Ayahs 27:36–40ربط آیات
ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے موصولہ خط کا ذکر کیا اور ان سے مشورہ طلب کیا کہ ہمیں اس خط کا کس طریقے سے جواب دینا چاہیے ۔ درباریوں نے کہا کہ ہمارے پاس جدید اسلحہ سیل یس بہترین فوج ہے۔ رسد و کمک کی بھی کمی نہیں یعنی ہم خط بھیجنے والوں سے ٹکر لینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ۔ مگر فیصلہ تیرے ہاتھ میں ہے ، جو تو چاہے گی ہم تعمیل کریں گے ۔ اس کے بعد ملکہ نے یہ رائے ظاہر کی کہ درس عالم بتا لی ہے کہ جب بھی کوئی بادشاہ کسی دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے اور اس کے باعث لوگوں کو ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے لوندا جنگ کوئی اچھی چیز نہیں ۔ اس سے حتیٰ الامکان بچنام چاہئے ، ملکہ نے یہ خود ہی یہ راہ نکالی کہ میں ان کی طرف تحائف بھیج کر معلوم کرتی ہوں کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں ، اور کیا چاہتے ہیں۔
قافلہ سبالی آمد اور واپسی
جیسا کہ میں نے کل عرض کیا تھا ملکہ نے بہت سے گراں قیمت تحائف دے کر ایک قافلہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف روانہ کیا تحائف میں زر و جواہرات کے علاوہ بہت سے لونڈی غلام بھی تھے جنہیں بحری راستے سے روانہ کیا گیا ۔ فلما جاء سلیمن جب یہ قافلہ سلیمن (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو اس سے پہلے آپ ان پر رعب و دبدبہ قائم کرنے کے لیے بہت سے انتصار کرچکے تھے جنہیں دیکھ کر اہل قافلہ کو اپنے تحائف پر سخت ندامت ہوئی ، تا ہم وہ سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں پہنچ گئے ۔ ان کے تحائف دیکھ کر آپ نے فرمایا قال اتمدونن بمال کیا تم لوگ اس مال و دولت کے ذریعے میری مدد کرنا چاہتے ہو حالانکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے ان چیزوں کی قطعاً حاجت نہیں کیونکہ فما اتن للدخیر مما اتکم اللہ تعالیٰ نے مجھے تم سے بہتر عطا کر رکھا ہے۔ تم نے راستے دیکھا کہ جس سڑک پر سے تم گزر کر آئے ہو وہ سونے کی اینٹوں کی بنی ہوئی ہے جس پر میرے مویشی بوں و بزاز کرتے ہیں ۔ بھلا مجھے تمہاری ان پانچ سو سنہری اینٹوں کی کیا ضرورت ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ تمہیں تو اللہ نے نے صرف دنیا کا مال دیا ہے ، لیکن مجھے اس مال کے علاوہ علم ، دین ، شریعت اور نبوت بھی عطا فرمائی ہے ، لہٰذا مجھے جو کچھ عطا کیا گیا ہے وہ تم سے بدرجہا بہتر ہے جہاں تک فوج ، لشکر اور سامان ضرب و تربت کا تعلق ہے تو میرے پاس نہ صرف انسانوں کی کثیر تعداد میں فوج ہے بلکہ جنات اور پرندوں کے لشکر بھی ہیں ۔ اللہ نے تمام جانور بھی میرے تابع کردیئے ہیں ، لہٰذا نہ تو تم مال میں مجھ سے زیادہ ہو اور نہ میدان جنگ میں میرا مقابلہ کرسکتے ہو ۔ بل انتم بھم تیکم تفرحون بلکہ تم لوگ اپنے تحائف کے ساتھ خوش ہو۔
فرمایا ارجع الیھم واپس جائو اپنے بھیجنے والوں کی طرف ہمیں ان تحائف کی ضروت نہیں ہے ہم تو صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگ مطیع ہو کر ہمارے پاس چلے آئیں ۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے فلنا تینھم بجنود لا قیل لھم بھا تو پھر ہم سبا والوں کی طرف ایسا لشکر لائیں گے جس کا وہ مقابلہ نہیں کرسکیں گے۔ ہم ان پر حملہ آور ہوں گے ولنخر جنھم منھا اذلۃ اور انہیں ان کے ملک سے نکال دیں گے بےعزت کر کے وھم صغرون اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ ان کی سلطنت بھی چھین جائیگی اور ان کی قیدی بھی بنا لای جائیگا ۔ جب سبا کا یہ قافلہ دھمکی آمیز پیغام لے کر اپنے ملک واپس پہنچا تو ملکہ کو سارے حالات سے آگاہ کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کو تحائف کی ضرورت نہیں ہے ، اللہ نے انہیں بہت کچھ دیا ہے ، وہ تو صرف اطاعت چاہتے ہیں ۔ بلکہ دانشمند تھی فوراً بات کی تہہ تک پہنچ گئی اور جنگ و جدل کی بجائے اطاعت گزاری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ چناچہ ملکہ نے روانگی کی تاریخ مقرر کی اور بمع اپنے درباریوں کے شام و فلسطین کے سفر پر روانہ ہوگئیں تا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس خود حاضر ہو کر اپنی اطاعت گزاری کا یقین دلا سکیں۔
تخت بلقیس کا حصول
اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو ظاہری اور باطنی قوی سے نوازا تھا۔ سلسلہ وحی بھی جاری تھا ، جونہی مکہ کا قافلہ سبا سے روانہ ہوا اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کو اطلاع دے دی ۔ جس طرح آپ نے پہلے قافلے والوں پر اپنی برتری کا اظہار کیا تھا ، اسی طرح خودمل کہ کے سامنے بھی اس کا اظہار ضروری سمجھا اور اس کا طریقہ یہ اختیار کیا قال یایھا الملوا فرمایا ، اے میرے دربار والو ! ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین تم میں سے کون ہے جو ملکہ بلقیس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس پہنچیں ؟ مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ جان لیں کہ سلیمان (علیہ السلام) صرف بادشاہ ہی نہیں بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ما فوق العادت قوت بھی رکھتے ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تخت بلقیس کو اس کے اطاعت گزار ہو کر آنے سے پہلے لانا ضروری تھا کیونکہ اس کے ایمان سے آنے کے بعد اس کے کسی مال پر تصرف کرنا روا نہیں تھا۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے من قال لا الہ الا للہ عصم منی ما لہ ونفسہ جس شخص نے کلمہ پڑھ لیا ، اور مسلمان ہوگیا تو اب اس کا مال و جان میری طرف سے محفوظ ہوگیا۔ مد مقابل کی حیثیت حربی کافر کی ہو تو اس کے مال و جان میں تصرف روا ہے اسی لیے دوران جنگ حاصل ہونے والی کسی ایسی چیز کی مال غنیمت کہتے ہیں اور یہ مسلمانوں کے لیے جائز ہوتی ہے۔ ایسا مال یا تو مجاہدین میں تقسیم ہوجاتا ہے یا پھر بیت المال میں جمع ہوجاتا ہے۔ البتہ جب کوئی شخص ، قوم یا قبیلہ اطاعت گزار بن جاتا ہے تو پھر اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال و جان میں تصرف روا نہیں ہوتا ۔
