Ayahs 26:141–152قوم ثمود
تسلی کے مضمون میں قوم عاد کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں قوم ثمود کا تذکرہ ہے جو حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم تھی ۔ یہ لوگ عادثانی بھی کہلاتے ہیں ، جزیرہ نما عرب کے شمال میں یہ لوگ وادی تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک آباد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس علاقے میں اس قوم کی سترہ سو بڑی بڑی بستیاں تھیں ۔ ترکوں کے زمانے میں تبوک تک ریل بھی جاتی تھی اور وہاں پر ریلوے سٹیشن بھی تھا جس کی عمارت آج بھی موجود ہے۔ اس جگہ کا نام اب بھی مدائن صالح ہے۔ قوم عا د کی طرح قوم ثمود بھی بڑی متمدن قوم تھی ۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات اب بھی نظر آتے ہیں ۔ قوم ثمود کے لوگ زیادہ تر تاجر پیشہ تھے ، کھیتی باڑی بھی کرتے تھے ۔ اور بڑے آسودہ حال تھے یہ لوگ کمال دجے کے سنگ تراش تھے۔ پہاڑوں کو کھود کر نہایت پر آسائش اور نقش نگاہ والے مکانات بناتے تھے ، ان کی صناعی کے نمونے جنوبی ہندوستان میں ایجنٹا اور آلودہ کی تہذیبوں میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ قوم ثمود کی طرح یہ لوگ بھی اپنے مکان پتھروں کو تراش تراش کر بناتے تھے ، مجسمہ سازی ان کا محبوب مشغلہ تھا ، ان کے بنائے ہوئے مجسمے آج بھی عجائب خانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں اور مکانات کے کھنڈرات بھی نظر آتے ہیں ۔ قوم عاد کے بعد قوم ثمود نے بڑی ترقی کی ۔ یہ بھی سام ابن نو ح کی اولاد میں سے سامی نسل کے لوگ تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تعلق بھی اسی نسل کے ساتھ تھا۔ بہر حال قوم ثمود اپنے دور میں دنیاوی لحاظ سے نہایت ترقی یافتہ قوم تھی ۔ ان کو دنیا کی ہر قسم کی آسائش حاصل تھی ۔ یہ لوگ عقل معاش کے بام عروج پر تھے ۔ مگر عقل عاد سے یکسر خالی تھے۔ اسی دنیا کو سب کچھ سمجھتے تھے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ مشرک اور دہریے تو سرے سے معاد کے منکرین میں تا ہم یہودو نصاریٰ کا نظریہ بھی درست نہیں ہے ۔ قرآن پاک نے ایسے لوگوں کا نقشہ اس طرح کھینچنا ہییَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰـفِلُوْنَ (الروم : 7) یہ لوگ دنیا کے ظاہری حالات کو تو نہایت اچھی طرح جانتے ہیں ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں بڑی ترقی کی ہے۔ صنعت حرفت میں بہت آگے جا چکے ہیں ، چاند پر کمندیں ڈال رہے ہیں مگر آخرت کے معاملات سے بالکل غافل ہیں ۔ ان کو کچھ پتہ نہیں کہ مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اور وہاں اس زندگی کا پورا پورا حساب دینا پڑے گا ۔ اس کے بعد جزائے عمل کا مرحلہ آئے گا ہر ایک کو اس کے لیے دھرے کا پورا پورا بدلہ ملے گا ۔ بہر حال قوم ثمود اپنی پوری مادی ترقی کے باوجود معاد سے غافل تھی۔
صالح (علیہ السلام) کا خطاب
ارشاد باری تعالیٰ ہے کذبت ثمو د المرسلین قوم ثمود نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ۔ انہوں نے اپنے رسول صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی مگر کسی ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کے جھٹلانے کے مترادف ہے لہٰذا حسب سابق یہاں بھی جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اذقال لھم اخوھم صلح جب کہا ان کو ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے بھائی اس لیے کہ آپ اپنی قوم کے فرد تھے ، انہی کی برادری اور خاندان سے تعلق تھا۔ اللہ نے ان کے سر پر تاج نبوت رکھا تو انہوں نے اللہ کا پیغام سنانا شروع کیا اور قوم سے فرمایا الا تتقون تم ڈرتے کیوں نہیں ؟ تم کفر ، شرک ، معاصی اور ناپ تول کی اخلاقی بیماری میں مبتلا ہو ۔ مگر خدا تعالیٰ کی گرفت سے بےخوف ہوچکے ہو ۔ فرمایا یاد رکھو ! انی لکم رسول امین میں تمہاری طرف اللہ کا پیغام لانے والا اور امانت دار ہوں ۔ میں اللہ کا ہر پیغام بلا کم وکاست تم تک پہنچانے پر مامور ہوں ۔ اس ضمن میں کوئی خیانت اور رعایت یا طرفداری نہیں کرتا ، لہٰذا فاتقوا اللہ واطیعون اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو ۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، نیز اعبدو اللہ ما لکم من الہ غیرہ ( الاعراف : 37) عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے آپ نے قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میں تم تک اللہ کا پیغام بےلوث پہنچا رہا ہوں وما اسئلکم علیہ من اجر اور اس کام کے لیے تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ان اجری الاعلی رب العالمین میرا معاوضہ تو تمام جہانوں کے پروردگار کے ذمے ہے ، تمام انبیاء اور رسل یہی بات کہتے ہیں کہ تبلیغ حق کے ضمن میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ، تعلیم حاصل کرنے کے لیے عام طور پر فیس دینا پڑتی ہے۔ کاہن اور سالر بھی اپنا معاوضہ طلب کرتا ہے ، شاعر بھی اپنی فیس طلب کرتے ہیں ، ان سب کا مقصود دنیا طلبی ہوتا ہے لیکن انبیاء کی جماعت ایک ایسی جماعت ہے جو صراط مستقیم پر راہنمائی کرنے کے لیے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتی ۔ اللہ کا نبی ہمیشہ یہی کہتا ہے وانا لکم ناصح امین ( الاعراف : 86) میں تو نصیحت کرنے والا امانت دار ہوں ۔ وانصح لکم ( الاعراف : 26) میں تمہیں نصیحت کی بات بتاتا ہوں جو تمہارے فائدے میں ہے ، اس میں تمہاری خیر خواہی ہے ، ظاہر ہے کہ کسی بےغرض آدمی کی بات کو سننا فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے مگر تاریخ رسالت شاہد ہے کہ اکثر اقوام نے اپنے اپنے رسولوں کی تکذیب ہی کی۔
