26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 26:1–9

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید کہ آپ اپنا گلا گھونٹ دیں گے۔ اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اتار دیں ان پر آسمان کی طرف سے ایسی نشانی کہ ہوجائیں ان کی گردنیں اس کے سامنے دینے والی

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نصیحت نئی خدائے رحمان کی طرف سے مگر یہ لوگ اس سے عرض کرنے والے ہوتے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

میں بیشک جھٹلایا انہوں نے پس عنقریب آنے کی … پاس خبر کس چیز کی کہ جس کے ساتھ یہ ٹھٹا کیا کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا زمین کی طرف کہ ہم نے اس میں کتنی عمدہ قسم کی چیزیں لگائی ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بیشک اس میں البتہ نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر ایمان قبول کرنے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بیشک تیرا پروردگار زبردست ہے اور رحم کرنے والا

ربط آیات اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و صداقت اور اس کے فضائل کا ذکر ہے۔ اصول دین کے سلسلہ میں انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا ذکر ہے۔ حضرت نوح ، ابراہیم ، موسیٰ (علیہ السلام) ، ہارون (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) ، صالح (علیہ السلام) ، شعب (علیہ السلام) اور آخر میں حضور خاتم النبین ﷺ کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح اللہ کا پیغام اپنی اپنی امت تک پہنچاتے رہے۔ حضور ﷺ کے فرائض اور ذمہ داریوں کا تذکرہ ہے۔ معاندین اور مکذبین توحید و رسالت کے شکوک و شبہات کو رفع کیا گیا ہے اور ان کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اخلاقی تعلیمات ہیں ۔ توحید کے عقلی اور نقلی دلائل ہیں ۔ بعث بعد الموت کا ذکر ہے اور اس ضمن میں لوگوں پر پڑے ہوئے حجابات کا ذکر ہے جن کو اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات طسہ سے ہوئی ہے جو کہ قرآن پاک کے اسماء میں ایک اسم ہے۔ بعض کے نزدیک یہ سورة کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔ ان حروف سے اللہ تعالیٰ کی کیا مراد ہے ، یہ تو وہی بہتر جانتا ہے ، تا ہم تقریب فہم کے لیے بعض مفسرین نے ان حروف کے معافی سمجھانے کی کوشش کی ہے چناچہ مفسرین فرماتے ہیں کہ طسم میں سے حرف ط کا اشارہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک طاہر کی طرف ہے۔ س سے مراد اسم پاک ستار یا رم ہے اور م کا اشارہ اسم پاک مجید محیط کی طرف ہے۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں ہ ط سے مراد طول یعنی طاقت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ذی الطول بھی ہے کہ وہ طاقت کا مالک ہے ۔ پھر فرماتے ہیں کہ س سے مراد تقدیس ہے کہ خدا تعالیٰ کا ایک اسم پاک قدوس بھی ہے۔ اس طرح م سے مراد من الرحمن ہے کہ یہ سارا خدا تعالیٰ کی صفت رحمان کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ ط کا اشارہ طوبی کی طرف ہے جو ایک درخت کا نام ہے۔ س سے مرادسدرۃ المنتیٰ ہے اور م کا اشارہ محمد ﷺ کی طرف ہے ۔ ان تیوں اسماء کا تعلق واقعہ معراج سے ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ کا تذکرہ تو سورة النجم میں بھی موجود ہ۔ صاحب 1 ؎ تفسیر کبیر امام رازی (رح) نے بعض بزرگوں کے حوالے سے ان حروف کی تشریح اس طرح بیان کی ہے کہ ط کا اشارہ قلوب عارفین میں 1 ؎۔ تفسیر کبیر ص 81 ج 42 ( فیاض) پیدا ہونے والے طرب یعنی خوشی کی طرف ہے۔ س سے مراد سیرالی اللہ یعنی خدا تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں اور م سے مراد مناجات المر د ہے کہ ادنیٰ درجے کے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے عجز و نیاز مندی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے سامنے مناجات اور دعائیں کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ ط کا ارشاد طائران وحدت یعنی خدا تعالیٰ کی توحید کی طرف تیزی سے چلنے والے لوگوں کی طرف ہے۔ س سے مراد سیر الی اللہ یعنی خدا کی طرف چلنے والے عام لوگ ہیں اور م سے وہ لوگ مراد ہیں جو راہ حق کی طرف پیدل یعنی آہستہ آہستہ چلتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی حکمت 1 ؎ کے مطابق بیان کرتے ہیں کہ طسم اجمالی ہے اور اس کی تفصیل آگے سورة میں بیان ہوگی۔ ان حروف میں انبیاء (علیہم السلام) کی منازل کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عالم بالا کی طرف کس طرح حرکت کرتے تھے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا فیضان اس مادی جہان میں سرایت کرتا ہے اور پھر آفاق میں پھیل جاتا ہے۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ طسم خدا تعالیٰ کی ذات مقدس ہے جیسا کہ تقدس کا حق ہے اور اس کا فیضان اس عالم تخلیط میں سرایت کرتا ہے۔ جو کہ پاک سریان ہوتا ہے ، گویا کہ یہ اشارہ ہے خدا تعالیٰ کے ان اسمائے پاک کے فیضان اور ان کے احکام کی طرف جو اس عالم متدنس میں قدسی طریقے پر سرایت کرتے ہیں ۔ بہر حال زیادہ آسان بات وہی ہے جو امام 2 ؎ جلال الدین سیوطی (رح) نے فرمائی ہے کہ ان حروف کے متعق زیادہ کریدنہ کی جائے بلکہ ان کے بارے میں یہی عقیدہ رکھا جائے اعلم بمرادہ بذلک کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان سے کیا مراد ہے ، تا ہم اللہ کی جو بھی مراد اور منشاء ہے ۔ اصنا وصدقنا ہمارا اس پر ایمان ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ زیادہ سلامتی والی یہی بات ہے۔ 1 ؎۔ فوز الکبیر ص 801 ۔ 2 ؎۔ تفسیر جلالین ص 4 ( فیاض) کتاب مبین حروف مقطعات کے بعد فرمایا تلک ایت الکتب المبین یہ کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں جو آپ کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں یہ آیات ایسے عمدہ طریقے پر احکام کو بیان کرتی ہیں کہ حق و باطل کو الگ الگ کردیتی ہیں اور کوئی تشنگی باقی نہیں رہنے دیتیں ۔ بعض مقامات پر یہ آیات اپنی تفسیر خود آپ ہیں کہ اگر کسی مقام پر اجمال ہے تو دوسرے مقام پر اس کی تفصیل ہے یا ، پھر اللہ تعالیٰ ان آیات کی تفسیر اپنے پیغمبر کی زبان سے کروادیتا ہے اصول تو کتاب الٰہی بیان کرتی ہے اور اس کی جزیات اللہ کا نبی اپنے قول اور عمل سے کر کے دکھا دیتا ہے ۔ غرضیکہ فرمایا یہ واضح طور پر بیان کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ۔ تسلی کا مضمون آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ہے ۔ کفار کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے حضور ﷺ و سخت متفکر رہتے تھے اور آپ کو شدید غم لا حق ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ اتنا غم نہ کریں بلکہ اپنا فریصہ تبلیغ ادا کرتے جائیں اور نتیجہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیں ۔ فرمایا لعلک باخع نفسک الا یکونوا مومنین شاید کہ آپ اپنا گلا گھونٹ لیں اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ، تو فرمایا کہ کیا ان کے پیچھے آپ اپنی جان کو ضائع کرلیں گے ؟ ان کم بختوں کے ساتھ اتنی دلسوزی اور شفقت کی ضرورت نہیں ۔ وہ اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں ولا تسئل عن اصحب الحجیم ( البقرہ : 91) اہل دوزخ کے متعلق آپ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ دوزخ میں کیوں گئے ؟ بلکہ خود ان سے پوچھا جائے گا ما سلکم فی سف ( المدثر : 24) کہ تم دوزخ میں کیوں پہنچے ؟ فرمایا ان نشانزل علھیم من سماء ایۃ اگر ہم چاہیں تو آسمان کی طرف سے ایسی نشانی اتار دیں فضلت اعنا فھم لھا خصعین جس کے سامنے ان کی گردنیں دب کر رہ جائیں یہ وہ مجبور ہوجائیں اور ان کی ساری سر کشی ختم ہوجائے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے ۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کا اختیار سلب نہ کیا جائے بلکہ ہدایت کی ہر چیز واضح کردی جائے۔ اس کے بعد جو کوئی اس ہدایت کو قبول کرے گا تو وہ کامیاب ہوجائے گا ۔ اور جو اس سے اعراض کرے گا وہ جہنم رسید ہوگا ۔ آیات الٰہی سے اعراض ارشاد ہوتا ہے وما یاتیھم من ذکر من الرحمن محدث الا کانوا عنہ معرضین اور نہیں آتی ان کے پاس خدائے رحمان کی طرف سے کئی نئی نصیحت مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔ یہ تو ان کی بہتری کی ضامن ہوتی ہے مگر یہ ان کی بد بختی ہے کہ کسی نصیحت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ فقد کذبوا پس بیشک انہوں نے ہر بہتری کی آمدہ بات کو جھٹلا دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فسیاتیسھم انبوا یا کانوا بہ یستھزون پس عنقریب ان کے سامنے اس چیز کی خبر یا حقیقت آجائے گی ۔ جس کے ساتھ یہ قضا کیا کرتے تھے ۔ ان کی ساری مجرمانہ کارگزاریاں ان کے روبرو کردی جائیں گی جن کا نتیجہ ان کو بھگتنا پڑے گا ۔ یہ لوگ خدا تعالیٰ ، اس کے انبیاء ملائکہ ، قرآن اور احکام شرعیہ کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے ۔ جب ان کی حیثیت سامنے آئیگی تو پھر ان کو پتہ چلے گا کہ وہ دنیا میں کس راستے پر چلتے رہے اس وقت یہ پچھتائیں گے مگر اس وقت کا پچھتانا کسی کام نہ آئے گا اور انہیں اپنے کئے کا بدلہ مل کر رہے گا ۔ معجزات کا مطالبہ اکثر کفار و مشرکین ایمان لانے کی شرط کے طور پر طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے ان کے اس بیہودہ عابہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اولم یروا الی الارض کم انبتا فیھامن کل زوج کریم کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھاہم نے اس میں کتنی عمدہ قسم کی چیزیں اگائیں ہیں ۔ بھلا اس سے بڑا معجزا اور نشانی کیا ہو سکتی ہے ؟ ایک اناج کے پودے کو ہی دیکھو ۔ کسی پھلدار درخت پر نگاہ ڈالو ، پھولوں کی مختلف قسمیں ملاحظہ کرو کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کیسے کیسے رنگ بھرے ہیں اور کیسی کیسی خوشبوئیں بخشی ہیں ۔ اللہ نے چھوٹے چھوٹے دانوں کی صورت میں اناج پیدا کر کے انسانوں کی خوراک کا بندوبست کیا ہے اور چارہ پیدا کر کے جانوروں کی زیست کا سامان مہیا کیا ہے۔ اللہ نے زمین میں ایسی قوت روئیدگی رکھ دی ہے کہ وہ تمام جاندروں کے لیے خوراک اگاتی ہے ، یہ چیزیں خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی منہ بولتی تصویریں ہیں ۔ ان کو دیکھ کر ہر مصنف مزاج آدمی خدا کی وحدانیت پر ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔ ففی کلی شی لہ آیہ تدل علی انہ وحد ہر چیز میں ایسی نشانیاں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ خدا تعالیٰ وحدہٗ لا شریک ہے۔ مگر جو لوگ ضدی اور متعصب ہیں انہیں اتنی واضح نشانیاں بھی نظر نہیں آتیں لہٰذا وہ ظلم و ناانصافی پر ہی قائم رہتے ہیں اور نئے نئے مطالبات پیش کرتے رہتے ہیں ۔ فرمایا ان فی ذلک لایۃ بیشک ان مشاہدات یعنی زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں میں نشانی ہے ، مگر حقیقت حال یہ ہے ۔ وما کان اکثرھم مومنین کہ کفار و مشرکین کی اکثریت ایمان قبول کرنے سے قاصر ہے۔ دنیا کی اکثر آبادی ہمیشہ ایمان سے بےبہرہ رہی ہے آج بھی دیکھ لیں ، دنیا کی کل آبادی کا صرف پانچواں یا چھٹا حصہ ایسا ہے جو خدا کی وحدانیت کو تھوڑا بہت مانتا ہے ، وگرنہ باقی سارے کے سارے کفر اور شرک میں مبتلا ہیں ، فرمایا یاد رکھو ان ربک لھوالعزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار عزیز یعنی زبردست اور مہربان ہے۔ اس کی مہربانی کا تقاضا ہے کہ وہ جلدی گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر جب مقررہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو نافرمانوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور پھر آخری اجتماع قیامت کے دن ہوگا ۔ جب زندگی بھر کے عقائد و اعمال کا حساب لیا جائے گا اور ہر ایک کو اپنا اپنا حساب کتاب دینا ہوگا ۔ وہ کمال قدرت کا مالک ، ہر چیز پر غالب اور مہربان ہے۔
Ayahs 26:10–22

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

( اس واقعہ کو یاد کرو) جب کہ پکارا تیرے پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ( اور فرمایا) جائو ظالم قوم کے پاس

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(یعنی) فرعون کی قوم ( اور کہو کہ) کیوں نہیں ڈرتے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) اے میرے پروردگار ! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان اچھے طریقے سے نہیں چلتی ۔ پس پیغام بھیج دے تو ہارون (علیہ السلام) کی طرف

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کے لیے مجھ پر گناہ بھی ہے ، اور میں خوف کھاتا ہوں کہ وہ مجھے مار نہ ڈالیں

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ( اللہ تعالیٰ نے) ہرگز ایسا نہیں ہوگا ، پس تم دونوں جائو ہماری نشانیاں لے کر ہم تمہارے ساتھ ہیں اور سننے والے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تم دونوں جائو فرعون کے پاس اور دونوں اس سے کہو کہ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

(اور ہمارا مطالبہ ہے) کہ بھیج دے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

کہا ( فرعون نے) کیا ہم نے نیں پالا تھا تم کو اپنے درمیان بچپن میں ۔ اور گزارے تو نے ہم میں اپنی عمر کے کئی سال

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور کیا تو نے وہ کام جو تو نے کیا ، اور تھا تو ناشکرگزاروں میں

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے ، کیا تھا میں نے وہ کار اس وقت کہ تھا میں بیخبر وں میں سے

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پس بھاگ گیا میں تم سے جب کہ میں نے خوف کھایا تم سے ، پس بخشا مجھ کو میرے پروردگار نے حکم اور بنایا مجھ کو رسولوں میں سے

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا یہ احسان ہے جو تم احسان جلتاتا ہے مجھ پر کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا ہے

