Ayahs 27:18–19ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرات دائود علیہ اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں بہت سے نیک اور ایماندار بندوں پر فضلیت بخشی ہے۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) کی جانشینی کا ذکر ہوا ۔ پھر انہوں نے لوگوں کے سامنے اللہ کی عطا کردہ نعمت کا اس طرح تذکرہ کیا کہ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی گفتگو سکھائی گئی ہے اور ہمیں ضرورت کی ہر چیز ، عطا کی گئی ہے جو کہ بڑی کھلی فضلیت ہے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کے لشکر اکٹھے کیے جاتے تھے جن سے وہ مختلف مواقع پر کام لیتے تھے ، یہ لشکر انسانوں ، جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھے جنہیں حسب ضرورت تقسیم بھی کیا جاتا تھا۔
منطق ایطہ
گزشتہ آیات میں ایک لفظ منطق الطیر آیا تھا جو خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ پرندوں پر دیگر جانوروں کی گفتگو عام آدمی نہیں سمجھ سکتا ۔ مگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت عطا فرمائی تھی کہ وہ پرندوں کی بولی سمجھ جاتے تھے ۔ پرندوں کے علاوہ حشرات الارض یعنی کیڑوں مکوڑوں کی بولی بھی اللہ نے سکھا دی تھی ۔ جانوروں کی بولیوں پر قدیم زمانے سے تحقیق و تالیف کا کام ہو رہا ہے چناچہ بعض حکماء نے جانوروں کی بولیوں پر کتابیں لکھی ہیں ۔ علم ادب کی سب سے پرانی کتاب کلیلہ دمنہ آج بھی موجود ہے دراصل یہ کتاب تبتی زبان کی تصنیف ہے ۔ وہاں سے یہ کتاب سنسکرت زبان میں منتقل ہوئی ۔ پھر ایران کے کسر ی نے بزرویہ نامی ایک عالم فاضل کو بڑا مال و دولت دے کر ہندوستان بھیجا تا کہ وہ کسی طرح یہ کتاب حاصل کرسکے۔ کہتے ہیں کہ کسریٰ نے سونے کے بیس خچر لا د کردیے تھے اور کچھ آدمی بھی ساتھ بھیجے تھے۔ بہر حال وہ شخص کئی سال تک ہندوستان میں مقیم رہا اور بالآخرکلیہ و منہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ اس نے کتاب کو نقل کیا اور پھر واپس جا کر اسے فارسی زبان میں منتقل کیا کہتے ہیں کہ جب وہ شخص واپس ایران پہنچا تو کسریٰ نے اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا ۔ اس کے اس علمی کا رنامے کے صلہ میں اسے سخت پر بٹھایا اور اس کے سر پر تاج رکھا۔ پھر منشی عبد اللہ ابن مقفع نے بنی امیہ یا بنی عباس کے دور میں اس کتاب کا عربی ترجمہ کیا ۔ آج کل یہ کتاب عربی ادب کے کورس میں شامل ہے اور باقاعدہ پڑھائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد اس کتاب کے تراجم انگریزی ، فرانسیسی ، جرمنی ، روسی اور دیگر زبانوں میں ہوئے ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کتاب میں جانوروں کی زبان سے علم و حکمت اور نصیحت کی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ یہ باتیں بندروں ، گیدڑوں ، ریچھوں ، شیروں اور ہاتھیوں وغیرہ سے منسوب کی گئی ہیں ۔ کلی کہ اور دمنہ بعض گیدڑوں کے نام ہیں۔
دوسری صدی ہجری میں اور جاحظ نے علم الحیوان کے نام سے کتاب لکھی ۔ سات جلدوں پر مشتمل اس ضخیم کتاب ہیں حیوانات سے متعلق بہت سی مفید معلومات ملتی ہیں ۔ مصنف کا نام ابوحنیفہ کا ہم عصر تھا اور معتزلہ فکر رکھتا تھا ۔ اسی طرح چھٹی یا ساتویں صدی ہجری میں امام دسیری (رح) نے حیات الحیوان کے نام پر کتاب لکھی جس میں جانوروں سے متعلق بہت سی معلومات جمع کردی گئی ہیں ۔ اس میں جانوروں سے متعلق حلت و حرمت کے احکام اور کسی جانور کے خواب میں نظر آنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ امام قزوینی (رح) نے عائب المخلوقات کے نام سے کتاب لکھی ہے۔ اس میں بھی جانوروں سے متعلق مفید معلومات ہیں ۔ حضرت شیخ عطاء چھٹی ساتویں صدی ہجری کے بزرگ گزرے ہیں جو تاتاریوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ان کی مشہور کتاب منطق الطیر فارسی زبان میں ہے انہوں نے پرندوں کی زبانی تصوف کی بڑی گہری باتیں ذکر کی ہیں ۔ اس کے بعد بھی حیوانات کے علم نے بڑی ترقی کی ہے۔ خا ص طور پر موجودہ زمانے میں علم الحیوانات میں بڑے تجربات ہوئے ہیں اور دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی انتہائی بلندیوں تک پہنچا ہے۔ اللہ نے اس مقام پر چیونٹیوں کا ذکر ہے۔ چیونٹیاں چھوٹی بھی ہوتی ہیں اور بڑی ہیں ، چھوٹی چیونٹی ( ذرہ) تو بعض خصوصیات کی بناء پر ضرب المثل بن چکی ہے۔ ان چیونٹیوں کے بارے میں جدید دور کے سائنس دانوں نے بڑی تحقیق کی ہے ، چناچہ جدید دور کے مصری مفسر علامہ طنطاوی (رح) نے جواہر القرآن میں ان کا کافی ذکر ہے۔ آپ جدید دور کے عالم تھے۔ 0451ء کے قریب وفات پائی ہے۔ انہوں نے نظام العالم والامم کے نام سے کتاب لکھی ہے جس میں عالم اور امتوں کے نظام میں چیونٹیوں کا ذکر کیا ہے۔ یہ بھی کافی معلومات افزاء کتاب ہے۔
سلیمانی لشکر کا ہادی نمل سے گزر
سلیمان (علیہ السلام) بمع لشکر جا رہے تھے حتیٰ اذا توا علی واد انمل یہاں تک کہ جب وہ وادی نمل میں پہنچے قالت نملۃ تو ایک چیونٹی نے کہا یایھا النمل اد خلوا مسکنکم اے چیونٹیو ! اپنے گھروں ( بلوں) میں داخل ہو جائو ۔ لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالے ۔ وھم لا شعرون ایسی حالت میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو کہ انہوں نے کتنی چیونٹیوں کو پامال کردیا ہے۔ بعض جدید دور کے نام نہاد مفکرین نمل کو چیونٹی نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ نمل ایک قبیلہ تھا جہاں سے سلیمان (علیہ السلام) کا گزر ہوا تھا۔ دراصل یہ لوگ معجزات کے منکر ہیں ، چونکہ اللہ نے چیونٹی کی آواز معجزانہ طور پر سلیمان (علیہ السلام) کو سنوا دی تھی ، اس لیے ایسے لوگ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ اس سے چیونٹیوں کا کوئی قبیلہ تو مراد ہو سکتا ہے مگر انسانوں کا قبیلہ ہرگز مراد نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح سلیمان (علیہ السلام) کو بےمثال حکومت عصا فرمائی تھی ۔ جنات اور پرندے ما تحت کردیئے تھے۔ ہوائوں کو تسخیر کردیا تھا ، اسی طرح یہ چیونٹی کا معجزہ بھی ظاہر کردیا کہ اس نے اپنی ہم قوم چیونٹیوں کو ان کی تباہی سے خبردار کیا تو سلیمان (علیہ السلام) فوراً اس کی بات کو سمجھ گئے۔ پہلے صاف بیان ہوچکا ہے کہ اللہ نے آپ کے متفق علیہ یعنی پرندوں کی بولیاں بھی سکھا دی تھیں ۔ تو ایسی حالت میں آپ کا چیونٹی کی بات کو سن لینا اور سمجھ لینا کون سی عجیب بات جاتی ہے ۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ وھم لا یشعرون کے جملے سے بات بہت بڑا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ باوجود اس کے کہ ہو اور جانور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تابع تھے مگر آپ غیب کا علم نہیں جانتے تھے ۔ غیب خاصہ خداوندی ہے۔ اور وہ اس میں جتنا علم چاہتا ہے کہ کسی کو عطا کردیتا ہے۔ کلی غیب اور علم محیط کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے اور قرآن پاک میں غیر اللہ کے غیب دان ہونے کی واضح طور پر نفی کی گئی ہے ، یہ تو ناچیز چیونٹی بھی جانتی تھی کہ صاحب صحیفہ اور صاحب شریعت رسول ہونے کے باوجود سلیمان (علیہ السلام) غیب دان نہیں ہیں ۔ اسی لیے تو اس نے دوسری چیونٹیوں کو خبردار کیا کہ اپنی بلوں میں گھس جائو ، کہیں سلیمان (علیہ السلام) اور ان کا لشکر بیخبر ی میں تمہیں کچل نہ ڈالے مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کا لشکربڑا مہذب تھا ، لہٰذا ان کی طرف سے قصدا ً کمزور مخلوق کو روند ڈالنے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی ۔ آپ کا لشکر کوئی ایسا لشکر نہیں تھا جو وحشیانہ طور پر ہر سامنے آنے والی چیز کو تباہ کردیتا ، لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ اگر چیونٹیوں کو کوئی نقصان پہنچتا تو ایسا سلیمان (علیہ السلام) کی بیخبر ی کی وجہ سے ہوتا یعنی انہیں پتہ ہی نہ چلتا کہ وہ جس وادی سے گزر رہے ہیں ۔ وہاں ہزارو لاکھوں چیونٹیوں کو لقمہ اجل بنا رہے ہیں۔ عربی زبان میں نملہ کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں جنسوں پر بولا جاتا ہے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو خبردار کیا تھا ، وہ مذکر تھی یا مؤنث ؟ مشہور محدث اور فقیہ حضرت قتادہ (رح) ( 36 ھ 811 ھ) جوتا بعین میں سے ہیں ۔ ایک مجلس میں فرمانے لگے جو جی چاہے پوچھ لو ۔ اس مجلس میں امام ابوحنیفہ (رح) بھی موجود تھے۔ جو اس وقت بھی بچے تھے ۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ حضرت قتادہ (رح) سے یہ سوال کرو کہ جس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر سے خبردار کیا تھا وہ نر تھی یا مادہ ۔ جب یہ سوال پوچھا گیا تو حضرت قتادہ (رح) لا جواب ہوگئے۔ اس پر خود امام ابوحنیفہ نے بتلایا کہ وہ چیونٹی مادہ تھی ۔ اگرچہ بقرہ کی طرح لفظ نملہ بھی مذکر اور مونث دونوں اجناس کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر یہاں نملہ سے قبل قالت کی ضمیر مؤنث ہے ، لہٰذا وہ چیونٹی مؤنث تھی ۔ یہ واقعہ امام رازی نے تفسیر کبیر میں امام صاحب کی کسنی میں سوجھ بوجھ کے سلسلہ میں لکھا ہے۔ جب سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی یہ بات سنی فتبسم ضاحکا من قولھا تو آپ اس چیونٹی کی با ت سے مسکرا کر ہنس پڑے۔ دل میں خیال کیا کہ یہ چیونٹی کتنی بھولی بھالی ہے۔ جو سمجھ رہی ہے کہ میں اس کی بات کو نہ سن رہا ہوں اور نہ سمجھ رہا ہوں حالانکہ اللہ نے مجھے اپنے بہت سے نیک اور ایماندار بندوں پر فضلیت عطا فرمائی ہے اور مجھے جانوروں کی بولیاں بھی سکھا دی ہیں ۔ تبسم کا معنی مسکراہٹ ہے جو ضحک یعنی جنسنے کا ادنیٰ درجہ ہوتا ہے۔ مسکراہٹ صرف لبوں پر پھلتی ہے جب کہ ہنسنے میں دانت بھی ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ البتہ قہقہہ زور سے ہنسنے کو کہتے ہیں جو کہ پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کبھی قہقہہ مار کر نہیں ہنسے ۔ آپ کا معمول تبسم یا زیادہ سے زیادہ ضحک ہوتا تھا۔ قہقہہ غفلت کی علامت ہے ، اسی لیے اگر کوئی شخص نماز کے دوران قہقہہ لگا کر ہنسے تو اس کا وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور نماز بھی فاسد ہو جائیگی۔
چیونٹیوں کا نظام معاشرت
چیونٹی بڑی ذہین مخلوق ہے ۔ اللہ نے ایک درجے تک اس کو بڑا شعور عطا کیا ہے ۔ علم الحیوانات کے ماہرین نے بڑے بڑے تجربات کر کے اس مخلوق کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی ہیں ۔ مثلاً انسانوں کی طرح چیونٹیوں کے بھی خاندان ، قبیلے اور گوتیں ہوتی ہیں ۔ ان کا اپنا نظام حکومت ہوتا ہے۔ باقاعدہ فوج اور پولیس ہوتی ہے جو نظام سلطنت کے نظم و نسق کی ذمہ داری ہوتی ہیں ۔ چیونٹیاں فطری طور پر خوراک کا ذخیرہ جمع رکھتی ہیں تا کہ بوقت ضرورت کام آسکے ۔ فرید وجدی موائرۃ المعارف ، میں لکھتے ہیں کہ چیونٹیوں کی مختلف سلطنتوں کے درمیان جنگ و جدل کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ جب کبھی ایسا موقع آتا ہے تو ابتداء میں چیونٹیوں کی قلیل تعداد آ کر دشمن کی قوت کا اندازہ لگاتی ہے اور پھر حسب ضرورت پور لشکر بیک وقت حملہ آور ہوجاتا ہے۔ چیونٹی اپنے دشمن کو چمٹ کر ایساٹوٹتی ہے کہ چاہے جان چلی جائے دشمن کو چھوڑتی نہیں ۔ اس کے جسم کے پچھلے حصے میں تیزاب کی ٹینکی ہوتی ہے جو بارش کے موسم میں خوب بھر جاتی ہے۔ جنگ کے وقت چیونٹی یہی تیزاب دشمن پر پھینک کر کے اس نقصان پہنچاتی ہے۔ طنطاوی (رح) نے نظام العالم میں لکھا ہے کہ چیونٹیوں کے باقاعدہ قبرستان ہوتے ہیں جہاں یہ اپنے مدد کے دفن کرتی ہیں ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کہیں کوئی چیونٹی مری پڑی ہو تو زندہ چیونٹی اس کو اٹھا کرلے جاتی ہے اور قبرستان میں لے جا کر دفن کردیتی ہے ۔ جس طرح بعض حکومتوں کے موسم سرما اور گرما کے لیے مختلف ہیڈ کو ارٹر ہوتے ہیں ۔ اسی طرح چیونٹیوں کے بھی مختلف موسموں کے لیے مختلف علاقے متقین ہوتے ہیں اور سرمایا گرما میں مقررہ علاقوں میں اقامت پذیر ہوتی ہیں ۔ جس طرح انسانوں کے لیے دودھ دینے والے جانور ہوتے ہیں اسی طرح چیونٹیوں کے بھی خاص قسم کے جانور ہوتے ہیں ۔ ان کے لیے خوراک مہیا کی جاتی ہے اور پھر ان کے جسم سے نکلنے والی رطوبت کو بطور دودھ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بھی تجربات میں آیا ہے کہ اگر کوئی چیونٹی غلطی سے اپنی دشمن کے علاقہ میں چلی جائے اور اس کو جونہی اس بات کا علم ہوتا ہے وہ اپنی ٹانگیں اوپر کر کے پیٹھ کے بل لیٹ جاتی ہے۔ پھر جب اس علاقے والی چیونٹیوں کو اجنبی چیونٹی کے اور آنے کی اطلاع ملتی ہے تو انکی پولیس وغیرہ اس چیونٹی کو اٹھا کر اپنے علاقے سے باہر پھینک آتی ہے ، اللہ نے ان کو حیرت انگیز ذہانت عطا فرمائی ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی بولیاں سکھلائی تھیں ، جو آزاد آپ تک پہنچ جاتی تھی آپ اس کو سمجھ لیتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جانور یا پرندے کی نزدیک دور ساری آوازیں سنانے کا ذمہ نہیں لیا تھا۔ یہ جو آپ نے چیونٹی کی آواز کو سن لیا ، یہ اللہ کی خاص حکمت تھی کہ اس نے اس چیونٹی کی آواز آپ کو سنوادی اور یہ معجزہ تھا ۔ اس لیے تو کسی نے کہا ہے ؎
