Ayahs 27:65–66ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے مسئلہ توحید سمجھانے اور شرک کی تردید میں کئی عقلی دلائل بیان فرمائے ہیں ۔ ان دلائل میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول باغات اور شجاء کی پیداوار زمین کا قرار گاہ ٹھہرانا اور اس میں نہریں جاری کرنا ، زمین میں بوجھل پہاڑ گاڑھ دینا ۔ دو پانیوں کے درمیان آڑ قائم کردینا تا کہ آپس میں خلط ملط نہ ہونے پائیں ۔ وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا کہ مجبور و بیکس کی فریاد ہی کرنے والا اللہ کے سوا کون ہے ؟ اسی نے تم کو پہلے لوگوں کا نائب بنایا خشکی اور تری میں وہی راہ دکھاتا ہے ، باران رحمت سے پہلے وہی خوش خبری لانے والی ہوائوں کو چلاتا ہے۔ بھلا اس کے سوا کوئی اور الٰہ ہے ؟ وہی مخلوق کو ابتداء میں پیدا کرنے والا اور دوباہ لوٹانے والا ہے۔ اسی نے زمین و آسمان سے روزی کے اسباب مہیا فرمائے ۔ غرضیکہ ان تمام امور کو انجام دینے والا صرف اللہ ہے تو پھر معبود بر حق بھی وہی ہے اگر اس کے علاوہ بھی کوئی معبود ہے تو اس کے لیے دلیل پیش کرو ۔ دلائل تو سارے کے سارے اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس کے شریک ٹھہرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے اسی لیے تو اللہ نے ان دلائل سے قبل فرما دیا اللہ خیراما یشرکون ( آیت : 95) کیا خدا تعالیٰ کی ذات بہتر ہے یا وہ جن کو یہ شریک بناتے ہیں ؟
علم محیظ خاصہ خداوندی ہے
منجملہ ان خصوصیات کے جو معبود بر حق میں پائی جاتی ہیں ایک یہ بھی ہے جو اللہ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ تمام چیزوں کا کلی علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ۔ الوہیت کی ایک خصوصیت خالق ہونا ہے۔ الٰہ بھی وہی ہوگا جو ہر چیز کا خالق ہے ۔ سورة یونس میں فرمایا قُلْ ھَلْ مِنْ شُرَکَآئِکُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (آیت : 43) اے پیغمبر ! آپ ان سے پوچھیں کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جس نے سب سے پہلے پیدا کیا اور پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا ۔ فرمایا آپ یہ بھی کہہ دیں کہ اللہ ہی اولا ً پیدا کرنے والا ہے اور وہی اس کو لوٹائے گا ۔ اس طرح سورة فاطر میں فرمایا اللہ کے انعامات کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیے ھل من خالق غیر اللہ ( آیت : 3) کیا اللہ کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی پہنچاتا ہے ؟ صفت ِخلق کے علاوہ قادر مطلق ہونا بھی الوہیت کی صفت ہے ۔ ہر چیز پر قدرت رکھنا اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے اِنَّ اللہ عَلٰی کُلِّ شََیْئٍ قَدِیْرٌ (البقرہ : 02) ہر چیز پر صرف اللہ ہی قدرت رکھتا ہے۔ پھر علیم کل ہونا یعنی ذرے ذرے کا علم ہونا بھی اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ واللہ بکل شی علیم ( البقرہ 282) ہر چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وکان اللہ بکل شی محیطا ً ( النسائ : 621) اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ قدرت کے لحاظ سے احاطہ ہو یا علم کے لحاظ سے یہ بہرحال اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ عام طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ غیر مرنی ہے یعنی وہ کھائی نہیں دیتا ۔ یہ بھی اس کی صفات میں سے ہے۔ نافع اور ضار ہونا مختار کل ہونا ، علیم کل ہونا ، خالق ہونا ، یہ سب الوہیت کی صفات مختصر ہیں ۔ اسی طرح علم محیط بھی الوہیت کی صفات میں سے ہے۔ جس ذات میں یہ صفات نہ پائی جائیں وہ کیسے الٰہ ہو سکتا ہے ؟
حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) نے شرح بخاری میں حضرت موسیٰ اور خضر (علیہما السلام) کا واقعہ نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اللہ کے یہ نیک بندے جس کشتی پر سوار تھے اس کے کنارے پر ایک چڑیا آ کر بیٹھ گئی ۔ اس نے سمندر میں چونچ مار کر ایک آدھ قطرہ پانی کا لیا تو خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خطاب کرتے ہوئے یموسی ما علمی و علمک فی جنب علم اللہ الا کمثل ھذا العصفور یعنی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میرے اور تیرے علم کی مثال اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے اس چڑیا نے سمندر سے پانی حاصل کرلیا ہے۔ بات دراصل یہ تھی کہ ایک شخص موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ کیا روئے زمین پر آپ سے زیادہ علم الا بھی کوئی ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ، نہیں ۔ بس اسی میں آپ کی آزمائش آگئی ، کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بات کو اللہ کی طرف کیوں نہیں لوٹایا اور خود ہی سب سے بڑے عالم بن بیٹھے۔ انہیں چاہئے تھا کہ کہتے اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ فی الواقع اس وقت اللہ کے دین اور شریعت کو سب سے زیادہ جاننے والے موسیٰ (علیہ السلام) ہی تھے لیکن پھر بھی ان کی گرفت ہوگئی اذ لم یرد العلم الی اللہ کہ انہوں نے علم کی بات کو اللہ کی طرف کیوں نہ لوٹایا ۔ بہر حال اسی سلسلے میں آپ کو لمبا چوڑا سفر اختیار کرنا پڑا اور پھر خضر (علیہ السلام) نے اپنے اور ان کے علم کی مثال بھی بیان کی کہ کل مخلوق کے مقابلے میں اللہ کے علم کی نسبت قطرے اور لاکھوں مربع میل پر محیط سمندر جتنی بھی نہیں ۔ خدا تعالیٰ کا علم ازل سے لے کر ابد تک ذرے ذرے پر محیط ہے اور یہ الوہیت کی صفت خاصہ جو کسی دوسری مستی میں نہیں پائی جاتی۔
نبی اور علم غیب
حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) پوری بنی نوع انسان میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ ان کو وحی کے ذریعے علم حاصل ہوتا ہے۔ ابنیاء کے عقل و حواس اور اعضاء وجوارح بھی بڑے کامل درجے کے ہوتے ہیں ۔ اللہ ان کو معصومہ بناتا ہے ، وہ ابتداء سے ہی اللہ کی حفاظت میں ہوتے ہیں اور ان سے گناہ نہیں سر زد ہونے دیا جاتا ۔ اگر کوئی معمولی سی لعزش ہوجائے تو فوراً تنبیہ کردی جاتی ہے ، کسی نبی کو کسی غلطی پر ٹکنے نہیں دیا جاتا ۔ حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ ان تمام تر کمالات کے باوجود لا یعلمون الغیب الا ما علمھم اللہ وہ غیب کا علم نہیں رکھتے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ ان کو سکھا دیتا ہے غیب کا جاننا اللہ تعالیٰ کی صفت مختصر ہے۔ حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد اوتیت علم الاولین والاخرین مجھے اولین اور آخرین کا علم دیا گیا ہے۔ بلا شبہ آپ تمام انبیاء اور ساری مخلوق سے زیادہ علم رکھتے ہیں اس کے باوجود آپ کو عالم الغیب کہنا درست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو دین اور شریعت کا علم مکمل طور پر دیتا ہے۔ کائنات کی بعض چیزوں کے متعلق بھی بہت کچھ علم دیتا ہے مگر ذرے ذرے کا علم نہیں کہ اللہ نے اس کی نفی فرمائی ہے اللہ کا فرمان ہیوَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ (الانعام : 95) غیب کی چابیاں خدا تعالیٰ کے پاس ہیں ۔ اس کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا۔ سورة لقمان میں پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کا علم صرف اللہ کے پاس ہے ، اور وہ یہ ہیں کہ (1) قیامت کب برپا ہوگی (2) بارش کب اور کتنی ہوگی (3) ماں کے پیٹ میں کیا ہے۔ (4) انسان کل کیا کریگا (5) کس کی موت کہاں واقع ہوگی۔ البتہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب کی بعض باتوں پر مطلع کردیتا ہے مگر کسی ایسے شخص پر عالم الغیب ہونے کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ اس میں اسشتباہ واقع ہوتا ہے اور اشتباہ میں کسی کو عالم الغیب نہیں کہہ سکتے۔ دیکھ لیجئے اللہ نے اپنے پیغمبر سے شعرو شاعری کی صریح الفاظ میں نفی کی ہے وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ (یٰسین : 69) ہم نے اپنی نبی کو شعر کا علم نہیں سکھایا اور نہ وہ اس کی شایان شان ہے شعر و شاعری کا شعبہ بڑا وسیع ہے مگر نبوت کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ اسی طرح کہانت اور سحر کا علم اللہ تعالیٰ نے کس نبی کو نہیں دیا ۔ ہاں حلال و حرام ، جائز و ناجائز اور اصلاح سے متعلق تمام باتیں آپ کو بتلا دی گئی ہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ ما من شیء یقربکم الی لجنۃ ویبا کم من النار الا انباء تکم بہ کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جنت سے قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے مگر میں نے تمہیں بتلا دی ہے۔ لیکن جہاں تک دنیا کے علوم کا تعلق ہے تو یہ سارے نبی کے لیے ضروری نہیں ہیں ، مثلاً دنیاوی فنون از قسم ریاضی ، جغرافیہ ، سائنس ، جہاز رانی وغیرہ اگر آپ نہیں جانتے تو یہ کوئی نبوت کے منافی بات نہیں ہے ، بلکہ اللہ کے نبی نے ہر مضر علم سے پناہ مانگی ہے۔
علم غیب خاصہ خداوندی ہے
آج کی پہلی آیت میں ، اللہ نے علم محیط کی صفت کو ہی بیان کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ مخلوق سے علم غیب کی نفی سے متعلق بہت سی آیات ہیں ۔ اللہ نے حضور کی زبان سے کہلوایاولا اقول لکم عندی خزئن اللہ ولا علم الغیب (ہود : 13) میں نہیں کہ تاکہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں آپ نے یہ بھی فرمایا وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِج صلے وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓئُ (الاعراف : 881) اگر میں غیب جانتا ہوتا تو فائدے کی بہت سی چیزیں اکٹھی کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی ۔ اگر اللہ کے نبی کو غیب کا علم ہوتا تو آپ اپنے ستر بہترین حفاظ اور قاریوں کو منافقین کے ساتھ نہ بھیج دیتے جنہیں ہنر معونہ کا مقام پر ھوکے سے قتل کردیا گیا ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے حج کا احرام باندھا یعنی اس وقت آپ نے عمرہ کی نیت نہیں کی اور ساتھ قربانی کے جانور بھی لیے۔ صحابہ کرام ؓ نے بھی آپ کے تباع میں حج کا احترام باندھا ۔ مکہ معظمہ پہنچ کر خیال آیا کہ مشرکین حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ ایسی بات نہیں ہے تو آپ نے مشرکین کے خلاف کرنے کے لیے صحابہ کو حکم دیا کہ جو لوگ قربانی کے جانور ساتھ نہیں لائے وہ حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دیا اور عمرہ کر کے حلال ہوجائیں ۔ آپ نے فرمایا اگر میرے دل میں پہلے وہ بات آجاتی جو بعد میں آئی ہے۔ تو میں قربانی کے جانور مدینہ سے نہ لاتا ۔ اور جو طواف وسعی کی ہے اس کی عمرہ میں تبدیل کردیتا ۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں لو الی استقبک من امری ما استد برت لم اسق الھدی وجعلنھا عمرۃ یہ واقعہ بھی حضور ﷺ سے علم غیب کی نفی کرتا ہے۔ غرضیکہ تین سو سے زیادہ نصوص ملتی ہیں جن میں علم غیب مطلق کی نفی کی گئی ہے علم غیب کا اطلاق صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال و جواب کریں گے۔ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ تو عیسیٰ (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ پروردگار تو پاک ہے۔ بھلا میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ایسی بات کروں جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا ۔ اگر میں نے ایسی کوئی بات کی ہے تو تو اسے جانتا ہے ، تو میرے دل کی بات کو جانتا ہے مگر میں تیرے جی کی بات کو نہیں جانتا انک انت علامہ الغیوب (المائدۃ : 611) تمام غیبوں کا جاننے والا صرف تو ہی ہے۔