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ تیرے پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا اور کہا ان ائت القوم الظلمین کہ تم ظالم قوم کے پاس تبلیغ کے لیے جائو ، قوم فرعون جو کہ فرعون کی قوم ہے۔ اللہ نے ساری قوم فرعون کو ظالم کا حساب دیا ہے۔ اگرچہ اصل ظالم فرعون تھا مگر اس کے امیر وزیر ، حواری ، موالی ، دوست احباب ، عزیز و اقربا ، سب اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے ، اس لیے سب کو ظالم کہا گیا ہے ۔ ان میں کوئی بھی انسانیت کے دائرے میں نہیں رہا تھا۔ اس قسم کی مثالیں بعض دوسری قوم کے متعلق بھی ملتی ہیں مثلاً نوح (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق اللہ نے فرمایا انھم کانوا قوما عمین ( الاعراف : 46) بیشک وہ ساری کی ساری قوم اندھی تھی ۔ پوری قوم فرعون میں بعض استثناء کا ثبوت بھی ملتا ہے ، مثلاً کے سورة مومن میں آتا ہے وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق صلے مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗٓ کہ فرعون کی قوم میں ایک ایماندار آدمی بھی تھا جو اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ اس طرح فرعون کی بیوی آسیہ ؓ بھی صاحب ایمان تھی ۔ بہر حال چند ایک کو چھوڑ کر ساری قوم ظالم تھی ، اسی لیے پوری قوم کے لیے ظالم کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ ظالم قوم کے پاس جائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپسی پر دوران سفر ہی نبوت عطاء ہوئی تھی اور وہیں حکم ہوا تھا کہ فرعون کے پاس جا کر تبلیغ حل کرو ۔ فرمایا کہ اس قوم کو جا کر کہو الا یتقون ، کیا وہ خدا کی ناراضگی اور غصے سے ڈرتے نہیں ؟ موسیٰ کا عذر اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض رکاوٹوں اور کمزوریوں کا ذکر کیا جو انہیں راہ حق میں نظر آ رہی تھیں ، چناچہ بارگاہ رب العزت میں عرض کیا وقال رب انی اخاف ان یکذبون پروردگار ! میں خوف کھاتا ہوں کہ فرعون اور اس کی قوم مجھے جھٹلا دیں گے ۔ وہ لوگ نہ میری نبوت و رسالت کو تسلیم کریں گے اور نہ میری بات کو مانیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اسی قوم میں پیدا ہوئے تھے ۔ اسی ماحول میں پل کر جوان ہوئے لہٰذا وہ امن کی نفسیات اور ان کے اخلاق واطوار سے خوب واقف تھے۔ اسی بناء پر انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ لوگ میری بات نہیں سنیں گے ، انہوں نے یہ بھی عرض کیا ویضیق صدری اور میرا دل تنگ ہوتا ہے۔ ولا ینظلق لسانی اور میری زبان بھی اچھے طریقے سے نہیں چلتی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان میں قدرے لکنت تھی اس لیے عرض کیا فارسل الی ھرون پروردگار میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرف بھی پیغام بھیج تا کہ وہ میرے کام میں میرا معاون بن جائے سورة طہٰ میں واضح طور پر عرض کیا واجعل لی وزیرا من اھل ھرون اخی ( آیت 92 ، 03) میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو میرا وزیر یعنی معاون بنا دے تا کہ ہم دونوں مل کر تبلیغ کا کام بشریق احسن انجام دے سکیں ۔ سورة تصص میں اپنے مقصد کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ ہارون (علیہ السلام) میرا بھائی ہے ھو افصح منی لسانا وہ مجھ سے زبان میں زیادہ فصیح ہے۔ مدعا کی بچنے طریقے سے واضاحت کرسکتا ہے فارسلہ معی ردا یصدقنی ( آیت : 43) اے میرے ساتھ بھیج دے جو کہ میری پشت پناہی اور تصدیق کریگا میں جو بات کروں گا ۔ ہارون (علیہ السلام) اس کی تصدیق و تائید کرے گا تو بات چل نکلے گی۔ سورة طہٰ میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا بھی کی قال رب اشرح لی صدری و یسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی ( آیت : 52 تا 82) اے پروردگار ! میرا سینہ کھول دے ، میرے کام کو آسان کر دے۔ میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات کو سمجھنے لگیں ۔ جواب میں اللہ نے فرمایا قال قد اوتیت سولک یموسیٰ ( آیت : 63) اے موسیٰ ! ہم نے تمہاری درخواست قبول کرلی ، چناچہ اللہ نے زبان کو کھول دیا ۔ اور ہارون (علیہ السلام) کو وزیر یعنی معاون بھی بنا دیا اور اس طرح آپ کے کام کو آسان بنا دیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کے سامنے ایک اور عذر بھی پیش کیا ۔ ولھم علی ذنب فرعونیوں کا مجھ پر ایک گناہ بھی ہے۔ فاخاف ان یقتلون لہٰذا مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ مجھے قتل ہی نہ کر ڈالیں ۔ وہ الزام یہی تھا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا ، اگرچہ وہ قتل عمد نہیں تھا مگر ان کا آدمی تو بہر حال میرے ہاتھوں سے مارا گیا تھا اور اسی وجہ سے میں مصر چھوڑ کر اس دس سال تک مدین میں مقیم رہا ۔ اب اگر ان کے پاس دو بارہ جائوں گا ۔ تو وہ مجھے سابقہ جرم میں گرفتار کرلیں گے۔ اللہ کی طرف سے ہدایات ان معروضات کے جواب میں قال اللہ نے فرمایا کلا ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ فرعونی تجھے قتل کردیں اور تم میرا پیغام ہی ان تک نہ پہنچا سکو فرمایا فکر نہ کرو فاذھبا بایتنا بلکہ ہماری نشانیاں لے کر تم دونوں جائو ۔ نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضا جیسے دو واضح معجزات ہیں کہ یہ معجزات لے کر ان کے پاس جائو انا معکم مستمعون ہم تمہارے ساتھ ہیں اور سننے والے ہیں ۔ تمام معاملات اور ان کا حسن و قبیح ہمارے علم میں ہے تم گھبرائو نہیں فاتیا فرعون پس دونوں فرعون کے پاس جائو فقولا انا رسول رب العالمین اور دونوں کہو کہ ہم پروردگار عالم کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں ۔ یعنی ہم از خود تمہارے پاس نہیں آئے بلکہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے پیغام لیکر آئے ہیں ۔ اس مقام پر زیادہ تفصیلات ذکر نہیں کی گئیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں مختلف مقامات پر چھیالیں مرتبہ سے زیادہ بیان کیا گیا ہے کہیں اجمال ہے اور کہیں تفصیل ، کہیں واقعہ کا ایک پہلو بیان کیا گیا ہے تو کہیں دوسرا ، اس مقام پر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے درمیان ہونیوالے مذاکرات کی زیادہ وضاحت نہیں کی گئی ۔ البتہ بعض دوسرے مقامات میں کچھ مزید باتیں بھی ذکر کی گئی ہیں مثلاً سورة طہٰ میں اللہ نے اپنے دونوں انبیاء سے فرمایا کہ تم دونوں بھائی فرعون کے پاس جائو کہ اس نے سر کشی اختیار کر کھی ہے فقولالا قولا لینا لعلہ یتذکر اویخشی ( آیت : 44) پس تم دونوں اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے ، اور تمہاری بات اس کے ذہن میں اثر کر جائے ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے تبلیغ دین کے سلسلے میں ایک کلمہ بتا دیا کہ تبلیغ کے وقت ہمیشہ نرم لہجہ اختیار کرو کہ یہ موثر ہوتا ہے ، سخت کلامی سے بات بگڑ جاتی ہے ۔ اسی طرح سورة النزعات میں یہ بات بھی آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تم فرعون کے پاس جائو ۔ کیونکہ اس نے سرکشی اختیار کرلی ہے فقل ھل لک الی ان تزکی ( آیت : 81) اور اس سے یوں کہو کیا تم میں پاک ہونے کی کوئی خواہش ہے ؟ تا کہ میں تمہاری رہنمائی کروں اور تمہیں کفر ، شرک کی گندگی سے طہارت حاصل ہوجائے بہر حال اس مقام پر صرف اسی قدر ذکر ہے کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ ہم دونوں جہاں کے پروردگار کے فرستادہ ہیں۔ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اللہ نے فرمایا کہ تم دونوں جا کر پہلے فرعون کی دعوت توحید دو اور پھر اس سے یہ مطالبہ کرو ان ارسل معنا بنی اسرائیل کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ بنی اسرائیل کا اصل وظن شام اور فلسطین تھا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں آپ کے خاندان کے کم و بیش بہتر افراد مصر میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک ساڑھے چار سو پانچ سو سال کا عرصہ گزرچکا تھا ۔ اس دوران میں بنی اسرائیل کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی ۔ چناچہ جب وہ مصر سے نکلے تھے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ انہیں ان کے اصلی وطن میں دوبارہ آباد کیا جائے اور اس مقصد کے لیے فرعون کی غلامی سے آزادی کی ضرورت تھی ۔ اللہ نے یہی مطالبہ دے کر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا ۔ فرعون کا احسان جتلانا جب فرعون نے اللہ کے نبیوں کی یہ باتیں سنیں تو سخت برہم ہوا ۔ اسے یہ گمان نہیں تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا اس کا اپنا پروردہ اس کے سامنے یوں جرأت کے ساتھ بات کرسکے گا ۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنا احسان جتلانا شروع کیا ۔ قال الم نربک فینا ولیدا کہنے لگا کیا ہم نے تمہیں اپنے درمیان بچپن میں نہیں پالا تھا ؟ تمہاری ماں نے تمہیں صندوق میں بند کر کے پانی میں بہا دیا تھا۔ ہم نے تجھے نکال لیا اور پھر تمہاری پرورش کی ۔ اب تم ہمیں ہی آنکھیں دکھانے لگے ہو اس نے یہ بھی کہا ولبثت فینا من عمرک سینن تم اپنی عمر کے کئی سال ہمارے درمان ٹھہرے۔ ظاہر ہے کہ تقریباً تیس 03 سال کی عمر میں موسیٰ (علیہ السلام) مدین چلے گئے ۔ دس سال تک وہاں رہے ، اور پھر واپسی کے سفر میں آپ کو نبوت عطا ہوئی جب کہ آپ کی عمر چالیس 04 سال ہوچکی تھی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی دور کا ذکر سورة قصص میں موجود ہے۔ فرعون نے کہا کہ تو اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ساتھ رہا وفعلت فعلتک التی فعلت اور پھر تو نے وہ کام کیا جو تو نے کیا ۔ یعنی تو نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا ۔ ہم نے تو تمہیں پالا پوسا تمہاری جان بچائی اور تو نے یہ صلہ دیا کہ ایک قبطی کو قتل کر کے مدین چلا گیا ۔ وانت من الکفرین تو تو ناشکرگزاروں میں سے نکلا تو نے ہمارے احسان کا بدلہ احسان فراموشی کے ساتھ دیا ۔ ان واقعات کا تفصیلی ذکر سورة قصص اور دیگرسورتوں میں موجود ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب فرعون کی بات کے جواب میں قال موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا فعلتھا اذا وانا من الضالین میں نے دو کامر ( قبطی کا قتل) اس وقت کیا جب کہ میں بیخبر وں میں سے تھا۔ ہم نے یہاں پر ضال کا معنی بیخبر کیا ہے جب کہ اس کا معنی گمراہ بھی ہوتا ہے ، مگر یہ معنی یہاں پر مناسب حال نہیں۔ اس لفظ کا معنی بیخبر کے علاوہ حیران ، سرگردان اور پریشان بھی ہوتا ہے ، چناچہ ووجدک ضالا فھدی ( الضحیٰ : 7) کا بھی یہی معنی ہے کہ ہم نے آپ کو سرگرداں پایا ، پس رہنمائی فرمائی ۔ بعض ضال کا معنی خطا کرنے والا کرتے ہیں ۔ مولانا شیخ الہند چوکنے والا کہتے ہیں کہ مجھ سے خطاب ہوئی ۔ اکثر مفسرین اس کا ترجمہ لیے خبر کرتے ہیں اور یہ زیادہ درست ہے ، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو قتل کے ارادے سے مکہ نہیں مارا تھا ۔ اور قتل عمدنیت اور ارادے سے ہوتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد تو ایک مظلوم اسرائیلی کو ظالم قبطی سے نجات دلانا تھا مگر وہ ایک مکہ برداشت نہ کرسکا اور مر گیا ۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو یہ جواب دیا کہ ان سے قبطی کا قتل بیخبر ی میں غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا۔ آپ نے یہ بھی وضاحت کی کہ قبطی کے قتل کے بعد خود میری جان کو خطرہ لا حق ہوگیا تھا۔ مجھے گرفتار کرنے کے منصوبے بن رہے تھے ، جس کی اطلاع مجھے میرے ایک خیر خواہ نے دی ففر رت منکم پس میں تم سے بھاگ گیا لما خفتکم جب کہ میں نے تمہاری طرف سے خوف محسوس کیا ، پھر اللہ نے مجھ پر مہربانی فرمائی فوھب لی ربی حکما کہ اس نے مجھے حکم یعنی علم عطا کیا جعلنی من المرسلین اور مجھے رسولوں میں سے بنایا یعنی میرے سر پر تاج نبوت رکھا۔ نبوت و رسالت کا تذکرہ بھی مختلف سورتوں میں بیان ہوا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے دوران سفر موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ پھر آپ کی فرمائش پر آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی بنایا ۔ البتہ موسیٰ (علیہ السلام) اعظم المرتبت رسول تھے اور کتاب تورات بھی آپ ہی پر نازل ہوئی ۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ میں اللہ کا رسول بن کر تمہارے پاس آیا ہوں ۔ البتہ جہاں تک تم نے میری پرورش کا مجھ پر احسان جتلاتا ہے وتلک نعمۃ تمنھا علی تو یہ ایک احسان ہے جو تو مجھ پر کھتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ میری پرورش بھی تیرے ہاں ظلم کی وجہ سے ہی ہوتی تھی تو نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کے پہاڑ تو ڑ رکھے تھے ۔ ان کے بچوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کروا دیتا تھا۔ تیرے اس ظلم کے ڈر سے ہی میری والدہ نے مجھے صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا ۔ اللہ کو اسی طرح منظور تھا ، وہ صندوق تمہارے محل میں پہنچ گیا اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق والقیت علیک محبۃ منی ( طہٰ : 93) اللہ نے مجھ پر ایسی محبت ڈال دی کہ جو بھی دیکھتا تھا گرویدہ ہوجاتا تھا۔ جب فرعون نے دیکھا تو وہ بھی میری زندگی بچانے پر مجبور ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھنا تھا اور بڑا کام لینا تھا ، اس لیے اس نے ایسے اسباب پیدا کردیئے کہ میری زندگی بچ گئی ۔ مقصد یہ کہ میری پرورش میں تیرا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سکیم کو کامیاب بنایا کہ تیرے دل میں میری محبت پیدا کردی گویا تیرے ہاتھوں سے میری پرورش بھی کسی احسان کی وجہ سے نہیں بلکہ تیرے ظلم کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ فرمایا : تیرے ظلم و ستم کی داستان تو یہ ہے جسے تو احسان بتلا رہا ہے۔ کیا یہی تیرا احسان ہے ان عبدت بنی اسرائیل کہ تو نے ساری قوم بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا ہے ؟ ایک فرد کی پرورش کر کے لاکھوں افراد کو غلام بنانا اور ان سے مشقت لینا کہاں کا انصاف ہے ؟ بنی اسرائیل نے فرعون کے ہاتھوں واقعی بڑے مظالم برداشت کئے تھے ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو آزادی نصیب ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے یہی مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے ہمارے ساتھ بھیج دے تا کہ وہ اپنے اصلی وطن پہنچ کر آزادی کے ساتھ خدا تعالیٰ کی عبادت کرسکیں۔
Ayahs 26:23–33