لو کنت اتیت کلام الحکلی
علمت علم سلیمان کلام النملی
اگر مجھے بھی آجکل یعنی بےزبان جانداروں کی آواز سننے کا علم دیدیا جائے تو میں بھی سلیمان (علیہ السلام) کی طرح چیونٹی کی بات کو سن لوں ۔ شیخ سعدی (رح) نے گلستان میں ذکر کیا ہے کہ ایک ہاتھی بان دریائے نیل کے کنارے اس طرح گنگنا رہا تھا ؎
زیر پایت گر بدانی حال مور
ہم چوں حال تست زیر پائے پیل
اے انسان ! اگر تو جان لے کہ تیرے پائوں کے نیچے چیونٹی کا کیا حال ہوتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے تو خود ہاتھی کے پائوں کے نیچے آجائے۔
چیونٹی کی دعا کی قبولیت
امام ابن کثیر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں قحط پڑگیا ۔ بارش رک گئی ، لوگ بلبلا اٹھے ، چناچہ سلیمان (علیہ السلام) عام لوگ کے ہمراہ شہر سے باہر بارش کی دعا کے لیے نکلے۔ راستے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی اپنے پائو ۔ آسمان کی طرف کر کے دعا کر رہی ہے اللھم انا خلق من خلقک ولا غیر لنا عن سقیک والا تسقنا لھکنا اے اللہ ! ہم بھی تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہیں ۔ ہم تیری سیرابی سے مستغنی نہیں ہیں بلکہ اس کے محتاج ہیں ۔ اگر تو ہمیں پانی نہیں ملائے گا تو ہم ہلاک ہوجائیں گی ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی زبان سے یہ دعا سنی تو تمام لوگوں کو واپس ہونے کے لیے کیا ۔ فرمایا اللہ نے اس چیونٹی کی دعا قبول کرلی ہے ۔ اب ضرور بارش ہوگی ، لہٰذا واپس چلو ، اللہ تعالیٰ اس چیونٹی کی بدولت تمہیں بھی سیراب کردیگا ۔ وادی نمل کے متعلق بعض کہتے ہیں کہ یہ شام کے علاقے میں واقع ہے۔ جب کہ دوسرے اسے طائف شہر سے دس بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر بتلاتے ہیں ۔ وہاں ایک کھلا میدان ہے جس میں ایک معمولی سا مکان بھی ہے۔ طائف کے تاریخی مقامات میں دادی نمل کا یہ میدان بھی ہے ، لوگ سیر کے لیے جاتے ہیں زا حقر صاحب درس عبد الحمید سواتی نے بھی اس کی زیارت کی ہے۔
سلیمان (علیہ السلام) کی دعا
سلیمان (علیہ السلام) اس چیونٹی کی بات سن کر ہنس پڑے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا اس طرح شکریہ ادا کیا قال رب اوزغنی ان اشکر نعمنک التی انعمت علی و علی والذی عرض کیا ، اے میرے پروردگار ! مجھے توفیق عطافرما کر میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےمثال حکومت عطا فرمائی حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں اور جنات کو آپ کے تابع کردیا ۔ آپ کے لیے ہوا مسخر کردی اور جانوروں کو بولیاں بھی سکھا دیں ۔ باپ پر بھی بڑے انعامات کیے کہ انہیں اپنا صاحب کتاب رسول بنایا ۔ آپ کی والدہ بھی نہایت ہی پاکباز ، نیک سیرت ، عابد ہ اور زاہدہ خاتون تھیں ۔ ان کی فضلیت کے لیے تو یہی چیز کافی ہے کہ اللہ نے ان کو دائود (علیہ السلام) کے نکاح میں دیا ۔ آپ فرعون اور ہارون کا حال بھی پڑھ چکے ہیں کہ وہ کس قدر مغرور اور ناشکر گزار تھے۔ جب کہ حضرت دائود سلیمان (علیہما السلام) بےمثال حکومت کے باوجود کس طرح رب العزت کا شکر ادا کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ دعا بھی کہ پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما وان عمل صالحا ً ترمنہ کہ میں ایسا نیک عمل انجام دوں جسے تو پسند کر اور تیری بارگاہ میں مقبول ہو۔ اور جو آخری بات حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کی اس میں ہمارے لیے درس عبرت ہے عرض کیا ، پروردگار ! وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین اور داخل کر مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے نیک بندوں میں ۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ انسان کو اچھی سوسائٹی نصیب ہوجائے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی کہا تھا رَبِّ ہَبْ لِیْ حُکْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ( الشعرائ : 38) پروردگار مجھے حکم عطا فرما اور مجھے نیکو کاروں میں ملا دے۔ سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بھی یہی دعا منقول ہے توفنی مسلما ً والحقنی بالصلحین ( آیت : 101) یا اللہ ! مجھے اسلام کی حالت میں وفات دنیا ، اور مجھے نیکو کاروں کے ساتھ ملا دینا ۔ یہاں پر برحمتک کا لفظ ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ کے جلیل القدر نبی ہونے کے باوجود کس قدرمتواضع اور منکر المزاج واقع ہوئے ہیں اپنے کسی عمل پر اعتماد نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر بھروسہ ہے۔ جب اللہ کا پاک نبی اللہ کی رحمت کا طلب گار ہے تو ہم گنامہ گار کس شمار میں ہیں ۔ ہمیں تو رحمت خداوندی کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔ ہمارے لیے اس میں درس عبرت ہے ۔ ہمیں بھی یہی دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ ! اپنی مہربانی سے ہمارے عقیدوں کو پاک کر دے ، ہمارے اعمال درست ہوں اور ہمیں اچھی سوسائٹی نصیب ہو۔
Ayahs 27:20–31ربط آیات
گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت لی جاتی ہے۔ ریچھ کو تربیت دے کر اس سے کام لیا جاتا ہے۔ پرندوں میں باز اور شکرے وغیرہ سے شکار کیا جاتا ہے۔ گدھے اور خچر وغیرہ خاص بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ قدیم زمانے میں کبوتر سے پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھا ، کتوں کو سیدھا کر کے ان سے شکار کیا جاتا ہے اور وہ چوکیداری کا کام بھی کرتے ہیں ۔ غرضیکہ انسان جانوروں اور پرندوں سے قدیم زمانے سے خدمت لیتے آئے ہیں ۔