انعامات کا تذکرہ
ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ضمیر کو مزید جھنجھوڑ اور فرمایا اتترکون فی ما ھھمنا امنین کیا تم سمجھتے ہو کہ تم یہاں اسی طرح امن میں چھوڑ دیئے جائو گے ؟ مطلب یہ کہ کیا تم ہمیشہ اسی طرح خوشحالی کی زندگی بسر کرتے رہو گے اور تمہیں کبھی زوال نہیں آئے گا ۔ فرعون بھی تو ہی کہتا تھا اس سب پر غالب ہوں ۔ میری سلطنت کو کبھی زوال نہیں آئے گا ۔ عام طور پر ملوک اور مشرکین کا یہی ذہن ہوتا ہے ۔ اسی لیے تو انہیں آخرت کی فکر نہیں ہوتی ۔ اگر وہ لحظہ بھر کے لیے خیال کریں کہ اگر آج خوشحال ہیں تو کل کر بد حال بھی ہو سکتے ہیں تو وہ غرور وتکبر اور ظلم و ستم سے باز آجائیں ، مگر اس طرف تو ان دھیان جاتا ہی نہیں۔ بہرحال ہود (علیہ السلام) نے کہا ، کیا تم اسی طرح یہاں امن میں رہو گے ؟ فی جنت و عیون تمہارے باغات اور ان کو سیراب کرنے والے چشمے اور نہریں اسی طرح با عمل رہیں گی ؟ اور کیا تم اس خا م خیالی میں بھی مبتلا ہو کہ وزوع و نخل تمہاری کھیتیاں اور کھجوریں بھی اسی طرح لہلہلاتی اور بار آور ہوتی رہیں گی ۔ کھجوروں کے وہ درخت طلعھا ھضیم کہ جن کے خوشے نہایت ہی نرم ہیں ۔ ھضیم کا معنی نرم و نازک بھی ہوتا ہے اور جھکاہو بھی شیخ الہند اس کا معنی ملائم کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کھجور کے جب نئے شگوفے پھوٹتے ہیں تو وہ نہایت ہی نرم و نازک اور ملائم ہوتے ہیں ۔ پھر جب پھل اچھی طرح آجاتا ہے تو وہ اپنے وزن کی وجہ سے معمول سا جھک بھی جاتا ہے۔ تو اس طرح یہ دونوں معانی درست ہیں ۔ کھجور کا خوشہ پھوٹنے سے لے کر پھل برداشت کرنے تک کے مختلف مراحل کے عربی زبان میں مختلف نام آتے ہیں ۔ مثلاً جب کھجور کا پہلا خوشہ پھوٹتا ہے تو اس کو کفریٰ کہا جاتا ہے۔ اس کا اندرونی حصہ اس وقت سفید ہوتا ہے جو اغریض کہلاتا ہے۔ پھر جب پھل کی نمود ہوتی ہے تو اس کو خلال کہتے ہیں اور جب ذرابڑا ہوجاتا ہے تو بلح کہلاتا ہے ۔ پھر جب اس کے دانے بڑے ہوجاتے ہیں ۔ تو اسے بسر کہتے ہیں ۔ جب ان میں زردی آجاتی ہے تو وہ رطب بن جاتا ہے ۔ اور آخر میں اگر کھجور خشک ہو تو تم کہلاتی ہے ۔ بہر حال ہود (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ کیا تم سمجھے ہو کہ تمہاری کھیتیاں اور کھجوریں اسی طرح بار آور ہوتی رہیں گی ؟ کھجور کے درخت میں اللہ تعالیٰ نے یہ عجیب و غریب حکمت رکھی ہے کہ اس میں نر اور مادہ ہوتے ہیں ۔ مادہ درخت کا خوشہ نکلنے والا حصہ بند سا ہوتا ہے جسے دو جوتے آپس میں ملے ہوئے ہوں ۔ جب مذکر درخت کا بور مادہ درخت کے مذکورہ صحیفہ پر پڑنا ہے تو اس سے پیوند کاری ہو کر پھل اچھا آتا ہے ۔ اگر نر درخت کا بور مطلوبہ جگہ تک نہ پہنچ سکے تو پھل ناقص رہ جاتا ہے ۔ عرب اور دوسرے گرم ممالک میں کھجور نہایت ہی مفید کار آمد دیر پا پھل ہے جو بیک وقت بطور پھل اور خوراک استعمال ہوتا ہے ۔ قوم ثمود کے پاس کھجوروں کے بکثرت باغات تھے جس کی وجہ سے وہ بڑے خوشحال لوگ تھے۔
پر تکلف مکانات
ہود (علیہ السلام) نے قوم کو یہ بھی یاد دلایا وتنحتون من الجبال بیوتافرھین تم تراشے ہو پہاڑوں میں پر تکلف مکانات جیسا کہ پہلے عرض کیا ۔ قوم عاد کی شرح قوم ثمود بھی فن تعمیر کی ماہر تھی ۔ یہ لوگ پہاڑوں کی تراش تراش کر ان کے اندر نہایت ہی دیدہ زیب نقش و نگاہ والے مکانات تعمیر کرتے تھے۔ فرمایا یہ تمام آسائشیں دائمی نہیں ہیں یہ کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہیں لہٰذا حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو فاتقوا اللہ واطیعون اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈر جانا اور میر ی بات مانو ، میں تمہیں سچی بات بتاتا ہوں ۔ دنیا کی خوشنمائی سے نکل کر آخرت کی فکر کرو کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔ یہ دنیا اور اس کی تمام رونقیں جلدی ختم ہونے والی ہیں ، تمہاری موت کے بعد ایک دائمی زندگی شروع ہونے والی ہے۔ جہاں تمہارے یہ باغات ، محلات اور آرام و آسائش کی کوئی چیز کام نہیں آئے گی اور تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکو گے۔
اسراف کی ممانعت
صالح (علیہ السلام) نے قوم کو خبردار کیا ولا تطیعوا من المسرفین اور اسراف کرنے والوں کی بات کو مت مانو ، قوم عاد کے متعلق بھی بیان ہوچکا ہے کہ بڑے مسرف لوگ تھے۔ عالیشان مکانات ، بڑے بڑے مینار اور گنبد تعمیر کرتے تھے جن سے نہ رہائش مقصود ہوتی تھی اور نہ کوئی دوسرا مفید کام بلکہ محض نمود و نمائش مطلوب ہوتی تھی۔ یہ بیماری اس قوم ثمود میں بھی پائی جاتی تھی ۔ فضول رسم و رواج اور لہو و لعب میں بےدریغ روپیہ صرف کرتے تھے۔ شراب نوشی اور جوئے بازی عام تھی ، استقبالیوں اور دعوتوں میں یہاں بھی فضول خرچی کی جاتی ہے ۔ کسی وزیر امیر یا سید کی آمد ہوتی ہے تو بیشمار جھنڈیاں اور آرائشی دروازے بنائے جاتے ہیں ۔ استقبا یہ نعروں کے بورڈ آویزاں کیے جاتے ہیں ۔ علاقے بھر کو دلہن کی طرح سجا یا جاتا ہے۔ رنگ برنگے قمقموں سے سڑکوں کو سجایا جاتا ہے۔ یہ سب فضول اور حرام کام ہیں ، یہی رقم غریبوں اور محتاجوں کی بحالی پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ بھوکوں کے لیے کھانے اور ننگوں کے لیے تن پوشی کا بندوست ہو سکتا ہے یا پھر بےگھر لوگوں کے لیے گرمی سردی سے بچائو کے لیے سایہ مہیا کیا جاسکتا ہے مگر اس فضول خرچی کو کون روکے ؟ امراء کو دیکھا دیکھی غریب لوگ بھی شادی کی رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، نہ امر غریبوں کا خیال کرتے ہیں اور نہ غریب اپنی حیثیت پر نظر رکھتے ہیں ۔ نام و نمود کے لیے ایک دوڑلگی ہوئی ہے اور اسی اسراف سے ہو پرانی قوموں میں پایا جاتا ہے اور آج بھی موجود ہے ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اسراف سے منع فرمایا اور کہا کہ مسرفوں کی بات کو نہ مانو۔
