26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 26:34–51

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

کیا ( فرعون نے اپنے سرداروں سے جو اس کے ارد گرد تھے کہ بیشک یہ شخص البتہ جادوگر ہے علم والا

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تم کو نکال دے تمہاری سر زمین سے اپنے جادو کے زور سے ۔ پس تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

کہا انہوں نے مہلت دے اس کو اور اس کے بھائی کو ، اور بھیج دے مختلف شہروں میں اکٹھا کرنے والے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

تا کہ وہ لائیں تمہارے پاس ہر قسم کا علم اور جادوگر

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

پس اکٹھے کئے گئے جادوگر ایک معلوم دن کے دعا سے پر

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور کہا گیا لوگوں کو کہ تم بھی اکٹھے ہو جائو

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید کہ ہم پیروی کریں جادوگروں کی اگر وہ غائب رہیں

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پس جب آئے جادوگر تو انہوں نے فرعون سے کہا ، کیا ہمارے لیے کوئی بدلہ ہوگا ؟ اگر ہم غالب آگئے

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

کہا ، فرعون نے ، ہاں (بدلہ ہوگا) اور بیشک تم اس وقت میرے مقربین میں ہوئے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

کہا ان ! جادوگروں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے ڈالی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور کہنے لگے ، فرعون کی عزت واقبال کی قسم ، بیشک ہم غالب ہوں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر ڈالا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو ، پس اچانک وہ نگلتی تھی اس چیز کو جو ان لوگوں نے بنایا تھا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پس گر پڑے جادوگر سجدے میں

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم ایمان لائے ہیں رب العالمین

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

وہی جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا پروردگار ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

کہا ( فرعون نے) کیا تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ، یہ تمہارابڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے ۔ پس عنقریب تم جان لو گے کہ میں کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور پائوں الٹے سیدھے اور لٹکائوں گا تم سب کو سولی پر

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ، کوئی ڈر نہیں ہے۔ بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

