Ayahs 27:54–58ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر کیا کہ ان کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر اونٹنی کی حیرت انگیز نشانی ظاہر فرمائی مگر قوم نے اس کا انکار کیا اور صالح (علیہ السلام) کو ختم کردینے کا منصوبہ بنایا ۔ اللہ نے ان کی تدبیر کو ناکام بنایا ، وہ صالح (علیہ السلام) کو تو قتل نہ کرسکے البتہ خود ہی اللہ کے عذاب کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے ۔ اللہ نے یہ واقعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے زمانے کے مشرکین کی نصیحت اور عبرت کے لیے بیان کیا ۔ اب اسی طرح لوط (علیہ السلام) اور انکی قوم کے واقعات کا ذکر ہو رہا ہے وہ لوگ بھی ان کے وعظ و نصیحت کو برداشت نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں اپنے راستے میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے ۔ انہوں نے بھی لوط (علیہ السلام) کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت ترین عذاب کا شکار ہوئے۔
قوم لوط کی خرابیاں
یہ لوگ بحرمیت کے اطراف میں شرق اردن کے علاقے میں آباد تھے ، ان کی زرعی زمینیں اور باغات تھے جو کہ بڑا زرخیز علاقہ تھا۔ تجارت بھی خوب کرتے تھے اور بڑے خوشحال لوگ تھے ۔ اس قوم کے چھ بڑے بڑے شہر اور بہت سے قصبات اور دیہات تھے ۔ مفسرین کرام ان کی کل آبادی چار سے گیارہ لاکھ تک بتاتے ہیں ۔ بڑ ی بڑی بستیاں سدوم ، عامورہ ، صعودۃ اور دوامہ وغیرہ تھیں جن میں سدوم کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اس قوم کے فرد نہیں تھے بلکہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے جو سام ابن نوح کی اولاد میں سے تھے ۔ بایل میں آباد تھے پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) نے بایل سے ہجرت کی تو آپ کی بیوی سارہ ؓ اور لوط (علیہ السلام) نے بھی آپ کے ساتھ ہجرت کی ۔ اللہ تعالیٰ نے دوران سفر ہی لوط (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی اور اپنا پیغام سنانے کے لیے اہل سدوم کی طرف مبعوث فرمایا ، چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) تو مصر سے ہوتے ہوئے شام و فلسطین کے علاقے میں چلے گئے اور لوط (علیہ السلام) نے شرق اردن پہنچ کر تبلیغ حق کا آغاز کردیا ۔ اس قوم میں بھی دیگر قوموں کی طرح کفر اور شرک پایا جاتا تھا ، مگر ان میں ایک قبیح ترین بیماری ہم جنسی کی بھی پائی جاتی تھی ۔ یہی قوم اس فعل کی موجد ہے سب سے پہلے شیطان نے اسی قوم کو اس فعل پر آمادہ کیا۔
سورۃ عنکبوت میں ہے اِنَّـکُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَز مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰـلَمِیْنَ (آیت : 82) تم ایسی بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو جو تم سے پہلے جہان بھر میں کسی نے نہیں کی ۔ یہ لوگ اس فعل شنیع میں اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ اللہ نے لوط (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایااَئِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَلا وَتاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ (العنکبوت : 92) کیا تم شہوت رانی کے لیے مردوں سے التفات کرتے ہو ، مسافروں کا راستہ کاٹتے ہو ۔ اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو ؟ ہم جنسی کے علاوہ اس قوم میں دیگر اخلاقی برائیاں بھی پائی جاتی تھیں ۔ مسافروں کو لوٹ لیتے تھے ، راستے میں بیٹھ جاتے ، جہاں دائو چلا کر کسی کو لوٹ لیا ، مقامی طور پر تجارت میں ڈنڈی مارتے تھے اور اگر کوئی تاجر مال لیکر باہر سے آجاتا تو اس کا مال ہتھیانے کی کوشش کرتے ۔ ان کا عام طور پر طریقہ کار یہ تھا کہ کوئی چیز گھر میں دکھانے کے بہانے اسے لے گئے اور پھر ہضم کر گئے ، اگر کسی نے مزاحمت کی تو اس کا باقی سامان بھی لوٹ لیا ۔ مجلس میں بیٹھ کر بیہودہ باتیں کرنا اور بےحجابانہگوز مارنا ان کا عام معمول تھا۔
لوط (علیہ السلام) کا وعظ
لوط (علیہ السلام) نے درس توحید کے بعد قوم کو لواطت کی خرابی سے آگاہ کیا اور اس فعل شنیع سے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ ارشاد ہوتا ہے ولوط اذ قال لقومہ اور لوط (علیہ السلام) کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے آپ اس قوم کے فرد نہیں تھے ، بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے چونکہ آپ اس قوم کی طرف مبعوث ہوئے لہٰذا اس قوم کو آپ ہی کی قوم کہا گیا ہے ۔ تو لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا اتاتون الفاحشۃ کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو ۔ اغلام بازی جیسے قبیح فعل کے مرتکب ہوتے ہو وانتم تبصرون اور تم دیکھتے بھی ہو تبصرون کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ تم اس کام کو برا سمجھتے ہوئے بھی اس کا ارتکاب کر رہے ہو اور دوسرے یہ کہ تم بےحجابانہ طور پر ایک دوسرے کو آمنے سامنے دیکھتے ہوئے بھی اس برائی کو کیے جا رہ ہو اور ذرا شرم نہیں کھاتے۔ فرمایا ائنک لتانون الرجال شھوۃ من دون النساء کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت زنی کے لیے مردوں کی طرف دوڑتے ہو ؟ یہ تو بڑا ہی گندا کام ہے ۔ بل انتم قوم تجھلون تم تو بڑے ہی نادان اور بےسمجھ لوگ ہو۔ اللہ نے شہوت زانی کے لیے دوسری جنس بنائی ہے مگر تم یہ کام اپنے ہم جنس مردوں سے کرتے ہو ۔ سورة الشعراء میں گزر چکا ہے کہ آپ نے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا انی لعلکم من القالین (آیت : 861) میں تمہارے اس فعل سے نفرت کرتا ہوں ۔ قرآن پاک میں زنا اور لواطت دونوں جرائم کو فحش کہا گیا ہے بلکہ لواطت زنا سے بھی زیادہ قبیح فعل ہے۔ یہ خلاف وضع فطری ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اتنا برا فعل ہے کہ اس کو تو سوائے بندروں کے کوئی دوسرا جانور بھی پسند نہیں کرتا ۔ بندر کو اس فعل کی وجہ سے ذلیل جانور کہا گیا ہے۔