فساد فی الارض
اور مسرف لوگ وہ ہیں الذین یفسدون فی الارض جو کہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ولا یصلحون اور اصلاح نہیں کرتے ظاہر ہے کہ اصلاح معاشرہ تو نیکی کے ذریعے ہوتی ہے۔ غریب پروری اور عدل و انصاف سے ہوتی ہے نہ کہ جوا بدی اور شراب نوشی کے ذریعے ، تمام برے کام فساد کی بنیاد بنتے ہیں ۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ اخلال بالشرائع یعنی قوانین خداوندی کی خلاف ورزی ہی فساد فی الارض ہے مشرک کافر اور منافق قسم کے لوگ فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ صالح (علیہ السلام) نے بھی یہی بات کی کہ مسرفوں کی بات نہ مانو ۔ وہ خدا کا قانون توڑ کر زمین میں فساد کا موجب بنتے ہیں ۔ لہو و لعب ، رسومات بد اور بدعات کو فروغ دیتے ہیں ۔ فوٹو گرافی کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ حالانکہ حضور ﷺ 1 ؎ کا فرمان ہے لعن اللہ المعصورین مصوروں پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔ یہ اسراف ہی تو ہے اور یہی فساد فی الارض ہے سورة الاعراف میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے یہ الفاظ بھی ہیں جو انہوں نے اپنی قوم سے ہے وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلاَحِھَا ( آیت : 58) لوگو ! زمین میں امن قائم ہوجانے کے بعد اس میں فساد نہ پھیلائو ۔ بہر حال صالح (علیہ السلام) نے قوم کو اسراف اور زمین میں فساد پھیلانے سے منع کیا ۔ آپ کی اس تقریر کے بعد اگلی آیات میں قوم کا جواب ہے۔
1 ؎۔ قرطبی 832 ج 41 و احکام القرآن للجصاصص 373 ج 3 ( فیاض)
Ayahs 26:153–159ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا آپ نے حلق تبلیغ ادا کرتے ہوئے قوم کو خدا تعالیٰ کا پیغام سنا ۔ ان کی خامیاں بیان کیں اور ان سے بچنے کی تلقین کی ۔ ان کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں اور اس فانی دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا ۔ آپ نے قوم کو ان کی خوشحالی پر تنبیہ فرمایا اور اسراف سے منع فرمایا ۔ اللہ کا خوف دلایا اور اپنی اطاعت کا حکم دیا ۔ آپ نے یہ بھی واضح کردیا کہ میں تمہیں نصیحت کی بات بتلاتا ہوں جس میں خود تمہارا ہی فائدہ ہے۔
قوم ثمود کا جواب
آپ کی قوم نے پیغام حق سن کر اس کو تسلیم کرنے کی بجائے نہایت متکبرانہ طریقے سے یوں جواب دیا قالوا انما انت من المسحرین کہنے لگے تو تو سخر زدہ لوگوں میں سے ہے۔ یہ الزام صرف قوم ثمود نے ہی نہیں لگایا بلکہ دوسرے بعض انبیاء کو بھی یہی کیا گیا ۔ مثلاً حضر ت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے متعلق کہا گیا کہ یہ جادوگر ہیں ۔ قریش مکہ نے اہل ایمان کو حفاظت کر کے کہا ان تتبعون الارجلا مسحورا (بنی اسرائیل : 74) تم تو سحر زدہ آدمی کا اتباع کرتے ہو ۔ اس پر تو کسی نے جادو کردیا ہے اور یہ شخص بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ پھر جب مشرکین نے معجزہ شق القمر دیکھا تو کہنے لگے سحر مستمر ( القمر : 2) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے پہلے بھی لوگ کرتے تھے اب یہ شخص بھی کرتا ہے۔ اسی طرح صالح (علیہ السلام) کو بھی کہا کہ تو تو مسخرین میں سے ہے یعنی تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے تمہاری عقل خراب ہوگئی ہے۔ فرعون کی طرح وہ بھی اپنی کارگزاری کو ہی عقل مندی سمجھتے تھے۔ فرعون نے اپنی قوم کو اس طرح ورغلایا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو تمہیں گمراہ کر رہا ہے۔ وما اھدیکم الا سبیل الرشاد ( المومن : 91) مگر میں تمہیں ٹھیک راستہ بتلارہا ہوں ۔ ہمارے آبائو اجداد بالکل ٹھیک تھے ، ان کا طور طریقہ بھی درست تھا اور ہم اسی کے پابند ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے حواری بہک گئے ہیں جو عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں جو ہم نے اپنے بڑوں سے کبھی نہیں سنیں ۔ بہر حال کبھی انہوں نے کاہن کہا ، کبھی شاعرکہا اور کبھی سحر زدہ کہہ دیا ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سحر پھیپھڑے کو بھی کہا جاتا ہے۔ مراد ان کی یہ تھی کہ یہ محض تو پھیپھڑا رکھنے والا انسان ہے۔ تو کھانا کھاتا ہے ، انسانوں کی طرح سانس لیتا ہے بھلا ہم ایسے شخص کو رسولوں کیسے تسلیم کرلیں ۔ اس کے علاوہ سحرہ معنی دھوکہ بھی ہوتا ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے ؎
ارنا موضعین لا مرغیب
ونسحر بالطعام وبا الشراب
