Ayahs 26:210–223ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے شعرو شاعری کی ایک قسم پر محمول کرتے ہیں بعض یہ بھی کہتے تھے کہ جناب اور شیاطین آ کر یہ قرآن پیغمبر کو سکھلاتے ہیں آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی زعم باطل کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ شیاطین یا جنات قرآن نہیں بنا سکتے اور نہ ہی انہوں نے یہ اتارا ہے ۔ مشرک لوگ محض اپنی حماقت اور عناد کی بنیاد پر ایسا کہتے ہیں۔
شیاطین کی دخل اندازی
ارشادہوتا ہے وما تنزلت بار الشطین اور اس قرآن پاک کو شیطان نہیں اتارتے ۔ نزول قرآن کے سلسلے میں اس رکوع کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے وانہ لتنزیل رب العالمین ( آیت 29) یہ تو پروردگار عالم کا نزول کردہ ہے ، لہٰذا اس میں شیاطین کی دخل انداز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ فرمایا وما ینبغی لھم شیطانوں کے تو یہ لائق ہی نہیں ہے کہ وہ قرآن اتار سکیں وما یسطیعون اور نہ وہ ایسا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔ ان کے تو بس کی بات ہی نہیں ہے۔ قرآن کا نزول تو درکنار انھم عن السمع المعزولون شیاطین کو تو اس جگہ سے بھی دور رکھا جاتا ہے۔ جہاں سے قرآن سنا جاسکتا ہے ۔ ان کو تو قریب تک نہیں پھٹکنے دیا جاتا ، لہٰذا نزول قرآن ان کے ساتھ کیسے منسوب کیا جاسکتا ہے ؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیاطین کا کلام تو شر و فساد پر مبنی ہوگا ۔ جس سے لوگوں کے افکار خراب ہوں اور عقید سے جڑیں ، شیاطین کا تو کام ہی اخلاقی ، بد اعمالی ، فحاشی ، بدکاری اور لڑائی جھگڑاپیدا کرنا ہے ۔ اس کے بر خلاف اللہ کا پاک کلام پڑھنے سے فکر صحیح اور عقیدہ درست ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاق و اعمال اچھے ہوتے ہیں اور وہ شر و فساد سے دور رہتے ہیں ۔ گویا تلاوت قرآن پاک بہترین نتائج پیدا کرتی ہے۔ اس کے پڑھنے والوں میں نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ یہ قرآن پاک کی اثر انگریزی تھی کہ دنیا میں صحیح خلافت قائم ہوئی جس کے ذریعے بہترین نظام حکومت قائم ہوا ۔ چناچہ اسلامی معیشت و معاشرت ، تجارت اور صنعت ایسے اصولوں پر قائم ہوئی جس کی مثال آج تک دنیا پیش نہیں کرسکی۔
قرآن کی حقانیت کا اعتراف
خلافت راشدہ خصوصاً پہلے دو خلفائے راشدین ؓ کے قائم کردہ نظام کی پوری دنیامعترف ہے ، دنیا کے تمام مسلم اور غیر مسلم سائنسدانوں ، مؤرخ اور دانشور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس قسم کا بہترین نظام حکومت دنیا میں کہیں نظر نہیں آتا ۔ مہاتما گاندھی برصغیر کی جانی پہچانی شخصیت گزری ہے۔ بڑی عبادت و ریاضت کرنے والا آدمی تھا اگرچہ وہ کٹر ہندو تھا ، مگر دوسرے مذاہب کو سچا مانتا تھا۔ مصنف مزاج تھا ، انجیل قرآن اور دیدوں کو بھی بچا تسلیم کرتا تھا۔ انگریز کے زمانے میں جب پہلی دفعہ ہندوستان میں وزارت بنی تو گاندھی نے ہندوستانی وزراء کو نصیحت کی تھی جس کے الفاظ تاریخ میں محفوظ میں ۔ اس نے کہا تھا کہ اگر دنیا میں کامیابی چاہتے ہو تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ جیسا نظام قائم کرو۔ ظاہر ہے کہ ان خلفاء کا قائم کردہ نظام معیشت ، معاشرے اور عدل قابل رشک تھا جسکی مثال دنیا پیش نہیں کرسکی ، یہ نظام قرآن کا پیدا کردہ تھا ۔ اس کی تعلیمات کا اثر تھا ۔ اس کے بر خلاف بھلا شیاطین کا کلام تو کفر و شرک ، بد اخلاقی اور فحاشی ہی پیدا کرسکتا ہے ، امریکی ، روسی ، برطانوی ، چینی ، سب شیطانی نظام ہائے حکومت ہیں ، جن سے ظلم وتعدی ، بدکاری ، لہو و لعب اور ناانصافی ہی نشونما پا سکتی ہے۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔ آج مادی ترقی کا بڑا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ مگر دوسری طرف انسانیت جہنم کے گڑھے میں جا رہی ہے۔ عقل معاش ترقی پر ہے مگر عقل معاد کا جنازہ نکل چکا ہے ، چند عیش پرستوں کے سوا باقی دنیا تنگدستی میں مبتلا ہے کمزوروں پر ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے لہٰذا اس کو حقیقی ترقی پر محمول انہیں کیا جاسکتا ۔ اصلی ترقی وہی ہوگی جو اللہ کا قرآن پیش کرے گا ۔ تو فرمایا کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے جسے مقدس ترین فرشتہ لے کر نازل ہوا ہے۔ اس قرآن کا نزول پوری کائنات میں پاکیزہ ترین قلب محمدی پر ہوا ہے۔ اس کو شیاطین نہیں اتار سکتے اور نہ ہی یہ ان کے لائق ہے ، وہ تو اس کو سننے سے بھی عاجز ہیں ۔ جب قرآن پاک کا نزول ہوتا ہے تو پہرے بٹھادیئے جاتے ہیں تا کہ شیاطین میں دخل اندازی نہ کرسکیں ، لہٰذا مشرکین کا یہ دعویٰ لغو ہے کہ یہ قرآن پاک جنات اور شیاطین اللہ کے نبی کو سکھاتے ہیں۔
توحید کی اہمیت
میں نے کل کے درس میں عرض کیا تھا کہ قرآن پاک کے چار اہم مضامین توحید ، رسالت معاد اور قرآن کی حقانیت و صداقت ہیں ۔ ان میں سے توحید باری تعالیٰ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے توحید کی تعلیم کو قرآن پاک میں بار بار دہرایا گیا ہے۔ توحید ہی دین کا مرکز و محور ہے جس کے گرد پورے دین کی عمارت گھومتی ہے ۔ اگر یہی اصول بگڑ گیا تو اسلام کی عمارت کا کوئی حصہ درست نہیں رہے گا اور ساری عمارت ویران ہوجائے گی ، چناچہ یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے فلا تدعع اللہ الھا اخر کسی دوسرے کو اللہ کے ساتھ معبود نہ پکارو ۔ اگر ایسا کرو گے فتکون من المعذبین پس ہوجائیں گے آپ سزا یافتہ لوگوں میں سے اللہ نے مختلف سورتوں میں شرک کی سختی کے ساتھ تردید فرمائی ہے ۔ کہیں فرمایا کہ اگر خدا کے ساتھ کسی کو شریک بنائو گے تو ملعون اور ذلیل ہو کر رہ جائو گے ۔ کہیں فرمایا کہ جکہنم کے مستحق ٹھہرو گے ، اور کہیں خدا کی ناراضگی کا ذکر کیا ہے۔ غرضیکہ توحید ایک ایسا معاملہ ہے جس میں کسی طرح بھی رخنہ اندازی نہیں ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدہ لا شریک سمجھنے کے معاملہ میں ذرا بھر بھی رعایت نہیں رکھی گئی ۔ اخلاق و اعمال کے بارے میں تو کسی حد تک رعایت دی جاسکتی ہے مگر عقیدے کی خرابی کے معاملہ میں رعایت کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ (الانعام : 38) اس ان لوگوں کو ملے گا اور ہدایت یافتہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ایمان میں ظلم یعنی شرک کی ملاوٹ نہیں کی ۔ اگر ایمان میں کفر ، شرک یا نفاق کی ملاوٹ ہے تو وہ ناقابل برداشت ہے ۔ الٰہ صرف وہی ہے جو واجب الوجود ، قادر مطلق ، علیم کل ، مختار مطلق ، نافع اور ضار ہے ۔ جو ہر ایک کی مراد پوری کرنے والا اور ہر دکھ درد کو دور کرنے والا ہے اس کے علاوہ کسی کی عبادت روا نہیں ۔ کوئی بھی تکلیف آنے خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو مت پکارو کہ یہ بھی عبادت میں داخل ہے۔ اللہ کی ذات ، اس کی صفات یا اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائو ، ورنہ تم سزا یافتہ لوگوں میں ہو جائو گے ۔ اللہ کا واضح اعلان ہے ۔ اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ (النسائ : 84) اللہ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں کریگا ، اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف فرما دے اللہ تعالیٰ نے یہ اہم ترین مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے۔
تبلیغ کا آغاز گھر ہے
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کے سلسلے میں آیات اصول بیان فرمایا ہے وانذر عشیرتک الا قربین اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا دیں ۔ تبلیغ کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ایک بہت بڑا اصول ہے۔ شاہ عبد القادر (رح) لکھتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے سارے قریش کو اکٹھا کیا ۔ بخاری شریف 1 ؎ میں آتا ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی ، بیٹی اور چچا کو بھی خطاب کیا ۔ آپ نے عمومی خطاب بھی کیا اور خصوصی بھی ۔ آپ نے خبردار کیا انقو وانفسکم من لنارا اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ انی لا املک لکم من اللہ شیئا میں اللہ کے سامنے تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔ پھر فرمایا سلونی من مانو تم مجھ سے مال تو طلب کرسکتے ہو ، مگر میں تمہیں جہنم کی سزا سے انہیں بچاسکوں گا ، لہٰذا اپنی فکر آپ کرلو ۔ آپ کوہ صفا پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا یاصبا حاہ یہ نعرہ عرب نہایت خطرے کے موقع پر لگایا کرتے تھے جب یہ آواز سن کر چالیس کے قریب آدمی جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا اے لوگو ! اگر میں تم کو خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے تمہارا دشمن ہے جو تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات پر یقین کر لوگے ؟ لوگوں نے کہا کہ ہاں ملجربنا علیک کذبا ً ہم ضرور یقین کرلیں گے کیونکہ ہم نے کبھی آپ پر جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا یعنی آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر میں تمہیں خبردار کرتا ہوں ، کہ بڑے عذاب سے پہلے اپنے آپ کو بچا لو اور قولو الا الہ الا اللہ تفلحوا کہ کلمہ طیبہ پڑھ لو ، فلاح پا جائو گے ۔ اس پر قریش سخت برہم ہونے اور سب سے پہلے ابو لہب نے کیا تبت لک الھذا جمعتنا تمہاری تباہی ہو ، کیا اس مقصد کے لیے ہمیں جمع کیا تھا ؟ غرضیکہ کسی نے آپ کی بات نہ مانی اور منتشر ہوگئے۔
مرکزیت کی ضرورت
اصلاح کا آغاز اپنے قرابت داروں سے کرنے کا اصول بالکل طبعی ہے اس
1 ؎۔ بخاری ص 307 ج 2 و مسلم ص 411 ج 1 ۔ 2 ؎۔ بخاری ص 347 ج 3 و مسلم ص 41 ج 1 ( فیاض)
اصول کے ذریعے جب اپنے گھر والوں کو پھر عزیز و اقربا کی اصلاح ہو جائیگی تو اصلاح عالم کے لیے ایک بنیاد فراہم ہوجانے کی جسے مرکز بنا کر تبلیغ واصلاح کا دائرہ وسیع کیا جاسکے نہ حضور ﷺ نے بھی خطہ عرب کو ایک مرکز کی حیثیت دے کر دین حق کو آگے پھیلانے کا پروگرام بنایا ، چناچہ آپ نے نصیحت فرمائی نہ اس سر زمین میں اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین باقی نہیں رہے گا ۔ آپ کی آخری وصیت یہی تھی اخرجوا الیھود والنصاری من جزیرۃ العرب یعنی یہود و نصاریٰ کو سر زمین عرب سے نکال باہر کرو ۔ جب یہاں کا ماحول درست ہوجائے گا تو پھر باہر سے آنے والا بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا ۔ جب ایران کے ساتھ قادسیہ کے مقام پر شدید جناب ہو رہی تھی تو حضرت عمر ؓ نے بنفس نفیس وہاں جا کر جنگ میں شریک ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ اس سے پہلے آپ دو دفعہ شام کا سفر کرچکے تھے ، مگر حضرت علی ؓ نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ خود ایران تشریف نہ لے جائیں بلکہ یہاں مرکز اسلام میں بیٹھ کر ایک قطب (چکی کا مرکزی کیل) کی طرح ملک کی چکی کو چلائیں اگر آپ نے مرکز کو چھوڑ دیا تو کوئی دشمن سازش کر کے فتنہ و فساد نہ برپا کر دے لہٰذا بہتر ہے کہ آپ مرکز کی مضبوطی کا خیال رکھیں ۔ حضرت عمر ؓ نے اس رائے کو پسند کیا اور مرکز میں بیٹھ کر ایران کی جنگ لڑی ۔ آپ وہیں سے ہدایات بھیجتے رہے۔ قادسیہ کی یہ مشہور جنگ تین دن اور تین رات تک مسلسل جا رہی ہیں۔ بالآخر اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی اور ایرانی مجوسیت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔
اصلاح کے لیے نمونے کی ضرورت
جب کسی ملک کا ماحول اصلاح یافتہ بن جائے تو وہ ملک بیرون ملک عوت کے لیے بھی مرکز اصلاح بن سکتا ہے اور اگر اپنے ہی ملک میں گندگی ہوگی تو دوراں کو اصلاح کی دعوت کیسے دی جاسکے گی ۔ یہاں کے ایک طالب علم نے سویڈن کے حالات بیان کیے ۔ وہ وہاں پر ڈیڑھ سال تک ٹریننگ حاصل کرچکا تھا۔ میں نے پوچھا کہ تم نے وہاں کے لوگوں ک بھی کبھی اسلام کی دعوت دی ۔ تو وہ کہنے لگا ، ہاں ! اپنے دوستوں میں تبلیغ کا آغاز کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تم تو غلام ملک کے باشندے ہو ۔ کیا اسلام پیش کر کے ہمیں بھی غلام بنانا چاہتے ہو ؟ ایک اور دوست جو مصر اور مشرق وسطی کادورہ کرچکا تھا کہنے لگا کہ ان ممالک میں چور رہتے ہیں ۔ اسلام قبول کر کے کیا ہم بھی چور بن جائیں ! اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ خود ہمارے ملک میں کتنے چور ہیں ۔ ان کو دیکھ کر کون مسلمان ہوگا ؟ جہاں تک غلامی کا تعلق ہے کچھ مسلمان روس کے غلام ہیں ، اور کچھ امریکہ کے پہلے ہم برطانیہ کی غلامی میں تھے۔ اب امریکہ کی جھولی میں ہیں ۔ نہ ہماری سیاست آزاد ہے ، نہ معیشت اور نہ معاشرت ، ہماری ٹیکنالوجی وہاں سے آتی ہے ، ان کے مشیر ہمیں مشورہ دیتے ہیں تو پلان بنتے تھے۔ بحیثیت غلام ہماری کوئی وقعت نہیں ۔ علامہ اقبال (رح) نے بڑا زور دیا کہ اپنے مقام پر پہنچو گے تو دنیا میں عزت پائو گے ورنہ ذلیل و خوار ہی ہوتے رہو گے ۔ مطلب یہ ہے کہ اصلاح عالم کے لیے پہلے خود نمونہ بنو گے تو دعوت آگے بڑھے گی ورنہ کوئی شخص تمہاری بات سننا بھی گوارا نہیں کریگا ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی وجہ سے قریش کو سعادت بخشی۔ یہ لوگ ایمان لا کر آپ کے دست وبازو بنے ۔ پھر ان کے ساتھ انصار کی جماعت مل گئی ۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار مل کر ایک مرکزی جماعت بن گئے اور دعوت نے آگے بڑھنا شروع کردیا ۔ یہی لوگ اہل حل و عقد تھے اس کی رائے سے دنیا بھر کے معاملات طے ہونے لگے ۔
حضور ﷺ کی نرم مزاجی
آگے ارشاد ہوتا ہے ، اے پیغمبر ﷺ ! واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین آپ اپنے بازو اپنے متبعین کے لیے پست کردیں ان لوگوں میں ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ نبی کی حیثیت سے تو آپ بالمومنین رئوف رحیم ( التوبہ : 831) فرمایا بحیثیت حاکم اور امیر جماعت بھی آپ اہل ایمان کے ساتھ نرمی اختیار کریں ۔ درستگی اور سختی کی بجائے افہام و تفہیم کو اصول بنائیں ۔ البتہ جب کوئی اللہ کی حدود کو توڑے تو پھر وہ سختی کا مستحق ہے وگرنہ حضور ﷺ سے زیادہ نرم مزاج دنیا میں کوئی نہ تھا ، حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص حدود اللہ کو توڑتا تو آپ کو ایسا غصہ آتا کہ کوئی بھی آپ کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا تھا۔ آپ مظلوم کو اس کا حق دلائے بغیرچین سے نہیں بیٹھتے تھے ، لیکن عام حالات میں جو بھی آپ کے قریب آتا ہے آپ سے محبت کرنے لگتا ، تو فرمایا کہ آپ پست کردیں اپنا بازو ان کے لیے جنہوں نے آپ کا اتباع کیا مومنوں میں سے فان عصوک پھر اگر وہ آپ کی نافرمانی کریں فقل انی بری مما تعملون تو آپ کہہ دیں کہ میں تمہارے ان اعمال سے بیزار ہوں ، میں ان کا ذمہ داری ہوں ۔ فرمایا و توکل علی العزیز الرحیم ہر حالت میں خدا نے عزیز و رحیم پر بھروسہ رکھیں ۔ وہ خدائے ذوالجلال الذی یراک حین تقویم جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ عبادت کے لیے رات کو تنہا کھڑا ہوتے ہیں اور وہ آپ کو اس وقت بھی نگاہ میں رکھتا ہے ۔ وتقلبک فی السجدین جب آپ پیٹتے ہیں سجدہ کرنے والوں میں یعنی جس وقت با جماعت عبادت الٰہی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر کیفیت سے واقف ہوتا ہے نہ ھو السمیع العلیم بیشک وہ خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے۔
نزول شیاطین
اس درس کی ابتدائی آیت میں بتلایا جا چکا ہے کہ اس قرآن پاک کو نازل کرنے والے شیاطین ہرگز نہیں ، نہ ہی وہ ایسا کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اب اسی بات کو دوسرے انداز میں بیان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ھل انبئکم علی من تنزل الشیطین وہ کیا ہیں آپ کو کیا میں آپ کو نہ بتلائوں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں ؟ تنزل علی کل افاک اثیم وہ توبہ جھوٹے اور گناہ گار شخص پر اترتے ہیں ۔ شیاطین کسی سنی سنائی بات کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر کاہن اور نجومی کے کان میں ڈال دیتے ہیں جو فیس لے کر آگے کو خبریں بتاتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی سچی ہوگئی تو بس مشہوری ہوگئی اور حبال کا ٹولہ پیچھے چل پڑا ۔ فرمایا یلقون السمع وہ سنی سنائی بات ڈال دیتے ہیں واکثرھم کذبون اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں ۔ شیاطین کی حیثیت تو یہ ہے ۔ بر خلاف اس کے اللہ کا نبی تو پاک ہوتا ہے ، اس کا اخلاق بہترین ہوتا ہے ، اس کا دل پاکیزہ ہوتا ہے اور وہ بہترین صلاحیت کا حامل ہوتا ہے جس پر اللہ کی طرف سے مقرب ترین فرشتہ قرآن لے کر نازل ہوتا ہے ، بھلا شیاطین کی کیا مجال کہ وہاں دم مار سکیں ، ان کا دائو تو جھوڑے اور گناہ گار شخص پر چلتا ہے۔