لواطت کی قباحتیں
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر لوگ طوالت کرنے لگیں یا جانوروں کے ساتھ یہ فعل شروع کردیں تو ارتقاقات صالحہ بالکل تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔ مثلاً نکاح کرنا ضروری ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ نے بقائے نسل کا سلسلہ قائم کیا ہے ، اگر اغلام بازی شروع کردی جائے تو بقائے نسل کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور نکاح کی وجہ سے لوگوں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ وہ بھی برباد ہوجائیں گی ، لہٰذا یہ فعل فطرت کے بالکل خلاف ہے ۔ اس فعل سے اخلاق بگڑ جاتا ہے اور دین بھی خراب ہوتا ہے نسل میں خرابی آتی ہے ۔ ارتقاقات ختم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے اور پھر اس کی گرفت آتی ہے ۔ لو ط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تیس سال تک وعظ کیا ۔ آپ نے اس کام میں شب و روز ایک کردیا ، مگر ان لوگوں پر کچھ اثر نہ ہوا ۔ دوسری جگہ موجود ہے کہ آپ کی بیٹیوں کے سوا کوئی بھی آپ پر ایمان نہ لایا حتیٰ کہ بیوی بھی کافرہ ہی رہیں۔
قوم کا جواب
لوط (علیہ السلام) کی قوم آپ کا وعظ سن سن کر تنگ آگئی۔ فما کان جواب فومہ الا ان قالوا اخرجوا ال لوط من فریتکم نھم اناس یتطھرون آخر ان کا جواب یہ تھا کہ لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ بڑے پاکباز لوگ بنے پھرتے ہیں جو ہمیں گند کہتے ہیں ۔ کہنے لگے ان گندی بستیوں میں کیا کام ، ان کو نکا ل باہر کو کہ یہ کسی اچھی جگہ پر چلے جائیں ، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی قومیں اپنے اپنے نبیوں کو ختم کرنا یا نکالناچاہتی تھیں ۔ مگر اللہ نے ان کو ذلیل و خوار کر کے اس دنیا سے ہی نکال دیا ۔ سورة قمر اور دوسری سورتوں میں یہ بھی موجود ہے کہ اگر بستی میں کوئی مہمان آجاتا تو اس کے ساتھ بد فعلی کا ارتکاب کر ڈالنے پر ایسی خبیث قوم تھی۔ آخر کار خدا تعالیٰ کا غضب جوش میں آیا تو اللہ نے فرشتوں کو انسانی شکل میں بھیج کر قوم پر عذاب نازل کیا جس کی تفصیلات دوسری سورتوں میں موجود ہیں۔
لوط (علیہ السلام) کے اہل خانہ کی نجات
فرمایا پھر جب اس قوم پر عذاب آیا فانحینہ واھلہ الا امرتہ تو ہم نے لوط (علیہ السلام) اور آپ کے گھر والوں کو بچا لیا ۔ ماسوائے آپ کی بیوی کے قدر نھا من الغبرین ہم نے اس کے متعلق ٹھہرا رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہوگی ۔ جب قوم پر عذاب کا وقت قریب آگیا تو لوط (علیہ السلام) کو حکم ہوا فاسر باھلک بقطع من لیل ولا یلتفت منکم احد لا امراتک ( ہود : 18) کہ اپنے اہل کو لے کر رات کے پچھلے حصہ میں بستی سے نکل جائو اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تمہاری بیوی کہ اس پر مصیبت آنے والی ہے وہ آ کر رہے گی ۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ آپ کے گھر والے آگے آگے تھے اور آپ ان کے پیچھے چل رہے تھے ، ایماندار اہل خانہ میں آپ کی بچیاں ہی تھیں کیونکہ بیوی تو ایمان نہیں لائی تھی اور وہ ساتھ نہیں نکل تھیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ گھر سے نکلتے وقت بیوی بھی ساتھ تھی مگر تھوڑی دورآ کر پھر واپس چلی گئی اور باقی قوم کے ساتھ وہ بھی ہلاک ہوگئی۔ لوط (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی کا رشتہ قیامت والے دن بھی کچھ کام نہیں آئے گا کیونکہ بیوی ایمان ہی نہیں لائی ۔ وہ فریاد کریگی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی طرح لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی نافرمان تھی ۔ اللہ نے دونوں کے متعلق فرمایا کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰـہُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْہُمَا مِنَ اللہ ِ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُـلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِیْنَ ( التحریم : 01) یہ ہمارے نیک بندوں کے حرم میں تھیں مگر دونوں نافرمان تھیں اور ہمارے دونوں بندے اللہ کے ہاں کسی کام نہ آسکے اور وہ دونوں عورتیں باقی جہنمیوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوں گی۔ اللہ نے یہ واقعہ عبرت کے لیے بیان فرمایا ہے ۔ دوسری صرف فرعون جیسے متکبر اور مستبد شخص کی بیوی مومنہ تھی ۔ اس نے بڑی تکلیفوں کے ساتھ شہادت پائی تو اللہ نے اسکے لیے جنت میں اعلیٰ ترین مقام بنایا ہے ، اسی طرح اللہ نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی مثال بیان فرمائی ہے کہ ان کو اللہ نے کیسی پاکیزگی عطا فرمائی ۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کو بچا لیا سوائے ان کی بیوی کے جو پیچھے رہنے والوں میں تھی ۔
قوم لوط پر عذاب