غیب کیا ہے ؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ انبیاء کے لیے علم غیب کا ثبوت قرآن میں موجود ہے وَمَا کَانَ اللہ ُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَلٰـکِنَّ اللہ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ مَنْ یَّشَآئُ (آل عمران : 971) اللہ تعالیٰ تمہیں غیب اور مطلع نہیں کرتا مگر اپنے منتخب نبیوں میں جس کو چاہے مطلع کردیتا ہے اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نبی کو چاہے غیب کی بات پر مطلع کردیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اطلاع علیٰ الغیب کے بعد وہ غیب تو نہ رہا غیب کی تو تعریف ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس نبی کو چاہیے غیب کی بات پر مطلع کردیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اطلاع علی الغیب کے بعد وہ غیب تو نہ رہا غیب کی تو تعریف ہی یہ ہے کہ اس کا علم بغیر کسی واسطے یا اطلاع کے ہو ۔ نبی کو اللہ نے وحی کے ذریعے کوئی بات بتلا دی تو وہ غیب نہ رہا ۔ اسی طرح کشف کے ذریعے اولیاء اللہ کو کوئی بات سمجھا دی یا عقلی طور پر کوئی چیز فہم میں ڈال دی تو اس کو غیب نہیں کہہ سکتے ۔ ہاں اس کو اضافی طور پر غیب کہہ سکتے ہیں جیسے خدا تعالیٰ علم الغیب والشھادۃ ہد ( الحشر : 32) ہے یعنی وہ غیب اور حاضر چیز کو جاننے والا ہے مگر یہ غب مخلوق کی نسبت سے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز مخفی نہیں ۔ اس کا اپنا فرمان ہیوَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ (یونس : 16) تیرے پروردگار سے تو زمین و آسمان کی ذرہ برابر چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ بہر حال علم غیب وہ ہوگا ۔ جو بغیر کسی کے بتلانے یا حواس ظاہر و باطنہ کو استعمال کرنے کے حاصل ہوگا ۔ اور اس کا اطلاق صرف اللہ کی ذات پر ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کوئی بات بتلا دیتا ہے تو پھر عیب نہیں رہتا ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص کسی جگہ ایک وقوعہ مشاہدہ کر کے آتا ہے تو وہ آ کر دوسرے شخص کو بتلا دیتا ہے اب دوسرے شخص نے وہ خود تو نہیں دیکھا اور نہ ہی بغیر بتلانے کا علم ہوا ہے ، لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دوسرے شخص کو علم غیب ہے بلکہ وہ تو اطلاع کرنے سے ہوا ہے اور اطلاع علی الغیب غیب نہیں ہوتا۔
وقوع قیامت کا وقت
بہر حال ذرے ذرے کا علم تو فقط خدا تعالیٰ کو ہے ۔ مخلوق کو تو اتنا بھی علم نہیں وما یشعرون یان یبعتون کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ عین وقوع قیامت کا علم اللہ نے اپنے ساتھ مختص رکھا ہے۔ قرآن میں تصریح موجود ہے ۔ لا بجلیھا لوقتھا الاھو ( الاعراف : 781) اس نے اپنے سوا اس کا وقت کسی پر ظاہر نہیں کیا ۔ بل ادرک علمھم فی الاخرۃ بلکہ آخرت کے معاملہ میں ان کا علم گر گیا ہے۔ درک ادرک کا معنی سمجھنا ، پانا یا اکٹھا ہونا ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا حتیٰ اذا درکوا فیھا جمیعا ً ( الاعراف : 83) جب سارے جرم جہنم میں اکٹھے ہوجائیں گے تا ہم اس مقام پر جلے کا معنی بعض مفسرین فرماتے ہیں ان کا علم گر گیا یا ساقط ہوگیا ۔ یعنی کافروں اور مشرکوں کے خیالات مختلف ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ قیامت آئیگی اور کوئی کہتا ہے کہ بالکل نہیں آئے گی گویا اس معاملہ میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے اور وہ یقینی طور پر کچھ نہیں جانتے۔ امام زمحشری ذلک کا معنی کامل ہونا کرتے ہیں ۔ اس طرح جملے کا معنی یہ بنتا ہے کہ آخرت کے بارے میں ان کا علم کامل ہوچکا ہے۔ وہ اس طرح کہ وہ تمام اسباب ان کے پاس آ چکے ہیں ۔ جن کے ساتھ قیامت کا علم ہو سکتا ہے مگر پھر بھی یہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں ۔ وہ ہر چیز کو اپنے سامنے پیدا ہوتے دیکھتے ہیں ۔ انسان اور جانور پیدا ہوتے ہیں ۔ ہر موسم میں نباتات اگتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ پھر ہر فصل کے موقع پر ان کا اعادہ ہوتے بھی دیکھتے ہیں۔ یہ اس بات کے شواہد ہیں کہ وقوع قیامت بعید نہیں ہے اگر کسی چیز کی تخلیق پہلی دفعہ ممکن ہے تو پھر دوبارہ بھی ممکن ہے ۔ اس میں تردید کی کون سی بات ہے ۔ سورة یونس میں ہے انہ یبدو لخلق ثم یعیدہ ( آیت : 4) وہی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے اور وہی دوبارہ لوٹائے گا ۔ فرمایا اس کے باوجود جاہل لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں بل ھم فی شک منھا بلکہ وہ تو شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ سورة النباء میں وضاحت موجو ہے عَمَّ یَتَسَآئَ لُوْنَ عَنِ النَّبَاِ الْعَظِیْمِ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ (آیت : 1 ، 3) یہ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ بہت بڑی خبر یعنی قیامت کے بارے میں الذی ھم فیہ مختفون ( آیت : 3) جس کے متعلق وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ آئے گی اور کوئی انکار کرتا ہے۔ یہ لوگ قیامت کے وقوع کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
دل کے اندھے