Ayahs 26:224–227ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر تسلی کا مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ مختلف انبیاء علہیم السلام اور ان کی قوموں کا حال بیان کر کے قوموں کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والے دل برداشتہ نہ ہوں اور جان لیں کہ اہل حق کو ہمیشہ ایسی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں ، تا ہم انجام ہمیشہ انہیں کا اچھا ہوتا رہا ہے اور نافرمان ناکامو نامراد ہی رہے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی چار بنیادی مسائل بیان ہوئے ہیں یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت صداقت ، گزشتہ درس میں صداقت قرآن کا بیان تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بےمثال علام ہے اور ایسا کلام نازل کرنا شیاطین کی قدرت میں نہیں ہے ۔ اس کو اتارنے والا رب العالمین لانے والا روح الامین اور جس ہستی کے قلب مبارک پر نازل ہوا ہے وہ پوری مخلوق میں لطیف پاکیزہ اور اعلیٰ قدروں کی حامل ہے ۔
شعرو شاعری کی نفی
مشرک لوگ حضور ﷺ کے متعلق طرح طرح کی باتیں کرتے تھے کبھی کاہن کہتے کبھی جادوگر اور کبھی شاعر ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سے شاعری کی نفی کی ہے ۔ شعر و شاعری کے رموز سے واقف لوگ خود بھی اقرار کرتے تھے کہ قرآن پاک کو شعر و شاعری پر محمول نہیں کیا جاسکتا ، چناچہ حضر ت ابو ذر غفاری ؓ کے بھائی انیس ؓ جو خود بہت بڑے شاعر تھے ۔ انہوں نے اپنے بھائی کے پاس یہ رپورٹ پیش کی جو کہ حدیث میں موجود ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے نبی (علیہ السلام) کا پیش کردہ کلام سنا ہے ، یہ کاہنوں والا کلام نہیں کیونکہ بحیثیت کاہن میں خود بھی ان کے کلام سے واقف ہوں ۔ پھر کہتے ہیں ولقد و ضعتہ علی اقراء الشعراء میں نے اسے شاعروں کے اوزان پر بھی پرکھا ہے مگر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ کسی شاعر کا کلام بھی نہیں ہے ، بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے جو اس کے علم کے ساتھ نازل کیا گیا ہے ، گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یہ شیاطین کا کلام بھی نہیں ہے کیونکہ ان کا کلام تو شر و فساد پر مبنی ہوتا ہے جب کہ یہ کلام نہایت ہی اعلیٰ وارفع کلام ہے جو رشد و ہدایت سے بھر پور اور امن و سلامتی کا پیغام ہے۔
شعر و شاعری کی حقیقت
شاعری ایک فن ہے جو قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے ۔ شاعری ہر زبان کا موضوع سخن رہا ہے خصوصاً عربی زبان میں تو یہ پایہ عروج پر تھی جب قرآن کا نزول ہو رہا تھا ۔ عربی کے سینکڑوں اور ہزاروں بڑے بڑے شعراء گزرے ہیں جن کا ذکر تاریخ میں موجود ہے فارسی زبان میں شاعری کو عروج نزول قرآن کے کافی عرصہ بعد حاصل ہوا ۔ فارسی زبان میں بڑے بڑے شعراء پیدا ہوئے ہیں ۔ اسی طرح انگریزی زبان کے بھی بڑے پائے کے شعراء گزرے ہیں ۔ شعر و شاعری کا شغف ہر زمانے میں رہا ہے اور آج بھی ہے شاعر شعور سے مشتق ہے جس کا معنی سمجھ بوجھ ہوتا ہے ۔ کسی حقیقت کو عام آدمی سمجھ تو سکتا ہے مگر اسے موثر طور پر بیان نہیں کرسکتا ، شاعر میں یہ ملکہ موجود ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماضی الضمیرکو نہایت موثر انداز میں شعار کو زبان میں پیش کرسکتا ہے ۔ شعر اس لیے بھی پسند ہوتا ہے کہ ایک شاعر اپنی زبان میں دوسرے لوگوں کی ترجمانی کرتا ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) شعر و شاعری کی تعریف میں کہتے ہیں اصوات مقطعہ بازاء معان متنوعۃ یہ موزوں آوازیں ہوتی ہیں جو طرح طرح کے معانی پر مشتمل ہوتی ہے ۔ شعر میں وزن ، قافیہ اور ردیف ہوتا ہے جس کی وجہ سے نثر کی نسبت شعر میں زیادہ کشش پائی جاتی ہے ۔ البتہ اس ضمن میں اصولی بات یہ ہے الشعر کلام حسنہ حسن و قبیحہ قبیح شعر ایک کلام ہے جس کا اچھا حصہ اچھا ہے اور برا حصہ بہر حال برا ہے ۔ اشعار میں اچھے اور برے دونوں عناصر پائے جاتے ہیں اور دونوں طرح کے خیالات کو منظوم کیا جاسکتا ہے۔