سرکش جن کی پیش کش
بہر حال حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ اہل سبا کے فرمانبردار بننے سے پہلے پہلے بلقیس کا تخت کون لائے گا ؟ آپ کے دربار میں انسان اور جناب سب موجود تھے ، چناچہ قال عفریت من الجن ایک سر کش جن کہنے لگا انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک میں وہ تخت لے آئوں گا قبل اس کے آپ اپنے مقام سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ مطلب یہ تھا کہ میں دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے تخت بلقیس کو حاضر کر دوں گا ۔ اور سابقہ یہ بھی کہا وانی علیہ لقوی امین میں اس کام کے لیے کام بھی رکھتا ہوں اور امانتدار بھی ہوں ۔ یعنی وہ تخت بعینہٖ اصلی حالت میں پیش کر دوں گا ۔ راستے میں اسکی چیز میں تصرف نہیں کروں گا ۔
یہاں پر جن کے لیے سرکش کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جن انسانوں کی نسبت زیادہ لطیف اور زیادہ طاقتور ہے۔ اس لحاظ سے اس سرکش کہا گیا ہے مگر اس وقت سارے جن سلیمان (علیہ السلام) کے تابع تھے اور آپ کے سامنے سر کشی کرنے یا حکم عدولی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کو اختیار دے رکھ تھا کہ اگر جنوں میں سے کوئی بھی آپ سے سرتابی کرے تو آپ جو چاہیں اسے سزا دے سکتے ہیں ۔ چناچہ جن آپ کے مکمل مطیع تھے آپ کے حکم سے بڑی بڑی عمارات تعمیر کرتے تھے ، سمندر سے بڑی بڑی چیزیں نکالتے تھے اور حسب ضرورت دھاتوں کو ڈالنے کا کام بھی کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ بعض دیگر امور بھی انجام دیتے تھے ۔ جو عام طور پر انسانوں کی طاقت سے باہر ہوتے ہیں ، موجودہ زمانے میں تو بھاری کاموں کے لیے بڑی بڑی مشینری ایجاد ہوچکی ہے مگر سلیمان (علیہ السلام) یہ سارا کام جنوں سے لیتے تھے ، ان کی اس طاقت اور زور آوری کی وجہ سے ہی اس جن کو سر کش جن کہا گیا ہے ، کہ اس نے دربار برخواست ہونے سے قبل تخت بلقیس لے آنے کی پیش کش کی ۔
عالم کتاب انسان کی پیش کش
جن کی اس پیش کی کے بعد قال الذی عندہ علم من الکتب کہا اس نے جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ انا اتیک بہ قبل ان یرید الیک طرفک میں وہ تخت لے آتا ہوں قبل اس کے کہ آپ کی نگاہ آپ کی طرف پلٹے یعنی میں آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت کو حاضر کردیتا ہوں۔ یہ شخص کون تھا ؟ اس کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ تا ہم صحیح بات یہی ہے کہ وہ انسان ہی تھا۔ اس کا نام آصف ابن برخیا تھا ، اور وہ سلیمان (علیہ السلام) کا وزیر تھا۔ یہ شخص آسمانی کتابوں کا عالم تھا۔ نہایت نیک اور صاحب کرامت آدمی تھا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ شخص صدیقین میں سے تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ آنکھ جھپکنے میں تخت کا حاضر کردینا صوفیائے کرام کی اصطلاح کے مطابق تصرف تھا جس کا تعلق عملیات سے ہوتا ہے ۔ بعض لوگ ایسے ایسے عمل کرتے ہیں جن کی وجہ سے بعض اوقات ناممکن بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ عملیات کے ذریعے بیماری کو بھی سلب کیا جاسکتا ہے بعض تعویذ کرتے ہیں اور بعض کلام پڑھ کر پھونک مارتے ہیں جس کا فوراً اثر ہوجاتا ہے۔ بعض لوگ سانپ کے کاٹے کا دم کرتے ہیں جس سے زہر کا اثر فوراً زائل ہوجاتا ہے یہ میمریزم کی طرز کی چیز ہے جس میں عامل اپنی نگاہ کو کسی خاص چیز پر مرتکز کرکے اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے جس سے اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں ۔ معمولی بےہوش ہوجاتا ہے۔ پھر وہ باتیں کرنے لگتا ہے اور بعض چیزوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے تو بعض کہتے ہیں کہ یہ کوئی اس قسم کی بات تھی تا ہم زیادہ تر مفسرین اسے آصف بن برخیا کی طرف منسوب کرتے ہیں جو نیک آدای تھا ، کتب سماویہ کا علم رکھتا تھا اور اس کے پاس اسم اعظم کا علم تھا۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک میں ایسے نام بھی ہیں کہ اذ ا دعی بہ اجاب وانا سئل بہ اعصی جب کوئی شخص کسی ایسے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور جب وہ کوئی چیز طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ عطافرماتے ہیں ۔
اسم عظمہ کی برہ ت
تو بعض کہتے ہیں کہ اس عالم کتاب شخص نے اسم اعظم کے ذریعے دعا کی تو اللہ نے بلقیس کا تخت فوراً حاضر کردیا ۔ اسم اعظم کو کسی خاص اسم کے ساتھ متقین نہیں کیا گیا بلکہ اجمالی طور پر ہی کیا گیا ہے کہ یہ فلاں کلمات میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی مبہم رکھا گیا ہے جیسے لیلۃ القدر اور جمعہ کے دن قبولیت دعا کا وقت مبہم رکھا گیا ہے تاکہ متلاشیان خود اس کی تلاش کریں ۔ چناچہ بعض اسے یاحی یا قیوم میں بتلاتے ہیں اور بعض یا ذالجلال والا کرام میں بعض اسے سورة آل عمران کی ابتدائی آیت الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم پر محمول کرتے ہیں ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس شخص نے بارگاہ رب العزت میں اس طرح مالی یا الھنا والہ کل شی الھا واحد لا الہ لانت ائتنی بعرشھا اے ہمارے اور ہر چیز کے اکیلے معبود ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، مجھے بلقیس کا تخت لادے۔ اسم اعظم کے پڑھتے کے لیے بعض شرائط بھی ہیں مبتلا یہ کہ عقیدہ صحیح اور رزق حلال ہو اور انسان پوری دلجمعی کے ساتھ اللہ کے سامنے عاجزی اور نیاز مندی کا اظہار کرتے ہونے پڑھے تو اس کے اثرات ضرور ظاہر ہوں گے۔ تو بعض نے تخت بلقیس کی آمد کو اسم اعظم کی برکت قرار دیا ہے ، تا ہم صحیح ترین بات یہی ہے کہ یہ شخص مومن اور صاحب کرامت آدمی تھا جس کی دعا سے تخت فوراً حاضر کردیا گیا ۔