فرمایا وامطرنا علیھم مطراً اور ہم نے ان پر بارش برسائی قوم کی تباہی کا وقت آ چکا تھا۔ اللہ نے ان پر باش کے ذریعے پانی نازل نہیں کیا بلکہ ان پر پتھر برسائے گئے اور پتھر بھی ایسے مسومۃ عند ربک للمسرفین ( الذرات : 43) جن پر مجرموں کے نام کندہ تھے کہ یہ پتھر فلاں سردار کے سر پر پڑے گا اور یہ فلاں کا کام تما م کریگا اللہ نے پتھروں پر نام لکھ کر متعلقہ نافرمانوں کو مارے ، ایک تو یہ سزا تھی اور دوسری یہ کہ جعلنا عالیھا سافلھا ( ہود : 28) ہم نے اس خط ارضی کا نچلا حصہ اوپر اور اوپر والا حصہ نیچے کردیا یعنی زمین کو بالکل الٹ دیا کیونکہ وہ لوگ کام ہی الٹے کرتے تھے ، کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت زنی کرتے تھے ۔ سورة الحجر میں ایک تیسری سزا کا بھی ذکر ہے ۔ فاخذتھم الصحیۃ مشرقین ( آیت 37) دن چڑھے ان کو ایک زبردست چیخ نے پکڑ لیا او اس طرح وہ پوری قوم تباہ ہوگئی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فعل لواطت کے لیے اللہ نے کوئی حد مقرر نہیں کی ، بلکہ اس کے مرتکب کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ امام ابوحنیفہ (رح) سخت ترین سزا کے قائل ہیں مثلاً کسی دیوار کے نیچے کھڑا کر کے اوپر دیوار گرا دی جائے ، یا کسی بلندی سے نیچے گرا دیا جائے ۔ غرضیکہ عبرت ناک سزا ملنی چاہئے ، تا ہم ہجرم کی نوعیت کے اعتبار سے قید و بند کی سزا بھی دی جاسکتی ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ ہم نے ان پر بارش برسائی ۔ بائبل کی روایت کے مطابق اس بارش میں آگ ، گندھک اور پتھر تھے۔ یہ قہر خداوندی کی بارش تھی فساء ………یہ بہت بری بارش تھی کہ اس میں رحمت کی بجائے عذاب الٰہی تھا جس سے ساری قوم ہلاک ہوگئی۔
Ayahs 27:59–61ربط آیات
نصیحت اور عبرت کے لیے پہلے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کی ہلاکت و تباہی کا ذکر کیا ۔ پھر درمیان میں حضرت سلیمان اور سبا والوں کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد قوم ثمود کی تباہی کا تذکرہ ہو اور پھر قوم لوط کی ہلاکت کا بیان ہوا ، یہ تمام قومیں کفر ، شرک اور نافرمانی کی بدولت تباہ و برباد ہوئیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے بعض عقلی دلائل پیش کیے ہیں اور ساتھ ساتھ شرک کا رد کیا ہے۔
اللہ کی حمد و ثناء
یہ ایک مسلمہ اصول یہ کہ جب بھی کوئی اہم بات کرنا مطلب ہو تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی جاتی ہے اور پھر اس کے مکرم بندوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ۔ اور اس کے بعد اصل بات شروع کی جاتی ہے ۔ حضرت شاہ عبد القادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان آیات میں یہی چیز سکھلائی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس مقام پر توحید جیسا اہم مضمون بیان کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا گیا ۔ ارشاد ہوتا ہے قل الحمد للہ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں پچھلی آیات میں نافرمانوں کی تباہی کا حال بیان کر کے اللہ کا شکر ادا کرنے کی نصیحت کی گئی ہے کہ اچھا ہو یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ ورنہ دنیا میں مزید فتنہ و فساد کا موجب بنتے ، اس قسم کی مثال بعض دوسرے مقامات پر بھی ملتی ہے مثلاً سورة الانعام میں ہے فَقُطِعَ دَابِرُا الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاط وَالْحَمْدُ ِ اللہ ِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ( آیت : 54) ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ گویا ظالموں اور نافرمانوں کی بیخ کنی پر اللہ کی تعریف کرنی چاہئے۔
انبیاء پر درد و سلام
پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کی تعریف بیان کریں اور دوسری یہ کہ ہر اہم کام کی ابتداء سے پہلے وسلم علی عبادہ الذی اصصفی اور سلام ہے اللہ کے منتخب بندوں پر ۔ اصطفی کا معنی پسند کرنا بھی ہوتا ہے ، گویا اللہ کے پسندیدہ بندوں پر سلامتی ہو۔ اللہ کے پسندیدہ یا منتخب شدہ بندے اس کے انبیائے کرام ہیں اور پھر ان کے بعد ان کے صحابہ کرام ، اولیاء اللہ اور نیک اور صالح بندے ہیں ۔ ان پر بھی سلام ہو ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو اپنی سلامتی میں رکھے ، انسان کے لیے خدا تعالیٰ کے احسانات میں سب سے بڑا احسان دولت ایمان ہے جو کہ انبیاء کے توسل سے حاصل ہوتی ہے۔ پھر یہ دولت اللہ کے نیک بندے اگلی نسلوں تک پہنچاتے ہیں ۔ ایمان کے بعد احکام شرعیہ کا علم بھی خدا کے انہی بندوں کی معرفت حاصل ہوتا ہے جن پر عمل کر کے انسان کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے ، لہٰذا ان پر سلام کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا ضروری ہوجاتا ہے تا کہ ان کے ساتھ انسان کا تعلق قائم رہے۔ نبی پر درود پڑھنے سے نبی کو کس قدر فائدہ ہوتا ہے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، تا ہم درود بھیجنے والے کو ضرور فائدہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے۔ انبیائے کرام ہمارے درود وسلام کی وجہ سے دجات عالیہ تک نہیں پہنچتے بلکہ اللہ تعالیٰ خود انہیں ان کی صلاحیت اور استعداد اور اپنی مہربانی سے درجہ کمال تک پہنچاتا ہے ۔ لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پر درود سلام بھیجیں اور ان کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھیں۔ بہر حال اللہ نے ہی تعلیم دی ہے کہ ہر اچھے کام کے آغاز سے پہلے اللہ کی حمد وثناء بیان کرنی چاہئے اور اس کے بعد اللہ کے منتخب اور برگزیدہ بندوں پر درود سلام پیش کرنا چاہئے اور اس کے بعد اصل بات کرنی چاہئے۔
اللہ تعالیٰ اور شرکاء
