27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس یہ آیتیں ہیں قرآن پاک کی اور کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

جو ہدایت اور خوش خبری ہے ایمان والوں کے لیے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

اور جو قائم رکھتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰۃ ، اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، ہم نے مزین کردیئے ہیں ان کی نظروں میں ان کے اعمال ، پس وہ سرگرداں پھرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے ، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہوں گے

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور بیشک آپ کو سکھلایا جاتا ہے قرآن حکیم اور علیم پروردگار کی جانب سے

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور بنیادی مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ پہلے نمبر پر قرآن کریم کی حقانیت و صداقت کا مضمون ہے ۔ اللہ کی یہ کتاب علم کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔ اس میں توحید کا مضمون بھی آئے گا ۔ مگر گزشتہ سورة کی نسبت کچھ زیادہ دلائل توحید کے ساتھ ساتھ شرک اور مشرکین کا رد بھی آئے گا ۔ رسالت کے ضمن میں منکرین کے شکوک و شبہات کا ازالہ ہوگا اور پھر چوتھا اہم مضمون وقوع قیامت بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوگا ۔ ان چار بنیادی مضامین کے علاوہ اس سورة مبارکہ میں اللہ نے بعض انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر بھی کیا ہے ۔ پچھلی سورة میں انبیاء کا تذکرہ تسلی کے مضمون کے طور پر ہوا تھا کہ اللہ نے کس طرح سابقہ نافرمان اقوام کو ہلاک کیا اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو کامیاب بنایا ، اب اس سورة میں بعض انبیاء کا تذکرہ اللہ کی قدرت کاملہ کے نمونہ کے طور پر کیا گیا ہے ، مثلاً حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ایک چیونٹی کا واقعہ بیان ہوا ہے ۔ صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کا ذکر ہے ، وہ بھی اللہ کی قدرت کا نمونہ تھی ، بلکہ سبا کا ذکر ہے جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر ایمان لائی ، اس کے علاوہ بھی اللہ کی وحدانیت کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں ۔ جنہیں دیکھ کر ہر عقل مند آدمی توحید خداوندی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ بعض ذیلی مضامین اور مسائل بھی اسی سورة مبارکہ میں آگئے ہیں ۔ حروف مقطعات یہ سورة مبارکہ بھی حروف مقطعات طس سے شروع ہوئی ہے ۔ ان حروف کے بارے میں زیادہ بہتر بات وہی ہے جو تفسیر جلالین 1 ؎ والے بیان کرتے ہیں اللہ اعلم بمراد بذلک یعنی ان حروف سے اللہ تعالیٰ کی جو بھی مراد ہے ہمارا اس پر ایمان ہے ، یہی طریقہ زیادہ صحیح ہے ، البتہ بعض مفسرین نے تقریب فہم کے لیے اور معترضین کے اعتراضات کے ازالے کے لیے ان حروف کے کچھ معافی بھی ذکر کیے ہیں ، اسی سلسلے میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ، حضرت علی ؓ اور بعض دوسرے اکابرین کے اقوال موجود ہیں ۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے کشفی طور پر یہ بات سمجھائی ہے کہ حروف مقطعات حقیقت میں سورة کا اجمالی عنوان ہوتا ہے۔ جس طرح علمی ڈگریوں بی اے ۔ ایم اے ۔ پی ایچ ڈی وغیرہ حروف میں وسیع معانی پائے جاتے ہیں ، اسی طرح قرآن پاک میں مذکورہ حروف مقطعات بھی اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتے ہیں ۔ شاہ صاحب (رح) اپنی کتاب شرح حزب البحر میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس طرح مفتی ، قاضی ، عالم ، فقیہ وغیرہ محض انضرادی الفاظ نہیں بلکہ ان کے نیچے وسیع مفہوم ہوتا ہے جس کو عام طور پر سمجھا جاتا ہے ، اسی طرح حروف مقطعات سورة کا جمالی مضمون ہوتا ہے ۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ طس میں منازل الانبیاء یعنی انبیائے کے منازل و مراتب کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس کائنات میں اللہ کا پیغام ہدایت کس طرح پہنچاتے رہے اور ان کے ساتھ کیا کیا واقعات پیش آتے رہے۔ بعض فرماتے ہیں طس میں ط سے مراد طیبات الاثبار یعنی پاکیزہ خبریں اس سے مراد سنی و یعنی خدا تعالیٰ کی عزت اور بلندی ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر پاکیزہ خبریں اور اللہ تعالیٰ کے اعلی وارفع مقام کے متعلق معلومات حاصل کرنے چاہتے جو تو اس سورة مبارکہ کو پڑھ لو بعض فرماتے ہیں کہ طس سے مراد طرق السعادت ہے۔ 1 ؎۔ جلالین ص 4 ( فیاض) یعنی اگر سعادت اور نیک بختی کے راستے معلوم کرنا چاہتے ہو تو اس سورة کی تلاوت کرو۔ بہر حال یقینی طور پر تو کوئی بھی معنی متعین نہیں کیا جاسکتا ، محض انسانی اذہان کو قرآن کریم سے قریب تر کرنے کے لیے مفسرین نے بعض معانی بیان کیے ہیں واللہ اعلم بالصواب۔ قرآن پاک کی تبیین ارشاد ہوتا ہے تلک ایت القرآن و کتب مبین یہ آیتیں ہیں قرآن پاک اور کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی ، قرآن کی تبیین کبھی خود قرآن کی زبان سے ہوتی ہے اور کبھی اللہ کے نیب کی زبان سے ، اگر کی مسئلہ میں قرآن کریم کے ایک مقام پر اجمال ہے تو دوسرے مقام پر تفصیل ہوگی ۔ اس طرح گویا قرآن اپنی تفصیل آپ بیان کرتا ہے اور اگر کسی معاملہ میں ایسا نہ ہو تو پھر نبی کے واسطے وضاحت کردی جاتی ہے ۔ سورة النمل میں موجود ہے وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ( آیت : 44) ہم نے یہ نصیحت نامہ ( قرآن) آپ کی طرف اتارا ہے تا کہ اے پیغمبر ﷺ ! آپ لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کردیں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے ، گویا اللہ نے تبیین کا کام اپنے نبی کے ذمے لگایا ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ حضور ﷺ نے اس فرض منصبی کو برطریق احسن جام دیا ۔ امام شافعی (رح) ، شاہ ولی اللہ (رح) اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے یہی نتیجہ نکالا ہے ۔ حضرت مولانا گنگوہی (رح) اس کا لب لباب تو یہ بیان کرتے ہیں ’ ’ پس صحیح حدیث شرح ہے قرآن کی “ یہ صحیح حدیث کی بات ہے جو صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہو وگرنہ یہاں پر غلط ، موضوع اور ضعیف حدیث سے حجت قائم نہیں کی جاسکتی ۔ اگر قرآن پاک کی تبیین ان دو طریقوں سے نہ ہو سکے تو پھر صورت یہ ہے کہ متعلقہ مسئلہ اجتہاد کے ذریعے حل کیا جائے اور یہ طریقہ خود قرآن نے پیش کیا ہے ، یعنی اگر مسئلہ میں قرآن و سنت خاموش ہوں اور صحابہ کرام ؓ کے اجماع میں بھی حل نہ پایا جاتا ہو تو پھر معاملہ مجتہدین کے سامنے پیش کیا جائے گا جو اس کا حل غور و فکر کے بعد پیش کردیں گے ۔ سورة النساء میں اللہ تعالیٰ نے اسی اصول کو بیان کیا ہے لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم ( آیت : 38) تو پھر اسے اہل علم کے سامنے پیش کرو جو تحقیق کر کے مسائل کو حل کرنے کے اہل ہیں ۔ اسی لیے اصول فقہ والے شرح کی چار دلیلیں بیا ن کرتے ہیں ۔ اولاً کتاب اللہ ، ثانیا ً ، سنت رسول اللہ ، ثالثا ً اجماع صحابہ ؓ اور رابعا ً قیاس مجتہدین ، صرف دائو د ظاہری چوتھی دلیل قیاس کے قائل نہیں ۔ باقی تمام محدثین اور فقہاء ان چار دلائل شروع کو تسلیم کرتے ہیں۔ قرآن بطور ہدایت اور بشارت فرمایا یہ آیتیں ہیں قرآن اور کتاب مبین کی ھدی و بشری للمومنین جو ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لیے قرآن پاک مجسم ہدایت ہے ، زندگی کے جس موڑ پر بھی ضرورت پڑے ۔ ہدایت فراہم کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اس راستے پر چلو گے تو فلاح نصیب ہوگی ۔ یہاں پر ہدایت اور خوش خبری کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے جبکہ دوسری جگہ بینات اور ہدایت کا اکٹھا ذکر ہے ان للذین یکتمون ما انزلنا من البینت ولھدی ( البقرہ : 951) بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں بینات اور ہدایت کو بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کیلئے واضح چیز کو کہتے ہیں جسے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور ہدایت وہ ہے جو استاد سے سیکھنی پڑتی ہے ، خود رومفسر یا گمراہ فرقے اسی لیے پیدا ہوئے ہیں کہ انہوں نے بغیر استاد سے سیکھے از خودسمجھنے کی کوشش کی ۔ امام بخاری (رح) نے کتاب الایمان 1 ؎ میں ذکر کیا ہے انما العلم بالتعلم یعنی علم سیکھنے سے آتا ہے ، خود بخود نہیں آجاتا ، اس کے لیے وقت ، محنت اور مال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سلف نے تو تحصیل علم کے لیے بڑ ی بڑی محنتیں کی ہیں اور اپنی عمر کا حصہ صرف کیا ہے تب جا کر علم کی دولت حاصل ہوئی ہے ۔ امام یوسف کا مقولہ ہے العلم لا یعطمک بعضہ حتی تعظیہ کلک جب تک تم اپنا سارے کا سارا علم کے لیے وقف نہ کرو ، علم تمہیں اپنا کچھ حصہ بھی نہیں دے گا ۔ علم اور عمل علم کا مقصود عمل ہے ، محض اسلامیات کرلیا ، مگر داڑھی صاف ، اور ویسا ہی بےنماز سو اس ڈگری کا کیا فائدہ اگر علم کے مطابق اعمال کا جائزہ نہیں لیا تو یہ علم محض پروفیسری کے لیے ہے اس کی حقیقت کچھ نہیں ، کہنے کو تو سب کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی سیرت پر عمل کرو ، غریب پروری کرو ، دوسروں کو مشورہ دیتے ہو مگر دولت مند ہونے 1 ؎۔ بخاری ص 61 ج 1 ( فیاض) کے باوجود خود ایسا کیوں نہیں کرتے ؟ حضور ﷺ سادہ لباس پہنتے تھے ۔ تم کیوں تکلیف کرتے ہو ؟ آنحضرت (علیہ السلام) معمولی مکان میں رہتے تھے ۔ سادہ غذا استعمال کرتے تھے ، مگر تم نے پر آسائش مکان اور پر تکلف خوراک کا کیوں انتظام کررکھا ہے شادی اور غمی کی رسومات میں حضور ﷺ کی سیرت پر عمل کیوں نہیں کرتے ؟ دوسروں کو روزہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں مگر خود چھوڑ دیتے ہو ؟ آخر یہ قول و فعل کا تضاد کیوں ہے ؟ جب تک علم کے ساتھ عمل نہیں ہوگا ، تمہارا علم تمہیں کچھ نفع نہیں دے سکتا ۔ ہمیشہ اپنا محاسبہ کیا کرو کہ کیا تم میں ایمان والوں کی فکر اور عمل کا جذبہ موجود ہے ؟ اگر نہیں ہے تو اپنا انجام خود سوچ لو۔ نماز اور زکوٰۃ فرمایا قرآن پاک ہدایت اور خوش خبری ہے ایمان والوں کے لیے اور ایمان والے وہ ہیں الذین یقیمون الصلوٰۃ جو کہ نما کو قائم رکھتے ہیں ، نماز اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اجتماعی عبادت ہے ، نماز کی ادائیگی سے تعلق باللہ درست ہوتا ہے جو شخص پانچ وقت خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے ، سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرتا ہے ، آئندہ کے لیے نیکی کا عہد کرتا ہے تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست رہے گا ، اگر ایسا نہیں ہے تو نہ صرف تعلق باللہ خراب ہوگا بلکہ دنیا میں مخلوق کے ساتھ بھی تعلقات بگڑ جائیں گے ، لہٰذا ایمان والے لوگ وہ ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں ، نماز کے لیے طہارت کی ضرورت ہے ۔ طہارت فکر کی بھی ہوگی جسم ، لباس اور مکان کی طہارت بھی ہوگی ۔ نمازی کو یہ چیزیں خود بخود حاصل ہوجائیں گی۔ پابندی وقت کا زریں اصول بھی نماز کا ثمرہ ہے ۔ قرآن کریم نبی کی ذات ، خانہ کعبہ اور نماز بڑے بڑے شعائر اللہ ہیں جن کی تعظیم ضروری ہے ، لہٰذا نماز کا احترام اور اہتمام ہونا چاہئے ۔ فرمایا ایمان والوں کی دوسری صفت یہ ہے ویوتون الزکوۃ کرو وہ زکوٰۃادا کرتے ہیں مکی زندگی میں زکوٰۃ قرض ہوچکی تھی مگر اس کا نصاب مقرر نہیں ہوا تھا جو کہ 3؁ھ میں مدنی زندگی میں ہوا بایں ہمہ زکوٰۃ کا ہم قرآن کی ابتدائی سورتوں میں بھی ملتا ہے جیسے سورة المزمل میں ہے واقیمو الصلوٰۃ الزکوٰۃ (آیت : 2) نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، گویا مکی زندگی میں بھی کچھ نہ کچھ زکوٰۃ ادا کی جاتی تھی۔ آخرت پر ایمان فرمایا ، اہل ایمان کی تیسری صفت یہ ہے کہ فھم بالاخرۃ ھم یوقنون کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ توحید اور آخرت کا عقیدہ ہمیشہ ہمیشہ ساتھ چلتے ہیں ۔ جہاں یومنون باللہ آتا ہے وہاں والیوم الاخر بھی آتا ہے ۔ اگر کوئی شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا ، بعث بعد الموت کو بر حق نہیں جانتا ، محاسبہ اعمال پر ایمان نہیں ہے تو اس کے سارے اعمال بیکار محض ہیں۔ ان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ فرمایا آن الذین لا یومنون بالاخرۃ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ربنا لھم اعمالھم ہم نے ان کے اعال ان کے لیے مزین کردیئے ہیں ۔ ان کے برے اعمال بھی ان کو اچھے کر کے دکھائے جاتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ نے تزئین اعمال کو اپنی طرف منسوب کیا ہے ، اس لحا ظ سے کہ تمام قوی اور خواہشات اللہ تعالیٰ ہی انسان میں پیدا کرتا ہے اور دوسری طرف یہی کام شیطان کے ساتھ منسوب کیا ہے ۔ وزین لھم الشیطن ما کانوا یعملون ( الانعام : 34) اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کر کے دکھایا۔ ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی کی کہ تم جو کچھ دھوکہ ، فریب ، شرک ، بد عت ، کفر رسوم باطل ادا کر رہے ہو ۔ بالکل ٹھیک کر رہے ہو ۔ اسی میں تمہاری عزت و ناموس کا راز پنہاں ہے ، تو فرمایا کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، ہم نے ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے فھم یعمھون کہ وہ سرگرداں پھر رہے ہیں۔ انہیں راستہ دکھائی نہیں دیتا اور وہ عمیق گمراہی میں بھٹک رہے ہیں ۔ منکرین معاد کے لیے عذاب ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولئک الذین لھم سوء العذاب کہ ان کے لیے بہت برا عذاب ہوگا ۔ وھم بالاخرۃ ھم الا خسرون اور وہ آخرت میں انتہائی نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا آخرت پر ایمان ہی نہیں ہے وہ آخرت کی تیاری کیا کریں گے اور پھر وہاں کامیاب کیسے ہوں گے ؟ ان کے لیے تو وہاں سراسر نقصان ہی نقصان ہوگا۔ آگے پھر نزول قرآن کے متعلق فرمایا وانک لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم اور بیشک آپ کے خدا نے حکیم اور علیم کی طرف سے قرآن کریم کا تحفہ دیا جا رہا ہے ۔ یہ قرآن ایسے پر حکمت خداوند قدوس کی جانب سے ہے جس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہی ہے ۔ قرآن پاک کی اہمیت کو اجاگر کرنا مقصود ہے کہ یہ قرآن کوئی معمولی چیز نہیں ہے یا کسی معمولی ذات کی طرف سے نازل نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس کو نازل کرنے والا حکیم اور علیم باری تعالیٰ ہے اور یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہدایت اور خوش خبری ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان لائے ہیں ، دوسرے لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے تحقیق میں نے محسوس کی ہے آگ ، عنقریب میں لاتا ہوں تمہارے پاس آگ سے خبر یا لاتا ہوں میں تمہارے پاس شعلہ سلگا کرتا کہ تم سینک سکو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پس جب آئے اس ( آگ) کے پاس ( موسیٰ علیہ السلام) تو آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اس پر جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے ، اور پاک ہے اللہ تعالیٰ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ (علیہ السلام) بیشک میں وہ اللہ ہوں عزیز اور حکیم

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور ڈال دو اپنی لاٹھی کو ، جب دیکھا اس کو کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا کہ وہ سانپ ہے تو پشت پھیری ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) اور مڑ کر نہ دیکھا ( اللہ نے فرمایا) اے موسیٰ (علیہ السلام) ! خوف نہ کھائو بیشک نہیں خوف کھاتے میرے پاس رسول

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

لیکن جس نے زیادتی کی ، پھر تبدیل کیا اس کو نیکی سے بعد برائی کے ، پس بیشک میں بخشش کرنے والا اور مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور داخل کرو اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ، نکلے گا وہ سفید بغیر کسی برائی کے ، یہ نو نشانیوں میں فرعون اور اس کی قوم کی طرف بیشک وہ نافرمانوں کی قوم ہے

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پس جب آئیں ان کے پاس ہماری نشانیاں بصیرت پیدا کرنے والی ، تو کہا انہوں نے کہ سحر ہے کھلا

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور انکار کیا نہوں نے اس کا ، حالانکہ یقین کیا اس کے بارے میں ان کی جانوں نے ( مگر انکار کیا) ظلم اور تکبر کی بناء پر ، پس دیکھو کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا

ربط آیات سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے تسلی بھی ہے اور اللہ کی قدرت کا نمونہ بھی ، دوسری طرف اللہ نے نافرمانوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے جنہوں نے ظلم اور تکبر کی بناء پر اللہ کی طرف سے آمدہ ہدایت کو ٹھکرا کر گمراہی کو قبول کیا ، اللہ نے اشارتا ً ان کا انجام بھی بیان فرمایا ہے۔ مدین سے مصر کا سفر ارشاد ہوتا ہے ، اس وقت کو دھیان میں لائو اذ قال موسیٰ لا ھلہ جب کہ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے یہ واقعہ مدین سے مصر واپس آتے ہوئے دوران سفر پیش آیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعونیوں کے حالات قرآن پاک میں مختلف انداز میں بیان ہوئے ہیں کبھی آپ کا واقعہ ابتدائی زندگی سے شروع ہوتا ہے اور کبھی درمیان سے ، گزشتہ سورة الشعراء میں بھی آپ کا ذکر اس وقت سے شروع ہوا تھا جب آپ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پا س تبلیغ حق کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا اب بس مقام پر واقعہ تھوڑا پیچھے سے شروع کیا گیا ہے ایک قبطی کے قتل کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) مدین چلے گئے ۔ وہاں دس سال تک حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر رہے پھر آپ نے اپنی والدہ اور بھائی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو شعیب (علیہ السلام) نے اجازت دے دی اور آپ کی بیوی کچھ بکریاں اور خادم بھی ہمراہ کر دے ، سردی کا موسم تھا ۔ رات کے وقت آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، مگر چقاق نے اپنا کام نہ کیا ۔ آپ نے دور سے آگ سلگتی ہوئی دیکھی تو وہاں جانے کا ارادہ کیا ۔ اس موقع پر آپ نے اپنے گھر والوں سے یا شاید کوئی بچہ بھی ہو ، آپ نے ان سے فرمایا انی انست ناراً میں نے دور آگ محسوس کی ہے ، لہٰذا تم لوگ یہیں ٹھہرو۔ ساتیکم منھا بخیر میں وہاں سے تمہارے لیے کوئی خبر لاتا ہوں ۔ ظاہر ہے کہ راستہ صحیح پر معلوم نہیں تھا ، آپ نے سوچا کہ جہاں آگ جل رہی ہے وہاں کچھ لوگ ہوں گے جن سے راستہ بھی معلو کیا جاسکے گا اس لیے آپ نے فرمایا کہ میں کوئی خبر لاتا ہوں ای اتیکم بشھاب قبس یا آگ کا کوئی شعلہ سلگا کر تمہارے پاس لاتا ہوں لعلکم تضطلون تا کہ تم اسے سینک سکو ، ظاہر یہ کہ شدید سرد رات میں گرمی کی ضرورت بھی محسوس ہو رہی تھی ، چونکہ چقماق نے آگ نہیں پکڑی تھی اس لیے آپ نے وہاں سے کوئی شعلہ لا کر آگ جلانے کا ارادہ ظاہر فرمایا ۔ آگ سینکنے کی ضرورت ہر سرد علاقے میں پڑتی ہے ۔ طور کا علاقہ بھی سرد علاقہ ہے جہاں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، ویسے بھی عربی کا مقولہ ہے النار فاکھۃ الشتاء فمن رد الکل الفوا کہ شاتیا فلیصطلی آگ موسم سرما کا پھل ہے ، جو کوئی یہ پھل کھانا چاہے اسے چاہئے کہ آگ سینک لے ، بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو ، میں کوئی راستے کی خبر لاتا ہوں آگ جلانے کے لیے کوئی شعلہ ہی سلگا لاتا ہوں۔ با برکت آگ فلما جاء ھا پس جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس آئے تو دی ان بورک من فی النار تو آپ کو آواز دی گئی کہ برکت دی گئی اس کو جو اس آگ کے اندر ہے ۔ ومن حولھا اور جو اس کے ارد گرد ہے ۔ من موصولہ ہوتا ہے اور معنی یہ بنتا ہے کہ آگ کے اندر کون ہے ؟ تا ہم مفسرین کرام نے اس جملے کی تشریح مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے ۔ بعض مفسرین اس من کو تصور کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جملے کا معنی یہ ہے کہ آگ اور اس کے ارد گرد میں برکت دی گئی ہے یعنی آگ اور اسکا ماحول بابرکت ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ آگ کے اندر فرشتے تھے جن سے آگ ظاہر ہو رہی تھی اور جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ با برکت تھے ۔ اور بعض اس کا معنی یوں کرتے ہیں کہ برکت دی گئی ہے اس شخص کو جو آگ کی تلاش میں آیا ہے ، اس سے خود موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات مراد ہے اور وہ خطہ بھی با برکت ہے ۔ جہاں یہ آگ نظر آ رہی تھی سورة طہٰ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے موسیٰ ! میرے تیرا پروردگار ہوں اپنے جوتے اتار دو انک بالود لمقدس طوی ( آیت : 21) کیونکہ آپ طوی کی مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں یہ جوتے اتارنے کا حکم ایسا ہی ہے جیسے مسجد جیسی پاکیزہ جگہ پر جوتے اتارنے کا حکم ہے ، بعض اس کو حجاب ناری یا نوری کہتے ہیں ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے حجابہ النار او النور خدا تعالیٰ کا حجاب نار ہے یا نور ہے اگر اللہ تعالیٰ اس حجاب کو ہٹا دے تو کائنات کی ساری چیزیں جل جائیں ۔ اللہ کی نگاہ تو ہر چیز پر پڑ رہی ہے ، اگر یہ حجاب دور ہوجائے تو کوئی چیز بھی سلامت نہ رہے۔ عقید ہ حلول کی نفی بہر حال مفسرین کرا م فرماتے ہیں کہ من فی النار سے مراد خود موسیٰ (علیہ السلام) یا فرشتے یا وہ خطہ ہے جس کو اللہ نے با برکت کہا ہے ۔ اسی لیے آگے یہ بھی فرمایا ہے وسبحن اللہ رب العالمین اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو تمام کائنات کا ربی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا تنزیہہ بھی بیان کی گئی کہ کہیں کوئی شخص یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا تعالیٰ خود اس آگ میں حلول کر گیا تھا ۔ خدا تعالیٰ تو زمان و مکان اور جہت سے منزہ ہے ، لہٰذا اس کے حلول کر جانے کا عقیدہ قطعا ً باطل ہے ، یہ عیدہ ہنود میں بھی پایا جاتا ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ بعض چیزوں میں خدا حلول کرجاتا ہے ۔ عیسائیوں نے بھی یہ باطل عقیدہ بنا رکھا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ظہور مسیح (علیہ السلام) کے روپ میں ہوا یعنی نا سوت کے اندر لاہوت داخل ہوگیا ۔ یہ مشر کا نہ عقیدہ ہے اور اسی سے بچنے کے لیے مفسرین کرام نے من سے فرشتے ، موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات مراد لیا ہے خواہ علی ہجویری (رح) نے اپنی کتاب کشف المحجواب 1 ؎ میں ذکر کیا ہے کہ صوفیا کے بارہ فرقے ہیں ۔ ان میں سے دس فرقے اہل حق میں سے اور دو گمراہ ہیں ۔ یہ وہی گمراہ فرقے ہیں جو حلولی عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی پیغمبر ، ولی یا بزرگ کی شکل میں حلول کرسکتا ہے ۔ 1 ؎۔ کشف المحجوب فارسی ص 381 ( فیاض) بعض وحدت الوجود والوں کا عقیدہ بھی ایسا ہی ہے ، اس میں بھی کئی طبقے ہیں ۔ بعض اہل حق ہیں اور بعض گمراہ اور زندیق ہیں بہر حال حلولی عقیدہ باطل ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آنے والی آ گ تو آواز سنانے کا ایک ذریعہ قتی نہ کہ خود خدا تعالیٰ اس میں حلول کر گیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب اس ابتدائی آواز کے بعد دوسری آواز سنائی دی ۔ اللہ نے فرمایا یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں عزیز اور حکیم ۔ بعض آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز بےکیف تھی ۔ اس کی کوئی جہت نہیں تھی جبکہ ہر ذرے ذرے سے آواز سنائی دے رہی تھی ، پھر الہل نے حکم دیا والق عصاک اور اپنی لاٹھی کو نیچے پھینک دیں ۔ تعمیل حکم میں موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی پھینک دی فلما راھا تھن کا نھا جان پھر جب آپ نے اس کی طرف دیکھا تو گویا کہ وہ سانپ تھا جو دوڑ رہا تھا ۔ جان پتلے اور لمبے سانپ کو کہتے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی سانپ کا روپ دھار چکی تھی یہ دیکھ رک ولی مدبر اموسیٰ (علیہ السلام) پشت پھیر کر بھاگے ولم یعقب اور آپ نے پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا ، اتنے خوفزدہ ہوئے ۔ اللہ نے آپ کو تشویش کو دیکھتے ہوئے فرمایا یموسیٰ لا تخفف اے موسیٰ (علیہ السلام) ! خوف نہ کھائیں کیونکہ انی لا یخاف ندی المرسلون میرے پاک رسول خوف نہیں کھاتے اللہ کے رسول مقام قرب میں ہوتے ہیں اور ان پر انس ہوتا ہے وحشت نہیں ہوتی ، وہ ڈرتے نہیں الامن ظلم مگر جس سے کوئی لغزش ہوگئی ہو ثم بدل حسنا بع سوء پھر اس نے اس کو اچھائی میں بدل لیا ہو برائی کے بعد فانی غفور رحیم تو میں اس کو معاف کرنے والا اور مہربان ہوں ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک لغزش ہوگئی کہ انہوں نے ایک قطبی کو قتل کردیا ۔ پھر انہوں نے اللہ سے معافی کی درخواست کی تو اللہ نے معاف بھی کردیا ۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا۔ انبیاء پر خوف کا ورود انبیاء (علیہم السلام) پر ورود خوف کے متعلق مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ کھانا پینا ، ہنسنا رونا ، زندگی موت ، خوف اور راحت وغیرہ انسان کے امور طبیعت میں داخل ہیں اور ان کا ورود انبیاء پر بھی ہوتا ہے بعض اوقات کسی دشمن کا خوف ہوتا ہے کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے تو ایسے مواقع پر خوفزدہ ہونا کمال کے منافع نہیں ہے بلکہ عین فطرت ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ خوف کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک خالق کی جانب سے اور دوسرا مخلوق کی طرف ہے ۔ اگر خوف اللہ کی جانب سے ہو تو نبی کو بھی ڈرنا چاہئے ۔ لاٹھی کا سانپ بن جانا منجانب اللہ تھا لہٰذا موسیٰ (علیہ السلام) کی خوفنزدہ کی بالکل درست تھی ، انہیں ڈرنا ہی چاہئے تھا ۔ خود حضور ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ جب بادل چھا جاتے تو آپ خوفزدہ ہوجاتے ۔ اس خوفزدگی میں کبھی اندر آتے اور کبھی باہر جاتے ۔ جب تک بارش نہیں ہوجاتی تھی ۔ آپ چین سے نہیں بیٹھتے تھے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابر کی آمد خدا تعالیٰ کی جانب سے ہوتی ہے اور میں خوف کھاتا ہوں کہ کہیں یہ ویسے ہی بادل نہ ہوں جیسے قوم عاد پر آئے تھے اور ان کو ہلاک کردیا تھا ، بر خلاف اس کے ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں پھینکے جانے کا وقت آیا تو آپ بالکل خوفزدہ نہیں ہوئے ، کیونکہ یہ خوف مخلوق کی طرف سے تھا۔ بہر حال اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ خوف نہ کھائو کیونکہ تیرے ہاں اللہ کے رسول خوف نہیں کھاتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر پہلا معجزہ یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ پھر اللہ نے دوسرا معجزہ اس طرح ظاہر کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا وادخل یدک فی جیبک اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دبائو تخرج بیضاء یہ سفید ہو کر نکلے گا اور ایسا بیف بھی نہیں ہوگا جو کسی بیماری پھلبہری وغیرہ سے سفید ہوگیا ہو بلکہ من غیر سوء اس میں کسی قسم کی برائی یا خرابی نہیں ہوگی ، بلکہ وہ تو معجزانہ طور پر سورج کی طرح چمکتا ہوگا ۔ اور فرمایا فیی تسمع آیت الی فرعون وقومہ یہ ان نو نشانیوں میں سے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف دی گئیں ۔ اس کے علاوہ سات مزید نشانیاں بھی اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی عطا فرمائیں جن کا ذکر سورة الاعراف 1 ؎۔ مسلم ص 59 ج 1 ص (فیاض) میں موجود ہے ۔ فرمایا یہ نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جائو کیونہ انھم کانو قوما فسقین وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں ، حد سے گزرنے والے یعنی فرمانبرداری سے باہر نکلنے والے ہیں۔ اس مقام پر اپنے ساتھ اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی معیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مفصل سورة الشعراء ، طہٰ اور اعراف وغیرہ میں گزر چکے ہیں ۔ یہاں پر اختصار کے ساتھ یہی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ عصا اور یا بیضا کے معجزات لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جائو اور انہیں حق کی دعوت دو ۔ فرعون کا انکار ارشاد ہوتا ہے فلما جاء تھم ایتنا مبصرۃ جب فرعون اور اس کی قوم کے پاس ہماری بصیرت افروز نشانیاں آئیں ۔ بصارت آنکھ کی روشنی کو کہتے ہیں جب کہ بصیرت دل کی روشنی سے عبارت ہے۔ اسی لیے قرآنی آیات کو بصائر سے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہ دلوں میں روشنی برپا کرتی ہیں ، جب یہ نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کے پاس آئیں قالو ھذا سخر مبین تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو کھلا جادو ہے ۔ پچھلی سورة میں بھی گزر چکا ہے کہ فرعونیوں نے معجزات کو جادو کہا اور پھر جادو کا مقابلہ جادو سے کر نیکی کوشش کی مگر حق کے مقابلے میں ناکام ہوئے مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو نہ چھوڑا ۔ ان نشانیوں کو جادو کہہ کر وحجدوا بھا ان کا انکار کردیا ۔ اور ان کا یہ انکارزیادتی اور تکبر کی وجہ سے تھا کہنے لگے یہ شخص ہماری سلطنت چھیننا چاہتا ہے مگر ہم ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ اس کو قید کردیں گے یا جان سے مار ڈالیں گے۔ یہ ان کا ظلم اور تکبر بول رہا ہے ، درمیان میں اللہ نے فرمایا کہ ان کی اندرونی حالت یہ تھی واستقن تھا انفسھم ظلما ً وعلوا انکی جانوں نے معجزات کی حقیقت کا یقین کرلیا تھا۔ وہ دل و جان سے تسلیم کر رہے تھے کہ یہ جادو نہیں ہے بلکہ کوئی غیر معمولی چیز ہے مگر ظلم و زیادتی اور غرور وتکبر کی بناء پر معجزات کا انکار کر رہے تھے ۔ اللہ نے فرمایا ۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین بھلا دیکھو تو ! فساد کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے سارا ہا سال تک فرعون اور اس کی قوم کو وعظ کیا ، ان کو ان کے برے انجام سے ڈرایا مگر وہ لوگ کفر ، شرک اور ظلم وتکبر میں مبتلا رہے۔ اللہ کے نبیوں کی بات نہ مانی ، پھر وہ وقت بھی آتا جب اللہ نے ساری قوم کو اپنے غضب کا نشانہ بنایا اور ان کو پانی میں غرق کیا ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ذرا دیکھو تو سہی کہ فسادیوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔
Ayahs 27:15–17

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق دیا ہم نے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علم ، اور کہا ان دونوں نے سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں فضلیت بخشی ہے اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور وارث ہوئے سلیمان (علیہ السلام) دائودعلیہ السلام کے اور انہوں نے کہا ، اے لوگو ! سکھائی گئی ہے ہمیں پرندوں کی گفتگو اور دی گئی ہے ہم کو ( ضرورت کی) ہر چیز ، بیشک البتہ یہ فضلیت ہے بہت کھلی

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور اکٹھے کئے گئے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کے لشکر جنوں ، انسانوں اور پرندوں میں سے ، پس ان کو تقسیم کیا جاتا تھا

ربط آیات سورۃ کی ابتداء قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت سے ہوئی ۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت اور ان کو فرعون کی قوم کی طرف بھیجنے کا ذکر ہوا ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بعض نشانیاں لے کر پہنچے تو قوم فرعون نے اسے جادو کہ انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسی خارق عادت نشانی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے نبی کے ہاتھ پر ہی ظاہر ہو سکتی ہے۔ بہر حال انہوں نے ظلم وتعدی اور غرور وتکبر کی بناء پر معجزات کا انکار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایسے فسادیوں کا انجا م بھی تو دیکھ لیا کہ وہ کس طرح غرقاب ہوئے۔ اب آ ج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یہ دونوں باپ بیٹا اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے جن کا ذکر اللہ نے مختلف سورتوں میں کیا ہے ، تا ہم اس مقام میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ حضر ت دائود (علیہ السلام) کی نسبت زیادہ ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) صاحب کتاب رسول تھے اور سلیمان (علیہ السلام) بھی صاحب صحیفہ رسول اور نبی تھے ۔ اللہ نے باپ بیٹا دونوں کو خلافت کے ساتھ ساتھ نبوت بھی عطا فرمائی تھی ۔ گزشتہ آیات میں فرعون کی حکومت کا ذکر بھی ہوچکا ہے مگر وہ اس قدر نافرمان لوگ تھے کہ اللہ نے اس قوم کو فاسق قرار دیا ہے۔ ان کے بر خلاف دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) پر بھی دنیا میں خلیفہ تھے ۔ اللہ نے انہیں حکومت عطا کی تھی مگر وہ اللہ کے نہایت مطیع اور شکر گزار بندے تھے ، یہ سابقہ آیات کے ساتھ ربط بھی ہوگیا ۔ بنیاد کا طعی علم اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا اکٹھا ذکر کر کے فرمایا ہے ولقد اتینا دائود وسلیمن علما ً اور البتہ تحقیق ہم نے دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا ۔ اس علم سے مراد دنیا کا کسی علم نہیں ہے سکولوں ، کا لجوں یا یونیورسٹیوں کے ذریعے سے حاصل کیا جاتا ہے یا جو علم انسان کو سمع بصر جیسے حواس سے حاصل ہوتا ہے یا انسان اپنی عقل سے غور و فکر کرکے کسی نتیجے پر پہنچتا ہے ، بلکہ اس علم سے مراد وہ قطعی اور یقینی علم ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو وحی کے ذریعے سکھاتا ہے۔ اس علم میں نہ تو کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص اس کو سمجھ ہی نہ سکے یا اس کا اپنا دماغ ٹیڑھا ہو اور اسے کوئی چیز ٹیڑھی نظر آئے ۔ وگرنہ یہ ایسا علم ہے جس کے متعلق سورة بقرہ کی ابتداء میں اللہ نے فرمایا ذلک الکتب لا ریب فیہ اس میں تو کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ۔ بہر حال وحی الٰہی کا علم قطعی اور یقینی ہوتا ہے جب کہ اول الذکر کسی علم ظنی ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو احکام شریعت ، اصول سیاست اور حکمرانی کا وہ قطعی علم عطا فرمایا جو ان کے لیے اپنے فرائض سے عہدہ براء ہونے کے لیے ضروری تھا ۔ سورة ص من اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا ہے یدائود انا جعلنک خلیفۃ فی الارض ( آیت : 162) اے دائود (علیہما السلام) ہم نے تمہیں زمین میں خلافت عطا کی ہے ، لہٰذا تم عدل و انصاف کے مطابق مخلوق کی خدمت کرنا ۔ آپ کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) آپ کے بعد آپ کے جانشین ہوئے ، تو دونوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں وہ علم عطا فرمایا جس کی انہیں ضرورت تھی۔ علم کی ضرورت اور اہمیت علم ایک ضروری چیز ہے جسکے بغیر انسانیت ترقی نہیں کرسکتی علم کی روشنی ہی انسان کو منزل مقصود پر پہنچاتی ہے ۔ علم کی کمی انسان کی تنزلی کا سبب بنتی ہے۔ انگریز نے برصغیر میں اپنے اقتدار کے دوران اسلامی علوم کو ختم کرنے یا نہیں اپنے ڈھب پر ڈھال لینے کی بڑی کوشش کی ، مگر اللہ کے نیک بندوں نے اسلامی علوم کے جھنڈے کو ہمیشہ سر بلند رکھا اور اس پر حرف نہیں آنے دیا ۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اس یقین علم کو جڑ اکھاڑ دی گئی اور اسکی جگہ ظنی علم کو رائج کردیا گیا تو پھر حقیقی علم کا ہمیشہ کے لیے جنازہ نکل جائے گا ، چناچہ بانیان دارالعلوم دیو بند نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے دارالعلوم کی بنیاد کھی جہاں سے اب تک چالیس ہزار سے زیادہ علماء پیدا ہوچکے ہیں اور دنیا بھر میں اسلام کے پودے کی آبیاری کر رہے ہیں ۔ یہ دارالعلوم تو ایک بنیاد تھی پھر اس سے آگے ہزاروں چشمے جاری ہوئے ۔ ہزاروں دیگر مدارس قائم ہوئے اور علم کی روشنی مسلم امہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی رہی۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور انشاء اللہ تا قیام قیامت جاری رہے گا ۔ حکومت تو اپنے وسائل مادی تعلیم پر صرف کر رہی ہے مگر اللہ کے نیک بندے حقیقی علم کی نشرواشاعت کے لیے محدود وسائل کے ساتھ ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ بہر حال علم ترقی کا زینہ ہے ۔ خاص طور پر دین کا اتنا علم نہایت ضروری ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنے فرائض سے با خبر ہو سکے اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق اد ا کرسکے ۔ یہی علم ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اس کی عبادت کا طریقہ معلوم ہوتا ہے ۔ حلال و حرام اور جائز ناجائز میں امتیاز پیدا ہوتا ہے تو حید اور شرک کی سمجھ آتی ہے۔ انسان ایمان ، اخلاص اور نفاق کو پہچانتا ہے ، جہاں تک ٹیکنیکل علوم و فنون کا تعلق ہے۔ وہ تو کافر ، مشرک اور ملحد بھی حاصل کرلیتے ہیں ۔ آج امریکہ ، جاپان ، جرمنی ، روس اور چین سب جانتے ہیں کہ ٹیکنیکل علم کوئی علم نہیں بلکہ یہ تو صنعت و حرفت ہے ، جب کہ حقیقت علم وہی ہے جو وحی الٰہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کے ذریعے مخلوق تک پہنچاتا ہے ، تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو حسب ضرورت حقیقی علم عطا فرمایا۔ باپ بیٹے کی طرف سے شکریہ اس یقینی علم کے حصول پر وقالا باپ بیٹے دونوں نے کہا الحمد للہ الذی فضلنا علی کثر من عبادہ المومنین سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں یا اس ذات باری تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضلیت عطا فرمائی۔ یہاں پر تمام ایمانداروں پر فضلیت پائے کا ذکر نہیں بلکہ سے اہل ایمان پر برتری حاصل کرنیکا ذکر ہے ، وجہ یہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر برتری حاصل کرنے کا ذکر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان دو انبیاء سے بھی زیادہ بعض دوسرے انبیاء اور رسل کو برتری عطا فرمائی ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) وغیرہم ، اللہ نے ان حضرات کو اپنے حساب سے بڑا شرف عطا کیا ہے ، لہٰذا یہاں پر بہت سے مومنوں پر فضلیت کا ذکر ہے اور اس تناظر میں غیر مومنوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے۔ انبیاء کی وراثت کا مسئلہ ارشاد ہوتا ہے وورث سلیمن دائود اور سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے ۔ مولانا شیخ الہند (رح) اس جملے کا ترجمہ کرتے ہیں ” قائم مقام ہوا سلیمان دائود (علیہ السلام) کا گویا اس مقام پر وراثت سے مراد مالی وراثت نہیں بلکہ نہایت ہے شیعہ حضرات ایک تو اس آیت سے نبی کی وراثت کی دلیل پڑتے ہیں ۔ حالانکہ یہاں پر وراثت سے مراد محض خلافت ہے دوسری آیت جس سے وراثت انبیاء کی دلیل پکڑی جاتی ہے وہ سورة مریم میں ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یہ درخواست پیش کی فھب لی من لدنک فلیاہ یرثنی و یرث من ال یعقوب ( آیت 5 ، 6) اے پروردگار مجھے ایسا ولی عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے ۔ یہاں بھی کوئی بیٹا اپنے باپ کے مال کا وارث تو ہو سکتا ہے مگر ساری آل یعقوب کا وارث ایک شخص کیسے ہوگا ؟ قرینہ یہی ہے کہ ہاں پر علمی وراثت مراد ہے نہ کہ مالی زکریا (علیہ السلام) نے یہی دعا کی تھی کہ اے اللہ ! مجھے ایسا بیٹا عطا فرما جو میرا اور پوری آل یعقوب کا علمی وارث ہو اور جو ہمارے مشن کو آگے بڑھاسکے۔ حضور ﷺ کے دس صحابہ ؓ جن میں خلفائے راشدین ، حضور ﷺ کے چچا عباس ؓ اور امہات المومنین ؓ شامل ہیں روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکنا صدقۃ ہم نبیوں کا گروہ کسی کو وارث نہیں بنایا کرتے بلکہ جو کچھ ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ محتاجوں کے لیے صدقہ ہوتا ہے ، جو حضور ﷺ کے قبضہ میں خیر یا فدک کی کچھ اراضی تھی۔ جس سے آپ اپنی ضروریات پوری فرماتے تھے ، اس زمین کی تولیت حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے پاس تھی ۔ ان دونوں حضرات میں کچھ اخلاف رائے پیدا ہوا ، تو وہ حضرت عمر ؓ کے پاس آئے ، وہاں پر دوسرے اکابر صحابہ ؓ بھی موجود تھے۔ حضرت عمر ؓ نے ان دونوں حضرت سے قسم دلا کر پوچھا کہ بتلائو حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ ہم انبیاء کا گروہ کسی کو وارث نہیں بناتے بلکہ جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ، تو دونوں بزرگوں نے اس حدیث کی تصدیق کی ، چناچہ شیعہ حضرات کی طرف سے حضرت فاطمہ ؓ کے حق میں نبی (علیہ السلام) کی وراثت کا دعویٰ معنی بر حقیقت نہیں ۔ یہ درست ہے کہ جب تک حضرت فاطمہ ؓ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے اپنے باپ کی وارثت کا مطالبہ کیا مگر جب آپ نے حضرت فاطمہ کو مذکور حدیث منافی تو کہنے لگیں فانت اعلم بما سمعت من رسول اللہ ﷺ تو پھر آپ اس چیز کو زیادہ جانتے ہیں جو آپ نے رسول خدا سے سنی ہوئی ہے اس کے بعد آپ خاموش ہوگئیں اور پھر کبھی وراثت کا مطالبہ نہیں کیا ۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی صحیح حدیث میں موجود ہے انما الانبیاء لم یورثوا درھما ولا دینار یعنی اللہ کے نبی درہم یا دینار وراثت میں نہیں چھوڑا کرتے بلکہ ورثوا علما وہ تو اپنی وراثت میں صرف علم چھوڑ کر جاتے ہیں نبیوں کی وراثت علم دین ہوتا ہے ، جس نے دین کا علم حاصل کرلیا اس نے نبی کی وراثت کو پا لیا ۔ انبیاء کی وراثت کے ضمن میں ایک یہ مسئلہ بھی ہے کہ پیغمبر خود تو اپنے غیر ینی کی وراثت حاصل کرتا ہے مگر اپنے بیٹے کو مالی وراثت نہیں دیتا ، چناچہ حضور ﷺ کو اپنے والد حضرت عبد اللہ کی وراثت ملی ۔ طبقات ابن سعد میں موجود ہے کہ آپ کو پانچ اونٹ ، بکریوں کا ایک ریوڑ اور ام ایمن لونڈی وراثت میں ملی ۔ ام ایمن حبشیہ تھیں مگر بڑی صاحب فضلیت خاتون تھیں ۔ انہوں نے حضور ﷺ کو گود میں اٹھایا تھا۔ لہٰذا آپ ان کی بڑی قدر کرتے تھے ، حضور ﷺ نے بڑے ہو کر ان کو آزاد کردیا تھا اور پھر ان کا نکاح حضور ﷺ کے متنبی زید ؓ کے ساتھ ہوا جن سے اسامہ ؓ پیدا ہوئے حضور ﷺ کو باپ بیٹے دونوں سے بڑی محبت تھی۔ دائود (علیہ السلام) کی جانشینی چونکہ دائود (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اس لیے آپ کی مالی وراثت تو سلیمان (علیہ السلام) کو نہیں پہنچی بلکہ آپ کی علمی اور نیابتی وراثت آپ کو پہنچی ۔ قرینہ بھی موجود ہے کہ اگر اس وراثت سے جائیداد کی وراثت مراد ہوتی تو پھر یہ صرف سلیمان (علیہ السلام) کو ہی کیوں پہنچتی ، جب کہ دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے جن میں سے سلیمان (علیہ السلام) سب سے چھوٹے تھے ۔ سارے بیٹے حکومت کے خواہشمند تھے مگر اللہ نے یہ نیابت سلیمان (علیہ السلام) کو عطا فرمائی ، اگر مالی وراثت مراد ہوتی تو سارے بیٹوں کو محروم کر کے صرف ایک کو سب کچھ دے دینا کہاں کا انصاف تھا ؟ حقیقت یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹا آپ کی خلافت کا بار اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔ اس وقت سلیمان (علیہ السلام) کی عمر بارہ یا تیرہ سال کی تھی ۔ دائود (علیہ السلام) نے نیابت کے مسئلہ کو اس شرح حل فرمایا کہ اللہ کے ایک فرشتے نے ایک بند لفافہ لا کر حضرت دائود (علیہ السلام) کو دیا اور کہا کہ آپ مجلس عام میں یہ اعلان کریں کہ آپ کے نبیوں میں سے جو بیٹا اس لفافے میں بند سوالوں کے صحیح صحیح جواب دیگا ۔ وہی میری جانشینی کا حق دار ہوگا ، چناچہ عمائدین سلطنت کی موجودگی میں سارے بیٹوں سے فرمایا کہ یہ امتحان کا لفافہ ہے جو شخص ان سوالات کے جو اباب دے دیگا ، وہی میرا جانشین ہوگا ۔ لفافے میں موجود سوالات اور ان کے صحیح جوابات یہ تھے۔ سوالات صحیح جوابات 1۔ سب سے قریب چیز کون سی ہے ؟ موت 2۔ سب سے بصید چیز کون سی ہے ؟ انسان کے ہاتھ سے نکل جانیوالی چیز 3۔ سب سے مانوس چیز کون سی ہے ؟ جسم بمع روح 4۔ سب سے وحشت ناک چیز کون سی ہے ؟ جسم بغیر روح 5۔ دو قائم چیزیں کون سی ہیں ؟ ارض و سما جو قیامت تک قائم رہیں گی۔ 6۔ دو مختلف چیزیں کون سی ہیں ؟ لیل و نہا ر ، ایک جاتی اور دوسری آتی ہے۔ 7۔ آپس میں دو دشمن چیزیں کونسی ہیں ؟ موت اور حیات 8۔ بہتری انجام والی چیز کون سی ہے ؟ بردباری بوقت غصہ 9۔ بد ترین انجام والی چیز کون سی ہے ؟ غصے کی حالت میں تیزی کا استعمال دائود (علیہ السلام) نے جب بیٹوں کے سامنے یہ سوالات پیش کیے تو ان میں سے کوئی بھی ان کے جوابات نہ دے سکا ۔ سب عاجز آگئے ۔ سلیمان (علیہ السلام) ابھی کم سن تھے اور انہیں خلافت کی خواہش بھی نہیں تھی مگر اللہ نے انہیں بچپن ہی میں فہم و فراست سے نوازا تھا۔ انہوں نے باپ سے عرض کیا اگر اجازت ہو تو ان سوالات کے جوابات میں عرض کروں ۔ اجازت ملنے پر سلیمان (علیہ السلام) نے سوالات کے صحیح صحیح جوابات دے دیئے ، چناچہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جانشینی کا اعلان کردیا جسے تمام عمائدین سلطنت نے سراہا۔ دائود (علیہ السلام) جس دن دائود (علیہ السلام) کی جانشینی کا فیصلہ ہوا ۔ اس سے اگلے روز آپ کی وفات ہوگئی ۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ آپ بڑے با عزت آدمی تھے ، جب بھی گھر سے باہر جاتے باہر سے تکالالگا کر جاتے تا کہ کوئی اجنبی آدمی گھر میں داخل نہ ہو سکے اس روز بھی آپ حسب معمول دروازے کو تالا لگا کر باہر چلے گئے ۔ اس دوران آپ کی اہلی نے کسی اجنبی آدمی کو صحن میں کھڑے دیکھا۔ بڑی حیران اور خوفزدہ ہوئیں کہ یہ شخص اندر کیسے آ گیا حالانکہ باہر تو تالا پڑا ہے۔ اتنے میں حضرت دائود (علیہ السلام) بھی آگئے۔ تالا کھول کر داخل ہوئے تو اجنبی شخص کو صحن میں پایا ۔ پوچھا تم کون ہو اور یہاں کیسے آئے ہو تو اس نے کہا کہ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور جس کے لیے کوئی حجاب نہیں ہے۔ دائود (علیہ السلام) نے کہا پھر بخدا تم ملک الموت ہو ، مرحبا بامر اللہ میں تمہیں اللہ کے حکم سے خوش آمدید کہتا ہوں ۔ پھر آپ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔ سلیمان (علیہ السلام) پر فضل مبین فرمایا سلیمان (علیہ السلام) حضرت دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے وقال یایھا الناس علمنا منطق الطیر اور فرمایا اور اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے واوتینا من کل شیء اور ہمیں ہر چیز دی گئی ہے جو ہمارے حسب حال ہے۔ اس سے اس زمانے اور موجودہ زمانے کے تمام آلات اور سامان مراد نہیں ہیں بلکہ نظام حکومت کو چلانے کے لیے جس جس چیز کی ضرورت تھی ، اللہ تعالیٰ نے عطا کردی اور اس کے ساتھ ساتھ پرندوں کی بولی بھی سکھا دی ۔ فرمایا ان ھذا لھو الفضل المبین یہ کھلی فضلیت والی بات ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہے۔ وحشر لسلیمن جنودۃ من الجن والانس والطیر اور اکٹھے کئے گئے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جنوں ، انسانوں اور پرندوں کے لشکر فھم یوزعون پس ان کو تقسیم کیا جاتا تھا یا روکا جاتا تھا۔ یعنی ہر یہ جنس کی مخلوق الگ الگ ٹولیوں میں کھڑی ہوجاتی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو بےمثال حکومت عطا فرمائی تھی جس کی درخواست انہوں نے خود کی تھی وَہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ (ص : 53) اے اللہ ! مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جسکی مثال نہ مجھ سے پہلے ہو اور نہ بعد میں پیدا ہو ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے جنات ، انسانوں اور پرندوں کے علاوہ ہوا کو بھی مسخر کردیا ۔ وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ (سبا : 21) ہم نے ہوا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا جس کی صبح کی منزل ایک ماہ کی ہوتی تھی اور شام کی منزل بھی ایک ماہ کی آپ کی تخت اور سازو سامان ہوا اڑائے پھرتی تھی ۔ موجودہ زمانے کی محفوظ ترین سواریاں بھی کسی حادثے کے امکان سے خالی نہیں مگر سلیمان (علیہ السلام) کے ہاں کسی خرابی کا کوئی امکان نہیں ہوتا تھا۔ وہ جہاں چاہتے ہوا کہ دوش پر چلے جاتے ۔ پرندوں کی اپنی اپنی بولی ہوتی ہے جسے انسان نہیں سمجھ سکتے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ مگر تم اسے سمجھ نہیں سکتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر یہ بخشی اللہ کا خاص فضل تھا کہ آپ پرندوں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے ، اور پھر جن بھی آپ کے تابع تھے اور آپ کے ہر حکم کی بجا آوری کرتے تھے۔