عمومی شاعری کی قباحتیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری پر عمومی تجزیہ فرمایا ہے جسے شعر و شاعری کا نچوڑ کہا جاسکتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے والشعراء یبعھم الغاون اور شاعروں کے پیچھے چلنے والے اکثر گمراہ لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ نے یہاں پر اس فن کے تین نقائص بیان فرماتے ہیں ، پہلا نقص تو یہی ہے کہ اس کے متبعین اکثر گمراہ لوگ ہوتے ہیں اور دوسرا نقص یہ ہے الم ترانھم فی کل وادیھیمون کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ شاعر لوگ تخیلات کی ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ طرح طرح کے تخیلات باندھتے ہیں اور ایسی بےتکی باتیں کرتے ہیں جن کی کوئی جڑ بنیاد نہیں ہوتی بلکہ خیالی گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں ۔ اللہ نے اس فن کا تیسرا عیب یہ گنوایا ہے وانھم یقولون مالا یفعلون شاعر لوگ وہ کچھ کہتے ہیں جو خود نہیں کرتے ، گویا ان کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے ۔ عام طور پر شاعر لوگ نشر باز ہوتے ہیں اور اخلاق سے گری ہوئی حرکات کرتے ہیں ۔ ان کے کام میں بالعموم عشق و محبت کی داستانیں ہوتی ہیں ۔ وہ بھی اسی لیے فرمایا کہ ان کے پیچھے چلنے والے بھی بالعموم گمراہ لوگ ہوتے ہیں جو سچ اور جھوٹ میں امتیاز کرنے سے عاری ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جس چیز کی بنیاد ہی جھوٹ اور وہم پر ہو اس کا اتباع گمراہی کے سوا کیا ہو سکتا ہے ؟ مگر فی الواقعہ کوئی شاعر جس قدر جھوٹا اور بےسرو پا خیال باندھتا ہے وہ اسی قدر زیادہ داد پاتا ہے ۔ بزرگان دین کا قول بھی ہ چواکذب وست احسن دست یعنی جس قدر کوئی جھوٹی بات ہوگی۔ اسی قدر وہ اچھی محسوس ہوگی۔ جس شعر میں ہوائی گھوڑے زیادہ دوڑائیگئے ہوں ، وہ زیادہ اچھا لگتا ہے ، یا جس قدر خلاف واقعہ اور اخلاق سے گر ی ہوئی بات ہوگی ، اسی قدر داد کے ڈونگر سے برسائے جائیں گے۔ جاہلیت کے زمانے کا امر القیس بڑا مشہور و معروف شاعر گزرا ہے اس کا باپ بنی اسد کا بادشاہ تھا ، یہ شہزادگی کے زمانے میں شعر و شاعری اور عشق بازی کی طرف راغب ہوگیا شراب نوشی بھی کرتا تھا ، اس لیے اس کا لقب ہی ملک الضلین مشہورہو گیا ۔ یعنی گمراہ بادشاہ وحیر عام شاعروں کی طرح اس کے قدر میں بھی فحش اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں پائی جاتی ہیں ، اس وجہ سے اس کا مذکور لقب مشہور ہوگیا ۔
………
شاعر متنبی چوتھی صدی میں مسلمانوں کے دور کا مشہور شاعر ہوا ہے ۔ اس نے ابتداء میں نبوت کا دعویٰ بھی کیا مگر جب سخت پٹائی ہوئی تو تائب ہوگیا ۔ شعراء کے اکثر دیوانوں کی طرح متنبی نے کلام میں بھی فحش اور اخلاقی لحا ظ سے کمزورباتیں پائی جاتیں ہیں ظاہر ہے کہ ایسی باتوں کو پسند کرنے والے لوگ بھی اخلاقی لحاظ سے ویسے ہی ہوں گے ۔ اسی لیے فرمایا کہ شعر والی اکثریت گمراہ ہے اور ان کے متبعین بھی ویسے ہی ہیں ۔ بھلا ایسے کلام کا قرآن پاک کے ساتھ کیا تقابل ہو سکتا ہے ؟ قرآن پاک کے قاری تو کمال درجے کے با عمل ہوتے ہیں جب کہ شعراء کے قول و فعل میں غایت درجے کا تضاد پایا جاتا ہے ۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ ( یٰسین : 97) ہم نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو فن شعر نہیں سکھایا ۔۔۔۔۔ اور نہ ہی یہ اس کے لائق ہے ، گویا شعر و شاعری منصب نبوت کے منافی چیز ہے ۔ نبوت کی بنیاد حق صداقت پر ہے۔ جب کہ شاعری کی بنیاد تخیلات پر ہے ، یہاں جتنا جھوٹا تخیل باندھا جائے گا اتنی ہی شاعری کامیاب سمجھی جائے گی۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) شعر و شاعری کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک شاعر نے اپنے محبوب کا تذکرہ اس طرح کیا ہے ؎