حمد وسلام کے بعد اب تمہید کے طور پر فرمایا اللہ خیر اما یشرکون بھلا یہ تو بتلائو کہ اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ حق کو یہ لوگ اس کے ساتھ شریک بناتے ہیں آگے بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے عقلی دلائل آ رہے ہیں اور یہاں بھی انسان کے ضمیرکو جھنجھوڑا جا رہا ہے کہ اپنی عقل کو بروئے کار لا کر بتائو کہ ایک طرف اللہ وحدہٗ لا شریک ہے جو منبع ہدایت ہے ، تمام ظاہری اور باطنی انعامات عطا کرتا ہے تمام تغیرات وتقلبات اس کے قبضہ وقدرت میں ہیں اور وہ ہر لحاظ سے با اختیار ہے۔ اس کے بر خلاف انسانوں ، جنوں یا فرشتوں میں سے اس کے شریک ہیں جو مخلوق ہیں ۔ شجر اور حجر ہیں جو بےجان چیزیں ہیں اور جنہیں کچھ اختیار حاصل نہیں ورنہ وہ نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ جب ان دونوں کا تقابل کیا جائے گا تو ہر صاحب عقل اور ہر مذہب و ملت کا پیرو کار یہی جواب دیگا کہ اللہ ہی بہتر ہے ، وہ خالق ہے ، ہر لحاظ سے مختار ہے وہ کمالات کا منبع ہے ، وہ مانگنے والا نہیں بلکہ دینے والا ہے، تو ظاہر ہے کہ وہی بہتر ہے ، بھلا وہ کیسے بہتر ہو سکتے ہیں جو مخلوق ہیں اور لوگ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں ؟
دلائل توحید اور تخلیق ارض و سما
آگے اللہ تعالیٰ نے بعض دلائل توحید بیان کیے ہیں جن میں غور و فکر کر کے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان سکتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے امن خلق السموات والارض وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صنعت خلق کا ظہور ہے کہ آسمان و زمین اور ہر چیز کا خالق وہی ہے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ توحید خدو ندی کے دو درجے ایسے ہیں جن میں سارے کا فر اور مشرک بھی متفق ہیں ۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ واجب الوجود ہے یعنی اس کی ہستی خود بخود ہے ، کسی کی عطا کردہ نہیں ۔ اس بات کے مشرک بھی قائل ہیں کہ صرف خدا کا وجود ذاتی ہے ۔ باقی ساری مخلوق کا وجود خدا تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔
توحید کا دوسرا درجہ خالقیت کا ہے ، کسی نئے یا پرانے مشرک ہندو ، مجوسی شنٹو ، ویت نامی ، چینی ، رومی سے پوچھ لیں ۔ سب کہیں گے کہ پیدا کرنے والی ذات فقط خدا ہے ۔ باقی سب مخلوق ہے۔ آگے چل کر توحید کا تیسرا درجہ تدبیر کا آنا ہے۔ یہاں آ کر اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک صحیح مومن کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر چیز کی تدبیر بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔ مگر نجومی اس کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور مشرک کبھی شجر و حجر کی طرف ، کبھی جنات اور فرشتوں کی طرف اور کبھی اولیاء اللہ کی طرف یہیں سے شرک کی ابتداء ہوتی ہے اور پھر چوتھا درجہ عبادت کا ہے ، ایک سچا مومن عبادت بھی صرف اللہ کی کرتا ہے۔ اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے ، اتنی سے حاجت روانی اور مشکل کشائی چاہتا ہے ، مگر مشرک غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ۔ اس کے نام کی منتیں مانتے ہیں اور اس سے اپنی حاجت براری کرتے ہیں ۔ الغرض صفت تخلیق کے ضمن میں دہریوں کی قلیل تعداد کے علاوہ ہر مذہب اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ صرف اللہ ہی کو خالق تسلیم کرتے ہیں قرآن پاک نے تو صاف کہ دیا ہے اللہ خالق کل شی ( لزمر : 26) ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ باقی سب مخلوق ہے عرش سے لے کر فرش تک اور ملائکہ سے لے کر جنات تک ہر چیز مخلوق ہے۔ بہر حال اللہ نے فرمایا کہ بتلائو ارض و سما کا خالق کون ہے ؟
(2) بارش کا نزول
پھر اللہ نے دوسری دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا اچھا یہ بتلائو وانزل لکم من السماء ماء تمہارے لیے آسمان کی طرف سے پانی کس نے نازل کیا یعنی بارش کون برساتا ہے ۔ سماء کے لفظ میں یہ بات پوشیدہ ہے کہ نزول بارش کا سبب محض بادل نہیں ، بلکہ اوپر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بارش کے لیے خطے اور مقدار کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس میں کسی مخلوق کی خواہش کا دخل نہیں ہوتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کار فرما ہوتی ہے ۔ مطلب یہ کہ بارش برسانا بھی مخلوق کے بس کی بات نہیں ۔ پھر خود ہی فرمایا کہ بارش کے نتیجے میں ۔ وانبتابہ حدائق ذت بھجۃ اور ہم نے اس پانی کے ذریعے بارونق باغات اگائے ہیں ۔ حدیقہ اس باغ کو کہتے ہیں جس کے ارد گرد دیوار یا جھاڑیوں کی باڑ ہو ، وگرنہ عام باغ کو بستان کہتے ہیں مطلب یہ کہ ہر چیز کی تخلیق ، بارش کا نزول اور باغات کی پیداوار ہمارا ہی کام ہے۔ ساتھ ہی وضاحت فرما دی ما کان لکم ان تنبتوا شجر ھا یہ تمہارے بس کو بات نہیں ہے کہ باغات کے درختوں کو اگا سکو یا پھل پھول لا سکو ۔ یہ سب ہماری ہی قدرت کے کرشمے ہیں۔ فرمایا جب ان میں سے کوئی بھی چیز کسی کے اختیار میں نہیں ہے تو پھر یہ بتلائو عر الہ مع اللہ کیا خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی جس نے ان میں سے کوئی کام بھی کیا ہو ۔ زمین و آسمان یا ان کی کسی چیز کو پیدا کیا ہو آسمانی کروں کو بنایا ہوبارش برسائی ہو یا درخت اگائے ہوں ۔ اگر یہ بات نہیں ہے تو پھر خدا کے ساتھ شریک کیوں بناتے ہو ؟ کبھی خدا تعالیٰ کی صفت میں دوسروں کو شریک کرتے ہو اور کبھی عبادت میں آخر کیوں ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے بل ھو قوم یعدنون یہ ایسے لوگ ہیں جو اتنے واضح دلائل کے باوجود حقیقت کے اعتراف سے انحراف کرتے ہیں یعنی حق بات کو دیکھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں یعد لون کا معنی انحراف بھی ہے اور دوسروں کو برابر کرنا بھی گویا یہ لوگ بڑے ظالم اور بےانصاف ہیں ۔ جو اتنی واضح دلیلوں کے باوجود خدا کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں ۔ ان تمام دلائل پر اگر انسان اپنی عقل کے ساتھ غور کرے تو اس کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی چیز بھی غیر اللہ کے اختیار میں نہیں ہے تو پھر ان کی خدا تعالیٰ کا شریک کیوں بنایا جائے۔