ہم غیب کی طرف اپنی سواریاں تیزی کے ساتھ دوڑا رہے ہیں ، پتہ نہیں آگے کیا ہوگا مگر ہمیں کھانے پینے سے دھوکا دیا جاتا ہے۔ ہمیں کھانے پینے کا لالچ دے کر اس طرف لگا دیا گیا ہے جس کے انجام کا کچھ علم نہیں تا ہم اس مقام پر پہلامعنی ہی زیادہ متبادر ہے کہ تو سحر زدہ آدمی ہے۔
بشریت اور رسالت
قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر یہ اعتراض بھی کیا ۔ کہنے لگے ما انت الا بشر مثلنا تو تو ہمارے جیسا ہی انسان ہے ، تمہیں ہم پر کون سی فوقیت حاصل ہے جو تم نبوت و رسالت کا دعویٰ کر رہے ہو ۔ یہ حقیقت ہے کہ مادہ پرست لوگ حقیقت کو پائے بغیر محض ظاہری صورت دیکھ کر ہی الٹا سیدھا فیصلے کرلیتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب 1 ؎ النوز الکبیر (رح) میں فرماتے ہیں کہ اکثر کفار و مشرکین نے بشریت کو رسالت کے منافی سمجھ کر ہی رسالت و نبوت کا انکار کیا اور حقیقت کو نہ جانا کہتے تھے کہ یہ رسالت کا دعویدار بھی ہماری طرح کھاتا پیتا ہے ۔ ہماری طرح اس کے بھی بال بچے ہیں ۔ بازاروں سے سودا سلف خریدتا ہے ، بھلا اس کو ہم کیسے نبی مان لیں ! مگر حقیقت یہ ہے کہ لوازمات بشریت نبوت و رسالت کے ہرگز منافی نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ہی رسول اور نبی منتخب کرتا ہے مگر ان کے قلب و دماغ کو کمال حاصل ہوتا ہے اور ان کی روحانیت ایسی بےمثال ہوئی ہے جو عام انسانوں کے لیے ممکن نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود خاتم النبیین ﷺ کی زبان سے بھی کہلوایا
1 ؎۔ الفوز الکبیر ص 71
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ (الکہف : 011) آپ کہہ دیں کہ میں بھی تمہارے جیسا انسان ہوں ، البتہ مجھ پر وحی کی جاتی ہے ، مگر وحی کا نزول کوئی معمولی چیز نہیں ہے ، یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص انتخاب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی استعداد اور صلاحیت کو خوب جانتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ منصب رسالت کے لائق کون انسان ہے ۔ بہر حال قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کی ظاہر شکل و صورت دیکھ کر آپ کی رسالت کا انکار کردیا اور حقیقت کو نہ پا سکے۔ مولانا روم (رح) نے صورت پرستوں کا حال اسی طرح بیان کیا ہے ؎
چند صورت بینی اے صورت پرست
جان بےمعنی است لز صورت پرست
در گزر از صورت و معنی نگر
زانکہ مقصود از صدف باشد گہر
صورت پرست صرف ظاہری صورت کو ہی سمجھ رہا ہے اور وہ جان اور روحانیت کی حقیقت سے بےبہرہ ہے۔ صورت سے گزر کر حقیقت کو بھی دیکھ لو کیونکہ محض ظاہری سیپ مقصود نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر موجود ہوتی مطلوب ہوتا ہے ۔ مطلب یہ کہ صرف ظاہری شکل و صورت دیکھ کر یہ کہ دنیا کہ یہ بھی انسان ہے اور ہم بھی انسان ہیں ۔ درست نہیں ہے بلکہ نبی کے اندر پائی جانے والی حقیقت اور اس کے کمال پر بھی نگاہ ہونی چاہئے ۔ فرمایا ، تم نے صرف ظاہری صورت پر انکار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، یہ تو پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ کہنے لگے ، تو تو ہمارے جیسا آدمی ہے ہماری برادری اور قوم کا جاناپہنچانا ہے۔ ہم تجھے کیسے رسول مان لیں ؟ مشرکین مکیہ بھی کہتے تھے کہ ابو طالب کے یتیم بھیجتے کو ہم کیسے رسول مان لیں لَوْ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (الزخرف : 13) یہ قرآن مکہ اور طائف کی بستیوں میں سے کسی صاحب حیثیت آدمی پہ کیوں نہ اترا ۔ یہاں بڑے بڑے سردار ابوائکم عبد الیل ، مبعود ، حبیب حصے بڑے بڑے عظیم عقل مند اور صاحب حیثیت لوگ ہیں ، اللہ نے اگر کسی کو نبی بنانا تھا تو ان میں سے کسی کو بناتا ۔ یہ تو ہماری عقل و فکر سے باہر ہے۔ ہم محمد ﷺ کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ صورت پرست اور وہ پرستوں کی سوچ اسی حد تک ہوتی ہے۔
اونٹنی کا معجزہ
پہلے تو قوم ثمود نے صالح (علیہ السلام) کا بشریت کی بناء پر انکار کیا ۔ پھر کہنے لگے فات بایۃ ان کنت من الصدقین گر تو بچا ہے تو کوئی نشانی پیش کر اور نشانی بھی ایسی ہو جو ہم خود طلب کریں ۔ یہ لوگ سنگ تراش تھے پتھروں کے ساتھ ان کو خاص تعلق تھا ، لہٰذا انہوں نے اشانی بھی ایسی طلب کی ۔ کہنے لگے کہ اس سامنے والی چٹان سے ایک اونٹنی نکال کردکھائیں ۔ اس وقت بہت سے لوگ جمع تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے نماز پڑھی اور بارگاہ رب العزت میں دعا کی ۔ چناچہ تمام لوگوں کے سامنے چٹان میں سے اونٹنی پیدا ہوئی ۔ پھر اس نے بچہ بھی جنا ۔ یہ بہت لمبی چوڑی اونٹنی تھی ۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ میں نے وہ مقام دیکھا ہے جس جگہ صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی بیٹھی تھی ، یہ جگہ نوے فٹ مربع ہے ۔ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ ہے یہ نشانی دکھائی ، اونٹنی ادھر ادھر گھومتی پھرتی تھی ۔ دوسرے جانو اس کی شکل و صورت سے گھبراتے تھے۔
پانی پینے کی باری