اے رشاب مسیحا تیری رفتار پہ قربان
سو بار میری لاش ٹھوکر سے جلا دی
تخیل کے اعتبار سے یہ بڑا اونچے درجے کا شعر سمجھا جاتا ہے مگر ہے جھوٹ کا پلندہ ، پہلے خود با مردہ تصور کیا ، پھر اپنے محبوب کو اپنی لاش پر سے گزارا گویا کہ وہ اس سراہ پڑتی تھی اور چاہے محبوب کے پائوں کی ٹھوکر لگی تو لاش زندہ ہوگئی ، کیسی فضول اور خلاف واقعہ بات ہے ، اسی طرح ایک عربی شاعر کہتا ہے ؎
لو ضم الی صدر ھا
لم یحمل الی قابر
اگر محبوب اسے اپنی چھاتی سے لگا لے تو کوئی شخص مردے کو قبر کی طرف نہ لے جائے یعنی محبوب کے مس سے مردہ زندہ و جائے اور اسے دفن کرنے کی نوبت نہیں آئے گی ، عام طور پر ایسے ہی بےمرد…باندھے جاتے ہیں ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کسی سفر میں جا رہے تھے ، راستے میں کوئی شاعر بیہودہ شعر گاتا ہوا ملا ، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا خذوالشیطن اس شیطان کو چڑو۔ یہ کیا جیتا جا رہا ہے آنحضرت ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا لان یمتلی لرجل جو فہ فتحا خیر لہ من ان لینشدشغرا اگر کوئی شخص ہے …… تو وہ اس شعر گوئی سے بہتر ہے ۔ حقیقت یہ یہ کہ بد اخلاقی کے اشعار ایسے ہی ہوتے ہیں شاعروں کے پیچھے چلنے والے بھی بےنماز و شراب کے رسد اور بد کردار لوگ ہوتے ہیں جو بلاوجہ واہ واہ کرتے رہتے ہیں ، نہ انہیں فرائض کا خیال ہے ، نہ کوئی اخلاق ہے اور نہ اعمال ہی قابل قبول ہیں ، میں نے خود ایک جیسے میں رحی کہ پچھلی طرف ایک شخص پیشاب بھی کر رہا ہے اور شاعر کو داد بھی دے رہا ہے ۔ بر خلاف اس کے جن لوگوں نے قرآن پاک کو لائحہ عمل بنایا ہے ان کے اخلاق ، اعمال اور کردار اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں ۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں عام شعراء کے تجزیہ میں تین نقائص کا ذکر کیا ہے ۔ اول یہ کہ شاعروں کے پیچھے چلنے والے اکثر گمراہ لوگ ہوتے ہیں جبکہ قرآن پاک پر عمل کرنے والے اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک ہوتے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ شاعر لوگ تخیلات کے سمندر میں ہوائی گھوڑے دوڑاتے پھرتے ہیں جب کہ قرآن کے پیرو کار حقیقت کے متبع ہوتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ شاعروں کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے جب کہ عامل بالقرآن لوگ حقیقت سے سر مو انحراف نہیں کرتے ۔ اس طرح گویا ان آیات کا تعلق سورة کی ابتدائی آیت فلک آیت الکتب المبین سے بھی ہوگیا ۔ وہاں فرمایا تھا کہ یہ کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں اور یہاں پر شعراء کے کلام کی نفی کردی گئی ہے ۔
شعرائے …
عمومی شعراء کے تذکرہ کے بعد اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ متشنیات کا تذکرہ فرمایا ہے اور واضح کیا کہ مذکورہ قباحتوں کے مصداق سو فیصدی شعراء نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں اور ان کا ذکر اس طرح فرمایا ہے الا الدین امنوا مگر وہ لوگ جنہوں نے ایمان قبول کرلیا وعملوالصلحت اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دیئے وذکرو اللہ کثیرا اور انہوں نے کثرت سے اللہ کا ذکر کیا وانتصروا من بعد ما ظلموا اور بدلہ لیا مظلوم بن جانے کے بعد ظاہر ہے کہ ایسے شاعروں کا کلام مبنی بر حقیقت ہوگا ۔ ایسے لوگ نہ تو بےحقیقت خیالی گھوڑے دوڑائیں گے نہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہوگا ، لہٰذ ان کے پیچھے چلنے والے گمراہ بھی نہیں ہوں گے ۔ ان صفات کے حامل بعض شعراء حضور ﷺ کے صحابہ میں بھی موجود تھے ، تین خلفائے راشدین حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، عمر فاروق ؓ اور علی مرتضیٰ ؓ خود شعر کہتے تھے اور ظاہر ہے کہ وہ پوری امت میں سے اکابر صحابہ اور عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں ۔ اسی طرح حسان بن ثابت ؓ کے شعراء میں سے تھے ۔ حضور ﷺ نے خود ان کو کفار کی مذمت میں شعر کہنے کی دعوت دی تھی ۔ آپ نے فرمایا تھا اھجھم وجبریل الامین معک اے حسان ؓ ان کی بجو بیان کرو۔ جبرائیل امین تمہاری تائید میں ہیں چناچہ آپ مسجد نبوی میں کھڑے ہو کر کفار کی مذمت بیان کیا کرتے تھے۔