ہد ہد کی غیر حاضری
حضرت سلیمان علیہ السلا م کو اللہ نے یہ خاص انعام عطا فرمایا تھا کہ ہوا ، پرندے اور جنات آپ کے تابع کردیے تھے جن سے وہ حسب ضرورت کام لیتے تھے ۔ تو اسی سلسلے میں آج کے درس میں ایک پرندے ہد ہدہ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ سلیمان (علیہ السلام) ضرورت کے مطابق بعض کام بھی ان کے سپرد کرتے تھے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے وتفقدالطیر اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی حاضری لی۔ تفقد کا معنی دیکھ بھال کرنا ، حاضری لینا یا باز پرس کرنا ہوتا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ بھی اپنے ساتھیوں کی یتفقد دیکھ بھال کیا کرتے تھے ، پوچھ گچھ ہوتی تھی کہ کہیں لوگ غافل نہ ہوجائیں بلکہ ہر وقت مستعد رہیں ۔ اسی طریقے سے سلیمان (علیہ السلام) نے ایک موقع پر تمام پرندوں کو جمع کیا ۔ اور ان کی حاضری لی ۔ غالباً اس وقت آپ ہد ہد نامی پرندے سے کوئی کام لینا چاہتے تھے مگر وہ نظر نہ آیا ۔ فقال ما لی لا اری الھد ھد تو آپ نے کہا ، کیا بات ہے کہ مجھے ہد ہد نظر نہیں آ رہا اس پرندے کے متعلق مشہور ہے کہ اللہ نے اس کو ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ اے زیر زمین پانی نظر آجاتا ہے اور یہ اس کی نشاندہی کردیتا ہے ، اس موقع پر بھی سلیمان (علیہ السلام) بمع لشکر کہیں جا رہے تھے ، پانی کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا اور پانی کی تلاش کے لیے ہد ہد کی خدمات ضرورت تھی کہ وہ کسی جگہ زیر زمین پانی کی نشاندہی کرے تو جنات کے ذریعے فوراً نکلوا لیا جائے ، مگر ہد ہدنظر نہیں آ رہا تھا ، کامل ہیر والے نے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا کہ ہد ہدہ کو زمین کے منوں نیچے تو پانی نظر آجاتا ہے مگر زمین کے اوپر اس کے لیے لگایا گیا جال اسے کیوں نہیں نظر آتا ؟ انہوں نے جواب دیا اذا جاء القدر عشی البصر جب اس کی تقدیر آجاتی ہے تو پھر اس کی آنکھ اندھی ہوجاتی ہے اسے قریب پڑا جال بھی نظر ہیں آتا۔ بہر حال سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہدہ کو نہ پا کر کہا کہ کیا بات ہے کہ مجھے ہد ہدہ نظر نہیں آ رہا امر کان من الغائبین کیا وہ غائب یعنی غیر حاضر ہے ؟ کہنے لگے ، اگر ایسی بات ہے لا عذبنہ عذاباً شدید ًا تو میں اسے سخت سزا دوں گا اولا ً بحنہ یا میں اسے ذبح ہی کر ڈالوں گا ۔ اولیا تینی بسلطن ثبین یا اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کوئی کھلی دلیل پیش کرے یعنی اپنی غیر حاضری کا کوئی معقول عذر پیش کرے۔
ہد ہد ایک مشہور جانور ہے جسے عربی ، اردو اور پنجابی وغیرہ میں ہد ہدہ ہی کہا جاتا ہے۔ اس کی لمبی چونچ ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ زمین کو کریدتا رہتا ہے اور وہاں سے کیڑے مکوڑے نکال نکال کر کھاتا ہے۔ مٹیالے رنگ کے اس پرندے کو اللہ نے پرواز کی بڑی قوت عطا کی ہے یہ بڑی لمبی حتیٰ کہ سینکڑوں میل تک کی اڑان کرسکتا ہے مصرا اور فلسطین وغیرہ کے علاقے میں سردی کے موسم میں عموما ً پایا جاتا ہے ، بعض پرندے دور دور سے اڑ کر یہاں بھی آجاتے ہیں ۔ روس اور چین کے علاقے سے بعض چڑیاں سخت سردی سے بچنے کے لیے ادھر آجاتی ہیں اور لوگ ان کا شکار کرلیتے ہیں ۔ اللہ نے انہیں ایسی قوت پرواز بخشی ہے کہ اس میں رکاوٹ پڑنے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا ۔ تھک گئے تو ذرا سستا لیا اور پھر چل پڑے بر خلاف اس کے موجودہ دور کے تیز رفتار ہوائی جہاز اور راکٹ وغیرہ کی اڑان بھی خطرے سے خالی نہیں ہوتی اور آئے دن ان کے حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ ابھی ابھی امریکہ کی چیلنجز نامی شٹل پرواز کے فوراً بعد حادثہ کا شکار ہوگئی جس میں دو عورتوں سمیت سات جانیں ضائع ہوگئیں اور اس خلائی شل میں خرچ آنے والی کروڑوں ڈالر کی رقم ضائع ہوگئی۔ امام دمیری (رح) نے حیات الحیوان میں لکھا ہے کہ ہد ہد حلال جانور نہیں ہے ۔ ابو دائود شریف میں اس کا گوشت کھانے کی ممانعت آئی ہے وجہ یہ ہے کہ یہ پرندہ دانہ دنگا یا سبزی وغیرہ کھاتا نہیں ، محض کیڑے مکوڑے کھاتے ہے ، لہٰذا اس کے گوشت سے بدبو آتی ہے اور ظاہر ہے کہ بد بو دار چیز کا کھانا جائز نہیں ہے اسی طرح اگر روٹی ، سالن یا چاول وغیرہ بدبو دینے لگیں تو ان کا استعمال جائز نہیں رہتا۔
ملکہ سبا کے متعلق خبر
بہر حال سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد کی غیر حاضری کا نوٹس لیا فمکث غیر بعید پس زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ہدہد آ گیا فقال اور کہا احطت بما لم تحط بہ میں نے ایک ایسی بات کا احاطہ کیا جس کا آپ نے نہیں کیا ، یعنی اے سلیمان (علیہ السلام) میں ایک ایسی خبر لایا ہوں جس سے آپ بیخبر ہیں وجئتک من سیا بنیا یقین اور میں آپ کے پاس ملک سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں ۔ چیونٹی کی طرح ہد ہد کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) بےمثال سلطنت کے مالک ہونے کے باوجود علم محیط نہیں رکھتے تھے کہ نہیں ہر چیز کا علم ہوتا ، بلکہ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ملک سبا میں کون حکمران ہے اور وہاں کے لوگوں کا عقیدہ کیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کو بتدریج وسیع فرمایا تھا پہلے فلسطین اور شام آپ کے ماتحت تھے ۔ پھر مصر میں زیر نگیں آگیا اور آخر میں سبا بھی آپ کی سلطنت میں شامل ہوگیا ۔ بہر حال ہد ہدنے سلیمان (علیہ السلام) سے کہا کہ میں ملک سبا ہے یہ خبر لایا ہوں انی وجدت امراۃ تملکھم میں نے وہاں پر ایک عورت کو پایا ہے جو اہل سبا پر حکمرانی کرتی ہے واوتیت من کل شیء اور اسے ہر قسم کا سازو سامان دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ ضرورت کی ہر چیز ا ن کے پاس ہے وہ کسی چیز کی کمی محسوس نہیں کرتے۔ ہر چیز سے یہ مراد نہیں کہ قیامت تک ایجاد ہونے والی ہر چیز ان کے پاس موجود تھی بلکہ اس زمانے کی ضروریات کے مطابق ان کے اپس فوج خزانہ ، غلہ اور تما م ضروریات زندگی مہیا تھیں ، اس کی مثال وہی ہے جو سورة نحل میں ہے۔ اللہ نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ پہاڑوں ، درختوں اور اونچی جگہوں میں گھر بنائو ثم کلی من کل المثرت ( آیت 96) پھر ہر پھل میں سے کھائو ، یہاں بھی ہر پھل سے یہ مراد نہیں ہے کہ دنیا بھر کے پھلوں میں سے لازماً ہر ایک کو کھائو بلکہ جو جو پھل تمہارے مناسب حال ہے اس کو کھائو ، پھولوں کا رس چوسو اور پھر شہد پیدا کرو ۔ ہد ہد نے یہ بھی خحبر دی ولھا عرش عظیم کہ مکہ سبا کے پاس بہت بڑا تخت ہے جس پر بیٹھ کر وہ امو ر سلطنت انجام دیتی ہے ۔ اس تخت کا مفصل حال آگے آ رہا ہے ، تا ہم مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ عظیم تخت اسی ہاتھ لمبا ، پچاس ہاتھ چوڑا اور چالیس ہاتھ اونچا تھا جو کہ نہایت قیمتی زر و جواہرات کے ساتھ مرصع تھا۔۔