بہر حال جب وہ اونٹنی چٹان سے برآمدہو گئی تو اللہ کا حکم ہوا قال ھذہ ناقد صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ اونٹنی ہے جو تم نے طلب کی ہے لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم اس کے لیے پانی کی باری ہے اور تمہارے لیے بھی پانی پینے کی باری ہے ایک مقررہ دن پر ایک دن چشمے سے یہ اونٹنی پانی پیا کریگی اور دوسرے دن تم اپنے جانوروں کو سیراب کیا کرو گے ، چناچہ دن مقرر کرلیے گئے ایک دن اکیلی اونٹنی پانی پیتی تھی اور دکوسرے دن باقی جانور ۔ اس آیت سے مفسرین نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر کسی چیز میں بعض لوگوں کا اشتراک ہو تو آپس میں باری مقرر کی جاسکتی ہے مثلاً اگر کسی کا کنواں مشترکہ ہے تو پانی نکالنے کی باری ٹھہرائی جاسکتی ہے کوئی ہو تو ہے تو اس کی سواری یا دودھ وغیرہ کے لیے روزانہ ، ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر باری ٹھہرائی جاسکتی ہے۔
اونٹنی کا قتل
یہ سلسلہ کچھ عرصہ تک چلتا رہا دریں اثناء بعض لوگوں کو خیال پیدا ہوا کہ یہ اونٹنی ہمارے لیے عذاب بن چکی ہے۔ اسے دیکھ کر ہمارے جانور ڈر جاتے ہیں اور پھر یہ ایک دن اکیلی سارا پانی پی جاتی ہے ۔ اس سے کسی طرح چھٹکارا حاصل کرنا چاہئے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے لوگوں کو خبردار کردیا ولا تمسوھا بسوء لوگو ! اس اونٹنی کو برائی کے ساتھ مت چھونا ۔ اس کو بری نیت سے ہاتھ نہ لگانا ، نہ اس کو زخمی کرنا ، اگر ایسا کرو گے فیاخذ کم عذاب یوم عظیم تو تم کو بڑے دن کا عذاب پکڑے گا ۔ تم خدا تعالیٰ کی گرفت میں آ جائو گے ۔ اگرچہ بڑے دن سے مراد قیامت کا دن ہے جب ثواب اور عذاب کا فیصلہ ہوگا ۔ مگر جس دن کسی قوم پر عذاب آیا اس کے لیے وہ بھی برا دن ہوتا ہے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے قوم کو خبردار کیا کہ اس اونٹنی سے تعرض کرسکے کہیں خدا کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجانا۔
سورۃ نمل میں آتا ہے وَ کَانَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَھْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ (آیت : 84) شہر میں غنڈہ قسم کے نو آدمی تھے جن کا کام ہی فتنہ و فساد کا بازار گرم کرنا تھا اور وہ معاشرے میں اصلاح نہیں چاہتے تھے ، ان میں سے سر کردہ آدمی قدار ابن سائف تھے۔ اس اونٹنی کو راستے سے ہٹانے کے لیے ان بد معاشوں کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ شہر میں غنیرہ نامی عورت تھی جس کی کئی جوان بیٹیاں تھیں ۔ اس کی بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں جنہیں اس اونٹنی کی وجہ سے پانی پلانے میں دقت پیش آتی تھی ۔ اس عورت نے قدار ابن سالف سے معاملہ طے کیا کہ اگر وہ اونٹنی کو قتل کر دے تو وہ اپنی لڑکی کا نکاح اس کے ساتھ کردیگی ۔ قدا ر نے اپنے غنڈہ ساتھیوں سے مشورہ کیا اور پھر وہ اونٹنی کی گزر گاہ پر ایک درے میں چھپ کر بیٹھ گئے جونہی اونٹنی وہاں سے گزری فعقرو ھا تو انہوں نے اس کے پائوں کاٹ ڈالے جب اونٹنی گر پڑی تو تمام ساتھیوں نے مل کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ۔ اونٹنی کا بچہ بھی ساتھ تھا ، ماں کو قتل ہوتے دیکھ کر اس نے ایک خوفناک چیخ ماری اور پھر وہ اسی چٹان میں غائب ہوگیا جہاں سے اونٹنی برآمد ہوئی تھی۔
قوم پر عذاب
اونٹنی کے قتل پر صالح (علیہ السلام) نے قوم کو سخت سرزنش کی اور عذاب کی آمد کی پیش گوئی کی ۔ صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہیں تین دن کی مہلت دی گئی ہے اس کے بعد تم پر سخت عذاب آنے والا ہے۔ یہ جان کر فاصبحو ندمین ہ قوم کے لوگ سخت پشیمان ہوئے کہ وہ کیا کر بیٹھے ہیں ۔ یہ پشیمانی توبہ والی نہیں تھی ۔ بلکہ غلط کام کرنے کی محض ندامت تھی اور ان کی اکثریتی جگہ بدستور قائم تھی ۔ جب تین دن گزر گیء فاخذھم العذاب تو ان کو عذاب نے آن پکڑا ، نیچے سے زلزلہ آیا اور اوپر سے سخت قسم کی چیخ آئی ۔ جس سے اس قوم کے سترہ سو شہر اور قصبات ملیا میٹ ہوگئے۔ زلزے سے ان کی عمارات تباہ ہوگئیں ، کچھ ان کے نیچے دب کر مر گئے اور باقیوں کے چیخ کی وجہ سے جگر پھٹ گئے اور وہ سارے کے سارے ہلاک ہوگئے ۔ صرف کم و بیش چار سو افراد بچے جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے تھے ۔ پھر ان کو حکم ہوا کہ وہاں سے چلے جائیں چناچہ صالح (علیہ السلام) اہل ایمان کو لے کر اس اجڑی ہوئی بستی سے نکل گئے۔
نصیحت کی بات
اللہ نے صالح (علیہ السلام) کی قوم کا واقعہ بیان کرنے کے بعد پھر نصیحت والی بات دہرائی ہے ان فی ذلک لایۃ اس واقعہ میں تمام لوگوں کے لیے نشانی ہے سوا وہ مکہ کے رہنے والے ہوں یا دنیا کے کسی خطے سے تعلق رکھتے ہوں سب کو جان لینا چاہئے کہ خدا کے نافرمانوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ان تباہ شدہ قوموں کی عمارت کے کھنڈرات بول بول کر درس عبرت دے رہے ہیں کہ دیکھو اللہ کے نبیوں کی نافرمانی نہ کرنا ، ورنہ تمہارا حشر بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہ ہوگا ۔ ان تمام تر تنبیہات کے باوجود اللہ نے فرمایا۔ وما کان اکثر ھم مومنین اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔ تو حید کو ماننے والے بہت قلیل لوگ ہوتے ہیں ۔ آج بھی دنیا بھر میں دیکھ لیں کل آبادی کا تین چوتھائی کا فر و مشرک ہے جب کہ توحید کے پرستار صرف چوتھا یا پانچواں حصہ ہیں ۔ فرمایا وان ربک لھو العزیز الرحیم بیشک تیرا پروردگار کمال قدرت کا مالک ہے وہ جب چاہے گروت کرلے اور سزا دے دے ۔ وہ انتہائی مہربانی بھی ہے کہ اپنے بندوں کی نہایت ہی خطرناک حالات میں بھی حفاظت کرتا ہے اور ان کو راہ دکھلاتا ہے ، چناچہ اللہ نے صالح (علیہ السلام) کو اور آپ کے ساتھیوں کو اس عذاب زدہ بستی سے چلے جانے کا حکم دیا اور آپ وہاں سے حضر موت کی طرف چلے گئے۔