فرمایا : بل ھم منھا عمون بلکہ یہ لوگ آخرت کے بارے میں اندھے ہیں ۔ عمون کا معنی ظاہری آنکھوں کا اندھا پن نہیں بلکہ ان لوگوں کے دل اندھے ہیں جن میں صحیح بات نہیں سماتی ۔ سورة الحج میں ہیفَاِنَّھَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰـکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ (آیت : 64) ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہیں بلکہ سینوں میں رکھے ہوئے دل اندھے ہیں قوم نوح کے متعلق بھی فرمایا انھم کانوا قوما ً عمین ( الاعراف : 46) وہ ساری کی ساری قوم ہی اندھی تھی ۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے۔ شر العمی عمی القلب بد ترین اندھا پن دل کا اندھا پن ہے۔ ظاہر ی آنکھوں سے محروم بعض لوگ تو بڑے اچھے اچھے کام بھی کر جاتے ہیں بعض لوگوں کے علمی کاموں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ ان لوگوں نے علم کی بڑی خدمت کی ہے۔ یہ تو ظاہری نقس ہے کہ انسان آنکھوں سے محروم ہے مگر اصل اندھا تو وہ ہے جس کا دل اندھا ہے یعنی اس میں کفر شرک اور بد عقیدگی بھری ہوئی ہے۔ ایمان کا تصور موجود نہیں ہے اور وہ ہدایت کی بات کو سمجھنے سے عاری ہیں ۔ بہر حال منکرین قیامت کے متعلق فرمایا کہ ان کے پاس علم کے تمام اسباب پہنچ چکے ہیں ۔ مگر اس کے باوجود یہ لوگ شک و تردد میں پڑے ہوئے ہیں ۔ گویا ان کے دل اندھے ہیں جسکی وجہ قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔
Ayahs 27:67–75ربط آیات
گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور شرک کا رد کیا ۔ پھرنا فرمان لوگوں کے متعلق فرمایا کہ آپس کے اختلافات کی وجہ سے آخرت کے بارے میں ان کا علم ساقط ہوگیا ہے وہ کوئی صحیح بات نہیں کرسکتے بلکہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے دل اندھے ہیں ۔ آپ آج کے درس میں قیامت کا ذکر ہے۔ مکی سورتوں کے اہم ترین مضامین میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت کے علاوہ وقوع قیامت بھی ایک اہم مضمون ہے۔ کافر لوگ جہاں باقی بنیادی عقائد کا انکار کرتے تھے وہاں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کے بھی منکر تھے۔ بعض تو کلیسا انکار کرتے تھے اور بعض شک و ترو و میں پڑے ہوئے تھے ۔ وہ اس میں اہم مسئلہ کو اپنی عقل کی کسوٹی پر کھنا چاہتے تھے مگر یہ بات ان کی ناقص سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔ ان آیات میں اسی بات کا تذکرہ ہے۔
عبث بعد الموت کا انکار
ارشاد ہوتا ہے وقال الذین کفروا اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا یعنی توحید و رسالت اور وحی الٰہی کے منکرین نے یہ بھی کہاء اذا کا ترابا واباء نا کیا جب ہم اور ہمارے آبائو اجداد مٹی ہوجائیں گے یعنی ٹنوں مٹی کے نیچے دفن ہو کر مٹی کے ساتھ مل کر مٹی ہوجائیں گے۔ سورة السجدہ میں ہےء اذا ضللان فی الارض (آیت : 01) جب ہم مٹی میں گم ہوجائیں گے یعنی ہمارے جسمانی اجزاء مٹی میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ پیدا کئے جائیں گے۔ یہاں بھی فرمایا کہ جب ہم اور ہمارے آبائو اجداد مر کر مٹی میں مل جائیں گے۔ ائنا لمخرجون تو کیا ہم اس زمین سے دوبارہ برآمد کیے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ مفادکا مسئلہ تو اسلام کا اہم ترین مسائل میں سے ہے معاد کا خوف ہی انسان کو احکام الٰہی کی پابندی پر مجبور کرتا ہے ۔ مگر جب یہ مسئلہ کفار مکہ کے سامنے بیان کیا جاتا تو وہ اس پر حیرت کا اظہار کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص مرنے کے سینکڑوں ہزاروں سال بعد دوبارہ زندہ کیا جائے حالانکہ اس وقت تک اس کے جسم کا ذرہ ذرہ میں مل کر خاک ہوچکا ہوگا ۔ سورة سبا میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا ہے کہ کافر لوگ آپس میں اس قسم کی گفتگو کرتے تھے کہ کیا ہم تمہیں اس شخص کے متعلق بتائیں جو کہتا ہے اِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ (آیت : 7) جب تمہارے اجسام ذرہ ذرہ ہوجائیں تو تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائیگا ۔ پھر خود ہی کہنے گے لقد وعدنا ھذا نحن و ابائو نا من قبل اس بات کا وعدہ ہم سے اور ہمارے آبائو اجداد کے ساتھ اس سے پہلے بھی کیا گیا کہ مرنے کے بعد سب کو دوبارہ اٹھایا جائے گا ۔ مطلب یہ کہ سابقہ انبیاء علہیم السلام اور شرائع الٰہیہ والے لوگ بھی یہی کہتے رہے ہیں ، مگر ہماری عقل میں یہ بات نہیں آتی ، لہٰذا ہم اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ معاد سے انکار کا تذکرہ قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں مختلف انداز سے آیا ہے۔ مثلاً سورة الزعت میں میں ہےء اذا کنا عظاما نخرۃ ( آیت 11) کیا جب ہماری ہڈیاں بھر بھر ہوجائیں گی اور ان میں مادہ حیات باقی نہیں رہے گا ۔ تو پھر بھی ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ اس کے جواب میں سورة بنی اسرائیل میں اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کونوا حجارۃ و حدید ( آیت : 05) تم بھربھری ہڈیوں کی بات کرتے ہو اگر پتھر اور لوہے جیسی سخت مخلوق بھی بن جائو تو اللہ تعالیٰ پھر بھی تمہیں زندہ کر کے سامنے لا کھڑا کرے گا اور تم سے حساب کتاب ملے گا ۔ بہر حال کافر لوگ کہتے تھے کہ بعث بعد الموت کی کچھ حقیت نہیں ان ھذا الا اساطیر الاولین یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کو مانیاں ہیں ۔ جو ہم آبائو اجداد سے سنتے آئے ہیں مگر آج تک کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھتا۔ اساطیر اسطورہ کی جمع ہے جو یونانی زبان کا لفظ ہے اور اس کا انگریزی تلفظ سٹور Story ہے وہ معاد کے مسئلہ کو پرانے زمانے کی سٹوریوں سے تعبیر کرتے تھے۔ اس باطل خیال کا جواب اللہ نے مختلف طریقوں سے دیا ہے۔ عام طور پر یہ مسئلہ نباتات کی روئیدگی کی مثال سے سمجھایا گیا ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف سے بارش نازل کرتا ہے جس سے زمین سیراب ہوتی ہے تو اس میں روئیدگی کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس میں طرح طرح کے پودے ، درخت ، جڑی بوٹیاں اور اجناس پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ چیزیں اپنے عروج پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہیں۔ ان کے ذرات منتشرہو کر مٹی میں مل جاتے ہیں ، مگر جب پھر موسم کے مطابق بارش ہوتی ہے ، تو وہی چیزیں دوبارہ پیدا ہوجاتی ہیں ۔ جن کا تم روز مرہ مشاہدہ بھی کرتے ہو ، مگر انسانوں کے دوبارہ پیدا ہوجانے پر یقین نہیں کرتے ۔ سورة القیمۃ میں فرمایا کہ جس خدوند قدوس نے انسان کو قطرہ آب سے اور پھر گوشت کے لوتھڑے سے مکمل انسان بنایا ، پھر مذکر ومؤنث کے جوڑے بنائے الیس ذلک بقدر علی ان یحی الموتی (آیت : 04) کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ قیامت کے دن مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے ؟ بل وھو الخلق العلیم ( یٰسین : 18) کیوں نہیں وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم والا ہے۔ فرمایا یحییھا الذی انشاھا اول مرۃ ( یٰسین : 971) انہیں دوبارہ بھی وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی دفعہ پیدا کیا ۔ جب پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوبارہ تخلیق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ؟ یہ تو بڑی بےعقلی کی بات ہے جب آغاز سے واقف ہو تو انجام بھی دیکھ لو گے۔
مجرمین کا انجام
فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے سیروا فی الارض فانظروا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کیفی کان عاقبۃ المجرمین کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا ۔ وہ مجرم جو طرح طرح کے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے ، حق کو مٹانا چاہتے تھے ، باطل کی سرپرستی تھے ، کفر و شرک کے شعائر کو زندہ رکھنا چاہتے تھے ، ایمان اور توحید والوں کے دشمن تھے ، اللہ کے نبیوں کی مخالفت کرتے تھے اور عام لوگوں پر مظالم ڈھاتے تھے ، ان کے انجام کی کہانیاں آثار قدیمہ کے کھنڈرات میں پڑھ لو ، ان کی اجڑی ہوئی بستیاں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہاں کبھی ظالم و سر کش لوگ آباد تھے جن کا نام و نشان تک مٹ گیا ۔ دنیا میں کوئی قوم جس قد ر زیادہ سر کش تھی اس کو سزا بھی اسی قدر زیادہ ملی ۔ سورة ابراہیم میں فرمایا وَّسَکَنْتُمْ فِیْ مَسٰکِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَتَبَیَّنَ لَکُمْ کَیْفَ فَعَلْنَا بِہِمْ وَضَرَبْنَا لَکُمُ الْاَمْثَالَ (آیت : 54) تم ان لوگوں کی رہائش گاہوں میں اقامت پذیر ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیے اور یہ بات تمہارے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا دیکھ لو ہم نے انہیں صفحہ ہستی سے ناپید کر کے ان کی جگہ تمہیں آباد کیا ، تمہیں عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ اگر تم نے بھی انہی لوگوں کا وطیرہ اختیار کیا تو پھر تمہارا البحاہ بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔
حضور ﷺ کیلئے تسلی
پھر اللہ نے حضور خاتم النیین ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ۔ ولا تحزن علیھم آپ ان لوگوں پر غم نہ کھائیں ۔ ان کی حالت کو دیکھ ک افسردہ نہ ہوں ولا لکن فی ضیف مما یمکرون اور نہ ہی آپ ان کی خفیہ تدبیروں سے تنگی محسوس کریں ۔ ان کے مکرو فریب سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان سے خود ہی نپٹ لے گا اور ان کو سزا دے گا ۔ یہ اپنی سازشوں میں نہ پہلے کبھی کامیاب ہوئے ہیں اور نہ اب ہوں گے۔ اور جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے یہ آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے واللہ یعصمک من الناس ( المائدہ : 76) اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے تمہاری حفاظت کرے گا ۔ اور آپ کے مشن کو کامیاب بنائے گا ۔ اور اس کو دنیا میں پھیلائے گا ۔ پچھلی سورة الشعراء میں بھی گزر چکا ہے۔ لعلک باخع نفسک الا یکونو ا مومنین ( آیت : 3) آپ اپنے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کہ اپنا گلا ہی گھونٹ دیں اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں ۔ ان کی حرکتوں کی باز پرس خود اللہ تعالیٰ ان سے کریگا ۔
قیامت کا انتظار
فرمایا : ان لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ ویقولون متی ھدا الوعد ان کنتم صدقین کہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتائو قیامت کا وعدہ کب پورا ہوگا ۔ محض دھمکیاں دیتے ہو ۔ اگر قیامت کا یقین ہے تو پھر اسے برپا کیوں نہیں کردیتے وہ لوگ تکبر ، غرور اور تعصب کی بناء پر ایسی بات کرتے تھے۔ اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ اس کا جواب یہ دیں عسیٰ ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعلون شاید کچھ بعید نہیں کہ قیامت تمہاری پشت کے پیچھے پہنچ چکی ہو بعض وہ چیزیں جن کے متعلق تم جلدی کرتے ہو۔ مقصد یہ کہ تم قیامت کو مذاق سمجھتے ہو مگر عین ممکن ہے کہ یہ تمہارے بالکل قریب پہنچ چکی ہو اور تم پر اچانک واردہو جائے۔ کفار و مشرکین عموماً دو چیزوں کے متعلق جلدی مچاتے تھے یعنی قیامت کیوں برپا نہیں کردیتے یا ہم پر عذاب کیوں نہیں نازل کردیتے ؟ مکہ والے بھی کہتے تھے اللّٰہُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآئِ اَوِائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (الانفال : 23) اے اللہ ! اگر اللہ کے نبی کے فرمودات برحق ہیں تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسایا کوئی دوسرا درد ناک عذاب بھیج دے ، چناچہ پیغمبر کو مکہ سے نکلے بھی ڈیڑھ سال ہی گزرا تھا کہ اللہ نے مشرکوں پر بد کے میدان میں عذاب بھیج دیا اور اللہ کا وعدہ پورا ہوگیا ۔ ہلاکت و بربادی بھی قیامت ہی کا حصہ ہے جو کہ اپنے وقت پر آئے گی مگر اس کا نمونہ دنیا میں بھی آسکتا ہے ، پھر یہ بھی ہے من مات فقد قامت قیمتہ جو مر گیا اس کی قیامت تو برپا ہوگئی ۔ اس کا حساب کتاب تو قبر میں ہی شروع ہوگیا ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ جن چیزوں کے ان میں تم جلدی کرتے ہو ، ہوسکتا ہے کہ وہ تمہارے بالکل قریب پہنچ چکی ہوں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو اور پھر وہ اچانک تم پر وارد ہوجائیں ۔ یہاں پر ردف کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ردف اس شخص کو کہتے ہیں جو سواری پر پیچھے بیٹھتا ہے۔ اس میں کنایہ یہ ہے کہ قیامت تم سے اتنی قریب ہے جتنا سواری پر پیچھے بیٹھنے والا آگے بیٹھنے والے کے قریب ہوتا ہے ۔ فرمایا یہ لوگ تو اپنی نادانی کی وجہ سے قیامت کے جلدی آنے کی خواہش رکھتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے وان ربک لذوفضل علی الناس تیرا پروردگار تو لوگوں پر بڑا فضل کرتا ہے۔ وہ مہلت دیتا رہتا ہے اور جلدی گرفت نہیں کرتا ، اس مہلت کو غنیمت سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ولکن اکثرھم لا یشکرون مگر ان میں سے لوگوں کی اکثریت خدا تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتی ، بلکہ غرو ر وتکبر میں مبتلا رہتے ہیں ۔ مہلت دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو گرفت میں نہیں لے گا بلکہ حقیقت یہ ہے۔ ان بطش ربک لشدید ( البروج : 21) تیرے پروردگار کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔ جب وہ گرفت کرتا ہے تو پھر عذاب دیئے بغیر چھوڑتا نہیں ۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ فرمایا وان ربک لیعلم ما تکن صدوھم ومایعلنون تیرا پروردگار خوب جانتا ہے۔ اس چیز کو جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں ۔ آپ اپنا کام مستعدی سے کرتے جائیں اور ان کی طرف سے زیادہ غم نہ کھائیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاق ، عقیدے اور مخفی تدابیر کو جانٹا ہے وہ خود ان سے نپٹ لے گا ۔
لوح محفوظ
آگے ارشاد ہوتا ہے وما من غائبۃ فی السماء والارض لا فی کتب مبین ارض و سما کی کوئی غائب چیز نہیں ہے مگر وہ ایک کھلی کتاب میڈ درج ہے۔ ہر چیز کا ریکارڈ اللہ کے پاس لو ح محفوظ میں درج ہے اور کوئی ظاہر یا پوشیدہ چیز اس سے باہر نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہر اور باطن تو مخلوق کے اعتبار سے ہے وگرنہ خالق کے نزدیک تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے کیونکہ وَمَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ (یونس : 16) تیرے پروردگار سے تو کوئی ذرہ برابر چیز بھی مخفی نہیں ہے خواہ وہ زمین میں ہو یا آسمان میں مگر وہ ایک کھلی کتاب یعنی لوح محفوظ میں درج ہے ۔ اور پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر ہر وقت شاہد ہے واللہ علی کل شی شھید ( البروج : 9) اس کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں وہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے علم تفصیلی کا نمونہ ہے کہ ابتداء سے لے کر انتہا تک ہر چیز ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ اس کے علاوہ اللہ نے ہر چیز ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔ اس کے علاوہ اللہ نے ہر چیز کے ریکارڈ کے لیے فرشتوں کو بھی مقررکر رکھا ہے۔ انسان کی نگرانی کرنے والے کراما ً کاتبین اس کے اعمال کا ذرہ ذرہ درج کر رہے ہیں ۔ خود انسان کی روح اور نسمہ میں بھی اعمال کا اندراج ہوتا ہے ، جب وقت آئے گا تو سب ظاہر ہوجائیں گے ۔ یہ آپ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ زیادہ متفکر نہ ہوں ، ان کی مخفی تدبیروں سے خوف نہ کھائیں اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ، وہ خود ہی ان کی تدابیر کو ناکام بنا دے گا ۔
Ayahs 27:76–82ربط آیات
گزشتہ آیات میں قیامت کا ذکر تھا اور منکرین معاد کا رد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور اس کی قدرت نامہ کا ذکر تھا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام باتیں اس کے علم میں ہیں اور وہ مجرمین کو ضرور سزا دیگا ۔ نیز فرمایا کہ ارض و سماء کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے غائب نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم میں محفوظ ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور پیغمبر کی نبوت و رسالت کا تذکرہ کیا ہے۔
قرآن کریم کی حق گوئی
پہلے قرآن کی حقانیت وصداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ان اتخذ نقرن یقص علی بنی اسرائیل کثیر الذی ھم فیہ بختفون بیشک یہ قرآن کریم بنی اسرائیل کی بہت سی وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ یہ اللہ کی وہ بر حق کتاب ہے ، جو وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہوئی اور یہ بنی اسرائیل کی طرف سے سابقہ کتب سماویہ میں کیے گئے تغیر و تبدل کا پردہ چاک کرتی ہے ، ان لوگوں نے تورات اور دیگر صحائف میں عقیدے اور عصمت انبیاء کے متعلق بہت سی غلط باتیں شامل کردی تھیں ۔ مثلاً تخلیق آدم کے متعلق یہ لکھ دیا کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد پچھتایا ( العیاذ باللہ) یہ تو سخت کفر یہ کلمہ ہے۔ تورات کے پہلے باب میں یہ بھی لکھ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ارض و سما کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر ساتویں دن آرام کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کائنات کو بناتے بناتے تھک گیا تھا ( العیاذ باللہ) مگر قرآن نے اس مسئلہ کو واضح طور پر بیان کردیا کہ ہم نے ارض و سماء اور ان کے درمیان چیزوں کو چھ دن کے وقفے میں پیدا کیا وما مسنا من لغوب (ق : 83) مگر ہمیں کوئی تھکاوٹ لا حق نہیں ہوئی ۔ اسی طرح مسیح (علیہ السلام) کی انبیت اور الوہیت کا جو عقیدہ انہوں نے گھڑ رکھا ہے۔ قرآن نے اس کی جگہ جگہ تردید کی ہے ، مثلاً اللہ نے فرمایا ان ھو الاعبد انعمنا علیہ ( الزخرف : 95 ) یعنی مسیح (علیہ السلام) تو ہمارے بندے تھے جن پر ہم نے انعامات کیے ، وہ خود الٰہ نہیں تھے ، خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بچپن میں اعلان کردیا ۔ قال انبی عبد اللہ ( مریم : 03) میں تو اللہ کا بندہ ہوں ( الٰہ نہیں) اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور نبی بنایا ہے ۔ غرضیکہ قرآن پاک بنی اسرائیل کی غلط باتوں کی واضح طور پر نشاندہی کرتا ہے۔ وانہ لھدی ورحمۃ للمومنین اور بیشک یہ قرآن البتہ مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے ۔ اس کے ذریعے انسان کے عقیدے ، احکا م اور ہر چیز میں رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔ اور پھر جب انسان اس ہدایت پر عمل پیرا ہوجاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمایا بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف اور جھگڑا کرتے ہیں ان ربک یقضی بینھم بحکمۃ بیشک آپ کا پروردگار اپنے حکم سے ان باتوں میں فیصلہ کریگا بنی اسرائیل کے متنازعہ امور میں اللہ تعالیٰ نے علمی فیصلہ تو انبیاء بھیج کر اور قرآن نازل کر کے کردیا ہے اور حق و باطل کو واضح کردیا ہے۔ البتہ ان کے درمیان عملی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ یہ فیصلہ قیامت کے دن قطعی طور پر ہوجائے گا۔ جب اللہ تعالیٰ ان کو ان کے عقائد اور اعمال کے مطابق پورا پورا بدلہ دے گا ۔ فرمایا وھو العزیز العلیم اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ وہ کمال قدرت کا مالک ہے ، کافروں کی ساری سازشیں اور اہل کتاب کا تعصب وعناد اس کے علم میں ہے۔
تسلی کا مضمون
دوسری طرف اللہ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا فتوکل علی اللہ آپ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں انک علی الحق المبین بیشک آپ کھلے حق پر ہیں ۔ لہٰذا آپ اپنا کام جاری رکھیں اور نافرمانوں کی طرف سے دل برداشتہ نہ ہوں کہ یہ لوگ ایمان قبول کیا نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے انک لا تسمع الموتی کہ آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبری اور نہ ہی آپ کسی بہرے کو اپی پکار سا سکتے ہیں جب کہ وہ پشت پھیر کر جا رہے ہوں ۔ اس مقام پر کافروں کو مردوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بہروں سے مراد بھی وہ کفارو مشرکین ہیں جو حق بات کو سنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوتے ، تو جس طرح مردے اور بہرے آدمی کو کوئی بات نہیں سنائی جاسکتی ۔ اسی طرح ان کفار و مشرکین پر بھی توحید اور ایمان کی بات اثر انداز نہیں ہوتی ۔ ان مکذبین کے دل مردہ ہوچکے ہیں اور ان کے دل کے کان بہرہ ہیں ، لہٰذا ان پر کوئی نصیحت کارگر نہیں ہو سکتی ۔ اگرچہ ان کے ظاہری کان موجود ہیں اور وہ آپ کی آواز سنتے بھی ہیں مگر جو نصیحت آپ کرنا چاہتے ہیں وہ ان پر کارگر نہیں ہوتی ، گویا کہ وہ سنتے ہی نہیں ۔ لہٰذا اللہ نے فرمایا کہ آپ ان کے متعلق زیادہ فکر مند نہ ہوں۔
(1) حضور نبی کریم سماع موتیٰ
سماع موتیٰ یعنی مردوں کے سننے کا مسئلہ بحث طلب ہے ۔ اس کے دو حصے ہیں ۔ ایک کا تعلق حضور نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ سے ہے اور دوسرے عام فوت شدگان سے ۔ اول الذکر مسئلہ متفق علیہ ہے ، جب کہ ثانی الذکر اختلافی ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص حضور ﷺ کی قبر مبارک پر جا کر قریب سے صلوٰۃ وسلام پڑھے تو اسے آپ سنتے ہیں یا نہیں ؟ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) کے فتاویٰ میں مذکور ہے کہ جو آدمی حضور ﷺ کی قبر جا کر دور د وسلام عرض کرے آپ اسے از خود سنتے ہیں اور اس مسئلہ میں کسی کو اختلاف نہیں ۔ اس بارے میں صحیح 1 ؎ حدیث بھی موجود ہے من صلی علی عند قبری سمعتہ ومن صلی علی نائیا ابلغتہٗ
1 ؎۔ مشکوٰۃ ص 78 ( فیاض)
یعنی جو شخص میرے قبر کے قریب درود وسلام پڑھتا ہے میں اس کو بنفس نفیس سنتا ہوں اور جو شخص دور سے مجھ پر درود پڑھے ، وہ مجھے فرشتوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے سارے راوی صحیح ہیں اور اسے امام ابن اقیم (رح) ، امام ابن کثیر (رح) اور ملا علی قاری (رح) نے بھی صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی جیسے بڑے بڑے محدث بھی اس کو صحیح روایت تسلیم کرتے ہیں ۔ غیرمقلدین میں سے مولانا سید نذیر حسین دہلوی (رح) جو شاہ اسحاق (رح) کے شاگرد تھے مگر اہل حدیث مسلک اختیار کرلیا تھا ، ان کے فتویٰ میں بھی اس حدیث سے اتفاق کیا گیا ہے ، لہٰذا یہ مسئلہ اتفاقی ہے ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ زمانے کے بعض مولویوں نے اس مسئلہ کو بھی اختلافی بنا لیا ہے۔
عام فوت شدگان
البتہ عام فوت شدگان کے سماع کا مسئلہ صحابہ کرام ؓ کے زمانے سے اختلافی چلا آ رہا ہے اور بقول مولانا گنگوہی (رح) جن مسائل میں صحابہ ؓ کا اختلاف ہے آج ہم ان کو طے نہیں کرسکتے ، وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ لہٰذا ہمیں محتاط راستہ ہی اختیار کرنا چاہئے۔ اس مسئلہ میں صحابہ کرام ؓ میں بھی دو رائیں پائی جاتی ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور بعض دوسرے صحابہ سماع موتی کے قائل نہیں ہیں جب کہ حضرت عمر ؓ اور ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مردے سنتے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ عباس ؓ سے دونوں باتیں منقول ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت بھی موجود ہے جس کو امام ابن کثیر (رح) نے بھی نقل کیا ہے ما من مسلم یمربقبر اخیہ۔۔۔۔ جو مسلمان کسی مسلمان بھائی کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا تو وہ اس کو قبر میں بھی پہچانتا ہے ۔ اور جب آنے والا سلام کرتا ہے تو قبر والا اس کو سننا ہے۔ یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے اور اسی قسم کی روایت ابن عباس ؓ سے بھی منقول ہے۔