(3) زمین بطور قرار گاہ
فرمایا زمین کی تخلیق کے بعد امن جعل الارض قرر اس کو قرار گاہ یعنی ٹھہرنے کی جگہ کس نے بنایا ؟ آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حسین ( البقرہ 63) تمہارے لیے زمین ٹھہرنے کی جگہ اور ایک وقت یعنی قیامت تک فائدہ اٹھانے کا سرو سامان ہے۔ جب قیامت برپا ہوگی تو یہ پورا نظام تبدیل کردیا جائے گا ۔ اس کے بعد دوسرا نظام قائم ہوگا ، اللہ نے زمین کو ساخت ہی ایسی بنانی ہے کہ انسان اس پر سہولت کے ساتھ سارے کام انجام دے سکتا ہے ۔ زمین نہ تو اتنی سخت ہے کہ اکھاڑی نہ جاسکے اور نہ ہی اتنی نرم ہے کہ انسان اس میں دھنس جائے ۔ اس زمین میں لوگ کاشتکاری کرتے ہیں ، کنویں کھودتے ہیں ، اس پر مکانات تعمیر کرتے ہیں اور دیگر کاروبار انجام دیتے ہیں ۔ سورة المرسلت میں اللہ نے فرمایا ہے اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ کِفَاتًا اَحْیَآئً وَّاَمْوَاتًا (آیت : 52 ، 62) کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا جو ہر زندہ اور مردہ کو اپنی تحویل میں لیے رکھتی ہے ، جب تک انسان زندہ رہتا ہے زمین کے اوپر جا کر سارے کام کرتا ہے اور جب مر جاتا ہے تو یہی زمین اس کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ سورة طہٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی (آیت : 55) ہم نے اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا ، اسی میں ( مرنے کے بعد) تمہیں واپس لوٹائیں گے اور (قیامت کو) اسی سے دوبارہ نکالیں گے ، غرضیکہ انسان کا ماضی ، حال اور مستقبل اسی زمین کے ساتھ وابستہ ہے۔ لفظ قرار میں اس حقیقت کی طراشارہ ہے کہ انسان کا مستقر صرف یہی زمین ہے نہ کہ دوسرے سیارے چاند ، مریخ ، مشتری وغیرہ موجود زمانے میں سائنس نے اس قدر ترقی کی ہے کہ لوگ چاند تک پہنچ گئے ہیں ، وہ بھی انسان کے لیے مستقر کی حیثیت نہیں رکھتا ۔ ہواں پر نہ پانی ہے ، نہ خوراک اور نہ ہوا ۔ ایسی حالت میں انسان وہاں پر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ جو لوگ عارضی طور پر وہاں پہنچتے ہیں وہ ضرورت کی ہر چیز یہاں سے لے کر گئے ہیں ۔ ایک تخمینے کے مطابق چاند پر ایک پونڈ خوراک پر کم از کم تیس ہزار پونڈ خرچ آتے ہیں اور وہاں پر پہنچنے کا لباس چار لاکھ میں تیار ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ ان حالات میں چاند پر رہائش رکھنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوگا ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ بنایا ہے ، نہ کہ کسی دوسرے سیارے کو۔
تو کار زمین رانکو ساختی
کہ با آسمان نیز پر داختی
آسمان پر کمندیں ڈالنے کی بجائے اگر زمین کے حالات کو ہی درست کردیا جائے تو یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ اس وقت زمین فتنہ و فساد کا گڑھ بنی ہوئی ہے۔ اس میں بدامنی ، غربت اور جہالت کا دور دورہ ہے ۔ دیگر سیاروں کو مسخر کرنے کی بجائے اگر یہی وسائل اس زمین کو بہتری پر صرف کیے جائیں تو اس سے انسانوں کی حالت سنور سکتی ہے ، یہاں پر علم کی روشنی پھیلائی جاسکتی ہے ، جہالت اور غربت کو دور کیا جاسکتا ہے اور اس طرح انسانیت کی بہتر طور پر خدمت کی جاسکتی ہے۔
(4) دریا اور چاہا
اللہ نے توحید کی چوتھی دلیل یہ بیان فرمائی کہ بتلائو تو وہ کون ہے وجعل خللھا انھرا جس نے زمین میں نہریں چلا رہی ہیں ۔ اللہ نے ایسا انتظام فرما دیا ہے کہ پہاڑوں پر بارش ہوتی ہے تو وہ دریائوں اور ندی نالوں کی صورت میں میدانی علاقوں کو سیراب کرتی ہے۔ پہاڑوں پر جمنے والی برف پگلتی ہے تو دریائوں میں سارا سال پانی آتا رہتا ہے جس سے زمین سیراب ہوتی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ وجعل لھا رواسی اور زمین پر بوجھل پہاڑ رکھ دیئے ہیں تا کہ زمین ڈولنے نہ پائے ، پھر ان پہاڑوں سے پانی کے علاوہ درخت ، جڑی بوٹیاں ، پتھر اور مع دنیات حاصل ہوتی ہیں جو لوگ کے لیے نہایت کار آمدچیزیں ہیں ۔ زمین پر پہاڑی بھی اسی نے ٹکائے ہیں ۔ وجعل بین البحرین حاجز اور دو دریائوں یا سمندروں کے درمیان آڑ پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے میٹھا اور کڑوا پانی آپس میں خلط ملط نہیں ہوتے ، یہ تمام چیزیں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں اور اس کی قدرت کا ملہ کا شاہکار ہیں ۔ تو بھلا بتلائوء الہ مع للہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ بھی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرسکے ۔ فرمایا اللہ کے علاوہ معبود تو کوئی نہیں بل اکثر ھم لا یعلمون بلکہ اکثر لوگ بےعلم اور بےسمجھ ہیں جو ان تمام دلائل و شواہد کے باوجود شرک کرتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ ان دلائل پر ہی غور کرلیتے تو بات ان کی سمجھ آجاتی اور یہ اللہ کی تدبیر اور اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک نہ کرتے ، مگر ان لوگوں میں غور و فکر کی صلاحیت ہی نہیں ، یہ بےسمجھ لوگ ہیں۔
Ayahs 27:62–64ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے نشانات قدرت کے طور پر پہلے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات بیان ہوئے ، پھر قوم صالح اور قوم لوط کی نا فرمانیوں کا ذکر ہوا ۔ پھر اللہ نے اپنی توحید اور قدرت تامہ کا ذکر کیا اور توحید کے دلائل بیان کیے۔ پچھلے واقعات سے لوگوں کو عبرت اور نصیحت مطلوب ہے تا کہ لوگ کفر ، شرک اور معاصی سے باز آجائیں اور خدا تعالیٰ کے غضب سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں ۔ اب اس رکوع میں اللہ کی توحید کے عقلی دلائل بیان کیے جا رہے ہیں جن میں غور کرنے سے وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے اور انسان کفر و شرک سے بچ سکتا ہے۔