سورج پرست قوم
ہد ہد نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے مزید انکشاف کیا ۔ وجد تھا وقومھا یسجدون للشمس من دون اللہ کہ میں نے اس کملہ اور اس کی قوم کو سورج کے سامنے سجدہ کرتے پایا ہے۔ اللہ کو چھوڑ کر گویا کہ قوم سبا سورج پرست مشرک تھی ، حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی تمام چیزیں شجر ، حجر ، چرند ، پرند سب اللہ ہی کی تسبیح بیا ن کرتے ہیں جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وان من شی الا یسبح بحمدہ ( بنی اسرائیل : 44) کائنات کی ہر چیز اسی کی تقدیس بیان کرتی ہے ۔ فطرت صحیحہ کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانا جائے سورج پرستار مصر میں بھی تھے اور ایران میں بھی ، سورج کی پوجا کرنے والے برصغیر میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ کراچی کے مجوسی اب بھی طلوع شخص کے وقت سمندر کے کنارے پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور طلوع کے وقت سورج کو سجدہ اور سلام کرتے ہیں ۔ اسی لیے ہماری شریعت میں سورج کے طلوع و غروب اور عین استوا کے وقت سجدہ کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ بہر حال ہد ہدہ نیب تایا کہ جس قوم کا وہ ذکر کر رہا ہے ، وہ سورج پرست ہے ۔ ملکہ سبا کے متعلق مفسرین اور مؤرخین نے طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں ۔ اس کا اصل نام بلقیس تھا جو سبا پر حکومت کرتی تھیں ۔ کہتے ہیں کہ اس کا باپ کسی سردار کی بیٹی سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں تھا ۔ بالآخر اس نے ایک جنیہ ( جن عورت) سے شادی کی جس سے بلقیس پیدا ہوئی ۔ اللہ نے جنات کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ انسانی شکل میں متشکل ہو سکتے ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ بلقیس کے باپ نے کسی ایسی ہی جن عورت سے شادی کرلی ہو ۔ پھر بلقیس کی نسبت ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کو وہ پسند نہیں کرتی تھی ، لہٰذا اس نے اس شخص کو راستے سے ہٹا دیا اور خود حکمران بن گئی ، یہ سب تفسیری اور تاریخی روایات ہیں ، جن کے متعلق یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا واللہ اعلم ۔ ایسے ہی دیگر حالات وواقعات سے قطع نظر بلقیس ایک ذہین و فطین عورت تھی ۔ اس کے پاس بڑی فوج تھی ۔ پارلیمنٹ اور مصاحب تھے جن سے وہ امور سلطنت میں مشورے کرتی رہتی تھی ۔ ہد ہدنے ایک تو قوم سبا کی سورج پرستی کی خبر دی اور دوسری بات یہ بیان کی وزین لھم الشطین اعمالھم اس مشرک قوم کے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے مزین کر رکھا ہے ، جو کچھ کرتے تھے شیطان اس کی تصدیق کرتا ہے کہ تم بہت اچھا کام کر رہے ہو لہٰذا وہ سورج پرستی سے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچاننے کی بجائے ۔ سورج پرستی کو ہی حقیقت سمجھ رہے ہیں فصدھم عن السبیل اور اس طرح شیطان نے ان کو سیدھے راستے سے روک رکھا ہے ہد ہد نے کہا فھم لا یھتدون وہ ہدایت نہیں پاتے۔ غلط راستے پر چل کر صحیح راستے سے محروم ہوچکے ہیں ۔ مقصد یہ تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) اس مشرک قوم کے خلاف کارروائی کریں۔ بعض پرویز قسم کے دہریے اس سارے مضمون کو پرندے کا بیان تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہد ہد نامی کوئی آدمی تھا جس نے یہ ساری خبر آ کر سلیمان (علیہ السلام) کو دی تھی ، حالانکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر جنات ، پرندے اور ہوا سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیے تھے اور آپ ان سے کام بھی لیتے تھے۔
ہد ہد کی توحید پرستی
ہد ہد نے قوم سبا کے شرک کا ذکر کرنے کے بعد پھر خود ہی توحید کے بعض دلائل بھی پیش کیے۔ کہنے لگا الا یسجدوا للہ الذی یخرج الخب فی اسموات والارض قوم سبا کے لوگ کیوں نہیں سجدہ کرتے صرف اللہ تعالیٰ کہ جو آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جو آسمانوں میں پوشیدہ پانی نازل کر کے اس سے طرح طرح کی سبزیاں اگاتا ہے ۔ زمین کے نیچے سے پانی ، تیل ، لوہا ، سیسہ ، سونا ، چاندی اور دیگر مع دنیات نکالتا ہے۔ ویعام ما تخفون وما تعلنون اور ہر اس چیز کو جانتا ہے ، جس کو تم چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے ۔ وہ قادر مطلق اور علیم کل ہے ۔ ایسے خداوند قدوس کو چھوڑ کر قوم سباسورج کی پوجا کیوں کرتی ہے ؟ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے کیوں سجدہ ریزہ نہیں ہوجاتی ؟ ہد ہدنے مزید کہا اللہ کی ذات وہ ہے اللہ لا الہ الا ھو کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہر قسم کی عبادت کے لائق صرف اور صرف وہی ذات ہے رب العرش العظیم اور عرش عظیم کا مالک بھی وہی ہے 1 ؎ پھر دوسروں کے سامنے کیوں سجدہ کرتے ہیں فقال احطت سے لے کر یہاں سارا بیان ہد ہدکا ہے۔ اس نے ایک طرف قوم سبا کے شرک کی نشاندہی کی تو دوسری طرف دلائل توحید بھی بیان کردیے۔ جب اللہ کی ادنیٰ مخلوق پرندے بھی توحید خداوندی کو تسلیم کرتے ہیں تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کا تو بطریق اولیٰ فرض ہے کہ وہ توحید خداوندی کو تسلیم کرے اور ہر قسم کے کفر اور شرک میں باز آجائے۔
خط بنام ملکہ سبا