بدر کے مقتول کفار کی لاشیں جب کنویں میں ڈال دی گئیں۔ تو حضور ﷺ نے اس کنویں پر کھڑے ہو کر ان جہنم واصلوں کو خطاب کیا تھا کہ اے فلاں ! اور اے فلاں ! اللہ نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ، ہم نے تو اس کو بر حق پایا ، تم بتلائو کہ اللہ نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ، اس کی تم نے بھی بر حق پایا یا نہیں ؟ اس پر حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ حضر ت ! آپ ان مردوں سے کلام کرتے ہیں ، تو آپ نے فرمایا ما انتم با سمع منھم ونکنھم لا یجیبون یعنی یہ مردے تم سے زیادہ سنتے ہیں مگر جواب نہیں دے سکتے۔ حضرت عائشہ ؓ کے انکار سماع موتی سے متعلق حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ان کا موقف اس معاملہ میں یہ ہے کہ اللہ نے مقتولین بدر کو معجزے کے طور پر زندہ کیا تھا تا کہ وہ حضور ﷺ کی بات کو سن سکیں اور انہیں مزید حسرت ہو ، تا ہم عام مردے نہیں سنتے۔
مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) اس مسئلہ میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ میں مردوں کو اپنی بات سنا سکتا ہوں تو یہ تو نص قرآنی کے خلاف ہے۔ جہاں تک مردوں میں بنفسہ سننے کی طاقت کا تعلق ہے تو امام بخاری (رح) نے باب ہی یہ باندھا ہے المیت یسمع قرع فعال یعنی جب مردہ کو فن کر کے واپس لوٹتے ہیں تو مردہ ان کے پائوں کی آہٹ کو سنتا ہے۔ مولانا نانوتوی نے یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ حضور ﷺ نے قبرستان جا کر جو دعائیں پڑھنے کی تعلیم دی ہے اس میں مردوں سے خطاب پایا جاتا ہے۔ جیسے یہ دعا 1 ؎ ہے السلام علیکم دار قوم مومنین و انا انشاء اللہ بکم للا حقون یغفر اللہ لنا ولکم اے مسلمانوں کی قوم تم پر سلامتی ہو اور ہم بھی انشاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں معاف فرمائے ۔ فرماتے ہیں کہ اگر مردے اس دعا کو سنتے نہیں تو پھر ان کو خطاب کر کے سلام کہنے کا کیا فائدہ ان کے لیے خالی دعا ہی کافی تھی ، حضور ﷺ نے سلام کرنے کا حکم کیوں دیا ؟ اس سے معلوم ہوا کہ مردے بنفس نفیس سلام کو سنتے ہیں ۔ مولانا انور شاہ کشمیری (رح) فرماتے ہیں کہ بہت سی صحیح احادیث سے سماع موتی کا ذکر ملتا ہے جن سے انکار ناانصافی ہوگی ۔ البتہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مولانا اشرف علی تھانوی (رح) اور امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ عدم سماع سے سماع نافع مراد ہے یعنی مردے سنتے تو ہیں مگر اس سے فائدہ نہیں۔
1 ؎۔ مسلم ص 313 ج 1 و نساء ص 602 ج 1 ( فیاض)
اٹھا سکتے ، مطلق سماع مراد نہیں ہے ورنہ بہت سی صحیح احادیث کا انکار لازم آئیگا جو ناانصافی کی بات ہوگی۔ مولانا حسین علی واں بھچراں والے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) کے علم حدیث کی شاگرد اور موسیٰ زئی والے خواجہ عثمان (رح) کے مرید تھے۔ آپ اولیاء اللہ میں سے تھے۔ آپ نے تحریرات حدیث کے نام سے علم حدیث کی شرح میں کتاب بھی لکھی ہے جس میں تحریر کیا ہے کہ جو لوگ قبروں کی زیارت کے لیے جاتے ہیں ، مردے ان کے سلام و دعا کو سنتے ہیں ، اس مقصد کے لیے جمعہ کا دن اور طلوع آفتاب سے قبل کا وقت زیادہ موزوں ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) نے اپنی کتاب ” اقتضائے الصراط المستقیم “ میں لکھا ہے کہ قرآن اور سلام کا سننا مردوں کے حق میں بر حق ہے یعنی وہ یہ دونوں چیزوں سنتے ہیں ۔ غرضیکہ جمہور کا مسلک یہی ہے کہ مردے سنتے ہیں ، البتہ احناف میں بھی بعض عدم سماع کا قائل ہیں۔
استعانت عن الموتی
یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ سماع موتی کو تسلیم کرنے والا آمی کافر یا مشرک نہیں ہوجاتا جیسا کہ بعض لوگ اس قسم کا فتویٰ بھی دے دیتے ہیں ۔ ہاں ! اگر کوئی شخص سماع کے ساتھ یہ عقیدہ بھی رکھے کہ مردے حاجت روائی اور مشکل کشائی بھی کرتے ہیں تو ایسا شخص یقینا مشرک ہوگا جو غیر اللہ سے استعانت کا قائل ہے سورة فاطر میں موجود ہے اِنْ تَدْعُوْھُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْج وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْط وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ یَکْفُرُوْنَ بِشِرْکِکُمْ (آیت : 14) اگر تم ان کو پکارو بھی تو وہ سنتے نہیں ، اور اگر سن بھی لیں تو وہ جواب نہیں دے سکتے ۔ خود حضور ﷺ جن کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ وہ قریب سے سنتے ہیں ، ان کے بارے میں بھی فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ وسلام پیش کرنے کے بعد آپ سے بھی صرف شفاعت کی درخواست کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر قائم رکھے اور ہمارا خاتمہ بالخیر ہو ، مراد تو آپ سے بھی مانگنا جائز نہیں ہے چہ جائیکہ اولیاء اللہ یا دوسرے کی نشانیوں کا ذکر ہے ، جن میں سورج کا مغرب سے طلوع ، دجال کا خروج مسیح (علیہ السلام) کا نزول ، زمین میں خسف کا واقع ہونا ، آگ کا نکلنا اور دابتہ الارض کا خروج شامل ہیں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ عجیب و غریب قسم کا جانور ہوگا ۔ جو لوگوں سے بات چیت کریگا ، اور واضح طور پر بتائے گا کہ فلاں سچا مومن ہے اور فلاں منافق یا کافر ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ قیامت سے پہلے مکہ کا صفا پہاڑ پھٹے گا ۔ جس سے مذکورہ جانور برآمد ہوگا اور وہ لوگوں سے ٹھیک ٹھیک باتیں کریگا ۔ مگر اس نشانی کو دیکھ کر کسی کا ایمان لانا معتبر نہیں ہوگا ۔ ایمان کا فائدہ اس وقت تک ہے ، جب تک یہ چیز ظاہر نہیں ہوتی ۔ بہر حال فرمایا کہ جب بات واقع ہوجائے گی تو ہم زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا ۔ یہ اس وجہ سے ان الناس کانوا بایتنالا یوقنون کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں لاتے تھے مگر اب مجبور ہو کر ایمان لانا مفید نہیں ہوگا ۔