گزشتہ درس میں ارض و سماء کی تخلیق ، بارش کا نزول ، باغات اور درختوں کی پیدائش کو دلائل توحید وقدرت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ پھر زمین کو قراہ گاہ بنانے ، ان میں نہریں چلانے اور بوجھل پہاڑ کھڑا کرنے اور دو پانیوں کے درمیان آڑ بنا دینے کا تذکرہ تھا۔ پھر اللہ نے استفہامیہ انداز میں فرمایا ، کیا کوئی خدا کے ساتھ در معبود بھی ہے جو یہ سارے کام کرتا ہو ؟ ظاہر ہے کہ یقینا خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اس کے باوجود لوگ بےسمجھ ہیں اور واضح دلائل سے انحراف کرتے ہیں ۔ ، خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھنے کی بجائے کفر اور شرک کا رستہ اختیار کرتے ہیں۔
مجبور و بیکس کی دعا
اب آج کی آیات میں اللہ نے مزید دلائل توحید بیان فرمائے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے امن نجیب المضطرالا دعا کون ہے جو مجبور و بیکس کی دعا کو قبول کرتا ہے جب کہ وہ اس کو پکارتا ہے۔ ویکشف السوء اور اسکی تکلیف کو دور کرتا ہے ۔ لوگوں پر مصائب و تکالیف آتی رہتی ہے جن کی وجہ وہ بےبس ہوجاتے ہیں اور جب تمام ظاہری اسباب منقطع ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کے سامنے ہی فریاد کرتے ہیں کہ مولا کریم ہم نے تمام ظاہری اسباب استعمال کرلیے ۔ اپنا پورا زور لگا لیا ۔ اب معاملہ تیرے ہی سپرد ہے ، تو ہی ہماری تکلیف کو رفع کرسکتا ہے ۔ دوسری جگہ ہے کہ ایسے مشکل وقت میں تمام خود ساختہ معبودوں کو بھول کر صرف خدائے وحدہٗ لاشریک کی طرف رجوع کرتے ہو ۔ مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایسے آڑے وقت میں مجبور و بیکس کی آواز کون سنتا ہے۔ اس وقت صرف خدائے وحدہٗ لاشریک کا دروازہ ہی رہ جاتا ہے جس پر دشک دی جاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مصلحت ہوتی ہے تو وہ تکلیف کو رفع کردیتا ہے وگرنہ انسان کو ہلاک کردیتا ہے۔ جب تک انسان کا بس چلتا ہے وہ اسباب ظاہر کو آزماتا رہتا ہے مریض کے سرہانے قابل ترین ڈاکٹر کھڑے رہتے ہیں ۔ پھر جب شفاء کو کوئی صورت نظر نہیں آتی تو کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو چھوڑو ۔ کسی دم جھاڑا کرنے والے کو بلائو ۔ پھر بھی ناکامی ہوئی ہے تو خالص اللہ جل شانہٗ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس وقت اقرار کرتے ہیں کہ مولا کریم ! تیرے بغیر اس تکلیف کو دور کرنے والا کوئی نہیں مضفر میں عام تکلیف زدہ آدمی کے علاوہ گناہ گار بھی شامل ہے۔ جب وہ گناہوں میں ڈوب جاتا ہے اور رہائی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ تو پھر اقرار کرتا ہے کہ وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہ ( آل عمران : 531) اللہ کے سوا گناہوں کو معاف کرنیوالا بھی کوئی نہیں ، پھر اگر انسان اس مالک الملک کے کام سے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے ، گڑ گڑاکر معافی کا طلب گار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف بھی کردیتا ہے۔ اسی طرح کوئی دیگر حادثہ پیش آجاتا ہے طوفان آجاتا ہے ۔ قحط برپا ہوجاتا ہے یا کوئی دوسری تکلیف آجاتی ہے اور تمام ظاہری اسباب منقطع ہوجاتے ہیں تو پھر ایسی مشکل سے اللہ کے سوا نکالنے والا کوئی نہیں ہوتا ۔ یہاں پر یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ مفسرین کرام ایک بزرگ دائود یمانی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ کسی بیمار کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لے گئے تو مریض نے شفاء یابی کی دعا کی درخواست کی ۔ آپ نے فرمایا ، بھائی ! تم خود دعا کرو کیونکہ مضطر کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح امام طائوس (رح) جو تابعین میں سے ہیں ۔ ایک بزرگ ابو صالح (رح) کی بیمار پرسی کے لیے گئے ۔ انہوں نے بھی فرمایا کہ مجبور و بیکس آدمی کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ، لہٰذا تم خود بھی اپنے لیے صحت کی دعا کرو۔
امداد غیبی کا عجیب واقعہ
امام ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں حافظ ابن عساکر (رح) کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے یہ بزرگ چھٹی اور ساتوی صدی ہجری کے محدث اور عظیم مؤرخ ہیں جن کی تاریخ کی کتاب اسی جلدوں پر محیط ہے جن میں سے کچھ جلدی طبع بھی ہوئی ہیں تو انہوں نے کسی شخص کا واقعہ لکھا ہے۔ متعلقہ شخص کا اپنا بیان ہے کہ میں خچر بر بار برداری کا کام کرتا تھا اور مسافروں کا سامان وغیرہ دمشق سے زہدانی تک کرائے پر لے جاتا تھا ۔ ایک دفعہ کسی مسافر نے مجھ سے بار برداری کا معاملہ طے کیا ۔ میں نے سامان خچر پر لادا اور معروفت راستے پر چل دیا ۔ مسافر کہنے لگا کہ یہ راستہ دور ہے تم اس راستے سے چلو جو نزدیک ہے۔ میں نے کہا کہ میں تو اس راستے سے واقف نہیں ہوں مگر مسافر نے اصرار کیا کہ وہ خود اس راستے سے واقف ہے لہٰذا انہیں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی ۔ چناچہ وہ نئے راستے سے چل دیئے حتیٰ کہ ایسی خوفناک وادی میں پہنچ گئے جہاں ہر طرف انسانی جسم کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں ۔ مسافر نے اس مقام پر رکنے کے لیے کہا ۔ جب خچر کو روک دیا تو مسافر کی شکل میں آنے والا ڈاکو کھل کر سامنے آ گیا ۔ اس نے لنگوٹا کس لیا ، اور چھرا لے کر مجھے قتل کرنے کے لیے بڑھا ۔ میں سمجھ گیا کہ یہ شخص جان بوجھ کر مجھے اس راستے پر لایا ہے تا کہ مجھے قتل کر کے میرے خچر اور سامان پر قبضہ کرلے ، میں نے بھاگنا چاہا مگر اس نے تعاقب کیا ۔ وہ تھا بھی مجھ سے طاقتور ، لہٰذا میں اس کے سامنے بےبس تھا۔ میں نے اس کی منت کی کہ میرا مال لے لو مگر مجھے قتل نہ کرو مگر وہ اپنے ارادے سے باز آنے والا نہیں تھا ۔ بالآخر میں نے کہا موت سے پہلے مجھے دو رکعت نماز ہی پڑھ لیے دو ۔ وہ مان گیا اور میں نے نماز شروع کردی ۔ اس وقت پریشانی کا یہ عالم تھا کہ قرآن پاک کا کوئی حصہ زبان پر نہیں آ رہا تھا۔ بڑی کوشش کے بعد صرف یہی ایک آیت میری زبان سے ادا ہوئی امن یجیب المضطر اذ دحاہ ویکشف السوء اچانک میں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک تیز گھڑ سوارہماری طرف آ رہا ہے جس کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ قریب پہنچا اور اپنا نیزہ اس ڈاکو کے سینے میں پیوست کر کے اس کو ہلاک کردیا ۔ یہ کام کرنے کے بعد گھڑ سوار فوراً واپس ہوا ۔ میں اس کے پیچھے بھاگا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو جس نے مجھے اس مشکل وقت میں بچایا ہے تو وہ کہنے لگا میں اسی ہستی کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبور و بیکس آدمی کی فریاد سنتا ہے اور جسے تو نے پکارا تھا۔
حضور ﷺ کے نا صحانہ فرمودات
مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ بنی جحیم کا ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا لما تدع یعنی آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ادعوا لی اللہ وحدٗہ کہ میں تو اللہ وحدہٗ لا شریک کی توحید کو ماننے کی دعوت دیتا ہوں ۔ اور وہ ہی ذات ہے الذی ان مسک ضر فکشف عنک کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو وہ تمہاری تکلیف کو دور کر دے وان اضلت بارض قفر فدعوتہ ٗ اگر تم کسی بیابان میں اپنی سواری کھو بیٹھو ، پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری واپس کر دے۔ وان اصابک سنۃ فدعوتہٗ اور اگر تم قحط میں مبتلا ہو کر اسے پکارو تو زمین سے نباتات پودے اور فصلیں پیدا کردے۔ لہٰذا میری دعوت یہ ہے کہ قادر مطلق اللہ کی طرف رجوع کرو اور اس پر ایمان لائو۔
بنی جحیم کا شخص کہنے لگا ، حضور ! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں ۔ آپ نے ارشاد فرمایا لا تسبن احداً کسی کو گالی نہ دینا اور دوسری بات یہ کہ لا ترھدن فی المعروف نیکی کے کام میں پس و پیش نہ کرنا ۔ اگر اور کچھ نہ ہو تو اپنے مسلمان بھائی سے ملتے وقت ہنس مکھ چہرے سے مل لیا کرو ۔ ڈول کے ساتھ پانی نکالا ہے تو اس میں سے تھوڑا سا پانی اپنے بھائی کو بھی دے دو ۔ مطلب یہ کہ نیکی خواہ معمولی سی ہو اس کے کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرو ۔ آنحضرت (علیہ السلام) نے یہ نصیحت بھی فرمائی کہ تہہ بند باندھو تو نصف پنڈلی تک باندھو۔ اگر نیچے کرنا مطلوب ہو تو ٹخنے سے بہر حال اوپر رکھو کیونکہ تہہ بند یا پاجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکاناتکبر کی علامت ہے اور یاد کھو ان اللہ یحب المخیلۃ اللہ تعالیٰ تکبر کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔
ایک مسنونہ دعا
یہ بیان ہوچکا ہے کہ مجبور و بیکس کی دعا کو اللہ ہی سنتا اور اس کی مشکل حل کرتا ہے اس ضمن میں حضور ﷺ نے یہ دعا بھی سکھائی ہے اللھم رحمتک ارجو قد تکننی الی نفسی صرفۃ عین واصلح لی شرنی کلہ اے پروردگار ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں ۔ مجھے میرے نفس کی طرف آنکھ جھپکنے کے برابر بھی نہ سونپ اور میرے تمام حالات کو درست فرما دے۔ تو ہی تکلیف کو دور کرنے والا اور مریض کو شفا بخشنے والا ہے۔ ایک ایمان دار آدی کا حلیہ بھی اللہ کی رحمت ہے اور اس کا وسیلہ بھی اللہ کی رحمت ہے۔ وسیلہ کے متعلق امام سہیلی (رح) کے دو اشعار ملاحظہ کریں ؎
مالی سوی فقری الیک وسلۃ
فبا الا فتقار یدی الیک ارفع
ما لی سوی قرعی لبابک حیلۃ
فلئن رددت فدی باب قرع
میرے لیے محتاجی کے سوا اور کوئی وسیلہ نہیں ہے ، لہٰذا میں اس اختصار ( مختاجی) کے ساتھ ہی تیرے سامنے دست سوال دراز کرتا ہوں میرے لیے تیرا دروازہ کھٹکھٹانے کے سوا کچھ نہیں ۔ اگر تو نے اس کو ر د کردیا تو پھر میں کس کا دروازو کھٹکھٹائوں گا ؟ بہر حال فرمایا کہ بھلا بتلائو کہ مجبور و بیکس آدمی کی دعا کو کون سنتا اور قبول کرتا ہے جب وہ پکارتا ہے ، اور اس کی تکلیف کو کون دور کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اللہ وحدہٗ لا شریک ہی ہے جو بےکس کی دست گیری کرتا ہے۔ پھر فرمایا ، وہ کون ہے ویجعلکم خلفاء الارض جو تمہیں زمین میں پہلوں کا جانشین بناتا ہے۔ اس نسل کے بعد دوسری نسل اس کی جگہ لے لیتی ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ۔ اگر پہلے لوگ دنیا کے منظر سے غائب نہ ہوں تو آمدہ نسلوں کو ان کی نیابت کیسے حاصل ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ عجیب نظام قائم کر کے ایک کو دوسرے کا نائب بنایا ہے۔ جب یہ تمام انعامات کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے تو پھرء الہ مع اللہ کیا اس کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ اس کا ایک ہی جواب ہے کہ کوئی دوسرا معبود نہیں ہے ، مگر افسوس قلیلا ً ما تذکرون تم بہت کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو ۔ یہ بات بار مشاہدہ بھی کرچکے ہو کہ مجبور و بےکس کی فریاد رسی صرف اللہ ہی کرتا ہے ۔ اس کی پریشانی کو وہی دور کرتا ہے اسی نے تمہیں زمین میں نائب بنایا ہے۔ سورة یونس میں نیابت کا مقصد بھی بیان کیا ہے لنظر کیف تعملون ( آیت : 41) تا کہ ہم دیکھیں کہ تم اس نیابت کا حق کس ادا کرتے ہو اور دنیا میں رہ کر کیسے اعمال انجام دیتے ہو ؟