Ayahs 26:160–175ربط آیات
حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی تسلی کے لیے اس سے پہلے بعض انبیاء علہیم السلام اور ان کی اقوام کا حال بیان ہوچکا ہے۔ گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود کا ذکر تھا کہ کس طرح انہوں نے اللہ کی نبی کی تکذیب کی اور پھر اس جرم کی پاداش میں کس طرح عذاب الٰہی کے مورد بنے ۔ اب آج کے درس میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر ہے کہ انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان پر کس طرح کا عذاب نازل ہوا ۔
لوط (علیہ السلام) کی بعثت
ارشاد ہوتا ہے کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا ۔ ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ سب کا مشن تو ایک ہی رہا ہے۔ ہر نبی اور رسول نے اولین درس یہی دیا یقوم اعبدہ اللہ ما لکم من الہ غیرہ ( الاعراف : 37) لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اذ قال لھم اخوھم لو ط جب ان کے بھائی لو ط (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا ، سابقہ دروس میں مذکور انبیاء (علیہم السلام) کی طرح لوط (علیہ السلام) کی بھی قوم کا بھائی کہا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) تو اپنی اپنی اقوام کے افراد تھے لہٰذا انہیں اپنی اپنی قوم کا بھائی کہا گیا ، مگر لوط (علیہ السلام) کا تعلق تو اس قوم سے نہیں تھا جس کی طرف اللہ نے آپ کو مبعوث فرمایا تھا۔ البتہ آپ نے اس قوم میں شادی کی ۔ عربی محاورے میں کہا جاتا ہے بن اخت القوم منھم یعنی بھانجا ا سی قوم کافر و سمجھا جاتا ہے اگرچہ اس کے باپ کا تعلق دوسرے خاندان سے ہو ۔ ایک موقع پر حضور ﷺ نے انصار مدینہ کو بلا کر پوچھا کہ تم میں کوئی غیر آدمی تو نہیں ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے ، تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ وہ تمہیں میں شمار ہوتا ہے۔ غالباً اسی لحاظ سے یہاں پر لوط (علیہ السلام) کو قوم کا بھائی کہا گیا ہے کہ وہ آپ کی سسرالی قوم تھی ۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چونکہ اللہ نے آپ کو اس قوم کی طرف مبعوث فرمایا ، اس لیے ان کا بھائی کہا گیا ہے ۔ گویا آپ ان کے ہم وطن بھائی بن گئے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بعثت کا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ آپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی بابل سے ہجرت کی ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آپ کی قوم کے لوگوں نے عرصہ حیات تنگ کردیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم دے دیا چناچہ اپنی بیوی سارہ ؓ اور بھیجتے لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بابل سے چل نکلے۔ بابل سے آپ حاران ، پھر مصر اور پھر شام و فلسطین آئے ۔ اس ہجرت کا واقعہ سورة عنکبوت میں مذکور ہے فامن لہ لوط وقالو انی مھا جر الی ربی (العنکبوت 62) اس وقت حضرت لوط (علیہ السلام) ہی ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اور دوسری آپ کی بیوی تھی ۔ چناچہ یہ تینوں ہجرت ک کے جب مصر سے شام و فلسطین کی طرف روانہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور حکم دیا کہ شرق اردن کے علاقے میں جا کر اللہ کا پیغام پہنچائو ۔ اس وقت شرق اردن میں چھ بڑے بڑے شہر سدوم ، عمورہ ، دواسہ اور صعودا وغیرہ تھے جن کی آبادی چار لاکھ سے کم نہ تھی ۔ سدوم کو مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔ یہ علاقہ بڑا سر سبز تھا ، کھیتی باڑی اور باغات عام تھے وسیع پیمانے پر تجارت بھی ہوتی تھی ۔ چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبات بھی موجود تھے ، تو ان لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ۔ بہر حال شرق اردن پہنچ کر لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو مخاطب کیا ۔ سب سے پہلے توحید کی دعوت دی ۔ کفر ، شرک اور معاصی کی قباحت بیان کی اور فرمایا الا تتقون کیا تم ڈرتے نہیں کہ ان قباحتوں کی وجہ سے ایک دن پکڑے جائو گے ۔ آپ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا انی لکم رسول امین میں تمہارے لیے امانت دار روسول ہوں۔ میں تمہیں اللہ کا پیغام بلا کم وکاست پہنچا رہا ہوں ۔ فاتقوا اللہ واطیعون پس اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو ، میں تمہیں خدا کا پیغام بےلوث طریقے پر پہنچا رہا ہوں وما اسئلک علیہ من اجر اور میں اس کام کے لیے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ۔ کیونکہ ان اجری الا علی رب العلمین میرا معاوضہ تو پروردگار عالم کے ذمے ہے۔
مختلف اقوام کی بیماریاں
سابقہ اقوام میں کفر اور شرک تو مشترک بیماریاں تھیں ۔ البتہ ہر قوم میں بعض اخلاقی بیماریاں بھی پائی جاتی تھیں ۔ قوم عاد اور ثمود غرور وتکبر اور ظلم و ستم میں مبتلا تھیں ۔ وہ بےجکا بڑی بڑی عمارتیں ، گنبد اور مینار بناتے تھے ، جن کا کوئی خاص مصرف نہ تھا بلکہ محض نمود و نمائش مطلوب ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بھی بد ترین قسم کے شرک میں مبتلام تھی ۔ یہ لوگ چاند ، سورج اور ستاروں کے پرستار تھے ۔ اس کے علاوہ پتھر کے بت تراش کر ان کی پوجا کرتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے مغرور تھے اور اپنے عقائد و اعمال کے خلاف کوئی بات سننا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ فرعون اور اس کی قوم کا بھی کم و بیش یہی حال تھا ۔ وہ بھی اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا ، جہاں تک لوط (علیہ السلام) کی قوم کا تعلق ہے تو ان میں کفر و شرک کے علاوہ ہم جنسی کی بیماری پائی جاتی تھی ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ یہی لوگ اس بد اخلاقی کے موجد تھے ۔ ان سے پہلے یہ بیماری کسی قوم میں نہیں پائی جاتی تھی۔