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

کہا فرعون نے اور کیا ہے رب العالمین ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، اگر تم نے یقین کرنا ہے

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

کہا ( فرعون نے) ان سے جو اس کے ارد گرد تھے ، کیا تم سنتے نہیں ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) جو تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آبائو اجداد کا پروردگار بھی ہے

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

کہا ( فرعون نے) بیشک تمہارا یہ پیغام دلانے والا ، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ، دیوانہ ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) وہ رب ہے مشرق اور مغرب کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، اگر تم عقل رکھتے ہو

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

کہا ( فرعون نے) اگر تو بنائے گا کسی کو الٰہ میرے سوا ، تو میں کر دوں گا تجھ کو قید میں ڈالے ہوئے لوگوں میں سے

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

کہا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) اگرچہ میں لائوں تیرے پاس کوئی کھلی چیز ؟

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

کہا ( فرعون نے) لائو اس کو اگر تم سچے ہو

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس ڈالا ( موسیٰ (علیہ السلام) نے) اپنی لاٹھی کو ۔ پس اچانک وہ ایک اژدھا بن گیا کھلا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور کھینچا انہوں نے اپنے ہاتھ کو ، پس وہ اچانک سفید تھا دیکھنے والوں کے لیے

ربط آیات اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن میں پرورش کی تھی ۔ تم نے ہمارے درمیان اپنی عمر کا کوفی حصہ گزارا پھر تم نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا بیخبر ی میں ہوا تھا ۔ ورنہ میرا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا ، فرمایا : پھر میں خوفزدہ ہو کر بھاگ گیا ۔ اللہ نے مجھے نبوت و رسالت عطا فرمائی ہے اور میں اسی فرض منصبی کی تکمیل کے لیے تمہارے پاس آیا ہوں ، مگر یاد رکھو ! بچپن میں میری پرورش کرنا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے۔ یہ تمہارے ظلم ہی کی وجہ سے ہوا تھا ، مگر تم نے ساری قوم کو غلام بنا رکھا ہے ۔ اس کے مقابلے میں تمہارا پرورش کرنے کا احسان کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ رب العالمین کی تعریف گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کو دعوت توحید دیتے ہوئے فرمایا انا رسول رب العالمین (آیت : 61) کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے تیرے پاس آئے ہیں ۔ اس کے جواب میں فرعون نے خود سوال کیا قال فرعون وما رب العالمین کہ رب العالمین کہ رب العالمین کیا ہے جس کی طرف سے تم رسول بن کر آئے ہو ۔ سورة الزعت میں موجود ہے کہ وہ اپنے سوا کسی دوسرے کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں تھا ، بلکہ علی الاعلان کہتا تھا انا ربکم الاعلیٰ سب سے بڑا رب تو میں ہوں ۔ تم کس رب العالمین کی بات کر رہے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے پروردگار عالم کا تعارف ان الفاظ میں کرایا قال رب السموات والارض وما بینھا رب العالمین وہ ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ، سب کا رب ہے ان کنتم موقنین اگر تم نے یقین کرنا ہے تو رب العالمین تو وہی ہے جو کائنات کا خالق ہے ۔ کائنات کی ہر چیز کی تدبیر کر کے اس حدکمال تک پہنچانے والا ہے۔ رب العالمین کی حیثیت کے بارے میں سوال منطقی کہلاتی ہے۔ جب فرعون نے اللہ تعالیٰ کی حقیقت اور ماہیت کے متعلق سوال کیا تو جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی صفات کو بیان کیا ، وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات اور حقیقت کو تو کوئی بھی نہیں جان سکتا ۔ وہ تو وراء الوراء ہے ۔ وہ ایسی ذات ہے جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے لا فکرۃ فی الرب رب تعالیٰ کی ذات میں غور و فکر نہ کرو ۔ وہ انسانی عقل و فہم سے بالا تر ہے لہٰذا اس کی پہچان اس کی مصنوعات کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی مصنوعات میں غور کرو گے تو اس کی صفت سمجھ میں آئے گی ۔ اور پھر خدا کی ذات کا تصور قائم ہوگا ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا ذکر کیا کہ رب العالمین وہ ہے جس نے زمین و آسمان اور تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے اور جو ان کی تدبیر کرتا ہے۔ یہ سن کر فرعون اپنے حواریوں کی طرف متوجہ ہوا قال لمن حولہ الا تستعمون اور اپنے ارد گرد والوں سے کہنے لگا ، کیا تم سنتے نہیں ؟ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے ۔ میں نے اسے رب العالمین کے متعلق پوچھا ہے تو یہ ارض و سماء کی تخلیق کی بات کرتا ہے۔ دراصل فرعون اپنے حواریوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف برگشتہ کرنا چاہتا تھا کہ کہیں یہ اس کے کہنے میں نہ آجائیں ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کی دوسری تعریف بیان کی قال ربکم و رب ابائکم الاولین کہنے لگے رب العالمین وہ ہے جو تمہارے بھی پروردگار ہے اور تمہارے پہلے آبائو اجداد کا بھی وہی پروردگار ہے ۔ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی نے تمہیں پیدا نہیں کیا ، یا اپنی پیدائش کو اپنے آبائو اجداد تک ہی محدو نہ سمجھو بلکہ تمہارا ایک حقیقی خالق بھی ہے جس نے تمہیں بھی اور تمہارے باب دادوں کو بھی پیدا کیا ۔ اور وہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں ہر طرح کا سامان زیست مہیا کیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پروردگار کی یہ صفت اس لیے بیان کی کہ شاید کہ فرعون کے دماغ پر چوٹ لگے ۔ وہ خود الٰہ کہلواتا تھا اور کسی دوسرے کو الٰہ نہیں مانتا تھا۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی توجہ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کی طرف دلائی کہ الٰہ تو وہ ہو سکتا ہے جو خالق ہو ۔ جب تم نے کوئی چیز پیدا ہی نہیں کی تو تم کیسے الٰہ ہو سکتے ہو۔ الٰہ اور رب العالمین تو وہ ہے جو سب کا خالق ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دلیل کا فرعون کو کوئی جواب نہ آیا تو اپنے حواریوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے بدظن کرنے کیلئے کہنے لگا قال ان رسول لکم الذی ارسل لمجنون بیشک تمہارا یہ پیغام لانے والا جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ ( یعنی موسیٰ علیہ السلام) یہ البتہ دیوانہ ہے یہ تو بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ نہ صرف ہمیں کوستا ہے بلکہ ہمارے آبائو اجداد کی خبر بھی لیتا ہے۔ اس نے ہماری حکومت اور شان و شوکت کی کچھ پرواہ نہیں کی اور نہ ہی مجھے الٰہ ماننے کے لیے تیار ہے ، یہ تو پاگلوں والی باتیں کرتا ہے اس کی بات کو سنجیدگی سے نہ لینا۔ مگر موسیٰ (علیہ السلام) بات کو چھوڑنے والے نہ تھے۔ انہوں نے تیسری دلیل پیش کی قال رب المشرق و المغرب وما بینھما فرمایا رب العالمین تو وہ ہے جو مشرق ومغرب اور ان کے درمیان ہر چیز کا پروردگار ہے ۔ شمار سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک اسی کی بادشاہی ہے۔ فرمایا تمہاری سلطنت تو ایک محدود علاقے پر مشتمل ہے جس کے باہر تمہارا حکم نہیں چلتا بلکہ کسی دوسرے بادشاہ کا سکہ چلتا ہے ، مگر پروردگار عالم وہ ہے جس کی بادشاہت کو کوئی کنارہ نہیں ، اس کا تسلط پوری زمین پر بھی ویسا ہی ہے جیسا آسمانوں پر ۔ اس کا تسلط سمندروں پر بھی ہے اور فضائوں پر بھی وہ پہاڑوں کا بھی خدا ہے اور صحرائوں کا بھی ۔ اس کا حکم ہر جگہ چلتا ہے اور کوئی چیز اس کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں ہے۔ میرا رب تو وہ ہے جو ان صفات کا مالک ہے ان کنتم تعلقون اگر تمہیں کچھ عقل ہے۔ تو اب بھی سمجھ جائو اور اسی وحدہٗ لاشریک پر ایمان لے آئو جو ہر چیز کا خالق مالک اور پرورش کنندہ ہے۔ شاہ عبد القادر 1 ؎ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک بات کہے جاتے تھے اور خدا کی قدرت پر دلائل دیتے تھے مگر فرعون اپنے حواریوں کو موسیٰ (علیہ السلام) سے بد ظن کرنے کی کوشش کر رہا تھا تا کہ وہ آپ کے دلائل سے متاثر ہوجائیں۔ بہر حال جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی حکومت کو چیلنج کیا اور بتایا کہ تمہیں ایک محدود خطے میں تسلط حاصل ہے تو وہ اس کا کوئی جواب تو نہ دے سکا۔ 1 ؎۔ موضح القرآن ص 044 (فیاض) البتہ غصے میں آ کر موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی قال لئن اتخذت الھا غیری کہنے لگا ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اگر تو نے میرے سوا کسی دوسرے کو معبود تسلیم کیا ۔ لا جعلنک من المسجونین تو میں تجھے قید میں ڈالے ہوئے لوگوں میں سے بنا دوں گا یعنی تمہیں گرفتار کر کے جیل میں ڈا ل دوں گا ۔ کہنے لگاملک مصر میں تو میرے سوا کوئی مبعود نہیں ہے۔ اگر تو نے کسی دوسرے کو معبود مانا تو یادرکھنا میں تمہیں سزا دینے پر بھی قادر ہوں ۔ پھر بیشک اپنے رب کو میرے مقابلے پر لے آنا۔ معجزات کا انکار موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ کے سچے نبی تھے ، وہ ایسی دھمکیوں سے کہاں مرغوب ہوتے تھے ، اللہ تعالیٰ کی حیثیت کو منوانے کے لیے پہلے انہوں نے عقلی دلائل پیش کیے جن کا فرعون پر اثر نہ ہوا ۔ لہٰذا اب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزات پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا کہ تم عقلی دلائل کو تو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ قال اولو جئتک بشیء مبین اگر میں تیرے پاس کوئی واضح چیز یا نشانی لے آئو تو کیا پھر بیھ تم اپنے نظریہ پر قائم رہو گے اور میری صداقت اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو تسلیم نہیں کرو گے ؟ قال فات بہ ان کنت من الصدقین فرعون نے فوراً کہا ، اگر تم سچے ہو تو ایسی کوئی نشانی لا کر پیش کرو۔ پتہ چل جائے گا تم اپنے دعوے میں کسی حد تک سچے ہو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے نشانیاں پیش کرنے والے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اس چیلنج کو فوراً قبول کرلیا ، اور پہلی نشانی کے طور پر فانقی عصاہ آپ نے اپنی لاٹھی پھینک دی ۔ آپ کے ہاتھ میں ہمیشہ معجزانہ لاٹھی ہوئی تھی جسے آپ نے زمین پر ڈال دیا فاذا ھی ثعبان مبین پس اچانک وہ یک برا اژدھا بن گئی جسے دیکھ کر فرعون کے اوسان بھی خطا ہوگئے ۔ تمام درباری خوفزدہ ہوگئے ۔ آخر انسان تھے۔ ایسی عجیب و غریب چیز دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری نشانی پیش کی و نزع دیدہٗ آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا کر باہر نکالا فاذا ھی بیضا للنظرین تو وہ اچانک دیکھنے والے کے لیے سفید تھا۔ آپ کے دست مبارک میں سورج جیسی چمک آگئی تھی ۔۔ ۔ اور یہ کوئی ایسی سفیدی نہیں تھی ۔ جیسی کہ برص کے مریض کی ہوتی ہے من غیر سوء ( طہٰ : 22) اس میں کوئی نقص یا خرابی نہیں تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو معجزانہ طور پر سفید اور چمکدار بنا دیا تھا۔ مگر فرعون پھر بھی ایمان نہ لایا اور اس نے ان معجزات کو سحر پر محمول کیا ۔ اس بات کا ذکر اگلی آیات میں آ رہا ہے۔