کعب بن زہیر ؓ بھی بڑے شاعر تھے ۔ بعد میں مسلمان ہوگئے ۔ شماس بن ضرار ؓ شاعر تھے۔ عبد اللہ بن رواحہ ؓ کا شمار اونچے درجے کے شعراء میں ہوتا تھا ، لبید ؓ بھی شاعر تھے مگر اسلام لانے کے بعد انہوں نے شعر گوئی ترک کردی تھی ۔ انہوں نے بڑی لمبی عمر پائی جس میں نوے سالہ جاہلیت کا اور ساٹھ سالہ اسلام کا دور گزرا کہتے تھے اب مجھے شعر و شاعری سے کوئی رغبت نہیں ، مجھے قرآن کافی ہے ، وہی پڑھتا رہتا ہوں ۔ اسی طرح ابو سفیان بھی شاعر تھے ۔ ابتدائی زمانہ میں اسلام کی سخت ترین مخالفت کی ، مگر جب ایمان لے آئے تو آپ اور پورے خاندان نے اسلام کی خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔ آپ شعروں کے ذریعے کفار کی مذمت بیان کرتے تھے ۔ بہر حال اس قسم کے شعراء بہت قلیل تعداد میں تھے جنہوں نے خدمت اسلام کو اپنے شعروں کا موضوع سخن بنایا ، اللہ نے ان کو عمومی شاعروں سے مستثنیٰ فرمایا ہے۔
خط عرب سے باہر بھی بڑے بڑے شعراء ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ صاحب مثنوی مولانا روم کا شمار اسی زمرے میں ہوتا ہے ، انہوں نے اپنے شعروں کے ذریعے علم عقائد بیان کیے ہیں اور بہت سے حقائق نہایت عمدہ پیرائے میں واضح کیے ہیں ، اسی طرح شیخ سعدی (رح) اپنے اشعار کے ذریعے نصیحت کی باتیں بیان کرتے ہیں تو کمال کرتے ہیں ۔ ان کی کتابیں دینی مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہیں ، آپ غزلیات کے بہت بڑے امام تھے ۔ عام بزرگ اور درویش آدمی تھے ، طبیعت میں ظرافت بھی تھی مگر بحیثیت مجموعی آپ کا کلام بہت عمدہ ہے یہاں پر برصغیر میں ڈاکٹر اقبال مرحوم کو قومی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے انہوں نے ملت اسلامیہ کا بڑا دفاع کیا ہے ۔ آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے ، انگریز سے ” سر “ کا خطاب بھی پایا مگر ذہنی طور پر ان کے خلاف تھے ۔ انہوں نے اپنے کلام میں انگریزی تہذیب و تمدن کی بڑی مذمت کی ہے اور مسلمانوں کو بیدار کرنے کی سعی کی ہے مولانا ظفر علی خان کا شمار بھی اعلیٰ پایہ کے شاعروں میں ہوتا ہے ، وہ بھی انگریزوں اور قادیانیوں کے سخت مخالف تھے ، دین و ملت کے دفاع اور انگریزوں اور مرزئیوں کی مخالفت میں آپ کے اشعار کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔ بہر حال فرمایا کہ عام قسم کے شاعروں میں کچھ استثناء بھی ہیں ۔ عام لوگ تو عشق و محبت کے افسانے ہی گھڑتے رہتے ہیں جن سے قوم و ملت کو کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ایسے اشعار سے بےراہ روی ہی فروغ پاتی ہے ۔ البتہ ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ اور کثرت سے ذکر الٰہی کرنے والے شعراء جنہوں نے مظلوم ہونے کے بعد ظالموں سے بدلہ لیا ، وہ پسندیدہ شعراء ہیں اور انہوں نے قوم و ملت کی گراں قدر خدمت بھی کی ہے اور مسلمانوں کو اپنا اصل مقام یاد کرا کے اسے دوبارہ حاصل کرنے کی رغبت دلائی ہے ۔ فرمایا وسیعلم الذین ظلموا ظلم کرنے والے عنقریب جان لیں گے ۔ ای منقلب ینقلبون کہ وہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں ان کی شعر و شاعری اور دیگر افعال و کردار کا پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے دنیا میں کیا کیا کارنامے انجام دیئے ۔ انجام آگے آ رہا ہے ، پھر پتہ چل جائے گا کہ ان کا اونٹ کس کروٹ پر بیٹھتا ہے۔ سورة کا آغاز صداقت قرآن سے ہوا تھا ، اب آخر میں معاد کا ذکر بھی ہوگیا ۔