اور ہم امید رکھتے ہیں کہ بخش دے گا ہمارا پروردگار ہماری غلطیاں ۔ اس وجہ سے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ تسلیم کیا تو میں تمہیں قید میں ڈال دوں گا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں کوئی کھلی نشانی پیش کروں تو کیا تم پھر بھی اپنی قبیح حرکت سے باز نہیں آئو گے ؟ فرعون کہے لگا ۔ دکھلائو تم کون سی نشانی پیش کرنا چاہتے ہو ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو نشانیاں پیش کیں۔ اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینکا تو وہ ایک بڑا اژدھا بن گئی جسے دیکھ کر سارے دربار میں بمع فرعون خوفزدہ ہوگئے ۔ آپ نے دوسری نشانی یہ پیش کی کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا کر نکالا تو وہسورج کی طرح چمکدار نظر آنے لگا ۔ یہ واضح نشانیاں دیکھ کر فرعون اور اس کے حواری سمجھ گئے کہ یہ شخص سچا ہے مگر اپنے ظلم وتعدی کی بناء پر انہوں نے آپ پر ایمان لانے سے انکار کردیا ۔ فرعون کا دربایوں سے مشورہ فرعون کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ اس کے حواری درباری کہیں موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کے معترف نہ ہوجائیں ۔ چناچہ اس نے ان کو موسیٰ (علیہ السلام) سے بد ظن کرنے کے لیے ایک تدبیر سوچی اور قال للملا حچولہ ان ھذا لسحر علیم اور اپنے ارد گرد کے حوارلوں سے کہنے لگا کہ یہ ( موسیٰ علیہ السلام) تو پڑھا لکھا جادوگر ہے ۔ فرعون کی یہ افتراء پردازی کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ کافروں ، مشرکوں اور جباروں کو ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب وہ ابنیاء (علیہم السلام) کے پیش کردہ معجزات سے لا جواب ہوجاتے ہیں تو پھر اسے جادو کہہ کر ہی رد کرتے ہیں ۔ فرعون نے بھی یہی حربہ استعمال کیا اور اپنے مصاحبین سے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیش کردہ نشانیاں بہت بڑا جادو ہے۔ یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ یہ شخص اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال باہر کرنا اور تمہارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ ان حالات میں فما ذاتا مرون بتلا تم مجھے کیا مشورہ دیتے ہو ۔ ہمیں اپنے ملک کی کس طرح حفاظت کرنی چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نبی کسی کا ملک یا حکومت غضب نہیں کرنا چاہتے ۔ انہیں سلطنت کی کوئی نہیں ہوتی بلکہ وہ اللہ کی زمین پر اصلاح کرنا چاہتے ہیں ۔ اور اصلاح میں دونوں چیزیں آتی ہیں ، یعنی عقیدے کی درستگی اور امن وامان کا قیام۔ اللہ کے ہر نبی نے انہی دو چیزوں کو اپنی تبلیغ کا خاص موضوع بنایا ۔ مثال کے طور پر شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا یقوم عبدو للہ ما لکم من نہ غیرہ (ہود : 48) اے میری قوم کے لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ، نیز عام اصلاح کے متعلق فرمایا ان ارید الا الا صلاح ما استطعت ( ھود : 88) میں تو حسب استطاعت تمہاری اصلاح چاہتا ہوں ۔ زمین کو کفر و شرک اور فتنہ و فساد سے پاک کرنا چاہتا ہوں ، میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے ۔ میں کسی کا مال و دولت یا حکومت و اقتدار نہیں چھیننا چاہتا بلکہ خدا کی زمین پر خدا کے حکم سے اصلاح چاہتا ہوں۔ جادو کے ذریعہ مقابلے فرعون کے دربار یوں نے جب اس کی بات سنی تو کہنے لگے کہ اس معاملہ میں جلدبازی سے کام نہیں لینا بلکہ اس معاملے کو حکمت کے ساتھ طے کرنا چاہئے قانوا ارجہ واخاہ کہنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو مہلت دے دیں یعنی ان کے خلاف کوئی فوری کارروائی کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ سارا معاملہ ہی بگڑ جائے ۔ لہٰذا احسن طریقہ یہ ہے وابعث فی المدائن حشرین آپ مختلف شہروں میں جادوگروں کو اکٹھا کرنے والے بھیج دیں مطلب یہ کہ ملک کے بڑے بیے شہروں میں آدمی بھیج کر ماہر جادوگروں کی خدمات حاصل کریں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ وہی کرسکیں گے تمہارے بھیجے ہوئے ایلچی یاتوک بکل سحار علیم تمہارے پاس بڑے بڑے علم والے جادوگرلے آئیں گے۔ سحار مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بہت زیادہ عالم فاضل جادوگرآ جائیں گے۔ فرعون نے اپنے درباریوں کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے عمال مختلف شہروں میں دوڑا دیئے جو ماہر ترین جادو گروں کو اکٹھا کر کے لے آئیں ۔ فجمع السحرۃ لمیقات یوم معلوم چناچہ ایک معلوم دن کے وعدے پر جادوگر اکٹھے ہوگئے جادوگروں کے اجتماع کا ایک دن مقرر کردیا گیا کہ فلاں دن تمام کے تمام جادوگر فلاں جگہ پر اکٹھے ہوجائیں ۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ فرعونیوں کے میلے والے دن جادوگروں کو اکٹھا کیا گیا ۔ اس دن بہت سے لوگ جشن منانے کے لیے ویسے ہی اکٹھے ہوتے تھے لہٰذا اس دن سب کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ سورة طہٰ میں ہے قال موعد کم یوم الزینۃ وان یحشر الناس ضحی ( آیت : 95) وہ وعدے کا دن ان کی زیب وزینت اور جشن کا دن تھا اور لوگوں کو چاہشت یعنی دوپہر کے وقت یہ مقابلہ دیکھنے کی دعوت دی گئی ۔ چناچہ و قیل الناس ھل کنتم تجتبعون اور عام لوگوں سے بھی کہا گیا کہ فلاں دن اور فلاں وقت پر اکٹھے ہو کر جادوگروں کا مقابلہ دیکھو ۔ ساتھ یہ اعلان بھی کردیا لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغلبین شاید کہ ہم ان بڑے بڑے جادوگروں کا اتباع کریں اگر وہ غالب آجائیں ۔ مطلب یہ تھا کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) ہمارا دین ، عقیدہ اور پورا نظام سلطنت تبدیل کردینا چاہتے ہیں ۔ اگر ہمارے جادوگروں نے ان دونوں کو شکست دے دی تو پھر ہم اپنے موجودہ طریقے پر قائم رہتے ہوئے انہی کی پیروی کرتے رہیں گے اور ہمیں اپنا دین تبدیل کرنا پڑے گا ۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ مقررہ دن پر ہزاروں کی تعداد میں جادوگر اکٹھے کیے گئے فلما جاء السحرۃ قالوا نفرعون جب وہ سارے کے سارے فرعون کے دربار میں اکٹھے ہوگئے تو اس سے کہنے لگے ائن لنا لا جرا ان کنا نحن الغنبین کیا ہمارے لیے کچھ مزدوری بھی ہوگی ۔ اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے جادوگر تو اسی لیے آئے تھے کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ہمیں انعام و اکرام ملے گا ۔ ہماری عزت افزائی ہوگی اور اس طرح ہمیں ملک بھر میں شہرت حاصل ہوگی ۔ جادوگروں اور انبیاء (علیہم السلام) میں یہی تو بنیادی فرق ہے ۔ جادوگروں کے مال و دولت اور عزت و حشمت کے خواہش مند ہوتے ہیں ۔ جب کہ اللہ کے نبیوں کا یہ اعلان ہوتا ہے وما اسئلکم علیہ ان جری الا علی رب العالمین ( الشعرائ : 51) اے لوگو ! میں دعوت حق کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ، کیوکنہ میرا اجر تو رب العالمین کے پاس ہے ، میں اسی کے حکم کی بجا آوری کر رہا ہوں اور وہی مجھے اس کا صلہ بھی عطا کرے گا ۔ ہر نبی نے یہی کہا کہ میری خدمت بےلوث ہے ابلغکم رسلت ربی ونصح بلمے ( الاعراف : 26) میں اپنے پروردگار کا پیغام تم تک پہنچا رہا ہوں اور تمہیں نصیحت کر رہا ہوں ۔ مجھے تمہاری خیر خواہی مطلوب ہے ۔ لہٰذا میری بات کی طرف توجہ کرو۔ جادو کا فتنہ جادوگری بڑا رذیل قسم کا فن ہے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اعلیٰ درجے کا جادو و کفر اور شرک پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ میں موجود ہے کہ جو دو آدمی جادو سکھاتے تھے وہ لوگوں پر واضح کردیتے تھے انما نحن فتند فلا تکبر ( البقرہ : 201) کہ ہم تو آزمائش میں مبتلا ہیں جادو کر کے تم کفر نہ کر ، جادو میں ایسا کلام پڑھنا پڑھتا ہے اور ایسی حرکات و سکنات اور اعمال کرنا پڑتے ہیں جن سے کفر لازم آتا ہے۔ اسی لیے اعلیٰ درجے کا جادوگر کفر اور شرک کا مرتکب ہوگا ۔ البتہ جادو کم ا ز کم درجہ بھی بدعت کے ارتکاب سے کم نہیں ہے اور اس میں بھی فسق و فجور اور گناہ پایا جاتا ہے۔ جادو کا شعبہ غیر نافع یا مضر علم میں شمار کیا گیا ہے یہ دنیا میں تو کسی حد تک مفید ہو سکتا ہے مگر آخرت کے اعتبار سے سخت مضر ہے اور انسان کو جہنم رسید کر کے چھوڑتا ہے۔ نجوم کے ذریعہ غیب کی باتیں معلوم کرنے کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ بھی سحر ہی کا ایک شعبہ ہے۔ اس میں بھی جادوگروں کی طرح درج ذیل حرکتیں کرنا پڑتی ہیں ۔ کہیں مردوں کا گوشت ، ہڈیاں یا مال حاصل کرنا پڑتے ہیں ، کہیں زندہ انسانوں کو قتل کر کے ان کا خون حاصل کیا جاتا ہے کہیں قبر یا …کی مٹی یا راکھ حاصل کی جاتی ہے۔ یہ سب شیطانی حرکات ہوتی ہیں جو شخص دنیا کی کمائی کے لیے اختیار کی ہیں ۔ حضور ﷺ 1 ؎ نے فرمایا حد الساحر ضربۃ بالسیف جادوگرجو جادو کے ذریعے لوگوں کی جانیں تلف کرتا ہے۔ اس کی سزا سزائے موت ہے ۔ تلوار کے ساتھ اس کا سر قلم کرو اور اگر سحر کی وجہ سے کوئی جان تو ضائع نہیں ہوئی بلکہ کم تر نقصان ہوا ہے تو حاکم مقدمے کی نوعیت کے اعتبار سے قید و بند کی سزا بھی دے سکتا ہے۔ بہر حال جادوگری ، ٹونے ٹوٹکے تعویز گنڈے جن کے ذریعے مخلوق خدا کو نقصان پہنچایا جائے ۔ صریح حرا ر اور شدید گناہ کا کام ہے۔ انعام و اکرام کا وعدہ بات یہ ہو رہی تھی کہ جادوگروں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ہمیں کچھ معاوضہ بھی ملے گا یا نہیں ۔ اس کے جواب میں فرعون نے کہا قال نعم ہاں ، تمہیں نہ صرف معقول معاوضہ ملے گا بلکہ وانکم اذا لمن المقربین تم میرے مقربوں میں سے ہو جائو گے تم کرینی نشین ہو گے۔ مجلس شوریٰ کے ممبر بن جائو گے یا تمہیں فلاں خطاب مل جائے گا ۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ اس دور میں نجومیوں ، ساحروں اور کاہنوں کو بھی وہی حیثیت حاصل تھی جو آج کے دور میں بڑے بڑے ڈاکٹروں ، انجینئروں اور سائنس دانوں کو حاصل ہے ۔ آج کے زمانے میں ہر کام کی سکی میں ماہرین ہی ملکی سطح پر بناتے اور ان پر عملدرآمد کراتے ہیں ۔ اسی طرح فرعونی دور میں یہ کام بڑے بڑے ساحروں سے لیا جاتا تھا۔ وہ اپنے جادو کے زور پر جس چیز کی نشاندہی کردیتے تھے ۔ حکومتی سطح پر اسی کے مطابق عمل کیا جاتا تھا۔ آج حکومت کے موجودہ مشیر بڑی بڑی مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ تو اس زمانے میں جادوگروں کی چاندی تھی۔ جادوگروں کا کرتب جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے مقابلے میں فرعون ، تمام جادوگر اور عام لوگ جمع ہوگئے تو مقابلے کی تیاری ہوگئی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے 1 ؎ ترمذی ص 032 ( فیاض) تو جادوگروں کے سامنے نصیحت کی اور فرمایا ویلکم لا نفتر و علی اللہ کذبا (طہٰ : 06) تمہاری ہلاکت ہو ، خدا تعالیٰ پر افترا اور نہ باندھو ، جادو جیسا غلط کام کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کرو اور اس سے باز آ جائو ۔ اس نصیحت آموز بات سے جادوگروں کے دل ہل گئے مگر فرعون کے خوف سے انہوں نے مقابلہ کا چیلنج دے دیا ۔ چناچہ قال لھم موسیٰ القواما انتم ملقون موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا چیلنج قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالناچاہتے ہو یعنی جادو کا جو کرتب تم دکھانا چاہتے ہو ۔ اس میں پہل کرو اور اس عام مجمع کے سامنے اپنے کارکردگی ظاہر کرو فاتقو حبا لھم و عصیبھم پس ڈالیں انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں جادوگروں نے اپنا بہترین کرتب پیش کیا ۔ سورة الاعراف میں ہے۔ وجاء وابسحر عظیم ( آیت : 611) کہ جادوگرو بہت بڑا جادو لانے تفسیری روایات میں آتا ہے کہ ملک بھر سے پندرہ سو جادوگرو اکٹھے کیے گئے اپنا کرتب پیش کر کے جادوگروں نے نعرہ وقالو بعزۃ فرعون کہنے لگے ” فرعون کی جے “ گویا انہوں نے زبانی طور پر مرعوب کرنے کے لیے فرعون کی فتح مندی کا نعرہ بھی بلند کیا ۔ اسی قسم کا نعرہ میدان احد میں ابو سفیان سے بھی لگایا تھا ۔ جب مسلمانوں کو وقتی طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تو ابو سفیان نے پہاڑ پر کھڑے ہو کر کہا اعل ھبل یعنی ھبل بت کی جئے اس کے جواب میں حضور ﷺ نے یہ نعرہ مارنے کا حکم دیا اللہ اعلی واجل یعنی اللہ تعالیٰ ہی مند و برتر ہے۔ اس مقام پر یہ تفصیل موجود نہیں ہے کہ جادوگروں کی طرف سے رسیاں اور لاٹھیاں پھینکنے کے بعد کیا ہوا ۔ البتہ سورة طہٰ میں موجود ہے کہ جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھیکنیں یخیل الیہ من سحر ھم انھا السعی ( آیت : 66) تو موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں ایسا آیا گویا کہ وہ میدان میں ادھر ادھر دوڑ رہی ہیں ۔ وہ رسیاں اور لاٹھیاں چھوٹے چھوٹے سانپ بن کر دوڑتے ہوئے نظر آتے تھے ۔ اس شعبدہ بازی پر جادوگروں نے فرعون کی قسم اٹھا کر کہا انا سخن الغلبون بیشک ہم ہی غالب آئیں گے ۔ انہوں نے اپنے فن کی پختگی کی بناء پر اپنی کامیابی کی پیشگی دعویٰ کردیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے جواب جادوگروں کا کرتب دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں بھی قدرے خوف پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ یہ لوگ جادو اور معجزے میں فرق نہ کرسکیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی اور فرمایا وتخف انک انت الاعلی ( طہٰ : 16) کہ ڈرو نہیں بیشک تم ہی غالب رہو گے۔ خدا تعالیٰ تمہیں بلندی عطا فرمائے گا ۔ اب پورے میدان کی نظریں موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لگی ہوئی تھیں کہ وہ جادوگروں کے کرتب کا جواب کس طرح دیتے ہیں ۔ فاتقی موسیٰ عصا پس موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی لاٹھی پھینک دی جونہی وہ زمین پر پی تو وہ بہت بڑا اژدھا نظر آنے لگا ۔ فاذا ھی تلقف ما فکون پس اچانک وہ سب نگل گیا جو کچھ جادوگروں نے بنایا تھا ۔ ان کے بنائے ہوئے چھوٹے چھوٹے سانپ موسیٰ (علیہ السلام) کا بڑا اژدھا کھا گیا یہ دیکھ کر تمام لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگنے لگے حتی ٰکہ فرعون کا پیشاب بھی خطا ہوگیا اور اس طرح جادوگروں کا بنایا ہوا سا را کھیل بگڑ گیا اور و ہ مغلوب ہوگیا ۔ جادو گروں کا ایمان لانا جب جادو گروں نے یہ ماجرا دیکھا فالقی لسجدتا سجدین تو وہ سب سجدہ میں گر پڑے اور انہوں نے اقرار کیا قالوا امنا برب العلمین کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے ۔ وہ پروردگار ہے رب موسیٰ و ہارون جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا بھی پروردگار ہے۔ جادوگر سمجھ چکے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اللہ کے سچے نبی ہیں اور ان کا کارنامہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزہ ہے ۔ یہ کسی انسانی بس کا کام نہیں ، لہٰذا اس کا مقابلہ ناممکن ہے ۔ بہر حال جادوگروں میں جہت ہی نہ ہری کہ اس معجزے کے مقابلہ میں کوئی دوہرا غبار وہ لاسکتے۔ فرعون کی برہمگی جب جادوگر ایمان لے آئے تو فرعون سخت سٹپٹایا اور اب وہ جادوگروں کو خطاب کر کے کہنے لگا۔۔۔ قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم کیا تم اس پر ایمان لے آئے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا ؟ تم میری رغبت ہو اور تمہاری زندگی میرے رحم و کرم پر ہے ۔ تم کیسے ایمان لے آئے ہو ۔ کہنے لگا ۔ اب میں سمجھ گیا ہوں ۔ دراصل تم سب ایک ہی ہو انہ لکبیر کم لذی علمک السحر دراصل موسیٰ (علیہ السلام) تمہارا بڑا یعنی تمہارا استاد جادوگر ہے جس نے تمہیں سارا جادو سکھایا ہے۔ یہ جو کچھ ہوا ہے تمہاری ملی بھگت سے ہوا ہے فلسوف تعلمون پس عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ میں تم سب کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں ۔ یاد رکھو لا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف میں تمہارے ہاتھ پائوں الٹے سیدھے کاٹ دوں گا جیسا کہ ڈاکوئوں کو سزا دی جاتی ہے۔ ولا سلبنکم جمعین اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا ۔ ایسی سخت سزادوں گا۔ ایمان پر استقامت اسے جواب میں جادوگروں نے کہا قالو الاضیر کوئی ڈر نہیں ۔ اب ہم خوف کی حدود سے نکل چکے ہیں ۔ تاریج میں ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جو لوگ کفر میں شدید تھے جب ان میں تغیر آیا تو وہ ایمان میں بھی درجہ کمال تک پہنچے اور اللہ کے مقربین میں شامل ہوگئے۔ فرعون تو انہیں اپنا مقرب بنانا چاہتا تھا۔ مگر اس کے بجائے اللہ نے انہیں اپنا مقرب بنا لیا ۔ کہنے لگے انا الی ربنا منقلبون بیشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ ابھ تمہارے ہاتھوں شہادت کا جام پی لیں یا کچھ دیر کے بعد طبعی موت سے ہم کنارہ ہوں ۔ ہم ایمان کی دولت لے کر اس دنیا سے جائیں گے انہوں نے یہ بھی کہا ۔ انا نطمع ان یغفرلنا ربنا خصینا ہمیں ایسا ہے کہ ہمارا پروردگار ہماری سابقہ غلطیوں کو معاف فرمادے گا ۔ ان کنا ول المومنین اس وجہ سے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے ہیں۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرلی ہے اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایمان پر ثابت قدم ہوگئے ہیں ، لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کا یقین ہوگیا ۔ سورة طہٰ میں ہے کہ جادوگروں نے فرعون سے صاف صاف کہہ دیا کہ ہم پر ہدایت واضح ہوچکی ہے اور ہم اس پر تجھے ترجیح نہیں دے سکتے فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیو 1 الدنیا (آیت : 27) تو جو چاہے فیصلہ کرے۔ تیرا فیصلہ تو اسی دنیا تک محدود ہوگا تو زیادہ سے زیادہ ہماری یہ فانی زندگی ہی ختم کرسکتا ہے تو جو چاہے کرے۔ اب ہم ایمان کا سودا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد کا واقعہ قرآن نے بیان نہیں کیا کہ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ فی الحقیقت کیا سلوک کیا ۔ مفسرین کہتے ہیں کہ فرعون مسرف آدمی تھا ، اس نے اپنے فیصلے ضر رو عملدرآمد کیا ہوگا اور جادوگروں کو یقینا سزا دی ہوگی ۔ اس کے بعد موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) چالیس سال تک مصر میں مقیم رہے اور وقتاً فوقتاً خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے ۔ ساتھ ساتھ فرعونیوں کے مظالم بھی برداشت کرتے رہے جیسا کہ سورة اعراف میں تفصیل کے ساتھ ذکر موجود ہے۔
Ayahs 26:52–59