معجزہ اور کرامت
اس بات پر سب متفق ہیں کہ اگر نبی کے ہاتھ پر کوئی خرق عاد ت بات ظاہر ہو تو وہ معجزہ کہلاتی ہے اور اگر کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے نیز جو ایسی چیز ہی کی موجودگی میں امتی کے ہاتھ پر ظاہر ہو وہ نبی کے اتباع اور اس کی برکت سے ہوگی ۔ معجزہ اور کرامت انسان کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ جسے وہ انسان کے ہاتھ پر ظاہر کردیتا ہے۔ عام طور پر معجزہ یا کرامت غیر اختیاری چیز ہوتی ہے ، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کسی وقت کسی کو کوئی معجزہ یا کرامت عطا کر کے حسب ِ ضرورت ظاہر کرنے کا اختیار دے دے تو ایسا بھی ممکن ہے۔ اسکی مثال موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہیں جنہیں اللہ نے عطا فرمایا اور حسب ِ ضرورت فرعون کے سامنے ظاہر کرنے کی اجازت بھی ہر حمت فرمائی۔ بہر حال معجزہ یا کرامت اللہ کا فعل ہوتا ہے نہ کہ کسی بندے کا ۔ قرآن میں تصریح موجود ہے وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰ یَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللہ (الرعد : 83) کسی رسول کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی نشانی پیش کرسکے مگر اللہ کے حکم سے تمام معجزات اور کرامت اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ظاہر ہوتے ہیں کوئی نبی یا ولی جب چاہے اپنے اختیار سے ایسا نہیں کرسکتا ۔ بہر حال یہ شخص صاحب کرامت تھا اور سلیمان (علیہ السلام) کی موجودگی میں اس کی حیثیت معجزے کی تھی۔ آپ خود بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی دعا کرسکتے تھے مگر اہل سیا کو یہ باور کرنا مقصود تھا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) کا ایک متبع ایسا کرسکتا ہے تو آپ کی حیثیت تو بہر حال اس سے اعلیٰ وارفع ہے۔ صاحب تفسیر مظہری اور بعض دوسرے اصحاب فرماتے ہیں کہ علم من الکتب سے جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں ۔ مگر صحیح بات وہی ہے جو میں نے عرض کردی کہ یہ کام آصف ابن برخیا کے ذریعے ہوا جو سلیمان (علیہ السلام) کا وزیر ، کامل الایمان ، متقی ، پرہیز گار اور صاحب کرامت شخص تھا۔ صاحب تفسیر کبیر امام رازی (رح) نے عقلی بات کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ سورج زمین سے تیرہ لاکھ بڑا سیارہ ہے جو کہ ایک سکینڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی مسافت طے کرتا ہے ۔ جب اللہ نے اتنا بڑا اور اتنا تیز رفتار نظام قائم کر رکھا ہے تو اس کے مقابلے میں یمن اور شام کا فاصلہ ہی کتنا ہے کہ اس پر حیرانگی کا اظہار کیا جائے کہ تخت بلقیس آنکھ جھپکنے میں کیسے پہنچ گیا ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو یہ ایک نہایت ہی معمولی سا کام ہے جو ہوگیا ۔ وہاں پر ظاہری اسباب تو نہیں تھے۔ زمین کو شق کیا گیا یا وہ تخت ہوا کے دوش پر لایا گیا ، جیسے بھی ہوا یہ کرامت تھی اور فی الواقعہ ایسا ہوگیا ۔
اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری
فلما راہ مستقر عندہ جب سلیمان (علیہ السلام) نے تخت بلقیس کو اپنے سامنے موجود پایا ۔ قال ھذا من فضل ربی کہنے لگے یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے کہ اللہ نے میرے ایک ساتھی کے ہاتھ پر یہ کام ظاہر کردیا ۔ اصل بات یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے اس مافوق العادت کو نہ اپنا کمال ظاہر کیا ہے ، نہ آصف کا اور نہ کسی فوج کا ، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے کہ اس کی مہربانی سے بنوا پھر خود ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ مہربانی اس لیے کی ہے لیبلونیء اشکرو ام انفر تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکرہ ادا کرتا ہوں یا ناشکر گزاری کرتا ہوں حقیقت یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) قدم قدم پر اللہ کا شکریہ ادا کرتے تھے ۔ اللہ نے حضرت دائود (علیہ السلام) سے بھی فرمایا تھا اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ (سبا : 31) اے دائود (علیہ السلام) کے گھر والوں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہو ، مگر میرے بندوں میں شکر ادا کرنے والے بہت تھوڑے ہیں ۔ بہر حال انبیاء کا یہ خاندان اللہ کا ہمیشہ شکر ادا کرتا تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا ومن شکر فانما یشکر لفنہ جو کوئی شکر ادا کرتا ہے تو اس کا فائدہ خود اس کی ذات کو ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو تو اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ شکر ادا کیا جائے تو اللہ راضی ہوتا ہے ۔ اس کا اعلان ہے لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراہیم : 7) اگر تم میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں مزید انعامات سے نواز دونگا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے ۔ ناشکری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور آفتیں اور مصیبتیں آتی ہیں ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کا ہر ہر نعمت پر شکر ادا کرنا چاہئے۔ فرمایا جو شکریہ ادا کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہوتا ہے ومن کفرفان ربی غنی کریم اور جس نے نا شکری کی تو میرا پروردگار ، تو اس شکر یہ اور تعریف سے مستغنی ہے۔ اس کسی کی تعریف کی حاجت نہیں ۔ وہ ہر حالت میں تعریفوں والا ہے اور بڑا ہی عزت والا ہے۔ اس طرح گویا سلیمان (علیہ السلام) نے خود اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر یہ ادا کیا ۔ اس کی تعریف کی اور پھر شکریہ کا فلسفہ بھی بیان کردیا۔