بعض انعامات الٰہیہ
اگلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض انعامات یاد دلا کر اپنی وحدانیت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان انعامات کا عطا کرنے والا اللہ کے سوا کون ہے ؟ جب کوئی نہیں تو پھر معبود بھی اس کے سوا کوئی نہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے امن یھدیکم فی ظلمت البرو البحر کون ہے جو خشکی اور تری کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے ۔ بعض اوقات سمندروں میں جہا ز بھٹک جاتے ہیں ۔ راستہ معلوم نہیں ہوتا یا جب کوئی قافلہ گھنٹے جنگلات یایق و دق صحرا میں سفر کر رہا ہوتا ہے تو راستہ بھول جاتا ہے۔ بھلا ایسی مشکلات میں رہنمائی کرنے والی کون سی ذات ہے جو راستہدکھلا کر منزل مقصود تک پہنچا دے ۔ ہر مشکل وقت میں اللہ ہی رہنمائی کرتا ہے اور وہی مشکلات کو دور کرتا ہے۔ فرمایا ومن یرسل الریح بشر بین یدی رحمتہ کون ہے جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہوائیں چلاتا ہے ؟ جب ایک خاص سمت سے ٹھنڈی ہوا چلے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اب باران رحمت ہوگی اور انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ، کیڑے ، مکوڑے حتیٰ کہ نباتات بھی اس سے مستفید ہوں گے ۔ جانداروں کو پینے کے لیے پانی میسر آئے گا اور باغات اور کھیتیاں سیراب ہو کر پھل پھول لائیں گی ، فصیلیں پیدا ہوں گی ۔ اور قحط سالی دور ہوجائے گی ۔ مقصد یہ کہ خوشخبری لانے والی ہوائیں بھی اللہ ہی چلاتا ہے ۔ پھر یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر بارش رحمت ہی کا سبب ہو بعض اوقات یہی بارش غیر مفید بھی ہو سکتی ہے ، اسی بارش سے سیلاب آتے ہیں سمندروں میں طوفان اٹھتے ہیں اور اچھے بھلے لوگوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتے ہیں ۔ فرمایاء الہ مع اللہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی شریک ہے ؟ ہرگز نہیں تعلی اللہ عما یشرکون اللہ تعالیٰ کی ذات تو بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتے ہیں ۔ کمال قدرت کا مالک صرف خدا ہے جب کہ باقی سب عاجز مخلوق ہیں ، کسی کے اختیار میں کچھ نہیں ، مگر اس کے باوجود لوگ دوسروں کو شریک بناتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ شرک سے بلند ہے۔
تخلیق انسانی اور اس کا اعادہ
پھر فرمایا امن یبدو لخلق ثم یعیدہ کون ہے جو تخلیق میں پہل کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے۔ ہم ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد ان کی نسل در نسل ہر روز لاکھوں بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور قیامت تک ہوتے رہیں گے۔ پھر جب قیامت برپا ہوگی ، تو ہر چیزفنا ہوجائیگی ۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ زندگی بخشے گا اور وہ محاسبہ اعمال کے لیے اللہ کے حضور پیش ہوں گے سورة الطارق میں ہے انہ علی رجعہ لقادر ( آیت : 8) جس نے انسان کو پہلی دفعہ پیدا کیا ، وہ اس کے لوٹانے پر بھی قدرت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے پیدائش کا ایسا سلسلہ قائم کر رکھا ہے جس میں کبھی خلل واقع نہیں ہوتا ۔ انسان سے انسان ہی پیدا ہوتا اور ہر قسم کے حیوان ، چرند پرند اور کیڑے مکوڑوں سے ویسی ہی مخلوق پیدا ہوتی ہے ۔ کبھی ایک جنس سے دوسری جنس پیدا نہیں ہوتی ۔ دہریوں کا نظریہ بھی باطل ہے جو کہتے ہیں کہ تمام مخلوق اندھے مادے کی تخلیق ہے۔ اور تما م اشیاء اتفاق سے ہی خود بخودپیدا ہوتی رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ہر جنس یعنی انسان ، حیوان اور نباتات کو الگ الگ مادے سے پیدا فرمایا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت کار فرما ہے۔ نہ اس میں اندھے مادے کا کوئی تعلق ہے اور نہ یہ اتفاق کی بات ہے ۔ تخلیق اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ، لہٰذا اسی کی توحید کو تسلیم کرلینا چاہیے۔
روزی رسانی
آگے اللہ نے ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے ومن یرزقکم من السماء والارض تمہیں آسمان و زمین سے روزی کون بہم پہنچاتا ہے ؟ یعنی روزی کے اسباب کون مہیا کرتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا حکم آتا ہے تو فضاء میں بادل گھر آتے ہیں۔ پھر اللہ کی مشیت میں جہاں اور جتنی بارش مقصود ہوتی ہے وہاں برسا دی جاتی ہے اس سے سبزہ اگتا ہے پھل اور اناج پیدا ہوتا ہے جو انسانوں اور حیوانوں کی روزی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ روزی کے جتنے بھی ذرائع ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی مہیا فرماتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ کون ہے جو تمہیں زمین اور آسمان سے روزی پہنچاتا ہے ؟ ء الہ مع اللہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے ؟ کیا خدا کے سوا کوئی اور بھی روزی رساں ہے۔ قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ھاتو برھانکم ان کنتم صدقین اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ بھی ہے تو پھر کوئی دلیل پیش کرو۔ مگر دلیل کہاں سے آئے گی مخلوق تو ساری کی ساری عاجزی ہے ، وہ تو کسی کام کی قدرت نہیں رکھتے۔ لاکھ ٹکریں مارو دلائل صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ہی ملیں گے۔ اللہ کی قدرت کاملہ ہی سمجھ میں آئے گی ۔ لہٰذا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بہت بڑا ظلم ہے۔ اس سے بچنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھنا چاہئے۔