نے پہلے ہی نہ صرف امن دے رکھا ہے بلکہ تمہاری ہی روز ی کا بندوبست بھی کمال درجے کا کردیا ہے اب ایمان کی عدم قبولیت کا تمہارا کوئی حیلہ بہانہ قابل قبول نہیں ہے۔ فرمایا ولکن اکثرھم لا یعلمون لیکن اکثر لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔ وہ اپنی لا علمی اور بےسمجھی کی وجہ سے ہی بہانے تلاش کرتے ہیں ۔ فرمایا اگر تم کفر و شرک کو چھوڑ کر ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرو گے تو اللہ پہلے سے کہیں بڑھ کر تمہاری حفاظت کرے گا ۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ہے والعاقبۃ للمتین ( الاعراف : 831) اچھا انجام متقیوں کے لیے ہی مخصوص ہے۔ خوشحال اقوام کی ہلاکت اگلی آیت میں اللہ نے ناشکر گزاروں کو سزا دینے کا قانون بیان فرمایا ہے۔ وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا اور کتنی ہی بستیوں کو ہم نے ہلاک کیا جو اپنی معیشت میں اترا گئی تھیں ۔ بطر کا معنی اکڑ اور تکبر ہوتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کی وجہ سے غرور وتکبر میں مبتلا ہوچکے تھے ۔ وہ آسودہ زندگی کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اپنی گزران پر اترانے لگے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا اللہ نے مکہ والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ دیکھو ! ہم نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا فتلک مسکنھم لم تسکن من بعدھم الا قلیلاً یہ ان ہلاک شدگان کی رہائی گاہیں ہیں جن میں ان کے بعد بہت کم ہی رہائش اختیار کی گئی ہے۔ سابقہ اقوام کے اکثر محلات کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں ۔ قوم ثمود کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں مگر وہاں کوئی رہائش نہیں ہے جب متنبی شاعر مصر گیا تو اس نے اہرام مصر کے بعض نمونے دیکھ کر کہا تھا۔ این الذی الھرمان من بنیانہ ما قومہ ما یومہ ما الصرع کہیں گے وہ لوا۔۔۔ جنہوں نے برابر بنائے تھے ۔ ان کی قوم کدھر گئی اور ان کے وہ تاریخی ایام کیا جائے ……… یہ لوگ اسی کو نگاہ میں لیکن ……تھے مگر دیکھو ! اللہ نے انہیں کس طرح ہلاک کیا ۔ کسی کو زلزلہ کے ذریعے تباہ کیا گیا کسی پر طوفان بھیجا گیا اور کسی پر چیخ مسلط کی گئی ۔ فرمایا وہ مغرور لوگ تو صفحہ ہستی سے مٹ گئے وکنا نحن نور ثین اب ہم ان کے وارث ہیں رہے نام اللہ کا۔ ہلاکت کے لیے تمام حجت اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہلاکت اقوام کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے۔ وما نکان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا ً تیتلوا علیھم ایتنا اور تیرا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی مرکزی بستیوں میں رسول نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب قوم لوط کو اللہ نے تباہ کیا تو ان کی مرکزی بستی سدوم میں لوط (علیہ السلام) کو بھیجا ۔ آپ نے سال ہا سال تک حق تبلیغ ادا کیا ، مگر قوم نہ مانی ، آخر تباہ ہوئی ۔ اسی طرح مدین ، وادی قری اور تبوک وغیرہ کی بستیوں میں اللہ نے صالح (علیہ السلام) کو بھیج کر لوگوں کو خبردار کیا ۔ بین کے متمدن علاقے میں ہود (علیہ السلام) کو بھیجا بہر حال اللہ نے ہر قوم کی مرکزی بستیوں میں اپنے پیغمبر یا ان کے نائبین بھیج کر حجت تمام کی اور پھر جب وہ راہ راست پر نہ آئے تو عذاب الٰہی نے ان کو پکڑ لیا ۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً (آیت : 51) ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک وہاں رسول نہ بھیج لیں اور اچھی طرح سے بات سمجھا نہ دیں ۔ اللہ نے بدر والوں کے متعلق بھی فرمایا لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْم بَیِّنَۃٍ وَّیَحْيٰ مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ (الانفال : 24) بات پورے طریقے سے واضح ہوچکی ہے ۔ اب جس کو ہلاک ہونا ہے وہ کھلی دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ کھلی دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بلاوجہ ہلاک نہیں کرتا ۔ بلکہ ہلاک ہونے والی قوم خود اپنی کرتوتوں کا خمیازہ بھگتتی ہے ۔ فرمایا وما کنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے باشندے ظالم لوگ تھے ۔ سورة ہود میں ہے ۔ وما کان ربک لیھلک القریٰ بظلم واھھا مصلحون ( آیت : 11) تیرا پروردگار کسی بستی کو ظلم کے ساتھ ہلاک نہیں کرتا جب کہ اس کے باشندے صدق پذیر ہوں ، صرف ظالموں کو ہی ہلاک کیا جاتا ہے۔ جن پرانی قوموں کی ہلاکت کا ذکر قرآن پاک یا تاریخ میں مذکور ہے۔ وہ ظالم لوگ تھے قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم نوح ، قوم ابراہیم ، بابلی ، عراقی سب ناہنجار تھے ، جن کو خدا نے ہلاک کیا ۔ قریش مکہ نے بھی اپنے نبی کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کیا حتیٰ کہ انہیں ہجرت پر مجبور کردیا ۔ یہ سب مجرم اور سخت گناہ گار لوگ تھے جو ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے ہلاکت اقوام کی یہ حکمت بھی بیان کردی ہے۔ دنیاوی متاع کی حیثت آگے ارشاد ہوتا ہے کہ جس دنیا کی خاطر تم ایمان کو قبول نہیں کرتے اس کی حیثیت تو یہ ہے کہ وما اوتیتم من شی فمت ع الحیوۃ الدنیا وزینتھا تمہیں جو چیزیں بھی دی گئی ہیں ۔ وہ دنیا میں فائدہ اٹھانے کا سامان اور اس کی زینت ہے ۔ اس مادی حیات کو ہر چیز عارضی ہے جس سے چند روز تک ہی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور بالآخر اس کو ختم ہونا ہے۔ صاحب 1 ؎ تفسیر کثاف نے حضر ت عبد اللہ بن عبا س ؓ کا قول نقل کیا ہے۔ المومن یتزودوالمنافق یتزین ولاکفر یتمتع مومن آدمی دنیا میں صرف توشہ اختیار کرتا ہے ، منافق زیب وزینت میں مشغول ہوجاتا ہے اور کافر خوب فائدہ اٹھاتا ہے ظاہر ہے کہ اصل کردار تو مومن کا ہی ہے جو اس دنیا کو عارضی سمجھ کر صرف زادہ راہ پر ہی قناعت کرتا ہے اور دنیا کو جمع کرنے کی کوشش نہیں کرتا ۔ منافق اس دنیا کی رنگینوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور کافر تو اول و آخر دنیا کو ہی سمجھ لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ویاکلون کما تا کر الانعام ( محمد : 21) پھر وہ جانوروں کی طرح کھانے لگتے ہیں ۔ ان کی زندگی کا 1 ؎۔ کشاف ص 524 ج 3 ( فیاض) مقصد ہی کھانا اور فائدہ اٹھانا ہوتا ہے مگر یہ چیزیں ان کی زندگی تک ہی محدود ہوتی ہیں ۔ جب موت آجاتی ہے تو آگے اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجاتے ہیں۔ مومن اور منافق کی مثال شیخ عبد القادر جیلانی (رح) اپنی کتاب ’ ’ فتوح الغیب “ میں لکھتے ہیں المنافق لقاب والمومن وقاف یعنی منافق نگلنے والا ہوتا ہے اور مومن رکنے والا ہوتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ منافق آدمی کے ہاتھ جو چیز آجائے ، وہ حلال حرام جائز و ناجائز کی تمیز کیے بغیر اس کو کھا لیتا ہے جب کہ مومن آدمی کھانے سے پہلے رک کر دیکھ لیتا ہے کہ خوردو نوش کی اشیاء کیا حیثیت ہے ، جب تک تسلی نہ ہو مومن آدمی ہاتھ نہیں بڑھاتا ۔ خود حضور ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب کوئی چیز پیش کی جاتی تو آپ دریافت کرتے کہ یہ کیا چیز ہے اور کہاں سے آئی ہے ؟ اگر ہدیہ ہوتا تو قبول فرما لیتے اور تناول فرماتے اور اگر صدقہ ہوتا تو کہتے کہ یہ ہمارے لیے روا نہیں ہے ، گویا مومن کی شان یہ ہے کہ وہ حلال و حرام میں امتیاز کرتا ہے مومن اس بات میں غور کرے گا کہ اس کی خوراک ، اس کا لباس ، اس کا مکان اور اس کے دیگر لوازمات جائز ذرائع سے حاصل ہوئے ہیں یا ناجائز ذرائع سے مومن ہر کام کرنے سے پہلے وقوف کرتا ہے ، غور و فکر ہے اور پھر عملی قدم اٹھاتا ہے۔ خیر وبقاء عبد اللہ فرمایا دنیاکا متاع تو اسی دنیا تک محدود ہے اور ختم ہوجانے والا ہے وما عند اللہ خیر وابقی اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے۔ وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے ، دنیا کے عارضی مال و متاع کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے آخرت کے مقامات اور انعامات دیرپا میں جو کبھی ختم نہیں ہوں گے ۔ دنیا کی محفلیں ، یہاں کی رونقیں ، کھانے ، لباس ، عمارات ہر چیز فانی ہے ، لہٰذا انسان کو دنیا کی چیزوں میں دل نہیں لگاناچاہئے ، بلکہ محض ضرورت کے مطابق ان سے فائدہ اٹھاناچاہئے انسان کا آخری مقام اللہ کے پاس ہے ، اس کی فکر کرنی چاہئے فرمایا افلا تعقلون کیا تم عقل نہیں رکھتے ؟ دنیا و آخرت کا تقابل پیش کردیا ہے ۔ اب غور و فکر کر کے ان میں سے انتخاب کرنا تمہارا کام ہے ، دنیا کی زندگی پر مفتون ہو کر آخرت کو فراموش کردینا بد بختی کی علامت ہے۔