Ayahs 27:41–44ربط آیات
گزشتہ آیات میں سلیمان (علیہ السلام) کے شرف اور آپ کی غیر معمولی قوت کا ذکر تھا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی تھی ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میرے پاس ملکہ سبا کا تخت کون لائے گا ۔ ایک سر کش جن نے کہا کہ میں آپ کی مجلس برخاست ہونے سے قبل تخت کو لاسکتا ہوں ۔ مگر سلیمان (علیہ السلام) اس سے بھی جلدی کے خواہش مند تھے۔ چناچہ ایک عالم کتاب شخص نے کہا کہ میں وہ تخت آنکھ جھپکنے سے پہلے لاسکتا ہوں ، چناچہ ایسا ہی ہوا ملکہ کا تخت ملک سبا سے فوراً یروشلم پہنچ گیا ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے وہ ہمارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں یا نا شکرگزاری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ شکر ادا کرنے سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ اس میں خود شکر گزار کا ہی فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے نفس کی بہتری اور فضلیت ثابت ہوتی ہے۔ اس کو درجہ ملتا ہے اور وہ مزید نعمت کا مستحق بن جاتا ہے۔ گویا سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے نہایت ہی شکر گزار بندے تھے۔ صاحب صحیفہ نبی اور رسول تھے اور اللہ نے آپ کو بےمثال حکومت عطاء فرمائی تھی۔
ملکہ سبا کا پہلا امتحان
جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے کہ ملکہ سبا سلیمان (علیہ السلام) سے ملاقات کے لیے بنفس نفیس ملک سبا سے روانہ ہوگئی ۔ اس کے ساتھ اس کے عمائدین سلطنت لشکر اور بہت سا سازو و سامان بھی تھا۔ ابھی وہ راستے میں ہی تھی کہ اس کا تخت پہلے ہی سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اب سلیمان (علیہ السلام) ملکہ بلقیس کی آمد پر اس کو بعض امور پر آزمانا چاہتے تھے تا کہ پتہ چل سکے کہ وہ کس صلاحیت کی مالک ہے آپ کا خیال تھا کہ اگر وہ صاحب عقل و دانش ہوگی تو ایمان قبول کریگی ورنہ ہدایت سے محروم رہے گی چناچہ ملکہ کی آمد سے قبل ہی سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں کو حکم دیا ۔ قال نکروالھا عرشھا کہنے لگے ملکہ کے تخت میں کچھ تغیر و تبدل کر دو تا کہ ہم اس کی عقل کا امتحان لے سکیں ۔ مقصد یہ ہے ننظر اتھندی امر تکون من الذیا لا یھتدون کہ ہم دیکھیں کہ وہ سمجھ رکھتی ہیں یا بےسمجھ لوگوں میں سے ہے۔ اگر عقل مند ہوگی تو فوراً سمجھ جائے گی کہ یہ تو اسی کا تخت ہے جسے وہ اپنے محل میں بند کر کے آئی ہے۔ فلما جاء ت پھر جب ملکہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئی تو آپ کے دربار والوں نے اس کا بڑے اچھے طریقے سے استقبال کیا اور اس کو بڑا اعزا دیا ۔ ملکہ نے سلیمان (علیہ السلام) کا دربار ، آپ کے کارندے اور وہاں پر موجود ہر چیز کو بغودیکھا تو حیران رہ گئی ۔ وہ خود ایک متمدن حکومت کی ملکہ تھی ۔ اس کے پاس بھی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔ مگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے انتظامات دیکھ کر اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگا ۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت تو بےمثال تھی جسے انہوں نے خود اللہ تعالیٰ سے یہ کہہ کر طلب کیا تھا وھب لی وَہَبْ لِیْ مُلْکًا لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْم بَعْدِیْ (ص : 53) مولا کریم مجھ ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو۔ ملکہ سبا کی آمد کے بعض حالات کا ذکر نہیں کیا گیا ، البتہ اصل مقصد کی بات کی گئی ہے ، چونکہ ملکہ سبا کا امتحان مطلوب تھا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اس سے دریافت کیا ۔ قیل اھکذا عرشک دیکھوٖ ہمارے پاس یہ تخت ہے ، کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے جس پر بیٹھ کر تم امور سلطنت انجام دیتی ہو قالت کا نہ ھو کہنے لگی گویا کہ یہ ہو بہو ویسا ہی ہے ۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ تو وہی میرا تخت ہے جس میں سلیمان (علیہ السلام) نے کچھ تبدیلی کر کے میرے سامنے پیش کیا ہے۔
ملکہ کا اعتراف حقیقت
اس کے علاوہ ملکہ نے یہ اعتراف بھی کیا کہ واوتینا العلم من قبلھا اس بات کا علم تو ہمیں پہلے ہی ہوچکا ہے ۔ ہم نے آپ کے کمال کے متعلق اپنے وفد کے ذریعے سے پہلے ہی سن رکھا ہے کہ اللہ نے آپ کو بےمثال برتری عطا فرمائی ہے۔ یہ اسی بات کا کرشمہ ہے کہ ہمارا تخت ہمارے پہنچنے سے پہلے یہاں موجود ہے حالانکہ ہم اسے محل میں مقفل کر کے روانہ ہوئے تھے ، مطلب یہ کہ ہمیں آپ کے کمالات کا علم دے دیا گیا تھا۔ وکنا مسلمین اور ہم تو پہلے ہی سرتسلیم خم کرچکے تھے ، ہم آپ کی صداقت کو تسلیم کرچکے ہیں کہ آپ عام دنیا کے بادشاہوں کی طرح نہیں بلکہ آپ کے فضائل و کمالات منجانب اللہ ہیں ۔ اسی لیے ہم نے جنگ و جدل کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے تسلیم و رضا کا پہلو اختیار کیا ہے۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملکہ بلقیس اتنی ہی سمجھ دار عورت تھی اور وہ حقیقت کو پہلے ہی پا چکی تھی تو پھر اس نے وہیں پر اس کا اظہار کیوں نہ کیا اور اس نے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آ کر اسلام کیوں قبول کیا ؟ اللہ نے آگے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے وصلھا ما کانت تعبد من دون اللہ اس کو روک دیا تھا ایمان لانے سے ان چیزوں نے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتی تھی انھا کانت من قوم کفرین ، بیشک وہ کافر قوم کی ایک فرد تھی ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کافر قوم کے کفریہ اور شرکیہ رسم و رواج اور طور طریقوں نے ملکہ کو ایمان لانے سے روک رکھا تھا ۔ اکثر لوگ اپنی جاہلانہ رسم و رواج میں پھنس کر ہی ہدایت سے محروم رہتے ہیں ۔ اس زمانے کا حال بھی مختلف نہیں ۔ پوری کی پوری قوتیں محض رسم و رواج کی پابند ہو کر رہ گئی ہیں ۔ کوئی اکادکا سمجھدار آدمی ہو بھی تو وہ بھی انہی کے طور طریقوں پر چلنے پر مجبورہوتا ہے۔ آج بھی لوگ کسی حقیقت کو سوچنے سمجھنے کی بجائے لکیر کے فقیر بن کر ہدایت سے محروم ہیں ۔ عالم قوموں ، فرقوں اور جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ بعض آدمیوں کے بارے میں حیرت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے دانشور ، بیرسٹر اور باریک بین ہونے کے باوجود کفر و شرک میں مبتلا رہتے ہیں ۔ وجہ یہی ہے کہ ملکی اور خاندانی رسم و رواج ان کے مزاج میں رچ بس چکا ہوتا ہے ۔ جس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہوتا ۔ ہندوئوں میں گاندھی کوئی بیوقوف آدمی تو نہیں تھا۔ نہرو بین الاقوامی حیثیت کا حامل تھا ہمارے ہاں ظفر اللہ قادیانی بڑا قابل آدمی تھا ، مگر یہ سب لوگ باپ دادا کے رسم و رواج پر ہی اڑے رہے ، ہدایت کی بات پر غور ہی نہیں کیا ۔ حضرت مولانا شیخ الہند وصدھا کا کانت تعبد من دون اللہ کا ترجمہ یہ کرتے ہیں ’ سلیمان (علیہ السلام) نہ روک دیا اس عورت کو اس چیز سے جس کی وہ عبادی تھی اللہ کے سوا گویا آپ نے بلقیس پر واضح کردیا کہ اب کفر و شرک کی بات نہیں چلے گی اور نہ سورج کی پرستش ہوگی ، جو ایسا کرے گا سزا پائے گا ، تا ہم پہلے معنی زیادہ متبادر ہیں کہ ملکہ کو غیر اللہ کی پوجا کرنیوالی چیزوں نے ایمان لانے سے روک رکھا تھا “ ۔
ملکہ کا دوسرا امتحان
ملکہ پہلے امتحان میں تو پاس ہوگئی کہ اس نے اپنے تخت کو بھی پہچان لیا ۔ اور پھر اعتراف حقیقت کر کے ایمان لے آئی ۔ اب سلیمان (علیہ السلام) نے اسے دوسرے امتحان میں ڈالا ۔ قیل لھا ادخلی الصرح اس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو جائو ۔ فلما راتہ جب اس نے اندر داخل ہو ک دیکھا حسبتہ لجۃ تو اس کو پانی کی موج گمان کیا ۔ محل کا فرش اس طرح لگایا گیا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ ایک پانی کا تالاب ہے جس میں مچھلیاں اچھل کود رہی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ پانی میں سے گزرتے وقت انسان اپنے کپڑے سمیٹ لیتا ہے تا کہ بھیگنے نہ پائیں ۔ چناچہ ملکہ نے بھی ویسا ہی کیا وشفت عن ساقیھا اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اوپر اٹھا لیا ۔ اس امتحان میں وہ ناکام ہوچکی تھی ۔ دراصل اسے پانی میں سے نہیں گزرنا تھا بلکہ شیشے کے بنے ہوئے فرش پر سے گزرنا تھا جس کے نیچے بہتا ہوا پانی صاف نظر آ رہا تھا۔ قال انہ صرح ممرد من قواریں سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ سے کہا کہ تمہیں غلطی لگی ہے کہ یہ ایسا محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں ۔ یعنی محل کا فرش ہی شیشے کا بنا ہوا ہے جس کے اوپر سے گزرنا ہے ، لہٰذا یہاں پر پنڈلیاں کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ملکہ پانی سے گزارنے کا مقصد یہ تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) ملکہ کی پنڈلیاں دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے سن رکھا تھا کہ اس کی پنڈلیوں پر بال بہت زیادہ ہیں ۔ ملکہ کو جنبیہ کی بیٹی بھی کہا گیا ہے ۔ بہر حال یہ سب تفسیری روایات ہیں جن کے متعلق یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ملکہ کا اسلام سے آنا
جب ملکہ اس دوسرے امتحان میں ناکام ہوگئی تو اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوا تو قالت کہنے لگی رب انی ظلمت نفسی پروردگار ! بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے کہ میں اب تک کفر و شرک میں مبتلا رہی ہوں ۔ اور کفر شرک کی حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک دھوکہ ہے جس طرح ملکہ کو پانی کا دھوکہ ہوا اسی طرح کافروں اور مشرکوں کو دھوکہ ہوتا ہے وہ ایسی چیزوں کو مبود بنا لیتے ہیں ، ان کی غائت درجہ کی تعظیم کرتے ہیں ، ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتے ہیں ۔ جن میں کوئی صلاحیت نہیں ہوتی اور اس طرح وہ خدا تعالیٰ سے غافل ہوجاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک بنانا یا اس کے اختیار میں شریک بنانا سب دھوکہ ہے۔ بعض نادان سمجھتے ہیں کہ یہ معبود ہماری کشتی کو پار لگا دیں گے ، کوئی مریض کی شفا یابی کے لیے غیر اللہ کی پوجا کرتا ہے۔ کوئی جنوں اور انسانوں سے مدد مانگتا ہے کوئی قبروں پر ماتا رگڑتا ہے کوئی اولیاء ، اللہ کے نام کی دہائی دیتا ہے۔ کوئی اضہام و اشجار کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتا ہے ، کوئی پانی ، ہوا اور سورج کی پوجا کرتا ہے ، کوئی ستاروں کو با اختیار سمجھتا ہے ۔ غرضیکہ شرک کے ہزاروں راستے ہیں جو کہ سراسر دھوکہ ہے۔ بلکہ سبا نے بھی ایسا ہی دھوکہ کھایا ، مگر فوراً سنبھل گئی اور اپنے آپ پر ظلم کرنے کا اعتراف کرلیا ۔ اور پھر واضح طور پر اقرار کیا ۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العالمین اب میں سلیمان (علیہ السلام) کے ساتھ پروردگار عالم پر ایمان لا چکی ہوں ۔ اپنی سابقہ غلطی کا اقرار کرتی ہوں اور اعلان کرتی ہوں کہ اللہ رب العالمین کے سوا کوئی قادر مطلق ہے اور نہ نافع اور ضار ۔ اس کے سوا کوئی خالق نہیں کسی مریض کو کوئی شفا نہیں دے سکتا اور نہ کسی کی کوئی بگڑی بنا سکتا ہے ۔ تمام اختیارات اللہ رب العزت کے پاس ہیں اور میں نے اسی کے سامنے سر ناز خم کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ یہاں تک ہی بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی باتیں تفسیری اور تاریخی روایات میں بھی ملتی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ملکہ کا نکاح سلیمان (علیہ السلام) سے ہوگیا تھا۔ بعض اس کا انکار کرتے ہیں ۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ کو اپنے واپس لوٹا دیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وہاں جا کر نکاح کرلینا مگر اس نے عذر پیش کیا کہ میری برابری کا تو کوئی شخص نہیں ہے میں نکاح کس سے کروں ۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اسے سمجھایا کہ اسلام میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ تم جہاں چاہو نکاح کرسکتی ہو۔ چناچہ ملکہ کا نکاح یمن کے شہزادے تبع سے ہوا جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے ، پھر سلیمان (علیہ السلام) نے اپنی طرف سے جنات کو مامور کردیا کہ ان کی خدمت کریں اور ضروریات کی اشیاء بہم پہنچائیں ۔ یہ سب تفسیری اور غیر یقینی روایات ہیں ، پکی بات وہی ہے جو اللہ نے قرآن میں بیان کردی ہے کہ اللہ نے سلیمان (علیہ السلام) کو بےمثال حکومت عطا فرمائی تھی اور یہ کہ ملکہ سبا نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور آخر میں کفر شرک سے بیزار ہو کر ایمان لے آئی۔
Ayahs 27:45–53ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) اور ان پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر کیا ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم ، طاقت اور بےمثال سلطنت عطا فرمائی سلیمان (علیہ السلام) ان انعامات پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ شکر ادا کرتے تھے ۔ اب آج کے درس میں اللہ نے قوم ثمود کا حال بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ اہل عرب اور دوسری نافرمان اقوام ان واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ سلیمان (علیہ السلام) اور قوم ثمود کے واقعات میں کسی قدر مماثلت بھی پائی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے دونوں اقوام کے حالات میں باہم ربط ہے ، مثلاً سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے جنات ، پرندوں اور ہوا کو مسخر کردیا تھا اور آپ جیسے چاہتے ان سے کام لیتے تھے ، ادھر صالح (علیہ السلام) کے واقعات میں حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ قوم کی فرمائش پر اللہ نے چٹان میں سے ایک بہت بڑی اونٹنی نکالی ۔ ا س سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا ذکر بھی ہوا تھا ، وہاں بھی حیرت انگیز نشانیاں ظاہر ہوئیں۔
صالح (علیہ السلام) کی بعثت
انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے کے سلسلے میں پہلے حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علم عطا کیا جس سے مراد نبوت ، رسالت اور وحی الٰہی ہے کہ صرف یہی یقینی علم ہے ۔ یہ دونوں باپ بیٹا اللہ کے نبی ، خلیفہ اور حاکم وقت تھے ۔ اب حضرت صالح (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صلحا ً البتہ تحقیق ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ آپ بھی عظیم المرتبت صاحب شریعت رسول اور نبی تھے ۔ آپ کا ذکر اس سے پہلے بھی کئی سورتوں میں آ چکا ہے اور آئندہ بھی آخری پارے تک آپ کا ذکر خیر آئے گا ، قوم ثمود وادی حجر میں اور تبوک کے درمیان آباد تھی ۔ حجر سے لے کر وادی قریٰ تک اس قوم کے سترہ سو قصبات اور بستیاں آباد تھیں جن میں حجر 1 ؎ بڑا متمدن اور مرکزی شہر تھا ، یہ عام طور پر تاجرپیشہ لوگ تھے ۔ صنعت و حرفت بھی کرتے تھے اور ان کے باغات بھی تھے جہاں یہ کھیتی باڑی کرتے تھے ۔ صالح ابن عبید علیہ السلا م بھی اسی قوم کے فرد تھے اس لیے آپ کی قوم کا بھائی کہا گیا ہے۔ بہر حال جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر قوم کی طرف بھیجا آپ نے سب سے
1 ؎۔ تفسیر عزیزی ص 742 پ 03 ( فیاض)
پہلے قوم کو یہی پیغام پہنچایا ان اعبدو اللہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، اسی کو وحدہٗ لا شریک مانو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، ان لوگوں نے اپنی مختلف حاجات کے لیے مختلف معبود بنا رکھے تھے۔ پھر جب صالح (علیہ السلام) نے ان کو پیغام حق سنایا فاذا ھم فریقن یختصمون تو وہ دو گرہ بن کر آپس میں جھگڑنے لگے ظاہر ہے کہ ایک گروہ ایمانداروں کا بن گیا جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے ، اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیا ، اور دوسرا گروہ کافروں اور نافرمانوں کا تھا ، جنہوں نے صالح (علیہ السلام) کی بات کو قبول نہ کیا ۔ یہ لوگ بڑے سر کش ، مجرم اور گناہ گار تھے ، لہٰذا ان دونوں کا آپس میں الجھائو۔ ایک قدرتی امر تھا ، البتہ اہل ایمان کمزور اور تعداد میں بھی کم تھے ۔ جب کہ نافرمان لوگ بڑے طاقتور ، مغرور اور نفری میں بھی بہت زیادہ تھے ۔ اس چیز کا اشارہ سورة اعراف میں بھی ہے قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم ( آیت : 57) مغرور اور سر کش لوگوں نے اہل ایمان مگر کمزور لوگوں سے کہا کہ کیا تم صالح (علیہ السلام) کی رسالت کی تصدیق کرتے ہو ؟ انہوں نے مثبت میں جواب دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو نہیں مانتے بلکہ ہم تو انکار کرتے ہیں جب صالح (علیہ السلام) ان کو آنے والے عذاب سے ڈراتے تو وہ آگے سے دھمکیاں دینے لگتے اور کہتے یصلح ائتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین ( الاعراف : 77) اے صالح (علیہ السلام) ، اگر تو سچا ہے تو ہم پر وہ عذاب لے آ جس سے تو ہمیں ڈراتا رہتا ہے ۔