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے وحی نازل کی موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کہ رات کے وقت میرے بندوں کو لے کر نکل جائو ۔ بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

پھر بھیجا فرعون نے مختلف شہروں میں اکٹھا کرنے والوں کو

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

کہا فرعون نے بیشک یہ اسرائیل ایک جماعت ہے بہت تھوڑی

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور بیشک یہ ہمیں بہت غصہ دلاتے ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور بیشک ہم ( ان سے) خطرہ رکھتے ہیں یا ہم سب مسلح ہیں

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

پس نکالا ہم نے ان ( فرعونیوں) کو باغوں اور چشموں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور عمدہ مکانوں سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اسی طرح اور وارث بنایا ہم نے ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو

ربط آیات جب موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق کا آغاز کیا تو فرعون نے آپ پر جادوگری کا الزام لگایا اور آپ سے مقابلہ کے لیے ملک بھر کے جادوگروں کو اکٹھا کیا ۔ فرعونیوں کے قومی میلے کے دن سب لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے ۔ جہاں جادوگروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنا تھا۔ جادوگروں نے پہل کی اور کچھ رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں جو دوڑتے ہوئے سانپ نظر آنے لگیں ۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گئی اور جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گئی ۔ یہ معجزہ دیکھ کر جادوگر تو ایمان لے آئے مگر فرعون اور اس کے حواری اپنی ضد پر اپڑے رہے۔ فرعون نے جادوگروں کے ایمان لانے کا بھی بہت برا منایا اور ان کو سخت سزا دینے کی دھمکی بھی دی ۔ مگر ان کو اللہ نے ایمان پر استقامت بخشی اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ انہیں اب کچھ خوف نہیں ہے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف ہی پلٹ کر جانے والے ہیں ۔ اس واقعہ کے بعد تقریباً چالیس سال تک موسیٰ (علیہ السلام) مصر میں مقیم رہ کر اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے اور فرعون کو درس توحید دیتے رہے آپ اس سے اسرائیلیوں کی آزادی کا مطالبہ بھی کرتے رہے تا کہ وہ اپنے اصل دشمن شام و فلسطین جاسکیں مگر فرعون نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے کی بجائے اسرائیلوں کو مزید تکلیفیں دینا شروع کردیں۔ بنی اسرائیل نے فرعون کے مظالم سے تنگ آ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کی قَالُوْٓا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَمِنْم بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ( الاعراف : 921) کہ آپ کے دین سے واپسی سے پہلے بھی ہم تکلیف میں مبتلا تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہمارے مصائب میں کمی نہیں آئی ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ تم صبر کرو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے۔ زمین کا وارث بناتا ہے۔ والعاقبۃ للمتین ( الاعراف : 721) اور آخری کامیابی متقین ہی کے حصے میں آتی ہے۔ سورة یونس میں اس مضمون کو مزید درد ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ فرعونی لوگ بنی اسرائیلیوں کو کھلے بندوں نماز بھی نہیں پڑھتے دیتے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ مصر ہی میں اپنے گھروں میں رہو واجعلوابیوتکم قبلۃ واقیمو الصلوٰۃ ( آیت 71) اپنے گھروں میں قبلہ رخ نماز ادا کرتے رہو ۔ اس دوران فرعونی بنی اسرائیل کو قتل کرتے رہے ان سے سخت مشقت کے کام لیتے ہے اور وہ بیچارے ظلم کی چکی میں پستے رہے۔ بعض اوقات جب فرعونیوں پر قحط سالی یا کوئی دوسری مصیبت آتی تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست بھی کرتے اور ساتھ وعدہ بھی کرتے کہ اگر یہ تکلیف دور ہوگئی تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آزاد بھی کردیں گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ ان سے وہ تکلیف دور کردیتا تو وہ اپنے عہد کو توڑ دیتے ۔ یہ سارے واقعات سورة یونس میں مذکور ہیں۔ بنی اسرائیل کا خروج اس مقام پر ان درمیانی واقعات کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ بلکہ جادوگروں کے مقابلہ کا ذکر کرنے کے بعد بنی اسرائیل کے مصر سے خروج اور فرعونیوں کی ہلاکت کا واقعہ بیان کیا گیا ۔ ارشاد ہوتا ہے واوحینا الیٰ موسیٰ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی ان اسر بعبادی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو ۔ دوسری رات کے سفر کو کہتے ہیں جیسا کہ واقعہ معراج بھی بیان کیا گیا ۔ سبحان الذی سوی بعبدہ ( بنی اسرائیل : 1) پاک ہے وہ خدا تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات کے وقت لے گیا ۔ تو یہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) کو رات کے وقت سفر کرنے کا حکم دیا گیا ۔ بنی اسرائیل کے خروج کا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ بنی اسرائیل ہر سال شہر سے باہر کھلے میدان میں چند دن کے لیے کوئی تقریب منایا کرتے تھے ۔ اس مرتبہ بھی جب وہ دن قریب آئے تو انہوں نے جشن منانے کی تیاری شروع کی ۔ قرآن پاک میں آتا ہے کہ انہوں نے تقریب کے موقع پر پہننے کے لیے بعض قبطیوں سے کچھ زیورات بھی سقار لیے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو سمجھا دیا تھا کہ دوران سفر استعمال کے لیے خوراک کا مختصر ذخیرہ بھی ہمراہ لے لیں ۔ ادھر کسی وبائی مرض کی وجہ سے قبطیوں کے گھروں میں کچھ نوجوان اموات بھی واقع ہوگئیں جس کی وجہ سے وہ لوگ زیادہ تر ادھر مصروف ہوگئے۔ ادھر بنی اسرائیل کو راتوں رات نکلے کا حکم مل گیا ۔ فرعونی لوگوں نے اس بات کا زیادہ نوٹس نہ لیا وہ جانتے تھے کہ بنی اسرائیل ہر سال چند دن کے لیے جشن منانے کے لیے جایا ہی کرتے ہیں ۔ بہر حال بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ رات کے وقت نکل چلو اور ساتھ اس بات سے بھی آگاہ کردیا انکم متبون کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا ۔ مگر گھبرانا نہیں ، اللہ تعالیٰ تمہیں کامیابی عطا کرے گا ۔ فرعون کی منصوبہ بندی بنی اسرائیل کے خروج کے تین دن بعد فرعونیوں کو خیال آیا کہ اس مرتبہ سارے کے سارے بنی اسرائیل میلے میں چلے گئے ہیں اور ان کا ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہا ، آخر بات کیا ہے ؟ انہیں بنی اسرائیل کے فرار کا شبہ پیدا ہونے لگا چناچہ فرعون نے فیصلہ کیا کہ بنی اسرائیل کا تعاقب کر کے معلوم کیا جائے کہ وہ کہاں گئے ہیں فارسل فرعون فی المدائن حشرین پس بھیجا فرعون نے مختلف شہروں میں اکٹھا کرنے والوں کو منصوبہ یہ تھا کہ تمام فوجی جوان اور سرکردہ قبطی اکٹھے ہو کر بنی اسرائیل کا تعاقب کریں ۔ آجکل کی اصطلاح کے مطابق پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی ۔ تمام سرکاری ملازمین اور فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر کے انہیں اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہوجانے کا حکم دے دیا گیا ۔ بہت سے تیز رفتار گھوڑ سواروں کے ذریعے فوجیوں سرکردہ عہدیداروں اور دیگر اہم لوگوں کو اکٹھا کیا گیا ۔ اس وقت مصر میں ایک ہزار بڑے بڑے شہر اور بہت سی چھوٹی چھوٹی بستیاں تھیں ۔ سب میں آدمی بھیج کر لشکر جمع کیا گیا ۔ ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور ساتھ ساتھ ڈھارس بھی بندھائی گئی کہ اس مہم سے گھبرانا نہیں ان ھولاء لشرذمۃ قلیلون یہ بنی اسرائیل ایک چھوٹی سی جماعت ہے جسے ہم نے پکڑنا ہے اور ہماری کثرت تعداد کے پیش نظر یہ ایک معمولی سا کام ہے ، نیز اپنے لوگوں کو ابھارنے کے لیے یہ بھی کہا وانھم لنا لغائظون اور بیشک ہم سب ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی کئی دفعہ بحث مباحثہ ہوچکا تھا اور آپ نے ہر دفعہ فرعونیوں کو لا جواب کیا حتیٰ کہ فرعون کے بعد سے بڑے جادوگر بھی آپ پر ایمان لا چکے تھے ۔ لہٰذا فرعون پوری اسرائیلی قوم کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا تھا کہ یہ کسی بھی وقت اس کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ مفسرین کرام حذرون کا معنی یہ بھی کرتے ہیں کہ ہم مسلح ہیں ۔ جیسا کہ جہاد کے ضمن میں آتا ہے کہ نماز پڑھتے وقت بھی خذو حذر کم ( النسائ 41) اپنے ضروری ہتھیار اپنے پاس رکھو کہ کہیں دشمن دوران نماز ہی حملہ نہ کر دے۔ اس لحاظ سے یہ معنی بھی درست ہے کیونکر فرعون کی پوری فوج ہتھیار بند تھی جب کہ اسرائیل قوم غیر مسلح اور بےسرو سامان تھی۔ فرعون کی طرف سے تعاقب فرعونی لشکر کو جمع ہوتے ہوئے کئی دن گزر گئے اور اس اثناء میں بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ گئے ۔ فرعونیوں کا بارہ تیرہ لاکھ کا لشکر اسرائیلوں کے تعاقب میں چل پڑا ۔ اسی واقعہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاخرجنھم من جنت وعیون ہم نے نکالا ان کو باغات اور چشموں سے مصر بڑا سر سبز ملک تھا اس میں ڈیم اور نہریں بنی ہوئی تھیں ۔ دریائے نیل سارا سال بہتا تھا۔ زمین سیراب ہوتی تھی جس سے فصل اور باغات پیدا ہوتے تھے اس لیے اس کو باغات اور چشموں کی سر زمین کہا گیا ہے کہ ہم نے فبطیوں کو ایسی جگہ سے نکلنے پر مجبور کردیا ۔ وہ اپنے ڈیم نہریں اور چشمے ، فصل سے بھر پور کھیت اور پھل سے لدے باغات کو چھوڑ کر اسرائیلوں کے تعاقب میں چل کھڑے ہوئے وکنوز و مقام کریم ہم نے انہیں خزانوں اور عمدہ مکانوں سے نکالا ۔ ظاہر ہے کہ خوشحال ملک کے باشندوں کے پاس مال و دولت اور خزانے بھی وافر ہوں گے اور ان کی رہائش گاہیں بھی اعلیٰ درجے کی ہوں گی ، جن میں ہر قسم کی آرام و آسائش ہوگی ۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انہیں ایسی جگہوں سے نکال کر بحر قلزم کی لہروں کے سپرد کردیا اور پھر وہ لوٹ کر اپنے باغات اور گھروں میں واپس نہ آسکے۔ فرمایا کذلک ہم نے ان کو اسی طرح نکالا جس کا نقشہ سورة ہود میں کھینچا گیا ہے۔ یقدم قومہ یوم القیمۃاور دھم النار ( آیت : 89) کہ آگے آگے فرعون تھا اور اس کے پیچھے پیچھے سارا لشکر اور موالی درباری تھی فرمایا قیامت والے دن بھی ایسا ہی ہوگا کہ فرعون آگے آگے چل رہا ہوگا ۔ اس کا سارا لشکر اس کے پیچھے پیچھے ہوگا ، جنہیں لے کر وہ دوزخ میں پہنچ جائے گا ۔ بنی اسرائیل بحیثیت ورثائے مصر فرمایا ہم نے فرعونیوں کو ان کے باغات ، چشموں ، خزانوں اور عمدہ ٹھکانوں سے نکالا واورثنھا بنی اسرائیل اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا ۔ مفسرین کے نزدیک یہ حصہ آیت اس لحاظ سے اشکال پیدا کرنے والا ہے کہ فرعونیوں کی بحر قلزم میں غرقابی کے بعد بنی اسرائیل تو ان کی املاک کے وارث نہیں بنے مگر یہاں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو وارث بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل بحر قلزم کو معجزاتی راستوں کے ذریعے عبور کرگئے تو پھر وہ واپس مصر نہیں آئے بلکہ آگے صحرائے سینا پہنچ گئے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اربعین سنۃ یلیھون فی الارض (المائدہ : 62) چالیس سال تک وہیں بھٹکتے رہے ان کے لیے حکم یہ تھا کہ ارض مقدس میں واپس کے لیے وہاں کے قابضین سے جہاد کریں مگر انہوں نے پس و پیش کیا اور کہنے لگے کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑو ، ہم تو یہیں بیٹھیں گے ۔ اسی دوران موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) فوت ہوگئے۔ پھر نئی نسل آئی اور انہوں نے حضرت یوشع (علیہ السلام) کی سرگردگی میں جہاڈ کیا اور ارض مقدس شام و فلسطین پر دوبارہ قابض ہوئے۔ اس ضمن میں مفسر قرآن حضرت قتادہ (رح) کے قول سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ممکن ہے بنی اسرائیل صحرائے سینا کی قید کے بعد دوبارہ مصر گئے ہوں اور انہوں نے فرعونیوں کی املاک پر قبضہ بھی کیا ہو جس کا ذکر اس آیت میں اللہ نے کیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جب فرعون غرق ہوگیا ۔ اور اس کے ساتھ اس کا بارہ تیرا لاکھ کا لشکر بھی لقمہ اجل بن گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کچھ اسرائیلوں کو واپس مصر بھیج دیا تھا تا کہ جا کر وہاں کا نظم سنبھال لیں کیونکہ فرعونیوں کی اکثریت اور ان کے سرکردہ لوگ تو ختم ہوچکے تھے اور مصر میں نظم و نسق کا خلاء پیدا ہوگیا تھا ۔ مگر ان میں سے کوئی بھی روایت پایا ثبوت کو نہیں پہنچتی کیونکہ بنی اسرائیل اس وقت واپس مصر نہیں گئے۔ بلکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں انہیں مصر پر دوبارہ اقتدار حاصل ہوا جو کہ بہت عرصہ بعد کی بات ہے ۔ تاریخی لحاظ سے بھی فرعون کی ہلاکت کے بعد مصر پر قبطیوں کو ہی اقتدار حاصل رہا ۔ حتیٰ کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر دوبارہ آپ کے زیر نگیں آیا۔ اندریں حالات مفسرین کرام اس آیت کا حل یہ پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو باغات چشموں اور محلات و خزائن کا وارث مصر میں نہیں بلکہ شام و فلسطین میں بنایا تھا۔ یہ سر زمین بھی بڑی زرخیز ہے جہاں دریا ، نہریں اور چشمے جاری ہیں ۔ اناج پھل اور پھول ہوتے ہیں ۔ لوگ خوشحال ہیں ۔ خزانوں اور عمدہ رہائش گاہوں کے مالک ہیں ۔ تو اس وراثت سے مراد ارض مقدس کی وارثت ہے نہ کہ مصر کی ، چناچہ سورة الدخان میں آتا ہے واورثنھا قوما اخرین ( آیت : 82) وہاں پر باغات ، چشموں ، کھیتی باڑی اور محلات کا ذکر ہے کہ ہم نے دوسروں کو اس کا وارث بنایا۔ دوسروں میں میں اسرائیلوں کا ذکر نہیں ہے ، البتہ نہ نعمتیں انہیں ملک و شام میں جا کر حاصل ہوئیں ۔ بنی اسرائیل میں بہت سے انبیاء معبوث ہوئے ۔ بڑے بڑے بادشاہ اور جرنیل پیدا ہوئے۔ پھر حضرت ، دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا دور آیا ۔ مختلف اقوام سے مقابلہ ہوا ۔ اس کے بعد بخت نصر نے پھر ان پر غلبہ حاصل کرلیا ۔ اور انہوں نے سو سال تک غلامی کی زندگی بسر کی ۔ اس کے بعد اللہ نے پھر انہیں اس غلامی سے رہائی دلائی اور ان نعمتوں کا وارث بنایا جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اس حصہ آیت کا یہی معنی راجح ہے۔
Ayahs 26:60–68