ہد ہدکا یہ سارا بیان سننے کے بعد قال سلیمان (علیہ السلام) نے کہا سننظر اصدقت ام کنت من الکذبین ہم ابھی دیکھتے ہیں کہ تو اپنی بات میں سچا ہے یا تو نے جھوٹ بولا ہے ۔ اس سے پیشتر سلیمان (علیہ السلام) ہد ہد کو سخت سزا دینے یا ذبح کر ڈالنے کا اعلان کرچکے تھے تاوقتیکہ وہ کوئی معقول عذر پیش نہ کرے ۔ اب جبکہ اس نے عذر پیش کردیا تو سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہم ابھی تمہاری اس خبر کی تصدیق کیے لیتے ہیں ۔ اور اس کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ہد ہد سے کہنے لگے ۔ اذھب بکتبی ھذا میری یہ چٹھی لے جائو فالقہ الیھم اور اسے قوم سبا کے لوگوں کے سامنے ڈال دو ۔ میرا یہ خط ان تک پہنچائو ثم لول عنھم پھر ان سے پیچھے پلٹ آئو فانظر ما زا یرجعون اور دیکھو کہ وہ اس خطہ کا کیا جواب دیتے ہیں ۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ ہد ہد فوراً خط لے کر ملکہ سبا کے محل پر پہنچا اس وقت گھر کے دروازے تو بند تھے البتہ ایک روشندان کھلا تھا ، جس کے راستے وہ ملکہ کی خوابگاہ میں داخل ہوگیا ۔ خط اس کے سینے کے قریب رکھ دیا اور پھر اسی روشندان کے راستے باہر نکل آیا ۔ جب ملکہ نیند سے بیدار ہوئی تو اس نے اپنے قریب خطہ پڑا پایا ۔ اس نے اپنے تمام دربایوں کو اپنے دربار میں طلب کیا اور ان سے اس طرح گویا ہوئی قالت یایھا الملاء انی القی الی کتب کریم کہنے تھی ۔ اے میرے درباریو ! میرے پاس ایک عزت والا خط ڈالا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ خوبصورت سر مہر۔
1 ؎۔ اس آیت پر قرآن کریم کا آٹھواں سجدہ تلاوت ہے ( فیاض)
لفافے میں عمدہ طریقے سے لکھا ہوا شاہی خط تھا جس سے ملکہ نے اندازہ لگایا کہ یہ کسی معزز شخصیت کی طرف سے آیا ہے ، چناچہ اس نے اسے با عزت فرد قرار دیا اور بتایا انہ من سلیمن یہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے موصول ہوا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اصل مضمون کے علاوہ اس خط میں سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا تعارف بھی کرایا تھا ، اور اس کی ابتداء اس طرح تھی من عبد اللہ سلیمان ابن دائو السلام علی من اتبع الھدی یہ خط اللہ کے بندے سلیمان ابن دائود (علیہما السلام) کی طرف سے ہے اور سلامتی ہو اور اس پر جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔ اس قسم کے تبلیغی خطوط حضور ﷺ کی سیرت میں بھی ملتے ہیں جو آپ نے اطراف کے بادشاہوں اور دیگر اعلیٰ شخصیتوں کو تحریر فرمائے ۔ آپ نے بھی ہر خط کا آغاز من محمد رسول اللہ سے کیا اور آگے 1 ؎ الی ھر قل عصیم الروم وغیرہ لکھا یعنی اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف روم کے عقیم ہر قل کی طرف اور پھر اصل مضمون شروع کرنے سے پہلے السلام علی من اتباع الھدی کے الفاظ بھی تحریر کروائے۔ بہر حال سلیمان (علیہ السلام) نے ایسا ہی خط بلقیس کے امام بھیجا۔
خط کا مضمون
ملکہ سبا نے خط بھیجنے والے کا تعارف کرانے کے بعد اس کا مضمون پڑھنا شروع کیا انہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہ اس خط میں لکھا ہے شروع اللہ کے نام سے جو نہایت بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ۔ گویا مضمون کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے پاک نام کے ساتھ کی اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس مقام پر بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن پاک کی ایک آیت کے طور پر آتی ہے ۔ البتہ قرآن پاک کے ہر نسخہ میں ہر سورة کی ابتداء میں بھی پوری بسم اللہ تحریر ہے ۔ فقہائے کرام کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ہر سورة کی ابتدا والی بسم اللہ قرآن پاک کا حصہ ہے یا نہیں امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس مقام پر آنے والی بسم اللہ کے علاوہ صرف ایک واقعہ قرآن کی آیت ہے اور ہر سورة کی ابتداء میں لکھی جانے والی قرآن کا حصہ نہیں ہے البتہ دیگر حضرات اس مقدم پر بھی اور ہر سورة کی ابتداء والی بسم اللہ کو بھی قرآن کا
1 ؎۔ بخاری ص 4 ج 1 ( فیاض)
حصہ تصور کرتے ہیں ۔ بہر حال خط کا مضمون یہ تھا الا تعلم علی قوم سبا کے لوگو ! میرے سامنے سر کشی اختیار نہ کرو ، میرے مقابلے میں نہ آنا واتونی مسلمین بلکہ اطاعت گزار بن کر میرے پاس چلے آئو ۔ مطلب یہ تھا کہ کفر و شرک کو چھوڑ کر صحیح دین اختیار کرلو ۔ اب اگلی آیت میں اس خط پر ردعمل کا ذکر آ رہا ۔
Ayahs 27:32–35ربط آیات
ہد ہدنے سلیمان (علیہ السلام) کو خبر دی کہ ملک سبا کے لوگ اور خود مکہ سورج پرست ہیں ۔ کفر و شرک میں مبتلا ہیں اور ان کے برے اعمال کو شیطان ان کو مزید کر کے دکھاتا ہے لہٰذا وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرنے سے قاصر ہیں ، نیز یہ کہ وہ لوگ خدائے وحدہٗ لا شریک کے سامنے سجدیہ ریز نہیں ہوتے جو ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے اور مخفی چیزوں کو آسمان و زمین سے نکالتا ہے ، وہی معبود بر حق ہے ، وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ یہ خبر سن کر سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی ہد ہد سے فرمایا کہ میرا یہ خط لے جا کر ملکہ کے سامنے ڈال دو ، پھر دیکھیں گے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں ، چناچہ ہد ہدنے وہ خط ملکہ سبا کو اس کے خاص کمرے میں پہنچا یا خط کا مضمون گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اس کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کیا گیا تھا اور قوم سبا سے کہا گیا تھا کہ تم میرے مقابلے میں نہ آنا بلکہ اطاعت گزار بن کر میرے پاس چلے آئو ۔
ملکہ سبا کی مشورہ طلبی
جب ملکہ نے یہ خط پڑھا تو اس سے اس معاملہ میں اپنے دربایوں سے مشورہ لینا ضروری سمجھا ، چناچہ تمام عمائدین کو دربار میں جمع کر کے کہنے لگی قالت یا ایھا الملواء افتونی فی امر اے سربر آور وہ لوگو ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو ۔ اس مضمون کا خط آیا ہے اب تم بتائو کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے کیونکہ ما کنت قاطعۃ امر حتی تشھدون میں اس معاملہ میں ذاتی طور پر کوئی فیصلہ کرنے کے حق میں نہیں ہوں جب تک کہ تم حاضر ہو کر مجھے مشورہ نہ دو ۔ ملکہ صاحب اختیار تھی اور جیسا کہ آگے آ رہا ہے عمائدین حکومت اس کے ہر حکم کی تعمیل پر کمر بستہ تھے ۔ مگر مل کہ درباریوں کے مشورہ کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ملکہ کا نظام حکومت استبدادی نہیں بلکہ شورانی تھا جو کہ ایک نیک فال ہے۔