ہم جنسی کی بیماری
اسی خلاف وضع فطری عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوط (علیہ السلام) نے قوم سے فرمایا انا تون الذکران من العلمین کیا جہان بھر میں شہوت رانی کے لیے تم مردوں کی طرف دوڑتے ہو ، یعنی تم ہم جنسی کے مرتکب ہوتے ہو ۔ وتذرون ما خلق لکم ربکم من ازواجکم اور تمہاری بیویوں میں سے تمہارے پروردگار نے جو کچھ تمہارے لیے پیدا کیا ہے اس کو چھوڑ دیتے ہو ، مطلب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے شہوت کے فرو کرنے کے لیے تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں ۔ تم ان سے توالتفات نہیں کرتے بلکہ اپنے ہم جنس مردوں کے ساتھ ملوث ہوتے ہو ۔ یہ کتنی خلاف فطرت بات ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بل انتم قوم عدون تم حد سے بڑھنے والے نہایت ہی ظالم لوگ ہو ۔ تم یہ کام انسانیت کی حد سے گزر کر انجام دے رہے ہو ۔ سورة المعارج میں ہے فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْعٰـدُوْنَ (آیت : 13) جو کوئی جائز ذرائع کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ اختیار کرے گا ، تو وہ تعدی کرنے والا ہوگا ۔ اللہ نے منکوحہ بیوی یا شرعی لونڈی کے ذریعے شہوت رانی کو جائز اور حلال قرار دیا ہے۔ باقی تمام ذرائع غیر فطری اور حرام ہیں ۔ چناچہ مشت زنی بھی مکروہ تحریمی میں آتی ہے کہ اس سے کئی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ جانوروں کے ساتھ التفات بھی حرام ہے۔ اپنی بیوی کا مقام مکروہ استعمال کرنا بھی حرام ہے۔ اللہ کے نبی کا فرمان ہے ۔ من اتی امراۃً فی دبرھا فقد کفربما نزل علی محمد ﷺ یعنی جس شخص نے عورت کے مقام مکروہ میں شہوت رانی کی ، اس نے گویا شریعت محمدیہ کا انکار کردیا ۔ یہ اتنا قبیح فعل ہے اور پھر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرنا تو بالکل ہی خلاف فطرت ہے۔ اللہ نے اس کو فحش کے لفظ سے تعبیر کیا ہے زنا اور لواطت دونوں افعال کو فحش کہا گیا ہے۔ بہر حال قوم لوط اسی فعی کی بانی تھی۔
لواطت قابل تعزیر جرم ہے ۔ ائمہ کرام میں قدرے اختلاف ہے کہ اس جرم پر حد جاری ہوگی ۔ یا تعزیر ، بعض لواطت کو بھی زنا شمار کر کے حد زنا کے قائل ہیں۔ جب کہ اما م ابوحنیفہ اور بعض دیگر ائمہ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص پر تعزیر عائد ہوگی جو حاکم وقت جرم کی نوعیت کے اعتبار سے مقرر کرے ، چونکہ فعل خلاف فطرت ہے اس لیے تمام ائمہ کرام سخت ترین سزا کے قائل ہیں جو کہ سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔ صاحب مشکوٰۃ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے جس میں احرقھما کا لفظ آتا ہے یعنی فاعل اور مفعول دونوں کو آگ میں جلا دیاجائے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں ھدم علیھم حائطا ایسے مجرموں کر دیوار کے نیچے کھڑا کر کے اوپر دیوار گرا دی جائے ۔ ، خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں ایسے معاملات پیش آئے تو انہوں نے اپنی اپنی صوابدید کے مطابق تعزیز لگائی کیونکہ اس جرم کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ قوم لوط سے پہلے یہ فعل شینع کسی قوم میں نہیں پایا جاتا تھا۔ اس کے بعد یہ عام ہوگیا حتیٰ کہ برطانوی پارلیمنٹ نے یہ قانو پاس کردیا ہے کہ اگر دو بالغ مرد باہمی رضا مندی سے اس فعل کا ارتکاب کریں تو ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا اور اگر یہ فعل بالجر کیا جائے تو قابل مواخذہ ہوگا ۔ خنزیر خوری کا یہی خاصہ ہے کہ لوگ بےحیا اور بےغیرت ہوجاتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جرم بہر حال جرم ہے خواہ وہ رضا مند ی سے انجام دیا جائے یا جبرا ً ۔ خدا تعالیٰ نے اس کو بےحیائی سے تعبیر کیا ہے مگر آج دنیا کی کوئی قوم اس سے پاک نہیں ۔ امریکہ ، برطانیہ حتیٰ کہ اسلامی ممالک میں بھی لعنت میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔ ایرانی ، افغانی ، ہندوستان ہر جگہ اس فعل کا ارتکاب ہوتا ہے۔ امام حلبی رقمطراز ہیں کہ پہلی صدی کے آخر تک کسی مسلمان ملک میں کوئی قحبہ خانہ نہیں تھا حالانکہ حضرت عمر ؓ کی حکومت چھتیس لاکھ مربع میل پر محیط تھی ، پھر انگریزوں کے زمانے میں اس فعل کو اتنی ترقی ہوئی کہ اب کوئی ملک بھی اس سے خالی نہیں ہے ۔ خود عرب ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں ۔
قوم کی دھمکی
بہر حال جب لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اس برے کام سے منع کیا قالوا لئن لم تنتہ یلوط کہنے لگے ۔ اے لوط (علیہ السلام) ! اگر تم اپنے اس وعظ و نصیحت سے باز نہ آئے لتکونن من المخرجین تو ہو جائو گے تم نکا لے ہوئے لوگوں میں سے ۔ مطلب یہ کہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی سے باز آ جائو ورنہ ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ سورة الاعراف میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جب لوط (علیہ السلام) نے انہیں منع کیا تو قوم کا جواب یہ تھا۔
اَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ قَرْیَـتِـکُمْج اِنَّھُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ (آیت 28) ان کو اپنی بستی سے نکال دو ، یہ بڑے پاکباز لوگ بنے پھرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نجس کام کرتے ہیں قال انی لعملکم من القائلین لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے اس عمل سے سخت نفرت کرتا ہوں ۔ دین اور اخلاق کے خلاف چیزوں کو تو بد فطرت انسان ہی اچھا سمجھ سکتے ہیں ۔ سلیم الفطرت آدمی تو کبھی بھی ایسے کاموں سے مانوس نہیں ہو سکتا ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ خلاف وضع فطری عمل کے دو نقصانات ہیں ۔ ایک تو افلاح فطرت ہوگا یعنی لوگ فطرت سے باہر نکل جائیں گے اور یہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے ، اور دوسرا یہ کہ واجبی ارتقا قات خراب ہوجائیں گے ۔ نکاح کا عمل انسانوں کے فائدے کے لیے واجبی ارتفاق ہے اگر کوئی شخص عورت سے نکاح کی بجائے مردوں یا جانوروں کے ساتھ شہوت رانی کرنے لگے تو نکاح کا سلسلہ درہم برہم ہوجائے گا ۔ اور اس طرح بقائے نسل کا سلسلہ خراب ہوجائے گا اسی لیے لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے اس عمل سے متنفر ہوں۔
دعائے لوط (علیہ السلام)
اس موقع پر لوط (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں دعا بھی کی عرض کیا رب نجنی واھلی مما یعملون پروردگار ! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کاموں سے نجات دے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ہمیں اس کام اور اس کے نتیجے میں آنے والے عذاب سے بچالے ۔ لوط (علیہ السلام) اللہ کے پاک نبی سے تو کسی برے عمل کی توقع ہو ہی نہیں سکتی تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ اس کا م کی نحوست سے بچا ، چناچہ ایسا ہی ہوا ، اللہ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور فرمایا فنجینہ واھلہ اجمعین ہم نے لوط (علیہ السلام) اور آپ کے گھر والوں سب کو نجات دی یعنی اس سزا سے بچا لیا جو اس قوم پر نازل ہوئی ۔ فرمایا لا عجوزا فی الغبرین ایک بڑھیا اس عذاب سے نہ بچ سکی جو پیچھے رہنے والوں میں تھی ۔ یہ لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی طرف اشارہ ہے جو لوط (علیہ السلام) کے ہمراہ بستی سے نہیں گئی تھی بلکہ قوم کے ساتھ پیچھے ہی رہ گئی تھی ۔ لہٰذا وہ بھی عذاب کا شکار ہوگئی حالانکہ لوط (علیہ السلام) کے اہل خانہ میں سے تھی ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ بیوی تھوڑی دور تک آپ کے ہمراہ نکلی تھی ۔ مگر پھر پلٹ آئی ، اللہ تعالیٰ نے دو کافرہ عورتوں کا ذکر قرآن پاک میں کیا جو اس کے پاک انبیاء کے گھروں میں تھیں ۔ یہ حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہما السلام) کی بیویاں تھیں کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰـہُمَا (التحریم : 01) یہ دونوں عورتیں ہمارے دو صالح بندوں کے گھروں میں تھیں مگر انہوں نے ان کے ساتھ خیانت کی ۔ یعنی ایمان سے خالی تھیں اور انہوں نے انپے شوہروں کا ساتھ دینے کی بجائے کافروں کا ساتھ دیا ۔ البتہ لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں ایماندار تھیں ۔ انہوں نے آپ کے ساتھ بستی کو چھوڑ دیا اور عذاب الٰہی سے بچ گئیں۔
قوم کی تباہی
لوط (علیہ السلام) اور آپ کے اہل خانہ کے بستی سے نکل جانے کا حکم سورة ہود میں اللہ نے ذکر کیا ہے فاسر باھلک بقطع من الیل (آیت : 18) اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کچھ حصے میں نکل جائو ، چناچہ جب آپ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بستی سے نکل گئے تو فرمایا ثم دمرنا الاخرین ہم نے باقی قوم کو ملیا میٹ کردیا ۔ اللہ نے اس قوم کو ایستی تاریخی ہولناک سزا دی جو ہمیشہ یا د رکھی جائے گی ۔ بستیوں کو اس طرح الٹ دیا کہ نیچے والا حصہ اوپر اور اوپر والا نیچے آ گیا ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ وامطرنا علیھم مطرا ہم نے ان پر بارش بھی برسائی اور یہ بارش پانی کی نہیں بلکہ پتھروں کی بارش تھی ۔ سورة الحجر میں ہے وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل ( آیت : 47) ہم نے ان پر کھنگر کے پتھر برسائے جن پر مجرموں کے نام لکھے ہوئے تھے کہ یہ فلاں چودھری کے سر پر لگے گا ۔ اور یہ فلاں وڈیروے کو ہلاک کر دیگا ۔ فرمایا ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی فساء مصر المنذرین ڈرائے ہوئے لوگوں کی بہت ہی بری بارش تھی ۔ خدا نے ساری قوم کو ہلاک کردیا ۔ ان فی ذلک لایۃ اس واقعہ میں عبرت ہے ۔ اہل مکہ اور بعد میں آنے والوں کو بھی جان لینا چاہئے کہ بد کاری کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔ وما کان اکثر ھم مومنین مگر مقام افسوس ہے کہ اتنی واضح نشانی کے باوجود ان میں اکثر لوگ ایمان سے خالی ہیں وان ربک لھو العزیز الرحیم اور بیشک تیرا پروردگار زبردست ہے جو کسی نافرمان کو چھوڑتا نہیں اور نہایت مہربان ہے جو اپنے بندوں کو ہر مصیبت سے محفوظ رکھنے پر بھی قادر ہے۔