صالح (علیہ السلام) کی نصیحت
اس کے جواب میں قال یقوم لم تستعجلون بالسیئۃ قیل الحسنۃ صالح (علیہ السلام) نے کہا ، اے میری قوم کے لوگو ! بھلائی سے پہلے برائی کے لیے کیوں جلدی کرتے ہو ، تم اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش طلب کرنے کی بجائے اپنے اوپر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو ، یہ کس قدر حماقت کی بات ہے لو لا تستغفرون للہ تم اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کیوں نہیں مانگتے لعلکم ترحمون تا کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ اگر اللہ کی طرف رجوع کرو گے ، برائیوں سے باز آ جائو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرما کر تمہاری سابقہ کوتاہیاں معاف کر دیگا مگر تم الٹا عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو ، کتنی عجیب اور نقصان دہ بات ہے ۔ اس قسم کی الٹ دماغی صرف قوم ثمود کا ہی حصہ نہیں تھا بلکہ دیگر نافرمانوں نے بھی ایسا ہی مطالبہ کیا ، چناچہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے یہی مطالبہ کیا فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (الشعرائ : 781) اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے ، اور یہی بات حضور ﷺ کے زمانے کے مشرکوں نے بھی کی تھی۔ او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا ( بنی اسرائیل : 29) کہ ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے اس قسم کی باتیں وہ اپنے غرورو تکبر کی بناء پر کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ اور ہم اسی طرح عیش و عشرت کرتے رہیں گے ، مگر جب کسی قوم پر عذاب آیا تو پھر ان کی جڑ بنیاد ہی اکھاڑ کر رکھ دی گئی۔
شگون بد
اللہ کے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو محبت اور پیار کے انداز میں سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے ، اللہ نے یہاں پر صالح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر کیا ہے کہ جب آپ نے نصیحت آموز باتیں کیں قالوا اطیرنا بک وبمن معک تو وہ کہنے لگے اے صالح (علیہ السلام) ہم تجھے اور تیرے ایماندار ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں ۔ تمہارے منحوس قدم پڑے ہیں ۔ تو ہمارے ہاں قحط پڑگیا ہے۔ بارش رک گئی ہے اور ہم پر طرح طرح کی مصیبتیں وارد ہو رہی ہیں ۔ گھر گھر میں لڑائی شروع ہوگئی ہے ، باپ بیٹے سے اور بھائی بھائی سے الجھ رہا ہے ۔ اسی طرح خاوند اور بیوی کے درمیان مخاصمت پیدا ہوچکی ہے ، یہ سارے فتنے تمہاری نحوست کی وجہ سے برپا ہو رہے ہیں ۔ جب سے تم نے ہمیں وعظ کرنا شروع کیا ہے ہمارا خانہ خراب ہوگیا ۔ اس کے جواب میں قال صالح (علیہ السلام) نے کہا طر کم عند اللہ تمہارا شگون یا بری قسمت تو اللہ کے پاس ہے ، اس میں کسی مخلوق کا کوئی اختیار نہیں ۔ یہ تکلیفیں میرے اور میرے ساتھیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تمہاری بداعمالیوں ، کفر ، شرک اور معاصی کی وجہ سے آ رہی ہیں ۔ طیرۃ شگون کو کہتے ہیں ۔ یہ لفظ طیر کے مادہ سے ہے ۔ پہلے زمانے میں لوگ پرندوں کو اڑ کر شگون لیا کرتے تھے ، مثلاً پرندے کو اڑایا ، اگر وہ اڑ کر دائیں طرف گیا تو نیک شگون لیتے کہ مطلوبہ کام بن جائیگا ، اور اگر پرندہ بائیں طرف چلا جاتا تو شگون بد سمجھتے کہ ہمارا یہ کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے گا ، لہٰذا اس کو ترک کردیتے ۔ حدیث میں آتا ہے ، الطیرۃ من الشرک یعنی شگون لینا شرک کی ایک قسم ہے ۔ یہ بیماری آج بھی پائی جاتی ہے ۔ کہیں الو بیٹھا دیکھ لیا تو اسے ویرانی پر محمول کردیا ۔ گھر سے نکلتے وقت اگر کالی بلی نے راستہ کاٹ دیا تو برا شگون سمجھ لیا کہ اب کام نہیں ہوگا ، واپس چلو ، حدیث میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ سلمی ؓ جب حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے تو انہوں نے عرض کیا منا یتطیرون یعنی جاہلیت کے زمانے میں ہم پرندوں کو اڑا کر شگون لیا کرتے تھے ، یہ کیسا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا یہ محض وہم ہے ادارے کسی کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے بلکہ اپنا کام رکھو اور شگون کی بناء پر کسی کام کو ترک نہ کرو ، جو شخص شگون کو موثر سمجھتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ۔ تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم ہماری موجودگی کو بدشگون قرار دیتے ہو ، حالانکہ تمہارا شگون تو اللہ کے پاس ہے ، وہ تمہاری شرارتوں کی وجہ سے قحط سالی اور دوسری مصیبتیں لاتا ہے ۔ یہ سب تمہارے شرک کی نحوست ہے جسے تم ہماری طرف منسوب کر رہے ہو ۔ فرمایا حقیقت یہ ہے بل انتم قوم تفتنون کہ تم لوگ فتنے میں ڈالے گئے ہو ۔ اللہ نے تمہیں آزمائش میں ڈال رکھا ہے مگر تم ناکام ہو رہے ہو۔
شہر کے نو غنڈے