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

پھر پیچھے آئے وہ ان کے سورج نکلنے کے وقت

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب آمنے سامنے ہوئیں دونوں جماعتیں تو کہا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے بیشک ہم نے تو پکڑے گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

کہا موسیٰ نے ہرگز نہیں ، بیشک میرے ساتھ میرا پروردگار ہے وہ ضرور مجھ کو راز بتلائے گا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر وحی نازل کی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کہ مارو اپنی لاٹھی سمندر پر پس پھٹ گیا ، وہ پس ہوگیا ہر ایک حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور پایا ہم نے وہاں پر دوسروں کو

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور نجات وہی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں سب کو

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ہم نے پانی میں ڈبو دیا دوسروں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ، اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور بیشک تیرا پروردگار البتہ زبردست اور رحم کرنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ گئے ۔ اب انہیں اپنے وطن ارض مقدس شام و فلسطین پہنچنا تھا مگر راستے میں بحر ملزم پڑتا تھا۔ اس دوران میں فرعونیوں کو شک گزرا کہ بنی اسرائیلی کہیں بھاگ ہی نہ جائیں ۔ چناچہ فرعون نے بڑے بڑے شہروں میں گھڑ سوار دوڑا دیے تا کہ وہ تمام چھائونیوں سے فوج کو اکٹھا کریں اور ساتھ ساتھ ملک کے سرکردہ آدمیوں کو بھی بلا لائیں تا کہ بنی اسرائیل کا تعاقب کر کے انہیں پکڑا جاسکے۔ اس حکم کی تعمیل میں دو تین دن گزر گئے۔ اتنے میں بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ فرعون نے تمام جمع شدہ فوج اور دیگر سر برآور دہ لوگوں کو بتلایا کہ بنی اسرائیل کی ایک قلیل سی جماعت ہمیں تنگ کرتی ہے اور اب وہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یہ ہمیں بہت غصہ دلا رہے ہیں ۔ لہٰذا ان کا تعاقب کر کے نہیں اپنی غلامی میں رہنے پر مجبور کرنا چاہئے۔ سب فرعونیوں نے اس تجویز کی حمایت کی اور وہ بنی اسرائیل کے تعاقب میں چل نکلے۔ اب آج کے درس میں واقعہ کا اگلا حصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کی خوفزدگی ارشاد ہوتا ہے فاتبعوا ھم مشرقین فرعونیوں نے سورج کے نکلنے کے وقت ہی بنی اسرائیل کا تعاقب شروع کردیا ۔ وہ بڑی شان و شوکت سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے نکلے ان کی کل تعداد تفسیری روایات کے مطابق بارہ تیرا راکھ تھی ۔ بعض کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ایک اور روایت کے مطابق سیاہ رنگ کے گھڑ سواروں کی تعداد آٹھ تھی ۔ تا ہم یہ روایات قابل اعتماد نہیں کیونکہ قرآن پاک یا کسی صحیح روایت میں ان کی تعداد نہیں بتائی گئی ۔ بہر حال یہ لشکر تعاقب کرتے ہوئے بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گیا فلما نواء الجمعن جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسری کو دیکھا قالہ اصحب موسیٰ انا مدرکون تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی کہنے لگے کہ اب تو ہم پکڑے گئے ۔ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل سمندر کے کنارے کھڑے تھے۔ سمندر میں کود جانے کے لیے ان کے پاس کوئی کشتیاں بھی نہیں تمہیں اور پیچھے سے فرعون کا لشکر بھی پہنچ گیا تو ان کی تشویش ایک فطری امر تھا ۔ انہوں نے گھر آ کر موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی بےبسی کا اظہار کیا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) الٰہی کی تعمیل میں مصر سے نکلے تھے۔ لہٰذا انہیں اللہ تعالیٰ کی اعانت پر مکمل بھروسہ تھا چناچہ انہوں نے قوم کو تسلی دیتے ہوئے قال کلا فرمایا فرعون تمہیں ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ ان معی ربی میرا رب میرے ساتھ ہے۔ ہم اسی کے حکم سے مصر سے نکلے ہیں ۔ اسی کی مدد ہمارے شامل حال ہے سیھدین وہ ضرور مجھ کو راہ بتلائے گا ۔ یعنی ہمارے بچائو کی کوئی سبیل پیدا کرے گا ۔ بالکل اسی قسم کا واقعہ حضور ﷺ کے ساتھ بھی پیش آیا ہے ہجرت پر روانہ ہوتے وقت جب حضور ﷺ اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے غار ثور میں قیام فرمایا تو قریش مکہ آپ کی تلاش میں غار کے منہ تک پہنچ گئے۔ حتیٰ کہ اندر سے انکے پائوں بھی نظر آ رہے تھے۔ اگر وہ نیچے جھک کر دیکھ لیتے تو حضور ﷺ کو پا لیتے مگر انہیں ایسا کرنے کی توفیق نہ ملی ۔ غار کے منہ پر مکڑی کا جالا تھا اور وہ سمجھ رہے تھے کہ اس کے اندر کسی شخص کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بہرحال اس نازک موقع پر حضرت بو بکر صدیق ؓ کی پریشانی بجا تھی ۔ چونکہ حضور ﷺ بھی اپنے پروردگار کے حکم سے ہجرت کے لیے نکلے تھے ۔ اس لیے انہیں بھی خدا تعالیٰ کی نصرت پر پورا پورا بھروسہ تھا۔ آپ نے صدیق اکبر ؓ کو ان الفاظ کے ساتھت سلیم دی لا تحزن ان اللہ معنا ( التوبہ : 04) آپ خوف نہ کھائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ۔ وہی ہمیں دشمنوں سے بچانے کا وہاں آپ نے صدیق اکبر ؓ کو شامل کرکے جمع کا صیغہ معنا فرمایا جب کہ آیت زیر درس میں موسیٰ (علیہ السلام) نے صیغہ واحد معی استعمال کیا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہے اور میری وساطت سے پوری قوم کا حامی و ناصر ہے۔ بنی اسرائیل کے لیے خشک راستے اس پریشانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی فاوحینا الی موسیٰ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی ان اضرب بعصک النبی کہ اپنی لاٹھی کو سمندر پر مارو یہ وہی متبرک لاٹھی تھی جسے مقابلے کے میدان میں پھینکا تھا تو یہ بہت بڑا اژدھا بن گئی اور پھر اس نے جادوگروں کے بنائے ہوتے تمام سانپوں کو نگل لیا ۔ اب اس کو پانی پر مارنے کا حکم ہوا ۔ جو نہی آپ نے پانی پر لاٹھی ماری فانفلق تو پانی پھٹ گیا لاٹھی مارنے کی جگہ کے اطراف میں پانی منجمد ہو کر پہاڑوں جیسے بڑے بڑے برف کے تودوں کے شکل میں کھڑا ہوگیا اور بیچ میں چلنے کے لیے راستہ بن گیا ۔ فرمایا فکان کل فرق کا الطورالعظیم پانی کا ہر حصہ بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند کھڑا ہوگیا ۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور سمندر میں بارہ راستے بن گئے تا کہ ہر قبیلہ ایک ایک راستے پر چلتا ہوا سمندر کو عبور کرلے۔ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی وحی بھیج دی کہ جب میرے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) آئیں اور تجھے لاٹھی ماریں تو ان کی سننا اور ماننا ۔ چناچہ سمندر رات بھر تلاطم میں رہا ۔ اس کی موجیں اور ادھر ادھر سر ٹکراتی رہیں کہ نامعلوم موسیٰ (علیہ السلام) کب اور کدھر سے آ کر مجھے لاٹھی ماردیں اور مجھے خبر ہی نہ ہو جس کی وجہ سے ان کے حکم کی تعمیل نہ ہو سکے۔ جب آپ سمندر کے بالکل کنارے پر پہنچ گئے تو آپ کے ساتھ یوشع بن نون (علیہ السلام) نے پوچھا ، اللہ کے نبی ! آپ کو کیا حکم ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے سمندر پر لاٹھی مارنے کا حکم ہے۔ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے ؟ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی پر لاٹھی مار کر کہا کہ مجھے چلنے کا راستہ دے دے پس اسی وقت پانی پھٹ گیا اور درمیان میں بارہ راستے صاف نظر آنے لگے ۔ ہوا کہ حکم ہوا کہ ان راستوں کو خشک کر کے چلنے کے قابل بنا دو ، چناچہ ایسا ہی ہوا ، پھر بارہ راستوں کے درمیان طاق بھی بن گئے ۔ جن کے ذریعے بارہ قبائل ایک دوسرے کو دوران سفر دیکھ سکتے تھے۔ بائبل کا بیان ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ ہلائو ۔ جب آپ نے ایسا کیا تو ہوا نے اپنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ۔ یہ درست نہیں ہے بلکہ لاٹھی مارنے والا واقعہ درست ہے۔ بعض سر سید جیسے گمراہ لوگوں کی نام نہاد و تحقیق یہ ہے کہ سمندر میں مدو جزر جیسے حالات پیدا ہوگئے تھے۔ مدو جزر میں سمندر کا پانی کئی کئی میل تک خشکی پر چڑھ جاتا ہے اور پھر واپس بھی چلا جاتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ سمندر کا پانی جذر کی حالت میں پیچھے ہٹ گیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی اس کو پار کر گئے۔ پھر جب مد آیا تو فرعونی لشکر غرق ہوگیا ۔ یہ سب ملحدانہ باتیں ہیں صحیح بات یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے لا ٹھی ماری تو پانی دو حصوں میں تقسیم ہو کر بڑے بڑے پہاڑوں جیسے برف کے تودوں کی شکل میں کھڑا ہوگیا اور درمیان میں بارہ راستے بن گئے ۔ جن پر سے بنی اسرائیل گزر گئے۔ فرعونیوں کی غرقابی ارشاد ہوتا ہے وازلفنا ثم الاخرین پھر ہم نے پہنچادیا وہاں پر دوسروں یعنی فرعونیوں کو ۔ جب فرعون اور اس کے لشکر نے دیکھا کہ بنی اسرائیل سمندر کے بیچوں بیچ بنے ہوئے راستوں پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی پیچھے جانا چاہا پہلے تو انہوں نے کچھ پس و پیش کیا مگر جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ جبرئیل (علیہ السلام) سیاہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور انہوں نے اپنا گھوڑا فرعون کے گھوڑے کے آگے لگا دیا جسے دیکھ کر فرعون کا گھوڑا بھی سمندر میں اتر گیا اور پھر اس کے پیچھے سارا لشکر اسی راستے پر چل نکلا ۔ جب وہ سارے کے سارے سمندر کے اندر پہنچ گئے تو اتنے میں بنی اسرائیل سمندر کو عبور کر کے دوسرے کنارے پر پہنچ چکے تھے جب آخری اسرائیل خشکی پر پہنچا تو عین اسی وقت آخری فرعونی سمندر میں اتر چکا تھا چناچہ اللہ کے حکم سے سمندر کا منجمد پانی پھر سے آپس میں مل گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا وانجینا موسیٰ ومن معہ اجمعین کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا ۔ ان میں سے فرد واحد بھی ضائع نہ ہوا ۔ ثم اغرقنا الاخرین پھر ہم نے دوسروں یعنی فرعونیوں کو سمندر میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ فرمایا ان فی ذلک لایۃ اس سارے واقعہ میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے فرمانبرداروں کو محفوظ رکھتا ہے اور نافرمانوں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بیشمار نشانیاں دیکھنے کے باوجو وما کان اکثرھم مومنین لوگوں کی اکثریت ایمان سے خالی رہتی ہے ۔ آج پوری دنیا میں دیکھ لیں پانچ ارب کی آبادی میں سے غالب اکثریت کفر و شرک میں مبتلا ہے اور ایمان سے خالی ہے ایک قلیل تعداد ایمان کی دولت سے مالا مال ہے ، باقی سب بےدین اور ملحد ہیں فرمایا وان ربک لھو العزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار غالب بھی ہے اور از حد مہربان بھی ہے۔ وہ ہر نافرمان ، مشرک اور کافر کے لیے زبردست اور اس کو سزا دینے پر قادر ہے جب کہ ہر اطاعت گزار کے لیے نہایت شفیق اور مہربان ہے۔