ڈکٹیٹر شپ اور مغربی جمہوریت
پرانے زمانے میں ملوکیت یا ڈکٹیٹر شپ عام تھی ۔ بادشاہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا جس کے خلاف نہ کوئی داد ہوتی نہ فریاد ۔ بادشاہ کوئی بھی ملکی فیصلہ کرنے کے لیے کسی وزیر ، مشیر ، دانشور ، عالم ، فقیہ ، سائنس دان کے مشورہ کا پابند نہیں ہوتا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ برسر اقتدار طبقہ غریب ، رعایا پر ظلم و ستم کا بازار گرم رکھتا اور انہیں اپنی آزادی کیلئے سوچنے کا موقع بھی نہ دیتا ۔ آج بھی دنیا میں اس قسم کے نظام موجود ہیں جو حکومت کی پالیسی کے خلاف ایک لفظ تک سننا برداشت نہیں کرتے۔ ایسے لوگ ہوس ملک گیری میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ اگر کسی کے مد مقابل آنے کا شبہ بھی پڑجائے تو اس کو تہس نہس کر کے رکھ دیتے ہیں ۔ روس ، چین اور دیگر کیمونسٹ ممالک میں اسی قسم کی ڈکٹیٹر شپ رائج ہے کبھی روس اور چین مسلمانوں کے گڑھ ہوا کرتے تھے ، مگر بےدین حاکموں نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ، وہاں کی مسجدیں ی گرا دی گئیں ، کتابیں ضائع کردیں اور دینی مدرسے ویران کردیے۔ اب ان ممالک میں آزادی کی لہر پھر اٹھی ہے تو حکمران طبقہ کے بھی ہوش ٹھکانے آنے لگے ہیں ، ان کو بھی آزادی کی صبح طلوع ہوتی نظر آ رہی ہے ورنہ انہوں نے چینی ثقافتی انقلاب کے دس سال بڑی کسمپرسی میں گزرے ، ملوکیت کے زمانے میں امریکہ میں بھی یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ سیاہ فارم مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے اس ملوکیت کی تاریخ ہی یہ رہی ہے کہ اپنے مقابلے میں نہ باپ بیٹے کو برداشت کرتا ہے اور نہ بیٹا باپ کو ، بھائی بھائی کا جانی دشمن بن جاتا ہے اور ہوس اقتدار کے سوا ان کے نزدیک ہر چیز ہیچ ہوتی ہے۔ آج کل دنیا میں جمہوریت (Democracy) کا بڑا چرجا ہے مگر یہ بھی اسلامی نظام حکومت سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ یورپ کی ایجاد کردہ اس لعنت میں آدمیوں کو گنا تو جاتا ہے مگر تولا نہیں جاتا ۔ یعنی ہر عالم ، جاہل ، ہنر مند اور مزدور ایک ہی پلڑے میں ڈال دیئے جاتے ہیں اور پھر فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں ۔ اس نظام میں اہل اور نااہل میں کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا ، اور یہی اس نظام کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ یہ کثرت رائے کا نتیجہ تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ نے دو مربع مردوں کے آپس میں لواطت کے فعل کو جرائم کی فہرست سے خارج کردیا ۔ کسی زمانے میں امریکہ والوں نے کثرت رائے سے یہ قانون منظور کیا تھا کہ شراب کی کشید ، فروخت اور خرید کوئی جرم نہیں ۔ مغربی جمہوریت کی اسی خرابی کے متعلق علامہ اقبال (رح) نے کہا تھا ؎
بترس از طرز جمہوری غلام پختہ کار ے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر انسان نمی آید
ایسی جمہوریت سے دور بھاگو اور کسی اچھے اور پختہ کا ر آدمی کے تابعدار بن جائو کیونکہ دو سو گدھے مل کر بھی ایک انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
اسلامی شورانی نظام
ان دو مذکور نظاموں کے بر خلاف اسلامی نظام حکومت شورانی بھی ہے اور اس میں جمہوری قدریں بھی پائی جاتی ہیں ۔ مسلمانوں کا خلیفہ یا حاکم مستبد نہیں ہوتا ، نہ وہ اپنی من مانی کرتا ہے بلکہ ہر انتظامی معاملہ میں اپنی شوریٰ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے اسلام میں ارباب حل و عقد سے مشاورت اس قدر ضروری ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو بھی اس کا پابند بنا دیا ہے وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ( آل عمران : 951) ایسا معاملہ جس کے متعلق وحی نہ آئی ہو ۔ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرلیا کریں ، پھر جب باہمی مشاورت سے کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے وہ کام کر گزریں ۔ فقہائے کرام اس مسئلہ میں بحث کرتے ہیں کہ اسلامی نظام حکومت میں مشورہ لینا واجب ہے یا محض مستحب جس سے عمائدین کی دلجوئی ہو ۔ مفسر قرآن امام ابوبکر جصاص ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے تحت حاکم کے لیے مشورہ لینا واجب ہے۔ ظاہر ہے کہ خود پیغمبر اسلام کے لیے ضروری ہے ، تو دوسرے لوگ کس شمار میں ہیں البتہ کسی ایسے معاملہ میں مشورہ کی ضرورت نہیں ہے جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں یا پیغمبر نے اپنی زبان سے حل فرما دیا ہو ، مثلاً شراب اور جوئے ، چوری اور ڈکیتی ، جھوٹ اور غیبت و زنا اور لواطت وغیرہ معاملات کے جو زیاعہ و جواز کے لیے کسی مشورے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا فیصلہ تو خود اللہ تعالیٰ نے کردیا ہے ، لہٰذا ایسے معاملات میں اگر ساری دنیا بھی مل کر کسی حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرنا چاہے تو نہیں کرسکتی ، یہاں مشاورت نہیں چل سکتی۔ اسی طرح کرنی چاہئے کہ اس بات پر رائے شماری کر الی جائے کہ نماز پڑھنی چاہئے یا نہیں ، روزہ ضروری ہے یا نہیں ۔ حج ساقط ہو سکتا ہے یا نہیں یا زکوٰۃ کی ادائیگی ہونی چاہئے یا نہیں ۔ یہ طے شدہ معاملات ہیں اور ان پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی مشاورت ایسے معاملات میں ہوگی جہاں وحی اسی خاموش ہوگی یا پیغمبرکا فرمان موجو نہیں ہوگا ۔ یہی اسلامی نظام حکومت کی اصل روح ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ آپس میں مشورہ کرلیا کرو کہ اس میں نقصان نہیں ہوتا بلکہ فائدہ وہی ہوتا ہے جب بہت سے لوگ مل کر اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں تو صحیح بات کھل کر سامنے آجاتی ہے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جس نے مشورہ کیا ۔ وہ کبھی پشیمان نہیں ہوگا ۔ حضور نبی کریم ﷺ خود خلفائے راشدین اور اصحاب حل و عقد سے مشورہ طلب کیا کرتے تھے اور فیصلہ شدہ معاملات پر بھی پیرا ہونے کا حکم ہے۔ وہاں مشورے کی ضرورت نہیں ۔ مشورہ کرنا سے تو موقع محل کی طوالت کے مطابق صلح و جناب کے معاملات میں مشورہ کرو ۔ دوسری اقوام سے تعلقات کے قیام کے لیے آپس میں مشورہ کرو۔ اللہ نے قرآن میں اہل ایمان کی یہ تعریف فرمائی ہے وامر ھم شوریٰ بینھم ( الشوریٰ : 83) ان کے معاملات آپس میں مشاورت سے طے پاتے ہیں۔