ارشاد ہوتا ہے وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط شہر حجر میں غنڈہ قسم کے نو آدمی تھے ۔ دراصل رھمط تین سے مل کر نو تک کے گروہ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ یہ بدقماش قسم کے نو اشخاص تھے یفسدون فی الارض جو زمین میں فساد کرتے تھے ، ان کا کام بھی مار دھاڑ ، لوٹ مار ، قتل و غارت اور غنڈہ گردی تھی ، دراصل یہ نو خاندان تھے جن میں سے ہر فیملی کا ایک ایک نمائندہ مل کر یہ گروہ بن گیا تھا اور انہوں نے غنڈہ گردی کا بازار گرم رکھا تھا ۔ آج کی اصطلاح میں انہیں بستہ ( ب) کے بدمعاش کہا جاسکتا ہے ۔ یہ لوگ نہ صرف معاشرتی طور پر بدقماش تھے بلکہ کفر و شرک میں بھی بڑے ہوئے تھے اور اللہ کے نبی صالح (علیہ السلام) کے بد ترین دشمن بھی یہی تھے ۔ صالح (علیہ السلام) کا سارا وعظ ان غنڈوں کے خلاف جاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر لوگ ان پر ایمان لے آئے تو ان کی چودھراہٹ اور غنڈہ گردی ختم ہو کر رہ جائیگی ۔ پوری تاریخ عالم میں اسی طرح کے لوگ ہی نبیوں کے مخالف رہے ہیں اور آج بھی حق کے مقابلے کے لیے ایسے لوگ پیش پیش ہوتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو نفاذ اسلام کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اسلامی قانون نافذ ہونے سے سب سے پہلی زدابنی پر پڑتی ہے اور ان کو اپنی بد معاشیاں ترک کرنا پڑتی ہیں ۔ بہر حال فرمایا کہ یہ نو بد معاش آدمی تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے ولا یصلحون اور اصلاح نہیں کرتے تھے یعنی فتنہ و فساد کی بیخ کنی کر کے زمین کو اس کا گہوارہ نہیں بننے دیتے تھے۔
صالح (علیہ السلام) کی ہلاکت کا منصوبہ
یہ بد قماش آدمی صالح (علیہ السلام) کو اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے چناچہ انہوں نے آپ کے خلاف منصوبہ بندی کی ۔ قالو تقاسم باللہ کہنے لگے کہ اللہ کے نام کی قسم اٹھائو لنبیتنہ واھلہ کہ ہم صالح (علیہ السلام) اور آپ کے گھر والوں کا رات کے وقت کا تمام کردیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ قتل ہوگئے تو پھر آپ کے خاندان والے آپ کے خون کا دعویٰ بھی کریں گے ۔ ایسی صورت میں ثم لنقولن لولیہ ہم آپ کے دعویدار سے کہہ دیں گے ما شھدت مھلک اھلہ کہ ہم تو آپ کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہیں تھے ہمیں کیا معلوم کہ کس نے شب خون مار کر ان کو ہلاک کردیا ہے اور ساتھ یقین دہانی کے لیے یہ بھی کہیں گے وانا لصدقون ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا ومکروامکر ان لوگوں نے بھی ایک تدبیر کی ۔ مگر مخفی تدبیر کو کہتے ہیں یعنی ایسی چال چلنا جس کو لوگ آسانی سے سمجھ نہ پائیں ۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ کسی طرح صالح (علیہ السلام) کو ہلاک کردیا جائے ۔ آپ رات اکثر مسجد میں گزارتے تھے اور وہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے ۔ ان بد معاشوں کا خیال تھا کہ رات کو مسجد پر حملہ کر کے صالح (علیہ السلام) کا کام تمام کردیا جائے ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ کے گھر پر شب خون مارنے کا پروگرام بنایا تا کہ آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو بیک وقت ختم کردیا جائے ۔
تدبیر خداوندی
اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے بھی ایک تدبیر کی وم کرنا مکراً اور ہم نے بھی ایک تدبیر کی اور ہماری تدبیر ایسی تھی وھم لا یشعرون جس کا وہ شعور نہیں رکھتے تھے یعنی ہماری منصوبہ بندی کی وہ گرد تک بھی نہیں پہنچ سکتے تھے چناچہ جب یہ لوگ رات کے وقت حملہ کرنے کے لیے نکلے تو اللہ نے انہیں راستے میں ہی ہلاک کردیا اور یہ صالح (علیہ السلام) تک پہنچنے ہی نہ پائے ۔ ان لوگوں کی ہلاکت کے متعلق تین قسم کی تفسیری روایات ملتی ہیں ایک یہ کہ ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے ۔ دوسری یہ کہ ان پر اوپر سے ایسی چیخ مسلط کی گئی جس سے ان کے جگر پھٹ گئے ۔ اور ہلاک ہوگئے ۔ تیسری روایت یہ ہے کہ ان کو زمین میں دھنسا کر ہلاک کیا گیا ۔ یہ نو آدمی تو اس طرح مارے گئے اور باقی نافرمانوں کے متعلق سورة ہود میں ہے کہ اللہ نے ان سے فرمایا تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مکذوب ( آیت : 56) اپنے گھروں میں تین دن تک فائدہ اٹھالو ۔ یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا ، چناچہ پھر ایسا ہوا کہ تین دن کے بعد ساری قوم ہلاک ہوگئی ۔ ایک سخت کڑک اور زلزلے نے انہیں آنکھوں دیکھتے اس طرح الٹا کر رکھ دیاگویا وہ کبھی وہاں آباد ہی نہ تھے۔
فرمایا فانظر کیف کان عاقبۃ مکرھمہ پھر دیکھو ، ان کی تدبیر کا کیا انجام ہوا ۔ انا دمرنھم وقومھم اجمعین ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ۔ کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑا ۔ ان کی بستیاں نشان عبرت بن چکی تھی فتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلمو پس یہ ہیں ان کے گرے پڑے گھر ان کے ظلم کی وجہ سے ۔ یہ لوگ بڑے صناع اور سنگ تراش تھے ۔ پہاڑوں کو کھود کھود کر عالیشان نقش و نگار والے مکان بناتے تھے ۔ اللہ نے فرمایا کہ آج ان کے محلات کے کھنڈرات ہی باقی رہ گئے ہیں جو لوگ وادی تبوک سے گزرتے ہیں ، یہ کھنڈرات آج بھی ان کو دعوت فکر دیتے ہیں کہ دیکھ لو ظلم و ستم کرنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔
نشان عبرت
فرمایا ان فی ذلک لایۃ لقوم یعلمون بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو علم اور سمجھ رکھتے ہیں۔ نصیحت کی یہی بات اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ اور دیگر نافرمان اور مغرور لوگوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کی مخالفت اور اس کو ہلاک کرنے کی کوشش کا یہی نتیجہ نکلتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہلاکت کا منصوبہ بنانے والوں کو پہلے ہی ہلاک کردیا اور اس قوم کے کھنڈرات پوری ۔۔ انسانیت کے لئے درس عبرت بنے ہوئے ہیں ۔ فرمایا وانجینا الذین امنوا اور ہم نے اہل ایمان کو اس عذاب سے بچا لیا ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے بھی ہزاروں آدمی تھے جو اللہ کی گرفت سے محفوظ رہے۔ ایک تو وہ ایمان لانے کی وجہ سے بچ گئے اور ان کی دوسری صفت یہ تھی وکانوا یتقون کہ وہ کفر ، شرک اور عاصی سے بچتے تھے ۔ حدود شرع کی حفاظت کا نام ہی تقویٰ ہے ۔ انہوں نے ایمان لانے کے بعد تقویٰ کو اختیار کیا اور اس طرح عذاب الٰہی سے بچ گئے ۔ جب کہ باقی ساری قوم ہلاک کردی گئی۔