درباریوں کا مشورہ
بہر حامل ملکہ سبا نے جب اپنے عمائدین سے مشورہ طلب کیا قالوا نحن اولو قوۃ تو وہ کہنے لگے کہ ہم بڑے طاقتور ہیں ۔ ہمارے پاس فوج اور پولیس ہے جو ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہے۔ رسد و کمک کی بھی کوئی کمی نہیں ۔ ہمارے پاس ماہرین ضرب و حرب موجود ہیں ، لہٰذا واولو باس شدید ہم سخت جنگجو لوگ ہیں ۔ لڑائی میں پشت پھیر کر بھاگنے والے نہیں ہیں ۔ ہم آپ کے ایک اشارے پر جنگ میں کود سکتے ہیں باوجود والامر الیک ظظری ماذا تامرین معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے یعنی جنگ کا فیصلہ کرنا تمہارے اختیار میں ہے ہم تو تعمیل حکم کے لیے بالکل تیار ہیں اور اگر آپ جنگ کی بجائے صلح صفائی کا فیصلہ کریں تو ہم پھر بھی حاضر ہیں ۔ بہر حال ان لوگوں نے اپنی حیثیت کے مطابق رائے دی مگر فیصلہ ملکہ پر ہی چھوڑ دیا ۔ ملکہ کے خیالات اس کی دانشمندی کو ظاہر کرتے تھے ۔ کہنے لگی قالت ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا جب فاتح بادشاہ کسی ملک میں داحل ہوتے ہیں تو اس کو خراب کردیتے ہیں ۔ وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ اور وہاں کے با عزت لوگوں کو ذلیل و خوار کردیتے ہیں وکذلک یفعلون اور عام طور پر وہ ایسا ہی کرتے ہیں ۔ ملکہ سبا نے یہ تجربے کی بات کی تھی جس کی ساری دنیا شاہد ہے۔ ہزاروں سال سے جنگ و جدل کا نتیجہ یہ نکلتا آ رہا ہے کہ مفتوح قوم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے ملوک اپنے مد مقابل کو کبھی برداشت نہیں کرتے کسی پر ذرا بھی شبہ پڑجائے تو اسے تہس نہس کر کے رکھ دیتے ہیں ۔ فرعون کے واقعات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا تھا۔ نمرود کا بھی یہی شیوہ تھا ۔ مابعد زمانے میں چنگیز اور ہلاکو کے مظالم کے یاد نہیں ۔ پھر انگریز کی باری آئی تو اس نے بھی ظلم و ستم ڈھانے میں کمی نہیں کی ، چونکہ انگریزوں نے برصغیر میں مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی ۔ اس لیے مسلمانوں کو وہ ہمیشہ دبا کر رہتے تھے ، چناچہ انگریز کے ابتدائی دور میں بیشمار مسلمان مارے گئے اور بہت سوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ دہلی میں کنگ ایڈورڈ روڈ پر اکبری مسجد تھی جہاں شاہ عبد القادر (رح) نے بارہ سال تک اعتکاف بیٹھ کر پہلا با محاورہ ترجمہ قرآن لکھا تھا۔ انگریزوں نے یہ مسجدہی گرا دی تھی ، جس کا آج نام و نشان تک باقی نہیں ۔ غرضیکہ ملکہ سبانے اپنے تجربے کی بناء پر ان خیالات کا اظہار کیا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) حملہ آور ہوئے تو …ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے ، لہٰذا اس خط کا جواب کسی بہتر طریقے سے دینا چاہئے نہ کہ فوراً اعلان جنگ کردیا جائے۔
ملکہ سبا سے تحائف
چنانچہ ملکہ سبا نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو آزمانے کے لیے یہ فیصلہ کیا وانی مرسلہ الیھم بھدیۃ من ان کی طرف کچھ تحائف بھیجنے والی ہوں۔ فنظرۃ بم یرجع المرسلون پس وجھتی ہوں کہ میرے بھیجے ہوئے لوگ کیا جواب لاتے ہیں ۔ ملکہ سباکا مقصد یہ تھا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) ملوک قسم کے مستبد آدمی ہے تو وہ تحفے تحائف لے کر خوش ہوجائے گا اور حملہ آور نہیں ہوگا اور اگر وہ کوئی اچھا آدمی ہے تو پھر اس کے ساتھ اچھے طریقے سے نپٹا جائے گا ۔ تغیری روایات میں آتا ہے کہ ملکہ نے تحفے میں پانچ سو لونڈیاں ، پانچ سو غلام اور سونے کی پانچ سو اینٹیں سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں بطور تحفہ ارسال کیں۔ یہودی روایات میں چھ ہزار لونڈیوں اور خوبصورت غلام کا ذکر آتا ہے یہ سارا مال بحری راستے سے کشتیوں میں لا کر سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں بھیجا گیا ۔ دریں اثناء اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی خبر دے دی کہ ملکہ سبا ان کے لیے اس قسم کے تحائف بھیج رہی ہے۔ آپ نے اپنے دربار کے جنات کو حکم دیا کہ نو میل کی مسافت تک ایسی سڑک بنا دی جائے جس کا فرش سونے کی اینٹوں کا ہو ۔ پھر سڑک کے کنارے ایسے جانور کھڑے کردیئے گئے جن کا بول و براز سونے کی اینٹوں پر پڑتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے دربار کی بھی از سر نو تزئین کی ۔ وہاں پر مختلف عمائدین حکومت کے لیے سونے کی بنی ہوئی کرسیاں اور صوفے سیٹ لگائے غرضیکہ انہوں نے حیرت انگیز طریقے سے شاہی دربار کو پہنچایا ۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جب ملکہ سبا کا قافلہ مذکورہ تحائف لے کر قریب پہنچا تو وہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہم تو سونے کی صرف پانچ سو اینٹیں لائے ہیں جبکہ یہاں تو نو میل لمبی سڑک ہی سونے کی اینٹوں سے بنائی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے تحائف کو سلیمان (علیہ السلام) کے مقابلے میں بالکل حقیر سمجھا۔ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے سونے کی پانچ سو اینٹیں وہیں پھینک دیں کہ اتنا معمولی سا تحفہ سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں کیسے پیش کریں گے ؟ پھر جب وہ شاہی دربار میں پہنچے تو وہاں کی تزئین و آرائش اور دربار کے انتظامات دیکھ کر سکتہ میں آگئے کہ ہم تو تحائف کے ذریعے سلیمان (علیہ السلام) کو مرعوب کرنا چاہتے تھے مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے ۔ بہر حال جب یہ شاہی قافلہ سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں پہنچا تو آپ نے ان کا با وقار طریقہ سے با عزت استقبال کیا ، ان کو بہترین جگہوں پر بٹھایا اور ان کی خاطر مدارت کی ۔ اب اگلی آیات میں واقعہ کا اگلا حصہ آ رہا ہے۔